Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ووننگ لائن پر کون پہنچتا ہے؟ تحریر: محمد عثمان

    گزشتہ روز اولمپکس 2020 کے اختتام پر وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے سوشل میڈیا پر ایک دوڑ کے مقابلے کی ویڈیو شئیر کی اور کہا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی نوجوان یہ دوڑ دیکھیں اور اس میں سے وہ اہم ترین سبق حاصل کریں جو کھیل نے مجھے سیکھایا ہے کہ آپ ہارتے تب ہیں جب آپ کوشش ترک کر دیتے ہیں“۔ اس ویڈیو میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ مختلف ممالک سے خواتین کھلاڑی 1500 میٹر دوڑ کے مقابلے حصہ لے رہی ہوتی ہیں کہ اچانک ایک کھلاڑی اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے لڑکھڑاتی ہوئی گِر جاتی ہے جس سے ٹکراکر مزید دوتین کھلاڑی گِر جاتی ہیں جن میں سے ایک نیدرلینڈ کی سیفان حسن (Sifan Hassan) نامی کھلاڑی بھی گِر جاتی ہے جو کہ گِرنے کے باعث تقریباسب سے پیچھے رہ جاتی ہے مگر ہمت نہیں ہارتی اگلے ہی لمحے اٹھ کردوبارہ دوڑنا شروع کر دیتی ہے اور کھیل میں شامل ہوجاتی ہے جبکہ مدمقابل کھلاڑی تب تک دور نکل چکی ہوتی ہیں مگر سیفان کوشش جاری رکھتی اور بھر پور مقابلہ کرتی آخر کار صرف آدھے سیکنڈ کے معمولی سے فرق سے وننگ لائن کو سب سے پہلے عبور کر کے مقابلہ اپنے نام کرتی ہے اور گولڈ میڈل کی حقدار قرار پاتی ہے جس سے ہمیں معلوم ہوتاہے کوئی بھی کھیل صبرو تحمل، مسلسل کوشش، محنت اور ٹارگٹ پر نظریں مرکوز کرنے سے جیتا جاسکتا ہے صرف کھیل ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی میدان میں ووننگ لائن پر پہنچنا ہے تو یہی اصول اپنانے ہوں گے جس کی ایک بڑی مثال برطانوی کھلاڑی Jonathan Edward جوتھن ایڈورڈ کی ہے جو Three step Long Jumps Race کا کھلاڑی تھا جس نے پہلی بار 1988ء کے اولمپکس میں برطانیہ کی نمائندگی کی بھرپور محنت کے بعد کھیل میں حصہ لیا تین جمپ لگائے اور ساتھ ہی سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور رونا شروع کر دیا کیونکہ صرف 16 میٹر یعنی 48 فٹ لمبا جمپ لگا سکا جو کہ اولمپکس کے مقابلہ جات کی نسبت معمولی سی بات سمجھا جاتاتھا اور مجموعی طور پر 23 ویں نمبر پر آیا مگر اس نے اپنی اس بری کارکردگی کو ماننے سے انکار کردیا کیونکہ ہار اور شکست جیسے الفاظ اس کی زندگی میں تھے ہی نہیں وہ ہمت نہ ہارا اس کی قوم نے بھی اس کا جذبہ دیکھ کر اس کی حوصلہ افزائی کی اور چار سال بعد دوبارہ پھر اس کو اولمپکس میں آزمانے کے لیے تیار کرنا شروع کردیا انھیں چار سالوں میں وہ برطانوی قوم کے ٹیکسوں سے پریکٹس کرتا رہا اور 1992ء کے اولمپکس میں خوب محنت کے بعد دوڑا تین جمپ لگائے اڑان بھری اور سر پکڑ کر بیٹھ گیااور پھر رونا شروع کردیااپنے آپ کو کوسنا شروع کردیا اور بغیر کسی سے ملے شرمندہ ہوتا میدان سے باہر چلا گیا کیونکہ اس بار صرف 16.5میٹر لمبا جمپ لگا سکا تھا اور چار سال بعد مجموعی پوزیشن 35نمبر تھی جو کہ پہلے سے بھی 12 درجے تنزلی کی طرف تھی مگر جونتھن ضد کا پکا تھا جو ایک بار ٹھان لی وہ کر کے چھوڑا اس نے ہمت نہ ہاری دوبارا پھر کمر کس لی کہ میں یہ کر کے ہی چھوڑوں گا قوم نے بھی اس کا ناقابل شکست جذبہ دیکھ کر اس کا حوصلہ بڑھایا کسی نے اسے برا بھلا کہا اور نہ ہی کسی نے ملک واپسی پر گندے انڈوں اور ٹماٹروں سے استقبال کیا بلکہ اس پر چار سال پھر محنت کی اور اسے تیسری مرتبہ پھر برطانیہ کی نمائندگی کا موقع دے دیاآپ یہاں قومی شعور کا اندازہ کریں ایک طرف بدترین شکست پہ شکست اور دوسری طرف صبر و تحمل اور حوصلہ ہے
    جوتھن ایڈورڈ نے تیسری مرتبہ اولمپکس میں حصہ لیا جو کہ 1996 ء میں امریکی ریاستGeorgia کے دارلحکومتAtlanta میں منعقد ہوئے اس نے ان کھیلوں میں بھر پور حصہ لیاو ہ جورجیا کے میدانوں میں بھاگا تین جمپ لگائے اور ساتھ ہی خوشی سے اچھل پڑا کیونکہ اب کی باروہ اچھی کارکردگی کا مظاہرا کر چکا تھا اور 17 میٹر لمبا جمپ لگا کر Silver کا تمغہ اپنے نام کیا مگر یہ اس کی منزل نہیں تھی اور نہ ہی برطانوی قوم اس سے یہ چاہتی تھی اس کی منزل اس سے بہت آگے کی تھی اور برطانوی قوم کی امیدیں بھی بڑی تھی لہذا قوم نے پھراس ہمت نہ ہارنے والے شخص کا ساتھ دیا اور اس نے پھر پریکٹس شروع کر دی کیونکہ وہ چوتھی مرتبہ بھی اولمپکس کے لیے نامزدکیا جاچکا تھا
    چار سالہ طویل عرصے کے بعد 2000ء میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اولمپکس کی مشعل جلی جس میں جونتھن ایڈورڈ نے چوتھی مرتبہ حصہ لیا۔ وہ سڈنی کے میدانوں میں بھاگا اپنی 12 سالہ کوشش کے بعد قسمت آزمائی کی تین جمپ لگائے ہوا میں اچھلا اور مٹی پر اپنی چھلانگ کا نشان چھوڑا اسے کچھ عجیب محسوس ہوا اسکور بورڈ پر نظر دوڑائی ساتھ ہی سجدہ ریز ہوگیا آنکھوں سے پھر آنسو جاری تھے مگر اب کی بار وہ تاریخ بدل چکا تھا وہ آنسو خوشی کے آنسو تھے اور اسٹیڈیم تالیوں سے گونج رہا تھا عوام کھڑے ہوکر اپنے قومی ہیرو کو داد دے رہے تھے کیونکہ اس نے نہ صرف اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا بلکہ وہ سابقہ تمام ریکارڈ بھی توڑ چکا تھا اور آج 22 سال بعد اس کا لگایا ہوا 60 فٹ Three step jump کا ریکارڈدنیا توڑنے سے قاصر ہے یہ ہے وہ محنت کا پھل جو مسلسل 12 سال تک کرتا رہا جس کے بیچ ناکامیوں کا منہ بھی دیکھنا پڑا مگر وہ ہمت نہ ہارا مستقل مزاجی سے ڈٹا رہا صبرو تحمل سے کام کرتا رہا برطانوی قوم نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا بل آخر وہ اعزاز حاصل کر ہی لیا جس کے وہ حقدار تھے
    جبکہ دوسری طرف بحثیت قوم اگر ہم اپنے گریبان میں جانکیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ چیمپین ٹرافی جیتنے والا کیپٹن اگر اگلی سیریز ہار جائے تو ہم اسے نشان عبرت بنا دیتے ہیں اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم میں دنیا میں کسی بھی کھیل کی ٹیم میں سب سے زیادہ سابقہ کیپٹن ہیں کامیابیوں کی راہ میں ناکامیاں بھی ہوتی ہے جو ناکامی کے خوف سے ڈر اور سہم گیا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا یہی وجہ ہے کہ نوجوان کھیلوں سے دور ہوتے جارہے ہیں نتیجتاََ حالیہ اولمپکس میں 22 کروڑ انسانوں کے وطن سے صرف 10 کھلاڑیوں نے اپنے بل بوتے پر حصہ لیا بد قسمتی سے ان میں سے کوئی ایک بھی تمغہ حاصل نہ کر سکا البتہ دو کھلاڑیوں طلحہ طالب اور ارشد ندیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی جس سے نوجوانوں میں ایک امید کی کرن ضرور پیدا ہوئی ہے کہ حکومتی سرپرستی کے بغیر بھی اگر انسان محنت کرے تو اس کا ثمر ضرور ملتاہے اب نوجوانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے ان کے پاس اس وقت صرف ایک ہی حل ہے کہ وہ اپنی محنت اور لگن سے اس مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کی شمع جلائے رکھیں اوراپنی صلاحیت کا سکہ منوائیں اگر حکومتی توجہ اور وسائل کی راہ دیکھتے رہے جہاں تقر یباََہر محکمے کی سربراہی پر ریٹائرافیسر مسلط ہیں تو پھر تاریخ میں گُھم ہو جاؤگے اپنی شناخت تک کھو بیٹھو گے۔
    تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

