Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حمیرا اصغر کی موت، قومی میڈیا سے سوشل میڈیا کا کردار،تحریر:دعا مرزا

    حمیرا اصغر کی موت، قومی میڈیا سے سوشل میڈیا کا کردار،تحریر:دعا مرزا

    اس وقت حمیرا اصغر کے فون لاک کھل جانے کی خبر سب سے بڑی قومی خبر ہے، ہر گھنٹے بعد فون اٹھائے ہر کوئی انتظار کر رہا ہے کہ فون میں کیا کچھ نکلے گا دوسری طرف حمیرا کی بھابھی کو بھی اس کی موت سے سہارا مل گیا ہے کہ وہ اپنی داد رسی کیلئے ہر چینل پر نظر آرہی ہیں ۔

    یوٹیوبرز کو تھمب نیل کے فن اور ان کے آنسوؤں سے اس مہینے ڈالرز بھی ٹھیک ٹھاک آجائیں گے، عائشہ آپا کی 15 روز پرانی لاش نے اب حمیرا کی 9 ماہ پرانی لاش کی جگہ لے لی ہے، میں نے کئی لوگوں کو یہ بھی تجزیہ کرتے ہوئے سنا کہ عائشہ آپا تو چلو بوڑھی تھیں بے چاری مگر یہ تو خوبرو دوشیزہ تھی ہائے اس کا جانا نہیں بنتا تھا۔ میں ایک لمحے کیلئے یہ سوچنے لگی کہ بس اتنی سی بات ہے انسان اور انسانیت تو کہیں پیچھے رہ گئی، کسی کو یاد بھی ہے عائشہ یوسف ؟ نور مقدم ، سارہ انعام اور ایسی کئی کہانیاں جو وقت کے ساتھ مدھم ہوگئیں، ان کے ساتھ بھی تو ہم نے یہی کچھ کیا تھا، کیا اس کے بعد واقعات رونما نہیں ہوئے ؟

    اصل مدعا تو یہ ہے کہ ہم وجہ جاننا ہی نہیں چاہتے ، ہمارے اندر باہر بے حسی ہے ، ہم سراپا نقصان ہیں ، بے چین ہیں ، نفسا نفسی کا عالم ہے کہ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں، مرنے والوں پر ماتم کا ڈھونگ اور زندہ لوگوں پر زمین تنگ کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے، اگر میں یوں کہوں کہ اب ایسے سوانح ایک خبر سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں تو شاید غلط نہیں ہے۔ حمیرا کی خبر سنتے ہی نیوز گروپ میں ان کی ویڈیو پر نظر پڑی تو مجھے اچانک لگا کہ یہ میں بھی ہوسکتی تھی، میں گہری سوچ میں چلی گئی میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون سے میں نے کہا یار میری ٹانگیں کانپ رہی ہیں پتہ نہیں کیوں اس سے پہلے ہم حمیرا پر بات کر رہے تھے اس نے بڑی لاپرواہی سے موبائل میں ریلز دیکھتے ہوئے کہا گرم سرد ہوگیا ہوگا موسم بھی ایسا ہے ناں اور پھر وہ مجھے کوئی اور قصہ سنانے لگی۔

    ایک اورخاتون کی ویڈیو کا تھمب نیل دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی، انہوں نے اس کو زنا بالجبر کہہ دیا تھا حالانکہ انہی کو گزشتہ مہینے لاہور ہائیکورٹ نے ایسے غلیظ تھمب نیلز اور کانٹینٹ پر اچھی خاصی ڈانٹ پلائی تھی اور تحریری معافی کے ساتھ عہد بھی لیا تھا مگر ڈالرز کا نشہ ہے کیا کیجیے، بس جس کو جو ملا اس نے وہ بیچا۔پھر ایک صحافی نے سب بے بڑی خبر بریک کر کے بتایا کہ حمیرا کا فون ان لاک کر لیا گیا ہے اور قاتل کا پتہ لگا لیا گیا ہے اس کی لوکیشن میر پور خاص تھی اور پھر اس فلیٹ میں تھی، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ200 وائس نوٹ اور 439 ویڈیوز ہیں جو دیکھنے کے قابل نہیں ہیں اس لئے ان کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

    جو رہا سہا رحم کسی کے ذہن میں آ بھی سکتا تھا وہ بھی گیا اب جب کبھی اس واقعے کا ذکر کرکے کوئی سبق حاصل کرنا بھی چاہے تو اس کو کبھی اس کے کردار اور کبھی اس کے انڈسڑی میں آنے پر اعتراض لگا کر اسکی موت پر مزاق بنایا جائے گا، وقوعہ سانحہ بننے کی بجائے موت برحق اور انجام ایسا ہی ہوتا ہے تک رہ جائے گا۔سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ رہی کہ انٹرویوز میں حمیرا اصغر کے نام کے ساتھ جمع کا صیغہ استعمال کرنے کی بجائے انتہائی بدتمیزی سے ان سے دوستوں سے ان کے بارے میں اس کہہ کر تذکرہ کیا گیا پھر ان کی لاش لینے جب ان کے بھائی پہنچے تو وہاں موجود ہر شہری اور مائیک تھامے صحافی نے ان کا ایسے احتساب کیا گویا کھلی کچہری لگی ہو بہت سوں نے تو فیصلہ بھی جاری کیا کہ ان کو لاش دینی ہی نہیں چاہیے تاہم لاش کو کراچی سے لاہور منتقل ہونے تک کئی چہ مگوئیاں سامنے آئیں۔

    ہر آدھ پونے گھنٹے بعد ایک نئی بات ان سے منسوب سامنے آتی، کسی نے قتل کی پیش گوئی کی اور کوئی ان کو نشے کا عادی کہتا رہا کسی کے مطابق ان کو زبردستی ہمبستری کا کہا گیا بس یہ کہیں کہ جس نے جہاں تک ہوا غلاظت کا سامان کیا۔پولیس کے مطابق ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جواس واقعے کی تحقیقات کر کے موت کی وجہ جاننے کی کوشش کرے گی البتہ تب تک مردہ جسم کو قبر سے نکال کر کب تک ہم تماشہ بنائیں گے اس کا تعین کرنا فی الحال مشکل ہے۔

    یہ وقت جہاں ہر شخص کو معاشرتی بگاڑ سے متعلق سنجیدہ ہو کر سوچنے کا ہے وہیں پر بے لگام کرائم رپورٹرز کو اب ذرا سنبھلنے کی ضرورت ہے کیونکہ معاشرے کی گھٹن میں کانٹینٹ سانس کا سا کام کرتا ہے ۔

  • ایران ،چین فضائی دفاعی معاہدہ: امریکی بالادستی کے لیے دھچکہ،تحریر: ناصر اسماعیل

