آج کل جہاں دشمن ہمارے پیارے ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہاں ہمارے گمنام ہیروز اپنے وطن پاکستان کے دفاع کیلئے ہر دم تیار ہیں آج میری گمنام ہیروز کی مراد وه تمام محب وطن پاکستانی ہیں جو بے لوث ہوکر اپنی مدد اپ کے تحت دشمن کی سوشل وار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور دشمن کو لاجواب کر رہے ہیں یہ تمام لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے پیارے وطن کے لیے ہر دم حاضر ہوتے ہیں یہ سوشل میڈیا کی جنگ (وار) لڑنا بہت اہم ہے دشمن ممالک ہمارے ملک کے خلاف عالمی سطح پر جھوٹی خبرے پھیلاتا ہے تاکہ پاکستان سے دوسرے ممالک نفرت کریں اور پاکستان کی عزت و وقار میں فرق آجائے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا الحمداللہ ہماری نوجوان نسل اب میدان میں اگئی ہے اور دشمن کی ہر سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے تیار ہے خاص کر ہمارا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے خلاف غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلا رہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند لوگ ہیں پاکستانی امن نہیں چاہتے اور اس طرح کی بہت سی فیک چیزے جو بھارت اپنے میڈیا پر چلا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف دنیا کو اکسانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اب مجھے فخر ہے کہ نوجوان نسل جن کو میں گمنام ہیروز کا لقب دیتا ہوں یہ بھارت کی سازشوں کو چکنا چوڑ کررہے ہیں اور پاکستان کا حقیقی اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لارہے ہیں کہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں ہم انتہا پسند نہیں ہیں ہم خطے کے امن پر ہی یقین رکھتے ہیں
بھارت جتنی مرضی اب پاکستان مخالف جھوٹی کمپين چلوا لے بھارت کو اب منہ کی کھانی پڑے گی کیوں کہ اب پاکستانی یوتھ ان کی چھترول اب سوشل میڈیا وار میں بھی کرے گی اور پاکستان کا نام جو بدنام کرنا چاہے گا اس کو یہ گمنام ہیروز بے نقاب کریں گے اور مودی جو کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں کے حقوق ان سے چھین رہا ہے اور ظلم کی انتہا کر رہا ہے پاکستانی گمنام ہیروز اس پر خاموش نہیں رہے گے مودی اور بھارتی فورسز کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مودی حقیقت میں انتہا پسند ہے اور آج دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر میں مودی اور بھارتی فورسز نے کرفیو لگایا ہوا ہے اور کشمیر میں ناانصافی کررہے ہیں کہاں گے انصاف فراہم کرنے والے عالمی ادارے کو انصاف کے دعوے دار ہیں اور کہاں گے ہیومن رائٹس کہاں گے عالمی قوانین کیوں بھارت کے آگے عالمی ادارے خاموش ہیں کیا وجہ ہے ؟؟
ہمارے گمنام ہیروز نے جس طرح کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے رکھا اس پر تمام کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں اب وقت ہے کہ ہم ایک قوم بن کر اپنے دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کو اسی طرح بے نقاب کرتے رہے پاکستان کا جھنڈا ہمشہ بلند رہے گا اور ہم ہر دم وطن کے دفاع کیلئے حاضر رہے گے
آئیں آج عہد کرتے ہیں کہ اپنے پیارے وطن پاکستان کو جب جب ہماری ضرورت پڑے گی اسی جذبہ سے اپنے ملک کی خدمت کرے گے جس طرح سے ہمارے اباؤ اجداد نے اس وطن کو حاصل کرنے میں قربانیاں دی ہیں اور انکی بے پناہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ پیارا وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان ملا اور میری للّه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سب کو اپنے عظیم ملک پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے جذبہ عطاء فرما
پاکستان زندہ باد!
Twitter Account : @AhsanAliButtPTI
Category: بلاگ
-

پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ
-

پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے تحریر؛شمسہ بتول
14 اگست 1947، ,27 رمضان المبارک کی بابرکت رات کو ایک عظیم ریاست وجود میں آٸی جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ پاکستان ہمارے لیے اللّٰہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ ہمارے آباٶاجداد کی لاتعداد قربانیوں کے بعد ہمیں یہ وطن عزیز حاصل ہوا جس میں ہم اپنی مرضی سے اپنے اپنے کلچر اور مذہب کی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکتے۔
پاکستان اندھیروں میں ایک امید کی کرن بن کر ابھرا جہاں ہر فرد کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا گیا خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار یا کسی بھی نسل سے ہو ۔ اس وطن کی قیام میں ہمارے شہیدوں کا لہو ، ہماری بہنوں کی عزتیں بھی شامل ہیں اور یہ سب قربانیاں ہمارے بڑوں نے اپنی آنے والی نسل یعنی ہمارے لیے دیں تھی مگر افسوس ہم نے ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا اور اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کی جیسا کہ اسکی قدر کرنے کا حق ہے۔
آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے وطن کی سڑکوں یا گلی کوچوں میں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا شروع کر دیں۔ اس کے قوانین توڑیں اور نہ ہی اسکا یہ مطلب ہے کہ آپ اس ملک کو کوسنا شروع کر دیں کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلہ ہے وغیرہ وغیرہ سو اس لیے جی ہم باہر چلے جاتے ہیں ۔یہاں مساٸل کے علاوہ رکھا ہی کیا ہے اور اس طرح کی بہت سی باتیں جو کہ سراسر غلط ہوتیں ہم بڑے فخر سے کہہ رہے ہوتے۔