  • میرا پیارا پاکستان تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    میرا پیارا پاکستان تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    بچپن میں میرے بھائی جان جب مجھ سے پوچھتے تھے پاکستان کس نے بنایا میں رٹے رٹائے طوطے کی طرح بول دیتی تھی قائداعظم نے لیکن دل میں سوچا کرتی تھی اتنا بڑا پاکستان قائداعظم نے کیسے بنایا ہوگا میری نظر میں گھر سڑکیں وغیرہ تھیں کہ یہ قائداعظم نے بنایا اب سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے اپنی بچپن کی سوچ پر ۔لیکن اتنی عقل نہیں تھی کہ بھائی جان سے پوچھ لوں اس بارے میں۔۔خیر پھر جوں جوں بڑی ہوتی گی تاریخ کی بنادی چیزیں نصاب میں پڑھنی شروع کی تو اندازہ ہوا میرا پاکستان کس قدر قربانیوں ۔خون کی ندیاں بہانے۔کے بعد حاصل ہوا تھا ۔۔پھر میری دادی امی نے پاکستان کی تاریخ آنکھوں دیکھی مجھے بھی بتائی کیونکہ میرا بہت وقت گزرا اپنی دادی امی کے ساتھ ان سے پاکستان بننے کے بعد کے آنکھوں دیکھے واقعات سن سن کر ایسے لگتا تھا جیسے میں بھی ان کے ساتھ یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے آج سے 73 سال پیچھے چلے جائیں ۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں ایک ٹرین اسٹیشن پر رکی نظر آئے گی جموں کشمیر سے جب میرے اباواجداد نے ہجرت کی ان کے پاس بس ایک چھوٹی سی پوٹلی تھی جس میں جلدی میں کچھ ضروری چیزیں رکھی ہوئی تھی اپنا قیمتی سازوسامان پیچھے چھوڑ کر درد کی داستان لے کر حجرت کے لیے رخت سفر باندھ لیا میرے ددھیال اس دور کے بہت امیر ترین جاگیردار تھے لیکن بے سروسامانی کی حالت میں انھیں اپنے محل نما گھر چھوڑنے پڑھے اسٹیشن پر ایک ٹرین کھڑی تھی جس میں ہمارے بزرگ دھڑکتے دل کے ساتھ سوار ہوگے لیکن یہ نہیں پتہ تھا ابھی اور تکلیف دہ امتحان باقی ہیں ۔ابھی سفر شروع بھی نہیں ہوا تھا ہندوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا ہر طرف خون ہی
    خون ، کٹی پھٹی لاشیں ، خوف سے پتھرائی ہوش حواس سے عاری چند زندہ لاشیں بھی ہیں
    کون ہیں یہ ۔ یہ بھی وہی ہیں جو ہجرت کے راہی بنے ۔
    جو الگ اسلامی و فلاحی ریاست کا حسین خواب لیے کاروبار، جائیداد ، زمینیں ، مال مویشی سب قربان کر کے نکلے مگر ہجرت کہاں پھولوں کی سیج ہے ۔
    عزتیں تار تار ہوئیں ، بیٹیاں لٹ گئیں ، بھوک سے بلکتے معصوموں کی اگر رونے کی آواز بڑھتی تو گلا دبا دیا جاتا کہ کہیں بلوائیوں کو خبر نہ ہو جائے۔
    وہ سب ہمارے اسلاف نے جھیلا جو بیان کرنے بیٹھیں تو آنکھیں کتنی دفعہ بھیگتی ہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ کھو کر یہ آزاد ملک ، یہ چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا حاصل کیا ہے جب اس پر کوئی میلی نظر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اپنے جذبات کنٹرول نہیں کر پاتے
    جب بھی اسلامی فلاحی ریاست کا خواب دیکھا گیا قربانیاں دینی پڑیں ۔ 1400 سال پیچھے کی تاریخ اٹھا لیں ۔
    سو سرخ اونٹ کا انعام رکھا گیا۔
    اعلان ہو گیا ۔کہ جو بھی محمد ﷺ اور انکے ساتھی کو پکڑ لائے گا اسکو انعام میں سو سرخ اونٹ دئیے جائیں گے عربوں میں اونٹوں کی یہ قسم بہت نایاب اور مہنگی ترین تھی
    سراقہ بن مالک پیچھا کرتے کرتے پہنچ گیا۔ دیکھ بھی لیا مگر حق کی نشانیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر سمجھ گیا پلٹ آیا۔
    دن پہاڑوں میں چھپتے چھپاتے سفر کرتے ہوئے اور راتوں کو غار میں پناہ لیتے ہوئے یہ ہجرت کا سفر جاری یے ۔
    محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ساتھ صدیق اکبر ؓ ہیں
    غار میں سوراخ بند کرنے کو جب اشیاء کم پڑیں تو پاؤں کی ایڑی لگا دی ۔ سانپ نے ڈس لیا۔
    آزمائش، مصائب ، خوف ، سفر جیسا عذاب کا دوسرا نام ہجرت ہے
    مصعب بن عمیر مکہ کا شہزادہ ، خوشبوؤں سے پہچانا جاتا کہ یہاں مصعب گئے ہیں
    ایک دفعہ لباس اتارا پھر وہ نہیں پہنا ۔ نیا ہی زیب تن کیا۔ اتنے شاہانہ انداز سے ذندگی بسر کرنے والوں پر پھر ایسا وقت بھی آیا کہ جب مدینہ ہجرت کر کے پہنچے تو ٹاٹ سے جسم لپیٹا ہوا تھا یہ ہجرتوں کے مرحلے بہت کٹھن ہوتے ہیں۔
    مگر سوال یہ ہے کہ وہاں تو تاریخ نے دیکھایا کہ انصار و مہاجر کی اخوت ، بردباری، سخاوت اور تربیت رسول اللہ نے وہ معاشرہ وہ ریاست تشکیل دی کہ آج بھی نمونہ ہے ۔ قابل ستائش، قابل تقلید ، قابل فخر اس معاشرہ نے جنم لیا جس کی حدیں ہر اعتبار سے بڑھتی ہی گئیں ۔
    جانثار بڑھتے گئے ۔ پاسبان بڑھتے گئے ۔
    اسلامی حدود ایک خلیفہ اسلام کے دور میں 11 لاکھ مربع میل، پھر 22 لاکھ ، پھر 44 لاکھ ، پھر 65 لاکھ مربع میل کی وسعت پکڑ گئیں۔۔۔
    مگر کیا ہمارے اسلاف کی 73 سال پہلے کی قربانیوں کے عوض ہم نے اس دھرتی کو کیا دیا۔
    گریبان میں جھانکیے۔ خود کو دیکھیں ہم کس دوراہے پر کھڑیں ہیں۔
    معصوم بچوں اور کنوؤں میں کود کر عزت بچاتی بہنوں بیٹیوں کے روز محشر سوالوں کے جواب کیسے دے سکیں گے
    اسلامی و فلاحی ریاست کی پھیلتی سرحدوں کا خواب تو دور اسلامی معاشرہ ہی تشکیل دے لیتے ۔
    اخلاقی پستی ، بے راہ روی ، خون سفید ہو چکے ، دھرتی ماں کو نوچ نوچ کر کھاتے والے ہم ، اغیار کی خوشی کے لیے ہم نے ہمارے بے حس حکمرانوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔
    مسلمانوں کے خون کے پیاسوں کو کبھی ساڑھیاں، کبھی آم، کبھی لسٹیں فراہم کیں۔ اور کبھی اپنی فوج کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا گیا پھر جب ان غداروں کو ایکسپوز کیا جاتا ہے تو پاکستان کی ہڈیاں نوچ کر کھانے والوں کے دفاع میں پاکستان میں چھپی کالی بھڑیں آجاتی ہیں ۔جب بھی معاملہ ملک کی سلامتی پر آیا پاکستان میں چھپے پاکستانی ڈریس میں انڈیا کے ایجنٹوں نے معصوم کم پڑھے لکھے پاکستانیوں کو اپنے ساتھ ملا کر خوب پاکستان کا مذاق اڑایا اور بعض اوقات میں سوچتی ہوں ان کو لگام ڈالنے والا بھی کوئی نہیں جو یہ ہمارے ملک میں دھندناتے پھر رہے ہیں
    ہم مجرم ہیں قائداعظم کے ہم نہیں نکال پارہے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے ناسوروں کو ۔ہمارے سیکورٹی ادارے بھی انڈین ایجنٹوں کو عوام کی عدالت میں پیش نہیں کرسکے جو اتفاق فاونڈری میں ملازمت کرتے پکڑے گے تھے
    ہم مجرم ہیں ان شہیدوں کے جن کے لہو سے یہ گلشن سینچا گیا۔
    30 سال میں پہلی دفعہ پاکستان کی باگ ڈور ایسے انسان کے ہاتھ میں آئی ہے کہ اب امید ہوچلی کہ ہم اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے وہ وقت دور نہیں ہم اپنے سبز پاسپورٹ فخر سے لوگوں کو دکھایا کریں گے کہ ہم پاکستانی ہیں اور لوگ رشک سے ہماری طرف دیکھا کریں گے ان شاءاللہ پاکستان رہتی دنیا تک شاد آباد رہے گا کیونکہ یہ اسلام پر بنا ہے ۔۔پاکستان ذندہ باد ہے ذندہ باد رہے گا ان شاءاللہ ۔۔۔

