Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لا زوال قربانیوں کی داستان حصہ دوم  تحریر  : راجہ ارشد

    لا زوال قربانیوں کی داستان حصہ دوم تحریر : راجہ ارشد

    ۔
    ہزاروں پھول سے چہرے جھلس کے خاک ہوئے
    بھری بہار میں اس طرح اپنا باغ جلا
    ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
    جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا

    جدوجہد آزادی کی قربانیوں کا سلسلی یہیں ختم نہی ہوجاتا بلکہ یہاں سے بھارتی سفاکیت کی اس داستان کا آغاز ہوتا ہے جہاں پہ انسانیت بھی شرمسار ہے ۔ جب پاکستان بنا تو مسلمانوں نے ہجرت کرنی شروع کی تو نہتے مسلمانوں کو گاجر ، مولی کی طرح کاٹا گیا ، ماوں ، بہنوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا ،بزرگوں نے کانپتے ہاتھوں سے جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھائیں ،ماؤں نے دودھ کیلیے بلکتے شیر خواروں کے گلے اپنے ہاتھوں سے گھونٹے دیئے تاکہ ان کی آواز سے ہمارے دوسرے مسافروں کی جان خطرہ نہ ہو بہنوں ،بیٹیوں نے عزتوں کی پامالی کے ڈر سے کنویں میں چھلانگیں لگا کر اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیا۔

    مال و دودلت ، زر ، زیور ،گھر بار عزتیں لٹائیں قافلوں نے جب سرزمیں پاکستان پر پہ پہنچے تو عجب منظر تھا ،آنکھوں سے اشک رواں تھے ،وطن کی مٹی کو چومتے جاتے اور ایک ہی بات کہتے جاتے

    پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ اللہ

    آج پاکستان کو بنے 74 سال بیت گئے لیکن قربانیوں کی یہ لا زوال داستاں آج بھی تازہ ہے اور ہر زبان پر ہے اس تحریر میں یہاں تک پہنچتے میرا قلم کئ بار رکا ،میرے اشک ہیں کہ روکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ میں بارہا یہ سوچنے پہ مجبور ہوا کہ کیا ہم اس آزادی کا حق نبھا رہے ہیں ؟
    کیا جس مقصد کے لیے یہ مملکت خداد حاصل کیا گیا ہم اس مقصد میں عمل کر رہے ہیں؟

    ہم آج آزادی مبارک تو کہتے ہیں لیکن شاید اس کے مفہوم کو نہیں پہچانتے ،ہم گاڑیوں پہ پاکستانی جھنڈا تو لگاتے ہیں لیکن اسی گاڈی میں گانا انڈیا کا سون رہے ہوتے ہیں . ہمارے لیے پاکستان کی بنی چیزیں گھٹیاں اور غیر میعاری کیوں ہیں ؟
    وہ بھارت جس نے ہمارے نہتے مسلمانوں کو قتل کیا ہمارے کچھ حکمران انہیں سے دوستانے نبھاتے نظر آتے ہیں ۔
    ہمیں یہ سمجھنے کی اشاعت ضرورت ہے کہ پاکستان صرف زمیں کا اک ٹکڑا نہیں اک نام نہیں بلکہ پاکستان دو قومی نظریہ کی سر خروئ کا نام ہے ۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان تو اک گوشہ عافیت کا نام ہے
    پاکستان کاہر زرہ اسلامی روائتوں کا آمین ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جسکا عشق ہمارے لہوں میں شامل ہے۔

    وطن سے محبت تو ایمان ہوتی ہے یہ ملک ہمارے آباو اجداد کی وفائ کا صلہ ہے ۔اسے ہم نے ہی سنوارنا ہے
    اس کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ملجل کر کام کرنا ہے۔جب ہم ملکر صدق دل سے کوشش کریں گے تو پھر بنے گا ایک خوشحال پاکستان۔

    آخر میں علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بڑا یاد آ رہا ہے۔کہ

    یہاں جو پھول کھِلے، وہ کھِلا رہے صدیوں
    یہاں خِزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

    خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لئے
    حیات جُرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو​

