Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات

    ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات

    ڈوبتے دیہات، جاگتی ترجیحات
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری انتظامیہ مون سون بارشوں کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ تھی، مگر دیہاتوں میں موجود برساتی نالوں کو کئی کئی سالوں سے صاف نہیں کروایا گیا۔ جی ہاں، ہو سکتا ہے کہ کاغذی کارروائی میں یہ نالے بارہا صاف کیے جا چکے ہوں، لیکن بارش کے دوران ان کی اصل حالت کھل کر سامنے آ گئی۔ دوسری طرف، اربوں روپے فنڈ کی حامل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا کردار بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔

    آج ہم اوکاڑہ کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث دیہاتوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہی دینے جا رہے ہیں، جہاں حکومتی ادارے دیہی علاقوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ آئیے ان دیہاتوں کی داستان سنیں جنہیں کئی دہائیوں سے حلقہ پی پی 190 کے عوامی نمائندے نظر انداز کرتے آ رہے ہیں۔

    22 فور ایل اور 23 فور ایل دو ایسے دیہات ہیں جو آج صرف نقشے پر باقی رہ گئے ہیں۔ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے، نکاسی آب کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دونوں گاؤں مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ قبرستانوں میں دو فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ مرنے والے بھی شاید اب یہ پوچھتے ہوں کہ "مر کر بھی چین نہ آیا، تو کدھر جائیں؟” یہ تباہی اچانک نہیں آئی بلکہ یہ برسوں کی غفلت، ناکام منصوبہ بندی اور دیہی علاقوں کو حکومتی ترجیحات سے نکال دینے کا نتیجہ ہے۔

    گزشتہ چند روز کی بارشوں نے جہاں موسم کو خوشگوار کیا، وہیں دیہی آبادی کے لیے قیامت بن کر برسیں۔ برساتی نالے جن کی صفائی NDMA اور ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری تھی، کچرے اور مٹی سے اٹے ہوئے ہیں۔ پانی کا کوئی نکاس موجود نہیں، اور جو نکاس موجود تھا وہ صرف کاغذوں کی حد تک رہا۔

    یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا 22 فور ایل اور 23 فور ایل پنجاب کا حصہ نہیں؟ کیا وہاں کے رہائشی پاکستانی شہری نہیں؟ ان کا حق صرف الیکشن کے دنوں تک محدود ہے؟ جب پانی گھروں میں داخل ہو جائے، کھیت تباہ ہو جائیں اور مویشی ڈوبنے لگیں تو کیا شہروں سے آنے والی "ریسکیو ٹیمیں” صرف فوٹو سیشن کے لیے کافی ہیں؟

    دیہی علاقوں کو ہمیشہ دوسری یا تیسری ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ ان کے اسکول، سڑکیں، اسپتال، اور نکاسی آب کے نظام سب کچھ بدترین حالت میں ہیں۔ سرکاری ادارے صرف اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب میڈیا شور مچاتا ہے یا کسی وی آئی پی کا دورہ متوقع ہوتا ہے۔

    اگرچہ اس بار انتظامیہ کی طرف سے خود ڈپٹی کمشنر اور ان کی پوری ٹیم متاثرہ علاقوں میں پہنچی، اور اسسٹنٹ کمشنر اپنی ٹیم سمیت پوری رات سابق نائب ناظم ڈاکٹر الطاف حسین بلوچ کے ڈیرے پر موجود رہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ اقدامات پہلے کیوں نہ کیے گئے؟ کیا محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں موجود نہیں تھیں؟ کیا NDMA کو نہیں معلوم کہ مون سون کا موسم ہر سال پاکستان کے لیے خطرہ بن کر آتا ہے؟

    اگر بروقت نالوں کی صفائی کی جاتی، دیہاتوں کے قریب چھوٹے بند بنائے جاتے یا پانی کے نکاس کے مناسب اقدامات کیے جاتے، تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ سرکاری اسکیمیں صرف کاغذوں پر نہ ہوتیں بلکہ عملی صورت اختیار کرتیں تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔

    اوکاڑہ کی انتظامیہ نے ان دیہاتوں کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا ہے۔ افسوس ان اداروں پر جو کاغذی رپورٹیں تو خوب تیار کرتے ہیں مگر زمین پر ان کا کوئی عکس نظر نہیں آتا۔ اور افسوس ہم سب پر، جو صرف سوشل میڈیا پر اظہار افسوس کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔

    اب وقت ہے جاگنے کا۔

    دیہات کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیے بغیر پاکستان کی ترقی محض ایک خواب ہے۔ دیہات صرف زمینوں کا نام نہیں، وہاں زندگی بستی ہے، محنت ہوتی ہے، اناج پیدا ہوتا ہے۔ اگر دیہات ڈوبتے رہے، تو معیشت بھی ڈوبے گی اور قوم بھی۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، NDMA، اور تمام متعلقہ ادارے دیہی علاقوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ برساتی نالوں کی سالانہ صفائی، نکاسی آب کے مستقل حل، اور مقامی سطح پر ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا قیام اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  • بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی

    بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی

    بھارت :جہاں بی جے پی نے مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا دعویٰ کرتا ہے، آج اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے ایک اذیت ناک خطہ بن چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت میں ریاستی سطح پر ایسا نظام پروان چڑھا دیا گیا ہے، جس میں مذہبی اقلیتوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال محض داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے، اور یہاں تک کہ ہمسایہ ممالک کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس اور واقعات نے بھارت میں اقلیتوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

    22 اپریل 2025 کو کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا ایک حملہ، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے، اس تمام سلسلے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ بھارتی میڈیا اور حکومت نے فوری طور پر اس فالز فلیگ حملے کو پاکستان سے جوڑتے ہوئے "آپریشن سندور” کا آغاز کیا، جس کے تحت مبینہ طور پر "غیر قانونی دراندازوں” کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ تاہم کئی بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس حملے کو ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے، جس کا مقصد ہندو قوم پرست بیانیے کو تقویت دینا اور مسلمانوں پر ریاستی جبر کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اس بیانیے کی آڑ میں شروع ہونے والے آپریشنز نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک بھیانک داستان رقم کی ہے، جس کا انکشاف واشنگٹن پوسٹ نے 11 جولائی 2025 کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی 2025 کے درمیان بھارت کے مختلف حصوں، بالخصوص گجرات، آسام اور مغربی بنگال میں 1,880 افراد کو جبراً بنگلہ دیش جلاوطن کیا گیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ جلاوطنی نہ صرف قانونی تقاضوں کے بغیر انجام دی گئی بلکہ اس میں جن افراد کو نشانہ بنایا گیا، ان کے پاس بھارتی شہریت کے مصدقہ ثبوت، ووٹر کارڈز، نکاح نامے اور تعلیمی دستاویزات موجود تھے۔ گجرات کے شہر سورت کے رہائشی حسن شاہ ایک ایسے ہی متاثرہ فرد ہیں جنہیں کچرا چننے کے جرم میں "غیر قانونی درانداز” قرار دے کر ان کے کاغذات چھین لیے گئے، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور بنگلہ دیش کی سمندری حدود میں پھینک دیا گیا۔ بنگلہ دیشی کوسٹ گارڈ نے انہیں بچا تو لیا، لیکن وہ آج نہ بھارت کے شہری رہے، نہ بنگلہ دیش کے اور ان کی بیوی و چار بچے بھارت میں بے یار و مددگار رہ گئے۔

