Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    یوم آزادی اور قربانیاں ،تحریر : ارشد محمود

    آزادی کا لفظ ذہن میں آتے ہی درد کی ٹیسیں بھی اٹھتی ہیں ۔ آزادی اپنے ساتھ ہجرت کے زخم بھی لاتی ہے ۔ آزادی بغیر تکالیف کے ممکن ہے اور نہ ہی اپنے اصل مفہوم میں آزاد ہونا۔ پاکستانی قوم اپنے یوم آزادی کو اس شان و شوکت سے مناتی ہے کہ پوری دنیا میں اس کی دھوم مچی ہوتی ہے ۔ پاکستانیوں کو اپنے اس دن کو منانا بھی اسی شان و شوکت سے چاہیے کہ غلامی سے آزادی تک کا سفر بڑا ہی خوف ناک اور اندوہ ناک بھی تھا ۔ خالی لٹتے لٹاتے ، کٹتے کٹاتے اور اپنوں کے لاشوں کو بغیر کفن دفن آہوں میں دفناتے خونی لکیر کو عبور کرنے کا نام آزادی تھا ۔ غلامی سے آزادی تک کا سفر آخری مغل بادشاہ سے لے کر جنگ آزادی ، تحریک خلافت و دیگر تحاریک سے ہوتا ہوا تقسیم برصغیر پر آکر رک سا گیا ۔ اس جگہ پر مسلمانوں کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ مسلمانوں نے برصغیر پر صدیوں حکومت کی تھی اور انگریز کے بعد وہ محکوم بن کر بھی اپنا ماضی نہیں بھول سکتے تھے ۔ اس وقت ہندوؤں نے انگریزوں کا ساتھ دے کر اپنا آپ مضبوط کیا اور پھر جب ایسٹ انڈیا کمپنی و انگریز نے برصغیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہندوؤں نے سرتوڑ کوشش شروع کی کہ وہ پورے برصغیر پر قابض ہوجائیں۔ یوم آزادی کے روز ہمیں اس وقت کی مسلم قیادت کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انھوں نے دنیا جہاں کی دشمنی مول لی ، خزانوں کو ٹھوکر ماری ، قیادتوں کے خواب چھوڑے اور پھر وہ کردکھایا جو کہ ناممکن حد تک مشکل تھا۔

    قیام پاکستان کا خواب جس قدر طویل تھا اسی قدر پرخطر بھی تھا ۔ جب فیصلے کی امید دونوں طرف بندھ گئی تو خوف و ہراس بھی پھیل گیا ۔ وہ لوگ جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ہم ساے تھے ، ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے پیتے ، اٹھتے بیٹھتے اور غمی و خوشی میں شریک ہوتے تھے ۔ دشمن بن گئے ۔ یہ ظاہر کرتا تھا کہ مسلم قیادت نے بروقت اور صحیح فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و تشدد شروع ہوا ۔ حالات بے قابو ہوے تو ہجرت کے فیصلے شروع ہوے ۔ ہندو بلوائیوں نے انسانیت کے نام پر کلنک کا ٹیکا لگا دیا۔ مسلم قافلوں پر حملے کرتے ، جوان بیٹیوں کو چھوڑ کر سب کو شہید کردیتے ۔ وہ جو بچپن میں ایک دوسرے کے گھروں میں کھیلے تھے وہی آج راکھی باندھنے والی مسلم بہن کو ہوس کا نشانہ بناکر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے نظر آ رہے تھے۔ قیام پاکستان جہاں شہداء کی مرہون منت ہے وہی پر پاک باز مسلم خواتین کی عزت و آبرو کا بھی مقروض ہے ۔

    آج ہم سب پاکستان میں موجود ہیں کسی بھی قسم کا خوف ہے اور نہ ہی کوئی بوجھ ۔ معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ تقسیم برصغیر کے وقت دی جانے والی لاکھوں قربانیاں رائیگاں گئی ہیں۔  اس وقت ہندو مسلم جھگڑے تھے ، ہندو ہوس زدہ درندے بلوائیوں کی شکل میں قافلوں کے قافلے تہہ تیغ کردیتے تھے ۔ آج علاقوں میں ، گلیوں اور چوراہوں میں مسلم ہوس کے مارے لوگ پاکستانی بچیوں اور عورتوں کی عزتوں کے درپے ہیں۔ "پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اللہ ” کا نعرہ لگانے والے ملک میں صنف نازک کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے ۔ قوانین موجود ہیں ، عمل درآمد کون کرواے ؟ آئیے اس بار جشن آزادی کے موقع پر اپنے آپ سے عہد کریں کہ اپنی بساط کے مطابق پاکستان کو اسلامی تعلیمات کے زیر اثر بنانے کی کوشش کریں گے ۔