آزادی راۓ کے نام پہ ملک کو کوسنا منافقت کے زمرے میں آتا ہے اس ملک نے آپ کو شناخت دی ایک پہچان دی عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا اور محض چند مساٸل کی بنیاد پر یہ کہہ دینا کہ یہاں ہے ہی کیا جبکہ ہمیں تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے بڑوں نے لہو دے کر اسے حاصل کیا اب ہم نے محنت و لگن سے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اس کے مساٸل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہے نہ کہ اسے چھوڑ کر بھاگ جانا ہے
اور جن کے پاس باہر جانے کا آپشن نہیں ہوتا وہ پھر سارا سال اسکی سڑکوں پہ کوڑا کرکٹ پھنکتے یا پھر بجلی چوری کر لی یا ٹیکس چوری اور پھر شور مچانا شروع کر دیتے کہ جی پاکستان میں تو مساٸل ہی بہت ہیں۔ اور پھر سال میں ایک دن 14 اگست پہ جھنڈا لگا کے اور سوشل میڈیا پہ پوسٹ شیٸر کر دی یہ بتانے کے لیے جی ہمیں تو بڑی محبت ہے بس ایک دن کے لیے ۔اس طرح فرض ادا نہیں ہوتے عملی طور پر اس سے محبت کرنا سیکھیں صرف ترانے کے وقت کھڑا ہو جانا کافی نہیں بلکہ ادب کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ آپ اس ملک میں ٹیکس چوری نے کریں اس کے وساٸل کا بے دریغ استعمال نہ کریں بجلی چوری نہ کریں پانی اور گیس ضاٸع نہ کریں اس کی سڑکوں اور گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں۔
اس دن باجے بجا کر ٹاٸم پاس کرنے کی بجاۓ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ بیٹوں یہ دن تجدید عہدو وفا کا دن ہے اس دن ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد ریاست میں سانس لے رہے اور عزت و تحفظ کے ساۓ میں جی رہے ہیں ۔لہذا ہم اس دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر ممکن پاکستان کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کریں گے اس کے وساٸل کا ضیاع نہیں کریں گےاور اس کے قوانین کا احترام کریں گے اور پوری ایمانداری سے اس وطن کے فراٸض جو کہ ہمارے اوپر لاگو ہیں ہم ادا کریں گے۔
اور یہی اس وطن سے محبت اور وفا اور ادب کا تقاضہ ہے۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان کے بغیر ہمارا کوٸی وجود نہیں اور نہ ہی کوٸی شناخت۔ مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے😇@b786_s
-

معاشرتی و سماجی جرائم و مسائل تحریر : علی حیدر
ذی شعور ذمانے کے باسی ہونے کے باوجود بھی کرہ ارض سے ابھی تک انسان ہزاروں سال سے موجودہ جرائم کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ شاید یہ انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر موجود رہے جو اب ہمارے رگ و پے میں سما کر ہماری فطرت بن چکے ہیں۔ حالیہ دور میں یہ جرائم ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں لیکن حالات کچھ ایسے ہیں کہ ان جرائم و مسائل کو جرم تسلیم کرنا تو درکنار ان کی طرف توجہ ہی نہیں دی جاتی کیونکہ ایسے مسائل سے معاشرے کے ہر فرد کا دامن آلودہ ہے۔
چغل خوری , بہتان تراشی , شراب نوشی , جوا , ڈکیتی جسمانی و جنسی تشدد اور رشوت خوری ہمارے معاشرے کے وہ جرائم ہیں جن سے ہمیشہ بےغفلت برتی گئی اور ان کے خلاف کسی بھی ذمانے میں مؤثر اور دیرپا اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ چناچہ یہ مسائل اب ہماری سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر کے ہمارے معاشرے کا شیرازہ بکھیر رہے ہیں۔
یہ مسائل ایک دوسرے کے اسباب ہیں ۔ رشوت ستانی مجرم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ مجرم کو اس بات کا ادراک پہلے سے ہوتا ہے کہ اس کو مزاحمت و تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور وہ قانون کے جال کو چند نوٹوں کے عوض توڑ کر اپنا تحفظ یقینی بنا لے گا۔ اس سے بے روزگاری ,سماجی کاہلی اور حق تلفی کو فروغ ملتا ہے کیونکہ معاشرے کا غالب اور امیر طبقہ اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر غریبوں کا حق غصب کرتا ہے اور ان کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔اگر معاشرے میں پنپتے ہوئے تمام مسائل کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو شاید رشوت خوری کے منفی اثرات میں باقی تمام مسائل کے منفی اثرات پر غالب اور ذیادہ تباہ کن ہوں گے کیونکہ رشوت خوری ہر طرز کے مجرم کی جان بخشی کرتی ہے۔ ڈکیت , غاصب اور متشدد انسان جو مختلف جرائم میں ملوث ہوتے ہیں وہ بے خوف اور بے دریغ جرم سرانجام دیتے ہیں۔
سماج میں موجود منشیات کے عادی افراد ہمارے لئیے المیہ ہیں اور معاشرے کا قابل فکر پہلو ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذندگیوں میں مفلوج اور ناکارہ ہوتے ہیں ۔ منشیات کی لت میں مبتلاء ان افراد کو اکثر ریپ کیسز اور ڈکیتیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ منشیات کے عادت کے اسباب میں ذمے داریوں سے فرار , احساس محرومی و کمتری اور غربت قابل ذکر ہیں۔ ان افراد کی بہتر مشاورت سے ان کو معاشرے کا مثبت فرد بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی واضح طریقہ کار اور لائحہ عمل نہیں ہے جس سے ایسے افراد کو معاشرے میں دوبارہ مثبت فرد کے طور پہ بحال کیا جا سکے۔
ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور جنسی تششدد سب سے ذیادہ عام اور تشویشناک ہے ۔ اس حوالے سے ہمارا معاشرہ دو واضح طبقوں میں منقسم ہے ۔ مذہبی طبقے کا مؤقف یہ ہے عورت کی آزادی اور بے پردگی بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہی ہے ۔ دوسرا طبقہ سیکولر ہے جو اس بات کو رد کرتا ہے۔ سیکولر طبقے کے مطابق معاشرے میں ریپ کیسز کی وجہ جہالت ہے۔
وجوہات کی بہتر جانچ کے بعد واضح لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے اس جرم کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس جرم پر مجرم کو سخت سزا دے کر اور مناسب تعلیم و شعور کو فروغ دے کر جنسی تشدد اور ذنا کو کافی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔
جھوٹ , دھوکہ دہی , بد دیانتی , بہتان تراشی اور چغل خوری وہ مسائل ہیں جن کا سامنا روزمرہ ذندگی میں معاشرے کے ہر فرد کا ہوتا ہے۔ ان مسائل پر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان مسائل کو مسائل ہی نہیں سمجھا جاتا ۔ دراصل معاشرے میں ایسے مسائل کی بلند شرح ہماری شعوری گراوٹ اور اخلاقی پستی کو ظاہر کرتی ہے۔ چغل خوری , جھوٹ اور مکرو فریب جیسے روزمرہ جرائم کے ارتکاب سے نفرتیں جنم لیتی ہیں اور عزیز و اقارب کے رشتوں میں فاصلوں کا سبب بنتے ہیں۔ معاشرے میں اپنا وقار بلند رکھنے اور سزا سے بچنے کے لئیے ہر انسان جھوٹ اور فریب کا سہارا لیتا ہے۔ ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے بہتر اور مؤثر آگاہی اور مناسب تعلیم سے ختم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مسائل قدر ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں کہ ان کو مکمل طور پہ ختم کرنا نا ممکن ہے۔
جوا اور سٹہ بازی بھی ہمارے معاشرے کے ان جرائم میں شامل ہیں جن کے تدارک کے لئیے واضح قانون اور لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ جوے کے عادی افراد مجرمانہ ذہنیت کے حامل اور کاہل ہوتے ہیں جو اپنی تمام تر جائیداد کو نیلام کر کے داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ جوا بھی شراب کی طرح انسان کو معاشرے کا مفلوج اور ناکارہ فرد بنا دیتا ہے۔ ایک جواری کی روزمرہ ذندگی کے معاملات میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کیونکہ وہ آسان راستہ اپنا کر دولت کے حصول کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئیے ایک جواری اکثر چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھی نہیں کتراتا ۔معاشرے کو ایسے جرائم سے پاک کرنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ مناسب قانون سازی کر کے قانون کو متحرک بنایا جائے جو مجرم کو چوری , ڈکیتی , ریپ اور شراب نوشی جیسے جرائم میں ملوث ہونے پر سزا دے ۔ جبکہ دیگر مسائل جیسا کہ جھوٹ , بہتان اور چغل خوری کے تدارک کے لئیے مناسب آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔
@alihaiderrr5
-

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ
وہ جس کے انصاف کی گواہی آج بھی دنیا دیتی ہے،وہ جس نے آدھی دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا تھا،وہ جس کو دیکھ کے شیطان بھی راستہ بدل لیتا تھا، وہ جس کے خوف سے دشمن کانپ اٹھتا تھا، وہ جس کے اسلام قبول کرنے کی دعائیں میرے نبی محمد ﷺ نے مانگی تھی، وہی ہستی جس کا آج یوم شہادت ہےاور کوئی عام نہیں بلکہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا : "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔” وہ جس کے اسلام قبول کرنے پہ میرے نبیﷺ نے کہا کہ اٹھو بلال! آج اذان چھپ کر نہیں بلکہ کعبہ کی چھت پر جا کر دو تاکہ کفار کو پتہ چلے عمر اسلام قبول کر چکا ہے، وہ جس کی شہادت پہ یہودی کہنے پہ مجبور تھے کہ اگر عمر دس سال زندہ رہ جاتے تو مشرق سے مغرب تک ایک یہودی بھی نہ بچتا اور پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوتا۔
دنیانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعدایسا حکمران نہ دیکھا جس نے 22 لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کر کےاس پہ حکومت کی لیکن ایک دن زار و قطار روتے دیکھائی دیے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ نہر کے پل سے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ گزر رہا تھا اور پل میں ایک سوراخ تھا ، اس سے ایک بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی میں اس لیے رو رہا ہوں کہ کل میں خدا کے ہاں جوابدہ ہوں گا کہ تر ی حکومت میں بکری کی ٹانگ ٹوٹی تو کیوں ٹوٹی ہے تو اس پل کو مرمت نہیں کروا سکتا تھا۔اتنا خوف خداوندی تھا کہ کہتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر کو اللہ کے ہاں جواب دینا ہوگا۔بہادری اس قدر تھی کہ ہجرت کا وقت تھا تمام لوگ کفار کے ڈر سے رات کے اندھیرے میں مکہ سے مدینہ جا رہے تھے تو ایسے میں عمر فاروق اپنی تلوار لہراتے مکے کی گلیوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ جس نے اپنے بچوں کو یتیم کروانا ہے اور بیویوں کو بیوہ کروانا ہے تو وہ آئے عمر کا راستہ روک کے دیکھائے کیوں کہ عمر آج ہجرت کر رہا ہے۔عوام کا احساس اس حد تک تھا کہ راتوں کو گلیوں میں بھیس بدل کے پہرہ دیتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں ہے ان کی سلطنت میں۔
محمدؐ کے صحابی کا وہ زمانہ یاد آتا ہے۔
