Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شجرکاری، ماحول دوست مہم تحریر :اقصٰی صدیق

    شجرکاری، ماحول دوست مہم تحریر :اقصٰی صدیق

    گزشتہ سال کی طرح امسؔال بھی پاکستانی عوام شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔اس ضمن میں خصوصاً ہماری نوجوان نسل، خصوصاً اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔درخت لگانے کا شوق ان کا جنون بن گیا ہے،
    تو جب شجرکاری ایک جنون بن جائے تو دل کرتا ہے ہر جگہ سبزہ و ہریالی ہو، جو زندگی کے اداس لمحوں میں تسکین کا باعث بنے۔
    شجرکاری کیا ہے؟
    اس کے کیا فوائد ہیں؟
    یہ کیوں ضروری ہے؟
    اس مضمون میں ہم ان سوالات کے جوابات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
    شجر (درخت، پیڑ) عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اور کاری کے معنی” کام کرنا”یوں کہا جاسکتا ہے کہ "شجرکاری” سے مراد “درخت لگانے کا کام ” ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں سے اس دھرتی پر سر انجام دیتا ہے۔
    ہمارے ملک پاکستان میں درختوں کی ضرورت ہے۔موحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے بچنے کا واحد راستہ زیادہ سے زیادہ درختوں کی کاشت ہے۔
    بلاشبہ درخت لگانا ہمارے ماحول کے لئے بہت ضروری ہے، یہ بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں،
    سب سے اہم بات یہ کہ درخت سانس لینے کا ذریعہ ہیں۔
    یہ انسان کو آکسیجن، سایہ، پھل اور ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔یہ آکسیجن کا بہت ضروری ماخذ ہیں۔
    درختوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک طرف تو ہمیں سانس لینے کے لئے تازہ ہوا فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف پرندوں کو مسکن اور جانوروں کو سایہ دیتے ہیں۔
    درخت ہمیں بہت ساری دواؤں کے لیے جڑی بوٹیاں اور اس کے علاوہ لکڑی بھی مہیا کرتے ہیں۔ہماری روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والا کاغذ بھی درختوں سے بنتا ہے۔
    کپڑے کی صنعت میں بھی اس کے استعمال سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ گوند اور ربر بھی ہم درختوں سے ہی حاصل کرتے ہیں۔
    مگر ان قدرتی وسائل کے دشمن ہم خود بن گئےہیں ۔ جنگلات کی کٹائی جس تیزی سے کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے یہ انتہائی قابل افسوس ہے اور اب تو یہ ہماری بقا کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔

    جیسا کہ ہم سائنس کی کتاب میں پڑھتے آئے ہیں کہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ یہی آکسیجن سیارے (ذمین) پر موجود ہر جاندار کے لئے اشد ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ درخت مٹی کے لیے ضروری ہیں کیونکہ بہت زیادہ بارش کے دوران ذمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں۔
    درختوں کی مدد سے ہی گلوبل وارمنگ کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں ۔آج بھی ہم درختوں کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں، اب ہمارا کام ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت لگائیں۔
    اور اپنی آنے والی نسل کو بھی شجرکاری کے فوائد اور اہمیت سے روشناس کرائیں اور اسی نسل کی کرہ ارض پر بقا کے لیے نہ صرف سال میں ایک دن بلکہ پورا سال شجر کاری مہم کو جاری رکھا جانا چاہیئے۔
    درخت لگانا ایک طرح سے انسانوں کی خدمت کے مترادف ہے۔ آپ کا لگایا جانے والا درخت کسی ایک انسان کو نہیں بلکہ اس ذمین پر بسنے والے انسانوں کو کسی نہ کسی طرح سے ضرور فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔
    شجرکاری آلودگی سے تحفظ اور بیماریوں سے بچاؤ میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ کیوں کہ رب کائنات کی طرف سے درختوں میں مختلف امراض کی شفا رکھی ہے۔
    ان سب فوائد کے پیش نظر شجرکاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے، شجرکاری کا تصور ہمیں دین اسلام سے بھی ملتا ہے۔
    قرآن کریم میں اور کئ احادیث مبارکہ میں شجرکاری کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
    درخت اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ہمارے لیے ایک نعمت ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ’’ بھلا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی اتارا تمہارے لیے ۔ پھر ہم نے اس پانی سے خوبصورت باغات اگائے،لیکن تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اُگا سکتے۔

    درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے کسی عظیم نعمت سے کم نہیں،
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے تو شجر کاری کو صدقہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ اس عمل کو تاقیامت جاری رکھنے کا حکم دیا۔
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
    ’’کوئی مسلمان اگر فَصل یا دَرخت لگائے ، تو پھر اس میں سے جو پرندہ، جانور یا اِنسان اس کا مطلب پھل کھائے تو وہ اس کی طرف سے صَدقہ شُمار کیا جائے گا۔(صحیح بخاری )
    اسی لیے شجرکاری کی اہمیت اور فوائد سے عوام کو روشناس کروانا اب ہر پڑھے لکھے شخص کی ذمے داری ہے،
    ماہرین کے مطابق کسی ملک کا پچیس فی صد 25٪ حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیئے، جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف دو سے تین فی صد حصہ پر ہی جنگلات ہیں۔جو کہ بہت کم حصہ بنتا ہے،
    جنگلات کی بے تحاشا کٹائی کی وجہ سے اب پوری قوم موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔
    حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک پودا لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا، اور پاکستان میں دس بلین درخت لگانے کا ہدف بتایا ہے۔
    ویسے بھی چودہ اگست کی آمد، آمد ہے، تو کیوں نہ اس بار ہم جھنڈیوں کی بجائے پودے لگائیں، اور اس مہم میں اپنا حصہ ڈال کر وطن عزیز کو سر سبز و شاداب بنا کر اس کو رونق بخشیں۔
    اس لیے کہ جب تک ہر فرد اس مہم میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گا، تو ہم کبھی بھی بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
    بذات خود مجھے بچپن سے ہی پھولوں کے پودے لگانے کا شوق ہے، اور میرے چھوٹے سے باغیچے میں انتیس قسم کے پھولوں کے پودے ہیں۔
    یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ ہماری حکومت نے شجر کاری پر توجہ دی ہے لیکن ابھی ہمیں اس میں مزید محنت درکار ہے۔آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر اس ملک میں رہنے والا ہر فرد صرف ایک ایک پودا بھی لگائے تو اتنے درخت ہوجائیں گے کہ ہمارا ملک ایک بار پھر سے سرسبز و شاداب ہوجائے گا۔
    اللہ پاک ہمیں اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے آمین ۔

