Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہمارا عدالتی نظام تحریر: فرمان اللہ

    ہمارا عدالتی نظام تحریر: فرمان اللہ

    تحریر لکھنے سے پہلے کچھ دیر سوچتا رہا کہ کہا سے شروع کروں، ہمارا عدالتی نظام کیا اس قابل ہے کہ وہ کسی غریب یا مظلوم کو انصاف دلا سکے؟

    آئے روز میرے ملک میں ظلم و ستم کے پہاڑ کھڑے کر دیے جاتے ہیں لیکن نہ مظلوم کو انصاف ملتا ہے اور نہ ہی ظالم کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایک طرف مظلوم غریب جس کے پاس اچھا وکیل کرنے کے پیسے تک نہیں ہوتے تو دوسری طرف طاقتور اور ظالم جو پیسے کی طاقت سے بہترین سے بہترین وکیل خرید لیتا ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا ماہر ہوتا ہے۔

    بڑے سے بڑا ظلم بھی ہو جائے تو ظالم اگلے دن ضمانت پر رہا ہو چکا ہوتا ہے اور مظلوم عدالت کے چکر کاٹ کاٹ کر ذلیل و خوار ہو جاتا ہے لیکن انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آتا آخر کار وہ ہمت ہار جاتا ہے بے بس ہو جاتا ہے اور ظالم کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر کے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

    مجرم کو ہمارے عدالتی نظام پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ اسے سزا نہیں ہو گی اور ہمارا عدالتی نظام مجرم کے اس بھروسے کو نہیں توڑتا اور یہی وجہ ہے کہ جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

    حضرت علیؓ کا قوم ہے کہ کفر کا تو نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔

    اگر ہم ایک نظر ترقی یافتہ ممالک پر ڈالیں تو ہمیں سب سے پہلے ان کا بہترین عدالتی نظام نظر آئے گا جہاں امیر اور غریب کو ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر غریب کے پاس وکیل کرنے کے لیے پیسے نہ ہوں تو حکومت وکیل بھی کر کے دیتی ہے لیکن کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیتے۔ ترقی یافتہ ممالک کی توجہ بہترین عدالتی نظام پر ہوتی ہیں جہاں طاقتور اور امیر کو بھی فوری سزا سنا دی جاتی ہے اگر وہ کسی جرم میں ملوث پایا جائے لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ملک کے طاقتور اور امیر لوگ اپنے مرضی کے فیصلے کراتے ہیں۔ جرم کرنے کے بعد فوری طور پر طاقتور کو ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد کئی سالوں تک وہ مقدمہ چلتا ہے لیکن کیس کا فیصلہ نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے آخر مظلوم ہمت ہار جاتا ہے اور اپنی شکست تسلیم کر لیتا ہے۔ اگر طاقتور اور کمزور کے فرق کو مٹا دیا جائے تو بہترین عدالتی نظام ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

    ہمارے حکمران ہمارے منصف اگر ملک و قوم کے خیر خواہ ہیں تو سب سے پہلے عدالتی نظام کو بہتر کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، مظلوم کے لیے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ اس معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ہو سکے۔ آج ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ ہمارا عدالتی نظام ہے جو اس قابل نہیں کہ کسی کو فوری انصاف دلا سکے اور ہم بحیثیت قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک انصاف کے معیار کو بہتر نہیں کر دیا جاتا۔

    جزاک اللہ

    Farman Ullah
    Twitter Acct: @ForIkPakistan

  • صبر اور ہم،  تحریر: محمد خبیب فرہاد

    صبر اور ہم، تحریر: محمد خبیب فرہاد

    "صبر” کے معنی ہیں کسی خوشی، مُصیبت، غم اور پریشانی وغیرہ کے وقت میں خود کو قابو میں رکھنا اور خلاف شریعت کاموں سے بچنا۔

    روزمرہ کی زندگی میں، ہم میں صبر ناں ہونے کے برابر ہے، کامیابی کا حصول ہی یہی ہے کہ صبر وتحمل سے کام لیا ۔

    صبر ایک ایسا عظیم اور اعلیٰ فضیلت والا عمل ہے جس کو اللہ تعالٰیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں علیہم الصلاۃ و السلام کی صفات میں تعریف کرتے ہوئے بیان فرمایا
    ”وَإِسمَاعِیلَ وَإِدرِیسَ وَذَا الکِفلِ کُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِینَ 
    اور اِسماعیل اور اِدریس اور ذاالکِفل سب ہی صبر کرنے والوں میں سے تھے۔

    اور اس صبرکو ایک نیک عمل قرار فرماتے ہوئے اُس کا پھل یہ بتایا، إِنَّمَا الصَّبر عِندَ الصّدمۃ الأولیٰ 
    بے شک صبر (تو وہ ہے جو) کسی صدمے کی ابتداء میں کیا جائے۔

    اور اللہ تبارک و تعالٰیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو یہ بتایا کہ یہ عظیم کام بہت بُلند حوصلہ رسولوں کی صفات میں رہا ہے اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُس کام کا حکم فرمایا:

    فَاصبِر کَمَا صَبَرَ أُولُوا العَزمِ مِنَ الرُّسُلِ 
    اور (اے مُحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی اُسی طرح صبر فرمایے جس طرح (آپ سے پہلے )حوصلہ مند رسولوں نے فرمایا۔
    ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

