Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزادی کی قدر و قیمت تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    آزادی کی قدر و قیمت تحریر: عزیز الرحمٰن مغل

    میں یونیورسٹی میں دوستوں کی ساتھ کلاس میں پہچا تو تھوڑی دیر ہو گئی تھی کلاس کی بعد سی آر نے بتایا کہ یونیورسٹی کی طرف سے 14 اگست کے دن "جشن آزادی کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا ہے جس میں جس میں تمام شعبہ جات کے طلبا تقریری اور ملی نغموں پر ٹیبلو پیش کریں گے.
    مجھے اس طرح کے پروگرامز میں شرکت کرنے کی خاصی دلچسپی نہیں. ہاں البتہ دوستوں کی ہوصلہ افزائی کرنے ضرور جاتا ہوں. جس طرح تمام شعبہ جات نے اس پروگرام میں حصہ لیا وہیں ہماری کلاس میں بھی میرے کچھ دوستوں نے بھی ایک ملی نغمہ پر ٹیبلو بنایا.

    14اگست کا دن آیا میں صبح جلدی تیار ہوکر یونیورسٹی پہنچا چونکہ دوستوں نے اس ایونٹ میں حصہ لیا تھا تو وہ بھی جلد ہی پہنچ گئے. پروگرام میں تھوڑی دیر تھی. ہم نے سوچا کیونہ تھوڑی پریکٹس کرلیں. میں نے تو ٹیبلو میں حصہ لیا نہیں تھا تو میں ایک سائیڈ پر بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگا.

    ہمارے ٹیبلو میں دو لڑکیاں اور تیں لڑکے شامل تھے. اسپیکر پر ملی نغمہ چلایا گیا جو کہ مجھے ملی نغمہ کم اور گانا زیادہ لگ رہا تھا. لڑکوں نے پینٹ شرٹ اور لڑکیوں نے بھی کچھ اسی طرح کے کپڑے پہنے ہوئے تھے. جب ملی نغمہ چلا تو سب ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اٹھائے ڈانس کرنے لگے. یہ دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ یہ تو کوئی ملی نغمہ نہیں اور اس طرح آزادی کا جشن کون مناتا ہے؟

    میری بات سن کر وہ سب کہنے لگے آج کل جشن آزادی ایسے ہی مناتے ہیں.

    اتنی دیر میں اسٹیج سے آواز آئی کہ مہمان خصوصی آ چکے ہیں اور پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے. سو ہم پہچ گئے پروگرام ہال میں سب سے پہلے سب سے پہلے باری تقاریر کر والوں کی آئی جس میں مختلف طلباء نے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں. کسی نے ملکی سیاست پر تقریر کی تو کسی نے سیاست دانوں پر…. کسی نے ملکی مسائل پر تقریر کی اور کسی نے نظام تعلیم پر مگر افسوس ہے کسی نے ہمارے ان شہدا پر بات نہیں جو اس وطن عزیز کے آغوش میں دفن ہیں.

    اب باری ہماری یعنی ٹیبلو کرنے والوں کی آئی. ایک کے بعد ایک لڑکے لڑکیوں کے گروپس نے ملی نغموں پر ٹیبلو کیا. مجھےتو وہ ٹیبلو کم اور ڈانس زیادہ لگ رہا تھا. یہ ملک جو لاالہ الااللہ کی بنیاد پر بنا اسی کے ملی نغموں پر لڑکے اور لڑکیاں اپنا جسم دکھا کر ڈانس کررہی تھیں.

    پروگرام کے اختتام پر سبز ہلالی پرچم مجھے زمیں پر پڑے نظر آئے اور اس طرح آزادی کا جشن منایا گیا. کیا اسی طرح آزادی کا جشن منایا جاتا ہے؟

    ارے آزادی کا قدر تو ان سے پوچھیں جو آج بھی باڈر کے اس پار ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں.
    آزادی کی قدر و قیمت تو ان سے پوچھیں جنہوں نے کتنے ہی اپنے بچے شہید کروائے. کتنے ہی بچے یتیم ہوئے. آزادی کی قدر ہمارے اسلاف سے پوچھیں جن کی گردنیں تن سے جدا کرکے انہیں شہید کردیا گیا.
    کتنی ہی ماؤں بہنوں کی عزتوں کو پامال کر دیا گیا لاکھوں مسلمانوں نے اسلام کی سب سے بڑی ہجرت کی اور اس پاک سرزمین پر آکر سجدہ شکر ادا کیا.

    آزادی کی قدر ان سے پوچھیں.

    خون کے دریا پار کیے تب خاک وطن آنکھوں میں بسی
    سبز ہلالی پرچم جا کر تب اپنی پہچان ہوا

    آج تلک اس پار کے کہساروں کی ہوائیں پوچھتی ہیں
    کتنے آنچل تار ہوئے کس کس کا گھر سنسان ہوا

  • شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت قسط (1)  تحریر: محمد صابر مسعود

    شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت قسط (1) تحریر: محمد صابر مسعود

    ١٤٣٨ کیا آیا غضب ہو گیا، محرم سے شوال تک علماء کی ایک لمبی قطار رخصت ہوگئی، پہلے حضرت مولانا عبد الحق صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم دیو بند نے رخت سفر باندھا پھر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب، شیخ عبدالحفیظ مکی صاحب، حضرت مولانا ریاست علی بجنوری صاحب اور حضرت مولاناسلیم احمد غازی مظاہری جیسے ہند و پاک کے تقریبا ۲۹ چراغ یکے بعد دیگر ے گل ہوگئے اور "ختٰمه مسک” سال رواں نے جاتے جاتے پھر ایسا چیرا لگایا کہ پوری ہی امت تڑپ اٹھی، حضرت
    مولانامحمد یونس صاحب جونپوری شیخ الحدیث مظاہرعلوم ایک بلند مقام محدث تھے جنکی وفات کا غم عجم تو کیا عربوں کوبھی رلا گیا اور ایران و افریقہ تک اس سے متاثر نظر آئے، کچھ ایسی ہی صورتحال بیس سال قبل ١٤١٧ھ میں بھی پیش آئی تھی، جب شیخ عبد الفتاح ابو غدہ حلبی، مولانا محمد منظور نعمانی، مفتی محمود الحسن گنگوہی، مولانا انعام الحسن کاندھلوی اور شیخ بن باز جیسی عظیم المرتبت شخصیات نے ہمیں داغِ مفارقت دیا تھا، یوں تو علم و فضل کے جامع ایک عالم کی موت بھی پورے عالم کی موت ہے لیکن جب وہ پے در پے رخصت ہونے لگیں تو خاصانِ امت کا دل سہم جاتا ہے کہ کہیں یہی تو وہ دور نہیں جس کی بابت رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” یقبض العلم بقبض العلماء اوریذهب الصالحون الأول فالأول لقل الحلم”…

