Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم،تحریر:نور فاطمہ

    ہر ایک کی پسند کے مطابق نہیں ہیں ہم، کڑوے ضرور ہیں مگر منافق نہیں ہیں ہم

    زندگی میں سب کو خوش رکھنا اور ہر ایک کی پسند پر پورا اترنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ دنیا کو دکھانے کے لیے میٹھے بول بولتے ہیں، چاہے دل میں کچھ اور ہو۔ جبکہ کچھ لوگ سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان کی بات کسی کو بری لگے۔ یہ بلاگ انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی بات صاف، سچی، اور دل سے کہتے ہیں ، اور اسی لیے اکثر "کڑوے” کہلائے جاتے ہیں۔سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ یہ دل کو چبھنے والا، کانوں کو ناگوار، اور ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی سچ وہ آئینہ ہے جس میں ہم خود کو دیکھ سکتے ہیں، جیسا کہ ہم واقعی ہیں۔جو لوگ سچ بولتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی نظروں میں "کڑوے” بن جاتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں چاپلوسی نہیں ہوتی، لیکن ان کے دل میں کوئی کھوٹ بھی نہیں ہوتا۔ وہ جیسا محسوس کرتے ہیں، ویسا ہی کہتے ہیں اور یہی چیز انہیں منافقوں سے الگ کرتی ہے۔

    منافقت بظاہر نرم خوئی، شائستگی، اور میٹھی باتوں کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے، لیکن اندر سے یہ ایک زہر ہے۔ منافق لوگ ہر کسی کے سامنے ایک نیا چہرہ رکھتے ہیں، ہر کسی کی پسند کے مطابق ڈھل جاتے ہیں، لیکن دل میں ان کا کچھ اور ہی ارادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ وقتی طور پر پسند کیے جاتے ہیں، لیکن جب اصلیت سامنے آتی ہے تو اعتماد ایک بار ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑتا نہیں۔وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کے بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں، وہ معاشرے کا اصل آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ باتیں بتاتے ہیں جو شاید ہم سننا نہ چاہیں، لیکن ان باتوں سے ہم بہتر انسان بن سکتے ہیں۔یہ لوگ وفادار دوست، سچے رشتہ دار، اور مخلص ساتھی ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں وقتی طور پر تلخ ضرور لگتی ہیں، لیکن ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد دل آزاری نہیں، بلکہ اصلاح ہوتا ہے۔

    زندگی ایک سٹیج نہیں کہ جہاں ہر وقت اداکاری کی جائے۔ اگر ہم اپنی اصلیت چھوڑ کر دوسروں کی پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے لگیں، تو ہم اپنی انفرادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے کہ ہم کیسا انسان بننا چاہتے ہیں،وہ جو سب کو خوش کر کے اپنا اصل کھو دے؟یا وہ جو سچ بول کر دلوں میں اپنی جگہ بنائے، چاہے وہ جگہ سب کے دل میں نہ ہو؟”کڑوے ضرور ہیں، مگر منافق نہیں ہیں” یہ جملہ ان تمام لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو سچائی کے راستے پر چلتے ہیں، چاہے وہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔اگر آپ بھی سچ بولتے ہیں، اپنی بات صاف طریقے سے رکھتے ہیں، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے خود کو نہیں بدلتے ، تو آپ اکیلے نہیں، یہ دنیا شاید آپ کو فوری طور پر نہ سمجھے، لیکن وقت گواہی دے گا کہ سچ کی جڑیں گہری ہوتی ہیں، اور منافقت کی عمارت دیرپا نہیں ہوتی۔

  • پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب ڈوب رہا ہے،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    پنجاب یعنی پانچ دلیر دریاؤں کی وسیع القلب سرزمین ۔۔۔ بہادر سپوتوں کی سرسبز و شاداب سرزمین جس کے پکی ہوئی فصلوں سے لہلہاتے میدان دریا برد ہو کر آج کسی سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آہ۔۔میرا پنجاب ڈوب رہا ہے!

    ہمارے دیس میں عجیب صورتحال ہے ۔ کہ ہم صرف "ڈھنگ ٹپاؤ” پالیسی پہ چلتے ہیں۔ پہلے سے نہ کوئی تیاری کی جاتی ہے۔ نہ ہی کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ اور جب پانی سر سے گزرنے لگتا ہے۔ تو بھاگ ڈور شروع ہو جاتی ہے۔دنیا میں اس وقت تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان تیزی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار ممالک کی فہرست میں اول درجہ بندی میں شامل ہے۔ امسال بھی پاکستان میں ریکارڈ ساز گرم ترین خشک موسم ء گرما رہا۔ اور جب مون سون کا سیزن شروع ہوا ہے۔ تو پچھلے تمام رکارڈ توڑ رہا ہے۔ PDMA کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سال2025ء میں پچھلے سال کی نسبت 73٪ زیادہ مون سون کی بارشیں ہوئیں ہیں۔ جس سے پیاسے دریا یکدم بپھر گئے۔ اور پنجاب کو شدید ترین جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ پنجاب کو 39 سال بعد ایسی شدید ترین سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے قریباً 1800 سے زائد دیہات زیر آب ہیں۔ اور 15 لاکھ افراد متاثر و بے گھر ہو چکے ہیں۔ جو زرعی املاک و لائیو سٹاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس کا تو ابھی کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ کھڑی فصلیں بہہ چکی ہیں۔ کسانوں کی محنت و جمع پونجی سیلاب کی نظر ہو چکی ہے۔ اور صورتحال مزید بدترین ہو رہی ہے۔ دریائے راوی ، ستلج اور چناب نے لاہور سے ملتان تک پورے پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اب صورتحال یہ ہے۔ کہ شہری علاقوں کو بچانے کے لئیے دریاؤں کے پل اور بند اڑائے جا رہے ہیں۔ جھنگ شہر کو بچانے کے لئیے دریائے چناب کا ریلوے بند اڑایا جا چکا ہے۔ چناب پہ ہی قادر آباد ہیڈ ورکس پل اور ریواز پل کو پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئیے کنٹرولڈ بموں سے توڑا گیا ہے۔ ہر آبی گزرگاہ و دریا میں گنجائش سے زائد پانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ 1939 میں بنائے گئے تریموں میں 8 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی گنجائش ہے۔ جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے اوپر کا ریلہ متوقع ہے۔