    "

  • تعلیمی اداروں سے منشیات کے اڈوں تک  تحریر: آصف شاہ خان

    تعلیمی اداروں سے منشیات کے اڈوں تک تحریر: آصف شاہ خان

    آپ کسی بھی علاقے سے ہیں، کسی بھی فیلڈ سے ہیں، لیکن اگر آپ ریسرچر ہیں، ریسرچ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا ریسرچ نشئی لوگوں پر ہو تو آپ فُٹ پاتھ پر پڑے چند ہیروئن پینے والوں کے بجائے بڑے شہروں کے بڑے کالجز ، یونیورسٹیز اور اس کے ہاسٹلز کا دورہ کرلیں تو آپ کو اچھے اچھے برینڈیڈ کپڑوں میں ملبوس بڑے بڑے نشئی مل جائیں گے۔ ہاں آپ نے صحیح پڑا میں کالجز اور یونیورسٹیز کی بات کر رہا ہوں "بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی” ۔۔۔۔ آپ بڑے شہروں کے بڑے کالجز اور یونیورسٹیز کا دورہ کرلیں اور وہاں حساب کتاب لگائیں تو آپ کو کم از کم چالیس فیصد لوگ نشوں میں مبتلا نظر آئینگے۔ اس میں اعلیٰ نسل کے شریف گھرانوں کے چشم و چراغ بھی ہونگے۔
    خاص کر کہ ان اوقات میں جن میں کلاسز اور آفس ورکنگ ٹائم ختم ہو جائے۔ آپ سنسان گراؤنڈز اور ان اطراف پر جائیں جہاں کوئی نہیں جاتا تو آپ کے ذہن میں ضرور یہ شعر آئیگا جب نشیوں کے تماشے دیکھیں گے۔

    "بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے”

    آپکے ذہن میں یہ سوال بھی آئےگا کہ آخر کیوں؟؟

    "شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

    کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا”

    تو آئیے میں اپنے مشاہدات کے بنیاد پر کچھ وجوہات اور اس سے متعلقہ حل بتاتا ہوں۔ زیادہ تر وہ طلباء اور طالبات نشوں کے لت میں مبتلا ہوتے ہیں جنہیں کسی نہ کسی جگہ سے پریشانیاں لاحق ہوتیں ہیں۔ مثلاً مارکس کم آئے ، پیپرز میں فیل ہوگیا، فلاں استاد غصّہ ہے وہ ہمیں فیل کریگا، گھر کیا بتاؤں گا، گھر میں فلاں مسئلہ ہے وغیرہ۔
    دوسری وجہ وہ کم ظرف لوگ جو دوستی کے نام پر اس لئے اپنا حلقہ بڑھا دیتے ہیں کہ کل اس کو اگر ضرورت پڑ جائے تو یہ نئے نشئی ان کو نشہ مہیا کریں گے۔
    تیسری وجہ محبت کے نام پر عادت والا دردِ سر جو آج کل لوگوں کو کسی کی عادت ہو جاتی ہے اور اس کو محبت کا نام دے کر اپنے لئے درد سر لیتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ اکثر جوان نسل عادت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کو محبت جسے رشتے کا نام دے دیتے ہیں بعد میں ان میں سے ایک کم ظرف کھیل جاتا ہے اور دوسرا ڈپریشن کا شکار ہو کر نشے کی طرف آ جاتا ہے تاکہ وقتی نجات پائے۔
    چوتھی وجہ ماں باپ کے طرف سے بنا حساب کتاب کے بچوں کو زیادہ پیسے دینا۔ ایسے بچے جن کو ماں باپ بنا پوچھ گچھ کے اس کے ضروریات سے زیادہ پیسے دیتے ہیں ایسے بچے موج مستی میں اس طرف بڑھ جاتے ہیں۔