    حضرت مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کو علمی حلقوں میں امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا تھا وہ علم و فضل میں گزشتہ صدیوں کے علماء کی مثال تھے اور انہیں دیکھ کر امام نووی، ابن دقيق العيد، حافظ ابن حجر عسقلانی، ملاعلی قاری، شیخ علی متقی اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ علیھم اجمعین جیسے بلند مقام محدثین کی یاد آتی تھی ،راقم نے ان کی سب سے پہلی زیارت دیوبند میں کی جب کہ دارالعلوم دیوبند کا طالب علم تھا اور شیخ مرحوم کسی خصوصی مناسبت پر وہاں تشریف لائے تھے، انہیں دیکھتے ہی مدنی گیٹ پر طلبہ کی بھیڑ لگ گئی، ہر ایک ان سے مصافحہ کا خواہشمند تھا لیکن موصوف نے صحتی عوارض کی بناء پر گاڑی سے اترنا مناسب نہ سمجھا اور بیٹھے بیٹھے بڑی قیمتی نصائح فرمائیں، ان کا قد میانہ جسم سڈول، رنگ صاف، پیشانی تابناک، چہرہ روشن، دل خشیت الہی سے لبریز، آنکھیں اشکوں سے نہائ ہوئ، نگاہیں وقار و تمکنت سے معمور، خوبصورت آواز اور دھیمی دھیمی گفتگو ان کا سراپا واقعی
    متاثر کر دینے والا تھا، پھر خوش پوشاکی اور سفید رومال نے کشش میں مزید اضافہ کردیا تھا، بے ساختہ دل کے گوشے سے صدا آئی کہ

    اس شان عظمت پر کون نہ مر جائے اے خدا

    یہ تھی مرحوم سے پہلی ملاقات جس نے ان کی عقیدت و محبت میں مزید اضافہ کر دیا اور وقت کی رفتار کے ساتھ پھر یہ اتنی بڑھی کہ راقم نے بالقصد سفر کر کے ان سے کئی بار ملاقات کی اور اسے ہر مرتبہ ایک نئے سرور کا احساس ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوی جلال، حدیث کے مطابق بہت دور تک پہنچتا تھا اور دوسرے خطوں کے لوگ گھر بیٹھے اس کے اثرات محسوس کرتے تھے، شیخ مرحوم چونکہ حدیث کے شارح، سیرت کے ترجمان اور نبی کے سچے عاشق تھے اسلئے باری تعالیٰ نے انہیں خاتم الانبیاء کی یہ میراث بھی عطا کی تھی، چنانچہ جن واردین و صادرین کو مرحوم کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا وہ یقیناً اس بات کی گواہی دینگے کہ شیخ کی خدمت میں حاضری کے وقت واقعتاً دل دھڑکتا تھا، قدم لرزتے تھے اور بہت ہمت جٹانے کے بعد ہی ملاقات کا حوصلہ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    @sabirmasood_

  • وادی چنار ظلم و بربریت کی داستان تحریر حمزہ احمد صدیقی

    وادی چنار ظلم و بربریت کی داستان تحریر حمزہ احمد صدیقی

    انڈیا کے غیر قانونی قبضے،وادی چنار کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اہل کشمیر کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ وادی چنار کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ وادی چنار کی شناخت، سیاسی ، معاشی اور مذہبی حق چھین لیا گیا ہے۔

    دو سال قبل انڈین وزیراعظم مودی حکومت نے پانچ اگست کو وادی چنار کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔ وادی چنار کی آٸینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد وادی چنار میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا جو ایک غیر قانونی اقدام تھا

    وادی چنار میں غاصب بھارتی فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے اہل چنار کے باسیوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے ،سینکڑوں سے زیادہ نواجون کو شہید کردیا گیا، ماں بہنوں کی عزتوں کو پال کیا جارہا ہے، ساتھ ہی بزدل بھارتی فوج نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتی جارہی ہے، بچوں اور بزرگوں کو پیلٹ گنز
    اور آنسو گیس کی شیلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں بربریت کی انتہا کررکھی ہے سینکڑوں پابندیوں کے باعث وادی چنار کی عوام مشکلات ومصاٸب کا شکار ہیں وادی چنار لاک ڈاؤن پر لاک ڈاؤن کا شکار ہیں

    مودی سرکار کی حکومت نے کورونا واٸرس کی آڑ میں پابندیوں کو مزید سخت کردیا تھا اس وقت پوری وادی چنار وحشت و بربریت کی تصویر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر رکھی ہے،
    ہسپتال و کاروبار بند ہیں اور اسکول کالج ،یونيورسٹیاں بند ہیں کشمیری قائدین اور سیاسی رہمناٶں کو پابند سلاسل رکھا گیا ،کشمیریوں کا علاج معالجے کی سہولت بھی نہیں دی جارہی ہے وہاں ادویات اور خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ وادی چنار کے باسی بھارتی ظلم و ستم ہونے کے باوجود انکے حوصلے پست نہیں ہوٸے ہیں ،بلکہ حریت کو مزید تقویت ملی

    ہندوستان اندرونی خلفشار کا شکار ہوچکا ہے۔۔ ہندوستان نے وادی چنار پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائی ہیں وادی چنار کی عوام بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ہندوستانی افواج جس طرح وادی چنار کے نوجوانوں کو شہید کرتی جارہی ہے اور اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتی ہے یہ ظلم وستم کی انتہا ہے

    وادی چنار کے عوام کو ظلم و جبر آزماکر آزادی کے جنون و جذبے کو کچلنے کے گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں ہندوستانی فوج نے موباٸل اور انٹرنیٹ سروسز پر پابندی کے ذریعے وادی چنار کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی جارحانہ کوششیں وادی چنار کے لوگوں کو شکست نہیں دے سکتیں ، ہندوستان کے پاس اب آزمانے کے لیے کچھ نہیں بچا ہندوستان کے ہتھیار ہمارے کشمیری بہن او بھاٸیوں کے جسموں کو چھلنی کرتے رہے اور انکے حوصلوں کو بلند کرتے رہے ہیں

    ہندوستانی کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے اب وادی چنار کا مسئلہ ایک عالمی معاملہ بن چکا ہے وادی چنار دو ایٹمی ممالک کے درمیان سلگتی چنگاری ہے، بھارت کشمیر میں 73 سالوں سے ظلم و ستم کی انتہا کررہا ہے، عالمی برداری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ، وادی چنار کے عوام کو انصاف دلانے کےلئے کشمیر کا مسئلہ عالمی عدالت انصاف کو بھجوائے یہ وادی چنار کا حق خودارادیت کے حصول کی جنگ ہے اس لئے انسانی حقوق کے تمام کمیشنوں کو وادی چنار کے لوگوں کو انکا حق دینا چاہیے

    وادی چنار کی بہادر عوام ہندوستانی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ہیں وادی چنار کے شہداء کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی شمع کو فیروزاں کرتا رہا گا ان شاء اللہ ہندوستان وادی چنارط میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں مگر اللہ کے فضل وہ ہمیشہ منہ کے بل کی کھاٸے گا ۔

    آخر میں بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پوری پاکستانی قوم وادی چنار کی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے-وادی چنار کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں . پاکستان اور وادی چنار ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں پاکستان کشمیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر ادھورا ہے، کشمیریوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت، بھائی چارے ،اخوت اور لاالہ الااللہ کا ہے

    وادی چنار کی عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں ہم کل بھی وادی چنار کے ساتھ کھڑے تھے،آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور کل بھی ساتھ کھڑے رہیں گے-کوئی طاقت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے اس لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی وادی چنار میں بے گناہ عوام کی شہادت پر دنیا اور اقوام عالم کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں ہے دنیا ،اقوام عالم اور سلامتی کونسل کشمیریوں کو حق خودارادیت دے ۔

    اللہ پاک کشمیر کو بھارتی فوج کی بربریت نجات دے آمین یارب العالمین!