    ‎@_aqsasiddique

  • پاکستان کا تعلیم نظام  تحریر محمد عدیل علی خان

    پاکستان کا تعلیم نظام تحریر محمد عدیل علی خان

    ‏پاکستان میں جو تعلیمی نظام ہیں اسکا آپ اور میں بہتر انداز سے جانتے ہے کیوں آج کا طالب علم اکیڈمیوں کا محتاج ہے سب سے پہلے ہم سرکاری اسکول اور کالجز کے تعلیمی نظام پے روشنی ڈالتے ہیں اور کچھ حقیقی حقائق سے میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں سرکاری اسکولوں میں تمام استادزہ آتے تو ہیں لیکن صرف دس یا پندرہ منٹ کی کلاس لیتے ہیں اگر کوئی طالب علم سوال اٹھائے تو اس سے کہتے ہے کہ اگر آپ کو اتنا پڑھنے کا شوق ہے تو جناب اعلیٰ آپ میری اکیڈمی میں آجایا کرے فیس بھی اتنا زیادہ نہیں ہے صرف پانچ سو روپے آپ اندازے لگائیں جس کے والد صاحب روز کے پانچ سو روپے یا اس سے کماتے ہیں اور بیچارے دیہاڑی دار مزدور ہے اور کبھی تو ہفتہ ہفتہ بھی مزدوری نہیں لگتی وہ بیچارہ گھر کے اخراجات پورے کرے یا بیٹے کو اکیڈمی میں داخلہ دلوائے اور اس طرح کے کئی بچے یا تو خودکشی کر گئے یا مزدوری کرنے چلے گئے اور اس طرح سے پاکستان کا مستقبل تباہ ہوا صرف ان نالائق اور لالچی استادزہ کی وجہ سے یہ تو وہ اساتذہ اکرام تھے جو صرف کچھ منٹوں کی کلاس لیتے تھے اب آتے ان استادزہ کی طرف جو صرف سکول کے اسٹاف روم میں صرف گپھے لڑانے آتے ہے اور پڑھانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اگر کبھی محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی افسر تعلیم چیکنگ کے لئے آئے تو طلباء کو دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے کوئی شکایت کی تو ہم آپ کو اسکول سے نکال دے گے اور ایسا سرٹیفکیٹ بنا کر دے گے کہ آپ کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملے گا اگر محکمہ تعلیم کا افسر کوئی شکایت لکھ بھی لے تو لے دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے اگر ان اساتدزہ کو ایک مہینے کی تنخواہ نہ ملے تو حکومت کے خلاف پُر زور احتجاج کرتے ہیں جناب اعلیٰ پڑھائے گے نہیں پر تنخواہ پوری چاھئے ….
    اگر ہم ڈگری کالجز کی بات کرے تو وہاں آپ کو صرف ایک سختی بڑی دیکھنے کو ملے گی کہ پیر کے دن تمام طلبا کو یونیفارم میں لازماً آنا ہے ڈگری کالج کے استادزہ بھی کسی سے کم نہیں جناب اعلیٰ دس یا گیارہ بجے تک کالج میں اس کے بعد پرائیویٹ کالجز میں چلے جائیں گے اگر کوئی طالب علم ان استادزہ کی شکایت پرنسپل کو کرے تو وہ کہتے ہیں استادزہ کی شان میں گستاخی اگر آپ نے دوبارہ یہ بدتمیزی کی تو ہم آپکا داخلہ منسوخ کر دے گے اور آپ جیسے بدتمیز طلبا کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے…………..
    پرائیویٹ اسکول/کالجز بھی کسی سے کم نہیں ہے اس معاملے میں..
    ان کو صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا اگر کسی طالب علم کی ایک دو ماہ کی فیس رہتی ہے تو اسے دمھکی دی جاتی ہے اگر آپ نے فیس کلیئر نہ کرائی تو ہم آپکو سلپ نہیں دے گے ان کو طالب علم کے پورے سال کی کوئی اہمیت نہیں ہے ٹیچر آیا لیکچر دیا اور چلا گیا کسی کی سمجھ میں آئے یا نہیں اگر کوئی طالب علم سوال کرے مجھے فلاں چیز سمجھ میں نہیں آئی تو جواب روایتی ملتا ہے بیٹا کوچنگ سینٹر جوائن کر لیں آپ بہت وییک ہو اگر میرا کوچنگ سینٹر جوائن کرنا چاہو تو ‎#موسٹ_ویلکم
    اور دوسرا جواب سنے بیٹا مجھے دوسرے کالجز میں بھی جانا ہوتا اس وقت میرے کوئی وقت نہیں ہے میں پہلے ہی لیٹ ہوچکی/ہوچکا ہو………….
    یہ ہمارا تعلیمی نظام ہے جو میں نے لکھا ہے اس سے بھی گھٹیا ہے ہمارا تعلیمی نظام جو میں نے میں سمجھتا ہو کہ جو میں نے بہت کم لکھا ہے اگر اس طرح سے طالب علم کو پڑھیا گیا تو وہ بھی بڑا ہو کر منہ بھائی ایم بی بی ایس بنے گا اس بڑھ کر کچھ نہیں ہم نے اپنے بچوں کو منہ بھائی نہیں بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر عبدالسلام اور جابر بن حیان بنانا ہے

    نوٹ……….

    میری اس تحریر میں ان استادزہ کو بلکل بھی نشانہ نہیں بنایا گیا جو ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور اس ٹیچری کو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں میرا نشانہ وہ استادزہ ہے جنہوں نے اس تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے میرا نشانہ صرف لالچی اور کرپٹ استادزہ ہے
    الحمدللہ عزوجل اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو مجھے بہترین استادزہ ملے وہ استاد ملے جو جاب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کے ادا کرتے ہے… .
    ایک اور ضروری بات اگر ایک استاد بہتر انداز سے اور اپنی پوری محنت سے اپنا سبجیکٹ پڑھاتا ہے وہ صرف پورے سلیبس 20% حصہ کوور کرسکتا ہے باقی کا 80% وہ کہاں سے پڑھے گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے سرکاری اسکول اور کالجز کے لئے

    Twitter ‎@iAdeelalikhan

  • تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر:  سید محمد مدنی

    تعلیم اور تربیت کتنی ضروری تحریر: سید محمد مدنی

    تعلیم انسان کا حق ہے اور ہر انسان اچھی تعلیم کا حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں زیادہ تر اچھی تعلیم ان اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے جہاں کی فیس عام آدمی ایفورڈ کر ہی نہیں سکتا پھر دوسری بات کے ایسے اسکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم ہونے کے باوجود بعض انسانوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی ان میں پیسے اور معیاری تعلیم ہونے کی وجہ سے غرور آج جاتا ہے.

    آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کے ایک ٹاٹ (فرش پر دری) پر بیٹھ کر پڑھنے والا انسان ایک کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے والے سے بہت بہتر ہوتا ہے اس کی وجہ ہے اچھی تربیت تعلیم تو انسان حاصل کر ہی لیتا ہے مگر تربیت گھر سے اور گھر کا مطلب ہے کے والدین سے آتی ہے جہاں تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے وہاں کہیں کہیں یہ انسان میں غرور بھی لاتی ہے اور پھر تکبر غرور ﷲ کو ہرگز پسند نہیں میرا کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اچھی تعلیم حاصل نا کی جائے مگر ساتھ بہترین تربیت بھی ہونی چاہیے.

