Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رچرڈ وولف کی سخت انتباہ: ٹرمپ کا معاشی منصوبہ امریکہ کو نہیں بچائے گا .تحریر: ناصر اسماعیل

    رچرڈ وولف کی سخت انتباہ: ٹرمپ کا معاشی منصوبہ امریکہ کو نہیں بچائے گا .تحریر: ناصر اسماعیل

    دہائیوں تک، امریکی معیشت ڈالر کی بالادستی اور غیر ملکی قرضوں کی بدولت عالمی سطح پر غالب رہی۔ لیکن معاشیات دان رچرڈ وولف اپنے حالیہ تجزیے میں خبردار کرتے ہیں کہ یہ دور اب ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ کے زوال کی اصل وجہ غیر ملکی مقابلہ نہیں بلکہ ملک میں پرورش پانے والی کارپوریٹ لالچ، نظامی عدم مساوات اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامیوں کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ ٹرمپ کا ٹیرف پر مبنی معاشی منصوبہ امریکی صنعت کو بحال کرنے سے قاصر ہے، بلکہ یہ ایک مایوس کن چال ہے جو مزدوروں کو مزید دبائے گی، عالمی سطح پر جوابی کارروائیوں کو جنم دے گی اور زوال کی رفتار کو تیز کرے گی۔

    ### *امریکہ کا سنہری دور کیسے ختم ہوا؟*
    وولف اس زوال کی جڑ 1971 تک لے جاتے ہیں جب صدر نکسن نے سونے کے معیار کو ترک کر دیا، جس سے امریکہ کو بے تحاشہ ڈالر چھاپنے کی آزادی مل گئی۔ غیر ملکی ممالک—پہلے جاپان، پھر چین—نے اپنے ڈالرز کو امریکی قرضوں میں تبدیل کر کے امریکی استعمال کو مالی معاونت فراہم کی۔ لیکن اب یہ نظام ٹوٹ رہا ہے۔ ڈالر پر اعتماد کم ہو رہا ہے، سونے کی مقبولیت پھر سے بڑھ رہی ہے اور قرض دہندگان امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، امریکی کارپوریشنز نے زیادہ منافع کے لیے ملازمتیں بیرون ملک منتقل کر دیں، مینوفیکچرنگ کو کھوکھلا کرنے کے بعد غیر ملکیوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ وولف کا مؤقف ہے کہ "اصل مجرم تو سی ای اوز اور شیئر ہولڈرز تھے جنہوں نے ملازمتیں بیرون ملک بھیجیں اور منافع اپنی جیبوں میں ڈال لیا۔”

    ### *ٹرمپ کے ٹیرف: مزدوروں پر ٹیکس، کوئی حل نہیں*
    ٹرمپ کا منصوبہ ٹیرف پر انحصار کرتا ہے، لیکن وولف اس کے پیچھے کی منطق کو بے نقاب کرتے ہیں:
    – *صارفین قیمت چکاتے ہیں*: ٹیرف درحقیقت خفیہ ٹیکس ہیں جو کام کرنے والے طبقے کے اخراجات بڑھاتے ہیں جو پہلے ہی جامد اجرتوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔
    – *بہانہ بازی: چین یا میکسیکو کو مورد الزام ٹھہرانا امریکی کارپوریشنز کے کردار سے توجہ ہٹاتا ہے جنہوں نے ملازمتیں ختم کیں۔ "ملازمتیں ‘بھاگی’ نہیں تھیں—انہیں *جان بوجھ کر منتقل کیا گیا تھا،” وولف کہتے ہیں۔
    – *قلیل مدتی لالچ، طویل مدتی نقصان*: ٹیرف بڑے کاروباروں کا تحفظ کرتے ہیں، مزدوروں کا نہیں۔ یہ جوابی کارروائیوں کو دعوت دیتے ہیں، امریکہ کو الگ تھلگ کرتے ہیں اور حقیقی اصلاحات کو مؤخر کرتے ہیں۔

    ### *گہری بیماری: ایک دھوکے باز نظام*
    یہ بحران صرف معاشی نہیں—یہ جمہوریت کا بھی بحران ہے۔ صرف 3% امریکی آجروں کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ اکثریت کو کام کی جگہ پر فیصلوں میں کوئی آواز حاصل نہیں۔ دولت انتہائی غیر منصفانہ طور پر مرتکز ہے: سب سے امیر 1% آبادی کے پاس نیچے کے 90% سے زیادہ دولت ہے۔ کارپوریشنز اربوں ڈالر اسٹاک خریداری پر خرچ کرتی ہیں جبکہ مزدوروں کو نظر انداز کرتی ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں—ڈیموکریٹس نے نیم حکمت عملیوں اور کارپوریٹ تعلقات کے ذریعے جبکہ ریپبلکنز نے یونینوں کو توڑنے اور ڈی ریگولیشن کے ذریعے—نے اس نظام کو ممکن بنایا ہے۔

    ### *کیا کوئی راستہ باقی ہے؟*
    وولف کو بڑھتے ہوئے تحریکوں—مزدور تنظیمیں، اشتراکیت میں بڑھتی دلچسپی، ورکر کوآپریٹیوز—میں امید نظر آتی ہے، لیکن وہ وقت کی کمی سے خبردار کرتے ہیں۔ نظامی تبدیلی کے بغیر، امریکہ ناقابل واپسی زوال کا شکار ہو جائے گا۔ "ٹرمپ کا منصوبہ ٹائٹینک پر کرسیوں کو دوبارہ ترتیب دینے جیسا ہے،” وولف کہتے ہیں۔ "سوال صرف سرمایہ دارانہ نظام کے زوال سے بچنے کا نہیں—بلکہ یہ ہے کہ کچھ بہتر کیسے تعمیر کیا جائے۔”

