Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کائنات کا مالک رب العالمین   تحریر  : راجہ ارشد

    کائنات کا مالک رب العالمین تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے ہاں لوگوں کو اس موضوع پر بلکل بھی آگاہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جلے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالٰی ایک ہی ہے اور وہ اپنی صفات میں یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔وہی دینے والا ہے وہی ہے لینے والا ۔اس پوری کائنات کا مالک رب العالمین۔

    لیکن ہمارے معاشرے میں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جسے وہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی ہمارے ہاں کے کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں۔کبھی یہ دیکھتے کو ملتا ہے کہ کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹا، نوکری، کاروبار میں ترقی مانگی جا رہی ہوتی ہے۔

    جو رب ہمارے دعا کرنے سے خوش ہوتا ہے جو ہماری شہرگ سے بھی قریب ہے جو ہماری دعاوں کو سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں۔وہ تو کہتا ہے ایک بار سچے دل سے مانگ کے تو دیکھ تیری چھولی نہ بھر دوں تو کہنا۔

    افسوس ہوتا ہے آج ہم اپنے حقیقی اللہ جو رب العالمین ہےکو چھوڑ کر شرک کی طرف جا رہے ہیں۔

    قارئین ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں اللہ تعالٰی سب گناہ معاف کردیں گے بھلے وہ پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہوں مگر یہ گناہ کبھی معاف نہیں ہو گا۔
    زرہ سوچیئے اور سمجھیں کہ کون سی ایسی دعا ہے جو ہمارا رب نہیں سنتا ؟ وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالٰی عطا نہیں سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں؟

    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہم انسانوں کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔

    آج کل قرآن مجید و احادیث مبارکہ پڑھانے کے بجائے فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ ہی نہ دے۔فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ بچہ قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی بات کو ماننے سے کتراتے ہیں ۔

    اللہ پاک ہم سب کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    اللہ پاک ہم سب کو سیدھا راستہ دکھائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    @RajaArshad56

  • آزادی اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تحریر: سحر عارف

    آزادی اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تحریر: سحر عارف

    آزادی اللّٰہ تعالٰی کی عطاء کردہ تمام نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت ہے۔ ایک انسان کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں موجود ہوں پر اس کے پاس آزادی سے جینے اور کھلی ہوا میں سانس لینے کا حق نا ہو تو اس کا کیا حال ہوتا ہے اس بات سے آج ہم سب باخوبی واقف ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو ہی دیکھ لیں۔ اس کے علاؤہ برما کے مسلمانوں کی بھی مثال لے لیں۔ آج وہ کہاں اور کس حال میں کھڑے ہیں۔

    معصوم کشمیری ہندوستان کے چنگل میں پھنسیے ہوئے ہیں۔ آئے روز ظلم وبربریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ وہاں کی سڑکیں ہر وقت مظلوم کشمیریوں کے خون سے بھیگی ہوتی ہیں۔ پھر دوسری طرف فلسطین کے مسلمان جو اسرائیل کی حیوانیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

    آزادی کا صحیح مطلب بھی انھیں لوگوں کو پتا ہوگا کہ آزاری کسے کہتے ہیں؟ اور اپنا ملک کیسا ہوتا ہے؟ ہم جیسے لوگ تو آج بھی اپنے ملک کی ناقدری کرتے ہیں۔ ہمیں تو سب کچھ پہلے سے ہی پلیٹ میں سجا سجایا ملا ہے۔ قربانیاں تو ہمارے بزرگوں نے دی تھیں اور مشکلات سے دوچار بھی وہی ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم لوگ کس قدر آرام سے اپنے ہی ملک پر تنقید کرجاتے ہیں۔

    کہ اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہاں تو بےشمار برائیاں ہیں۔ پر ہم یہ نہیں سوچتے کہ پاکستان کا اصل دیوالیہ نکالنے والے بھی ہم ہی خود غرض لوگ ہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنے بچوں جذبہ حب الوطنی پیدا کریں۔

    انھیں ہم اپنے بزرگوں کی دی ہوئی اس ملک کے لیے قربانیوں سے روشناس کروائیں۔ انھیں یہ بتائیں کہ آج ہم جو یوں آزادی سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اس سے قبل ہمارے آباؤ اجداد نے ہندوستان میں کیسی دردناک اور ذلت بھری زندگی گزاری تھی۔ پل پل ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی میں کاٹے تھے۔ پھر ہمارے اصلی ہیروز علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے لوگوں نے کس طرح سے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے حق کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کیا تھا۔

    کس قدر محنت کر کے ہمارے لیے الگ وطن پاکستان حاصل کیا۔ ہم آج اپنے بچوں کے سامنے بیٹھ کر اسی ملک میں سے سو سو کیڑے نکالتے ہیں۔ انھیں کہتے ہیں کہ یہاں کی تعلیم اچھی نہیں ہے، یہاں تم لوگوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور پھر انھیں بیرون ممالک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد دل میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقع ہی آزادی کے حقدار تھے؟ کیونکہ ہم اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے اپنے رب کی دی ہوئی آزادی جیسی نعمت پہ ہمیشہ ناشکری ہی کرتے ہیں۔

    اللّٰہ نے ہمیں اتنا خوبصورت ملک دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں۔ ہر وقت اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ اپنے بچوں کو اس پاک دھرتی سے محبت کرنا سیکھائیں اور ہر اس آنکھ کو نوچ ڈالنے کا جذبہ خود میں اور اپنی نسلوں کے اندر پیدا کریں جو ملک پاکستان کی طرف کبھی بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچے۔

    ہم زیادہ نہیں تو کم از کم اپنے ملک کا اتنا سا تو حق ادا کر ہی سکتے ہیں جو ہر وقت ایک ماں کی طرح ہمیں خود میں محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    @SeharSulehri