    ہمارے مذہب اسلام میں تو جب آپ رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو ﷲ کی طرف سے فرمایا گیا کے پڑھ اپنے رب کے نام سے پڑھ مطلب ابتداء ہی پڑھنے سے ہوئی تو اس لحاظ سے ہمارے مذہب میں تعلیم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے پھر جس کا بہت زکر کیا جاتا ہے کے

    علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمھیں چین ہی کیوں نا جانا پڑے

    ( اہم نوٹ یہ علم کے لیے چین جانے والی بات بہت سے لوگ اسے حدیث کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے ضعیف سمجھتے تو اس کے لئے ﷲ مجھے معاف کرے)

    مشہور ہے کے گود سے گور تک علم حاصل کرو

    تعلیم ایک ایسا زیور ہے جس سے انسان نکھرتا ہے بغیر تعلیم کے انسان جاہل ہی کہلاتا ہے.

    آج کل کا دور کمپیوٹر کا ہے مگر بنیادی تعلیم بہت ضروری ہے ہم جہاں انگریزی اور ماڈرن تعلیم پر زور دیتے ہیں وہاں دینی تعلیم اور اخلاقی تعلیم بھی ضروہے تعلیم حاصل کرلی مگر دینی اخلاقی تعلیم اور تربیت حاصل نا کی تو ایس تعلیم کا کیا فائدہ جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں مگر وہ اخلاقی اور دینی تربیت سے محروم ہو. آپ صرف وسطی ایشیائی ممالک کو لے لیں جہاں پر شرح خواندگی ٩٩٪ ہے وہاں ہر دوسرا شخص پڑھا لکھا ہے

    حدیث نبوی صلی الله علیه وسلم ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اب آپ یہ بھی اندازہ لگا لیں کے قرآن اور حمیں کتنا زور دیا گیا ہے تعلیم پر

    ہم اگر اپنے آپ سے وعدہ کریں کے تعلیم اور تربیت کے معاملے پر کوتاہی نہیں برتیں گے تو یقین کریں ہم بھی اپنی شرح خواندگی کو بہترین کر سکتے ہیں تعلیم نہایت ضروری ہے آخر کیوں وسطی ایشیا یا پھر کئی ممالک تہذیب یافتہ ہیں وجہ تعلیم پر زور اور سب کے لئے یکساں مواقع.

    ہم نے تعلیم اور تربیت ضرور حاصل کرنی ہے کیونکہ یہ ﷲ کا حکم اور حدیث بھی ہے.

    Twitter Id @ M1Pak

  • والدین کے ساتھ حسن سلوک  تحریر : وسیم اکرم

    والدین کے ساتھ حسن سلوک تحریر : وسیم اکرم

    اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے ،ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کوبیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی پاکیزہ نسبت عطا کی ہے؛ غرض ر شتے بناکر اللہ تعالی نے ان کے حقوق مقر ر فرمادیے ہیں ، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے ، لیکن والدین کے حق کو اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اورا طا عت کے فوراً بعد ذکر فرمایا ، یہ اس بات کی طرف اشا رہ ہے کہ رشتوں میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے

    اسی طرح اولاد کے ذمہ ہے کہ والدین کی اطاعت کرے ان کے راحت رسانی کی فکر کرے والدین کو مالی یا جسمانی خدمت کی ضرورت ہو تو اسے انجام دے، کبھی کبھی ان کی زیارت کے لئے جائے اگر والدین ضرورت مند ہوں تو مالی یا جسمانی خدمت انجام دینا واجب ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا

    اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنھیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔(القرآن)

    اسلام جیسے متوازن نظام اور دین نے اگر والدین کے حقوق مقرر کیے ہیں تواولاد کے بھی کیے ہیں
    اولاد کے حقوق والدین کے فرائض ہیں کہ والدین نے ان کو پورا کرنا ہے وہ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم نے والدین کی بنیادی ذمہ داری اورتوجہ جس بات کی طرف دلائی وہ اپنے آپ کو اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اوراس کی سزا سے بچانا ہے۔ اس انداز میں ان کی تربیت کریں کہ وہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکیں

    والدین کا نعم البدل کوئی نہیں ہے وہ اولاد کی خاطر دن رات ایک کر دیتے ہیں نا سایہ دیکھتے ہیں نا دھوپ ، نا غم دیکھتے ہیں نا خوشی ہر وقت اپنی دھن میں لگن کے ساتھ اولاد کی اچھی تربیت کے لیے تیار رہتے ہیں وہی اولاد جب بڑی ہو جاتی ہے شادی کے بعد والدین سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہے اس وقت والدین کے سینے میں جو پہاڑ گراۓ جاتے ہیں وہی جانتے ہیں یا رب جانتا ہے پھر بھی والدین اولاد کے لیے ہر وقت دعا گو رہتے ہیں والدین کی قدر کریں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ ‎@MalikGii06

  • خلافت راشدہ تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    خلافت راشدہ تحریر: ذیشان وحید بھٹی