    پہلے کے۔پی۔کے میں یکدم سیلابی صورتحال، اب پنجاب میں سیلاب کی تباہی مچی ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد سندھ میں بھی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 50 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ کہ جب زرعی پیداوار کے لئیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو خشک سالی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب بارشیں ہوتی ہیں۔ تو سیلاب سب بہا لے جاتا ہے۔ ہر سال یہی پانی، سیلاب کی صورت تباہی مچا کر سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ جبکہ درست حکمت ء عملی سے اسے زرعی و توانائی کی پیداوار کے لئیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

    مانا کہ آفات قدرتی ہوتی ہیں۔ مگر اپنے عمل کو بھی مدنظر رکھنا لازم ہے۔ یہاں اگر یہ کہا جائے کہ بھارت نے پانی جان بوجھ کے چھوڑا ۔ تو یہ ایک بے جا منطق ہو گی۔ کیونکہ دریاؤں کے قدرتی راستے ہوتے ہیں۔ انہی راستوں سے گزر کے اضافی پانی سمندر برد ہوتا ہے۔پنجاب میں سیلابی تباہی کی ایک بڑی وجہ آبی گزرگاہوں پہ تجاوزات بھی بنی ہیں۔ جو عام لوگوں نے نہیں بلکہ بڑے نام اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے تو دریاؤں کے کناروں پہ موجود جنگلات کو ختم کیا گیا۔ پھر دریائی کی زمین پہ ہی قبضہ کر کے بیچ دی گئی۔ دریا چند سال خشک کیا ہوئے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ بس اب یہ چھوٹے موٹے چھپڑ (جوہر) بن جائیں گے۔ سو اس کی زمین دل فریب ناموں کے ساتھ رہائشی سوسائٹیاں بنا کر اندھا دھن فروخت کرنی شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ دریائی گزرگاہوں پہ باقاعدہ رہائشی آبادیاں بنا کر ایک طرح سے کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔ اس کی واضح مثال لاہور میں راوی کی زمین پہ بنائی گئی کالونیاں ہیں۔ مقام ء افسوس تو یہ ہے ۔ کہ ان سوسائٹیوں کے مالکان میں کئی سیاستدان اور حکومتی نام آتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس عمل سے لاعلم نہ تھی، نہ ہے۔ چونکہ نام اپنے ہی نکلتے ہیں ۔ تو ہر حکومت خاموش ہے۔
    یہ لوگ یہ اصول بھول گئے ۔ کہ دریا اپنا راستہ نہیں بھولا کرتا۔ وہ واپس پلٹتا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ دریاوں نے اپنا حق واپس لے لیا۔ اور اب ان رہائشی سوسائٹیوں کے مالکان غائب ہیں۔ یا پھر ان سوسائٹیوں کو بچانے کے لئیے پانی کا رخ موڑا جا رہا ہے جس سے اس پاس کے گاؤں تباہ ہو رہے ہیں۔

    ناقص پالیسیوں کا المیہ یہ ہے ۔کہ ایک طرف ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے ۔ تو دوسری طرف پاکستان کو پانی کی قلت کا شدید ترین خطرہ لاحق ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان کو 2030ء تک پانی کی قلت کا شکار ملک (واٹر اسیکئر اسٹیٹ) قرار دیئے جانے کا امکان ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اپنی بارش کا صرف 10٪ حصہ محفوظ کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں پانی محفوظ کرنے کی گنجائش قریباً 30 دن ہے۔ جبکہ عالمی قوانین کے مطابق کسی ملک کے پاس کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئیے۔
    پاکستان میں ذخیرہ شدہ پانی سالانہ دریا کے بہاؤ کا صرف 15% ہے، جو کہ عالمی اوسط 40% کے بالکل برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان کو 10 ڈیمز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر یہ ڈیمز موجود ہوں۔ تو دریائی پانی کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ جسے زرعی و بجلی بنانے کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور سیلابی تباہی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
    اس وقت 5 ڈیمز زیر ء تعمیر ہیں۔ نئے ڈیمز کی تعمیر میں تمام صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم پہ اعتماد میں لے کے فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز دریا کی زمین پہ قائم تجاوزات کو ختم کیا جائے۔ اور جو اس ناجائز کام میں ملوث ہے ۔ اس کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔یہ وقت سیاست اور مصلحت کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا ہے۔ اگر آج پانی بچانے اور سیلابی تباہی کو روکنے کے لئیے فیصلہ کن اقدام نہ اٹھائے۔ تو ملک خشک سالی میں پیاسا اور بارش میں ڈوبتا رہے گا۔ صورتحال کوئی بھی ہو پس غریب طبقہ جاتا ہے۔
    ؂
    محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
    ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے!!

    اللہ رب العزت میرے وطن کے ہر باسی کی حفاظت فرمائے۔
    آمین.

  • بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    تینوں ممالک کا اتحاد ہوگیا تو اسلام آباد کو خارجہ پالیسی بدلنا ہوگی
    خلیجی ممالک ،ترکیہ سے تعلقات مضبوط،چین سے روایتی دوستی نبھانا ہوگی
    ملکی مفادات،معیشت اور دفاع کو سامنے رکھنا ہوگا،آئی ایم ایف کا اعتماد بھی ضروری
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    اگر چین اور بھارت واقعی زیادہ قریب آجاتے ہیں جو تاریخی سرحدی تنازعات کی وجہ سے آسان نہیں، تو یہ بڑی تبدیلی ہوگی جبکہ چین پاکستان کے ساتھ بھی کھڑا ہے تاہم اگر بھارت اور چین کے تعلقات بہتر ہوجائیں ، وہ روس کے ساتھ بھی ایک بلاک میں آجائیں تو پاکستان کے لئے سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے،کیوں کہ روایتی اتحادی چین اور کبھی کبھار روس بھارت سے بھی تعلقات مضبوط کریں گے، ایسے منظر نامے میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ توازن کے ساتھ چلانا ہوگا، مثلاً خلیجی ممالک میں ترکیہ حتی ٰکہ مغربی طاقتوں سے تعلقات کو بہتر کرنا، امریکہ کے لئے یہ صورت حال چیلنج ہوگی کیونکہ اگر روس، چین، بھارت ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں تو یہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کو مضبوط کرے گا ، اگر بھارت چین کے قریب ہو جائے تو یہ امریکی پالیسی کو جھٹکا لگے گا، اگر ایسا ہوا تو پھر امریکہ پاکستان اور دیگر خطے کے ممالک کو زیادہ اہمیت دینے لگے گا تاکہ وہ چین، روس، بھارت بلاک کے مقابلے میں توازن قائم کرے، تاہم چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک بڑا چیلنج ہے، عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق چین اور بھارت کا سرحدی تنازع ان کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روک سکتا ہے، اگر چین روس اور بھارت واقعی ایک بلاک بن جاتے ہیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اُس کا قریبی اتحادی چین بھارت سے بھی قریبی تعلق سمجھے گا، جس سے پاکستان کو اپنی پالیسی میں نئے توازن کی ضرورت پڑے گی، امریکہ کے لئے یہ ایک بڑی جیو پوٹینیکل شکست ہوگی،کیوں کہ بھارت کو وہ چین کے لئے استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت ہوتا رہا ہے، عالمی بدلتی ہوتی صورت حال کے پیش نظر ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ قومی سیاسی جماعتوں کو ملکی مفادات، جن میں دفاع، معیشت کو سامنے رکھتے ہوئے کانفرنس کرنی چاہیے، پاکستان کی ایسی پالیسی ہونی چاہیے آئی ایم ایف سپورٹ جاری رہے۔ چینی سرمایہ کاری برقرار رہے، پاکستان کی ایک عالمی بلاک تک محدود نہ ہو، چین کے عسکری و اقتصادی تعلقات برقرار رکھے جائیں، امریکہ اور نیٹو کے کے ساتھ تعلقات و دیگر امور جاری رہیں ، نئی بلاک پالیسی سے بچتے ہوئے اپنی پالیسی ایسے رکھے جس سے ملکی مفادات برقرار رہیں

  • کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟

    کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟

    کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق "انڈونیشیا میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے نزدیک جمع ہو کر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا، پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی آگ لگا دی۔ آگ لگنے کے باعث عمارت میں پھنسے کئی مظاہرین نے کود کر جان بچائی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہڈیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حکام نے کشیدگی والے علاقوں میں فوج طلب کر لی۔”

    ان دنوں جب عالمی سطح پر اقتصادی عدم مساوات اور سیاسی اشرافیہ کی خود غرضی زیر بحث ہے، انڈونیشیا اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ انڈونیشیا میں ارکان پارلیمنٹ کے ہاؤسنگ الاؤنس عوام کو سڑکوں پر لے آیا، جس کے نتیجے میں پرتشدد احتجاج ہوئے اور پارلیمنٹ کی عمارتیں نذر آتش ہوئیں۔ دوسری طرف پاکستان میں پارلیمنٹیرینز، وزراء، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز کی تنخواہوں میں اضافے پر تنقید تو ہوئی، لیکن ابھی تک کوئی بڑا عوامی احتجاج نہیں دیکھا گیا۔ یہ اضافے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، جہاں شہر اور دیہات تباہ ہو چکے، لاکھوں لوگوں کا سب کچھ دریاؤں کی نذر ہو گیا اور قومی ہنگامی حالت ہے۔آئیےانڈونیشیا اور پاکستان کی مراعات کا تقابلی جائزہ پیش لینے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی اشرافیہ نے یہ ناجائز اضافے رضاکارانہ طور پر واپس کیے، اور کیا وہ عوام کو انڈونیشیا کی طرح خطرناک احتجاج کی طرف نہیں دھکیل رہے ہیں۔

    انڈونیشیا میں 2024 میں ارکان پارلیمنٹ (ڈی پی آر) کے لیے ہاؤسنگ الاؤنس متعارف کرایا گیا جو ماہانہ 50 ملین روپیہ (تقریباً 3,057 امریکی ڈالر یا 8.5 لاکھ پاکستانی روپے) تھا۔ یہ الاؤنس جکارتہ کی کم سے کم اجرت (5.4 ملین روپیہ) سے دس گنا زیادہ تھا اور ارکان کی مجموعی آمدنی 100 ملین روپیہ سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ پارلیمنٹ کی رہائشی کمپلیکس بند ہونے کی وجہ سے کیا گیا لیکن اس کا اعلان اگست 2025 میں ایک حساس وقت پر ہوا، جب ملک اقتصادی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری سے نبردآزما ہورہا تھا۔ صدر پرابوو سبیانٹو کی نئی حکومت کفایت شعاری کی پالیسیوں پر زور دے رہی تھی، لیکن یہ الاؤنس عوام کو اشرافیہ کی خود غرضی کا ثبوت لگا۔ اس اعلان نے عوامی غم و غصے کو بھڑکا دیا۔ 25 اگست 2025 کو جکارتہ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر طلبہ، مزدوروں اور ایکٹوسٹس نے احتجاج شروع کیا، جو جلد ہی ملک گیر تحریک "انڈونیشیا گیلیپ” کا حصہ بن گیا۔ 28 اگست کو پولیس کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور افان کرنیاوان کو کچل دیا، جس کی ہلاکت نے احتجاج کو پرتشدد بنا دیا۔ مظاہرین نے مکاسر، سورابایا، بینڈنگ اور دیگر شہروں میں علاقائی پارلیمنٹ کی عمارتوں کو آگ لگائی، جس میں 6 ہلاکتیں اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، لیکن عوامی دباؤ نے بالآخر 31 اگست کو صدر پرابوو کو مجبور کیا کہ وہ الاؤنس واپس لیں اور غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائیں۔ یہ واقعات انڈونیشیا میں عوامی طاقت اور سیاسی جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال زیادہ پیچیدہ اور افسوسناک ہے۔ 2024 اور 2025 میں پارلیمنٹیرینز (ایم این اے اور سینیٹرز)، وزراء، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہ 218,000 روپے سے بڑھ کر 519,000 روپے (138 فیصد اضافہ) ہو گئی، جو "ممبرز آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز (ترمیمی) بل 2025” کے ذریعے جنوری 2025 سے نافذ ہوا۔ وفاقی وزراء کی تنخواہ میں 159 فیصد اور وزراء مملکت کی 188 فیصد اضافہ ہوا، جو سب 519,000 روپے پر آ گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی تنخواہ 205,000 سے 1.3 ملین روپے (535 فیصد اضافہ) ہو گئی، جو مئی 2025 کے نوٹیفکیشن سے ہوا۔ ججز کے الاؤنسز بھی بڑھائے گئے، ہائی کورٹ ججز کا ہاؤس رینٹ الاؤنس 65,000 سے 350,000 روپے اور سپریئر جوڈیشل الاؤنس 342,431 سے 1,090,000 روپے، جبکہ سپریم کورٹ ججز کے الاؤنسز میں بھی اسی طرح اضافہ نومبر 2024 میں ہوا۔ یہ اضافے وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشنز اور صدر کی منظوری سے کیے گئے۔

