Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیر یا غریب ہونا نا تو عزت کا باعث ہے نا ہی ذلت کا ۔۔
    غربت کی سب سے بڑی وجہ روزگاری ہے اسلام آباد: مالی سال 21-2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ اس کی زمے داری نا تو آنے والی حکومت قبول کرتی ہے نا ہی جانے والی ۔۔ ہمارے ملک پاکستان میں امیر اور امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب اور غربت میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے نا جانے کیسے کیسے کر کے ماں باپ بچوں کی تعلیم مکمل کرواتے ہیں ان کے بہتر مستقبل کے لیے۔۔ اس پر تعلیم کا حال ایسا ہے نا تو ٹیچرز اس قابل ہیں جو بہتر تعلیم دے سکیں غریب انسان گورنمنٹ اسکول میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے وہ بھی مشکل سے۔۔
    اس پر ستم یہ ہے 90 فیصد گورنمنٹ اسکول میں سیاسی بھرتی ہوتی ہے کچھ گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں تو کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔۔
    باقی جو بچتے ہیں وہ کیسے تمام مضامین پڑھا سکتے ہیں۔۔ صاحب حیثیت حضرت پرائیویٹ اسکول افورٹ کر لیتے ہیں اور کچھ تو بیرونے ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتےہیں۔۔ کیا غریب کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیا اس کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔۔
    جب اس کو بنیادی حقوق نہیں مل سکتے تو پھر کیوں ان سے ووٹ کی بھیک مانگ کر یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔۔ غریب انسان ہر بار دھوکا کھاتا ہے یہ سوچ کر اب کچھ اچھا ہوگا اب اس کے بچوں کا بہتر مستقبل ہوگا مگر کچھ مہینوں میں پتہ چلتا ہے ملک کی حالت خطرے میں ہے۔۔ پھر وہ بیچارہ اپنے ملک کے لیے دعا کرنے لگ جاتا ہے۔۔ آخر یہ سب کب تک چلے گا کیوں ہر بار اس کو امید کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔۔ اس سے بہتر ہے ایک بار ہی سچ بول کر قصہ ختم کر دیا جائے تا کے وہ اپنی زندگی میں ایسی خواہش تو نا کرئے جو وہ پوری نا ہو سکے۔۔ڈگریاں ملنے پر بھی درد درد کی ڈھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریاں وہ ہی بچے حاصل کرتے ہیں جو اپنے اور ماں باپ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔۔ ڈگریاں لے کر بھی ٹھیلا یا رکشہ یا بیکری یا فورٹ پانڈا یا شاپنگ مال پر ہی کام کرنا ہے تو پھر ماں باپ کو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دیلوانے کا کیا فائدہ۔۔اور اگر کیسی کے بیٹا نا ہو وہ تو بیچارہ ساری زندگی یہ ہی سوچ سوچ کے موت کے منہ میں چلا جائے گا اگر کل کو اس کو کچھ ہو گیا تو اس کی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔۔ میرا یہ کہنے کا بھی ہرگز مطلب نہیں ہے کے نعوذباللہ اللہ ان کو چھوڑ دے گا۔ مگر میں ایک باپ ہونے کی حیثیت سے بول رہا ہوں۔۔ واللہ میں خود اللہ سے اپنے لیے اتنی زندگی کی گزارش کرتا ہوں یا رب مجھے اتنی زندگی دینا میں تیرے فضل وکرم کے ساتھ اپنی سب بیٹوں کو عزت سے رخصت کر سکوں۔۔

    غریب شہر تو فاقے سے مر گیا صاحب۔
    امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی۔

    غریب ہونا گناہ نہیں ہے پر اب لگتا ہے غربت ہی گناہ ہوتی جا رہی ہے۔۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔۔
    @MSA_47

  • استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین

    استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین


    آج کل کے شاگرد اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہی نہیں بلکہ استاد کی ہمیشہ تذلیل کرتے ہیں ایسے بہت سے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے گزرے ہیں جہاں شاگرد اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں
    استاد روحانی ماں باپ کا درجہ رکھتا ہے جہاں ماں باپ بچے کی تربیت کرتے ہیں وہی استاد اسے تعلیم سے آراستہ کرکے ایک مضبوط انسان بتاتا ہے استاد ہمیشہ استاد ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کے کسی شعبے سے منسلک ہو آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی استاد کا واقع بتاتے ہیں جس نے ایک شاگرد کو ہنر سکھایا اور وہی شاگرد استاد کے مقابلے میں ہو گیا
    ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺩﺍﺅ ﭘﯿﭻ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺍﻧﺴﭩﮫ ﺩﺍﺅ ﺳﮑﮭﺎ ﺩیئے ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ۔

    ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺯﻋﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻓﻮﻗﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣَﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔

    ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩَﻧﮕﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﮨﺎﻧﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻋُﮩﺪﮮ ﺩﺍﺭ، ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺖ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩَﻧﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻗﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺍﺅ ﮐﺎ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﺩﺍﺅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﭩﺦ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ

    ﺍﺱ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﮩﻠﯽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﻟﺖ، ﺷﮩﺮﺕ، ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻡ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮑﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ بنتا ﮨﮯ۔ ﺍﺱ لئے ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
    ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﮮ ہرگز نہ کرے نہیں ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷُﻌﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻣُﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ
    کچھ دن قبل ہمارے علاقے کے نامور پہلوان کلیم اللہ بچار جو ملکی و غیر ملکی کشتیوں میں اپنا مقام رکھتے تھے جنہوں بڑے بڑے نامور پہلوانوں کو دھول چٹا دی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے کلیم اللہ بچار ضلع مظفرگڑھ کے نامور پہلوان تھے حکومت کی سرپرستی نا ہونے کی وجہ سے سوائے کرکٹ کے باقی کوئی کھیل نہیں بچا !
    کلیم اللہ بچار خوش مزاج ، ماں باپ اور اساتذہ کی عزت کرنے والے انسان تھے میری دعا ہے کہ :
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‎@SabirHussain43