    ایران ،چین فضائی دفاعی معاہدہ: امریکی بالادستی کے لیے دھچکہ،تحریر: ناصر اسماعیل

    ایران کی جانب سے جدید چینی فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی حالیہ تصدیق عالمی جغرافیائی سیاست میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امریکی غلبے کو مزید چیلنج کرتی ہے اور ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی عالمی ترتیب کو تقویت دیتی ہے۔ تجزیہ نگار کارل ژا، برائن برلیٹک، ڈینی ہائی فونگ اور کے جے نوہ نے اس پیش رفت کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے نہ صرف ایران کی اسٹریٹجک ازسرنو صف بندی کو اجاگر کیا بلکہ امریکی و اسرائیلی عسکری حکمت عملی کی بڑھتی ہوئی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

    ### *ایران کے لیے ایک اسٹریٹجک سہارا*
    ایران کا فیصلہ کہ وہ چینی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز (SAMs) حاصل کرے گا—جو بظاہر تیل کے بدلے میں فراہم کیے جائیں گے—اس وقت آیا جب اسرائیلی فضائی حملوں نے اس کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ چین کی صنعتی صلاحیت کی بدولت فوری ترسیل ممکن ہو سکی ہے، اور اب تہران اپنے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول مزائل لانچ سائٹس، کو بہتر طور پر محفوظ بنا سکتا ہے۔ یہ اقدام ایران کے بیجنگ اور ماسکو کی طرف جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ مغربی پابندیاں اور امریکی دشمنی نے اس کے دیگر راستے محدود کر دیے ہیں۔

    ### *امریکہ اور اسرائیل کی کمزوریاں بے نقاب*
    اس بحث میں امریکی اتحادوں کی سب سے بڑی کمزوری یعنی سپلائی چین کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ امریکہ یوکرین کے لیے بھی کافی پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے سے قاصر ہے، چہ جائیکہ وہ بیک وقت روس، ایران اور چین سے محاذ آرائی کرے۔ اسرائیل کو بھی حالیہ حماس اور حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اپنے انٹرسیپٹر ذخائر کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس، چین کی نایاب ارضی عناصر (rare earth elements) پر اجارہ داری، جو جدید اسلحے کے لیے لازم ہیں، مغربی عسکری پیداوار کے لیے طویل المدتی خطرہ بن چکی ہے، خاص طور پر جب بیجنگ نے ان کے برآمدی ضوابط کو مزید سخت کر دیا ہے۔

    ### *کثیر قطبی اتحادوں میں نیا تقسیم کار نظام*
    امریکہ کے برعکس، جو ہتھیاروں کی فروخت کے ساتھ سیاسی شرائط بھی منسلک کرتا ہے، چین کا "بے شرائط” ماڈل شراکت داری کو مضبوط بناتا ہے۔ ایران کا مہنگے لڑاکا طیاروں کے بجائے مؤثر اور کم قیمت فضائی دفاعی نظام پر توجہ دینا ایک عملی حکمت عملی ہے، جو ایک تھکا دینے والی جنگی صورتحال کے تجربے سے اخذ شدہ ہے۔ اگرچہ روس یوکرین میں مصروف ہے، وہ اب بھی ایران کا اہم پارٹنر ہے، لیکن چین کی مرکزی اسلحہ سپلائر حیثیت ایک وسیع تر ازسرنو صف بندی کی علامت ہے۔

    ### *تاریخی تسلسل اور مستقبل کی جنگیں*
    صدیوں پر محیط چین-ایران تعلقات اس جدید پارٹنرشپ کو ایک گہرائی فراہم کرتے ہیں، جو امریکی اتحادوں کی سطحی اور کاروباری نوعیت سے بالکل مختلف ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق مستقبل کی جنگیں تیز فتح کے بجائے صبر آزما مقابلے ہوں گی—ایسی صورتحال میں چین کی صنعتی طاقت اور ایران کی مزاحمتی حکمت عملی مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں برتری حاصل کر سکتی ہے۔

    ### *نتیجہ: کثیر قطبی دنیا کی ناقابلِ روک پیش قدمی*
    چینی دفاعی نظام کے ساتھ ایران کی مسلح سازی صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ نہیں، بلکہ یہ یک قطبی نظام کے زوال کی علامت ہے۔ امریکہ کی حد سے بڑھی ہوئی عسکری مداخلت اور کمزور ہوتی سپلائی چینز کے باعث طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکی غلبے کا دور بتدریج اختتام پذیر ہے اور اب بیجنگ، ماسکو اور علاقائی طاقتیں جیسے ایران، اپنے اپنے اثرورسوخ کے علاقے قائم کر رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کثیر قطبی تبدیلی ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ واشنگٹن اسے کتنی شدت سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

    *آخری خیال:*
    جب امریکہ اپنے مخالفین کو قابو میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے، تو اس کا سب سے بڑا دشمن شاید چین یا ایران نہیں، بلکہ اس کا اپنا حد سے بڑھی ہوئی عسکریت پسندی اور زوال پذیر صنعتی ڈھانچہ ہے۔

  • سعودی عرب کا  اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودی عرب کا اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ کی منظم تباہی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام روکنے کے لئے مسلم ممالک کے مذمتی بیانات جو صدیوں سے جاری ہے واحد راستہ ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوجائیں وہ امام سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب دوسرے اسلامی ممالک کو ساتھ لے کر عالمی طاقتوں سے مذاکرات کرے تاکہ غزہ اور کشمیر کا فیصلہ ہوسکے۔ غزہ میں مزید ہلاکتوں کو روکنے کا واحد راستہ یہی ہے عالم اسلام کے ممالک سعودی عرب کی امامت میں عالمی قوتوں سے مذاکرات کریں۔ سعودی عرب کے موجودہ حکمران اچھی پوزیشن میں ہیں وہ عالمی قوتوں پر دبائو ڈال کر اچھا فیصلہ کروانے کی پوزیشن میں ہیں۔ سعودی عرب عالم اسلام کی مرکزی طاقت ہے کئی اسلامی ممالک پر سفارتی اثر رکھتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعاون ہے۔ سعودی عرب امریکہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب بالواسطہ طور پر غزہ جنگ بندی میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے عرب ممالک اور دیگر دنیا کے اسلامی ممالک اپنی قیادت سعودی عرب کے سپرد کریں تو سعودی عرب اور امریکہ سمیت دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے فیصلے کروانے میں کردار ادا کرسکتا ہے مشرق وسطی کے بعض ممالک جن میں مصر ہے وہ بھی کردار ادا کرے مصر کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر یہ قدیمی جنگ جو صدیوں سے جاری ہے پہل کرنی چاہئے۔ مسئلہ کشمیر کو لے کر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں ہوچکی ہیں جنگوں کے علاوہ سفارتی کوششیں ہوچکی ہیں مگر بھارت ہندو بن کر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان بن کر اگر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ مسئلہ حل ہوجاتا ،بھارت میں انسانیت مرچکی ہے جن عالمی طاقتوں کے سامنے انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے وہ اپنے اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کے طاقتور ترین ملک اپنے مفادات کی زنجیر میں بندھے ہیں۔ انسانوں کے درمیان نفرتوں’ تعصبات اور جنگوں کا سلسلہ شاید اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک مفادات دفن نہیں کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ عالمی سیاسی کھلاڑیوں نے مکر و فریب کے کیا کیا جال بچھا رکھے ہیں۔ دنیا کی اکثریت جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں انسان جنگوں کو پسند نہیں کرتے وہ عالمی دنیا میں امن چاہتے ہیں۔

