Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا: تحریر  محمد جاوید:

    سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا: تحریر محمد جاوید:

    یہ منصوبہ چین اور پاکستان دونوں کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کو دونوں ممالک گیم چینجر منصوبے کے نام سے منصوب کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ منصوبہ چین اور پاکستان کے معشیت کو نئی بلندیوں پہ لے جائے گا اس لیے اس منصوبے کی ترقی اور پیش رفت میں تیزی لانا بہت ضروری ہے
    جتنا جلدی یہ منصوبہ مکمل ہوگا اتنا ہی پاکستان کی معشیت کے لئے اچھا ہے اس منصوبے کے مکمل ہوتے ہی پاکستان کی معاشی ترقی رفتار پکڑلے گی ۔
    اصل میں CPEC ایک پیکج ہے جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر مشتمل ہے اور ان منصوبوں کی مالیت 46 بلین ڈالر ہے۔
    اس منصوبے میں 33 بلین ڈالر پاکستان توانائی اور بجلی کے منصوبوں کے قیام اور تخلیق کے لیے وقت اور مقرر ہے۔
    یہ پروجیکٹ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ہے؟
    اس کے کچھ وجوہات ہے آج کے کالم میں ان وجوہات پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کر لونگا۔
    اس CPEC کی وجہ سے ہماری توانائی کی فراہمی کی کمی دور ہو جائے گی اور ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کو بہتر بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ اس منصوبے کی وجہ سے ، ہمارے ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور یہ بالآخر پائیدار اور بڑے پیمانے پر معاشی ترقی کا ضامن ہوگا۔
    اس منصوبے کی وجہ سے بڑی حد تک بے روزگاری کم ہوگی۔ یہ منصوبہ 700000 ڈائریکٹ ملازمتیں فرہم کرے گا اور ان گنت ان ڈائریکٹ ملازمتں فراہم کرے گا۔
    اس منصوبے کی ساخت کی وجہ سے اسکو گیم چینجر آف پاکستان بھی کہاں جاتا ہے اس منصوبے کا سب سے اہم پروجیکٹ گوادر پورٹ ہے جو کہ اپنی لوکشین اور ساخت کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے جس کی اہمیت نہ صرف پاکستان اور چین کے لیے ضروری ہے بلکہ پورا خطہ اور دنیا کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
    بتایا جاتا ہے کہ اگر یہ CPEC پروجیکٹ وقت پر مکمل ہوجائے گا تو رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گوادر میں زمینوں کی قیمتں آسمان سے باتیں کررہی ہے۔
    حالیہ مہینوں میں قیمتوں کا دوگنا ہونا بھی یہی وجہ ہے۔
    یہ معاشی راهداری اس قرضوں میں ڈوبے ہوۓ ملک کے لئے ایک نعمت ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معشیت کو ان بلندیوں پہ لے جاسکتا جن کا ہمارے معشیت دان خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ پروجیکٹ ہمارے ملک کے معاشی بلندیوں کو نئی اڑان دے گا چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہمارا زیادہ تر انحصار ذراعت پہ ہے اب اس پروجیکٹ کی وجہ سے پاکستان ایک زرعی معیشت والے ملک سے اپنے آپ کو بڑے پیمانے پر لاجسٹکس اور انڈسٹریل حب میں تبدیل کر سکتا ہے۔
    اس پروجیکٹ میں کوئلے سے چلنے والے بجلی کے بہت سے منصوبے اور پلانٹس مشتمل ہے۔ یہ منصوبہ یقینی طور پر ہمارے توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گا۔
    ہمیں یقین ہے کہ یہ CPEC منصوبہ پاکستان کے لیے معاشی بحالی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ وقت ہے۔
    کہ ہمیں اپنے تمام شہریوں کے درمیان ان سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ اس پہلو میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ یہ سب پاکستان کے لیے CPEC کی اہمیت کے بارے میں ہے۔ یہ منصوبہ تقریبا اپنی تکمیل کے مراحل کی طرف گامزن ہے۔
    اس منصوبے کی تکمیل پر پاکستان کی معشیت ڈرامائی انداز میں یقینی طور پر بہت بہتر ہو گی۔ اور پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کرے گا اور یہ پاکستان کا نقشہ بدل دے گا۔
    @I_MJawed

  • پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جواب دے تحریر:  ماریہ ملک

    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن جواب دے تحریر: ماریہ ملک

    پاکستان کے حالیہ ہیرو ایتھلیٹ “ارشد ندیم” کے ایک انٹرویو میں کہے گئے کلمات نے دل کو جیسے چھلنی کر دیا ہو۔ اُس متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے محنتی اور حب الوطنی کے جزبے سے سرشار کھلاڑی نے ایک ہی جملے سے بلخصوص پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور بالعموم پاکستان حکومت سے اپنے گِلے کا اظہار تو کیا لیکن اس کے ساتھ میں سمجھتی ہوں کہ سب کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اُٹھا دیے ہیں

    ارشد ندیم نے کہا:

    کہ انہیں "شرم” محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے تمغہ نہیں جیتا ، لیکن افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اس وقت کھلاڑیوں کے لیے جو تربیتی سہولیات اور سرکاری امداد دستیاب ہے۔ اس کی موجودگی میں "دل جیتنا تو ممکن ہے ، تمغے نہیں”

    ارشد ندیم پاکستان کا وہ ہیرو ہے جس نے کروڑوں پاکستانیوں کو ایک امید، ایک خواب اور گھٹن کے ماحول میں تازگی کا احساس دیا۔
    سیمی فائنل میں بہترین کارکردگی کے باعث نہ صرف ہر پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کا شغف رکھنے والے ہر ناظر کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ پاکستانیوں کو ایک امید دی کہ 1988 کے بعد شائد ایک بار پھر یہ خواب حقیقت کا روپ دھار لے اور پاکستان کو اولیمپک کھیلوں میں کوئی سونے کا تمغہ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہو جائے۔
    لیکن فائنل میں پاکستان یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم رہا۔
    گو ارشد ندیم یہ اعزاز تو حاصل نہ کر سکا لیکن اپنی بھرپور کوشش اور محنت سے پاکستانیوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہر پاکستانی نے ارشد ندیم کو وہ محبت اور عزت دی جس کا وہ حقدار ہے۔

    ایک اہم سوال جو اس وقت ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ جب حکومت ہر سال کروڑوں روپے مختلف کھیلوں کے فروغ پر خرچ کر رہی ہے۔ کھیلوں کے مختلف ادارے قائم ہیں اور ہر ادارے میں لاکھوں کی تنخواہ لینے والے افسران سالوں سے اپنے عہدوں پر براجمان ہیں لیکن جب بات اِن کی کاردگی کی ہو تو وہ نہایت ناقص ہے۔ ہر بار کھیلوں کے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اُٹھتے ہیں لیکن اُن میں کسی قسم کی بہتری نظر نہی آتی۔