  • انصاف اور وطن عزیز پاکستان  تحریر :عدنان یوسفزئی

    انصاف اور وطن عزیز پاکستان تحریر :عدنان یوسفزئی

    یہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا زمانہ ہے۔ ایک عورت ایک بچے کو اپنے گود میں لئے آتی ہے۔ وە عورت خلیفہ دوم سے یہ شکایت لگاتی ہے کہ یہ بچہ آپ کے بیٹے کی امانت ہے۔ فورا فرمان جاری ہوتا ہے کہ میرے بیٹے کو حاضر کیا جائے ۔

    اب دنیا یہ تماشا دیکھتی ہے کہ بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے خلیفہ عمر فاروق رضی الله عنہ اپنے  بیٹے پر حد قائم کررہاہے۔

    اب خلیفہ کے سامنے اسکے اپنے بیٹے پر کوڑے برس رہے ہیں۔جس وقت  جب کوڑے پورے ہونے لگتے ہیں، اس دوران خلیفہ کا بیٹا نزع کی حالت میں چلا جاتا ہے ۔اس وقت خلیفہ دوڑ کر اپنے بیٹے کو گود میں لیتا ہے۔

    وہ اپنے بیٹے سے کہتا ہے کہ اے میرے بیٹے، جب تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے پہنچ جاؤ تو حضور صلی الله علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ اے اللہ کے رسول! عمر رضہ الله عنہ نے انصاف قائم کرنے میں اپنے بیٹے کو بھی معاف نہیں کیا۔
    جس معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے  ،وہاں پر حقدار کو ان کا حق ملتا ہے۔

    جس معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے، وہاں پر کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا ۔ظالم کو اپنے ظلم کے انجام کا پتہ ہوتا ہے -انصاف ہی تو ہے جس کے نفاذ سے ہم مثالی امن دیکھ سکتے ہے۔

    انصاف اگر ہوگا تو وہاں پر مظلوم اپنے آپ کو بے آسرا  نہیں تصور کرے گا۔

    اسلام میں انصاف کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہےکہ میری امت اسی وقت تک سر سبز رہے گی جت تک یہ تین خصلتیں اس میں باقی رہیں گی۔ایک یہ کہ جب وہ بات کرے تو سچ بولیں

    دوسرے یہ کہ جب وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں تو انصاف کو
    ہاتھ سے نہ جانے دیں۔تیسرے یہ کہ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ کمزوروں پر رحم کریں۔اسلامی معاشرے میں جب اسلام کے انصاف پر مبنی  قوانین نافذ ہوتےہیں، وہاں پر قاضی کے سامنے ایک خلیفہ اور ایک مشرک دونوں ایک  جیسے انداز میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

    وہاں پر قاضی اس مشرک کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور قول ہے کہ ایک سلطنت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

    وطن عزیز پاکستان کو جو مسائل درپیش ہے، انکا اصل وجہ انصاف کی فقدان ہے۔پاکستان میں آمیر اور غریب کے لیے انصاف کے الگ الگ پیمانے ہیں۔ایک آمیر کو پاکستان کے لوگوں کی اربوں روپوں کے چرانے اور باہر ملک بھیجوانے پر زیادہ سے زیادہ یہ سزا دی جاتی ہے کہ اسکو ایک عہدے سے فارغ کرکے دوسرے عہدے پر لگایا جاتا ہے۔جبکہ ایک غریب کو غلطی سے بتی تھوڑنے پر بھی  بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔
    اب ہمارے ہاں ایسے جرائم منظرعام پر آرہے ہیں جن کی بابت چند عشرے قبل تک سوچنا بھی محال تھا۔ اس سے زیادہ پستی اور گھناؤنی حرکت کیا ہوگی کہ باپ اپنے ساتھیوں کو معصوم بیٹی پر ظلم کرنے کی دعوت دیتا پایا گیا۔ تعجب خیز امر یہ کہ گھناؤنے جرائم میں ملوث مجرم ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے اور بے حس دکھائی دیتے ہیں۔

    کمزور قانونی نظام نے ان سے غلط اور درست، خیر اور شر کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی کو فوری انصاف کیونکر مہیا کیا جائے؟ انصاف نہ ملنے سے پاکستانی معاشرے میں انتشار اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا قانونی نظام مضبوط و مستحکم بنانا اشد ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو فوری انصاف مل سکے۔ فی الوقت تو پاکستان میں دوہرا قانونی نظام مروج ہے۔

    طاقتور، دولت مند اور بااثر پاکستانی جرم کرکے بھی رہا ہوجاتا ہے جبکہ غریب پاکستانی جرم نہ کرنے پر بھی جیل کی ہوا کھانے پر مجبور ہے۔ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔

    آخر میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب تک پاکستان میں انصاف کی واقعی عملداری نہیں ہوتی، تب تک ملک بدامنی اور شر وفساد کا شکار ہوتا رہے گا -اسلئے ارباب اقتدار کو چاہیے کہ انصاف کی عملداری کو قائم کیا جائے ۔حقدار کو انکا حق ملے اور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے نجات دی جائے۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم تعلیمی تجربات کی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو طلباء کو متنوع نقطہ نظر کی تعریف کرنے ، بالترتیب وسیع دنیا سے ان کے رابطوں کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے اور ثقافتوں اور ممالک میں تعاون کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اور انضباطی اور بین الضابطہ علم کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان مسائل کی تحقیقات اور کارروائی کی جاسکے۔ ان کے لیے اور وسیع دنیا کے لیے۔ عالمی تعلیم ایک "اضافی” یا "اچھا ہونا” کورس نہیں ہونا چاہیے جسے صرف مٹھی بھر طلباء ہی لے سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے اسکول کے آخری چند ہفتوں میں کسی تفریحی منصوبے سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ کیوں؟ عالمی مسائل اور نقطہ نظر کو کسی بھی اور تمام مواد کے شعبوں کو سکھانے کے لیے بطور لینس آسانی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ، عالمی تعلیم مندرجہ ذیل جامع طالب علموں کے نتائج کا باعث بن سکتی ہے جو تعلیمی کامیابی اور مجموعی طور پر فلاح کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب طلبہ مستند کاموں اور حقیقی دنیا کے تجربات کے ذریعے مواد سیکھتے ہیں تو ان کے مشغول ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں زیادہ حاضری اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عالمی تعلیم طلباء کو حقیقی دنیا کے مسائل اور سرگرمیوں سے براہ راست مشغول کرتی ہے۔ طالب علموں کو میکسیکو میں ساتھیوں کے ساتھ اسکائپ کرنے کے مقابلے میں ہسپانوی زبان پر آمادہ کرنے کا کیا بہتر طریقہ ہے ، یا انہیں عالمی موجودہ واقعات پر براہ راست سرخیوں سے کھینچ کر مباحثہ پر مبنی مضمون لکھنے کی مہارت سکھائیں۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ، 40 ملین سے زیادہ امریکی ملازمتیں بین الاقوامی تجارت سے منسلک ہیں۔ آج کل آجر اعلی ثقافتی مہارتوں کے حامل اعلی گریجویٹس کے لیے بے چین ہیں جو انہیں متنوع ٹیموں اور پوری دنیا کے گاہکوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ طلباء کو وسیع دنیا اور اس میں لوگوں ، ثقافتوں اور نقطہء نظر کے تنوع کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ، اسکول طلباء کو بازار میں مسابقتیہ برتری بھی دے رہے ہیں۔
    دنیا سے اور اس کے ساتھ سیکھنا نہ صرف طلباء کی تعلیمی ترقی کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ ان کی سماجی جذباتی نشوونما میں بھی معاون ہوتا ہے۔ عالمی تعلیم کسی کی اپنی شناخت ، ثقافت ، عقائد اور وسیع تر دنیا کے ساتھ کس طرح جڑتی ہے ، سماجی ہمدردی بشمول ہمدردی ، نقطہ نظر لینے ، تنوع کی تعریف کرنے ، اور دوسروں کا احترام کرنے ، اور مختلف افراد اور گروہوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی مہارت کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مؤثر مواصلات اور تعاون کے ذریعے
    گلوبل لرننگ طلباء کو قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے بامقصد کارروائی کریں۔ جب طلبہ کو ان مسائل کی چھان بین کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں (چاہے وہ بندوق کا تشدد ہو ، صاف پانی تک رسائی ہو ، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو) ، ان مسائل کو کیوں کھولیں ، اور ان کو بہتر بنانے کے لیے حل نکالیں ، وہ بااختیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ متعدد اساتذہ اور اسکول کے منتظمین عالمی تعلیمی اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں ، میں نے تصدیق کے ساتھ کام کیا ہے ، ایک بار جب آپ طلباء کے لیے ایکشن لینے کے دروازے کھولیں گے تو آپ فنڈ ریزرز ، مہمات ، پراجیکٹس ، پروگراموں اور احتجاج پر حیران رہ جائیں گے۔ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔
    @aliaqib7301

  • سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ  تحریر:خدیجہ نقوی

    سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ تحریر:خدیجہ نقوی

    چند دنوں پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک ویڈیو ہر عام و خاص کی زباں پہ محو گفتگو تھی۔ جی ہاں میں لاھور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی وائرل ویڈیو کی ہی بات کر رہی ہوں۔
    اس ویڈیو نے اپنے ہر طبقہ فکر کو اپنے اندر سمو لیا تھا کچھ لوگ لڑکی لڑکے کہ محبت کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے تو وہیں ایک طبقہ ایسا تو جو اسلامی نقطئہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔ جب بات عورت کی آۓ اور اس طرح آۓ تو میرا جسم میری مرضی والی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام میں سے صرف اپنے مطلب کو justify کرتا حصہ اٹھایا اور اس عمل کی حمایت میں اس جواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ کہ اسلام میں لڑکی کو اسکی مرضی کا پورا اختیار دیا ھے۔
    بات رسد و طلب کے خط کی طرح اپنی اونچائی کو چھو کہ آہستہ آہستہ گرنے لگی اور لوگ اس واقعے کو بھولنے لگے۔اس کے کچھ عرصے بعد سننے میں آیا کہ دونوں کی شادی ہو گئ ھے۔اور چ
    پھر یہ خبر آئ کہ شادی نہیں ہوئ بات پکی ہو گئ ھے تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی ہو جاۓ گی جس سے ایک تسلی ہوئ کہ چلو آخر کو جو ہوا س ہوا مگر یہ ایک اچھا انجام ہو گا۔ایک دن ہونہی فیس بک سکرولنگ کے دوران ایک ویب چینل پہ لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کا انٹرویو نظروں سے گزرا کہ جسے دیکھ کہ میں سر پکڑ کہ رہ گئ کہ ایک لڑکی جو اپنی اپنے ماں باپ کی عزت کو پس پشت رکھ کہ سرعام شہریار کو پرپوز کرتی ھے اور وہ اس لئے کہ لوگوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں اور جس کا جواب شہریار بھی مثبت انداز میں دیتا دیکھائی دیتا ہے لیکن کچھ عرصے میں وہ لڑکا اپنے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوۓ فیملی پریشر میں رشتہ ختم کئے اگلی زندگی کی جانب رواں دواں ہوتا ھے۔
    یہاں سوال میرا ان لنڈے کے لبرلز سے ھے کہ کل تک جو محبت کے قصیدے پڑھتے تھکتے ہیں اب اس بے وفائی پہ کچھ تو شرم کر لیں۔
    سوشل میڈیا کی آزادی ڈراموں اور فلموں میں کالج یونیورسٹی کی عشق محبت کی لازوال داستانیں آپ کے بچوں کو یونیورسٹی میں آئنسٹائن یا نیوٹن نہیں بلکہ ہیر رانجھا۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کا پیروکار بنا رہی ھے۔
    حد تو اس وقت ہوتی ھے جب یونیورسٹی کے انتظامیہ اس پہ کوئ سخت ایکشن نہیں لیتی جب تک ان پہ معاشرتی دباؤ نہ آۓ۔۔۔ شہریار اور حدیقہ کے کیس میں بھی یہی ہوا ان سے پہلے اس یونیورسٹی میں دو طلبہ کہ طرف سے دو بار یہ ڈرامہ ہو چکا ھے مگر وہ ایکسپیل ہونے سے بس اس لے بچے کہ انکی ویڈیوز وائرل نہیں ہوئ۔ اور یونیورسٹی پہ کوئی معاشرتی اور اخلاقی دباؤ نہ تھا۔
    یہاں ایک سوال ان تعلیمی اداروں سے بھی ھے کہ مدرسے تو صرف درس و تدریس کا مسکن تھے تو کیوں آج انڈین گانوں پہ کالج یونیورسٹی کی فنکشنوں میں نوجوان اساتذہ کے سامنے تھرکتے پھرتے ہیں۔
    کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادراے مغربی ثکافت کی پرچھائ بن گۓ ہیں۔۔۔
    یہاں سوال اس باپ سے ھے کہ جس نے اچھا کمانے کے لیے دن رات ایک کردیا اولاد کو خود سے دور اور زندگی کے نازک ترین دور میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جہاں باپ کی نظر میں یہ تک نہ آیا کہ میرا بیٹا یا بیٹی کس سے بات کرتا ھے کس طرح کی بات کرتا ھے۔
    یہاں سوال ھے ایک ماں سے آج کی۔ماں جس کی زندگی میں گھر کے کام اور سوشل میڈیا رچ بس گیا ھے اپنا فارغ وقت اپنے پہ لگانے کی غرض سے یو ٹیوب فیس بک پہ وقت گزارنے والی خواتین اپنی بچیوں کی پرسنل زندگی میں اب کیوں دخل اندازی نہیں کرتی۔ بچوں کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ بلکہ آزادی تو یہ ھے کہ لڑکیاں جب کیپٹن مریم بن کے شہید ہوتی ھیں بے نظیر بن کے سیاست میں قدم رکھتی ہیں تو والدین کے ساتھ قوموں کا فخر بن جاتی ھیں۔

    Twitter ID ‎@KhadijaNaqvi01

  • جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    آئے روز اس دنیا میں نئی سے نئی ایجادات اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائے جانے کی اس دوڑ میں جہاں اِس اشرف المخلوقات نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بہت ساری کامیاب ایجادات کی ہیں۔ اُنہی ایجادات میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں تقریباً ہر ایک انسان کے استعمال میں رہنے والے سمارٹ سسٹم موبائل فونز بھی ہیں۔

    جیساکہ اِس سے پہلے بھی اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے منفی اور بُرے اثرات پر میرے تین کالمز شائع ہو چکے ہیں تو آج میں اپنی اِس تحریر کے زریعے اِن موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے اچھے اور مثبت اثرات بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر ہم اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے فوائد کو دیکھیں تو یہ اَن گنت ہیں جن کا شمار کیا جانا بھی بہت مشکل ہے، لیکن میں اپنے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک زیادہ سے زیادہ فوائد کا تفصیلاً ذکر کر سکوں۔

    ~ تیز ترین پیغام رسانی، ڈیجیٹل کتابت کا بہترین زریعہ اور قرآن و حدیث تک کا موبائل کے زریعے مطالعہ بھی ایک بڑی سہولیات میں سے ایک ہے۔

    اس موجودہ اکیسویں صدی میں اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی کے زریعے اب ہر کام آسان و سہل ہونے کے ساتھ ساتھ تیز ترین بھی ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے وقتوں میں ہمیں جہاں اپنے کسی جاننے والے کو اپنا ایک پیغام پہنچانے کیلئے کئی کئی ہفتوں اور مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا، اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز نے ہمارا یہ کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ اب اگر ہمیں پوری دنیا میں کہیں بھی کسی کو اپنا کوئی پیغام بھجوانا ہو یا پھر اُن سے بات کرنی ہو تو اِن موبائل فونز کے زریعے پلک جھپکتے ہی ہمارا پیغام اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ جاتا ہے۔

    پوری دنیا میں کہیں بھی اب آپ کا کسی سے بات کرنے کے لیے بس اُس کا رابطہ نمبر ہونا ضروری ہے جس کے زریعے سے آپ اُن سے کسی بھی وقت خواہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، آپ اپنا پیغام لکھ کر، اپنی آواز ریکارڈ کر کے یا پھر آپ براہ راست آپس میں بات کر کے بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اور پھر آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کے نام سے پکاری جانے والی لا تعداد ایپلیکیشنز بھی ایجاد ہو چکی ہیں، جنہیں ہم اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز میں انسٹال کرنے کے بعد اُن کے زریعے سے بھی ہم آپس میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو کال کے زریعے ہم آپس میں باتیں بھی کر سکتے ہیں۔ جو کہ ایک انتہاء درجے کی ترقی، سہولت اور فوائد میں سے ایک ہے۔

