Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امام عدل و حریت، خلیفہ دوم، امیرالمؤمنین، حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظمؓ تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    امام عدل و حریت، خلیفہ دوم، امیرالمؤمنین، حضرت سیّدنا عمر فاروق اعظمؓ تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    نام: عمر
    کنیت: ابوحفص
    القاب: فاروق اعظم، شھید منبر و محراب، مراد نبیﷺ، سسرمصطفیٰﷺ، امیرالمؤمنین وغیرہ۔۔۔
    والد: خطاب
    والدہ: حنتمہ بنت ھاشم،
    ولادت: واقعہ فیل کے 13 برس بعد،
    قبول اسلام: نبوّت کے چھٹے سال 33 برس کی عمر میں اسلام لائے،
    وجاہت: رنگ سفید مائل بہ سرخی، رخساروں پر گوشت کم، قد مبارک دراز تھا،

    ٭سلسلہ نسب:٭
    عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن فھر بن مالک،
    ۔۔۔۔ عَدی کی دوسرے بھائی مُرّہ تھے جو حضوراکرمﷺ کے اجداد میں سے ہیں، اس لحاظ سے حضرت عمرؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں رسول اکرمﷺ سے جا کر مل جاتا ہے،

    ٭قبول اسلام:٭
    اسلام لانے سے قبل عمر اور ابوجھل نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اسلئے آپﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کیلئے اسلام کی دعا فرمائی، ”اَللّٰھمَّ اَعِزَّالاِسلاَمَ بَاَحدِ الرَّجُلَینِ اَمَّابْن ھِشامٍ امَّا عُمرَ بْن الْخَطاؓبٍ“ یعنی اے اللہﷻ اسلام کو ابوجھل یا عمر بن خطابؓ سے معزز کر،  اور ایک روایت میں تو آپﷺ نے صرف عمرؓ کا نام ہی لیا ہے کہ اللہﷻ اسلام کو عمرؓ کی ذریعے سے معزز فرما چنانچہ اس وجہ سے آپؓ کو  ”مراد نبی“ کہا جاتا ہے، آپؓ کے اسلام لانے سے قبل بہت سے مرد اور عورت ایمان لاچکے تھے، آپؓ کے اسلام لانے کی نمبر میں اختلاف ہے کوئی 41 واں، کوئی 40 واں، بعض 45 واں بتاتے ہیں، حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ” رسول اللہﷺ پر 39 مرد و عورت ایمان لاچکے تھے پھر عمرؓ اسلام لے آئے تو 40 ہوگئے، پس جبرئیل علیہ السلام آسمان سے اترے اور اللہﷻ کی طرف سے یہ آیت مبارک لے آئے ” يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِینَ۞
    ترجمہ:
    اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔(سورہ انفال آیت نمبر64)۔

    ۔۔۔۔۔ آپؓ کی اسلام لانے کی بعد اسلام کا بول بالا ہوگیا اور مکہ میں اسلام ظاہر ہوگیا،

    ٭ھجرت مدینہ:٭
    سیّدنا عمرفاروقؓ کا شمار بھی مھاجرین صحابہؓ میں ہے، آپؓ نے کھلم کھلا مدینے کی طرف ھجرت فرمائی۔ سیّدنا علیؓ سے ایک روایت کا مفھوم ہے، کہ ” میں نہیں جانتا کہ مھاجرین میں سے کسی نے کھلم کھلا ھجرت کی ہو سوائے عمرؓ کے، آپؓ نے جب ھجرت کا ارادہ کیا تو مسلح ہوکر مشرکین مکہ کے مجمعوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچے، اطمنان کی ساتھ طواف کیا نماز پڑھی، پھر مشرکین کی طرف مخاطب ہوکر اعلان کرنے لگا کہ اگر کوئی اپنی ماں کو رلانا، اپنی بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے تو وہ میرے پیچھے آکے مجھے روک لیں، علیؓ فرماتے ہے کہ کسی نے ان کا پیچھا نہیں کیا“

    ٭جنگ بدر وغیرہ میں شرکت:٭
    سیّدنا عمرفاروقؓ حضوراکرمﷺ کی معیت میں جنگ بدر، اُحُد، خَندق، بیعة الرضوان، غزوہ خَیبَر، فتح مکہ، جنگ حُنَین، وغیرہ سب محاذوں پر شریک تھے، اور آپؓ کفار پر بہت زیادہ سخت تھے، رسول اللہﷺ نے صلح حدیبیہ کے دن ارادہ کیا تھا کہ عمرؓ کو اہل مکہ بھیج دے لیکن عمرؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! مشرکین قریش میری ان سے سخت عداوت کو جان چکے ہیں، اسلئے اگر ان کو موقعہ ہاتھ آئے تو وہ مجھے قتل کرینگے، تو رسول اللہﷺ نے عمرؓ کو روکا اور حضرت عثمانؓ کو اہل مکہ بھیج دیا،

    ٭علم مبارک:٭
    آپؓ عدالت، شجاعت، اور بھادری کی ساتھ میدان علم کی بھی شہسوار تھے، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ” اگر عمرؓ کا علم ترازو کی ایک پلٹرے میں رکھا جائے اور سارے لوگوں کا علم دوسرے پلٹرے میں رکھا جائے تو عمرؓ کا علم زیادہ بھاری اور راجح ہوگا،

    ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ” میں دیکھتا ہوں کہ گویا مجھے دودھ کا ایک پیالہ تناول کیا گیا میں نے اس سے پیا اور باقی ماندہ دودھ میں نے عمرؓ کو دیا، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّہﷺ! آپ اس کی کیا تاویل کرتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ”علم سے،
    (یعنی اس دودھ سے مراد علم ہے،)
    اور بھی بہت سے احادیث مبارکہ ہیں جس سے آپؓ کا علم و حکمت میں اعلی مقام کا ثبوت ملتا ہے،

    ٭تواضع اور زھد:٭
    آپؓ جس طرح سخت تھے اتنا نرم مزاجی، عاجزی و انکساری، اور زھد آپکا شیوۂ خاص تھا، طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ ” عمر بن خطابؓ ہم سے اسلام لانے اور ھجرت کرنے میں پہلے نہیں تھے لیکن وہ ہم میں سب سے زیادہ دنیا کی معاملے میں بے رغبت اور زاھد تھے، اور آخرت کی معاملے میں ہم سب میں سے زیادہ رغبت کرنے والے تھے،

    ۔۔۔۔۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ ” کہ میں نے عمرؓ کو دیکھا کہ آپؓ کے دونوں کندھوں کے درمیان قمیص میں چار پیوند لگے ہوئے تھے،