    طہارت ایمان کا حصہ ہے اور الحمداللہ  (کہنا) میزان(ترازو) کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ  (کہنا) آسمانوں اور زمین کے درمیان کو بھر دیتا ہے اور نماز روشنی ہے، اور صدقہ واضح دلیل ہے، اور صبر چمک ہے، اور قُرآن حجت ہے( یا خود ) تمہارے لیے (یاخود) تمہارے خِلاف ہر انسان نے کل کو جانا ہے اور اپنی جان کو بیچنا ہے تو کوئی تو اپنی جان کو چُھڑانے والا ہے اور کوئی اس کو ہلاک کرنے والا۔

    سورۂ یوسف کی آ یت نمبر 89 کو غور سے پڑھا تو آ نکھیں حیرت سے کھل گئیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے ظرف کو دیکھ کر بے اختیار خیال آ یاکہ انسان ایسا بھی ہوسکتا ہے جن بھایئوں نے بچپن میں باپ سے الگ کر دیا اور مصر کے بازار میں بولی لگائی گئی جیل میں الزام لگا کر قید کر دیا۔ مگر جب بھائیوں سے ملاقات ہوئی تو انھیں شرمندہ نہ ہونے دیا اور سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود بولے بھی تو کیا؟ کہ کیا تم جانتے ہو کہ نادانی میں تم نے یوسف اور اسکے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟ سبحان اللہ کیا اس سے بڑا اخلاق کا مظاہرہ ہوسکتا ہے؟ نادانی کرنے کی عمر تو حضرت یوسف علیہ السلام کی تھی اور بھائی تو صاحب عقل تھے ۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا اخلاق تھا کہ بھائیوں کو نظریں نہ جھکانی پڑیں ھم اکثر ایک فقرہ بولتے ہیں کہ ” غلط بات برداشت نہیں مجھے” حالانکہ غلط بات پر ہی تو ہماری برداشت دیکھتا ھے اللہ تعالیٰ آیا کہ ہم میں صبر ھے کہ نھیں کیا ہم صبر کر کے جنت کے راستے کے مسافر بن سکتے ہیں کہ نہیں؟ ایک انسان ہونے کے ناطے صبر کرنا سیکھیں اور اپنا اخلاق ایسا بنائیں کہ ہم موت کے وقت لقب حاصل کر سکیں۔

    "اے اطمینان پانے والی روح”

    .اللّٰه والوں کی صحبت کی برکت ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
    ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﻠﺤﺎﺀ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﺘﺎﺭ ﺍﻟﻌﯿﻮﺏ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﯿﺐ ﮐﻮﻥ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟

    ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :
    ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﭘﻨﮑﮭﮍﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﻟﮯ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟

    ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻏﺒﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﺘﺎ , ﺑﺎﻍ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﺺ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﺎﮦ نہ ﻟﯽ ہو،

    ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ لوگ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮍﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﻮ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﺳﮯ
    ﺟﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ

    ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ،
    ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

    @khubaibmkf

  • نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    نور کیس، سماج کیلئے تازیانہ . تحریر: سید غازی علی زیدی

    امیر زادہ و اعلیٰ تعلیم یافتہ، جوان اور خوبصورت، مال و دولت کی ریل پیل، نوکروں کی فوج ظفر موج، امریکی شہریت کا حامل، پارٹی کلچر کا دلدادہ، مادر پدر آزادی کا قائل، 
      ظاہر جعفر

    لیکن اب بس ایک سفاک قاتل
    کیونکہ ایک لڑکی نے شادی سے انکار کردیا!!!
    تو لڑکی کی یہ اوقات؟ 

    کیا ہوا اگر وہ بھی امیر تھی، بچپن کی دوست تھی، اس کا باپ  حکومتی اعلی ترین عہدوں پر فائز رہا تھا۔ تھی تو وہ ایک لڑکی۔

     مردانگی کیخلاف یہ انکار کیسے برداشت کر لیتا؟؟؟

     گو کہ وہ اس طبقے سے تعلق رکھتا جہاں صنفی امتیاز کی بجائے صرف مساوات کا دلفریب تصور دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا۔ لیکن فطرت کون بدل سکتا؟ ایلیٹ کلاس کی نفسیاتی معالج ماں کا لاڈلا سپوت، جو خود بھی ایلیٹ تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مشاورت کیلئے بطور بہترین استاد مشہور تھا۔ بظاہر مہذب اور عمدہ اخلاق کا حامل، لیکن درحقیقت سفاک اور جنونی، بظاہر عورتوں کی مادر پدر آزادی کا علمبردار لیکن عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والا۔ جس کی پر تشدد حرکتوں سے نہ تو خود اسکی اپنی ماں محفوظ تھی نہ کوئی یورپین کال گرل۔ امریکہ و یورپ نے تو ڈیپورٹ کر کے پابندی لگا دی لیکن پاکستان میں دولت کے بل پر حقائق چھپانا کیا مشکل؟ جبکہ آپ کے والدین نہ صرف امیر ہوں بلکہ جاہ و حشمت والے بھی۔ جب دولت اور افسر شاہی آپ کے گھر کی باندی ہوں تو کیسا خوف، کیسی اخلاقیات۔ اور رہا خوف خدا تو خدا کو تو آپ مانتے ہی نا ہوں۔ خدا کو غیر ضروری قرار دے کر جب آپ زندگی سے نکالتے ہیں تو ساتھ ہی ایمان کا نور اور دل کا سکون بھی چھن جاتا لیکن الحادیت کے علمبرداروں کو یہ بات کون سمجھا سکتا جب خود خدا ہی ان سے منہ موڑ چکا ہو۔

