Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ”  تحریر: احسان الحق

    اسلام میں عورت کے حقوق اور "عورت مارچ” تحریر: احسان الحق

    ایک ایسا زمانہ بھی تھا جب لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا. خواتین کا کوئی مقام، عزت اور حیثیت نہیں تھی. یہ سب زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا. پھر اسلام آیا، اسلام نے خواتین کو زندہ دفن کرنے سے بچایا، خواتین کو زندگی دی. جائیداد میں حصہ دیا. عزت دی، مقام دیا، ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا. بحیثیت ماں عورت کے قدموں تلے جنت رکھ دی. بحیثیت بیٹی عورت کی اچھی تعلیم و تربیت کے بدلے جنت کی بشارت دے دی. بحیثیت بیوی عورت کو اللہ تعالیٰ، رسولﷺ اور شوہر کی اطاعت کے بدلے جنت کی خوشخبری سنائی. یہ اسلام ہی ہے جس نے دوران زچگی عورت کی موت کو شہادت کا درجہ دیا. اسلام نے عورت کو مرد کے برابر لا کھڑا کیا.

    ایک جنگ میں صحابئ رسولؐ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہہ شہید ہو گئے. آپ کافی مالدار تھے. آپکی شہادت کے بعد آپکے بھائی نے تمام مال پر قبضہ کر لیا. حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی بیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور اپنی پریشانی بتائی تو اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حقوق کے لئے ایک پوری سورۃ "النساء” نازل فرما دی. اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کے تمام حقوق بیان فرما کر عورتوں کو ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کردی اور قیامت تک خواتین کے مسائل حل کر دئیے. حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ ساتھی صحابیوں سے فرماتے تھے کہ مجھ سے سورۃ النساء کے بارے میں پوچھو، اس میں عورتوں کے متعلق احکامات بیان کئے گئے ہیں. فرماتے ہیں کہ میں نے سورۃ النساء کو خصوصی اہتمام سے سیکھا ہے کیوں کہ اس میں پردے کے احکام، شادی بیاہ کے مسائل، رشتے داری کے احکام، معاشرتی اور سماجی مسائل، نکاح اور بیاہ کے مسائل اور یتیم بچی کے مسائل پر بحث کی گئی ہے. زمانہ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر بہت ظلم کیا جاتا تھا.

    پاکستان میں چند سالوں سے عورت کے حقوق کی آڑ میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے. شرعی اقدار کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے. سب سے پہلے MeToo والی کچھ طلاق یافتہ Feminist خواتین نے تحریک چلائی. اسی MeToo کی بنیاد پر متنازعہ تنظیم "عورت مارچ” معرض وجود میں آئی. تنظیم "ہم عورتیں” کی سہولت کاری اور شراکت داری سے کراچی میں 8 مارچ 2018 کو پہلی بار عورت مارچ کا انعقاد ہوا اور متنازعہ پلے کارڈز اور نعروں کی وجہ سے مارچ کی انتظامیہ اور شرکاء کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا. خواتین کے عالمی دن کے موقع پر باقاعدگی سے عورت مارچ کیا جا رہا ہے. 8 مارچ 2021 کو اسلام آباد میں ہونے والا مارچ انتہائی شرمناک اور بے ہودہ تھا. جس میں شرمناک اور غیر اخلاقی پلے کارڈز کے ساتھ ساتھ ایک گستاخانہ پلے کارڈ بھی شامل تھا جس کی بعد میں تردید کی گئی، حالانکہ وہ پلے کارڈ پوری دنیا نے دیکھا. LGBT تنظیم کا جھنڈا بھی شامل مارچ تھا. عورت مارچ کی متعدد ذیلی تنظیمیں یا سہولت کار جماعتیں بھی ہیں جیسا کہ WDF یا Women Democratic Front اور WAF مطلب Women Action Forum اور کچھ طلبہ تنظیمیں بھی شامل ہیں. ان سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے.

    اگر خواتین شرعی، اخلاقی اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کریں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ سارا معاشرہ ان کا ساتھ بھی دے گا. مثلاً
    جائیداد میں حصہ
    معیاری تعلیم کے لئے مطالبہ
    جہیز کے خلاف تحریک
    مرضی کے خلاف شادی…
    خواتین کے جسمانی یا جنسی تشدد کے خلاف سزاؤں کا مطالبہ وغیرہ مگر خواتین کے نعرے اور مطالبے انتہائی فحش، بے ہودہ اور غیر اخلاقی ہیں. عورت مارچ کی خواتین کو ہر حال میں ہر وقت ہر طرح کی آزادی چاہئے.
    لاحول ولاقوة الا بالله

    اگر آپ خواتین پر سب سے زیادہ جنسی اور جسمانی زیادتی اور تشدد کرنے والے ممالک کو دیکھیں تو سب سے زیادہ واقعات وہاں ہو رہے ہیں جو ترقی یافتہ اور غیر مسلم ممالک ہیں. وہاں کوئی عورت مارچ کی تنظیم نہیں. سب سے زیادہ واقعات جنوبی افریقہ، امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے بڑے ممالک میں رونما ہوتے ہیں. جو آزاد خیال اور ملحد ممالک ہیں. پاکستان کا شمار آخری چند ممالک میں ہوتا ہے مطلب خواتین کے ساتھ ناخوشگوار واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں مگر لبرل خواتین و مرد اسلام اور اسلامی اقدار کو نشانہ بناتے ہوئے چادر اور چاردیواری کی حدود سے تجاوز کرنا چاہتے ہیں.

    پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم خواتین لبرل، اسلام دشمن یا اسلام سے دوری کی وجہ سے ناواقف یا لاعلم ہیں، یہی دو فیصد علمی یا لاعلمی میں عورت مارچ جیسی انتہائی متنازعہ، غیرشرعی اور غیر اخلاقی ریلی اور مارچ کا حصہ بنتی ہیں. یہ بات انتہائی پریشان کن اور حیران کن ہے کہ حکومت اور قوم کی بھرپور مخالفت کے باوجود باقاعدگی سے عورت مارچ کا انعقاد ہو رہا ہے اور ہر آئندہ سال گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ فحاشی اور بدتمیزی والا ہوتا ہے. عورت مارچ کے لئے کون فنڈنگ کر رہا ہے اور کس کے ذریعے فنڈنگ کر رہا ہے؟ ریاست، حکومت اور قوم اچھی طرح جانتی ہے مگر ابھی تک نتیجہ صفر ہے.

