آج کا نوجوان طبقہ والدین کے نزدیک باغی ہے ۔
والدین کا نافرمان و گستاخ ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں ۔
نوجوان طبقہ آزادی کا خواہاں ہے جبکہ والدین اپنی اولاد کو اپنے اثرو رسوخ تلے رکھنا چاہتے ہیں ۔
والدین کے نزدیک ان کی اولاد ان کے ہاتھ سے نکل جاٸیگی جبکہ نوجوان طبقے کے نزدیک ان پہ یہ سب مسلط کیا جا رہا ہے جبکہ وہ والدین کے اس اثرورسوخ سے چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔
اسکی دو وجوہات ہیں
پہلی وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ غیر ضروری دباٶ ان پہ بن وجہ غصہ کرنا ان کی شخصیت پہ اثرانداز ہورہا ہے ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ وہ فیصلے مسلط کرنا جو ان کے نزدیک سہی نہیں ہیں ۔
ایسا کرنا بچوں کو والدین سے باغی بنا رہا ہے ۔
بچوں کے نزدیک اب وہ بڑے ہوگۓ ہیں ان کو اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں جبکہ والدین ابھی اپنے بچوں کو نومولود بچہ ہی سمجھتے ہیں جس سے نوجوان باغی دکھاٸ دیتے ہیں کہ ان کو بڑا تصور کرتے ہوۓ اپنے من پسند فیصلے کرنے کا حق دیا جاۓ ۔
بچے غلط کمپنی کا شکار ہو رہے ہیں گھریلو پریشر کی وجہ سے تھوڑی دیر ریلیکس ہونے کے بہانے ناجانے کیا کیا کر رہے ہیں ۔
اکثر اوقات بچوں کے منہ سے یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ان کے والدین ٹھیک نہیں ہیں ایسے والدین مر ہی جاٸیں تو اچھا ہے ۔
آخر اتنی بدتمیزی ، بے حیاٸ ، نافرمانی اور بغاوت بچوں کے ذہن میں آٸ ہی کیوں ۔؟
اس کے دو پہلو ہیں ۔
پہلا پہلو یہ ہے کہ والدین دوسروں کی باتیں سن کے جب اپنی اولاد کو دوسروں کے سامنے ڈانٹیں گے تو وہ والدین سے نفرت کرنے لگیں گے ۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ
والدین اولاد کو اہمیت دیتے ہی نہیں ہیں جس سے اولاد نافرمان و باغی ہوتی جا رہی ہے ۔
حدیث مبارکہ ہے کہ
” ماں کے پیروں تلے جنت ہے “
دوسری حدیث میں آیا ہے کہ
” باپ جنت کا دروازہ ہے “
تو کیا ہوا ایسا کہ جس ماں کے پیروں تلے جنت رکھی ہے اللہ پاک نے اور جس باپ کو جنت کا دروازہ بنایا ہے ان سے ہی اولاد عاری کیوں ہے ۔؟
اس سلسلے میں والدین کچھ رہنما اصول اپنا لیں تو شاید بغاوت کی تیزی سے بڑھتی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے ۔
پہلا اصول
والدین اولاد کیلۓ وقت نکالیں تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کے ان سے ان کے معاملات زندگی بڑے تحمل سے پوچھیں ۔
دوسرا اصول
اولاد سے ان کی خوشی کے بارے میں پوچھا جاۓ تاکہ اولاد غلط فیصلے لینے سے بچ سکے کہ ان کی خوشی کس چیز میں ہے کیا جو یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے یا کیا جاۓ گا وہ ان کو منظور ہے تاکہ بچوں میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ آپ کو جواب دے سکیں ۔
تیسرا اصول
بچوں سے پوچھ لیا کریں کہ مستقبل میں وہ کیا بننا چاہتے ہیں ان کا کیا کرنے کا ارادہ ہے وہ کیا کر سکتے ہیں ۔؟
دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں پہ جبری فیصلے مسلط کر دیتے بچہ کہتا میڈیکل فیلڈ میں جانا تو والدین نہیں تم انجینٸر بنو گے جس سے اس پہ پریشر پڑتا ہے اور بچہ وہ اہداف حاصل نہیں کر پاتا جس کا وہ ارادہ کیۓ ہوۓ ہوتا ہے ۔
چوتھا اصول
بچوں کی دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس میں غصے کی شدت پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک باعزت شہری بننے کی بجاۓ انتقام پسند بن جاتا ہے جو کہ معاشرے کیلۓ ٹھیک نہیں ہے ۔
پانچواں اصول
بچوں کے ساتھ اپنا رویہ دوستانہ رکھیں تاکہ بچے والدین سے اپنی ہر اچھی بری بات شٸیر کرتے ہوۓ نہ ڈریں ۔
کٸ بلیک میلنگ کے واقعات میں بچے اس لیۓ بھی بلیک میل ہو رہے ہوتے ہیں کہ وہ والدین کو نہیں بتا سکتے کیونکہ والدین نے الٹا ان کو ہی قصوروار ٹھہرا دینا ہوتا ہے ۔
چھٹا اصول
بچوں کی نفسیات سمجھ کے ہر معاملے پہ ان کے ساتھ بات چیت کی جاۓ ان کو اچھا برا سمجھایا جاۓ رویہ نرم اور شفقت بھرا رکھا جاۓ تو بچے والدین کے مزید قریب آجاتے ہیں ۔
اگر یہی بنیادی چھ اصول آج سے ہی والدین اپنا لیں تو بچے نہ تو جھوٹ بولیں گے ناں نافرمانی کریں گے نہ باغی ہونگے نہ غلط کمپنیوں کا شکار ہونگے ۔
Category: بلاگ
-

آج کے نوجوان تحریر : نواب فیصل اعوان
-
نظریں شیطان کا تیر- تحریر: نصرت پروین
ارے عادتِ بد نگاہی سے خود کو
نگاہِ خدا میں گرائے ہوئے ہو
الله سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب میں مردوں کو نظر کی حفاظت اور عورتوں کو حجاب کا حکم دیا۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم فتنوں سے بھرپور ایسے دور میں جی رہے ہیں۔ جہاں بے حیائی سرِ عام ہے۔ اور بے حیائی کے نتائج بھی واضح ہورہے ہیں۔ جہاں ایک گروہ کے نزدیک حجاب بوجھ ہے اور حجاب کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اس دلیل کے ساتھ کہ مرد اپنی نظر کی حفاظت کریں تو دوسرے گروہ کے نزدیک بس عورت کو حجاب پہننا چایے تو بے حیائی کا خاتمہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ جیسے عورت پر حجاب فرض ہے ویسے ہی بلا تفریق مرد پر بھی نگاہیں نیچی رکھنا فرض ہے۔ اور دونوں اپنے اعمال کے لئے الله کے سامنے جوابدہ ہیں۔ تو نظر کی حفاظت فرض ہے۔ آج نظر کی حفاظت کرنا تو بہت دور بلکہ فیشن اور ماڈرن ازم کی طرف لوگوں کو راغب کر کے اس بے حیائی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
نظروں کو شیطان کا تیر کہا جاتا ہے۔ یہ شیطان کی طرف سے پہلا حملہ ہوتا ہے جس کے زریعے شیطان انسان کو برائی میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ بد نگاہی کا ہمارے تمام عقائد اور اعمال سے گہرا تعلق ہے یہ بد نگاہی ہی تو ہے جس سے کبیرہ گناہ کی ابتدا ہوتی ہے اگر نگاہیں جھکی رہیں تو دل کا نظام بھی درست رہتا ہے لیکن جیسے ہی یہ نگاہیں آزادانہ اٹھیں دل کے اندر کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ اندر کا تمام نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ دراصل آغاز وسوسوں سے ہوتا ہے۔ شیطان انسان کو کئی کئی وسوسے دلاتا ہے کہ انسان آزادانہ طور پر بد نگاہی کا مرتکب ہو اور جب انسان ایسا کرتا ہے تو پھر دل کے اندر کئی کئی سوچیں آتی ہیں۔اور انسان ان سوچوں کو نہیں جھٹکتا بلکہ انہیں سرکش احساسات میں پروان چڑھاتا ہے اور پھر بد نگاہی کے توسط سے وہ گھناؤنے اعمال بن جاتے ہیں۔ جو گناہِ کبیرہ ہیں۔ پھر انسان مسلسل ان فحش اعمال کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور اسطرح انسان گناہوں کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور کفر میں ایسا پھنس جاتا ہے کہ اکثر واپسی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔الله جی اپنی کتابِ حبیب میں فرماتے ہیں۔
قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ ﴿۳۰﴾
ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
(سورہ النور:30)
اس آیت میں نگاہیں نیچی کرنا، ادھر ادھر نہ دیکھنا اور الله کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا مقصود ہے (تفسیر ابنِ کثیر)
اس سے پتہ چلتا ہے کہ نگاہوں کی حفاظت نفس کی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ الله رب العزت نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم مشقت کے طور پر نہیں دیا بلکہ یہ الله کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ یہ آیت دو ٹوک انداز میں بد نگاہی کی مذمت کر رہی ہے۔ احادیث میں بھی اس معاملے میں بہت سی وضاحت موجود ہے۔ الله کے رسول نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے پوچھا کہ اگر کام کاج کے لئے ضروری ہو تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر راستوں کا حق ادا کرتے رہو۔ لوگوں نے راستوں کے حق کے متعلق پوچھا تو کریم نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو ایذا نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
(بخاری)حضرت جریر رضی الله عنہ نے رسول صلی الله علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نگاہ فوراً ہٹا لو۔
(صحیح مسلم)نظر کی حفاظت پر الله جی اپنے بندے کو اپنا تقرب دیتے ہیں۔ اسے ایسی عبادت عطا کرتے ہیں کہ انسان بہت لذت محسوس کرتا ہے۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کی نگاہ عورت کے حسن و جمال پر پڑ جائے اور وہ اپنی نگاہ ہٹا لے تو الله تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ دل میں محسوس کرتا ہے۔
(مسند احمد)
بدنگاہی انسان کے لئے بے سکونی کا سبب بن جاتی ہے۔ انسان مایوسی، ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسان بے چین رہتا ہے۔ وہ برائی کو پروان چڑھانے کے لئے ابلیس کے ساتھ مشاورت میں مگن ہوجاتا ہے۔ وہ ایک ایسی بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے جس کا علاج ناممکن ہے کیونکہ بدنگاہی انسان کے خیالات، جذبات کو منتشر کر دیتی ہے۔ یوں انسان الله کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔
ایک نشید کے الفاظ کچھ یوں ہیں۔
بدنگاہی بے سکونی کی وجہ کیسے نہ ہو
بدنگاہی جرم ہے تو پھر سزا کیسے نہ ہو۔صورتِ جنس مخالف کو مسلسل دیکھنا
غلطیاں آنکھیں کریں دل مبتلا کیسے نو۔خالقِ دل کی بجائے دل میں رہتے اور ہیں۔
پھر یہ شب بھر جاگنے کا سلسلہ کیسے نہ ہو۔لب پہ جنت کی دعائیں خوب ہیں لیکن میاں
اتباعِ نفس و شیطاں میں خطا کیسے نہ ہو۔فتنہِ عشق مجازی دشمنِ ایمان ہے
ہم کریں من مانیاں رب کو پتہ کیسے نہ ہو۔بندہِ رحمن ہو کر نفس کے تابع ہوئے
نفس کے ماروں کا شیطاں رہنما کیسے نہ ہو۔چند مٹی کے کھلونوں کو طلب کرنے لگے
پھر انہیں ہدہد موبائل کا نشہ کیسے نہ ہو۔امام ابنِ قیم لکھتے ہیں کہ زنا کے واقعات کا آغاز نگاہوں سے ہوتا ہے جس نے اپنی نگاہ کو آزاد چھوڑ دیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالا۔ انسان تک پہنچنے والی مصیبت اور آفات میں سب سے پہلے نظر کے زریعے ہی مصیبت اور پریشانیاں پہنچتی ہیں۔ جب انسان نظروں کی لاپرواہی کے سبب مصیبت میں پڑجاتا ہے تو پھر اسے سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا وہ ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اس پر اسے نہ صبر کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے کی اور یہ انسان کے لئے سب سے بڑا عذاب ہوتا ہے۔
بدنگاہی انسان کے ایمان کی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور بہت سے دیندار لوگ بھی بدنگاہی کی سبب گمراہ ہوجاتے ہیں۔ ایک مؤذن جسے اذان دیتے ہوئے چالیس سال ہوگئے تھے۔ ایک دن اذان دیتے ہوئے اس کی نظر ایک نصرانی لڑکی پر پڑ ی تو دل اور عقل دونوں پر پردے پڑ گئے اذان چھوڑ کر اس لڑکی کے پاس پہنچا اور نکاح کا پیغام دیا۔ وہ لڑکی کہنے لگی میرا مہر تجھ پر بھاری ہو گا گی۔ پوچھا تیرا مہر کیا ہے؟ لڑکی بولی دین اسلام چھوڑ کر نصرانی بن جا (معاذالله) یہ سن کر اس بدنصیب نے مرتد ہو کر عیسائ مذہب اختیار کر لیا۔ نصرانی عورت نے کہا میرا باپ گھر کے سب سے نچلے کمرے میں ہے تو اس سے نکاح کی بات کر لے۔ چنانچہ جب وہ اترنے لگا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ شادی کی تمنا دل میں لئے ہی مردہ حالت میں مر گیا۔ آپ اس واقعے کو دیکھیں۔ ایک دیندار انسان پر بھی ابلیس کیسے وار کرتا ہے اور "نگاہ اٹھی” اور ایمان کا سودا کر دیا۔
نگاہوں کی حفاظت مشکل کام ہے لیکن الله کا حکم ہے اور معاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ بھی ہے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو الله کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو الله کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو الله کے خوف میں رو دے گو اس میں آنسو صرف مکھی کے سر برابر ہی نکلا ہو۔
@Nusrat_writes -

شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ تحریر: احسان الحق
27 ذوالحج سے یکم محرم الحرام تک کے ایام خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے زخمی ہونے اور شہید ہونے کے دن ہیں. امیرالمؤمنین نے مدینہ منورہ میں اجنبی غیر مسلم نوجوانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی. ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے امیرالمؤمنین کی خدمت میں معروضہ پیش کیا کہ ایک کاریگر نوجوان ہے جو لوہار اور بڑھئی کے ساتھ ساتھ ماہر خطاط بھی ہے. اس کے علاوہ بھی کافی ہنر جانتا ہے. اگر اس نوجوان کو مدینے میں آنے کی اجازت عنایت فرمائیں تو لوگوں کا بہت فائدہ ہوگا.