  • یومِ آزادی 2021  اور وقت کے تقاضے تحریر:حُسنِ قدرت

    یومِ آزادی 2021 اور وقت کے تقاضے تحریر:حُسنِ قدرت

    یومِ آزادی ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے لیکن اس دفعہ کیونکہ کووڈ ہے اور پھر محرم الحرام ہے اسلیے ہمیں چاہیے کہ وقت کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے تھوڑی سی احتیاط کرتے ہوئے جشنِ آزادی منائیں
    ہر سال ہم لوگ دیکھتے ہیں کہ بچے چھوٹے چھوٹے باجے لیکر گلیوں میں بجا رہے ہوتے ہیں اور بڑے باجے بھی بھر پور طریقے سے بجائے جاتے ہیں جسکا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں اور ہماری آزادی ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے جسکا اظہار ہم سرِ عام باجا بجا کر کر رہے ہیں اسی طرح جھنڈیاں لائی جاتی ہیں پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے ،گلیوں بازاروں میں خوبصورت اور دلکش جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ برقی قمقمے بھی لگائے جاتے ہیں اور خوبصورت بیجز بھی ملتے ہیں جسے اپنے سینے پہ سجا کر ہر چھوٹا بڑا فخر محسوس کرتا ہے

    اس جشنِ آزادی آپ بیشک بیچز لگائیں ،پرچم کا ہم رنگ لباس زیبِ تن کریں لیکن باجوں سے پرہیز کریں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ محرم الحرام کا احترام کیوں کہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ غموں کا پہاڑ ٹوٹا اور شہادتیں ہوئیں اسلیے ہمیں چاہیے کہ انکے احترام میں باجوں سے پرہیز کریں نیز باجے بہت زیادہ صوتی آلودگی کا سبب بھی بنتے اسلیے بھی دوسروں کا خیال رکھیں
    حکومتِ پاکستان نے ایک بہت ہی خوبصورت منصوبہ گرین پاکستان شروع کیا ہے جسے کلین اینڈ گرین کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے سارے شہروں میں کتنے درخت لگانے ہیں یہ ایک ٹارگٹ سیٹ کیا گیا ہے اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے جیسا کہ بڑھتا ہوا ماحول کا درجہ حرارت یہ جب درخت لگائے جائیں گے تو اس میں کافی کمی آئے گی فضا دھویں اور زہریلی گیسوں کی موجودگی کی وجہ سے زیریلی ہو چکی ہے جب درخت لگائیں گے تو ماحول میں آکسیجن کی مقدار بڑھے گی اور دیگر زہریلی گیسیں جیسا کہ کاربن وغیرہ یہ کم ہوں گی جس سے ہمیں ایک صحت مند ماحول ملے گا
    جھنڈیاں جب ہم لوگ لگاتے ہیں تو وہ ہوا سے اڑ کر گِر جاتی ہیں اور انکی بہت زیادہ بے حرمتی ہوتی ہے اکثر تو کچرے میں گئی ہوتی ہیں اس سے بچنے کے لیے آپ ایک پرچم ہی اپنے گھر کی چھت پہ لگا دیں تو بہت ہے اور جتنے پیسوں سے آپ نے جھنڈیاں خریدنی ہیں ان پیسوں کا حساب لگائیں اور پودے لے آئیں انکی دیکھ بھال کریں اس طرح پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے یہ اقدام اٹھائیں

    اپنے بچوں کو جشنِِ آزادی کا مفہوم سمجھائیں اور انہیں اس سے تاریخی آگہی فراہم کریں انہیں ڈاکومنٹریز،ڈراماز ،سیریز دکھائیں جو تاریخ پاکستان بتاتی ہو لیکن انہیں اپنے الفاظ میں بھی ضرور سمجھائیں انہیں بتائیں کہ آزادی کی تاریخ کیا ہے کون لوگ تھے جنہوں نے آزادی کی تحریک شروع کی برصیغر میں،دیگر کون سی اقوام تھیں، دو قومی نظریے کی بنیاد کیسے پڑی ،مسلمانوں کی تعلیم کے لیے کس شخصیت نے کام کیا ، صحافتی میدان میں کس نے خدمات سر انجام دیں ، فلسفہء آزادی کس نے مسلمانوں کو یاد کرایا ،کس کے تفکر کی تلوار نے مسلمانوں کی ذہنی غلامی کی زنجیروں کو توڑا اور مسلمانوں میں شعور کو بیدار کیا خواتین نے کس طرح تحریکِ آزادی میں حصہ لیا مسلمانوں کی ہجرت اور تقسیم کے ساتھ ساتھ درپیش مسائل اور موجودہ پاکستان اسکے حالات کا تجزیہ تاریخی پسِ منظر میں کریں لیکن بہت ہلکے پھلکے الفاظ میں ایک کہانی کی طرح سنایا جائے جس سے بچے اس میں دلچسپی لیں اور اپنے ہیروز کو پہچانیں انکی طرح بننا چاہیں انکی طرح بننے کی کوشش کریں آج کی بچیاں بھی ناچنے والی ٹک ٹاکرز کی بجائے ان خواتین کو اپنا رول ماڈل بنائین جنہوں نے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انکی طرح باکردار بنیں
    کیونکہ یہی وقت کا تقاضا ہے اور ہماری ضرورت بھی