    نشے کا عادی، شراب و کباب کا دلدادہ، اذیت پسند، ملحد، غرض کونسی  بد خصلت تھی جو اس میں نہیں تھی۔بدقسمتی سے نور اسکی پرتشدد طبیعت اور سیاہ ترین فطرت کے کچھ پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرچکی تھی۔سو پوری منصوبہ بندی سے اس کے گرد ایک شیطانی جال بنا گیا۔ بچپن کی دوستی اور پرانی محبت کا واسطہ دے کر کچھ دن آخری بار ساتھ گزارنے پر مجبور کیا گیا اور یہ بات تو طے ہے کہ لڑکی چاہے امیر زادی ہو یا فقیرنی، مردوں کے جھانسے میں آ ہی جاتی ہے۔ ساری عقلمندی، تعلیم، خاندانی رواج سب طاق میں پڑے رہ جاتے جب لڑکی اپنی حدود پار کر لیتی پھر چاہے وہ روایتی مشرقی عورت ہو یا مادر پدر آزادی کی حامی۔ سو قارئین کرام اسکے بعد شروع ہوتی ہے سفاکیت اور بربریت کی وہ کہانی جس کا ہرروز ایک نیا دلخراش پہلو منظر عام پر آ رہا ہے۔ وہ دلدوز تفاصیل جس نے سارے لبرل ازم اور جدیدیت کا حسین مگر کھوکھلا بت پاش پاش کر دیا ہے۔

    ایک نہتی لڑکی جو اندھی محبت کے نشے میں چور تھی اسکو وحشیانہ انداز میں مارمار کر سارا نشہ اتار دیا۔ حبس بیجا میں رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھاگنے کی ناکام کوشش پر سر کے بالوں سے گھسیٹا اور بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کرتے چھریوں کے وار کرکے مار دیا اور جب شقی القلب انسان کی اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو سر ہی قلم کر کے لاش سے4 فٹ کے فاصلے پر رکھ دیا۔ خدا کی پناہ اس واردات کا تصور ہی عام انسان کے رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہے۔ لیکن یہ سب کرتے نہ قاتل کو کوئی جھرجھری آئی نہ رحم کی کوئی رمق اس کے دل میں جاگی۔ گھر کے ملازم گونگے بہرے بنے سب دیکھتے رہے لیکن کوئی انسانیت کسی میں بیدار نہ ہوئی۔  ستم بالائے ستم یہ کہ وہ ماں باپ جن کی آنکھوں کے سامنے نور پلی بڑھی تھی وہ ایک ایک لمحے کی کاروائی سے واقف تھے لیکن بجائے بیٹے کو روکنے کے الٹا ملازمین کو ہدایات جاری کرتے رہے۔ یہاں تک کہ نور کے والد کے سامنے نور کی گمشدگی پر سختی سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا۔ شور سن کر راہ چلتے کسی بھلا مانس کے فون کرنے پر جب پولیس پہنچی تو طاقت کے نشے میں چور قاتل کے ماں باپ پولیس کو بھی دھمکاتے اور معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے۔ کیونکہ کچھ دیر بعد قاتل کی بیرون ملک روانگی طے تھی۔

    انسانیت، اعتبار، تعلق داری، اخلاقیات، رواداری۔۔۔ غرض ہر چیز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں اس اندوہناک واقعے نے۔ شاید اگر نور کے والد بارسوخ نہ ہوتے تو کبھی قاتل نہ پکڑا جاتا۔ اگر نور کا تعلق کسی عام گھرانے سے ہوتا تو کیا کبھی بھی یہ تفصیلات سامنے آنی تھیں؟

    اس سانحہ میں کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ اس بہیمانہ قتل نے ہمارے معاشرے کے کئی تاریک ترین پہلوؤں کو بری طرح سے آشکار کر دیا ہے۔ پہلی دفعہ جدیدیت اور لبرل ازم کی ہولناکیاں اس شدت سے سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے مادر پدر آزادی کی طرف تیزی سے گامزن معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہر معاشرتی برائی کا الزام مذہبی انتہا پسندی کے سر ڈال کرلبرل ازم اور جدیدیت کا راگ الاپنے والوں کی زبانیں اب کنگ ہیں.

    آج تک مادر پدر آزادی اور عورت مارچ کے حق میں نعرے لگانے والوں نے عورتوں پر ظلم وتشدد کے تمام واقعات کی جڑ پدرسری معاشرے، مذہبی روایات اور قدامت پرست طبقے کو قرار دیا ہے۔ وہ اب بت بنے بیٹھے ہیں۔ عورت مارچ کے نام پر طوفان بے حیائی مچانے والوں کو سانپ سونگھ چکا ہے۔

     اگر پاکستان کے امیر ترین طبقہ کا نوجوان، ماڈرن ازم کا پروردہ، فارن کوالیفائڈ ملحد ہونے کے باوجود اتنی سفاکیت سے جان لے سکتا تو باقی کیا بچتا؟ الحادیت کی تو بنیاد ہی یہ کہ کوئی خالق حقیقی نہیں کوئی آسمانی مذہب نہیں بلکہ انسانیت ہی اصل مذہب ہے۔ پھر اب وہ انسانیت کہاں گئی؟

    امیر کبیر ماں باپ کے بچے شرابی، نشئی، زانی، ملحد بنے لوگوں کی زندگیاں اجاڑ رہے اور ماں باپ ماڈرن بننے کے چکر میں جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے۔ بلکہ الٹا اولاد کی سنگین غلطیوں پر پردہ ڈال رہے کبھی رشوت دیکر کبھی دیت ادا کرکے۔ ظاہر جعفر کا باپ بہت بڑی کامیاب تعمیراتی کمپنی کا مالک لیکن اپنے ہی بیٹے کے کردار کی تعمیر میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ دوسروں کے بچوں کی کونسلنگ کرتی ماں اپنے بیٹے کا آخر تک ناجائز دفاع کرتی رہی۔ یہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ ہر ہر طبقے کیلئےلمحہ فکریہ ہے کیونکہ الحادیت و جدیدیت کا زہر اب مڈل کلاس بلکہ مزدور طبقے تک میں سرایت کر چکا ہے۔ کبھی کوئی لڑکا لڑکی کی لاش، غیرقانونی  اسقاط حمل کے بعد یونیورسٹی کے گیٹ پر پھینک کر چلا جاتا تو کبھی کوئی عثمان مرزا سالوں لڑکیوں کو بلیک میل کر کے ریپ کرتا رہتا۔