    اولمپکس میں کسی بھی ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے تاریخ کے پہلے پاکستانی ارشد ندیم کا مقصد 1988 کے بعد اپنی قوم کے لیے انفرادی تمغہ جیتنے والا پہلا اولمپین بننا تھا۔
    اس مقابلے کے تیسرے دن 85.16 میٹر کے بہترین تھرو کے زریعے فائنل میں پہنچنے والا ارشد ہفتہ کو پانچویں نمبر پر رہا جبکہ نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر کا بہترین تھرو جیت کر ہندوستان کے لیے تاریخی پہلا اولمپک ایتھلیٹکس گولڈ میڈلسٹ بننا تھا
    ایسا بار ہا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جیسے پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیل ترجیحی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی تمام حکومتوں کو کرکٹ کا جنون رہا ہے۔ پاکستان میں کسی بھی میدان کے لئے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن اُن دیگر کھیلوں کے سرپرست اداروں کی طرف سے دی گئی سہولیات کی کمی، عدم دلچسپی، افسران اور اداروں کے سرپرستوں کا سفارش یا سیاسی پشت پناہی کے بل بوتے پر سالہاسال سے عہدوں سے چمٹے رہنا اس ناکامی کی اصل وجہ ہے۔
    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو ہی لے لیجئیے! اس ادارے کے سرپرست ریٹایرڈ سید عارف حسن پچھلے چودہ سالوں سے اس ادارے کی سرپرستی کر رہے ہیں لیکن کارکردگی صفر ہے۔
    حکومت کی جانب سے جب بھی اِن سے کارکردگی پر بات کی جاتی ہے تو موصوف کا یہ جواب اِن کی شخصیت اور انا پرستی کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ایک آزاد ادارہ ہے اور اگر حکومت نے زیادہ دخل اندازی کی تو ہم ورلڈ اولمپک سے کہہ کر پاکستان پر اولمپک میں حصہ لینے پر بین کروا دیں گے۔
    اگر اسی بیان ہی کو دیکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج تک پاکستان اولمپک گیمز سے کوئی میڈل کیوں نہی جیت سکا۔
    نہ صرف ارشد نے بلکہ اُن کے کوچ نے بھی ادارے کی طرف سے دی گئی سہولیات کی کمی اور عدم توجہ کی شکایت کی ہے۔
    ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ریٹایرڈ سید عارف حسن فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور حکومت پوری توجہ سے اس ادارے کو از سرِنو ترتیب دے تاکہ دوبارہ کوئی ارشد ندیم اس طرح دلبرداشتہ اور انتہائی ٹیلنٹڈ ہونے کے باوجود اس طرح اعزاز سے محروم نہ ہو۔
    ایتھلیٹ ارشد ندیم نے انٹرویو میں حکومت پر زور دیا کہ وہ سہولیات کو بہتر بنائے ، فنڈنگ ​​میں اضافہ کرے اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری کرے: "میں اس بار اولمپکس میں پانچویں نمبر پر آیا۔ اگر سہولیات کو بہتر بنایا گیا تو میں 2024 اولمپکس میں پاکستان کے لئے بڑا اعزاز حاصل کر سکتا ہوں۔

    ندیم کے فزیوتھیراپسٹ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ "جو لوگ چار یا پانچ نمبر پر آتے ہیں وہی ہیں جن پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔”
    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے میڈیکل کمیشن کے سیکرٹری ڈاکٹر اسد عباس شاہ نے عرب نیوز کو بتایا ، "ارشد ندیم فائنل میں پریشانی میں مبتلا تھے اور ایسی چیزیں اس وقت ہوتی ہیں جب کوئی انتہائی شائستہ پس منظر سے ہو۔”
    قارئین کیا آپ نے ہندوستانی ایتھلیٹ کے ساتھ ٹوکیو میں حاضر دستہ دیکھا؟
    وہ اپنے ساتھ ایک آسٹیو پیتھ ، فزیوتھیراپسٹ ، اسپورٹس سائیکالوجسٹ ، ڈاکٹر ، آرتھوپیڈک سرجن اور حتیٰ کہ نیورولوجسٹ لے کر آئے تھے۔ ان کے پاس ایک آرکسٹرا ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے؟
    اور بقول فہمیدہ راجہ ہماری اولمپک ایسوسی ایشن نے کھلاڑیوں کے ساتھ باقاعدہ پروفیشنل کوچز روانہ کرنے کے بجائے اپنے ادارے کے افسران کو سیر کرنے بھیج دیا۔ جب اس طرح اقربا پروری اور زاتی مفادات کو فوقیت دی جائے گی تو پھر اسی طرح ہی کی کارکردگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

    “ہم کہہ سکتے ہیں کہ تمغہ ہمارے ہاتھ سے پھسل گیا۔”

    اور اس کی ساری کی ساری زمہ داری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سرپرست اور دیگر عہدا داران کی ہے جنہوں نے کئی سالوں سے اس ادارے کو کمزور سے کمزور تر کرنے کے ساتھ ساتھ زاتی مفادات کے حصول کا زریعہ بنا دیا ہے۔

    تحریر: ماریہ ملک
    ‏@No1Mariya

  • ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل.  تحریر شاہ زیب احمد

    ‏منشیات کا استعمال اور نوجوان نسل. تحریر شاہ زیب احمد

    نشے کو اگر عام الفاظ میں بیان کرے تو نشے سے مراد ایسے اشیاء یا اجزاء کا استعمال کرنا ہے جس سے انسان کی وقتی طور پر ذہنی و جسمانی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ وہی نشہ انسان کی ضرورت بن جاتی ہیں

    آج اکیسویں صدی میں جہاں ہر طرف مقابلے، نت نئے تجربات اور ایجادات کے طرف لوگ مائل ہے اور کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اسی طرح ہمارے پاکستان کے نوجوان نسل میں نشے کی عادت تیزی سے پھیل رہی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں جس میں ہر سال ہزاروں افراد کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ شاید ہمیں اس صورت میں مل رہا کہ ہماری نئی نسل روز مرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ صحت مند ایکٹیویٹیز سے دور ہوتی جا رہی ہے، 2021 کے اولیمپک مقابلے ہمارے سامنے ہے جہاں ہمارے کتنے نوجوانوں نے حصہ لیا؟ اور کتنے نوجوان کامیاب ہو کے واپس لوٹ آئے ؟ یقیناً یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، جو پاکستان کو اپنے لپیٹ میں لے رہا ہے اور اسکا روک تھام نہایت ضروری ہیں، اس حالت کی سب سے اہم وجہ شاید یہی ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں کے سرگرمیوں سے واقف نہیں ، بچے اسکول، کالج یونیورسٹی میں کیا کر رہے انکے دوست کون ہے وہ کون سے ایکٹیویٹیز میں حصہ لے رہے ہیں، کہاں جا رہے کہاں سے آرہے وغیرہ وغیرہ.
    آج پاکستان کے نوجوان بطور فیشن سیگریٹ اور دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جو رفتہ رفتہ یہی فیشن یہی شوق انکی عادت اور ضرورت بن جاتی ہے اور مکمل طور پر نشے کا عادی بنا دیتی ہیں.
    نشہ شروع کرنے کے بہت سارے وجوہات ہیں لیکن یہاں وجوہات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کس طرح نوجوان نسل کو نشے کے لت سے بچایا جائے اور انہیں دیگر سرگرمیوں میں مصروف کیا جائے،
    نشے سے نجات اور بچاؤ کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آگاہی پھیلاؤ مہم زیادہ سے زیادہ کئے جائے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پہ اس مہم کو پروموٹ کیا جائے، جیسے پولیو پہ زور دیا گیا اور آج پاکستان پولیو فری زون کے طرف جا رہا اسی طرح نشے سے متاثر افراد کیساتھ ساتھ نشہ آور اجزاء کے ڈیلرز کے خلاف آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے ، آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ والدین جان سکیں کہ جیسے ہی بچے کے عادات تبدیل ہو رہی اس پہ زیادہ توجہ دینا شروع کریں، علامات کے بارے میں مکمل جان کاری ہو جیسے نشے کے عادی افراد،
    * زیادہ تر گھر سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں،
    * رات کو دیر سے گھر آنا معمول بن جاتا ہے،
    * گھر والوں کیساتھ بیٹھنے اور زیادہ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں،
    * معمولی باتوں پر غصہ آتا ہے،
    * وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، بھوک نہیں لگتی، رنگ بدل جاتا ہے،
    * اپنے صفائی پہ زیادہ دیہان نہیں دیتے،
    * اسکول / آفس سے غیر حاضریاں شروع ہو جاتی ہیں،
    * جسم سے بدبو آتی ہے
    * چوری کی لت پڑھ جاتی ہیں وغیرہ،