    Twitter: @HusnHere

  • حسد کیا ہے تحریر: زید علی

    حسد کیا ہے تحریر: زید علی

    انسان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ حسد ہے۔ اگر انسان حسد کرنا چھوڑ دے تو کامیابی کی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ حسد اکثر اپنوں سے ہوتا ہے۔ حسد کیا ہے؟ اگر کسی کو اللہ تعالی نے نعمتیں دی ہیں تو ان نعمتوں کو برداشت نہ کر پانا حسد ہے۔ اس سے نہ صرف ذہنی بیماری بڑھتی ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی انسان بیمار رہنے لگتا ہے۔ حسد انسان کو کامیابی سے دور کر دیتا ہے۔ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ بے شک وہی انسان نارمل ہے جس کی روح اور ذہن دونوں کام کرتے ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسد کرنے والے، چغلی کرنے والے اور کاہن نجومی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے”۔ (حدیث)
    حسد دوزخ کی آگ ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، بعض، عداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔ اے اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ”۔
    جس نے حسد پر قابو پالیا۔ اس نے اپنے اندر بیٹھے ایک شیطان پر قابو پالیا۔ حسد انسان کا اس وقت تک پیچھا کرتا ہے جب تک وہ اس حسد کو مار نہ دے۔ ایک بار مارنے سے نہیں مرتا۔ بار بار مارنا پڑتا ہے۔ اس کا علاج، محنت، قناعت اور شکرگزاری میں رکھا گیا ہے۔ کوشش کریں کہ زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کے ساتھ اچھا گزرے کیونکہ زندگی نہیں رہتی۔ مگر یادیں ہمیشہ رہتی ہیں۔
    اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (اشفاق احمد)
    آپ سچے دل سے محنت کرو کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کا صلہ ضرور ملے گا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم زیادہ وقت اپنی پڑھائی اور عبادت کو دیں تاکہ لوگ ہم سے حسد نہیں رشک کریں۔ بجائے اس کہ کے ہم دوسروں کو سوچنے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ ورنہ حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور حاسد کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ اپنی ہی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "حسد سے بچو۔ کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ "لکڑی” "یا خشک گھاس” کو کھا جاتی ہے۔” حسدصرف نیکیوں کو نہیں کھاتا بلکہ یہ انسان کے اندر کی انسانیت اور قلب کی روشنی کو بھی کھا جاتا ہے۔ اللہ عزوجل مجھے آپ کو اس بیماری سے بچائے۔
    اللہ تعالی ہم سب کو اپنی محنت پر توکل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

    Twitter: @ZaidAli0000

  • آؤ خیر تلاش کریں   تحریر : صالح ساحل

    آؤ خیر تلاش کریں تحریر : صالح ساحل

    بہت عرصہ سے سوشل میڈیا پر مختلف بحثیں دیکھی کے کسی ایک مکتب فکر یا اہل علم کے عقیدت مند اپنے نقط نظر کے حاملین کے علاؤہ دوسرے لوگوں سے دور بھاگتے نظر آتے ہیں انہیں بحثوں میں سوشل میڈیا پر انجینئر محمد علی مرزا اور مفتی طارق مسعود صاحب کے اختلاف کے چرچے کافی نظر آ رہے ہیں اور حیرت کی بات کے ایک کے عقیدت مند دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اسی کشمکش میں شاید ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کے ہمیں تو خیر کی بات شیطان سے بھی پتہ چلے تو لے لینی چاہیے ہم اپنی رہنما کی ہر بات کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے کی سہی بات بھی ناگوار لگ رہی ہوتی ہیں ایسے میں کیا ہم اپنا نقصان نہیں کر رہے اعلی حضرت ہوں یا مولانا مودودی کوئ صوفی ہو یا سلافی ، جاوید احمد غامدی ہوں یا مولانا الیاس قادری یہ سب خیر کی فیکٹریاں ہیں یہ یونیورسٹیاں ہیں ہم ان سب میں سے خیر تلاش کرنی تھی مگر ہم نے خیر کے بجائے دوسرے کی خامیاں تلاش کرنا شروع کر دی اگر کوئ شخص یہ سوچتا ہے کے دنیا میں کوئ شخص خیر ہی خیر ہے تو یہ اس کی کم عقلی ہے ہر شخص میں خیر اور شر موجود ہوتا ہے ہمیں چاہیے کے ہم خیر کو لیں اور شر سے کنارہ کشی کریں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہ قول میرے لیے ہمیشہ فائدے مند رہا ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے اجمال کفر کے ہوں اور اور ایک ایمان کا اور وہ اپنا مقصد واضح نہ کرے کے کیا کہنا چاہتا ہے تو ہمیں اس کے ایمان والے اجمال کو قبول کرنا چاہیے مگر ہم یہاں کسی کی ایک غلطی پر اس کی ساری خدمات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ہم نے اپنی اندار ایک بیماری اور پیدا کر لی اور وہ ہے شک کی بیماری ہمیں اپنے سے مختلف رائے دینے والا سازشی نظر آتا ہے ہمیں چاہیے اپنے سینوں کو واسط دیں سب اہل علم سے استفادہ کریں اپنے علم کو بڑھیں میں ہرگز نہیں کہتا کے آپ مفتی یا سکالر بن جائیں مگر کم سے کم اچھی اور برائ میں فرق کا پتہ لگانا مشکل نہ ہو بنیادی علم حاصل ہو آپ کو اہل علم کے اختلاف اپنی جگہ مگر ان میں موجود خیر کو اپنے اندر اکٹھا کریں اگر ہم دل کے برتن میں خیر ڈالیں گے تو ہماری ذات خیر کا موجب بنے گی اگر یہ برتن ہی ہم نے شر سے بھر لیا تو ہمارا وجود ہے شر کی آب یاری کرے گا آؤ خیر تلاش کریں ایسا نہ ہو کے دیر ہو جائے ذیل میں ہم بیان کرتے ہیں کے ہمیں کیا کرنا چاہیے جب کسی بات میں اختلاف ہو تو
    ۔۔۔۔
    آپس کے اختلافات اس بات کامظہر ہوتے ہیں کہ ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب انتہا پسندی سوچوں میں داخل ہو جائے تو اختلاف مخالفت بن جاتا ہےاور یہیں سے اس سفر کا آغاز ہوا جس نے فرقہ پرستی کو جنم دیا
    کچھ ضمنی سوالات اٹھے تو ان کے مختلف جوابات نے ”میں نہ مانوں” کا رویہ اختیار کیا اور دین کا بنیادی سبق ً عفو و درگزر” دور ہوتا چلا گیا اور انا و عصبیت کا عفریت چھاتا چلا گیا اب بھی وقت ہے کہ ہم تعصبات کے خول سے باہر جھانکنے کی کوشش کریں اور سینوں کو چوڑا کرنے کے بجائے دلوں کو کشادہ کریں
    اپنی طرف اٹھنے والی انگلی کو کاٹنے والا رویہ ترک کر کے اس انگلی کا ہمارے کس عیب کی طرف اشارہ ہے اس کی اصلاح کا بندوبست کریں
    میری نظر میں عجز و انکساری سے کوسوں دور چلے جانے کی وجہ سے ہم دین و دنیا کے ہر معاملے میں جذباتیت کا شکار ہیں
    @painandsmile334

