Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان اور سیاستدان  تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان اور سیاستدان تحریر:شمسہ بتول

    14 اگست 1947 سے لے کر اب تک اگر ملک پاکستان کے حق میں کوٸی صحیح معنوں میں مخلص رہا ہے تو وہ صرف قاٸداعظم اور محترمہ فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے اس کے لیے دن رات جدوجہد کی تھی ۔ ان کے جانے کے بعد پاکستان کے مساٸل میں مزید اضافہ ہو گیا اور معاشی حالت ابتری کی طرف چلی گٸی اس کی بڑی وجہ تقسیم کے وقت اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم بھی تھی اور پھر قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد قاٸداعظم کا اس دنیا سے چلے جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا۔ اس کے بعد بہت سے سیاستدان آۓ جنہوں نے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور مارشل لاء بھی لگے لیکن ملک کی حالت میں کوٸی خاص بہتری نہیں آٸی۔
    اور پھر کچھ سیاستدانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اور زاتی مفادات کی وجہ سے پاکستان ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور یوں پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں معاشی بدحالی اور معاشرتی مسائل کی بڑی وجہ سیاسی عدم و استحکام ہے۔
    سیاستدانوں نے تقریباً ایک فیصد کام کیا اور ننانوے فیصد ملک کے وساٸل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔ سیاستدانوں کی طاقت کے غلط استعمال اور کرپشن اور سفارشات کی وجہ سے ہمارے قومی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے
    مگر ہم لوگوں نے کبھی سوال نہیں پوچھا کہ ہمارے وطن عزیز کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے والوں سے یا ہم نے کبھی ان کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف آواز ہی نہیں اٹھاٸی بلکے خاموشی سے فقط اپنے کام سے غرض رکھی اور اس طرح ان کرپٹ سیاستدانوں کو شے ملتی رہی اور 74 سالوں سے یہ ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں.
    تعجب کی بات ہے کہ یہ سیاستدان حکمران بنتے ہی اپنے سارے فراٸض بھول جاتے جو کل تک یہ کہتے تھے کہ وہ پاکستانیوں ہمیں ووٹ دینا ہم آپ کے وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے آپکے مسائل حل کریں گے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھول جاتے کہ عوام بھی کوٸی شے ہے یا ان کے اس ملک کے زمے کچھ فراٸض ہیں بلکہ وہ تو جس سڑک سے گزرنا ہو وہاں پہ رکاوٹیں کھڑی کروا دیتے کہ یہاں سے عوام نہ گزریں کیونکہ ہم نے گزرنا ہے اس ملک کے اثاثوں اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی عیش و عشرت پہ اڑا دیتے
    اپنے بچوں کو باہر کے ملک میں تعلیم کے لیے بھیجتے باہر کے ملک میں کاروبار اور گھر بناتے وہاں پہ چٹھیاں گزارتے تو پھر الیکشن بھی وہیں لڑ لیا کریں وہیں حکمرانی بھی کریں مگر نہیں رہنا وہاں پر بچے وہاں کی یونیورسیٹیز میں پڑھانے علاج وہاں سے کروانا مگر حکومت پاکستان میں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب نہیں کیا جاتا انہیں فوراً سزاٸیں نہیں سناٸی جاتیں اس لیے یہ بے خوف خطر اپنی طاقت کا ناجاٸز استعمال کر کے ٹیکس چوری کرتے عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر بناۓگٸے پروگرامز کے فنڈز اپنے اکاونٹس میں جمع کرواتے اور تو اور جو ترقی یافتہ منصوبے ہیں ان میں بھی سستا اور ناقص میٹیریل لے کے باقی اپنے اکاونٹس میں۔
    یہ سیاستدان عوام کے مسائل سننا بھی مناسب نہیں سمجھتے مگر الیکشن کے وقت پھر سے عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے نام پہ بے وقوف بنانا شروع کر دیتے اور غربت اور مہنگاٸی کی ستاٸی عوام مجبوراً یقین کر لیتی کہ شاید واقع ہی یہ ان کے حالات بدل دیں گے
    ہمارے ملک کے تقریبا ہر سیاستدان پر کرپشن کے اور دیگر کیسیسز چل رہے ہیں یہ کیسیسز خود بہ خود تو نہیں بنے بلکے انہوں نے کرپشن کی ملکی اثاثہ جات کا بے دریغ استعمال اور طاقت کا غلط استعمال کیا تبھی ان کے خلاف یہ کیسیز چل رہے اس لیے مہربانی کر کے اپنے آنکھوں سے زات پات اوربراری اور صوبوں کی بنیاد پہ ووٹ دینا اس پٹی کو اتار دیجیے صرف اورصرف پاکستان کی بہتری کے لیے ووٹ کاسٹ کریں۔ کسی بھی پارٹی کے ورکرز بن کر نہیں بلکے پاکستانی بن کے سوچیں کہ کون پاکستان کے ساتھ ہے حقیقی معنوں میں۔ جو لوگ ساری زندگی باہر گزاریں اور وہاں جاٸیدادیں بناٸیں وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتے کیسے انہیں حل کر سکتے کیونکہ انہوں نے تو یہاں رہنا ہی نہیں یہاں تو ہم نے رہنا ہے اور اسکی بہتری کے بارےمیں بھی ہمیں مل کر کوشش کرنا ہو گی😇

    ‎@b786_s

  • افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان مہاجرین، پاکستان سمیت اقوام متحدہ اور یورپی دنیا کے لئے ایک چیلنج .تحریر: محمد مستنصر

    افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی رو سے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں حکمرانی کے لئے افغان طالبان اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں میں شدت آ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانوں کی بڑی تعداد ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے تاہم اس بار جنگی جھڑپوں سے جان بچا کر دیگر ممالک میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کا رخ ماضی کے برعکس پاکستان کی طرف کم ہے اور وہ براستہ ایران، ترکی جانے کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک میں خاصی تشویش پائی جا رہی ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد براستہ ایران ترکی پہنچ کر یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیل جائیگی اور یوں یورپ کو افغان مہاجرین کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں ہر روز 2 ہزار سے زائد افغان مہاجرین ترکی پہنچ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان سے براستہ ایران افغان مہاجرین کا ترکی پہنچنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 2016 میں شروع ہوا واضح رہے کہ افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے افغان مہاجرین کو قریب 3 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