  • صدقہ کی برکات  تحریر:  چوہدری عطا محمد

    صدقہ کی برکات تحریر: چوہدری عطا محمد

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے
    ترجمہ: ” *کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسنہ دے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا بڑھاکر واپس کرے، مال کا گھٹانا اور بڑھانا سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ،اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے* "۔ (البقرة۲۴۵)
    سبحان اللہ۔ اور پھر رمضان کا مبارک مہینہ جس میں اللہ رب العزت ایک روپے صدقہ کرنے کا اجر بڑھا کر ستر گنا کر دیتے ہیں۔
    ایسا ہی قصہ میرے دوست نے مجھے سنایا اور تھا بھی رمضان المبارک بابرکت فضیلتوں والا مہینہ آئیے اسی کی زبانی سنتے ہیں۔
    وہ اک ٹرالر ڈرائیور ہے اور یہاں بیرون ملک میں مقیم لوگ جانتے ہیں کہ نو انٹری لگتی ہے بڑی گاڑیوں پر اک مخصوص وقت جب سکول ٹائم یا ڈیوٹی ٹائم ہو ویسے تقریباً یہ پوری دنیا میں نظامِ ہے کوئی بھی ملک ہو ہیوی گاڑی سکول و ڈیوٹی ٹائم میں منع ہوتیں ہیں۔
    تو ہوا کچھ یوں کہ رمضان کا مہینہ تھا آخری عشرہ کی بات ہے کہ میں لوڈ لے کر آ رہا تھا یہ جانتے ہوے بھی کہ آگے ابھی پولیس والے کھڑے ہوں گے رستہ بند ہو گا مگر یہ معمول کا کام تھا اور رات 3 بجے وہ چھوڑ دیتے تھے پھر ہم جہاں ممکن ہو سکے سحری کرتے ہوٹل یا گھر ۔
    ہوا کچھ یوں کہ اس رات کو بھی میں آ رہا تھا معمول کے مطابق ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا رستہ کھلنے میں تو میں بھی پارکینگ میں کھڑا ہو گیا باقی بھی بہت لوگ کھڑے انتظار کر رہے تھے تین بجے تو سب نے تیاری پکڑی مگر پتہ تب چلا جب پولیس والے نے کہا ابھی رستہ نہیں کھلے گا کچھ مسلہ ہے روڈ پر جب تک اوپر سے آرڈر نہیں آتے تب تک انتظار کریں میں گاڑی سے نیچے اترا اور پولیس والے سے مخاطب ہوا کہ سحری کا وقت تھوڑا باقی ہے ابھی ہم لوگ کسی منزل پر پہنچیں گے تو ہی کچھ ملے گا ورنہ پھر کچھ نہیں ملے گا اور روزہ رکھنا بھی مشکل ہو جاے گا اس نے کہا بس امید ہے جلدی حکم آ جاے اور ہم رستہ کھول دیں میں جانتا ہوں آپ لوگ بہت پریشان ہیں۔
    خیر ہم انتظار کرتے رہے اور آخر کار 4 بجے اب صرف ہمارے پاس آدھا گھنٹہ بچا تھا سب لوگ پریشان ادھر ادھر گھوم رہے تھے کہ کیا کریں نہ پانی کا اسٹاک اتنا تھا کسی کے پاس اور نہ سحری لمبی لائنیں لگیں تھی گاڑیوں کی کیا کر سکتے تھے قانون کی پاسداری تو لازم ہے میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کہ تھوڑا پانی ہے میرے پاس تقریباً ایک گلاس یا آدھا گلاس زیادہ کر لیں اب اسے پی کر ہی روزہ بند کر لوں گا اسی سوچ میں تھا کہ 20 منٹ باقی ہیں آخری پانچ منٹ تک ویٹ کرتا پھر پانی پی کر نیت کر لو گا کہ میرے دروازے پر کسی نے دستک دی جب میں نے باہر دیکھا تو اک باریش سفید داڑھی والے بزرگ تھا کہتے بیٹا پانی ملے گا 5۔7 کے پاس گیا ہوں کسی کے پاس سے بھی نہیں مل رہا اک خالی بوتل لیے وہ کھڑے تھے اب میں کیا کرتا مجھے بھی روزہ رکھنا باقیوں کی طرح میں بھی خود غرض ہو گیا اور انکار کر دیا نہیں ہے میرے پاس وہ مسکرا کر آگے چلے گئے میں پریشان ہو گیا کیا کروں ایک اللّٰہ کے بندے اور بزرگ آدمی کو انکار کر دیا اور خود کو برا بھلا کہہ رہا تھا کہ تم ابھی جوان ہو خیر تھی اگر دو گھونٹ پانی پیے بنا بھی روزہ رکھ لو تو ابھی اسی پریشانی کے عالم میں تھا کہ شاید دو یا تین منٹ گذرے ہوں گے تو میں دیکھا وہ بابا جی واپس آ رہے ہیں اور چہرے پر افسردگی ظاہر تھی اور پیاس بھی لگتا شدید لگی تھی انہیں مگر بوتل انکی خالی تھی ۔۔
    جب میرے پاس سے گذرے تو میں آواز دی بابا جی پانی ملا کہتے نہیں بیٹا ہر کوئی پریشان ہے کئی سے پوچھا آگے دو تین سے پوچھا کوئی بھی پلانے کو تیار نہیں اسی اثناء میں میں نے بوتل انکی طرف کی اور معذرت کے ساتھ کہا آپ یہ پی لو میں کچھ کر لوں وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ بوتل لےکر چل دیے اور کچھ دعائیں دیتے جا رہے تھے۔
    میں نیچے اترا جہاں سے گاڑیاں آ رہی تھی اس طرف چل پڑا تو اک گاڑی اور رکی میں دوڑ کر اسکے پاس گیا اور پہلا سوال ہی پانی تھا وہ باہر نکلا کہتا استاد اندر جاو اور جی بھر کر پیو پانی بہت میں جب گاڑی میں داخل ہوا بے اختیار منہ سے نکلا سبحان اللّٰہ کیونکہ وہاں اک بوتل یخ ٹھنڈی اور ایک گرم پانی والی ڈرائیور کہتا مکس کرت جاو پیتے جی بھی کے میں دو گلاس پیا اور رب کا شکر ادا کرتے ہوے نیچے اترا اور سوچ رہا تھا ابھی کہ اک گلاس دیا اور فوری رب نے تجھے سیراب کر دیا اتنے میں پاس کھڑے ٹرالے سے مجھے آواز آئی کہ استاد جی سحری کی ہے میں سمجھ شاید کسی اور سے پوچھ رہے ہیں انہوں پھر مجھے آواز دی پنجابی بھائی وہ پٹھان تھا میں بولا نہیں بھائی یہاں پر اب کیا ملتا جو سحری کریں کہتا ہاتھ پکڑو میرا اور اس نے ہاتھ بڑھایا میں جب اوپر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں دستر خوان لگا ہے اور سامنے چاول اور مرغی ساتھ میں کریم ٹھنڈا پانی اور وہ سب کھا پی کر سائیڈ ہو چکے تھے اور یہ الگ پارسل تھا جو میرے لیے کھول کر لگایا انہوں نے وقت بہت کم تھا میں بابا جی کو ایک دو گاڑی میں دیکھا مگر نہیں ملے کچھ دوسرے لوگوں کو کہا وہ بھی اک دو ساتھ آ گئے اور ہم نے مل کر سحری مگر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل رہے تھے کہ واہ میرے مالک تو نے کتنی جلدی اپنا واعدہ پورہ کیا اور پہلے مجھے پانی کے بدلے پانی دیا اور پھر پیٹ بھر کر کھانا کھلایا میرے مالک تیری تعریف جتنی کی جاے کم ہے تو اپنے وعدے سے کبھی نہیں مکرتا اور صدقہ پر جو تو نے وعدہ کیا اس سے ذرہ بھی کم نہیں عطا کرتا میں جب بھی اس واقع کو کسی کو سناتا ہوں تو میں آنکھوں میں رب تعالیٰ کی اپنے بندے سے محبت اور عطا پر آنسو نکل آتے بےشک وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اور صدقہ کا قرض اپنے اوپر نہیں رہنے دیتا بلکہ وعدہ کے مطابق کئی گنا زیادہ واپس دیتا ہے ۔

