Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گڑیا ٹوٹ گئی تحریر: راحیلہ عقیل

    گڑیا ٹوٹ گئی تحریر: راحیلہ عقیل

    امی امی امی مجھے بچا لو انکل پلیز مجھے چھوڑ دیں مجھے گھر جانا ہے امی کہا ہو آپ پلیز مجھے بچا لو ابو بھائی مجھے انکل سے بچاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ انکل مجھے درد ہو رہا میرے ہاتھ کھول دو مجھے گھر جانا ہے مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور پھر ایک سناٹا کسی نے وہ درد ناک چیخیں نہیں سنی کسی نے اس معصوم کی فریاد نہیں سنی کسی کو اسکے آنسو دکھائی نا دیے ۔۔۔۔۔ 6سالہ گڑیا گھر کے باہر سے اغواہ ہوجاتی ہے وہ گھر کے باہر کھیل رہی تھی یا چیز لینے دکان پر گئی اسکی ماں کو اندازہ بھی نہیں تھا کے وہ دوبارہ اپنی بچی اپنے جگر کے ٹکڑے جسکو نو ماہ پیٹ میں رکھا درد سہہ کر پیدا کیا راتیں جاگ کر 6سال کا کیا جسکو بخار ہوجاے تو ساری ساری رات ماں گودھ میں لٹائے جاگتی رہتی اب وہ گڑیا کبھی لوٹ کر گھر نہیں آئے گی کبھی ماں سے چیز کے پیسے نہیں مانگے گی۔۔۔۔۔ کبھی ماں سے کھلونوں کی فرمائش نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی بہانا کرکے اسکول کی چھٹی نہیں کرے گی نا ضد کرکے پراٹھا بنوائے گی۔۔۔۔۔۔

    لے گیا کوئی درندہ منہ دبا کر ٹافی، کھلونے ،گھمانے کا بہانا بنا کر مسل دیا معصوم کلی کو کھلنے سے پہلے ہی اپنی گندی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا جس جسم پر ماں بیماری میں انجیکشن لگواتے وقت خود اولاد سے زیادہ روتی اس جسم کو نوچ ڈالا کاش کے کوئی ماں کے درد کو الفاظوں میں لکھ سکتا یہ وہ دکھ درد ہے جسکو کوئی دوسرا محسوس نہیں کرسکتا جن ہاتھوں میں دو دن کی گڑیا کو گھر لاتے وقت ماں بار بار نظر اتار رہی تھی آج وہی گڑیا کچرے خانے پر بنا کپڑوں کے پڑی اس دنیا کو چھوڑ کر جاچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کلیجہ پھٹ جاے یہ وہ صدمہ ہے والدین کے لیے آخر کب تک کب تک؟ ہم معصوم بچیوں کے ساتھ یہ درندگی دیکھتے رہینگے کب ہماری حکومت کو احساس ہوگا کے اب بس ختم کرنا ہے یہ سب لٹکائیں ان درندوں کو سرعام سالوں کیس چلتے آخر میں ضمانت مل جاتی عوام بھول بھال جاتی اور پھر کوئی گڑیا اس ظلم کا شکار ہوجاتی ۔۔۔۔

    اصل میں ہم خود بے حس ہیں ہم خود مطلب پرست ہیں اگر ہم اپنی من پسند جماعتوں کو سپورٹ کرنے کے بجائے عوام مسائل پر مل کر آواز اٹھائیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے لیکن ہمیں تو خود سیاست کرنی ہے ہم نے تو خود لاشوں کے ڈھیر پر کھڑے ہونے والے سیاستدانون کو اپنا رہنما ثابت کرنے کے لیے ہزار جھوٹ بولنے ہیں ۔۔۔۔۔۔
    کاش کے کوئی ایک اٹھے کوئی ایک ایسا آئے جو بچوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کے خلاف سیدھا سنسار کرنے کا حکم دے
    تب ہی یہ سلسلہ رک سکتا ہے ورنہ آج گڑیا کل کوئی اور ۔۔۔۔
    ڈر برابر بنا ہوا ہے ہر اس ماں پر جس کے گھر معصوم بچیاں ہیں اس ڈر کو ختم کون کرے گا ؟
    یہ وہ سوال ہے جسکا جواب آج تک نا ملا آگے بھی امید نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔

  • کیا والدین اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تحریر : مفیدہ شاہ

    کیا والدین اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تحریر : مفیدہ شاہ

    پاکستان کے ایک شمارے کے اندازے کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 46 ملین ہیں
    اس بات سے اندازہ لگائیں
    کہ سوشل میڈیا ایک حقیقت بن چکی ہےاس کے بغیر زندگی گزارنا اب مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں
    تو ایسے میں لازم ہے کہ "والدین اور اساتذہ پوری ایمانداری سے اپنے بچوں اور طالب علموں کو سچ اور جھوٹ،غلط اور صحیح، جائز اور ناجائز کے درمیان فرق کے ساتھ ساتھ مثبت اور منفی رویوں کی بھی پہچان کروادیں”*۔
    پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہورہا ہےاور نوجوان اس کا بڑھ چڑھ کر استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔
    یہ بات قابلِ فکر ہے کہ کوئی بھی *”کم تعلیم یافتہ معاشرہ”* بآسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سےدورہوتاچلاجاتا ہے۔
    آج کل سوشل میڈیا پر ایسے گمنام صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز ومزاح کی آڑ میں گالم گلوج ،بےحیائی اور دہشت پھیلاناہوتا ہے،بڑے متحرک ہیں۔
    ہم سب اس سنگین صورتحال سےآگاہ تو ہیں لیکن روک تھام کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کےغلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کروانا ہوگا تاکہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ رسائی سےپہلے اور رسائی
    کے دوران ان کی بھرپور نگرانی کریں۔