    @RajaArshad56

  • شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    یہ سوال ہر سمجھدار شخص کے گمان کو متاثر کرتا ہو گا. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رب العالمین کے قرآن سے جو اسباق اور رمضان کی برکتیں اور انعامات کا جہاں زکر کیا گیا وہیں یہ انعام بھی دیا گیا کہ انسان کو برائی میں مبتلا کرنے والا اس کا سب سے بڑا دشمن جو کہ شیطان ہے کو رمضان جکڑ دیا جاتا ہے اس کے باوجود انسان گناہ سے کیوں بچ نہیں پاتا؟
    دراصل وجہ یہ ہے کہ جب انسان طلب جنون کے درجے کو عبور کرتے اور بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی نظر میں حال و حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اور یہ کام انسان کے اندر موجود اسکا نفس کرتا ہے وہ شیطان کی ہدایات پر عمل کر کے اس کام کو بخوبی انجام دیتا ہے
    طریقہ واردات یہ ہے کہ جب
    انسان کسی چیز کو حاصل کرنے کی طلب رکھتا ہے اور وہ طلب کی حد اور طلب کے درجے تک رہتی ہے تب تک معاملات ٹھیک رہتے ہیں۔ پھر شیطان اپنا کام دکھاتا ہے اور انسان کے نفس کو بہکاتا ہے جس سے اس کی سوچ میں حسد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے اور وہ اس کی طلب کی اس حد کو نیا رنگ دینے لگتی ہے۔ بربادی کا سفر تب شروع ہو جاتا ہے اور انسان اچھائی کا راستہ بھولنے لگتا ہے اور طلب کے ہر ممکن حصول کے لیے شیطانی سمجھاے گئے راستوں سے اپنےحسد کی آگ بجھانے میں لگ جاتا ہے اور طلب کی تکمیل کے لئے ہر اچھا برا عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ جب حسد کی آگ مزید عروج پکڑتی ہے تو نفس اسی طلب کو ہوس میں بدل دیتا ہے اور اسطرح انسان الله کی رحمت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اور شیطان کی مسلسل دی جانے والی وسوسوں پر عمل کرتے کرتے جھوٹ، دھوکہ دہی، حق تلفی، ظلم، زیادتی، ملاوٹ جیسی بے پناہ لعنتوں کو اپناتے ہوئے خون ریزی تک کرنے سے گریز نہیں کرتا. اس وجہ سے رمضان میں شیطان تو جکڑا ہوتا ہے لیکن انسان کے اندر موجود شیطان کا تربیت کردہ نفس انسان کے اندر رہتے ہوئے شیطان کے بتائے ہوئے طریقوں وسوسوں اور تدبیروں پر عمل احسن طریقے سے جاری رکھتا ہے۔ زرہ سوچئے غلطی کس جگہ ہوئی؟ انسان اللہ کہ رحمت سے دور کب اور کیسے ہو گیا؟
    جب شیطان نے انسان کی جائز خواہش اور ضرورت کی طلب میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً اب شیطان کی غیر موجودگی میں بھی انسان گناہ میں مبتلا ہے۔ شیطان انسان کی طلب بڑھاتے بڑھاتے اسے ہوس کے درجے تک لے آیا اور انسان نے اپنے نفس کو شیطان کے رحم کرم پر چھوڑے رکھا. خدارا شیطان کی پہلی چال کو سمجھیں اور اسے ناکام بنائیں اپنے نفس کو شیطان کے چنگل میں پھنسنے سے بچائیں.
    اس کے بہت سے طریقے اور بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں جن میں الله کی راہ میں خرچ کرنا اول درجہ کی نیکیوں میں سے نیکی ہے۔ جب انسان اپنی طلب پر کسی کی ضرورت کو فوقیت دیتا ہے تو انسان کی طلب میں کمی آتی ہے اور سخاوت کا پہلو عروج پر آتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو بخیل اور کنجوس ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ دولت طاقت شہرت اور ہوس جیسے نشے کو حاوی ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ اور یہ اعمال الله کریم کے پسندیدہ کاموں میں سے ہیں۔ اللہ کی زات بہت کریم ہے اور اپنی مخلوق کے ساتھ احساس والا معاملہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔ دوسروں کے احساس کرنے والا یہ عمل شیطان اور نفس کے خلاف بھرپور جہاد کا کام کرتا ہے۔ جس سے انسان اللہ کی رحمت کے حصار میں رہتا ہے۔
    خدارا شیطانی کاموں اور تدبیروں سے اجتناب کریں اپنی طلب کو ہوس بننے سے بچائیں یہی کامیابی کی کنجی ہے

    @EngrMuddsairH

  • حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    **

    عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔

    ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔

    اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔

    پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔

    اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.

    بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔

    اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔

    آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔

    @SeharSulehri

  • وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیز اعظم پاکستان کا خواب ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد

    جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تمام لیڈران اور ان کی پارٹی کسی کے منشور میں بھی ریاست مدینہ کا زکر نہیں کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم جناب عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے وہ اپنے ہر خطاب انٹرویو میں ہر جگہ ریاست مدینہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں ریاست مدینہ ہے کیا ہمارے آقا دوجہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانیت کی 23سالہ قلیل ترین مدت میں جو عظیم الشان انقلاب برپا کیا وہ اپنی نوعیت ، کیفیت، جدوجہد اور نتائج کے اعتبار سے اتنا حیران کن ہے کہ اس کی نظیر اقوام عالم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ جب ہم ریاست مدینہ کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ معاشرہ جس میں خدا ترسی، ہمدردی، اخوت، مساوات، بھائی چارہ آخرت پر ایمان کی جواب دہی، نیکی اور خیرخواہی کا جزبہ پیدا ہو جائیں۔ ظالم اور جابر حکام کی بجائے خدا ترس اور نیک سچا ایماندار محب وطن اور اپنے لوگوں سے پیار کرنے والا حاکم میسر آجائے اور جانب غریب کے لئے ایک قانون اور غریب کے لئے علیحدہ قانون نہ ہو بلکہ انسانیت کے لئے انصاف پر مبنی غیر جانب دار قوانین کا رائج ہو تو پھر اسی راستہ پر چلنے کو حقیقی طور پر ریاست مدینہ کے نقشہ قدم پر چلنا کہا جا سکتا ہے جہاں تک ہمارے معاشرہ کی بات کی جاۓ تو زرا ہمیں خود کا بھی جائزہ لینا ہوگا
    ہمارے کچھ لوگ ریاست مدینہ کی بات پر وزیز اعظم پر تنز کے نشتر بھی برساتے ہیں اگر ہم بحیثیت قوم اپنی بات کریں تو رشوت ،ملاوٹ ،ظلم وجبر ،زنا ،بے حیائی جھوٹ اور منافقت ،ناپ تول میں کمی ،والدین سے گستاخی کے عوامل ہم سب میں عام پاۓ جاتے ہیں لیکن وزیز اعظم سے ہم ریاست مدینہ کی امید لگاۓ بیٹھے ہیں کیا ہمارے یہ جو عمال اوپر بتاۓ ہیں جن کو ہم سر عام کرتے نظر آتے ہیں اپنے ان عوامل کے ساتھ چپکے کریں اور خود کو نہ بدلیں تو کسی بھی حکمران کی موجودگی اور ریاستی قوانین کی موجودگی میں ریاست مدینہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ۔۔؟تو اسکا جواب ہے بلکل بھی نہیں ریاست مدینہ کے لئے جہاں حکمران کی سوچ ریاست مدینہ والی ہونی چاہئے وہاں پر ہمیں ایک قوم کی حثیت سے بھی خوداپنی سوچ اور اپنے عمل بدلنے ہوں ہماری سوچ ریاست مدینہ کے لئے کیسی ہونی چائیے وہ ان شاءاللہ نیکسٹ پارٹ میں اس کا زکر کریں گے
    اللہ پاک ہم سب کو ریاست مدینہ کو صیح سمجھنے اور ریاست مدینہ کی سوچ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ
    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • کرونا وبا اور معاشی جنگ  تحریر  : راجہ حشام صادق