    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کابل رجیم،ایک پراپیگنڈا سیل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    کابل رجیم،ایک پراپیگنڈا سیل تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    میں نے اپنے اس کالم میں افغانستان کے بجاۓ کابل رجیم کے الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں۔کیونکہ ہم افغانستان یا سارے افغانوں کو برا نہیں کہہ سکتے۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں،جو پاکستان کو ایک دوست ملک اور پاکستانیوں کو اپنا بھائ سمجھتے ہیں۔
    پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائ وہی لوگ کرتے ہیں،جنہیں بھارت یا پاکستان کے دیگر دشمن ممالک نے گود لے رکھا ہے اور اُن کے مونہہ میں حرام کی چوسنی دے رکھی ہے۔
    وہ اپنے ان آقاؤں کو خوش رکھنے کے لئے صبح شام پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ اورہرزہ سرائیاں کرتے ہیں۔
    فواد چوہدری نے آج اپنی ایک پریس کانفرنس میں ان پاکستان دشمن قوتوں کا کھل کر بتا دیا ہے کہ اس مذموم مہم کے پیچھے کون کون شامل ہوتا ہے۔
    ویسے تو کابل میں قابض اس مہمان حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں،کیونکہ ان کے آقاؤں نے تو پہلے ہی اپنا بوریا بستر سمیٹنا شروع کر رکھا ہے۔
    ان کابلی حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیاں بجھتے چراغ کی ٹمٹماہٹ ہے۔
    امریکہ کی وہاں موجودگی کی ڈیڈ لائن 31اگست ہے۔
    کابل رجیم سے طالبان ،افغانستان کا ایک بڑا علاقہ پہلے ہی چھین چکے ہیں۔امریکہ کے مکمل انخلا کے بعد کابل کے حکمرانوں کا دھڑن تختہ یقینی ہے۔
    ان کا پاکستان پر پراپیگنڈہ بھی اسی مقصد کے لئے ہے کہ پاکستان ان کا یہ قبضہ برقرار رکھنے کے لئے طالبان سے بھڑ جاۓ اور ان حرامخوروں کے لئے اپنے فوجی شہید کرواۓ۔
    کیا پاکستان کو پاگل کتے نے کاٹا ہے،کہ وہ کوئ اس قسم کی بلاجواز مہم کا حصہ بن کے طالبان کو اپنا دشمن بنا لے۔
    کیا پاکستان بھول سکتا ہے کہ ان حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف کون کون سی سازش نہیں رچائ۔
    کونسا موقع تھا،جب انہوں نے پاکستان کے خلاف زہر نہ اُگلا ہو۔
    ہر موقع پر انہوں نے بھارت کی زبان بولی۔
    یہ بے وفا اور بے ضمیر پاکستان کی ہر قربانی کو بھول گئے۔
    حتی کہ یہ بھی بھول گئے کہ افغان مہاجرین کی میزبانی میں پاکستان نے نہ صرف اپنی معیشت کا نقصان کیا بلکہ ان افغانیوں کو کاروبار کی اجازت دیکر مقامی پاکستانی باشندوں کی حق تلفی بھی کی۔
    ابھی بھی ہمارے اپنے نا مساعد حالات کے باوجود اربوں روپے کے منصوبے پاکستان نے افغانستان میں شروع کروا رکھے ہیں۔
    ان لوگوں نے احسان فراموشی کی انتہا کر دی ہے۔
    انہیں پاکستان کی طرف سے سرحد کے خلاف باڑھ لگانے کی بھی تکلیف ہے۔
    ان جگہوں پر باڑھ لگانا ضروری تھا،کیونکہ ان گزر گاہوں کو پاکستان میں تخریب کاری اور سمگلنگ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
    ہمارے کئی فوجیوں کو اس باڑھ کے لگاۓ جانے کے دوران شہید کیا گیا۔
    کیا ہم اپنے ان بچوں کی شہادت بھول پائیں گے۔کبھی نہیں ،
    ہمیں تحفظ پہنچانے کے لئے ان بچوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے خون کا نزرانہ پیش کیا۔
    میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں اپنے ان ہیروز کو۔
    میں سلام پیش کرتا ہوں،ان باہمت اور حوصلہ مند ماؤں کو ،جنہوں نے ایسے بہادر سپوت پیدا کر کے وطن پر قربان کر دئیے۔
    افغان رجیم کے ہر قسم کے پروپیگنڈے کو زمین میں دفن کرنے کے لئے سینئرصحافی عمران ریاض خان نے دو باتیں بڑی زبردست کی ہیں۔
    یہ باتیں دراصل ثبوت ہیں،افغان رجیم کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ طالبان کی موجودہ کامیابیاں پاکستان کی درپردہ امداد کا نتیجہ ہے۔
    اسکا جواب عمران ریاض کی ریسرچ کے نتیجے کے مطابق جس طرح دیا گیا،
    وہ میں نے اپنے ایک ٹویٹ کے زریعے اس طرح قلمبند کیا ہے-
    ‏کابل رجیم کی طرف سے پاکستان پر طالبان کی امداد کے الزامات مکمل طور پر
    ‏بے بُنیاد،جھوٹ اور من گھڑت ہیں
    ‏ثبوت#
    ‏#01-طالبان کے پاس روس،ایران و دیگر کئی ممالک کا اسلحہ ہے،سواۓ پاکستان کے
    ‏#02-کئی دوسرے ممالک کی سرحدوں کے قریب طالبان قبضہ کر چکے ہیں،سواۓ پاکستانی سرحد کے
    ‏⁦‪-عمران ریاض خان کا یہ وی لاگ دیکھنے کے لائق ہے۔جس میں اس نے کابل رجیم کے پاکستان پر لگاۓ گئے جھوٹے،واہیات اور غلیظ الزامات کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی ہیں۔
    اس معاملے میں پہلی دفعہ پاکستان کا موقف بڑا واضح اور جاندار ہے کہ
    افغانستان جانے،اور افغانی جانیں۔
    اپنی لڑائ خود نبیڑیں۔جو بھی برسر اقتدار آۓ گا،ہم اسکے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو تیار ہوں گے۔
    پاکستان افغانستان میں امن کی خواہش رکھتا ہے۔
    مگر پاکستان کے دشمن جان لیں کہ پاکستان کی امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جاۓ۔
    ہم اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازش کا مونہہ توڑ جواب دیا جاۓ گا۔
    پاکستان کے دفاع کے معاملے میں پوری قوم متحد ہے۔
    پاکستان زندہ باد #