    افغانستان سے ترکی پہنچنے والے افغان مہاجرین کی مشکلات کے حوالے سے جرمنی کی ایک تحقیقاتی تنظیم "فریڈرچ البرٹ فائونڈیشن” نے بتایا کہ ہزاروں افغان مہاجرین افغانستان سے ترکی پہنچنے کے لئے بال بچوں اور خواتین سمیت انتہائی دشوار گزار راستوں پر سفر کرتے ہیں، اس سفر کے دوران نہ تو ان کے پاس کھانے پینے کے کچھ ذیادہ اسباب موجود ہوتے ہیں نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کے لئے ضروری سامان ہمراہ ہوتا ہے۔اففانستان سے ترکی تک کا یہ دشوار گزار راستہ دراصل سمگلنگ کرنے والوں کی دریافت ہے۔ ان راستوں سے تجارت کی غرض سے مختلف اشیاء کی غیرقانونی نقل وحمل کی جاتی ہے اور سمگلرز نے اس راستے پر کئی مقامات پر ٹھکانے بھی بنا رکھے ہیں تاہم اس راستے پر حفاظتی انتظامات اب خاصے سخت کر دیئے گئے ہیں اور صرف انہی خاندانوں کو ایران سے گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے پاس افغانی پاسپورٹ اور ایران کا ویزہ موجود ہو۔ ترکی پہنچ کر یورپ میں پناہ لینے کے خواہشمند کچھ افغانی خاندان براستہ پاکستان بھی ایران میں داخل ہوتے ہیں مگر اس راستے پر سفری اخراجات کافی ذیادہ اٹھانے پڑتے ہیں اس لئے امیر افغانی خاندان ہی یہ راستہ اختیار کر پاتے ہیں۔ ترکی جانے والے افغان مہاجرین کی آخری منزل ترکی پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ وہ سمندری راستوں کے ذریعے یونان سے گزر کر یورپ کے دیگر ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تاہم افغان مہاجرین کا یہ سفر خطرات سے خالی نہیں ہوتا کیونکہ ترکی اور یونان کے درمیان سمندر عبور کرنے کے دوران کئی مہاجرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دسمبر 2020 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے مہاجرین کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین آباد ہیں۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ 1979 میں شروع ہوا اور روس کے افغانستان پر حملے کے دوران دس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ 1980 میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور انہیں امداد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کئے تھے۔ 1981 سے 1990 کے دوران پاکستان میں رجسٹرڈ ہونے والے افغان مہاجرین کی تعداد 20 لاکھ تھی جس میں صرف ایک سال یعنی سال 1990 کے دوران 12 لاکھ کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 32 لاکھ تک جا پہنچی اور ایک محتاط اندازہ لگایا گیا کہ 5 لاکھ افغان مہاجرین بغیر رجسٹریشن کرائے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے پاکستان کے صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 334 مقامات پر مہاجرین کیمپ بنائے گئے۔ 1996 میں جب طالبان نے افغانستان کے علاقوں جلال آباد اور کابل کا کنٹرول حاصل کیا تو 50 ہزار افغان مہاجرین خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے اسی طرح 1999 میں جب طالبان نے مزار شریف کا کنٹرول حاصل کیا تو تب بھی ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ سال 2001 میں جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ان دنوں میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی۔

    افغان حکومت کی طرف سے معیشت کی بحالی، نقدی، ضروریات زندگی کی اشیاء اور سفری اخراجات کی ادائیگی پر سال 2002 سے سال 2007 کے درمیان 11 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے تاہم رضاکارانہ طور پر واپسی کا یہ عمل ابھی مکمل ہی نہیں ہو پایا تھا کہ جنگی صورتحال کے پیش نظر اب دوبارہ افغانوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخلے کی خواہشمند ہے تاہم اب ماضی کی طرح بغیر سفری دستاویزات کوئی افغان مہاجر یا افغان مہاجرین کی آڑ میں کوئی شرپسند پاکستان داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاک افغان سرحد 2 ہزار 6 سو 40 کلومیٹر کے 90 فیصد حصے پر 13 فٹ بلند خاردار دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ پاک افغان سرحد کی جدید ترین آلات سے نگرانی کرنے کے ساتھ 100 مختلف مقامات پر چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ افغان مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے ساتھ شرپسندوں کی دراندازی کے واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین کو کئی چیلنجز درپیش ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کریں تاکہ دہائیوں پر محیط افغان مہاجرین کی صورت میں انسانی المیہ اور پڑوسی ممالک کو درپیش چیلنجز کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • سانپ کے کاٹنے پر شہری نے بھی بدلہ لیتے ہوئے سانپ کو کاٹ لیا

    سانپ کے کاٹنے پر شہری نے بھی بدلہ لیتے ہوئے سانپ کو کاٹ لیا

    بھارتی ریاست بہار میں سانپ کے کاٹنے پر ایک 65 سالہ شخص نے سانپ کو کاٹ لیا یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا اور وہ پیر کی صبح شہری انتقال کر گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع نلندا میں چانڈی تھانے کے تحت مدھوڈے گاؤ ں کے65 سالہ شہری راما ماہٹو اپنے گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ زہریلے سانپ نے اس کے پاؤں پر کاٹ لیا اور قریبی درخت کے پاس چھپ گیا۔

    مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ راما مہتو ، جو شراب کے زیر اثر تھا ، اپنے گھر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ سانپ نے اس کی ٹانگ پر کاٹا جس پر ماہٹو غصے میں آگیا اور بدلہ لینے کے لیے سانپ کو پکڑ کر چبا گیا سانپ کو چباتے ہوئے ، مہاتو کو اس کے چہرے پر 10 سے زیادہ بار کاٹا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق شہری کے گھر والوں نے صورتحال دیکھنے کے بعد اسے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم دیہاتی نے اسپتال جانے سے انکار کر دیا اور گھر کے اندر جا کر سو گیا۔

    اس کے بعد اس نے سانپ کو نکال کر قریبی درخت پر رکھ دیا ہم نے اسے علاج کے لیے ہسپتال جانے کا کہا لیکن اس نے انکار کر دیا اور سو گیا ماہٹونے دعوی کیا کہ یہ بچہ سانپ ہے اور یہ زہریلا نہیں ہوگا تاہم پیر کی صبح وہ مردہ حالت میں پایا گیا-