کاریگر نوجوان کی مدینہ آمد سے پہلے کچھ اور اہم حالات اور واقعات جان لیتے ہیں. معید بن مسیب اور حاکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اونٹ پر سوار ہو کر منیٰ سے نکلے اور مقام بطح پر رک گئے. سیدنا عمرؓ اپنے اونٹ کے سہارے کھڑے ہو کر آسمان کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی.
"اے اللہ، میں کمزور ہو گیا ہوں. میری قوت جواب دے رہی ہے. میرے خیالات منتشر ہو رہے ہیں. اس سے پہلے کہ ضعف عقلی کی وجہ سے خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر ہو، مجھے اپنے پاس بلا لے”
امام بخاری نے بحوالہ ابو صالح لکھا ہے کہ ایک دن حضرت کعب بن احبار نے امیرالمؤمنین سے فرمایا کہ میں نے تورات میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ شہید کئے جائیں گے. یہ سن کر آپ امیرالمؤمنین فرماتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں رہتے ہوئے مجھے شہادت ملے.
اسلمی کہتے ہیں کہ کعب کی بات سن کر امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ "اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب عطا فرما اور میری روح مدینہ میں قبض ہو اور یہاں مجھے دفن فرما”حج کی غرض سے امیرالمؤمنین خلافت کے 11ویں سال بمطابق ذوالحج 23 ہجری کو مکہ مکرمہ تشریف لے گئے. اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے. جمعہ کا طویل خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو نصیحتیں کیں اور ایک خواب کا ذکر کیا. معدان بن ابوطلحہ کی زبانی حاکم لکھتے ہیں کہ خطبہ جمعہ میں امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو ٹھونگیں ماریں. جس کا مطلب ہے کہ میری موت نزدیک ہے. آپ نے یہ فرمایا کہ لوگ اصرار کر رہے کہ میں اپنا جانشین مقرر کروں، اگر میری موت جلدی واقع ہو جائے تو ان 6 لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر لینا جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیات میں راضی تھے. آپ نے خلافت کے لئے ان 6 حقداروں اور امیدواروں کا نام لیا.
عثمان بن عفان، علی بن ابوطالب، سعد بن وقاص، عبدالرحمن بن عوف، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا.کاریگر نوجوان کا نام ابولولوء فیروز تھا جو کہ ایرانی مجوسی تھا. ابولولوء مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا. ابولولوء فیروز ایک دن امیرالمؤمنین کے دربار میں حاضر ہو کر حضرت مغیرہ بن شعبہ کی شکایت کی کہ میں جو دن بھر کماتا ہوں میرا آقا اس میں زیادہ رقم لے لیتا ہے. اس میں سے کمی کروا دیں. امیرالمؤمنین نے دریافت کیا کہ کون سا کام جانتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں لوہار بھی ہوں، بڑھئی بھی ہوں اور بیل بوٹے بنانا بھی جانتا ہوں. سیدنا عمرؓ نے پوچھا کہ تمہارا آقا روزانہ کتنی رقم لیتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ دو درہم روزانہ. امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ تم جو کام کرتے ہو اس کے لئے تو یہ رقم مناسب ہے. یہ سنتے ہی ابولولو اندر سے ناراض ہو کر چلا گیا.
دوبارہ امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ابولولوء کو بلایا اور فرمایا کہ تم نے کہا تھا کہ ہوا سے چلنے والی چکی بنا کر دونگا. اس پر ملعون ابولولوء نے کہا کہ ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ تم یاد کروگے. اس کے جانے کے بعد امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ مجھے دھمکی دے کر گیا ہے اور میں اس پر گرفت نہیں کر سکتا کیوں اس کا جرم واضح یا ظاہر نہیں، اس نے ذو معنی الفاظ میں اپنا ارادہ ظاہر کر کے مجھے دھمکی دی ہے.
اگلے دن صبح کی نماز کے وقت ملعون ابولولوء مسجد نبویؐ میں چھپ کر بیٹھ گیا. قاتل کے پاس 2 رخ والا دو دھاری خنجر تھا. جس کے درمیان میں دستہ تھا.