    آپؓ پر موت کا ڈر اتنا غالب تھا کہ ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے، آپؓ کی انگوٹھی پر بھی لکھا تھا کہ ”کَفیٰ بِالْمَوْتِ وَاعِظاً یَاعُمرْ“ یعنی اے عمر نصیحت کیلئے موت ہی کافی ہے،

    ٭فضائل اور کمالات:٭
    آپؓ کے بہت سے فضائل اور کمالات ہیں جو قرآن و احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں، قرآن کریم کے بائیس (22) آیات ایسے ہیں جو عمرؓ کی رائی کی مطابق نازل ہوئے ہیں، اور وہ بائیس آیات گوشۂ علم میں ”موافَقاتِ عمرؓ“ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، اس عنوان پر الگ رسالے اور کتابیں بھی لکھی گئے ہیں، تفصیل کیلئے وہاں رجوع کریں، یہاں صرف اشارةً چند مقامات ملاحظہ فرمائیں۔
    ①…مقام مقام ابراھیمؑ میں نماز کا حکم بھی آپؓ کے رائی پر تھا،
    ②…آپ کی خواہش تھی کہ پردہ ہو چنانچہ آیت حجاب نازل ہوئی،
    ③…جنگ بدر میں مشرکین قیدیوں کے بارے میں آپؓ کی رائی تھی کہ ان کو قتل کیا جائے اور آپؓ کی علاوہ سب کی رائی تھی کہ ان سے فدیہ وصول کرکے ان کو چھوڑا جائے، چنانچہ فدیہ والے رائی پر عمل ہوگیا اور بعد میں اللہ تعالی نے سورة انفال کی آیت مبارک نمبر 68 نازل فرمائی اور ظاہر کیا کہ صحیح رائی عمرؓ کی تھی، یہ چند مقامات بطور مثال ہیں ان تمام موافقات کیلئے مولانا حافظ لیاقت علی شاہ نقشبندی کی رسالہ ”موافقاتِ سیّدنا عمرؓ“ ملاحظہ فرمائیں،

    آپؓ کے احادیث میں بھی بہت فضائل مروی ہیں،
    ①…حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ ” ہم حضورﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ” کہ میں سو گیا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا پس اچانک ایک عورت ایک بنگلہ کی قریب وضو کر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ کس کا بنگلہ ہے؟ تو اس عورت نے کہا یہ عمرؓ کا ہے، (حضورﷺ فرماتے ہیں کہ شاید میں بھی بنگلہ کو دیکھ لے تھا لیکن) مجھے عمرؓ کا غیرت یاد آیا اور میں واپس لوٹا، عمرؓ نے جب یہ بات سنا تو روئے اور فرمانے لگے ”أَعَلیْكَ أغَارُ یَارَسولَ اللہِ؟! کہ یارسول اللہﷺ کیا میں آپ پر بھی غیرت کرونگا،
    (مطلب یہ ہے کہ کیا میں آپ کو اپنے گھر دیکھنے سے منع کرونگا؟)
    ②…حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا” اہل آسمان میں سے میرے دو وزیر جبرئیلؑ اور میکائیلؑ ہیں، اور اہل زمین میں سے میرے دو وزیر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں،
    ③…ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اللہﷻ نے عمرؓ کے زبان اور دل پر حق کو جاری فرمایا ہے،
    ④…عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا، (لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں)،
    ⑤… ام المؤمنین سیّدہ حضرت امی عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، ”پہلے امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جن کو من جانب اللہ الھام ہوا کرتا تھا اگر میرے امت میں ایسا کوئی شخص ہے تو وہ عمر بن خطاب ہوگا،،،

    آپؓ کے اور بھی بہت فضائل ہیں لیکن خوف طوالت کی وجہ سے ان کو متروک کیا ہے،

    ٭خلافت:٭
    آپؓ سیّدنا خلیفة النبیﷺ، امیرالمؤمنین، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد مسندِ آرائے خلافت ہوئے، آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دس سال چھ ماہ دس دن تک 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی خلافت قائم کی، آپؓ کے دور میں 3600 علاقے فتح ہوئے، آپؓ کے دور میں 900 جامع مسجد اور 4000 عام مسجدیں تعمیر ہوئیں، قیصر و کسریٰ دنیا کی دو بڑی سلطنتوں کا خاتمہ آپ ہی کی دور میں ہوا، آپؓ کے عہد خلافت میں عدالت کے ایسے بے مثال فیصلے چشم فلک نے دیکھے جن کا چرچا چاردانگ عالم پھیل گیا، فتوحات میں عراق، ایران، روم، ترکستان، شام، مصر، آذربائیجان، جزیرہ، خوزستان، قادسیہ اور دیگر بلاد عجم پر اسلامی عدل کا پرچم لہرانا سیّدنا عمرفاروق اعظمؓ کا بے مثال کارنامہ ہے، حضرت عمرؓ کے زریں اور درخشندہ عہد پر کئی غیرمسلم بھی آپؓ کی تعریف کئے بغیر رہ نہ سکے، حقیقیت میں آنحضرتﷺ کے آفاقی دین کی تعمیر و ترقی کے اوج ثریا پر پہنچانے اور دنیا بھر میں اسلام کی سطوت و شوکت کا سکہ بٹھانے کا سہرا حضرت عمر فاروقؓ کے سر ہے،
    ٭شھادت:٭
    حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ایک فارسی غلام فیروز نامی نے جس کی کنیت ابولؤلؤ تھی، حضرت عمرؓ سے اپنے آقا کے بھاری محصول مقرر کرنے کی شکایت کی اس کی شکایت بےجا تھی اسلئے حضرت عمرؓ نے توجہ نہ کی، اس پر وہ اتنا ناراض ہوا کہ چھپ کے حضرت عمرؓ کی قتل کا منصوبہ بنایا اور صبح کی نماز سے پہلے خنجر لے کر مسجد کی محراب میں چھپ گیا اور جب حضرت سیّدنا عمرفاروقؓ نے امامت شروع کی تو ابولؤلؤفیروزہ نے اچانک حملہ کردیا اور متواتر چھ وار کیے، حضرت عمرؓ گہرے زخم کے صدمہ سے گر پڑے تو حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے نماز پڑھائی، یہ ایسا کاری زخم تھا کہ اس سے آپ جانبر نہ ہوسکے لوگوں کے اصرار سے آپؓ نے چھ شخصوں کو منصب خلافت کیلئے نامزد کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو جس پر باقی پانچوں کا اتفاق ہوجائے اس منصب کیلئے منتخب کرلیا جائے، ان لوگوں کے نام یہ ہیں، علیؓ، عثمانؓ، زبیرؓ، طلحہؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، اور عبدالرحمان بن عوفؓ،۔۔۔
    اس مرحلہ سے فارغ ہونے کے بعد آپؓ نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت لی،
    ۔۔۔ وہ جگہ حضرت عائشہؓ نے اپنے لی منتخب کی تھی، لیکن اس موقع پر امی عائشہؓ نے ارشاد فرمایا کہ میں عمرؓ کو اپنے پر فضلیت دیتا ہوں یہ جگہ ان کے دفن کیلئے ہوگا،
    اس کے بعد آپؓ نے مھاجرین، انصار، اعراب اور اہل ذمہ کے حقوق کی طرف توجہ دلائی اور اپنے صاحبزادہ حضرت عبداللہؓ کو وصیت کی کہ مجھ پر جس قدر قرض ہے اگر وہ میرے متروکہ مال سے ادا ہوسکے تو بہتر ہے، ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر ان سے ادا نہ ہوسکے تو کل قریش سے، لیکن قریش کے سوا اور کسی کو تکلیف نہ دینا، غرض اسلام کا سب سے ”بڑا ہیرو“ ہر قسم کی ضروری وصیتوں کے بعد تین دن بیمار رہ کر محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن 24 ھجری میں واصل بحق ہوا اور اپنے محبوب آقاﷺ کے پہلو میں ہمیشہ کیلئے میٹھی نیند سو رہا، آپؓ کے نمازِ جنازہ سیّدنا حضرت صہیب رومیؓ نے پڑھائی،
    *اِنّا لِلهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنْ۔* 