    لیکن یہاں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ آخر ڈپریشن کے وجہ سے یہ بچے نشے کی طرف کیوں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔
    اصل میں ایک طرف ڈپریشن ہوتا ہے دوسری طرف فری ہینڈ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہاں فری ہینڈ سے میری مراد یہ ہے کہ بچے پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہوتا ہے، نہ ماں باپ اور نہ متعلقہ ادارے۔ ہوتا یوں ہے کہ داخلہ دلوا کر گھر کے بڑے کبھی اس کے پاس جاتے نہیں، اور جاتے بھی ہو تو پہلے سے اس کو بتایا جاتا ہے کہ ہم آ رہےہیں۔
    اس فساد کے بڑھنے کی دوسری وجہ ڈرگز کے خرید و فروخت نے ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے اور بڑے بڑے طاقتور لوگ اس کے پیچھے ہیں۔ اور یہ ڈرگز ڈیلرز بلا خوف دھندہ چلاتے ہیں۔ متعلقہ ادارے خود ایمانداری سے کام نہیں کرتے ہیں اور ان میں جو بعض کام کرتے ہیں ان کو کچھ قوم کے دشمن کام کرنے نہیں دیتے ہیں۔
    تیسری بات معاشرہ کا گرا ہوا مورال بڑے شہروں میں کوئی چھوٹا غلط کر رہا ہو تو نہ کوئی بڑا کچھ کہتا ہے اور نہ چھوٹا یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ میری فائدے کے لیے کہہ رہا ہے۔ آگر کہہ دے بڑا تو جوابا کہتا ہے کہ "آپ کون ہو سمجھانے والے؟”۔
    ظاہری سی بات ہے کہ ایک بے عقل جوان کو فری ہینڈ ہو اور دوسری طرف آسانی سے نشہ مل رہا ہو اور اسے تھورا سا ڈپریشن لاحق ہو تو وہ اس طرف ہی بڑھے گا۔

    یاد رہے اگر ہم نے بحیثیت قوم اس بڑھتے فساد کو روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے تو ہمیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ ہمارا مستقبل ان نشیوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ میرے خیال میں جو عملی اقدامات ہیں ان میں سب سے پہلے ماں باپ اور گھر کے بڑوں کو حصہ لینا ہوگا کہ مہینے دو میں کم از کم ایک بار بڑوں کو بچے کے پاس اچانک جانا چاہیے تاکہ اس کے دل میں یہ خوف ہو کہ کسی بھی وقت گھر سے کوئی آسکتا ہے۔ والدین اپنے تربیت پر صرف یقین نہ رکھیں کیونکہ انسان کے پیٹ میں کسی بھی وقت کسی بھی طریقے سے جانے والا ایک حرام کا نوالہ کسی بھی وقت رنگ لا سکتا ہے اور کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ چاہیے ارادی ہو یا غیر ارادی اس نے حرام کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے، لہذا صرف تربیت پر یقین نہ رکھیں۔ اور ساتھ ساتھ والدین معمولی باتوں پر بچوں کو نہ ڈانٹیں۔ اگر بچے کے پاس علم ہو تو مارکس کی کوئی ضرورت نہیں اس پر بچوں کو ڈپریشن نہ دیں۔ اساتذہ بھی والدین جیسے ہوتے ہیں لہذا اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ضد نہ کریں اور ان کے بس سے زیادہ کام نہ لے۔ ان کی غلطیوں کو درگزر کریں۔ تمام متعلقہ ادارے اس قوم کے خاطر ان منشیات کے خلاف جہاد کریں ایسا نہ ہو آج کوئی اور نشہ کر رہا ہو اور کل ہمارے ہر گھر میں یہ رواج بن جائے، اپنے زمہ داری نبھائیں۔
    آخر میں، میں ان لوگوں کیلئے جو نشے میں مبتلا ہے ، جو منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں اور عام افراد کیلئے یہ عرض کرونگا کہ: جو بچے نشے کے طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ مت بھولنا کہ آپ کے سرپرست کیسے مشکل سے کما رہا ہے اور تیری ماں کتنے ارمان دل میں لئے بیٹھی ہے ڈپریشن، کسی کی کم ظرفی اور وقتی سکون کی خاطر ان کو سزا نہ دیں۔
    جو لوگ منشیات فروش ہیں ان کے لیے اتنا کہتا ہوں اللّہ نے تمھیں انسان بنا کر پیدا کیا تھا لیکن افسوس جانوروں سے بھی گرے تم۔
    اور عام عوام کیلئے یہ پیغام ہے کہ نشے کے ان حماموں میں صرف ابنِ آدم نہیں بلکہ بنتِ حوا بھی برابر کے نہا رہی ہے ان بچیوں کے عصمتوں کو بچائیں خدارا آج قوم کی خاطر لڑیں اس فساد کی خاطر اپنا حق ادا کریں تاکہ کل آپ کے بچے بھی امان میں ہو۔۔۔۔
    __________________

    @Ibnepakistan1

  • خوش اخلاقی، کامیابی کی پہلی سیڑھی   تحریر :اقصٰی صدیق

    خوش اخلاقی، کامیابی کی پہلی سیڑھی تحریر :اقصٰی صدیق

    اگر میں یوں کہوں کہ خوش اخلاقی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا ۔خوش اخلاقی اخلاقیات کی ہی ایک شکل ہے۔اخلاقیات میں آپ کے رہن سہن، بول چال کا انداز ، رکھ رکھاؤ اور تربیت کا پتہ چلتا ہے ۔
    مختصر یہ کہ اخلاقیات آپ کے اخلاق کا پتہ دیتی ہیں۔اور آپ کا اخلاق یہ واضح کرتا ہے، کہ آپ کس کردار کے مالک ہیں۔ اخلاقیات کا عنصر تو ہمارے بزرگوں میں پایا جاتا تھا۔جبکہ جدید دور کی موجودہ نسل اخلاقیات جیسے عناصر سے عاری ہے۔
    آج کے اس دور میں ہم بیرونی طور پر خود کو سنوارنے میں مگن ہیں، لیکن اندرونی طور پر بالکل کھوکھلے ہیں ۔انسان کا اچھا لباس نہیں، بلکہ اس کا اچھا اخلاق اس کی پہچان ہے۔
    میرا یہ ماننا ہے کہ خوش اخلاقی آپ کا اچھا اخلاق ہی آپ کو دوسروں کی نظر میں معتبر بناتا ہے۔