    خدارا! لڑکیوں کو چاہیے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کوئی بھی غیر محرم کبھی اعتبار کے قابل نہیں ہوسکتا۔ پیار و محبت کے جھانسے میں آ کر اپنی اور اپنے والدین کی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔ جو حقیقی چاہت رکھتا وہ باعزت طریقے سے رشتہ بھیجتا گیسٹ ہاؤسز میں چھپ کر نہیں بلاتا نہ برہنہ تصاویر مانگتا۔ خدارا سمجھیں یہ محبت نہیں ہوس ہے اور دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری پڑی۔ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی، بیوی جو مقام دیا ہےاسی میں عورت کی عزت محفوظ ہے باقی ہر رشتہ بس ٹائم پاس اور جھوٹ ہے جس کا مقدر ذلت ہوتا۔ لڑکوں کے جھانسے میں آکر صرف رسوائی مقدر ہوتی یا دردناک موت۔

    ابھی بھی وقت ہے ہمارا معاشرہ اپنی ان قدروں کیطرف واپس پلٹ جائے جن کو دقیانوسی کہہ کر ہم ترک کر چکے ہیں۔ اخلاقیات، شرم وحیاء، والدین کا احترام سب سے بڑھ کر اسلام کی اقدار و روایات کو دوبارہ سماج میں رائج کرنا ہوگا۔ رزق حلال اور قناعت پسندی کو اپنانا ہو گا۔ جائز و ناجائز طریقے سے دولت کمانے کے چکر میں ہم نے اللّٰہ تعالیٰ کو بھی ناراض کردیا ہے اور خود کو تباہی کے دہانے پر بھی کھڑا کر دیا ہے۔ نتیجتاً دین، دنیا، آخرت سب ہم سے چھنتی جا رہی۔ نور کیس نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔

    نور مقدم کیس پورے معاشرے کیلئے عبرت بھی ہے اور سبق بھی۔ اس سانحہ نے ہمارے معاشرے کی وہ مکروہ حقیقت آشکار کردی ہے جس سے ہم سب کہیں نہ کہیں نظریں چرا رہے تھے۔ والدین سے دست بدست التجا ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان کی تربیت صحیح اسلامی اصولوں پر کریں۔ ان کو رزق حلال مہیا کریں اس سے پہلے کہ آپ کی اپنی اولاد کا انجام نور یا جعفر جیسا ہو۔

