Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بڑی طاقتوں کیلئے جنگیں مشغلہ بن گئیں،زندگی مہنگی،موت سستی کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑی طاقتوں کیلئے جنگیں مشغلہ بن گئیں،زندگی مہنگی،موت سستی کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا بھر میں امن معاہدے ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے،عملدرآمد ندارد،انصاف مٹ گیا
    خود غرضی،لالچ مقبول ٹھہرے،وسائل،تیل وگیس اور معدنیات کے نام پر بدامنی جاری
    غزہ میں ایک روٹی کی قیمت موت،مجبور فلسطینی روز ذبح ہورہے،دنیا اندھی ،ذرا نہیں پورا سوچیے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    دنیا بھر میں امن معاہدے ہو رہے ہیں اور ہوتے رہے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟ یاد رکھیے امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف رحم اور مساوات سے آتا ہے،جب تک انسان اپنی خود غرضی، لالچ ،طاقت کی ہوس کو قابو میں نہیں لاتا ،جنگیں اور ظلم چلتے رہیں گے، بڑی طاقتیں اور بعض حکومتیں اپنے زمینی وسائل، تیل و گیس ،پانی ،معدنیات اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے جنگیں اور تنازعات کو ہوا دیتی ہیں، دنیا میں بھوک افلاس ایک انسانی مسئلہ نہیں ،لڑائیوں کی بڑی وجہ ہے جہاں بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی، وہاں چپقلش اور بد امنی بڑھتی ہے، دنیا کے بڑے ممالک اسلحہ فروخت کر کے اربوں ،کھربوں ڈالر کماتے ہیں، اگر دنیا میں جنگیں ختم ہو جائیں تو یہ کاروبار ختم ہو جائے گا اس لئے وہ امن کی بجائے جنگوں کو زندہ رکھتے ہیں، دنیا میں انسانیت رحم اور انصاف کی قدریں کمزور ہو چکی ہیں، طاقت، پیسہ اور سیاسی فائدوں پر توجہ دی جا رہی ہے، دنیا بھر میں انصاف کے بغیر امن ممکن ہی نہیں طاقتور ممالک کو کمزور ممالک کا استحصال کرنے کے بجائے ان کی مدد کرنی چاہیے، صرف قانون کافی نہیں انسان کے دل میں بھی رحم اور انسانیت پیدا ہونی چاہیے ،غزہ کو ہی سامنے رکھیں وہاں قبریں روٹی سے زیادہ قریب ہیں،جدید سائنس جدید ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کا جدید میڈیا انقلاب اقوام متحدہ سلامتی کونسل او آئی سی عرب لیگ عالمی طاقتیں مشرق وسطی میں امن قائم کرنے میں اب تک ناکام نظر ارہی ہیں، حیرانگی اس بات پر ہے کہ حیران کن ترقی کے اس دنیا میں غزہ کے معصوم بچوں کے لیے قبریں روٹی سے زیاد زیادہ قریب کیوں ہیں وہاں موت امداد سے زیادہ تیز کیوں ہے۔ اللہ تعالی نے یہ زمین انسانوں کے لیے امن سے رہنے کے لیے بنائی تھی انسانوں نے دنیا میں خوف و ہراس پیدا کیا۔

    دنیا میں جہاں جہاں جنگی ماحول ہے وہاں قبروں میں اضافہ دکھائی دیتا ہے، موت سستی اور روٹی غزہ سمیت دنیا کے جنگی ماحول میں مہنگی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا میں بے گناہ لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں، جن ممالک میں جنگیں ہو رہی ہیں وہاں سے پرندے بھی بھاگنے پر مجبور ہیں، یاد رکھیے دنیا بھر کے انسان مٹی سے بنے ہیں مٹی میں لوٹائے جائیں گے اور دوبارہ اسی مٹی سے نکالے جائیں گے، سوچیے کیا جواب دیں گے اس خالق کو جس نے انسان کو پیدا کیا، ابن آدم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دے گا؟

  • تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    تکمیل خواب ابھی باقی ہے. تحریر :عائشہ اسحاق

    یہاں ذکر کسی ایسے خواب کا نہیں جس میں کوئی عاشق اپنے محبوب کے دیدار کا طلبگار ہو بلکہ یہاں شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس عظیم خواب کے متعلق بات کی جا رہی ہے جو بظاہر مکمل ہونے کے باوجود بھی ادھورا ہے ہم آج تک یہی سنتے پڑھتے اور فخر انداز میں اپنی نسلوں کو بتاتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور قائد اعظم کی ان تک کوششوں نے اسے تعبیری شکل دی بلاشبہ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن ہم اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ خواب اقبال کا مقصد کیا تھا؟ اس میں چھپا راز کیا تھا؟علامہ اقبال کے خواب کا مقصد محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا نہ تھا بلکہ ایک ایسی ازادانہ ریاست کا حصول تھا جو مسلمانوں کے تابناک مستقبل کی ضمانت اور امن کا گہوارہ تھی چونکہ اس وقت مسلمان نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور اور ظلمت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، لہذا شاعر مشرق نے اپنی پرایمان شاعری کلام اور تصانیف کی بدولت مسلمانوں میں جذبہ ایمانی اور بیداری کی نئی روح پھونکی۔

    قائد اعظم نے بھی جب مسلمانوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم اور غلامانہ زندگی گزارتے دیکھا تو ان کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کا مطالبہ کیا شاعر مشرق کی شاعری مسلمانوں میں جوش ولولہ پیدا کرنے میں اتش فشاں ثابت ہوئی قائد اعظم کے دن رات کی محنت انکن اور سینکڑوں قربانیوں کے بعد بالاخر الگ وطن حاصل کرنے میں کامیابی ملی جو بلاشبہ تاریخ میں لکھی جانے والی مسلمانوں کی عظیم فتح ثابت ہوئی۔مگر وقت کا پہیہ چلا دشمنوں نے دم سادنا شروع کیا اور نئی سازشیں پنپنے لگیں ریاست پاکستان سے کچھ ضمیر فروشوں نے دشمنوں کے ہاتھوں محض چند روپوں کی خاطر اپنے ایمان بیچ ڈالے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دشمنوں کی غلامی قبول کر لی یہی ضمیر فروش پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے گرہن ثابت ہوئے اور نتیجہ تن مسلمان الگ آزاد وطن حاصل کرنے کے باوجود بھی اسی ذلت غلامی گمراہی اور بدحالی کے اندھے کنویں میں جا گرے جس سے چھٹکارا حاصل کیا تھا۔وہ ریاست جہاں اقبال کی شاہینوں نے فلک تک اڑان بھرنی تھی اپنی خودی کو پہچاننا تھا اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے پوری دنیا میں لوہا منوانا تھا کائنات کو مسخر کرنا تھا اور ترقی کی نئی نئی منزلیں طے کرنی تھیں اسی ریاست میں اقبال کے شاہینوں کے پر نوچ لیے گئے ان کی ذہانت وہ بصارت کی تیزی پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی اور وہی غلامانہ شکنجے میں جکڑ دیا گیا اور گمراہی کے اندھیرے راستوں پر بھٹکا دیا گیا کہ انہیں اپنی تباہی کا احساس تک بھی نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، ترقی کی منزلیں طے کرنا تو دور کی بات ہے مفلوج نظام کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگ آے راشن کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد ایک تھیلا آٹا حاصل کر لینا ہی اپنے لیے کامیابی سمجھتے ہیں بے نظیر انکم سپورٹ احساس پروگرام اور دیگر خیراتی فنڈز کے حصول کے لیے یونین کونسل کے متعدد چکر لگانا اور کچھ ہزار روپے حاصل کر لینا بھی آج کے مسلمانوں کی جیت ہے جبکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریب عوام ان کے حصول کے لیے ابھی نہیں جانتا اوپر لگا رہے ہیں جیسا کہ میرپور میں آے کا تھیلا حاصل کرنے کے لیے ایک شخص اپنی جان سے ہاتھوں بیٹھا اور یہ واقعہ پر نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے کی افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں کہیں کوئی خاتون اور کہیں کوئی بچہ محض آے کا تھیلا راشن یا چند خیراتی روپیہ حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جو پسماندگی کی انتہا ہے صبح سے شام تک لمبی لمبی قطاروں میں لگے رہنا اور دھکے کھانے کی جو اذیت اور خواری ہے اس کا تو پوچھیے ہی مت۔