    ٭ آپؓ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے” اَللّٰھُمَّ رْزُقْنِیْ شَھَادَةً فِیْ سَـبِیْـلِـكَ وَاجْعَـلْ مَـوْتِیْ فِـیْ بَلَـدِ رَسُـوْلِـكَ“ یعنی اے اللہﷻ مجھے اپنے راہ میں شھادت نصیب فرما اور اپنے محبوبﷺ کے شہر میں مجھے موت نصیب فرما،
    اس دعا کی قبولیت تھی کہ آپؓ کو نبیﷺ کے مسجد، نبیﷺ کے مصلیّٰ، نبیﷺ کے محراب میں شھادت کا جام نصیب ہوا، اور حضوراکرمﷺ کے پہلو میں دفن ہونا بھی۔

    ٭ازواج و اولاد:٭
    حضرت عمرؓ نے مختلف اوقات میں متعدد نکاح کیے، ان کی بیویوں کی تفصیل یہ ہے:
    ①حضرت زینبؓ:…ہمشیرہ عثمان بن مظعونؓ۔ مکہ میں مسلمان ہوکر فوت ہوئیں،
    ②قریبہ بنت امیة المخزومی:… مشرکہ ہونے کے باعث طلاق دے دی تھی،
    ③ملیکہ بنت جرول:… مشرکہ ہونے کے باعث ان کو بھی طلاق دے دی،
    ④عاتکہ بنت زید:… ان کا نکاح پہلے حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ سے ہوا تھا پھر عمرؓ کے نکاح میں آئیں۔
    ⑤حضرت ام کلثومؓ:… رسول اللہﷺ کی نواسی اور حضرت فاطمہؓ کی نوردیدہ تھیں، حضرت عمرؓ نے خاندان نبوّت سے تعلق پیدا کرنے کیلئے 17 ھجری میں چالیس ہزار (40000) مہر پر ان سے نکاح کیا۔
    حضرت عمرؓ کی اولاد میں ام المؤمنین حضرت حفصہؓ اس لحاظ سے سب سے ممتاز ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کی ازواج مطھرات میں داخل تھیں- حضرت عمرؓ نے اپنی کنیت ابوحفص بھی ان ہی کے نام پر رکھی تھی، باقی اولاد کے نام یہ ہیں: حضرت عبداللہؓ، عاصم، ابوثحمہ، عبدالرحمان، زید، مجیر، ان سب میں حضرت عبداللہؓ، حضرت عبیداللہ اور حضرت عاصم اپنے علم و فضل اور مخصوص اوصاف کے لحاظ سے نہایت مشہور ہیں،

    آپؓ نے یکم محرم الحرام سن 24 ھجری میں امت مسلمہ کو ہمیشہ کیلئے یتیم چھوڑ کر اس فانی دنیا سے کوچ کیا،      
                        🔵فَرَضِیَ اللہ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ🔵

    Follow On Twitter:

  • موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    بی بی سی کے مطابق پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہےیہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • وقت ہی زندگی ہے تحریر:شمیم احمد

    وقت ہی زندگی ہے تحریر:شمیم احمد

    وقت اللّٰه رب العزت کی طرف سے عطاکردہ ایک عظیم الشان نعمت ہےجو بغیر کسی تفریق کے تمام لوگوں کو عطا کی گئی ہے , اسکی اہمیت کا اندازہ کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ خالق دوجہاں نے اپنی لافانی کتاب میں بارہا اسکی قسم کھائی ہے ,کیونکہ انسان کے تمام تر اعمال اسکی زندگی ہی سے وابستہ ہیں_
    زندگی کس چیز کا نام ہے ؟ زندگی نام ہے چند سانسوں کا ,زندگی نام ہے شب و روز کے مجموعہ کا , در اصل وقت ہی زندگی ہے آپ اسکی خوب قدر کر لیں , آپ جس قیمتی سرمایہ کے مالک ہیں وہ عمر عزیز کے چند قیمتی لمحات ہیں جو سونے اور چاندی ہیرے اور جواہرات سے بھی زیادہ قیمتی ہیں , یاد رکھو ! جو لوگ بھی وقت کی قدر کرنا جانتے ہیں , انکی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوتے ہیں , انکے ذریعہ ایجادات اور بڑے بڑے انقلابات رونُما ہوتے ہیں , وہ ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہیں , اور کائنات کو حسین رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں ,دنیا کی زمام قیادت انکے ہاتھوں میں ہوتی ہے , لیکن جو لوگ وقت کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانتے تو پھر زمانہ بھی انہیں نہیں پہچانتا , غلامی کی زندگی بسر کرنا پھر ایسے لوگوں کا مقدر بن جاتا ہے , وہ ناکامیوں اور پستیوں کے اندھیروں میں اترتے چلے جاتے ہیں ,خوب جان لو کہ وقت کا ضیاع قوموں کے سروں سے عزت و سربلندی کا تاج اُتار کر ہاتھوں میں کشکولِ گدائی تھما دیتا ہے_ کیونکہ وقت ایک دو دھاری تلوار ہے اگر تم نے اسے نہیں کاٹا تو تو وہ تمہیں کاٹ کر رکھ دے گا !
    ہاۓ افسوس !دل مارے غم سے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے کہ آج جب آپ مسلمانوں کے شب و روز کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ آج ہم غیر ضروری چیزوں کے پیچھے ضروری سے ضروری فرض بھی چھوڑ دیتے ہیں ,ہمارا قیمتی وقت ہنسی مذاق ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے , ہوٹلوں میں, غیبت کرنے میں ,موبائلوں اور فلموں میں ضائع ہو رہا ہے , ایجادات علوم و فنون , سائنس , ٹیکنالوجی میں ہم اقوام عالم سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں , اِس شدید ابتری کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ ہمارے یہاں جوانوں اور بوڑھوں , پڑھے لکھے اور ان پڑھوں , شہریوں اور دیہاتیوں , غرض کسی طبقہ میں بھی وقت کی قدر و قیمت کا احساس تک باقی نہیں رہا ہے ,ممکن ہے کہ دنیا کے کچھ دوسرے معاملات میں ہم بڑے ہی دانہ و فرزانہ سمجھے جاتے ہوں , لیکن وقت کی دولت لٹانے میں آج ہماری مُسرفانہ فیاضیوں کی داستان بھی رقم ہے ____اللّٰه رب العزت پوری امت مسلمہ کو آج وقت کا قدر دان بنا دے _ آمین