    تحریر حمزہ احمد صدیقی
    ‎@HamxaSiddiqi

  • مندر پر حملے کی اصل کہانی  تحریر: محمد اسعد لعل

    مندر پر حملے کی اصل کہانی تحریر: محمد اسعد لعل

    گزشتہ دنوں پاکستان کے شہر رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں ایک واقعہ پیش آیا۔کچھ لوگوں پر مشتعمل ایک گروہ مندر پر حملہ آور ہوتا ہے۔مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی، آگ لگائی گئی اور مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔اس واقعہ کا نوٹس فوری طور پر وزیراعظم عمران خان اور سپریم کوٹ آف پاکستان نے لیا۔ ملک میں عدم برداشت کا بڑھ جانا اور اسطرح کے واقعات قابل تشویش ہیں۔
    مندر پر حملہ آخر کیوں کیا گیا؟اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟اس کے بارے میں دو الگ الگ مواقف سامنے آئے ہیں ۔ایک موقف "ایف آی آر”میں درج ہے جبکہ دوسرا موقف ہندو کمیونٹی کا ہے۔
    ” ایف آی آر ” بھونگ شریف میں ایک مسجد کے نائب امام نے درج کروائی تھی۔” ایف آی آر ” میں نائب امام کا کہنا ہے کہ مسجد سے منسلک ایک مدرسہ ہے میں اس مدرسے سے درس نظامی کا کورس بھی کر رہا ہوں اور مسجد کا نائب امام بھی ہوں۔24 جولائی 2021 کو باوقت صبح دس بجے میں نے مدرسہ کی لائبریری میں ایک لڑکے کو دیکھا۔جو کہ مدرسہ میں لائبریری کی قالین پر پیشاب کر رہا تھا۔لڑکا لائبریری کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا ، میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ گیا۔میرے شور کرنے پر کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے۔میں باقی گواہان کے ساتھ اسے پکڑنے کے لیے نکلا لیکن اس کا پتہ نہیں چلا، مایوس ہو کر آیا ہوں تحریری درخواست دے رہا ہو اس پر کاروائی کی جائے۔
    پولیس نے اس لڑکے کو گرفتار کر لیا۔ چونکہ اس لڑکے کی عمر 8 سے 10 سال تھی اس لیے اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
    جب کہ دوسرا موقف جو کہ ہندو کمیونٹی کا ہے اس میں ہندوؤں کا یہ کہنا ہے کہ ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر 8 سال ہے اور اس کا نام بھویش کمار ہے وہ مسجد سے منسلک مدرسہ کی لائبریری میں ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے داخل ہو گیا پھر جب مسجد کے نائب امام حافظ ابراہیم صاحب نے بچے کو دیکھا تو اس پر غصہ ہوئے کہ یہاں پر کیوں آئے ہو تو اس کے ردِعمل میں خوف کی وجہ سے بچے کا پیشاب نکل گیا۔
    یہ تو تھے دو الگ الگ مواقف۔ بھونگ شریف میں ہندو بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور ہندو دو طبقات میں تقسیم ہیں۔ایک طبقہ ہندو راجپوت کا ہے جو کہ سونے کا کاروبار کرتے ہیں جب کہ دوسرا طبقہ غریب ہندوؤں کا ہے۔یہ بچہ غریب کمیونٹی کے ہندو میں سے تھا ۔
    اس علاقے میں آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہندو مسلمانوں میں کبھی لڑائی ہوئی ہو۔ا س علاقے کاایک تاجرعبدالرازاق نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی کہ "آج کے بعد جو ہندو مسلمانوں کے برتنوں میں کھا تا پیتا دیکھا گیا اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔خاص کر بھونگ شریف میں” ہندوؤں اور مقامی لوگوں نے اس کے خلاف تھانہ میں درخواست دی کہ یہ علاقے میں بدامنی پھیلا رہا ہے اس کے بعد پولیس نے اس تاجر کو گرفتار کر لیا۔ پیپلز پارٹی کے ایک "ایم پی اے” جو رحیم یار خاں کے علاقے بھونگ شریف کے موجودہ "ایم پی اے” ہیں، انہوں نے اُس تاجر کو سفارش کر کے چھوڑوا لیا۔
    اس تاجر کے چھوٹنے کے بعد لوگوں کی ایک بہت زیادہ تعداد بھونگ شریف میں داخل ہوجاتی ہے۔جن لوگوں نے مندر پر حملہ کیا وہ بھونگ کے علاقے کے رہنے والے نہیں ہیں ۔ حملہ کرنے والے لوگ رحیم یار خان کے ساتھ کچے کے علاقے سے آئے تھے۔یہ ابھی تک پتہ نہ چل سکا کہ آخر انہیں کون اور کیا کہہ کر لیا تھا۔مندرپر توڑپھوڑ کرنے کے بعد اس گروہ کے لوگ کسی بات پہ آپس میں بھی لڑ پڑے اور پھر جا کر ہائی وے کوتین گھنٹے تک بلاک رکھا۔
    ان گھنٹوں میں جب وہ بھونگ شریف آ رہے تھے پولیس نہیں آئی،جب مندر توڑا پولیس نہیں آئی،جب وہ آپس میں لڑ رہے تھے پولیس نہیں آئی اور جب انہوں نے ہائی وے کو تین گھنٹوں تک بلاک کیے رکھا تب بھی پولیس نہیں آئی۔پولیس ان کو نہیں روک سکی۔ جب بات کُھل کر سامنے آئی تو وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا، ملک بھر کے لوگوں نے اس واقعہ کی مزاحمت کی اور کہا کہ اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے۔
    اب بھارت اس واقعہ کا فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل کے سپوکس پرسن نے ٹویٹ کیا ہے”خبریں آ رہی ہیں کہ ایک پرتشدد ہجوم نےپاکستان کے علاقے رحیم یار خان میں مندر پر حملہ کیا اور بتوں کو توڑ کر آگ لگا دی ہےاور اَس پاس کے ہندو کمیونٹی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
    جب کہ ایسا نہیں ہوا وہ ایک مندر ہی ہے جہاں پر یہ سارا نقصان ہوا ہے۔ظاہر ہے انڈیا اس سے فائدہ اُٹھائے گا،اور یہ وہی انڈیا ہے جہاں 500 مساجد اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو انڈیا کےعلاقے گجرات میں تباہ کر دیا گیااور ان کی گورنمنٹ اس سب میں شامل ہے۔بھارت پہلے اس کا جواب دے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ، اقلیتوں کے ساتھ کیا کیا، انہوں نے عیسائیوں ،مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ کیاکیا۔دنیا میں اگر اقلیتوں کے لیے سب سے بُری جگہ ہے تووہ بھارت ہے۔
    کچھ لوگ افلاطون بھی بنے ہوئے ہیں کہ توڑ دینے چاہیے مندر،ہندوؤں کو نکال دینا چاہیے تو ان لوگوں کومیں بتانا چاہوں گا کہ ہمارا مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ہمارے نبی محمدﷺ کے اس بارے میں کیا احکامات ہیں ۔
    ایک ہدیث ہے جو مختلف صحابہ کرام سے روایت ہے ، آپ ﷺ نے اہل نجران سے ایک معاہدہ کیا تھا اور اس میں ایک تحریری فرمان جاری کیا تھا۔
    (فرمان کا ترجمہ) ۔۔۔
    "اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول محمدﷺ ، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کےلیے اُن کے خون،ان کی جانوں،ان کے مذہب ،ان کی زمینوں ، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجودہ اور غیر موجودہ افراد،ان کے مویشیوں اور قافلوں اور اُن کے استھان (مذہبی ٹھکانے) وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں۔ جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا۔ان کے حقوق اور اُن کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔نہ کسی پادری کو،نہ کسی راہب کو ،نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو، خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا ، اس سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ اور ان کو کوئی خوف و خطرنہ ہوگا۔”
    اس فرمان کے بعد میری،آپ کی ،ملک کی یا کسی بھی مسلمان کی کیا اوقات ہے کہ وہ غیر مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں۔
    اقلیتوں کے جان و مال کے علاوہ اُن کی مذہبی آزادی بھی ریاستِ پاکستان اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اس واقعہ پر ہر ذی شعور پاکستانی اور مسلمان کو اس واقعہ پر دکھ ہوناچاہیے، یہ بہت غلط ہوا ہے۔اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔حملہ آوروں نے یہ کر کے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے،اس کی تفتیش ہونی چاہیے اور جو بھی اس میں ملوث تھا ہر ایک کو سزا ملنی چاہیے۔