    اسی طرح احمد آباد کے نوجوان عبدالرحمان کو 26 اپریل کو علی الصبح اس کے گھر سے اٹھا لیا گیا۔ پولیس نے بغیر وارنٹ چھاپہ مارا، دستاویزات ضبط کیں اور 15 دن تک وحشیانہ تشدد کے بعد اسے ایک بنگلہ دیشی تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات آج بھی موجود ہیں، لیکن اس کی شہریت مٹا دی گئی۔ ان واقعات کے پس منظر میں جو حکمت عملی کارفرما ہے، وہ نہ صرف بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر 1951 کے مہاجر کنونشن اور "نان ریفولمنٹ” کے اصول کے بھی خلاف ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسی جگہ واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی خطرے میں ہو۔

    پولیس کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی حکومت نے بلڈوزر سیاست کا بھی بے دریغ استعمال شروع کر دیا۔ صرف احمد آباد کے چاندولا جھیل علاقے میں اپریل 2025 کے آخر میں ایک کریک ڈاؤن کے دوران 12,500 سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کارروائیوں میں 890 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 200 سے زائد خواتین اور بچے شامل تھے۔ متاثرہ افراد جیسے پروین اسماعیل رنگریز اور یونس خان پٹھان نے اپنے گھروں کی تباہی اور پولیس کے غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بیان کیں، مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سانگھوی نے اعلان کیا کہ "ہر ایک درانداز کو تلاش کیا جائے گا”۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف غیر قانونی تارکین وطن ہی نہیں بلکہ بھارتی شہری بھی اس نسلی صفائی کی مہم کی لپیٹ میں ہیں۔

    یہ سلسلہ صرف گجرات یا احمد آباد تک محدود نہیں رہا۔ آسام میں اڈانی انرجی پروجیکٹ کے لیے دو ہزار سے زائد خاندانوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔ 19 جون 2025 کو دی گارڈین کی رپورٹ نے ان انکشافات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا کہ آسام کی زمینوں سے بھی زیادہ تر مسلمان اور دلت متاثرین کو ہی نکالا گیا۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے اس پر شدید احتجاج کیا اور کئی جلاوطن افراد کو واپس بھارت بھیجا، جن کے پاس بھارتی شہریت کے ثبوت موجود تھے۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ اور بارڈر سیکیورٹی فورس نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کوئی باضابطہ ڈیپورٹیشن معاہدہ موجود نہیں، جس کی بنیاد پر یہ تمام کارروائیاں غیر قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شمار ہوتی ہیں۔

    بی جے پی کی حکومت میں نشانہ صرف مسلمان نہیں بنے بلکہ عیسائی اور دلت برادریاں بھی بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کا شکار ہو رہی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق راجستھان میں عیسائیوں کے چرچ تباہ کیے گئے، مذہب تبدیل کرنے کے الزامات میں گرفتاریاں ہوئیں اور دلتوں کی بستیوں کو بلڈوز کر کے مٹایا گیا۔ مسلمانوں کو تو اکثر روہنگیا، پاکستانی یا "غیر قانونی بنگلہ دیشی” قرار دے کر نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) اور شہریت ترمیمی ایکٹ (CAA) جیسے قوانین کے تحت بے دخل کیا جاتا ہے، جیسا کہ 2019 میں 19 لاکھ مسلمانوں کے NRC سے اخراج میں دیکھا گیا۔

    یہ سب کچھ عدلیہ، پولیس اور بیوروکریسی کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ عدالتیں ایسے مقدمات میں متاثرین کو انصاف نہیں دیتیں، پولیس ثبوتوں کو ضبط کر لیتی ہے اور میڈیا مسلسل بی جے پی کے بیانیے کو بڑھاوا دیتا ہے۔ ان اداروں کا کردار جمہوریت کی روح کے منافی اور فسطائیت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی 2024 کی رپورٹ اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) جیسے اداروں نے ریاستی جبر کے اس منظم پیٹرن کو واضح کیا ہے، جس کے مطابق بی جے پی حکومت کے زیر اثر علاقوں میں نفرت انگیز جرائم اور مسماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

    اس تمام پس منظر میں سب سے تشویشناک پہلو عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ اگر اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اب بھی خاموش رہیں تو بی جے پی حکومت کی ہندو بالادستی کی یہ پالیسی مزید جارحانہ ہو جائے گی۔ وقت آ چکا ہے کہ بھارت میں شہری و انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی دباؤ بڑھایا جائے۔ حسن شاہ، عبدالرحمان، پروین اسماعیل اور ہزاروں دیگر مظلوم چہروں کی داستانیں صرف انفرادی مصیبت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ظلم کی علامت ہیں، جسے عالمی برادری کی خاموشی مزید تقویت دے رہی ہے۔ بھارت میں جمہوریت کے نام پر اقلیتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، اور بی جے پی نے مسلمانوں پر واقعی زمین تنگ کر دی ہے۔

  • اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز،نئی نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک فکری و عملی سفر

    دنیا ایک برق رفتاری سے بدلتی ہوئی تصویر کی مانند ہے، جہاں علم و ہنر کی تازگی کے بغیر نہ فرد زندہ رہ سکتا ہے، نہ قوم۔ ایسے میں جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی آغوش میں پل رہی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ایک بصیرت افروز اقدام کے تحت "اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” کا انعقاد کیا، جو بچوں کے لیے ایک روشن چراغ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا عملی نمونہ ثابت ہوا۔7 جولائی سے 14 جولائی 2025 تک جاری رہنے والا یہ آن لائن تربیتی کیمپ، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ آئی ٹی کے زیرِ انتظام منعقد کیا گیا۔ اس میں پاکستان بھر سے 9 سے 13 سال کے بچوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ کیمپ کا مقصد صرف جدید مہارتوں کی تعلیم دینا نہ تھا، بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، تخلیقی شعور، اور عصری دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا بھی اس کا ایک اہم حصہ تھا۔

    اس موقع پر ملک وقاص سعید، سربراہ شعبہ آئی ٹی مرکزی مسلم لیگ، نے کہا اسمارٹ اسکلز کیمپ، بچوں کی فکری دنیا کو وسعت دینے اور ان کے اندر خود اعتمادی، تخلیق اور تجسس کے چراغ روشن کرنے کی ایک شعوری کاوش ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کے معماروں کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں

    کیمپ کے سات دن، ہر لمحہ علم کی روشنی سے لبریز رہے۔ یہ محض لیکچر نہیں تھے، بلکہ ایک فکری مہم تھی، جس میں بچوں نے نہ صرف سنا بلکہ محسوس کیا، سیکھا اور تخلیق کیا۔ مختلف موضوعات پر تجربہ کار ماہرین نے بچوں کو جدید دنیا کے اہم ترین اسکلز سکھائے۔ ان میں شامل تھے
    مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن – ملک وقاص سعید: ایک دنیا جو مستقبل کی راہ دکھاتی ہے۔
    ڈی آئی وائی کریئیٹوٹی – انایا: بچوں کی تخلیقی سوچ کو عملی شکل دینے کا فن۔
    پریشر اور بُلیئنگ ہینڈلنگ – بشریٰ اقبال: نفسیاتی طاقت اور جذباتی ذہانت کی تعلیم۔
    اسپوکن انگلش – قرۃ العین: بین الاقوامی زبان میں خود اظہار کی مہارت۔
    آن لائن سیفٹی – عائشہ طارق: ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ اور آگہی۔
    ماحولیاتی تحفظ – عروبہ سلطان: قدرت سے رشتہ استوار رکھنے کا درس۔
    انٹرپرینیورشپ – حفصہ ادریس: چھوٹی عمر میں بڑی سوچ کا آغاز۔
    کینوا ڈیزائننگ – خدیجہ نوید: جمالیاتی ذوق اور گرافک فن کی ابتدا۔
    ان موضوعات کے ساتھ ساتھ ای بُک کریئیٹنگ، پوڈکاسٹ سازی، مشین لرننگ، سائبر سیفٹی، بزنس پلاننگ جیسے شعبہ جات میں بھی بچوں نے عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھا۔ یہ ایک مکمل، مربوط اور تخلیقی تربیتی تجربہ تھا۔

    کیمپ کے دوران والدین نے اس بات کا بارہا اظہار کیا کہ کیمپ کا ماحول نہایت محفوظ، رہنمائی سے بھرپور، اور تربیتی لحاظ سے مؤثر تھا۔ بچوں نے جو سیکھا، وہ صرف ہنر نہ تھا بلکہ سوچنے کا نیا انداز، خود اعتمادی کی نئی روح، اور مستقبل کی بنیادوں کی نئی تعمیر تھی۔ ملک وقاص سعید نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ صرف سیاسی میدان میں سرگرم نہیں، بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ ہم نئی نسل کو بااخلاق، باشعور اور باصلاحیت شہری بنائیں۔ ہمارا ہر قدم اسی وژن کی جانب ہے،”اپنا کماؤ انیشیئیٹو” کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت ڈیجیٹل کورسز، ای کامرس اور فری لانسنگ کی تربیت دی گئی، تاکہ ہر فرد اپنے گھر بیٹھے خود کفیل بن سکے۔ اور اب یہی سفر بچوں سے شروع ہو رہا ہے، تاکہ آنے والی نسل اپنے ہنر اور علم سے وطن کی تعمیر کرے۔

    اسمارٹ اسکلز کیمپ فار کڈز” نہ صرف بچوں کی فکری، تخلیقی اور ڈیجیٹل تربیت کا مظہر ہے بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جس میں ہم ایک خود کفیل، باہنر، اور باوقار پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ یہ کیمپ اس امید کا چراغ ہے جو ایک دن پورے معاشرے کو علم و شعور کی روشنی سے منور کرے گا۔

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید پروگرامز نوعمروں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے بھی پیش کیے جائیں گے۔ مقصد ایک ہی ہے: ہنر ہر گھر تک، خود کفالت ہر فرد تک۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی ایسے تعلیمی اور تربیتی مواقع سے مستفید ہوں، تو مرکزی مسلم لیگ کے آئندہ پروگرامز پر نگاہ رکھیں۔

  • دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد

    دیہی ترقی،پائیدار پاکستان کی بنیاد
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان کی ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک دیہی علاقوں کو مساوی ترقی کے مواقع نہ دیے جائیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات میں آج بھی صرف شہروں کو فوقیت حاصل ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ جیسے بڑے شہروں میں تو سڑکیں، میٹرو بسیں، انڈر پاسز، جدید ہسپتال اور معیاری تعلیمی ادارے عام نظر آتے ہیں لیکن دیہاتوں میں زندگی آج بھی بنیادی سہولیات کی محرومی کا شکار ہے۔

    جبکہ ترقی کسی بھی قوم کی پہچان اور بقاء کی ضمانت ہوتی ہے، ہمارے ہاں بیشتر فیصلے صرف شہری علاقوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ گنجان آباد بستیوں، بڑھتے ہوئے جرائم، آلودگی اور ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ نقل مکانی دراصل دیہی پسماندگی کی علامت ہے، جو کہ ایک بڑا قومی چیلنج بن چکی ہے۔

    دیہی علاقوں میں اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حقائق لرزہ خیز ہیں۔ یہاں کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور ادویات کی عدم دستیابی، بجلی و گیس کی قلت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صاف پانی کی عدم فراہمی، اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان عام مسائل میں شامل ہیں۔ دیہی آبادی آج بھی ان بنیادی حقوق سے محروم ہے جنہیں شہری علاقوں میں معمول سمجھا جاتا ہے۔

    یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے۔ ایسے میں اگر دیہاتوں کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل نہ کیا گیا تو نہ صرف شہری سہولیات کا توازن بگڑے گا بلکہ قومی ترقی کا خواب بھی ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔

    موجودہ حکومت خصوصاً پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ، جو تعلیم یافتہ، عوام دوست اور باصلاحیت رہنما کے طور پر پہچانی جاتی ہیں، ان سے دیہی عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کی ابتدائی تقاریر میں تعلیم، صحت اور خواتین کی ترقی کو اولین ترجیح دی گئی، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ پنجاب کے دیہی علاقوں کی طرف بھی خصوصی توجہ دیں۔

    دیہی ترقی کے لیے حکومت کو درج ذیل اقدامات کی فوری ضرورت ہے:
    ×دیہی سکولوں کی اپ گریڈیشن
    ×بنیادی صحت مراکز کی بحالی اور ڈاکٹروں کی دستیابی
    ×دیہات میں سڑکوں کی مرمت اور پختگی
    ×صاف پانی کی فراہمی
    ×چھوٹے پیمانے پر روزگار کے مواقع کا فروغ

    دیہی ترقیاتی اتھارٹی کا قیام اگرچہ ایک خوش آئند قدم تھا، لیکن بدقسمتی سے اس ادارے کا عملی کردار یا تو بہت محدود ہے یا طاقتور شخصیات کے حلقوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام انصاف کے بجائے عدم مساوات اور اقربا پروری کو فروغ دے رہا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔

    یاد رکھنا چاہیے کہ دیہات صرف زمین کے ٹکڑے نہیں، بلکہ قوم کی بنیاد ہیں۔ اگر ہم دیہاتوں کو بااختیار، خودکفیل اور ترقی یافتہ بنائیں گے تو پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان فرق کم کرنا ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو چاہیے کہ وہ دیہی ترقی کے لیے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کریں تاکہ پنجاب کا ہر گاؤں، ہر بستی، ہر کسان ترقی کی روشنی سے منور ہو سکے۔ دیہی عوام کی نظریں آپ پر مرکوز ہیں — کیا آپ ان کی امیدوں پر پورا اتریں گی؟

  • صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار.تحریر:ملک سلمان

    صوبائی دارالحکومت لاہور بدحالی کا شکار.تحریر:ملک سلمان

    نواز شریف کی یہ خوبی سب سے منفرد ہے کو انہوں نے پنجاب اور پاکستان کو جدید سہولیات سے آراستہ بھی کیا لیکن اس کی قدیم تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے۔ تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور تاریخی اہمیت کے حامل لاہور کی قدیمی حیثیت کی بحالی کے اعلان سے لاہور سے محبت کرنے والے ہر فرد نے اس فیصلے پر شدید خوشی کا اظہار کیا۔ دنیا بھر میں موجود لاہوریوں نے اسے لاہور اور پنجاب کی سیاحت کے فروغ کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے قدیم ثقافت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ ایک طرف نواز شریف لاہور کو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے جارہے ہیں تو دوسری طرف لاہور لاقانونیت کی عملی شکل اور تجاوزات کا اڈا بن چکا ہے۔
    دنیا بھر میں صوبائی دارلحکومت کو ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ماضی میں جب شہباز حکومت میں لاہور کی تعمیروترقی پر تنقید ہوتی تھی تو میں ناقدین کو سمجھاتا تھا کہ لاہور صوبائی دارلحکومت ہے اور دنیا کے تمام ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ آپ صوبائی ہیڈکوارٹر کو سب سے زیادہ ڈویلپ کرتے ہیں۔ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ میں سارا پاکستان لاہور کو رشک نگاہوں سے دیکھتا تھا۔
    اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔
    ویسے تو پورے پنجاب کی ٹریفک پولیس ہی ٹک ٹاکر، کام چور اور غیرقانونی پارکنگ مافیا کی ساتھی ہے لیکن لاہور ٹریفک پولیس کا شمار نااہل اور کرپٹ ترین میں ہوتا ہے۔ ابھی تک بغیر نمبر پلیٹ،بلیک پیپر،راڈ لگاکر چھپائی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔
    کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔
    ٹی ڈی سی پی سائٹ سیننگ بس سروس سے لاہور کو ایکسپلور کروانے کا اچھا انتظام کیا گیا ہے لیکن تجاوزات اور بے ہنگم ٹریفک کے باعث اس سہولت سے پوری طرح سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں ہو رہا۔
    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائدمالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پچاس کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایات کے باوجود میونسپل کارپوریشن اور اسسٹنٹ کمشنرز احکامات پر عمل درآمد کرکے اپنی منتھلی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔
    لاہور میں 20فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔ چھوٹے موٹے چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کرنا شروع کی ہوئی ہیں تو متعدد مقامات پر حکومتی اداروں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم سرکاری دفاتر کے سامنے اور لیف رائٹ والے گھروں نے بیچ سڑک پتھر رکھ کر رکاوٹیں قائم کی ہوئی ہیں کہ کوئی سرکاری گاڑی پارک نہ ہوجائے۔ قانون کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔ گھروں کی باہر سرکاری زمین پر نرسریاں اور گارڈ روم بنائے جارہے ہیں۔ کار شو رومز اور کار مکینک لاہور کی تمام سڑکوں پر قابض ہو کر بیچ سڑک دکانداری کررہے ہیں۔
    خوش آئند بات ہے کہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ ٹک ٹاکر نہیں ہیں اور پروفیشل پولیسنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران کی دیانت داری، میرٹ اور فرض شناسی کا ہر کوئی معترف ہے جس کے نتیجے میں آج لاہور پولیس کا شمار دنیا کی بہترین پولیس میں ہورہا ہے۔
    سرکاری زمینوں پر قائم غیر قانونی ہاؤسنگ پراجیکٹس،کمرشل مارکیٹوں اور دیگر تعمیرات کا ماہانہ کرایہ سرکاری افسران کھا رہے ہیں۔باغوں کے شہر لاہور کے پارکس کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ ایل ڈی اے کے افسران تو مہینوں میں کروڑ پتی ہوجاتے ہیں لیکن شہریوں اور حکومتی مفاد کے کام نہیں ہوتے۔ لاہور کے آدھے سے زائد پیٹرول پمپ کسی بھی طور پر رجسٹریشن کی بنیادی شرائد پر پورا نہیں اترتے اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں سب اپنا حصہ وصول کر”اوکے“ کی این او سی دے رہے ہیں۔

    تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کامیابی کے چانسز بھی معدوم ہیں کیونکہ اکثر تحصیلوں میں PERA کا چارچ اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلداروں کے پاس ہے۔ وہی قاتل وہی منصف کے مصداق اگر یہ اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلدار اتنے ہی اچھے ہوتے تو سرکاری زمینوں پر قبضے ہی کرواتے۔ اسی طرح انڈرٹریننگ پیریڈ مکمل کرکے PERAمیں آنے والے نئے بچوں نے کام تو شروع نہیں کیا لیکن سوشل میڈیا پر دن رات ویگو ڈالوں کے ساتھ فوٹو سیشن اور ڈالہ گردی کرتے ضرور نظر آرہے ہیں۔PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر اس کیلئے ریگولر افسران بھرتی کیے جائیں جو مقامی اسسٹنٹ کمشنرز کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم اور ڈی جی کو کرسکیں۔ فی الحال تو ایسا ہوتا ممکن نہیں لگ رہا کیونکہ PERAکے افسران اسسٹنٹ کمشنرز سے جونئئیر بیچ کے ہیں اور خود کو انکا ماتحت ہی تصور کرتے ہیں۔

    مریم نواز اپنی وزارت اعلیٰ میں سات دفعہ تجاوزات کے خاتمے کا الٹی میٹم دے چکی ہیں لیکن بیوروکریسی تجاوزات ختم کروانے میں سیریس نہیں۔تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔
    اگر سی سی ڈی 30دن میں جرائم کا خاتمہ کرسکتی ہے تو ضلعی افسران ایک سال میں تجاوزات ختم نہیں کرواسکتے تھے؟ سب ممکن ہے لیکن اس کیلئے حرام کی کمائی چھوڑنا پڑتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com