امیرالمؤمنین نماز پڑھا رہے تھے اور جب سورۃ یوسف کی تلاوت شروع کی تو ملعون ابولولوء نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیرالمؤمنین کے کندھے اور کوکھ کے درمیان 6 وار کئے اور بھاگنے کی کوشش میں پہلی صف میں کھڑے 13 نمازیوں پر بھی پر حملہ کیا. اس حملے میں امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو کر گر پڑے. ایک عراقی نے ابولولوء پر چادر پھینک کر پکڑنے کی کوشش کی مگر ابولولوء نے اسی خنجر سے خود پر وار کرتے ہوئے خودکشی کر لی. 13 زخمی نمازیوں میں سے 7 شہید ہو گئے.ادھر امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو چکے تھے. انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو نماز مکمل کرنے کے لئے آگے کر دیا. امیرالمؤمنین نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ مجھ پر کس نے حملہ کیا. بتایا گیا کہ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے، یہ سنتے ہی امیرالمؤمنین نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے ایک ایسے بندے نے مارنے کی کوشش کی جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ نہیں کیا. میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہو رہی جو کلمہ گو ہو. آپ کو گھر لایا گیا. زخمی امیرالمؤمنین کو دودھ پلایا گیا تو وہ زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا. ایسے میں آپ امیرالمؤمنین کو اندازہ ہو گیا اب میرا زندہ رہنا بہت مشکل ہے.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ میرا کتنا قرض ہے، حساب لگا کر بتایا گیا کہ چھیاسی ہزار. آپ نے اپنے بیٹے کو یہ قرض اتارنے کے ساتھ ساتھ دوسری نصیحتیں بھی کیں پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کہ جا کر امی عائشہ صدیقہ کو کہو کہ عمر سلام کہتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پہلو میں دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے. امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت دے دی. امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد اور دفنانے سے پہلے میرا جنازہ امی عائشہ صدیقہ کے پاس لے جانا اور دوبارہ پوچھنا، ہو سکتا ہے ابھی انہوں نے مجھے بحیثیت خلیفہ دفن ہونے کی اجازت دی ہو.امیرالمؤمنین 27 ذوالحج 23 ہجری کو زخمی ہوئے اور 3 دن بعد یکم محرم 24 ہجری کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے. آپ کی عمر پر کچھ اختلاف ہے مگر 63 سال پر زیادہ اتفاق ہے. آپ امیرالمؤمنین کا جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے پڑھایا. حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت سعد بن وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے امیرالمؤمنین کی میت مبارک کو قبر میں اتارا. خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امام الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفہ اول امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا ساتھ نصیب ہو گیا.
@mian_ihsaan
-

موسمیاتی تبدیلیاں اور پاکستان تحریر : احسن وقار خان
دنیا کا تیس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ۔جبکہ پاکستان میں جنگلات کی تعداد ”آٹے میں نمک “کے برابر ہےـ جو بمشکل تین سے چار فیصد بنتی ہے اور ان جنگلات کو بھی مافیا کاٹ کاٹ کر ختم کرتا جا رہا ہے ـجس وجہ سے بہت سی موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی جا رہی ہیں ـ
ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے ـجبکہ اس کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔سموگ اور اس جیسی دیگر پولوشن میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔
خدارا اپنی آنے والی نسلوں کے لیے درخت لگائیں ۔جںگلات ماحولیاتی تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس وقت ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔درختوں کی کٹائی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں .
عمران خان کا شروع کیا گیا
”بلین ٹری پروجیکٹ “
ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہت مفید ہے ۔ہر شخص کو چاہیے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ۔ہر شخص کو اس پروجیکٹ میں آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔جنگلات لگانا ہماری آنے والی نسلوں کو زندگی دینے کے مترادف ہے۔
درخت نہیں ہوں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو جاۓ گا ۔آلودگی سے بھری آب و ہوا ان کے لیے بیماریوں کا باعث ہوں گی ۔
خدارا درخت لگائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو زندگی بخشیں ۔
پاکستان کو سر سبز و شاداب بنائیں ۔
پاکستان زندہ باد -

پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط تحریر:ضمیر آفاقی
پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط
پاکستان نیوی کی سمندری سرحدوں سے لیکر معاشی اور امدادی اموں میں خدمات سے تاریک بھری پڑی ہے جس کا زکر اکثر ہوتا رہتا ہیں لیکن پاک نیوی کے بحری جہاز دنیا بھر میں امدادی سرگرمیوں کءحوالے سے بھی نام کما رہے ہیں ایسا ہی ایک بحری جہاز پی این ایس ذوالفقار جو سمندر پر اپنا تسلط قائم رکھنے اور نگرانی کے مقصد کے لیے حاصل کردہ پاک بحریہ کا جدید ترین جہاز ہے یہ تباہ کن بحری جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے اور اس میں دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے تارپیڈو بھی نصب ہیں۔ یہ بحری جہاز ملک کی ساحلی پٹی کی حفاظت اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ایک مکمل طور پر فعال پیکج ہے۔
ابھی حال ہی ہی میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے روس کی بندرگاہ سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ کیا جو پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کی شاندارمثال ہے ۔ پی این ایس ذوالفقار نے روسی بحریہ کی 325 ویں ڈے پریڈ میں شرکت کی۔سینٹ پیٹرزبرگ میں جہاز کے قیام کے دوران مشن کمانڈر اور جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے لیننگراڈ نیول بیس کے کمانڈر کیپٹن سالوشین آندریو اور ڈپٹی گورنر خارجہ تعلقات جناب ایوگینی ڈی گریگوریف سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معززین نے پاک بحریہ کیلئے خیر سگالی اور گرم جوشی کا اظہار کرتے ہوے روس کی نیول ڈے پریڈ میں شرکت پر پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا۔ مشن کمانڈر نے روسی عوام بالخصوص روسی بحریہ کیلئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ مشن کمانڈر نے بندر گاہ پر جہاز کے قیام کے دوران روسی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے پسکیریوسکو میں یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ اس کے علاوہ رشین نیوی ڈے کی اہمیت کے لحاظ سے پی این ایس ذوالفقار پر ایک تقریب اور پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر روسی حکومت کے عہدیداروں ، سفارتی شخصیات اور رشین فیڈریشن نیوی کے افسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔پی این ایس ذوالفقار کا روس کا دورہ اور 325 ویں نیوی ڈے کے موقع پر روسی بحریہ کی پریڈ میں شرکت پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کا باعث ہے۔ بندرگاہ سے روانگی پر پاک بحریہ کے جہاز نے رشین فیڈریشن نیوی کے جہاز اوڈینٹوسو کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق عریبین مون سون میں بھی حصہ لیا۔