    *حتمی خیال*: اصل تقسیم بائیں اور دائیں کے درمیان نہیں—بلکہ اشرافیہ اور باقی سب کے درمیان ہے۔ جب تک معاشی طاقت کو جمہوریت نہیں دی جاتی، نہ تو کوئی ٹیرف اور نہ ہی کوئی ٹیکس کی چھوٹ ہمیں بچا سکتی ہے۔

  • بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی  اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان پھر لہولہو،سیاسی اورمذہبی لیڈر کہاں سو گئے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے گناہ شہری اور جوان کب تک شہید ہوتے رہیں گے،کیا حملے روکنا صرف فوج کی ذمہ داری!
    بیورو کریسی اور سول انتظامیہ کس مرض کی دوا ،’’را‘‘ کا نیٹ ورک توڑنے کیلئے ایک ہونا ہوگا
    نواز شریف قوم کی امید، سابق وزیر اعظم موثر کردارادا کریں لوگوں نے آس لگالی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی سمت درست کریں،مکالمے کو فروغ دیں، اپنا رُخ عوامی خدمت قومی اور بین الاقوامی مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے اُن پر توجہ د یں، مسخرے پن سے باہر نکل کر سنجیدہ سیاست کریں، تب جا کر امریکہ سمیت عالمی دنیا سیاسی جماعتوں اور ملکی جمہوریت پر انحصار کرے گی ، سیاسی گلیاروںمیں وہی شور ،وہی ہنگامہ ایک دوسرے پر الزامات،کیا جو کچھ سیاسی گلیاروں میں ہو رہاہے اس سے استحکام پاکستان کا خواب مکمل ہوگا؟ بلوچستان اور ایشیاء کا خوبصورت ترین علاقہ سیاحتی علاقہ کے پی کے لہولہان ہے، کیا ملک کی سیاسی جماعتوں نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوچا کہ آخر وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا ہماری عوام کو مل رہی ہے؟ کیا پاکستان اور عوام کی سلامتی کے ذمہ دار صرف پاک فوج جملہ ادارے اور پولیس ہی ہیں ؟ سیاستدانوں ، مذہبی جماعتوں ، بیوروکریٹ ، بیورو کریسی اور انتظامیہ کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں،بلاشبہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کردار ادا کررہا ہے ، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کا نیٹ ورک بلوچستان میں اور افغانستان میں پھیلا ہے، پاکستا ن میں موجود جو چھوٹے بڑے شہروں میں افغانی مبینہ طور پر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں، بلوچستان میں بے گناہ لوگ شہید ہو رہے سیکیورٹی فورسز اور شہری ،یہ نہایت سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے ، اس کو روکنے کے لئے ایک جامع پائیدار اور سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کو سفارتی ذرائع سے روکاجائے ، امریکہ یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں موجود سفارت کار اپنا کردار ادا کریں، اندرون ملک ایسے اقدامات اُٹھائے جائیں تاکہ کوئی بیرونی قوت فائدہ نہ اُٹھا سکے، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بلوچستان کو لے کر اپنا کردار ادا کریں، صدقے دل سے اس لہولہان بلوچستان اور کے پی کے کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، اس سلسلے میں نواز شریف کی سربراہی میں تمام سیاسی قائدین گول میز کانفرنس میں فیصلہ کریں ، نواز شریف ملک کے ایک ممتاز سیاستدان ہیں جنہوں نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک فعال کردار ادا کیا ہے ، وہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں ، نواز شریف بطور سابق وزیراعظم اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، لاہور میں موجود نواز شریف ملک وقوم کے لئے اُمید ہے ،اپنا موثر کردار ادا کریں گے

  • خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب صرف منزل کا کھو جانا المیہ نہیں ہوتا، بلکہ راستے کا بھٹک جانا اور خود کو پہچاننے سے انکار کرنا اصل تباہی بن جاتا ہے۔ پاکستان آج ایک ایسے ہی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحرانوں کا لامتناہی سلسلہ، دوسری طرف سماجی بگاڑ کی انتہا، اور ان سب کے درمیان بطور امت مسلمہ ہماری بےحسی اور لاتعلقی، گویا خود کشی کی مکمل تصویر ہے۔

    یہ سچ ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، بدعنوانی اور عدالتی نظام کی کمزوریاں ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں، مگر اصل زہر ہماری اجتماعی بےحسی میں ہے۔ آج کا پاکستانی فرد صرف اپنی ذات تک محدود ہو چکا ہے۔ اسے ہمسائے کی بھوک نظر نہیں آتی، اسے مزدور کی محنت کی قدر نہیں، اسے استاد کی توقیر کا شعور نہیں۔ معاشرتی اقدار صرف تقریروں تک محدود ہو چکی ہیں اور کردار سازی کا عمل تعلیمی نصاب میں دفن ہو چکا ہے۔

    ہم نے دین کو صرف عبادات تک محدود کر دیا، حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن صرف رواجی تلاوت کے لیے رکھا گیا، اور سنت صرف تقریر کا موضوع بنی رہی۔ ہم نے دین کو دل سے نہیں، رسم سے اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ نمازیں بڑھتی گئیں اور معاملات بگڑتے گئے، داڑھیاں لمبی ہوئیں مگر دل تنگ، مساجد آباد ہوئیں مگر بازار بےایمان۔

    پاکستان کے بازاروں میں جھوٹ عام ہے، دفاتر میں رشوت معمول، سڑکوں پر بدتمیزی عام، اور تعلیمی اداروں میں اخلاقیات ناپید۔ ہم نے ترقی کو صرف عمارتوں سے جوڑا، انسانوں کے معیارِ فکر اور احساس کو نظر انداز کر دیا۔ اسی لیے آج ہمارے ہاں شرحِ خواندگی تو بڑھ رہی ہے، مگر شعور گھٹ رہا ہے۔