    خوش اخلاقی ایک اچھا اخلاق ہے کیا؟

    خوش اخلاقی یہ ہے کہ جب آپ کسی سے مخاطب ہوں، تو آپ کے چہرے پہ مسکراہٹ، لہجے میں شائستگی ہو، اور دوسروں کےلیے آپ کے دل میں ادب و احترام ہو۔ناقابل برداشت بات کا جواب بھی محبت سے اور احترام سے دیں۔
    آپ کا اخلاق ایسا ہونا چاہئے جب کوئی شخص آپ سے ملے، تو وہ آپ کو بعد میں اچھے لفظوں میں یاد رکھے، ذندگی میں دوبارہ آپ سے ملنے کی جستجو رکھے، نہ کے آپ کا اخلاق ایسا ہو کہ وہ آپ کو دوسروں کے سامنے بداخلاق کے طور پر پیش کرے۔آپ کی خوش اخلاقی ہی آپ کے اچھے یا برے ہونے کی پہچان ہے۔بیرونی خوبصورتی آپ کی اصل خوبصورتی نہیں ہے، آپ کا باطن، (انسان کا اندر) آپ کی اصل اور کبھی نہ ختم ہونے والی خوبصورتی ہے۔
    انسان تو نام ہی انسانیت کا ہے اور انسانیت آپ کے اچھے اخلاق اور خوش اخلاقی کے ہنر سے وجود میں آتی ہے۔
    بغیر اچھے اخلاق، انسانیت اور خوش اخلاقی کے کوئی انسان ‘ انسان کہلانے کے لائق نہیں۔کیوں کہ اس کے بغیر انسان اور جانور میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا،

    اکثر دیکھا گیا ہے کہ جس انسان کا اخلاق اچھا ہوتا ہے لوگ اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے بات کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
    خوش اخلاقی انسان کی فطرت میں ایک ایسی مٹھاس گھولتی ہے، کہ اس کا ہر عمل دوسروں کے لئے خوشگوار اور خوشی کا باعث بن جاتا ہے۔
    خوش اخلاق انسان اللّٰہ رب العزت کو بہت پسند ہے، جبکہ خوش اخلاقی سے عاری انسان اللّٰہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
    خوش اخلاقی اور ایک اچھا اخلاق رکھنے والا شخص انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتا ہےاور اپنے اچھے اخلاق و عادات کی وجہ سے قیمتی بن جاتا ہے۔
    مختصر لفظوں میں خوش اخلاقی کامیابی کا راز ہے ہر کامیاب شخص کی کامیابی کے پیچھے اس کے اچھے اخلاق ہوتے ہیں،
    حسن اخلاق(خوش اخلاقی) کی وجہ سے انسان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں۔

    انسانی معاشرے کی بنیاد خوش اخلاقی پر قائم ہے۔
    دین اسلام ہمارے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اور اس (دین اسلام) سے ہمیں ہر طرح کی مکمل رہنمائی ملتی ہے۔ ہمارے پیارے نبیؐ اعلیٰ حسنہ اخلاق کے مالک تھے آپؐ کی حیات طیبہ پوری انسانیت کے لئے ایک بہترین عملی نمونہ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ
    لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
    "بے شک رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترين نمونہ ہے۔،(سورۃ الاحزاب، 22)

    ایک اور جگہ پر اللّٰہ رب العزت نے فرمایا کہ
    ” بیشک ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے آپؐ کا قول و فعل اعلیٰ ہے، پس’’لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا معاملہ کرو‘‘

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    مومنین میں زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ” نبی کریم ﷺ چلتے پھرتے قرآن تھے” ۔

    اسی طرح دین اسلام میں ہمیں اخلاق اور اس کی اہمیت کے بارے میں بہت سی اسلامی تعلیمات ملتی ہیں۔
    ہمارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ مکمل نمونہ حیات ہے، اور آپ ﷺ خوش اخلاقی کے عظیم الشان مرتبے پر فائز ہیں۔
    خوش اخلاقی کی صلاحیت آپ کے اندر قدرت کی طرف سے موجود ہے، یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے اپنے لیے استعمال کرتے ہیں۔
    اور اگر آپ اس صلاحیت سے محروم ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ کے اندر پیدا کرنے کی صلاحیت کہیں نہ کہیں تو ضرور رکھی ہو گی۔
    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ دوسرے لوگ اس سے اچھے اخلاق یا خوش اخلاقی سے پیش آئیں لیکن اس پر خود عمل کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔
    ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر خوش اخلاقی جیسی عظیم صفت پیدا کریں، کیونکہ ہمارے اندر کی یہی صفت ہماری دنیا بدل کر رکھ دے گی ۔
    آج معاشرے میں خوش اخلاقی کا فقدان نسل نو کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔
    اسلئیے ہمیں چاہیے کہ ہم اچھی اخلاقیات اپنائیں،اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں اور سنت کے مطابق اپنی زندگی گزاریں، یہ زندگی بہت قیمتی چیز ہے اور یہ ہمیں ایک ہی بار ملنی ہے۔
    تو کیوں نہ ہم اپنی اس زندگی کو بامقصد بنائیں، خود کو بہتر بنائیں،خوش رہیں خوشیاں بانٹیں، دوسروں کے کام آئیں، زندگی ایسے گزاریں کہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں بستے رہیں۔اور اس کے لیے کبھی فرصت کے لمحات میں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا سوچیں۔
    اللہ رب العزت ہمارے نیک مقاصد میں ہمارا حامی و ناصر ہو۔آمین