  • ہیڈ تونسہ بیراج:- تحریر محمد رفیق گرمانی ‎

    ہیڈ تونسہ بیراج:- تحریر محمد رفیق گرمانی ‎


    تونسہ بیراج پنجاب کے ضلع مظفر گؑڑھ میں دریا ئے سندھ پر واقع ہے۔ یہ بیراج تونسہ شریف کے جنوب مشرق میں 20 کلو میٹر اور کوٹ ادو سے 11 کلو میٹر دور ہے۔ اس بیراج کے ذریعہ آبپاشی اور سیلاب سے بچاؤ کے لئے دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ
    کو کنٹرول کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیراج ریلوے پل، گیس اور تیل کی پائپ لائنوں،
    ٹیلیفون لائن اور اضافی ہائی والٹیج ٹرانسمیشن لائنوں کو بھی عبور کرتا ہے اور پاکستان کا پندرھواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے۔ اسکی تعمیر کا آغاز 1951 کو کیا گیا اور 1958 کو اس بہترین منصوبے کی تکمیل ہوئی، اس کی تعمیر پر ساڑھے بارہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس کے مشرقی کنارے سے دو بڑی نہریں مظفر گڑھ کینال اور ٹی پی لنک نکالی گئیں، مظفر گڑھ کینال ضلع مظفر گڑھ کے بیشتر میدانی علاقوں کو سیراب کرتی ہے، جبکہ ٹی پی لنک کینال دراصل دریائے سندھ اور دریائے چناب کو ملانے کا کام دیتی ہے، جب دریائے چناب میں خشک ہوجاتا ھے تو ٹی پی لنک کینال کے ذریعہ اس میں پانی ڈالا جاتا ہے۔ ہیڈ تونسہ کے مغربی جانب بھی دو نہریں نکالی گئی ہیں اک نہر ضلع ڈیرہ غازی خان کی فصلوں کو پانی مہیا کرتی ہے، اور دوسری نہر بلوچستان کو سیراب کرنے کے لیے بنائی گئی ھے جو ابھی تک چالو نہیں ہو سکی، اس بیراج سے لاکھوں ایکٹر زمین ہی سیراب نہیں ہوتی بلکہ دوسرے کئی فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس بیراج کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان تک جانے کے لیے خشکی کا راستہ نکل آیا ہے۔ اور پختہ سڑک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان کا دوسرے حصوں سے براہ راست تعلق قائم ہو گیا ہے۔ اسکے مغربی کنارے پر حال ہی میں دو بہترین ریسٹورنٹ تعمیر ہوئے ہیں، جو سیاحوں کو تفریح کا موقع فراہم کرتے ہیں اور ہیڈ کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ تونسہ بیراج میں تقریباً سترہ ایکڑ رقبے پر پانی کا ذخیرہ ہے۔ اس میں مختلف اقسام کی آبی حیات موجود ہیں جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ موسم سرما میں یہاں پرندوں کی بہت سی اقسام بسیرا کرتی ہیں۔ ہیڈ کے شمال میں ہزاروں ایکڑ پر محیط جزیرہ نما گھنا اور سرسبز لاشاری والا جنگل واقع ھے، میں یہاں پر گورنمنٹ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا کہ مقامی گورنمنٹ کی تھوڑی سی محنت سے یہاں انٹرنیشنل معیار کا پارک بنایا جا سکتا ھے۔ ہیڈ ڈرافٹ مین سید طفیل حسین شاہ کو تونسہ بیراج کے حوالے سے ان کی خدمات پر اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے 3 مارچ 1959کو چاندی کے تمغے سے نوازا تھا.

  • یہ وطن ہے تو ہم ہیں  تحریر : سلمان اکرم

    یہ وطن ہے تو ہم ہیں تحریر : سلمان اکرم

    ہم دنیا کے ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک آزاد فضا فراہم کی ہے. ہم ایک ایسے وطن میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں ہم مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی طور پر مکمل آزاد و خودمختار ہیں.
    ہم اس وطن کا کھاتے ہیں، اس وطن میں رہتے ہیں، اس وطن نے ہمیں شناخت دی ہے.
    .
    14 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے. ہم نے بچپن سے اس ماہ کو خاص اہتمام سے منایا ہے. امن و محبت کا نشان پرچم اپنے سینوں گھروں محلوں اور بازوں میں لہرایا ہے.
    اس وطن کی الفت شاید ہماری گھٹی میں شامل ہے.
    .
    ہم اپنے وطن سے چاہت کا دم ہر دم بھرتے رہیں گے. ہمیں جو کچھ بھی اس وطن نے عطا کیا ہے اس کا بدلہ اپنی جان دے کر بھی پورا نہیں کر سکتے.
    .
    اس جشن آزادی کو مناتے ہوئے آئیے چند عہد کریں.
    ہم اپنے وطن کے امن و امان کا تحفظ کریں گے.
    اس کے قانون کا احترام کریں گے. چھوٹی سے چھوٹی قانون شکنی سے بھی پرہیز کریں گے.
    ہم بائیک پر ہیں تو ہیلمیٹ کا استعمال لازمی کریں گے.
    ہم سڑکوں، پارکوں اور پبلک مقامات کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں گے.
    ہم اپنے ملک کو منشیات سے پاک کریں گے.
    ہم اپنے شہریوں کی ضروریات کا خیال رکھیں گے
    ہم علم و عمل کے ساتھ وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے.
    ہم پاکستان کی مثبت چیزوں کو دنیا میں اجاگر کریں گے. اور منفی چیزوں کی اصلاح کے لیے ہر دم تیار رہیں گے.
    .
    ہم اپنے وطن کی املاک کا بھی تحفظ کریں گے.
    ہر برائی کے خلاف دیوار بنیں گے اور ہر اچھائی میں ملک کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے.
    .
    ٹیکس چوری نہیں کریں گے.
    اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتیں گے.
    ملک پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ پیار و محبت کو فروغ دیں گے.
    ملک کی سرحدوں کے محافظوں کے ساتھ ہر بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہونگے.
    وطن عزیر میں کسی اندرونی شازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے.
    ..
    ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بنائیں گے.
    ایمان اتحاد اور تنظیم کے ساتھ اپنی جان، مال، وقت اور صلاحیت کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کریں گے.
    .
    ہم پاکستان کو بالکل ایسا بنائیں گے جیسا اپنے گھر کو بنا کر رکھتے ہیں.
    ہم اقوام عالم کے لیے مثال بنیں گے.
    .
    کیونکہ یہ وطن ہے تو ہم ہیں. اگر ہم پاکستان میں نہ ہوتے تو شاید دنیا ہمارے نام سے بھی ناآشنا ہوتی.