  • مصطفی‏‎ﷺ کے نام کی جاگیر پاکستان ہے تحریر:صائمہ ستار.

    مصطفی‏‎ﷺ کے نام کی جاگیر پاکستان ہے تحریر:صائمہ ستار.

    پاکستان کا مطلب کیا؟”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ“
    دستورِ ریاست ہوگا بس محمدﷺرسول اللہ

    قیامِ پاکستان بِلا شُبہ قدرت کے معجزات میں سے ایک ہے. 1857 ءسے چھائ غلامی کی تاریک رات کی روشن صبح 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947ء کو لاکھوں شہداء کے خون سے طلوع ہوئ. یہ اللہ تعالیٰ کے چُنے ہوئے مُجاہد "محمد علی جناح” کی 40 سالہ ان تھک جدوجہد کا ثمر تھا .یہ اقبال کے خواب کی تعبیر تھا. آزادی کی اس مبارک جدوجہد کی بنیاد میں عظیم قائد کا نظریہ ”لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ“  تھا.قیامِ پاکستان سے قبل ایک موقع پر فرمایا
    "مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہوگا؟یہ تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟مسلمانوں کا طرزِ حکوت آج سے 1300 سال پہلے قرآن مجید نے واضح طور پر بیان کر دیا تھا. الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائ کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا.” قیامِ پاکستان کے بعد بھی متعدد مواقع پر آپ نے مختصر مگر جامع انداز میں یہ واضح کیا کہ نظریہ پاکستان سراسر نظریہ اسلام ہے. ایک موقع پر آپ نے فرمایا
    "ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں”.
    اسی طرح ایک اور موقع پر اسلام کے اس
    مردِ مجاہد نے فرمایا
    "پاکستان کے مطالبے کی وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری تھی نہ انگریزوں کی چال. یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا.” اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کے دوران فرمایا” اسلام ہماری زندگی اور وجود کا بنیادی سر چشمہ ہے”.آپ نے قومیت کی بنیاد کلمہ توحید کو قرار دیا. فرمایا "مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد صرف کلمہ توحید ہے۔ نہ وطن ہے‘ نہ نسل ہے”.راہنماہِ کامل سیدنا محمد مصطفی‎ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق مکمل طور پر اسلامی نظام کا قیام محمد علی جناح کا مقصد تھا. جسکا اظہار آپ نے ان الفاظ میں فرمایا
    ”میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اُسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے، جو ہمیں قانون عطا کرنےوالے پیغمبرِ اسلام‎ﷺ نے ہمارے لئے بنایا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پررکھیں۔“
    آپکے یہ تمام فرامین یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپکی جہدوجہدِ مسلسل کا مقصدِ اولین اسلامی قوانین کے مکلمل نفاذ کے ساتھ ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا. افسوس کہ عظیم قائد کو زندگی نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنی جدوجہد کے ثمر کو مکمل نظامِ مصطفی‎ﷺ میں ڈھلتا دیکھتے. وطنِ عزیز کی بہتری کی ہزاروں اُمنگیں سینے میں لیے مردِ مجاہد بہت جلد ابدی سفر کی طرف روانہ ہو گیا.وفات سے قبل آپ نے اپنے معالج سے فرمایا کہ
    "پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا، اگر اس میں فیضانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل نہ ہوتا“۔ اس ایک فرمان سے آپ نے اس راز کو عیاں کردیا کہ قیامِ پاکستان مکمل طور پر سیدنا محمد مصطفیﷺ کی عطا ہے. آپ ﷺ کی نظرِ رحمت اور فیضان آزادی کی جدوجہد کی تمام کوششوں پر بھاری تھا جسکے بغیر پاکستان کا وجود میں آنا ناممکن تھا.پاکستان کا ترقی پزیر ملک ہونے کے باوجود اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بننا بھی یقیناً رسول اللہﷺ کے فیضانِ نظر کی بدولت تھا. رسول اللہ ﷺ اپنی حیاتِ مبارکہ میں بھی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ہِند کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں.

