Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جَدوجہد  تحریر: افشین

    جَدوجہد تحریر: افشین

    ایسی سَرزَمین جس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بہت قربانیاں دیں اور اپنے لہوُ دے کے ایک مملکت حاصل کی جس کو پاکستان کہتے ہیں عَلامہ اقبال مفٙکر پاکستان کے خواب کو مملکت پاکستان بنانے میں قائداعظم محمد علی جناح کی کوشش اور ہمارے تمام آباواَجداد کی قربانیاں شامل ہیں اسلام کا پرچم لہرانے ، آزادی سے جینے اور امن کا گہوارہ بنانے کے لیے یہ مٹی کا ٹکڑا حاصل کیا گیا یہ مٹی کا ٹکڑا ہمارے لیے اپنی جان سے بڑھ کے ہے اسکی حفاظت کے لیے تادم ہم لڑتے رہینگے کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھے گا ہم اسکی آنکھیں چیر دیں گے اپنی عبادت و فرائض انجام دینے اور ہندوؤں کے تسلط سے نکلنے کے لیے یہ وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم اپنے شہداء اور آباواجداد کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے انگریزوں کے چُنگل سے نکلنے کے بعد ہم ہندووں کے زیر تسلط آجاتے اور ہمیشہ کے لئیے غلامی کی زنجیر میں جھکڑ دیے جاتے سانس لینا صرف جینا نہیں ہوتا ایک جَدوجہد کا نام جینا ہے اور یہی جَدوجہد وطن پاکستان کی صورت میں حاصل ہوئی. کوشش کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں آزادی کا سورج 14 اگَست 1947 کو طلوع ہوا اس جَدوجہد سے کتنے چہروں پہ مسکان آئی آزادی کیا ہے ؟اس گھڑی کے کارواں سے پوچھےجن کی انتھک کوشش جب پروان چڑھی تو کیا تاثرات تھے آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ انکے لیے وطن عزیز حاصل کرنا کیا معنی رکھتا تھا وہ خود تو اب نہ رہے پر اپنی نسلوں کے لیے مثالِ جہاں بنے۔دنیا کی تاریخ میں سُنہرے حروف میں یہ سبق دے گئےکہ کیسے انسان کی کوشش اسکو کامیاب کرتی ہے جب تک کوشش نہ کی جائے کچھ حاصل نہیں.
    اس وقت سرمایہ تک درکار نہ تھا بے گھر افراد کے پاس کھانا پینا تک دستیاب نہ تھا کچھ کو چھت تک نصیب نہ تھی. درویشی سی حالت تھی جہاں پڑاوُ ڈال لیا حالات بہت ناسَازگار تھےآمدورَفت کے ذرائع تک موجود نہ تھے پر موجودہ دور میں رَبّ پاک کا کرم ہے اس ملک میں سب کچھ موجود ہے بس اس ملک کے غداروں کی وجہ سے حالات خراب رہتے ہیں ورنہ اب تک ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہوتا جس ملک کے لیے ہمارے آباواجداد نے جانوں کے نذرانے دیے اس ملک کو اسی میں موجود غداروں نے لوٹ لیا ہمیشہ اس ملک کو آپنوں سے نقصان پہنچا۔
    ہر سال ہم جشّنِ آزادی مناتے ہیں اور اپنے آباواجداد کی جَدوجہد کو سراہتے ہیں ۔ پہلے پہل آزادی کے دن جسم میں ایک روح جیسے پھونک دی جاتی ایک احساس سا پیدا ہوتا لہو میں آزادی کی ایک لہر دوڑتی جنون ہے آزادی ۔ پرواز ہے آزادی
    اب بھی جوش و خروش سے آزادی کی تقریب منائی جاتی ہے وطن سے محبت کبھی کم نہیں ہوسکتی جشن آزادی منانے کا انداز ضرور بدلہ ہے پر وطن پہ جانثار ہونے کے لیے لہو میں گرم جوشی اب بھی ویسی ہی موجود ہےحالات بدلتے گئے کارواں بڑھتا گیا بہت سے بُرے حالات آئے دہشت گردی، سیلاب، زلزلے جیسی مشکلات سے بھی سامنا کرنا پڑا پر میرے وطن کے جیالوں جانبازوں نے کبھی ہمت نہ ہاری ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد کو روکا نہیں اس ملک کے حالات جو کچھ لوٹیروں کی وجہ سے خراب ہیں ان حالات سے نکلنے کے لیے اس ملک کو اس قوم کے ہر فرد کی ضرورت ہے ہم سب مل کے اپنے ملک کو مضبوط بنانا ہے اپنی جَدوجہد جاری رکھنی ہے وطن حاصل تو کرلیا اب اس کو ترقی یافتہ ممالک میں سر فہرست لانا ہے اس ملک کے رکھوالے بنے اس دھرتی سے ہی ہمارا امن وایمان ہے۔