    @muffff9

  • نئے لیڈر کی تلاش تحریر: قلم محمد وقاص شریف

    آ صف زرداری اور نواز شریف کی سیاست سے جلے کٹے عوام کو ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو کرپشن اور لوٹ مار سے پاک قیادت فراہم کر سکے 22 سال تک سیاسی جدو جہد کرنے والا عمران خان جب سامنے آ یا تو ایک بات طے ہوگئی کہ یہ شخص ایماندار اور بے باک ہے نہ کھائے گا نہ کھلاے گا ملک سے روائتی اور باریوں والی سیاست ختم ہو گی کرپشن اور لوٹ مار ماضی کا قصہ بن جائیں گے خان صاحب نے 2018 کے انتخابات میں بڑی شاندار کمپین چلائی۔ انہوں نے ہر جلسے میں ہزاروں لاکھوں لوگوں سے خطاب کیا اور ایک ایسے پاکستان کی نقشہ کشی کی جس کی خواہش ہر پاکستانی کر سکتا ہے عمران خان کی زندگی کی چند مثبت چیزوں سے ہر پاکستانی پہلے ہی مطلعِ تھا اوپر سے جب انہوں نے ملک کو ٹھیک کرنے کے بلند وبانگ دعوے کیے تو یہ بات ہر ایک کو ایسے اچھی لگی ہے جیسے صدیوں کے خواب کو تعبیر ملنے جا رہی ہو عمران خان کے سیاسی کیریئر میں 2018سب سے زیادہ کھل کر سامنے آیا جس میں ان کی شہرت کا گراف بہت اونچا تھا اور توقع یہ تھی کہ وہ کلین سویپ کر دیں گے مگر ڈرامائی طور پر انہیں بہت ہی معمولی برتری حاصل ہوئی مگر پھر بھی وہ حکومت بنا گئے۔ معمولی برتری دلانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ لانے والوں کی ضرورت ہر وقت محسوس ہوتی رہے اور کبھی بھی منہ زوری کا وقت نہ آ ئے حکومت تو بن گئی ہے مگر شروع دن سے ڈیلیوری نام کی کوئی چیز سامنے نہیں آئی عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ چکی ہے تیسرا سال لگ چکا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ نواز زرداری دور کا ہر کام ضرب تقسیم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ بےروزگاری۔ مہنگائی عروج پر ہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے سال حکومت اپنی جگہ بناتی ہے دوسرے سال منصوبے کاغذ پر بنتے ہیں اور تیسرے سال ان پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے تین سالوں میں حکومت نے صرف جگہ ہی بنائی ہے باقی کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بہت ہی مایوس کن مرحلہ ہے لانے والے چاہے عوام ہوں یا فرشتے یہ بات طے ہے کہ اب نئے لیڈر کی تلاش زور وشور سے جاری ہے اور سنا ہے الٹی میٹم بھی دیا جا چکا ہے۔ دعا ہے نئی تبدیلی پرانی تبدیلی جیسی نہ ہو
    @joinwsharif7