    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی براہراست تعلیم و تربیت اور عملی رہنمائی سے جو معاشرہ وجود میں آیا تھا اس کا ہر فرد جانتا تھا کہ اسلام کے احکام اور اس کی روح کے مطابق کسی قسم کا نظام حکومت بنانا چاہیے۔اگرچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنی جانشینی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا،لیکن مسلم معاشرے کے لوگوں نے خود یہ جان لیا کہ اسلام ایک شوُروی خلافت کا تقاضہ کرتا ہے۔اس لیے وہاں نہ کسی خاندانی بادشاہی کی بنا ڈالی گئی ،نا کوئی شخص طاقت استعمال کر کے برسراقتدار آیا نا آپ کسی نے خلافت حاصل کرنے کے لئے خود کوئی کوشش کی بلکے یکے بعد دیگرے چار اصحاب کو لوگ اپنی آزاد مرضی سے خلیفہ بنا کے چلے گئے۔اس خلافت کو امت نے خلافت راشدہ قرار دیا ہے۔اس سے خود بہ خود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں خلافت کا صحیح طرز یہی ہے۔
    انتخابی خلافت
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو حضرت عمرؓ نے تجویز کیا۔اور مدینے کے تمام لوگوں نے کسی دباؤ یا لالچ کے بغیر خود اپنی رضاورغبت سے انہیں پسند کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت لی۔حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی وفات کے وقت حضرت عمرؓ کے حق میں وصیت لکھوائی اور پھر مسجد نبوی میں لوگوں کو جمع کرکے کہا:
    "کیا تم اس شخص پر راضی ہوں جس سے میں اپنا جانشین بنا رہا ہوں ؟خدا کی قسم میں نے رائے قائم کرنے کے لیے اپنے ذہن پر زور ڈالنے میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور اپنے کسی رشتہ دار کو نہیں بلکہ عمر بن الخطاب کو جانشین مقرر کیا ہے،لہذا تم ان کی سنو اور اطاعت کرو”
    اس پر لوگوں نے کہا "ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے”
    حضرت عمرؓ کی زندگی کے آخری سال حج کے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ "اگر عمرؓ کا انتقال ہوا تو فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا”کیونکہ ابوبکرؓ کی بیت بھی تو اچانک ہی ہوئی تھی اور آخر وہ کامیاب ہوگئی حضرت عمر ؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہا میں اس معاملے پر ایک تقریر کروں گا اور "عوام کو ان لوگوں سے خبردار کر دونگا جو ان کے معاملات پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کے ارادہ کر رہے ہے” چناچہ مدینے پہنچ کر انہوں نے اپنی پہلی تقریری میں اس قصے کا ذکر کیا اور بڑی تفصیل کے ساتھ سقیفہ بنی ساعدہ کی سرگز بیان کرکے یہ بتایا کہ اس وقت محصوص خالات تھے جن میں اچانک حضرت ابوبکر ؓ کا نام تجویز کر کے میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ۔اس سلسلے میں انہوں نے فرمایا "اگر میں ایسا نہ کرتا اور خلافت کا کیے بغیر ہم لوگ مجلس سے اٹھ جاتے تو اندیشہ تھا کے راتوں رات لوگ کہیں کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں اور ہمارے لئے اس پر راضی ہونا بھی مشکل ہو اور بدلنا بھی مشکل ۔یہ فعل اگر کامیاب ہوا تو اسے آئندہ کے لئے نظیر نہیں بنایا جا سکتا تم میں ابوبکر ؓ جیسی بلند و بالا اور مقبول شخصیت کا آدمی اور کون ہے۔اب اگر کوئی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی کے ہاتھ پر بیعت کرے گا گا تو وہ اور جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی دونوں اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کریں گے
    اپنے تشریح کردہ اسی قاعدے کے مطابق حضرت عمرؓ نے اپنی وفات کے خلافت کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک انتخابی مجلس مقرر کی اور فرمایا:
    "جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر زبردستی امیر بننے کی کوشش کرے اسے قتل کر دو ”
    اس کے ساتھ انھوں نے اپنے بیٹے کو خلافت کے استحقاق سے صاف الفاظ میں مستثنی کر دیا تاکہ کے خلافت ایک موروثی منصب نا بن جائے ۔یہ انتخابی مجلس ان چھ اشخاص پر مشتمل تھی جو حضرت عمرؓ کے نزدیک قوم میں سب سے زیادہ بااثر اور مقبول عام تھے ۔
    اس مجلس نے آخر کار اپنے ایک رکن عبدالرحمنؓ بن عوف خلیفہ تجویز کرنے کا اختیار دے دیا۔انہوں نے عام لوگوں میں چل پھر کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ عوام کا رحجان زیادہ تر کس شخص کی طرف ہے ۔حج سے واپس گزرتے ہوئے قافلوں سے بھی دریافت کیا۔اور اس استصواب عام سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اکثر لوگ حضرت عثمانؓ کے حق میں ہیں ۔اسی بنیاد پر حضرت عثمانؓ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے اور مجمع عام میں ان کی بیعت ہوئی ۔حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہا تو انہوں نے کہا "تمہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے یہ تو اہل شوریٰ اور اہل بدر کے کرنے کا کام ہے جس کو اہل شوریٰ اور اہل بدر خلیفہ بنانا چاہیں گے وہی خلیفہ ہوگا پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے ۔طبری کی روایات میں حضرت علیؓ کے الفاظ یہ ہیں
    "میری بیت خفیہ طریقہ سے نہیں ہو سکتی۔ یہ مسلمانوں کی مرضی سے ہی ہونی چاہیے۔حضرت علی ؓ کی وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا کہ ہم آپ کے صاحبزادے حضرت حسن کے ہاتھ پر بیعت کر لیں ؟تو آپ نے جواب میں کہا”میں نا تم کو اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں تم لوگ خود اچھی طرح دیکھ سکتے ہو ایک شخص میں عین اس وقت جب کہ آپ اپنے صاحبزادوں کو آخری وصیت کر رہے تھے عرض کیا کہ امیر المومنین آپ اپنا وسیہد کیوں نہیں مقرر کر دیتے۔
    جواب میں فرمایا "میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑ دوں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چھوڑا تھا”
    ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت کے متعلق خلفائے راشدین اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا متفق علیہ تصوریہ تھا کے یہ ایک انتخابی منصب ہے جسے مسلمانوں کے باہمی مشورے اور ان کی آزادانہ رضامندی سے قائم ہونا چاہیے۔موروثی یا طاقت سے برسراقتدار آنے والی عمارت ان کی رائے میں خلافت نہیں بلکہ بادشاہی تھی ۔صحابہ کرام ؓ خلافت اور بادشاہ کے فرق کا جو صاف اور واضح تصور رکھتے تھے اسے حضرت ابو موسی اشعریٰؓ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
    امارت (یعنی خلافت) وہ ہے جسے قائم کرنے میں مشورہ کیا گیا ہو۔اور بادشاہی وہ ہے جسں پر تلوار کے زور سے غلبہ حاصل کیا گیا ہو۔
    @zeeshanwaheed43

  • پاکستان میں عدالتی اصلاحات وقت  کی اشد  ضرورت ہے: تحریر  محمد جاوید

    پاکستان میں عدالتی اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے: تحریر محمد جاوید