علاوہ ازیں عالمی سمندروں میں تعیناتی کے سلسلے میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے ہیمبرگ، جرمنی کا بھی دورہ کیا۔ جہاز کی آمد پر، برلن میں پاکستان کے دفاعی اتاشی اور جرمن بحریہ کے افسران نے جہاز کا استقبال کیا۔بندرگاہ کے دورے کے دوران، مشن کمانڈر کموڈور سید رضوان خالد اور جہاز کے کمانڈنگ افسر کیپٹن راو¿ احمد عمران انور نے چیف آف اسٹاف جرمن نیول کمانڈ رئیر ایڈمرل فرینک لینسکی، کمانڈر ہیمبرگ نیول کمانڈ کیپٹن مائیکل گس اور ہیمبرگ پورٹ کے چیف ہاربر ماسٹر مسٹر پولمین سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے کے امن اور بحری سیکیورٹی کے لیے پاک بحریہ کی خدمات کو سراہا گیا۔ مشن کمانڈر نے جرمنی کی عوام کے لیے بالعموم اور جرمن بحریہ کے لیے بالخصوص چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی جانب سے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے جرمن بحریہ کی یادگار لیبو کیل پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ علاوہ ازیں پی این ایس ذوالفقار پر پاکستان اور جرمنی کے مابین 70سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے کی خوشی میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔قبل ازیں پی این ایس ذوالفقار نے پولینڈ بحریہ کے جہاز او آر پی کورموران کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق میں حصہ لیا۔ مشق میں جدید بحری حربے جن میں میری ٹائم انٹر ڈکشن آپریشنز بورڈنگ، فورس پروٹیکشن ڈرل شامل تھے۔ مشق کا مقصد بحری معاملات کے ذریعے دفاعی معاونت کو فروغ دینا اور دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔پی این ایس ذوالفقار کا دورہ جرمنی اور پالش بحریہ کے ساتھ بحری مشق میں شرکت دوست ممالک کے درمیان نہ صرف بحری افواج کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث ہے بلکہ سفارتی اور دفاعی تعلقات کوبھی فروغ دیتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے برطانیہ کی بندرگاہ پورٹسموتھ کا بھی دورہ کیا، جہاں میزبان بحریہ اور پاکستان کے سفارتی حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مشن کمانڈر نے جہاز کے کمانڈنگ آفیسر کے ہمراہ میزبان حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ بحری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشن کمانڈر نے امیرالبحر کی جانب سے برطانیہ کے عوام کیلیے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق دورے میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے مشترکہ بحری مشق واٹ اسٹار میں بھی حصہ لیا۔ مشق کے دوران جدید بحری آپریشنز کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاک بحریہ کے جہاز کا یہ دورہ اور مشترکہ مشق میں شرکت دونوں ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔
پاک بحریہ نے خلیج عدن میں پھنسی کشتی کو بچالیا ، پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقارنے بحری گشت کے دوران خراب سمندری حالات میں 16 گھنٹے تک آپریشن کے بعد کشتی کو کھینچ کر بحفاظت ساحل کے قریب پہنچایا۔ کشتی سفر کے دوران آپریشنل صلاحیت کھو چکی تھی۔ مسافر کئی دنوں سے بغیر پینے کے پانی اور خوراک سمندر میں امداد کے منتظر تھے پاک بحریہ زمانہ امن و جنگ دونوں میں عسکری، سفارتی اور انسانی ہمدردی کے آپریشنز سر انجام دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رپتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پاکستان نیوی کا کھلے سمندر میں یہ اس طرز کا دوسرا امدادی آپریشن ہے۔ پاک نیووی کی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار نہ صرف وسیع ہت بلکہ دنیا بھر کے ممالک اس کے معترف بھی ہیں۔
یوں تو پاک بحریہ کی شاندرا کارکردگی کا زکر اکثر کیا جاتا ہے لیکن پاک بحریہ کے افسران اور نوجوان جو جو اپنی جاں جوکھم میں ڈال کر دن دارت دفاع وطن اور عوامی خدمات میں مصروف رہتے ہیں ان کے شب روز کس طرح گزرتے ہیں اس بارے بہت کم لوگوں کو جانکاری ہے بتایا جاتا ہے دوران ڈیوٹی ایسے افسران بھی ہیں جو اپنے بچوں کی پیدائش کے مواقع پر وہاں موجود نہیں ہوتے ۔ مگر سب سے تکلیف دہ کہانیاں ان کی ہیں جو اپنے پیاروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہو پاتے اور یہ بوجھ اپنے دلوں پر لیے پھرتے دان رات خدمت میں مصروف رہتے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ لوگ بہت بہادر ہیں جفا کش ہیں۔ وہ سخت ترین کاموں کے بارے میں شکایت نہیں کرتے اور نہ ان کے لب کھلتے ہیں وہ ہمیشہ مسکراتے چہروں اور کھلی بانہوں سے اپنی ذمہ داریوں کو گلے لگاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے لئے بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ مختص کیا جائے ،اور اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے حوالے سے بھی انہیں یاد رکھا جائے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہم پرسکون شہروں میں انہیں کی وجہ سے رہتے ہیں۔ -

شکر واجب ہے تحریر : شاہ زیب
انسان کی زندگی مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے۔
جس میں نعمت ہے تو ساتھ ہی زحمت بھی ہے۔
سکھ ہے تو ساتھ ہی دکھ بھی ہے۔
سکون ہے تو بے آرامی بھی ہے۔
یعنی ہر چیز/جذبے کے ساتھ اس کا دوسرا پہلو بھی موجود ہے۔
جو اس زندگی کا اصل حسن ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثریت اب بس منفی چیزوں، رویوں، باتوں کے متعلق ہی بات کرتی پائی جاتی ہے۔ اگر اتنی نعمتوں کے ساتھ تھوڑی سی آزمائش بھی آجاۓ تو کیا ہم پر شکر کرنا واجب نہیں رہتا؟
ہماری زندگی میں ہر دن کوئی نہ کوئی خوشی ضرور ملتی ہے اور کبھی غم بھی۔
لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ ہم اس خوشی کا ذکر کم اور غم کا ذکر زیادہ کرتے ہیں۔ کیا اس خوشی کا شکر ہم پر واجب نہیں؟
ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی سے خوش یا مطمئن نہیں ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے شکر ادا کرنا اور نعمتوں کا شمار کرنا کم کر دیا ہے۔ ہم ہر وقت خود ترسی یا کسی غم میں ڈوبے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ نہیں جو فلاں کے پاس ہے۔ کیا ہوتا اگر وہ ہمیں مل جاتا؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو آپ کے پاس ہے موجود ہے وہ کسی اور کی بھی خواہش ہو سکتی ہے؟
ہماری زندگی میں بے سکونی، بے آرامی، جیلسی، منفی رویوں کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنے حال سے خوش اور آسودہ نہیں۔
ہم ﷲ پاک کی عطا کردو نعمتوں سے خوش نہیں اور ان تمام چیزوں کا شکر نہ ادا کر کےہم نے خود کو بے سکون اور بے چین کر رکھا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں مزید ناشکری کر رہا ہے۔