  • $2.6B روس-پاکستان ڈیل: بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی؟تحریر:ناصر اسماعیل

    $2.6B روس-پاکستان ڈیل: بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی؟تحریر:ناصر اسماعیل

    *کراچی اسٹیل مل کا تاریخی احیاء*
    روس اور پاکستان نے کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کے احیاء اور توسیع کے لیے 2.6 ارب ڈالر کا ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، جو 1970 کی دہائی میں سوویت یونین کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ نئے پلانٹ میں جدید روسی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی اور یہ موجودہ جگہ کے 700 ایکڑ پر محیط ہوگا، جس کے دو سال کے اندر کام شروع ہونے کی توقع ہے۔

    اس منصوبے سے پاکستان کے اسٹیل درآمدی بل میں 30% تک کمی آ سکتی ہے، جس سے ملک کو 2.6 ارب ڈالر کی بچت ہوگی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا۔

    *اسٹریٹجک اور معاشی اثرات*
    یہ معاہدہ خطے میں اتحادوں کی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں روس پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور صنعتی تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، جبکہ بھارت کو سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم اور دیگر عہدیداروں نے پاکستان کو "قدرتی اتحادی” قرار دیا ہے، اور دونوں ممالک ریل رابطوں، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعاون پر غور کر رہے ہیں۔

    *باریٹر ٹریڈ اور پابندیوں سے بچاؤ*
    بین الاقوامی پابندیوں اور ادائیگی کے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، روس اور پاکستان نے ایک باریٹر ٹریڈ سسٹم قائم کیا ہے۔ روسی کمپنیاں چنے اور دالوں کی برآمد کر کے پاکستانی چاول، کینو اور آلو حاصل کر رہی ہیں، جس سے دونوں ممالک ڈالر کے لین دین اور مغربی بینکنگ کی نگرانی سے بچ سکتے ہیں۔

    ماسکو میں منعقدہ پاکستان-روس ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم میں 60 سے زائد پاکستانی کمپنیوں نے حصہ لیا اور 500 ملین ڈالر سے زائد کے معاہدے کیے، جس میں برآمدی سامان کی ایک وسیع رینج پیش کی گئی۔

    *بھارت کو سفارتی دھچکا*
    بھارت، جسے کبھی روس کا "ہر موسم کا اتحادی” سمجھا جاتا تھا، اب سفارتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد روس کی طرف سے بھارت کو حمایت نہ ملنا اور اس کے بعد بھارت کے "آپریشن سندور” نے بھارت کی تنہائی کو گہرا کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا اور اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ روایتی اتحادی دور ہو رہے ہیں اور پاکستان کو نئی بین الاقوامی حیثیت مل رہی ہے۔

    *جیو پولیٹیکل اثرات*
    روس-پاکستان شراکت داری کو جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستان روسی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا نیا مرکز بن کر ابھر رہا ہے، جبکہ بھارت کا خطے میں اثر کم ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کو بھارت کے لیے ایک سفارتی دھچکا بھی سمجھا جا رہا ہے، جو چین اور روس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے درمیان اپنی علاقائی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

    *اہم نکات*
    – روس-پاکستان اسٹیل مل ڈیل ایک بڑی اقتصادی اور اسٹریٹجک پیش رفت ہے، جو پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے اور اربوں ڈالر کی درآمدی لاگت بچا سکتی ہے۔
    – باریٹر ٹریڈ کے ذریعے دونوں ممالک مغربی پابندیوں اور ڈالر پر انحصار سے بچ سکتے ہیں، جس سے ان کے اقتصادی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔
    – بھارت کی سفارتی تنہائی واضح ہے، جہاں سابق اتحادی چین اور روس کی طرف رخ کر رہے ہیں، اور نئی دہلی پر خارجہ پالیسی کی ناکامیوں پر تنقید ہو رہی ہے۔
    – روس-پاکستان تعلقات جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے خطے کے مستقبل پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

  • یہ ایک معاشی جھوٹ امریکہ کو اندر سے تباہ کر رہا ہے.تحریر:ناصر اسماعیل

    یہ ایک معاشی جھوٹ امریکہ کو اندر سے تباہ کر رہا ہے.تحریر:ناصر اسماعیل

    دہائیوں سے، امریکیوں کو ایک افسانہ سنایا جا رہا ہے— کہ سرمایہ داری ایک منصفانہ، میرٹ پر مبنی نظام ہے جو محنت اور جدت کو انعام دیتا ہے اور سب کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن یہ جھوٹ حقیقت کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ موجودہ ساخت میں سرمایہ داری ایک دھوکہ ہے، جو دولت اور طاقت کو چند ایک کے ہاتھوں میں مرکوز کرتا ہے جبکہ مزدوروں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔

    ### *سب کے لیے خوشحالی کا افسانہ*
    حاکم معاشی بیانیہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آزاد منصوبے قدرتی طور پر دولت کو منصفانہ طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن پچھلے 50 سالوں میں، مزدوروں کا قومی آمدنی میں حصہ گر کر *1970 کی دہائی کے وسط میں 75% سے آج صرف 46%* رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس، امیر ترین *1% (اور خاص طور پر 0.01%)* نے تقریباً تمام معاشی فوائد اپنے نام کر لیے ہیں۔ اجرتیں جامد ہیں، رہائش اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں، اور ملازمت کی حفاظت ختم ہو رہی ہے— لیکن کارپوریٹ منافعوں اور سی ای او کی تنخواہوں کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔

    یہ کوئی حادثہ نہیں؛ یہ ایک منصوبہ بند عمل ہے۔ امیروں کے لیے ٹیکس میں کمی، ڈی ریگولیشن، یونینوں کو توڑنا، اور وال اسٹریٹ کی بالادستی نے منظم طور پر طاقت کو مزدوروں سے سرمایہ داروں کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ نتیجہ؟ ایک خالی ہوتا متوسط طبقہ اور ایک ایسی نسل جو زوال پذیر معیار زندگی کا سامنا کر رہی ہے۔