    اچھی حکمرانی کے لیے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور سستہ انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے ، خاص طور پر ان غریبوں کو جو بااثر لوگوں کے ہاتھوں آئے دن ہراساں ہوتے ہیں.
    اور بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے۔ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں غریب کو بنیادی حقوق نہیں ملتے اور غریب لوگ اپنے آپکو کمزور محسوس کرتے ہیں ، اور ان کا حکومتی اداروں سے بھروسہ ختم ہوجاتا پھر اپنے جایز کام کرانے کے لئے مجبوران غریب لوگوں کو رشوت جیسی لعنت کا سہارا لینا پڑتا۔
    ہمارے عدالتوں میں ججز کی تقرريوں کا نظام ناقص ہے اگر ہم بات کریں اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کا تو ہمیں ميرٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آتا اس بات کا جائزہ لینے سے پتا چل جاتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں ميرٹ کی دهجیاں اڑاتی ہے۔ ان پارٹیوں کے مداخلت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے وکلا ونگزکے لوگ یا سیاسی رہنمائوں کے ذاتی وکیل ججز بنا دئیے جاتے ہے۔ پھر انکے بڑے بڑے چیمبرز لا فرمز اور چند خاندانوں کے لوگ ججز بنائے جاتے ہے۔ یہ پارٹیاں ميرٹ کے آگے دیوار کی طرح حائل ہو جاتی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ سیاسی پارٹیاں ميرٹ کا مذاق اڑا رہی ہوتی اور انکا کوئی پرسان حال نہیں۔
    ملک کے اندر حقیقی میرٹ صرف competitive امتحان کے ذریعے قایم رہتا ہے۔ ریاست کے باقی اداروں میں بھی بھرتیاں مقابلے کے امتحان کے ذریعے ہوتی ہیں۔ انتظامی افسران تو سخت امتحانی مقابلہ CSS, PMS اور PCS کے امتحان سے گزر کر آتے ہیں۔آنے کے بعد وہ کیا کرتے ہیں وہ ایک علیحدہ بحث ہے پھر کسی دن ان کے کارکردگی اور نااہلی پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کر لونگا آج فوکس عدلیہ پہ ہے اب اگر ديگر اداروں میں یہ نظام ہے تو پھر عدلیہ میں بھرتیوں کے لئے مقابلے کا امتحان کو رائیج کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔
    ریاست کے سب سے اہم ادارہ جیس کا کام ہے قانون کی بلادستی کو قائم کرنا اور انصاف کی فراہمی ہے اتنے اہم ادارے میں ميرٹ کا نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے ۔
    میری دانست میں عدلیہ میں میرٹ کا تنازع اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک جج صاحبان competitive امتحان کے ذریعے بھرتی نہیں کئے جائیں گے۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہائی کورٹس کے ججوں کی بھرتیاں مقابلے کے امتحان کے ذریعے کی جائیں تاکہ ميرٹ کا بول بالا ہو ۔
    یہ ضروری ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے یہ کا م باآسانی کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے بھی بہتر حل یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں وہ ججزلگایں جائے جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ میں اور سیشن کورٹس میں مقابلے کے امتحان کے ذریعے براہ راست بھرتی ہوتے ہیں پھر انکو سینیارٹی کی بنیاد پر لگائے جائیں۔ اس طریقہ کار کو فولو کرنے سے ایک فائدہ یہ ہو گا کہ ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ماتحت عدلیہ میں کام کا تجربہ بھی ہوگا جو موجودہ طریقہ کار میں بہت کم ججوں کے پاس ہوتا ہے۔
    ماتحت عدلیہ میں کام کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں بہت سے کمی رہ جاتی ہے۔
    ميرٹ پہ برتیاں نہ ہونے سے انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلوں میں سیاسی عنصر نظر اتا ہے لاہور ہائی کورٹ کے بہت سارے کسیز کا رزلٹ ہمارے سامنے ہیں اب ضروریاس امر کی ہے کہ ميرٹ کو فولو کیا جائے اس سے یہ ہوگا کہ عدالتی نظام میں اسے جج صاحبان سامنے آئیں گے جو اپنے دم پر اور اپنی محنت پر مقابلہ کر کے جج بنیں گے۔چونکہ انکی نوکریا ں کسی کی مرہون منت نہیں ہونگی، اسلئے انکا انصاف فراہم کرنے کا معیار بھی بہت بلند ہوگا۔
    ہماری عدلیہ کی کار کردگی یقینی طور پر اطمینان بخش نہیں ہے انصاف کی فراہمی میں ہمیشہ تاخیر ہو جاتا ہے ۔ غریب عوام عدالتوں کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے مگر انصاف ہے کہ ملتا ہی نہیں عام طور پر یہ کہاں جاتا ہے کہ ایک عام سی کیس کو حل کرنے میں ہماری عدالتوں کو تین سال لگ جاتے ہیں۔
    عدلیہ کی ایک یہ بھی ناکامی ہے کہ اس نے استغاثہ اور پولیس کو کھلی چھٹی دے رکھی ہوتی جو سیاسی ایما پر کسیز پہ اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اگر کسی طاقتور کا کیس ہو تو انویسٹگیشن پر بھی انکا کنٹرول ہوتا پھر غریب کو انصاف ملتا ہی نہیں یہ عدلیہ کی نااہلی کی علامت ہے۔ اگر عدلیہ کے اوپر کام کا بوجھ زیادہ ہے تو اسے عدالتی نظام میں اصلاحات لانے چائے۔ اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چائے۔
    اگر ججز کے پاس کیسز زیادہ ہے تو اضافی ججز کو تقرر کرنا چائے۔ تاکہ کیسز کو جلد از جلد نمٹایا جاسکے۔
    ان تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کرنا چائے جو فضول میں کیسز کو بار بار التوا کا شکار بنادیتے ان افراد پر بھاری جرمانے کر کے قانونی چارہ جوئی کرنی چائے تاکہ جلد از جلد انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔
    ججز کو لکھنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
    دلائل اور زبانی دلائل کے لیے وقت محدود کرنا چائے ۔ تمام عدالتی کارروائیوں کی نقلیں اور انہیں تمام فریقین کے لیے دستیاب کرانے سے وقت کا ضیاع کم ہو جائے گا۔
    جھوٹے وجوہات کے بنیاد پر بنے معمولی تنازعات کو سمری کے طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
    سول ، فوجداری اور تجارتی مقدمات الگ الگ
    عدالتوں میں حل کرنا چائے نیز ان عدالتوں میں ججز کی تقروریاں ان کی متعلقہ مہارت اور جج کے تجربے کی بنیاد پر ہونی چائے۔
    توہین عدالت کے قوانین کو ختم کرنا چائے کیوں کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر ججز اسکو ذاتی مفاد کے لے استعمال کرتے ہیں۔
    عدلیہ کو چائے کہ باقاعدہ مانٹرنگ کریں اور ماتحت عدالتوں کے کارکردگی کی نگرانی کریں اور ان کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں شکایات کو سنے اور تحقیقات کریں اور پھر سالانہ رپورٹوں کی شائع کریں تاکہ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر آجائے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ غریب عوام کو سستہ انصاف مل جائے اور ملک میں عدل وہ انصاف کا بول بالا ہو ۔ اور ضروری ہے کہ ملک کے اندر امیر اور غریب کے لئے ایک ہی قانون ہو جیس ملک میں غریب کے لئے الگ قانون ہو اور امیر کے لئے الگ قانون ہو وہاں انصاف کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
    پاکستان کے عدالتی نظام کے اندر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے موجودہ نظام انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے مگر اصلاحات کے ذریعے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔

    ‎@I_MJawed

  • میری ذاتی رائے تحریر: عامر میکن

    میں ایک مسلم پاکستانی باشندہ ہوں ،،
    کچھ دن پہلے میرے ایک دوست نے بنک سے قرضہ لینا تھا تو اس نے مجھے گرنٹر بننے کو کہا میں نے ناچاہتے ہوئے بھی ٹھیک ہے کہہ دیا
    اگلے دن بنک سے دو آدمی آئے ہم نے ان کے لیے چائے وغیرہ کا انتظام کیا ان کے ہاتھ میں ایک فارم تھا جو میرے دوست کے نام پر بنا ہوا تھا انہوں نے اس فارم پر ہمارے سائن وغیرہ لیے اور کہا کل آکر پیسے لے جانا اور وہ چلے گے ،،
    تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ تم کتنے پیسے لے رہے ہو اور اس میں سود کتنا دینا پڑے گا
    تو اس نے بتایا کہ
    میں نے ایک لاکھ 100000 روپے کا لئون اپلائی کیا ہے اور یہ مجھے پچانوے ہزار روپے دیں گے اور میں نے ان کو واپسی ایک لاکھ چوبیس ہزار دینے ہیں
    یعنی چوبیس ہزار سود اور پانچ ہزار بنک والوں کو رشوت
    رشوت ،،میں نے بہت حیرانگی سے پوچھا کہ یار وہ اس بنک کا اپنا ادارہ ہے اور وہ بھی رشوت لیتا ہے
    وہ بولا ہاں بھائی دینے پڑتے ہیں نہیں تو کبھی ان کا جنریٹر خراب ہوتا ہے کبھی سسٹم نہیں چلتا تو کبھی مینجر چھٹی پر ہوتا ہے اس لیے کرنا پڑتا ہے
    اب چلتے ہیں ہم پہلے فقرے کی جانب،،
    میں ایک مسلم پاکستانی باشندہ ہوں،،
    میرا مذہب اسلام ہونے کے ناتے میرے دین میں سود حرام ہے