    @lalbukhari

  • روح کیا ہے؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    روح کیا ہے؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    لغت کے اعتبار سے روح کا مطلب "لطیف پھونک” ہے۔ یعنی جب پھونک لطیف ہو جاتی ہے تو اسے روح کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا فیصلہ کیا۔ تخلیق فرشتوں کی بھی ہوئی ہے، جنات کی بھی ہوئی اور تخلیق انسانوں کی بھی ہوئی ہے۔قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اور کیچڑ کے آمیزے سےانسان کی تخلیق کی ابتدا کر دی۔ یعنی جس طریقے سے اب ہم کھاتے ہیں پیتے ہیں تو ہمارے اندر ایک فیکٹری ہے جس میں ایک پروسس ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایک نطفہ وجود میں آجاتا ہے، عورت میں ایک مادہ وجود میں آ جاتا ہے اور پھر ان کے ملاپ سے انسان کی تخلیق کی ابتدا ہوتی ہے۔ ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ سارا معاملہ جو ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے وہ زمین کے پیٹ میں کیا تھا۔اس سارے پروسس میں ڈھانچہ (جسم) بنتا ہے۔جسم ایک مادہ کی قسم ہے، جس طرح انسان کا جسم مٹی اور پانی سے مل کر بنا ہے اِسی طرح فرشتوں کا جسم روشنی سے بنا اور جنات کا جسم آگ سے بنایا گیا ہے۔یہ سب مادہ کی اقسام ہیں۔
    جسم میں جو اصل شخصیت آنی ہے، یعنی انسان کی شخصیت، جن کی شخصیت یا فرشتہ کی شخصیت وہ خدا کی طرف سے صادر ہونی ہے۔انسانوں، جنوں اور فرشتوں کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہونے والا امر ہے۔خدا نے تخلیق کا فیصلہ کیا اس کے بعد خدا نے اس کا امر صادر کیا۔ خدا سے اس امر کے صدور کی کیفیت بلکل ایسے ہی ہے جیسے آپ پھونک دیتے ہیں۔ یعنی جیسے آپ کسی پر قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر پھونک دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ پھونکنا ایک روحانی ارتقا کا عمل ہے۔
    ہمارا علم محدود ہے، ہم اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کیا چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے جسم میں منتقل کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ضرور بتا دیا ہے کہ منتقل ہونے کا عمل کم و بیش ایسا ہی ہوتا ہے جس طرح تم کوئی چیز پھونک دیتے ہو۔
    آپ نے سنا ہو گا جب انسان سو جاتا ہے تو روح کو اس کے جسم سے الگ کر دیا جاتا ہے اور جس کا حکم ہو چکا ہوتا ہے اس کی روح کو روک دیا جاتا ہے ورنہ لوٹا دی جاتی ہے۔
    قرآن نے اس کے لیے روح کی بجائے نفس کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی ہمارے اندر جو شخصیت ہے اس کی حقیقت کو روح سے تعبیر کیا ہے۔ جب یہ ہمارے اندر آ گئی ہے تو اس شخصیت کو قرآن نفس کا نام دیتا ہے۔ یعنی ہمارا جسم نفس کا لباس ہے۔ نفس اور جسم سے مل کر جو چیز وجود میں آتی ہے اُسے انسان کہتے ہیں۔
    ایک اور ٹرم استعمال ہوتی ہے جس کے لیے ہمزاد کا لفظ بولا جاتا ہے، قرآن میں اس کے لیے قرین کا لفظ آتا ہے۔ جس وقت انسان بُرا ارادہ کرتا ہے، بُرائی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بار بار کی تنبہ کے بعد وہ بُرائی پر اصرار کرتا ہے تو قرآن مجید میں ہے کہ "پھر ہم اس پر کسی شیطان کو مسلط کردیتے ہیں۔” یعنی کسی شیطان کو یہ حق دے دیتے ہیں کہ وہ اب اس پر اپنا تسلط قائم کر لے۔ تو یہ جو شیطان مسلط ہوتا ہے اسے ہمزاد کہتے ہیں۔ پھر جب آپ کچھ بُرا کرنے کا سوچتے ہیں تو یہ اس میں اپنی ترغیب بھی شامل کر لیتا ہے۔ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ یہ آپ کو بُرائی کی طرف بلاتا ہے۔
    اس کے برعکس صورتحال بھی قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ جب ہم دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں تو ہمارے ساتھ کراماً کاتبین (خدا کے لکھنے والے فرشتے) بھی لگے ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے بھی ہم سے ایک تعلق رکھتے ہیں۔ جب ہم خیر کا ارادہ کرتے ہیں، اچھے راستے پر چلتے ہیں اور شیطان کی ترغیبات سے بار بار گریز کرتے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ فرشتوں کی مدد ہمیں حاصل ہو جاتی ہے۔
    اکثر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ قرین /ہمزاد ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے اور بچپن سے ہی انسان کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ جبکہ قرآن مجید نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ جب کوئی خدا کی یاد دہانی سے گریز کرتا ہے تو اس پر شیطان مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمزاد کو بچپن سے آپ کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ابلیس اور اس کے کارندوں کا اپنا کام تو جاری ہے ہی اور وہ ہر مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں پر یہ کام خدا نے نہیں کیا لیکن جس وقت آپ نے خدا کی یاد دہانی سے گریز کا فیصلہ کر لیا تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے طور پر کسی شیطان (ہمزاد) کو آپ پر مسلط ہونے کا موقع دے دیا جاتا ہے۔
    ایک روایت ہمیں ملتی ہے جس میں ہے کہ آپﷺ فرماتےہیں ” ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے تو صحابہ کرام نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ بھی ہے تو آپﷺ نے فرمایا ،ہاں میرے ساتھ بھی ہے پر میں نے اسے مسلمان کر لیا ہے۔”
    اس روایت کی یہ حقیقت ہے کہ ایک تو ہمارے اندر نفس کی ترغیبات ہیں یعنی ہم خواہشات رکھتے ہیں اور بعض اوقات ہم خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ ایک تو وہ شیطان ہے جو ہمارے اندر موجود ہے، دوسرا شیاطین جن بھی موجود ہیں، تو ان میں سے بھی کوئی انسان کے پیچھے لگا ہوتا ہے۔ مسلط ہو جانا اور پیچھے لگا ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ہے یہ ہر مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں مجھ پر بھی ہوتے ہیں لیکن میں نےاللہ کی مدد سے اس کو مسلمان کر لیا، یہ بڑی خوبصورت تعبیر ہے۔ یعنی جب میں نے اس کی ترغیب کو قبول نہیں کیا ،اس کی آواز پر لبیک نہیں کہا تو اس نے بھی یہ کام کرنا بند کر دیا۔ یعنی اس نے بھی آخر ہتھیار ڈال دیے۔
    سورہ القدر میں حضرت جبرائیل کے لیے بھی روح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کیوں کہ جب حقیقی شخصیت کے ساتھ کسی قسم کا مادی جسم استعمال نہیں کیا جاتا تو اسے روح ہی کہا جاتا ہے لیکن جب مادی جسم ساتھ ملتا ہے تو اس کے لیے پھر دوسرے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔اس لیے حضرت جبرائیل کو مقدس روح کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کی شخصیت خالص ہے ان کے ساتھ کسی مادی جسم کو نہیں جوڑا گیا۔
    اور آخر کار جب کسی انسان کا اس دنیا سے جانے کا وقت آتا ہے تو اس کی حقیقی شخصیت (نفس) کو اس کے مادی جسم سے الگ کر دیا جاتا ہے۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal

  • افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور طالبان کی پیش قدمی  تحریر: احسان الحق

    افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور طالبان کی پیش قدمی تحریر: احسان الحق

    دوحہ معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے فیصلے کے بعد افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے. آئے روز طالبان کی کارروائیوں میں تیزی اور فتوحات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. اکتوبر 2001 میں امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان پر حملے اور نومبر 2001 میں طالبان کی حکومت گرانے سے لے کر اگست 2021 تک تقریباً 20 سالوں میں طالبان نے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ ساتھ افغان فوج اور طالبان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں. ماہرین کے مطابق طالبان کی جانب سے دو ماہ میں افغان علاقوں اور شہروں پر کئے جانے والے حملے اور قبضے 20 سالوں میں کئے گئے مجموعی حملوں اور قبضوں سے کہیں زیادہ اور کامیاب ہیں. امریکی اور نیٹو افواج کا انخلاء 31 اگست کو مکمل ہو جائے گا.
    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ انخلاء کا فیصلہ درست ہے اور افغانستان کے مستقل کا فیصلہ اب افغانیوں کو کرنا ہے.