    ‎@themaliksalman *ٹویٹر اکاونٹ :*

  • ‏پنجاب حکومت اور صحت کا شعبہ ۔ تحریر: آصف گوہر

    ‏پنجاب حکومت اور صحت کا شعبہ ۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے (اللہ) شفا عطا فرماتا ہے ۔ ”
    پاکستان میں صحت کا شعبہ گذشتہ ایک دہائی سے مسائل کا شکار ہے مسلم لیگ ن کی سابق پنجاب حکومت نے پنجاب کے تعلیم اور صحت کے بجٹ کو کٹ لگا کر سارا پیسہ میٹرو بس سروس منصوبوں میں جھونک دیا تھا جس کی وجہ سے پنجاب میں صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار تھا۔
    پاکستان تحریک انصاف نے صحت تعلیم اور انصاف کے انتخابی منشور کے ساتھ الیکشن میں کامیابی حاصل کی وفاق پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت بنائی اور وفاقی سطح پر صحت انصاف کارڈ اجراء کیا جس غریب عوام کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج اور آپریشنز کی مفت سہولیات فراہم کی گئیں ۔جس سے اب تک لاکھوں افراد استفادہ حاصل کر چکے ہیں ۔ پنجاب حکومت نے وزیر اعلی عثمان بزدار کی قیادت میں پہلے سے موجود ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی اوور ہالنگ اور اپ گریڈشن کا فیصلہ کیا گیا۔ابھی اس کام کا آغاز ہی ہوا تھا کہ پاکستان میں کرونا کی وباء پھیل گئی اور ہمارے ہیلتھ ریسورسز پر دباؤ بڑھنے لگا جس کو دیکھتے ہوئے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد جو کہ خود سرطان کی مریضہ ہیں انہوں نے چیلنج کو قبول کیا اور کرونا وبا کی تینوں لہروں میں دن رات کام کیا ان کی محنت اور بہتر حکمت عملی سے پھر پوری قوم نے دیکھا کہ پنجاب کے کسی ہسپتال میں نہ تو آکسیجن کی کمی کی شکایت آئی اور نہ ہی مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں بستروں کی کمی سامنے آئی فیلڈ ہسپتال وینٹیلیٹرز آکسیجن بیڈز کی وافر مقدر میں دستیابی نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ سمیت دیگر میں ایک وقت ایسا بھی کہ ان کا ہیلتھ سسٹم بیٹھ گیا مریض سڑکوں اور ہسپتالوں کی راہ داریوں میں تڑپتے دیکھے گئے لیکن اللہ سبحان و تعالی کی مدد سے پاکستان کی حکومت اس امتحان میں کامیاب رہی۔
    ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوا تو پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت سمییت صوبہ بھر میں عوام کی سہولت کے لئے 677 ویکسینیشن مراکز قائم کئے جو شب و روز عوام کو ویکسین لگانے میں مصروف عمل ہیں ۔
    اگر پنجاب حکومت کی شعبہ صحت میں دیگر اصلاحات کا نہ بھی ذکر کیا جائے تو بتانے کے لئے کرونا وبا میں کی گئیں خدمات ہی کافی ہیں ۔ لیکن پنجاب حکومت نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ صوبہ میں موجود 26 ٹراما سینٹرز کو اپ گریڈ کیا گیا۔119 تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی مکمل اوور ہالنگ کی گئ ضلع چکوال حافظ آباد اور چینوٹ میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا قیام۔ 36 بنیادی مراکز صحت کو دیہی مراکز صحت کا درجہ دیا گیا 49 نرسنگ سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ 120 تحصیل کوارٹرز ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کا درجہ دیے کر علاج معالجہ کی ضروری مشینری اور سہولیات فراہم کی گئیں اور اس کے ساتھ پسماندہ اور زیادہ آبادی والے اضلاع میں زچہ و بچہ کی صحت کے لئے راجن پور لیہ میانوالی
    ڈیرہ غازی خان اور لاہور میں جدید سہولیات سے آراستہ مدر چائلڈ ہسپتال تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ۔لاہور کی آبادی کے مدنظر رکھتے ہوئے فیروز پور روڈ پر ارفع کریم آئی ٹی پارک کے عقب میں 1000 بیڈز پر مشتمل جنرل ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے ۔
    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا تین سالہ اس دور میں صحت کے شعبہ میں کئے گئے درج بالا کام بلاشبہ انقلابی اصلاحات سے کم نہیں. ‎@Educarepak

  • محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    محرم الحرام…حرمت والا مہینہ…!!! تحریر:جویریہ بتول