    By @Shaameem_Ahmad

  • سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران  تحریر:  محمد جاوید

    سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑی ہوئی قوم کا آیئنی بحران تحریر: محمد جاوید

    ہم نے بظاہر سیاسی آزادی حاصل کر لی لیکن سرمایہ داری اور جاگیر داری کی گرفت سے آج بھی آزاد نہیں ہو سکے ان طبقوں کے گروہی مفادات کے سائے، سب سے لمبے ہیں اور ان کے اثرات سے ہماری زندگی کا کوئی شعبہ باہر نہیں ہے۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی زندگی شروع سے عصر حاضر کے نیو آبادیاتی نظام کے نمایندوں کے شکنجے میں جکڑرہی ہے۔ لیکن اس نظام میں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے سیاسی وہ اقتصادی غلبے کو جو استحقام اس دور میں نصیب ہوا ہے اسکا مثال نہیں ملتی ۔ اس نظام میں غریب کا استحصال تو ہو سکتا ہے۔ غربت دور کرنے کے لئے۔ زكوات کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ غریب کے کندھے پر اپنی سر پرستی اور لطف وہ کرم کی چادر بھی ڈالی جا سکتی ہے۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جگہ جگہ غریبوں کے لئے پناہ گاہیں اور لنگر کھانے بھی کھولیں جا سکتے ہے۔
    لیکن غریب کو برابر کے انسان کے طور پر Own نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اگر کہیں کوئی غریب برابر کی سطح پر بیٹھا نظر آتا ہے تو دراصل انہی وڈیروں اور سرمایہ داروں کے نوکر کے طور پر ۔
    اس نظام کے آئین میں قرآن وہ سنت کی بلادستی کی بات تو کی جاسكتی ہے اور فیڈرل شریعت کورٹ کا دایرہ بھی واسع کیا جا سکتا ہے لیکن اسلام کے نظام عدل وہ اانصاف کے ان پہلوؤں کی نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام دیا جا سکتا ہے جیس سے سرمایہ داری کے عالمی نظام اور اسلامی ملکوں میں اس نظام کے علم برداروں کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ اس نظام کی گود میں پروان چڑھنے والی سينٹ اور قومی اسمبلی میں مزید ترمیم کو معرض التوا میں ڈالنے کے لئے نئی کمیٹیاں بھی بن سکتی ہیں، لیکن اس ملک کے جاگیرداروں، خانزادوں، وڈیروں اور سرداروں سے ان کے انگریز آقاؤں کی عطا کردہ اجارہ دریاں چھين کر انہيں وطن عزیز کا عام شہری بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔
    ہر دور میں ہر نیا بننے والا وزیر اعظم ہو یا صدر بشمول عمران خان اکثر قوم کو آئینوں کے ٹوٹنے کی کہانی سناتے رہتے ہیں اور آئینی اصطلاحات کے حوالے سے بلند وہ بھنگ دعوے کرتے نظر اتے مگر اس فریب خوردہ قوم کو وہ بات کوئی نہیں بتاتا جو قوم کے دل میں ہے یعنی پاکستان کا کا ہر آئين اس لئے ٹوٹا اور ہر سیاسی بحران اسلیے پیدا ہوا کہ شخص واحد نے اپنی کرسی چھوڑ نے یا اپنے اختیارات میں کمی کرنے سے انکار کر دیا۔ 1954 میں اسمبلی اسلیے ٹوٹا تھا جب غلام محمد نے اپنے اختیارات میں کمی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
    اور 1956 کا آئین اسلیے ٹوٹا کہ سکندر مرزا اور دوسرے اس آئین کے تحت انتخابات کے بعد اختیارات اور عہدے سے محروم نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ 62 کا آیئن اسلے ختم ہوا کہ حکومت اور اقتدار کے تمام راستے ایک ہی شخص کی طرف جاتے تھے۔ 73 کا متفقہ اور عوامی آیئن انے والے مارشل لاء کو اسلیے نہ روک سکا کہ اس ایئن کے خالق نے اپنے ہی ایئن سے بھی آگے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 73 کا آیئن آج اپنی اصلی شکل و صورت میں باقی نہیں رہا۔ پاکستان کا آئین ہمیشہ سے صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات کی وجہ سے ترمیم کی ضد میں رہا۔
    یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف آینوں میں فرد واحد کی ذات میں اختیارات جمع ہو جانے سے ہی صوبائی نفرتوں کو ہوا ملتی رہی وان یونٹ کا تجربہ ناکام رہا اور ملک کو دو لخت کرنے میں ہمارے مظبوط مرکز نے بہت اہم کردار ادا کیا
    اخیر کب تک اسے کمزور نظام کے تحت اس ملک کی مشینری کو چلایا جاے گا ۔
    ضروری ہے اب اس آیین کے اندر اس ترامیم کئے جائے جیس میں غریب کا بھلا ہو اور اس جاگیردارانہ اور سرمایہدارانہ نظام کا خاتمہ ہو۔
    ملک میں عدل وہ انصاف اور قانون کی حکمرانی ہو کسی میں ہمت ہی نہ ہو کہ اپنی ذاتی مفاد کے لئے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا کریں۔
    اس تمام طاقتوں کی حوصلہ شکینی کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔

    @I_MJawed

  • زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ  تحریر: عتیق الرحمن

    زکوۃ اسلام کا ستون اور انسانی معاشرہ تحریر: عتیق الرحمن

    انسانی معاشرے مختلف لوگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر مضبوط ہیں جبکہ دیگر کمزور ہیں۔ کچھ دانشورانہ طور پر برتر ہیں جبکہ دوسرے کم سمجھے جاتے ہیں پر ہوتے نہیں ہیں۔ سب سے اہم فرق مال و دولت سے متعلق ہے۔ مسلمان کی دولت پر واجب الادا سالانہ ٹیکس ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے جس پر عمل کیے بغیر اسلام مکمل نہیں ہوتا۔
    یہ اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ جو اپنے منہ میں چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرا مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو ان حالات میں زکوۃ کے ستون پر عمل کرنا اسلامی فریضوں میں شامل ہوتا ہے۔ تمام معاشروں میں معاشی طور پر کمزور اکثریت میں ہوتے ہیں اور قدرتی اور غیر قدرتی آفات سے شدید متاثر بھی۔ اسی طرح ، موجودہ کوویڈ 19 وبائی بیماری نے معاشرے کے تمام طبقات کو دھچکا پہنچایا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثرہ درمیانے اور نچلے طبقے کو نقصان پہنچا ہے۔ وبائی امراض نے امیر اور غریب کے درمیان فرق کو بڑھا دیا ہے اور سماجی اقتصادی کمزوریوں میں ایک نئی پرت کا اضافہ کیا ہے۔ سماجی یکجہتی کے بہت سے مجموعی نظام غیر رسمی اور غیر رسمی کاروباری شعبوں میں مصروف دیگر مزدوروں نے شہروں میں طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کھو دی ہے۔ وہ غربت کے جال میں پھنس چکے ہیں اور زیادہ پسماندہ ہو چکے ہیں ، اس لیے انہیں بارش کی ضرورت ہے جو کہ مٹی تک پہنچتی ہے ، ترقی یافتہ ممالک میں حکومت کی طرف سے اور فلاح یافتہ لوگوں کی طرف سے فوری امداد اور مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اسلام نے صدقہ دینے کے تصور پر زور دیا ہے۔ خیرات کو توہین آمیز طریقے سے نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس طرح دیا جانا چاہیے کہ ضرورت مندوں کو پسماندگی کا احساس نہ ہو۔ ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونی چاہیے جبکہ آہستہ آہستہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صدقہ مستحق افراد کو باوقار طریقے سے دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چند پیسے وصول کرنے کے لیے کھلے آسمان کے نیچے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جہاں انہیں ہر آنے جانے والے کی سوالیہ نظروں کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلام صدقہ وصول کرنے والوں کی عزت نفس کے بارے میں بہت خاص احکامات دیتا ہے صدقہ و زکوۃ سخاوت کام ہے- قرآن مومنوں کو حکم دیتا ہے کہ "اپنے خیراتی کاموں کو یاد دہانیوں اور تکلیف دہ الفاظ سے منسوخ نہ کریں”۔ اسلام لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ مومن اپنی دولت اور وسائل ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔ جو لوگ بہت زیادہ دولت اور وسائل کے ساتھ معاشی طور پر مضبوط ہیں ان کو اضافی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنی دولت کو کئی گنا زیادہ کے ساتھ بانٹیں۔ صدقہ دینے کا تصور اسلامی معاشی نظام کے لیے بنیادی ہے۔ اس کا مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ یہ سماجی یکجہتی کو ایک آئیڈیل کے طور پر زور دیتا ہے جو انصاف اور سخاوت دونوں کا حکم دیتا ہے جبکہ دولت کے ذخیرہ اندوزوں کی مذمت کرتا ہے۔ صدقہ دینے کی ضرورت اور قدر قرآن میں بڑی تعداد میں بیان کی گئی ہے۔ ان شرائط کے معنی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ نہ صرف اپنی دولت اور جائیداد کو پاک کرتا ہے بلکہ معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ قرآن پاک نے زکوٰۃ دینے سے روح کی زرخیزی کو تقویت بخشی ہے ، پیداوار میں مزید اضافہ کیا ہے۔
    یہ ایک مومن کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے جائز وصیت میں سے اپنے خالق کو زکوٰۃ ادا کرے جس نے اسے اس کے لیے دولت کمانے اور جمع کرنے کے قابل بنایا اپنی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی۔ دوسرے لفظوں میں ، کسی کو اپنی صلاحیت کے مطابق دینا ہے اور خاندان کے ساتھ ساتھ ذاتی ضروریات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ قرض حسنہ بھی صدقہ دینے کی ایک شکل ہے ، جو اللّہ کی طرف سے انعام کے ساتھ منسلک ہے۔ قرآن پاک لوگوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ اللہ کو "ایک خوبصورت قرض” پیش کریں ، جو اللہ کے فضل سے ہو گا، چونکہ قرض حسنہ اللہ کو آخری دینے والا سمجھا جاتا ہے ، اس طرح کی پیشکشوں کو محض اللہ کی طرف لوٹنے کے عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کی سخاوت کی وجہ سے ہے۔ . اسی طرح کی دیگر اصطلاحات جیسے خیرات بھی دوسروں کی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے کے تصور کو لاگو کرنا حکومتی ذمہ داری تو ہے ہی لیکن بطور مسلمان ہماری دینی فریضہ بھی ہے اور اللّہ کی خوشنودی کے لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسلام کے پانچوں ستونوں میں سے ایک زکوۃ دینے پر عمل کرے اور امید ہے کہ یہ کوویڈ 19 کے منفی اثرات کو کم کرے گا اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں پرامن بقائے باہمی ہوگی۔ قرآن کے الفاظ میں جو لوگ اپنے وسائل سے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ واقعی نیک ہیں۔