    twitter.com/iamAsadLal

  • بے روزگاری، غربت و افلاس بہت سے مساٸل کو جنم دیتی ہے  تحریر  شمسہ بتول

    بے روزگاری، غربت و افلاس بہت سے مساٸل کو جنم دیتی ہے تحریر شمسہ بتول

    دور حاضر میں بے روزگاری اور غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ بیروزگاری صرف کسی ایک ملک کا مسٸلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی سطح کا مسٸلہ بن چکا ہے جو دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بیروزگاری کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مگر وساٸل میں اتنی تیزی سے اضافہ نا ممکن یا کسی حد تک مشکل ہے کیونکہ وساٸل محدود ہوتے ہیں اور ہمارے ملک کی آبادی کا بیشتر حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے دن بدن کالجز اور مختلف یونیورسیٹیز سے تعلیم مکمل کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر اس حساب سے نوکریوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور ہوں بہت سے نوجوان مایوس ہو کر خودکشی جیسے عمل کو اپنا لیتے ہیں اور کچھ نوجوان بے راہ روی کی راہ اختیار کر لیتے کہ اب حلال طریقے سے تو ملنا مشکل ہے اور جابز نہ ملنے کی وجہ سے وہ چوری اور ڈاکہ وغیرہ جیسے جراٸم میں ملوث ہو جاتے
    مختصر یہ کہ بےروزگاری بہت سے سماجی اور معاشرتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ بہت سی ماٸیں اپنے بچوں سمیت خودکشی کر لیتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اتنے وساٸل نہیں ہوتے کہ وہ اپنے بچوں کو پال سکیں ایسے بہت سے واقعات سامنے آۓ ہیں اور بہت سے باپ جو مزدوری کی تلاش میں دربدر خوار ہونے کے بعد خودکشی کی طرف چلے جاتے ہیں ایسے واقعات سے ہمارا معاشرا بھرا پڑا ہے لیکن پھر بھی ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ریاست کی طرف سے کوٸی بھی عملی اقدامات نہیں کیے جا رے۔ غربت کی ایک بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں دولت کا فقط چند ہاتھوں میں محدود ہو کر رہ جانا بھی ہے اگر لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کریں اور حکومت عوام کے اس ٹیکس کی رقم کو پوری ایمانداری سے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناۓ مگر افسوس کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیاستدان بھی ٹیکس چوری میں شامل ہوتے یہاں تک کے عوام کے دیۓ ہوے ٹیکس کی رقم کو بھی اپنے زاتی سفر اور دیگر کاموں میں اُڑا دیتے۔ بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے ان سب کا احتساب بہت ضروری ہے۔
    بہت سے نوجوان جو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں لیے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور پھر مسلسل جدوجہد کے باوجود بھی کامیابی نہ ملنے پر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ ایک خطرناک مسٸلہ ہے
    بیروزگاری اور غربت جو کہ نہ صرف خود ایک بہت بڑا مسٸلہ ہے بلکہ یہ دوسرے بہت سے معاشرتی مساٸل پیدا کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپریشن اور ٹینشن جیسی بیماریاں پیدا کرتی ہے جو انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہیں ۔
    ہمیں وساٸل کو بہترین طریقے سے بروۓ کار لانا ہو گا اور شرح سود کو ختم کرکے لوگوں کو بلخصوص نوجوان نسل کو یہ ترغیب دینا ہو گی کہ وہ کاروبار کی طرف آۓ اس سے نہ صرف ان کے لیے اچھا روزگار پیدا ہو گا بلکہ مزدور طبقے کے لیے اور درمیانے طبقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور ملک کافی حد تک اس خطرناک مسٸلے سے باہر نکل آۓ گا
    اور جب روزگار کے مواقع پیدا ہونگے تو ملک سے غربت اور افلاس آہستہ آہستہ ختم ہوتی جاۓ گی اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے سماجی اور معاشی مساٸل حل ہو جاٸیں گی کیونکہ بیروزگاری، غربت اور افلاس سو مساٸل کی جڑ ہے. بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے مزدور طبقہ اور درمیانی طبقہ زندگی کی بنیادی ضروریات صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات سے محروم ہے۔
    ہمیں اپنی نٸی نوجوان نسل کو کاروبار کی طرف راغب کرنا ہو گا کیونکہ جس تیز رفتاری سے آبادی بڑھ رہی ہے اس تیز رفتاری سے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رے جس سے ملکی حالت ابتری کی طرف جا رہی ہے. ہمیں آنے والی نسل کے بہتر مستقبل کے لیے آج ہی سے اقدامات کرنا ہونگے اپنے وساٸل کا بہتر اور حکمت عملی سے استعمال یقینی بنانا ہو گا اور کرپٹ سیستدان جو عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی آساٸشات پر خرچ کرتے ہمیں ان کا احتساب کرنا ہو گا تا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ بہتر طریقے سے انہی کی فلاح پہ خرچ اور غربت و افلاس کی چکی میں پستی عوام کو سہارا دیا جا سکے اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں تا کہ ہمارا معاشرہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرہ بن سکے✨