یاد رکھیں! ﷲ تعالیٰ جب ہمیں اپنی نعمت عطا کرتے ہیں تو ہم پر اس کا شکر واجب ہوجاتا ہے۔ اور جب ہم شکر ادا کرتے ہیں تو نہ صرف اس سے دینے والی ذات خوش ہوتی ہے بلکہ ہمیں بھی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ جس سے ﷲ خوش ہو کر ہمیں مزید نوازتا ہے۔
آپ بھی آج سے شکر گزاری کی عادت کو اپنائیں۔ ﷲ نے جو عطا کیا اس کا شکر کریں۔زندگی میں مزید ترقی کے لیے دعا اور محنت ضرور کریں کہ یہ آپ کا حق ہے لیکن اس سب میں یہ بھی نہیں بھولیں کہ جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے وہ ہمارے اعمال کے بدلے نہیں بلکہ ﷲ تعالیٰ کی رحمت کے صدقے ملا ہے۔
جس کا شکر ادا کرنا ہم پر واجب ہے۔ اور بے شک اسی میں انسان کی فلاح ہے۔@shahzeb___
-

عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تحریر حمزہ احمد صدیقی
امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تھے ،ایک ایسے حکمران جو صدیوں بعد قیامت تک نہیں آسکتی ایسی حکمران جس کے خلق کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کر دیا کرتی ہیں،ایسی عظیم حکمران تھے، انکی زندگی سادگی کا مجسمہ تھی
۔آپ ؓ نے عدل و انصاف، مساوات ،سادگی ، امانت و دیانت، شجاعت ،صداقت کا وہ درس دیا جس کی وجہ سے امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کو تمام حکومت کرنے والوں پر برتری حاصل ہے ۔ آئیے ان کی خوبصورت دور حکومت پر روشنی ڈالتے ہیں۔امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے ٢٣ جمادی الثانی کو منصب خلافت سنبھالا اس وقت آپؓ کی عمر تقریباََ باون برس تھی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے وفات سے قبل آپؓ کا نام خلافت کے لئے تجویز کر دیا تھا اور بعض صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس تجویز کو بے حد پسند کیا البتہ بعض صحابہ کرام ؓ نے حضرت عمرؓ کی سخت طبیعت کی طرف اشارہ کیا تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ جب خلافت کا بوجھ آئے گا تو آپؓ خود نرم ہو جائیں گے
امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ہر لحاظ اور ہر پہلو سے سادہ رہائش تھے، سادہ خوراک کھانے کے عادی تھے ، سادہ لباس زیب تن کرتے تھے اور آپ ؓ کا رہن سہن بھی سادگی کی اپنی مثال تھا، گویا امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ سادگی کا ایک مرقع بھی تھے ۔
امیرالمومنین کے پاس صبح و شام قیصر و کسریٰ کے درباروں سے سفیر چلے آتے تھے اور نصف جہاں پر انکی بھیجی ہوئی افواج حملہ کر رہی تھیں عظیم عظیم فاتح امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کے زیر کمان سرگرم عمل تھے اور آپ ؓ ایسے حکمران تھے، جس کے بدن پر کئی کئی پیوند لگا کرتہ پہنا ہوتا تھا ، آپؓ سر پر معمولی عمامہ اور ہاتھ میں کوڑا تھامے جنگل میں بیت المال کے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں سرگرداں تھے ، کبھی کاندھے پر مشک لٹکائے تیزی سے بیوہ کے گھر کی جانب رواں دواں ہوتے تھے ۔
امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایسے حکمران تھے ،جن میں غرور و تکبر کا نام و نشان تک نہ تھا ، آپؓ جیسا حکمران بھلا کس طرح متکبر ہو سکتا ہے، جس کے لباس پر ایک نہیں سترہ پیوند لگے ہوں، علامہ شبلی نعمانی ؒ امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ عمرؓ بن خطابؓ کی سوانح عمری الفاروقؓ میں رقم طراز ہیں کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا عظیم حکمران دکھا سکتے ہو؟ جس کی سادگی یہ ہو کہ قمیص میں سترہ سترہ پیوند لگے ہوں۔
امیرالمومنین عمرؓ بھی خطاب ؓ اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور اپنی رعایا کے خدمت و آرام کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ ؓ عوامی شکایات کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ آپؓ کا یہ معمول تھا کہ ہر فرض نماز کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں بیٹھ جاتے اور قوم کے لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے اسی موقع پر احکامات جاری کرتے۔ آپ ؓ راتوں کو گشت کرتے اور راہ چلتے لوگوں سے مسائل و حالات پوچھتے تھے ۔ آپ ؓ دوردراز علاقوں کے لوگ وفود کی صورت میں حاضر ہوکر اپنے مسائل وغیرہ سے آگاہ کرتے تھے اور بعض دفعہ آپؓ مختلف علاقوں کا خود دورہ فرماتے تھے اور لوگوں کی شکایات کا ازالہ فرماتے تھے ۔
امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ اپنے کاندھے پر مشک رکھ کر غریب و لاچار عورتوں کے ہاں پانی بھر آتے تھے، آپ ؓفرش خاک پر سو جاتے تھے، آپؓ بازاروں میں گشت لگے تھے اور ضرورت مندوں کی مدد فرماتے تھے ، آپؓ جہاں جاتے تھے وہاں جریدہ و تنہا جاتے تھے ، آپؓ اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتے تھے ، آپؓ دور دربار، نقیب و چاؤش، حشم وخدم کے نام سے آشنا نہ ہوتے ، اور پھر یہ رعب و ادب ہو کہ عرب و عجم آپ کے نام سے لرزتے تھا اور جس طرف آپؓ رخ کرتے ہتھے زمین دہل جاتی تھی ، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج کا لشکر رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب آپؓ کا رعب و دہشت قائم ہوتا تھا۔
امیرالمومنین بہت عظیم شجاع تھے، جب اسلام لائے تو قریش قبلیہ سے لڑے یہاں تک کہ بیت اللہ میں نماز پڑھی آپؓ کی بہادری نے یہ گوارہ نہ کیا کہ چھپ کر بیٹھا جائے ،امیرالمومنین نے اعلانیہ دین اسلام ظاہر کیا اور کفار مکہ سے ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر آپؓ کا یہ وصف بہت وسیع تھا کہ آپؓ نے اپنے دامن شجاعت میں کمزور مسلمانوں اور کفار کو پناہ دی اسی طرح مدینہ کے ہو نہار اور دلفگار تلامذہ میں آپؓ کو بہت بلند مقام حاصل تھا وہ اس نورانی مکتب عشق کے قابل فخر ارادت مند تھے ۔
۔امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطانؓ نے ١٣٠٩٥٠١ مربع میل علاقہ اپنے دور خلافت میں فتح کیا، آپ ؓ کا مدت خلافت چونکہ تقریبا ساڑھے دس سال تھی ،اس مدت خلافت پر رقبہ کو جب تقسیم کیا گیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، ایک دن کا مفتوحہ علاقہ تقریباََ ٣٥١ مربع میل نکلا، آپؓ نے ٣٦٠٠ علاقے فتح کیا ، آپ کے دور خلافت نو سو جامع مسجدیں اور چار ہزار عام مساجد تعمیر کی گئیں ،آپؓ نے ملک کو آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا بعض مورخین حضرات نے سات صوبے بھی لکھے ہیں ،امیرالمومنین عمرؓ بھی خطابؓ کی سلطنت کی وسعتوں کا اندازہ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ صرف مفتوحہ علاقے سینکڑوں اضلاع پر مشتمل تھے ، آپ ؓ نے صرف مصر میں٤٣ اور فارس میں ٤٥ اضلاع تھے ۔
23 لاکھ مربع میل کے علاقے پر حکومت کرنے والا عظیم حکمران حضرت عمر ؓ بن خطاب جس کا دل خوف خدا ۔ سے سرشار تھا ایسا حکمران جو عادل و انصاف کا پیکر تھا ایسا عظیم رہنما جس کے خزانہ میں سونے، چاندی، ہیرے موتی، جواہرات اور ریشم کے انبار تھے۔ مگر اس عظیم حکمران کے پاس نہ کچھ پہننے کے لئے نہ کھانے کے لئے..