    امتِ مسلمہ کی حالت بھی مختلف نہیں۔ ہم جو کبھی ایک صف میں کھڑے ہونے کا فخر رکھتے تھے، آج قومیت، مسلک، اور مفادات میں بٹ چکے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، روہنگیا اور غزہ کی چیخیں صرف سوشل میڈیا پر دکھ بھری پوسٹوں تک محدود ہیں۔ عملی اقدامات کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے۔ او آئی سی جیسے ادارے صرف اجلاس منعقد کرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مسلمان امت کا مفہوم قیادت، علم، اخلاق اور عدل سے جڑا تھا، اور آج ہم صرف ردعمل سے کام چلا رہے ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے زوال کا سبب باہر نہیں، ہمارے اندر ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے رویوں، سوچ اور ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ عبادات کے ساتھ معاملات کو بہتر بنانا ہوگا۔ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، سچ بولنے، حق کا ساتھ دینے، اور علم کو بنیاد بنانے کا عہد کرنا ہوگا۔

    کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی، تو تاریخ صرف ہمارا نوحہ لکھے گی، فخر نہیں۔

  • حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین

    حکومتی بے حسی اور پاکستان میں برین ڈرین
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان آج ایک ایسی کربلا سے گزر رہا ہے جہاں اس کے نوجوان، اس کا سب سے قیمتی اثاثہ، معاشی بدحالی، ہوشربا مہنگائی اور حکومتی بے حسی کے ہاتھوں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، لاکھوں پاکستانی، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، نرسز، اور اساتذہ شامل ہیں، بہتر مستقبل کی تلاش میں ہجرت کر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 کے پہلے تین ماہ میں 172,144 نوجوان روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے جبکہ سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر سے 4831 نوجوان، جن میں 60 فیصد تعلیم یافتہ تھے، نے وطن کو الوداع کہا۔ بدقسمتی سے، غیر قانونی سمندری راستوں سے یورپ جانے کی کوشش میں 343–353 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہر اس خاندان کی چیخ و پکار ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

    2023 میں 862,000 اور 2024 میں 727,381 پاکستانی ہجرت کر گئے، جن میں سے 45,687 ہنرمند افراد تھے۔ 2025 کے پہلے تین ماہ میں یہ تعداد 172,144 تک جا پہنچی، اور اگر چھ ماہ کے اعداد و شمار شامل کیے جائیں تو یہ تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ سیالکوٹ سے ہجرت کرنے والے 4831 نوجوانوں میں سے 60 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، جو وطن میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار نہ ملنے کے باعث مشرق وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی طرف رخ کر گئے۔ یہ "برین ڈرین” پاکستان کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ملک اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے سعودی عرب، قطر، اور دبئی تعمیراتی اور ٹیکنیکل شعبوں میں ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں، لیکن یورپ جانے کی خواہش میں کچھ نوجوان غیر قانونی سمندری راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں انسانی سمگلرز ان کے خوابوں کا استحصال کرتے ہیں۔

    غیر قانونی ہجرت کے دوران سمندری سانحات نے پاکستانی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ 2023 سے جولائی 2025 تک، 343–353 پاکستانی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس میں کشتیوں کے ڈوبنے سے ہلاک ہوئے۔ اٹلی کے کروٹون ساحل پر 27 فروری 2023 کو ہونے والے حادثے میں 6 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 2 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی اور 4 لاپتہ رہے۔ یونان کے پلاس ساحل پر جون 2023 میں ایک کشتی ڈوبنے سے 241–251 پاکستانی ہلاک ہوئے، جن میں سے 111 مصدقہ اور 130–140 غیر مصدقہ ہیں۔ لیبیا کے ساحلوں پر مارچ 2023، فروری 2025، اور جولائی 2025 سے قبل کے واقعات میں 29–39 پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ مراکش کے ساحل پر جنوری 2025 میں 13 اور بحر اوقیانوس میں 2 جنوری 2025 کو 44 پاکستانی ہلاک ہوئے، جب انسانی سمگلرز نے پیسوں کے تنازع پر کچھ افراد کو سمندر میں پھینک دیا۔ ہر ہلاکت ایک ماں کی چیخ، ایک باپ کی امید اور ایک خاندان کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کہانی ہے۔

    اس المیے کی جڑیں پاکستانی معاشرے کے معاشی اور سماجی حالات میں پیوست ہیں۔ 2023 میں افراط زر 46 فیصد تک جا پہنچا، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ آٹا، چینی اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ بجلی کے بل تین گنا اور ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں۔ ایک عام پاکستانی خاندان اپنی آمدن کا 70 فیصد کھانے اور بجلی کے بلوں پر خرچ کر رہا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور 4.5 ملین پاکستانی بے روزگار ہیں، جن میں سے 11.1 فیصد نوجوان ہیں۔ سیالکوٹ جیسے شہر جو صنعتی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے، وہاں بھی 60 فیصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ ایک 33 سالہ خاتون جو برطانیہ ہجرت سے قبل دو نوکریاں کرتی تھی، کہتی ہیں کہ وہ گھریلو اخراجات پورے نہ کر سکیں۔ یہ حالات نوجوانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    حکومتی بے حسی نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وزراء خاص طور پر اویس لغاری جیسے ذمہ داران، جو توانائی کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ بجلی کے ناقابل برداشت بل اور لوڈشیڈنگ نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر سبسڈیاں ختم کرنے سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، لیکن حکومت نے کوئی ٹھوس حل پیش نہیں کیا۔ سیاسی عدم استحکام جو 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے شروع ہوا، نے معاشی اصلاحات کو روک دیا۔ بونگے وزراء کی ناقص پالیسیوں نے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہےاور حکومتی دعوؤں کے باوجود مقامی روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ صنعتی زونز، کاروبار دوست پالیسیاں اور تعلیمی اصلاحات کے وعدے کاغذی رہے ہیں جبکہ پاکستانی معیشت زوال کا شکار ہے۔ 2023 میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 3 بلین ڈالر تک گر گئے جو صرف تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