    یہ دنیا تاریکی و اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی تھی،ظلم و ستم کی بھٹی پوری قوت سے گرم تھی…
    تقدس و حرمت کے مفہوم بدل چکے تھے…
    کہ غارِ حرا سے وہ سراج منیر طلوع ہوئے،جن کے حُسن خلق کی کرنوں نے دنیا کے کونے کونے کو منور کیا…
    اس چودھویں کے چاند سے زیادہ خوب صورت ختم الرسل صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گرد علم و عمل کے چمکتے تاروں نے جو ہالہ بنایا اور محبت و اطاعت کی جو انمٹ داستان عمل و خون سے لکھی وہ رہتی دنیا تک کے لیئے ایک انمٹ مثال بن چکی ہے…
    اس سے بڑا اعزاز ان کے لیئے اور کیا ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات قرآن میں انہیں حزب اللّٰہ یعنی اپنی جماعت کہہ رہا ہے…
    دنیا میں ہی جن پر اپنی رضوان کے اعلانات فرما کر ان کے مقام و مرتبہ کو اس دنیا کے ہر خاص و عام کو بتا دیا ہے…
    وہ اپنا گھر بار خدمت نبوی میں پیش کرتے ابو بکر صدیق،وہ مسلمانوں کو شان و شوکت بخشتے عمر،
    اپنا سب کچھ ساعۃ العسرۃ میں فی سبیل اللہ لٹاتے عثمان…
    اور حسن و حسین کے والد شیرِ خدا،دامادِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنھم کی عظمت و کردار کس پر واضح نہیں ہے…؟؟
    وہ اصحابِ رسول جو پیارے رسول کے حکم کے مطابق جب ہجرت کی راہوں پر نکلے تو وہ مہینہ محرم الحرام کا تھا…
    محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے،ارشادِ ربانی ہے:
    "مہینوں کی تعداد اللّٰہ کے نزدیک کتاب اللّٰہ میں بارہ ہے،اس دن سے جب سے اُس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،ان میں چار مہینے ادب و احترام والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے…”
    (التوبہ:36)۔
    یہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "سال بارہ مہینوں کا ہے،جن میں سے چار حرمت والے ہیں،تین مسلسل ہیں،ذوالقعدہ،ذوالحجہ،محرم،
    جبکہ ایک مہینہ رجب ہے…”
    (صحیح بخاری_کتاب بدءالخلق)۔
    ان حرمت والے مہینوں سے مراد یہ ہے کہ ان میں جو چیز فتنہ و فساد،لڑائی جھگڑے اور امن عامہ کی خرابی ہو،اس سے منع کیا گیا ہے…!!!
    ماہ محرم اسلامی سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے،اور اس کی بنیاد مسلمانوں کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت پر ہے۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ نے محرم میں اللّٰہ اور رسول اللہ کے حکم پر زور و شور سے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی،اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سفرِ ہجرت صفر تا ربیع الاوّل ہے…
    حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے جب تمام حکومتی محکموں کو منظم فرمایا تو تاریخ جاری کرنے کا مسئلہ بھی زیرِ غور آیا،چنانچہ انہوں نے ہجرت کے عظیم عمل کا انتخاب فرمایا جو محرم میں شروع ہوا اور اسی مناسبت سے ہجری سن کا آغاز ہوا،
    اور یوں ہجری سن کا تقرر اور آغاز اٹھارہ ہجری میں دورِ خلافت عمر رضی اللّٰہ عنہ میں ہوا…!!!
    یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہیں کہ اسلامی سال کا آغاز بھی امن کے پیغام کے ساتھ ہوتا ہے اور اختتام بھی حرمت اور محبتوں والے مہینہ ذوالحجہ پر ہوتا ہے جو اسلام کی اَمن پسندی کی بہت بڑی دلیل ہے…!!!
    اسلامی سن کے آغاز میں محبتوں کا وہ انمٹ سلسلہ بھی ذہن کے نقوش پر ابھرنے لگتا ہے کہ جب مہاجرین اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللّٰہ کی رضا کی خاطر ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو انصارِ مدینہ نے محبتوں اور الفتوں کا جس شدت سے اظہار کیا اسے اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کچھ یوں بیان کیا ہے:
    "اور جو لوگ ان(مہاجرین) کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے،یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے
    دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور انہیں اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ خود کتنے ہی ضرورت مند کیوں نہ ہوں…”
    (الحشر:9)۔
    جب علاقائی اور خاندانی عصبیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے گھروں،زمینوں،باغات اور حتّٰی کہ دو بیویوں والوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے مہاجر بھائیوں کو نکاح کرنے تک کی پیشکش کر دی تھی۔
    پیار و محبت اور ایمانی رشتوں کی خوشبو سے مہکتی مواخات کا وہ خوب صورت منظر بھی نگاہوں میں جھلملانے لگتا ہے…!!!
    حالی نے اس کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے:
    جب امت کو مل چکی حق کی نعمت…
    ادا کر چکی فرض اپنا رسالت…
    رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی صحبت…
    نبی نے کیا خلق سے قصد رحلت…
    تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی…
    کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی…
    سب اسلام کے حکم بردار بندے…
    سب اسلامیوں کے مددگار بندے…
    اللّٰہ اور نبی کے وفادار بندے…
    یتیموں کے،رانڈوں کے غمخوار بندے…
    رہِ کفر و باطل سے بیزار بندے…
    نشہ میں مئے حق کے سرشار بندے…
    جہالت کی رسمیں مٹا دینے والے…
    کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے…
    سر احکامِ دین پر جھکا دینے والے…
    خدا کے لیئے گھر بار لٹا دینے والے…
    ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے…
    فقط ایک اللّٰہ سے ڈرنے والے…
    ان مہاجرین و انصار نے وفاؤں کا ثبوت بدر و احد میں پیش کیا…
    طائف و حنین میں پیش کیا…
    تبوک و موتہ میں پیش کیا…
    محرم کے مہینہ میں ہی یہ جاں نثار چھلنی اور پھٹے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ کر غزوہ ذات الرقاع میں وفاؤں کا ثبوت پیش نظر آتے ہیں…!!!
    تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے کہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یکم محرم الحرام
    چوبیس ہجری میں ابو لؤلو فیروز نامی مجوسی غلام کے ہاتھوں شہادت کی موت سے ہمکنار ہوتے ہیں…
    وہ عمر جس نے اسلام کا پرچم چہار جانب لہرایا تھا.
    اور دنیا حکمرانی میں کامیابی کے لیئے آج بھی اس کی طرف دیکھتی ہے…!!!
    وہ عظیم لوگ جن پر رب نے اپنی رضا اتار دی ہمارا کام صرف ان نقوش کی پیروی کرنا ہے…
    ان سے محبت رکھنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو کوئی میرے صحابہ سے محبت رکھے،اللّٰہ بھی اس سے محبت رکھے گا،اور جو کوئی ان سے دشمنی رکھے گا تو اللّٰہ اس سے دشمنی رکھے گا…”(صحیح بخاری)۔
    اختلافات در اختلافات نے امت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا…
    ہمیں حقائق کی روشنی میں معاشرے میں برداشت اور اصلاح کی ترویج کرنی چاہیئے…!!!
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میرے صحابہ کو برا نہ کہو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر لے،تو میرے صحابہ کے مُد یا آدھے مُد کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا…”(صحیح بخاری)۔
    یہی وہ جماعت تھی جن کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی بدولت اللّٰہ کا دین دنیا کے کونے کونے میں پہنچا…!!!
    جنہوں نے ہر مصیبت کو محبتِ رسول میں قبول کیا
    61ہجری محرم الحرام میں تاریخ کے صفحات پر وہ دلدوز داستان رقم ہے جب نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جگر گوشۂ بتول حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سازشی اور فتنہ پرداز ٹولے کے ہاتھوں کربلا کے میدان میں شہادت کا عظیم رتبہ پاتے ہیں…
    کوفیوں کی بد عہدی اور بے وفائی کوفی لا یوفی کی مثال بن گئی۔
    وہ حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جنہیں اللّٰہ کے رسول نے نوجوانانِ جنت کا سردار کہا…
    جن کے بارے میں فرمایا:
    حسین مجھ سے ہے اور میں حسین ہوں،جو حسین سے محبت کرے،اللہ اس سے محبت کرے…” (سنن الترمذی)۔
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…
    نبی کی گود میں پلے…
    جہاں نشانہ حسین ہیں…!!!
    *تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانو یعملون¤*
    اسی طرح محرم الحرام میں نیک عمل بالخصوص روزوں کی بڑی فضیلت ہے…
    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے محرم کے ہیں…(صحیح مسلم)۔
    یومِ عاشورہ کے روزے کے بارے میں فرمایا:
    یکفر السنہ الماضیۃ…(صحیح مسلم)۔
    یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے…”
    ہمیں ہر ممکن نیک اعمال بجا لانے اور ان کی قبولیت کی دعا کرتے رہنا چاہیئے وہ اعمال جو خالص اللّٰہ تعالٰی کی رضا کے لیئے اور سنت کے مطابق ہوں…
    کسی بھی اچھے عمل کی قبولیت کی یہ دو بنیادی شرائط ہیں…!!!
    صِدقِ خلیل بھی ہےعشق صبرِحُسینؑ بھی ہے عشق
    معرکۂ وجود میں بدر و حُنَین بھی ہے عشق…!!!
    ================================