بدل کر بھیس گلیوں میں وہ جانا یاد آتا ہے۔
احتساب، برابری اور انصاف کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ سب سے پہلے خود کو اس کے لیے پیش کیا ایک مرتبہ ابی بن کعب اور آپ کے درمیان اختلاف ہوگئے اور یہ معاملہ قاضی زید بن ثابت کو پیش کیا گیا جب معاملہ شروع ہوا تو امیرالمومنین کا لحاظ کرتے ہوئے قاضی نے آپ کا احترام کرنا چاہا توآپ نے روک دیا اور فرمایا یہ تمہاری پہلی ناانصافی ہے یہ کہہ کر ابی بن کعب کے برابر بیٹھ گئے جب گواہ طلب کیے گئےتو آپ کا کوئی گواہ موجود نہ تھا لہذا آپ کو مدعی علیہ کے طور پر قسم کھانی تھی قاضی نے پھر سفارش کی کہ امیر المومنین کو قسم کھانے سے معاف کر دیا جائے ۔آپ رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے فرمایا یہ تمہارا دوسرا ظلم ہے پھر معاہدے کے مطابق قسم کھائی اور فرمایا "اے قاضی انصاف کرتے وقت جب تک امیر اور فقیر اور ایک عام آدمی تمہارے نزدیک برابر نہ ہو تم قاضی کے عہدے کے قابل نہیں سمجھے جاسکتے ۔”
خلیفہ دوم نے حکومت چلانے کےوہ طریقے بتائے جن پر آج تک عمل ہو رہا ہے سلطنت کو صوبوں میں تقسیم کیا اور انکے عہدداروں کو نصحیت کی کہ رعایا کے لیے ان کے دروازے ہر وقت کھلے رہنے چاہیےپھر پولیس کا محکمہ قائم ہوا اور افسران کو حکم دیا کہ امن کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دیکھ بھال بھی کرتے رہے ایسے ہی عدالتی نظام بھی انہیں کے دورخلاقت میں رائج ہوا اور ججز کو اختیار حاصل تھا کہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان رہبروں میں سےہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں تک کے لیے زندگی کی اصول واضح کیے جن سے آج بھی دنیا استفادہ حاصل کرتی ہے۔اگر آج اسلامی دنیا پھر سے عروج اور دنیا پہ اپنی حکمرانی چاہتی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا جائزہ لے اور اسے اپنی مشعل راہ بنائیں ۔ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان نہ کرے اور اگر واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو اسلام کی ایسی تعلیمات کو ہرگز فراموش نہ کریں۔
تقاضا ہے کہ پھر دنیا میں شان حق ہویدا ہو
عرب کے ریگزاروں سے کوئی فاروق پیدا ہو
بڑا غوغا ہے پھر قصر جہاں میں اہل باطل کا
کوئی فاروق پھر اٹھے تو حق کا بول بالا ہو@MS_14_1
-

مراد_رسولؐ حضرت عمرؓ بن خطاب تحریر : انجینیئر مدثر حسین
دنیا میں عشق کی ایک سے بڑھ کر ایک مثالیں گزری ہیں۔ میرا قلم اتنا قابل نہیں کی فضائل حضرت عمرؓ پر لکھ سکے۔ کیونکہ یہ وہ صحابہ کرام اور ان سے منسلک ہر چیز اللہ رب العزت کی جانب سے منتخب کی گئی۔ قرآن بھی جگہ جگہ اس کی گواہی دیتا ہے۔ ہر اک چیز کو چنا گیا ہے۔اسی طرح اللہ کریم نے امت میں سے جسے چاہا دین کا نور عطا کیا اور صحابہ کرام کے درجے پر فائز فرمایا۔ اعلان نبوت کے ابتدائی دور میں تو چھپ چھپ کر عبادت کا سلسلہ جاری رہا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چھپ کر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھے ہوے تھے۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جزبہ دیکھتے ہوئے اللہ کے حبیب حضور خاتم النبیین محمد صلی الله عليه وآلہ وسلم نے اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور التجا کی کہ میرے رب دین کو مکہ کے دو بہادر ہستیوں میں سے ایک سے تقویت عطا کر۔ اللہ رب العزت کے اسلام کے لیے خاندان شجاعت کے پھول اور نسل _ خطاب سے حضرت عمرؓ کو دین کی دولت سے نواز دیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت کے چرچے پورے عرب میں تھے۔ مائیں اپنے بچوں کو خوف دلاتی کہ سو جاؤ عمر آ جاے گا۔ جب یہ تحفہ اسلام کو ملا تو آپ رضی الله تعالیٰ عنہ مراد رسول ﷺ کہلاے کیوں کہ آپ کو باضابطہ طور پر اسلام کی شجاعت و مرتبت کے لیے منتخب کیا گیا۔ آپ رضی الله تعالیٰ عنہ کے اسلام قبول کرتے ہی پہلا اعلان جو فرمایا کہ ۔ مسلمان اب کھلے عام اللہ کی عبادت کریں گے کون ہے جو اپنی اولاد کو یتیم کرانا چاہے گا بیوی کو بیوہ کرانا. چاہے گا جسے اسلام سے مقابلہ کرنا ہے پہلے مجھ عمرؓ سے مقابلہ کرے۔ اس اعلان سے مسلمانوں کے جزبے کو توقیت ملی۔
پھر حضور نبی کریم خاتم النبیین محمد صلی الله عليه و آلہ وسلم سے جو مرتبوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت مشہور ہے۔
1۔ مراد رسولؐ کہلاے۔
2۔ آپﷺ نے فرمایا میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اگر کوئی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔
3۔ عشرہ مبشرہ کا شرف حاصل کیا۔
4۔ بیت المقدس کی فتح کا سہرا بھی آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سر ہے۔
5۔ نظام عدل کی ایسی مثال قائم کی جس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
6۔ کفر کے لیے عزاب اور امت کے لیے نہایت شفیق۔
موضوع بہت طویل ہے لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں صرف ایک واقع عرض کرنے کا شرف حاصل کروں گا جس سے بہت سے اسباق ملتے ہیں۔
ریاست عمرؓ میں ایک بار اک گلی سے گزر ہوا تو بچوں کے رونے کی آواز سنائی دی۔ آپ رضی تعالیٰ عنہ دن کو انصاف کی کچہری اور ریاستی معاملات تو رات کی تاریکی میں گلیوں کے چکر لگاتے کی ریاست میں کوئی ضرورت مند نہ رہے کسی کی سفید پوشی ایسی نہ ہو جسے تواضع نا کیا جا سکے۔ 22 لاکھ مربع میل ریاست کا سلطان بھیس بدل کر رعایا کی حالت دیکھنے راتوں کو گلیوں میں گھوما کرتا تھا.
*مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو انتخاب رب العالمین ہو انداز جدا کیسے نا ہو.*
اک گلی سے گزر ہوا بچوں کے رونے کی آواز سنائی دی دروازے پر دستک دی تو اندر سے خاتون کی آواز سنائی دی سوال کیا بچے کیوں رو رہے جوا آیا گھر پر کھانے کو کچھ نہیں بھوک سے رو رہے ہیں۔ اور میں عمرؓ کی جان کو رو رہی ہوں۔ حضرت عمرؓ کا جسم لرز گیا۔ فورا بیت المال گے اناج اپنے کندھے پر لاد کر لاے خادم نے اٹھانا چاہا تو جواب دیا اگر قیامت میں میرا بوجھ اٹھا لو گے تو اب بھی اٹھا لو۔ ریاست کا سربراہ ایسا ہوتا ہے۔ فرمایا کرتے تھے دریا _فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو جواب عمرؓ کو دینا پڑے گا۔ خیر دروازہ کھلوایا۔ بچوں کی بھوک سے حالت دیکھ کر تلملا اٹھے۔ عورت کو کھانا بنانے کا کہا اور خود بچوں کو پیٹھ پر بٹھا کر کھلانے لگے. کھانا تیار ہوا بچوں کو کھلایا۔ ماں کا دل چوٹ کھا گیا کہنے لگی کتنے شفیق انسان ہو تم اور اک عمرؓ ہے لیرے بچوں کا خیال کیوں نہ آیا اسے. اسے تو قیامت والے دن نہیں چھوڑوں گی۔ حضرت عمرؓ کا دل اور پگھل گیا۔ کہنے لگے عمرؓ کو معاف کر دو سارا دن ریاست کی کچہریوں میں گزارتا ہو گا. آخر انسان ہے تھک بھی جاتا ہو گا۔ رب العالمین کے ساتھ شرف عبادت بھی حاصل کرتا ہو گا. عورت کہنے لگی کہاں تم اتنے خدا ترس اور کہاں عمرؓ تم اس کی وکالت کیوں کرتے ہو قیامت کا دن ہو گا میرا ہاتھ اور عمرؓ کا گریبان رب کی عدالت میں پکڑوں گی۔ حضرت عمرؓ کو بچوں کی طرح بلک کر رونے لگے فرمایا وہ بد نصیب عمرؓ تمہارے سامنے کھڑا ہے. جو کہنا ہے آج کہ لو آج عمرؓ حساب دے لے گا۔ کل قیامت میں مجھے بخش دینا. 22 لاکھ مربع میل کی سلطنت کا سلطان جس سے کفر لرز اٹھے اور رب کریم کی مخلوق پر اتنے رحم دل بے شک اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے لوگ ہیں.