    @mian_ihsaan

  • اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    اسلام اور لبرلزم تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ہم ایک ایسے معاشرے میں پلے بڑھے کے آجکل کے جو نئے مسلمان متعارف کروائے جارہے ہمیں لگتا جیسے ہم تو اسلام ہی نہیں جب کے حیرت کی بات یہ ہے کبھی کبھی مجھے خود پر شک ہونے لگتا کے کیا میں ایک سچا مسلمان ہوں جب جب ان نئے متعارف ہونے والے مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو اپنی پانچ وقت کی ادا کی گئی نمازوں پر شک ہونے لگتا کہ کیا میں نے جو نمازیں پڑھی میں نے ادا کی وہ غلط تھیں یا صحیح ۔
    ہمارے ماں باپ نے ہماری تربیت کچھ ایسے انداز میں کی کہ ہمیں اللہ کے بعد اپنے ماں باپ کا پھر انکے بعد اپنے مسلمان بھائی کا پھر اپنے ملک کا درد محسوس کرنا سیکھایا ۔
    یہ ہمارا کلچر کہیں یا ہمارا رہن سہن کہیں ہم تو بھئی اسی میں خوش رہنے والی قوم ہیں ۔
    ماں باپ سے سیکھا کے عورت کے ساتھ حس سلوک سے رہنا چاہیے ماں ہے تو احترام کی ہر حدیں پار کردو بیوی ہے تو "عزت ‘ محبت ” میں کوئی نہیں رہنی چاہیے اور بہن ہے تو اسکی حفاظت میں چاہیے جان بھی گنوانا پڑے تو ایک پل میں سوچے سمجھے بغیر گنوا دو ۔
    یہ سب ہمارے کلچر ہماری تہذیب اور ہماری روایات میں شامل کردیا جاتا ہے ۔
    یہ جو نیا اسلام ہمیں اور ہمارے معاشرے کو سیکھانے کی کوشش کی جا رہی وہ اسلام نہیں اسے ہم لبرلزم کہیں گے تو برا نہ ہوگا ۔عورت کو معاشرے میں کونسے ایسے حقوق دلوانے کے لئے یہ خواتین سڑکوں پر اپنے جسموں کی نمائش کرتے ہوئے یہ کہتی پھرتی کہ "میرا جسم میری مرضی” نظریں تیری گندی پردہ میں کروں ” لو بیٹھ گئی ” لو بتاو کہاں بیٹھ گئیں یہ محترمہ ؟ اور جب تنگ لباس پہنے دوپٹے بنا چھوٹی شرٹیں پہنے یہ سب نعرے لگاو گی تو ہر دیکھنے والے نے تم سب کو دیکھنا بھی ہے اور باتیں بھی کرنی ہے ۔اسلام ایسا تو نہیں اسلام میں عورت کا مقام ہی بہت اونچا ہے
    اللہ "سورہ نور ” کی آیت نمبر 31 مین اللہ تعالی فرماتا ہے ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں کو کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔سوائے اس کے جو ظاہر ہے ۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں "۔
    جب اللہ نے یہ فرمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تو یہ سب کون ہیں جو ہمارے اسلام کو غلط رنگ میں ڈھال رہے ۔
    ہم ایسے معاشرے میں بڑھے اور جوان ہوئے اور آنے والی اپنی نسلوں کو بھی یہی نصیحت کریں گے کے اپنی بیوی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا اگر وہ کام کرکے تھک جائے تو میں کام کرلوں تو اس سے کیا میں اپنی بیوی کا نوکر ہوگیا؟ نہیں اس رشتے کو پیار احساس اور عزت کا نام دیتے ہیں ۔
    یہ ہے میرا اسلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ سنت اور ہم ان کی سنت پر عمل کرکے چلتے ہیں ۔اسلام میں عورت کا مقام اللہ نے بہت اونچا رکھا ۔ یہ لوگ خالی اپنی آزادی چاہتیں ہیں اور ان جیسی عورتوں کا ٹھکانہ جہنم ہے

    تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    ‎@Aahadpirzada

  • پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے چند حقائق   تحریر : اقصٰی صدیق

    پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے چند حقائق تحریر : اقصٰی صدیق

     1947ء کو تقسیم ہند کے موقع پر پاکستان  ہندوستان سے الگ ہو کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلایا۔تاریخ میں اس قصے کو تاریخ پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

     تقسیم ہندوستان  سے پہلے موجودہ پاکستان کا خطہ برطانوی تسلط میں تھا۔ اور اُس سے پہلے بھی اس خطے پر مختلف ادوار میں مختلف مقامی بادشاہوں اور کئ غیر ملکی طاقتوں کا راج رہا ہے۔

    پرانے وقتوں میں یہ خطہ برصغیر پاک و ہند کی کئی سلطنتوں اور چند بڑی تہذیبوں کا حصہ بنا رہا۔ اور اسی تناظر کے پیش نظر 18 ویں صدی عیسوی میں یہ سرزمین برطانوی ہند میں ڈھل گئی۔
     آل انڈیا مسلم لیگ 1906ءکے قیام سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ اس جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور اُن کی نمائندگی کرنا تھا۔
    آل انڈیا مسلم لیگ 1906ء سے لے کر 1947ء تک کی قیادت کا بنیادی مرکز دو قومی نظریہ ہی رہا ہے۔
    دو قومی نظریہ کی بنیاد برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ تھا،
    دو قومی نظریہ ہی ہماری آزادی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سر فہرست رہا۔اور اسی نظریے کو صف اول رکھتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کے مسلمان بالآخر 1947ء میں اپنے مقصد کو پانے میں سرخرو ہوگئے۔

    مسلم لیگ کے قائدین کو دو قومی نظریے سے برگشتہ کرنے اور اس نظریے کو غلط مفروضے کے طور پر پیش کرنے کے ضمن میں آل انڈیا کانگریس، دیگر ہندو تنظمیں اورہندو رہنما اپنی تمام تر کوششوں اور چالوں میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
    وہ مسلمانوں کو اپنی غلامی کے تسلط میں رکھنے کے قائل تھے۔

    مختصر یہ کہ 1857ء کی جنگ آزادی کے دس سال بعد علی گڑھ مکتب کے سربراہ سرسید احمد خان نے ہندی اردو تنازعہ کے باعث 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا، اسے دو قومی نظریے کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظریے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو الگ الگ قومیں قراردیا گیا۔
    علی گڑھ کے قائدین نے دو قومی نظریے کو حقیقی انجام تک پہنچانے میں بھرپور کوششیں کیں۔

    1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین ایک اور جھگڑے نے طول پکڑا۔
    یہ جھگڑا مسلمانوں کی قومی زبان اردو کی ساکھ کے خلاف کھڑا کیا گیا، اس جھگڑے کو اردو ہندی تنازعہ 1867ء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اردو کے خلاف ہندوؤں کی تحریک ایک ناقابل فہم اور غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔جس میں انہوں نے ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہ کیا۔
    1857ء کی جنگ آزادی میں بہت سے مسلمانوں نے حصہ لیا اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کیا ان مطالبات کے نتیجے میں ہی آل انڈیا کانگریس 1885ء قیام میں آئی۔