    ### *”معاشی جھوٹ” کی قلعی کھولنا*
    اس دھوکے کی بنیاد یہ خیال ہے کہ منڈیاں غیر جانبدار ہیں اور انعامات محنت کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ حقیقت میں، دولت مزید دولت پیدا کرتی ہے— وراثت، سیاسی اثر و رسوخ، اور اجارہ داری کنٹرول کے ذریعے۔ امیر لوگ قوانین کو اپنے حق میں موڑتے ہیں: بیل آؤٹس، ٹیکس چھوٹوں، اور مزدور مخالف پالیسیوں کے لیے لابنگ کرتے ہیں جبکہ دوسروں کو "آزاد منڈی” کا سبق دیتے ہیں۔

    یہاں تک کہ معاشیات کی تعلیم بھی اس جھوٹ کو ہوا دیتی ہے، طاقت کے تعلقات کو نظر انداز کرتی ہے اور استحصال کا وجود ہی نہیں مانتی۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ *ٹرکل ڈاؤن اکنامکس* کام کرتا ہے، حالانکہ دہائیوں کا ثبوت یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ صرف امیر ترین لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

    ### *ایک متبادل: ورکر کوآپریٹیوز اور معاشی جمہوریت*
    ایک بہتر راستہ موجود ہے۔ *ورکر کوآپریٹیوز*— وہ کاروبار جو ملازمین کی ملکیت ہوتے ہیں اور جمہوری طور پر چلائے جاتے ہیں— ثابت کرتے ہیں کہ مساوات اور کارکردگی ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔ مطالعے بتاتے ہیں کہ کوآپریٹیوز میں اکثر یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں:
    ✔ *زیادہ پیداواریت* (ملازمین زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں)
    ✔ *زیادہ استحکام* (معاشی بحران میں کم ملازمتوں کا خاتمہ)
    ✔ *زیادہ منصفانہ اجرتیں* (سی ای او اور مزدور کی تنخواہ کا تناسب 300:1 جیسا نہیں ہوتا)

    کاروباروں کو جمہوری بنانے سے، ہم ایک ایسی معیشت تعمیر کر سکتے ہیں جہاں خوشحالی بانٹی جائے، نہ کہ چند ہاتھوں میں مرکوز ہو۔

    ### *امریکہ ایک فیصلہ کن موڑ پر*
    امریکہ گرتی ہوئی سلطنتوں کے راستے پر چل رہا ہے— دولت کی ارتکاز، زندگی کے معیار کا زوال، اور سیاسی بے راہ روی۔ بنیادی تبدیلی کے بغیر، یہ بحران اور گہرا ہو گا۔ انتخاب واضح ہے: ایک ٹوٹے ہوئے نظام سے چمٹے رہیں یا ایک ایسی معیشت کی تشکیل کریں جو عوام کے لیے کام کرے، نہ کہ چند کے لیے۔

    *جھوٹ ختم ہو چکا ہے۔ اب سچ کا وقت ہے— اور ایک نئے راستے کا۔*


    *اہم نکات:*
    – سرمایہ داری کا "انصاف” کا افسانہ انتہائی عدم مساوات کو جواز دیتا ہے۔
    – مزدوروں کا آمدنی میں حصہ گر گیا ہے جبکہ امیر سب کچھ لے رہے ہیں۔
    – ٹرکل ڈاؤن اکنامکس ایک دھوکہ ہے؛ ورکر کوآپریٹیوز حقیقی حل پیش کرتے ہیں۔
    – بنیادی تبدیلی کے بغیر، امریکہ کا زوال تیز ہو گا۔

    *”کاروباروں کو جمہوری بنانے سے، ہم ایک ایسی روزمرہ جمہوریت تعمیر کر سکتے ہیں جو سب کے لیے کام کرے۔

  • قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام

    قسطوں میں مرتی عوام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کی گلیوں، محلّوں، دیہی چوپالوں اور شہری بازاروں میں جو خاموشی پھیلی ہے، وہ سکون کی علامت نہیں، بلکہ طوفان سے پہلے کی گھمبیر خاموشی ہے۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر فرد معاشی بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، اور سوال یہ نہیں کہ غصہ کب اُبلے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس غصے کا رُخ کس طرف ہو گا۔ برسوں سے جاری مہنگائی، بے روزگاری، اور ریاستی پالیسیوں کی ناکامی نے ایک عام پاکستانی کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب "جینا” بھی ایک جرم بن چکا ہے۔

    وفاقی بجٹ 2025-26 عوام کے زخموں پر نمک بن کر گرا۔ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دینا، نقد ادائیگی کی حد متعین کرنا اور ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے تاجر برادری کو خوف، غصے اور احتجاج کی جانب دھکیل دیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر نے خبردار کیا کہ یہ پالیسیاں کاروبار کو تباہ اور ملکی معیشت کو مفلوج کر دیں گی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس 21 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو خیر باد کہہ چکی ہیں،کیا یہ کسی معاشی زوال کی ابتدانہیں ہے؟

    بجلی کے بل اس قوم کے لیے اب صرف ایک بل نہیں بلکہ ہر ماہ آنے والی معاشی سزائے موت بن چکے ہیں۔ ناقص ٹرانسمیشن نظام کے باعث صارفین پر 69.09 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایک طرف یونٹ ریٹس میں معمولی کمی کا اعلان کیا مگر دوسری طرف فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، سرچارجز اور ٹیکسز کی بھرمار نے تنخواہ دار اور دیہاڑی دار مزدورطبقے کی کمر توڑ دی۔ کراچی کے رہائشی محمد معین کی بات دل چیر دیتی ہے وہ کہتا ہے کہ "روز روز ٹکڑوں میں مرنے کے بجائے حکومت ایک ہی بار بم گرا دے”یہ ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک قوم کا نوحہ ہے۔

    ٹیکسوں کا بوجھ بھی اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں اضافہ، کاربن ٹیکس، اشیائے خورونوش اور تعلیم پر بالواسطہ ٹیکسز نے عام شہری کی زندگی مزید مہنگی اور ناقابلِ حصول بنا دی ہے۔ اب تنخواہ صرف بلز اور گزارے کے لیے بھی کافی نہیں۔ بنارس ٹاؤن کراچی کا رہائشی عبدالرحمان کہتا ہے کہ "دو وقت کی روٹی، بجلی کا بل اور بچوں کی تعلیم اکٹھے نہیں چل سکتے۔” وہ شخص کس امید پر جئے گا جس کے ہاتھ میں پیسہ نہیں، پیچھے ریاست نہیں اور آگے راستہ نہیں؟

    معاشی تباہی کے ساتھ سماجی تباہی بھی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ژوب میں نو مسافروں کے اغوا اور قتل، کراچی میں حمیرا اصغر جیسی فنکارہ کی لاش،یہ سب ایک ایسے معاشرے کی تصویریں ہیں جہاں زندگی بے معنی اور موت بے خبر ہو چکی ہے۔ ایسے واقعات صرف جرائم نہیں، وہ ریاستی اور سماجی ناکامی کی علامت ہیں۔