    @AtiqPTI_1

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام :تحریر : سید محمد مدنی

    پاکستان میں ٹریفک کا نظام :تحریر : سید محمد مدنی

    کہا جاتا ہے کے کوئی ملک کتنا مہذب ہے اس کو چیک کرنے کے لئے اس ملک کے لوگوں کے گھر کے واش رومز یا پھر وہاں کے ملک کا ٹریفک کا نظام دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا.
    پاکستان میں ٹریفک کا نظام گندا ہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ عوام خود اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانے والوں کی سُستی سب برابر کے شریک ہیں پہلے بات کرتے ہیں ٹریفک پولیس کی.
    اکثر اوقات دیکھا گیا ہے ٹریفک پولیس جان بوجھ کر بھی احتیاط نہیں کرواتی اور وہ خود بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں اور بلاوجہ چالان بھی کرتے ہیں اس کی وجہ ہے س عملے کی تنخواہیں کم ہونا جب کوئی خاص مواقع آتے ہیں تو ٹریفک پولیس اپنے پوائنٹس بڑھانے کی خاطر چالان کی کاپیاں پُر کرتی ہے اور عوام کو تنگ کرتی ہے جب تنخواہیں کم ہوں گی تو ظاہر ہے پھر یہ لوگ بھی دوسرے زرائع سے وہ کمی پوری کرتے ہیں اگر چہ ٹریفک پولیس کی طرف سے سُستی کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ یہی ہے جو میں نے لکھی
    اب آتے ہیں عوام پر
    پاکستان میں عوام کی مینٹیلیٹی ہی کچھ ایسی نوابیت کی سی ہے جو بھی سڑک پر ہوتا ہے بس وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں ہی اس سڑک کا مالک ہوں باقی سب حقیر ہیں وہ کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ٹریفک پولیس اول تو پکڑتی نہیں اور اگر روک بھی لے تو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ضرور کسی بڑی شخصیت کی اولاد یا پھر اثر و رسوخ والا ہوتا ہے اور پولیس والے اس کا چالان کرتے گھبراتے ہیں کہ کہیں اگر کوئی شکایت لگ گئی تو ہماری نوکری چلی جائے گی اور اسی کو سب سے بڑی جہالت کہا جاتا ہے کے جو بگڑا ہؤا ہے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا یہاں جس کے پاس جتنی بڑی اور قیمتی گاڑی ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو فرعون سمجھتا ہے کیا وجہ ہے کے یورپ اور حتی کے عرب ممالک میں ٹریفک کا بہترین نظام ہے خاص کر یو اے ای میں یہ بھی کہاجاتا ہے کے عرب ممالک میں سب سے زیادہ بہترین ٹریفک کا نظام اور سختی اور اس پر عمل یو اے ای میں ہے جس کا عینی شاہد میں خود بھی ہوں.
    آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کے سڑک پر ہر فاصلے کے ساتھ پینٹ نما پٹیاں لگائی جاتی ہیں اور سارا ٹریفک اپنی لین میں چلتا ہے زگ زیگ کر کے نہیں چلتا لیکن پاکستان میں سڑکوں پر موٹرویز پر جگہ جگہ آویزاں ہوتا کے اپنی لین میں چلیں بار بار لین نا بدلیں اس سے پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ تیز آرہی ہوتی ہیں چاہے موٹر وے ہو یا معمولی سڑک ہم جو چاہے وہ کرتے ہیں سڑکوں پر انتہائی دائیں جانب یو ٹرن کے لئے بیچ والی سیدھا جانے کے لئے اور بائیں والی بائیں جانب جانے کے لئے بنی ہوتی ہے اور ہم لوگ کیا کرتے ہیں کہ اگر کسی کو دائیں جانب جانا ہو تو وہ بس بے صبری اور جلدی میں ایکسٹریم بائیں جانب سےٹریفک اشارے پر دائیں جانب گاڑی کا اشارہ دیتے ہوئے جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی دائیں جانب وہ ٹریفک جس نے سیدھا جانا ہوتا ہے وہ سارا ٹریفک ڈسٹرب ہوتا ہے
    باہر کے ممالک میں آپ نے دیکھا ہوگا کے دائیں جانب صرف وہی آتے ہیں جنھیں دائیں جانا ہوسیدھا جانے والے بیچ اور بائیں جانے والے بائیں ہی رہتے ہیں مگر یہاں لوگوں کو شوخی اور کرتب دکھانا ہوتے ہیں اس لئے یہ سب اوچھی حرکتیں کرتے ہیں اور پھر جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ہمارے ہاں عوام میں اٹھارہ سال سے کم بچے بھی کھلے عام موٹر-سائیکل چلاتے گاڑی چلاتے نظر آتے ہیں اور وہ اپنے والدین تک کی بھی پرواہ نہیں کرتے کچھ والدین بھی لاپرواہی کرتے ہیں جب تک لائسینس نا بن جائے ایسے کیسے آپ سڑک پر آنے دیتے ہیں یہاں زمہ داری عوام اور
    والدین کی ہوتی ہے ہمارے ہاں صبر بھی ختم ہو چکا ہے اور بس چاہتے ہیں کے آگے نکل جائیں بلاوجہ ہارن دیتے ہیں جبکہ آپ دیکھ رہے ہیں کے آگے راستہ بند ہے تو کوئی وجہ ہی ہوگی فرانس سمیت کئی ممالک میں ہارن بجانا ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کوئی سنگین غلطی اگلے نے کی ہو اور یہاں تک کے گالی بھی سمجھا جاتا ہے کہنے کا مطلب ہے کے بلاوجہ نہیں بجاتے.
    امریکہ کا ایک واقعہ مشہور ہے کے وہاں ایک لڑکی نے ٹریفک لائسینس کے لئے ایپلائی کیا جب اس نے ایپلائی کیا تو اسکی عمر بیس سے پچیس سال تھی مگر اسے لائسینس پینتیس سے چالیس سال کی عمر میں جا کر ملا اس کی وجہ سخت ترین ٹریفک قوانین لیکن اس عورت نے بھی ہمت نا ہاری اور ہر بار ٹیسٹ دیا پھر ایک دن کامیاب ہوگئی.
    ہم پاکستانی بھی اگر خود سے عمل صبر اور نظم وضبط کا مظاہرہ کریں توہمارے ہاں بھی حادثات کم ہوں گے آئیں اور آج سے فیصلہ کریں کے پہلے ہم خود ٹھیک ہوں گے.