    میرِ عربﷺ کو آئ ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میر ا وطن وہی ہے

    اس سے بڑھ کر افسوس کا مقام کیا ہو گا کہ سیدنا محمدﷺ جنکے فیضان سے جنکے قدموں کی خاک کے صدقے ہمیں یہ وطن ملا آج اُسی وطن کی پارلیمنٹ میں فرانس کی سرکاری سطح پر ہونے والی توہینِ رسالت پر ایک مذمتی قرارداد تک پیش نہ ہو سکی. اسی وطن میں معشیت کی مجبوری کے نام پر فرانس کو ایک سخت لفظی جواب تک نہ دیا گیا .تحریک لبیک پاکستان نے رسول اللہﷺ کی عزت کےلیے فرانس کے بائیکاٹ کی قرارداد کو اپنے چوبیس شہداء کے خون سے پارلمینٹ تک پہنچایا تو ایک رسمی سماعت ہوئ جس میں وزیر اعظم سمیت آدھی سے زیادہ اسمبلی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا. اجلاس میں قرارداد پر بات کرنے کی بجائے حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے ایک دوسرے سے لڑتے رہے یوں مزید سماعت غیر معینہ مدت کے ملتوئ کر دی گئی.اور آج تک ملتوئ ہے.پارلمینٹ کے پاس وقت ہی نہیں کے وہ محض چند منٹ ہی رسول اللہﷺ کی عزت کے قانون پر بات کرنے کے لیے نکال سکے.
    وزیر اعظم لیاقت علی خان نے نوزائیدہ سلطنت کو قائد اعظم کے نظریے کے مطابق سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا مگر قدرت نے جلد انہیں بھی بلا لیا. اسکے بعد آج 74سال گزر گئے قائدِ اعظم کے قدموں کی خاک کے برابر بھی لیڈر پاکستان کو نصیب نہ ہو سکا.ہر آنے والے وقت میں اسلام کے نام پر, لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے اس وطن میں مغرب سے قدم ملانے کی آڑ میں اسلام کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے.اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام برائے نام رہ چکا.سیکولر ازم اور لبرل ازم کے نام پر ہر روز اسلامی اشعار کی دھجیاں اڑائ جاتی ہیں.دو قومی نظریہ کی کُھلے عام نفی کی جارہی.ہماری منفرد تہذیب,معاشرتی اقدار اور اسلامی لباس جو ہماری پہچان تھا دو قومی نظریہ کی بنیاد تھا یہ نظریاتی تشخُص ختم ہوتا جارہا ہے.
    معاشی حالت کی ابتری کی وجہ سے سارا نظام سودی قرضوں کی بھیک پر چل رہا.سود جو اللہ تعالیٰ سے کُھلا اعلانِ جنگ ہے.پھر وطن ترقی کرے تو کیسے؟سود سے پاک معاشی نظام قائم کرنا قائد اعظم کا مقصد تھا اسلیے آپ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی بنیاد رکھی.مگر آج پاکستان کا تمام معاشی نظام بشمول سٹیٹ بنک کے آئ ایم ایف کے تیار کردہ اصولوں پر چل رہا.ہماری معاشی خودمختاری نام کی بھی نہیں رہی. ہر فرد کے پیٹ میں سود کا حرام لقمہ جارہا. اسلامی سزائیں مکمل ختم کر دی گئی ہیں جسکی وجہ سے نظامِ عدل بدترین مذاق بن کہ رہ گیا ہے.ہر شُعبہ زندگی میں ہم دنیا سے پیچھے ہی.اس زوال کی وجہ اس مقصد سے منہ موڑ لینا ہے جسکے لیے یہ وطن بنا اور یہ مقصد نظامِ مصطفی‎ﷺ کا نفاذ ہے.پاکستان کی ترقی کا واحد حل یہی ہے کہ سیدنا محمد‎ﷺ سے وفا ہر ملکی مفاد سے بڑھ کر کی جائے.دستورِ ریاست مکمل طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں ہو.مسلمانوں میں تبدیلی /ترقی اسلام کو پیچھے چھوڑ کر ہر گِز نہیں آسکتی.یہ وطن سیدنا محمد مصطفی‎ﷺکے نام کی جاگیر ہے اور اسےحقیقی معنوں میں ریاستِ مدینہ بنانے کے لیے اسلام کو محض لفظی نہیں عملی طور نافذ کرنا ہو گا. اللہ تعالئ ہمارے وطن کو کو قائدِ اعظم جیسی مخلص اور مُحبِ اسلام قیادت نصیب فرمائے.آمین

    نام تیرا تا ابد تا قیامت رہے
    اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
    سلامت رہے تا قیامت رہے(آمین)