    یہ چند اہم علامات ہیں یعنی جس سے ہم نشہ کرنے والے کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اسکا علاج معالجہ شروع کر سکتے ہیں.

    نشے کا علاج عام بیماریوں سے مختلف ہیں، یہاں میڈیسن سے زیادہ کاؤنسلینگ زیادہ ضروری ہے جس کے لئے سائیکالوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ کی خدمات لی جاتی ہیں، اور ترتیب وار علاج کیا جاتا ہے،

    * جہاں سب سے پہلے علاج کے لئے ترغیب دی جاتی ہیں، مریض اور گھر والوں دونوں کو علاج کے لئے امادہ کیا جاتا ہے اسکے لئے مختلف ادارے کام کر رہے جہاں سے یہ میسج نکلتا ہے کہ نشے کے مریض مجرم نہیں پیار و شفقت کے مستحق ہے تاکہ وہ زندگی کے طرف لوٹ کے آئے،
    * مریض کو نشے کے اثرات سے پاک کرنا ، نشے سے نجات کے علاج میں یہ دوسرہ عمل ہے یعنی ڈیٹکسی فیکیشن کرنا، اس عمل میں مریض کو کافی تکلیف ہوتی ہے نشہ چھوڑنے کی وجہ سے مختلف علامات سامنے آجاتے ہیں جس میں جسم میں شدید قسم کا درد محسوس ہونا ، جمائیاں آنا، بے خوابی ، آنکھوں اور ناک سے پانی بہنا ، چڑچڑا پن ، سخت بے چینی اور اضطراب کی کیفیت وغیرہ ۔ Detoxification کے طریقہ کا ر میں ان تمام اذیت ناک اثرات کو کم سے کم کرتے ہوئے مریض کا نشہ چھڑوایا جاتا ہے۔ مریض کو دس پندرہ دن اور کبھی کبھی اِس سے زیادہ بھی Detoxification کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ جہاں ایک ماہر سائیکاٹرسٹ کے ساتھ میڈیکل ڈاکٹرز کی بھی خدمات لی جاتی ہے،
    * نفسیاتی علاج، مریض کا دوائیوں کے ساتھ نفسیاتی علاج بھی ہونا ضروری ہوتا ہے جہاں اسے زندگی کے طرف واپس آنے کی ترغیب دی جاتی ہیں، مریض کو یہ یقین کروایا جاتا ہے کہ نشہ زندگی کے مشکلات اور مسائل بڑھانے کا نام ہے، اسے ہمت دی جاتی ہے کہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کے اندر سوئے ہوئے اچھے اور ذمہ دارانسان کو جگایا جاتا ہے۔
    * دوبارہ نشہ شروع کرنے کی روک تھام : علاج کے بعد مریض کو دوبارہ نشہ کی طرف لوٹ جانے سے روکنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اِس کے لئے مریض کی مسلسل نگرانی اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج کے بعد مریض کو دوبارہ ان دوستوں کے پاس ہر گزنہیں جانے دینا چاہئے جہاں سے اسے یہ مرض لاحق ہوا تھا، وہاں سے دوبارہ نشے میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اس سارے عمل میں گھر والوں کا رویہ نہایت مناسب اور پیار بھرا ہونا چاہئے.

    * مریض کی بحالی یعنی (Rehabilitation): مریض کی بحالی بھی علاج ہی کا اہم حصہ ہے ۔ بحالی کا مطلب یہ ہے کہ علاج کے بعد صحت یاب مریض کو معاشرے کا اہم فرد بنانا ، مریض کے عزت و وقار کو مجروح نہ کرنا ، معاشرے میں ایک مقام دینا ، اسے وہی زندگی دینا جیسے وہ نشے سے پہلے تھا/تھی ، اگر مریض ملازم تھا تو صحت یابی کے بعد ملازمت دوبارہ دینا، سکول کالج میں تھا تو واپس داخل کرنا غرضیکہ اس کو وہ تمام سہولیات دینا جو ایک عام فرد کو دی جاتی ہے، اور یہ ہم سب کی ، پورے معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے،

    اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں شعور اجاگر کر سکیں جس طرح ہم شوگر ، بلڈ پریشر اور دیگر تمام بیماریوں کا علاج کرتے ہیں اسی طرح نشہ بھی ایک بیماری ہے اور قابل علاج ہے ہمیں مریض سے نہیں بلکہ اسکے مرض سے نفرت کرنی چاہئے ، اگر بطور مسلمان اور بطور انسانیت ہم اپنا فرض ادا کریں نشے کے مریضوں سے نفرت کے بجائے محبت سے پیش آئے ، انکا سہارہ بنے تو یقیناً کئی خاندانوں کے بجھے ہوئے چراغ ہم روشن کر سکتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کو نشے کے لت سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں.
    نشے کا علاج، کل نہیں آج.