  • گالی،الزام،بدتمیزی پاکستانی قوم کا کلچر ٹھہرا،ہم کب سدھریں گے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالی،الزام،بدتمیزی پاکستانی قوم کا کلچر ٹھہرا،ہم کب سدھریں گے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بارش نے کئی شہر ڈبو دئیے،ہر بات کی ذمہ دار حکومتیں نہیں ،کیا ہم خود شہری آداب پورے کرتے ہیں ؟
    بارشوں سے امریکہ جیسے ممالک میں نظام زندگی مفلوج ہوا ،کسی نے حکومت کو مورود الزام نہیں ٹھہرایا
    کوڑا شاپر میں بند کرکے نالوں کی نذر کرنا وطیرہ،بارش میں سیوریج سسٹم بند کیوں نہ ہو،اخلاقیات کہاں گئیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر مغرب کے کئی ممالک کوحالیہ بارشوں کی وجہ سے جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، فطرت کا مزاج ایک جیسا نہیں رہتا، موسلادار بارشیں ہوں تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے، موجودہ دور میں انسان تو ایک دوسرے کو کوستے رہے ہیں، اب موسموں کے تیور بھی بدلنے لگے ہیں، حالیہ بارشوں سے پاکستان ، بھارت ،سری لنکا،بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک میںنے تباہی مچائی ہے، پنجاب ہی نہیں ملک کے مختلف صوبے شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہیں، دنیا میں شدید بارشوں کے دوران جانی ومالی نقصان کی خبریں،تباہ کاری زیر آب شہروں کی خبریں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر آرہی ہیں، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جہاں بارشوں کو بھی سیاسی رنگ دیا جاتا ہے اور جس صوبے میں شدید بارشیں ہو ،تباہی ہو، اُس کا ذمہ دار صوبے کی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے ، لاہور میں بارش عذاب کیوں بنتی ہے ؟ بارش کے بعد گلی محلے اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ نالوں کی صفائی کا نہ ہونا ،دوسری وجہ عوام کی اکثرت بالخصوص عورتیں گھر کی اور کچن کی صفائی کرتے وقت ایک شاپر میں سارا گند کوڑے دان کی بجائے گلی محلے سے گزرتے نالے میں پھینک دیتی ہیں ،جس سے نالوں کا بلند ہو جانا ،دوسرا سوریج سسٹم نکاسی آب کا نظام ، عوام کو اپنے اعمال درست کرنے چاہئیں اور متعلقہ اداروں کو بھی ،حکومت پنجاب کو چاہیے ناقص سیوریج سسٹم میں بہتری لانے سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ، عوام بھی صفائی کا خیال رکھیں، بحیثیت قوم ہم زوال کے دور سے گزر رہے ہیں ،ہم ایک گستاخ قوم بنتے جا رہے ہیں،اللہ تعالی کے احکامات اور نبویﷺ کی سنت سے دور ہوتے جا رہے ہیں،اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا، ناپ تول میں کمی ، دھوکہ دہی بڑے چھوٹے کی تمیز جاتی رہی، پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر سوشل میڈیا پر گالی گلوچ دینے والا ہمارا ہیرو کہلاتا ہے، دلیل سے بات کرنے والوں کو ذلیل کیا جاتا ہے ،

    ہم اہل پاکستان مسلمان ہیں موجودہ دور میں ہمارے اخلاق ناقابل برداشت حد تک تُرش اور تند ہو گئے ہیں، گالی گلوچ ہمارا شغل بن چکا ہے ، ہمیں اخلاقی عظیم کے حامل رسول کریم ﷺکے امتی ہونے کے ناطے ہر ممکن حد تک اپنے اخلاق میں سنت نبویﷺ کی جھلک کو لانا ضروری ہے ، اخلاق حُسنہ مومن کا سرمایہ حیات ہے÷

  • ادھورے خواب، مکمل چہرے،تحریر: اقصیٰ جبار

    ادھورے خواب، مکمل چہرے،تحریر: اقصیٰ جبار

    وہ مسکرا رہا تھا۔
    چہرہ تازہ، آنکھوں میں چمک، کیمرہ آن… اور دنیا واہ واہ کر رہی تھی۔

    مگر اگلے دن خبر آئی کہ وہ اب نہیں رہا۔

    وہ جس کی ہر پوسٹ پر ہزاروں کمنٹس ہوتے تھے، آج اس کی موت پر صرف ایک پوسٹ نے سب کچھ سمیٹ دیا:
    "اللّہ مغفرت فرمائے، بہت کامیاب اور اچھا انسان تھا!”

    یہ سطریں اب عام ہو گئی ہیں۔ اب کسی "اچھے اور کامیاب” انسان کا اچانک چلے جانا ہمیں چونکاتا نہیں، بس افسوس کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی رُک کر سوچا ہے کہ آخر وہ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی ادھورا کیوں تھا؟

    ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں چہرہ مکمل ہونا لازم ہے — صاف، نکھرا، خوش باش — چاہے روح اندر سے کچلی ہوئی ہو۔
    جہاں خواب دکھانا ضروری ہے، چاہے وہ سچ نہ ہوں۔
    جہاں کامیابی کی تعریف صرف فالوورز، گاڑی، گھر، اور غیرملکی دوروں سے جڑی ہو۔
    اور جہاں اگر کوئی کہے کہ "مجھے مدد چاہیے”، تو ہم اسے کمزور سمجھتے ہیں، ناکام سمجھتے ہیں۔

    گزشتہ برسوں میں پاکستان میں کئی ایسے نوجوان، فنکار، انفلوئنسرز، اور کاروباری افراد موت کی وادی میں اُتر گئے، جنہیں ہم نے "کامیاب” مانا تھا۔ اُن کی زندگیاں بظاہر مکمل تھیں، مگر اندر کوئی ایسی خاموش جنگ چل رہی تھی، جو وہ ہار گئے۔

    کیا یہ محض اتفاق ہے؟
    نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی رویّے کی وہ سنگین غلطی ہے جسے ہم نے "معمول” سمجھ لیا ہے۔

    ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ وہ کچھ بنیں، آگے نکلیں، مشہور ہوں۔
    لیکن ہم یہ نہیں سکھاتے کہ دل کو کیسے سنبھالنا ہے؟
    ہم انہیں مقابلہ سکھاتے ہیں، مگر ہارنے پر گلے لگانا نہیں سکھاتے۔
    ہم انہیں خواب دکھاتے ہیں، مگر نیند چھن جانے پر خاموش ہو جاتے ہیں۔

    کامیابی اب ایک تماشہ بن چکی ہے۔
    اندر سے ٹوٹا ہوا انسان بھی اگر باہر سے "پرفیکٹ” نظر آئے، تو وہ قابلِ رشک ہے۔
    لیکن جو سچ بول دے، جو آنکھ میں آنسو لے آئے، وہ یا تو کمزور ہے یا attention seeker۔

    آج کسی کی خودکشی پر ہم افسوس تو کرتے ہیں، مگر اس سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔
    ہم اب بھی ہر نوجوان کو وہی "کامیابی کا فارمولا” تھما رہے ہیں:
    زیادہ کماؤ، مشہور ہو جاؤ، فالوورز بڑھاؤ…
    اور اگر کہیں ٹوٹنے لگو، تو خاموشی سے ٹوٹ جاؤ، لوگوں کو بتانا مت۔