    سود الللہ اور اس کےرسول ﷺ سے اعلان جنگ ہے
    اس میں تو کسی بھی مسلمان کی دوسری رائے نہیں ہے ایک اور بات میرے مذہب میں رشوت لینے والا بھی اور رشوت دینے والا بھی دونوں جہنمی ہیں
    کیا میرا اس بات پر یقین ہے یار سوچنے والی بات ہے
    یقیناً اگر میرا ایمان پختہ ہوتا تو میں ہر گز ایسا نا کرتا

    چلیے تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں
    ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ سب کچھ کیوں کررہے ہیں وہ اس لیے جناب کہ ہمیں اس سود کو کھانا ،حلال بتایا گیا ہے
    باقاعدہ پاکستان کے آئین میں اسے بزنس کا درجہ دیا گیا ہے اور ہم ہیں کہ اس کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے ہماری دینی غیرت کا آخری نعرہ یہ ہی ہوتا ہے
    ،،او بس بھائی کیا کرسکتے ہیں ،،

    بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے ہزاروں گناہ جو ہم جان بوجھ کر کرتے پیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہم ان گناہوں سے بچنا بھی نہیں چاہتے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری دین سے دوری ہے کہ ہم نے دین کو صرف مسجد تک محدود کر دیا ہے ہم دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ ہم کو اس دور میں دین پر چلنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی لگتا ہے ہم نے کبھی اس بات کا تصور ہی نہیں کیا کہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی کبھی نظام مصطفیٰ ﷺ نافظ ہوگا
    ہم ان بہتر سالوں میں اس قدر بھٹک چکے ہیں کہ ہم نے (معزرت کے ساتھ) سیاست کو دین سے بالاتر سمجھ لیا ہے یہاں تک کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کی عزت آبرو (معاذاللہ)سے زیادہ عزیز اپنی معیشت ہو چکی ہے ہم دنیاوی لیڈر کی محبت میں اس قدر مدہوش ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے لیڈر سے گستاخ رسول ﷺ سے لا تعلقی کا مطالبہ بھی نا کرسکے جیسا کہ حالیہ دنوں میں فرانس کا معاملہ تھا
    یار ٹھیک ہے تمہارا لیڈر اچھا ہے وہ ایماندار ہے لیکن اس کی محبت میں انسان کو اس قدر مدہوش نہیں ہونا چاہیے کہ آپ حق اور باطل کی پہچان نا کر سکیں
    دعا ہے الللہ رب العزت ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ،،

    ،،
    ‎@Amirmaken123

  • ذہنی رحجان تحریر:افشین

    ذہنی رحجان تحریر:افشین

    ہمارا ماحول ہماری ذہنیت پہ اثر انداز ہوتا ہے اچھے ماحول سے اچھی عادت اور برے ماحول سے برے تاثرات خود بخود ذہنیت پہ اثر انداز ہوتے ہیں بچے جس ماحول میں تربیت پاتے ہیں وہی کچھ زندگی میں کرتے ہیں ۔اگر ہر طرف منفی ہورہاہوگا تو اچھا کیسے سوچا جا سکتا ہے ؟کہتے ہیں مثبت سوچ سے سب اچھا رونما ہوتا ہے ہماری سوچ پہ سب منحصر ہے۔ پر میرا ماننا ہے اگر ہر طرف منفی ہورہا ہوگا تو ہمارا ذہن اچھا سوچ ہی نہیں سکتا صرف دل کو تسلی دینے والی بات ہے "نہیں ایسا نہیں ہم ہی ایسے سوچ رہے ہیں سب اچھا ہورہا ہے” جب کہ سب غلط ہورہا ہو۔
    جب ہم کسی انسان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسکی ذہنیت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اسکی ذہنیت اگر گندی ہوگی ہم اسکو غلط ہی بولیں گے اچھی ہوگی تو اچھا بولیں گے تو جب منفی نظر آئے اچھا کیسے بولیں ؟؟سوچ کے ساتھ کردار کو بھی مثبت کرنے کی ضرورت ہے ہر انسان کی ذہنیت الگ ہوتی ہے جب دو لوگ ایک جیسا سوچیں تو سب صیحح اور اگر مترادف ذہنیت ہو تو نا اتفاقی، بحث، تضاد خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔
    سوشل میڈیا پہ جیسے واٹس اپ استعمال کرنے والے سٹیٹس میں دوسروں کو جس طرح کا خود کو ظاہر کررہے ہوتے ہیں بعض اوقات ویسے لوگ حقیقت میں ہوتے نہیں۔ بعض لوگ سٹیٹس لگا کے خود کو نیک اچھا شریف سلجا ہوا انسان ظاہر کرتے ہیں پر حقیقت میں لوگ الگ ہوتے ہیں ۔اب ظاہر ہے ہم دیکھیں گے ہمارا ذہن یہی سوچے گا نیک اور متقی انسان ہے پر اکثر ایسا ہوتا نہیں ۔
    جو میٹھی باتیں کریگا ہمارا ذہنی رحجان زیادہ اس کی طرف مائل ہوگا اور لازمی نہیں مٹھاس کے پیچھے شہد ہی ہو، پردے کے پیچھے نیک شخصیت ہی ہو! حقیقت اسکے برعکس بھی ہو سکتی ہے ۔ کسی سے اختلاف کی بات نہیں بلکہ بات حقیقت کی ہے۔ ایک اچھی لڑکی میں منفی دیکھ کے تہمت لگا دی جاتی ہےتو لازمی نہیں جو دیکھ رہا ہے وہی کچھ ہو۔ اپنے ذہن کو مثبت کرنے کے ساتھ حقیقت پسند بنائیں ۔آج کل کے ڈرامہ سیریل سبق آموز کم فیشن شو زیادہ لگ رہے ہوتے ہیں ہر طرح کا فیشن اور بے حیائی دکھائی جارہی ہوتی ہے ایسی ایسی سازشیں چالاکیاں دکھائی جارہی ہوتی ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں بھی نہیں ہوتیں۔ ڈرامہ اسلئے دیکھا جاتا ہے ذہنی سکون میسر ہو پر سازش بھرے ڈرامے دیکھ کے یہ گمان ہونے لگتا ہے ہمارے اردگرد ہر طرف یہی کچھ ہورہاہے۔ جن کو چالاکیاں سازشیں کرنی نہیں آتی وہ بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کیسے کس کو نقصان دینا ہے۔ اب دیکھنے والے کا ذہن لازمی نہیں کچھ اچھا تاثر ہی لے وہ منفی عادت بھی ذہنیت میں ڈال سکتا ہے ۔جو دیکھایا جائے گا وہی لوگ دیکھے گے اور اسی کی طرف ذہنی رحجان ہوگا۔
    بے حیائی دیکھ کے بعض لوگ بھی وہی کچھ کرنے لگتے ہیں ۔ پاکستانی ڈراموں میں ہمارا کلچر دیکھایا جائے اچھے سبق آموز ڈرامہ ہو تاکہ ہماری نسل کچھ اچھا سیکھے ہماری نسل محبت کہانی سے نکل نہیں پا رہی چھوٹے بچوں کا ذہنی رحجان پڑھائی کی طرف کم اور فضول کاموں میں بڑھ رہا ہےمیں خود جب ڈرامہ دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے ہر کوئی میرے خلاف سازش کر رہا ہے ذہنی دباو بڑھنے لگتا ہے لوگوں کو آپ ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔ برائے مہربانی کچھ اچھا دیکھائیں۔بچوں کو موبائل کم دیں ایسے پروگرام دیکھائیں کہ کچھ اچھا سیکھیں پر وہ وہی کچھ دیکھتے اور کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔ جب ماں باپ چوبیس گھنٹے موبائل ہاتھ سے نہیں رکھتے، بچے بھی پر مانگتے ہیں ضدی بچے پر کہا سنتے ہیں ؟مار پیٹ کے بچوں کو منع کیا جاتا ہے مگر ماں باپ خود کو نہیں بدلتے اولاد کا کیا قصور کس لیے مارا پیٹا جاتا ہے؟ انکا ذہن آپ خود ایسا بنا دیتے ہیں معصوم بچوں کو کیا پتا کیا صیحح ہے کیا غلط ہے۔ بے حیائی کی روک تھام کریں بعض اوقات ہمارا ذہن وہ کچھ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے جو سوچنا نہیں چاہتاذہن کو ہر وقت مثبت رکھنا ہر انسان کے بس میں نہیں ہوتا آزاد خیالی کی بھی حدود مقررہوتی ہیں۔ اتنا بھی آزاد خیال نہیں ہونا چاہیے کہ بے حیائی سرعام کر کے کہہ دیا جائے لوگوں کی سوچ ہی ایسی ہے لوگ تو بہت کچھ کہتے ہیں پر ہر وقت غلط بھی نہیں کہتے، ہمارا ذہن کسی کی غلامی نہیں کر سکتا لازمی نہیں جیسی آپ کی سوچ ہو ویسی سب کی ہو۔ جیسے فیشن میں عجیب و غریب لباس پہنے ہوتے ہیں تن خالی ہوتا ہے جسم آپ لوگوں کا ہے زندگی بھی آپ لوگوں کی ہے جوکہ اللہ پاک دی ہے اسکو سنوارے پر بے حیائی سرعام نہ کریں بے حیائی دیکھاکہ دوسروں کو گمراہ نہ کریں۔ اللہ پاک ایسے اقدام نا پسند فرمائے ہیں۔ اگر آپ گمراہی پہ چل ہی پڑے ہیں تو دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ گمراہ نہ کریں اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور گھروں میں بھی ایسے زیادتیوں کے مسلے ان وجوہات کی وجہ سے درپیش آرہے ہیں۔ اللہ پاک اس عمل کو نہ پسند فرمایا ہے جو کریں اپنی حدود میں رہ کے کریں نہ خود جہنم کے عذاب کے مرتکب بنے نہ دوسروں کو بنائیں۔ اپنے کردار کو صیحح کریں تاکہ کوئی آپ کے بارے میں منفی نہ سوچے۔
    اپنے ذہنوں کو دوسروں کے تابع نہ کریں ایسی چیزوں سے دور رہے جس سے نا صرف اپکی ذہنیت بلکہ زندگی بھی خراب ہورہی ہو۔