اس عظیم حکمران عمرؓ بن خطابؓ کا دور خلافت تاریخ کا درخشندہ اور بے مثال دور ہے۔ ان کے دور خلافت کی کہانیاں تمام مذاہب میں ضرب المثل بن گئی ہیں۔
اللہ پاکﷻ ہمیں عمرؓ بھی خطاب ؓجیسی صفات والا حکمران عطا فرماٸے، آمین!
@HamxaSiddiqi ۔
-

14 اگست اور عوام کا جذبہ تحریر : اسامہ خان
پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا پاکستان کا نظریہ علامہ محمد اقبال صاحب نے دیکھا تھا اور اس کو پورا قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا 1880 سے لے کر 1947 تک بہت سی تحریکے چلی اس میں سب سے بڑی تحریک دو قومی نظریہ کی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ابھی پاکستان کچھ سنبھال نہیں رہا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح 1948 میں وفات پاگئے انڈیا نے بہت کوشش کی لیکن پاکستان کے جذبے کو اور پاکستان کو نہ توڑ سکے اسکے باد 1965 میں انڈیا کے ساتھ جنگ ہوئی اور ہمارے ملک پاکستان کی فوج نے بھرپور طریقے سے اپنے ملک کا دفاع کیا۔ اور یہ سازشیں چلتی رہی اور آخرکار 1971 میں انڈیا اپنے منصوبے میں کامیاب ہوا اور بدقسمتی سے بنگلہ دیش الگ ملک جا بنا جو کہ پاکستان کا حصہ تھا پاکستانی نے بہت قربانی دے کر یہ ملک حاصل کیا اور الحمداللہ اللہ کا بہت کرم ہے اس ملک پر اس دھرتی پر عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات پیدا ہوئیں اور انہوں نے ملک پاکستان کے لیے اور خدمت خلق کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہم 70 سالوں سے 14 اگست کو آزادی مناتے آرہے ہیں آزادی کے موقع پر جھنڈے وغیرہ خریدتے ہیں ان کو اپنے گھروں گاڑیوں پر آویزاں کرتے ہیں جب لے کر آتے ہیں تو انکا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں شاید ہماری آزادی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے وہی جھنڈے ہمیں گلیوں سڑکوں پر نظر آتے ہیں زمین پر پڑے ہوئے کبھی ہم اس پرچم کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں اور کبھی ہم اس کی پرواز بھی نہیں کرتے ہم کیسے پاکستانی ہیں جو 14 اگست والے دن ہی اپنے جھنڈے کی قدر سمجھتے ہیں اور بعد میں ایسے بولتے ہیں جیسے ہم اس جھنڈے کو جانتے ہی نہیں۔ کیا یہ ہے آزادی ؟ آج میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں کیا قائداعظم محمد علی جناح نے اس لیے ملک آزاد کروایا تھا مسلمانوں کے لیے کہ اپنی مصروفیات میں اتنے مصروف ہو جائیں کہ ہماری قربانیوں کو ہی بھول جائیں۔ ہمیں باقی سب تو غلط نظر آتے ہیں کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ہے کہ ہم 365 دنوں میں کتنی بار اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آج ہم آزاد ملک میں بھی رہے ہیں جہاں ہم اپنی عبادات با آسانی کر سکتے ہیں جہاں ہمارے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ہماری فوج اس وطن کے لیے اور اس جھنڈے کے لئے جیتی ہے اور اس وطن اور جھنڈے کے لیے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتی کاش یہ جذبہ ہم سب میں پیدا ہو تاکہ 14 اگست والے دن اور اس کے بعد کوئی ایک بھی جھنڈا زمین پر گرا نظر نہ آئے ہمیں۔ اگر غلطی سے کوئی گرا ہوا نظر آتا بھی ہے ہم اس کو اٹھا کر اپنے سینے کے ساتھ لگا کر کسی محفوظ جگہ پر رکھیں کیونکہ یہی وہ وطن ہے جہاں ہم اپنی خواہشات کو پورا کر سکتے ہیں اور پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں اگر ہم اپنے وطن اور وطن کے جھنڈے کے ساتھ محبت نہیں کریں گے تو ہمارا حال بھی ان قوموں جیسا ہو گا جن کا نہ تو مستقبل ہے اور نہ ہی موجودہ دور۔ مجھے بہت خوشی ہوئی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سن کر پرچم کی بے حرمتی کرنے پر تین سال کی سزا سنائی جائے گی۔ اس چودہ اگست کو یہ بات یقینی بنائیں کہ کوئی جھنڈا یا جھنڈی زمین پر نہیں گرنے دیں گے اگر گرا ہوا نظر آے بھی صحیح تو اس کو اٹھا کر محفوظ جگہ منتقل کر دیں گے تاکہ وہ دوبارہ زمین پر نہ گرے۔ جس پرچم تلے ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اس کے ساتھ اتنا مخلص ہونا تو لازم ہے مجھے امید ہے پاکستان کی عوام با شعور طریقے سے 14 اگست والے دن آزادی منائے گی اور اپنے پرچم کو بلند رکھے گی۔
Twitter : @usamajahnzaib -

ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ
ایئر لنک کمیونیکیشن پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق ایئر لنک اس ماہ 5.85 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتا ہےبک بلڈنگ کا عمل 30 اور 31 اگست میں شیڈول ہے ایئر لنک کمیونیکیشن لمیٹڈ اس ماہ کی ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے کم از کم 5.85 ارب روپے (36 ملین ڈالر) اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، جو کہ پاکستان میں کسی غیر ریاستی فرم کی طرف سے سب سے بڑی رقم ہوگی۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر مظفر حیات پراچہ نے جمعہ کو کہا کہ لاہور میں قائم کمپنی 65 اور 91 روپے کے درمیان نئے اور موجودہ حصص فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ اگست 30 اور 31 کو سرمایہ کاروں کے احکامات لے گا۔