  • پولیس کی قربانیاں تحریر: عتیق الرحمن

    پاکستان نے قومی طور پر پولیس فورس کے ان ارکان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بدھ کو ایک خاص دن منایا جنہوں نے ڈیوٹی کی لائن میں اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ ان جوانوں اور پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے جنہوں نے پچھلے بیس سال کی دہشت گردی کی ایک خوفناک لہر میں اپنی جانیں قربان کی اور ملک کا امن بحال کرنے میں خون کا ایک ایک قطرہ لگا دیا
    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سلامی دی
    اسلام آباد میں صدر عارف علوی پولیس کے زیر اہتمام ایک تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور اپنے خطاب میں انہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس دہشت گردی اور جرائم کے خلاف فرنٹ لائن فورس ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اگلے پانچ یا چھ ماہ کیپیٹل پولیس کے لیے ایک چیلنج ہوں گے اور انہیں چوکس رہنے کے لیے کہا۔ آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل رحمان نے شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
    ملک بھر میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں پولیس اہلکاروں اور خواتین کی بہادری کو اجاگر کیا گیا جنہوں نے جرائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ پولیس کے پاس ایک درست نقطہ ہے جب وہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی خدمات کو وہ اعتراف نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ پولیس کی عوامی ڈیلنگ منفی کاموں کو مثبت کاموں سے کہیں زیادہ نمایاں کرتی ہے۔ پولیس ایک امیج کے مسئلے سے دوچار ہے کیونکہ اسے کئی سالوں سے نظرانداز اور مسلسل حکومتوں کے ہاتھوں زیادتی کا سامنا ہے۔ طاقت کی سیاسی کاری ، مدت ملازمت کا عدم تحفظ ، تربیت کا فقدان ، اور ریاست نے پولیس کو جو روایتی کردار تفویض کیا ہے ، ان سب نے قانون نافذ کرنے والوں کو تنقید اور عوامی عدم اعتماد کا نشانہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ، حالیہ برسوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہی قوت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہی ہے اور محدود وسائل کے باوجود قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ پولیس کے افسران اور جوانوں دونوں نے مشکل مشکلات کے باوجود بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اور اکثر اپنی جان کی قیمت پر کامیابی حاصل کی ہے۔
    پولیس کے اس قابل تعریف کردار نے حکومتوں اور عوام کی جانب سے خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کی۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ پولیس کو دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے اور ان کے خلاف غالب آنے کے لیے مناسب پہچان دی جائے۔ اس پہچان کو مزید وسائل ، بہتر امتیازات ، بہتر تربیت ، جدید آلات اور زیادہ سے زیادہ پذیرائیوں میں ترجمہ کرنا چاہیے۔ بین الاقومی طور طریقوں کو سامنے رکھتے ہوئے تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں پولیس کے جوانوں کی عسکری صلاحیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا بھی بھرپور انتظام اور نظام موجود ہو۔
    پولیس اصلاحات ایک ایسا وعدہ ہے جو حکومتوں کی کمزوری کی وجہ سے ادھورا رہتا ہے۔ پولیس اس طرح کی اصلاح کی مستحق ہے جتنی کہ عوام کی خدمت کے لیے۔ اصلاحات کے بغیر اس ادارے سے وہ آئیڈیل نتائج لینا تقریبا ناممکن سا ہے کو ہر ترقی یافتہ ملک کی پولیس فورس سامنے لاتی ہے۔ ایسی اصلاحات لائے جانے کی ضرورت ہے جس سے سیاسی اثرورسوخ بلکل ختم ہوجائے اور پولیس جوانوں کی ملازمت کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔ اس طرح کی اصلاحات پولیس کو سیاسی جوڑ توڑ اور بدسلوکی سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے قابل بنائے گی۔ ہم پولیس کے مقروض ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس طرح کی اصلاحات کو بعد میں نافذ کیا جائے۔
    پاکستان پولیس زندہ باد🇵🇰

    @AtiqPTI_1

  • عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    عظمتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر: عقیلہ رضا

    وزیرِ رسالت ِ مآبﷺ ،جانشینِ مصطفیﷺ ، نظامِ عدل کے آفتاب، دُعاۓ مصطفیﷺ ، عاشقِ مصطفیﷺ، آسمانِ رفعت کے دَرَخشاں ماہتاب، خلیفہ دوئم امیر المؤمنین حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وہ ہستی جن کی تعریف و کمالات کا احاطہ کسی طور ممکن ہی نہیں۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام: عمر
    کنیت: ابو حفص
    لقب: فاروقِ اعظم
    39 مَردوں کے بعد رسولِ کریمﷺ کی دعا سے اعلانِ نبوت کے چھٹے سال 27 برس کی عمر میں ایمان لاۓ۔
    حضرتِ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    "حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی ، اُن کی ہجرت نصرِ الہی تھی اور اُن کی خلافت رحمتِ خداوندی تھی، ہم میں سے کسی کی یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ سکیں مگر حضرتِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام لانے کے بعد مشرکین سے اس قدر جنگ و جدال کیا کہ انھوں نے عاجز آکر مسلمانوں کا پیچھا چھوڑ دیا تو ہم بیتُ اللہ شریف کے پاس اطمينان سے اعلانیہ نماز پڑھنے لگے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اپنا اسلام علی الاعلان ظاہر کیا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں۔
    حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم فرماتے ہیں کہ:
    "عمر(رضی اللہ تعالی عنہ) کے علاوہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو۔
    امیر المؤمنین حضرتِ فاروقِ اعظم کی شان و فضيلت کا اندازہ رسولِ کریمﷺ کے اس فرمان سے لگا سکتے ہیں کہ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ:
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    لَو کَانَ بَعدِی نَبِیُّ لَکَانَ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِِ۔
    یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔
    حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
    اللہﷻ نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
    طبرانی اوسط میں حضرتِ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا:
    مَن اَبغَضَ عُمَرَ فَقَد اَبغَضَنِی
    یعنی جس نے عمر سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔
    اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔
    حضرتِ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زہد و ورع اور تواضع و حلم کی بہترین مثال تھے۔
    حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ روزانہ گیارہ لقمے سے زیادہ طعام ملاحظہ نہ فرماتے۔
    جمادی الاخریٰ 13 ھجری کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوۓ، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دورِ خلافت 10 سال اور چند ماہ پر محیط رہا۔ آپ نے اپنے دس سالہ دورِ خلافت میں بے شمار کارنامے سر انجام دیے، زمین عدل و داد سے بھر گئی، دنیا میں راستی و دیانت داری کا سکہ رائج ہوا، مخلوقِ خدا کے دلوں میں حق پرستی و پاکبازی کا جذبہ پیدا ہوا، فتوحات اس کثرت سے ہوئیں کہ آج تک ملک و سلطنت کے والی و سپاہ و لشکر کے مالک ورطہ حیرت میں ہیں۔
    ابنِ عساکر نے اسماعیل بن زیاد سے روایت کی کہ حضرتِ علی کرم اللہ وجھہُ الکریم کا گزر مسجدوں کے پاس سے ہوا جن میں قندیلیں روشن تھیں ، انھیں دیکھ کر فرمایا کہ اللہﷻ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کو روشن فرماۓ جنہوں نے ہماری مسجدوں کو منور کردیا۔
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکمل فضائل بیان کرنا ناممکن ہے۔
    نمازِ فجر میں ایک بد بخت ابولولو فیروز نامی(مجوسی یعنی آگ پوجنے والے) کافر نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر خنجر سے وار کیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ تیسرے دن شرفِ شہادت سے مشرف ہوگۓ۔ بوقتِ شہادت عمر شریف 63 برس تھی۔
    حضرتِ سیدنا صھیب رضی اللہ تعالی عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور روضہ مبارکہ کے اندر حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلوۓ انور میں مدفون ہوۓ۔
    اللہﷻ کی ان پر بے شمار رحمتیں نازل ہوں اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
    آمین۔