    غیر قانونی ہجرت کی طرف راغب ہونے کی وجوہات بھی رقت آمیز ہیں۔ انسانی سمگلرز دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو یورپ میں "سنہری مستقبل” کے جھانسے دیتے ہیں اور لاکھوں روپے لے کر انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ قانونی ہجرت کے لیے ویزوں کا حصول مشکل اور مہنگا ہے، جس سے نوجوان غیر قانونی راستوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کچھ خاندانی دباؤ اور سماجی توقعات کے تحت خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ دیگر کو سمندری سفر کے خطرات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک سروے کے مطابق 37 فیصد پاکستانی ہجرت کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل نظر نہیں آتا۔ یہ مایوسی پاکستانی معاشرے کی روح کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

    اس "برین ڈرین” کے نتائج تباہ کن ہیں۔ پاکستان اپنی باصلاحیت نسل کھو رہا ہے، جو معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گجرات اور کوٹلی جیسے شہروں سے لاپتہ ہونے والے 100 سے زائد پاکستانیوں کے خاندان آج بھی انتظار میں ہیں۔ ایک ماں کا اپنے بیٹے کی لاش کے انتظار میں روتے ہوئے کہنا کہ "میں نے اسے پڑھایا، لیکن اسے نوکری نہ ملی” دل کو چیر دیتا ہے۔ یہ سانحات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حکومتی ناکامی اور عوام کو کچھ بھی ڈیلیور نہ کر پانے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تعلیمی نظام ملکی معیشت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار نہیں کر رہا اور صنعتی ترقی کی کمی نے روزگار کے مواقع کم کر دیے ہیں۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے لیکن معیشت اس "یوتھ بلج” کو جذب کرنے سے قاصر ہے۔

    اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقامی روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔ ووکیشنل ٹریننگ اور ہنر مندی پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی اور عوام میں غیر قانونی ہجرت کے خطرات کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔ مہنگائی اور بجلی کے بلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں بنائی جائیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان اپنی ترقی کے خوابوں کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔

    کیا ہم ہمیشہ اپنی قوم کے بہترین دماغوں کو بیگانہ سرزمینوں پر دفن ہونے کے لیے رخصت کرتے رہیں گے؟ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم سوچیں، کیوں ہمارا نوجوان اپنے وطن سے ناامید ہے؟ کیا حکومتیں صرف اعداد و شمار پر آنکھیں بند رکھیں گی، یا ان ماؤں کی فریاد سنیں گی جن کے بیٹے سمندروں میں غرق ہو گئے؟ کیا ہم اس سسٹم کو بدلنے کے لیے کھڑے ہوں گے یا یوں ہی اپنی صلاحیتوں کو دفن ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ سوالات ہمارے سامنے ہیں، مگر کیا ہمارے پاس ان کے جوابات ہیں؟

  • امریکہ ایک فیصلے کے موڑ پر: بدلتی دنیا میں ڈھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ.تحریر:ناصر اسماعیل

    امریکہ ایک فیصلے کے موڑ پر: بدلتی دنیا میں ڈھل جاؤ یا ختم ہو جاؤ.تحریر:ناصر اسماعیل

    امریکہ ایک بحران کے دہانے پر کھڑا ہے— لیکن یہ بحران فوجی شکست یا معاشی تباہی کا نہیں، بلکہ غیر اہمیت کا ہے۔ دہائیوں تک، دوسری جنگ عظیم کے بعد کا عالمی نظام واشنگٹن کی بالادستی کے گرد گھومتا رہا، لیکن دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ بدلتے حالات کے مطابق ڈھلے گا یا ماضی کو تھامے رہے گا جبکہ نئی طاقتیں عالمی منظر نامے کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

    ### *سپر پاور کا پرانا کھیل ختم ہو رہا ہے*
    امریکی ڈالر کی کمی اس کہانی کو بیان کرتی ہے۔ کبھی عالمی تجارت کا ناقابل چیلنج ستون رہنے والی یہ کرنسی صرف اس سال ہی 10 فیصد گر چکی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 2025 کے آغاز میں امریکی مارکیٹوں سے 500 ارب ڈالر نکال لیے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتیں خاموشی سے یوآن اور یورو جمع کر رہی ہیں۔ پابندیاں، جو کبھی طاقت کا بے رحم ہتھیار تھیں، اب الٹا اثر کر رہی ہیں، کیونکہ روس اور جیسے ممالک ڈالر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روپے میں تیل کی تجارت کر رہے ہیں۔

    دریں اثنا، BRICS—جس میں اب سعودی عرب اور ایران جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں—دنیا کی کل GDP کا تقریباً 45 فیصد حصہ ہے۔ چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے نے براعظموں میں پھیلے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کے انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا ہے، جبکہ افریقہ کے 53 ممالک کے ساتھ صفر ٹیرف معاہدے نے "باہمی فائدے” کو محض ایک نعرے سے زیادہ بنا دیا ہے۔

    ### *تحفظ پسندی بمقابلہ شراکت داری*
    امریکہ کا ردعمل؟ دیواریں اور بلند۔ افریقہ اور یورپ کی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف نے اتحادیوں کو مایوس کر دیا ہے، اور معیشتیں دوسری طرف دیکھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس چین کا افریقہ کے ساتھ تجارتی عروج: سڑکیں، بندرگاہیں اور فیکٹریاں جو کسی نظریاتی شرط کے بغیر بنائی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی رہنما اب واشنگٹن نہیں، بلکہ بیجنگ کو اپنا سب سے بڑا معاشی پارٹنر کہتے ہیں۔