    امریکہ، نیٹو اتحادی افواج کے ساتھ ساتھ طالبان مخالف مسلح گروہوں نے نومبر 2001 میں طالبان کی حکومت گرا کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی. گزشتہ 20 سالوں میں طالبان اپنی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے ہیں. گزشتہ دو ماہ میں طالبان نے افغان حکومت اور فورسز کے زیر انتظام بہت سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے.
    کابل حکومت کے زیر انتظام اور زیر حکومت علاقے سکڑ رہے ہیں. طالبان کے سامنے بعض مقامات پر حکام اور افغان فورسز بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال رہے ہیں.

    طالبان کے دعوے کے مطابق انہوں نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کر لیا ہے. پچھلے کچھ دنوں میں طالبان کے قبضے میں جانے والے اہم شہروں کی تعداد 9 ہو چکی ہے اور یہ 9 شہر 9 صوبوں کے صدر مقام ہیں. اس سے پہلے طالبان نے صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر قبضہ کیا تھا. صوبے کے نائب گورنر صبغت اللہ سمنگانی نے بتایا کہ صوبے کا دارالحکومت ایبک طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے.
    بالخصوص تقریباً پچھلے 8 دنوں میں طالبان نے اہم علاقوں اور شہروں پر قبضہ کیا ہے. افغان حکام کی تصدیق سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں طالبان نے 9 صوبوں کے دارالحکومت شہروں پر قبضہ مکمل کر لیا ہے. یہ 9 صوبوں کے دالحکومت شہر ہیں جن پر طالبان کا مکمّل انتظام اور قبضہ ہو چکا ہے.
    فیض آباد، ایبک، قندوز، سرِپُل، تالقان، شبرغان، زرنج، پل خمری، اور فراہ شامل ہیں.

    تازہ ترین کارروائیوں میں منگل کے دن طالبان نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مزید دو صوبوں کے دارالحکومت شہروں پر قبضہ کیا. کابل سے محض 200 کلومیٹر دور شمال میں اہم شہر قندوز اور کابل کو ملانے والی شاہراہ پر واقع شہر پل جمری پر قبضہ کیا گیا. یہ انتہائی اہم راستہ ہے. اسی راستے کو وسطی ایشیا کا گیٹ وے کہا جاتا ہے. اسی روز منگل کو طالبان نے فراہ شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا. فراہ شہر صوبہ فراہ کا جبکہ پل جمری صوبہ بغلان کا دارالحکومت ہے.
    بغلان سے پارلیمانی رکن مامور احمدزئی نے AFP کو بتایا کہ طالبان شہر میں داخل ہو چکے ہیں اور اہم شاہراہوں، عمارتوں اور دفاتر کا انتظام سنبھال لیا ہے. بقول پارلیمانی رکن کے طالبان نے مرکزی چوراہے اور گورنر ہاؤس پر اپنے پرچم لہرا دیئے ہیں.

    افغانستان میں طالبان کی جانب سے کابل کی طرف پیش قدمی جاری ہے اور دوسری طرف دوحہ میں کابل حکام اور طالبان حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہونے جارہے ہیں. مزاکرات میں ثالث یا فیصل کے طور پر امریکی نمائندہ خصوصی ذلمے خلیل بھی امریکہ سے دوحہ پہنچ چکے ہیں.
    شمالی افغانستان ہمیشہ سے طالبان مخالف گروہوں کے قبضے میں رہا ہے. مگر پل خمری پر طالبان کا قبضہ بہت اہمیت کا حامل ہے. پل خمری کے بعد اگر طالبان مزار شریف پر قبضہ کر لیتے ہیں تو کابل حکومت مزید سکڑ جائے گی. ادھر بھارت نے مزار شریف میں اپنا قونصل خانہ بند کر دیا ہے اور اپنے شہریوں کو فوراً مزار شریف سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے.
    اس وقت قندھار اور ہلمند صوبوں میں لڑائی جاری ہے. اگر طالبان قندھار کے دارالحکومت قندھار اور ہلمند صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضہ کر لیتے ہیں تو جنوبی افغانستان میں طالبان کا قبضہ مکمل ہو جائے گا.

    طالبان کی پیش قدمی کے خوف سے جولائی کے پہلے ہفتے میں تقریباً ایک ہزار فوجی جوان تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے. جولائی کے آخری ہفتے میں 46 فوجی بمع 5 کمانڈرز پاکستان کی سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہو گئے تھے. سرحد عبور کرنے سے پہلے باقاعدہ طور پر فوج سے پناہ کی درخواست کی گئی تھی. پاکستان کے مطابق افغان فوج اس سے پہلے بھی پاکستانی حکام سے یکم اپریل کو اسی طرح پناہ کی درخواست کر چکی ہے.

    @mian_ihsaan

  • کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    کھیلوں کی ثقافت تحریر: عتیق الرحمن