    کیا ہم نے کبھی سوچا کہ وہ نوجوان جن کے خواب ہم نے دیکھے، وہ کیوں ادھورے رہ گئے؟
    کیوں ایک کامیاب چہرے کے پیچھے ہارے ہوئے انسان نے خود کو ختم کر لیا؟
    کیا صرف وہ قصوروار تھا… یا ہم سب؟

    ہمیں اب اپنے رویّے بدلنے ہوں گے۔
    کامیابی کی نئی تعریف لکھنی ہو گی۔
    ایسی کامیابی جو ذہنی سکون دے، جو رشتے نہ توڑے بلکہ جوڑے، جو انسان کو صرف اوپر نہ لے جائے بلکہ اندر سے سنوارے۔

    ہمیں "اچھا بننے” سے زیادہ "سچ بولنے” کی ہمت پیدا کرنی ہو گی۔
    کبھی کبھار صرف اتنا پوچھ لینا، "تم واقعی خوش ہو؟”،
    کسی کی جان بچا سکتا ہے۔

    قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
    "وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ”
    "ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔” (سورۃ البلد: 4)

    زندگی کا اصل چہرہ یہی ہے — آزمائش، جدوجہد، تھکن، اور تنہائی۔
    ہم سب ان مشقتوں کا حصہ ہیں، مگر کچھ لوگ انہیں اکیلے جھیلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ہم دوسروں کی چمک دیکھ کر رشک کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ روشنی جتنا قریب آتی ہے، سایہ اتنا گہرا ہو جاتا ہے۔

    شاعر احمد فراز کے لفظوں میں:

    یہ لوگ کتنے مسافر ہیں کتنے خالی ہیں
    نظر سے دور ہیں لیکن دلوں کے ساتھ نہیں

    تو اگلی بار جب آپ کسی روشن چہرے کو دیکھیں،
    تو ذرا آنکھوں میں جھانک لیجیے گا —
    شاید وہاں کوئی ادھورا خواب مدد کا منتظر ہو…

  • غزوہ ہند کا سندور،تحریر:غنی محمود قصوری

    غزوہ ہند کا سندور،تحریر:غنی محمود قصوری

    غزوہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جنگ کے ہیں اور غزوہ ہند سے مراد ہند،ہندوستان کی جنگ ہے
    سندور ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سرخی کے ہیں
    سندور نارجی یا سرخ رنگ کا ایک پاؤڈر ہوتا ہے جو شادی شدہ ہندو عورتیں اپنے سر کی مانگ میں لگاتی ہیں تاکہ شوہر سے وفاء رہے اور اس کی عمر دراز رہے

    نبی رحمت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ ہند بارے احادیث موجود ہیں
    غزوہ ہند ہو چکا یا ہو رہا یا پھر ہو گا یہ ایک الگ موضوع ہے تاہم میں بات کرتا ہوں گزشتہ دو ماہ قبل غزوہ ہند یعنی پاک ہندو جنگ کی جس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہند کو لگام ڈالی گئی اور کتے کی طرح اسے بھونکنے اور بھاگنے پر مجبور کیا گیا

    ہمارے ازلی اور کمینے دشمن ہندوستان نے ہمارے اور اپنے قیام سے ہی ہم پاکستانیوں کو نقصان ہی نقصان پہنچایا ہے اور کوشش کی ہے کہ پاکستان صفحہِ ہستی سے مٹ جائے،تاہم بفصل ربی ہم پہلے سے پھلے پھولے ہیں اور قیامت تک ہمارا رب ہمیں ایسے ہی ترقی دیتا رہے گا ان شاءاللہ،ہندوستان نے ارض پاکستان میں ہر طرح کی تخریب کاری کروائی جس کیلئے اس نے پاکستان کے اندر قومیت،وصوبائیت،لسانیت اور فرقہ پرستی کے نام پر دہشت گرد جماعتوں کو کھڑا کیا اور ان کو فنڈنگ و ٹریننگ دے کر اور ہتھیار تھما کر پاکستان کے خلاف کرکے اپنے مقصد کی یلغاریں کروائیں تاہم وہ آج دن تک ناکام ہے اور رہے ان شاءاللہ

    ایسی ہی ایک یلغار رواں سال ماہ رمضان میں اس نے اپنے پالتو دہشت گرد خارجی گروہ بلوچ لبریشن آرمی سے کروائی ،11 مارچ 2025 کو بلوچستان کے علاقے میں جعفر آباد ایکسپریس ٹرین کو بی ایل اے کے کارندوں نے ہندوستان کے ایماء پر ہائی جیک کیا اور سوچا کہ نہتے مسافروں بشمول عورتوں اور بچوں کے وہ ان کو ڈھال بنا کر اپنے مطالبات تسلیم کروا لے گا تاہم الحمدللہ ہماری فورسز نے تاریخ کا ایک انتہائی مشکل ترین آپریشن چند گھنٹوں میں مکمل کیا اور ٹرین مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر ٹرین ہائی جیک کرنے والے خوارج کو قتل کیا اور اس کے مکمل پروف دنیا کے سامنے رکھے کہ کسطرح ہندوستان نے اپنے پالتو کتوں کے ذریعے پاکستان کو زک پہنچائی،ہندوستان کی پالیسی ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکام ہوئی اور الٹا و دنیا کی نظروں میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر آ گیا

    مکار ہندو نے اپنی مکاری اور دہشت گردی کو معصومیت اور مظلومیت میں بدلنے کیلئے ایک چال چلی اور 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں لائن آف کنٹرول سے بہت دور پہلگام کے مقام پر خودساختہ طور پر 28 سیاحوں کو قتل کرکے اس کا الزام مقامی کشمیری آزادی پسند مسلح جماعت ڈی ریزسٹنس فورس یعنی TRF پر لگا دیا اور شور مچایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں آئی ایس آئی نے کی اور ساری فنڈنگ و اسلحہ بارود پاک فوج نے دیا اور اس کی معاونت لشکر طیبہ اور چند جہادی پاکستانی لوگوں نے کی ہے لہذہ میں بدلہ لونگا

    بھارت نے پہلگام حملہ پر بہت ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی اور خود کو مظلوم ظاہر کروایا تاہم اس کے اپنے ہی لوگوں نے سوال کر دیا کہ ایک چھوٹے سے خطے مقبوضہ کشمیر میں 11 لاکھ ہندوستانی فوج تعینات ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ حملہ آور باہر سے آکر آرام سے کاروائی کرکے چلے گئے؟اس سوال پر ہندوستان اور بھی پریشان ہوا اور اپنی سبکی مٹانے کیلئے اور خود کو بڑا بہادر ظاہر کرنے کیلئے پاکستان پر حملے کی دھمکی لگا دی