    اسلام آباد
    @aqeela_raza

  • پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا اصل ذمہ دار تحریر: محمد حارث ملک زادہ۔

    پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا اصل ذمہ دار تحریر: محمد حارث ملک زادہ۔

    کیونکہ قرض رات کا غم اور دن کی رسوائی ہے ".
    یہ حدیث زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے ، چاہے وہ کوئی انسان ہو یا کاروبار ہو یا کوئی ملک وغیرہ سب کے لیے انتہائی اہم اور فائدہ مند ہے ۔
    قرض کے زیرِ بحث عنوان پر میں صرف ایک ملک یا حکومت پر ہی تفصیلی بات کرو گا جو کہ پاکستان ہے، حکومتی قرض کا مطلب کہ کسی ملک یا حکومت پر واجب الادا قرضہ ہے۔ حکومتی قرضوں کی بات یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور قرض ادا کرنے والا کوئی اور۔ پاکستان کو ہی مدنظر رکھا جائے قرضوں کے بوجھ کے ذمہ دار حکومتوں کے قرض لینے والے بد دیانت/کرپٹ لیڈر ہوتے ہیں جبکہ حکومت کا یہ سارا قرضہ آخر کار اس ملک کے ٹیکس دھندگان کو بھرنا پڑتا ہے جس پر سودبھی شامل ہوتا ہے۔ حکومتی قرضوں کے بو جھ نے اُن آنے والی نسلوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے بارے میں تفصیل میں جانے سے پہلے اصل ذمہ دار وں کا ذکر کردو کہ پاکستان کے قرضوں کا ذمہ دار صرف اور صرف "پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن کے نااہل و چور سیاستدان، کرپٹ بیوروکریٹ، اشرافیہ وغیرہ ” ہیں۔ 70 سال کے اتنے بڑے بوجھ کا خمیازہ اور اثر موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اعدادوشمار کے اندازہ کے مطابق پاکستان پر 116309ملین امریکی ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے ،اس لحاظ سے ہر پاکستانی شہری پر 1.70 لاکھ کا پاکستانی روپےکے حساب سے قرضہ ہے۔ قرضوں کے اس بوجھ کے علاوہ پاکستان کو ان قرضوں کا سالانہ اربوں کا سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے، شرح سود ذیادہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی سالوں تک ملک سے قرضوں کا انبار ختم نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے اصل ذمہ داروں کا اعدادوشمار کے ساتھ تعین / ثابت کرتے ہیں۔
    1947 قیام پاکستان کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے خاطر خواہ سرمایہ نہیں دیاگیااور اس کے علاوہ مقامی پیداواری صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے ملک کی کمزور معیشت کو چلانے کے لیے مجبوراَ قرض لینا پڑا جو کہ صدر جنرل ایوب خان کے دور تک 50 3 ملین ڈالر تک تھا، صدر ایوب خان کا دور پاکستان کے سنہری ادوار میں سے تھا جس میں پاکستان نے کافی ترقی کی کیونکہ قرض کااستعمال صحیح ہواتھا جس کے منافع سے 180 ملین ڈالر قرض ادا کر کے 50 3 ملین ڈالر کے قرضے میں 170 ملین ڈالر رہ گیا تھا اسی لیے صدر ایوب خان پاکستان پر قرضے کے انبار کے ذمہ دار نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں قرضہ واپس کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر ایوب خان کا دور وہ تھا جس میں پاکستان بھی دوسرے ملکوں کو قرضہ دینے شروع ہوگیا تھا، جس کی بڑی مثال آج کی دنیا کی چو تھی بڑی معیشت جرمنی کی جس کو پاکستان نے قرضہ دیا تھا۔پھر صدر ایوب خان دور کے بعد شہید ذالفقار علی بھٹو کے دور میں 6320 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ ایک دم لمبی چھلانگ تھی۔ جس کی اہم وجہ سقوط ڈھاکہ ہے جس سے اکستان کو بھارت سے جنگ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا تھا، اس کے علاوہ اپ خود اندازہ کر سکتے ہیں، پاکستان کی پیداواری زرائع میں کمی کا سامنا ہوگیا۔ شہید ذالفقار علی بھٹو کے دور بعد جنرل ضیاءالحق کے حکومت سنبھالنے کے بعد بھی پاکستانی معیشت میں بہتری نہ ہوسکی جس کے سبب پاکستان کا بیرونی قرضہ ڈبل کو 12913 ملین ڈالر تک ہوگیا۔لیکن اس قرضہ کی اتنی تیز رفتار سے بڑھنے کی وجہ ہے کہ صدر ایوب خان کا دور کی طرح قرضہ کا استعمال ہوتا ہوا نظر بھی آیا جس میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ، چھوٹے ڈیمز ، جنگی ہتھیار ، صنعتیں وغیرہ نمایا ں ہے لیکن ان قرضوں کی واپسی ممکن نہ ہوسکی جس کی وجہ سے جنرل ضیاءالحق کی شہادت کے بعد بینظر بھٹو کے اقتدار سنبھالنے سے اور پھر نواز شریف کی حکومت کے اختتام پر یہ قرضہ 39000 ملین ڈالر تک جا پہنچا تھا جو کہ جنرل ضیاءالحق کے دور سے تین گنا ذیادہ تھا اس کے برعکس پاکستان معیشت میں بھی خاطر خواہ بہتری نہ ہوئی۔ نواز شریف دور میں زیادہ توجہ موٹرویز کی طرف رہی جس سے معیشت کو کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ملکی قرضوں میں اضافہ سے سود کی ادائیگی کے لیے انہی موٹرویز کو گروی رکھوا کر اوپر سے اور قرضے لیے گئے۔ پھر جنرل صدر پرویز مشرف کے دور میں صدر ایوب خان کی طرح قرضوں کی واپسی کی گئی جس میں صدر پرویز مشرف نے 5000 ملین ڈالر قرضہ بھی کیا اور ملکی معیشت میں بھی بہتری ہوئی۔ صدر پرویز مشرف کے بعد نااہل پیپلزپارٹی نے ماضی کی طرح ملکی معیشت کا کباڑہ کرکے ایک بار پھر قرضوں میں ریکارڈ اضافہ کردیاجس کے مطابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 39000 ملین ڈالر قرضوں میں سے 5000 ملین ڈالر کی ادائیگی سے 34000 ملین ڈالر کے قرضے میں صدر زرداری نے تاریخی 14000 ملین ڈالر کا اضافہ کیا ۔جس سے صاف صاف ثابت ہوتاہے کہ کرپٹ اور نااہل سیایسی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے ملک کو مقروض کیا ہے لیکن اس کے قرضہ کا صحیح استعمال نہ کرکے معیشت میں بہتری نہ ہوئی بلکہ وہ سود کی اادائیگی سے پہلے سے بھی زیادہ تباہ ہوگئی اسی لیے یہ سیایسی حکمرانوں ہی ذمہ دار ہیں ۔ 2013 میں نوازشریف نے دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے بعد صدر زرداری کے قرضوں کا ریکارڈ توڑ ڈالا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے 35000 ملین ڈالر قرضہ لے کر ملکی قرضے کو 84000ملین ڈالر تک پہنچا دیا حسب روایت نوازشریف موٹرویز و بجلی گھروں کا روگ الاپتے رہے لیکن حقیقت چھپا کر عوام کو بیوقوف بنایا اور اپنا ووٹ بنک اور ذاتی دولت بناتے رہے ۔
    پاکستان پر قرضوں کے انبار کی وجوہات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ ، نااہل ، کمیشن خور، مفادپرست، چور سیاست دان ہیں جوکہ بڑی بڑی وازتوں پر فائض ہوکر اپنے خاندانوں و نسلوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کرپٹ و کمیشن خور بیوروکریسی کے ساتھ ملی بھگت سے بڑے بڑے قرضے ملکی ترقی کے نام پر لے کر بیشتر حصہ اپنے جیبوں میں ڈالتے رہے ہیں، اس کے برعکس جب بھی کسی ڈیکٹیٹر نے حکومت سنبھالی تو ملکی قرضوں میں کمی ہوئی یا ملکی قرضوں کا صحیح استعمال ہوتا ہوا نظر آیا ہے اسی لیے میرے نزدیک ڈیکٹیٹر ملکی قرضوں کے کسی بھی صورت میں ذمہ دار نہیں ٹھہرتے ہیں ، ذمہ دار صرف سیاست دان ہی ہیں۔
    ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ملکی احتساب کے اداروں سے مطالبہ ہے کہ ان چور سیاست دان کے گرد گھیر تنگ کرکے ان تمام قرضوں کا تفصیلی حساب لینا ضروری ہے کیونکہ موجودہ حالات میں حکومتِ وقت سے خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے ملک چلانا انتہائی ناممکن ہو رہاہے اسی کیے تمام سیاستدانوں و بشمول بیوروکریسی کے احتساب کر کے نشان عبرت بنایا جائے اور تمام تر ملک کی لوٹی گئی دولت کو واپس لیا جائے ۔ اللہ پاک پاکستان کو تمام تر مشکلات سے نکال کر ، عرج عطا فرمائے آمین ۔
    پاکستان زندباد
    پاک فوج زندہ باد