  • بیرون ملک نوکری اور پاکستان میں گھر والے  تحریر:ذیشان علی

    بیرون ملک نوکری اور پاکستان میں گھر والے تحریر:ذیشان علی


    بہت سے پاکستانی روزی کی تلاش میں بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرق وسطی یعنی گلف ممالک میں روزی روٹی کی غرض سے موجود ہے،
    اس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سر فہرست ہیں، اور باقی عمان، قطر، بحرین، کویت، عراق ترکی اور دیگر ایشین اور یورپین ممالک بھی شامل ہیں،
    بہرحال ہر ملک کے اپنے نظریات اور اپنے قوانین ہیں اور ہر ملک کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ایک جیسے نہیں ہیں،
    اپنے پیاروں کو چھوڑ کر ان کی خوشی انکا اچھا رہن-سہن اور ان کے آرام و سکون کی وجہ بننے والے محب وطن پاکستانی اپنی جوانی اپنی خوشیاں اور اپنے رہن سہن تک کو کمپرومائز کر لیتے ہیں،
    ان کی خوشنودی صرف پاکستان میں موجود ان کے پیارے آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں،
    بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم نہ صرف ان کے پیاروں کو ان کے اخراجات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ رقوم جسے عام طور پر remittance کہا جاتا ہے ملک کیلئے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے،
    فائنانس کے متعلق جاننے والے افراد اس پر بہتر طور پر تبصرہ کر سکتے ہیں، میرا آج کا یہ کالم بیرون ملک پاکستانیوں کی مشقت اور اپنے پیاروں سے رابطے اور کیسے وہ اپنے پیاروں کی ہر خواہش کا احترام کرتے ہیں پر محیط ہے،
    ایک مزدور کی مزدوری کا ٹائم مختص ہے جو آٹھ گھنٹے اور کمپنیوں اس سے دس گھنٹے اور بعض کمپنیاں بارہ گھنٹے بھی ڈیوٹی لیتی ہیں لیکن وہ مزدور کو اس کے معاہدے کے مطابق محافظہ بھی دیتی ہیں،
    کام کرنے والا چاہے تو صرف اپنا ڈیوٹی ٹائم یعنی آٹھ گھنٹے کام کر سکتا ہے، اور اپنا طے شدہ معاوضہ مہینے کے بعد تنخواہ کی صورت میں لے لیتا ہے،
    ہر کام کرنے والا ایک جیسا کام بھی نہیں کرتا مختلف فیلڈ میں مختلف قسم کے لوگ ایکسپرٹ ہوتے ہیں، ہر ایک کی اپنی فلیڈ ہوتی ہے ہر ایک کا معاہدہ بھی مختلف ہوتا ہے لیکن حقیقت میں تو سب کے سب مزدور ہی ہیں ہر کوئی مزدوری کر رہا ہے۔کوئی دفتر میں بیٹھ کر مزدوری کرتا ہے تو کوئی باہر دھوپ کام کر کے مزدوری کرتا ہے،
    مختلف قسم کے شعبے ہیں زیادہ تر پاکستانی متحدہ عرب امارات میں اور سعودی عرب میں قطر بحرین عمان میں لیبر کے طور پر کام کرتے ہیں،
    کوئی عام مزدور ہے تو کوئی اسکیل ورکر ہے، ان کے علاوہ ایک اور طبقہ انجینئرز، اکاؤنٹنٹ منیجرز وغیرہ بھی ہیں لیکن وہ اتنی تعداد میں نہیں ہیں اور انہیں بہت سی سہولیات میسر ہوتی ہیں اور بعض ایسے لوگوں کی فیملیز بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے وطن سے دور تو ہیں ہی وطن تو انہیں بھی یاد آتا ہوگا،
    ہم اس مزدور کی بات کرتے ہیں جس کا رہن سہن کھانا پینا اور اپنی چیزوں کا خیال رکھنا سب اس کی ذمہ داری ہوتی ہے،
    کمپنیوں میں جو مزدوروں کو رہائش فراہم کی جاتی ہے "(2/4/6/8/10/12)” مختلف افراد کی تعداد کو ایک کمرے میں ٹہرایا جاتا ہے،
    یوں ہر فردکو اپنی پرائیویسی پر کمپرومائز کرنا پڑتا ہے، باورچی خانہ بھی ایک سے زائد لوگ استعمال کرتے ہیں واش روم بھی ایک سے زائد لوگ استعمال کرتے ہیں،
    ڈیوٹی میں دیر سویر نہیں کی جا سکتی کام والی جگہ پر وقت پر پہنچنا نہایت ضروری ہے۔
    کمپنی کے حالات ٹھیک نہ ہونے پر تنخواہ میں تاخیر ہو سکتی ہے آپ کا اقامہ تجدید دیر سے کیا جا سکتا ہے، تنخواہ کبھی تھوڑی تو کبھی دو مہینے بعد بھی دی جاتی ہے کسی سے کوئی سوال نہیں کر سکتے صرف چپ کرکے کام کر سکتے ہیں،
    اور اپنی ٹینشن اور پریشانی دور کرنے کے لیے گھر والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن گھر والوں سے رابطہ بھی تو مفید ثابت نہیں ہوتا مگر کرنا ضروری ہوتا ہے اپنے پیاروں کی خوشی اور ان کو دلاسہ اور سہارا دینے کےلئے ایک بندہ جو اتنی پریشانیوں اور تکلیفوں سے گزربسر کر رہا ہے روزی روٹی کما رہا ہے،
    وہ شخص اپنی پریشانیوں اور اپنی تکلیفوں سے اپنے گھر والوں کو آگاہ تک نہیں کرتا دیکھو تو ذرا اس شخص کا ظرف کتنا عظیم ہے،
    تنخواہ آنے والی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں کچھ حالات خراب ہیں کمپنی کے بہتر ہونے والے ہیں تنخواہ مل گئی ہے بھیج رہا ہوں اچھا تھوڑے سے پیسے زیادہ بھیج دیتا ہوں ٹھیک ہے آپ وہ خرید لیں آپ یہ خرید لیں،۔ اس کی زبان پر اپنے لئے تو کوئی بات نہیں ہوتی کرنے کو بس ماں کیسی ہے بابا کیسے ہیں بہن کیسی ہے بھائی کیسا ہے وہ کیسے ہیں یہ کیسے ہیں،
    میں تو بالکل ٹھیک ہوں اور کام وام، ڈیوٹی وغیرہ تو بہت اچھی جارہی ہے،
    بیوی بچوں والوں کے لئے تو زیادہ مسئلہ ہے وہ گھر سے دور زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے مگر یہ لوگ اس پر بھی صبر کرتے ہیں، اور شادی شدہ افراد ہی زیادہ تعداد میں پردیسی ہیں اور جس کی شادی نہیں ہوتی وہ بھی پردیس میں ایک سفر کاٹنے کے بعد جاکے شادی کر لیتا ہے،
    "” اب ہر کوئی میرے جیسا تو نہیں ہوتا کہ شادی پردیس کا مکمل سفر کاٹ لینے کے بعد ہی ہو گی،””
    ( مذاق خیز بات)
    مل جل کر رہنا پڑتا ہے لیکن ہر ایک کا مزاج بھی تو مختلف ہوتا ہے کوئی ٹھنڈے دماغ والا تو کوئی گرم دماغ والا کسی سے کسی کی نہ بن سکے اور وہ رہتے بھی ایک ہی کمرے میں ہوں تو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے اور یہ ٹینشن اور پریشانی اس کے کام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے،
    اس کے علاوہ اچھا یہ ایک منفی پہلو ہے جو میں اجاگر کرنے لگا ہوں اور ساتھ میں دعا بھی اللہ تعالی سے کروں گا کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے کہ ہم کسی کی چغلی کرنے اور حسد اور کینہ و بغض جیسی بیماریوں سے خود کو بچا سکیں،
    لیکن اچھے دوست بھی بن جاتے ہیں جان پہچان بنا لیتے ہیں تھوڑی بہت ہو جایا کرتی ہے اور صلح بھی ہو جایا کرتی ہے اور ہنسی مذاق اور خوش گپیوں میں بھی اچھا وقت گزرتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ اور وقت کا تو پتہ ہی نہیں چلتا اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے لیکن ان لوگوں میں صبر آجاتا ہے اور یہ لوگ ہر حالات میں صبر کر سکتے ہیں،
    بے شک اللہ بھی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے،