    تحریر شاہ زیب احمد
    Twitter ‎@Zebi_afridi

  • بحثیت قوم ہم جانور ہیں تحریر:ماہم بلوچ

    لفظ جانور انسان کے لئے استعمال کرو تو غصے میں آ جاتا ہے جبکہ جانتا ہے جانور کیا ہوتا ہے وه جس کو نا تو کوئی شعور ہوتا ہے نا ہی اس کے کوئی اصول و ضوابط ہوتے ہیں،سارا دن کھا پی کر گزار دیتا ہے اور اس کے سامنے درندہ ایک جانور کو کھا رہا ہوتا ہے تو بجاۓ مدد کے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا ہے۔
    کیا بطور مجموئی ہم جانور نہیں ہیں؟؟سارا دن کھا پی کر سو جاتے ہیں نا یہ پتا کہ جو کھایا حلال بھی تھا نا ہی صفائی کا پتا گھر کا کچرا گلی میں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ گھر صاف کر لیا۔۔جانور بھی جس جگہ بیٹھا ہوتا ہے وہی صاف کرتا ہے۔۔۔
    کیا ہم جانوروں کے جیسے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایک دوسرے کو مرنے مارنے تک نہیں آ جاتے؟؟جنگلوں میں جب خوراک کم ہو تو ایک ہی قبیلے کے جانور ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
    جانوروں کی بستی میں کوئی اصول نہیں ہوتے کوئی قانون نہیں ہوتا صرف طاقتور کی حکمرانی چلتی ہے۔۔۔کیا ہمارے معاشرے میں کوئی قانون ہے؟؟کیا امیر غریب قانون کی نظر میں کامیاب ہیں؟؟؟
    جنگلوں میں کوئی تعلیمی شعور نہیں ہوتا بس کھانا پینا اور سونا ہوتا ہے۔۔۔کیا ہمارے ملک میں اکثریتی آبادی کا حال نہیں؟؟؟
    جانوروں کی بستی میں درندہ بنا دیکھے کے شکار کتنا کمزور ہے اسکی کھال تک اتار دیتا ہے۔۔۔کیا ہماری بستی میں ڈاکٹر یہ فریضہ سر انجام نہیں دے رہے؟؟؟
    جنگلوں میں صبر برداشت اور رواداری نہیں ہوتی صرف کھینچا تانی ہوتی ہے سارا دن۔۔۔کیا ہمارے نام نہاد کچھ شوز میں ہماری پڑھی لکھی قوم ایسا نہیں کرتی؟؟؟
    جانوروں میں تہذیب تمدن نہیں ہوتا انکا کوئی لباس نہیں ہوتا وه ایسے ہی گھومتے ہیں سارا دن۔۔۔کیا آج کل ہماری کچھ لبرلز آنٹیاں یہی سب ہمارے ملک میں کرنا نہیں چاہتی؟؟؟
    جنگلوں میں جب کسی ایک جانور کے ساتھ درندگی ہو رہی ہوتی تو باقی جانور یا تو دور سے چپ چاپ دیکھتے ہیں یا پھر اپنی جان بچا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔کیا ہمارے معاشرے میں بچوں اور زیادتی کے بڑھتے واقعات پر ہماری قوم کا یہی رویہ نہیں ہے؟؟
    ان سب چیزوں کا یہاں موازنہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سمجھیں ہم اشرف المخلوقات ہیں،ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،ہم نے یہ ملک لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ‎ کے نام پر بنایا ہے
    خدارا جاگیں اور معاشرے کو تباہی سے بچائیں اور اس ملک کو وہی ریاست بنائیں جس کا خواب اقبال نے دیکھا اور قائد نے جدوجہد کی۔۔
    خدارا بدلیں خود کو🙏

  • مثبت سوچ۔وقت کی ضرورت تحریر:شعبان اکبر

    مثبت سوچ۔وقت کی ضرورت تحریر:شعبان اکبر


    انسان کےہرعمل کی اساس اس کی سوچ ہے۔سوچ کامثبت یامنفی ہونا،اعمال کی پائیداری پربراہِ راست اثراندازہوتاہے۔اگرسوچ ہی کمزور پڑجائے اوربندہ ذہنی انتشارکاشکارہوجائے تواعمال کابہتراندازمیں ہوناتودرکنار،واقع ہونابھی محال ہوجاتا ہے۔اس لیےان تمام ترذرائع کواپنانےکی حتی المقدور کوشش کی جائےجن سےفکرکوجولانی عطاہو۔معاشرےمیں اکثریت حوصلےاورہمت کوگھٹادینےوالی باتیں کرتی ہے،جس کےباعث انسان اہلیت واستعدادکےباوجود بھی عمدہ کارکردگی نہیں دےپاتا۔لہٰذااس ضمن میں یہ بات نہایت اہم ہےکہ اس شخص کےپاس بیٹھاجائےجس کی باتیں آپ کے حوصلےکوبڑھاوا دیں،جس کےالفاظ سن کرآپ اپنےخوابوں کی تکمیل کےلیےکمربستہ ہوجائیں۔اگرچہ ناکامیاں کسی حدتک اذیتِ قلب کاباعث بنتی ہیں مگرمثبت سوچ انسان کوباہمت ومستحکم رکھتی ہےاورمقصدکی تکمیل تک لےجاتی ہے۔نوجوانوں کی تربیت کےامورمیں سب سےاہم نوجوانوں کی فکری تطہیرہے تاکہ زندگی کےہرمرحلے پروہ مختلف معاشرتی مسائل کاسامناکرسکیں۔اللہ رب العزت نےہرشخص کولازوال خوبیوں سےنوازا ہےاورانھی اوصافِ حمیدہ کی بناہ پرتمام مخلوقات میں شرف عطافرمایا۔اگرکہیں کمی ہےتواس کےذمہ دارہم ہیں کہ اپنےمالک کی عطاکردہ خوبی کوبروئےکارنہ لاسکے۔حق تویہ تھاکہ رب تعالیٰ کی دی گئی قابلیت کواستعمال میں لاکراوجِ کمال پاتے۔مگرمنفی سوچ نےہمارےپاؤں جکڑلیےاوراردگردکےمنفی کرداروں نےہمیں بلندعزم وہمت سےمحروم کردیااوریوں ہم وہ کام ہی نہ کرپائےجس کی کبھی دُھن سوارتھی۔گویامثبت سوچ ہمیں کسی بھی سفرکےآغازسےلےکراختتام تک منزل کےحصول کی امیددلاتی ہے۔قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نےاپنےایک انٹرویومیں فرمایاکہ وہ بہت پہلےہی مسلمانانِ ہندکےلیےعلیحدہ وطن کےقیام کاسوچ چکےتھےمگرقوم کوآہستہ آہستہ ذہنی طورپرغلامی سےنجات کےلیےتیارکیا۔گویامملکتِ خدادادپاکستان کےحصول میں بھی پختہ مثبت سوچ نقطہِ آغازتھی۔ہربندہ اپنےکام کےمتعلق یہ کہتانظرآتاہےکہ اس شعبےمیں مت آنا،یہاں بہت خواری ہے۔ایسےلوگ درحقیقت محنت کرنےکےلیےتیارہی نہیں اوریوں اِن کی منفی افکارنئےآنےوالوں کوذہنی مفلوج بنادیتی ہیں۔مگرافسوس صدافسوس کہ ہمارےمعاشرےمیں کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی گئی کہ ہم نےاپنی آنےوالی نسلوں کی تربیت کیسےکرنی ہے۔والدین اپنی اولادکویہ توسکھاتےہیں کہ حصولِ دولت کےلیےکیسےتگ ودوکرنی ہےمگرکبھی فکرکی پاکیزگی اوربلندی کےلیےاپنی اولادمیں شعوربیدارنہیں کرتے۔تاریخ گواہ ہےکہ فطرت بھی انھی چیزوں کواپنےدامن میں جگہ دیتی ہےجنھیں ہم اپنی ترجیحات میں رکھتےہیں۔اگرترجیحات میں مال ودولت کاحصول مقدم ہےاورمعاشرےکی فلاح کےلیےتعمیری ومثبت سوچ کوپسِ پشت ڈالاگیاہےتوپھرچندٹکےتومل سکتےہیں۔مگرطمانیتِ قلب جیسی نعمتوں سےمنتفع نہیں ہوسکتے۔احسان دانشٓ کی زندگی کولےلیجئےکہ ایک وہ وقت تھاجب وہ پنجاب یونیورسٹی میں مزدوری کرتےرہےمگرامیدآمیزمحنت اورلگن کےبل بوتےپروہ اِسی جامعہ میں بطورِممتحن تعینات ہوئے۔پس اگرمثبت سوچ طبیعت میں راسخ ہوجائےتواعمال میں کاملیت آجاتی ہے۔محنتِ شاقہ قابلیت کونکھاردیتی ہے۔
    لہذا ہرلمحہ مثبت اورتعمیری سوچ کاپرچارکریں تاکہ تخلیقی قوت دبنےنہ پائے اورصلاحیتیں نکھرسکیں۔