    ‎#

    ‎@Hu__rt7

  • وقت ایک عام نعمت ہے تحریر: زبیر احمد

    وقت ایک عام نعمت ہے تحریر: زبیر احمد

    صوفیائے کرام فرماتے ہیں وقت کاٹنے والی تلوار ہے، وقت پانی کی طرح ہے اس سے کسی لمحے سکون نہیں، خدا ڈراتا ہے کہ تم کہیں رہو موت تمہیں نہیں چھوڑے گی، وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہر کام کا ایک وقت ہے لیکن انسان موت کا وقت نہیں جانتا۔ انبیاء کرام بھی نصیحت کرتے ہیں کہ وقت کے بارے میں ہوشیار رہو، وقت برباد نہ کرو، وقت غیرضروری باتوں میں صرف نہ کرو، گھڑی گھڑی سیکنڈ سکینڈ کا حساب دینا پڑے گا۔ تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے، صدیوں کا تجربہ بھی ہمیں یہی سبق سکھاتا ہے کہ دنیا میں جو کامیاب لوگ گزر چکے ہیں، ان کی کامیابی کا راز صرف وقت کی قدر اور اس کا صحیح استعمال تھا۔وقت ایک ایسی زمین یے کہ اگر اس پہ محنت کی جائے تو یہ پھل دیتی ہے بے کار چھوڑ دی جائے تو کچھ بھی نہیں ملتا یا خاردار جھاڑیاں ہی اگاتی ہے۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا ایک دریا ہے۔ اس کا بہاو انتہائی تیز ہے۔ جونہی کوئی چیز وقت کے دریا کی زد میں آتی ہے وہ اس کو بہا کے لے جاتا ہے۔ ایک مثال ہے کہ وقت بھی ایک سونا ہے، لیکن یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو وقت کی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں جو لوگ پاکیزہ خیالات اور اچھی فکروسوچ کے حامل ہوتے ہیں ان کے لئے وقت بہت قیمتی ہے۔ پیسہ دولت اگر چلا بھی جائے تو واپس حاصل کیا جاسکتا ہے اور پہلے سے کئی گنا زیادہ ہوسکتا ہے لیکن جو وقت اور زمانہ گزر گیا وہ کسی قیمت پر بھی واپس نہیں آسکتا۔ آج مسلم معاشرے میں پیدا ہونے والے بچے کی زندگی تباہ کرنے کے لئے ہزار جال بچھائے گئے ہیں، موبائل،ٹی وی، سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز، رومانوی ڈرامے اور فلمیں غرض کہ ہر قدم پہ جال بچھا رکھے ہیں لیکن ہماری نئی نسل کو ان چیزوں کے بے جا استعمال سے وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں ہورہا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد یہیں تک محدود نہیں ہے۔
    وقت گزر جانے پہ افسوس کرنا بے نتیجہ ہے، موت پہ اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا وقت کے ختم ہونے پر، دوزخی یہی کہیں گے”اے خدا تو ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیج دے” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یے” کوئی دن ایسا نہیں ہے جب طلوع ہوتا ہے تو پکار پکار کر کہتا اے انسان میں تیرے عمل پہ شاہد ہوں، مجھ سے کچھ حاصل کرنا ہے تو کرلے، میں تو اب قیامت تک لوٹ کر نہیں آونگا۔
    وقت سے کام لینے والے اس تھوڑی سی زندگی میں موجد بن گئے، فلاسفر بن گئے، بزرگان دین اور اولیاء بن گئے، دین و دنیا کے مالک بن گئے۔ فضول کاموں سے ایک گھنٹہ روزانہ بچا کر معمولی آدمی بھی کسی سائنس کو پوری طرح اپنے قابو میں رکھ سکتا ہے، دن میں ایک گھنٹہ روازنہ خرچ کرکے جاہل انسان بھی دس سال میں ایک عالم بن سکتا ہے، غرض روازنہ ایک گھنٹہ کی بدولت ایک حیوانی زندگی، کارآمد اور مسرت بھری انسانی زندگی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
    ایک اور دھوکہ جو انسان کو وقت ضائع کرنے پہ افسوس سے بچاتا رہتا ہے اور وہ لفظ ہے "کل”، انسان کی زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو "کل” کے لفظ کی طرح گناہوں، غلطیوں اور لاپرواہیوں اور اتنی بردباد ہونے والی زندگیوں کے لیے جواب دہ ہو۔کامیاب لوگوں کی ڈکشنری میں "کل” کا لفظ نہیں ہے، یہ ایسے لوگوں کے استعمال میں آنے والا لفظ ہے جو صبح سے شام تک خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں اور صرف خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ کامیابی کے راستے پہ بے شمار اپاہج کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی عمر "کل” کے تعاقب میں گنوا دی ہے۔ غرض کے وقت وہ سرمایہ یے جو ہر شخص کو قدرت کی طرف سے یکساں عطا ہوا ہے۔ وقت کے درست استعمال سے ہی وحشی مہذب بن جاتا ہے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو عوام حکمران، امیر غریب، طاقتور اور کمزور کی یکساں ملتی ہے۔ وقت کی قدر اور زندگی کی اہمیت کا احساس اللہ کا انعام ہے اور یہ انعام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ اللہ ہمیں وقت کی قدر اور اس کی اہمیت کا احساس عطا فرمائے، آمین