    تقریبا ایک دہائی میں پہلی بار پاکستان کو اولمپک میڈل کی جیت کی سنجیدہ امید تھی جب 1992 کے بعد ایتھلیٹکس میں پہلی بار ارشد ندیم ہفتے کے روز مردوں کے جیولین فائنل کے لیے ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم پہنچے۔ گیمز کے لیے کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے ٹریک اینڈ فیلڈ ایتھلیٹ ارشد نے فائنل میں پہنچنے کے بعد تاریخ رقم کی تھی اور اس کا مقصد ویٹ لفٹر طلحہ طالب سے بہتر کرنا تھا جو پہلے ٹوکیو میں کانسی سے محروم ہو گیا تھا۔ ارشد بالآخر پانچویں نمبر پر رہا ، یعنی پاکستان کا اولمپک میڈل کا انتظار 2024 میں پیرس میں کھیلوں تک جاری رہے گا۔ ارشد اور طلحہ کی پرفارمنس نے ظاہر کیا کہ پاکستان 2016 کے ریو اولمپکس کے بعد سے بہتر ہوا ہے۔ لیکن اسے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کسی بھی حوصلہ افزائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، حالانکہ ایک سابقہ ​​کھلاڑی کے طور پر وہ کھیلوں کے شعبے کو گھیرنے والی سنگین خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ارشد اور طلحہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں اور جدوجہد کی وجہ سے ہماری امیدوں کو اپنے متعلقہ فیڈریشنوں کی تھوڑی سی مدد سے بلند کیا تھا۔ پیرس کی الٹی گنتی اب شروع ہو رہی ہے۔ اگر ارشد اور طلحہ 2024 میں اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا چاہتے ہیں اور اولمپک میڈلز جیتنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو ابھی سے کام شروع کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اولمپکس ایک ایسے مرحلے کی وضاحت کرتا ہے جہاں بہترین یا بہترین کے قریب رہنے والے اوپر آتے ہیں۔ یہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی نظام موجود ہو – ہر سطح پر۔ پاکستان میں کھیلوں میں تیزی آئی ہے ، ٹوکیو اولمپکس مسلسل دوسرے کھیلوں کی نشاندہی کر رہا ہے جس کے لیے قومی ہاکی ٹیم ملک کے 10 اولمپک تمغوں میں سے آٹھ کی فاتح کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ یہاں تک کہ غیر اولمپک کھیلوں جیسے کرکٹ اور اسکواش میں ، جہاں پاکستان کبھی غلبہ رکھتا تھا ، کارکردگی خراب ہوگئی ہے۔ حکومت ، اسپورٹس فیڈریشنز اور اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات مدد نہیں کرتے اور 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کو کھیلوں کی منتقلی نے اپنی ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ، جس سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو صرف محدود اختیارات حاصل ہیں۔ وزیر اعظم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی میٹنگ فوری طور پر بلائے اور آگے کا راستہ وضع کرے اور ملک میں کھیلوں کی ثقافت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔ یہ کھیلوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ماحول بنانے کے بارے میں ہے جس سے سکول لیول سے ہی بچوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ اولمپکس میڈلز جیتنے والے سبھی ممالک سکول کے بچوں کو ہی تربیت دینا شروع کردیتے ہیں جس سے ایک تو ٹیلنٹ ہنٹ میں آسانی ہوتی ہے اور دوسری طرف مقابلوں کا وقت آنے تک انکی دماغی اور جسمانی پختگی پیدا ہوجاتی ہے مگر اس کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی اور کھیلوں کے مقابلوں کی اشد ضرورت ہے۔ کھیلوں کی سہولیات کی تزئین و آرائش اور ترقی اس کی طرف پہلا قدم ہے ، جو کہ نچلی سطح کے پروگراموں کو پنپنے میں مدد دے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں کو اپنے آپ کو حکومتی منصوبے کے مطابق کرنا چاہیے اور جسمانی تندرستی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے کافی وقت اور وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ یہ ایک سے زیادہ عہدیداروں کی چین کا ڈھانچہ ہونا چاہیے جو باصلاحیت افراد کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی سطح تک لے جائے جہاں فیڈریشن ، مثالی طور پر کھیلوں کے پیشہ ور افراد کے زیر انتظام ، انہیں اگلے درجے تک لے جائیں گے۔ ترقی پذیر کھیلوں کی ثقافت نہ صرف کھلاڑیوں کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرے گی بلکہ مقابلہ اور نمائندگی میں بھی اضافہ کرے گی ، جس سے عالمی مقابلوں میں تمغے جیتنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔

    @ AtiqPTI_1

  • شکر کیسے ادا کیا جائے؟؟  تحریر :سلمان اکرم

    شکر کیسے ادا کیا جائے؟؟ تحریر :سلمان اکرم

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے. ایک نارمل انسان کے لیے اس کے وجود کے تمام اعضاء کا کامل ہونا کسی بڑی نعمت سے کم نہیں.
    .
    پھر ضروریات زندگی کا پورا ہونا بھی ایک عظیم نعمت ہے.. ضروریات سے بڑھ کر خواہشات کی تکمیل کس قدر بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ شاید ہم نے کبھی کیا ہی نہیں.
    .
    یہ بات بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم اپنے اوپر ہوئی رب کی عنایات کا اندازہ نہیں کریں گے ہم شکر بجا نہیں لائیں گے.
    .
    زندگی میں رشتوں اور دوستوں کا ہونا، مصروفیات میں فراغت کا دستیاب ہونا نعمتوں کا نکتہ کمال ہے.
    .
    ہمیں اکثر و بیشتر نعمت کی قدر تب ہوتی ہے جب کوئی نعمت ہم سے چھن جاتی ہے. اس سے پہلے ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم کتنی بڑی نعمتوں کے ساتھ جی رہے ہیں.
    .
    کبھی رات گپ انڈھیرے میں بجلی چلی جائے تو اندازہ کیجیے گا کہ ان لوگوں کی زندگی بھی کیا زندگی ہوگی جو روشنی سے واقف تک نہیں.
    .
    کبھی جسم کے کسی حصے پر زخم آ جائے تو سوچیے گا کہ اس چھوٹے سے زخم نے آپکو کتنا نامکمل کر دیا ہے.
    .
    کبھی مشکل وقت میں آپکو کسی مخلص کا سہارا نہ ملے تو چشم تصور میں اس تکلیف کو محسوس کیجیے گا.
    .
    بھوکے کا درد کیا ہوتا ہے یہ بھوکا ہی جانتا ہے. ہم جو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں ہم اس اذیت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں.
    .
    نعمت کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے بعد اگلی چیز اس کا شکر ادا کرنے کی ہے.
    .
    دنیا کا سادہ سا اصول ہے آپ کسی ادارے سے کسی قسم کی سروسز لیتے ہیں تو یقیناً اسے ایک معقول معاوضہ دیتے ہیں.
    اس دنیا میں ملنے والی کوئی بھی چیز مفت نہیں ہے.
    تو پھر ہم یہ کیسے سمجھ بیٹھے کہ جو چیزیں ہمیں فطرت نے عطا کی ہیں وہ بالکل مفت ہیں. اگر تو ہم انہیں مفت جانتے ہیں تو یقین کیجیے ہم اور آپ فطرت کے بدترین دشمن ہیں.
    .
    شکر کیسے ادا کرنا ہے.
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رب کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر اس کی عبادت سے ہی ممکن ہے.
    عبادت ایک لازمی چیز ہے مگر یہ فقط ایک چیز ہے.
    اور یہ آپکی ذات کے لیے ہے کہ آپ تہجد میں اٹھ کر اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر یا پھر چلتے پھرتے اس کی حمد و ثناء کر کے اس رحمت خداوندی کا شکر ادا کریں.
    .
    اس عبادت و ریاضت کا فائدہ آپکی ذات کو ہو سکتا ہے مگر یہ نعمت کا شکرانہ نہیں ہو سکتا.
    .
    جس طرح سرکاری بجلی و پانی استعمال کرنے کا ایک بل ادا کیا جاتا ہے اسی طرح رحمانی عطاؤں کا بھی ایک بل ادا ہوتا ہے.
    .
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے گرد و پیش میں ایسے افراد کیوں ہیں جو کسی نہ کسی نعمت سے محروم ہیں.
    جی خدا تعالیٰ نے یہ گنجائش فقط آپ کے شکر کے لیے رکھی ہے.
    .
    آپ کے پیٹ بھر کر کھانے کا شکرانہ یہ ہے کہ آپ کے قریب میں بھوکا سونے والے کا خیال کرنا آپکی زمہ داری ہے.
    .
    آپ کی بینائی کا قرض ہے کہ نابینا کو راستہ دکھایا جائے.
    .
    آپکے علم کا شکرانہ ہے کہ آپ جہالت کے اندھیرے مٹائیں.
    .
    اگر آپ کو بیساکھیوں کی حاجت نہیں تو شکر ادا کرنے کے لیے کسی لنگڑے کا سہارا بنیں.
    .
    اگر آپ مالدار ہیں تو شکرانے کے طور پر غریبوں کی امداد کریں.
    .
    اگر آپ خوش ہیں تو دکھی انسانیت کو خوشی دے کر شکر ادا کیجیے.
    .
    اپنے اوپر غور کیجیے، خود پر ہوئی رب کی عنایات جا جائزہ لیجیے. جو نعمت آپکے پاس موجود ہے اسے ان لوگوں میں تقسیم کریں جو اس نعمت سے محروم ہیں.
    یہی شکر ادا کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے.
    .
    شکریہ.