    twitter handle ‎@iamshabanakbar

  • رب اشرح لی   تحریر: محمد شفیق

    رب اشرح لی تحریر: محمد شفیق

    چھوٹی بہن کی ایم ایس کی پریزنٹیشن تھی۔رات بھر جاگتی رہی ۔آنکھیں سوجی تھیں ۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی ۔کوئ دعا بتا دیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
    میں نے کہا پڑھو تب۔
    رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي * وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي * وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِي *

    کہنے لگی اس کا مطلب بھی بتا دیں۔ میں نے مطلب بتایا۔
    ” اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا کام آسان کراور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھیں”
    وہ حیرت سے گنگ میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔ کہنے لگی۔
    بھائ اس میں تو میرے ہر مسئلہ کا ذکر ہے۔جس کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔وہ گویا ہوئ۔
    رات بھر پڑھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا۔ جیسے میرا سینہ بند ہوگیا ہو۔اور مجھے لگتا ہے۔کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔ذہن جیسے منتشر ہے۔خدشہ ہےمیں کچھ بول نہیں پاؤں گی۔جیسے زبان پر گرہ لگی ہو ۔اور میرے لئے کچھ کہنا مشکل ہو۔اور ایسے میں جو کہوں گی۔وہ کسی کو کہاں سمجھ آۓ گا۔
    اللہ نے یہ سورت شاید میرے لۓ ہی اتاری ہے۔میری ساری کیفیت کہ کر مجھے مانگنا سکھایا ہے۔کتنا مہربان ہے نا وہ رب۔
    اب یہ بتائیں۔یہ آیت کب اور کس پس منظر میں اتری۔ وہ اپنی ٹینشن بھول کر اس دعا کو سمجھنا چاہتی تھی ۔
    میں نےاسے بتایا۔ان الفاظ میں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی ۔جب انھیں فرعون کی طرف بھیجا گیا۔ وہ سبق کی دہرائی بھول چکی تھی۔
    اس کا اگلا سوال تھا۔موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا میں یہ سب کیوں مانگا ۔وہ فوج طاقت اور دیگر وسائل بھی تو مانگ سکتے تھے۔ اگر میں ہوتی تو میں شاید یہ سب مانگتی۔
    میں نے اس دعا کو بارہا پڑھا تھا اور دل کی گہرائی سے۔اور اس کے اثرات بھی ہمیشہ کئی لحاظ سے محسوس کیے تھے۔ایسے وقت جبکہ کوئی حل سمجھ نہ آتا۔یہ دعا میری ڈھارس بندھاتی۔مگر اس انداز سے کبھی نہ سوچا تھا۔لہذا کچھ د ن کے غوروفکرسے چند پہلو سمجھ آۓ۔
    سوچا آپ سے بھی شئیر کرو ں۔

    ۔پغمبر کے الفاظ اللہ کی کتاب میں ۔یقینا اس میں خزانے کی کنجیاں چھپی ہیں۔اسکی کھوج لگانی پڑے گی۔

    ۔پتہ چلاکسی کام کی سب سے پہلی رکاوٹ اندر سےہوتی ہے۔آپکے اندر اعتماداور خلوص پیدا ہوجاۓ۔کسی بھی چیز کے درست ہونے کا یقین ہو جائے۔ابہام نہ رہے۔تو دلیری پیدا ہوتی ہے۔انسان بےخوف ہو جاتا ہے۔بات میں وزن پیدا ہو جاتا ہے۔بہترین مشاہدہ سوچ وفکر کے نۓ زاوۓ سجھاتا ہے۔دل میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔انسان کنواں کا مینڈک نہیں بنتا ۔دوسروں کے نکتہ نظر جاننا چاہتا ہے۔یہی سینے کا کھلنا ہے۔ یہ تو کامیابی کا بنیادی نکتہ ہوا یقیناً۔
    ۔مانگنے والا کسی بڑے مقصد کو پانے کے لیے اپنی طاقت اور کمزوری کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگاۓ۔اور رب سے متعین کر کے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگے۔ کہ بڑے مقاصد چھوٹے چھوٹے پہلوؤں پر توجہ دینے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    موسیٰ علیہ السلام نے سافٹ اسکلز مانگیں۔معلوم ہوا سافٹ اسکلز کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
    اللہ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگیں۔اسے پسند ہے۔کہ جوتی کا تسمہ تک اس سے مانگیں۔اس کے لیۓ کچھ مشکل نہیں ۔
    بے دھڑک مانگیں۔
    ہمیشہ اللہ سے آسانی مانگیں۔آپ بس مانگنے والے ہوں۔دینے والا دینے کو تیار ہے۔

    انھوں نے زبان کی روانگی مانگی۔اس سے زبان و بیان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اور یہ کہ یہ صلاحیت اللہ کی بہترین عطا ہے۔
    اس دعا کے ساتھ انھوں نے مددگار کے طور پر اپنے بھائی کو مانگا۔معلوم ہوا کامیابی اور ترقی کے لئےمادی وسائل سے زیادہ انسانی وسائل کی اہمیت ہے۔ انسانی وسائل اعلیٰ درجے کے ہوں تو مادی وسائل خودبخود حاصل ہو جاتے ہیں۔

    انھوں نے بدلہ نہیں مانگا اللہ سے۔یعنی بے غرض ہونا دنیا کے عظیم انسانوں کا شیوہ ہے۔

    ۔کسی بھی فرعون سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ کا کھلنا ،بیان اور اظہار کا ملکہ ہونا ،مخلص ساتھیوں کا میسر ہونا بہت بڑی نعمت خداوندی ہے۔