    ہندوستان نے 7 مئی کو رات کی تاریکی میں پاکستان کے شہروں مریدکے اور بہاولپور میں حملے کئے اور اس آپریشن کو سندور کا نام دیا اور پہلگام حملے کا بدلہ لینے کا بہانہ بنایا،مریدکے میں جامع مسجد ام القریٰ اور اس سے ملحقہ سرکاری ہیلتھ اور ایجوکیشنل کمپلیکس کو نقصان پہنچا اس حملے میں 3 افراد شہید اور 2 زخمی ہوئے،بہاولپور میں مرکز سبحان اللہ پر حملے میں 13 افراد شہید اور 37 افراد زخمی ہوئے نیز ہندوستان نے مظفر آباد و دیگر علاقوں پر بھی جارحیت کرتے ہوئے پاکستانی نہتی عوام کو شہید کیا اور مسجدوں و دیگر املاک کو نقصان پہنچایا،پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارتی جارحیت کو رکھا تاہم بھارت نے ہمارے اس فعل کو ہماری کمزوری جانا اور پاکستان پر اسرائیلی ڈرونز بیجھنے شروع کئے جسے پاک فوج و سویلینز نے مل کر مار گرایا،بھارت کی اس جارحیت پر پاکستان نے احتجاج کیا اور وارننگ دی کہ اگر ہندوستان باز نا آیا تو پھر ہمارا جواب پوری دنیا دیکھے گی،پاکستان نے 10 مئی کی صبح نماز فجر کے بعد سنت کے مطابق ہندوستان پر بیلسٹک میزائل فتح ون سے اپنے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا
    پاکستانی فوج نے ہیوی ترین آرٹلری فائرنگ کی اور پاکستان ائیر فورس کے عقابوں نے ہندوستان میں گھس کر اس کے ملٹری و ائیر بیسز اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تک تباہ کئے،ہمارے شیر دل ہیکرز نے بھارتی ٹی وی چینلوں کی لائیو نشریات،ان کی ریل سروس،ڈیم سسٹم،ائیر لائن کنٹرول و دیگر نظاموں پر کنٹرول کر لیا حتی کہ اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے رافیل اور جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ایس 400 تباہ کیا،ہندوستان میں پاکستان کے اس جوابی وار میں ہو گا عالم طاری ہو گیا ،بھارت پاکستان کے رحم و کرم پر رہ گیا ،حسب سابق کی طرح ہندوستان نے امریکہ،سعودی عرب،قطر و دیگر ممالک کی منت کی اور 10 مئی کو ہی سیز فائر کی منت کی جسے پاکستان نے بھی مان لیا

    79 سال تک ہندوستان نے جو جعلی طور پر اپنا نام بدمعاشی میں پیدا کیا تھا وہ محض 65 منٹ میں پاکستان نے ختم کر دیا ،حالات یہ بن گئے کہ ہندوستان کی مسلمان کرنل صوفیہ قریشی کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ آج بھی گمنام ہے،اسی طرح رافیل پائلٹ شیوانگی بھی گمنام ہے ہندوستان اسے آج دن تک میڈیا کے سامنے نہیں لا پایا
    الحمدللہ پاکستانی فوج اور عوام نے ملک کر ہندوستان کو ایسا جواب دیا کہ دنیا کے ہر ملک کی زبان سے نکلا کہ اگر جنگ بندی نا ہوئی تو ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا،الحمدللہ بیشتر چیک پوسٹوں پر آج بھی پاکستانی فوج کا قبضہ ہے اور وہ نریندر مودی جو جگا بن کر جنگ کی باتیں کیا کرتا تھا آج اپنی ہی عوام سامنے منہ چھپاتا پھر رہا ہے کیونکہ پاکستان نے اسے غزوہ ہند میں سندور لگا دیا ہے

    امید ہے ہندوستان اب کئی دہائیوں تک جنگ کی بات نہیں کرے گا کیونکہ پاکستان نے پراکسی وار کرتے ہوئے بنگلہ دیش،نیپال،سری نکا و دیگر ہمسایہ ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر ہندوستان کو خطے میں تنہاء کر دیا ہے
    بڑی امید ہے اب ہندوستان کی عورتیں بھی سمجھ چکی ہونگیں کہ سندور لگانا درازی عمر اور وفاء نہیں بلکہ ایمان و تقوی ہی سب کچھ ہے

  • قلم ، قرطاس اور پہچان‚ پاکستان کی خاموش جدو جہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    قلم ، قرطاس اور پہچان‚ پاکستان کی خاموش جدو جہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو زبان صرف ایک ذریعہ ابلاغ نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تمدن اور ایک جذبہ ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے غالب جیسے فلسفی، اقبال جیسے مفکر، منٹو جیسے حقیقت نگار، فیض جیسے انقلابی، اور جوش جیسے خطیب پیدا کیے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردو کی پرورش کے دعوے تو بہت ہوتے رہے، مگر عملی کام کرنے والے ادارے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں جب پورا منظرنامہ گمنامی، غیر سنجیدگی اور بازاری معیار کی نذر ہو چکا ہو، تو "پہچان پاکستان نیوز گروپ” ایک ایسا قافلہ بن کر ابھرتا ہے جو خاموشی سے اردو ادب کے چراغ جلا رہا ہے۔
    یہ اردو ادب کی غیر مشروط خدمت ہے۔پہچان پاکستان نیوز گروپ نے خود کو محض ایک نیوز فورم یا فیس بُک گروپ تک محدود نہیں رکھا۔ یہ گروپ دراصل ایک ادبی درسگاہ، ایک تربیتی مرکز، اور ایک اصلاحی کارخانہ ہے۔ یہاں نئے لکھاریوں کو نہ صرف اظہار کا موقع دیا جاتا ہے بلکہ ان کی تحریروں کو فنی، لسانی اور ادبی لحاظ سے نکھارا جاتا ہے۔

    تحریر کا ہر پہلو، خواہ وہ املا ہو، جملوں کی ساخت ہو، ربط ہو یا اختتامیہ کی گرفت، باریک بینی سے جانچا جاتا ہے۔ "ختمہ”، "سکتہ”، "جملے کی روانی”، "پیراگراف کی ترتیب”، "عنوان کی مطابقت” جیسے عناصر پر باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو اکثر کچے لکھاریوں کے ہاں نظرانداز ہو جاتے ہیں، لیکن پہچان پاکستان ان کی ہر تحریر کو اس نہج پر لے آتا ہے جہاں وہ قارئین کی نظروں میں قابلِ اشاعت ہو جائے۔

    تحریر کی اصلاح، بغیر کسی فیس کے۔۔۔۔
    آج کے تجارتی دور میں جب قلم کو بھی کرائے پر دیا جا رہا ہے، پہچان پاکستان نیوز گروپ اپنی مثال آپ ہے، جو بلا معاوضہ اردو ادب کی خدمت کر رہا ہے۔ نہ کوئی ممبرشپ فیس، نہ کسی مقابلے کی انٹری فیس، نہ اصلاحات کیلئے پیسوں کا تقاضا—صرف اور صرف خالص جذبہ، ادب کی ترویج اور اردو سے عشق۔
    یہ گروپ دراصل ایک تربیتی ورکشاپ ہے جہاں ایک افسانے کو بہتر بنانے کیلئے کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں، ایک کالم کو شائع کرنے سے پہلے اس میں موجود خامیوں کو تلف کیا جاتا ہے، اور ایک قول یا قطعہ بھی تبھی منظوری پاتا ہے جب وہ فکری و زبانی معیار پر پورا اترے۔