    کرونا وبا اور معاشی جنگ تحریر : راجہ حشام صادق

    اس وقت پوری دنیا میں کرفیو کی طرح کا ماحول ہے دنیا کو اس وقت ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے لیے کسی ملک نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی تھی۔اس جنگ کا آغاز تو چین سے ہوا مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس نے ساری دنیا کو لپیٹ میں لیا وہ ایک وبا ہے جس کا نام ہے کرونا۔

    کرونا کے بعد جو شروع ہوتی ہے اس کا نام ہے معاشی جنگ دنیا بہترین ہتھیاروں کی تیاری اور مقابلے کی دوڑ میں یہ بھول چکی تھی کہ ایک اورجنگ بھی شروع ہونے جا رہی ہے جس جنگ کی نوعیت بہت خطرناک ہو گی اور آج اس جنگ کا سامنا دنیا کا ہر امیر اور کمزور ملک کر رہا ہے۔ کرونا وبا کے آنے کے بعد سے اس جنگ کا آغاز ہو وہ جنگ معاشی جنگ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج امیر ممالک خوفزدہ ہیں ان کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے لوگ بھوک اور غربت سے مر ہی نہ جائیں ۔خود کو سپرپاور سمجھنے والے ایک ایسے بحران کا شکار ہو گے کہ ان کے بنائے گئے جدید میزائل اور اسلحہ بھوک ختم کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔

    قارئین ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری کہ اللہ تعالٰی کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔جو لوگ اسلحہ اور پٹرول کو اپنی طاقت سمجھتے تھے جن کے پاس پٹرول کے ذخائر تھے۔ کیا ہوا ان ممالک کی معیشت کیوں دن با دن نیچے آتی جا رہی ہے۔اب بھی وقت ہے اجتماعی تور پر توبہ کا۔کشمیر اور فلسطین کے مسلمان جس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اللہ پاک نے ایک ہی جھٹکے میں پوری دنیا کو بتا دیا کہ کرفیو اور لاک ڈون میں کیا ہوتا ہے ۔ سچ ہی کہتے ہیں جب خود پے بنے تو احساس تب ہی ہوتا ہے۔ لیکن شاید ابھی تک دنیا خو سمجھ نہیں آئی ابھی تو چوتھی لہر آئی ہے خدانخواستہ اگر اسی طرح پانچویں، اور پھر چل سو چل چلتا رہا تو پوری دنیا تو ویسے ہی ختم ہو جانی ہے۔

    دنیا کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہو گی لیکن کھانے کے لئے بھیک مانگے پر بھی کوئی ایک لقمہ نہ دے سکے گا ہر طرف بھوک ہو گی اس بھوک کو ختم کرنے کے لئے تم جنگ کرنا بھی چاہو گے تو بھی ناکامی ہو گے۔ آج تک اس جنگ سے لڑنے کا کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا دنیا میں ابھرتی بہترین معاشی طاقتیں بھی مفلوج ہو چکی ہیں یاد رکھیں اس جنگ میں صرف چند ممالک تباہ نہیں ہوں گے دنیا کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگ ہو گی ۔

    اس جنگ کے بعد شاید آنے والی نسلیں ہم سے زیادہ خوشحال ہوں ان کے لئے ایٹم سے زیادہ ضروری اپنی عوام کی بھوک اور غربت ختم کرنا ضروری ہو گا۔ اس دنیا نے جتنی سرمایہ کاری اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کی ہے یہی غربت کے خاتمے کے لئے کرتی تو ایسے وقت کا مقابلہ بہتر طرح سے کر سکتے تھے۔ ایک وبا نے آج پوری دنیا کو گھروں کے اندر محصور کر کے رکھ دیا ہے ۔

    دعا ہے یا رب العالمین ہم سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھنا ۔اور ہمارے مضلوم کشمیری اور فلسطینی بہین بھائیوں کی مدد فرمانا ۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹوکیو اولمپکس :دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا کینیڈین فٹبالر نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ بنا دی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹوکیو اولمپکس میں گزشتہ روز خواتین کا فائنل فٹبال میچ سویڈن اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں خواجہ سرا کوئین نے گول کر کے اپنے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا اور تاریخ رقم کر دی۔