    یہ اضافے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی 20 فیصد سے زیادہ ہے اور غربت بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں گذشتہ ماہ یعنی اگست 2025 سے پاکستان بدترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ کے پی کے میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ پلک جھپکتے ہی سب کچھ تباہ کردیا،پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں میں ستلج، چناب اور راوی دریاؤں کی بلند سطح نے تباہی مچائی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1400 دیہات زیر آب آئے، 849 ہلاکتیں اور 1130 زخمی ہوئےجبکہ 1 ملین سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ شہر جیسے لاہور ،سیالکوٹ برباد ہو چکے، زرعی اراضی تباہ اور لوگوں کے گھر، مویشی اور فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ یہ مون سون سے شروع ہونے والا سیلاب ستمبر 10 تک جاری رہ سکتا ہے، جو پاکستان کی آب و ہوا کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

    انڈونیشیا اور پاکستان کی مراعات کی کہانیوں میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی بحران کے دوران مراعات بڑھائیں، انڈونیشیا میں ہاؤسنگ الاؤنس (50 ملین روپیہ، کم سے کم اجرت کا 10 گنا) اور پاکستان میں تنخواہ/الاؤنس (519,000 روپے تک، کم سے کم اجرت کا 20 گنا اور اسپیکر کی 1.3 ملین روپے)۔ دونوں میں اضافے عوامی تنقید کا باعث بنے، لیکن ردعمل میں فرق واضح ہے۔ انڈونیشیا میں عوام نے فوری اور پرتشدد احتجاج کیا، جس نے حکومت کو الاؤنس واپس لینے پر مجبور کیا۔ پاکستان میں اگرچہ سیاسی حلقوں (جیسے پی ایم ایل-این کے اندر) سے تنقید ہوئی، لیکن عوامی احتجاج ابھی تک محدود ہے۔ اہم بات یہ کہ پاکستانی اشرافیہ نے اضافے رضاکارانہ طور پر واپس نہیں کیے، نہ ہی مفت بجلی، گیس اور دیگر مراعات ترک کیں، جو غریب کے ٹیکس سے آتی ہیں۔

    پاکستان کی موجودہ صورتحال خطرناک ہے۔ سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا، جبکہ اشرافیہ کی مراعات عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہیں۔ انڈونیشیا میں ایک ڈرائیور کی ہلاکت نے احتجاج کو بھڑکایااور پاکستان میں 849 ہلاکتیں اور لاکھوں افراد کی بے گھری اس سے بڑی وجہ فراہم کر سکتی ہے۔ اگر پارلیمنٹیرینز، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز نے اضافے واپس نہ کیے تو عوام انڈونیشیا کی طرح سڑکوں پر آ سکتا ہے۔ مفت مراعات جیسے بجلی، گیس اور ٹریول، جو غریب کے خون پسینے سے ادا ہوتے ہیں، اشرافیہ کی بے ضمیری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    انڈونیشیا سے سبق سیکھتے ہوئے، پاکستانی اشرافیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تنخواہوں اور الاؤنسز کا اضافہ واپس لے اور مفت مراعات ترک کر کے یہ وسائل سیلاب زدگان کی بحالی پر خرچ کرے۔ انڈونیشیا نے عوامی دباؤ سے اصلاحات کیں اور پاکستان کو بھی اسی راستے پر چلنا ہو گا، ورنہ عوامی غم و غصہ پرتشدد احتجاج کی شکل لے سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی کلاس عوام کی تکلیف کو سمجھے، ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ خاموشی ہمیشہ نہیں رہتی۔

  • انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    سنہ 2005ء میں زلزلہ آیا تو پاکستان بھر سے خدمت خلق کے پروانے دیوانہ وار مشکل ترین راستوں کو عبور کرتے ، جہاں تک گاڑیوں سے رسائی ممکن ہوتی سفر جاری رہتا اور جہاں گاڑیاں ساتھ چلنے سے انکاری ہوجاتیں وہاں یہ محبان قوم و ملت قدموں کا سہارا لیتے اور سامان کو کندھوں پر ، گدھوں اور خچروں پر لاد کر دوردراز کے علاقوں میں پہنچ کر ریلیف اور خدمت کے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔خدمت خلق میں ایسے تجربہ کار ہوئے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھی خدمت انسانیت سے پیچھے نہ ہٹ سکے ۔معین راہی کی غزل کا کیا خوب صورت مطلع ہے کہ
    خاک کو کندن بنانا آگیا
    وقت کی بھٹی میں تپنا آگیا