    @themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*

  • رشوت تحریر:اعجاز حسین

    رشوت تحریر:اعجاز حسین

    رشوت کیا ہے؟ جس چیز کا معاوضہ لینا شرعاً درست نہ ہو اس کا معاوضہ لیا جاۓ۔مثلاً جو کام کسی شخص کے فراٸض میں شامل ہے اور اسکا پورا کرنا اسکے ذمہ لازم ہے۔اس پر کسی شخص سے معاوضہ لینا۔جیسے حکومت کے افسر اور کلرک جو سرکاری ملازمت کی رو سے فراٸض ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔وہ صاحب معاملہ سے کچھ لیں تو یہ رشوت ہے۔
    جس سفارش پر کوٸی رقم وصول کی جاۓ وہ رشوت ہے۔اس میں ہر طرح کی رشوت شامل ہے۔خواہ وہ مالی ہو یا یہ کہ کسی کا کوٸی کام کرنے کے عوض کوٸی کام اس سے لیا جاۓ۔
    اسی طرح کوٸی کسی سے معاوضہ لیکر اسکے مطابق اسکا کام کرتا ہے اور اسکی وجہ سے حق پر ہونے والے شخص کا نقصان ہوتا ہے تو پھر یہ بھی رشوت ہے۔یہ مال اس شخص کیلیے حرام ہے اور جہنم میں لیجانے کیوجہ ہے۔
    رشوت لینے اور دینے والے دونوں سزا کے مستحق ہیں۔ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور جہنم میں لیجانے کا باعث ہے ۔اسوقت یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔یا یوں کہنا درست ہوگا کہ کبھی اس کی گہراٸی تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
    رشوت دینے اور لینے والے اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتے ہیں۔رشوت چونکہ ایک ظلم بھی ہے کیونکہ اس سے دوسروں کی حق تلفی ہو جاتی ہے اور اسکے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
    ” جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جاٸیگی تو انہیں ایک پل پر (جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگا) روک لیا جاٸیگا اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دیا جاٸیگا۔“
    ”بخاری شریف“
    مزید فرمایا ،
    خبردار ہو جاٶ !ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔(صحیح بخاری)
    اور
    ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں سے ایک اندھیرا ہو گا۔( بخاری و مسلم)
    ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی ہمیں ظلم سے بچنے کی تاکید کی ہے اور ارشاد فرمایا
    ”مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اسکے اور اللہ کے درمیان کوٸی پردہ نہیں ہے۔“
    آج ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، اس معاشرے میں رشوت نے اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں ، جس کی وجہ سے باصلاحیت لوگ بہت پیچھے رہ گٸے ہیں ،کیونکہ رشوت دینے والوں کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ اور نا اہل افراد کو اہم عہدوں پر فاٸز کر دیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے ہمارا ملک تینتیسواں بڑا ملک ہونے کے باوجود دوسرے ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔
    رشوت بد عنوانی کی ایک قسم ہے ۔جس میں پیسے یا تحفے دینے سے وصول۔کردہ شخص کا طرز عمل تبدیل ہوتا ہے ۔قانونی معنوں میں کسی سرکاری افسر یا کسی عوامی یا قانونی امور کے مجاز کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے کسی شۓ کی پیشکش کرنا، وصول کرنا یا مانگنا رشوت ہے۔ کوٸی کام نکانے ، کسی پر ظلم کرنے یا کسی کا حق مارنے کے لیے کوٸی روپیہ پیسہ دیا یا وصول کیا جاۓ یہ سب رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔رشوت کا مقصد کسی پر اثر انداز ہونا ہے اس حد تک کہ کسی حقدار کے ساتھ نا انصافی کر کے خود فاٸدہ حاصل کیا جاۓ۔
    رشوت ایک سنگین جرم ہے۔اسلام میں رشوت کھانا،لینا،دینا سب حرام ہے۔
    رشوت کا داٸرہ بہت وسیع ہے۔حصول منصب ،غیر حقدار کو نوکری دینا ، کسی ادارے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے اور چالان وغیرہ سے بچنے کے لیے پولیس افسران کو رشوت دینا بہت عام ہے۔اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں جلدی کام کروانے ، یا مفت کام کروانے، تعلیمی اداروں میں دھکوں سے بچنے کے لیے بھی رشوت دی جاتی ہے۔رشوت کی یہ تمام اقسام شرعاً اور اخلاقاً جرم ہیں۔
    رشوت کے انفرادی اور اجتماعی بہت سے نقصانات ہیں۔رشوت ہماری سوساٸٹی کا ایک بڑھتا ہوا لاعلاج مرض ہے جس کی جڑیں تقریباً ہر شعبے اور ہر ادارے میں پھیل چکی ہیں۔ جب کسی معاشرے میں رشوت کی براٸی عام ہوتی ہے تو یہ سب سے پہلے عدل و انصاف کو ختم کرتی ہے۔جس کیوجہ سے پر امن معاشرہ انتشار اور خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
    انسانی افراد میں محبت ،اخوت ،ہمدردی اور بھاٸی چارے کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔
    بغض وعناد،نفرت ، عداوت اور خیانت عام ہو جاتی ہے۔معاملات میں دھوکہ دہی، جھوٹی گواہی، اور دوسرے قبیحہ افعال کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے پر جبر و استعداد کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔جو اللہ عزوجل کی ناراضگی اور مسلمانوں میں بغض و عداوتوں اور دیگر فتنوں کا سبب بنتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ آج سب سے زیادہ قدرتی وساٸل کے مالک اسلامی ممالک بد امنی اور انتشار کا شکار ہیں۔
    بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان رشوت کے جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔
    رشوت کیلیے حکومت نے قانون وضع کیے ہوۓ ہیں لیکن امانت ،دیانت اور اخلاص نیت سے روگردانی کر کے ہم نے ان قوانین کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔ جسطرح دنیاوی و ریاستی قوانین سے انحراف کرنا جرم ہے۔اسی طرح اسلامی قوانین سے روگردانی کرنا بھی کھلم کھلا بغاوت ہے۔معاشرے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا کسی مولوی کاکام ہے نہ کسی ڈاکٹر اور استاد کا ۔معاشرے کی اصلاح میں سب سے زیادہ کارگر حکومت کا عمل ہے۔اگر حکومت چاہے تو رشوت جیسے سنگین جراٸم کو ختم کر سکتی ہے۔سرکاری اہلکار ہوں یا نیم سرکاری ، عوام الناس ہوں یا پولیس آفیسر، تعلیمی ادارے ہوں یا انصاف فراہم کرنے والے ادارے ،ہسپتال ہوں یا دیگر عوامی نماٸندگی کرنے والے ادارے ،تمام اداروں اور تمام شعبوں سے رشوت کا خاتمہ کرنا ممکن ہے اگر حکومت مٶثر اقدامات کرے تو۔
    اسکے لیے حکومت کو بنیادی طور پر کم آمدنی والے اداروں ، سرکاری اہلکاروں بشمول پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب رشوت جیسے مکروہ دھندے میں ملوث افراد کی نہ صرف حوصلہ شکنی اور سرزنش کرنی ہوگی بلکہ سخت سے سخت سزا بھی دینا ہوگی۔
    اسی طرح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے کے تمام افراد کو رشوت ستانی کےانجام سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے زبردست مہم چلانا ہوگی۔
    کتنے افسوس کی بات ہے غیر مسلم رشوت جیسی دیگر براٸیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے پلیٹ فارم بناتے ہیں ،بحث و مباحثہ کرتے ہیں ، اور فلاحی و سماجی تنظیمیں بنا کرلوگوں میں آگہی پھیلاتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام لیوا امت مسلمہ کا شرف حاصل کرنیوالی قوم اپنے ہی مذہب کی تعلیمات سے پہلو تہی کرتی ہے۔
    حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ ”نبی کریم ﷺ نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے ،دونوں پر لعنت فرماٸی ہے۔“
    ( سنن ابی داٶد)
    ” جس قوم میں سود عام ہو جاۓ وہ قحط سالی میں مبتلا ہو جاتی ہے، اور رشوت جس قوم میں عام ہو جاۓ تو دوسروں (کفار) کا خوف اور رعب انکے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔“
    (احمد حدیث، 17976 ،مسند شامعین،راوی عمرو بن عاصؓ)
    آج پاکستان میں یہ دونوں براٸیاں بہت زیادہ ہیں۔اسوقت ہمیں اجتماعی توبہ کرنے ک ضرورت ہے۔
    آج جب زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے اور ہر علم و فن میں ترقی ہو رہی ہے اس کے ساتھ جراٸم کی نت نٸی شکلیں سامنے آ رہی ہیں ،رشوت اب نٸے انداز اور بدلے روپ میں لی اور دی جا رہی ہے۔
    رشوت کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی ہمیں کوشش کرنا ہو گی ۔اسلامی تعلیمات کو اپناتے ہوۓ ہی ایک پر امن معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
    آٸیے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