    ریاستی بیانیہ اب بھی تضاد اور ابہام کا شکار ہے۔ ماہرین معیشت جیسے ڈاکٹر قیصر بنگالی ایف بی آر کے اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیتے ہیں، جب کہ ڈاکٹر اعجاز نبی اسے معاشی استحکام کی نوید بتاتے ہیں۔ ایسے بیانات عام آدمی کے ذہن میں مزید الجھن اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ لوگ اب جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ان کی مشکلات کا ذمہ دار کون ہے؟ اور یہ جاننے کا حق انہیں آئین دیتا ہے، سیاست نہیں۔

    قدرتی آفات جیسے حالیہ بارشیں، سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے ریاستی نااہلی کو ننگا کر دیا ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں بجلی بند، سڑکیں ڈوبی اور ہسپتال تک پہنچنا محال ہوا۔ کیا یہی ریاستی خدمت ہے؟ جب قدرتی آفت بھی ظلم میں حکومت کا ساتھ دینے لگے، تو عوام کہاں جائیں؟

    ان سب مسائل نے عوام کو احتجاج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 19 جولائی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی اجتماعی اضطراب کا مظہر ہے۔ #NoToUnfairTaxes، #ElectricityRelief جیسے سوشل میڈیا ٹرینڈز محض ہیش ٹیگز نہیں، یہ عوام کی چیخیں ہیں جو اب آن لائن سے آف لائن آنے کو بیتاب ہیں۔ اگر حکومت نے ان آوازوں کو سننے سے انکار جاری رکھا تو ان کے قدم ایوانِ اقتدار کی دہلیز پر ہوں گے۔

    سول نافرمانی اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک عملی امکان بن چکی ہے۔ عوام کے پاس اب چند ہی راستے بچے ہیں کہ پرامن احتجاج، بلوں کا بائیکاٹ یا مکمل بغاوت اور اگر یہ سب کچھ انتشار کے بغیر ہو تو یہ اس قوم کی تہذیب کا ثبوت ہو گا لیکن اگر ریاست نے پھر بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ کا رخ بدلنا بھی ممکن ہو جائے گا۔

    شمسی توانائی جیسے متبادل موجود ہیں مگر ہر شخص کی پہنچ سے دور ہیں۔ اصل حل تو حکومتی سطح پر ریفارمز اور عوام دوست پالیسیوں میں ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے جب طاقتور طبقہ اپنے اللّے تللّے چھوڑے، مراعات کم کرے اور عوام کو جینے کا حق دے۔ ورنہ جب قسطوں میں مرتی ہوئی قوم کا صبر ختم ہوتا ہے تو پھر وہ خود فیصلہ کرتی ہے کہ جینا کیسے ہے۔

    یہ صرف ایک غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ عوام کا صبر اب لبریز ہے۔ حکومت، بیوروکریسی، اشرافیہ،سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب بند ٹوٹتا ہے تو وہ نہ صرف پانی بہاتا ہے بلکہ دیواریں بھی گراتا ہے اور نظام بھی۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کے لیے فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے کہ یا تو عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے یا پھر تاریخ کے ملبے تلے دفن ہونے کو تیار ہو جائے۔

    یہ ملک کے ہر اس فرد کی آواز ہے جو مہینے کے آخر میں بل دیکھ کر سانس روکتا ہے، جو بچوں کو سکول چھوڑنے پر مجبور ہے، جو دوا کے لیے لائن میں مرتا ہے اور جس کے صبر کا بند قسطوں میں ٹوٹتا جا رہا ہے۔

  • سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟

    سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟

    سوشل میڈیا اور صحافت، معتبر کون؟
    تحریر:حبیب خان
    آج جب ہم سوشل میڈیا کے سیلاب میں بہے جا رہے ہیں تو صحافت کا مفہوم بھی بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سوشل میڈیا پوسٹ، ہر وڈیو یا ہر تقریر صحافت ہے؟ کیا صرف ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن رکھنے والا فرد صحافی کہلا سکتا ہے؟ یہ سوال محض تکنیکی یا جذباتی نہیں بلکہ صحافت کے مستقبل اور معاشرے کے اجتماعی شعور سے جڑا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک فوری رسائی ممکن بنائی، وہیں اس نے خبر اور رائے کے درمیان لکیر دھندلا دی۔ اب ہر وہ شخص جو اپنی رائے کو وائرل کرنا چاہتا ہے، وہ خود کو صحافی کہنے لگا ہے۔ حالانکہ صحافت محض ایک وڈیو اپلوڈ کرنے یا کسی واقعے پر تبصرہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ادارتی جانچ، حقائق کی تصدیق، توازن، اور اخلاقی ضابطوں کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔

    کیا صرف سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنا صحافت کہلایا جا سکتا ہے؟ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا سوال ہے مگر اس کے اثرات بڑے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنا صحافت کا ایک جزو ہو سکتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر صحافت نہیں کہلایا جا سکتا۔ صحافت ایک منظم عمل ہے جس میں تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری شامل ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر خبریں بغیر تصدیق کے پھیلائی جاتی ہیں، جو افواہوں یا غلط معلومات کا باعث بن سکتی ہیں۔ صحافت میں اخلاقیات اور معیارات کی پابندی ضروری ہے جبکہ سوشل میڈیا پر پوسٹس عموماً ذاتی رائے یا سنسنی خیزی پر مبنی ہوتی ہیں۔

    یہاں سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ شخص جو سوشل میڈیا پر ویڈیو بنا کر تبصرہ کرے، صحافی ہے؟ اس کا واضح جواب ہے کہ نہیں۔ ہر شخص جو سوشل میڈیا پر ویڈیو بناتا یا تبصرہ کرتا ہے، صحافی نہیں کہلا سکتا۔ صحافی وہ ہوتا ہے جو تربیت یافتہ ہو، معلومات کی تصدیق کرتا ہو اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پابندی کرتا ہو۔ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے اکثر افراد ذاتی رائے دیتے ہیں، جن میں تحقیق یا غیر جانبداری کی کمی ہوتی ہے۔ یہ انہیں رائے دہندہ یا مواد تخلیق کار بنا سکتا ہے، لیکن صحافی نہیں۔

    معیار اور نیت کا یہ فرق محض صحافت کی ساکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی سچائی کا سوال ہے۔ ذاتی رائے یا تاثر فرد کے تجربات، جذبات، یا نقطہ نظر پر مبنی ہوتا ہے، جو اکثر غیر مصدقہ اور جانبدار ہو سکتا ہے۔ تحقیق شدہ خبر حقائق پر مبنی ہوتی ہے، جس کی تصدیق معتبر ذرائع سے کی جاتی ہے اور اسے غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر رائے اکثر سنسنی خیز یا جذباتی ہوتی ہے، جبکہ تحقیق شدہ خبر معروضیت اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