    ‎@zsh_ali

  • عوام کامستقبل اور حکومت   تحریر :معین وجاہت

    عوام کامستقبل اور حکومت تحریر :معین وجاہت


    کبھی ہمارا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں کے ہماری اصل پرابلم کیا ہے ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکومت وقت اور حاکم وقت کو ٹھہراتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

    اخبار کے پہلے پیج پر ہم ایک مہلک بیماری کا ذکر سنتے ہیں مثلاً ہارٹ اٹیک جس کی وجہ ناقص گھی سے کولیسٹرول کا بڑھنا ہوتا ہے۔

    اور اخبار کی چھٹے پیج پر ایک خبر چھپی ہوتی ہے جس میں گھی کی ایک ایسی پروڈکٹ کی مشہوری دی جاتی ہے جو ابھی مارکیٹ میں لانچ ہی نہیں ہوئی ہوتی۔

    ہم نے کیا کھانا ہے اس کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتے ہے اور ہم نے کیا پہننا ہے کیسا پہننا ہے اس کا بھی فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

    ہمارے ملک میں بڑھتے جرائم، منشیات، چوری، ڈاکہ اس سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہوتا ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا وہ ہاتھ ہے ایک بزنس میں کا ہاتھ۔

    ہماری روز مرہ کی ضرورت ایک نزنس مین طے کرتا حتیٰ کے ایک میڈیسن جو ہم نے کھانی ہوتی ہے جو ڈاکٹر لکھتا ہے وہ بھی ایک بزنس مین کی ایڈوائز پر لکھی جاتی ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ حاکم وقت کرتا ہے لیکن حاکمِ وقت کے مستقبل کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

    پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو آپ کو ہر اچھے دانشمند جنہوں نے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اپنی منشاء کی مطابق کرنے کی کوشش کی ان کو سولی چڑھا دیا گیا۔

    چاہے وہ لیاقت علی خان کو لگنے والی گولی ہوئی ہو یا بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا حادثہ ہو یا بے نظیر بھٹو کا قتل ان سب کی تحقیقات کی جائیں تو سب کے پیچھے بزنس مین کا ہاتھ ملے گا۔