    @HarisMalikzada

  • نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    دور حاضر میں ٹیکنالوجی نے جہاں ایک طرف بنی نوع انسان کو آسانیاں اور آسائشیں فراہم کی ہیں وہاں اس کی وجہ سے ان گنت سماجی و معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔
    سوشئیل میڈیا ایپلیکیشنز کے حوالے سے اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایپلیکیشن رابطے کا آسان ذریعہ ہیں لیکن شہرت اور تفریح کے لئیے ایسی ایپلیکیشنز کا بے جا استعمال نہ صرف وقت کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی بھی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
    مشرقی تہذیب و کلچر اسلامی تعلیمات کی بہترین عکاس ہے اور یورپ کی تہذیب سے قطعی مختلف ہے لیکن ٹیکنالوجی نے دنیا کے فاصلوں کو مٹاتے ہوئے تمام تہذیبوں اور معاشروں کو ایک ہی مقام پہ لا کھڑا کیا ہے ۔
    ٹک ٹاک ایک سوشیل میڈیا ایپلیکیشن ہے دنیا بھر میں جس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔
    ٹک ٹاک نامی ایپلیکیشن چائنہ کے ژانگ یمنگ نامی ایپ ڈویلپر نے 2016 میں بنائی۔ یہ لوگوں میں اتنی مقبول ہوئی کہ چند سالوں میں اس نے یوٹیوب اور فیس بک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔
    2018 میں ٹک ٹاک نے ایک اور شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن میوزیلکی کو 2 ارب ڈالر میں خرید لیا ۔
    ٹک ٹاک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ایپلیکیشن کو پلے سٹور سے اب تک تقریباً ڈیڑھ بلین مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے ۔
    پاکستان میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ بھارت میں ٹک ٹاک کے 13 کروڑ صارفین موجود ہیں۔
    ٹک ٹاک ایک شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن ہے ۔ جس کے صارفین نے 15 سیکنڈز پر محیط ویڈیو بنا کر اس پر اپلوڈ کرنا ہوتی ہے ۔
    نوجوانوں میں ٹک ٹاک کا بڑھتا ہوا جنون معاشرے میں نہ صرف بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ کچھ صارفین ٹک ٹاک کے ذرئعیے شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئبے بے ہودہ اور فحش حرکات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
    ان نام و نہاد سوشئیل ایپلیکیشنز نے لوگوں کی سماجی ذندگیوں کو محدود کر دیا ہے۔ رشتے داروں اور عزیز و اقارب سے میل جول اور ان کے ساتھ تعلق داری مسدود ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں قطع تعلقی اور معاشرتی نفرتیں اور کدورتیں عام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
    ٹک ٹاک کے صارفین میں مردوں سے ذیادہ تعداد عورتوں کی ہے ۔
    معاشرے میں ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی اور بے راہ روی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے متعدد بار اس ایپلیکیشن پر پابندی لگانی چاہی لیکن ہر بار سیکولر طبقہ آڑے آ گیا۔
    سیکولر طبقہ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کو آزادی اظہار رائے پر پابندی لگائے جانے کے مترادف سمجھتا ہے۔
    ٹک ٹاک لوگوں کو اسلام سے متنفر کر رہی ہے چناچہ ہماری نوجوان نسل اسلامی تعلیمات میں عدم دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے جس کے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔
    ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی کو روکنے کے لئیے کسی مؤثر لاحئہ عمل کی شدید ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کی فحش حرکات کو محدود کیا جا سکے ۔
    ہمارے تعلیمی ادارے جن کو تحقیق و تصنیف کا مرکز و منبع ہونا چاہئبے تھا وہ بھی ٹک ٹاک کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے ۔ چناچہ تعلیمی اداروں میں ذیر تعلیم طلبہ ٹک ٹاک بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
    کسی بھی انسان کی جوانی اس کی ذندگی کے اداور میں سب سے قیمتی وقت ہوتا ہے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے لئیے بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان اپنے مستقبل سے بے فکر ایسی لغویات میں الجھے دکھائی دیتے ہیں جو قابل فکر اور باعث تشویش ہے۔
    قابل غور امر یہ بھی ہے کہ بے راہ روی کے ساتھ ساتھ ہمارے نوجوان بے ادب اور ذیادہ پر اعتماد ہو چکے ہیں جس میں ایسی ایپلیکیشنز کے استعمال کا بہت ہاتھ ہے۔

    اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور نشو نما , شہرت اور دولت کے حصول کے لئیے ٹک ٹاک کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز موجود ہیں جو ٹک ٹاک سے ذیادہ بہتر ہیں کیونکہ 15 سیکنڈز کی ویڈیو میں کیونکر کسی کی صلاحیتیں اجاگر ہو سکتی ہیں۔
    یوٹیوب اور فائیور جیسے پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز پہ اپنی صلاحیتوں کو پیشے کے طور اپنا کر معاشرے کا کوئی بھی فرد نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا بہتر طور پہ اظہار کر سکتا ہے بلکہ ایک باعزت روزگار بھی حاصل کر سکتا ہے۔
    لیکن ہمارے نوجوان بغیر محنت کئیے اور کسی بھی ڈیجیٹل ہنر میں مہارت حاصل کئیے بغیر صرف 15 سیکنڈز کی ویڈیو کے ذرئعیے شہرت اور دولت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔
    مغربی ممالک ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکے ہیں چناچہ ان کی تیار کردہ ایسی ایپلیکیشنز کو استعمال کرنے والے ہم ہی ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ اپنے نوجوانوں میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کریں کہ صرف ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال شہرت , عزت اور دولت عطا نہیں کر سکتا بلکہ ہمیں ٹیکنالوجی میں خود مہارت حاصل کرنا ہو گی کیونکہ آخر وہ بھی تو ایک نوجوان تھا جس نے ایسی ایپلیکشن کو بنا کر دولت , عزت اور شہرت حاصل کی ۔
    دنیا میں اپنے وقار اور معیار کو بلند رکھنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے جدید پہلوؤں کے متعلق آگاہی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان اس ڈیحیٹل شعبہ ذندگی سے وابستہ ہو کر معاشرے کے باعزت اور باوقار شہری بن سکیں اور خرافات و بے ہودہ حرکات سے باز آ سکیں۔