    @b786_s

  • پاکستان امریکہ کی ضرورت   تحریر:رانا عزیر

    پاکستان امریکہ کی ضرورت تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں اسوقت گھمسان کی جنگ ہے، اس پر پاکستان میں یہ بیانیہ بھی پایا جارہا ہے افغانستان سے امریکی فوجوں کا نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہاں شکست اور ذلیل ورسوا ہوکر نکلا ہے بلکہ وہ تو افغانستان سے بہت کچھ حاصل کرکے نکلا ہے۔ افغانستان سے امریکہ رات کو خوف کے اندھیروں میں بھاگی، اشرف غنی کو بھی ساتھ ہی اپنی جان کے لالے پڑ گئے، اور اشرف غنی اب یہ الزامات لگارہے ہیں کہ اب جو افغانستان میں اب بدترین خانہ جنگی ہورہی ہے اس کی وجہ امریکی فوجوں کا یہاں سے دم دبا کر بھاگنا ہے۔ لیکن اس کا براہ راست اثر پاکستان، ایران اورچین پر بھی ہے، اور پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہوگا۔ اور امریکہ کا سارا کھیل ہی یہی ہے کہ اب افغانستان خطرناک خانہ جنگی کی لپٹ مین چلا جائے اور لڑائی پاکستان کے بارڈر تک جائے اور پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو کھڑا کردیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ ایسا کرنا ہی کیوں چاہتا ہے؟
    1960 کی دہائی میں بھی داؤد خان کی حکومت میں پاکستان کے چمن بارڈر پر حملے کیے گئے اور 30 میل تک قبائلی پشتون افغان فورسز کے ساتھ ملکر 30 میل تک اندر بھی آچکے تھے۔ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے بعد جو پاکستان میں بربادی ہوئی وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ تو اس سے یہ لگ رہا ہے 30 اگست کے بعد پاکستان کے حالات بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور ہمیں مغربی بارڈر سے بہت بڑی دہشتگردی کا خطرہ ہے۔طالبان سقوط کابل کے بہت قریب ہیں اور وہ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کررہے ہیں۔
    اس وقت پاکستان کے خفیہ ایجنسی کےسربراہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر امریکہ میں بہت اہم مذاکرات کررہے ہیں اور امریکہ نےایک دفہ پھر سے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے، وہ مطالبات یہ ہیں کہ پاکستان اپنی سرحد کو سیل نہ کرے، پاکستان غنی حکومت کا ساتھ دے, پاکستان حقانی نیٹورک کو خودختم کرے، پاکستان امریکہ کے مطابق اپنی فارن پالیسی بنائے، پاکستان سی پیک کو روک دے۔یہ وہ مطالبات ہیں اگر پاکستان ان میں سے ایک بھی مانتا ہے تو پاکستان اپنے پاؤں پرخودکلہاڑی مار بیٹھے گا, امریکہ ایک دفعہ پھر پاکستان کو اس کرائے کی جنگ میں اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب پاکستان مشترکہ مفادات پر بات کرے گا اور امریکہ سے کوئی خفیہ معاہدہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان کے اس عمل سے امریکی سفارتی حلقوں میں یلچل مچی ہوئی ہے، اور امریکی انتظامیہ کے مطابق جوبایڈن عمران خان کو کال کریں گے، اور ذرائع کے مطابق جوبایڈن عمران خان کو باضابط طور پر امریکہ دورے کی دعوت بھی دیں گے۔ امریکہ اس وقت پاکستان کی ضرورت محسوس کررہا ہے اور وہ پاکستان جانتا ہے کہ اس خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی اہمیت کتنی اہم ہے،دنیا کی کوئی طاقت اسے جھٹلا نہیں سکتی۔ چین بھی پوری طرح سے پاکستان کے سامنےاپنی بازوں کھولے ہوئے ہے اور سی پیک پر توجہ مرکوز کیے ہوئے۔ جبکہ بھارت بھی سی پیک پر حملوں کے لیے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کررہا ہے۔ یہ خطہ خطرناک دوراہے پر ہے۔

    @RanaUzairSpeaks

  • شہرزات تحریر فرزانہ شریف

    شہرزات تحریر فرزانہ شریف

    ‏کچھ جنگیں یقین کی ہوتی ہیں اگر درد کی لہر سے ٹکرا جائیں تو بھی صبر کا دامن تھامے رکھناجسے تم بےبسی کہتے ہو وہی صبر کی وہ حد ہے جہاں فیصلے تمام ہوتے ہیں۔ کیا پتہ آج ہی تمہیں سرخرو کردیا جائے۔ عرش پر تمہاری فتح کی تیاری کی جارہی ہو۔۔۔۔ تَوَکَل٘ عَلَی اللّٰہ♥️
    اور جس نے اللہ پر بھروسہ رکھا اسے میں نے کامیاب پایا حد سے زیادہ پریشانی تمہیں شکر سے دور کر دے گی۔۔ کیونکہ تمہاری آنکھیں اور دل مستقبل کے ممکنات پر ٹکی رہیں گی، جبکہ ان میں سے کئی معاملات تو ایسے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہوں گے بھی نہیں۔۔ لہذا جب تک تم مسلسل نامعلوم کی فکر میں لگے رہو گے، سامنے موجود نعمت سے بھی غافل رہو گے۔۔ پھر اسکے شکر میں بھی ناکام رہو گے۔۔ وہ نعمتیں جو اللہ نے تمہیں دے رکھی ہیں اور جو کہ لگاتار دی جا رہی ہیں۔۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ فکرمند ہونا ایک فطری سا عمل ہے، مگر ہر لمحہ ہی فکرمند رہنا تو ”بیماری” ہوئی۔۔ اس لیے جب بھی ایسی کیفیت ہو تو لمحے بھر کو رک جاؤ۔۔ گہری سانس لو۔۔ اور دل سے کہو کہ میرا رب تو "الوکیل” ہے۔۔ وہ میرے تمام تر معاملات کو سنبھالے ہوئے ہے۔۔ میرے بھی اور اس سارے عالَم کے بھی۔۔ اسے کہو کہ میرا اللہ سب سے بڑھ کر طاقتور ہے۔۔ وہ میری مشکل کو پلک جھپکنے میں آسان کر سکتا ہے۔۔ وہ تو وہ ہے جس نے اتنے وسیع و عریض آسمان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے
    پھر تم نے کیسے سوچ لیا کہ وہ تمہیں تکلیفوں کے پہاڑ تلے ریزہ ریزہ ہونے دے گا؟ کیا تمہیں معلوم نہیں وہ ہی ہے، صرف وہی ہے جو تکالیف دور کرتا ہے؟؟ہم اس کے ایک کن کے محتاج ہیں
    کہو اپنی روح سے کہ اپنے رب کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔۔ اپنے دل سے بولو کہ کھولے اپنی آنکھیں اور دیکھے کہ اسکے رب نے کیسی کیسی نعمتوں میں اسے گھیر رکھا ہے۔۔
    اللہ کے دیئے گئے انمول گِفٹس تم سے کہیں بھی دور نہیں، مگر ان کو دیکھو تو سہی، پہچانو تو سہی۔پھر انہیں اسکی فرمانبرداری میں استعمال کرو۔ اس کی شکرگزاری کرو
    ‏نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے ان میں اضافہ ہوتا چلا جاتا
    اللہ سے باتیں کیا کریں اس شعور سے آگے بڑھ کرکہ وہ السمیع البصیر ہے وہ دعا کو پسند فرماتا ہے صرف اس لیے کہ دعااللہ تعالیٰ کی برتری کا احساس بھی ہے اور بندے کے شکر کا اظہار بھی۔
    سو اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئےیقین کریں آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ دو یا تین منٹ سے سلسلہ شروع کریں۔۔ آہستہ آہستہ وقت کا دورانیہ بڑھے گا۔۔آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوں گے اور دل میں ایک اطمینان اترتا چلا جائے گا۔
    وہ ستر ماؤں جتنی محبت کرنے والی ہستی۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ کی ہمتوں کو بلند کر دے گا۔
    اس پاک ذات پر بھروسہ رکھیں