    قائداعظم محمد علی جناح اعظم نے 1906ء آل انڈیا کانگریس میں شمولیت اختیار کی جو کہ اُس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔
    محمد علی جناح دو قومی نظریہ کے حامی تھے،
    دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہی آپ نے برصغیر کے مسلمانوں ایک الگ ریاست کے حصول کیلئے لڑے،
    اس کے علاوہ آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو ہندوستان میں ایک الگ سیاسی جماعت کے طور پر منوایا۔

    غرضیکہ دو قومی نظریے کو نظریہ پاکستان میں منتقل کرنے کا سہرا آپ ہی کو جاتا ہے۔

    روشنیوں کے شہر کراچی میں جنم لینے جناح، بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی دو عشروں میں آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ اپنی سیاست کے ابتدائی ایام میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کیا۔

    شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شخصیت، اور پاکستان کے لیے غور و فکر کے نظریات کا محمد علی جناح پر بہت زیادہ اثر تھا ،اور اسی اثر کے نتیجے میں پاکستان جیسی آزاد اور خودمختار ریاست کے قائم ہونے کی راہ ہموار ہوئی اور اس اثر و رسوخ کو مورخین نے قابل ستائش اور ناقابل انکار تک لکھا۔

    29 دسمبر 1930ء کو فلسفی و شاعر، علامہ محمد اقبال نے جنوب مشرقی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ اور خود مختار ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ ایک ایسی ریاست جس میں برصغیر کے مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
    1930ء کے آخری دنوں میں مسلم لیگ نے مقبولیت حاصل کرنا شروع کی۔
    چوہدری رحمت علی نے 1933ء میں اس ریاست کا نام "پاکستان ” تجویز کیا اور مختلف علاقوں کو ملاتے ہوئے پاکستان کو ایک نقشہ کی صورت میں ڈھالا۔
    اس کے علاوہ چودھری رحمت علی نے دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنے مشہور کتابچہ Now or) (Never "ابھی یا کبھی نہیں” میں پہلی بار لفظ پاکستان استعمال کیا۔

    محمد علی جناح اقبال کی سوچ سےکافی حد تک متاثر تھے۔جس کا اندازہ 23 مارچ 1940ء کو علامہ اقبال کی ایک عوامی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔

    1930ء تک برصغیر کے اکثر مسلمان آزادی حاصل ہونے کے بعد ہندوں کے ساتھ ایک متحد مملکت میں رہنے کا خیال رکھتے تھے جیسا کہ وہ صدیوں پہلے سے ہی رہ رہے تھے۔

    1930ء میں خطبہ الہ آباد میں سر علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ آزاد ریاست کا مطالبہ کیا۔
    اقبال کا یہ خطبہ دو قومی نظریہ کا واضح عکس تھا۔
    محمد علی جناح نے اپنی تقاریر میں اقبال کے خواب کی بھرپور حمایت کی۔

    چونکہ 1857ء کی جنگ آزادی میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے انگریزوں کے خلاف لڑے تھے، لیکن اس کے بعد کچھ ہندوؤں کے نا مناسب رویے اور کچھ انگریزوں کی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی وجہ سے مسلمان اور ہندو الگ الگ قوموں کی صورت میں تقسیم ہو گئے۔ اس طرح پہلی مرتبہ برصغیر پاک و ہند میں دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی۔

    1857ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا رہا، اس کے برعکس مسلمان ثابت قدم رہے، اور
    جنگ آزادی کے دوران عظمت و بہادری کی کئی داستانیں رقم ہوئیں۔اس جنگ میں ناکامی کے بعد مسلمانوں سے بہت امتیازی سلوک رکھا گیا۔

    1857ء کی جنگ آزادی نے برصغیر کے مسلمانوں کے دل و دماغ میں اپنے لیے الگ ریاست کے عزم کو یقینی بنایا۔
    مسلمان ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اور انگریزوں کے تسلط سے نکلنے کے لیے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
    ان تمام حالات و مصائب میں مسلم رہنما قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، سر سید احمد خان، چوہدری رحمت علی، مولانا فضل الحق، شبلی نعمانی اور دیگر کئی نامور شخصیات مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنے میں، ان میں آزادی کا احساس پیدا کرنے میں برصغیر کے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔
    اور ایک الگ ریاست کے قیام کے لئے ڈٹے رہے،
    بالآخر 23 مارچ 1940 ء کے خطبہ آلہ آباد کے سات سال بعد مسلمان ایک الگ ریاست کے حق دار ٹھہرے۔

    تقسیم کے بعد ہندوستان برطانوی راج کی سب سے بڑی نوآبادیاتی اکثریت تھی، جبکہ اگست 1947ء میں ملک کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر دیا گیا۔

    یوں ملک کی تقسیم نے مشکلات و مصائب کا ایک طوفان کھڑا کر دیا، بہت بڑی اکثریت کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، اس ہجرت نے مسلمانوں کی ساکھ کو تباہ کر دیا۔
    لاکھوں افراد پناہ کی تلاش میں در بہ در ہوئے۔ لاکھوں محفوظ ٹھکانوں کی جانب سفر کرتے ہوئے راستے میں مارے گئے، جن میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ سبھی شامل تھے۔مسلمان عورتیں،غیر مسلم مردوں نے اغوا کر لیں۔

    موجودہ دور میں تقسیمِ ہند کی تلخ یادیں پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں ایک زہر کی طرح گھُلی ہوئی ہیں اور آج 70 برس بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔

    تقسیمِ ہند کی غیر منصفانہ تقسیم میں سرفہرست مسئلہ کشمیر ہے۔
    یہ تنازعہ آج تک حل نہیں ہو سکا اور موجودہ دور میں پاک و ہند تعلقات میں بڑے مسائل کو ہوا دے رہا ہے۔

    گزشتہ 70 سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آزاد مملکت کا حصول مسلمانوں کی لازوال جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے صلہ ہے۔
    برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خود مختار ریاست کے لیے جدوجہد کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔

    تحریر میں موجودہ پاکستان کی تاریخ زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو اور اس مقصد کو پا لینے کی جستجو میں وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی نہ گھبراتی ہو تو پھر کامیابی ایسی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہے۔

    یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد کی بے شمار قربانیوں کے بعد وجود میں آیا ہے، لاکھوں شہیدوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ خطہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے حاصل کیا۔تا کہ ہم اس میں اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔
    اب اس مملکت کی حفاظت کا ذمہ قائد کے جوانوں اور اقبال کے شاہینوں کے سر پر ہے۔
    ہماری نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اچھی تعلیم و تربیت حاصل کریں، تاکہ وہ آنے والے وقت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
    آپس میں مل جل کر رہیں اور ایک اچھے انسان اور شہری ہونے کا ثبوت دیں۔بھائی چارے کو فروغ دیں۔
    کیوں کہ ہم آپس میں اتحاد و اتفاق کی بنا پر ہی ملک کو ملت اسلامیہ کا روپ دے سکتے ہیں۔
    جس کا اشارہ ہمیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ جیسا کہ آپ ہی کا ایک شعر ہے،

    ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

    اگر میں اور آپ ! سب مل کر درختوں کی بریدہ شاخوں کی مانند آپس میں جڑے رہیں، زمین پر پھیلے اشجار سے رب العالمین کی تخلیق کے ہر روپ میں چھپے درد کو سمجھنا شروع کردیں گے تو کوئی ایسی طاقت نہیں جو ہمیں ہرا سکے۔

    @_aqsasiddique

  • کیسا مثالی تھا وہ حکمران…؟تحریر:جویریہ بتول


    بنو عدی قبیلے سے تعلق رکھنے والے سخت مزاج عمر کو علم الانساب،تلوار زنی،گھڑ سواری،تیر اندازی اور پہلوان زنی میں خوب مہارت تھی…
    اس منفرد کردار کے مالک عمر نے جب اسلام قبول کیا تو بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی…
    اسلام قبول کر کے با آواز بلند نعرۂ تکبیر لگایا اور بیت اللّٰــــہ میں نماز ادا کی…
    وہ عمر جنہیں پیارے نبیﷺ نے اپنی زبانِ اطہر سے دنیا میں ہی جنّت کی بشارت دی…
    جن کے بارے میں فرمایا:
    عمر تو جس راستے سے گزرتا ہے،شیطان اس راستے سے بھاگ جاتا ہے…
    جن کی پردہ،حرمتِ شراب اور مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنانے کی خواہش پر قرآن نازل ہوا…
    اس عمر نے قبولِ اسلام کے بعد زندگی کا ہر لمحہ راہِ وفا میں وقف کر دیا…
    تمام غزوات میں پیارے نبیﷺ کے ساتھ رہے…
    آپ کی بیٹی ام المومنین حفصہ رضی اللّٰــــہ عنھا کا نکاح رسول اللہ صلی اللّٰــــہ علیہ وسلم سے ہونے کی وجہ سے آپ وہ عظیم صحابی ہیں جنہیں سسرِ رسول اللہ صلی اللّٰــــہ علیہ وسلم کا اعزاز بھی حاصل ہے…
    خلافتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰــــہ عنہ کے بعد آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا…
    تب اس فقیر منش انسان نے سادگی اور کردار کی وہ تاریخ رقم کی جس کی دنیا نظیر پیش نہ کر سکی…!
    راتوں کو رعایا کی خبر گیری کرنے والا…
    دودھ پیتے بچوں کا وظیفہ مقرر کرنے والا…
    نظامِ عشر…جیل خانہ جات کا قیام…تعمیرات،رفاہِ عامہ،مساجد و نہریں اور مسافر خانے بنوانے والا یہ عظیم حکمران اپنوں اور غیروں سبھی کے لیے ایک مثال بن گیا…
    سنِ ہجری کا آغاز کیا…سکہ جاری کیا…
    دمشق،یرموک،قادسیہ،مدائن اور بیت المقدس کی فتح انہی کے دَور میں ہوئی…
    اور اسلام کا پرچم چہار دانگ عالم لہراتا چلا گیا…
    وہ حکمران جس نے نہ صرف اندورنی امن و سکون کو برقرار رکھنے کے لیے امن و انصاف کا قانون نافذ کیا بلکہ سلطنتِ اسلامیہ کے دفاع اور پھیلاؤ پر بھی توجہ مرکوز رکھی…جنگی قافلوں کی روانگی،فتوحات اور تمام تر امور کی خود نگرانی کرتے تھے…
    قانون کی عملداری کا عالم یہ تھا کہ دورِ فاروق میں رعایا خیانت سے ڈرتی اور قانون کا پہلو نہ چھوڑتی تھی…!!!
    لیکن اس بے لاگ عدل کے حامل حکمران کا لاء یہ تھا کہ:
    مسلمانو!
    نہ میں بادشاہ ہوں اور نہ تم غلام ہو،البتہ خلافت کا بار میرے کندھوں پر ہے اگر تم چین و آرام سے سوؤ تو میرا فرض اَدا ہو گیا…
    یہ بات واقعتاً سچ ہے کہ اگر حکمران خود امانت دار،فرض شناس،تقویٰ کا حامل،فکرِ آخرت سے سرشار ہو تو ایسی قوموں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا…
    ان کا استحصال ناممکن بات ہوتی ہے…
    وہ کرپٹوں کے ہاتھوں نہیں لٹتے…
    ہاں پھر دولت و رشتہ داری نہیں بلکہ کردار و اہلیت چلتی ہے…!!!
    ساڑھے دس سال تک سلطنتِ اسلامی کا حکمران لوگوں کی زندگیوں میں آسانی اور انصاف کی روشنی بھرنے والا دنیا کے حکمرانوں کے لیے انمٹ مثال بن گیا…!
    کہ دنیا آج بھی عمر لاء سے استفادہ کرتی نظر آتی ہے…
    پیوند زدہ لباس پر گزارہ کرنے والا حاکم جب پارسی غلام کے خنجروں کے وار سے زخمی ہو کر جب منصبِ شہادت کی طرف بڑھنے لگا تو تاریخ وہاں بھی دنگ رہ جاتی ہے…
    پوچھا میرے قاتل کو ڈھونڈو کون ہے ؟
    بتایا گیا پارسی غلام ہے تو بولے:
    شکر ہے اللّٰه نے مجھے ایسے شخص کے ہاتھوں قتل نہیں کروایا جو خود کو مسلمان کہتا ہو…
    جب کہا گیا…
    عمر رضی اللّٰہ عنہ!
    آپ تو بہت لوگوں سے پہلے اسلام میں آئے…حاکم بنے،عدل کیا اور پھر شہادت کا رتبہ…!!!
    حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جواب دیا حکومت کی نسبت تو میری خواہش ہے کہ برابر برابر چھوٹ جاؤں کوئی وبال نہ پڑے…
    اپنے بیٹے عبداللہ کو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی خدمت میں بھیج کر حجرۂ نبیﷺ میں دفن ہونے کی اجازت چاہی…
    لوگوں نے کہا امیر المومنین خلیفہ کون ہو گا…
    فرمایا:
    خلافت کا حقدار ان لوگوں سے زیادہ کوئی نہیں جن سے رسول اللہ صلی اللّٰــــہ علیہ وسلم مرتے دم تک راضی رہے پھر فرمایا…:
    عبداللہ بن عمر تمہارے ساتھ مشورے میں شریک ہو گا…مگر خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں…!!!
    آہ وہ کوئی موروثی سیاست نہ تھی کہ ہر اہل،نا اہل نوازا جاتا…!!!
    جس کا موٹو تھا کہ میرے لیے ایک جوڑا گرمی کے لیے اور ایک جاڑے کے لیے اور قریش کے ایک اوسط آدمی کے برابر معاش اپنے گھر والوں کے لیے کہ میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں…!!!
    عمر تیرے بے لاگ عدل کو میرا سلام کہ جب انسان تو رہے ایک طرف…جانوروں پر ظلم کرنے والوں سے بھی باز پرس ہوتی تھی…!
    عیسائی مؤرخ نے یونہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ اگر ایک عمر اور ہوتا تو اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب نہ پنپ سکتا…!!!
    الٰہی آج کے حکمرانوں کو بھی نقشِ عمر پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین…!!!
    (رضی اللہ عنہ)