    صنعت میں بھی فرق بڑھ رہا ہے۔ امریکی مینوفیکچرنگ دنیا کی کل پیداوار کا صرف 17 فیصد ہے، جو چین کے 30 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پینٹاگون کے لامتناہی بجٹ بھی اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ ویت نام، افغانستان اور اب یوکرین کی جنگیں بغیر معاشی استحکام کے فوجی طاقت کی حدیں ظاہر کر چکی ہیں۔

    ### *نئی عالمی نظام کا انتظار نہیں کرے گا*
    روس اور چین کے 2024 کے دفاعی معاہدے نے سب کو جگا دیا۔ اسی طرح بھارت کا روس کے ساتھ روپے میں تیل کا سودا بھی ایک اشارہ تھا۔ ممالک اپنے اختیارات بڑھا رہے ہیں، اور امریکہ، جو اب بھی سرد جنگ کے ذہنیت میں جکڑا ہوا ہے، ایک تماشائی بننے کے خطرے سے دوچار ہے۔

    سبق؟ دباؤ کا طریقہ کام کرتا ہے— لیکن صرف ایک حد تک۔ دنیا اب کثیر قطبی ہو چکی ہے، اور ممالک کے پاس متبادل موجود ہیں۔ اگر امریکہ وفاداری کا مطالبہ کرتا رہا لیکن احترام یا باہمی فائدہ پیش نہیں کرے گا، تو طویل عرصے کے اتحادی بھی راستہ بدل سکتے ہیں۔

    ### *مستقبل کے لیے ایک انتخاب*
    یہ مایوسی پھیلانے والی بات نہیں— یہ حقیقت ہے۔ امریکہ میں اب بھی بے مثال اختراع، ثقافتی اثر اور جمہوری اقدار موجود ہیں۔ لیکن جب تک یہ تکبر کو لچک، پابندیوں کو سفارت کاری اور تحفظ پسندی کو حقیقی شراکت داری سے نہیں بدلتا، یہ تاریخ کے غلط رخ پر جا سکتا ہے۔

    اکیسویں صدی ان لوگوں کو موقع دیتی ہے جو تعاون کرتے ہیں، نہ کہ جنہیں حکم چلاتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا واشنگٹن بروقت سیکھ پائے گا؟

  • موسمیاتی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا ، اور ‘موسمیاتی حقیقت پسندی’ ایک خطرناک دھوکہ ہے،تحریر: ناصر اسماعیل

    موسمیاتی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا ، اور ‘موسمیاتی حقیقت پسندی’ ایک خطرناک دھوکہ ہے،تحریر: ناصر اسماعیل

    پیرس معاہدے کو دس سال گزر چکے ہیں، اور دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ اگرچہ سیاسی رجحانات بدلتے رہے ہیں—کبھی شدت سے—لیکن صاف توانائی کی طرف پیش رفت نہ صرف جاری ہے بلکہ تیز ہو چکی ہے۔ ال گور کے حالیہ TED کاؤنٹ ڈاؤن سمٹ کے خطاب میں ایک کڑی حقیقت سامنے آئی: جیواشم ایندھن کی صنعت کی جانب سے پیش کی جانے والی نام نہاد "موسمیاتی حقیقت پسندی” (ہار مان لینے کا ایک پرکشش نام) کے باوجود، قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ پہلے ہی جاری ہے۔

    ### *جیواشم ایندھن {Fossil Fuel}کی صنعت کا آخری حربہ*
    "موسمیاتی حقیقت پسندی” کا لفظ معقول لگتا ہے—جب تک آپ کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ ہار ماننے کا ایک چالاک طریقہ ہے۔ اس کا دلائل یہ ہے: "جیواشم ایندھن ہمیشہ رہیں گے، لہٰذا اخراج کم کرنے کی کوشش چھوڑ کر صرف موافقت پر توجہ دیں۔” لیکن جیسا کہ گور نے واضح کیا، یہ مسئلے کی جڑ کو نظر انداز کرتا ہے: *80% اخراج اب بھی جیواشم ایندھن جلانے سے ہوتا ہے۔* تخفیف کو ترک کرنے کا مطلب ہے ایسی دنیا کو قبول کرنا جہاں:

    – *1 سے 2 ارب افراد* کو 2050 تک بے گھر ہونا پڑ سکتا ہے۔
    – *مہلک گرمی اور نمی* کے باعث کئی خطے رہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
    – *جنگلاتی آگ، طوفان اور سیلاب* نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں (2024 اب تک کا گرم ترین سال تھا)۔
    – *مرجانی چٹانیں {Coral Reefs Collapse{ تباہ، مچھلیوں کی تعداد کم اور گلیشیئر غائب* ہو رہے ہیں، جس سے اربوں لوگوں کے پانی کے ذرائع خطرے میں ہیں۔

    یہ حقیقت پسندی نہیں—بلکہ *منصوبہ بند تباہی* ہے۔

    ### *خوشخبری: صاف توانائی جیت رہی ہے*
    اگرچہ کچھ حکومتیں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، لیکن مارکیٹ خود حرکت میں ہے:

    – *پیرس معاہدے کے بعد قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری دوگنی ہو چکی ہے۔*
    – *شمسی توانائی کی صلاحیت اور الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت* صرف چند سالوں میں دوگنی ہو گئی ہے۔
    – *ہوا سے توانائی میں تقریباً 50% اضافہ* ہوا ہے۔
    – *کوئلے کے پلانٹ بند ہو رہے ہیں* کیونکہ وہ مقابلہ نہیں کر پا رہے۔

    معاشیات واضح ہے: *بے عملی کی صورت میں عالمی معیشت کو 50 سال میں $178 ٹریلین کا نقصان ہو گا، جبکہ موسمیاتی کارروائی *$43 ٹریلین کا فائدہ** دے سکتی ہے۔