    اسی طرح پہلے ادوار میں اگر ہمیں اپنی کوئی من پسند کتاب پڑھنے کا جی چاہتا تھا تو اُسے ڈھونڈنے کے لیے کئی کئی دن صَرف کرنے پڑتے تھے، بعض اوقات تو ہفتے اور مہینے بھی لگ جایا کرتے تھے۔ لیکن جب سے یہ جدید سسٹم موبائل فونز عام ہوئے ہیں تب سے آپ کو صرف انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے زریعے سے آپ کسی بھی مصنف کی کوئی بھی کتاب چند منٹوں میں انٹرنیٹ کے زریعے ڈھونڈ کر ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور اسے اپنے موبائل پہ ہی پڑھ بھی سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ پھر آپ اخبارات، رسائل، تدریسی و ادبی اور تاریخی کتب، شعر و شاعری، اقبالیات، فنونِ لطیفہ اور ہر وہ اقسام کی کتابیں جو آپ کو پسند ہوں اور آپ پڑھنا چاہتے ہوں، چند منٹوں میں انہیں بھی انٹرنیٹ کے زریعے سے ڈھونڈ کر پڑھ سکتے ہیں۔ جو کہ اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کی وجہ سے ہی ہمارے بہت سارے وقت کی بچت بھی ممکن ہوئی ہے اور یہ ایک بہت ہی بہترین اور آسان سہولتوں میں سے بھی ایک ہے۔

    اس کے بعد اگر ہم اسلامی لحاظ سے بھی دیکھیں تو پہلے جہاں ہمیں قرآن مجید کے علاوہ باقی جتنی بھی کتب تھیں (کیونکہ قرآن مجید تو الحمد للہ ہر گھر میں بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں) جن میں قرآن مجید کا مختلف علماء کا کیا ہو ترجمہ، قرآن مجید کی تفسیر، احادیث کی کتب اور اِن کے علاوہ جتنی بھی اسلامی کتب تھیں، اُن کو پڑھنے کی غرض سے حاصل کرنے کے لیے ہمیں دور دراز شہروں میں موجود لائبریریوں اور کتابوں کی دوکانوں پہ جانا پڑتا تھا اور بعض اوقات تو ہمیں اپنی مطلوبہ کتب عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں، جس کا پھر کافی دنوں یا ہفتوں اور بعض دفعہ تو مہینوں تک کا انتظار کرنے کے بعد، وہ بھی سپیشل آرڈر کی صورت میں منگوانے پر بامشکل ملا کرتی تھیں۔

    تو اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہمیں قرآن مجید کی بھی بہت ساری ایسی ایپلیکشنز مل جاتی ہیں، جن کو ہم انٹرنیٹ کے زریعے سے اپنے اِن موبائل فونز میں ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں اور پھر جب چاہیں اسے انٹرنیٹ کے بغیر ہی تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ آپ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر، احادیث قدسیہ، فقہاہ اور تقریباً ہر طبقہ فِکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی لکھی گئی کتابیں، پھر ان کی تقاریر اور دینوی و دنیاوی مسائل پہ اُنکی کی گئی جراح کو بھی اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز پہ ہی پڑھ، سُن اور دیکھ بھی سکتے ہیں۔ جِس سے ہمارے وقت کی بھی بہت ساری بچت ہو جاتی ہے اور ہم ایک ہی موضوع پہ مختلف علماء کی لکھی ہوئی کتابوں سے حوالے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک انتہائی اعلٰی درجے کی سہولت اور بڑے فوائد میں سے ایک بھی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ ہم پہ بطور مسلمان اور ایک اچھے محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناطے سے بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی اور اِن جدید سسٹم موبائل فونز کو ایک غنیمت اور نعمت جانتے ہوئے جہاں تک ہو سکے نیکی اور اچھائی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اِن موبائل فونز کے زریعے سے ہی پھیلائی جانے والی لا تعداد برائیوں، ان کے بُرے اسباب، استعمال اور اثرات سے بھی دوسروں کو بچانے کی جتنی ممکن ہو سکے، کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ تاکہ ہم اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    پاکستان کے ایک معتبر صحافی مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کے وکیل کا نوٹس چور مچاۓ شور کے مترادف ہے۔
    مبشر لقمان نے درندے کو درندا کہہ کا کون سا جُرم کیا ہے؟
    کیا بُرائ کواچھائ کہا جا سکتا ہے۔؟
    یا جُرم کرنے والا کسی بڑے ،بااثر یا طاقتور شخصیت کا بیٹا ہو تو اسکے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے؟
    یا امریکی شہریت رکھنے والوں کو سات خون معاف ہوتے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو مبشر لقمان نے نور مقدم کیس میں ظاہر جعفر کی انسانیت سوز حرکت کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے-ہم سب اسے بطور صحافی،بطور انسان اور بحیثیت ایک زمہ دار پاکستانی کے مکمل طور پر
    Endorse
    کرتے ہیں۔ہم سب مبشر لقمان کے ساتھ ہیں۔اور اسکے اس سانحہ کے لئے اٹھاۓجانے والے ہر ایک قدم پر اسکے ساتھ ہوں گے۔
    ظاہر جعفر کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہر اس شخص کو نوٹس بھجواۓ،جو ظاہر جعفر کی درندگی پر احتجاج کر رہا ہے۔
    اس نوٹس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وحشیانہ واقعے پر آواز نہ اٹھائ جاۓ۔
    اگرکسی شخص کو بے دردی سے نہ صرف قتل کر دیا جاۓ بلکہ اس کا سر تن سے جدا کر دیا جاۓ۔
    تو معاشرہ لب سی لے کہ جرم کرنے والا دوہری شہریت کا حامل ہے۔
    اور یہ کہ وہ دولت کی فراوانی کی وجہ سے قانون سے بالاتر ہے۔
    ظاہر جعفر کو چاہیے کہ لگے ہاتھوں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی ایک نوٹس بھجوا دے۔کیونکہ انہوں نے بھی عوام سے براہ راست گفتگو میں واضح کیا تھا کہ نور مقدم کے قاتل کو قرار واقعی سزا ضرور ملے گی،خواہ وہ امریکی شہریت ہی کیوں نہ رکھتا ہو !
    یہ نوٹس پاکستان کے ہر اس شخص کو ملنا چاہیے جو جنگل کے قانون کو نہیں مانتا۔
    یہ نوٹس ہر اس شخص کو ملنا چاہیے،جو غلط کو غلط کہنے کی گستاخی کرے۔
    یہ نوٹس اصل میں قانون کے مونہہ پر طمانچہ ہے کہ ایک قاتل ایک ایسے شخص کو ہرجانے کا نوٹس بھیج رہا ہے۔جو اسے درندگی پر اسےملامت کر رہا ہے۔
    بجاۓ اس گھناونے فعل پر شرمندہ ہونے کے،اس پر آواز اٹھانے والوں کو نوٹس دے کر سوسائٹی کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
    انسانی جان کی ہمارے نزدیک کوئ اہمیت نہیں ہے۔ہم جس کو چاہییں،بھیڑ بکری کی طرح زبح کر دیں یا چیونٹی کی طرح مسل دیں۔
    ایسے نہیں چلے گا۔
    چور نالے چترا کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    ظاہرجعفر کے وکیل کے لئے بہتر ہے کہ وہ فی الفور اس نوٹس کو واپس لے ورنہ ہزاروں مبشر لُقمان سڑکوں پر ہوں گے،جو چیخ چیخ کر کہیں گے کہ نور مقدم کے بے رحم قاتل کو سر عام پھانسی دی جاۓ تاکہ آئندہ کسی کو،کسی خاتون کا سر تن سے جدا کرنے کی ہمت نہ ہو۔کسی کو پیسے کے بل بوتے پرقانون ہاتھ میں لینے کی ہمت نہ ہو-
    میں پوری سول سوسائٹی کی طرف سے مبشر لقمان کو اس بھیانک واقعے کو دلیرانہ طریقے سے ہائ لائیٹ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ صڑف اتنا کہوں گا کہ
    More power to mubasher luqman.