    بات یہاں ختم نہیں ہوتی اقبال کے شاہین اعلی تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی اسی خواری کا سامنا کرتے ہیں جو آٹے راشن کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے کسی ملازمت کے حصول کے لیے فارم بھرنے سے شروع ہونے والا سفر انٹرویو کے لیے کئی گھنٹے انتظار اور متعدد ٹیسٹوں سے گزرنے کے بعد ناکامی پر اختتام پذیر ہوتا ہے کیونکہ اعلی ملازمتوں کا کوٹا آتے ہی بااثر لوگوں کے عزیزوں اور رشتہ داروں یا چیلے چمچوں کی ملکیت بن چکا ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان رکشہ چلانے ریڈی ٹھیلے لگا کر اپنا پیٹ پالنے کے علاوہ کسی ادارے میں چپڑاسی یا چوکیدار بننے پر مجبور ہے غربت بے روزگاری بھوک اور فلاس کا عالم یہ ہے کہ اکثریت لاشعوری اور گمراہی کے راستوں پر چلتے ہوئے سٹریٹ کرائمرز بن چکے ہیں اور انہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کا بھرپور استعمال بڑے بڑے گینگز کے سرغنے منشیات فروش اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بخوبی کر رہے ہیں۔بے بس اور مجبور لوگ اپنے اور اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کی خاطر اور حصول پیسہ کی خاطر غیر قانونی طور پر ڈنکی لگا کر یورپ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں یہ وہ مجبور طبقہ ہے جو انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے ہاتھ چڑھ کر اپنی جا نوں کو سمندر کی بے رحم موجوں کے حوالے کر رہا ہے حالیہ پیش انے والے تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے والے واقعات میں زیادہ تر تعداد پاکستانیوں کی ہی پائی جا رہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔اس کے علاوہ غربت کے مارے لوگ زہریلی گولیاں کھا کرنے پنکھے سے جھول کر نہروں میں کود کر اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر رہے ہیں۔یہ ہے آزاد خود مختار ریاست کے مسلمانوں اور اقبال کے شاہینوں کی بدحالی کی داستان جسے پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال کا خواب ظاہر مکمل ہو کر بھی ادھورا ہے اور تکمیل خواب ابھی باقی ہے۔مزید لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ جس طرح حکومت پاکستان سکولوں اور ہسپتالوں کی نجکاری کر رہی ہے اس سے پیدا ہونے والے مسائل عام عوام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے غریب عوام صحت کے سہولیات جو پہلے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ان سے بھی محروم ہو جائیں گے اور سکولوں کے پرائیویٹ ہونے سے شرع نا خواندگی میں خوفناک حد تک اضافہ ہونے کا امکان ہے یہ وہ دلدل ہے جس سے اپ عوام کا نکلنا نہایت مشکل ہو جائے گا تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم کر کے جہالت کے وہی اندھیرے میں دھکیلنے کی سازش جڑ پکڑ چکی ہے۔

    پہلے ہی دشمن ضمیر فروشوں اور مفاد پرست غدار وطن ٹولے کی بدولت عوام کے ذہنوں اور ان کی سوچ کو قبضے میں لے چکے ہیں۔بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ ،آٹے کی قطاروں میں مفت راشن کے لیے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ آزادی ہی اصل زندگی ہے ابھی بھی وقت ہے ہمیں اپنے اور اپنی نسلوں کی بقا اور بہتر مستقبل کی خاطر متحد ہونا ہوگا ذرا سوچنے کی بات ہے جو لوگ غربت اور حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے اور حرام موت کو گلے لگانا قبول کر لیتے ہیں ،ڈنکی لگا کر سمندروں کی گہری تاریکی میں ڈوبنا گوارا کر لیتے ہیں، وہ لوگ اپنے حقوق کی خاطر کیوں نہیں متحدر ہو کر ظالموں کے خلاف کھڑے ہوتے یہ ذہنی غلامی ہے۔اس کی اصل وجہ وہ خوف ہے جس کی دھاک ایک مخصوص طبقے نے عام عوام کے دلوں پر بٹھا دی ہے۔اس کے علاوہ مایوسی اور دین سے دوری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ اللہ واضح طور پر قران میں ہمیں مایوس ہونے سے منع فرماتا ہے۔یہ ظلم کے اندھیرے پھر سے چھٹ سکتے ہیں ذرا ہمت دکھانے کی دیر ہے مگر بات ہمیشہ کی طرح یہی اہم ہے کہ اس سب اقدامات کے لیے ہمارا متحد ہونا پہلی شرط ہے خدارا اقبال کے فلسفے کو سمجھیں اپنے اندر ایمان کا جذبہ پیدا کریں اور ان ظالموں کے ظلم سے چھٹکا رہا حاصل کریں اقبال کے خواب کی تکمیل ہم پر لازم ہے ۔جس دن شاعر مشرق کے شاہینوں نے اپنی اصل طاقت کو پہچانا اپنے ایمان کو زندہ کیا یہ وقت کے فرعون نست و نابود ہو جائیں گے تاریخ گواہ ہے کہ باطل مٹ کر رہتا ہے بس جذبہ ایمانی چاہیے اج بھی ظلمت کے گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے وسیع صاف و شفاف کھلا اسمان اور اجلی صبح ہماری منتظر ہے۔

  • تاریک راہیں ،بحران،امید کی کرن کہاں؟

    تاریک راہیں ،بحران،امید کی کرن کہاں؟

    تاریک راہیں ،بحران،امید کی کرن کہاں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان آج کل ایسے بحرانوں کا شکار ہے جو لمحہ بھرمیں تبدیل ہورہے ہیں، جہاں ایک طرف قدرتی آفات ملک کو نگل رہی ہیں، وہیں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی مسائل قوم کی کمر توڑ رہے ہیں۔آج 23 اگست 2025 تک یہ ملک ایک ایسے طوفان میں گھرا ہوا ہے جہاں مون سون کی شدید بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملے روزمرہ کی حقیقت بن چکے ہیں۔ بھارت کے ساتھ سرحدی تناؤ، معاشی گراوٹ اور سیاسی عدم استحکام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آئیے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان خطرناک حالات میں حکومتی اقدامات کافی ہیں، کیا عوام کئے جانے والے ان اقدامات سے مطمئن ہے اورعوامی سوچ کیا ہے، کیا اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود ہے۔

    سب سے پہلے قدرتی آفات کی بات کریں تو پاکستان اس وقت مون سون کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ایک افسوسناک واقعہ یہ بھی ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا، جس میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے سے 28 سال پرانی لاشوں کی برآمدگی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ سال روان میں پولیو کیسز 21 تک پہنچ گئے ہیں، جو صحت کے نظام کی ناکامی کو نمایاں کرتے ہیں۔ کراچی جون کے ایک مہینے میں 57 بار زلزلوں کے جھٹکوں سے لرزتا رہا۔ 20 جولائی 2025 کو دُکی کے علاقے میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے دھماکے میں 7 مزدور جاں بحق ہوئے جبکہ 2 اگست 2025 کو کوئٹہ کے علاقے میں ایک اور دھماکے سے مزید 4 مزدور ہلاک ہوئے۔ یہ تمام واقعات لمحہ بہ لمحہ بدلتے حالات اور بڑھتی تباہی کی سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔

    سیکورٹی چیلنجز بھی ملک کو اندر سے کمزور کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارتی فتنہ الخوارج کے دہشت گردانہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں ایک بس پر حملے میں سات افراد جاں بحق ہوئے اورٹرین اغوا کا معاملہ ابھی تازہ ہے جبکہ پولیو ورکرز پر فائرنگ اور فوجی آپریشنز میں 30 دہشت گرد مارے گئے۔ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں لیکن افغانستان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان نے ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا ہے مگر سفارتی سطح پر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

    مئی 2025 میں کشمیر میں بھارت کے ایک فالز فلیگ دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان محدود جنگ چھڑ گئی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، جس میں دشمن کی دفاعی لائنوں کو اڑا کر رکھ دیا گیا۔ دنیا نے دن کی روشنی میں بھارت کے جدید ترین رافال طیاروں سمیت 6 جنگی جہازوں کی تباہی اور ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کے ناکارہ ہونے کا منظر دیکھا۔ اس فیصلہ کن اور مختصر جنگ نے نہ صرف بھارت کے عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ پاکستانی قوم کا مورال بھی آسمان کو چھو گیا۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی اور ایسی مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جس کی تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ اسی دوران پاکستان کی جانب سے افغانوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو قومی امنگوں اور عوامی توقعات کے عین مطابق سمجھا جا رہا ہے۔

    معاشی بحران بھی پاکستان کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ کم از کم اجرت 133 ڈالر ماہانہ ہے، مگر زندہ رہنے کی لاگت 374 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جس نے غربت کی شرح کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔ زراعت تباہ حالی کا شکار ہے، غذائی قلت کا خدشہ بڑھ رہا ہے اور کاروبار ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 410 ملین ڈالر کی امداد ملی ہے لیکن یہ سمندر میں قطرے کے مترادف ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات جاری ہیں، مگر کرپشن اور سیاسی عدم استحکام ان پر سوالیہ نشان ہیں۔ قرضوں میں ڈوبا ملک خوابوں کی دنیا میں جی رہا ہے جبکہ کسان بھوک سے نڈھال اور نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں مایوس ہیں۔ یہ معاشی زوال قدرتی آفات اور سیکورٹی مسائل سے جڑ کر ایک ایسے شیطانی چکر کی شکل اختیار کر چکا ہے جو ملک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت بظاہر ان بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اقدامات ناکافی اور تاخیر کا شکار ہیں۔ سیلاب کے متاثرین کے لیے ریسکیو آپریشنز شروع کیے گئے، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچائی جا رہی ہے اور ورلڈ بینک کے تعاون سے کلائمیٹ ریزلیئنٹ منصوبوں جیسے 213,000 گھروں کی تعمیر نو پر کام ہو رہا ہے۔ قومی صحت اور ماحولیاتی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، لیکن پیشگی تیاری نہ ہونے کی شکایت سب سے زیادہ سامنے آ رہی ہے۔ اگر حکومت نے موسمیاتی پیش گوئیوں پر بروقت توجہ دی ہوتی تو شاید تباہی اس پیمانے پر نہ ہوتی۔

    سیکورٹی کے محاذ پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں، افغانستان سے سفارتی احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جا رہا ہے اور بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دشمنوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔لیکن بلوچستان کی صوبائی حکومت کی رٹ انتہائی کمزورہے اور وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف کی وفاقی حکومت کے کوئی سنجیدہ اقدامات دکھائی نہیں دے رہے اور مٹھی بھر دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے کوئی سیاسی حکمت عملی یا پالیسی دکھائی نہیں دے رہے.

    عوامی رائے کا جائزہ لیں تو صورت حال خاصی مایوس کن ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام حکومت کو نااہل اور کرپٹ قرار دے رہے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت نے لوگوں کو بے حال کر رکھا ہے۔ کسان طبقہ بھوک سے نڈھال ہے، کاروبار سکڑتے جا رہے ہیں اور لوگ کہتے ہیں پاکستان کا حال اس زخمی پرندے جیسا ہے جو اُڑنا تو چاہتا ہے مگر اس کے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ 95 فیصد عوام حکومت کی کارکردگی سے ناخوش اور مایوس ہیں، تاہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اگر ادارے مضبوط ہوں تو حالات بدل سکتے ہیں۔

    دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور بھارت سے سفارتی اور فوجی سطح پر واضح اور مضبوط جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عالمی برادری کے سامنے افغانستان اور بھارت کی جانب سے کی جانے والی پراکسی دہشت گردی کے ثبوت پیش کرنے، بھارت پر اقتصادی پابندیاں عائد کروانے اور اسے عالمی عدالت انصاف میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے مؤثر سفارت کاری کی جتنی ضرورت آج ہے، اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے حکمرانوں کو عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے عملی طور پر ان کے پاس جانا ہوگا۔ معیشت کی بحالی کے لیے کرپشن کا خاتمہ، ٹیکس اصلاحات اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

    پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت اندھیرا اور بحرانوں کی گھنی چھاؤں نظر آتی ہے۔ معاشی زوال، سیاسی انتشار، قدرتی آفات اور سیکورٹی کے چیلنجز نے قوم کو تھکا ضرور دیا ہے، مگر اندھیروں میں بھی روشنی کی کرن ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہ کرن ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت، عوام کی استقامت اور ان اداروں کی بہتری کی صورت میں ہے جو اگر شفافیت اور عدل کو اپنا لیں تو ملک کو ایک نئی راہ دکھا سکتے ہیں۔ امید کی یہ روشنی اس وقت روشن ہوگی جب قیادت اخلاص اور وژن کے ساتھ فیصلے کرے، عوام شعور اور اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ہم سب مل کر کرپشن، نااہلی اور طاقت کی منفی سیاست کو مسترد کریں۔ اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، امید کی کرن موجود ہےاور اگر ہم نے اسے جگا لیا تو یہی کرن پاکستان کے مستقبل کو روشن کر سکتی ہے۔

  • خدمت خلق کے یہ جوان اور ہمارا فرض،تحریر: سعد فاروق

    خدمت خلق کے یہ جوان اور ہمارا فرض،تحریر: سعد فاروق

    پاکستان میں قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں کے دوران، جب بھی ہمیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو کچھ لوگ ہمیشہ میدان میں آ کر اس کا حل بن جاتے ہیں۔ یہی وہ افراد ہیں جو اپنی ذاتی اور جماعتی حیثیت سے ہٹ کر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے خدمت خلق ونگ کے جوانوں کا کردار ایسے وقت میں خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے، جب حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح سے نبھانے میں ناکام ہو جاتے ہیں، یا جب حکومتی ادارے آپس میں لڑتے ہیں اور سیاسی مفادات میں الجھتے ہیں۔ ان جوانوں نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف، ریسکیو اور آبادکاری کے کاموں میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ جوان اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ جیسے علاقوں میں پہنچتے ہیں، جہاں ان کے دفاتر پناہ گاہوں میں بدل جاتے ہیں، اور عوامی مسائل کے حل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

    ان رضاکاروں کا جذبہ ہمیشہ سے ہی جرات مندانہ رہا ہے۔ ان کا مقصد عوامی خدمات کو بے لوث انداز میں فراہم کرنا اور عوام کے دلوں میں محبت اور احترام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے لیے حکومت یا جماعتوں کا سیاسی مفاد کوئی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ ان کی ترجیح صرف عوام کی خدمت ہوتی ہے۔ ان کی محنت کا کوئی لامتناہی تعارف نہیں، ان کی نظر میں انسانیت کا درد ہی ان کا نصب العین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افراد ہر بحران میں اپنے عمل سے سرخرو ہوتے ہیں۔

    ان کی مدد سے متاثرہ افراد کو نہ صرف فوری ریلیف ملا، بلکہ ان کے لیے پناہ گاہوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ ان کے دفاتر اس وقت عوامی پناہ گاہ بن گئے، جہاں لوگوں کو راحت اور سکون ملا۔ یہ رضاکار ایک ایسے وقت میں لوگوں کے لیے سایہ بن گئے جب حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی تھیں، اور لوگ مختلف سیاسی دعووں کا شکار ہو رہے تھے۔ ان رضاکاروں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اصل خدمت کیا ہوتی ہے۔