    اورپھر آج جب بارشوں نے اپنا زور دکھایا ، بدلتے موسم نے عندیہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر اس خطہ پر بھی شدید پڑے گا اور گزشتہ سارے ریکارڈ ایک طرح سے بارشوں اور سیلاب کے ٹوٹ جائیں گے تو یہی خدمت گار پھر سے میدان میں موجودہیں۔ میدان سیاست میں دو جماعتیں ایسی ہیں جنھوں نے خدمت کے میدان میں اپنا آپ منوایا ہے ایک جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن اور دوسری پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی خدمت خلق ہے ۔گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواہ کے علاقوں بونیر،باجوڑ، مینگورہ،شانگلہ اور دیگر علاقوں میں سیلاب اپنی تباہی کے ساتھ ساتھ بھاری پتھر بھی لے آیااور یہ پتھر اس قدر وزنی ہیں کہ بھاری مشینری سے ہی انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق شاید یہ ابھی ممکن نہیں ہوسکا کیوں کہ راستوں کی بندش کے ساتھ ساتھ بارش کی گاہے گاہے آمد نے اسے مشکل بنادیاہے ۔ جب دیگرجماعتیں حتٰی کہ حکمران قیادت بھی جمع تفریق میں لگی ہوئی تھی یہ الخدمت فائونڈیشن (جماعت اسلامی )اور خدمت خلق (پاکستان مرکزی مسلم لیگ) والے اپنے اپنے علاقوں سے نکلے اور تباہ شدہ راستوں سے ہوتے ہوئے بونیر، باجوڑ، شانگلہ اور مینگورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاپہنچے ۔

    دامے درمے سخنے جو ہوسکا پہلے ہاتھ ساتھ لے گئے ، زخمیوں کو نکالااورمرہم لگایا، لاشوں کو نکالااور دفنایا،لواحقین کو سینے سے لگایا ، بھوکوں کو کھانا کھلایا اور پیاسوں کے لیے پانی کا بندوبست کیا۔ پھر جب ذرا وقت تھما تو محسوس ہوا کہ وسائل کم ہے اور مسائل زیادہ ہیں ۔پھر تو پاکستان بھر نے ریلیف کے کام میں اپنا آپ کھپا دیا۔راشن اس قدر پہنچا کہ خدمت میں مصروف تنظیموں کو کہنا پڑا کہ خوراک کی نہیں اب بھاری مشینری، خیموں اور ادویات کی ضرورت ہے تاکہ قیام کا عارضی بندوبست کیا جاسکے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر تنظیموں کی ماہر اور تجربہ کار میڈیکل ٹیموں نے میڈیکل کیمپ لگانے شروع کیے اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پھیلتی وبائوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔ کراچی سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ٹیم فیصل ندیم اور ندیم اعوان کی معیت میں پہنچی اور خدمت میں جُت گئی اور ان کے خیبرپختونخواہ میں موجودگی کے وقت میں ہی کراچی میں بارش نے اپنا زور دکھا کر کراچی کو پانی میں ڈبو دیا لیکن یہ خدمت کے شیدائی اپنے گھروں کو پانی میں ڈوبا ہوا جان کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے ۔پاکستان بھر سے امدادی قافلے ابھی بھی جانب منزل رواں دواں ہیں کہ مسلمان کا شیوہ نہیں کہ اپنے بھائی کو تکلیف میں اکیلا چھوڑے۔صرف اہل فیصل آباد کی طرف سے ہی محمد احسن تارڑ جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 1200سے زائد متاثرہ خاندانوں کے راشن پیک ، کپڑے،جوتے ، برتن اور ادویات وغیرہ تقسیم کی ہیں جب کہ اس سے قبل بھی فیصل آبادی ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کی معیت میں خشک راشن جس میں چاول ، چینی ، اچار، دالیں ،چنے ، چائے ، گھی ، آٹا اور مچھردانیاں تقسیم کرچکے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی دیگر شہروں کی ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت مصروف ہیں ۔

    ابھی اہل پاکستان کے پی کے میں آئی اس آفت سے نبرد آزما تھے کہ راوی، ستلج اور چناب بپھر چکے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ندی نالوں میں بھی جولانی لے آئے۔ شہراقبال مسلسل بارش کے باعث ڈوبا تو شہرسے گزرتے قدیمی نالوں میں پانی نے اپنا آپ اس طرح سے دکھایا کہ تادم تحریر سیالکوٹ سیلاب زدہ ہے ، شکرگڑھ ، نارووال ، وزیرآباف اور پسرور بھی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور رہائشی گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ریسکیو1122، پولیس اور دیگر حکومتی ادارے بھی اپنے اقدامات میں مصروف ہیں اور مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بھی ان اداروں کے ساتھ مل کر خدمت میں مصروف ہیں۔ دریائے چناب میں تاریخ کا بلند ترین سیلاب ہے جو اپنے ساتھ بے شمار مصائب ومشکلات بھی لارہا ہے۔ بارشوں کے لمبے دورانیے نے ایک مشکل صورت حال پیدا کی ہوئی تھی اور اس صورتحال میںبھارتی آبی جارحیت نے مزید تباہی مچائی۔اس پانی کی غیر متوقع اور بے پناہ مقدار نے فصلوں کو تباہ کر دیا اور ہزاروں خاندانوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیاہے۔

    یہ سیلاب ہمارے لیے ایک سنگین سبق ہے اگر ہم سمجھ سکیں کہ ہمیں آئندہ اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ڈیمز کی تعمیر، پانی کے ذخائر میں اضافہ اور دریااؤں کے اطراف میں مضبوط حفاظتی دیواریں بنانا ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ہی جدیدearly warning systemکا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو وقت پر آگاہ کیا جا سکے کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ سیلاب اور اسی جیسی دیگر آفات اب کئی سال تک ہمارے ساتھ رہیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرے تاکہ پاکستان ان قدرتی آفات سے کم سے کم متاثر ہو۔

  • سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں لینڈ مافیا کا طاقتور ہونا ایک پیچیدہ مسلہ ہے جس کے پیچھے کئی تاریخی سماجی معاشی اور سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ اس کے زمین کا ریکارڈ (پٹواری سسٹم) پرانا ناقص اور آسانی سے چھیڑ چھاڑ کے قابل ہے۔ عدالتوں میں زمین کے مقدمات دہائیوں تک چلتے ہیں جس کا فائدہ لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی اکثر سیاسی دباؤ یا مالی فائدے کے تحت ان مافیاز کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ بہت سے لینڈ مافیا گروہ سیاسی جماعتوں اور بااثر لوگوں کے ساتھ براہ راست جڑے ہوتے ہیں سیاستدان ان کو تحفظ دیتے ہیں اور بدلے میں لینڈ مافیا انتخابی سپورٹ یا پیسہ فراہم کرتا ہے۔ شہروں میں رہائشی زمین کی مانگ بہت زیادہ ہے لینڈ مافیا خالی زمینوں پر قبضہ کر کے یا جعلی ہاوسنگ سکیمیں بنا کر کروڑوں روپے کماتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سستی رہائش کے منصوبے نہ ہونے کے باعث لوگ ان مافیاز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ رجسٹریشن۔ ریونیو۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری وغیرہ میں کرپشن عام جعلی کاغذات ڈبل فروخت اور جعلی سوسائٹیز بنا کر عام لوگوں کو لوٹنا آسان ہو گیا ہے۔ لینڈ مافیا کے پاس اپنے گن مین اور غنڈے ہوتے ہیں جو زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ عام ادمی ان کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا اور اکثر انصاف کے حصول کے بجائے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذرائع میں جائیداد اور زمین آتی ہے سٹے بازی اور بلیک منی زمین میں لگائی جاتی ہے اس سے مافیا کو مزید طاقت ملتی ہے۔ لینڈ مافیا ملک میں اس قدر پاور فل ہوا ہے کیونکہ ریاستی ادارے کمزور ہیں سیاسی پشت پناہی موجود ہے۔ عوام کے لیے ہاوسنگ کے متبادل محدود ہیں اور کرپشن نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ حالیہ لاہور کی راوی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک میں ایک ملک ریاض نہیں کتنے ہی ملک ریاض پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں پائے جاتے ہیں۔ ان لینڈ مافیا نے بڑے بڑے سیاست دانوں بیوروکریٹس اعلی پولیس افسران اور دیگر کو نہ صرف قیمتی ترین پلاٹوں سے نوازا بلکہ ان میں کئی ایسے ہیں جن کو بڑے بڑے فارم ہاؤس تیار کر کے دیے ہیں۔ اس کے پیچھے لینڈ مافیا کا مقصد صرف ان لوگوں کی زبان بندی ہے تاکہ وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکیں۔ ذمہ داران ریاست کو چاہیے کہ اب اس لینڈ مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کرے جسے ریاست کیساتھ محبت ہو نہ کہ ان مافیا کے ساتھ۔جو حالیہ ایشو راوی ہاؤسنگ سوسائٹی والا سیلاب کی وجہ سے سامنے آیا جس کے باعث راوی کے اندر اور باہر کی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں اس کے مین کردار 2019 اور 2020 میں عمران خان کی حکومت تھی اور سابق وزیراعلی پرویز الہی اور ان کا بیٹا مونس الہی ان کرداروں نے ان کو اجازت دی تھی بعد ازاں جب حکومت چینج ہوئی تو حمزہ شہباز نے آ کر اس پروجیکٹ کو روکا اور غلط قرار دیا اب سوال یہ ہے کہ جن کرداروں نے کروڑوں اربوں روپے کھائے اور مفادات اٹھائے ان کو نظر انداز کر دیا گیا اور سی ایم مریم نواز جن کی حکومت کو ابھی ایک سال ہوا ہے ان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس تمام معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں اور جنہوں نے مفادات اٹھائے کروڑوں اربوں روپے اس ہاوسنگ سکیم کی مد میں لیے ان کو قوم کے سامنے لایا جائے

  • ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا زہر، عدم برداشت

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا زہر، عدم برداشت

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا زہر، عدم برداشت
    از قلم: جواد اکبر بھٹی (چراغِ آگہی)

    ہمارا معاشرہ ایک کرب ناک دور سے گزر رہا ہے، جہاں عدم برداشت ہماری اجتماعی زندگی میں زہر کی طرح سرایت کر چکی ہے۔ یہ صرف ایک نظری بحث نہیں بلکہ ہمارے سامنے رونما ہونے والے واقعات اس حقیقت کو کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں۔ حال ہی میں شرقپور میں ہونے والا پرتشدد واقعہ ہو یا اس سے پہلے راؤنڈ والا سانحہ، جس میں معمولی بات پر دو بھائیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، یہ سب ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟

    دین کی تعلیمات اور ہمارا عمل
    ہمارا دینِ اسلام ہمیں صبر، درگزر اور تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    "وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”
    (آل عمران: 134)

    یعنی، "اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ پی جاتے ہیں، دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں اور نیکی کرتے ہیں۔”

    اسی طرح رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔”

    افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے دین کی اس بنیادی تعلیم کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

    عدم برداشت کے اثرات
    عدم برداشت نے ہمارے گھروں، گلیوں اور اداروں کو بداعتمادی اور خوف میں لپیٹ لیا ہے۔ اختلافِ رائے اب برداشت نہیں کیا جاتا؛ معمولی تنازع لمحوں میں خونی جھگڑے میں بدل جاتا ہے۔ رشتے کمزور پڑ گئے ہیں اور اجتماعی زندگی خوف کی فضا میں جکڑ چکی ہے۔

    ہمارے ملک کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس عدم برداشت کا سب سے بڑا نقصان ہماری نوجوان نسل اٹھا رہی ہے۔ وہ دیکھ رہی ہے کہ مسئلے کا حل دلیل یا مکالمہ نہیں بلکہ طاقت اور تشدد ہے۔ جب بچہ اپنے اردگرد ہر جگہ غصہ، جھگڑا اور تشدد دیکھے گا تو اس کے ذہن میں یہی بیٹھے گا کہ یہی اصل طرزِ زندگی ہے۔ یہ وہ خطرہ ہے جو ہمارے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل رہا ہے۔

    حل اور عملی اقدامات
    اب وقت ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر اس ناسور کے خلاف کھڑے ہوں اور اس کا مقابلہ کریں۔

    تعلیمی اداروں میں اخلاقیات اور رواداری کے مضامین کو اہمیت دی جائے۔

    علماء کرام اپنے خطبات میں لوگوں کو بھائی چارے اور درگزر کا درس دیں۔

    میڈیا ایسے پروگرامز پیش کرے جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔

    راقم الحروف، جواد اکبر بھٹی، ہمیشہ اس موضوع کو ترجیحی بنیاد پر فکر مند رہتا ہے اور ہر محفل میں اس کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ اگر ہم نے ابھی بھی عدم برداشت کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

    ہمارا عہد
    آئیے عہد کریں کہ ہم "برداشت” کو اپنی پہچان بنائیں گے اور اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے سلجھائیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔

  • سیلاب اور بارشوں سے  تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب اور بارشوں سے تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے،غیرمنصوبہ بندی ہمیں بڑے سانحہ میں مبتلا کرسکتی
    کلائوڈ برسٹ عام ہوگیا،ناگہانی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے ازلی اقدامات ضروری
    پاکستانی حکمت عملی کامیاب،مودی پالیسیوں سے بھارت تقسیم ،پڑوسی ممالک نے بھی منہ موڑ لیا
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    بھارت، پاکستان اس وقت شدید بارش اور سیلاب کی زد میں ہیں پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جاری ہے، گلگت ، بلتستان اور لداخ کے علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے دریائوں میں اچانک پانی کا بہائو بڑھ گیا ، اس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ساتھ انسانی غفلت بھی شامل ہے، جنگلات کی کٹائی ، غیر منصوبہ بندی ، رہائشی اور تجارتی تعمیرات، بارش کے قدرتی بہائو کو روک دیتی ہیں جس سے سیلابی شکل صورتحال پیدا ہوتی ہے، سائنسدانوں کے مطابق بادل کا پھٹنا اس عمل کو کہتے ہیں جب بہت کم وقت میں محدود دائرے میں اچانک شدید بارش ہو اگر کسی علاقے میں 30-20 مربع کلومیٹر کے دائرے میں ایک گھنٹے میں 100ملی میٹر بارش ہو تو اسے بادل کا پھٹنا کہا جا سکتا ہے، ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے طویل المدتی اقدامات کئے جائیں، ایسی صورتحال اس وقت پنجاب ، کے پی کے ،صوبہ سندھ اور دیگرجگہوں پر دیکھی جا رہی ہے ایک دوسرے پر تیر برسانے کے بجائے غور و فکر کیا جائے، ایک دوسرے کی تذلیل اور تحقیر کے سلسلے روکے جائیں اور خود احتسابی کی جائے، عملی اقدامات کئے جائیں، بھارت ایک طرف سیلاب کی زد میں ہے تو دوسری طرف مودی کی ناکام پالیسیوں اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے امریکہ اور چین دونوں ممالک سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، ٹرمپ کے اقدامات سے مایوس مودی نے چین کا رخ کیا ہے یاد رکھیئے! چین مودی کی پرانی باتوں اور پالیسیوں اور فیصلوں کو بھولا نہیں، مودی کا داخلی قوم پرستی کا بیانہ، پاکستان کے خلاف رویہ کشمیر کو واپس لینے کی دھمکیاں، آرٹیکل 370 جیسے اقدامات نے دشمنی کو بڑھایا مودی کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی بھارت سے منہ موڑ لیا ہے، بھارت کے داخلی صورتحال بھی بگڑ چکی ہے ہندوتوا مودی پالیسی نے ہندوستان کو بانٹ دیا ہے بھارت پر عالمی اعتماد کم ہو رہا ہے، مودی پالیسیوں سے بھارت داخلی تقسیم ہونے جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارتی حکمت عملی سے آج پاکستان کو عالمی سطح پر وہ مقام حاصل ہے جس کی قوم خواہش کرتی تھی۔

  • سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان ایک بار پھر قدرتی آفت کی زد میں ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں، تباہ کن سیلابوں اور کلائوڈ برسٹ نے نظامِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے گھر بار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان کیلئے نہایت ہی مشکل وقت ہے ۔ایک طرف معاشی مشکلات ہیں دوسری طرف دہشت گردی کا عفریت ہے جس نے پاکستان کے دو صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ایسے حالات میں تباہ کن سیلاب نے حکومت اور عوام کی مشکلات میں بے حد اضافہ کردیا ہے ۔موسلا دھار بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید تباہی ہوئی ہے ۔ درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، سینکڑوں گھر، مکانات اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا، کھیت کھلیان بہہ گئے اور ہزاروں خاندان بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔تباہی کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جو دیگر صوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان کیلئے اس سے نمٹنا مشکل ہے ۔ ایسے نازک لمحات میں دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں کی طرف سے مدد اور ہمدردی کے پیغامات موصول ہوئے۔ لیکن عملی قدم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب نے ہی اٹھایا ہے ۔

    سب سے پہلے سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خیبر پختونخوا کے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے متاثرین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سلسلہ میں باقاعدہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو خط لکھا ۔ یہ پیغام اور خط محض سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ دلی محبت اور بھائی چارے کا مظہر تھا۔

    بعد ازاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر سعودی عرب کے امدادی ادارے "کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر” نے فوری طور پر پاکستان میں ریلیف آپریشن شروع کیا اور متاثرین کیلئے امدادی سامان روانہ کیاجو دس ہزار شیلٹر کٹس، دس ہزار فوڈ پیکجز ، سولر پینل اور کچن سیٹس پر مشتمل ہے ۔ شیلٹر کٹس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے مکمل رہائشی سامان شامل ہے جبکہ فوڈ کٹس میں روزمرہ ضرورت کی تمام اشیائے خورونوش موجود ہیں جو متاثرہ گھرانوں کے لیے وافر انتظام فراہم کریں گی۔ہر فوڈ پیکج کا وزن پچانوے کلوگرام ہے، جس میں آٹا، چاول، دالیں، چینی، چائے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ یہ پیکجز ستر ہزار سے زائد متاثرین کو ایک ماہ تک خوراک فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ شیلٹر کٹس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمے، بستر، کمبل اور دیگر بنیادی رہائشی ضروریات شامل ہیں تاکہ بے گھر افراد کو فوری سہارا مل سکے۔ امدادی سامان میں سولر پلیٹ اور بلب بھی شامل ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں عارضی طور پر بجلی کا متبادل میسر آ سکے۔ یہ امداد مجموعی طور پر 10 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی ہے ۔

    کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے کنٹری ڈائریکٹر عبد اللہ البراک کی نگرانی میں امدادی سامان پاکستانی حکام کے سپرد کیا گیا۔اس مقصد کی خاطر اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں ایک باوقار تقریب ہوئی جس میں سعودی عرب کے سفیر جناب نواف بن سعید المالکی اور مشیر برائے الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ نے خصوصی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی نے کہا یہ امدادی سامان سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر روانہ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ بارشوں اور کلائو ڈ برسٹ کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی تباہ کاریوں پر سعودی قیادت کو گہرا افسوس ہے اور اس مشکل گھڑی میں سعودی عوام اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہے۔انھوں نے کہا یہ امداد صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی بھی ہے۔ سعودی عرب مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت تعاون جاری رکھے گا تاکہ متاثرہ خاندان جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔اس موقع پررانا ثنا ء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔
    پاکستانی عوام نے بھی سعودی عرب کی اس بروقت مدد پر نہایت مثبت ردعمل دیا۔ سعودی قیادت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان وصول کرنے والے متاثرین نے ہاتھ اٹھا کر سعودی عرب کے لیے دعائیں کیں۔

    اگر ہم اس پورے واقعے کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر تعلقات محض سیاسی و تجارتی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے بلکہ حقیقی تعلقات وہی ہوتے ہیں جو دکھ درد میں ساتھ دینے سے پروان چڑھتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے امداد صرف ایک وقتی سہولت نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاک سعودی تعلقات وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ نے پاکستانی عوام کو شدید آزمائش میں ڈالامگر ان لمحات میں سعودی عرب کی ہمدردیاں اور عملی امداد ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ثابت ہوئیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے پیغامات نے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے، کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی امداد نے متاثرین کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی، اور سعودی سفیر کے وعدوں نے امید کی نئی کرن روشن کی۔یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ریاستوں کے تعلقات نہیں بلکہ دو بھائیوں کے رشتے کی مانند ہیں۔ یہ رشتہ اسلامی اخوت، قربانی، اعتماد اور محبت پر مبنی ہے، جو ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہی تعلق آنے والے وقتوں میں امت مسلمہ کی وحدت اور طاقت کی بنیاد بنے گا۔

  • بڑی طاقتوں کیلئے جنگیں مشغلہ بن گئیں،زندگی مہنگی،موت سستی کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑی طاقتوں کیلئے جنگیں مشغلہ بن گئیں،زندگی مہنگی،موت سستی کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا بھر میں امن معاہدے ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے،عملدرآمد ندارد،انصاف مٹ گیا
    خود غرضی،لالچ مقبول ٹھہرے،وسائل،تیل وگیس اور معدنیات کے نام پر بدامنی جاری
    غزہ میں ایک روٹی کی قیمت موت،مجبور فلسطینی روز ذبح ہورہے،دنیا اندھی ،ذرا نہیں پورا سوچیے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    دنیا بھر میں امن معاہدے ہو رہے ہیں اور ہوتے رہے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟ یاد رکھیے امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف رحم اور مساوات سے آتا ہے،جب تک انسان اپنی خود غرضی، لالچ ،طاقت کی ہوس کو قابو میں نہیں لاتا ،جنگیں اور ظلم چلتے رہیں گے، بڑی طاقتیں اور بعض حکومتیں اپنے زمینی وسائل، تیل و گیس ،پانی ،معدنیات اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے جنگیں اور تنازعات کو ہوا دیتی ہیں، دنیا میں بھوک افلاس ایک انسانی مسئلہ نہیں ،لڑائیوں کی بڑی وجہ ہے جہاں بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی، وہاں چپقلش اور بد امنی بڑھتی ہے، دنیا کے بڑے ممالک اسلحہ فروخت کر کے اربوں ،کھربوں ڈالر کماتے ہیں، اگر دنیا میں جنگیں ختم ہو جائیں تو یہ کاروبار ختم ہو جائے گا اس لئے وہ امن کی بجائے جنگوں کو زندہ رکھتے ہیں، دنیا میں انسانیت رحم اور انصاف کی قدریں کمزور ہو چکی ہیں، طاقت، پیسہ اور سیاسی فائدوں پر توجہ دی جا رہی ہے، دنیا بھر میں انصاف کے بغیر امن ممکن ہی نہیں طاقتور ممالک کو کمزور ممالک کا استحصال کرنے کے بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے، صرف قانون کافی نہیں انسان کے دل میں بھی رحم اور انسانیت پیدا ہونی چاہیے ،غزہ کو ہی سامنے رکھیں وہاں قبریں روٹی سے زیادہ قریب ہیں،جدید سائنس جدید ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کا جدید میڈیا انقلاب اقوام متحدہ سلامتی کونسل او آئی سی عرب لیگ عالمی طاقتیں مشرق وسطی میں امن قائم کرنے میں اب تک ناکام نظر ارہی ہیں، حیرانگی اس بات پر ہے کہ حیران کن ترقی کے اس دنیا میں غزہ کے معصوم بچوں کے لیے قبریں روٹی سے زیاد زیادہ قریب کیوں ہیں وہاں موت امداد سے زیادہ تیز کیوں ہے۔ اللہ تعالی نے یہ زمین انسانوں کے لیے امن سے رہنے کے لیے بنائی تھی انسانوں نے دنیا میں خوف و ہراس پیدا کیا۔

    دنیا میں جہاں جہاں جنگی ماحول ہے وہاں قبروں میں اضافہ دکھائی دیتا ہے، موت سستی اور روٹی غزہ سمیت دنیا کے جنگی ماحول میں مہنگی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا میں بے گناہ لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں، جن ممالک میں جنگیں ہو رہی ہیں وہاں سے پرندے بھی بھاگنے پر مجبور ہیں، یاد رکھیے دنیا بھر کے انسان مٹی سے بنے ہیں مٹی میں لوٹائے جائیں گے اور دوبارہ اسی مٹی سے نکالے جائیں گے، سوچیے کیا جواب دیں گے اس خالق کو جس نے انسان کو پیدا کیا، ابن آدم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دے گا؟