    #

    @Hu__rt7

  • محنت ایک ضروری چیز ہے  تحریر : ابراھیم

    محنت ایک ضروری چیز ہے تحریر : ابراھیم

    جو ہم سب کو زندگی میں درکار ہے۔ محنت کے بغیر عظمت حاصل کرنا ناممکن ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، ایک بیکار شخص کچھ حاصل نہیں کر سکتا اگر وہ بیٹھ کر کسی اور چیز کا انتظار کرنا چاہے۔ دوسری طرف ، جو مسلسل محنت کرتا رہتا ہے وہ یقینی طور پر زندگی میں کامیابی حاصل کرے گا محنت کی اہمیت۔
    محنت اہم ہے اور تاریخ نے اسے بار بار ثابت کیا ہے۔ عظیم ایڈیسن دن میں کئی گھنٹے کام کرتا تھا اور وہ اپنی لیبارٹری ٹیبل پر صرف اپنی کتابوں کے ساتھ اپنے تکیے کے طور پر سوتا تھا۔اسی طرح ہندوستان کے وزیر اعظم مرحوم پ. نہرو دن میں 17 گھنٹے اور ہفتے میں سات دن کام کرتے تھے۔ اس نے کسی چھٹی کا مزہ نہیں لیا۔ ہمارے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کی آزادی کے لیے چوبیس گھنٹے کام کیا۔اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کی محنت کا نتیجہ نکلا۔ کسی کو محنت کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں ، انسان کام کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ سٹیل کی طرح ، وہ استعمال میں چمکتا ہے اور آرام سے زنگ آلود ہوتا ہے۔اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کی محنت کا نتیجہ نکلا۔ کسی کو محنت کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کو اپنے خوابوں کو حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جب ہم زندگی میں سخت محنت کرتے ہیں تو ہم کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں اور کسی بھی رکاوٹ کو دور کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ، ہم یہ جان کر بھی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا سب کچھ دیا ہے اور جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اس میں اپنی پوری کوشش کی ہے۔

    محنتی ہمارا کردار بناتا ہے کیونکہ ہم زیادہ نظم و ضبط اور توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ محنتسے ہم اپنے وقت اور وسائل کا انتظام کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات ہم کچھ چیزوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہار ماننا آسان ہے۔
    ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ آسان چیز کبھی بھی کردار نہیں بناتا۔ محنتی ہمارے جسم میں دو اہم چیزیں بناتا ہے: پٹھوں اور کردار کیونکہ وہ دونوں چیزیں ایک ہی طرح سے تعمیر کی جاتی ہیں۔ محنت کا نتیجہ کامیابی نہیں ہے۔ یہ کردار ہے.

    محنتی ہمیں بہت سی چیزیں سکھاتا ہے، جیسے کچھ سیکھنا، کچھ بنانا اور کچھ بدلنا۔ ان تینوں کا ایک آخری نکتہ ہے: نتیجہ۔ بہت سے لوگ کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں لیکن وہ ایسا کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے ہیں۔ اگر ہم کچھ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سخت محنت کرنی چاہئے کیونکہ سستی ہمیں وقت اور وسائل ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔
    بعض اوقات ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ محنتی کچھ پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے لئے سخت محنت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے جس کے لئے خوشی ہے: خود۔ اس کے باوجود ہمیں یہ سوچے بغیر دوسروں کو خوش کرنے کے لئے بھی سخت محنت کرنی چاہئے کہ اس کا کریڈٹ کس کو ملے گا۔ کیونکہ اگر ہم دوسروں کو خوش کرنے کے لئے سخت محنت کریں گے تو ہمارے پاس غیر متوقع طریقوں سے بدلے میں کچھ ہوگا۔ ہماری محنت کا نتیجہ احساس یا مصنوعات کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ اس طرح، ہم دو فوائد حاصل کرتے ہیں: خوشی اور مصنوعات۔

    @kamboh292

  • بھیک مانگنا ایک گناہ ہے  تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    بھیک مانگنا ایک گناہ ہے تحریر: اعجاز احمد پاکستانی