  • عظیم ریاست پاکستان کا قیام اور مسائل تحریر: تحریر رانا احسان اللہ

    عظیم ریاست پاکستان کا قیام اور مسائل تحریر: تحریر رانا احسان اللہ

    آخر فروری 1947 لارڈ ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو وائسرائے مقرر کیا گیا تاکہ برصغیر میں الجھے ہوئے آئینی مسائل کو ترامیم کر کے نئے انداز میں سلجھایا جائے، نئے وائسرائے کے کانگریسی لیڈروں سے دیرینہ تعلقات اور اس کے جزبہ خود پرستی سے ہندوؤں نے بہت فوائد حاصل کیے

    اسی لیے شروع ہی سے ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے مسلم دشمنی کا اظہار ہونے لگا تاہم مسلمانوں کے آہنی عظم کے پیش نظر اسے یقین ہو گیا کہ ملک کی تقسیم کے بغیر چارہ نہیں، 3 جون کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے منصوبے کا اعلان کیا جس کی رو سے برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک حد بندی کمیشن مقرر کیا گیا جس نے پنجاب و بنگال کے صوبوں کو ہندو اور مسلم اکثریت کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

    آخر کار قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک کوششوں کی وجہ سے 13 اور 14 اگست 1947 درمیانی رات وہ مبارک گھڑی آن پہنچی جب مسلمان قوم کی صبر آزما سیاسی جد وجہد کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور دنیا کے نقشے پر عظیم مسلم مملکت (پاکستان) نمودار ہوئی، مغربی پاکستان میں مغربی پنجاب، سندھ،سرحد اور بلوچستان کے صوبے شامل تھے اور مشرق بنگال اور سلہٹ کے علاقے شامل کیے گئے قائد اعظم محمد علی جناح اس مملکت کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔

    جب پاکستان وجود میں آیا تو اسے بےشمار مسائل کا سامنا تھا، دفاتر کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا، ہلکی سی معیشت کی حالت تباہ ہو چکی تھی، ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بند تھی تاہم قوم کے پختہ عزم نے ان تمام مشکلات پر قابو پا لیا اس دور کے اور بھی بہت سے بڑے بڑے مسائل سامنے آئے۔

    تقسیم برصغیر کے ساتھ ہی مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا، مسلمان مہاجرین کے لٹے ہوئے قافلے بڑی بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان میں داخل ہوئے، تین ماہ کے اندر 55 لاکھ کے قریب مہاجرین مغربی پنجاب میں داخل ہوئے ان لوگوں کی آبادکاری اور ان کے لیے ابتدائی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ تھا، تاہم مقامی مسلمانوں کے ایثار و تعاون سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہندوؤں کی متروکہ جائیدادیں مہاجرین کو دے دی گئیں اور زراعت پیشہ لوگوں کو زرخیز نہری زمینوں پر آباد کیا گیا۔

    کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی برصغیر کی تقسیم جس اصول پر ہوئی تھی اس کی رو سے کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندو لیڈروں نے اک سازش کے تحت حد بندی کمیشن کے ذریعے گورداسپور کا علاقہ بھارت میں شامل کرا دیا، حالانکہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مقصد یہ تھا کہ اس علاقے کے ذریعے بھارت کی سرحد کشمیر سے ملا دی جائے۔

    انڈیا نے اس صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اکتوبر 1947 میں اپنی افواج کشمیر میں اتار دیں، انڈیا کی اس جارحیت کے سامنے پاکستان خاموشی تماشائی نہیں بن سکتا تھا چنانچہ رہاست پاکستان نے بھی اپنی افواج کا کچھ حصہ آزاد کشمیر داخل کر دیا بھارت نے معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کر دیا چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو گئی اور طے پایا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ استصواب کے ذریعے کریں گے بھارت نے اس وقت تو یہ فیصلہ تسلیم کر لیا مگر وہ آج تک استصواب کو ٹالتا رہا ہے اور یہ مسئلہ پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