    سافٹ اسکلز کا ہونا کسی بھی فوج اور مادی وسائل سے ذیادہ اہم ہے۔
    ایک ساتھی سے بات ہوئی کہنے لگا۔
    بعض اوقات اچھا بولنے اور قاٸل کرنے کے لۓ الفاظ اور دلاٸل کا انبار ہوتا ہے لیکن سامنے والا سمجھنے کے لۓ تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ دعا الفاظ میں وہ تاثیر عطا کرتی ہے کہ سامنے والا آپ کا مطمع نظر سمجھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ایک اور پہلو ۔۔۔۔۔۔
    اس دعا کو ہم درس یا Presentation دینے سے پہلے تو پڑھتے ہی ہیں لیکن اپنی عام گھریلو روٹین میں بھول جاتے ہیں ۔
    تو اپنے روز مرہ کے معمولات میں شامل کرلیں تو اللہ جی ہمارے کام میں آسانیاں پیدا فرما دیںتے ہیں ۔۔۔۔جیسے کسی کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرتے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بڑے کو کسی بات کا اچھا پہلو بتاتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔اپنی کسی ساتھی ۔والدہ۔ساس۔بہو۔۔ شوہر کسی بھی تعلق میں اپنا مسٸلہ اپنی کیفیت سمجھانے کے لۓ ۔۔۔۔۔یا گھر کے کسی معاملے کسی شادی بیاہ کی رسم کے خاتمے کے لۓ ۔۔۔اپنے کسی بچے یا چھوٹے بہن بھاٸیوں کو کوٸ بات سمجھانے سے پہلے اس دعا کو اس پیراۓ میں رکھ کر رب سے مانگیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمارے کاموں کو آسان فرما دیتے ہیں ۔
    @IK_fan01

  • پریشانی بڑھاپے کا سبب   تحریر : شاہ زیب

    پریشانی بڑھاپے کا سبب تحریر : شاہ زیب

    دنیا کا کوئی بھی انسان اس وقت تک کمزور یا بوڑھا نہیں ہوتا جب تک وہ خود تسلیم نہ کرے بیشک بیماری و پریشانی حکم الٰہی کی طرف سے آزمائش ھے اور بیماری جسم کی زکات کی علامت بھی ہیں

    لیکن اگر آپ ذہن میں سوار کر لیں جی میں تو بیمار ہوں کچھ کر نہیں سکتا تو یہ بیماری و پریشانی آپ کو بڑھاپے میں دھکیل دے گی

    واضح مثال ہے سمندر یا دریا کا پانی کشتی کو نہیں ڈبو سکتا جب تک پانی کشتی کے اندر داخل نہ ہو جائے اسطرح جب بھی کوئی پریشانی آتی ہیں تو مقابلہ کریں اگر آپ مقابلہ نہیں کرتے تو تسلیم کرتے ہیں واقعی یہ تو بہت بڑی پریشانی تو اس کے اثرات آپ کے جسم میں آنا شروع ہو جاتے ہیں

    ہمارے استاد محترم فرمایا کرتے تھے جس انسان نے اپنے مائنڈ پر کنٹرول رکھا وہ کامیاب اور راحت کی زندگی بسر کرتا ہے اسطرح حالات پر بھی کنٹرول سنبھال لیا تو دنیا کی پریشانیاں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی

    انسانی جسم میں ہارمونز پائے جاتے ہیں جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان ہارمونز کا کنٹرولڈ ہمارے دماغ میں موجود خلیوں یا نیورننز سے وابستہ ہوتا ہے نیورننز انسانی دماغی میں کہکشاں میں موجود ستاروں سے بھی کہیں زیادہ ہے

    پازیٹو سوچ رکھنے والے افراد زیادہ تر خوش مزاج رہتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی سوچ پر گرفت مضبوط ہوتی ہے جبکہ نیگٹو سوچ میں مبتلا شخص ہر وقت سوچ میں رہتا ہے جو کہ جسم میں کمزوری پیدا کرتی ہیں جس سے آہستہ آہستہ چہرے پر تندرستی کی علامات ختم ہو جاتی ہیں اگر آپ سوچتے ہوئے کوئی بھی عمل کرتے ہیں تو یقیناً آپ کو تھکاوٹ محسوس ہو گی اور دماغ میں موجود نیورننز کی تعداد میں کمی ہو گی

    پریشانی کا مقابلہ اور اس سے ہونے والی بیماریوں یا کمزوری سے نجات کیسے پائے سیپل سا طریقہ ہے

    انسانی دماغ میں موجود نیورننز ڈیٹا پروسیسر سے زیادہ تیز رفتار میں کام کرتا ہے تصور کرنے سے شکست دی جا سکتی ہے چاہے وہ بیماری ہو یا پریشانی اپنی سوچ کو وسیع کریں نیگٹو سوچ سے باہر نکلیں نیز اپنی خوراک پر توجہ کریں تندرستی ہزار نعمت ہے اللہ کا شکر ادا کیا کریں۔

    ‎@shahzeb___

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 02   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 02 تحریر: محمداحمد


    جیسا کہ پچھلی تحریر میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے ہر انسان دوسرے میں کیڑے نکالتا ہے اپنے اندر کے انسان کی طرف کوئی راغب نہیں ہوتا 95٪ لوگ چور بازاری ، ہیرا پھیری میں لگے ہیں جیسے کہ

    گھی میں کیمیکل کا استعمال:
    گھی بیچنے والے گھی کو خالص گھی ضرور لکھتے ہیں ایسی نوبت ہی کیوں آتی ہے اصل گھی کی نشانی یہ ہے کہ گرمیوں میں گھی پگھل جاتا ہے اور سردیوں میں گھی جم جاتا ہے جبکہ ملاوٹ والا گھی سردیوں میں نہیں جمتا ۔ پاکستان میں کچے کیلے اور ایسنس (مصنوعی خوشبو) کی ملاوٹ سے گھی تیار کیا جارہا ہے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا منافع خوروں کا معمول بن گیا ہے اور جو ملاوٹ کا گھی تیار کر رہے ہیں دراصل وہ زہر بیچ رہے ہیں اسی طرح مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل کیا جا رہا ہے

    مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل:
    مرغیوں کی انتڑیوں کی بہت بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوتی ہے مرغیوں کی انتڑیوں کو بہت دیر تک پگھلایا جاتا ہے اس سے جو بدبو دار تیل نکلتا ہے اس میں رنگ کاٹ ڈال کر اسے صاف کیا جاتا ہے اور خوشبو دار پرفیوم کا استعمال کرکے پیکنگ کرکے مارکیٹ میں بھیجا جاتا ہے اسی طرح آج کل گاۓ ، بھینس کی ہڈیوں سے بھی گھی تیار کیا جارہا ہے اور مختلف برانڈ کی صورت میں مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے آج کل تیل کی قیمت اتنی زیادہ ہوگی ہے کہ غریب طبقہ سستے تیل لینے پر مجبور ہیں اور اس تیل میں ان کے لئے زہر بیچا جارہا ہے یہ وہ نہیں جانتے