    @_aqsasiddique

  • بڑھتا ہوا انرجی بحران ایک خطرے کی گھنٹی  تحریر: شمسہ بتول

    بڑھتا ہوا انرجی بحران ایک خطرے کی گھنٹی تحریر: شمسہ بتول

    قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمیں جہاں غربت، بیروزگاری جیسے مساٸل کا سامنہ ہے وہاں دورِ حاضر میں energy crises یعنی کے انرجی بہران کا مسٸلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے تواناٸی بحران میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تواناٸی کے بحران نے ہماری معیشت پر بہت سے منفی اثرات مرتب کیے ہیں ۔ recession کی ایک وجہ کہیں نہ کہیں انرجی کا بحران بھی ہے۔ انرجی کے وساٸل کی قلت کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت بہت زیادہ بڑھ گٸی ہے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہوٸی اور پھر انڈسٹریل سیکٹر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوۓ ان کی پیدا کردا اشیاء کی لاگت میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے صنعت کاروں نے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور پھر اس سے صارف طبقے کی قوت خرید کم ہو گٸی کیوں کہ آمدنی میں تو کوٸی اضافہ نہیں ہوا۔ پیٹرول گیسولین LPG اور CNG کی قیمتیں بھی بڑھ گٸی جس کی وجہ سے ذراٸع آمدورفت کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس طرح دیگر اشیاۓ خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ غرض یہ کہ کس طرح ایک مسٸلہ نے پورے ملک کی معیشت کو کس قدر خطرناک حد تک متاثر کیا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انرجی کا بحران کس قدر نقصان دہ ہے ملکی ترقی کی راہ میں۔
    اب وقت کی اشد ضرورت ہے کہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی ترقی ، بہتری اور اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ موجودہ ذرائع کے تحفظ اور محتاط استعمال اور بہتر انتظام کے لیے مزید بھرپور طریقے سے کام کیا جائے تا کہ ابھی سے اس مسٸلہ پر قابو پایا جا سکے اور ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے
    پاکستان کی تاریخ میں دور حاضر میں پاکستان کو سب سے زیادہ انرجی بحران کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے حتی کہ مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر کسی نے اس مسٸلہ پر توجہ نہیں دی بلکہ ہر نٸی آنے والی حکومت نے پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھرایا کہ انہوں نے وساٸل کا صحیح استعمال اور اس کا تحفظ نہیں کیا
    ہماری آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے مگر اس حساب سے انرجی کے وساٸل نہیں بڑھ رہے۔ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ‘آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کو یقینی بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات روز بروز بڑھ رہی ہیں اور نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی استحکام توانائی کے وسائل کی دستیابی سے منسلک ہے۔
    انرجی کے بہت سے ذراٸع کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے لیکن اتھارٹیز اس طرف توجہ نہیٗ دے رہیں اور hydrocarbons کی بہت بڑی تعداد کو بیرون ملک سے درآمد کیا جا رہا ہے جس سے ہماری انرجی کی ضروریات پوری ہو تو رہی ہیں کچھ حد تک مگر اس کی لاگت زیادہ ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انرجی کے وساٸل کا بے دریغ استعمال نہ کریں اور جن زراٸع کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ان پر کام کریں اور انرجی کے زراٸع کا تحفظ یقینی بناٸیں۔ ایندھن کی فراہمی میں چوری اور ملاوٹ کو کم سے کم کریں۔ بجلی کی پیداوار میں عالمی معیار کی کارکردگی کو فروغ دیں۔
    بجلی چوری سے قومی خزانے کو تقریباً سالانہ 140 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ بحثیت قوم ہمیں سوچنا ہو گا اور اپنے رویوں کو ٹھیک کرنا ہو گا ۔
    غیر جانبدار اور خراب تقسیم کی وجہ سے تقریباً 15 سے 20% تک تواناٸی کا ضیاع ہو رہا ہے اور یہاں تک کے حکومت بھی اس معاملے میں بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے انرجی کا سب سے زیادہ ضیاع elite طبقہ کر رہا ہے ۔ بحیثیت شہری ہم سب کا فرض ہے کہ ہم توانائی کے بے جا استعمال سے گریز کریں تا کہ ہماری آنے والی نسلوں کو اس بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے توانائی کے منصوبوں کو بہتر اور منظم طریقے سے مانیٹر کرنا ہو گا اور توانائی کے شعبے کو ہر قسم کی کرپشن اور بے ضابطگیوں سے پاک کرنا ہو گا۔ صرف اسی صورت میں ہی توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
    @b786_s

  • پاکستان اور ويسٹ انڈيز کي ٹيسٹ تاريخ تحریر: انيلا سلطان

    پاکستان اور ويسٹ انڈيز کي ٹيسٹ تاريخ تحریر: انيلا سلطان

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز آج سے کنگسٹن میں شروع ہوگی۔ ميچ کے پانچوں روز بارش کي پيشگوئي کا امکان ہے۔ پاکستان نے ٹيسٹ سيريز کيلئے 19 رکني اسکواڈ کا اعلان کرديا ہے۔ اسکواڈ کا اعلان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ورچوئل پریس کانفرنس میں کیا۔ کپتان بابراعظم نے ہیڈ کوچ مصباح الحق کی مشاورت سے حارث رؤف اور محمد نواز کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچز سبینا پارک کنگسٹن میں کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ آج سے شروع ہوگا اور دوسرا ميچ 20 اگست سے شروع ہوگا۔ یہ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں، لہٰذا دونوں ٹیمیں سیریز میں عمدہ کارکردگی پیش کرکے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل کے کامیاب آغاز کے لیے پرامید ہیں۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلی جانے والی یہ 18ویں ٹیسٹ سیریز ہوگی۔ دونوں ٹیموں کے مابین کھیلی گئی گزشتہ 17 ٹیسٹ سیریز میں سے 6 پاکستان اور 5 ویسٹ انڈیز نے جیتیں جبکہ 6 برابری کی بنیاد پر ختم ہوگئیں۔ مگر ويسٹ انڈيز کي سرزمين پر پاکستان صرف ايک سيريز جيتنے ميں کامياب ہوا اور اسے آٹھ ميں سے چار سيريز ميں شکست ہوئي جبکہ 3 سیریز ڈرا ہوگئیں۔ دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ 2017میں کیریبیئن سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ ميں مدمقابل آئی تھیں۔ تین میچز پر مشتمل اس سیریز میں پاکستان نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے سات وکٹوں، دوسرے میں ویسٹ انڈیز نے 106 رنز جبکہ آخری میچ میں پاکستان نے 101 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ چار سال قبل کھیلی گئی اس سیریز میں یاسر شاہ کو عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس سیریز میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 271 رنز بنانے والے مصباح الحق فی الحال جمیکا میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں جبکہ سیریز میں 261 رنز بنانے والے پاکستان کے دوسرے بہترین بیٹسمین اظہر علی بھی موجودہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 52 ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں،جس میں سے 20 پاکستان اور 17 ویسٹ انڈیز نے جیتے ہیں۔ اس دوران 15 ٹیسٹ میچز ڈرا رہے ہیں۔ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ رینکنگ ميں پاکستان کا 5 واں اور ویسٹ انڈیز کا 7واں نمبر ہے۔ اگر پاکستان کی ٹیم اس سیریز میں وائٹ واش کرتی ہے تو اس کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم ویسٹ انڈیز کی ایک درجہ تنزلی ضرور ہوجائے گی جبکہ ویسٹ انڈیز کے سیریز وائٹ واش کرنے کی صورت میں میزبان ٹیم کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم پاکستان ایک درجہ تنزلی کرجائے گا۔ سیریز 1-1سے برابر ہونے کی صورت میں کسی بھی ٹیم کی درجہ بندی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے کپتان بابراعظم اوراظہر علی آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز بیٹنگ رینکنگ میں بالترتیب 10ویں اور 17ویں نمبر پر موجود ہیں۔ میزبان ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے 40 بلے بازوں میں شامل نہیں ہے۔ بولنگ میں ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر اور کیمار روچ بالترتیب 11ویں اور 13ویں جبکہ پاکستان کے حسن علی اور محمد عباس مشترکہ طور پر 15ویں پوزیشن پر موجود ہیں۔