    مزکزی مسلم لیگ کے نوجوانوں نے بتلا دیا کہ ہر انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے اور ہمیں اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔ یہ رضاکار اس بات کی مثال ہیں کہ ہم کس طرح اپنے قومی فریضے کو ادا کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے ایک بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ مل کر مصیبت زدہ اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں اور ان کے یتیم بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔ ان کی دعاؤں کے مستحق بنیں، اور ان کے دکھوں میں شریک ہوں۔ خدمت کی سیاست ہمیں بتاتی ہیں کہ سیاست یا حکومت سے زیادہ اہم ہماری انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔

  • ملکی اصل مسائل توجہ کے مستحق، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی اصل مسائل توجہ کے مستحق، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بعض اوقات حضرت انسان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے مٹی کا بنا انسان جو ذر اور اپنی شہرت کے پیچھے بھاگتا بھاگتا خالی ہاتھ مٹی میں چلا جاتا ہے۔ زر اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والے انسان کو جو دنیا میں رخصت ہوتے وقت ایک سرٹیفکیٹ ملتا ہے اس سرٹیفکیٹ کا نام ہے ڈیتھ سرٹیفکیٹ۔ قبر میں تنہا جائے گا اور روز حشر تنہا ہی اپنے اعمال کا حساب دے گا لیکن اس تمام حقیقت کے باوجود دنیا بھر کا انسان غفلت میں پڑا ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں نے رحمٰن کے راستے کو ترک کر کے شیطان کا راستہ اختیار کر لیا انسان اگر سوچے اور غور کرے تو اسے سمجھ آ جائے۔ عجب تماشہ ہے مٹی کا انسان تکبر بھی کرتا ہے تکبر اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں یہ سراسر شرک ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی انسانوں کی سرزمین ہے انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہیں اور جو سرزمین خدا کی ملکیت ہے اس زمین کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے کے لیے بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا کیا کھیل اور تماشے سامنے آ رہے ہیں ۔

    اس وقت کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے قومی خزانہ کمزور درآمداد زیادہ اور برآمداد کم روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور مہنگائی عام آدمی کے لیے بڑا مسلہ ہے۔ توانائی بحران بجلی اور گیس کی قلت صنعت و زراعت کو متاثر کرنا ہے۔ جمہوری ادارے کمزور ہیں اور اکثر سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات پر چلتی ہیں اختیارات کی کھینچا تانی نے ان مسائل میں اضافہ کیا۔ تعلیم کا نظام کمزور اور یکساں نہیں سرکاری۔ پرائیویٹ۔ مدرسہ نظام الگ الگ ہیں۔ صحت کی سہولیات ناکافی ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بے روزگاری اور نوجوانوں کو مواقع کی کمی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ کرپشن اور رشوت کا کلچر اور اس پر قانون سازی کی کمی صوبائی اور لسانی اختلافات یہ وہ مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے ہم کہاں جا رہے ہیں؟

    پانی کی کمی اور دریاؤں پر بڑھتے دباؤ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خشک سالی جنگلات کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی اگر ان تمام مسائل پر توجہ دی جائے غور کیا جائے۔ سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے اگر حکومت اور ادارے ایمانداری شفافیت اور قابلیت کے ساتھ کام کریں تو یہ مسائل آہستہ آہستہ حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اپنی توجہ ملک اور قوم کے مسائل پر مرکوز رکھیں۔ پاک بھارت جنگ اور پاک امریکہ تجارتی معاہدوں کے بعد امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور مشرق وسطی میں عسکری قیادت پاک فوج اور دیگر ادارے توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جبکہ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور مشرق وسطی میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز یہ ادارے ہیں۔ پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی نے امریکہ اور مغربی ممالک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہے جس کی تکلیف ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بہت زیادہ ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اب وقت آگیا ہے پوری قوم پاکستان کے وقار، پاکستان کی سلامتی اور ملک و قوم کے جو اصل مسائل ہیں اس پر توجہ دے۔

  • "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    یادوں کی پٹاری کھولوں تو 14 اگست 2025 کو بھی اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہوں گی۔ میری یادداشت بھی عجیب ہے کبھی کبھی تو عرصہ دراز کے واقعات یاد ہوتے ہیں تو کبھی کل کی بات بھول جاتی ہوں۔ سفر زیست میں مجھے ہر طرح کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا، الحمدللہ! مجھے اچھی باتیں اور اچھے لوگ یاد رہ جاتے ہیں اور بری باتیں اور برے لوگوں کو میں خود فراموش کر کے سفر زیست میں آگے بڑھ جاتی ہوں۔ گلا شکوہ نہیں کرتی بلکہ وہ راستہ اور اس طرف جانے والے ہر راستے کو چھوڑ دیتی ہوں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللّٰہ ہی بہترین کار ساز ہے۔ ارے ہم باتوں باتوں میں کہا نکل گئے۔ ہم تو بات کر رہے تھے ماہ اگست کی، اگست کا مہینہ آزادی کی خوشخبری کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللّٰہ رب العزت نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت سے نوازا جہاں ہم اپنی مرضی سے دین اسلام کی پیروی میں آزاد ہیں۔ میں ایک سادہ سی گھریلو خاتون ہوں جو نعمتیں میرے پاس ہیں اس میں خوشی تلاش کر لیتی ہوں جو میرے رب نے عطا نہیں کیں اسے رب کی حکمت سمجھتے ہوئے مطمئن رہتی ہوں۔ دور حاضر میں قلب مطمئن سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہو گی بھلا۔ میں کبھی بڑی خوشیوں کا انتظار نہیں کرتی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی سی خوشیوں کو بھی بڑی خوشیوں کی طرح مناتی ہوں۔ ایسا ہی ایک پیغام میرے موبائل کے ان باکس میں آیا پرانے زمانے کی بات ہوتی تو میں کہہ سکتی تھی کہ کھڑی کھول کے دیکھو یہ کون پیغام رساں آیا ہے مگر اس دور میں تو پیغام موبائل پر ہی آتے ہیں تو میں بات کر رہی ہوں اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی اور مجھے "شان پاکستان” ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ دل کی سچی بات بتاؤں؟ شاید یہ بات پڑھ کر بہت سے افراد کو برا بھی لگے لیکن میں تو اپنے قصہ زیست کی داستان سنا رہی ہوں بھلا کیوں کسی کو برا لگے گا۔ ایورڈ ملنے سے ذیادہ خوشی مجھے لوگوں سے ملنے میں ہوتی ہے۔ تقریب کے دن قریب آ رہے تھے اور میرا سٹریس بڑھ رہا تھا کہ کیسے جاؤں لاہور؟ بچوں کی چھٹیاں ان کے اسکول کا کام، امتحانات کی تیاری اور بہت کچھ لیکن الحمدللہ فائنلی پروگرام بن ہی گیا۔ ارے یہ کیا! جانے سے ایک دن پہلے سعد کی طبیعت کافی خراب ہو گئی اب تو مجھے لگا کہ لاہور جانا ناممکن ہے تو خاموشی سے بس اللّٰہ کے فیصلے کا انتظار کرنے لگی آخر کار سب ٹھیک ہو گیا اور میرا چھوٹا سا قافلہ لاہور جانے کو تیار ہو گیا۔ جلدی جلدی گھر کے سارے کام سمیٹ کر گاڑی میں بیٹھے لاہور جانا اپنے آپ میں خاص ہے۔ یہ جو لاہور سے محبت ہے دراصل کسی اور سے محبت ہے تو یہ بات مجھ پر بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے۔ نانی امی کا گھر سب ماموں ان کی محبت اور سب پیارے رشتے وہیں تو ہیں میرے اب تو میرے بچے بھی لاہور سے اور لاہور والوں سے محبت کرنے لگے ہیں۔ یہ سچ ہے جہاں محبت اور عزت ملے وہیں پر انسان کا دل لگتا ہے تو بات ہو رہی تھی اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی تو لاہور پہنچتے ہی بچوں کو ماہ پارہ اور بھابھی کے پاس چھوڑا سب سے مل کر میں پاک ہیری ٹیج ہوٹل پہنچی جہاں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ علی بھائی، سفیان بھائی اور اسلم بھائی بہت جی جان سے کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے۔ ان سب سے مل کر میں واپس گھر آئی اور اگلے دن کی تیاری کرنے لگی۔