    ایک دفعہ ایک غریب و مفلس شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے مدد طلب کی. حضور اکرم ﷺ اگر چاہتے تو اسکی مدد کرسکتے تھے خود یا پھر کسی صحابیؓ سے کہہ دیتے مدد کرنے کو. اگر پیغمبرِ اسلام ﷺ ایسا کرتے تو انکی وقتی مدد تو ہوجاتی لیکن دوسرے دن پھر اسکو ضرورت ہوتی اور انکو مانگنے کی عادت پڑ جاتی اس لئے ایسا کرنے کے بجائے پیغمبرِ اقدس ﷺ نے اس کے جسم پر لپٹے کمبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ تمہارا اپنا ہے؟ اس نے جواب ہاں میں دیا. حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس سے وہ کمبل لیا اور بازار جا کر وہ بیچ دیا. اس سے جو رقم حاصل ہوا اس سے ایک کلہاڑی اور رسی خریدی اور جو تھوڑے بہت پیسے بچے وہ اس کے ہاتھ میں دئے اور فرمایا یہ کلہاڑی اور رسی لو اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لایا کرو اور وہ لکڑیاں بیچ کر اپنا کام چلایا کرو اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیگا.
    اسی طرح کی ایک مثال چینی زبان کا بھی ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی آئے اور ایک وقت کا کھانا مانگے تو اس کو ایک وقت کھانے کیلئے ایک مچھلی نہ دے بلکہ اسے ایک جال دو مچھلیاں پکڑنے کیلئے تا کہ وہ مچھلیاں پکڑے اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست خود کرے.
    کتنی تعجب کی بات ہے چینیوں نے تو اس کہاوت پر عمل درآمد کرکے خود کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور دوسری طرف ہم اپنے پیغمبرِ اکرم ﷺ کی منشاء کے خلاف چندوں، بھیک اور مانگنے کے خوگر ہوگئے. بھیک مانگنا باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے نہ کہ ایک مجبوری اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہے. لیکن کیا کرے ہم تو 10، 20، 50، 100 پکڑا کر جان چھڑا لیتے ہیں جو کہ دراصل یہ ہماری طرف سے اس کو پروان چڑھانے میں ہمارا کردار ہوتا ہے لیکن ہم اس پہلو کو سوچتے ہی نہیں.
    اور یہ کوئی شاذ و نادر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ صرف عوامی سطح سے ممکن ہوتا ہے بلکہ ہماری حکومتیں بھی لوگوں کو عارضی امداد دے کر بھکاری بنا دیتی ہیں. ہماری پچھلی سے پچھلی حکومت نے تو اس کام کو اتنا بامِ عروج پر پہنچادیا تھا کہ سیدھے سیدھے اپنے کام کرنے والے اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کمانے کا تصور ہی ختم ہوگیا تھا. اس حکومت نے اس رقم میں اور بھی اضافہ کر دیا. یہ اچھا اقدام بھی ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مدد ہوگی اور وہ رزق کی تنگی سے بچینگے اس حد تک تو یہ درست ہے لیکن اس آڑ میں یہ پیسے 40 فیصد غیر مستحق لوگوں کی جیبوں میں جاتے ہیں جبکہ بعض جگہوں میں تو ایک ہی گھر کے دو دو، تین تین بندوں کو ملتے ہیں جو درحقیقت مستحقین کی حق تلفی کا باعث بنتا ہیں.
    اس سے اگر ایک طرف بے روزگاری، بے ہنری اور مانگنے کا رجحان بڑھا ہے تو دوسری جانب ایک اور خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے. کچھ عرصے تک مفت کی کھانے والوں کو اس کی عادت پڑ جاتی ہے. پھر وہ کام کرنے کے بجائے تاک میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کچھ ہاتھ آسکتا ہے اور جب ہاتھ کچھ نہیں آتا تو ہیرا پھیری، چوری چکاری اور جرائم کی راہ پر نکل جاتے ہیں اور پورا معاشرہ اس کے جرائم کا شکار بن جاتا ہے.
    لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے معاشرے میں مفت کھانے اور مفت کھلانے کا یہ رجحان اتنا گہرا ہوگیا ہے کہ اس کو عیب کی بجائے ایک ہنر کا درجہ حاصل ہوگیا ہے. ہماری تباہی اور زوال کا باعث ہی یہ رجحان ہے.
    ہمیں اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا تا کہ آگے بڑھ کر اس کا سدباب کیا جاسکے. . ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اس لت سے بچانا ہوگا تب ہی ہمارا معاشرہ اور ملک ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوگا. وگرنہ ہم ایسے ہی بھکاری رہینگے اور یہ لت نسل در نسل، پشت در پشت ہم میں منتقل ہوتی رہیگی. اور اقوام عالم میں ہماری کوئی عزت نہیں ہوگی. بلکہ ہماری پہچان ایک بھکاری قوم سے ہوگی.
    اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے کہ پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور دنیا میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے.
    آمین
    *پاکستان زندہ باد*