  • عظیم بھائی کی عظیم بہن: فاطمہ جناح  تحریر: حمزہ عمران

    عظیم بھائی کی عظیم بہن: فاطمہ جناح تحریر: حمزہ عمران


    کسی بھی شخصیت کو جاننے کا عمل اس صورت میں مکمل ہو سکتا ہے جب اس کے ظاہر و باطن دونوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہر شخصیت کا ایک داخل ہوتا ہے اور ایک خارج، دونوں کے اتصال سے شخصیت وجود میں آتی ہے اور دونوں کے ملاپ سے ہی ایک شخصیت کا تاثر ابھرتا ہے۔۔۔
    اعلیٰ علمی و ادبی شخصیات نفسیاتی اعتبار سے بے حد پیچیدہ ہوتی ہیں اور انہیں سمجھنا آسان نہیں ہے، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، وہ اپنی مثال آپ تھیں۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح اپنے ظاہری خدو خال میں قائد اعظم کی ہو بہو تصویر تھیں، بلند وبالا قد، گلابی چہرہ ، ستواں ناک ، آنکھوں میں بلا کی چمک جس سے ذہانت ٹپکتی تھی ۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح خوش طبع و شگفتہ مزاج خاتون تھیں ، عام گفتگو ہو یا خاص، عام محفل ہو یا خاص ہمیشہ بڑی بلاغت سے بات کرتیں تھیں ، وہ کسی شخص پر براہِ راست حملہ نہ کرتیں بلکہ ہنسی ہنسی میں ایسے الفاظ استعمال کر جاتیں تھیں جن سے دوسرا آدمی خاموش ہو جاتا تھا ۔۔
    حق گوئی و بیباکی ، امانت و دیانت، بردباری ، سلیقہ شعاری اور وفاداری جیسی خوبیوں کا فرد واحد میں یکجا ہونا بہت کم دیکھنے میں ملتا ہے لیکن محترمہ فاطمہ جناح میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔۔۔۔۔
    سیاست کا میدان ہو یا خدمت خلق کے کام ، محترمہ فاطمہ جناح ہر جگہ کارفرما نظر آتی تھیں۔ عوام کی خدمت کا جذبہ ان میں اس حد تک تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے عملہ کے ساتھ مصروف عمل دکھائی دیتیں۔۔۔۔
    مہاجرین کی مدد اور آباد کاری میں محترمہ نے دن رات ایک کر دیا اس حوالے سے رقم کی سخت ضرورت تھی ، محترمہ فاطمہ جناح نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے تحت
    سات ہزار روپے کا چندہ جمع کیا گیا۔ 13 ستمبر 1947 کو آپ نے اس کمیٹی کا اجلاس اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور مختلف امدای کاموں میں رابطہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مہینہ میں دو بار ورک پارٹی اور سلائی پارٹی منعقد کرنے کے لیے گورنمنٹ ہاؤس پیش کر دیا ۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح درد مند دل رکھتی تھیں، وہ رضاکار خواتین کے ساتھ کام کرتی ہوئیں نظر آتیں، کبھی گورنمنٹ ہاؤس کی چھت پر لحاف بچھے ہوتے اور محترمہ انھیں ٹانکنے میں مصروف ہوتیں تو کبھی مہاجرین کے لئے سویٹر بنتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔
    15 اکتوبر 1947 کو پیراڈائز سینما میں محترمہ فاطمہ جناح کی ہدایت پر ایک خیراتی شو کا انتظام کیا گیا جس سے ساڑھے پانچ ہزار روپے آمدن ہوئی ، یوں ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف وسائل اور پروگراموں کے زریعے ایک لاکھ تین ہزار چھ سو اٹھاون روپے جمع ہونے اور یہ سب کچھ محترمہ فاطمہ جناح کی کوششوں کا نتیجہ تھا، وہ عوام کی فلاح و بہبود اور بہتری کے کاموں میں بہت زوق و شوق سے حصہ لیتی تھیں، عوام کے دکھ سکھ بانٹ کر انہیں قلبی سکون حاصل ہوتا تھا۔ بقول اقبال ،
    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے ۔۔۔
    میں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔۔۔
    محترمہ فاطمہ جناح سیاست کو عبادت سمجھتی تھیں، وقت کے تقاضے اور اس دور کی اہم ضرورت کے تحت سیاست میں دلچسپی لی اور برابر قائد اعظم کی ہدایت پر عمل کرتی رہیں۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد بھی قوم کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا اور جب ملک اندرونی دشمنوں میں گھر گیا تو محترمہ قوم کے لئے ایک مظبوط سہارے کے طور پہ سامنے آئیں، محترمہ فاطمہ جناح نے بارہا اپنی تقاریر میں قیام پاکستان کے مقاصد کو بیان کیا اور برملا کہا ۔
    ” پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا کہ ہم اسلامی
    اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں وہ لوگ جو اس راہ سے لوگوں کو بھٹکا رہے ہیں، دشمن اسلام کہلانے کے مستحق ہیں "۔
    محترمہ فاطمہ جناح ایک جمہوریت پسند خاتون تھیں اور یہ سمجھتی تھیں کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے جمہوریت کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ اکتوبر 1949 میں جناح پارک پشاور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا :
    ” جمہوریت فقط قوم کی اخلاقی اور قومی حوالے سے سرفرازی ہی کے لئے اہم نہیں بلکہ یہ بیرون ملک پاکستان کے وقار کے لیے بھی ضروری ہے ”
    محترمہ خلوص و محبت کا پیکر تھیں ، ہر ایک سے پیارو محبت سے پیش آتیں اور حتیٰ الامکان کوشش کرتیں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔ محبت و خلوص کی ایسی نظیر ملنا مشکل ہے، وہ تحریک پاکستان میں جس جوش و جذبے سے حصہ لیتی رہیں اور اپنی ساری زندگی جس طرح ملک و قوم کے لئے وقف کر دی وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔۔
    بقول میر ،
    مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں ۔۔۔

    ‎@PhilnthropistH

  • دکھاوا  تحریر : شاہ زیب

    دکھاوا تحریر : شاہ زیب

    دکھاوا اسے کہتے ہیں جو بظاہر نظر تو کچھ اور آرہا ہو لیکن درحقیقت وہ کچھ اور ہو یعنی سادہ الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں دیکھنے میں اور اصل میں مختلف۔
    دکھاوا بہت قسم کا ہوتا ہے ہے جیسے لوگوں کے رویے کا جو ہمارے سامنے تو ہم سے بہت اچھے انداز میں ملیں گے بات کریں گے لیکن دل میں ہمارے بارے میں برے خیالات رکھیں گے۔
    موجودہ دور میں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی دکھاوے یا ریاکاری میں مصروف ہے۔
    ہر دوسرا انسان دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں بھر کر دکھاوا کر رہا ہے کوئی استطاعت سے زیادہ خیرات کرتا ہے تو کوئی حد سے زیادہ امیر ثابت کرنے کے لیے قرض لے کر دوست سے اچھا لائف سٹائل اپنا رہا ہے۔
    صرف یہی نہیں بلکہ جو عبادت محض اللہ تعالی کی خوشنودی کی جاتی تھی اب لوگ ان میں بھی دکھاوا کرتے تاکہ معاشرے میں لوگ ان کو نمازی پرہیزی کہہ کر پکاریں برائے نام سمجھ لیں۔۔
    آیت کا ترجمہ

    رب قدوس نے قرآن مجید میں ریاکاری کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، اور فرمایا
    ترجمہ: ” وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو کہ اپنا مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی روز آخرت پر” (سورہ النساء آیت 38)
    دکھاوا کرکے انسان کچھ وقت کے لئے جھوٹی عزت اور شہرت تو حاصل کر لیتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ کبھی پسندیدہ نہیں بن سکتا اللہ پاک ہم سب کو ریاکاری سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@shahzeb___