    اگلی صبح بہت خوبصورت تھی۔ طلوع فجر سے ہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے سلسلے کا آغاز ہو گیا تھا ہلکی ہلکی بوندا باندی نے ماحول کو مذید خوش گوار بنایا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ موسم کے اثرات آپ کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں تو کچھ ایسا ہی ہوا اس دن، میں سوچ رہی تھی اٹہتر سال پہلے بھی مسلمانوں نے جب سر زمین پاک پر قدم رکھے ہوں گے تو ان کو بھی لاہور کی فضا اتنی ہی حسین اور پر سکون لگی ہو گی۔ ہجرت کے غموں کو بھول کر جب پاک زمین کی مٹی کو چوما ہو گا تب ان کے دل خوشی سے سر شار ہوئے ہوں گے۔ آج جس ملک میں ہم آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں وہاں تک پہنچنا آسان نہیں رہا ہو گا۔ کتنی ہی قیمتی جانیں قربان ہوئی ہوں گی۔ ماؤں نے بیٹے، بیویوں نے سہاگ، بہنوں نے بھائی قربان کئے ہوں گے تب جا کر یہ آزادی ہمارا مقدر بنی ہو گی۔ دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما لے اور نعمتوں کا قدر کرنے والا بنائے۔ آمین!

    اپنی گزشتہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن نے بھی یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جہاں دنیائے ادب کے عظیم شاہکاروں کو اکٹھا کیا، وہیں نومولود پودوں کو فراموش نہیں کیا گیا۔ یہ ننھے ادیب ان ننھے پودوں کی ہی طرح ہیں جن کو اپنے بڑوں کے سائے سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع اپووا فراہم کرتی ہے۔ بہت سے افراد اکثر پروپگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہو رہا ہے مختلف ادبی تنظیموں کے اندر ایوارڈ ایوارڈ کھیلا جاتا ہے اور میں ہمیشہ کہتی ہوں نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ہر جگہ دوسرے کی ٹانگ کھینچا، کسی دوسرے پر منفی تنقید کرنا ہر بندہ اپنا فرض سمجھ کرتا ہے وہیں اگر کچھ اپووا جیسی تنظیمیں دوسروں کی زندگی میں چند پل خوشی کے دیتی ہیں تو جلنے والوں کا پھر منہ کالا ہی اچھا ہے۔ یہاں میں کسی تنظیم کا ساتھ نہیں دے رہی غیر جانبدار ہو کر بات کروں گی کیونکہ قلم آزاد ہے۔ جو بھی افراد معاشرے میں مثبت کام کر رہے ہیں وہ قابلِ عزت ہیں، قابل تعریف ہیں۔ چلیں جی بہت سنجیدہ باتیں ہو گئیں اب کچھ غیر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ خواتین کا ازلی مسلہ، کسی بھی تقریب میں جانا ہو تو بھری ہوئی الماریاں بھی خالی ہی لگتی ہیں ایسا لگتا ہے ڈھنگ کا کچھ ہے ہی نہیں ہمارے پاس لیکن خوش قسمتی سے میرا شمار ان خواتین میں نہیں ہوتا کیونکہ جو میرے پاس ہے اس پر اللّٰہ کا شکر ہے تو فیصلہ ہوا کہ بہت پہلے سے خریدا ہوا سفید عیابا پہنا جائے جو میں صرف خاص موقعوں پر ہی نکالتی ہوں تو ثابت ہوا استحکام پاکستان کانفرنس بہت خاص تھی جلدی سے تیار ہو کر میں اور بی بی پاک ہیری ٹیج پہنچے، جہاں سب سے پہلے اپووا کے روحِ رواں ایم ایم علی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ علی بھائی سے رشتہ بہت خاص ہے مگر اس وقت زاہد بھائی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی یقیناً علی بھائی کو بھی ان کی کمی محسوس ہوئی ہو گی۔ عموماً اپووا کی تقریبات میں علی بھائی ہال کے اندر کے انتظامات سنبھالتے ہیں اور استقبالیہ پر ہمیشہ زاہد بھائی ہی ہوتے ہیں۔ جی تو آپ سوچ رہے ہوں گے اگر اتنے ہی خاص ہیں زاہد بھائی تو وہ کہاں ہیں تو جناب اللّٰہ کے فضل و توفیق سے وہ ان دنوں عمرہ کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔ استقبالیہ پر علی بھائی نے تروتاز پھولوں کا گلدستہ پیش کیا وہیں پر پیارے چھوٹے بھائی نادر فہمی سے ملاقات ہوئی۔ ایسے سلجھے ہوئے نوجوان بچوں کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے۔ نادر! اللہ پاک آپ کو ڈھیروں کامیابیاں نصیب فرمائے آمین! تو اب چلتے ہیں اندر ہال میں جو ماشاءاللہ کھچا کھچ ادبی دنیا کے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے ستارے اکٹھے زمین پر سجے بہت خوش نما لگ رہے تھے۔ سب سے فرداً فرداً ملی مجھے لوگوں سے ملنا ان سے بات کرنا ان کو اپنی یادوں میں سمیٹنا بہت پسند ہے۔ میں کبھی انتظار نہیں کرتی کہ کوئی مجھ سے آ کر ملے میں خود آگے بڑھ کر ملنا پسند کرتی ہوں۔ سفیان بھائی، اسلم بھائی، مسکراتی مدیخہ کنول، زندگی سے بھر پور اقرا لاریب، بہت پیاری ایمن سعید اور عابدہ نذر سے ملاقات کے بعد جیسے ہی نشت سنبھالی تو پیاری حفصہ خالد کی آمد نے دل کو باغ و بہار کر دیا۔ سلامت رہیں حفصہ آپ مجھے ہمیشہ بہت پیاری لگتی ہیں۔ اللّٰہ رب العزت آپ کو استقامت عطا فرمائے اور آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین!
    آج کا دن ایک خاص فرد کے نام جس سے میرا رابطہ کسی ادبی گروپ کے ذریعے ہوا اور مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو گیا۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ سب کی تعریف ہی کر رہی ہوں میری زندگی میں کوئی دھوکے باز، منفی سوچ اور غلط افراد کیوں نہیں تو جناب بتایا نا کہ ایسے افراد کو میں بھول جاتی ہوں۔ اسامہ معاویہ چکوال سے تشریف لائے اور سب افراد مصروف تھے تو میں نے ہی اپنے بھائی کا پھولوں سے استقبال کر لیا پھر اسے نادر سے ملوایا اور اس کے حوالے کیا۔ اسامہ میرے لیے چکوال سے وہاں کی خاص ریوڑی لائے اور جو ڈائری میں اس کے لیے لائی فورا اسے دے دی ان تمام قیمتی مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا نہ بھولی۔ سلامت رہیں اسامہ اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین! اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپووا نے اپنے مہمانوں کے لیے پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا۔ دور دراز سے آئے ادبی ستارے پیٹ پوجا کے بعد ایک دم تروتاز ہو گئے۔ ناشتے کے بعد پرچم کشائی کی گئی۔ میرے لیے یہ بالکل ایک نیا تجربہ تھا۔ آج سے پہلے میں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شکریہ اپووا! الحمدللہ رب العالمین میرے سوہنے رب جس نے وطن عزیز کی پر امن فضا عطا فرمائی۔ موسم بھی بہت سہانا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش اور ہوا میں پرچم آسمان میں لہرایا گیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز سفیان بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ ایک بار پھر مجھے زاہد بھائی کی کمی محسوس ہوئی۔ عائشہ شکیل کی نعت سے ماحول میں تازگی آ گئی۔ قومی ترانے نے جو دل کے تاروں کو مزید جوش و جذبہ عطا کیا۔ ایمان کی ساٹھ شاخیں ہیں وطن سے محبت بھی ایمان کے پودے کی ایک شاخ ہے۔ وقت کو ضائع نہ کرتے ہوئے مدیخہ کنول نے پروگرام کو آگے بڑھایا اور ایوارڈز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ننھے ادبی ستاروں کے جھرمٹ میں بہت روشن ستاروں کی موجودگی باعث رحمت تھی۔ پروگرام کی صدارت ناصر بشیر صاحب نے کی جو نہایت ہی عاجز اور سادہ انسان ہیں۔ اس کے علاؤہ اورنگزیب لغاری صاحب جو کہ بے حد خوش اخلاق اور ملنسار انسان ہیں۔ عذرا آفتاب صاحبہ اپنی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج کی رونق کو بڑھا رہی تھیں۔ طارق بلوچ صحرائی صاحب کو مل کر ایسا لگا کہ آپ بلند اپنے کام اور کرادر سے ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کی سادگی ہی ان کی کامیابی ہے۔ اختر عباس صاحب کی آمد نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ علی بھائی کے ایک جملے نے ساری فضا کو تازگی بخش دی۔ جب ان کی واسکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ شاید وہ اپنی شادی پر بھی اتنے اچھے نہیں لگتے ہوں گے تو اس بات کا انہوں نے جواب دیا کہ "وہ قید کا دن تھا اور آج 14 اگست آزادی کا دن ہے۔” اس بات نے سب کے چہروں پر ایک تبسم بکھیر دیا۔