قلم کی زبان کو لگام دینا مجبوری ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل بے شمار اور اس تحریر کے الفاظ محدود ہیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر آلود خنجر کے وار سے شہید کیا گیا. ان کے بنائے گئے اصول حکمرانی سے دنیا میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے. آج اکہی کی تعلیمات کے کچھ اصولوں کو *umar law* کو دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں نے اپنا رکھا ہے. پاکستان میں نظم عدل، سزا و جزا، غریب کی داد رسی کا شدید فقدان ہے. اللہ کریم صاحب اختیار لوگوں کو کمزوروں کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے. تاکہ معاشرے کے توازن کو بہتر بنایا جائے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق *Umer Law* کو نافذ کر کے نظام عدل کو بہترین کیا جا سکے.@EngrMuddsairH
-

یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے تحریر : راجہ حشام صادق
ایک فرق تو ہر انسان کو نظر آ رہا ہے کہ ماضی کا پاکستان اور آج کا پاکستان ماضی کے دور سے بہت بہتر ہے اب ہماری قوم کے اندر جو شعور آ رہا ہے ایسا ماضی میں نہ تھا۔ اب ہر پاکستانی کو اس کے حقوق کا پتہ چل چکا ہے۔
آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں کوئی ظالم کسی پر ظلم یا کسی مظلوم کو دبا نہیں سکتا یہی تبدیلی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کے پاکستان میں عوام میں اتنا شعور تو آیا کہ وہ ظالموں اور جابر لوگوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ کوئی آٹھ سال پہلے پشاور جانے کا اتفاق ہوا دل میں ایک ڈر سا تھا۔ دل اور ذہن میں ایک خوف تھا کہ آئے روز جس شہر کے اندر دھماکے ہوتے ہیں۔ نہ جانے کس مقام پر زندگی تمام ہو جائے سانسیں ساتھ چھوڑ جائے ایسے ماحول میں کون کس پر یقین کرئے سامنے سے آنے والے شخص پر بھروسہ کیسے کرئے کہ وہ پاس آ کر کہیں بارود ہی نہ بن جائے اور اپنے ساتھ کئی معصوم جانوں کو اڑا کر نہ لے جائے۔
اللہ پاک کا شکر ہے کہ وقت گزرا حالات بدلے قوم کے ذہنوں سے دہشتگردی کا خوف ختم ہوتا گیا افواج پاکستان کی قربانیوں سے اس ملک میں امن لوٹا۔
اور آج اللہ پاک کے فضل و کرم سے الحمداللہ یہ ملک پاکستان تیرا اور میرا پاکستان محفوظ ہے ماضی کی تمام جمہوری حکومتوں نے اس ملک پاکستان کے اندر دہشتگردی کروائی ملک دشمنوں کے ہاتھوں ہمارے حکمران بکتے رہے ملک میں افرا تفری اور قتل و غارت کی قیمت وصول کرتے تھے۔ایسے سیاستدانوں کے ساتھ نفرت کی وجہ بھی یہی تھی۔ اور شاید میری طرح آپ نے بھی ان ماضی کی پارٹیوں کو چھوڑ کر ایک ایسی جماعت ہا تحریک کے سربراہ کا ساتھ دیا جس کی حب الوطنی پر آج بھی کسی کو کوئی شک نہیں جس لیڈر نے انصاف کا نعرہ بلند کیا بائیس سال جدوجہد کی اور اقتدار میں آیا ایسے لیڈر کا ساتھ میرے اور ملک کے لاکھوں نوجوانوں نے بغیر کسی مفاد کے دیا بغیر کسی عہدے یا ذاتی فائدے کے دن رات محنت کی ان ہی نوجوانوں کے ووٹ اور بہادری کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ وطن ایک دلیر ایماندار اور مضبوط جمہوری حکومت کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔ہزاروں نوجوانوں نے اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے قربانیاں دیں
یہ اس ملک کے نوجوانوں کا ہی حوصلہ تھا کہ کبھی آنسو گیس کا سامنا کیا تو کبھی لاٹھی چارج کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا کر ڈرایا گیا
سینے پر گولیاں کھائیں تعلقات ختم کیئے لیکن اس ملک کی بہتری کے لئے ڈٹے رہے۔ آج بھی اس ملک کا نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہے۔آج کا نوجوان جس نے اس پیارے وطن کا سوچا جس کے اندر آج بھی لڑنے کا جذبہ موجودہ ہے جو آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ محنت اور جدوجہد کا پھل آنے والی نسلیں کھائیں گی۔ مشکل کی اس گھڑی میں جو نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں مورخ ان کو محب وطن پاکستانی لکھے گا تاریخ میں ان بہادروں کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔یاد رکھیں ظالم اور جابر حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کو تاریخ ہمیشہ بہادر کے نام سے پڑھے اور لکھے گی ۔
ان شاء اللہ ملک پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنا ہے۔ وطن کی حفاظت کے لئے قربانیاں دینے والے وطن کے بیٹوں کو سلام ان کی جرات کو سلام جنہوں نے اس وطن کی سرحدوں پر لڑ کر قربانی دیں یا اس سسٹم کے خلاف کھڑے ہوئے جو ماضی کے حکمرانوں نے بنا رکھا تھا پانچ سال تیرے پانچ سال میرے
میڈیا پے تم مجھے برا بھلا کہو میں تمہیں کہوں گا پر شام کا کھانا ایک سات ہو گا یہ جمہوریت تھی۔نوجوانوں اور اس وطن کے دلیر بیٹوں کے ہوتے ہوئے کوئی اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا
تو نوجوانوں یہ جنگ ابھی جاری ہے بس تم نے کھبرانا نہیں ہے ابھی مشکل وقت ہے جو کھڑا رہے گا تاریخ میں امر ہو جائے گا
یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ سبز ہلالی پرچم یونہی صدا بلند رہے۔ ان شاء اللہاللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو
@No1Hasham
-

ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف
اردو جو کہ قیام پاکستان سے ہی پاکستان کی قومی زبان بن گئی یا یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اردو پاکستانیوں کی پہچان بن گئی۔ ایک دور تھا کہ جب پاکستانی اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے سکولوں، کالجوں میں شوق سے اردو بولتے اور سیکھتے تھے۔ اس وقت اردو زبان کو بہت اہمیت حاصل تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ایک وقت میں اردو زبان کو بہت ترقی بھی حاصل رہی۔