    @alihaiderrr5

  • تکبر ایک معاشرتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    تکبر ایک معاشرتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    معاشرے میں پائی جانی والی معاشرتی بیماریوں میں تکبر بھی ایک معاشرتی بیماری ہے جو ہمارے معاشرے میں عام ہے اور اسے آجکل برا بھی نہیں سمجھا جاتا جبکہ تکبر ہمارےرب کو بالکل پسند نہیں ، متکبر شخص کا ٹھکانہ جہنم بتایا گیا ہے ، تکبر حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں کہ تکبر میری چادر ہے عظمت میرا ازار ہے پس جو کوئی مجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کرے گا میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔
    سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 699
    اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 15۝۞
    ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔(سورۃ السجدہ 15)
    وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۣ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 31؀
    اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا (اُن سے کہا جائے گا )، ’’ کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے ۔
    (سورۃ الجاثیہ 31)
    جبکہ تکبر کرنے والوں کیلئے آخرت میں بھی رسوائی ہی مقدر ہے
    وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَي النَّارِ ۭ اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ۚ فَالْيَوْمَ تُجْـزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْـتَكْبِرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ 20؀ۧ
    پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا : ’’ تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں ان کی پاداش میں آج تم کو ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا ۔(20سورۃ الاحقاف )حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنی ازار تکبر سے لٹکائے ہوئے جا رہا تھا کہ زمین میں دھنس گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 744
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر سے اپنے کپڑے کو لٹکائے گا قیامت کے دن خداوند تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر سے نہ دیکھے گا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا میرے کپڑے کا ایک کونہ لٹک جاتا ہے ہاں میں اس کی نگہداشت رکھوں تو خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تم تکبر نہیں کرتے-صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 912

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑا کریں گی دوزخ کہے گی کہ میں متکبر اور ظالم لوگوں کے لئے مخصوص کردی گئی ہوں اور جنت کہے گی کہ مجھ کو کیا ہوگیا ہے کہ مجھ میں صرف کمزور اور حقیر لوگ داخل ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ کہ تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت کروں گا اور جہنم سے فرمائے گا کہ تو عذاب ہے میں تیرے ذریعہ سے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کے لئے بھرنے کی ایک حد مقرر ہے لیکن دوزخ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا تو وہ کہے گی کہ بس بس اس وقت دوزخ بھر جائے گی اور ایک حصہ دوسرے حصہ سے مل کر سمٹ جائے گا اور اللہ بزرگ و برتر اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرتا اور جنت کے لئے اللہ تعالیٰ ایک دوسری مخلوق پیدا کرے گا۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2058
    حارث بن وہب، خزاعی ؓسے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں وہ ہر کمزور اور حقیر ہے اگر اللہ پر کوئی قسم کھالے تو اللہ اس کو پورا کردے کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں وہ شریر مغرور اور تکبر والے لوگ ہیں
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2130
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو جنتی لوگ نہ بتا دوں وہ کمزور اور مظلوم ہیں، اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ اسے پورا کر دیتا ہے اور دوزخ میں جانے والے مغرور اور سرکش اور متکبر لوگ ہیں۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1595
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جو تی بھی اچھی ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 266
    حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 267

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اس آدمی کی طرف نظر نہیں فرمائے گا کہ جو آدمی اپنا کپڑا زمین پر متکبرانہ انداز میں گھسیٹ کر چلے۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 956

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی چلتے ہوئے جارہا تھا اسے اپنے سر کے بالوں اور دونوں چادروں سے اتراہٹ (یعنی تکبر)پیدا ہوئی تو اس آدمی کو فورا زمین میں دھنسا دیا گیا اور قیامت قائم ہونے تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 968
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ رب العزت آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ،زور والے(جابر)بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں زور والے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے کہاں ہیں؟ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2550

    حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی (ریشمی کپڑا) پہننے سے اور سرخ زین (پرسوار ہونے) سے (اس لیے کہ ان چیزوں سے آدمی متکبر ہوجاتا ہے کیونکہ یہ غرور و فخر کی چیزیں ہیں)۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 661
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور تکبر سے محفوظ رکھیں- آمین یا رب العالمین

    @mmasief

  • ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ‏نظریہ پاکستان – لا الہ الا اللہ . تحریر : سید غازی علی زیدی

    برصغیر پرپہلے مسلمان کے قدم رکھتے ہی نظریہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ مسلم و ہندو ایک نہیں دو الگ الگ اقوام؛ یہ تفریق جنس، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس نظریہ کی بنیاد پر ہے جس سے زیادہ مضبوط بنیاد روئے زمیں پر کوئی اور ہو نہیں سکتی اور وہ ہے لا الہ الا اللہ۔ یہی کلمہ نظریہ پاکستان کی روح ہے اور مسلمانان عالم کا ایمان بھی۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی اور اسی عقیدہ پر تاقیامت قائم دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

