Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام میں ٹیکسوں کا نظام  تحریر سمعیہ رشید

    اسلام میں ٹیکسوں کا نظام تحریر سمعیہ رشید

    مغربی ممالک میں حکومت کی آمدنیوں اور اخراجات کی پوری تفصیلات عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں اور انہیں یہ جائزہ لینے کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خود دیکھ لیں کہ کہاں سے حکومت نے فنڈ حاصل کیے اور کہاں خرچ کیے۔ عام مصلحتوں کا پوری طرح لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسکولوں سے لے کر اسپتالوں تک عوام کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔ نہ کوئی بھی ٹیکس بغیر عوامی نمائندوں کی منظوری کے لگایا جاسکتا ہے نہ ان کی منظوری کے بغیر کوئی خرچ کیا جا سکتا ہے۔ گویا حق کے ساتھ حکومت مال لیتی ہے اور حق کے ساتھ خرچ کرتی ہے۔
    لیکن ہماری یہاں کیا صورت رہی ہے؟ مجھے عربی شاعر شریف کے اشعار یاد آتے ہیں یہ شاعر عباسی خلافت کے مقابلے میں خروج کرنے والے نفس زکیہ کے ساتھ تھا وہ اللہ تعالی سے فریاد کرتا ہے۔ "خدایا! ہمارا مال منصفانہ تقسیم کے جائے اہل اقتدار و دولت کے درمیان ہی گردش کر رہا ہے۔ حکومت و امارت مشورہ کے بجائے استبداد سے کام لیتی ہے۔ عام مال میں یتمیوں اور بیواؤں کاحق لہوولعب او عیش و عشرت میں ضائع کیا جارہا ہے ۔ ہر علاقہ کا حاکم وہاں کا سب سے بد کردار شحض بنادیا گیا ہے۔ خدایا! باطل کی اس کھیتی کو اب کاٹ دے۔ تا کہ اپنی بہترین صورت میں نمایاں ہو”۔
    عالم اسلام میں اس پرانی آہ و بکا کی صورتیں اب بھی جاری ہیں۔ٹیکسوں سے مراد وہ مال ہوتا ہے جو حکومت عوام سے مختلف صورتوں میں لیتی ہے اور عام خدمات اور فلاح و بہبود کی مختلف صورتوں میں پھر عوام ہی کو واپس کرتی ہے۔ اس لیے ٹیکس ادا کرنا ضروری ہے اور اس سے بھاگنا قومی غداری کے شابہ ہے۔
    اچھے نظام والے ملکوں میں یہ شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ ٹیکسوں کی رقم کسی نجی خواہش کی تکمیل میں ضائع کی جائے۔ اس لیے ٹیکس چوروں کو ایسے مجرم سمجھا جاتا ہے جو بدترین الزامات کے لائق اور بڑے عہدوں سے محروم کئے جانےکے قابل ہیں۔
    ٹیکس اور زکوۃ میں فرق یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے کہ نفس کو بخل کی برائی سے پاک کیا جائے اور غریبوں کو مسائل سے نمٹنے میں مدد دی جائے اور زکوۃ کے خرچ کی مدیں متعین ہیں۔ ٹیکسوں کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ انہی سے قوم کا سیاسی، قومی اور تہذیبی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے اور انہی سے نظام حکومت چلایا جاتا ہے ہنگامی حالات مثلا جنگ کی صورت میں ٹیکسوں کی تعداد و مقدار بہت بڑھ جاتی ہے گویا زکوۃ اور ٹیکسوں کے دائرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسلام نے زکوۃ کی مقدار اور اس کے مستحقین تعین کر دی ہے۔ پھر اللہ کی خوشنودی کی راہ میں مسلمانوں کے خرچ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے تعلیم وتربیت، دعوت و تہذیب، فوجی ضروریات اور صنعتوں وغیرہ کے میدان بہت زیادہ مالی وسائل چاہتے ہیں۔
    ” نفقہ” کے لفظ میں فرض زکوۃ، نفلی صدقات اور اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کی مختلف شکلیں شامل ہیں کبھی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ کچھ بھی باقی نہ رکھا جاۓ۔
    ترجمہ:۔ اور وہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ کہہ دو جو کچھ تمہاری ضروریات سے زیادہ ہو۔ اللہ نے مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں جنت کے بدلے ۔ (التوبة:١١١)
    یہ ضرورت ٹیکسوں سے پوری ہوتی ہے ۔ بیشتر مسلم ممالک میں نظام حکومت کے بگاڑ اور سر کاری وسائل کے ساتھ کھلواڑ کی بدولت ٹیکس کا لفظ ناپسندیدہ ہوگیا ہے لیکن دیگر ممالک اس مصیبت سے محفوظ ہیں ۔ جو کچھ ٹیکس وبندگان سے لیا جاتا ہے اسے بہترین جگہوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور تیز نگاہوں سے اس کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لہذا زیادہ دولت والے اور صنعتی وغیر صنعتی پیداور کرنے والے اپنی قوموں کے مفادات کی پاسداری خوشی سے کرتے ہیں۔
    ترجمہ:۔ اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی نا قدری نہ کی جائے گی اور اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے ۔ (آل عمران: ۱۱۵)

    شیخ یوسف قرضاوی لکھتے ہی کہ ہنگامی حالات میں دولت مندوں پر مزید ٹیکس لگائے جاسکتے ہیں۔ شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ ہنگامی حالات کے تقاضوں کو پورا نہ کیا گیا تو خود دولتمندوں کےلیے بھی زیادہ تباہی آئے گی اس لیے زیادہ برائی کو دفع کرنا ضروری ہے۔
    پھر زیب وزینت اور آسائش والی چیزوں پر ٹیکس لگانے میں کوئی خرچ نہیں کیونکہ اس سے غریبوں اور معذوروں کی مدد ہوگی۔ اسی طرح قومی مصنوعات کے تحفظ اور فروغ کےلیے بیرونی مصنوعات پر ٹیکس لگانا بھی بہتر ہی ہے ۔کیونکہ متعدد ممالک اس طریقے سے خود کفالت حاصل کرچکے ہیں۔
    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ

  • شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    شرح پیدائش اور قومی وسائل تحریر: عتیق الرحمن

    پے در پے حکومتوں نے آبادی پر قابو پانے کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا اور یو کے پیچھے غربت کے خاتمے اور سماجی ترقیاتی اسکیموں کی کثرت کو چھپایا۔ 225 ملین افراد کے ساتھ پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے۔ تقریبا دو فیصد کی قومی شرح نمو کے ساتھ ، ہر سال کم از کم 4.4 ملین افراد کو موجودہ تعداد میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ اضافہ صرف دنیا کے 40 چھوٹے ممالک کی مشترکہ آبادی کے برابر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس موضوع پر مجازی خاموشی ہے۔ یہ قومی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ وسائل اتنے نہیں ہیں جتنی ہمارے ملک کی آبادی ہوچکی ہے اور جسکی وجہ سے آمدن کا زیادہ تر حصہ صرف اور صرف غذائی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے لگ جاتا اور حتی کے ہمارا اپنا ملک اس غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ کیا یہ رویہ اطمینان اور طویل المیعاد چیلنجوں کو ختم کرنے کے رجحان کا نتیجہ ہے ، یا کیا ہمارے رہنما صرف موضوع کو سامنے لاتے ہوئے مذہبی منافرت سے ڈرتے ہیں؟ یہاں تک کہ مارچ میں منعقدہ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ میں بھی ، ہمارے سرسری تعداد سے ملک کے قدرتی اور انسانی وسائل کو لاحق خطرے کو گفتگو میں مشکل سے سمجھا گیا۔ یقینی طور پر ، ہماری سیاسی قیادت وزیر اعظم کی قیادت میں ، جو دیگر غیر معمولی اور اہم عالمی مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں ، اس کے بارے میں بھی اپنی سوچ بچار متعلقہ فورمز پر ڈسکس کرتے ہونگے۔ درحقیقت ، حکومت نے رمضان کے دوران کوویڈ 19 سے متعلقہ SOPS کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوشش کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں اور علماء کو ساتھ لیا اور ہر مذہبی تہوار پر علما کی رائے کے لئے انکا اجلاس بُلایا جاتا ہے تو کیا آبادی میں اضافے کی شرح کو پائیدار سطح پر لانے کی ضرورت پر مربوط بیانیہ تیار کرنے کے لیے ایسا نہیں کیا جا سکتا؟ بحث کی متنازعہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے ، شاید آبادی کو کنٹرول کرنے کی بجائے خاندانی صحت پر زیادہ زور بھی دیا جا سکتا ہے ، کیونکہ بہت سے لوگ اسے مسلم معاشروں کے خلاف مغربی سازش کے طور پر دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ افرادی قوت کو کم کرنے کی سازش ہے۔ مذہب اور قوم کی سماجی ترقی کے تناظر میں زچگی کی صحت کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی افزائش کی شرح 3.6 کا مطلب ہے کہ اوسطا ایک ماں کے کم از کم تین بچے ہوتے ہیں۔ یہ تعداد پورے جنوبی ایشیا (2.4 فیصد) سے زیادہ ہے ، یہ خطہ خود دنیا میں سب سے زیادہ افزائش کی شرح رکھتا ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق ، تولیدی عمر کی 42 فیصد خواتین کم از کم خون کی کمی کا شکار ہیں۔ تمام لوگوں کے حقوق یقینی طور پر اس حقیقت کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہو سکتی کہ صحت مند مائیں صحت مند بچے پیدا کرنے کی کلید ہیں اور پیدائش کا وقفہ صحت مند خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی خواتین صحت کی دیکھ بھال کے حصے کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ تقریبا دیگر تمام بڑے مسلم ممالک بشمول بنگلہ دیش ، ایران ، ترکی ، ملائیشیا ، انڈونیشیا وغیرہ نے اپنی اپنی حکومتوں کی قیادت میں وسیع اتفاق رائے سے آبادی اصلاحات کو کامیابی سے نافذ کیا ہے۔ پاکستان کو بہت دیر ہونے سے پہلے اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو قابو میں کرنے اور نیچے لانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

    @AtiqPTI_1

  • عمران خان کی زندگی ایک سبق کیوں؟  تحریر: رانا عزیر

    عمران خان کی زندگی ایک سبق کیوں؟ تحریر: رانا عزیر

    عظیم لیڈر کی دو نشانیاں ہوتی ہیں اس کا وہ مخصوص نظریہ جو محض وطن کیلئے ہو اور دوسرا اس نظریہ کو ہر گلی کوچے میں پہنچانے کا ہنر بھی رکھتا ہو۔ جب آپ نے یہ پڑھا تو آپکو اسکو سمجھنے کیلئے تھوڑا سا وقت چاہیے ہوگا۔ اور میں بات کرنے جارہا ہوں صرف اور صرف پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان کی۔ عمران خان سے پاکستان کی قوم کیوں متاثر ہوئی، نوازشریف، زرداری سب اس سیاست کے پرانی پاپی ہیں، ان پر لوگ اتنا کیوں نہیں مرتے۔ اس کی خاص وجوہات ہیں، عمران خان کی ساری زندگی محنت اور جدوجہد میں گزری، زندگی میں بہت سے چیلنجز سے عمران خان اکیلا لڑا، کرکٹ میں پاکستان کے لیے کام کیا، 1992 کا ورلڈکپ جیتا، پھر شوکت خانم کینسر ہسپتال کھولا، پھر پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ ان سب مراحل میں میرے کپتان کو بہت سے لوگوں کی باتوں کو برداشت کرنا پڑا، مگر ہار نہیں مانی، کپتان ڈٹا رہا۔ عمران خان 23 پہلے سے ہی پاکستان کی بربادی، ان ایشوز پر بات کررہا تھا جن پر آج پوری قوم پریشان ہے، بین الاقوامی مداخلت، امریکہ کےزیراثر پاکستان بکتا رہا، عمران خان کھل کر کھڑا رہا، مگر ہار نہیں مانی۔ عمران خان کی سیاسی مقبولیت 2013 میں عروج پر تھی لیکن کسی کو بھی کپتان کی جیت کا یقین نہیں تھا لیکن کپتان ایک بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آیا۔ 2018 کے الیکشن میں عمران خان نے جان کی بازی لگائی اور سخت محنت کی اور وہ اقتدار کے ایوان میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ آج انھیں وزیراعظم بنے 3 سال ہوچکے ہیں۔ اور عمران خان کو انھی چیلنجز کا سامنا ہے جن کا ذکر وہ 23 سال پہلے کرتے رہے، امریکہ آج پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کی مدد نہ کی، افغان مہاجرین کو قبول نہ کیا، سی پیک کونہ روکا، تو امریکہ پاکستان کے خلاف ایک نئے محاذ سے سامنے آئے گا۔ کپتان آج بھی ڈٹا ہوا صرف اس وطن کی خاطر کہ میں پاکستان کاسودا نہیں کرونگا۔ عمران خان امریکہ کو نو مور کہتے چلے آرہے ہیں اور اپنی جان اور اقتدار کوخطرے میں ڈال رہے ہیں نگر اس قوم کا سودا نہیں کررہے۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم صرف چند ٹکوں کی خاطر امریکہ کے سامنے ڈھیر ہوجاتے تھے اور آج بھی وہی شخصیات عمران خان کو کہہ رہی ہیں کہ وہ بھی اسی حمام میں آجائے لیکن یہ خان کی سیاسی موت ہوگی اور اس سے بڑھ کر ان کا نظریہ دفن ہوجائے گا کہ نہ عمران خان کسی کے سامنے جھکا ہے اور نہ وہ اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دے گا۔ آپ اسکی مثال ایسے لے لین کہ عمران خان اور ایک لوہے کی دیوار، عمران خان اس دیوار کو ٹکر مار رہے ہیں اور وہ اگر عمران خان گرانے میں کامیاب ہوگئے جو کہ آخری مراحل میں ہے تو پاکستان کی تقدیر بدلنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی نے مودھی کو ایک رپورٹ پیش کی کہ اگر سال 2021 میں پاکستان کو نہ روکا گیا تو پھر پاکستان کو روکنا مشکل نہیں ناممکن ہوجائے گا۔ اسی ضمن میں دشمن افغانستان میں پاکستان کی ریاست، پاک فوج اور عمران خان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ کسی صورت عمران خان سرنڈر کردے لیکن میرا کپتان ڈٹا ہوا ہے۔ تو عمران خان کی ساری زندگی چیلنجز میں گزری ہے اسی ہارنا بھی آتا ہے اور ہار کر کھڑا ہونا بھی آتا ہے۔ تو اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عمران اپنے اقتدار کو چھوڑ سکتا ہے لیکن اس ملک کا سودا نہیں کرسکتا۔
    اس سے ہمیں ایک سبق حاصل ہوتا ہے، کچھ بھی بغیر محنت حاصل نہیں ہوسکتا، انسان دل و نیت سے کوشش کرتا ہے اور کامیابی اللہ دیتا ہے۔ اورخوف سے لڑنے کا جذبہ، سچ اور حق کیلئے کھڑے رہنے، ہر بار گرنے کے بعد اپنے آپ کو اگلے مقابلے کے لیے تیار رکھنا اور ہمیشہ بڑا خواب دیکھنا اور اللہ پر کامل یقین کبھی بھی انسان کو ناکام نہیں کرتا اور وہ شخص کامیاب ہوتا ہے۔

    @RanaUzairSpeaks

  • پانی ہزار نعمت  تحریر:  ام سلمیٰ

    پانی ہزار نعمت تحریر: ام سلمیٰ

    اللہ پاک کی نعمتوں میں اہم نعمت پانی جس کی اہمیت کو ہم اس طرح سمجھ لیں کے ہمارے جسم میں کم از کم 55 فیصد جسم ہے۔ دوسری طرف زمین کی سطح 71 فیصد پانی ہے۔ ہمارے ماحولیاتی نظام میں ایک عام مادہ ، کیا ہمیں اسے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے؟
    پانی ایک نایاب اور محدود وسیلہ ہے۔
    یقین کریں یا نہ کریں ، جبکہ ہماری زمین کا 71 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے ، اس پانی کا صرف 3 فیصد حصہ میٹھا پانی ہے۔ اس 3 فیصد میں سے ، صرف 1 فیصد ابھی ہمیں دستیاب ہے ، باقی 2 فیصد گلیشیئرز میں میں بند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1 فیصد اکیلے ہی انسانوں ، جانوروں اور پودوں کی زندگی سمیت آبادیوں کے پورے دُنیا کو برقرار رکھنا کے موجود ہے۔ جتنی تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے ، اگر ہم اسے محفوظ نہیں کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس ایک فیصد دستیاب پانی میں پورا کرنا مشکل ہوگا.

    زندگی کے لیے پانی ضروری ہے۔
    پانی کو بچانے کی وجہ اتنی ہی واضح ہے۔ ہمیں زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ صرف ہمیں برقرار رکھنے کے لیے بلکہ ہمارے رہن سہن کو۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں ، فصلیں ، مویشی ، سب میٹھے پانی پر انحصار کرتے ہیں تاکہ مستقبل کے استعمال کے لیے قابل عمل ہو۔

    پانی ضائع کرنے سے دیگر اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔کیوں جب سمندری پانی کو پروسیس کر کے استعمال کیا جائے تو وہ کہیں زیادہ قیمت بڑھ جاتی ہے.
    پانی کم ہونے کی وجہ سے ، کچھ اشیاء جن کو اس کی ضرورت ہو پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، کچھ اشیاء نایاب ہو تی جائیں گی یا ان کی قیمت زیادہ ہو تی جائے گی.

    ہمارے پاس پینے اور نہانے کے علاوہ میٹھے پانی کے بہت سارے استعمال ہیں کپڑے دھونے میں کاشت کاری اور روزمرہ کی اسی طرح کی دیگر سرگرمیاں ہیں جن میں میٹھے پانی کا استمعال ہے.

    ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی پانی ضروری ہے۔
    جیسے کے ہمیں معلوم ہے کے ہمارے نباتات اور حیوانات کو زندہ رہنے کے لیے میٹھے پانی کی ضرورت ہے اگر ہم پانی کا استعمال مناسب کریں گے تو ان کے لیے بھی پانی بچا سکیں گے۔

    ہمیں میٹھے پانی کے استمال پر توجہ رکھنی ہوگی اور اس ضائع ہونے سے محفوظ کرنا ہوگا اور اس میں ناکامی ہماری آگے آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دے ہوگی.پانی واضح طور پر ایک اہم ضرورت ہے ۔ جتنا ہم پانی کو بچائیں گے ، زمین اتنی ہی زیادہ آباد ہوگی۔
    پانی کا تحفظ اپنے گھر سے شروع کریں۔ پانی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے چھوٹے طریقوں کو اپنانے سے ، ہم اجتماعی طور پر طویل عرصے میں اپنے ماحول اور کمیونٹی پر بڑا اثر پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گے انشاء اللہ.

    @salmabhatti111

  • کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: اوورسیز واریئرزنے باغ اسٹالینز کو شکست دے دی

    کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں اوورسیز واریئرز نے باغ اسٹالینز کو 5 وکٹ سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی: مظفر آباد میں کھیلے گئے اس میچ میں باغ اسٹالینز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اوورسیز واریئرز کو جیت کے لیے 187 رنز کا ہدف دیا تھا۔

    اوور سیز واریئرز نے 187 رنز کا ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر 19.2 اوورز میں حاصل کرلیا اوور سیز واریئرزکے حیدر علی نے 57 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔کامران غلام 41 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور ناصر نواز نے 31 رنز بنائے۔

    باغ اسٹالینز کی جانب سے عامر یامین نے اوورسیز واریئرز کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    باغ اسٹالینز کھلاڑی: شان مسعود ، ذیشان ملک ، روحیل نذیر ، اسد شفیع ، افتخار احمد ، عامر یامین ، عمید آصف ، محمد الیاس ، فرقان شفیق ، عامر سہیل ، ایم عمران جے آر ہیں:

    اوورسیز وارئیرز:ناصر نواز ، عثمان علی خان ، حیدر علی ، اعظم خان ، عماد وسیم ، کامران غلام ، آغا سلمان ، سہیل خان ، محمد موسیٰ ، ایم عباس آفریدی ، فیضان سلیم-

    واضح رہے کہ مظفرآباد ٹائیگرز کے اوپنر ذیشان اشرف نے کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ایونٹ کی پہلی سنچری بنا ئی تھی ذیشان اشرف نے اپنی ٹیم مظفرآباد ٹائیگرز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا

    انھوں نے 196 رنز کے ہدف کے تعاقب میں عمدہ و تاریخی باری کھیلتے ہوئے 58 گیندوں پر ایک چھکے اور 17 شاندار چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی یہ کشمیر پریمیئر لیگ میں کسی بھی بیٹسمین کی پہلی سنچری ہے۔

  • لیونل میسی نے پی ایس جی میں شمولیت اختیار کر لی

    لیونل میسی نے پی ایس جی میں شمولیت اختیار کر لی

    ارجنٹائن کے فٹ بال سٹار لیونل میسی نے فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی: سکائے اسپورٹس کےمطابق پی ایس جی کی جانب سے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں میسی کی موجودگی میں ممکنہ طورپر معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا میسی منگل کی سہ پہر بارسلونا سے پیرس روانہ ہوئے اور انہوں نے پی ایس جی کی شرٹ بھی پہن رکھی تھی

    فٹبالر کاپی ایس جی کے ساتھ معاہدہ دو سال کا ہے اور تیسرے سال کیلئے دوبارہ مشاورت کی جائے گی میسی کو ایک سیزن کے لیےلگ بھگ5ارب روپے ملیں گے۔

    خیال رہے کہ میسی نے گزشتہ مشہور ہسپانوی فٹبال کلب بارسلونا کو 21 سال بعد چھوڑ دیا تھا میسی بارسلونا کلب کو چھوڑنے کی الوداعی پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہوگئے تھے نہوں نے بارسلونا کلب 16 اکتوبر 2004 میں جوائن کیا تھا۔ میسی نے بارسلونا کی طرف سے 778 میچوں میں حصہ لیا اور کل 672 گول کیے۔

    بارسلونا فٹبال کلب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق میسی اور کلب دونوں ہی اس بات پر تیار تھے کہ میسی کلب کے لیے کھیل جاری رکھیں مگر ہسپانوی فٹبال لیگ کے قواعد میسی سے ہونے والے نئے معاہدے کے خدوخال کے آڑے آگئے۔

  • پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    پرسنل اسپیس اور ہمارا معاشرہ: محمد جاوید

    ہر انسان چار قسم کے حدود میں زندگی گزارتا ہے جن میں سب سے پہلے ان کی انتہائی ذاتی زندگی کا حد ہوتا ہے جو صرف دو لوگوں یعنی میاں بیوی کے حد تک محدود ہوتا ہے دوسری زندگی ایک شخص کی ذاتی زندگی ہوتی ہے جس کو انگریزی میں پرسنل اسپیس (personal space) کہتے ہیں۔ تیسری زندگی معاشرتی زندگی اور چوتھی زندگی عوامی زندگی ہوتی ہے۔
    آج ہم پرسنل اسپیس کے بارے میں کچھ بات کریں گے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا ہے دوسروں کے پرسنل اسپیس پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سوں کو اپنے حد کا علم بھی نہیں ہوتا اگر کوئی شخص اپنے حد کی حفاظت کر بھی لے تو اس کو خود غرضی کانام دیاجاتا ہے۔
    پرسنل اسپس کو اگر مثالوں سے واضع کیا جائے تو اِس میں ایسے سوالات کا پوچھنا ہے جو سننے والے کو بلکل بھی پسند نہیں ہوں مثلاً آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ شادی کہاں سے کی ہے ؟ اگر کنوارا ہے تو شادی کیوں نہیں کی ؟ آج کل کمزور نظر آرہے ہوں کیوں؟ اِس طرح کے بہت سارے سوالات جن کے جوابات بہت حوصلے والا شخص ہی دے سکتا ہے۔
    اسی دائرے میں سوالات کے علاوہ کئی لوگ عمل کروانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔
    پرسنل اسپیس کے تعین اور اس کے بارے میں بحث کرنے والے علم کو proximics کہتے ہیں اور مغرب میں بچوں کو نو عمری سے یہ علم پڑھایا جاتا ہے تا کہ وہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
    ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہاں بہت سارے بنیادی حقوق تلف کیے جاتے ہیں ہم ایسے بچوں کو دیکھتے ہیں جو اسکول جانے کی عمر میں کسی ورک شاپ پر یا چائے کے ڈھابے پر کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں جن کی ڈگری اور صلاحیت کو منوانے کے لیے اچھی خاصی رقم اور جان پہچان درکار ہوتی ہے اور ایسے ضعیف العمر افراد نظر آتے ہیں جن کا حق ہے کہ معاشرہ ان کو روزی، صحت اور عزت دیں دے لیکن وہ اس سے محروم ہے۔
    ایسے عالم میں کسی دوسرے کی ذاتی معاملات میں خلل ڈالے بنا ایک باشعور شخص ہی زندگی بسر کرسکتا ہے۔
    اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی بنا پر کسی کے کام آنے سے قاصر ہے تو اس کو خود غرض گردانا جاتا ہیں اور اس کو لالچ، کنجوس اور برا بھلا کہا جاتا ہے اور اگر وہ لوگوں کی باتوں میں آکر سب کو خوش کرنے لگے تو کہیں کا نہیں رہتا۔
    اپنے پرسنل اسپیس کی حفاظت کر کے اور دوسروں کے پرسنل اسپیس کا احترام کر کے آپ خود کو اور دوسروں کو بھی خوش رکھ سکتے ہیں ایک بچے کا مثال ہی لیں لے جو آپ سے تھوڑے فاصلے پر ہنستے مسکراتے کھیل رہا ہو آپ اس کو قریب آنے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں مان رہا اور جب اس کو زبردستی اُٹھا کے لاتے ہیں تو یا تو وہ رونے لگے گا يا اس کے چہرے پر بیزاری آپ دیکھیں گے کچھ بھی نہ کرے تو وہ واپس جانے کی کوشش ضرور کرے گا یہ سب آپ کسی بالغ انسان کے ساتھ نہیں کرسکتے کیوں کہ وہ آپ کو پہلے ہی منع کردیگا اور آپ اس کو اُٹھا کے نہیں لا سکتے۔
    انسانی زندگی میں بہت سی چیزیں سمجھنے کی ہوتی ہیں اور ہمیں سمجھنا چاہئے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لئے بھی دیا گیا ہے کہ انسان میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    @I_MJawed

  • کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ: مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ:مظفر آباد ٹائیگرز نے کوٹلی لائنز کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی ذیشان اشرف کو بہترین بیٹنگ پرفارمنس پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلا ت کے مطابق مظفر آباد ٹائیگرز نے 196رنز کا ہدف 19 ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ مظفر آباد ٹائیگرز نے 196 رنز کے تعاقب میں اننگز کا جارحانہ آغاز کیا مگر اوپننگ بلے باز تیمور سلطان چار رنز بناکر آؤٹ ہوگئے-

    تاہم ان کے ساتھ اوپننگ کے لیے آئے ذیشان اشرف نے ٹورنارمنٹ کی پہلی سینچری سکور کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا ذیشان اشرف نے 62 گیندوں پر 107 رنز بنائے جس میں 18 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا کوٹلی لائنز کی جانب سے عاکف جاوید 2 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ خرم شہزاد اور عرفان اللہ شاہ نے ایک ایک وکٹ لی۔

    دوسری جانب کوٹلی لائنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 195 رنز بنائے تھے کوٹلی لائنز کے آصف علی 67، سید عبداللہ رافع 35، سیف بدر 28 اور کپتان کامران اکمل 27 رنز بنا کر نمایاں رہے مظفرآباد کی جانب سے سہیل تنویر، ارشد اقبال، محمد حفیظ اور عثمان یوسف نے ایک، ایک وکٹ لی۔

  • اسلام اور پاکستان  تحریر: حادیہ سرور

    اسلام اور پاکستان تحریر: حادیہ سرور

    23مارچ1940قرار داد پاکستان کا ایک سنہرا دن ایسے امیدوں کے چمکتے ہوٸے سورج کو لے کے ڈوبا کہ اسکے بعد ہر آنے والا دن اور ان دنوں میں روزانہ ابھرنے والا سورج مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا رہا
    وہ دن دور نہیں کہ اسی مشرق میں ایک ایسا سورج طلوع ہونے والا ہے جسکے مقدر میں ڈوبنا لکھا ہی نہیں۔ یہ پہلا مقدس خطہ ہے جسے صرف اور صرف اسلام کے لیے حاصل کیا جارہا ہے۔
    وہ لوگ جس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے , وہ اسلام کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔
    ان کا مقصد اس ارض پاک کے کونے کونے کو سینماٶں اور تھیٹروں کی زینت بنانا نہیں تھا۔۔۔۔!
    باب ہند سے لٹتے ہوٸے آنے والے قافلے اس جذبے سے اپنا تن من دھن قربان نہیں کر رہے تھے کہ اس بننے والے وطن میں بیٹھ کر ہم اپنے ہی بھاٸیوں کی پُشت میں چُھرا گھونپیں گے اور جو دشمن اس وقت ہمارے سروں پہ وار کر رہے ہیں اپنے بھاٸیوں کے خلاف انہیں کو اپنے جنگی اڈے فراہم کریں گے۔۔۔
    صرف اور صرف اسلام کی خاطر ٹرین میں سفر کرنے والے وہ ہزاروں مہاجرین جن میں بچے,بوڑھے,جوان مرد اور عورتوں سمیت سب کو بڑی سفاکی اور بےدردی کے ساتھ شھید کردیاگیا, انکا مطمع نظر اپنے ہی وطن کی ماٶں, بہنوں اور بیٹیوں کی دشمنوں کے حوالے کرنا نہ تھا۔۔۔!
    وہ چند ٹکے حاصل کرکے اپنے بھاٸیوں کو بیچنے والوں میں سے نہ تھے۔۔۔۔!
    وہ عافیہ کی عزت کے رکھوالے غیرت مند مسلمان تھے۔۔۔۔!
    انہیں کا خون اس شمسِ پاکستان کو دنیا کے کونے کونے میں جلوہ گر کیے ہوٸے ہے۔

    اقتدار کی حرص و ہوس نے تمہیں اپنی روشن تاریخ ماضی سے اندھا کردیا ہے۔
    قاٸد اعظم نے فرمایا اکبر کی طرف دیکھنے کی بجاٸے ہمارے سامنے نبی اکرم محمد صلى الله عليه واله وسلم کااسوہ ہے ۔۔۔۔قیام پاکستان سے قبل 101مرتبہ اور بعد میں 14 مرتبہ کہا کہ پاکستان کے آٸینی ڈھانچے کی بنیاد اسلام اصولوں پر رکھی جاٸیگی۔۔۔۔نواب بہادر یار جنگ نے کہا، اگر پاکستان میں قرآن و سنت کا نفاذ مرآد نہیں تو اسکے لیے ہر کوشش ہرام ہوگی۔ یہ سن کر قاٸد اعظم بولے نواب تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔

    عزم یہ تھا کہ جس طرح الله تعالٰی نے اپنے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کو مدینہ دیا تھا اسی طرح ہمیں پاکستان نعمت کے طور پر دیا ہے جو کام ہمارے نبی نے مدینہ میں کیے وہی کام ہم نے پاکستان میں بیٹھ کر کرنے ہیں۔۔۔

    ذرا سا پیچھے ہٹ کے دیکھو تو تم پھانسی کے پھندے پہ تو چڑھ سکتے ہو, زمین و آسمان کے درمیان ہلاک تو کیے جا سکتے ہو, ضیاء اقتدار سے یکدم پابند سلاسل جیسی ظلمات کی اتھاہ گہراٸیوں میں گر سکتے ہو, اس ارض مقدس سے ذلیل و خوار ہو کے ملک بدر تو ہو سکتے ہو۔۔۔۔لیکن ان شہداء کے خون کو داغدار نہیں کرسکتے جنہوں نے اسلام کے لیے پاکستان کو حاصل کیا تھا۔
    اسلام اور پاکستان کے رشتےکی مضبوطی کا عالم یہ ہےکہ ہزاروں لفظوں کو تراشنے اور لاکھوں جملوں کو سمیٹنے کے باوجود اس مضبوط بندھن کے ملاپ کو ناپا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی گہراٸی تک پہنچا جا سکتا ہے۔۔۔
    الله اس ملک عظیم میں اسلام کا بول بالا فرماٸے (آمین)

    ‎@iitx_Hadii

  • ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم   تحریر: صالح ساحل

    ‏اخلاقی بیماریاں اور ہم تحریر: صالح ساحل

    آج میں جس موضوع کو اپنا ہدف بنا رہا ہوں اس میں کسی کی کوئ تفریق نہیں ہر شخص کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے کے وہ کہاں کھڑا ہے میں نے اپنے موضوع کے ساتھ بیماری کا لفظ استعمال کیا جو آپ کے لیے تجسس کی بات ہو گی مگر میں نے اخلاقی برائیاں کے ساتھ بیماری کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے اور ہمارے جینز میں شامل ہو چکی ہے اور یہ سرطان کی طرح ہمارے معاشرے کو اندار سے کھوکھلا کرتی جا رہی جن اخلاقی برائیاں کو خدا کے منکر برائ تسلیم کرتے ہیں ان برائیوں پر خدا کے ماننے والے کیسے رو باعمل ہیں ہر شخص مسلمان اپنی گھر سے سیکھ کر آتا ہے کے جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے مگر وہ معاشرے میں کھل کر جھوٹ بولتا ناپ تول میں کمی کرنے والا ہم میں سے نہیں مگر ہر تاجر اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے ذخیرہ اندوزی کر کے مال بنایا جاتا ہے زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کی جاتی ہے غرض یہ کے دنیا کی کوئ ایسی برائی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو پھر ہم اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھنے کے لیے اس اخلاقیات سے دیوالیہ حرکات کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ذلت و رسوائی کا زمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کے اگر ہم آج دنیا میں روندا درگاہ ہیں تو یہ دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ جو کے سراسر خود فریبی اور دجل ہے دنیا میں انہیں قوموں کے مقدر میں ترقی ہوتی ہے جو اخلاقی طور پر ایک قوم ہوتیں ہیں انسان نام رکھ کر حیوانات والے کام کرنے والی قومیں کبھی دنیا میں ترقی نہیں کرتی اس دنیا کی سب سے اعلی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے معترف ان کے دشمن بھی تھے یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی اخلاقی تربیت کا نتیجہ تھا کے قیصر و کسریٰ کی سلطنت آپ کے غلاموں کے قدموں تھی اور وہ عرب بدو جن کو کل تک کوئ گھاس نہیں ڈالتا تھا دنیا کے سپرپاور بن گے قوموں کے فیصلے ان کے اخلاقی وجود پر ہوتے ہیں جس قوم کا اخلاقی وجود مر چکا ہو وہ صحفہ ہستی سے مٹ جاتی ہے اور تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک چنگیز خان جو ایک چھوٹے سے قبیلے سے اٹھا اور اپنی ساتھ قبائل مل کر آدھی دنیا پر حکمرانی کرنے لگا تو تاریخ اٹھ کر پڑھو وہ ایک با اصول شخص تھا جس کے جھنڈے کے نیچے اس کے باقی قبائل جمع ہوئے مگر جب اس کی نسلوں نے ان اصولوں کو فروش کیا تو صحفہ ہستی سے مٹ گے عرب کی ایک کہاوت ہے کے ظلم پر تو معاشرہ قائم رہ سکتا ہے نا انصافی پر نہیں یہ تمام برائیاں نا انصافی کے زمرے میں آتی ہیں کسی سے جھوٹ بولنا حق تلافی کرنے ذخیرہ اندوزی کرنا کرپشن کرنا ان سب میں نا انصافی نظر آتی ہے اس لیے ہم سب کو معاشرے میں پھیلی بیماری کے ساتھ ساتھ اپنے اندار بھی دیکھنا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کے ہر شخص اس کے خلاف علم جہاد بلند کرے گا معاشرے کو اس ناسوار سے پاک کرنا ہماری زمہ داری ہے آئیں سب مل کر ان برائیوں کا سدباب کریں خدا کے قانون کے مطابق دنیا وہ سرفراز رہیں گے جو دنیا میں اخلاقی اصولوں پر چلیں گے
    ‎@painandsmile334