    @lalbukhari

  • جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ

    جھنڈا عظمت و رفعت کا نشان ہے اس کی بےتوقیری نہ کریں از قلم محمد عبداللہ

    "چودہ اگست کے موقع پر چھوٹی جھنڈیاں لگانا”
    چھوٹی جھنڈیوں کے حوالے سے گزشتہ دنوں ایک پوسٹ کی تھی کہ اس کو لگانے سے گریز کریں تو اس پر کئی احباب نے میسجز کیے کہ جھنڈیاں لگانے میں کیا ایشو ہے تو دوستو ایشو کچھ نہیں ہے بس مسئلہ اتنا ہے کہ جھنڈا / پرچم کسی بھی قوم کی عظمت و رفعت کی علامت ہوتا ہے اور تبھی ہوتا ہے جب وہ کہیں گڑھا ہو، کہیں لگا ہو، ہواؤں میں فضاؤں میں لہرا رہا ہو.
    لیکن وہی پرچم جا جھنڈا اگر زمین پر گرا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم وہ ملک اپنی عظمت کھوچکا ہے، کسی لشکر نے اس کو تاراج کردیا ہوا ہے. ویسے تو ہمارے ہاں ثقافتی یلغاریں ہی کافی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس دفعہ بھی چودہ اگست بارشوں کے سیزن میں آرہا ہے اور چودہ اگست سے اگلے ہی دن راستوں میں، گلیوں میں، نالیوں میں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر جابجا سبز ہلالی پرچم بےبسی کی علامت بنا پڑا ہوتا ہے.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ بچپن کی یادوں کو تازہ کرنا اور نسل نو کو ان سے وابستہ کرنے کے لیے آٹے کی لیوی بنا کر جھنڈیاں لگانا کتنا دلچسپ اور محبوب عمل ہے. میرا اپنا بھی شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو جھنڈیاں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں. گزشتہ سال میں نے اپنی بیٹی عشال جو اس وقت اڑھائی سال کی تھی اس کے ساتھ مل کر سبز ہلالی جھنڈیوں سے پورے گھر کو سجایا تھا اور پورے کام میں عشال کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا. ایک ایک جھنڈی کو بڑی عقیدت سے تھام کر، چوم کر مجھے دے رہی تھی اورکبھی ان کو لیوی لگاتی تھی .
    یقیناً آپ اور آپ کے بچے بھی ایسا کرنا چاہتے ہوں گے اور آپ کو حق حاصل ہے آپ ضرور کریں لیکن کوشش کریں کہ آپ کی لگائی ہوئی اک بھی جھنڈی کہیں نیچے گرکر پاؤں تلے نہ روندی جائے، وہ باسکٹ کا حصہ نہ بنے، وہ کوڑے کے ڈھیروں پر نظر نہ آئے، وہ نالیوں کے گندے پانی میں بےیارومددگار پڑی نہ رہ جائے.کیونکہ یہ سبز ہلالی پرچم ہمارے پیارے پاکستان کی رفعت و عظمت کا پرچم ہے، اس پرچم کے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں قربانیاں ہیں. اس کی سربلندی کے لیے اس کے محافظ اپنی زندگیوں کو وار دیتے ہیں لیکن اس کو گرنے نہیں دیتے..
    تو آئیے ہم بھی عزم کریں کہ اس پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحتییں صرف کریں گے اور اس سبز ہلالی پرچم کو کہیں جھکنے یا گرنے نہیں دیں گے.
    سدا رہنا پاکستان زندہ باد (ان شاءاللہ)
    محمد عبداللہ