    سرخ مرچ میں اینٹوں کا بورا:
    سرخ مرچ میں انٹیوں کے بورا کا استعمال وزن بڑھانے کیلئے کیا جاتا ہے کیونکہ رنگت ایک جیسی ہوتی ہے اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں لگتا ہم کیا استعمال کر رہے ہیں اس کو پکڑنا بڑا آسان ہے کہ سرخ مرچوں میں ملاوٹ کی گئ ہے یا نہیں ۔ اس کیلئے ایک گلاس پانی لیں اس میں تھوڑی سے مقدار سرخ مرچ کی شامل کریں اگر پانی کی رنگت بدل گی یا کچھ مقدار نیچے پانی میں بیٹھ گی تو مرچیں ملاوٹ شدہ ہیں اسی طرح مرچوں کو تہہ دار جگہ پر رکھ کر گلاس کو رگڑیں اگر آواز پیدا ہو جسے کرکرا پن کہتے ہیں تو اس کا مطلب مرچیں ملاوٹ شدہ ہے ایک اور طریقہ ہے محلول کے ذریعے سے چیک کرنے کا اگر تھوڑی سے مقدار مرچوں میں آئیوڈین کے چند قطرے ڈالیں اگر مرچیں ملاوٹی ہوں گی تو محلول کی وجہ سے اس کا رنگ نیلا ہوجاۓ گا اس طرح آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہم جو استعمال کر رہے وہ خالص ہیں یا نہیں

    اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح ہلدی میں مصنوعی رنگ اور کالی مرچ میں چنے کے چھلکے کا پیس کر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ جوس میں کس طرح جعلی رنگ استعمال کیا جارہا ہے باہر کے مملک میں ایسا نہیں ہے چائنہ میں ایسی ملاوٹ انسانی زندگی سے کھیلنا سمجھا جاتا ہے اور اس کی سزا سب بہتر جانتے ہیں چائنہ میں زہر کا انجیکشن لگا کر خاموش کر دیتے ہیں ہمارے ملک میں رشوت خوری عام ہے فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں رشوت خور آفیسر کو رقم دےکر خاموش کر دیا جاتا اور محکمہ چیکنگ کیلئے آتا ہی نہیں اسی طرح جعل ساز اپنا کاروبار عروج پہ رکھ کر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اس سے ثابت ہے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

    ‎@JingoAlpha

  • عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟  تحریر:  سیرت فاطمہ

    عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ کیا پاکستانی عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے؟ تحریر: سیرت فاطمہ

    اسلام نے عورتوں کو حصولِ تعلیم سے لے کر پسند کی شادی تک ہر حق سے نوازہ ہے۔ عورت جب چھوٹی ہوتی ہے تو اُسے باپ کی صورت میں ایک محافظ اور ماں کی صورت میں ایک مخلص سہیلی ملتی ہے جن کی اولاد ہونے کے ناطے وہ اولاد کے حقوق کی حقدار ٹھہرتی ہے۔ جب تک باپ کے گھر میں رہتی ہے باپ اور بھائی اپنے فرائض نبھاتے ہیں۔ جب عورت بیاہ دی جاتی ہے تو وہی ذمہ داریاں شوہر کے کندھوں پر آجاتی ہیں اب شوہر کا فرض ہے کہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات پوری کرے۔ جب عورت ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو پاؤں تلے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مالی طور پر اتنا مستحکم کیا کہ شوہر کو حق مہر اور نان و نفقہ کا پابند بنا دیا ساتھ ہی عورت کو والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ دار بھی بنا دیا گیا۔ غرض اسلام تو وہ مذہب ہے جس نے عورت کو نا صرف جینے کا حق دیا بلکہ ایک شہزادی بنا کر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں اتنے محافظ بھی عطاء کر دیے۔
    اور یہ تمام حقوق عورتوں کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے۔ مگر اُسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ آج بھی بہت سی جگہوں پر خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہیں جنکی وہ حقدار ہیں۔ اور اُن خواتین کو اُن کے حقوق ملنے چاہیے۔
    سوشل میڈیا سے لے کر زمینی حقائق تک یہ سوال مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے کہ کیا عورت کے نام پر بنی عورت آزادی مارچ اُن عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں واقعی حقوق نہیں ملتے؟
    اور اکثریتِ رائے کے ساتھ اِس کا جواب ہمیشہ ایک ہی رہا کہ۔۔۔ نہیں!
    عورت مارچ بہت سالوں سے منعقد ہو رہا ہے مگر ہر بار وہاں متنازع بینرز، متنازع نعروں اور ڈانس کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عورت مارچ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مارچ بیرون ملک سے لی گئی فنڈنگز پر چلتی ہے اور ہم جنس پرستی کو پروموٹ کرنے کے مشن پر گامزن ہے ایسا تب کہا گیا جب سوشل میڈیا پر عورت آزادی مارچ کی ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں کچھ لوگ ہم جنس پرستی کو کھلم کھلا سپورٹ کرتے پائے گئے۔ اِس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جن میں اخلاقی دائرے سے یکسر باہر نکل کر نعرے بازی کی گئی مثلاً چیخ چیخ کر "والد سے لیں گے آزادی” جیسے نعرے لگائے گئے۔ "میرا جسم میری مرضی” اور اِس جیسے دوسرے متنازع بینرز تو خیر ہمیشہ سے ہی عورت آزادی مارچ کی ذینت ہیں اور اِس موضوع پر میڈیا میں آواز بھی بلند ہوتی رہی ہے۔
    عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ عورت مارچ میں کبھی وزیرستان، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور اندونِ سندھ جیسے پسماندہ ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل کی نا تو کبھی بات ہوئی اور نا نشاندھی۔ وہ مزدور خواتین جن کی دیہاڑی اتنی بھی نہیں کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں، وہ خواتین جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہیں، وہ خواتیں جنہیں فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، وہ خواتین جن پر واقعی ظلم ہوتا ہے اور وراثت کے حصے سے محروم رکھا جاتا ہے اُن کے حقوق کے لیے آواز تو عورت آزادی مارچ میں کہیں دور دور تک سنائی نہیں دیتی۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب عورت آزادی مارچ میں پاکستانی عورتوں کے مسائل پر بات نہیں ہوتی، وہاں آنے والوں کا لباس، گفتگو، نعرے اور بینرز بھی اسلام اور پاکستانی ثقافت سے کوسوں دور ہوتے ہیں تو یہ مارچ بھلا کس طرح پاکستانی خواتین کی نمائندگی کر سکتی ہے؟
    کیا پاکستانی خواتین والد سے آزادی مانگ رہیں ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین مغربی لباس پہنے کی آزادی مانگ رہی ہیں؟ کیا پاکستانی خواتین کو گھریلو کام کاج سے مسئلہ ہے؟
    کیا عوت آزادی مارچ نے اُن خواتین کو اُنکے حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا جنہیں واقعی حقوق کی ضرورت ہے؟
    کیا مسائل کا حل مردوں کو برا بھلا کہنے سے ممکن ہے؟
    ان تمام سوالات کا ہمیشہ "نہیں” میں رہا۔
    عورت آزادی مارچ میں آنے والی خواتین کے پاس تو ہر حق، ہر آسائش اور ہر آزادی موجود ہے جن کے پاس کھلم کھلا ڈانس کرنے کی آزادی ہے، جینر اور سلیو لیس شرٹس پہن کر گھومنے کی آزادی ہے، چیخ چیخ کر متنازع نعرے لگانے کی آزادی ہے، ڈیفینس، اسلام آباد، کلفٹن، لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے اُنھیں مذید کس چیز کی آزادی چاہیے؟
    جس آزادی کی بات عورت آزادی مارچ میں کی جاتی ہے ایسی آزادی مغربی معاشرے کی زینت ہے۔ اسلامی و پاکستانی معاشرہ بلکل الگ طرز پر قائم ہے یہاں عورت خود کو اپنے خاندان کی عزت سمجھتی ہے۔ باپ، بھائی، شوہر، بیٹے اُس کا فخر ہوتے ہیں۔ عام پاکستانی خواتین تو عورت مارچ میں پیش کردہ لبرل خیالات رکھتی بھی نہیں۔
    اگر واقعی پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنی ہو تو اُن کے حقوق کی بات ہونی چاہیے، جن معاشی مسائل کا خواتین کو سامنا ہے اُن مسائل کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے، خواتین کو اُن کے حقوق کی اگاہی ملنی چاہیے، ڈومیسٹک وائلنس اور زیادتی کے خلاف مضبوط قوانین اور اُن کی بالادستی کا مطالبہ ہونا چاہیے، خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زور دیا جانا چاہیے، خواتین کے لیے فلاحی ادارے اور صحت کے مراکز بنانے چاہیے۔
    یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشروں میں فرق ہوتا ہے۔ اسلامی یا پاکستانی معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی حدود و دائرہ کار میں رہ کر ممکن ہے کیونکہ ایسے حل کو لوگ قبول اور سپورٹ بھی کرتے ہیں مگر اگر ایک مسلم معاشرے میں موجود مسائل کا حل مغربی معاشرے کے طرز پر نکالنے کی کوشش کی جائے تو حل تو دور کی بات ہے اُلٹا لوگ مخالفت کرتے ہیں اور یوں نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