ٹوئٹر کا ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے ساتھ اشتراک
پاکستان نے اس سال آئی پی اوز کی ریکارڈ تسلسل دیکھی ہے ایئر لنک ، جس نے تقریبا a ایک دہائی قبل کام شروع کیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں فونز کے سب سے بڑے ڈسٹری بیوٹرز میں سے ایک بن چکا ہے ، جون میں ختم ہونے والے سال میں فروخت 50 فیصد بڑھ کر 3.6 ملین یونٹس تک پہنچ گئی۔
جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ کے سی ای او کامران ناصر نے کہا کہ کمپنی 60 ملین نئے شیئرز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور پیراچا اپنی ہولڈنگز سے 30 ملین فروخت کرے گی آئی پی او انٹرلوپ لمیٹڈ کے بعد سب سے بڑا ہوگا 2019 میں تقریبا 5 5 ارب روپے اکٹھے کیے۔
ایئر لنک نے حال ہی میں موبائل اسمبلنگ میں بھی توسیع کی ہے ، اپنے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے فنڈز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ناصر نے کہا کہ اس کا مقصد 2026 تک 150 آؤٹ لیٹس ہیں جو کہ اسمبلی کے کاروبار کے ساتھ ساتھ مارجن کو بڑھا دے گا۔
کمپنی کو توقع ہے کہ اس کی آمدنی 2020 سے تین گنا بڑھ کر 129 ارب روپے ہو جائے گی اور مالی سال 2025 تک خالص آمدنی 500 فیصد سے بڑھ کر 9.2 ارب روپے ہو جائے گی-
پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے وزیر اعظم عمران خان
-

یوم شہادت عمرؓ بھی خطابؓ تحریر : جہانتاب احمد صدیقی
عمرؓ بھی خطابؓ وہ شخصیت ہیں، جن کی آمد پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے مرحبا کی آواز بلند فرمائی اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ میں کھل کر اللہ ﷻ کی عبادت کرنا اور باجماعت نماز ادا کرنا نصیب ہوئی۔
خاتم النیین حضرت مُحَمَّد ﷺ ؐنے اپنی دعاؤں میں رو رو کرمانگا کہ یا اللہﷻ دین اسلام کی سربلندی کے لیے مجھے عمرؓ بن خطابؓ یا عمر بن ہشام دے دے تو اللہ تعالیٰﷻ نے حضرت مُحَمَّد ﷺ کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت عمؓر بن خطابؓ کو اسلام کی دولت سے نوازا۔
حضرت عمرؓ بن خطابؓ کی پیداٸش سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں واقعہ فیل سے تیرہ سال بعد قبیلہ بنو عدی خطاب بن نفیل کے گھر پیدا ہوئے، آپؓ کا نام عمر بن خطابؓ تھا ، آپؓ کا لقب فاروقؓ تھا، آپؓ کے والد کا نام حضرت خطابؓ تھا، آپؓ کی والدہ کا نام حضرت ختمہؓ تھا، آپؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر خاتم النبیین ﷺسے ملتا ہے، آپؓ کا ددھیال ننھیال قریش کے معزز خاندانوں میں سے تھا، اور قبیلہ کے اہم مناصب انہیں کے حوالے تھے.
خاتم النبیینؓ حضرت مُحَمَّد مصطفیٰﷺ کی جانب سے نبوت کے اعلان کے چھٹے سال حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے 35 برس کی عمر میں اسلام قبول کیا جس کے بعد حضرت محمدﷺ کے شانہ بشانہ رہے۔
عمرؓ بن خطابؓ سسر رسولﷺ تھے ، آپ ؓ داماد علیؓ اور مراد نبیﷺ تھے ، آپؓ فاتح قبلہ اوّل اور تھے،آپؓ پیکر عدل وشجاع اور شہید مسجد نبویﷺ تھے ، آپؓ خلیفہ راشد اور خلیفہ دوم تھے ۔ حضرت عمرؓ بھی خطابؓ نے دو بڑی طاقتوں ایران اور روم کو شکست دی تھی ، آپؓ نے بیت المال کا شعبہ فعال کیا، آپؓ نے اسلامی مملکت کو صوبوں اور اضلاع میں تقسیم کیا، آپؓ نے عشرہ خراج کا نظام نافذ کیا اور آپؓ نے پولیس کا محکمہ قائم کیا۔
حضرت عمرؓ بن خطابؓ کا زمانہ خلافت اسلامی فتوحات کا دور تھا ، حضرت عمرؓ بن خطابؓ نے اپنی ١٠ سالہ دور خلافت میں ٢٢ لاکھ مربع میل پر اسلامی حکومت قائم کی اور قیصر و کسری کی دونوں سلطنت کا خاتمہ کیا، آپ ؓ نے اپنی رعایا پر عدل و انصاف قائم کیا اور دشمنان اسلام کے تمام دین اسلام مخالف منصوبوں و فتنوں کو خاک میں ملایا۔
حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے بعد تمام غزوات میں شرکت کیں ۔ حضرت عمرؓ بن خطابؓ کی خدمات، جرات و بہادری، فتوحات، شان دار کردار اور کارناموں سے دین اسلام کا چہرہ روشن ہے۔حضرت عمر ؓ بن خطابؓ کی اشاعت دین اسلام کے لیے بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا۔
عمرؓ بھی خطاب ؓ کو ستاٸیس ذوالججہ کو نماز فجر کی امامت کے دوران ابو لولو فیروز نامی معلون مجوسی نے خنجر کے وار سے زخمی کر دیا تھا جس کے تین دن بعد آپ ؓ یکم محرم الحرام چوبیس ہجری کو جام شہادت نوش فرمایا۔ آپؓ روضہ رسولﷺ کے پہلو مبارک میں مدفن ہیں۔
اللہ حضرت بن خطاب کے درجات بلند فرماٸے، آمین یارب العالمین!
@JahantabSiddiqi