     بقول اقبال

     رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

    روشن ہے نگہہ آئینۂ دل ہے مکدر

    بڑھ جاتاہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے

    ہوجاتے ہیں افکار پر اگندہ و ابتر

    @once_says

  • آج کے نوجوان   تحریر :  نواب فیصل اعوان

    آج کے نوجوان تحریر : نواب فیصل اعوان

    آج کا نوجوان طبقہ والدین کے نزدیک باغی ہے ۔
    والدین کا نافرمان و گستاخ ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں ۔
    نوجوان طبقہ آزادی کا خواہاں ہے جبکہ والدین اپنی اولاد کو اپنے اثرو رسوخ تلے رکھنا چاہتے ہیں ۔
    والدین کے نزدیک ان کی اولاد ان کے ہاتھ سے نکل جاٸیگی جبکہ نوجوان طبقے کے نزدیک ان پہ یہ سب مسلط کیا جا رہا ہے جبکہ وہ والدین کے اس اثرورسوخ سے چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔
    اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ غیر ضروری دباٶ ان پہ بن وجہ غصہ کرنا ان کی شخصیت پہ اثرانداز ہورہا ہے ۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ بچوں پہ وہ فیصلے مسلط کرنا جو ان کے نزدیک سہی نہیں ہیں ۔
    ایسا کرنا بچوں کو والدین سے باغی بنا رہا ہے ۔
    بچوں کے نزدیک اب وہ بڑے ہوگۓ ہیں ان کو اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں جبکہ والدین ابھی اپنے بچوں کو نومولود بچہ ہی سمجھتے ہیں جس سے نوجوان باغی دکھاٸ دیتے ہیں کہ ان کو بڑا تصور کرتے ہوۓ اپنے من پسند فیصلے کرنے کا حق دیا جاۓ ۔
    بچے غلط کمپنی کا شکار ہو رہے ہیں گھریلو پریشر کی وجہ سے تھوڑی دیر ریلیکس ہونے کے بہانے ناجانے کیا کیا کر رہے ہیں ۔
    اکثر اوقات بچوں کے منہ سے یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ان کے والدین ٹھیک نہیں ہیں ایسے والدین مر ہی جاٸیں تو اچھا ہے ۔
    آخر اتنی بدتمیزی ، بے حیاٸ ، نافرمانی اور بغاوت بچوں کے ذہن میں آٸ ہی کیوں ۔؟
    اس کے دو پہلو ہیں ۔
    پہلا پہلو یہ ہے کہ والدین دوسروں کی باتیں سن کے جب اپنی اولاد کو دوسروں کے سامنے ڈانٹیں گے تو وہ والدین سے نفرت کرنے لگیں گے ۔
    دوسرا پہلو یہ ہے کہ
    والدین اولاد کو اہمیت دیتے ہی نہیں ہیں جس سے اولاد نافرمان و باغی ہوتی جا رہی ہے ۔
    حدیث مبارکہ ہے کہ
    ” ماں کے پیروں تلے جنت ہے “
    دوسری حدیث میں آیا ہے کہ
    ” باپ جنت کا دروازہ ہے “
    تو کیا ہوا ایسا کہ جس ماں کے پیروں تلے جنت رکھی ہے اللہ پاک نے اور جس باپ کو جنت کا دروازہ بنایا ہے ان سے ہی اولاد عاری کیوں ہے ۔؟
    اس سلسلے میں والدین کچھ رہنما اصول اپنا لیں تو شاید بغاوت کی تیزی سے بڑھتی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے ۔
    پہلا اصول
    والدین اولاد کیلۓ وقت نکالیں تاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کے ان سے ان کے معاملات زندگی بڑے تحمل سے پوچھیں ۔
    دوسرا اصول
    اولاد سے ان کی خوشی کے بارے میں پوچھا جاۓ تاکہ اولاد غلط فیصلے لینے سے بچ سکے کہ ان کی خوشی کس چیز میں ہے کیا جو یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے یا کیا جاۓ گا وہ ان کو منظور ہے تاکہ بچوں میں خوداعتمادی پیدا ہو اور وہ آپ کو جواب دے سکیں ۔
    تیسرا اصول
    بچوں سے پوچھ لیا کریں کہ مستقبل میں وہ کیا بننا چاہتے ہیں ان کا کیا کرنے کا ارادہ ہے وہ کیا کر سکتے ہیں ۔؟
    دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں پہ جبری فیصلے مسلط کر دیتے بچہ کہتا میڈیکل فیلڈ میں جانا تو والدین نہیں تم انجینٸر بنو گے جس سے اس پہ پریشر پڑتا ہے اور بچہ وہ اہداف حاصل نہیں کر پاتا جس کا وہ ارادہ کیۓ ہوۓ ہوتا ہے ۔
    چوتھا اصول
    بچوں کی دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس میں غصے کی شدت پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک باعزت شہری بننے کی بجاۓ انتقام پسند بن جاتا ہے جو کہ معاشرے کیلۓ ٹھیک نہیں ہے ۔
    پانچواں اصول
    بچوں کے ساتھ اپنا رویہ دوستانہ رکھیں تاکہ بچے والدین سے اپنی ہر اچھی بری بات شٸیر کرتے ہوۓ نہ ڈریں ۔
    کٸ بلیک میلنگ کے واقعات میں بچے اس لیۓ بھی بلیک میل ہو رہے ہوتے ہیں کہ وہ والدین کو نہیں بتا سکتے کیونکہ والدین نے الٹا ان کو ہی قصوروار ٹھہرا دینا ہوتا ہے ۔
    چھٹا اصول
    بچوں کی نفسیات سمجھ کے ہر معاملے پہ ان کے ساتھ بات چیت کی جاۓ ان کو اچھا برا سمجھایا جاۓ رویہ نرم اور شفقت بھرا رکھا جاۓ تو بچے والدین کے مزید قریب آجاتے ہیں ۔
    اگر یہی بنیادی چھ اصول آج سے ہی والدین اپنا لیں تو بچے نہ تو جھوٹ بولیں گے ناں نافرمانی کریں گے نہ باغی ہونگے نہ غلط کمپنیوں کا شکار ہونگے ۔

  • نظریں شیطان کا تیر- تحریر: نصرت پروین

    ارے عادتِ بد نگاہی سے خود کو
    نگاہِ خدا میں گرائے ہوئے ہو
    الله سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب میں مردوں کو نظر کی حفاظت اور عورتوں کو حجاب کا حکم دیا۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم فتنوں سے بھرپور ایسے دور میں جی رہے ہیں۔ جہاں بے حیائی سرِ عام ہے۔ اور بے حیائی کے نتائج بھی واضح ہورہے ہیں۔ جہاں ایک گروہ کے نزدیک حجاب بوجھ ہے اور حجاب کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اس دلیل کے ساتھ کہ مرد اپنی نظر کی حفاظت کریں تو دوسرے گروہ کے نزدیک بس عورت کو حجاب پہننا چایے تو بے حیائی کا خاتمہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ جیسے عورت پر حجاب فرض ہے ویسے ہی بلا تفریق مرد پر بھی نگاہیں نیچی رکھنا فرض ہے۔ اور دونوں اپنے اعمال کے لئے الله کے سامنے جوابدہ ہیں۔ تو نظر کی حفاظت فرض ہے۔ آج نظر کی حفاظت کرنا تو بہت دور بلکہ فیشن اور ماڈرن ازم کی طرف لوگوں کو راغب کر کے اس بے حیائی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
    نظروں کو شیطان کا تیر کہا جاتا ہے۔ یہ شیطان کی طرف سے پہلا حملہ ہوتا ہے جس کے زریعے شیطان انسان کو برائی میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ بد نگاہی کا ہمارے تمام عقائد اور اعمال سے گہرا تعلق ہے یہ بد نگاہی ہی تو ہے جس سے کبیرہ گناہ کی ابتدا ہوتی ہے اگر نگاہیں جھکی رہیں تو دل کا نظام بھی درست رہتا ہے لیکن جیسے ہی یہ نگاہیں آزادانہ اٹھیں دل کے اندر کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ اندر کا تمام نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ دراصل آغاز وسوسوں سے ہوتا ہے۔ شیطان انسان کو کئی کئی وسوسے دلاتا ہے کہ انسان آزادانہ طور پر بد نگاہی کا مرتکب ہو اور جب انسان ایسا کرتا ہے تو پھر دل کے اندر کئی کئی سوچیں آتی ہیں۔اور انسان ان سوچوں کو نہیں جھٹکتا بلکہ انہیں سرکش احساسات میں پروان چڑھاتا ہے اور پھر بد نگاہی کے توسط سے وہ گھناؤنے اعمال بن جاتے ہیں۔ جو گناہِ کبیرہ ہیں۔ پھر انسان مسلسل ان فحش اعمال کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور اسطرح انسان گناہوں کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور کفر میں ایسا پھنس جاتا ہے کہ اکثر واپسی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔

    الله جی اپنی کتابِ حبیب میں فرماتے ہیں۔
    قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ ﴿۳۰﴾
    ترجمہ: مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
    (سورہ النور:30)
    اس آیت میں نگاہیں نیچی کرنا، ادھر ادھر نہ دیکھنا اور الله کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا مقصود ہے (تفسیر ابنِ کثیر)
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ نگاہوں کی حفاظت نفس کی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ الله رب العزت نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم مشقت کے طور پر نہیں دیا بلکہ یہ الله کی اپنے بندوں پر رحمت ہے۔ یہ آیت دو ٹوک انداز میں بد نگاہی کی مذمت کر رہی ہے۔ احادیث میں بھی اس معاملے میں بہت سی وضاحت موجود ہے۔ الله کے رسول نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے پوچھا کہ اگر کام کاج کے لئے ضروری ہو تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر راستوں کا حق ادا کرتے رہو۔ لوگوں نے راستوں کے حق کے متعلق پوچھا تو کریم نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو ایذا نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
    (بخاری)

    حضرت جریر رضی الله عنہ نے رسول صلی الله علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نگاہ فوراً ہٹا لو۔
    (صحیح مسلم)

    نظر کی حفاظت پر الله جی اپنے بندے کو اپنا تقرب دیتے ہیں۔ اسے ایسی عبادت عطا کرتے ہیں کہ انسان بہت لذت محسوس کرتا ہے۔
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کی نگاہ عورت کے حسن و جمال پر پڑ جائے اور وہ اپنی نگاہ ہٹا لے تو الله تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ دل میں محسوس کرتا ہے۔
    (مسند احمد)
    بدنگاہی انسان کے لئے بے سکونی کا سبب بن جاتی ہے۔ انسان مایوسی، ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ انسان بے چین رہتا ہے۔ وہ برائی کو پروان چڑھانے کے لئے ابلیس کے ساتھ مشاورت میں مگن ہوجاتا ہے۔ وہ ایک ایسی بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے جس کا علاج ناممکن ہے کیونکہ بدنگاہی انسان کے خیالات، جذبات کو منتشر کر دیتی ہے۔ یوں انسان الله کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔
    ایک نشید کے الفاظ کچھ یوں ہیں۔
    بدنگاہی بے سکونی کی وجہ کیسے نہ ہو
    بدنگاہی جرم ہے تو پھر سزا کیسے نہ ہو۔

    صورتِ جنس مخالف کو مسلسل دیکھنا
    غلطیاں آنکھیں کریں دل مبتلا کیسے نو۔

    خالقِ دل کی بجائے دل میں رہتے اور ہیں۔
    پھر یہ شب بھر جاگنے کا سلسلہ کیسے نہ ہو۔

    لب پہ جنت کی دعائیں خوب ہیں لیکن میاں
    اتباعِ نفس و شیطاں میں خطا کیسے نہ ہو۔

    فتنہِ عشق مجازی دشمنِ ایمان ہے
    ہم کریں من مانیاں رب کو پتہ کیسے نہ ہو۔

    بندہِ رحمن ہو کر نفس کے تابع ہوئے
    نفس کے ماروں کا شیطاں رہنما کیسے نہ ہو۔

    چند مٹی کے کھلونوں کو طلب کرنے لگے
    پھر انہیں ہدہد موبائل کا نشہ کیسے نہ ہو۔

    امام ابنِ قیم لکھتے ہیں کہ زنا کے واقعات کا آغاز نگاہوں سے ہوتا ہے جس نے اپنی نگاہ کو آزاد چھوڑ دیا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالا۔ انسان تک پہنچنے والی مصیبت اور آفات میں سب سے پہلے نظر کے زریعے ہی مصیبت اور پریشانیاں پہنچتی ہیں۔ جب انسان نظروں کی لاپرواہی کے سبب مصیبت میں پڑجاتا ہے تو پھر اسے سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا وہ ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اس پر اسے نہ صبر کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے کی اور یہ انسان کے لئے سب سے بڑا عذاب ہوتا ہے۔
    بدنگاہی انسان کے ایمان کی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور بہت سے دیندار لوگ بھی بدنگاہی کی سبب گمراہ ہوجاتے ہیں۔ ایک مؤذن جسے اذان دیتے ہوئے چالیس سال ہوگئے تھے۔ ایک دن اذان دیتے ہوئے اس کی نظر ایک نصرانی لڑکی پر پڑ ی تو دل اور عقل دونوں پر پردے پڑ گئے اذان چھوڑ کر اس لڑکی کے پاس پہنچا اور نکاح کا پیغام دیا۔ وہ لڑکی کہنے لگی میرا مہر تجھ پر بھاری ہو گا گی۔ پوچھا تیرا مہر کیا ہے؟ لڑکی بولی دین اسلام چھوڑ کر نصرانی بن جا (معاذالله) یہ سن کر اس بدنصیب نے مرتد ہو کر عیسائ مذہب اختیار کر لیا۔ نصرانی عورت نے کہا میرا باپ گھر کے سب سے نچلے کمرے میں ہے تو اس سے نکاح کی بات کر لے۔ چنانچہ جب وہ اترنے لگا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ شادی کی تمنا دل میں لئے ہی مردہ حالت میں مر گیا۔ آپ اس واقعے کو دیکھیں۔ ایک دیندار انسان پر بھی ابلیس کیسے وار کرتا ہے اور "نگاہ اٹھی” اور ایمان کا سودا کر دیا۔
    نگاہوں کی حفاظت مشکل کام ہے لیکن الله کا حکم ہے اور معاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ بھی ہے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو الله کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو الله کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو الله کے خوف میں رو دے گو اس میں آنسو صرف مکھی کے سر برابر ہی نکلا ہو۔
    @Nusrat_writes

  • شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ  تحریر: احسان الحق

    شہادت خلیفہ دوئم، امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ تحریر: احسان الحق

    27 ذوالحج سے یکم محرم الحرام تک کے ایام خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے زخمی ہونے اور شہید ہونے کے دن ہیں. امیرالمؤمنین نے مدینہ منورہ میں اجنبی غیر مسلم نوجوانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی. ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے امیرالمؤمنین کی خدمت میں معروضہ پیش کیا کہ ایک کاریگر نوجوان ہے جو لوہار اور بڑھئی کے ساتھ ساتھ ماہر خطاط بھی ہے. اس کے علاوہ بھی کافی ہنر جانتا ہے. اگر اس نوجوان کو مدینے میں آنے کی اجازت عنایت فرمائیں تو لوگوں کا بہت فائدہ ہوگا.

    کاریگر نوجوان کی مدینہ آمد سے پہلے کچھ اور اہم حالات اور واقعات جان لیتے ہیں. معید بن مسیب اور حاکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اونٹ پر سوار ہو کر منیٰ سے نکلے اور مقام بطح پر رک گئے. سیدنا عمرؓ اپنے اونٹ کے سہارے کھڑے ہو کر آسمان کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائی.
    "اے اللہ، میں کمزور ہو گیا ہوں. میری قوت جواب دے رہی ہے. میرے خیالات منتشر ہو رہے ہیں. اس سے پہلے کہ ضعف عقلی کی وجہ سے خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر ہو، مجھے اپنے پاس بلا لے”
    امام بخاری نے بحوالہ ابو صالح لکھا ہے کہ ایک دن حضرت کعب بن احبار نے امیرالمؤمنین سے فرمایا کہ میں نے تورات میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ شہید کئے جائیں گے. یہ سن کر آپ امیرالمؤمنین فرماتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں رہتے ہوئے مجھے شہادت ملے.
    اسلمی کہتے ہیں کہ کعب کی بات سن کر امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ "اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب عطا فرما اور میری روح مدینہ میں قبض ہو اور یہاں مجھے دفن فرما”

    حج کی غرض سے امیرالمؤمنین خلافت کے 11ویں سال بمطابق ذوالحج 23 ہجری کو مکہ مکرمہ تشریف لے گئے. اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے. جمعہ کا طویل خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو نصیحتیں کیں اور ایک خواب کا ذکر کیا. معدان بن ابوطلحہ کی زبانی حاکم لکھتے ہیں کہ خطبہ جمعہ میں امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو ٹھونگیں ماریں. جس کا مطلب ہے کہ میری موت نزدیک ہے. آپ نے یہ فرمایا کہ لوگ اصرار کر رہے کہ میں اپنا جانشین مقرر کروں، اگر میری موت جلدی واقع ہو جائے تو ان 6 لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر لینا جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حیات میں راضی تھے. آپ نے خلافت کے لئے ان 6 حقداروں اور امیدواروں کا نام لیا.
    عثمان بن عفان، علی بن ابوطالب، سعد بن وقاص، عبدالرحمن بن عوف، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا.

    کاریگر نوجوان کا نام ابولولوء فیروز تھا جو کہ ایرانی مجوسی تھا. ابولولوء مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا. ابولولوء فیروز ایک دن امیرالمؤمنین کے دربار میں حاضر ہو کر حضرت مغیرہ بن شعبہ کی شکایت کی کہ میں جو دن بھر کماتا ہوں میرا آقا اس میں زیادہ رقم لے لیتا ہے. اس میں سے کمی کروا دیں. امیرالمؤمنین نے دریافت کیا کہ کون سا کام جانتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں لوہار بھی ہوں، بڑھئی بھی ہوں اور بیل بوٹے بنانا بھی جانتا ہوں. سیدنا عمرؓ نے پوچھا کہ تمہارا آقا روزانہ کتنی رقم لیتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ دو درہم روزانہ. امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ تم جو کام کرتے ہو اس کے لئے تو یہ رقم مناسب ہے. یہ سنتے ہی ابولولو اندر سے ناراض ہو کر چلا گیا.