    یہ ہو ہی نہیں سکتا الله نے جو آپ کے لیۓ لکھ دیا ہے وہ کسی اور کے پاس چلا جائے ۔
    تو پھر مطمئن ہو جائیں صاف دل اور صاف نیت کے ساتھ جینآ سیکھیں
    خود کو سمجھیں _خود کو سمجھائیں خود کو سکھائیں
    ہاں جہاں ہو تم__چاھے جتنا بھی تمھاری زات ٹوٹ چکی ھے__تھک چکی ھے__اسے مزید ڈسٹرکشن کے بجائے__کنسٹرکشن کی طرف لے کے جاؤ__
    یقین مانو ضائع نا کرو خود کو!!!
    جو گزر گیا__اس سے سیکھو نا کہ ساتھ لے کے گھومو__
    جو ہونا تھا__وہ تمھاری ایمیجنیشنز تھیں جن کا ھونا نا ھونا مکمل کوئی نہیں جانتا کے ممکن تھا بھی یا نہیں__
    اپنا آج جیوجو حقیقت میں تمھارا ھے__بس تمھارا ھے__کسی کی پابند نہیں ہو تم__
    نا اپنی ہنسی کیلئے__نا رونے کیلئے__
    تو لو اب سے اپنی لائف کا ‘یو ٹرن’__ابھی بھی دیر نہیں ھوئی۔
    میں الله سے دعا کرتی هوں کہ جو مشرق سے مغرب کا مالک جو ارض و سماء کاخالق جو بخشنا چاهے تو سو سال کے گناہ ایک پل میں معاف کر دیتا هے وہ الله آپکو صحت اور کامل ایمان والی زندگی عطافرماۓ. اور اپنے خزانوں سے وسیع رزق حلال عطا فرما.
    آمین بجاہ النبی الامینﷺ
    twitter.com/Farzana_Blogger?s=09

  • ‏افسوس حالات کیسے بدل گئے . تحریر : شمیم احمد

    ‏افسوس حالات کیسے بدل گئے . تحریر : شمیم احمد

    پہلے مسلم لڑکیوں کی طرف ہندو نوجوانوں کو آنکھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی یہ ڈر ہوتا تھا کہ کہیں پیٹ نہ دیے جائیں یا بے عزت و رسوا نہ کردیے جائیں جس کی وجہ سے وہ اپنے ناجائز مقصد میں کامیاب نہیں ہوپاتے تھے. اب تو بے چارے مسلمان بھی بزدلی کا لبادہ ڈالے رہتے ہیں جس گھر میں واقعہ پیش آتا ہے وہ اسی گھر کا سمجھتے ہوے اپنے گھر کو محفوظ ومامون سمجھتے ہیں. ویسے بھی شہر میں بڑی بڑی باتیں چھپ جایا کرتی ہیں.

    اب ہندو نوجوان نہ صرف نڈر ہوگئے ہیں بلکہ پری پلاننگ سپورٹ بھی انہیں حاصل ہوتا ہے. شروع میں میٹھیں باتیں کرکے نام بدل کے لالچ دیکر مدد کرکے ہمدردی کا اظہار کرکے مسلم لڑکیوں کو لبھانے کی کوشش کرتے ہیں. پھر محبت کا ڈھونگ رچاکر شادی کے لئے راضی کرتے ہیں اور ایک ساتھ جینے مرنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں حالانکہ دل میں پہلے سے کھوٹ رہتا ہے. ہماری معصوم بہنیں بھی پہلے جیسی باحیا نہ رہیں بے دینی کا مظاہرہ کرتی ہوئیں ساری حدیں پار کرجاتی ہیں. وہ لڑکیاں جو ماں باپ کا نہیں ہوسکتیں جسنے پال کر پڑھاکر بڑا کیا وہ دین دھرم کا خاک ہونگی.
    اللہ ایسی بہینیں کسی کو نہ دے.

    باپ بھائ بھی پہلے جیسے غیرت مند نہیں رہے. اب تو باپ بھائ کی موجودگی میں غیرمسلموں سے شادیاں ہورہی ہیں اور خوب سیلفیاں لي جارہی ہیں کیوں کہ لڑکا مالدار ہے اور روزگار ہے بھلے چمار جواری شرابی گوال ہو.
    اللہ ایسے باپ بھائ کو غارت کرے

    جہاں تک ماں اور بہن کی بات ہے انہیں شروع ہی میں معلوم ہونے کے باوجود باپ بھائ کو نہیں بتاتی ہیں بلکہ دامے درمے سخنے مدد بھی کرتی ہیں.
    اللہ ایسی ماؤں سے بچائے. آمین

    چار چیزیں ذمدار ہیں

    1. مخلوط تعلیم،جیسے کالیج یونیورسٹیاں جو کہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے. اسلئے جو گرلس کالیج ہو اور قریب ہو وہیں اپنی لڑکیوں کو بھیجیں تاکہ دیر بدیر ملتے رہیں. ہائ ایجوکیشن کے لیے لڑکیوں کے انگیجمینٹ کرانے کے بعد ہی ایڈمیشن کرائیں. مخلوط رہن سہن، جیسے ہندوانہ محلے میں رہنا یا پڑوسی ہندو ہونا یا بھائ چارگی کچھ زیادہ ہی ہونا غیر مسلم کو دعوت کرنا ان کو گھر میں بلانا یہ چیزیں مہاراشٹر کیرل تمل ناڈو کرناٹک اندھیرا پردیش جنوب کے سارے صوبے میں زیادہ ہیں اسلیے ایسے علاقوں میں اس طرح کے معاملات کثرت سے پیش آتے ہیں باقی شہروں میں ممبئ، حیدر آباد سر فہرست ہے. اسلئے مسلم محلے میں مکان لینے کی کوشش کریں مخلوط ملازمت جیسے کمپنی کال سینٹر اسپتال مال یا آفس وغیرہ میں کام کرنا اسلیے لڑکیوں سےشادی کے بعد ہی ملازمت کرائیں

    2. غربت وافلاس فقر وفاقہ جہاں غربت ہونگی وہاں اس طرح کے واقعات پیش آئینگے. اسلئے قوم کے صاحب ثروت افراد ٹھونڈ کر ان کی مدد کرے. انسانیت کے نام پر پہلے اپنی بہنوں کا حق بنتا ہے بعد میں غیر مسلم.