اردو زبان کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ ہاتھ ہمارے ادیبوں اور شعراء کا ہے جنہوں نے اپنی بے انتہا محنت سے اردو زبان کے لیے کام کیا۔ بے شک یہ ان کی اپنی زبان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اردو کو آج بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی قیام پاکستان کے وقت تھی؟ کیا باحثیت قوم ہم آج اپنی قومی زبان کا حق صحیح سے ادا کررہے ہیں؟ کیا اپنی زبان کو پیچھے چھوڑ دینے سے اور اسے بھول جانے سے ہم دنیا میں اپنی پہچان بنا پائیں گے؟ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے آخر اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟
آج اکیسویں صدی میں اردو زبان کافی حد تک اپنا مقام کھو چکی ہے۔ جہاں صدیوں پہلے اردو بولنے، لکھنے اور سننے کا ذوق زور وشور سے ہوا کرتا تھا آج وہیں بہت سے پاکستانی کو انگریزی بولنے، سننے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ اردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کر رہا ہو یا پھر کوئ اردو مضمون میں ڈگری لے رہا ہو تو لوگ انھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انھیں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جو سائنسی مضمون پڑھنے والے بچوں کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاؤہ آج کے دور میں پڑھے لکھے ماں باپ اپنے بچوں کو کم عمری میں ہی انگریزی زبان سیکھنی شروع کر دیتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر اچھی انگریزی بول سکے۔
یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت سے بچے اپنی مادری زبان سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر جب ان کے سامنے کوئی دوسرا اردو بولتا یا لکھتا ہے تو اسے بچے خود سے حقیر سمجھتے ہیں اور یوں معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ جو قومیں اپنی زبان، اپنی ثقافت کو اپنے ہاتھوں کھو دیتی ہیں وہ پھر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی صرف اور صرف زوال کا شکار ہوتی ہیں۔
بس اب تو ڈر اس بات کا ہے کہ ناجانے اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟
زبانیں کاٹ کہ رکھ دی گئی نفرت کے خنجر سے
یہاں کانوں میں اب الفاظ کا رس کون گھولے گا؟
ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا؟
(فیض احمد فیض)@SeharSulehri
-

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر : چوہدری عطا محمد
ارض پاک پاکستان میں تحریک انصاف کی گورنمنٹ کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ہے مہنگائی کا جن جو کہ حکومت کے قابو سے باہر ہے ویسے اگر مہنگائی کی بات کی جاۓ تو پوری دنیا میں مہنگائی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے حکومت وقت اس پر قابو پانے کے معاملہ میں بلکل بے بس ہے
حکومتی وزیر مشیر اور درجنوں ترجمانوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب بھی نہی ہے ایک حکومتی وزیر نے بتایا پچھلے دنوں عید کی چھٹیوں میں نادرن ایریا میں سیرو تفریح کرنے والوں نے تین سے پانچ دنوں میں 67ارب روپے خرچ کئے اس کا بتانے کے دو مقاصد تھے ایک تو سیاحت کو فروغ ملا جو بہت اچھی بات ہے دوسرا وہ یہ بتانا چاہ رہے تھے موصوف کہ لوگوں کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہی تبھی تو تین چار دن میں اتنا خرچ کیا یعنی عوام خوشحال ہے
میں زرا موصوف حکومتی ترجمانوں کے گوش گزار یہ بات کرتا چلا کہہ جناب یہ خرچہ کرنے والوں کی تعداد صرف 12 سے 17 فیصد لوگوں کی ہے آپ اس بات پر بیشک بغلیں نہ بجائیں باقی 80 فیصد لوگ مہنگائی کے ہاتھوں بہت زیادہ تنگ نظر آتے ہیں اگر مہنگائی مافیا کے جن کو حکومت نے قابو نہ کیا تو پھر بہت دیر ہو جاۓ گی
یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہہ ہمارے سرکاری بابوؤں کا بھی بڑا رول ہے مہنگائی بڑھانے میں حکومت کا کام قانون سازی ہوتا ہے اس پر عمل درآمد انہیں سرکاری بابوؤں نے کروانا ہوتا ہے جو شاید اس حکومت سے خوش نہی ہیں سو وہ اس لئے بھی دلچسبی نہیں لیتے اور مہنگائی مافیا عوام کا خون نچوڑ رہا ہے
عوام وزیر اعظم پاکستان سے لائیو کالز میں بھی اور سوشل میڈیا پر بھی درخواست کرتی نظر آتی ہے کیوں کہہ تحریک انصاف کے ووٹر سپورٹر بھی مہنگائی والے سوال پر کسی غریب کے سامنے اپنی حکومت اور جناب عمران خان صاحب آپ کو ڈیفنڈ نہی کر پاتے مہنگائی کن چیزوں میں زیادہ ہے اور یہ مافیا کس طرح عوام کو لوٹ رہا ہے اگلی تحریر میں بشرط زندگی اس پر بات کریں گے
اللہ سبحانہ تعالی ارض پاک کی عوام کی مشکلات آسان فرمائیں آمین ثمہ آمین
تحریر چوہدری عطا محمد
@ChAttaMuhNatt
-

واٹس ایپ اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن
محترم پاکستانیو دُشمن اپنا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور جدید دور میں جدید ہتھیاروں سے پاکستان کہ خلاف ہر محاذ پر متحرک ہےاور یہ وہ ہتھیار نہیں کہ بندوق ، ٹینک یا ہوائی جہاز لیکر ہم پر حملہ آور ہے، ہم اب ففتھ جنریشن وارجیسی جنگ کے نرغے میں ہیں لیکن ایسے میں ہمیں انفارمیشن وار کا استعمال کر تے ہوے ہمیں ففتھ جنریشن وار کو اچھے سے لڑنے کی پوزیشن بنانا ہے۔
دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اِس دور میں انفارمیشن وار کو بھرپور انداز میں سوشل میڈیا پرمتحرک ہے۔ اور ایسے میں پاکستانی سوشل میڈیا کے بے شُمار پاکستانی بھی دُشمن کے سامنے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہُوے دشمن کو جواب دے رہے ہیں لیکن پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیادہ ایکٹو ٹویٹر اور فیسبک پر جواب دے رہے ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کے واٹس ایپ پر ہم اُتنا ایکٹیو نہیں ہیں اور نہ ہی حکومت اِس طرف توجہ دیتی دکھائی دے رہی ہے ۔دُشمن واٹس ایپ پر فرقہ وارانہ لٹریچر پھیلا رہا ہے اور مختلف واٹس ایپ گروپوں میں سُنیوں کو شیعہ کے خلاف جھوٹ پر مبنی اور شیعہ کہ خلاف جُھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ہمارے بہت سے وہ پاکستانی اِس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستانیوں کے دمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جو بنا تحقیق کےایسا جھوٹا مواد آگے شیئر کرتے ہیں اور اِسی طرح دشمن کا پھیلایا جھوٹا پروپیگنڈہ واٹس ایپ پر بہت جلد بہت سارے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے کیسے۔۔؟
وہ اِس طرح کے واٹس ایپ ہر بچے کے موبائل میں انسٹال ہے اور چھوٹے بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور بحیثت مسلمان ہمارے بچے جلد طیش میں آجاتے ہیں اور اِس لٹریچر کو جلدی جلدی اپنے دوستوں کو کزن وغیرہ کو سینڈ کرتے ہیں اور وہ لٹریچر جلد ہی سینکڑوں ہزاروں پاکستانی بچوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن بڑے بھی کم نہیں ہیں وہ بھی یا تو جزبات میں یا کم علمی کی وجہ سے بنا تحقیق کیئے آگے شیئر کر دیتے ہیں تو لہٰذا ہمیں اِس چیز پر خاص طور پر بہت ذیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اورایسے مواد کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔
ہمیں چاہئے کے اپنے بچوں اور بڑے دوستوں کو اپنے عزیز و اقارب کو اِس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے بلکہ یہ ذہن نشین کر لیں کہ اِسے روکنا بھی ہے کیوں کے نبیﷺ نے فرمایا ہے کے جب تم تک کوئی ایسی بات پہنچے تو پہلے تحقیق ضرور کر لیا کرو کے کیا یہ بات سچ ہے۔؟ اور جب تسلی کرلو تو تب وہ بات آگے پہنچاؤ۔ لیکن یہاں ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے جیسے ہی کچھ رسیو ہوتا ہے پڑھتے ساتھ آگے شیئر کر دیتے ہیں اور جس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ہم انجانے میں گناہ بھی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے ایمان کیلئے بھی خطرہ ہے اور مُعاشرے کے بگاڑ کیلئے بھی۔ کیوں نہ ہم خود سے آج ایک عہد کریں کہ ہم نے اب ایک ذمہ دار شخص بن کر اپنے ملک اور مُعاشرے میں بہتری لانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور ہر اُس بری بات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے اور ہر اچھے اور مثبت تحریر کو چاہے وہ پوسٹ کی شکل میں ہو یا کسی تحریر میں میں اچھائی کو عام کروں گا اور بُری اور ایسی کسی بات کام کا حصہ دار نہیں بنوں گا ، یقین کیجئے یہی بگاڑ جو ہمارے معاشرے میں ایک عام اور معمولی حصیت اختیار کر چُکا ہے یہ ختم ہوجائے گا جیسے قطرہ قطرہ پانی سے دریا بن جاتا ہے ایسے ہی ہم قطرہ قطرہ کر کے اپنے اِرد گرد پھیلتی برائی اور دشمن قوتوں کے منفی پروپیگنڈے کا ناکام بنادیں گے اِن شاء اللہ ۔
ہمیں ایک ذمہ دار مسلمان اور پاکستانی بن کر اِسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہُوے اپنانا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
پاکستان کی آرمی پاکستان کے بارڈرز کی حفاظت کر رہی ہے اور ہم سولین پاکستانیوں کو اپنے اندر کہ حالات سنبھالنا ہے ایسے ہی اپنے ارد گرد میں دُشمن کو جواب دینا ہے جو ہمار اندر گُھسا بیٹھا ہے اور ہم نے اُسے حکمت سے اپنے جزبات کو قابو رکھتے ہُوے تگڑا جواب دینا ہے اِن شاء اللہ
پاک افواج زندہ آباد
پاکستان پائندہ آباد -

بادشاہ است حسین تحریر: مدثر حسن
جیسا کہ سب کو پتہ ہے وہ مہینہ آرہا ہے جس میں جنت کے سردار نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین کی شہادت ہوئی ۔ امام حسین کون تھے ؟
امام حسین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے تھے اور حضرت امام حسن کے بھائی تھے ۔۔۔۔
امام حسین کی پیدائش پر رسول ﷺ بہت خوش ہوئے فرمایا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں نوجوان جنت کے سردار ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کی سواری وجہ تخلیق کائنات رسول ﷺ خود تھے ۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ کو بے چینی ہوتی تھی۔
امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے نماز کا سجدہ لمبا کر دیا۔
امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ نے حضرت فاطمتہ الزہرا سے فرمایا بیٹی میرے حسین علیہ السلام کو رونے نہ دیا کرو مجھ سے رہا نہیں جاتا اور اس کا رونا مجھ سے دیکھاجاتا نہیں۔
امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”حسین منی وانامن الحسین“حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کودوست رکھے ۔۔۔۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس نے نانا کے دین کی لاج رکھی۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو خود جان قربان کرگئے لیکن یزید کی بیعت نہیں کی ۔
اما حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو باطل سے لڑ گئے اور باطل کے سامنے ڈٹ گئے ۔۔۔۔قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعددین کی پناہ ہے حسین علیہ السلام میرا بادشاہ است حسین ہے
اگر اہلبیت سے محبت کرنا شیعہ کہلاتی ہے تو سب سن لو میں شیعہ ہوں۔ امام حسین سے نفرت کرنے والا یزید پلید ہے۔۔۔امام حسین سے محبت ہماری زندگی کا کل اثاثہ ہے ۔۔۔۔
اللہ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔
MudasirWrittes