  • یہ وردی والے تحریر :حادیہ سرور

    یہ وردی والے تحریر :حادیہ سرور

    وردی والوں کے ملکِ پاکستان پر، اس قوم پر اور ہم سب پر اتنے احسانات ہیں کہ ہم اگر ان کو الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو نا کر سکیں گے، کتابیں لکھیں تو کتابیں کم پڑ جائیں، ان کی قربانیوں کی داستانیں سنانیں لگیں تو وقت کم پڑ جاۓ، ان کی بہادری شجاعت کے قصے چھیڑیں تو سننے والے دنگ رہ جائیں، ان کی ملک سے محبت وفاداری اور جذبہ شہادت کے جذبے کو بیان کرنا نا ممکن ہے ۔
    قصہ مختصر وردی والے ہی ہماری آن ہیں، ہماری شان ہیں ۔یہ وردی والے ہی ہوتے ہیں جو خود دشمن کی گولیوں ،ٹینکوں اور توپوں کے سامنے سینہ تان کر پوری رات کھڑے ہوتے ہیں تب ہم آرام سے ائیر کنڈیشن اور پنکھے لگا کر مزے کی پر سکون نیند سوتے ہیں ۔
    یہ وردی والے ہوتے ہیں جو کہیں سیلاب ہو زلزلہ ہو لینڈ سلائڈنگ ہو یا ہو کوئی اور آسمانی آفت سب سے پہلے اور سب سے تیز اپنے لوگوں کی مدد کےلیے وہاں موجود ہوتے ہیں ۔جو ہمارے لیے نا گرمی کی پرواہ کرتے ہیں نا سردی کی, نا برف کی نا پسینے, کی بس اپنے لوگوں کی خدمت کےلیے ہر وقت موجود ہوتے ہیں ۔
    یہ وردی والے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا سب سے بڑا دشمن انڈیا جو ہم سے تقریباً دس گناہ بڑا ہے ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے ۔کیونکہ جذبہ شہادت لیے یہ وردی والے اپنے سے دس گناہ بڑے دشمن کو ہر وقت ناکوں چنے چبوانے کےلیے تیار ہوتے ہیں ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جنہوں نے اندرونی اور بیرونی دشمنوں ، غداروں کو ایسا سبق سیکھایا ہے جو کبھی بھولنے پر بھی ان کو نا بھولے گا ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جنہوں نے دہشتگردکی ایسی جنگ لڑی اور جیتی جو دنیا کوئی فوج نہیں جیت سکی۔
    ان وردی والوں سے لڑنا نا ممکن ہے ۔کیونکہ یہ اپنے سے جنگ چھیڑنے والوں کو پھر بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیتے ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں ہیں جو دنیا کہ ہر جگہ موجود ہیں ہر پہاڑ صحرا ،جنگل ،میدان ،دریا ،سمندر ،شہر ،بازار ہر جگہ موجود ہوتے ہیں کبھی یہ تکے بیچنے والے بن کر کلبھوشن یادیو جیسے گینگ کو پکڑتے ہیں تو کبھی یہ انڈیا کی فوج میں ہی گھس کر اس کو کتے کی موت دیتے ہیں خیر پہلے بھی کہا تھا ان کے قصے کہانیاں نا قابلِ بیان ہیں ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جو افغانستان میں سویت یونین کو امریکہ کی مدد سے شکست دے کر ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں تو پھر اسی امریکہ کو امریکہ ہی کی مدد سے بیس سال تک افغانستان میں زلیل کرنے کے بعد ایک درد ناک شکست دیتے ہیں ۔
    یہ وردی والے کسی سے ڈرتے نہیں یہ وردی والے اللہ پر کامِل یقین رکھتے ہیں اور ان کا ایمان لاالہ اللہ ہوتا ہے ۔
    یہ وردی والے اپنی قوم اور لوگوں کےلیے نا جان دینے سے ڈرتے ہیں نا ہی جان لینے سے ڈرتے ہیں ۔
    یہ ہی وردی والے ہیں جن سے قوم دل وجان سے پیار کرتی ہے اور پیار کرنا بھی چاہیے کیونکہ یہ وردی والوں کا واحد ایسا ادارہ ہے جو دل وجان سے پاکستان کےلیے کام کر رہا ہے اپنے لوگوں کےلیے کام کر رہا ہے جو پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے خوشحال دیکھنا چاہتا ہے ۔
    وردی والوں کے پاکستان کےلیے احسانات ،قربانیاں ،داستانیں، قصے اتنے ہیں کہ اس کالم میں تو پورے آنے سے رہیں ہاں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس کالم کی اگلی قست آۓ تو ضرور کمنٹ کیجیے گا
    فلحال کےلیے اتنا ہی ۔
    پاکستان زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد

    @iitx_hadii

  • جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے تحریر:حیأ انبساط

    ہمارا معاشرہ اس محاورے کی عملی مثال ہے کہ “جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے “ مغرب کی تقلید کرتے ہم اپنی روایات کو بھولتے جا رہے ہیں جب گھر پہ ہونے والے رنگ و روغن سے لیکر مردوں کے آفٹر شیو تک کے اشتہار میں عورت کو دیکھایا جائے تو ایسے معاشرے میں بےحیائی کا رونا اور بےراہروی کی شکایت جچتی نہیں ہے۔

    ‏کچھ عرصہ پہلے انسٹاگرام پہ ایک اداکارہ نے کسی کا انباکس میسچ اسکرین شاٹ لیکر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا تھا جس میں کسی حضرت نے ایک ملاقات کیلئے لاکھوں روپے آفر کیئے تھے جس کے جواب میں خاتون اداکارہ نے کافی تلخ جواب لکھا تھا جو میں تحریر کرنے سے قاصر ہوں- حال ہی میں ان کی طرف سے ایک اور اسکرین شاٹ شائع کیا گیا تھا جس میں پہلے کی طرح نازیبا فرمائش کی گئی تھی۔