    3. دینی تربیت کا فقدان اسلئے ہر مسجد میں مکتب کا سسٹم بناجائے اور جن لڑکیوں کو پڑھایا جائے ان سے کہا جائے کہ اپنے گھروں میں آس پاس کی لڑکیوں کو وہ پڑھایے.

    4. شوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس باپ نے امی کو فون دیا اور امی نے بیٹی کو دیا اور بیٹی اپنا دل غیر مسلم کو دیا. ویسے آجکل پڑھائ بھی تو آن لائن ہورہی ہے اگر پڑھائ ضروری ہے تو موبائل بھی ضروری ہے. اب امی کا فون نہیں خود کا فون ہے جو چاہے کرو
    اسلئے باپ بھائ موبائل دینا ضروری ہو تبھی دے لیکن نگرانی سخت رکھے. کچھ لوگ مسلم لڑکیوں پر ایسا بھروسہ کئے ہوے ہیں کہ جو مسلم ہونگی وہ ایسا کر ہی نہیں سکتیں. ارے بھائ آپ کس زمانے اور کس جگہ میں جی رہے ہو. حقیقت میں آج اکثر وبیشتر نفس امارہ کو معبود خدا بناچکی ہیں. انہیں اللہ کا کوئ خوف نہیں، نہ ایمان کا پاس ولحاظ نہ باپ بھائ کا ڈر نہ سماج کاڈر.
    اللہ ہماری حفاظت فرمائے.

    By ‎@Shaameem_Ahmad

  • بیٹی کے نام اہم پیغام تحریر: محمد سدیس خان

    بیٹی کے نام اہم پیغام تحریر: محمد سدیس خان

    پیاری بیٹی!
    خاوند کے گھر جاکر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا،جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا، جو کچھ شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جائے وہ مرغ پلاؤ سے بہتر ہے، جو تمہارے اصرار پر خاوند نے ناراضگی سے دیا ہو۔
    خاوند کی ہر بات کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اس کو اہمیت اور اولین دینا، ہر بات میں اس کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کرنا، اس طرح تم اس کے دل میں جگہ بنا لوگی، کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہوتا ہے۔
    اپنی زینت وجمال کا ایسا خیال رکھنا کے جب وہ تمہیں نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خوش ہو، یاد رکھو کے تمہارے جسم ولباس کی بو یاہئیت اسے کراہت ونفرت نہ دلائے۔
    خاوند کی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے کے لیے اپنی آنکھوں کو کاجل سرمہ سے حسن دینا، کیونکہ پرکشش آنکھیں پورے وجود کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جچادیتی ہے، غسل اور وضو کا اہتمام کرنا، یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور صحت خوبصورتی کا راز ہے۔
    خاوند کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا، کیونکہ دیر تک برداشت کی جانے والی بھوک بھڑ کتے ہوئے شعلوں کی مانند ہو جاتی ہے۔
    خاوند کی آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ماحول بنانا، کیونکہ نیندادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے۔
    خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی گھر میں نہ آئے۔
    خاوند کا مال لغویات یا فضول نمائش اور فیشن میں برباد نہ کرنا، مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے۔
    خاوند کی نافرمانی نہ کرنا بلکہ اس کی راز داررہنا، کیونکہ نافرمانی چلتی پر تیل کا کام کرے گی، اگر تم آوروں سے خاوند کا راز چھپا کر نہ رکھ سکی تو اس کا اعتماد تم پر سے ہٹ جائے گا اور پھر تم اس کے دورخےپن سے محفوظ نہ رہ سکوگی۔
    خاوند اگر کسی وجہ سے غمگین ہوتو اپنی کسی خوشی کا اظہار نہ کرنا بلکہ اس کے غم میں برابر کی شریک رہنا ورنہ تم اس کے قلب کو مکدر کرنے والی شمار ہوگی۔
    خاوند کی نگاہ میں اگر تم قابل تکریم بننا چاہتی ہوتو اس کی عزت واحترام کا خوب خیال رکھنا اور اس کی مرضیات کے مطابق چلنا، اس طرح تم اس کو بھی ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں بہترین رفیق پاؤ گے۔
    جب تک تم خاوند کی خوشی اور مرضی کی خاطر اپنا دل نہیں ماروگی اور اس کی بات اوپر رکھنے کے لیے خواہ تمہیں پسند ہویا ناپسند زندگی کے کئی مرحلوں میں اپنے دل میں اٹھنے والی خواہشوں کو دفن نہیں کروگی اس وقت تک تمہاری زندگی میں کبھی خوشیوں کے پھول نہیں کھلیں گے۔
    تمہاری خوشی تمہارے شوہر کی خوشی سے وابستہ ہے، تم میں سے ہر کوئی دوسرے کی سعادت یا شقاوت کا سبب بن سکتا ہے
    لہذا اپنے اور شوہر کے درمیان کسی بھی نفرت کی بات کو پیدا نہ ہونے دینا، کہیں ایسا نہ ہو کے ایک بات سے کئی نفرتیں جنم لیں، بالآخر معاملہ ہاتھ سے نکل جائے۔
    اپنی استطاعت کے مطابق شوہر کی بات ماننا، اس کے ساتھ استہزاء ومذاق نہ کرنا، بے ہودہ باتوں سے بچنا ، زیادہ غصے میں نہ آیا کرنا کیونکہ یہ طلاق کی چابی ہے ، زیادہ ناراض نہ ہوا کرنا کیونکہ اس سے بغض پیدا ہوتا ہے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھنا اور نقصان دہ کریمیں اور پاؤڈر مل کر اپنے چہرے کی تروتازگی اور رونق ختم نہ کرنا۔
    جس کا بوجھ تمہیں اٹھانہ ہے اسے بھر پور ہمت وطاقت سے اٹھانا اور یہ بات ذہن میں رکھنا کے باہر کے معاملات شوہر کے ذمے ہیں لیکن گھر کے امور کی صرف تم جواب دہ ہو۔
    Twitter user name @msudais0