    Twitter ID:
    @IjazPakistani

  • کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار  تحریر: محمد بلال

    کشمیر: بھارتی استحصال اور ہندوتوا سرکار تحریر: محمد بلال

    5 اگست 2021، بھارت کے ذیرِ تسلط غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی لاک ڈاؤن کو دو سال مکمل ہوۓ۔ پاکستان کشمیری عوام پر ظلم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کی کوشش ہمیشہ کرتا رہا ہے ، نہ صرف مخصوص دنوں پر بلکہ سالوں سے کر رہا ہے ۔ایک طرف ، کرونا 19 اور لاک ڈاؤن نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کر دیا اور لوگوں کے کاروبار کا صفایا کر دیا۔ وہیں، دوسری طرف کشمیر میں ، لاک ڈاؤن اور جبری محاصرہ پہلے ہی جاری ہے ،اور اب وبا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ وبائی امراض کے باوجود بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا بلکہ غیر قانونی قابض افواج نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔ 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے اس استحصال کے خلاف ایک آواز سے بولی ہے اور یہ آواز پوری دنیا میں سنائ گی ہے کیونکہ کشمیریوں اور پاکستانی عوام کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے۔ جب بھی بھارت نے کشمیر میں ظلم کی نئی کہانی پیش کرنے کی کوشش کی ، پاکستانی عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ پایا گیا۔اس کے باوجود پاکستان ایک قدم آگے سوچ رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ پاکستان علاقائی سلامتی کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔ جبکہ پوری دنیا آر ایس ایس اور بھارتی وزیراعظم مودی کی انتہا پسند ہندوتوا سوچ سے واقف ہے۔بین الاقوامی اداروں کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس سوچ کا مقابلہ کرنے کے لیے آج بھارت کو بے نقاب کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ یہ سوچ نہ صرف ہندوستانی یا کشمیری مسلمانوں کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔بھارتی ناجائز قابض افواج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ نوجوان اس کا بنیادی ہدف ہیں اور انہیں بھارت کے خفیہ ٹارچر سیلز میں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم ان نڈر نوجوانوں کے مقروض ہیں جو اپنی جانیں دیتے ہیں لیکن اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بھارتی قابض افواج کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی گئی۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی شناخت مٹانے کی کوشش کی لیکن بری طرح ناکام رہی۔ بھارت نے سوچا کہ ایسا کرنے سے وہ کشمیریوں کو نفسیاتی اور قانونی طور پر محکوم کر دے گا ، لیکن وادی کے کسی مسلمان نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا۔بھارت ، مسلمانوں کا دشمن ، 1947 سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ نہ صرف غیر انسانی سلوک کر رہا ہے ، بلکہ اس نے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ عالمی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ "کشمیر تنازعہ” بھارت اور پاکستان کے درمیان ازلی دشمنی کا مرکزی نقطہ ہے۔اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل ایک اس کی تشکیل کا مقصد بتاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی حقیقی روح کے مطابق ، "بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور اس مقصد کے لیے: امن کے لیے خطرات کی روک تھام اور ان کے خاتمے کے لیے موثر اجتماعی اقدامات کرنا”۔اس کے برعکس مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی میز پر سب سے پرانا معاملہ ہے جو حتمی حل کا منتظر ہے۔ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ بھارتی حکومت کو مظالم کے خاتمے کے لیے پابند کرے اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی محاصرہ ، مواصلات اور پابندیاں ختم کرنے کے لیے کہے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے ارادے سے متعارف کرائے گئے نئے ڈومیسائل قوانین کے بھارتی ایکٹ کو منسوخ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کو 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔ آئی آئی او جے کے میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔کیونکہ تنازعات کا پرامن حل اور انسانی حقوق اور وقار کا تحفظ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

    @Bilal_1947

  • بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
    بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
    بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
    سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
    حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
    @iHUSB

  • ایثار ایک نایاب صفت :تحریر  عینی سحر

    ایثار ایک نایاب صفت :تحریر عینی سحر

    اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا بھی ہے محنت و مشقت اور اپنے سکون آسائشوں اور خواہشوں کیلئے جدوجہد کرتا ہے لیکن ایثار اپنی ذات کی پس پشت ڈالتے ہوۓ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کا نام ہے ایک ایسی قربانی جو بے لوث ہوکر صرف کسی کی مدد کرنے کیلئے دی جاۓ

    معروف دانشور مرحوم اشفاق احمد فرماتے تھے ایثار یہ نہیں کے تم کسی کو کھانا کھلا دو بلکے ایثار یہ ہے کے جب تم کو خود بھی بہت بھوک لگی ہو اور تم وہ کھانا کسی ضرورتمند کو کھلا دو
    بقول انکے بابا جی فرماتے ہیں درد وہ ہوتا ہے جو ہمیں دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہو ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے
    ایثار میں قربانی پنہاں ہے کے انسان اپنی ضرورتوں کو فراموش کرکے دوسروں کی ضرورت کوپورا کرنے کو ترجیح دے تاکے مخلوق خدا کا بھلا ہوسکے
    ہمارے لیے ایثار کی سب سے بڑی مثال تو ہمارے والدین ہیں جو خود تکلیفیں اٹھا کر اپنی اولاد کو پالتے ہیں جنھیں یہ خواہش ہوتی ہے کے انکے بچوں کو کوئی کمی نہ ہو اچھا کھانا کھلانے سے لیکر کھلونوں تک اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں آجکل کے مہنگے تعلیمی نظام میں والدین خود کو محنت و مشقت میں ڈال کر اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو اچھے اور مہنگے سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں ، کتابوں ، یونیفارم اور ٹیوشن تک ہر قسم کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کمر بستہ رہتے ہیں
    والدین کے ایثار ہی کی یہ ایک مثال ہے کے عید پر اگر ماں باپ خود نئے کپڑے سلوا نہ سکیں پھر بھی وہ اپنے بچوں کیلئے ہر طرح کے جدید کپڑے اور جوتے خرید کر انھیں خوشیاں دینے کی کوشش کرتے ہیں