    پھر انہی کی بزنس مین لوگوں نے دوبارہ فرنٹ پر آ کر حکومت بھی کی اور بزنس بھی جس میں زرداری اور نوازشریف ایک زندہ مثال ہیں سیاست دانوں کو بے رحمی سے موت کے گھات اتار دیا گیا لیکن بزنس مافیا کامیاب بزنس اور غریبوں کی کھال اتار حکومت بھی کر گیا۔

    ہم اتنے جاہل نہیں ہیں کے سمجھ نہ سکیں پچھلے اڑھائی سالوں میں کی جانے والی تحقیقات میں آپ اور ہم سب نے دیکھا ٹارکٹ کلنگ، سے لے کر بنک ڈکیتوں تک جو قرضے کی صورت میں لے کر معاف کرائے گے، بچوں کے اغواء سے بچوں کے ریپ تک، آپ نے دیکھا کی ان کا رشتہ کہیں نا کہیں کسی بڑے بزنس مین کے ساتھ ملتا ہے۔

    ہر حکومت میں بزنس مین کی مرضی سے لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو حکومت کے ہر درست اور عوام دوست پیکج میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

    موجودہ اسمبلی میں بیٹھنے والی اپوزیشن ٹوٹل بزنس مین اپوزیشن ہے جو پچھلے 73 سالوں سے لیگل اور الیگل عوام کو چونا لگاتی رہی یہ نہیں کے حکومتی اراکین سب دودھ کے دھولے ہوئے ہیں %35 لوگوں کا تعلق بھی بزنس مافیا سے جُڑا ہوا ہے۔

    جن میں ایک چھوٹی سی مثال امین علی گنڈا پور اور جہانگیر ترین دنیا کے سامنے ہیں۔ اگر اس تحریر سے کسی کا شک و شبہ ہو تو آذاد کشمیر میں پلانٹ کیے جانے والی سردار تنویر الیاس کا ماضی اور مستقبل آپ کے سامنے ہے۔

    اور سابقہ ن لیگ حکومت کا ٹھیکداری نظام بھی آپ کے سامنے ہے پہلے محکموں کے ذریعے کام ہوتے تھے اس حکومت نے ترقیاتی بجٹ جو مطلقہ محکموں کو دیا جانا تھا وہ برائے راست ایم ایل اے کو دیا گیا۔

    جس میں سے 5/5 ۔ 10/10 لاکھ مختلف علاقوں میں چمچوں کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کھانے کو دیا گیا اگر یہ بزنس مین اور ٹھیکداری نظام حکومت کو بدلی نہیں کیا گیا تو ہماری نسلوں کا مستقبل ایک سیاست دان نہیں بلکہ تنویر الیاس جیسا بزنس مین اور فاروق طاہر جیسا ٹھیکدار لکھے گا۔
    ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ضامن تنویر الیاس کے محل کے نوکر یا فاروق طاہر کی بوکلین آپریٹر، یا ڈمپر ڈرائیو لکھیں گے۔۔

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 03 ) ‏تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 2 تحریروں میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ حکومتی ارکان کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں 95٪ لوگ اپنے ضمیر کو بیچ کر ملاوٹ کرنا ، رشوت کے کاموں میں اپنے بچوں کو حرام کی روزی کھلاتے ہیں یاد رکھیں جو خفیہ طریقہ سے ملاوٹ سے کمایا گیا پیسہ حلال نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کرنے والے دام خالص چیز کا لیتے ہیں اس لئے آج بتاؤں گا کہ کیسے لوگ ہلدی میں مصنوعی رنگ ، کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اور جوس میں جعلی رنگ بنا کر بیچ رہے ہیں

    ہلدی میں مصنوعی رنگ کا استعمال:
    کچھ عرصہ پہلے کچھ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کھانوں میں استعمال کی جانے والے ہلدی پاوڈر میں موجود ایک کیمیکل کینسر سے لڑنے میں مدد دیتا ہے لیکن آج کل لوگ لکڑی کے بورے کو پیس کر اس پر پیلا رنگ لگا کر ہلدی میں مکس کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہلدی کا وزن زیادہ ہو جاتا ہے اور سالن کو بہت زیادہ پیلا کر دیتا ہے جبکہ اگر ہلدی کو تھوڑا سا پانی میں ڈالیں تو خالص ہلدی اپنا رنگ نہیں بدلتی اور پانی پر تیرتی رہتی ہے جبکہ ملاوٹ والی ہلدی میں پیسی ہوئی لکڑی کے دانے واضع ہو جاتے ہیں

    کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ:
    کالی مرچ میں کالے چنے کا پیسا ہوا دانہ اس لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ کالے چنے 300 روپے کلو مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ کالی مرچ 1300 روپے کلو دستیاب ہے اس لئے لوگ ملاوٹ کرکے وزن بڑھا کر مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچتے ہیں اور لوگ اس زہر کو خرید رہے ہیں ملاوٹ شدہ مرچ کو کھانے سے منہ میں کر کراپن پیدا ہو جاتا ہے

    جوس میں جعلی رنگ:
    ہمارے معاشرے میں مارکیٹس میں سر عام جوس میں جعلی رنگ کی ملاوٹ کرکے لوگوں کو بیچا جا رہا ہے اور لوگ شوق سے اس زہر کو خرید رہے ہیں جعلی جوس بنانے والے مختلف طرح کے سینٹ (پرفیوم) استعمال کرتے ہیں اور پانی میں اسکرین کی ملاوٹ کرکے بڑی مقدار میں بنایا جا رہا ہے جبکہ حکومتی ارکان بیانات کی حد تک ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور ملاوٹ کی روک تھام کےلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے زیادہ تر جگہوں پر رشوت لے کر منہ بند کر دیئے جاتے ہیں کوئی چیکنگ کرنے والا نہیں ۔ جو جوس تیار کیا جارہا ہے کیا وہ کار آمد ہے یا مضر صحت ہے ۔ مارکیٹس میں بہت سی ایسی اشیاء کی خرید و فرخت ہو رہی ہے جو ایکسپائر ہو گی ہے اور جس کو پینے سے انسان بیمار ہو رہے ہیں لیکن سرِعام سیل ہو رہی ہیں

    اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن لگاۓ جا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ اس قوم میں ملاوٹ، دھوکا دہی اور ناپ تول میں کمی جیسی برائیاں بہت زیادہ پائی جاتی تھیں، انہی بُری عادتوں کی وجہ سے ان پر ﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور پوری قوم تباہ ہوگئی اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

    ‎@JingoAlpha