    ### *اخلاقی انتخاب — اور عملی بھی*
    گور اس معاملے کو صرف معاشی مسئلے کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ یہ ایک *اخلاقی بحران* ہے—جس پر مذہبی رہنما، سائنسدان اور یہاں تک کہ ماہرین معاشیات بھی متفق ہیں۔ ہمارے پاس ذرائع موجود ہیں۔ صرف ایک چیز کی کمی ہے: *انہیں استعمال کرنے کی سیاسی مرضی۔*

    جیواشم ایندھن {Fossil Fuel}کی صنعت کی "حقیقت پسندی” ناگزیر تبدیلی کو مؤخر کرنے کی ایک آخری کوشش ہے۔ لیکن مستقبل پر ان کا کنٹرول نہیں۔ *اصل سوال یہ نہیں کہ آیا ہم منتقل ہوں گے—بلکہ یہ کہ کتنی تیزی سے، اور کتنی منصفانہ طریقے سے۔*

    گھڑی کی سوئی چل رہی ہے۔ انتخاب ہمارا ہے۔

  • بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے

    بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے

    بارشوں کا ماسٹر پلان اور نااہل سرکاری ادارے
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    پاکستان اگر سونے کی چڑیا ہے تو وہ صرف سرکاری اشرافیہ کے لیے ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں بجلی، گیس اور پٹرول جیسی نعمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہیں، مگر سرکاری ادارے ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ فائدے ہم عوام کے حصے میں نہیں آتے، نہ ہی آپ کے لیے ہیں، نہ میرے لیے۔ اس ملک میں جو بھی سہولت ہے، وہ صرف ان سرکاری طبقوں کے لیے ہے جن کے بل بھی ہم ہی ادا کرتے ہیں۔ مگر سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان اداروں میں بھرتی کیے گئے نالائق، سیاسی بنیادوں پر لائے گئے افراد نے ملک کی ہر منصوبہ بندی کو ناکام کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارش جیسا قدرتی، متوقع اور سادہ سا موسمی عمل بھی ہمارے لیے آفت بن کر آتا ہے۔

    پاکستان میں ہر سال مون سون کا موسم ایک مقررہ وقت پر آتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی وارننگز جاری ہوتی ہیں، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر مسلسل الرٹس دیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی بارش کا آغاز ہوتا ہے، ہمارے شہر پانی میں ڈوبنے لگتے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان، اوکاڑہ سمیت تمام بڑے شہر ندی نالوں کا منظر پیش کرتے ہیں، گلیاں پانی سے لبریز ہو جاتی ہیں، گھروں کے اندر پانی داخل ہو جاتا ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ کیا یہ کوئی اچانک آفت ہے؟ ہرگز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بارش ہر سال ہوتی ہے، تو پھر ہم ہر سال تباہی سے دوچار کیوں ہوتے ہیں؟ کیا یہ حکومتوں کی ناکامی ہے یا صرف منصوبہ سازوں کی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ادارے محض کاغذی منصوبہ بندی کے ماہر ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں جہاں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے دکھائی دیتے ہیں، وہیں ایک گھنٹے کی بارش میں مین بلیوارڈ، جیل روڈ، گلبرگ اور شاہدرہ جیسے علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ اوکاڑہ میں نکاسی آب کی صورتحال تو اس سے بھی ابتر ہے۔ نالوں کی صفائی سالہا سال نہیں ہوتی، نکاسی آب کا کوئی جامع نظام موجود نہیں، اور شہر کی غیر منصوبہ بند توسیع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس ساری بدانتظامی کی سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیاں اور اقربا پروری ہے، جس نے ادارہ جاتی میرٹ اور استعداد کار کو دفن کر دیا ہے۔

    پنجاب میں نکاسی آب کی ذمہ داری محکمہ بلدیات، واسا، محکمہ آبپاشی اور مقامی حکومتوں کے کندھوں پر ہے، مگر یہ ادارے اس وقت تک حرکت میں نہیں آتے جب تک کسی شہری کی ویڈیو وائرل نہ ہو جائے یا وزیر اعلیٰ بذات خود سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ فنڈز ہر سال جاری ہوتے ہیں مگر زیادہ تر کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں، یا کام ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اوکاڑہ شہر کے علاقے صمد پورہ، صدیق نگر، جنوبی اوکاڑہ، سٹی نالہ، غلہ منڈی اور گول چکر میں ہر سال بارش کے ساتھ نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر فیل ہو جاتا ہے۔ شہری مجبوراً خود موٹریں لگا کر پانی نکالتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے صرف تصاویر بنوا کر سوشل میڈیا پر رپورٹ مکمل کر لیتے ہیں۔ اس سے بڑی ادارہ جاتی بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے؟

    ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں اربن فلڈنگ کی اصل وجوہات ناقص انفراسٹرکچر، نالوں پر تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، اور قبل از وقت صفائی کے انتظامات کی کمی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بارش سے پہلے صفائی، ڈرینج اور پانی کے ذخیرے کے سسٹمز پر کام کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں صرف دعوے اور بیانات دیے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، اسے کاشتکاری یا شہری استعمال کے لیے محفوظ بنانے کے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اگر ہم منصوبہ بندی سے کام لیں تو یہی پانی، جو آج زحمت ہے، کل رحمت بن سکتا ہے۔ اس پانی کو اسٹور کر کے ہم نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے اور زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

    یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ کرپشن کی جڑیں صرف نچلی سطح تک محدود نہیں بلکہ آڈٹ کے وہ ادارے بھی اس میں ملوث ہیں جو احتساب کے نگہبان ہونے چاہیے تھے۔ اگر یہی ادارے خود کرپٹ ہو جائیں تو پھر کسی ماسٹر پلان، کسی فنڈ، کسی منصوبے کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہتی۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے انہیں اداروں کا قبلہ درست کرنا ہوگا، ورنہ سال بہ سال بارشیں آتی رہیں گی، شہر ڈوبتے رہیں گے، عوام روتے رہیں گے، اور ماسٹر پلان صرف فائلوں کی زینت بنے رہیں گے۔

  • حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    حوثیوں کا بحری جنگ میں نیا حملہ: جنگ بندی مذاکرات مشکل میں،تحریر ، ناصر اسماعیل

    صنعاء/غزہ: یمنی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے تجارت کرنے والے ایک اور تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف جنگ بندی کے مذاکرات میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

    بحری راستوں پر حوثیوں کا کنٹرول
    حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق:
    – "ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ اسرائیل کو سپورٹ کرنے والا کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں ہوگا”
    – گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں یونانی پرچم والے جہاز "ٹیوٹر” کو نشانہ بنایا گیا
    – جہاز میں موجود 25 ملاحوں میں سے صرف 6 کو بحفاظت نکالا جا سکا

    غزہ: جنگ کے ایک اور خونریز دن
    مقامی ذرائع کے مطابق:
    – رفح کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں 23 شہری ہلاک
    – متاثرین میں 8 بچے اور 5 خواتین شامل
    – مقامی ہسپتالوں میں زخمیوں کا انبار، طبی سہولیات ناکافی

    مذاکرات کا اہم موڑ
    قطر میں جاری مذاکرات کے بارے میں خصوصی ذرائع کا کہنا ہے:
    – "نطزاریم کوریڈور” پر تنازعہ سب سے بڑی رکاوٹ
    – حماس کا اصرار: اسرائیلی فوجی مکمل انخلا کریں
    – اسرائیلی موقف: سلامتی کے لیے راستہ پر کنٹرول ضروری

    علاقائی ردعمل
    – ترکی: زبانی مذمت کے باوجود اسرائیل سے تجارت جاری
    – آذربائیجان: تیل کی ترسیل کے بدلے جدید اسلحہ حاصل کر رہا
    – ایران: حوثیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے

    انسانی حقوق کی پامالی
    اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا دعویٰ:
    – "غزہ میں انسانی المیہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے”
    – "امریکی پابندیاں حقائق کو چھپانے کی کوشش”

    اختتامیہ:
    صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف بحیرہ احمر میں بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوں گے، بلکہ غزہ میں انسانی المیے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

  • اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    اولاد، محبت کا رشتہ یا ذمہ داریوں کا بوجھ؟ تحریر :صدف ابرار

    ہمارا معاشرہ خود کو خاندانی نظام کا محافظ کہتا ہے، لیکن اس خاندانی نظام میں اکثر والدین اپنی اولاد کو محض ایک سہارا، ایک ضمانت یا ایک سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ کہ ’’ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اس لیے تم پر ہمارا حق ہے‘‘ ایک زنجیر بن کر رہ گئی ہے جو نسل در نسل بچوں کو غلامی میں جکڑے رکھتی ہے۔

    اکثر والدین بچوں کو تعلیم بھی اس نیت سے دلاتے ہیں کہ کل کو یہی اولاد ان کی بڑھاپے کی لاٹھی ہو، ان کی محرومیوں کا مداوا کرے اور ان کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے۔ بچہ ہو یا بچی — کوئی اس بوجھ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کے خواب کچلے جائیں، اس کی خواہشات روندی جائیں، یا وہ ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتا رہے — اس پر فرض ہے کہ وہ والدین کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی قیمت اپنی صحت، اپنی زندگی اور اپنی آزادی سے چکاتا رہے۔

    اس ظلم کو ’’والدین کا حق‘‘ کہہ کر جسٹیفائی کیا جاتا ہے۔ وہ والدین جو خود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگ جاتے ہیں، وہی اپنے بچوں کی قربانیوں کو اپنا حق سمجھ کر بے حسی سے تماشہ دیکھتے ہیں۔ بچے دل پر پتھر رکھ کر اپنی خوشیاں دفن کر دیتے ہیں، مگر والدین کی بھوک پھر بھی نہیں مٹتی۔

    سوال یہ ہے کہ اگر اولاد ہمارے سہارے کی ضرورت ہے تو کیا ہمیں ان پر بوجھ ڈالنے کا حق ہے؟ کیا ان کی تعلیم، ان کی محنت اور ان کا کمال صرف اس لیے ہے کہ وہ والدین کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھائیں؟ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک شخص کی پوری زندگی اس امید میں گزر جائے کہ شاید ایک دن وہ اپنی ذات کے لیے بھی جی سکے مگر وہ دن کبھی نہ آئے؟

    ہمیں ماننا ہوگا کہ اولاد پر حق محبت، تربیت اور رہنمائی کا ہے — غلامی کا نہیں۔ اولاد کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے۔ ان کی تعلیم ان کا حق ہے، اس پر والدین کی خدمت کے نام پر قبضہ نہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اگر ہم نے زندگی دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی زندگی کو اپنی خود غرضی سے برباد کر دیں۔

    اگر ہم واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں محبت دینی ہوگی بوجھ نہیں۔ انہیں سہارا دینا ہوگا . سہارے کے نام پر ان کے کندھے توڑنے نہیں۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر آگے منتقل کرتی رہیں گی، اور یہ درد کبھی ختم نہیں ہوگا۔

  • حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے

    حکومتی تکبر اور پاکستانیوں کے اٹھتے جنازے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں مہنگائی، چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بھاری بجلی کے بل عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا حالیہ بیان عوامی غصے میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں بجلی اس لیے مہنگی ہے کیونکہ اس کا استعمال کم ہے اور جب تک استعمال نہیں بڑھے گا، نرخوں میں کمی ممکن نہیں۔ یہ بیان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیونکہ بجلی ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ایسی منطق عام آدمی کی بے بسی کا مذاق اڑاتی ہے۔