    ‎@Rana241_7

  • ‏سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں  تحریر: صالح ساحل

    ‏سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں تحریر: صالح ساحل

    اللہ تعالیٰ نے بہت سے رشتے انسان کے ساتھ خود بنا کر بھیجے ہیں مگر ایک رشتہ ہے جس کا اختیار انسان کو دیا ہے کے وہ خود بنائیں یہ خوب صورت رشتہ میاں اور بیوی کا رشتہ ہے اور اس کا مکمل اختیار لڑکے اور لڑکی کو دیا ہے کے تمہاری اجازت کے بغیر کوئ زبردستی نہیں ہو گی نہ صرف اسلام بلکہ کے دنیا بھی جبری شادی کو ایک اخلاقی برائ سمجھتی ہے اور اس کے خلاف قانون سازی کر رہی ہے لیکن آج میں جس نقطے کی طرف توجہ مرکوز کروانا چاہتا ہوں وہ ہے ہمارا روایہ اس معاملے میں یوں تو ہم بہت اسلام کے علم بردار بنتے ہیں مگر کیاہم نے کبھی غور کیا کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹی کو یہ کہہ دیا جاتا ہے کے تمہارا رشتہ کر دیا گیا ہے اور ایک مطلق حکم کی طرح صادر کر کے اس کی تکمیل کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے ہم کو اس کی پسند نا پسند سے کوئ غرض نہیں ہوتا اس کے خوابوں کو ایک پل میں آسمان سے گرا کر زمین کی سات تہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے لڑکے کا کردار کیا ہے وہ کیا کرتا ہے اس کی نیچر کیا ہے ہمارے لیے معنی نہیں رکھتا ہم صرف اپنی جھوٹی آنا کی جیت کے شامیانے بجا رہے ہوتے ہیں ہم اس اخلاقی گراوٹ کو اپنی عزت کی جیت قرار دے کر فخر کر رہے ہوتے ہیں اور وہ گھر کے ایک پہلو میں بیٹھی بیٹی جس کو اتنا حق بھی نہیں کے وہ اس بندھن کے لیے تیار بھی ہے کے نہیں صرف اپنی بدقسمتی پر ماتم کر رہی ہوتی انہیں فضولیات کی دلدل میں اگر کوئ ہمت کر کے اپنی پسند کا اظہار کر دے تو آوارہ اور بد کردار بن جاتی ہے اور کہیں تو یہ گرواٹ اس قدر رو باعمل ہے کے بچپن ہی سے بتا دیا جاتا ہے کے فلاح شخص تمہارا ہمسفر ہو گا اور خبردار اگر اس پنجرے سے باہر تم نے خواب دیکھے تو تمہارا اس دنیا میں آنا ہی تمہارے لیے بہت ہے باقی تمہاری خوشیوں اور تمہاری زندگی کے فیصلے ہم کریں گے اس لیے زیادہ تر اپنی پسند اپنے والدین اپنے خاندان کی عزت کے ڈر سے قربان کر دیتی ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کے اسلام سے قبل تو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر ہم کیا کر رہے ہیں ہم ان کی خوشیاں ان کے خواب ان کی پسند کو دفن کر کے اس پر اپنی جھوٹی عزت کے محل تعمیر کر رہے ہیں ارے ایسی عزت کا کیا فایدہ جس کے لیے اپنی بیٹیوں کی قربانی دے دی جائے گھر کے آنگن سے وہ بیٹی جس کو بڑے ناز سے پالا ہوتا ہے سرخ جوڑے میں لپیٹ کر ایک لاش کر طرح رخصت کر دی جاتی ہیں ہم سمجھتے ہیں ہم جیت گے مگر ہم ہار چکے ہوتے ہیں ہم نے ایک معصوم کی خوشیوں کے قاتل ہوتے ہیں اور کائنات کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے وہ رب جس نے زبردستی کا حق تو اپنے آپ کو منوانے کے لیے نہیں دیا وہ کیسے تمہارے اس جرم کو معاف کرے گا جہاں اس نے اختیار دیا ہے لڑکی کو ہم نہ صرف رب کے دییے گے اس اختیار کو سلب کرتے ہیں بلکہ کے اپنی عزت کی اس عمارت کے چکر میں معصوم زندگیاں برباد کر دیتے ہیں آج جس معاشرے کے ڈر سے ہم نے یہ سب کچھ کیا ہوتا ہے کل رشتوں کی ناکامی پر یہی معاشرہ ایک پل میں آپ کی بیٹی کو قصوروار اور بدکردار تک کا سرٹیفیکیٹ دے چکا ہوتا یہ خاندان یہ معاشرہ اسی طرح اپنی زندگی میں معروف عمل ہو جاتا ہے اور زندگی تباہ ایک لڑکی کی ہو جاتی ہے ہر روز اسی معاشرے کے ڈر سے اور اپنی جھوٹی عزت و آنا کی خاطر ہم سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں رخصت کر رہے ہوتے ہیں میں اپنی مخاطبین سے ایک سوال رکھ کر اجازت چاہوں گا کہ اگر زبردستی کی شادی نا جائز ہیں تو عزت اور رشتوں کے نام پر بلیک میل کر کے گی شادی جائز ہے کیا اور زبردستی کی شادی رب کے ہاں جرم ہے تو بلیک میلنگ سے کی گی شادی جرم نہیں ہو گی کیا ؟؟
    ‎@painandsmile334

  • بھولنا ۔ بھول جائیے   تحریر  : راجہ ارشد

    بھولنا ۔ بھول جائیے تحریر : راجہ ارشد

    بھولنے کی عادت ان دنوں بہت سے لوگوں کا مسلہ ہے۔لوگ اپنی اس عادت سے اکثر پریشان دیکھائی دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کی یادداشت عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگتی ہے اور وہ باتیں بھولنے لگتے ہیں۔جو کہ کوئی خطرے کی بات نہیں بلکہ ماہرین تو اسے اعصابی صحت کے لیے مفید مانتے ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق آپ ایک کام کو بھول کر دوسرے کی جانب رجوع کرتے ہیں تو یہ آپ میں نئے کام کو سیکھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ کہ بھول جانا نئے کام سیکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ بھول جانے کی عادت آج کی تیز رفتار دنیا میں نئی مہارت اور علم سیکھنے میں بے حد کار آمد ثابت ہو سکتی ہے اور اسے ایک نارمل عمل سمجھنا چاہیے البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر یہ مسئلہ مستقل رہے یا انسان بہت ساری باتیں بھول جائے تو یہ خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    اعصابی ماہرین اور معالج کے مطابق بھولنے کی مندرجہ ذیل سات اقسام یاداشت کے مسائل نارمل تصور کیے جاتے ہیں۔1۔کچھ وقت کے بعد واقعات اور حقائق بھول جانا عموما جو باتیں کافی عرصے تک نہیں دہرائی جاتیں انہیں انسان بھولنے لگتا ہے ذہن کی یہ سرگرمی استعمال نہ ہونے والی یاد کو بھلانے میں مدد کرتی ہے۔جس سے ذہن کونئی یادیں اسٹور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    2۔کوئی بات غور سے نہ سنی جائے تو وہ بھی کچھ دیر بعد ذہن سے نکل جاتی ہے مثال کے طور پر آپ اپنا قلم رکھ کر بھول جاتے ہیں کیونکہ جس وقت آپ اپنا قلم رکھ رہے تھے آپ کا دھیان کہیں اور تھا۔

    3۔ کبھی کبھی کوئی آپ سے سوال کرتا ہے جس کا جواب آپ کو پتا ہوتا ہے۔لیکن اس وقت اچانک ذہن سے نکل جاتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ آپ نے اس بات پر توجہ نہیں دی تھی بلکہ کوئی اور چیز آپ کو وہ بات یاد کرنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔

    4۔ اگر کوئی آپ سے کسی شخص کے بارئے پوچھے کہ وہ کون ہے۔اور آپ صحیح بتا دیں مگر یہ غلط بتائیں کہ اس بارئے میں آپ نے کہاں سنا تھا بات یاد رہنا اور ذرائع بھول جانا بھی ایک عام طرز کی کی یادداشت کی کمزوری ہے۔

    5۔بعض اوقات انسان اپنے ذہن میں ایک فرضی خاکہ تیار کر لیتا ہے۔اور اسے سچ ماننے لگتا ہے۔جیسے کہ اگر کوئی ہمیں ہمارے بچپن کے بارئے میں کچھ نتائے تو ہمارا دماغ اس بات کو سچ مانتے ہوئے ایسے ہی فرضی واقعے کی یاد ذہن میں بنا لیتا ہے۔

    6۔ اکثر اوقات ہم وہ ہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے اسی طرح یاد بھی کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے ذاتی تعصبات ہوتے ہیں جو ہماری سوچ پر ھاوی ہو جاتے ہیں۔