    @SMA___23

    https://twitter.com/SMA___23?s=09

  • 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر کی جوتی

    دبئی میں دنیا کا مہنگا ترین جوتا تیار کیا گیا ہے جس کی مالیت پاس 2 کروڑ 36 لاکھ ڈالر (3 ارب 86 کروڑپاکستانی روپے) ہے-

    باغی ٹی وی : اس زنانہ جوتے میں سونے کی پتری لگائی گئی ہےجبکہ 100 سے زائد چھوٹے ہیرے بھی اس جوتےجڑے گئے ہیں جبکہ دو بڑے ہیرے بھی لگائے گئے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں جن میں 15 کیریٹ کا ڈی پرفیکٹ قیمتی پتھر بھی شامل ہے.

    دنیا کی یہ سب سے مہنگی جوتوں کی جوڑی مشہورِ زمانہ ’’جادا دبئی‘‘ اور ’’پیشن جیولرز‘‘ نے مل کر تیار کی ہے جسے ’’پیشن ڈائمنڈ شوز‘‘ کا برانڈ نیم دیا گیا ہے اس جوتے کو برج خلیفہ کے ہوٹل میں ڈسپلے کیا گیا ہے۔

    جادا دبئی کی شریک بانی، ماریا مجاری کہتی ہیں کہ ایسی ایک جوڑی کی تیاری میں ان کی کمپنی کو 9 مہینے سے بھی زیادہ لگ گئے کیونکہ یہ کام بہت احتیاط اور نفاست کا متقاضی تھا-

    واضح رہے کہ یہ کمپنی اس سے پہلے بھی ہیروں والے مہنگے ترین جوتے تیار کرچکی ہے البتہ، قیمتی سینڈلز کی اس نئی رینج میں انتہائی نایاب اور منفرد ہیرے استعمال کیے گئے ہیں؛ جن کی بناء پر یہ دنیا کی مہنگی ترین سینڈلز بھی بن گئی ہیں۔

  • اقبال کا پیغام قوم کے نام  تحریر: سید حسنین مشہدی

    اقبال کا پیغام قوم کے نام تحریر: سید حسنین مشہدی

    علامہ اقبال کے جزوی مطالعہ کے بعد کچھ جملے آج کے نوجوان اور مسلمان کے لیے کہ عصر حاضر کے مسلمانوں
    اپنی ملی پستی و زوال کا سبب خود ہیں لیکن شکوہ رب سے کرتے رب سے شکوہ کرنے کی بجاۓ پہلے ذرا اپنی اداؤں پر غور نھیں کرتے۔ تمھاری دینی حالت یہ ہے کہ تمھیں صبح فرض نماز کے لئے اٹھنا بھی گراں اور ناگوار ہے کاہلی نے تمہیں اپنے گرفت میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ دنیا کا شوروغوغا تمھیں سنائی نھیں دیتا پانچ وقت کی گونجتی آواز تمہارے کانوں پر کوئی اثر نھیں چھوڑتی اس قدر بےحسی اور لاپرواہی ہے ؛ گویا تمھیں رب سے پیار نہیں بلکہ اپنی نیند پیاری ہے۔ تمھاری طبیعت اور مزاج رب کے احکام کی پابندی سے اس قدر آزاد ہو چکی ہے کہ رمضان کے روزوں کی پابندی بھی تمھارے لئے مشکل ہے۔جب اللّٰہ تعالیٰ کی عطاء کا عالم یہ ہے کہ اللّٰہ کی طرف سے رحمت کی پکار آتی ہے لیکن تم رحمت سمیٹنا نھیں چاہتے اس کی طرف سے نعمتوں کی برسات کا نکارہ بجایا جاتا ہے لیکن تمھیں سنائی نھیں دیتا ۔ تو تم ہی بتاؤ کہ وفاداری کا اصول اور دستور یہی ہے تمھاری نگاہ میں؟ کہ رب کی رضا کے لئے فرض نماز روزے کی پابندی بھی نہ کرو؟ ارے نادان مسلمانو؛ تم ایک منظم قوم اور مضبوط قوت اپنے مذہب یعنی دین اسلام کی بدولت تھے؛ دنیا میں تمھاری ترقی اور عروج کا راز یہی تھا؛ آج تم نے قرآن و سنت کی رسی چھوڑ دی ہے تو تمھارا باہمی نظم و ضبط بکھر چکا ہے سو تم مسلمان ایک منظم اور طاقتور ملت نہیں رہے بلکہ ایک منتشر ہجوم اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہو جسے یہود ہنود ہانک رہا ہے تم خود اپنی ذلت کا سبب بنے ہوۓ ہو کیوں بھول جاتے ہو اپنی اسلاف کی قربانیوں کو ۔آج تم اپنے اسلاف کے نام سے خود کو متعارف کروانا چاہتے ہو لیکن خود عمل پیرا نھیں ہونا چاہتے
    ارے ! تھے تو وہ آبا ہی تمہارے تم کیا ہو؟
    آج تم وہ ہو جس کی دنیا میں کوئی وقعت اور اہمیت نہیں ہے؛