    ٹیم ورک: ہر شعبے کے لیے الگ ٹیم
    پہچان پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کا مربوط ٹیم ورک ہے۔ یہاں ہر تحریری شعبے کیلئے علیحدہ ٹیمیں موجود ہیں۔ جیسے:
    کالموں کی ٹیم
    افسانہ و کہانی کی ٹیم
    شاعری و غزل کی ٹیم
    اصلاح و املا کی ٹیم
    تحقیق و حوالہ جاتی مواد کی ٹیم
    پوسٹنگ و گرافکس کی ٹیم
    مقابلہ جاتی تحریروں کے ججز الگ الگ ہیں۔یہ تمام ٹیمیں نہایت تربیت یافتہ، باشعور، سنجیدہ مزاج اور ادب سے والہانہ محبت رکھنے والے افراد پر مشتمل ہیں، جن میں خواتین و حضرات دونوں شامل ہیں۔ ہر ٹیم کو اپنے دائرہ کار کی مکمل ذمہ داری سونپی گئی ہے، اور تمام فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوتے ہیں۔ کوئی ایک شخص ہر فن مولا نہیں بن رہا، بلکہ ہر شخص اپنے شعبے کا ماہر ہے۔ یہی تو پہچان پاکستان کی "پہچان” ہے۔

    تحریری مقابلے اردو ادب کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، اور پہچان پاکستان نیوز گروپ ان مقابلوں کو صرف "رنگین پوسٹیں” بنانے کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ ان کے پیچھے ایک باقاعدہ نظم، انصاف اور شفافیت کا نظام ہے۔ہر مقابلے کیلئے غیر جانبدار ججز مقرر کیے جاتے ہیں جن کا گروپ انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نتائج تحریروں کے معیار، جدت، فکری گہرائی اور زبان دانی کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریری فیڈ بیک دیا جاتا ہے تاکہ ناکام لکھاریوں کو بھی سیکھنے کا موقع ملے۔

    کسی بھی زبان کا مستقبل اس کے لکھنے والوں پر منحصر ہوتا ہے، اور اگر ان لکھنے والوں کی اصلاح نہ کی جائے، ان کی حوصلہ افزائی نہ ہو، تو وہ قلم ترک کر دیتے ہیں۔ پہچان پاکستان نے ان بے ہنر مگر باہنر نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم دیا ہے جہاں وہ اپنے اندر چھپی تخلیق کو دریافت کر سکیں۔
    یہاں "فیچر رائٹنگ” سے لے کر "تنقیدی کالم نگاری”، "نثری افسانہ”، "ادب اطفال”، "طنز و مزاح” اور "نعتیہ شاعری” تک ہر صنف پر بھرپور کام ہو رہا ہے۔ یہ گروپ اردو ادب کی ایک نئی نسل کو جنم دے رہا ہے، جو مستقبل میں ادب کے افق پر جگمگائے گی۔
    پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے،پہچان پاکستان نیوز گروپ کی سب سے متاثر کن بات یہ ہے کہ یہ اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ چاہے تحریر کسی معروف قلم کار کی ہو یا کسی نوآموز کی، معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوتا۔ غیر معیاری یا بغیر اصلاح کی تحریر کو شائع کرنے سے بہتر سمجھا جاتا ہے کہ اسے واپس کر دیا جائے تاکہ لکھاری خود سیکھے اور آگے بڑھے۔اردو ادب کا پہرہ دار:
    یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ گروپ اردو ادب کے دروازے پر کھڑا وہ محافظ ہے جو ادب میں داخل ہونے والے ہر لفظ، ہر فقرے، اور ہر جذبے کی پہچان رکھتا ہے۔ نہ صرف پہچان رکھتا ہے بلکہ اس کی صفائی، تراش خراش اور سج دھج بھی کرتا ہے تاکہ جب وہ الفاظ قاری کے دل و دماغ میں داخل ہوں تو صرف تاثر ہی نہیں، تربیت بھی چھوڑیں۔

    پہچان پاکستان نیوز گروپ دراصل اردو زبان کا دربان ہے، ادب کا محافظ ہے، تحریر کا معمار ہے، اور نئے لکھاریوں کا دستِ شفیق ہے۔ یہ گروپ صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—تحریکِ فروغِ اردو۔
    اگر آپ لکھاری ہیں، چاہے ابتدائی درجے کے، اگر آپ میں احساس ہے، جذبہ ہے، لیکن فنی کمزوریاں آڑے آتی ہیں تو "پہچان پاکستان نیوز گروپ” آپ کی منزل ہے۔جس کے سالار قافلہ زکیر احمد بھٹی بطور چیف ایڈیٹر اور آمنہ منظور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے ملیں گے۔ یہاں الفاظ کو لکھنا سکھایا نہیں جاتا، محسوس کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہی ادب ہے، یہی تربیت ہے، یہی اردو کی اصل پہچان ہے۔۔۔۔۔۔

  • فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ .تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ .تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟
    رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے، اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرات وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا، اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی، تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا، اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو، اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔
    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    دور حاضر میں کچھ ناعاقبت اندیش جن کے دل در حقیقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یزید کو ولی عہد بنانے یا امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اختلاف و غیرہ کی آڑ میں سیدنا امیر معاویہ پر تبصرے اور تجزیہ کے نام پر زبان طعن دراز کرتے ہیں،کیا وہ اہل سنت والجماعہ کا موقف نہیں جانتے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم امجعین کے درمیان جو اختلافات ہوئے، وہ اجتہادی تھے، ذاتی مفاد پر مبنی نہ تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو بھی کیا وہ امت کے اتحاد، عدل اور فتنہ سے بچاو کی نیت سے کیا اور نیت پر اللہ گرفت نہیں کرتا، بلکہ عمل اور نتیجہ بھی نیت سے پرکھا جاتا ہے۔اور سب سے بڑھکر جب اللہ رب العزت والجلال نے انہیں قرآن کریم میں اپنی رضامندی کی سندیں عطا کردیں انہیں فائزون قرار دے دیا ، انہیں مفلحون کے لقب سے نواز دیا انہیں راشدون کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا انہیں السابقون الاولون کے مقام پر فائز کردیا۔ ان کے دلوں کو کائنات کے بہترین دل قرار دے دیا۔پھر دور حاضر کے خود ساختہ تجزیہ نگاروں ، کی تبصروں اور تجزیہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے وہ دراصل بغض صحابہ کی بدترین بیماری میں مبتلا ہیں ، اور اپنا خبث باطن چھپا نہیں پارہے اس لیے سیدنا امیر معاویہ کو نشانہ بنا کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ، جس میں نہ آج تک کامیاب ہوئے ہیں کہ کبھی کامیاب ہونگے کیونکہ امام الانبیاءنے انکو خیر القرون کی سند جاری کردی ہے۔

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماءکرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،
    اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