    Twitter Id. @ M1Pak

  • ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔                  تحریر: آصف گوہر

    ورکنگ وومن جہد مسلسل ۔ تحریر: آصف گوہر

    حجة الوداع کے بارے طویل حدیث ہے۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو”
    لفظ عورت کا معنی ہے چھپی ہوئی چیز یعنی جس کی حفاظت کی جائے۔ یہاں حفاظت سے مراد اچھا برتاو حسن سلوک جسکی وہ
    مستحق ہے وہ کیا جائے۔انگریزی محاورہ لیڈیز فسٹ سے بھی یہی مراد ہے کہ خواتین کو ترجیح دینا ۔
    اسلام سے قبل بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا عورت کی کوئی عزت و توقیر اسلام نے بیٹیوں کی پیدائش کو رحمت کا باعث قرار دیا اور عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا۔
    ہمارے معاشرے میں عورت کو پیدائش کے ساتھ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بیٹوں کو اکثر بیٹیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئ طرح کے مسائل اور رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں پیدل سوار سفر کرکے سکول اور تعلیمی اداروں میں آنا جانا راستے میں اوباش مردوں کی زہر آلود نظروں جملوں اور تعاقب جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کا حصول بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔لیکن چند دہائیوں سے ہمارے ملک میں لڑکیاں اپنی محنت کے بل بوتے پر سول سروسز میڈیکل کے شعبہ میں بڑی تعداد میں کامیاب ہورہی ہیں جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے اسی طرح خواتین ٹیچنگ اور نرسز کے شعبہ میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں ۔
    لیکن ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل بھی کم نہیں کام کرنے کی جگہوں پر حراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ساتھ کام کرنے والے مرد حضرات ہر خاتون کو مال مفت سمجھ کر ڈورے ڈالنا فرض سمجھتے ہیں خواتیں کی موجودگی میں ذومعنی گفتگو کرکے خوش ہوتے ہیں اور اکثر خواتین عزت بچانے کی فکر میں یہ سب چپ چاپ برداشت کر جاتیں ہیں ۔ سرکاری ملازمت والی خواتین کا ایک بڑا مسئلہ ملازمت کی جگہ کا گھر سے دور ہونا ہے جس کے لئے انہیں روز نوکری پر پہچنے کے لئے کئ کئ میل کا غیر محفوظ سفر کرنا پڑتا ہے۔اکثر خواتین کی شادی دوسرے شہروں میں طے ہونے کے بعد مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ پر یا پھر وین لگوا کر ڈیوٹی پر پہچنا پرتا ہے جس سفر کی تھکان کے ساتھ کرائے کی مد میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ٹرانسفرز کا عمل اتنا پچیدہ اور مشکل ہے کہ اللہ کی پناہ ۔
    گزشتہ دو روز قبل راولپنڈی میں ایسی ہی خواتین اساتذہ جنہوں نے سکول گھروں سے کافی دور ہونے کی وجہ سے وین لگوا رکھی تھی ڈیوٹی سے واپسی پر حادثہ کا شکار ہوئیں جن میں سے چار موقع پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں اور ایک کا چار سال کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا۔اور باقی ہسپتال میں زخمی پڑی ہیں ۔ حکومت پنجاب محکمہ تعلیم نے اساتذہ کے تبادلوں میں آسانی تو پیدا کی ہیں لیکن خواتین اساتذہ کے لئے ٹرانسفرز کے عمل کو مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔حکومت سے گزارش ہے کہ سرکاری ملازم خواتین کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے ۔اور ویڈ لاک کی بنا پر دوران سروس ایک بار بلارکاوٹ تبادلے کی سہولت فراہم کی جائے ۔ @Educarepak

  • تمباکو پر آپ کی زندگی سے پابندی کیوں لگائی جائے؟  تحریر: زاہد کبدانی

    تمباکو پر آپ کی زندگی سے پابندی کیوں لگائی جائے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    تم شاید پہلے ہی جانتے ہو کہ تمباکو برا ہے۔ در حقیقت ، تمباکو نوشی کی فیصد برسوں سے کم ہے۔ بدقسمتی سے ، تاہم ، اب بھی بہت سارے لوگ ہیں جو روزانہ تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ آپ ہیں ، یا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کو تمباکو ڈالنے میں مشکل ہو رہی ہو تو تمباکو اور اپنی صحت کے بارے میں یہ حقائق چیک کریں۔

    تمباکو کا استعمال بڑی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔

    کینسر بہت سی بیماریوں میں سے ایک ہے جسے تمباکو کی مصنوعات آپ کی زندگی میں لا سکتی ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو ، آپ کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوسکتا ہے۔ اگر آپ چبانے والا تمباکو یا نسوار استعمال کرتے ہیں تو یہ منہ یا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ ان جان لیوا بیماریوں کے ساتھ ، تمباکو کا استعمال دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (COPD) ، ہائی بلڈ پریشر ، اور قبل از وقت دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تمباکو اور کارسنجن جو کہ مصنوعات کے ساتھ آتے ہیں مستقبل میں صحت کے بہت سے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

    مسوڑوں کی بیماری ایک حقیقی امکان ہے۔

    تم تمباکو نوشی کرتے ہو یا چبانے والے تمباکو کا استعمال کرتے ہو ، یہ مسوڑھوں کی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ یا تو ان مصنوعات میں سے یا منہ کے ذریعے جاتا ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے مسوڑھے اور دانت مصنوعات سے برے کی سخت طاقت لیتے ہیں۔ یہ داغدار دانتوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ آپ کی صحت کے لیے کوئی خاص تشویش نہیں ہے ، یہ خود کی خراب تصویر اور ذہنی صحت کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

    خشک اور خراب جلد:
    تمباکو آپ کی جلد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی طور پر ، یہ آپ کو خشک کرتا ہے اور وقت سے پہلے جھریاں ، عمر کے مقامات اور دراڑوں کو فروغ دیتا ہے۔ واحد علاج؟ تمہیں رکنا ہے۔ موئسچرائزر اور کریم تب تک جا سکتی ہیں جب آپ تمباکو کی مصنوعات کی شکل میں اپنے جسم میں بہت زیادہ خرابی ڈال رہے ہوں۔

    نشہ:
    ظاہر ہے ، تمباکو کی مصنوعات میں موجود نیکوٹین اسے انتہائی لت کا باعث بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار شروع کرنے کے بعد ، اسے روکنا انتہائی مشکل ہے۔ یہ مذکورہ بالا صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے ، لیکن اس تناؤ میں بھی اضافہ کرسکتا ہے جو آپ کو پہلے سے ہے۔ صحت کے مسائل کا دباؤ یا چھوڑنے کا دباؤ واقعی تمباکو کو ایک مسئلہ بنا سکتا ہے جو آپ کے دماغ اور جسم پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔
    کیا تمباکو سگریٹ سے بہتر ہے؟ رولنگ تمباکو رول اپ کم از کم آپ کے لیے عام سگریٹ کی طرح نقصان دہ ہیں اور صحت کے لیے وہی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں ان کے مقابلے میں منہ ، غذائی نالی ، گلے اور گلے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اگر آپ تمباکو کا استعمال کرتے ہیں تو اسے ترک کرنے میں دیر نہیں ہوگی! ایک پارٹنر ڈھونڈیں ، ڈاکٹر سے ملیں ، یا پروڈکٹ استعمال کریں تاکہ آپ اچھے طریقے سے پروڈکٹ چھوڑ دیں۔ تمباکو صرف آپ کی زندگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، لہذا ابھی چھوڑیں اور مستقبل میں اپنی صحت کو بچائیں۔