    علامہ محمد اقبال نے اپنی مسلم قوم کے سوۓ ہوۓ ضمیر کو جگانے کی کوشش کی ہے کہ ؛جو قوم کبھی کلیساؤں میں آذانیں دیا کرتی تھی جو قوم کبھی بتوں کو نیست نابود کیا کرتی تھی آج وہی قوم بت خانے آباد کرنے میں لگ گئی ہے؛

    تلواروں کے سائے میں اللّٰہ اکبر کی صدائیں لگانے والوں کی ذلت کا یہ عالم ہے کہ
    آج اس قوم کی بیٹی کلیساؤں اور بت خانوں میں محفل کی زینت بنی ہوئی ہے جس قوم کی بیٹی کی ردا کے لیے املاک فتح کیے جاتے تھے جس قوم کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کی دیواریں مسلم قوم کے جاہ وجلال کے آگےحل جایا کرتی تھیں لیکن آج وہی قوم خود اپنی ذلت کا سبب بنی ہوئی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی دی ہوئی دولت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ہم میں مذہبی آہنگی کا تصور ختم ہوگیا ہم نے مذہب کو صرف روایتی لحاظ دیکھا اور جس مذہب کو ہم نے حرف کل سمجھنا تھا اس کو ہم جزوی طور پر بھی اپنانے کو تیار نھیں ۔ہم نے اللّٰہ کے مقابل اپنی آسائشوں کو ترجیح دی اور رب کے حکموں کو پس پشت ڈال کر بڑھنا چاہا جو رب کو ناگوار گزری۔

    @SyedHR92

  • ہیکر نے 260 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی واپس کردی

    ہیکر نے 260 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی واپس کردی

    پولی نیٹ ورک کے مطابق ہیکر نے کرپٹو کرنسی چرانے کے ٹھیک 24 گھٹنے بعد تقریباً آدھی مالیت کی ڈیجیٹل رقم واپس کردی ہے پولی نیٹ ورک میں ایک کمزوری نے ہیکرز کو پلیٹ فارم میں داخل ہونے اور کافی رقم نکالنے کی اجازت دی-

    باغی ٹی وی : پولی نیٹ ورک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں بتایا کہ گزشتہ روز ہیکر نے بلاک چین پلیٹ فارم “پولی نیٹ ورک” کے سسٹم سے 600 ملین ڈالر مالیت کی ایتھیریم اور دیگر کرنسی کے ٹوکن چرائے تھے۔


    ایسی صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے ، پولی نیٹ ورک نے رقم کی وصولی کے لیے ایک دلچسپ حکمت عملی استعمال کی ہے: براہ راست ہیکرز سے اس کی درخواست کی ایک عوامی خط میں اور ٹویٹر پر، پولی نیٹ ورک نے ہیکرز سے پیسے واپس مانگے۔ انہوں نے پیغام میں کہا ، "آپ نے جو رقم چوری کی ہے وہ کرپٹو کمیونٹی کے ہزاروں ممبروں کی ہے۔”

    پچھلے چند گھنٹوں میں ہیکرز نے چوری شدہ کرنسی میں سے کچھ واپس کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے پولی نیٹ ورک کو پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ فنڈز واپس کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہیکر اورمتاثرہ نیٹ ورک کے درمیان رابطے قائم ہونے کے بعد ، پولی نیٹ ورک نے درخواست کی کہ اسے تین مختلف والٹس میں منتقل کیا جائے-


    بلاک چین پلیٹ فارم پولی نیٹ ورک نے تازہ ترین ٹوئٹس میں کہا کہ کرپٹو کرنسی چوری میں ملوث ہیکر نے 260 ملین ڈالرز (جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 42 ارب 43 کروڑ سے زائد بنتی ہے) کے ڈیجیٹل ٹوکن واپس کردیئے ہیں۔


    پولی نیٹ ورک نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ ہیکر نے تین کرپٹو کرنسیوں سے متعلق ڈیجیٹل ٹوکن واپس بھیجے ہیں جن میں 3.3 ملین ڈالرز ایتھیریم، 256 ملین ڈالرز بائننس سمارٹ چین (بی ایس سی) اور 1 ملین ڈالرز مالیت کے پولیگون شامل ہے۔

    پولی نیٹ ورک نے کہا کہ کہ ہیکر کو باقی ماندہ رقم کی واپسی اور اس کا “حل نکالنے کے لیے” رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے ویب سائٹ نے کہا ہے کہ چوری کی گئی کرنسی ڈی سینٹرالائزڈ فنانس انڈسٹری میں اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

    پولی نیٹ ورک ایک فنانسنگ پلیٹ فارم ہے۔ اس کا بنیادی مشن مختلف کریپٹو کرنسیوں کے بلاک چینز کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں مدد کرنا ہے۔”

  • اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی

    اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی

    جرمن کار کمپنی اوڈی نے مستقبل میں لگژری خودکار گاڑیوں کی جھلک دکھا دی کمپنی نے اسکائی سیفیر (Sky sphere) کو پرائیویٹ اسکریننگ میں متعارف کرایا ہے، مگر جلد باضابطہ طور پر بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی جس کی عام لوگوں کو دستیابی ممکن نہیں تاہم عوام کے لیے اسے مختلف موٹر شوز میں ضرور رکھا جائے گا تاکہ وہ مستقبل کی اس گاڑی کو دیکھ سکیں۔