    رپورٹس کے مطابق خواتین کا فٹبال میچ کینیڈا اور سوئیڈن کے درمیان برابر ہو گیا تھا تاہم میچ کا فیصلہ پینلتی ککس پر ہوا اور خواجہ سرا کوئین نے گول کر کے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    خیال رہے کہ 25 سالہ کینیڈین خواجہ سرا فٹبالر کوئین نے 2014 میں کینیڈین ٹیم میں ڈیبیو کیا تھا اور 2016 کے ریو گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا تاہم گزشتہ سال خواجہ سرا کے طور پر سامنے آئے-

    دوسری جانب آج پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے یولین تھرو کے مقابلے میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کا بھارت کے تھرور نیرج چوپڑا کے ساتھ سخت مقابلہ متوقع ہے جیولین تھرو(نیزہ بازی) کے فائنل مقابلے آج پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے شروع ہوں گے۔

  • ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ناسا کا نیا مشن سائیکی نامی سیارچےکی سطح کا جائزہ لےگا یہ سیارچہ ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کی دھاتوں سے بنا ہوا ہے۔ناسا کا مشن 2026 تک اس سیارچے پر لینڈ کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کےمطابق 120 میل چوڑاچٹان کا یہ ٹکڑا مشتری اور مریخ کے درمیان سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ماہرین کےمطابق اس سیارچے کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہے،اس مشن میں مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم نےدرجہ حرارت کا ایک نیا نقشہ بنایا ہے-

    ماہرین نے نہایت طاقتور دوربینوں سے سیارچے کی سطح جائزہ لیا ہے ماہرین اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ سیارچے میں ایک دھاتی سطح ہے جو کم از کم 30 فیصد دھات سے بنی ہے-

    ناسا کے مطابق دیگر پتھریلی یا برفیلی سطحوں کے برعکس ، اس سیارچے کی سطح کے زیادہ تر آئرن اور نکل سے بنے ہونے کا شبہ ہے، ان دھاتوں کی قیمت کئی کواڈریلین ڈالرہوسکتی ہے-

    ماہرین کے مطابق اگر یہ سیارچہ انسانوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو اس کی دھاتوں سے ہر کوئی ارب پتی ہو جائے گا اور یوں دنیا کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

  • کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    کے پی ایل کا دوسرا میچ آج کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان کھیلا جا رہا ہے میچ میں کوٹلی لائنز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے افتتاحی میچ میں کرکٹر شاہد آفریدی کی قیادت میں راولا کوٹ ہاکس نے میرپور رائلز کو 43 رنز سے شکست دے دی تھی راولاکوٹ ہاکس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے۔

    احمد شہزاد 69، بسم اللہ خان 59 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ میرپور رائلز کے عماد بٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں راولا کوٹ ہاکس کے بسم اللہ خان کو میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔

    195 رنز کے ہدف کے تعاقب میں میرپور رائلز مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز ہی بنا سکی، میرپور رائلز کی جانب سے شعیب ملک 74 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، جس کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے ایونٹ کی رنگارنگ تقریب میں پیراگلائیڈنگ کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ ،افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل

  • اولیاء کی شان دوسری قسط تحریر یاسمین ارشد

    اولیاء کی شان دوسری قسط تحریر یاسمین ارشد

    اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا چار قسم کے بندے ایسے ہیں جن کو میں اللہ نے اپنا بنا لیا ان لوگوں نے مجھے اپنا بنایا اللہ پاک نے فرمایا ایک نبیوں پیغمبروں کا طبقہ ہے دوسرا صدیقین سچے لوگوں کا طبقہ تیسرا صالحین نیک بزرگ لوگوں کا طبقہ۔ اور چوتھا شہداء کا طبقہ۔ نبی کا تو سمجھ آتا ہے اللہ پاک نے اپنے پیغمبروں کو نبوت کا تاج پہنایا اس کی نبوت کے اندر اس کی عظمت کے اندر اس کے رافعت کے اندر اس کے مقام اور مرتبے کہ اندر کوئی فرق نہیں یہ صدیقین کون ہے صالحین کون ہے شہداء کون ہے یہ تینوں اولیاء کرام کے طبقات ہیں جن کو اللہ پاک نے اپنا بنایا اور انہیں طبقات نے اللہ پاک کی ذات کو اپنا بنایا ولی پہلے ولی بنتا ہے اللہ اس کو صداقت کا تاج پہناتا ہے اور ان کو انعام اور اکرام کے اندر شہادت کا تمغا دینا ہوتا ہے اس کے احترام اور اکرام کے اللہ پاک نے ولیوں کی شان بنائی ہے ولیوں کی شان حق ہے ولی کی کرامت حق ہے لیکن شرط یہ ہے سچا ولی ہونا چاہیے ہم لوگوں کے کہنے کا ولی نہ ہو ولی وہ ہوتا ہے جن کو اللہ پاک ولی کہتا ہے سچے ولی کے پاوں کی خاک ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے جو سچا ولی نہیں وہ ہماری عزتوں کا ڈکیٹ ہے اگر سچا نہیں تو اس کے اندر غیرت نہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ کی راہ دکھاتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ توحید بیان کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ لوگوں کی مار برداشت کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں بے پردہ عورت کو باپردہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ گمراہ لوگوں کو نور اور روشنی کی طرف لے کے آتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں لوگوں کو موسیقی گانے بجانے سے نجات دلاتے ہیں اللہ کے قرآن کی شان بیان کرتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں امت کو جہنم کی آگ سے بچاتے ہیں اور جنت کا وارث بناتے ہیں جو سچے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ تعالی کا راستہ اللہ تعالی کی وحدنیت اور توحید تے پہچان سے مارفعت کرتے ہیں اگر سچے ولی نہ ہوتے تو شاید زمین کب سے تباہ ہو گئی ہوتی قیامت قائم ہونے تک اللہ اللہ کرنے والی دنیا وہ انسانیت جن کے اندر اللہ کی محبت وابستہ ہے جن کو اولیاء کرام کہتے ہیں وہ زندہ حیات ہیں یہ ولی تو ہیں جن کی وجہ سے اللہ پاک ہمارے اوپر رحم اور کرم فرمایا ہوا ہے آج کل کے دور میں جس کو پاکی پلیتی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ہم اس کو ولی کہنا شروع کر دیتے ہیں حلال حرام کی سمجھ نہیں ہے ہم ان کو گھر کا گھریلو خاندانی پیر بنایا ہوا ہے جس کو ماں بہن بیٹی کی عزت کا پتہ نہیں اس کو ہم نے اپنے سر کا تاج بنایا ہوا ہے وہ تمہاری منتیں کھائے وہ تمہارے گھر پر دم کرے وہ بیماریاں دور گرے گا واہ مسلمانوں کون سے راستے پر چل پڑے ہو اگر کوئی سچا مولوی ان کے خلاف بات کرے تو ہم کہتے ہیں تم گستاخ ہو۔ مسلمانوں اپنے گھر میں کسی سچے ولی کو لے آئیں جس کے چہرے کو دیکھیں تو قرآن کی تصویر نظر آئے جس کے چلنے کو دیکھیں تو اللہ کا قرآن نظر آئے جس کے بات کرنے سے قرآن مجید کی خوشبو آئے جو صداقت کا بادشاہ ہو جس کے اندر عدالت بہت ہو جس کے اندر ایمان چلکتا ہو جس کی آنکھ میں حیا موجود ہو جس کی زندگی میں توحید وسنت کی لکیریں موجود ہو ولی لے کے آؤ اللہ فرماتا ہے ولی کی ولایت کرامت حق ہے یہ میرا عقیدہ ہے جیسے اللہ پاک کا قرآن برحق ایسے ہی ولی کی کرامت اور ولایت حق ہے جس کو داڑھی اور موچھ کی پرواہ نہیں ان کو ہم نے ولی بنایا ہوا ہے مسلمانو جس ٹائم تم نے اپنی بیوی بیٹیوں کو ان کے سامنے بٹھایا اس نے پردہ اٹھا کہ چہرہ دیکھا یہ کس چیز کا ولی ہے اگر اس نے اپنے گلے میں تسبیح پہن لی تو ہم اس کو ولی سمجھلیں کوئی کرنٹ شاہ بنا ہوا کوئی کوئی بنگالی بابا بنا ہوا ہے کوئی تھپڑ والا شاہ بنا ہوا ہے ان کو پاکی پلیتی کا بھی پتہ نہیں ہوتا اسے ہم نے ولی بنایا ہوا ہے؟ سچے ولی پتہ کیا کریں قرآن مجید سے اے اللہ کی کتاب قرآن تم نے کس کو ولی کہا ہے اللہ پاک نے ولیوں کی شان ولیوں کا احترام قرآن مجید میں تذکرہ کیا کون کہتا ہے ولی کی کرامت حق نہیں قرآن مجید کے بے شمار مقامات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے نیکسٹ قسط پبلش ہو گی ان شاءاللہ
    @IamYasminArshad
    IamYasminArshad