    @Z_Kubdani

  • خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام :آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا "شرمندہ”، کئی عملہ معطل

    خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام :آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا "شرمندہ”، کئی عملہ معطل

    خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے منیجر کو برطرفی کا سامنا ہے آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کمپنی کی خاتون کارکن کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزام کی تحقیقات کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق علی بابا نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کمپنی نے پالیسیز اور اقدار کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ فریقین کو معطل کر دیا ہے اور ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی جنسی بدسلوکی کے خلاف ’قطعی ناقابل قبول‘ کی پالیسی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق متاثرہ خاتون نے کہا ہے 27 جولائی کو منیجر نے اسے ایک کلائنٹ سے ملاقات کرانے کیلے علی بابا ہیڈکوارٹرز سے نو سو کلومیٹر دور جنان شہر اپنے ساتھ جانے پر مجبور کیا۔

    متاثرہ خاتون نے کمپنی کے اعلیٰ افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ اسے رات کے کھانے کے دوران ساتھی کارکنوں کے ساتھ شراب پینے پر بھی مجبور کیا گیا 27 جولائی کی رات کھانے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی اور اگلے دن صبح ہوٹل کے کمرے میں خود کو بغیر کپڑوں کے پایا۔

    خاتون نے بتایا کہ اس نے نگرانی کے لیے نصب کیمرے کی فوٹیج حاصل کرلی جس میں منیجر کو رات کے وقت چار بار اس کے کمرے میں آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر اس الزام ک

    چینی نژاد کینیڈین پاپ اسٹار اور ہالی ووڈ اداکار کرس وو جنسی زیادتی کے الزام میں…

    ے حوالے سے ہیش ٹیگ نمایاں رہا۔ سنہ 2018 میں چین میں ’می ٹو‘ مہم کے بعد سے جنسی بدسلوکی کے معاملے نے توجہ حاصل کی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا نے علی بابا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈینیل ژانگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے پر ’شرمندہ، غصے اور صدمے‘ میں ہیں۔

    دوسری جانب علی بابا کے چیف ایگزیکٹو ڈینیل ژانگ نے کمپنی کے ملازمین کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کمپنی کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے دو سینئر اہلکار اس الزام پر تحقیقات میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے چکے ہیں علی بابا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ ریپ کے الزام کا سامنا کرنے والے منیجر نے خاتون ورکر سے نشے کی حالت میں جنسی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔

    پولیس نے راج کندرا کے لیپ ٹاپ سے درجنوں فحش ویڈیوز اور دیگر مواد برآمد کر لیا

    خط میں مزید کہا گیا کہ اس منیجر کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور اسے دوبارہ نوکری پر کھبی نہیں رکھا جائے گا کمپنی متاثرہ عورت کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری پورا کرے گی اس کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

    جبکہ ویبو پر جاری ایک بیان میں جنان پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مبینہ جنسی زیادتی کے کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں-

  • اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ تحریر:شعیب خان


    اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
    گو پاس میرے درہم ودینار نہیں ہیں

    لفظ اخلاقیات یونانی زبان کے لفظ اخلاق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کردار اور رواج۔ اسی طرح اخلاقیات سے مراد کسی معاشرے، کسی ادارے کیلٸے اخلاقی اصولوں ،اور اخلاقی اقدار کا نظام موجود ہو

    دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات مسلمانوں کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، ضعیفوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، غریبوں اور بے کسوں کی دادرسی ، اپنوں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہیں

    نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اخلاق کا اتمام بھی ہے ۔آپ ﷺ کامل اخلاق کی تکمیل کیلٸے اس جہاں میں تشریف لاٸے ۔ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک ورق آپﷺ کے خُلقِ عظیم کا اجلا نقش ہے۔

    میرے پیارے مسلمانوں بھاٸیوں!! اخلاق کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ معاشرہ مہذب ہو یا غیر مہذت ۔اخلاق دنیا کے ہر معاشرے کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ،انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز اخلاق ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا مسلم معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی ناپید ہوچکے ہیں جس کے باعث آپﷺ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ اسوجہ سے ہمارا معاشرہ رسواء اور زوال پذیر ہو رہا ہے اور بد اخیلاقات ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کررہی ہے

    دین اسلام جس کی اصل پہچان اخلاقیات کا عظیم باب ہے اور جس کی تکمیل کے لئے مُحَمَّد ﷺ مبعوث کیے گئے تھے آج اسی دین اسلام اور آخری نبی کے اخلاق حسنہ کو ماننے والے اخلاقیات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ ہماری عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، گلی، محلہ ، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و ستم ،بچیوں کے ساتھ زیادتی، فساد، عورتوں پر تشدد ،ماں باپ کی نافرمانی ، کینہ ، جھوٹ ، بہتان تراشی ، غیبت ، قتل و غارت، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیات کے بازار، ہوس کے اڈے ، مے خانے ، جوا ، چوری چکری ، ،زنا کاری، رشوت خوری، سود خوری ،حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی منافقت ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی کرنا آخر وہ کون سا اخلاقی بیماری ہے جو ہم سب میں نہیں ۔ خود غرضی اور کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم سب نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی اقسام ہے جو ہمارے معاشرے کے زوروں پر نہیں؟

    تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم خود پارسا اور مسلمان کہلاتے ہیں ۔۔۔ایسے برے اخلاق و اطوار والی
    عوام کا خود کو مسلمان کہلوانا تو دور کی بات ، ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ایسے میں دین اسلام ، اللہ ﷻ اور آپ ﷺ کا مبارک بھی اپنی ناپاک زبانوں سے لینے کی جسارت نہ کرو اس لیے کہ تم ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔

    گر نہ داری از محمد رنگ و بو
    از زبان خود میسا لا نام او

    قارئين!! معاشرہ اکائی سے بنتا ہے ہر فرد معاشرے کا حصہ ہے۔ ہر فرد خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں ہر فرد سمجھتا ہے کہ ہر برائی اور خرابی دوسرے لوگوں میں ہے ، یہ منفی سوچ معاشرے کو اخلاقیات سے گراتی ہے کیونکہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے لوگوں میں خامیاں اور برائیاں دیکھتا ہے۔ ہر فرد اپنیٕ ذمے داریوں سے بھاگتا ہے اور اپنی برائیوں اور خاميوں کا جواز پیدا کرتا ہے ۔

    اللہ ﷻ ہمیں ہدایت دے آمین!

    ‎@aapkashobi