    اب تقریب میں آمد ہوتی ہے ایک خاص انسان کی جن کا سینہ قرآن پاک سے منور ہے۔ جی تو میں بات کر رہی ہوں قومی ایوارڈ یافتہ قاری القرآن عمر دراز خان صاحب کی۔ ان کی پر سوز آواز نے تقریب میں موجود ہر فرد کے دل کو چھو لیا۔ سر! اللہ پاک آپ کی عمر دراز کرے آمین! سر شہزاد نیر کی باتیں اور کلام ہمیشہ کی طرح بہت جاندار تھا۔ گوجرانولہ کی پیاری شاعرہ کی شاعری اور آواز دونوں دل کو چھو گئے۔ ارے اس سفر میں مجھے ایک پیاری سی لڑکی قرۃالعین حیدر بھی ملی جو اپنے بابا کے ساتھ تھی۔ اس کو میں فیس بک پر اس کے بابا کے ساتھ تصاویر میں دیکھا۔ مجھے لگا اس کا اپنے بابا سے ویسا ہی رشتہ ہے جیسا میرا میرے ابو جی کے ساتھ۔ کتنے پیار سے رکھتے ہیں نا باپ اپنی بیٹیوں کو، ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور کتنا آئیڈلائز کرتی ہیں نا بیٹیاں اپنے باپ کو، مجھے لگتا ہے بیٹیاں اپنے شریک حیات میں ہمیشہ اپنے والد والی خوبیاں تلاش کرتی رہ جاتی ہیں اور یہیں پر وہ غلطی کرتی ہیں۔ او! کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا معاملہ۔ چلو بھی ڈھونڈ لاتے ہیں پیارے بچپن کو، میرے بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک یاد "عینک والا جن” بھی ہے۔ ہائے! وہ بھی کیا دن تھے جب ہم مسجد میں قاری صاحب سے بہانے بنا بنا کر گھر کی طرف بھاگتے تھے کہ عینک والے جن کا کوئی سین مس نہ ہو جائے۔ اپووا کی اکثر تقریبات میں حسیب پاشا صاحب کو دیکھا لیکن ملنے کا موقع آج ملا۔ ان سے بات کر کے لگا ہی نہیں کہ وہ اتنے بڑے آدمی ہیں انتہائی عاجزی سے ملے۔ واقعی بڑے سچ ہی کہتے ہیں جو ڈالی جھک جاتی ہے اس پر پھل ذیادہ لگتا ہے۔ انہوں نے جٹ سے اپنا کارڈ نکالا اور بچوں کو عینک والا جن دیکھنے کی دعوت دی۔ پروگرام اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا لیکن میری پسندیدہ شخصیت لگتا ہے اس پروگرام میں بھی نہیں آ سکیں گی۔ اسامہ معاویہ کو واپس چکوال جانا تھا تو اسے اللّٰہ حافظ کرنے میں باہر آئی۔ ارے یہ کیا سر افتخار افی کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا جٹ سے سر کو سلام کیا، اسامہ کو اللہ خافظ کہا اور دوبارہ سے ہال میں واپس آ گئی۔ سر کو ڈائری گفٹ کی اور تصویر بنائی۔ میرا تو دن بن گیا بعض دفعہ کسی کی کہی روٹین کی عام سی باتیں آپ کے لیے خاص بن جاتی ہیں اور آپ کو آگے بڑھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ ہمیشگی صرف اللّٰہ رب العزت کا خاصا ہے انسان تو بس آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ لوگوں کے آنے اور جانے سے کاروان زندگی رکتا نہیں۔ کسی کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا ہاں مگر زندگی گزارنے کا انداز بدل جاتا ہے اور یہ بھی جانے والے اور پیچھے رہ جانے والے کے رشتے پر منحصر ہے کہ زندگی کس انداز میں بدلتی ہے۔ ملک یعقوب اعوان صاحب کو اپووا کی تقریب میں مہمان کی صورت دیکھا تھا آج ان کی میزبانی و قیادت میں ایک مکمل اور بھر پور پروگرام دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کاروان زندگی کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا یہ تو چلتا ہی جاتا ہے۔ زندگی ویسے ہی رہتی ہے بس زندگی کے اسٹیج کے کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ دنیا فانی اس کا ہر رشتہ فانی ہے جانے والوں کو کوئی یاد نہیں کرتا اگر انسان اپنے سے جڑے رشتوں کا جوگ پال لے تو زندگی میں آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن کی تمام ٹیم کو اتنے شاندار پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ دنیا اگر مکمل لگنے لگے تو انسان اسی میں دل لگا لیتا، دنیا کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ ہر چیز کی کمی اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ مکمل تو رب کی ذات ہے۔ بہت سے افراد کو شاید استحکام پاکستان کانفرنس میں کچھ کمی محسوس ہوئی ہو مگر اپنی سوچ کو مثبت رکھیں کوتاہیوں اور غلطیوں کو نظر انداز کریں اور کوششوں کو سراہا سیکھیں۔ زندگی جو دے ان حسین لمحوں کو وقت کی مٹھی میں قید کرتے ہوئے میں نے اپنے اس دن کے ہمسفر الماس العین خالد کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ بچے بھی گھر پر منتظر تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیں مثبت رہیں۔ ان شاءاللہ! پھر کسی قصہ زیست کے ساتھ ملیں گے۔ اے میری پیاری ڈائری اللّٰہ نگہبان!

  • ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

    ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

    نواز شریف کا متبادل بھی نواز شریف کی بیٹی

    دور حاضر سفارتکاری اور سرمایہ کاری کا زمانہ ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس عصری تقاضے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ حالیہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جاپان کے اہم دورے پر ہیں جو جدید ترقی یافتہ پنجاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چین سمیت کئی اہم ممالک کے دورے کئے۔ مریم نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنیں تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پنجاب میں خدمت اور تعمیر و ترقی کے وہ باب رقم کر جائیں گی جس کا تقابل دوردور تک نہیں مل سکے گا۔ پی ٹی آئی کے بدترین دور حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت کی بدانتظامی کے باعث خالی خزانے اور مختلف کنٹریکٹرز کے کھربوں روپے کے زیرالتواع بلز کی ادائیگی کا مشکل ترین مرحلہ درپیش تھا۔ دن رات اور انتھک محنت سے مریم نواز شریف نے سیاسی پشین گوئیوں اور صحافتی تجزیہ کاروں کے سب دعوے غلط ثابت کردیے۔ پنجاب معاشی مشکلات سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔31سال سے قرضوں میں جکڑے پنجاب کو مقامی بینکوں کے قرض سے آزاد کروا دیا۔ 17ماہ کے مختصر عرصے میں مریم نواز شریف نے پنجاب میں تعمیروترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے کہ ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔مریم نواز کی وزارت اعلیٰ نہ صرف تعمیرو ترقی اور عوامی فلاح وبہبود انکا خاصہ بن گیا بلکہ صحت مند، ترقی کرتا اور محفوظ پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر کردکھایا۔ حکومت کے ابتدائی17ماہ میں 120سے زائد عوامی فلاح وبہبود کے پراجیکٹس کا آغاز اور 70سے زائد پراجیکٹس کی تکمیل اپنی مثال آپ ہے۔ درجنوں ایسے منصوبے ہیں جو محض خواب سمجھا جاتا تھا لیکن مریم نواز شریف نے اس کی تعبیر کو ممکن بنایا۔ مریم نواز کی17ماہ کی کارگردگی کا مختصر خلاصہ یہی ہے کہ نواز شریف کا متبادل بھی نواز شریف کی بیٹی ہی ہے۔

    موجودہ سیاسی لاٹ میں مریم نواز واحد شخصیت ہے جو ناصرف نوجوان طبقہ میں انتہائی مقبول اور پسندیدہ لیڈر ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پنجاب اور پاکستان کی موئثر نمائندگی کررہی ہیں۔ اہل پنجاب انتہائی خوش قسمت ہیں کہ انہیں مریم نواز شریف کی صورت ایسی وزیر اعلیٰ ملی ہیں جو عوام دوست اور انتہائی متحرک ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی زیر قیادت ہر شعبہ زندگی میں ریکارڈ تعداد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے جہاں ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، میرٹ ایمانداری کی شاندار روایات قائم کی ہیں وہاں انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے فنڈز میں بچت کی روایات کو پروان چڑھایا ہے۔ اور قومی دولت کو عوام کی امانت سمجھتے ہو ئے استعمال کیا ہے۔حکومت پنجاب نے صوبے کے بے روزگار افراد کو روزگار کی فراہمی کے لئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں۔پنجاب سیف سٹیز اٹھارٹی اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی جیسے اداروں میں عالمی معیار کی جدیدت، پاکستان اورپنجاب کی پہلی SMART ماحولیاتی تحفظ فورس کا باقاعدہ آغاز۔ قبضہ مافیا سے 40ہزار ارب کی سرکاری زمینیں واگزار کروانے کیلئے تجاوزات کا خاتمہ مشن امباسیبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کا کوئی ثانی ہی نہیں۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے ای ٹینڈرنگ۔

    مستحقین کی سوشل اکنامک رجسٹریشن، نوجوانوں کو قرض، طلبا و طالبات کو ای بائیکس اور ہونہار سکالر شپس مل رہی ہیں۔ مریضوں کو مفت ادویات اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولیات، نئے ہسپتالوں کی تعمیر، ”مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز“ ”نواز شریف کینسر اسپتال“۔ تمام بڑے شہروں میں سیوریج اور نکاسی آب کا نیا سسٹم رائج کیا جارہا ہے۔ سڑکوں کا جال بچھا کر پنجاب کو ترقی کے نئے دور میں داخل کردیا گیاہے۔ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تکنیکی و فنی تربیت کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے TEVTA کو مزید فعال جبکہ پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کے زیعے 6 لاکھ افراد کو تکنیکی و فنی تربیت کی فراہمی کا ٹارگٹ بنایا گیا۔ پنجاب میں زرعی انقلاب لانے کے لئے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شعبہ تعلیم کی بات کی جائے تو بوٹی مافیہ کا خاتمہ کیا۔ پنجاب کے تمام سکولز اور کالجز کو جدید ترین آئی ٹی لیب سے آراستہ کرنا۔ پنجاب ایجوکیشن کریکلم ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اٹھارٹی کی صورت نصاب سازی، ٹریننگ اور تعلیمی وظائف کو ون ونڈو سولوشن بنا دیاگیا ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور ڈی ایچ کیوز کی تعمیر و اپگریڈیشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی میں شفافیت اورجدیت کیلئے اقدامات، صاف پانی، ایکو فرینڈلی الیکٹرک بسیں، مریم نواز نے پہلے دن سے ہی سیاحت کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا ہے اور سینکڑوں نئے سیاحتی مقامات متعارف کروانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ پنجاب کی ایک ہزار سالہ تاریخ کو محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے پنجاب کی ثقافت، تاریخ اور روایات کو فروغ ملے گا۔ پنجاب کے 170 تاریخی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکزمیں تبدیل کرکے پنجاب کو تہذیب و سیاحت کا انٹرنیشنل مرکز بنایا جارہا ہے۔پنجاب کے کلچر اور ثقافتی میلوں کی بحالی۔تمام شعبوں میں مثالی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ نوجوان طبقہ آئندہ الیکشن میں مریم نواز شریف کو وزیراعظم کے طور پر دیکھنا چاہ رہا ہے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مشکل کی گھڑی میں، مرکزی مسلم لیگ کھڑی ہے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ مگر زندگی کا محافظ یہ پانی، خیبر کے لوگوں کےلیے زندگی کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ خوبصورت و دلنشیں گھاٹیاں اس وقت غم اور پانی دونوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ بارش کا زور ایسا تھا کہ پہاڑ جیسے لرز کر مٹی مٹی ہوگئے۔ لمحوں میں بستیاں اجڑ گئیں۔ وہ گھر جو کسی مزدور نے کئی برسوں میں چاہت و محبت اور خون پسینے کی کمائی سے بنایا تھا۔ لمحوں میں مٹی کا ڈھیر بن گیا۔کہیں مائیں جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی ہیں، تو کہیں دُودھ پیتا بچہ ماں سے زیادہ بھوک سے تڑپ رہا ہے۔ کوئی پیٹ بھرنے کی تگ و دو میں پانی کے پیٹ میں جا گرا ہے، تو کوئی زخمی ماں کےلیے دوا دارو لینے گیا، لاش بن کر لوٹا ہوگا۔
    یہ قدرتی آفات ہمیشہ ہمارے ظرف کا امتحان لیتی ہیں۔ حکومتیں حرکت میں آئیں، فوج نے ہیلی کاپٹروں سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، ریسکیو 1122 کے جوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچائیں، اور پاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ اور سیکڑوں ٹن راشن عطیہ کیا، میڈیکل کیمپ لگے، مگر ایسے وقتوں می ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ درد دل والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