    اوڈی “اسکائی سیفیر” ایسی حیران کن گاڑی ہے جس کی لمبائی کو بڑھایا یا گھٹایا جاسکتا ہے۔ گاڑی کے فرنٹ وہیلز کا بیس بھی 9.8 کم کیا جا سکتا ہے وہ بھی صرف ایک بٹن کی مدد سے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ 4 ہزار پونڈ وزنی یہ گاڑی محض 4 سیکنڈ میں 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سنگل چارج پر 310 میل کا سفر آسانی سے طے کرسکتی ہےالیکٹرک گاڑی میں موجود بیٹری پیک 80 کلو واٹ سے زیادہ کی گنجائش رکھتی ہے جبکہ سنگل الیکٹرک موٹر 624 ہارس پاور فراہم کرتی ہے۔
    https://youtu.be/0McQmw0h5mQ
    گاڑی میں مکمل طور پر ڈیجیٹل ڈیش بورڈ ہے جس میں 141 سینٹی میٹر چوڑی/18 سینٹی میٹر ہائی ٹچ اسکرین نصب ہے۔ جی ٹی موڈ پر یہ گاڑی خودکار طور پر ڈرائیو کرے گی اور اگر آپ اسے خود ڈرائیو کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اسپورٹ موڈ پر جانا ہوگا۔

    یہ 2 ڈور گاڑی ‘ اسپورٹ ‘ نامی بٹن کو دبانے سے اپنی شکل بدل لیتی ہے اور ڈیش بورڈ کے نیچے پیڈلز ابھرتے ہیں اور 2 سیکشنز میں تبدیل ہوکر کاک پٹ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

    اس کا ہائپر بولیکیلی لانگ ہڈ درمیان سے تقسیم ہوجاتا ہے اور ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جس میں کچھ سامان رکھا جاسکتا ہےاس کی چھت کپڑے سے بنی ہے جس کو آسانی سے ہٹایا جاسکتا ہے جبکہ فرنٹ سیٹس کے پیچھے 2 ہلکے کمبل موجود ہیں جس کا مقصد مسافروں کو سرد موسم سے بچانا ہے۔

    اوڈی اے جے کے سربراہ ہنرک وانڈرز نے بتایا کہ یہ ہمارے مستقبل کے ویژن کا پہلا حصہ ہے تین مستقل کی تصوراتی گاڑی میں سے اسکائی سیفیر کے بعد ‘گرینڈ اسپیئر’ اور ‘اربن اسپیئر’ لانچ کیے جائیں گے۔

  • ای سی سی نے ترسیلات زر بڑھانے کے لئےایپ متعارف کرانے کی منظوری دیدی

    ای سی سی نے ترسیلات زر بڑھانے کے لئےایپ متعارف کرانے کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے اوور سیز پاکستانیوں کے لئے موبائل ایپ متعارف کرانے کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ای سی سی نے مذکورہ ایپ کی منظوری ترسیلات زر کو فروغ دینے کیلیے دی ہے نیشنل ریمٹنس لائلٹی پروگرام کے تحت اورسیز پاکستانیز کو مراعات دی جائیں گی، اسٹیٹ بینک اکتوبر کے آخر تک ایپ جاری کرے گا-

    وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ہوا جس میں نیشنل ریمٹنس لائلٹی پروگرام کے اسٹرکچر اور مالی اثرات کی منظوری دی گئی۔

    پروگرام کے تحت اورسیز پاکستانیوں کیلیے اکتوبر کے آخر تک موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی جس کا مقصد ترسیلات زر بڑھانے کیلیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے-

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے ریمٹنس لائلٹی پروگرام اور موبائل ایپ کے اجرا سے پہلے اسٹیٹ بینک کو دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز سے ضروری مشاورت کی ہدایت کر دی۔

    جبکہ سیکرٹری خزانہ یوسف خان نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ مالی سال ریکارڈ 29 ارب 40 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، ترسیلات زر کا سالانہ ہدف 31 ارب 25 کروڑ ڈالر مقرر کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب وزیرخزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی تجاویز پر آئی ٹی انڈسٹری سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں جس میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کو نقد انعامات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئی ٹی برآمدات کا ایک فیصد سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے لیے مختص کیا جائے گا اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فنڈز کو اسکل و بزنس ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی پارکس کے قیام پر خرچ کرے گا۔

    آئی ٹی کمپنیوں کے ٹیکس مسائل سے متعلق وزارت خزانہ نےاختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اور ایف بی آر نظر ثانی شدہ ٹیکس تشریحات تشکیل دے گا۔

    شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کو معاملات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرا ئی جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا تھا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر خزانہ کے مشکور ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ ملکی معاشی اور سائنسی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے میں ترقی کیلئے فعال اقدامات اٹھائے جائیں عالمی سطح پر ترقیاتی پالیسیوں کا فوکس ترقیاتی منصوبوں سے انسانی وسائل کی فکری ترقی کی سمت جارہا ہے۔ پاکستان کو انسانی وسائل کی سائنسی اور فکری ترقی کے لئے جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