    @Ra_jo5

  • کرومائیٹ اور تحصیل مسلم باغ پارٹ ون تحریر: اے ار کے

    شاید بہت کم لوگ کرومائیٹ کے بارے میں جانتے ہونگے،
    اور شاید بہت کم لوگوں نے کبھی مسلم باغ دیکھا ہو یا نام سنا ہو۔
    مسلم باغ کی ابادی پینتیس ہزار اور شرح خواندگی ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 فیصد ہے۔
    مسلم باغ میں ایک گرلز ڈگری کالج ایک بوائے ڈگری کالج ایک پولی ٹیکنیک کالج ایک کیڈٹ کالج (بمقام نسائی) اور سب کیمپس بلوچستان یونیورسٹی اف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ اینڈ مینجمینٹ سائنس ( بیوٹمز)
    واقع ہیں۔
    سیاست کے میدان میں بھی مسلم باغ نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو جنما ہے۔ممبر اف نیشنل اسمبلی مولانا عبدالواسیع سابق سینیٹر شہید عثمان خان کاکڑ اور ممبر اف صوبائی اسمبلی بلوچستان مولانا نوراللہ کا تعلق بھی ماشاءاللہ مسلم باغ سے ہے۔
    اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے کرم سے مسم باغ کو کرومائیٹ جیسے تحفے سے نوازا ہے۔
    کرومائیٹ ہی کے بدولت خطہ مسلم باغ
    خوشحال اور امیر ترین سمجھا جاتا ہے۔
    مسلم باغ کے 80 فی صد لوگ کانکنی سے وابسطہ ہیں۔
    مسلم باغ کے سینکڑوں کان مالکان کے ساتھ تقریبا بیس تا پچیس ہزار افراد بطور لیبر کام کرتی ہے جنکا تعلق کے پی کے اور افغانستان سے ہوتا ہے۔یہ لوگ کان کے مالک کی ہدایات کے سخت پابند ہوتے ہیں۔
    تحصیل مسلم باغ پہلے ہندوباغ ہوا کرتاتھا۔
    سب(SUB) تحصیل مسلم باغ کا نام اس لیے ہندوباغ تھا کہ برصغیر کے ایک ہندو سادھو نے یہاں ایک شاداب خوبصورت باغ لگایا تھا۔
    لیکن ضیاءالحق کے دور میں ایک دن اچانک ہندوباغ مسلم باغ ہو گیا۔
    تحصیل مسلم باغ بلوچستان (پاکستان) کے ضلع قلعہ سیف اللہ کی ایک تحصیل ہے۔ سطح سمندر سے بلندی 1787 میٹر ہے۔ مشہور اور مرکزی قصبہ (چھوٹا پیارا شہر) 
    مسلم باغ کرومائیٹ پیداوار کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور و جانا جاتا ہے ۔
    مسلم باغ اس قیمتی معدنی پیدوار کا اہم مرکز ہے۔
    ترکی ، ایران اور انڈیا میں بھی کرومائیٹ پایا جاتا ہے لیکن کوالٹی میں مسلم باغ کے کرومائیٹ کا کوئی ثانی نہیں۔
    اور جوق در جوق یورپی اور چائینیز پارٹیاں کرومائیٹ کے سودے بازیوں کیلیے مسلم باغ کا رخ کرتی ہیں۔
    کرومائیٹ کے تیز کاروبار اورپیسوں
    کے ریل پیل کو دییکھتے ہوئے تقریبا تمام ملکی ( پرائیوٹ)بینکوں نے اپنے برانچ مسلم باغ میں کھول رکھے ہیں۔
    میری طرح یہ جان کر اپ بھی انگشت بدندان رہ جائیں گے کہ مسلم باغ کے فی کس اوسط سالانہ امدنی پندرہ تا پچیس ہزار امریکی ڈالر ہے۔
    اگر اس دعوی کو درست مانا جائے تو یہ اوسط امدنی پورے ملک کی اوسط امدنی سے تقریبا دوگنا اور یورپی ملکوں کے برابر ہے۔
    ارب پتیوں کے شہر مسلم باغ میں و اقع کرو مائیٹ کے وسیع ذخائر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے روزانہ کئی ٹن کرو مائیٹ حاصل کر کے ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مسلم باغ کے پہاڑوں میں دیگر قیمتی معدنیات جپسم،گرینائیٹ،میگنیسائٹ اور چونے کے پتھرکے بھی وسیع ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔
    اسٹین لیس اسٹیل کی تیاری میں بڑی کثرت سے استعمال ہونے والا اور اس کا بنیادی جُز کرومائیٹ Chromium Ore ایک دھاتی پتھر ہے Cr اسکا کیمائی فارمولا ہے۔ کرومائیٹ پر زنگ نہیں لگتا۔ 1900 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر بھی نا پگھلنے والا پتھرکرومائیٹ کے ہر ایٹم میں24 پروٹون ہوتے ہیں ۔
    جاری۔۔۔۔۔

    ٹویٹر ہینڈل @chalakiyan