    تحریر سیرت فاطمہ
    @FatimaSPak

  • ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    ہم اور ہمارا حجاب تحریر ۔۔فرزانہ شریف

    پردہ کرنا نہ کرنا ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے اگر پردہ کرنے کا ارداہ کرلیا ہے تو پھر پورے خلوص نیت سے کریں کہ آپ کی شخصیت سے لوگ متاثر ہوں نہ کہ آپکو چلتی پھرتی ماڈل سمجھنے لگ جائیں جی میں بات کررہی ہوں آجکل کے فیشن ایبل حجاب کی کی اپ پہن کے اتنے پرکشش نہ لگنے لگ جاو کہ پردے کی ساری ۔۔۔ختم ہوجائےآج کے دور میں جو چیز میں نے نوٹ کی ہے وہ حجاب کے نام پرفتنہ
    بازار میں حجاب کے نام سے بیچا جانے والا وہ کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس کی چوڑائی عموماً ڈیڑھ فٹ اور لمبائی ڈیڑھ سے دو گز ہوتی ہے۔یہ سلائی شدہ حالت میں دستیاب ہوتا ہے۔کبھی کبھار اس کی چوڑائی زیادہ بھی ہوتی ہے لیکن یہ زائد چوڑائی بھی صرف سر کی جانب خوبصورت پلیٹس بنانے کیلئے رکھی جاتی ہے۔خیر یہ جس بھی حالت میں ہو مطلب سلا یا ان سلا یہ سر ڈھانپنے کے کام تو آسکتا ہے لیکن کسی بھی طور پر پردے کے طور یوز نہیں ہوسکتاکیونکہ پردے کا مطلب صرف بال چھپانا نہیں ہے۔
    پردے کے کچھ تقاضے ہیں دل میں حیا کی کیفیت پیدا کرنا
    خود کو ہر نا محرم کی نظر سے محفوظ رکھنے کا ارادہ کرنا۔
    ایسا لباس زیب تن کرنا جو اتنا باریک نہ ہو کہ اس میں سے جسم نظر آئے اور اتنا کھلا ہو کہ جسمانی ساخت واضح نہ ہو
    لباس میں دوپٹے کو شامل کرنا تاکہ بال گردن اور سینہ بھی ڈھانپا جاسکے۔۔
    پردے کیلئے برقعہ پہننا ضروری نہیں ہے لیکن اگر آپکا لباس پردے کے تقاضے پورے نہیں کررہا تو برقعہ پہن لیں اس سےبرقعے کا یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ یہ رنگ برنگے کپڑوں کو چھپا کر آپ کے پرکشش وجود کو بہتر طریقے سے ڈھانپ لیتا ہے۔لیکن اس کیلئے برقعے کا سادہ ہونا ضروری ہے زرق برق نقش و نگار والے برقعے پہننے سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے برقعے کے اوپر سے کوئی بڑا سا سکارف یا دپٹہ لیا جائے نہ کہ جدید حجاب کیونکہ کپڑے کا یہ حقیر سا ٹکڑا جب سر پہ لپیٹا جاتا ہے تو یہ بمشکل گردن تک پہنچ پاتا ہے
    پردے کیلئے تو اللّه تعالی ایسی چادر استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے جو سر سے ہوتی ہوئی گردن اور سینے کو بھی ڈھانپ لے۔یہ جدید حجاب قرآن پاک میں بیان کردہ ‘جلباب’ کے معنی ومفہوم پر کسی طور پورا نہیں اترتا۔
    لیکن اکثر دیکھتی ہوں کچھ خواتین اور لڑکیاں اسی حجاب کو پردہ سمجھتی ہیں۔اس میں ان کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ حجاب کی مارکٹینگ کرنے والے اپنی ماڈلز کو یہ حجاب کھلے کھلے برقعوں کے ساتھ پہنا کر اس فیشن کو پردہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اسی وجہ سے میں اس قسم کے حجاب کو فتنہ سمجھتی ہوں۔ میں ہر اس چیز ،عمل اور عقیدے کو فتنہ سمجھتی ہوں جو انسان کو غلط ہونے کے باوجود بھی یہ باور کروائے کہ وہ ٹھیک ہے اس کے ضمیر کو خاموش کروا دے اس کے گناہ کرنے کے احساس کو پیدا ہی نہ ہونے دے
    یہاں ایک چیز کی مزید وضاحت کرتی چلوں کے عورت کے جسمانی ساخت کو صرف وہی کپڑا چھپا سکتا ہے جو سر سے ہوتا ہوا نیچے کی جانب جائے اگر ایک کپڑے سے صرف سر ڈھانپ لیا جائے اور دوسرے کپڑے سے باقی جسم تو یہ طریقہ کار بھی شرعی پردے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ سر والے کپڑے سے ہی سینہ ڈھانپنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر آپکا پردہ آپ کو مزید پرکشش بنانے کے کام آئے گا۔اپنا ایک سٹائل رکھیں اگر حجاب لینے کا ارادہ کرلیا ہے تو مکمل سر تا پاوں خود کو با پردہ کرلیں اگر نہیں اس پر کاربند رہ سکتے تو پردے کے نام پر فیشن کرنے کے بجائے عام روٹین کے سٹائل کو ہی اپنی شخصیت کا خاصہ بنائے رکھیں

    @Farzana_Blogger