  • ذکر الہی ٰکی فضیلت تحریر: محمد آصف شفیق

    ذکر الہی ٰکی فضیلت تحریر: محمد آصف شفیق

    دین اسلام میں ذکر الٰہی کی بہت فضیلت ہے نبی مہربان ﷺ نے ہمیں ذکر الٰہی پر اللہ رب العالمین کی طرف سے بے شمار انعامات اور درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے نبی کریم ﷺ ذکرالٰہی کرنے والوں کے درجات جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ بتائے ہیں اور ذکر الٰہی کو گناہوں کو مٹانے والا کہا ہے نبی مہربان ﷺ کثرت کلام سے منع فرمایا ہے اور ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہنے کا حکم دیا ہے
    حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک (یعنی اللہ) کے نزدیک اچھا اور پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات میں سب سے بلند اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے تمہارے کفار کی گردنیں مارنے اور ان کے تمہاری گردنیں مارنے سے بھی افضل ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے عذاب سے بچانے والی ذکر الہی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1329
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ذکر الہی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ذکر ان پر سے گناہوں کے بوجھ اتار دیتا ہے۔ لہذا وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے ہو کر حاضر ہوں گے۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1553
    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نامہ اعمال لکھنے والوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین پر پھرتے ہیں، جب وہ کسی جماعت کو ذکر الہی میں مشغول دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ۔ چنانچہ وہ آتے ہیںاور انہیں دنیا کے آسمان تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ اللہ رب العالمین پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں آپ کی تعریف اور بزرگی بیان کرتے اور آپ کا ذکر کرتے چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ شدت سے تحمید وبزرگی بیان کرنے اور اس سے زیادہ شدت سے ذکر کرنے لگیں۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ عرض کرتے ہیں کہ تیری جنت کے طلبگار ہیں، اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں نہیں، اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ عرض کرتےہیں کہ اگر وہ دیکھ لیں تو اور زیادہ شدت سے حرص سے مانگنے لگیں۔ پھر اللہ پوچھتے ہیں کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں۔ عرض کرتے ہیں کہ دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے دوزخ دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ دوزخ دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ بھاگیں، زیادہ دوڑیں اور پہلے سے بھی زیادہ پناہ مانگیں۔جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1557

    حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں ، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 812
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ذکر الہی کے علاوہ کثرت کلام سے پرہیز کرو کیونکہ اس سے دل سخت ہو جاتا ہے اور سخت دل والا اللہ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے
    جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 305
    جو بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے رب کریم بھی اسے یاد کرتے ہیں قرآن کریم میں فرمان الہیٰ ہے
    فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ١٥٢؁ۧ
    لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا ، اور میرا شکر ادا کرو ، کفرانِ نعمت نہ کرو ۔ (سورۃ البقرہ 152)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو میرے متعلق وہ رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے جماعت میں یاد کرے تو میں بھی اسے جماعت میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہو تو میں ایک گز اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2303
    ہم اپنے رب کریم سے دعا گو ہیں کہ ہمیں کم گو اور حق گو بننے کی توفیق دیں اور ہم اپنے زیادہ وقت کو رب کریم کے ذکر میں گزار سکیں جو کہ کل یوم قیامت ہمارے کام آسکے ۔ آمین یا رب العالمین

    @mmasief