    روایتی صحافت میں ادارتی جانچ اور معلومات کی تصدیق نہ ہو تو صحافت افواہ میں بدل جاتی ہے۔ صحافی کا کام صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ حقائق کے گرد سچائی کی دیوار بنانا بھی ہے۔ ادارتی عمل میں متعدد مراحل شامل ہوتے ہیں، جیسے کہ حقائق کی جانچ، ذرائع کی تصدیق، اور مواد کی معروضیت۔ یہ عمل غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکتا ہے اور عوام کا اعتماد برقرار رکھتا ہے، جو سوشل میڈیا پر اکثر غائب ہوتا ہے۔

    لیری کنگ کا خود کو صحافی نہ سمجھنا ہمیں سکھاتا ہے کہ میڈیا کیمرے کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا مقام ہے۔ وہ ایک انٹرویو کنندہ اور میزبان تھے، لیکن انہوں نے صحافت کے پیشہ ورانہ تقاضوں کو تسلیم کیا، جو تحقیق اور رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر میڈیا شخصیت صحافی نہیں ہوتی، اور صحافت ایک مخصوص کردار اور مہارت کا نام ہے۔ اگر ایک بین الاقوامی سطح کا اینکر خود کو صحافی نہیں مانتا تو سوشل میڈیا پر چند وڈیوز بنانے والا خود کو صحافت کا نمائندہ کیسے کہہ سکتا ہے؟

    سچ کو اگر وائرل ہونے کی خواہش پر قربان کر دیا جائے تو صحافت محض تفریح بن جاتی ہے۔ صحافت کا مقصد ذمہ داری کے ساتھ سچ سامنے لانا ہے، نہ کہ صرف وائرل ہونا۔ وائرل ہونا سوشل میڈیا کی خصوصیت ہے، جہاں سنسنی خیزی اور توجہ اہم ہوتی ہے۔ صحافت کا ہدف عوام کو درست، تصدیق شدہ، اور معروضی معلومات فراہم کرنا ہے، جو معاشرے میں بیداری اور مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔ وائرل ہونا صحافت کا ذیلی نتیجہ ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی مقصد نہیں۔

    اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ سچ اور صحافت کو بچانے کے لیے ہمیں فوری طور پر سوشل میڈیا اور صحافت کے فرق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے عوامی شعور، تعلیم و تربیت، اور صحافتی اقدار کی بحالی ضروری ہے۔ مواد تخلیق کاروں کو چاہیے کہ وہ سچائی کے ساتھ جُڑنے سے پہلے سچ کی ذمہ داری کو سمجھیں۔ صحافت ایک پیشہ ہے جو سچائی، غیر جانبداری، اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جبکہ سوشل میڈیا ایک پلیٹ فارم ہے جو ہر قسم کے مواد کو جگہ دیتا ہے۔ اگر ہم یہ فرق بھول گئے تو صحافت کا چراغ سنسنی کے طوفان میں بجھ جائے گا۔

  • ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ

    ڈاکٹرجمیل جالبی،علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ

    ڈاکٹر جمیل جالبی، علم و ادب کے آفتاب کا سحرانگیز جائزہ
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    علم و ادب کی روشنی بکھیرنے والی عظیم شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی نے اردو زبان و ادب کو جن جہتوں سے جِلا بخشی، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نے اردو زبان کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور معاشرتی شعور کو جلا بخشی۔ ان کی تصانیف، تحقیقی کام، لغت نویسی، تنقید، ترجمہ، تدریسی اور اداری خدمات نے ان کی شخصیت کو ہمہ جہت بنا دیا۔

    لغت نویسی: زبان کی بنیادوں کا تعین
    ڈاکٹر جمیل جالبی لغت نویسی میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی معرکہ آرا تصنیف "قومی انگریزی اردو لغت” دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جو اردو زبان کی سائنسی، ادبی، معاشی، قانونی، طبّی، تجارتی اور سماجی اصطلاحات کو مربوط انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس لغت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علاقائی، مقامی اور عوامی سطح کے الفاظ کو بھی شامل کیا گیا تاکہ زبان کی اصلیت قائم رہے۔ دیگر لغوی کاموں میں "قدیم اردو کی لغت” اور "فرہنگِ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ” شامل ہیں۔

    تحقیق و تاریخ ادب اردو
    ڈاکٹر جالبی کی سب سے نمایاں اور یادگار تصنیف "تاریخ ادب اردو” ہے، جو چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک فکری، تحقیقی اور ثقافتی دستاویز ہے۔ اس میں اردو ادب کے ارتقاء کو صرف زمانی ترتیب میں نہیں بلکہ تہذیبی، سیاسی اور معاشرتی عوامل کی روشنی میں بھی پیش کیا گیا ہے۔

    ان کی تحقیقی خدمات میں "مثنوی قدم راؤ پدم راؤ”, "دیوان حسن شوقی” اور "دیوان نصرتی” کی بازیافت شامل ہے، جن کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی گمشدہ کڑیوں کو بازیاب کیا۔ ان کی دیگر اہم کتب میں "اردو زبان کی تاریخ” اور "اردو نثر کا ارتقاء” شامل ہیں۔

    تنقید: فکری تجزیے کی بنیاد
    ڈاکٹر جالبی کا شمار جدید تنقیدی نظریات کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ ان کی اہم تنقیدی کتب میں "تنقید اور تجربہ”, "نئی تنقید”, "عصری ادب”, "ادب، کلچر اور مسائل”, "میر تقی میر: ایک مطالعہ”, "قومی زبان: یکجہتی، نفاذ اور مسائل” شامل ہیں۔

    وہ ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تنقید، فکری تجزیے اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی تصنیف "ارسطو سے ایلیٹ تک” مغربی تنقید کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

    ترجمہ نگاری: علم و ادب کی عالمی رسائی
    ڈاکٹر جالبی نے ترجمہ نگاری میں بھی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے اہم تراجم میں جارج آرویل کا ناول "جانورستان”, "ٹی ایس ایلیٹ کے مضامین”, "برصغیر میں اسلامی کلچر” اور "برصغیر میں اسلامی جدیدیت” شامل ہیں۔

    ان کے تراجم صرف زبان کی تبدیلی نہیں بلکہ تخلیقی حسن کے آئینہ دار ہیں، جن میں اصل متن کی روح اور مفہوم کو محفوظ رکھا گیا۔