    7۔ کبھی ہم کوئی واقع یا حقیقت شدت سے بھولنا چاہیے لیکن بھول نہیں پاتے۔ یادداشت کا یہ مسلہ بھی عام نوعیت کا ہے جو کم و بیش سب کے ساتھ ہی پیش آتا ہے۔

    @RajaArshad56

  • وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    ‎ اسلامی جہموریہ پاکستان کے 21 وزرا اعظم تقریباً گزشتہ سات دہائیوں سے گزرے لیکن آج تک کسی بھی وزیر اعظم نے ریاست مدینہ جیسے طرز کی ریاست بنانے کی بات نہیں کی اور نہ اپنی تقاریر اور انٹرویو میں کبھی اس بات کی خواہش ظاہر کی پاکستان میں گزشتہ کہی دہائیوں سے دو پارٹی سسٹم رائج تھااس سسٹم کو توڑا ایک تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف نے جس کے چئیر میں جناب عمران احمد نیازی ہیں جو ملک کے 22وزیر اعظم بنے اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم نے ایک خواب خود دیکھا اور پھر اپنی قوم کو وہ خواب دکھایا کہ ارض پاک پاکستان کو ہم مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے
    یہاں تک تو یہ ایک خواب تھا جو ملک کے وزیر اعظم نے اپنی قوم کو دیکھایا اب ہم بات کرتے ہیں اپنی قوم کی تو جناب پاکستانی قوم پورے اقوام عالم میں اپنی ایک الگ سوچ اور پہچان کے مالک ہیں ہمارے تاریخ میں آنے والوں کے حکمرانوں کے بارے میں اقوام عالم اور اس میں موجود تجزیہ کاروں اور میڈیا کے دماغ میں ایک مختلف سوچ پائی جاتی ہے بدقسمتی سے وہ سوچ ہمارے بارے میں اتنی اچھی نہیں ہے ہمارے ہی بارے میں ایک بیان ایک مغربی ملک کی ایک شخصیت نے دیا کہ پاکستانی پیسے کی خاطر اپنی ماں تک کو بیچ ڈالتے ہیں کسی نے ہمیں کرپٹ کسی نے غدار اور کسی نے ہمیں دہشت گرد کہا اور کہا کہ یہ لوگ پیسے یا زاتی مفادات کی خاطر بڑے سے بڑا جرم کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ملک کے حکمران نے دنیا کی اس سوچ کو غلط ثابت کرنے کی ٹھان لی اور ہمیں ریاست مدینہ کا خواب دیکھایا جس سے عوام الناس میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا لیکن ساتھ ساتھ ہم نے کردار کشی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جیسے ماضی میں ایک حکمران جماعت نے ہماری سابقہ وزیر اعظم بینظیر کی فیک اور جھوٹی فحش تصاویر ہیلی کاپٹر سے مختلف شہروں میں گرائی اور آج وہی پارٹی اور چند اور مفاد پرست چھوٹی پارٹیوں نے مزئیب کا استعمال کرتے ہوۓ ریاست مدینہ کے خواب دیکھانے والے وزیر اعظم کو یہودی ایجنٹ اور اسرائیل کا ایجنٹ کے جھوٹے الزامات سے نواز نا شروع کر دیا یاد رکھیں اس طرح کی سینکڑوں مثالیں آج بھی موجود ہیں حصول اقتدار کے لئے ہم کیا کچھ نہی کر جاتے زرا سوچیئے بدقسمتی سے ہم ایک قوم کم اور ہجوم زیادہ ہیں جس ملک میں ایک چپڑاسی سے لے کر ملک کے حکمرانوں تک سب کو رشوت کی لت لگی ہو پولیس۔ ڈاکٹر انصاف فراہم کرنے والے ہمارے ججز حضرات سب اپنی اپنی حثیت سے اس گنگا بھی ہاتھ دھو رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہہ کوئی دو سو پر راضی ہو جاتا تو کوئی دو ہزار اور کوئی دو لاکھ اور کوئی دو کروڈ ہر بندے کا رشوت کا اپنا ایک معیار ہے ہمارے سرکاری ملازمین کبھی وقت پر دفتر نہیں جاتے ہمارے اساتذہ جو اس قوم کے معمار ہیں انہوں نے کبھی اپنی زمہ داری پوری نہیں کی ہوگی ہمارے مسیحا ڈاکٹر بھی اس فرض سے بری زمہ ہیں ہمارے والدین نے بچوں کی کبھی ریاست مدینہ طرز کی پرورش نہیں کی ہمارے بچے سگریٹ نوشی شراب اور زنا قتل جیسے جرائم کو فخر سے سر انجام دیتے ہوۓ نظر آتے ہیں
    پیارے غیور پاکستانیوں پہلے ہجوم سے ایک قوم بننے کی راہ پر گامزن ہوں ہمارے حکمران نے آج وہ راستہ ہمیں دیکھا دیا ہے ریاست مدینہ کے راستے پر چلیں پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کا مقابلہ نہیں کر پاۓ گی جب آپ نے ریاست مدینہ کے راستے پر چلنا ہے تو وقتی مشکلات تو ضرور آئیں گی اسی لئے ہمارے وزیر اعظم بار ہا کہتے ہیں مشکلات سے گبھرانا نہیں آپ نے یقین مانیں ارض پاکستان کے واسیوں آپ ایک عظیم اور بہادر قوم ہیں اپنے آباؤ اجداد کی طرف ہی دیکھ لیں آپ کی رگہوں میں جن کا خون ہے انہوں نے کتنی مشکلوں اور قربانیوں سے یہ ارض پاکستان آپ کے لئے حاصل کیا پیارے دیس کے واسیوں ہمیں بس اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا جب ہم اپنی سوچ کو ریاست مدینہ کے ماڈل کی طرز پر بدل لیں گے تو پھر آپ کو ترقی کرنے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا
    آخر میں اللہ سبحانہ تعالی سے دعا ہے کہہ ہمیں صیح معنوں میں ریاست مدینہ والی طرز اور سوچ پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین
    اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہر وہ چیز جو انسان کی طلب سے بڑھ جاے اور اچھائی اور برائی کا فرق ختم کر ڈالے ہوس کہلاتی ہے. خواہ دولت کی ہو، شہرت کی ہو، عزت کی یا سٹیٹس کی.
    اللہ کریم نے خود بھی قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲)
    ترجمہ: زیادہ مال زخیرہ کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
    اس سے علم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص، اور فخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اُخروی سعادتوں سے محروم کو کر رہ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ الحدید کی آیت نمبر 20 میں ارشاد فرماتا ہے.
    ترجمۂ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کود، زینت اور آپس میں فخر اور غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر برتری چاہنا ہے ۔ دنیا کی زندگی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (جیسے بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللّٰہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا( بھی ہے ) اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کاسامان ہے۔
    اور قرآن کریم لیں ارشاد فرمایا
    ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ سورۃ منافقون کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا.
    ترجمۂ : اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
    اور پھر سورۃ التغابن کی آہت نمبر ۱۴-۱۶ میں ارشاد فرمایا