    دوسری جانب ہم فرمانبردار اولاد کے ایثار کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے جو جوان ہوکر اپنے والدین کاسہارا بنتے ہیں اور اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر والدین کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتے

    ہماری اسلامی تاریخ ایثار کی مثالوں سے بھری پڑی ہے ، جن میں سے ایک مشہور جنگ کا واقعہ ہے جب کئی صحابی میدان جنگ میں زخمی تھے اور پانی مانگ رہے تھے ایسے میں ایک شخص پانی کی چھاگل لیے ایک زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو قریب ہی ایک اور زخمی بھی کراہتے ہوۓ پانی مانگتا ہے پہلے صحابی نے کہا کے جاکر پہلے اسکوپانی دے دو ، وہ شخص اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسکے پہلو میں بھی ایک زخمی پانی پانی پکارتا ہے تو وہ بھی کہتا ہے جاکر اسے پہلے پانی پلا دو ، جب وہ شخص اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے تو وہ شہید ہو چکا ہوتا ہے وہ واپس پہلے والے کے پاس آتا ہے لیکن وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہوتے ہیں ایسے میں وہ پہلے زخمی کے پاس پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے وہ بھی شہید ہو چکے ہوتے ہیں

    ایثار و قربانی کی یہ ایک عظیم مثال ہے کے جان کنی کے عالم میں بھی ان عظیم ہستیوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر دوسرے کی مدد کرنا چاہی ، ایسا حوصلہ ہمت اور رب کی خوشنودی کا جذبہ انتہائی عظیم ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے

    سورۃ الحشر ،آیت نمبر 9میں اللہ نے فرمایا ہے: ’’ وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود فاقہ سے ہوں اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘
    بے شک ایسی قربانی سب سے بڑھ کر ہے جس میں انسان اپنی ذات کی بجاۓ دوسروں کی مدد کرنے کو ترجیج دے

    ہمارے معاشرے میں بے حسی کے ڈیرے ہیں جہاں جائیداد , مال و دولت کیلئے بھائی بھائی کی جان کا دشمن بنا بیٹھا ہے بہنوں کوانکے جائز ورثے سے محروم رکھا جارہا ہے ، پڑوسیوں کی خبر نہیں کے انکے گھر میں کھانا ہے یا فاقہ ہے ، دکھلاوے کی دوڑ میں ہم ایثار و قربانی کی روایتوں کو بھول چکے ہیں

    اس معاشرے کو مجموعی طور پر تنزلی سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کے ہم اپنی اصلاح کریں ، خودغرضی لالچ جیسی مہلک اخلاقی بیماریوں سے نجات حاصل کر کے مخلوق خدا کی خدمت کرکے ہی ہم عظیم ہستیوں کی عظیم مثالوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں
    ایثار و قربانی مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں

  • سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    ناسا نے سورج کے قریب سورج جیسا ہی 60 کروڑ سال پرانا ستارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی تی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ناسا کے ماہرین فلکیات نے ستارے کی تصدیق کی ہے جو دیکھنے میں سورج کی طرح لگتا ہے تاہم حجم میں اس سے چھوٹا ہے، کاپا 1 سیٹی نامی ستارے میں سورج کی طرح کا ہی درجہ حرارت اور روشنی پائی جاتی ہے۔

    ناسا کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ستارہ سورج سے 600 سے 750 ملین سال چھوٹا ہے اس کا مطلب ہے کہ ماہرین اسے ایک نوجوان شمسی نظام کے تناسب کے طور پر استعمال کرکے نئی تحقیقات کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    ناسا کا کہنا ہے کہ ابتدائی نظام شمسی میں اربوں سال پیچھے جانا اور یہ دیکھنا ناممکن ہے کہ سورج کیسا تھا اور کب زمین پر پہلی بار زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔ تاہم اس دریافت سے سائنسدانوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا کہ کیسے سورج سیاروں کے ماحول اور زمین پر زندگی کی نشوونما کا سبب بنتا ہے۔

    دوسری جانب محققین کا کہنا ہے کہ سائنس دان اس بات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ ہمارا سورج جب جوان تھا تو کیسا رہا ہوگا، اور اس نے کس طرح ہمارے سیارے کے ماحول اور زمین پر زندگی کی تشکیل کی ہوگی۔

    تحقیق میں ستارے سے نکلتی ہوئی کورونل ماس ایجیکشنز اور ہواؤں کا مطالعہ شامل ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ سورج کے اخراج سے زمین پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    ملکی وے کہکشاں کے اندر 100 بلین سے زیادہ ستارے ہیں، جن میں سے دس میں سے ایک ہمارے اپنے ستارے کے سائز اور چمک کے برابر ہیں۔ان میں سے بہت سے ستارے ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی چھوٹے بچوں کی طرح، نوجوان ستارے بھی عمر کے حساب سے نشونما پاتے ہیں اوران کی خصوصیات میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں-

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • بہتر صحت کے لیے کھانا جینے کے لیے کھانا تحریر ام سلمیٰ

    کھانا کھائیں اور اچھا کھائیں اور جینے کے لیے کھائیں کھانے کے لیے نے جیئیں.ایسا آپکی صحت کو اچھا رکھنے کے لئے کہا جاتا ہے ، بیماریوں سے بچنے اور وزن کو برقرار رکھنے یا کم کرنے کے لیے کھانے کے انتخاب کے بارے میں آج کا بہترین طبی مشورہ ہے۔ یہ عام ہدایات ہیں جو زیادہ تر صحت مند لوگوں اپناتے ہیں اور ایک پر سکون زندگی گزارتے ہیں۔

    ہر روز جسمانی طور پر متحرک رکھیں اپنے آپ کو متحرک رکھنے کے لیے اپنی روزمرہ زندگی میں چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں صحت مند زندگی کے لیے یہ سب سے اہم ہے.یا اپنی زندگی میں کسی کھیل کا معمول بنا لیں ہفتے میں 5 دن دن میں کم از کم 30 منٹ کے لیے چہل قدمی کو معمول بنائیں اور پر زندگی کا لطف حاصل کریں۔
    صحت مند کھانا مسلسل توانائی فراہم کرتا ہے جس کی آپ کو جسمانی طور پر فعال رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ورزش ، صحت مند کھانے ، آرام ، اور مقابلہ کرنے کی اچھی مہارتوں سے اپنے تناؤ کا انتظام کرنا سیکھیں۔
    صحت مند کھانے کی عادتیں بنائیں۔
    تصویر: صحت مند پھلوں کا ناشتہ رکھنے والا خاندان
    مختلف قسم کی سبزیاں کھائیں ، خاص طور پر گہری سبز ، سرخ اور نارنجی سبزیاں (ایک دن میں 3 یا اس سے زیادہ سرونگ)۔
    مختلف قسم کے پھل کھائیں (ایک دن میں 2 یا اس سے زیادہ سرونگ)۔
    سارا اناج ، ہائی فائبر بریڈز اور اناج (ایک دن میں 3 سے 6 سرونگ) کھائیں۔ بہتر یا پروسیس شدہ کاربوہائیڈریٹ کو کم یا ختم کریں آپ کی خوراک میں زیادہ تر اناج سارا اناج ہونا چاہیے۔
    چربی سے پاک یا کم چکنائی والا دودھ پائیں اور کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات کھائیں۔
    پروٹین کے مختلف قسم کے کم چربی والے ذرائع میں سے انتخاب کریں-بشمول انڈے ، پھلیاں ، مرغی بغیر جلد ، سمندری غذا ، دبلی پتلی گوشت ، نمکین گری دار میوے ، بیج اور سویا کی مصنوعات۔ اگر آپ گوشت کھاتے ہیں تو سفید گوشت سرخ گوشت سے کم از کم چار گنا زیادہ کھائیں۔
    جتنا ممکن ہو چربی کا استعمال کم کریں۔
    کھانے میں سبزیوں کا تیل (جیسے زیتون یا کینولا تیل) استعمال کریں۔
    نمک یا سوڈیم کا روزانہ استعمال کم کریں۔ 1،500 ملی گرام سے کم کریں۔ فی دن اگر آپ کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے ، یا ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس یا دائمی گردوں کی بیماری ہے۔
    "جنک فوڈ” بازاری کھانے کے استعمال کو محدود کریں یا ختم کریں – ایسی غذائیں جن میں بہتر سفید آٹا ، ٹھوس چربی ، اضافی شکر اور سوڈیم زیادہ ہوں انکا استعمال بھی کم سے کم کریں.
    سوڈا اور چینی میں سے بنے دیگر مشروبات کا استعمال محدود کریں یا ختم کریں جن میں کیلوریز زیادہ ہیں اور ان میں کچھ یا کوئی غذائی اجزاء کوئی فائدے مند چیز نہیں ہیں۔
    اگر آپ مشروبات زیادہ پیتے ہیں تو اسے اعتدال میں رکھیں۔ کھانے کی اور اپنی پسند کی ہر چیز کے استعمال میں ہمیشہ اعتدال رکھیں اور ورزش کو معمول بنائیں ایک صحت مند زندگی کے لیے.

    @salmabhatti111

  • غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    غریب پرائیوٹ سکول اساتذہ اور امیر مالکان تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم آج میرا موضوع بہت سے دلخراش حقائق پہ مبنی ہے.
    معزز معاشروں میں استاد معمار قوم کہلاتا ہے.اس نسبت سے استاد کو وہ ادب اور وہ احترام میسر آتا ہے جو دیگر پروفیشنلز کو نہیں آتا.
    کہتے ہیں کہ ایک استاد ایک قوم بناتا ہے یہ وطن عزیز میں کہا تو جاتا ہے مگر مانا نہیں جاتا.
    پاکستان میں پرائیوٹ سکولز کی بھرمار ہے .اس کے دو اہم محرکات ہیں.پہلا یہ کہ گورنمنٹ سکولوں کا معیار تعلیم تا حال اس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس تک سرمایہ دار اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں.دوسرا یہ کہ پرائیوٹ سکول میں امیر اور متوسط طبقے کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں مگر اکثر اساتذہ تنگدستی کے باعث نوکری کے لیے مجبور ہو کر ان اداروں کا رخ کرتے ہیں.
    انکی اجرت ان کی تعلیم اور ان کی محنت کے مقابل ہر چند قلیل ہوتی ہے.
    کچھ پرائیوٹ سکولز برانڈ بن چکے ہیں.وہاں امکان کا کہ اساتذہ کو بہتر سہولیات میسر ہوں.
    مگر بہت سے سکولز مافیاز سے بد تر ہیں.اساتذہ کی محنت اور انکے بل پہ کروڑوں کماتے ہیں اور ان ہی اساتذہ کا استحصال کرتے ہیں.
    میں بات کر رہی ہوں ایسے پرائیوٹ سکولز کی جو اساتذہ کو چند ہزار تنخواہ دیتے ہیں.
    اس جدید مہنگے اور پر آشوب دور میں جہاں
    مزدور کی تنخواہ 900 فی یوم ہے اور مضحکہ خیزی دیکھیے معمار قوم کی یومیہ اجرت 350 روپے بنتی ہے
    اور گھی کی قیمت 350 فی کلو ہے..
    استاد کی 8 گھنٹے کام کی اجرت اور 350 روپے یومیہ؟
    اور ان کی محنت کا ثبوت ان پرائیوٹ سکولز کا معیار تعلیم اور بورڈ کلاسز کا رزلٹ ہے.
    پرائیوٹ سکول مالکان کے بڑھتے اثاثے اور اساتذہ کی بڑھتی مشکلات اس سسٹم کی ناانصافی کی داستان ہے.
    ان سکولوں میں مجبوراً اپنی معاشی ضروریات کے لیے پڑھانے والے اساتذہ کو حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی ضرورت ہے حکومت ان مافیاز کو دائرے میں لائے اور اساتذہ کی تنخواہیں ان کی بنیادی ضروریات زندگی تو پوری کرنے کا لائق ہوں.
    رہی بات حکومت کی رٹ کی تو جب حکومت پرائیوٹ سکولز کو تعطیلات کے لیے مجبور کر سکتی ہے .نصاب کے لیے امتحانات کے لیے مجبور کر سکتی ہے ..کرونا ویکسین کے لیے مجبور کر سکتی ہے تو حکومت پرائیویٹ سکول ٹیچرز کے حق کے لیے بھی مجبور کر سکتی ہے.

    ابھی حال ہی میں کرونا وباء کے دوران اساتذہ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی جبکہ طلباء کو محض پہلے دو مہینے 20 فی صد ریلیف دیا گیا باقی پوری فیس وصول کی گئی.
    دو سال ہو گئے کسی طرح کا کوئی انکریمنٹ نہیں دیا گیا جبکہ فیسوں میں سالانہ اضافہ کیا گیا.
    اس طریقۂ واردات کے بعد ان کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا ان پئ چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا تو پرائیویٹ سکول اساتذہ کے مجرم ارباب اختیار ہوں گے.
    کیونکہ بطور شہری اساتذہ کی دادرسی حکومت کا فریضہ ہے.

    مالکان کے ہاتھ لمبے ہیں ایسوسیشنز کے نام پہ مافیاز ہیں.اساتذہ کے لیے ایسے فورمز اس لیے بھی کارگر نہیں کہ وہ گھروں سے بمشکل سکولوں تک پہنچ پاتے ہیں کورٹ کچہری نہیں کر سکتے.
    کیونکہ اس کے لیے ایک اور مافیا کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا.جس کے متحمل نہیں ہو سکتے.
    وزراء تعلیم کو ان کے ان فرائض سے آگہی کے لیے حکومتی دباؤ لازم ہے.
    یاد رکھئے معماران قوم کی قدر کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں.
    معماران قوم کا استحصال قوم پہ وبال ہے.

    @hsbuddy18

  • بیٹی کہہ کر پکارو  تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بیٹی کہہ کر پکارو تحریر.. ڈاکٹر ذکااللہ

    بہو بھی مسکرانا چاہتی ھے
    اللہ تعالی نے والدین کیلیے بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ھے
    یہ ننھی کلی جب کھل کر بڑی ھوتی ھے تو اسے اپنے والدین کا گھر نہ چاہتے ھوے بھی چھوڑنا پڑتا ھے اور ایک نیے گھر میں جانا پڑتا ھے یہ نہایت مشکل وقت ھوتا ھے جب ایک بچی اپنا گھر چھوڑ کر نیےگھر میں جاے لیکن یہ اللہ پاک کا فرمان ھے اور نکاح فرض ھے تو اسے ایک نیے گھر میں جانا پڑے گا جب وہ اپنے ھونے والے شوہر کے نکاح میں آتی ھے تو گھر بھی بدل جاتا ھے اور ساتھ میں رشتے بھی بدل جاتے ہیں
    جہاں اپنے والدین کے ساتھ شہزادی کی طرح رہنے والی اپنی بہن بھاییوں کےساتھ رھنے والی اب ایک نیے گھر میں نیے رشتوں کے ساتھ کے ساتھ رھے گی
    یہ کیسا پیارہ رشتہ ھے جو اللہ پاک نے بنایا ھے ایک کی بیٹی دوسرے کے گھر کی بہو بنتی ھے تو دوسرے کی بیٹی تیسرے گھر کی بہو بنتی ھے یہی وہ ھے جسے اللہ پاک نے اپنے والدین کیلیے رحمت بنایا اب کسی دوسرے گھر میں اللہ کی رحمت بن کر جارھی ھے
    لیکن
    کچھ گھروں میں ان کیلیے یہ بہو والا لقب بہت برا ثابت ھوتا ھے اور وہ جو اپنے والدین کے گھر میں ایک شہزادی تھی اب یہاں بہو ھے اور اس کے ساتھ سلوک میں بھی بہت تبدیلی آگی ھے بات بات پر طنز اچھا کام بھی کرے تب بھی طنز کیونکہ وہ کسی اور کی بیٹی ھے
    حالانکہ تمھاری بھی بیٹی کسی کی بہو ھے یا کبھی بنے گی تو اگر اسے بھی اسی طرح کا سامنا ھوا تو پھر تمھارے دل پر کیا گزرے گی اگر آپ اپنی بیٹی کو شہزادی کے روپ میں دیکھتے ھوتو پھر ضروری ھے کہ جو تمھاری بہو ھے اسے بھی وھی پیار اور سلوک دو جو تم اپنی بیٹی کو دیتے ھو بہو کو بھی اپنے گھر کی شہزادی بنا کر اپنی بیٹی بنا کر رکھو تاکہ تمھارے خاندان کیلیے آپ کی بہو رحمت بن سکے اور پھر تمھارے بڑھاپے میں بیٹی بن کر تمھاری خدمت کرے
    جب آپ کسی کی بیٹی کو جو اب آپ کی بہو اور تمھارے خاندان کی عزت بھی ھے اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے تو وہ بھی آپ کو اپنے والدین کی طرح تمھاری خدمت کرے گی اور ہمیشہ آپ کو اپنی بیٹی کی کمی محسوس ھونے نہیں دے گی
    اور
    بہو کیلیے بھی ضروری ھے کہ جس طرح آپ اپنے والدین کی عزت و تکریم کرتی تھیں اپنے والدین کی شہزادی تھیں اپنے والدین کے سخت و نرم لہجے کو اپنی بہتری کیلیے ان کی باتوں کو اہمیت دیتی تھیں اپنے والدین کا کہا ھوا ہر لفظ تمھارے لیے تمھاری بہتری کیلیے تھا اسی طرح تمھارے شوہر کےوالدین کا بھی تمھارے اوپر اتنا حق ضرور ھے کہ وہ آپ کو اپنی بیٹی سمجھ کر اگر کچھ سخت و نرم لہجے میں بات کرتے ہیں اسی طرح سنو جس طرح آپ اپنے والدین کی بات سنتی تھیں
    اس طرح سے آپ کے گھرکے مسایل بھی حل ھوں گےاورناچاکیاں بھی پیدا نہیں ھوں گی
    آپ کو پھر ویسے ھی عزت ملے گی جیسے تمھارے والدین تمہیں دیتے تھےاگر آپ اپنے سسرال کو اپنے والدین کی طرح پیار اور خدمت کریں گیں تو یقینا وہ بھی آپ کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے
    اور آپ کے مقام اور عزت میں بھی کویی کمی نہیں آے گی اسی طرح پھر لازم اس کا بدلہ اللہ پاک آپ کو بھی دے گا جب آپ کی بہو بھی آپ کو اسی طرح عزت دے گی
    میری اللہ پاک سے دعا ھے کہ تمام بہن بیٹیوں کے نصیب اللہ اچھے کرے اور ساری پریشانیاں دور کرے .آمین

    بیٹی کہہ کر پکارو بہو بھی مسکرانہ چاہتی ھے
    @KHANKASPAHI1