    ‏اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان پبلک فگرز کو اپنی مرضی سے ٹاپ لیس ، بیک لیس ، سلیو لیس پہننے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ؛ ان کے بقول یہ اُن کا کام ، ان کا پیشہ ہے جس کے لیئے وہ بھاری معاوضہ بھی وصول کرتیں ہیں ۔ مکمل سطر پوشی کے بارے میں بات کرنا انکے آگے دقیانوسی خیالات و روایات سمجھی جاتی ہیں اس سلسلے میں قرآن جیسی مقدس کتاب ،اللّٰہ کے احکامات کی طرف سے آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں اور اس کے نبی کی تعلیمات کو سُنا ان سُنا کر دیا جاتا ہے تو پھر ان معمولی انسانوں کے غیر اخلاقی میسجز کو تو نظر انداز کر دینا بہت ہی آسان سی بات نہیں ؟ کیوں رائی کا پہاڑ بنایا جاتا ہے ؟

    ‏جب آپ خود کبھی صابن کے اشتہار میں ، کبھی شیمپو کے اور کبھی مردوں کی شیونگ کریم کے اشتہارات میں کام کرنے کے لیئے معاوضہ وصول کرتی ہیں تو یہ چھوٹی سوچ کے حامل گھٹیا لوگ بھی آپ کو اور آپ کے کام کو دیکھتے ہوئے اپنی آفرز لیئے آپ کے ان باکس میں حاضر ہوجاتے ہیں ، انہیں بھی درگزر کیجیئے نا جس طرح قرآن کے واضح احکامات کو کر دیتیں ہیں۔

    ‏حالیہ ایوارڈ شو میں ماڈلز کے ملبوسات کے بارے میں تو کچھ کہنے کی میری مجال نہیں کہ اگر ان کے بارے میں ایک لفظ بھی کہہ دیا جائے تو بھاری اکثریت والی آبادی ہاتھ دھو کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ ان سیلیبرٹیز کے حق میں بولنے کیلئے تو بہت سے لوگ آجاتے ہیں ان کو ہراساں کرنے والوں کو لعن طعن کرنے والوں کی کثیر تعدار ہمیں سوشل میڈیا پہ لکھتی نظر آجاتی ہے مگر جب مختلف برانڈز کے قدآور پوسٹرز ، بل بورڈز میں آپکی تصاویر ہر چوراہے ، شاپنگ مالز کے اندر باہر آویزاں ہوں گی تو دیکھنے والے کا دل بھی مچل سکتا ہے اور جو طبقہ لاکھوں روپے افورڈ نہیں کر سکتا ان کی ذہنی گندگی ، درندگی اور زیادتی کا نشانہ مظلوم ،غریب، کم عمر بچیاں بنتی ہیں ۔

    ‏کبھی آپ نے سڑکوں پہ پھول بیچتی ، سگنل پہ گاڑیاں صاف کرتی بچیوں کے اوپر پڑتی لوگوں کی گندی اور کریہہ نظروں کے بارے میں سوچا ہے؟ کبھی ان معصوم ضرورت مند ، غریب بچیوں کے پیوند لگے ، گھسے ہوئے لباس سے مجبوری میں جھلکتے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے؟ ہزاروں روپے عورت مارچ ، آزادی مارچ میں لٹانے کے بجائے ان پیسوں سے ان مستحق بچیوں کو مکمل لباس دلوانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا؟ جب کوئی حادثہ رونما ہو جاتا ہے تو ایک ہیش ٹیگ کچھ دن ٹائم لائن پہ گردش کرتا دیکھائی دیتا ہے ، احتجاج کیا جاتا ہے اور افسوس یہ کہ جو محرکات ہوتے ہیں وہی احتجاج میں بھی شامل نظر آتے ہیں ۔ حکومت اور اداروں کو لعن طعن کی جاتی ہے اور میں مانتی ہوں کہ سب ٹھیک ، درست ، بجا ؛ حکومت اور ادارے ذمہ دار مگر ہم انفرادی طور پہ اس سب کو ٹھیک کرنے کیلیۓ کیا کر رہے ہیں ؟؟

    ‏ میں ان پبلک فگرز کی اصلاح کیلیۓ نہیں لکھتی وہ لوگ خود بہت سمجھدار ہیں ، میں تو بس اپنے ملک کے معماروں کو، آنے والی نسلوں کی آمین بچیوں کو ، ان کمسن ذہنوں کو بےحیائی سے پراگندہ ہونے سے بچانا چاہتی ہوں جو ان مغربی تہذیب کے پیچھے اندھا دھند بھاگتی ایکٹریسز کی اندھی تقلید کر رہی ہیں کیونکہ یہ ہی بچے بچیاں ہمارے ملک و قوم کا مستقبل ہیں انکی اصلاح اور بہتر تربیت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

    ‏ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا عقیدۂ آخرت پہ کامل یقین ہے کہ اس دن ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا جو ظالم ہیں انکا کڑا احتساب بھی ہوگا ۔ عورتوں سے جب مکمل سطرپوشی کے بابت سوال کیا جائے گا تو ہو سکتا ہے ان معصوم بچیوں کو تو بحالتِ مجبوری نامکمل سطرپوشی کے معاملے میں اللّٰہ بخش دے لیکن ان خواتین کا کیا ہوگا جو جانتے بوجھتے اپنے ساتھ ۴ محرم ( باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹا) کو بھی جہنم رسید کرنے کے در پہ ہیں، یوں تو ہر انسان اپنے اعمال کا جوابدہ ہے مگر سوچیۓ گا ضرور !!

    ‏Twitter handle : ⁦‪@HaayaSays