  • میاں داد کا چھکا  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    میاں داد کا چھکا تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    بھارت ہر شکست بُھلا سکتا ہے،مگر شارجہ کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں میچ کی آخری گیند پر جاوید میانداد کے لگاۓ گئے تاریخی چھکے سے ہونے والی ہار کبھی نہیں بھول سکتا۔
    کافی عرصہ پہلے ہونے والا یہ یادگار میچ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ بھی تھا۔اس میچ کے بعد پاکستان کا بھارت سے ہارنے کا تسلسل بھی ٹوٹ گیا۔
    شارجہ والا یہ میچ میری زندگی کا ناقابل فراموش اوریادگار میچ تھا۔جس کی ہر بال میں نے اپنے بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی پر براہ راست شارجہ سے دیکھی۔
    میچ کی آخری بال پر پاکستان کو چار رنز درکار تھے۔اس سے قبل سیکنڈ لاسٹ بال پر پاکستان کے آف سپنر توصیف احمد نے جس طرح گرتے پاڑتے ،دوڑتے اور رن آؤٹ سے بال بال بچتے ہوۓسنگل لیکر سٹرائیک میاں داد کو فراہم کی۔اُسی وقت میں پانی کا تیسرا جگ ختم کر چکا تھا۔مگر پاوں کے تلووں سے پسینہ پھر بھی جاری تھا۔آخری بال کے لئے مزید پانی منگوانے کا ہوش ہی نہیں تھا۔
    آخری بال سے پہلے میں مسلسل درود شریف کا ورد کئے جارہے تھا۔
    ہر آنکھ ٹی وی سکرین پر تھم چُکی تھی۔پاکستان بھارت کا میچ ہو اور وہ بھی فائینل،جس کا فیصلہ میچ کی آخری گیند پر ہو رہا ہو ،پاکستان کی آخری وکٹ ہو۔تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ میچ کے وہ لمحات کتنے سنسنی خیز ہوں گے !
    بحرحال آخری بال پر بھارتی کپتان نے وکٹ کیپر اور باولر چتن شرماکے علاوہ تمام فیلڈرز باؤنڈی لائن پر کھڑے کر دیے تاکہ پاکستان کو مطلوبہ چار رنز کے حصول سے روکا جا سکے۔باونڈری نہ لگ سکے۔مگر بھارت کو شائد پتہ نہیں تھا کہ میں داد انکے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔بلکہ سچی بات ہے کہ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ آخری بال کیا گُل کھلانے والی ہےاور پھر اس بال پر وہ کچھ ہو گیا،جو ہمیشہ ان کے لئے ڈراؤنا خواب رہے گا۔وہ جب جب اس میچ کو یاد کریں گے۔تب تب جاوید میاں داد ایک سُپر مین کی طرح ان کے سامنے آجاۓ گا۔
    آخری بال کے لئے چتن شرما نے سٹارٹ لیا۔جاوید میانداد کریز پر اپنے ترچھے سٹانس کے ساتھ موجود۔سٹیڈیم میں قبرستان والی خاموشی۔ایسا لگ رہا تھا،جیسے سانسیں رُک سی گئی ہوں۔
    پاکستانیوں کی آنکھیں ٹی وی سکرینز پر۔ہاتھ فضا میں بلند۔اللہ پاک سے پُر نم آنکھوں کے ساتھ دعائیں شروع۔
    شرما آۓ۔میاں داد نے پوری طاقت سے بلا گُھمایا۔
    مایہ ناز کمنٹیٹر افتخار احمد کی آواز بلند ہوئ،
    This is a six.Pakistan has won.Miandad the hero of the moment.the hero of the match.
    بس کمنٹیٹر کے اسی فقرے کے ساتھ اللہ اکبر کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔لوگ خوشی سے سڑکوں پر نکل آۓ۔میں نے بھی روتے روتے سب گھر والوں کو گلے لگایا اور پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گیا کہ اُس نے میرے وطن کو عزت بخشی۔
    سارے کھلاڑی شارجہ سٹیڈیم کا چکر لگا رہے تھے۔مگر مرکز نگاہ صرف ایک کھلاڑی تھا،جس نے تن تنہا میدان پاکستان کے نام کر دیا۔جسے دنیا مرد بحران اور ونڈر بواۓ کے نام سے جانتی تھی۔جی ہاں وہ جاوید میاں داد جس نے کم عمری میں ٹیسٹ ڈیبیو کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔وہ ہمیشہ ایسے وقت بیٹننگ کے لئے آتا،جب حسب معمول پاکستان کی دو وکٹیں گر چکی ہوتیں۔میانداد کے کریز پر آنے کے بعد مخالف ٹیم کے لئے اسے آؤٹ کرنا کبھی بھی آسان نہ ہوتا۔وہ اس وقت کا نہ صرف سنگل رن لینے والا دنیا کابہترین کھلاڑی تھا بلکہ ہارڈ ہٹنگ کا بھی ماسٹر تھا۔
    جاوید میاں داد ہمیشہ پاکستان کے لئے کھیلا،وہ کبھی بھی اپنی زات کے لئے نہیں کھیلا۔اپنے طویل کیرئر میں اس نے میچز کے دوران کبھی روزہ نہیں چھوڑا۔اور اسکے بعض دیگر ہم عصر کھلاڑیوں کے مطابق وہ ایک تہجد گزار شخص تھا۔
    اس نے پاکستان ٹیم کے وسیع تر مفاد میں قیادت کی قربانی دی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی مکمل حمایت کے باوجود وہ عمران خان کو کپتانی دینے پر رضامند ہو گیا۔
    اس نے اپنے کیرئر میں پاکستان کے ایک عظیم ترین کپتان عمران خان کی بطور کپتان فتوحات میں ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا۔وہ ہر مشکل میں عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑا رہا۔
    عمران خان کی کپتانی میں جیتے گئے 1992کے ورلڈ کپ میں جاوید میاں داد نے اہم ترین کردار ادا کیا۔
    تقریبا” ہر میچ میں رنز کئے ۔اور مشکل ترین میچز میں فیصلہ کن اننگز کھیل کر پاکستان کے جیتنے کی بنیاد رکھی۔عمران خان اور جاوید میاں داد اپنے وقتوں کے سُپر سٹارز تھے۔
    انکی دوستی کرکٹ کے میدانوں کے باہر بھی جاری رہی۔
    عمران خان کی طرف سے کینسر ہسپتال کے لئے چلائ گئی چندہ مہم ہو یا عمران خان کی بطور سیاستدان انٹری۔
    جاوید میاں داد ہمیشہ اسکے ساتھ کھڑانظر آیا ۔میاں داد نے کبھی اس چیز کو یاد نہیں رکھا کہ اسے پاکستان ٹیم کی کپتانی عمران خان کی وجہ سے چھوڑنا پڑی۔
    لیجنڈ جاوید میاں داد کی یہی ادا اسے دوسرے ہم عصر کھلاڑیوں سے منفرد کر گئی کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے لئے کھیلا،وہ کبھی پاکستان سے نہیں کھیلا#

    @lalbukhari