    کلچر، تہذیب اور بچوں کا ادب
    کلچر اور تہذیب کے میدان میں ان کی کتاب "پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل” ایک اہم تصنیف ہے، جس میں انہوں نے زبان، رسم و رواج، قومی وحدت اور تہذیبی شناخت پر سیر حاصل بحث کی۔

    بچوں کے لیے ادب بھی ان کے قلم کی توجہ کا مرکز رہا۔ ان کی بچوں کے لیے لکھی گئی کتابیں "حیرت انگیز کہانیاں” اور "کھوجی” مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

    ادارتی، تدریسی و ادارتی خدمات
    ڈاکٹر جالبی نے "پیامِ مشرق”, "ساقی” اور "نیا دور” جیسے معروف ادبی جرائد کی ادارت کی۔ وہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین اور اردو لغت بورڈ کے سربراہ بھی رہے۔

    ان کی خطوط نگاری کا بھی ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس میں تقریباً دو ہزار خطوط شامل ہیں۔ ان کا مجموعہ "مکاتیب مشاہیر بنام ڈاکٹر جمیل جالبی” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔

    جمیل جالبی: ایک زندہ علمی روح
    معزز قارئین! بطور ادب کے طالب علم، جمیل جالبی کے مطالعے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں ان کی علمی روح سے ملاقات کر رہا ہوں۔ انہوں نے معاشرے کے ذہنوں سے جہالت کے اندھیرے مٹانے کے لیے جو چراغ جلائے، ان کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔

    علم و ادب کی مٹھاس جس معاشرے کی زبان پر آ جائے، وہاں نفرتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر جالبی نے ادب کو ایک ایسا مرہم بنا دیا جو ہر زخم کو بھرنے کی شفا رکھتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ان کی روح کو بلند درجات عطا فرمائے اور ان کی کتابوں کی روشنی سے معاشرے کے اندھیرے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ آمین ثم آمین۔

  • آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    لاہور (باغی ٹی وی رپورٹ)آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے
    تفصیلات کے مطابق آن لائن تعلیم کی بڑھتی مقبولیت نے جہاں تعلیمی رسائی کو آسان بنایا، وہیں جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کے ذریعے فراڈ کے واقعات میں بھی خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں طلبہ جعلی آن لائن تعلیمی اداروں کا شکار ہوئے، جن سے لاکھوں روپے ہتھیائے گئے۔ یہ رپورٹ حالیہ واقعات، فراڈ کے طریقہ کار، اور بچاؤ کے اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں 9 جولائی 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فیصل آباد میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ایک منظم فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر واٹس ایپ اور فیس بک پر جعلی تعلیمی کورسز کی پیشکش کر رہا تھا۔ ملزمان نے معروف یونیورسٹیوں کی نقل کرتے ہوئے ویب سائٹس بنائیں اور طلبہ سے رجسٹریشن فیس کے نام پر 20,000 سے 50,000 روپے وصول کیے۔ ایک متاثرہ طالب علم احمد علی نے بتایا کہ اس نے "آن لائن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس” کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن کورس کے نام پر صرف چند غیر معیاری پی ڈی ایف فائلز موصول ہوئیں۔ ایف آئی اے نے تین ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے جعلی سرٹیفکیٹس، لیپ ٹاپس اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات برآمد کیں .

    اسی طرح11 اکتوبر 2023 کو24 نیوز اردونے ایک رپورٹ دی کہ ایف آئی اے راولپنڈی نے ایک گینگ کے سرغنہ امیر حمزہ کو گرفتار کیا جو جعلی ملازمتوں اور آن لائن تعلیمی کورسز کے ذریعے فراڈ کر رہا تھا۔ ملزم نے واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے طلبہ اور بیروزگار افراد کو نشانہ بنایا۔ متاثرین سے "فنگر پرنٹس، میڈیکل اور پروسیسنگ فیس” کے نام پر 78,800 روپے فی کس وصول کیے گئے۔ مجموعی طور پر 32 متاثرین سے 25 لاکھ روپے ہتھیائے گئے۔ ملزمان نے جعلی میڈیکل اور فنگر پرنٹ سہولیات قائم کی تھیں اور طلبہ کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے گئے جو ملازمت کے لیے ناکارہ تھے

    توسنامہ نوائے وقت نے 26 فروری 2025 کو ایک خبر شائع کی کہ کراچی میں بھی جعلی آن لائن اکیڈمی نے سینکڑوں طلبہ سے لاکھوں روپے لوٹے۔ یہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرتی تھی اور "آن لائن ایم بی اے” اور "آئی ٹی سرٹیفکیٹس” کے کورسز پیش کرتی تھی۔ ایک طالبہ عائشہ خان نے بتایا کہ اس نے 1.5 لاکھ روپے فیس ادا کی لیکن کورس غیر پیشہ ورانہ اساتذہ اور ناقص مواد پر مشتمل تھا۔ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہے اور کسی ادارے میں قابل قبول نہیں۔ ایف آئی اے نے اس اکیڈمی کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور عوام سے ہوشیاری کی اپیل کی

    بی بی سی اردو کی 3 اکتوبر 2020کی ایک رپورٹ کے مطابق آن لائن تعلیمی فراڈ عالمی سطح پر بھی بڑھ رہا ہے۔ سائبر مجرمان جعلی ویب سائٹس، ای میلز اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر کم تعلیم یافتہ افراد کو جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ سٹیفن کونان کے حوالے سے بتایا گیا کہ موبائل بینکنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال نے سائبر کرائم کو فروغ دیا۔ پاکستان میں بھی ایسی جعلی ای میلز اور واٹس ایپ میسجز عام ہیں جو لاٹری یا تعلیمی کورسز کے ذریعے ذاتی معلومات مانگتی ہیں۔

    اس طرح کے فراڈ کے طریقہ کار میں جعلی ویب سائٹس اور ایپس کا استعمال سرفہرست ہے، جہاں ملزمان معروف تعلیمی اداروں کی نقل کر کے طلبہ سے رجسٹریشن فیس وصول کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام پر پرکشش اشتہارات پھیلائے جاتے ہیں۔ متاثرین کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے جاتے ہیں جو ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ کئی معاملات میں بھاری ایڈوانس فیس وصول کر کے رابطہ منقطع کر لیا جاتا ہے جبکہ بعض جعلی ایپس یا ویب سائٹس صارفین کی ذاتی معلومات، جیسے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات چوری کرتی ہیں۔

    متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ احمد علی (فیصل آباد) نے بتایا، "میں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن مجھے صرف چند پی ڈی ایف فائلز ملیں۔ جب میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دینا بند کر دیا۔” اسی طرح عائشہ خان (کراچی) نے کہا، "میں نے ایم بی اے کورس کے لیے 1.5 لاکھ روپے دیے، لیکن سرٹیفکیٹ جعلی نکلا۔ اب میری ساری جمع پونجی ضائع ہو گئی۔” محمد عمر (راولپنڈی) نے بتایا، "مجھ سے ملازمت کے لیے کورس فیس کے نام پر 78,000 روپے لیے گئے، لیکن نہ تو ملازمت ملی اور نہ ہی سرٹیفکیٹ کسی کام کا تھا۔”