    تقسیم ہند سے پہلے برصغیر میں مختلف قومیتیں آباد تھیں جن میں ہندوؤں کی غالب اکثریت تھی۔ جب تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی رہی کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوا کیونکہ دین اسلام رعایا کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی دیتا۔ مسلم بادشاہت کے مختلف ادوار میں ہندو وزیروں مشیروں تک کے عہدے پر فائز تھے۔ انہیں مذہب و سماج کے معاملات میں پوری آزادی و خودمختاری حاصل تھی۔ لیکن انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ کرتے ساتھ ہی ہندوؤں کی صدیوں پرانی چھپی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آ گئی۔ ہندو بنیے کی ازلی فطرت "بغل میں چھری منہ میں رام رام” پورے طور پر آشکار ہو گئی۔ تہذیب، طرز بودو باش، نظریاتی فکر، کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت غرض ہر شعبہ میں اختلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہتی دو الگ قومیتوں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہ رہی۔
     اس نازک صورتحال میں کچھ مسلم اکابر و رہبران نے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی ٹھانی کیونکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ہندو بنیا نے اپنی مکاری و عیاری کے زریعے انگریز سرکار کو شیشے میں اتار لیا ہے اور تاج برطانیہ ہندو کو برصغیر کا اگلا حاکم تصور کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مربوط و منظم لائحہ عمل نہ اپنایا گیا تو مسلمانان برصغیر ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں پر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزادی سے زندگی بسرکرسکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کی زیر قیادت انتھک جدوجہد کی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ تقسیم ہندوؤں نے کبھی دل سے قبول نہیں کی۔

    قائد اعظم کی بہترین حکمت عملی کی بدولت انگریز اور ہندو نے مسلمانوں کے الگ ملک کے مطالبے کو تسلیم تو کر لیا لیکن ساتھ ہی تقسیم کے دوران منافرت، منافقت، اور تشدد آمیز رویے سے وہ بیج بویا جس کا زہریلا پھل آج بھی بھارتی مسلمان کھانے پر مجبور ہیں۔ کئی بتوں کے پجاری منہ میں کئی زبانیں اور سینے میں بغض و نفرت بھرا دل رکھتے ہیں۔ وہ متعصب قوم جس کی بنیاد ہی چھوت چھات اور ذات پات پر رکھی گئی ہو وہ بھلا کیسے ایک خدا کو ماننے والوں کو برداشت کر سکتے؟ مکاری میں ید طولیٰ رکھنے والے، جن کی پوری سیاست جھوٹ ‘ فراڈ‘ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی کی بنیاد پر قائم ہے وہ بے غرض کیسے کسی اور قوم کے ہمدرد ہو سکتے؟

     قائداعظم ؒ، ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، سرسید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر اور دیگر رہنما و رہبر اگر اپنی دور اندیشی اور بصیرت افروزی کی بدولت آج کے ہندوتوا نظریے کو نہ جانچتے تو ہمارا حال بھی بھارتی و کشمیری مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتا۔ جن کی نہ تو عزتیں محفوظ ہیں نہ جان۔ نہ مذہبی آزادی ہے اور نہ ہی کوئی معاشرتی مقام۔ گنتی کے چند مسلمان فنکار ہیں جن کو بھارت سیکولرازم کا جھوٹا چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے عزت دیتا اور وہ فنکار بھی ہندو سرکار کو خوش کرنے چکر میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر بن چکے ہیں۔ کبھی ہندو عورتوں سے شادی کرتے تو کبھی بتوں کو سجدہ کرتے۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں سے ان کو مسلسل خطرہ رہتا۔

    آئیے مل کر سجدہ شکر ادا کریں اور جدوجہد آزادی کے علمبرداروں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کریں جن کی بدولت ہم آزاد مملکت کی آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

    بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
    جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

    @once_says

  • پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے     وزیر اعظم عمران خان

    پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے وزیر اعظم عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آخر کار پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب فریق قبول کریں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے ٹوئٹ میں ووٹنگ مشین چیک کرنے کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ہماری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سےپاکستان میں تیارکردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینزکامعائنہ کیا-

    بھارت خود ساختہ جھوٹ گھڑنے اور حیلے بہانے تراشنے سے باز رہے ترجمان دفتر خارجہ

    وزیر اعظم نے لکھا کہ لیکٹرانک ووٹنگ مشینزکامعائنہ کرتے ہوئے بالآخریہ دکھائی دینے لگاہےکہ پاکستان میں ہمیں ایسےانتخابات میسر آئیں گےجن میں حصہ لینےوالےتمام امیدوار نتائج تسلیم کریں گے-


    وزیر اعظم نے اپنی ٹوئٹ میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز اور ان کی ٹیم کو مبارکباد بھی دی-

    یو اے ای حکومت سے ضروری ریپڈ ٹیسٹ کی بجائے اینٹیجن ٹیسٹ قبول کرنے کی درخواست کریں…

    این سی او سی کی تشکیل کے 500 دن مکمل ہونے پراسد عمر کی خصوصی ٹوئٹ