    مجھے خوشی سے زیادہ حیرت ہوئی،جب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو اس کڑی آزمائش میں سرگرداں پایا۔ اس جماعت کا نام برسوں سے سن رکھا تھا، مگر چند ماہ قبل ایک نیوز چینل کے دفتر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے ایک ملاقات ہوئی، تو مرکزی مسلم لیگ کے بارے مزید جاننے کا تجسس ہوا۔ ڈیجیٹل ریسورسز سے معلومات نے اس جماعت کا ایک اور رخ میرے سامنے کھول دیا کہ یہ صرف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک فلاحی قافلہ ہے، جو مشکل وقت میں خاموش تماشائی نہیں بنتا۔ آج جب خیبر پختونخوا کے لوگ مشکل سے دو چار ہیں،تو پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ آن گراؤنڈ مدد کےلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔مینگورہ کا آدھا شہر جب پانی میں ڈوبا تو کئی کئی فٹ پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔ لوگ کھلے آسمان تلے یا چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور تھے۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیمیں وہاں لوگوں کو کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے جا پہنچیں۔ بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ تک امدادی کیمپ پھیل چکے ہیں۔ بطور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ محمد عبداللہ کی فیس بک وال، کئی برسوں سے سامنے آرہی ہے۔ یہ نوجوان آج کل مرکزی مسلم لیگ خیبرپختونخوا کا ترجمان ہے، ان کی وال پر مرکزی مسلم لیگ کی خواتین اور بچیوں کو فلاحی کاموں میں مصروف دیکھ کر حیرت و خوشی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوان دن رات ملبہ صاف کرتے، راشن بانٹتے، گھروں سے کیچڑ نکالتے دکھائی دیے۔ ان کے پاس سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ آنکھوں میں خدمت کا جذبہ تھا۔حیرت زدہ ہوں کہ نوجوان کس طرح رب کی رضا کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل شاید موبائل پر سوشل میڈیا چلا رہے تھے، آج وہی ہاتھ آج ملبے صاف کر رہےہیں۔ وہ پاؤں جو کل کسی ریلی میں شریک تھے، آج سیلابی پانی میں گھٹنوں تک دھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ شکریہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، مگر اب ہمیں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا،ورنہ روز میرے ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ڈوبتا، اور مرتا رہے گا۔

  • خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا سیلاب، مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں پر ایک نظر

    خیبر پختونخوا کے سرسبز وادیوں کا دل مینگورہ، آج ایک المیہ کی تصویر پیش کر رہا ہے، حالیہ دنوں میں آنے والے شدید سیلاب نے علاقے کو بدترین تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ لوگوں کے گھر، کاروبار، خواب اور زندگی کی ساری رونقیں پانی میں بہہ گئیں۔مینگورہ شہر کا نصف حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔10 ہزار سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔گھروں اور دکانوں میں دس دس فٹ پانی داخل ہوا، جس کے بعد گارا اور کیچڑ نے علاقے کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے فوری اور منظم امدادی سرگرمیاں شروع کیں،مرکزی مسلم لیگ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوراً مینگورہ، بونیر، سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں کے ذریعے روزانہ دو ہزار سے زائد افراد کو پکا پکایا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔سیلابی پانی کے باعث علاقے میں الرجی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایسے میں مرکزی مسلم لیگ نے مفت میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ماہر ڈاکٹرز اور نرسز پر مشتمل طبی ٹیمیں مختلف شہروں سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔اب تک ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔متاثرین کو پلاسٹک کی چادریں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بارش سے وقتی پناہ لے سکیں۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اب تک 500 سے زائد خاندانوں میں خشک راشن (آٹا، چاول، دالیں، چینی، گھی وغیرہ) تقسیم کیا جا چکا ہے۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بچوں کے لیے دودھ، بسکٹس اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم خود مینگورہ میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت خدمت کا ہے، سیاست کا نہیں۔ ہمارا مشن ہے کہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف دیا جائے اور ان کی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے ،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں نوجوان، مرد و خواتین، بزرگ اور طبی عملہ رضاکارانہ بنیادوں پر سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف ہیں۔ وہ گھروں سے کیچڑ نکالنے میں مدد دے رہے ہیں۔متاثرین کو نفسیاتی سہارا اور حوصلہ فراہم کر رہے ہیں۔صفائی ستھرائی، پانی کی نکاسی اور بیماریوں کی روک تھام کے کاموں میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔لیکن افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے، کیونکہ ہر متاثرہ گھر کو دوبارہ رہنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ وقت سیاست، قومیت یا مسلک کے فرق کا نہیں، بلکہ انسانیت کے ناطے ایک ہونے کا ہے۔ سیلاب متاثرین آج ہماری مدد کے منتظر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کریں،مالی، طبی یا رضاکارانہ خدمات پیش کریں،سوشل میڈیا پر آگاہی پھیلائیں،دعاؤں کے ساتھ عملی مدد کا بھی مظاہرہ کریں

    مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی سرگرمیوں سے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو کسی بھی آفت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ جنگ صرف ایک جماعت یا تنظیم کی نہیں، ہم سب کی ہے۔

  • راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    میں فیلڈ جرنلسٹ نہیں ہوں، میں ڈاٹس کونیکٹ کرکے خبر تلاش کرتا ہوں اور اسے خبر کی بنیاد پر تجزیہ پیش کرتا ہوں، جو کم و بیش درست ہوتا ہے۔ آج سپیرئیر یونیورسٹی کے تاریخی ہال میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی، یہ وہی ہال تھا جہاں چند سال پہلے میں نے لفافہ جرنلزم پر اپنا ریسرچ پیپر پیش کیا تھا، لیکن آج کی میٹنگ مختلف نوعیت کی تھی، سٹیج پر سپیرئیر گروپ کے کاروباری حریف میاں عامر محمود صوبوں کی تقسیم پر دلائل دے رہے تھے، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر ڈویژن کو ایک صوبہ بنایا جائے، اور ملک کو 33 انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے، ہر صوبے میں 16 محکمے بنانے کی تجویز کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمشنر کو چیف سیکرٹری بنا دیا جائے، انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ "ابھی آتے ہوئے کسی نے ایک لفافہ دیا ہے، جس میں کچھ مزید تجاویز ہیں جو میری نظر میں قابل عمل ہیں۔” لفظ کسی کو سنتے ہی میں نے ڈاٹس ملانا شروع کر دئیے، معدنیات بل کی مخالفت، نہروں کے معاملے پر احتجاج، ستائیسویں ترمیم پر شور شرابا، ان تین نکات نے مقتدر حلقوں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان میں صوبوں کی تقسیم سے فی الحال سیاسی جماعتوں کا اثر کم کرنے کا تاثر ملتا ہے، جیسے پیپلز پارٹی کو دیہی سندھ تک محدود کرنا، کراچی، حیدر آباد اور سکھر پر پرو اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کا اثر بڑھے گا، پنجاب میں ن لیگ کو جی ٹی روڈ یا شمالی پنجاب کی جماعت بنانا جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو اثر کم ہو جائے گا، کیا تقسیم سے زیادہ بلدیاتی نظام کو بہتر نہیں بنانا چاہیے؟ کیا اس تقسیم سے اپنی پسند کا وزیرِ اعلیٰ لانے میں آسانی نہیں ہو جائے گی؟ اس ساری بحث سے لگ رہا ہے کہ مسائل حل کرنا مقصود نہی بلکہ عوام کو مزید چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا ہے تاکہ نظام کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ بہرحال ہال میں موجود نوجوانوں نے اسی سے ملتے جلتے سوالات کئے، لیکن کسی سوال کا جواب نہیں ملا اور تشنگی ابھی باقی ہے،

    بہرحال سپیرئیر کے ریسرچ ہال میں بریانی، قورمہ اور چائے پی کر میں نے دفتر کی راہ لی، کمرے میں بیٹھ کر تصویر بنائے اور اپنے گھر میں بستر پر بیٹھے یہ روداد تحریر کردی ہے، بہرحال مولانا فضل الرحمان، زرداری ، نواز شریف اور ایم کیو ایم اگر وسیع تر قومی مفاد میں ایک ہوسکتے ہیں تو لاہور کی دو بڑی کاروباری حریف شخصیات کے ساتھ بیٹھنے پر بھی حیرانی ہر گز نہیں ہونی چاہیے، جنریشن زی کو خواب دکھانے کے سفر کا آج آغاز ہوچکا ہے، ون یونٹ سے لیکر اٹھارویں ترمیم تک تجربے ہوچکے ہیں، ایک اور تجربہ سہی، کیونکہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے اور یہاں جنگ کے ڈیزائن بھی سیاست دان ہی بناتے ہیں