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے آن لائن فراڈ کے خلاف متعدد کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔ فیصل آباد، کراچی اور راولپنڈی میں حالیہ چھاپوں کے دوران متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے اور جعلی ویب سائٹس بند کی گئیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک پیشکشوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی فراڈ کی اطلاع فوری دیں۔ بچاؤ کے لیے چند اہم اقدامات شامل ہیں، کسی بھی آن لائن کورس میں رجسٹریشن سے پہلے ادارے کی ساکھ چیک کریں، بھاری ایڈوانس فیس مانگنے والے اداروں سے ہوشیار رہیں اور معاہدے کی شرائط غور سے پڑھیں۔ مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں اور مشکوک لنکس یا ایپس سے دور رہیں۔ فراڈ کا شبہ ہونے پر فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کریں (ہیلپ لائن: 111-345-786)۔ صرف تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے کورسز لیں اوردینی تعلیم کیلئے مقامی عالم یا مفتی سے مشورہ کریں۔

    آن لائن تعلیمی فراڈ پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو طلبہ کی مالی اور تعلیمی امنگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں لیکن عوام کی آگاہی اور احتیاط ہی اس خطرے سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ مستند اداروں سے رابطہ، مشکوک پیشکشوں سے گریز اور سائبر سیکیورٹی کے اقدامات سے اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

  • حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام

    حکومتی پالیسیاں، تاجروں کی ہڑتال اور بے حس جوتے کھاتی عوام
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف بے رحم حکومتی پالیسیاں ہیں جو سرمایہ کاروں، صنعتکاروں اور تاجروں پر ٹیکسوں کا ایسا بوجھ ڈال رہی ہیں جو عملاً کاروبار کو دفن کرنے کے مترادف ہے تو دوسری جانب ایک تھکی ہاری، بے حال اور دبے ہوئی عوام ہے جو روز مہنگائی، بیروزگاری اور بڑھتے ہوئے بلوں کے طوفان میں اپنی سانسیں گن رہی ہے۔ مگر اس دو انتہاؤں کے درمیان جو سب سے حیران کن فرق ہے وہ ردعمل کا ہے،جیساکہ تاجر متحد ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور عوام چپ چاپ "جوتے” کھاتی رہتی ہے۔

    حالیہ بجٹ 2025-26 کے خلاف بزنس کمیونٹی کے واضح اور بھرپور ردعمل نے اس تاثر کو مزید مستحکم کیا ہے کہ یہ طبقہ جانتا ہے کہ اپنی آواز کیسے منوانی ہے۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر اکرام الحق، پاکستان سپورٹس گڈز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ مسعود اختر اور دیگر تمام کاروباری نمائندوں نے متفقہ طور پر نہ صرف بجٹ کو مسترد کیا بلکہ 19 جولائی کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان بھی کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ 37A اور 37B جیسے "کالے قوانین” بزنس کو تباہ کرنے کی سازش ہیں اور آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے مقامی صنعتوں کی گردن مروڑی جا رہی ہے۔

    یہ تمام بیانات اور فیصلے بتاتے ہیں کہ تاجر طبقہ نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتا ہے بلکہ منظم، متحد اور باہمی اتفاق سے ان کا مقابلہ بھی کرتا ہے۔ اُن کے پاس ادارے ہیں، پلیٹ فارم ہیں، قیادت ہے اور سب سے بڑھ کر شعور ہے کہ کب، کہاں اور کیسے اپنی طاقت کو استعمال کرنا ہے۔

    اب آئیے دوسری طرف دیکھیں تو وہ عوام جس پر ہر مہینہ بجلی کے بلوں کی صورت میں قہر نازل ہوتا ہے، جس کے باورچی خانے میں آٹا، چینی، گوشت اور سبزیاں خواب بن چکے ہیں جو روز کسی نہ کسی خاندان کی خودکشی کی خبر سن کر بھی چپ رہتی ہے۔ واپڈا کی "سلیب گردی” ہو یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ہر مسئلہ براہ راست عوام کو متاثر کرتا ہے۔ پھر بھی کوئی اجتماعی احتجاج، کوئی ملک گیر تحریک، کوئی شٹر بند ہڑتال نظر نہیں آتی۔

    اس عوامی خاموشی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ایک مؤثر قیادت اور تنظیم کی عدم موجودگی ہے۔ عوام کے پاس نہ کوئی چیمبر آف کامرس ہے، نہ کوئی نمائندہ آواز، نہ ہی وہ متحد ہونے کے کسی پلیٹ فارم پر متفق ہیں۔ دوسرا، خوف اور مایوسی نے دلوں کو مردہ کر دیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ "کچھ نہیں بدلے گا”، اور اس سوچ نے انہیں بے عملی کی قبر میں دفن کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کی غیر موجودگی اور میڈیا کی مصلحت پسندی نے اس بے حسی کو اور بھی مضبوط کر دیا ہے۔

    تاجروں کی ہڑتال ہمیں بتاتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے، تنظیم میں اثر ہے اور قیادت میں سمت ہے۔ اگر عوام ان اصولوں کو اپنائیں تو وہ بھی اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ لیکن کیا وہ ایسا کریں گے؟ کیا وہ اپنی بے بسی کو طاقت میں بدلنے کے لیے تیار ہیں؟ یا پھر وہی "جوتے کھاتی عوام” بن کر تماشائی بنی رہے گی؟

    اس موقع پر ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے کہ”سو پیاز اور سو جوتے۔” جب بادشاہ نے مجرم کو اختیار دیا کہ وہ یا تو سو پیاز کھائے یا سو جوتے سہے، تو اس مجرم نے پہلے پیاز کھانے شروع کیے۔ مگر جب برداشت نہ رہی تو جوتوں کی سزا قبول کی اور آخر کار دونوں پورے کیے،سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی سہے۔

    آج پاکستانی عوام بھی اسی دو راہے پر کھڑی ہے۔ وہ ہر روز "پیاز” کی صورت میں مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہی ہے اور "جوتوں” کی صورت میں ذلت، بے بسی، استحصال اور خاموشی برداشت کر رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ عوام کب تک سو پیاز اور سو جوتے دونوں سہتی رہے گی؟ کیا وہ تاجروں کی طرح اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑی ہو گی؟ کیا اب وقت نہیں آیا کہ "تماشائی” کی حیثیت سے نکل کر "تحریک” کا حصہ بن جایا جائے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے؟ یہ فیصلہ اب صرف عوام نے ہی کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