  • کیا آزادی باجے بجانے کے لیئے حاصل کی تھی؟  تحریر: محمد ثاقب معسود

    کیا آزادی باجے بجانے کے لیئے حاصل کی تھی؟ تحریر: محمد ثاقب معسود

    جشنِ آزادی مبارک، پاکستان کو آزاد ہوئے 74 برس بیت گئے، اور 14 اگست کو ایک بار پھر ہر طرف سبز جھنڈوں، جھنڈیوں سے ہرا بھرا بازار، مارکیٹس اور سب کچھ نظر آئے گا، لیکن اس آزادی کے جشن کو منانے کا صحیح طریقہ کیا یہی ہے؟ کیا ہمارے بزرگوں نے آزادی باجے بجانے کے لیئے حاصل کی تھی؟ اگر نہیں تو آزادی کا صحیح مطلب کیا ہے؟ پاکستان بنا کیوں تھا ؟
    قارئین، اس بلاگ میں ہم 14 اگست کو پاکستان کو آزاد کرنے کا مقصد اور اس پہ آج کل کی پاکستانی نسل کے اس دن کو منانے کے طریقوں کے بارے میں بتائیں گے۔ تو سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ پاکستان جس کو حاصل کرنےکے لیئے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی، قائد اعظم اور انکی ٹیم نے دن رات محنت کی کی آزادی کا مقصد ایسی آزادی ہرگز نہیں تھا جس میں ہم انگریز اور بالی ووڈ کے غلام بن کر زندگی گزاریں، بلکہ ایک ایسی آزاد اور خود دار ریاست کا قیام تھا جہاں پاکستان ایک شناخت بنے، جہاں کے لوگ اپنے تمام فیصلے کرنے میں آزاد ہوں، جو  مدینہ کی اسلامی  فلاحی ریاست کے ماڈل پہ ایک اسلامی نظریاتی اصولوں کے تحت چلنے والی ریاست ہو۔
    لیکن یہاں ہو کیا رہا ہے؟ اس معاشرہ میں چوری چکاری، زناء، کرپشن اور دیگر معاشرتی بیماریاں عام ہیں ، ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہیں، اپنے آپ کو اسلام کا  پہرہ دار کہنے والے مولوی حضرات بھی ایسی ایسی برائیوں کا شکار نظر آتے ہیں  کہ کوئی غیر مسلم بھی دیکھے تو شرما جائے۔ ان تمام معاشرتی برائیوں کی وجہ اگر دیکھی جائے تو ہمارا تعلیم کا سسٹم اور لوگوں میں حقیقی تعلیم کی کمی ہے۔ ہم اپنے بچوں پر بھاری بھرکم بستے لاد کر ان کو ڈگریاں دلوا کر نام نہاد تعلیم یافتہ تو بنا لیتے ہیں لیکن ان کو ایک اچھے معاشرہ کا فرد نہیں بنا پاتے، یہی حال ہمارے مدرسوں کا ہے جہاں سے تعلیم پا کر نکلنے  والے ہونے تو معاشرہ کے ہراول دستے کے افرادچاہیئے لیکن وہاں بھی معاشرتی اقدار کی تربیت اس طرح نہیں کی جاتی جیسے کی جانی چاہیئے۔
    14 اگست کو ہر سال ہونے والے طوفانِ بدتمیزی سے بچاؤ کا یہی حل ہے کہ لوگوں کو اس مملکت کے قیام کا مقصد، اس کے اغراض و مقاصد اور اس کی تخلیق کی وقت دی جانے والی قربانیوں کے بارے میں بتایا جائے، لوگوں کو ایک اچھا شہری بننے کی تلقین کی جائے اور ان تک ایسے پیغامات پہنچائے جس کے ذریعے وہ ایک اچھا شہری بن سکیں۔ مثال کے طور پہ 14 اگست کے قومی دن کے موقع پہ درخت لگانے کی ترغیب دی جائے، رشوت، سفارش ختم کرنے کا وعدہ کیا جائے، معاشرہ میں بے حیائی سے رُکنے کے لیئے عملی اقدامات کیئے جائیں، لوگوں کو بتایا جائے کہ سائلنسر اتار کے بائیک پہ گھومنے کی بجائے مسجد کی طرف جائیں جہاں مملکت پاکستان کی کامیابی و کامرانی کی دعائیں منعقد کروائی جائیں۔  
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سال 14 اگست کو یہ پیغام عام کیا جائے کہ آزادی باجے بجانے کا نام نہیں بلکہ آزاد مملکت کی نعمت کے لیئے اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ  معاشرہ کی فلاح کے لیئے عملی اقدامات کیئے جائیں۔

  • خود احتسابی  تحریر:محمد وقاص شریف

    خود احتسابی تحریر:محمد وقاص شریف

    خود احتسابی میں کامیاب زندگی کا راز پوشیدہ ہے،دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے صرف ایک بٹن کھول کر جھانک لیا جائے تو دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کی فکر پڑ جاتی ہے۔اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس کے بندوں کی خوشنودی کا حصول لازم وملزوم ہے۔
    کہتے ہیں جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اُس نے خدا کو پہچان لیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے آپ کو پہچانا۔ پہچاننے کی کوشش کی کیا خود احتسابی کا تصور کبھی بھی ہمارے ذہنوں میں آیا۔کیا ہمارے پاس ایک بٹن کھولنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ کیا ہم اتنے مصروف ہوگئے۔ہاں یہ مصروفیت بھی قابل قبول تھی اگر ہم خدمت خلق میں مصروف ہوتے۔گرتوں کو تھام رہے ہوتے،بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھلا رہے ہوتے،معذوروں کا سہارا بن رہے ہوتے ہماری وجہ سے مسجدیں آباد ہوتیں،بھوکے کو کھلا رہے ہوتے،بجھے چولہے جلا رہے ہوتے، بروز عید کاغذ چگنے والے ننھے منوں کے معصوم ہاتھوں میں تحفے تحائف دے رہے ہوتے،عام دنوں میں ان کو کتابیں دے رہے ہوتے،پیاسے کی پیاس بجھارہے ہوتے،خوشیوں سے انجان مخلوق خدا کیلئے راحت کا پیغام بن رہے ہوتے۔اگر ہم میں یہ سب کچھ موجود ہوتا تو پھرخود احتسابی کی ضرورت بھی نہ رہتی،خدا تعالیٰ خدمت خلق کے بدلے دھکا لگا دیتا لیکن ہم تو اور چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ رشوت لینا اپنا حق سمجھتے ہیں اور رشوت دینا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں،جھوٹ ثواب سمجھ کر بولتے ہیں،دھوکہ دینا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، غیبت اور چغلی ہمارے قومی کھیل ہیں،فرائض کو دانستہ نظر انداز کرکے ہم اپنے آپ پر اتراتے ہیں،اپنی کامیاب منفی سرگرمیاں بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں،روزہ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں اور بعض اوقات حالت روزہ میں جھوٹ بولنے کے ڈر کی وجہ سے روزہ ہی نہیں رکھتے، کسی مفلس کو دیکھ کر اس لیے بھی جھڑک دیتے ہیں کہ کس کس کی مدد کریں۔بھئی آپ اس ایک کی تو مدد کر دیں دوسروں کی کوئی اور مدد کردے گا۔جب انسانی مزاج کی حالت ایسی ہو ضمیر مردہ ہوجائے تو پھر خود احتسابی کا جذبہ پیدا ہونا کیسے ممکن ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گھناؤ نے خیالات کے اس جنگل سے باہر آکر مثبت سوچوں کا شہر بسایا جائے۔یہ انسانیت بہت دکھی ہے۔کچھ دکھ انسان کے دیئے ہوئے ہیں اور کچھ امتحان خداوندی ان دکھوں کا ذریعہ ہے۔اور تو اور حکمران بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اقتدار کی رسہ کشی میں سبھی عوام کے دکھ درد کو بھول چکے ہیں۔غریب عوام کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔
    @joinwsharif7