    اویس لغاری ناقص پالیسیوں اور غیر ذمہ دار بیانات کی وجہ سے عوامی نفرت کا محور بن چکے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب انہیں بجلی کے بڑھتے نرخوں اور سلیب سسٹم کے جال میں الجھا دیا گیا ہے۔ موجودہ بل عوام کی قوتِ برداشت سے باہر ہو چکے ہیں اور لوگ متبادل توانائی ذرائع جیسے سولر پینلز کی طرف مجبوراً رجوع کر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مسلسل نرخوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ محسوس ہوتا ہے۔

    چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی حکومت کی پالیسیوں میں تضاد کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت چینی کی قیمت 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جو رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں 7.57 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمدات کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا۔ اب حکومت چینی درآمد کرنے جا رہی ہے، جس پر 55 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہوگی اور اس سے چینی کی قیمت 245 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ عوام کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور کر کے شوگر مافیا کو ایک بار پھر اربوں روپے کا نفع کمانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس پوری صورتحال کو "چینی سکینڈل” اور "قانونی کرپشن” قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ پالیسیاں کسی عوامی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور گروہوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ وزارتِ منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی خاموشی اور حکومتی مشینری کی بےحسی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ ایلیٹ طبقہ شوگر مافیا کے سامنے بےبس ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ چھوٹے کاروبار بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو چکے ہیں اور ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں، جس سے بیروزگاری میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اویس لغاری کا دعویٰ کہ بجلی کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ اس کا استعمال کم ہے، عام شہری کے لیے ایک بے ربط اور غیر سنجیدہ جواز ہے۔ جب ماہانہ بجلی کے بل 10 سے 20 ہزار روپے تک جا پہنچیں تو کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے انہیں ادا کرنا کسی سزا سے کم نہیں۔

    نیپرا کی طرف سے کی گئی معمولی کمی جیسے 99 پیسے فی یونٹ، اس شدید مہنگائی کے سامنے بے اثر دکھائی دیتی ہے۔ عوام اب خود کو بچانے کے لیے سولر پینلز کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ریاستی ادارے اب ان کے مالی مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں۔ یہ وہ فضا ہے جس میں اعتماد کا رشتہ ریاست اور شہری کے درمیان ٹوٹنے لگتا ہے۔

    مہنگائی کا یہ طوفان صرف چینی اور بجلی تک محدود نہیں رہا۔ آٹا، دالیں، کوکنگ آئل، سبزی اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ سکھر میں آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھا دیے ہیں، جس سے ہر شے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    2025-26 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو صرف 10 فیصد اضافہ دیا گیا لیکن جب مہنگائی کی شرح 12 سے 15 فیصد سے زائد ہو تو یہ اضافہ دکھاوا معلوم ہوتا ہے۔ نتیجتاً متوسط اور نچلے طبقے نے تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پر خرچ کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بجٹ میں دیہاڑی دار مزدور کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے جو پہلے ہی بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہے، جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے، جو بچوں کا علاج نہیں کرا سکتا۔ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور مزدور کے بچوں کو علاج کے بجائے موت کی نیند سلایا جا رہا ہے، جس کی تازہ مثال پاکپتن کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ ماہ ہونے والی بچوں کی 20 ہلاکتیں ہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ کچھ بھی ہو مگر غریب کے بچے تو مر گئے اور سوال یہ ہے کہ ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟

    سوشل میڈیا عوامی غم و غصے کا آئینہ بن چکا ہے۔ روزانہ درجنوں پوسٹس میں یہ شکوہ دہرایا جا رہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر مافیاز کے کنٹرول میں آ چکی ہے اور غریب آدمی کے لیے اس ملک میں جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

    یہی بے بسی، یہی ناانصافی اور یہی مسلسل معاشی دباؤ وہ بنیادیں ہیں جو عوامی بےچینی کو تحریک میں بدلتی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان، ناقص منصوبہ بندی اور طاقتور طبقات کی خوشنودی پر مبنی فیصلے عوام کے صبر کو آزماتے جا رہے ہیں۔ چینی کی برآمدات کے بعد مہنگی درآمد، بجلی کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور اویس لغاری جیسے وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ، یہ سب مل کر اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    اب ہر پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات انگاروں کی طرح دہک رہے ہیں کہ غریب کے بچوں کے لیے سکولوں کے دروازے کیوں بند کر دیے گئے؟ کیا تعلیم اب صرف امیروں کی میراث بن چکی ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں مزدوروں اور عام شہریوں کے بچوں کو "علاج” کے نام پر موت کیوں دی جا رہی ہے؟ بجلی کے سلیب گرد بلوں میں جکڑے لوگ کب تک خودکشیاں کرتے رہیں گے؟ مہنگی چینی، آٹا، دال اور ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے کب تک زندہ دفن کیے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہر مہینے کے اختتام پر گھروں سے مہنگائی کا مارا جنازہ نکلے گا؟

    یہ سوالات صرف احتجاجی بینروں یا سوشل میڈیا پوسٹس کے نعرے نہیں ہیں بلکہ ایک مجبور قوم کی چیخیں اور اضطراب ہیں جو اپنے جینے کے حق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اور جب ایک قوم اپنے حقِ زندگی کے لیے سوال کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت اربابِ اختیار کے لیے فیصلہ کن گھڑی ہوتا ہے۔ اب تاریخ خاموش نہیں رہے گی،حکومتی بے حسی اور تکبر کی وجہ کتنے پاکستانیوں کےمزید جنازے اٹھیں گے؟،یہ سوالات کبھی نہ کبھی جواب مانگیں گے اور اگر اقتدار کے ایوانوں میں سننے والا کوئی نہ ہوا تو پھر عوام خود اپنے خون سے جواب لکھیں گے۔حکومتی ارباب اختیار کو اس وقت سے ڈرنا چاہیئے ،جب وہ کچھ کرناچاہیں گے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی اور آناََ فاناََ سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے گا.