    tweets @KharnalZ

  • پیغام یوم آزادی  14 اگست 1947 تحریر بشارت حسین

    پیغام یوم آزادی 14 اگست 1947 تحریر بشارت حسین

    ہر سال چودہ اگست پہ ہم بچوں سمیت بڑے دھوم دھام سے جوش و خروش سے جشن آزادی مناتے ہیں۔ جھنڈے سینے پہ سجائے جاتے ہیں۔ ہر طرف قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔
    وقت کے ساتھ ساتھ یوم آزادی صرف ایک فیشن اور تہوار بن گیا اور ہمیں ایک اور موقع مل گیا جس میں ہم یوم آزادی کے نام پہ ہلا گلا کریں اپنی معاشی برتری ثابت کریں اور دولت سے اپنی محب الوطنی کا ثبوت دیں۔
    ہر سال چودہ اگست ہمیں اپنے اباو اجداد اور بزرگوں اور اسلاف کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن عزیز کے حصول کیلئے بے بہا قربانیاں دیں۔
    پاکستان ہمیں یوں ہی نہیں ملا بلکہ اس کی آزادی کے بدلے ہمارے بزرگوں نے اپنی جان مال عزت آبرو تک کو قربان کیا۔
    جب چودہ اگست انیس سو سینتالیس 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو غیر مسلموں (ہندو سکھ اور انگریز) نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ مسلمان پاکستان کے قیام کے بعد ہندوستان سے نکلنے لگے لیکن راستوں میں پاکستان کے دشمنوں نے جگہ جگہ مسلمانوں کو گھیرا۔ مسلمان مہاجرین کے قافلوں کو جلایا گیا بوڑھے بچوں اور عورتوں کو قتل کیا گیا۔ مسلمان عورتوں کی عزتوں سے کھیلا گیا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے ہر طرح کے ظلم و ستم سہے لیکن کوئی بھی ظلم مسلمانوں کے بلند و بالا حوصلوں کو شکست نہ دے سکا۔
    ہندوستان میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مسلمان اب دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے چنانچہ مسلمانوں کے اندر ایک علیحدہ ملک بنانے کی جستجو پیدا ہوئی۔ ہم یوم آزادی کے سبق کو بھول کر ایک جشن کے پیچھے پڑے ہیں آج ہمیں یاد ہی نہیں کہ اس ملک کو حاصل کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
    آزادی سے پہلے مسلمان یہ جانتے تھے کہ مسلمان دوسری قوموں سے الگ ہیں انکا رہن سہن طور طریقے راہیں سب جدا ہیں لیکن آج ہم اس سبق کو بھول گئے۔
    پاکستان کی آزادی کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے دین کے مطابق اپنی مرضی سے الگ تھلگ رہیں۔
    پاکستان کی آزادی دراصل ہمیں دین کی آزادی کا پیغام تھا کہ اب ہم اپنے وطن میں بغیر کسی دوسری طاقت کے خوف سے اپنی زندگی اپنے دین کے طریقوں سے گزاریں گے۔
    بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ ان سب سے آزاد ہو گیا ہمارے آباؤ اجداد تو اس سبق کو نہیں بھولے لیکن ہمارے دلوں سے آزادی کی قدر وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو گئی۔
    یوم آزادی پاکستان ہر سال ہمیں ایثار ، قربانی ، بلند حوصلے، احساس، غریب پروری اور حب الوطنی کا پیغام یاد دلاتا ہے۔ یوم آزادی پاکستان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے دوست کون ہیں اور دشمن کون ہیں؟
    یوم آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے جب مسلمان دوسری جگہوں سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو یہاں کے مکینوں نے کیسے اپنے گھروں میں انکو جگہ دی۔
    مہاجرین کو اپنے ساتھ زمینوں میں شریک کیا اپنے ساتھ کاروبار میں بھائیوں کی طرح شراکت داری دی۔
    جب مہاجرین ہندوستان سے آئے تو راستوں میں اپنے خونی رشتوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھا لیکن جب وہ پاکستان پہنچے تو ان کو یہاں اپنے کھوئے رشتوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی انکو نئے بیٹے اور بیٹیاں ملیں یتیموں کو نئے گھر نئے رشتے ملے۔ خونی رشتوں کی کمی کو پورا ہی نہیں کیا بلکہ انکے زخموں پہ مرہم بھی لگایا۔
    اخوت و بھائی کی ایک مثال قائم کی۔ درس انسانیت اور احساس کا سبق دیا اسلامی بھائی چارہ قائم کیا اور آنے والی نسلوں کے لیئے ایک نظام اور ایک سبق چھوڑا۔
    ہر سال چودہ اگست یوم آزادی ہمیں اس پیغام کو یاد کراتی ہے ہم اپنے کمزور طبقے کی مدد کریں انکی ضروریات کا خیال رکھیں۔ آج ہمارا ملک جن حالات سے دوچار ہے اس سے تقریبا سبھی بخوبی آشنا ہیں۔ ہم انتہائی کٹھن مراحل سے گزر رہے ہیں آج ہمارے ملک اور ہماری قوم کو انہی قربانیوں اور ایثار کی ضرورت ہے جس کا اظہار چودہ اگست انیس سو سینتالیس کے بعد کیا گیا۔
    آئیں اس یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر یہ عہد کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہم اپنے اسلاف کے پڑھائے ہوئے سبق کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی ترقی کے خواہاں ہوں گے
    ان شاء اللہ

    /Live_with_honor?s=09@