    ترجمۂ : اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کر دو اور بخش دو تو بیشک اللّٰہ بڑا بخشنے والا، بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک (تمہارے لیے) آزمائش ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللّٰہ سے ڈرو اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچا لیا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔
    احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو مزید واضح کر دیا گیا.
    حضرت مُطْرَف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت آپ سورہ التَّكَاثُرُ‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابنِ آدم کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال،اے ابنِ آدم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
    ایک اور روایت جو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں ایک جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔دوسری جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔تیسری جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے

    مزید حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔
    مزید حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، سرکارِ دو عالَم محمدمصطفیٰ رہبردوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے، خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے اس بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں مبتلا ہو جاؤ گے

    ایک روایت حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔
    ان ارشادات و فرامین سے بھرپور آگہی ملتی ہے کہ اپنی طلب کو کنٹرول کرنا کتنا ضروری ہے۔
    نفس اور شیطان کے خلاف علم جہاد بلند کیجئیے۔ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھئے. ہوس سے بچییے اور اللاہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حتی الامکان کوشش کریں کی شیطان کی چالوں سے اپنے نفس کی حفاظت کی جاے اور اپنی طلب کو طلب کے درجے سے بڑھنے سے بچایا جائے
    تا کہ جب رب العالمین کی رحمت اپنے بندے کو پکارے تو بندے کو اس کی پکار سنائی دے۔ جب رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی صدا بلند ہو تو بندے کا نفس اسے سن کر اپنا قبلہ درست کر سکے۔ اپنے آپ کو رحمان کے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رکھنے اور اپنے اندر کے منصف کو زندہ رکھنے کے لیے
    نفس کے خلاف جہاد اتنا ہی ضروری ہے جتنا شیطان کے خلاف ضروری ہے۔ یاد رکھیں جس طرح شیطان سے جہاد، رحمن کا راستہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح نفس سے جہاد، رحمن کے راستے پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے محفوظ رہیں ہر طلب کو ہوس میں بدلنے سے۔ فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • میرا وطن میری پہچان اسلامی جمہوریہ پاکستان۔  تحریر  : راجہ حشام صادق

    میرا وطن میری پہچان اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    دنیا کے نقشے پہ 14اگست 1947 کو مانند آفتاب جو طلوع ہوا
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    اسلام کے نام پے حاصل کی گئ سر زمین وطن کو اللہ تعالٰی نے ہر قسم کی رعنایات بخشی۔

    اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان 881913 مربع کلو میٹر کے ساتھ دنیا کا تیتیسوا بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان پانچویں نمبر پر آتا ہے ۔
    وطن عزیز کے مشرق میں بھارت جیسا بزدل دشمن دیس ہے شمال میں چین جو اپنی مثال آپ ہے پاک چین دوستی کے چرچے ہر زبان عام ہیں۔مغرب میں دوست ملک افغانستان ہے اور جنوب کی طرف ساحلی پٹی ہے جو اسے بحیرہ عرب سے ملا دیتی ہے ۔
    میرے وطن کو اللہ تعالی نے ہر قسم کے موسم سے نوازا جس میں آپکو گرمی ،سردی ،خزاں اور بہار کا موسم ملتا ہے۔ یہاں لاتعداد قدرتی مناظر انسانی آنکھوں کو سرور بخشتے ہیں ۔

    وطن عزیز کا درالخلافہ ہونے کا اعزاز اسلام آباد کو حاصل ہے تو وہی شہر قائد کراچی کو روشنیوں کا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔اس کے بعد بڑا شہر آتا ہے لاہور۔

    لاہور جسے زندہ دل لوگوں کا شہر کہا جاتا ہے۔یہاں ایک طرف عظیم تاریخی مقامات انسان کو ماضی میں دھکیلتے ہیں اور دوسری طرف لزیز کھانے آپ کو کہیں اور جانے نہی دیتے ۔

    پاکستان کی جھیلیوں کا شمار دنیا کی خوبصورت ترین جھیلیوں میں پایا جاتا ہے۔ وہی شمالی علاقہ جات کا حسن دیکھنے لائق ہے۔ شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،ناران کاغان،خیبر پختنخوا شامل ہیں ۔ یہاں قدرت کے بے شمار نظاروں کے ساتھ ساتھ مختلف عمارتیں قلعے،جنگلات ،شاہرائیں اور وادیاں بھی قابل ستائش ہیں سکردو میں پایا جانے والہ ٹھنڈا صحرا دیو سائ قدرت کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بلوچستان کے پہاڑی سلسلے زیارت کوئٹہ اور گوادر کی خوبصورتی کی کوئی مثال نہی ملتی۔
    بہاولپور کا صحرا چولستان اور ڈیرہ غازی خان کا فورٹ سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

    پاکستان میں صوبہ پنجاب ،پانچ دریاؤں کی سرزمین ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب ۔اس میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں جن میں سے دارالخلافہ اسلام آباد کے ساتھ لگنے والا شہر مری کو خاص مقام حاصل ہے۔ جنوبی پنجاب میں ملتان کو سر زمین اولیا ء کا درجہ حاصل ہے ۔ملتان میں مشہور سوغات ملتانی سون حلواہ ہے ۔یہاں کے آم بھی بہت مشہور ہیں۔

    تاریخی اور سیاحتی لحاظ سے شہر لاہور کو خاص مقام حاصل ہے جو قدیم ثقافتی ورثہ سیاحت اور تفریح کے حوالے سے ہر وہ کشش اپنے اندر رکھتا ہے جو ہر سیاح کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے ۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر رنگ و نسل ،اور مزہب کے لوگ پائے جاتے ہیں جو پاکستان کو دلکش رنگوں کا مجموعہ ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان محبتیں بانٹنے والا ملک ہے ۔کرتار پور راہداری معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کرتا ہے ۔گوکہ بہت سی اندرونی و بیرونی طاقتیں پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں لیکن پاکستان کی بہادر افواج حکومت اور عوام کی مشترکہ کوشش سے پاکستان میں کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے ۔

    ہمیں وطن عزیز کے لیے مزید محنت ہمت عزم اور لگن کی ضروت ہے تاکہ ہمارا یہ ملک پاکستان ترقی پزیر ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکے۔
    اس کے لیے ہم سب کو باہم اختلاف بھلا کر قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔ اور عزم و ہمت کیساتھ کام کرنا ہوگا۔ تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

    اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham