Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    انسانی دانتوں والی مچھلی کے انٹرنیٹ پر چرچے

    امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایسی مچھلی پکڑی گئی ہے جس کے دانت حیران کن طور انسانی دانتوں جیسے دکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک شخص نے مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال پھینکا کے اس دوران اس کے ہاتھ انسانی دانتوں والی مچھلی بھی آ گئی مذکورہ شخص نے مچھلی کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے مچھلی کو دیکھ کر کافی حیرت کا اظہار کیا گیا ہےمچھلی کی شناخت بطور شیپس ہیڈ فش ہوئی ہے مچھلی کا منہ بھیڑ جیسا نظر آتا ہے جب کہ یہ اپنا شکار پکڑنے کے لیے تہہ در تہہ موجود دانتوں کا استعمال کرتی ہے مچھلی کا نام بھیڑ کے منہ کی طرح دکھائی دینے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    رپورٹ کے مطابق عجیب الخلقت مچھلی پکڑنے والے مارٹن نامی شخص نے بتایا کہ وہ شیپس ہیڈ فش ہی پکڑنے آئے تھے جب ان کا سامنا انسانی دانتوں والی مچھلی سے ہوا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مچھلی کو پکڑنے کا عمل کافی دلچسپ رہا جب کہ اس کا ذائقہ بھی کافی منفرد اور لذیذ تھا۔

  • خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفۂ ثانی حضرت عمر ابنِ خطاب رضی اللّٰــــہ عنہ
    ✍🏻:جویریہ بتول

    مرادِ نبیﷺ تھا جو خود چل کر وہ آ گیا…
    آتے ہی کلمہ پڑھ کر غرورِ کفر پر چھا گیا…
    اِک حوصلہ دیا جس نے بے بس مسلمانوں کو…
    بیت اللّٰــــہ کے آنگن میں وہ نغمۂ توحید گا گیا…

    جس راستے عمر چلے، وہاں بھاگتا شیطان ہے…
    عمر کے دل کی خواہشوں پر اُترتا قرآن ہے…
    کوئی ہوتا بعد میرے گر نبی اس جہاں میں…
    ہوتا وہ فقط عمر،یہ پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے…

    جس طرف بھی بڑھ گیا عمر آ گیا اِک انقلاب…
    ہر دیار میں چہار جانب اُبھرا اسلام کا آفتاب…
    قبلہ اول کےقابض دَنگ تھے دیکھ کر مردِ درویش…
    بن کر فاتح وہاں داخل ہوا تھا جب ابنِ خطاب…

    شرق سے غرب تک پھیل گئی تھی آسودگی…
    خلیفہ جاگتا تھا ،جب قوم پر چھاتی غنودگی…
    بچوں کے رونے پر بھی جو ہو جاتا تھا بے قرار…
    اُس گرم مزاج میں یوں رچی تھی عاجزی…

    اسلام کا اِک عظیم خادم سدا رہے گا میرا عمر…
    چکنا چُور کر دی جس نے کفر کی ہر سُو کمر…
    آج بھی دہل جاتے ہیں جس کے نام سے وہ دل…
    ڈریں جس کاثانی ہونےسے،تھا وہ تقویٰ کاپیکر…

    ہیں سسرِ نبیﷺ بھی وہ، جو ہیں دامادِ علی…
    کردار سدا تاریخ کے ورق پر ہے اُن کا جلی…
    اطاعتِ نبیﷺ میں تھی یوں زندگی گزاری…
    بعد شہادت کے جگہ نبی کے پہلو میں ملی…

    ذکرِ عمر جب بھی ہوا،سادگی پہ چشمِ نم ہوئی…
    کہ واسطے اسلام کے تھی جس کی گردن خم ہوئی…
    عمر کے کردار نے بھر دی مہک سانسوں میں…
    اِسی یقین میں زندگی اُن کی خوشی و غم ہوئی…!
    (رضی اللّٰــــہ عنہ).

  • کرونا وائرس سے لڑنا ہے تحریر: راحیلہ عقیل

    کرونا وائرس سے لڑنا ہے تحریر: راحیلہ عقیل

    2019 میں ایک وبا عام ہوئی جسکو کرونا وائرس کا نام دیا گیا ساری دنیا کو اس وائرس نے تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا پاکستان میں فروری 2020 کرونا وائرس کے دو مریض سامنے آئے ان میں سے ایک مریض کراچی اور دوسرا وفاقی سے تھا دونوں مریض ایران کے سفر سے لوٹے تھے اس کے بعد تو جیسے کرونا نے سر اٹھا لیا اچانک کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک کرونا کی لپیٹ میں آگیا عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اگر حفاظتی تدابیر نہ اختیار کی گئیں تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے اس کے بعد ان میں اضافہ ہوگا یا کمی واقعہ ہوگی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے جو آج کافی حد تک درست ثابت ہوئی،
    ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈ بنائے گئے عوام کو آگاہی دی گئی ماسک پہنیں، غیر ضروری گھروں سے باہر نا نکلیں، ہاتھ بار بار دھوئیں،مگر وہ پاکستانی ہی کیا جو حکومتی اقدامات کو سنجیدہ لیں جوں جوں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتی گئی وہی آکسیجن کی کمی سامنے آئی دوسرے ممالک سے مدد ملی کرونا پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش ناکام ہوئی تب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ لیا گیا، جن شہروں میں کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے وہاں سخت لاک ڈاؤن لگایا گیا اس کے باوجود عوام نے اس وبا کو سنجیدہ نا لیا لاکھ پابندیوں کے باوجود گلی محلوں چھوٹے ہوٹلوں پر عوام کے ہجوم نظر آتے رہے، سخت لاک ڈاؤن میں اسکول ،کاروبار ، تو بند ہوئے مگر سیاسی سرگرمیاں اپنی عروج پر تھی حکومت جماعت ہو یا اپوزیشن سب نے اپنی سیاست کے لیے عوام کی جانوں سے کھیلا جلسے ہوتے رہے انتخابی مہم چلتی رہی یہی وہ خاص وجہ رہی جس نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کونسا وائرس ہے جو صرف شادیوں ہوٹلوں اسکولوں میں آتا ہے جلسوں میں نہیں، حالیہ کچھ دنوں میں کراچی میں 48 افراد کرونا سے انتقال کرگئے اس سے پہلے پنجاب میں 25 افراد ایک دن میں کرونا سے انتقال کرگئے تھے، ڈاکٹر کرونا مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یہ وہ وقت تھا جب ہمارے پاس ویکسین کی سہولت موجود نا تھی اب پاکستان میں ویکسین لگائی جارہی ہے بڑی تعداد میں لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں ہر شہر بلکہ اب تو ہر علاقے میں ویکسین کی سہولت موجود ہے،

    کچھ لوگ پوچھتے ہیں ویکسین لگوانے سے کرونا نہیں ہوگا؟

    جن لوگوں کو ویکسین لگی وہ بھی کرونا کا شکار ہوئے ہیں تو جناب اسکا جواب یہی ہے کرونا ہوگا مگر اسکی شدت اتنی تیز نا ہوگئی جو آپکی جان لے جاے آپ کے جسم میں وائرس سے لڑنے کی طاقت موجود ہوگئی جس سے آپ بہت جلدی اس وبا سے لڑ سکیں گے جبکہ ویکسین نا لگوانے والوں کو کافی تکلیف سے گزرنا ہوگا جس میں سانس کی کمی سب سے خطرناک ہوسکتی ہے جو آپکی جان لے جاے،

    دوسری جانب کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آرہے "ویکسین نہیں ہے یہ ویکسین کے نام پر تجربہ ہورہا ہے "جس سے دو سالوں میں ویکیسن لگوانے والے مرجائیں گے خواتین بانجھ ہوجاہیں گئی مرد نا مرد ہوجاہیں یہ ساری من گھرٹ کہانیاں ہیں جو ہم میں سے ہی لوگوں کی بنائی گئی ہیں ہم میں موجود بہت سے لوگ آج بھی پولیو ویکسین کو نہیں مانتے یہ سلسلہ ایک عرصے سے چلا آرہا جو کبھی نہیں رکے گا، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش رکھی ہے جو ہماری حکومت عوام کے لیے کررہی ہے

    ویکسین لگوائیں یا نا لگوائیں یہ اپکا ذاتی عمل ہے کم از کم من گھڑت کہانیاں بناکر خود کو بہت بڑا سائنسدان سمجھ کر سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرکے عوام کو گمراہ نا کریں ایسی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف حکومت کو اداروں کو سختی سے نوٹس لینا چائیے جو عوام میں مایوسی خوف پھیلا رہے ہیں

    اگر اب بھی کوئی ویکسین نہیں لگواتا وہ اپنا اپنی فیملی کا زمہ دار خود ہوگا ایسا نا ہو ہسپتال میں آکسیجن نا ملے یا وقت پر ڈاکٹر موجود نا ہو سوچیے۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپنے قریبی ویکسین سینٹر جانے میں دیر نا کریں کیونکہ یہ وبا دروازہ بجاکر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل

  • اللہ تعالی ہی رازق ہے داتا ہے مالک ھے تحریر : حادیہ سرور

    اللہ تعالی ہی رازق ہے داتا ہے مالک ھے تحریر : حادیہ سرور

    ہمارے معاشرے میں لوگوں کو اس موضوع پر آگاہی ہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت ہمارے سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جا رہے ہیں۔
    اللہ تعالی ایک, اپنی ذات میں ایک, اپنی صفات میں ایک, وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔
    وہ ہی دینے والا ہے وہ ہی لینے والا ہے ۔
    لیکن انڈیا پاکستان میں افسوس کے ساتھ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جس طرح کچھ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی انڈیا پاکستان میں کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں ۔
    کبھی ہم دیکھتے ہیں کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی بیٹا مانگ رہے ہوتے ہیں تو کبھی نوکری تو کبھی کاروبار میں ترقی ۔اب بات یہ ہے جو ہمارا رب ہمارے دعا کرنے سے اتنا خوش ہوتا ہے جو ہمارا رب ہمارے سب سے قریب سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں !
    کیا وہ ہماری دعاوں کو نہیں سنے گا نعوذ باللہ کیا وہ ان کو قبول نہیں کرے گا !
    افسوس آج ہم نے حقیقی اللہ کو چھوڑ کر مصنوعی خدا بنا لیے جن کو کبھی داتا کہا جاتا ہے تو کبھی رب نواز تو کبھی بندہ نواز تو کبھی کیا ۔کبھی ہم دیکھتے ہیں سندھ میں ایک مزار پر حج شروع ہوجاتا ہے تو کبھی ہزاروں ایسے واقعات سامنے آتے ہیں ۔
    اب سوال یہ ہے وہ کون سی ایسی دعا ہے جو میرا رب نہیں سنتا ! وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالی نہیں عطا کر سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں!
    قران و حدیث انسان کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے ۔
    لیکن افسوس ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔
    آج کل ہمیں قران و حدیث پر عمل کرنے سے منع کیا جاتا منطقیں پیش کی جاتی فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔۔کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قران و حدیث پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ دے گا ۔
    ہمیں آج کل فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ہم قران و حدیث کی بات کو ماننے سے کتراتے اتے ہیں ۔ہمیں پتہ ہوتا قران و حدیث سچ ہے لیکن ہمارے کچھ بھائی اور بہنیں قرانی و حدیث کے مقابلے میں فقہ کی منطقیں پیش کرتے ہیں ۔وہ صرف اس لیے کیوں کہ اگر انہوں نے قران و حدیث کو سچ مان لیا تو ان کا پورا فقہ سامنےآ جاۓ گا ۔ان کے بڑے بڑے علماء جنہوں نے سالوں سے اس قوم کو بے وقوف بنا کے رکھا ہوا ہے وہ بے نقاب ہو جائیں گے ۔۔
    آج کل بہت سے فقہ میں تقریباً چھ سال تک فقہ پڑھایا جاتا ہے جب بچے کا زہن فقہ پر پک جاتا ہے وہ اس ہی فقہ کو حق سچ مان لیتا ہے تو آخری ایک دو سال میں احادیث کی ساری کتابیِں سامنے رکھ دی جاتی ہیں ۔ جن کو بچے اتنے کم وقت میں سہی سے سمجھ نہیں سکتے اور بعد میں جب ان کے سامنے کوئی سہی احدیث بھی پیش کی جاتی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں اپنے فقہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس لیے ہمارا معاشرہ دن بدن شر و بدعات جیسی غلیظ رسم و رواج میں گرتا جا رہا ہے جو کہ ایک نہایت افسوس ناک بات ہے ۔اور جس کا عذاب نہایت درد ناک ہے ۔

    اللہ پاک سب کو قران و حدیث پر صیحح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے

    ‎@iitx_Hadii

  • رشتہ ڈھونڈو مہم اور لڑکی کی زات کی تزلیل ؛ ‏تحریر :- محمد دانش

    ‏اسلام دین فطرت ہے اور  دین اسلام نے ہمیشہ  فطرت کے اصولوں اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ نکاح ایک سنت عمل ہے جسکا حکم اللّہ پاک نے دیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: 
    وَ اَنۡکِحُوا الۡاَیَامٰی مِنۡکُمۡ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنۡ عِبَادِکُمۡ وَ اِمَآئِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغۡنِہِمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ  وَاسِعٌ  عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾
    تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح  کےہوں ان کا نکاح کر دو  اور اپنے نیک بخت غلام  اورلونڈیوں کا بھی  اگر وہ مفلس بھی ہوں گےتو اللہ تعالٰی انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا  اللہ تعالٰی کشادگی والا  اورعلم والا ہے ۔ 
    اسکی عملی مثال ہمیں حضرت محمد صلی اللّہُ
    ‏علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے ملتی ہے اور آپ نے جابجا نکاح کے لئے اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے۔
    ‏عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : اَلنِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ لَّمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ وَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ
    ‏عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں، اور شادی کرو، کیوں کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ اور جس شخص کے پاس وسعت ہو وہ نکاح کرلے، اور جس شخص کے پاس گنجائش نہ ہو وہ روزے رکھے، کیوں کہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔

    حضرت ابو ایوب سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    چار چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت میں سے ہیں:
    حیا،خوشبو لگانا،مسواک کرنا اور نکاح ۔
    ‏ہمارے معاشرے میں اس سنت کو پورا کرنے کے لئے
    جو طریقہ اپنایا جا رہا ہے وہ انتہائی فرسودہ اور بوسیدہ ہے جب لڑکی  باشعور ہو جاتی ہے تو اسکو کو شادی کے بندھن میں باندھنے کے لئے رشتہ کی تلاش شروع ہو جاتی ہے اور اسکے لئے لڑکی کے گھر والوں کو روز مرہ کی دعوت اور نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے رشتہ دیکھنے کے لئے جانے والی خواتین کا رویہ لڑکی کے ساتھ اس طرح کا ہوتا ہے جس طرح منڈی میں کسی جانور کو خریدنے سے پہلے اختیار کیا جاتا ہے
    ‏ لڑکی کو انسان تو سمجھا ہی نہیں جاتا وہ سب کے لئے ایک کٹھ پتلی ہوتی ہے اس سب سے لڑکی کی عزت نفس ہر بار بہت مجروح ہوتی ہے اور اس کی زات کو زلت سہنی پڑتی ہے اسکے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی  ہر بار اسی دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات تنگ آکر ماں باپ اس لڑکی کو جو کہ اللّہ کی طرف سے ایک رحمت ہے ، زحمت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں
    ‏لڑکی دیکھنے کے لئے آنے والے لوگ تو اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہی ہیں لیکن  خود اس کے اپنے  گھر والے بھی اس کو بے زبان جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ لڑکی سے اس کی مرضی جاننا بہت معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا اتنا بڑا اور اہم فیصلہ ایک بند کمرے میں طے ہوتا ہے جہاں اس کے علاوہ ماں باپ بہن بھائی سب موجود ہوتے ہیں اور لڑکی کی رضا جانے بغیر رشتہ کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اس اہم فیصلے کااختیار لڑکی اپنے والدین کو دیتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس سے بالکل ہی اس کی رضا نہ پوچھی جائے۔
    ‏لڑکی چاہے جتنی بھی تعلیم یافتہ ہو یا کسی بہت بڑے عہدہ پر جاب کر رہی ہو اس کو بھی شادی کے لئے ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    ‏ جیسے لڑکی کی اپنی زات کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے جبکہ  لڑکے کے لئے اسی معاشرے میں کوئی ایسی شرائط نہی اسکا لڑکا ہونا ہی اس کے  بہتر  ہونے کی دلیل ہے لیکن اسی معاشرے میں لڑکی کے لئے  شرائط کی ایک لسٹ بنائی جاتی ہے جیسا کہ وہ کتنا پڑھی ہے ، اسکا رنگ روپ کیسا ہے ، اسکا قد کاٹھ کیسا ہے ، اسکی انکھیں ، ناک ، کان، بال، چال ڈھال کیسی ہے  اور اگر وہ لڑکی نوکری پیشہ ہے تو وہ نوکری سرکاری ہے یا نہی یہ سوال بہت عام پوچھا جاتا ہے
    ‏جسکی وجہ سے والدین لڑکیوں کے اچھے رشتوں کے لئے بے حد پریشان رہتے ہیں اور ہمارے معاشرے نے شادی جیسی اس سنت کو بہت بیچیدہ بنا دیا ہے
    ‏اسلام میں شادی اتنی پیچیدہ نہیں ہے ۔خدارا! اس کو آسان بنائیے اور لڑکے والوں کو اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ انکے اپنے گھر میں بھی اگر بیٹی جیسی نعمت موجود ہے تو انکو بھی اس زحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وہ کسی کے گھر لڑکی کو دیکھنے گئے ہیں نہ کہ کوئی دعوت اڑانے۔
    ‏ہمارا دین ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ رشتہ کرتے وقت
    ‏ہمیں ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس بات کو یقنی بنانا چاہیے کہ لڑکی دیندار ہو، نیک ہو، گھر سنبھالنے والی ہو اور شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو رشتہ کر دینا چاہیے
    ‏لڑکی کے والدین کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ لڑکی سے بھی اس کی رضامندی پوچھی جائے
    ‏کیونکہ اللہ نے لڑکی کو یہ حق دیا ہےکہ لڑکی کی رضا کے بغیر رشتہ نہ کیا جائے اور
    ‏اس کی بہترین مثال اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم کی ہے جب انھوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے حضرت علی کا رشتہ آنے پر ان کی مرضی پوچھی تھی
    ‏عَنْ أَبِي مُوْسَى ،أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « إِذَا أَرَادَ الرَّجُلَ أَنْ يُّزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا » .
    ‏ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہے تو اس سے اجازت لے لے۔

    ‏بعض اوقات ہمارے معاشرہ میں اس رشتہ ڈھونڈو مہم کے کامیاب ہونے کے بعد جب خوش قسمتی سے رشتہ جڑنے کی طرف جاتا ہے تو لڑکی کے والدیںن پر جہیز نما لعنت کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جو کہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہے جب والدین خوش قسمتی سے  اپنے حساب سے لڑکی کا اچھا رشتہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کے لیے جہیز جیسے مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انکی جھکی ہوئی کمر ، بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے مزید جھک جاتی ہے۔
    ‏اسلام میں شادی کامقصد نمود و نمائش ہر گز نہیں ہے بلکہ شادی کا وآحد مقصد اولاد کی بہترین تربیت ہے۔اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ بات سمجھانی ہے۔
    ‏اللّہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور لوگوں کے درمیان آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے آمین۔

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • ڈر کا بھیڑیا  تحریر: زبیر احمد

    ڈر کا بھیڑیا تحریر: زبیر احمد

    ہرن کے بھاگنے کی رفتار 85 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے جبکہ شیر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگتا ہے۔ اتنا تیز بھاگنے کے باوجود بھی ہرن شیر سے نہیں بچ پاتا اور شیر ہرن کا شکار کر ہی لیتا ہے.کیونکہ ہرن کے دل میں پکڑے جانے کا مارے جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ ہرن کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ شیر اس سے زیادہ طاقتور ہے یہ مجھے مار سکتا ہے۔اس لئے وہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا رہتا ہے اور اس کی رفتار کم ہوجاتی ہے۔ جب ہم ڈرتے ہیں تو اتنا بھی نہیں کرپاتے جتنا ہم آسانی سے کرسکتے ہیں۔ڈر ہمیں کمزور کردیتا ہے, ناکارہ بنا دیتا ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے۔ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ایک طالبعلم کو فیل ہونے کا ڈر ہوتا ہے امتحان میں کم نمبر آ گئے تو کیا ہوگا۔لوگوں کی باتوں کا ڈر ہوتا ہے والدین کی ناراضگی کا ڈر ہوتا ہے۔دوستوں، رشتہ داروں میں عزت کا جنازہ نکلنے کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ جب بھی کتاب لے کر پڑھنے کے لیے بیٹھتا ہے تو یہ سارے ڈر اور خدشات اس سے گھیر لیتے ہیں۔جب وہ ڈر ڈر کر پڑھے گا تو کیا خاک پڑھ پائے گا اسکے اندر کا خوف اس سے کبھی بھی اچھے مارکس نہیں لینے دے گا۔ جو کھلاڑی ڈرتا یے وہ کبھی اچھا نہیں کھیل سکتا جس کو آوٹ ہونے کا ڈر ہوگا اس کا دھیان کبھی کھیل کی طرف جائے گا ہی نہیں،اونچی شاٹ کھیلی تو کہیں آوٹ نہ ہوجاوں جو کھلاڑی یہ سوچے گا وہ کبھی چھکا نہیں مار پائے گا۔ڈر لگتا تو سب کو ہے لیکن سب لوگ نہیں ڈرتے کچھ لوگ ڈرتے ہیں اور کچھ لوگ اس ڈر پر قابو پا لیتے ہیں۔ ڈر پہ قابو پانا سیکھ جاتے ہیں اور وہی لوگ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ ڈر پہ قابو پالیتے ہیں وہ ایسا کیا کرتے ہیں کیسے ایسا کرلیتے ہیں۔ناکامی کا ڈر اور کامیابی کا یقین دو بھیڑیے ہیں جو ہر انسان کے اندر موجود ہیں۔ ناکامی کا بھیڑیا ہمیں ڈراتا ہے کہ کہیں فیل نہ ہوجاوں فیل ہوگیا تو کیا ہوگا۔ یہ ناکامی کے ڈر کا بھیڑیا ہے اور دوسرا بھیڑیا کامیابی کا یقین دلاتا ہے کہ ضرور کامیاب ہونگے۔ حالات اتنے بھی برے نہیں تیاری اتنی بھی خراب نہیں فکر نہ کرو ہمت کرو۔ یہ بھیڑیے ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں بڑے ہوتے ہیں اور مرنے تک ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ناکامی کا ڈر ہمیشہ کامیابی کے یقین کے ساتھ لڑتا رہتا ہے اور کوئی ایک ہی ان میں سے جیت پاتا ہے۔ جیت ہمیشہ اس بھیڑیے کی ہوتی ہے جس کو ہم کھلاتے پلاتے رہتے ہیں جس کی پرورش کرتے ہیں جس کو پالتے ہیں جس کو طاقتور بناتے ہیں۔ ڈر کو پالیں گے تو ڈر جیت جائے گا اور یقین کو پالیں گے تو وہ ڈر کو چیر پھاڑ دے گا۔ ڈر کی سب سے اچھی خوراک ہوتی ہے اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس کا ذکر کرتے رہنا اس سے ڈسکس کرتے رہنا اور یہی چیز ڈر کو طاقتور بناتی ہے۔ جب آپ کتاب لے کر بیٹھتے ہیں اور سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ کہیں فیل نہ ہوجاوں تو آپ اپنے ڈر کے بھیڑیے کو کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ اپنے دوستوں سے بات کررہے ہوتے ہیں کہ کورس بہت زیادہ ہے اور وقت بہت کم رہ گیا ہے بہت مشکل ہے تو آپ ڈر کے بھیڑیے کو مضبوط اور طاقتور کررہے ہوتے ہیں جب آپ ڈر کو مضبوط کروگے پھر ڈر تو لگے گا۔
    ڈر سے جان چھڑانی ہے تو ناکامی اور ڈر کے بھیڑیے کو کھلانا پلانا بند کرنا ہوگا اس سے کمزور کرنا ہوگا۔ خود پر یقین رکھیں جو وقت برباد ہوگیا وہ تو گزر گیا ہے لیکن جو وقت آپ کے پاس ہے اسکو استعمال کریں۔ انسان کے ہاتھ میں کوشش کرنا ہے، نتیجے کا سوچنا چھوڑ دیں۔ اس بات پہ یقین رکھیں کہ کی گئی محنت کو خدا کبھی ضائع نہیں کرتا اس کا پورا پورا صلہ ضرور ملے گا.
    ناکام ہونے کا فیل ہونے کا سوچنے کیبجائے کامیاب ہونے کا سوچیں کیوں ڈریں کہ زندگی میں کیا ہوگا ہر لمحہ کیوں سوچیں کہ کچھ برا ہوگا۔ خود پر یقین کرکے چلیں تو ایک نہیں ہزار راستے آپ کے لیے کھل جاتے ہیں۔ مشکلوں سے ڈر کر کبھی ہمت نہ ہاریں بلکہ زندگی کو اپنے ہاتھوں سے سنواریں۔ جیتنا چاہیں گے تو جیت ملے گی ہار کا ڈر لے کر کبھی زندگی نہ گزاریں۔زندگی میں ہر روز کچھ نیا سیکھیں کچھ نیا کریں کچھ نیا سوچیں۔

    tweets @KharnalZ

  • کرکٹ اور ناکام بھارت  تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ اور ناکام بھارت تحریر : احسن وقار خان

    کرکٹ جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے لیکن بھارت جو اس وقت آر ایس ایس کی آڈیالوجی کے تحت ہٹلر مودی کے قبضے میں ہے اس کھیل کو بھی اپنے ناپاک عزائم سے بگاڑنا چاہتا ہے ۔
    کشمیر میں سجے اس کرکٹ کے میلے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا اس بھارت نے ۔کھلاڑیوں کو دھمکیاں دیں ۔آئی سی سی کو دھمکیاں اور بھی بہت کچھ لیکن ایک دفعہ پھر اس کو منہ کی کھانا پڑی ۔اج کرکٹ جیت گئی،عوام جیت گئی مودی ہار گیا ۔

    بھارت ناکام ہو گیا ۔ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں کرکٹ کا میلہ سج گیا ۔
    کشمیر پریمیئر لیگ پر بھارتیوں کی چیخیں پاکستان کی فتح کا ثبوت ہیں ۔۔۔ ۔۔

    کشمیر لیگ منقعد کرانے پر گورنمنٹ کو پورا کریڈٹ دینا چاہیے۔۔۔مجھے معلوم ہے میرے کچھ ہم وطن کہیں گے کہ گورنمنٹ نے کشمیر بیچ دیا,اس لیگ سے کیا ہو گا۔۔
    جو شور بھارت میں مچا ہوا وہ بتا رہا کیا ہو گا ۔
    ایونٹ کو ختم کرانے کیلیے بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، غیرملکی پلیئرز کو شرکت سے روکنے کی سرتوڑ کوشش ہوئی، اس مقصد کیلیے متعلقہ بورڈز پر دباؤ بھی ڈالا گیا،

    ایونٹ کو رکوانے کیلیے آئی سی سی کا دروازہ تک کھٹکھٹایا گیا، تاہم وہاں پر بھی اسے منہ کی کھانا پڑی، بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود کشمیر پریمیئر لیگ کا پہلا میچ منعقد ہونے کو تیار ہے۔

    جس طرح ہمیشہ بھارت کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس دفعہ بھی یہی حال ہوا اور رہتی دنیا تک یہی حال رہے گا ۔۔ انشا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    مظلوم کشمیری، لاک ڈائون اور کورونا .تحریر: محمد مستنصر

    یوں تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں پر ہندو تسلط اور جبر کا آغاز 1925 سے ہی ہوگیا تھا جب 77 فیصد مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے پر ہندو راجہ کو بطور حکمران مسلط کر دیا گیا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی سراپا احتجاج کشمیری مسلمانوں کی طرف سے آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا جس کو دبانے کے لئے 1930 سے لیکر آج تک ہندوئوں کی طرف سے نہتے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم وستم کا ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرادادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے ساتھ گذشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیری مسلمانوں کے لئے ہر دن مشکل ترین ثابت ہوا۔ بھارتی قابض فورسز کی طرف سے عورتوں کے ساتھ ذیادتی، کشمیری نوجوانوں کا قتل عام، پیلٹ گن کے ظالمانہ استعمال سے بچوں کو نابینا کیا جانا اور بوڑھوں کی بے حرمتی تو معمول کی بات تھی ہی تاہم گذشتہ دو سالوں کے دوران جس طرح مودی سرکار نے کشمیری مسلمانوں کو اذیت اور دکھ درد میں مبتلا کررکھا ہے اسکی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ دنیا کے مہذب معاشرے تو اپنی حکومتوں کی طرف سے کورونا وائرس کے پیش نظر 2020 کے اوائل میں لاک ڈائون کا شکار ہوئے تاہم کشمیری مسلمان جہاں ایک طرف اگست 2019 سے مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش، ہسپتالوں کی بندش، انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں سمیت لاک ڈائون کا شکار تھے تو وہیں کورونا وبا کے پیش نظر لگائے جانیوالے لاک ڈائون کی وجہ سے مظلوم کشمیری دوہری پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی پہلے ہی کمی تھی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 ہزار 8 سو 66 شہریوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر تعینات تھا جبکہ دوسری طرف مودی سرکار کی طرف سے کشمیریوں کی زندگی مشکل بنانے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لئے 14 لوگوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات کیا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 18 مارچ 2020 کو سامنے آیا جب ایک خاتون میں مہلک وائرس کی موجودگی پائی گئی جس کے بعد سے اب تک کورونا وائرس کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ 43 سو سے زائد اموات بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ ذرائع آمدورفت اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث جہاں عام شہریوں، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کورونا وبا سے بچائو کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہا۔ کورونا وبا کے دوران جہاں دنیا کے باقی ممالک میں صحت کے حوالے سے جدید ترین سہولیات کی فراہمی پر کام کی رفتار کو تیز تر کر دیا گیا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات ہی نہ ہونے کے برابر تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 27 ہزار مریضوں کے لئے اوسطا ایک انتہائی نگہداشت کا بیڈ فراہم تھا جبکہ مقبوضہ وادی کے صرف ایک ضلع میں چار لاکھ مریضوں کے لئے 6 وینٹی لیٹرز فراہم کئے گئے تاہم طبی عملہ تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ وینٹی لیٹرز بھی استعمال میں نہ لائے جا سکے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر جب بھارت میں صورتحال تشویش ناک ہوئی تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو آکسیجن گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی جس کا خمیازہ مظلوم کشمیریوں کو ہی بھگتنا پڑا۔ کورونا وائرس نے پہلے سے تباہ حال مقبوضہ وادی کی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا،

    لاک ڈائون، کرفیو، ذرائع آمدو رفت کی بندش کے باعث مقبوضہ وادی میں سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہی جس کا براہ راست منفی اثر عام کشمیریوں کی معاشی حالت پر پڑا۔ اعداد وشمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2020 صرف 525 سیاحوں نے مقبوضہ وادی کا رخ کیا جبکہ اگست اور ستمبر 2019 میں 14 ہزار 6 سو سیاح جنت نظیر وادی پہنچے یاد رہے کہ یہ تعداد سال 2018 کے مقابلے میں 90 فیصد کم ہے۔ کورونا وبا کے دوران جہاں باقی دنیا میں بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے آنلائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش اور مخصوص علاقوں میں صرف 2G انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے باعث جہاں آنلائن کلاسز کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکیں وہیں "ورک فرام ہوم” کی سہولت سے بھی عام کشمیری محروم رہے۔ مظلوم کشمیریوں کے لئے کورونا لاک ڈائون کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ آزادی کے متوالے کشمیری مسلمان گذشتہ سات دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر سہہ رہے ہیں تاہم ہر کشمیری نوجوان، بوڑھے، بچے اور خاتون کا حوصلہ ماند نہیں پڑا۔ کشمیری مسلمان آج بھی پر امید ہیں کہ کل کا سورج آزادی کی نوید لیکر طلوع ہو گا اور انہیں بھارتی تسلط سے جلد نجات ملے گی۔

    @MustansarPK

  • تھوڑی سی برداشت   تحریر : شاہ زیب

    تھوڑی سی برداشت تحریر : شاہ زیب

    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے ہم محنت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زندگی میں ایک اور چیز بھی بڑی اہم ہے جسے ہم تقریباً فراموش کر چکے ہیں۔
    بات ہو رہی ہے برداشت کی
    جی ہاں وہ ہی برداشت جو بطور معاشرہ
    بطور قوم
    بطور مسلمان
    ہم کہیں کھو چکے ہیں۔ آج کل ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلہ بازی میں مصروف ہے۔
    کسی نے ایک لفظ بھی ناپسندیدہ کہہ دیا تو ہم پر جیسے فرض ہو گیا اس کو بڑھ کر جواب دینا۔
    اگر کوئی ہمارے کسی کام یا بات پر تنقید کر دے تو ہم ایک منٹ رک کر یہ نہیں غور کرتے کہ واقعی اس نے یہ بات ٹھیک کی یا نہیں، ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟
    ہم فوراً سے غصہ کر کے اس بات کا دگنا جواب دیتے ہیں۔ کیا ہو اگر ہم اس کی بات سن کر، اس پر غور کر کے خود کو بہتر کر لیں۔
    ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کو دکھاوا کہا جائے گا ( کیا آپ لوگ اس انسان کی نیت کو ﷲ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟)
    اگر کوئی خوش ہے تو لوگ اس کو دیکھ کر بجائے خوش ہونے کے اس پر تنقید کریں گے۔
    کیا آپ اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکتے؟
    چلیں اگر آپ ایسا نہیں بھی کرسکتے تو کم از کم اس کی خوشی برداشت کر لیں اور اس کو اپنے زہر سے غارت نہ کریں۔
    کسی کی خوشی میں، یا کسی کے غم میں اس کا ساتھ دینا یا پھر آپ کو یہ ناگوار گزرے تو برداشت سے کام لینا۔
    اس سے نہ صرف آپ کی زندگی میں سکون آۓ گا بلکہ معاشرے میں بھی تبدیلی آۓ گی۔
    جب آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت کرنا شروع کر دیں گے تو ایک بہترین انسان بن کر سامنے آئیں گے۔
    اس کے سب سے پہلے آپ پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، پھر آپ کے ارد گرد رہنے والوں لوگوں پر۔
    جب وہ لوگ آپ کے اچھے رویے سے متاثر ہوں گے تو وہ بھی آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے۔
    اور اس طرح آہستہ آہستہ ہم بطور معاشرہ ایک مہذب معاشرہ بنیں گے۔ جس میں برداشت ہو گی۔
    جو چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک کر بڑی بڑی لڑائیاں نہیں کریں گے۔
    اور جب ہم ان چھوٹی باتوں سے آگے بڑھیں گے تو یقیناً ایک کامیاب قوم بنیں گے جو تبھی ممکن ہے جب ہم تھوڑی سی برداشت سے کام لینا شروع کریں گے۔

    ‎@shahzeb___

  • پاکستان! سستا یا مہنگا؟  تحریر: احسان الحق

    پاکستان! سستا یا مہنگا؟ تحریر: احسان الحق

    کچھ دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سستا ملک ہے مگر اعدادوشمار کچھ اور بتاتے ہیں. جناب وزیراعظم کے دعوے اور اعدادوشمار میں کافی تضاد ہے. موجودہ حکومت پر عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سب سے زیادہ مہنگائی کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے. حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے. بلکہ آئے روز حکومتی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. گھی فی کلو کی قیمت 155 سے 310 سے 320 روپے ہو چکی ہے.

    پاکستان میں ہمیشہ اشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں. ابھی یہ تحریر لکھتے وقت نیوز چینل کے ٹکر پر میری نظر پڑی کہ گھریلو استعمال کے گیس سیلنڈر کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے. شاید کبھی کسی چیز کی قیمت گری ہو. خصوصاً اشیائے خوردونوش کے نرخ ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں. ایک عام پاکستانی کے لئے اشیائے خوردونوش کی خریداری ایک چیلنج سے کم نہیں. ملک میں اگر پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو تمام بکنے والی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں جن کا دور دور تک پیٹرول سے کوئی تعلق نہیں ہوتا. اگر ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو بھی تمام اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں. پیٹرول اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے سبزیوں، دودھ، ادویات اور تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا کیا تعلق؟

    عالمی بینک کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے. غربت 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہو گئی ہے. اس سلسلے میں دو ڈالرز یومیہ سے کم قوت خرید کو پیمانہ بنایا گیا ہے. پاکستان میں تقریبا 20 لاکھ سے زائد افراد انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان میں غربت کا تناسب 39.3 فیصد ہے. متوسط طبقے سے نچلے طبقے کی یومیہ آمدنی 3.2 ڈالر ہے. متوسط طبقے کی آمدنی 5.5 ڈالرز یومیہ ہے. یہ تو ہو گئی عالمی بینک کے اعدادوشمار کی بات، اب حکومت کے اپنے اعدادوشمار بھی دیکھ لیں. حکومت کے اپنے سرکاری ادارے کی جانب سے کیے گئے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ سروے کے مطابق انتہائی کسمپرسی کے شکار گھروں کی تعداد 7.24 فیصد سے بڑھ کر 11.94 فیصد ہو گئی ہے. غذائی قلت کا شکار آبادی کی شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے. معاشی صورتحال میں بہتری والے گھرانوں کی شرح 16.48 فیصد سے کم ہو کر12.7 فیصد تک آ گئی ہے.

    مہنگائی کے علاوہ ٹیکسوں کے ذریعے بھی عوام پر بوجھ اور دباؤ بڑھایا جا رہا ہے. سرکاری آمدنی کا بڑا ذریعہ بل واسطہ محصولات ہیں جس کے اثرات امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر بہت زیادہ پڑ رہے ہیں. رواں مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں 62.5 فیصد ٹیکس وصولی کسٹمز اور فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے حاصل کی جائے گی، جبکہ بقیہ 37.5 فیصد براہ راست محصولات سے وصول کیے جائیں گے. بجٹ دستاویزات کے مطابق پچھلے مالی سال میں بل واسطہ محصولات تقریباً 2.50 فیصد کم تھا.

    سرکاری محصولات کی مد میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ پٹرولیم لیوی ہے جو کہ غریب اور دیہاڑی دار طبقے پر سراسر زیادتی ہے. ایک طرف 5 کروڑ روپے والی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے والا اور دوسری طرف موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلوانے والا دیہاڑی دار بندہ برابر کا ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں. پیٹرولیم لیوی کا غریبوں پر فوری اور براہ راست اثر پڑتا ہے. پیٹرولیم لیوی میں بھی موجودہ حکومت ہر سال اضافہ کر رہی ہے. 2019-20ء میں 260 ارب روپے سے 73 فیصد اضافہ کر کے اس مد میں 450 ارب روپے حاصل کئے گئے تھے جبکہ موجودہ سال اس میں مزید 160 ارب روپے کا اضافہ کر کے 610 ارب روپے ٹیکس وصولی کا اندازہ لگایا گیا ہے.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بہتر معیار زندگی گزارنے والے ملکوں میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے. یو این ڈی پی کی اپریل 2021ء میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طاقتور لوگ قانون میں موجود خامیوں کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کرتے ہیں. اقوام متحدہ کے تجزیئے کے مطابق پاکستان میں صرف مالی اور معاشی حوالے سے طاقتور لوگ مستفید نہیں ہو رہے بلکہ امیر اور طاقتور کی دنیا اور ہے اور عام پاکستانی اور کمزور کی دنیا اور ہے. طاقتور لوگ کمزور لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں.

    @mian_ihsaan