    دوبارہ امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ابولولوء کو بلایا اور فرمایا کہ تم نے کہا تھا کہ ہوا سے چلنے والی چکی بنا کر دونگا. اس پر ملعون ابولولوء نے کہا کہ ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ تم یاد کروگے. اس کے جانے کے بعد امیرالمؤمنین سیدنا عمرؓ نے ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ مجھے دھمکی دے کر گیا ہے اور میں اس پر گرفت نہیں کر سکتا کیوں اس کا جرم واضح یا ظاہر نہیں، اس نے ذو معنی الفاظ میں اپنا ارادہ ظاہر کر کے مجھے دھمکی دی ہے.
    اگلے دن صبح کی نماز کے وقت ملعون ابولولوء مسجد نبویؐ میں چھپ کر بیٹھ گیا. قاتل کے پاس 2 رخ والا دو دھاری خنجر تھا. جس کے درمیان میں دستہ تھا.
    امیرالمؤمنین نماز پڑھا رہے تھے اور جب سورۃ یوسف کی تلاوت شروع کی تو ملعون ابولولوء نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیرالمؤمنین کے کندھے اور کوکھ کے درمیان 6 وار کئے اور بھاگنے کی کوشش میں پہلی صف میں کھڑے 13 نمازیوں پر بھی پر حملہ کیا. اس حملے میں امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو کر گر پڑے. ایک عراقی نے ابولولوء پر چادر پھینک کر پکڑنے کی کوشش کی مگر ابولولوء نے اسی خنجر سے خود پر وار کرتے ہوئے خودکشی کر لی. 13 زخمی نمازیوں میں سے 7 شہید ہو گئے.

    ادھر امیرالمؤمنین شدید زخمی ہو چکے تھے. انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو نماز مکمل کرنے کے لئے آگے کر دیا. امیرالمؤمنین نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ مجھ پر کس نے حملہ کیا. بتایا گیا کہ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے، یہ سنتے ہی امیرالمؤمنین نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے ایک ایسے بندے نے مارنے کی کوشش کی جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ نہیں کیا. میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہو رہی جو کلمہ گو ہو. آپ کو گھر لایا گیا. زخمی امیرالمؤمنین کو دودھ پلایا گیا تو وہ زخموں کے راستے پیٹ سے باہر نکل آیا. ایسے میں آپ امیرالمؤمنین کو اندازہ ہو گیا اب میرا زندہ رہنا بہت مشکل ہے.
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ میرا کتنا قرض ہے، حساب لگا کر بتایا گیا کہ چھیاسی ہزار. آپ نے اپنے بیٹے کو یہ قرض اتارنے کے ساتھ ساتھ دوسری نصیحتیں بھی کیں پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کہ جا کر امی عائشہ صدیقہ کو کہو کہ عمر سلام کہتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پہلو میں دفن ہونے کی اجازت چاہتا ہے. امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت دے دی. امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد اور دفنانے سے پہلے میرا جنازہ امی عائشہ صدیقہ کے پاس لے جانا اور دوبارہ پوچھنا، ہو سکتا ہے ابھی انہوں نے مجھے بحیثیت خلیفہ دفن ہونے کی اجازت دی ہو.

    امیرالمؤمنین 27 ذوالحج 23 ہجری کو زخمی ہوئے اور 3 دن بعد یکم محرم 24 ہجری کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے. آپ کی عمر پر کچھ اختلاف ہے مگر 63 سال پر زیادہ اتفاق ہے. آپ امیرالمؤمنین کا جنازہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے پڑھایا. حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت سعد بن وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے امیرالمؤمنین کی میت مبارک کو قبر میں اتارا. خلیفہ دوئم امیرالمؤمنین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امام الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفہ اول امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا ساتھ نصیب ہو گیا.

    @mian_ihsaan

  • موسمیاتی تبدیلیاں اور پاکستان  تحریر : احسن وقار خان

    موسمیاتی تبدیلیاں اور پاکستان تحریر : احسن وقار خان

    دنیا کا تیس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ۔جبکہ پاکستان میں جنگلات کی تعداد ”آٹے میں نمک “کے برابر ہےـ جو بمشکل تین سے چار فیصد بنتی ہے اور ان جنگلات کو بھی مافیا کاٹ کاٹ کر ختم کرتا جا رہا ہے ـجس وجہ سے بہت سی موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی جا رہی ہیں ـ

    ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے ـجبکہ اس کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔سموگ اور اس جیسی دیگر پولوشن میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔

    خدارا اپنی آنے والی نسلوں کے لیے درخت لگائیں ۔جںگلات ماحولیاتی تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس وقت ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔درختوں کی کٹائی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں .

    عمران خان کا شروع کیا گیا
    ”بلین ٹری پروجیکٹ “
    ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بہت مفید ہے ۔ہر شخص کو چاہیے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ۔ہر شخص کو اس پروجیکٹ میں آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔جنگلات لگانا ہماری آنے والی نسلوں کو زندگی دینے کے مترادف ہے۔
    درخت نہیں ہوں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو جاۓ گا ۔آلودگی سے بھری آب و ہوا ان کے لیے بیماریوں کا باعث ہوں گی ۔
    خدارا درخت لگائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو زندگی بخشیں ۔
    پاکستان کو سر سبز و شاداب بنائیں ۔
    پاکستان زندہ باد

  • پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط  تحریر:ضمیر آفاقی

    پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط تحریر:ضمیر آفاقی

    پی این ایس ذوالفقار کا سمندروں پر تسلط
    پاکستان نیوی کی سمندری سرحدوں سے لیکر معاشی اور امدادی اموں میں خدمات سے تاریک بھری پڑی ہے جس کا زکر اکثر ہوتا رہتا ہیں لیکن پاک نیوی کے بحری جہاز دنیا بھر میں امدادی سرگرمیوں کءحوالے سے بھی نام کما رہے ہیں ایسا ہی ایک بحری جہاز پی این ایس ذوالفقار جو سمندر پر اپنا تسلط قائم رکھنے اور نگرانی کے مقصد کے لیے حاصل کردہ پاک بحریہ کا جدید ترین جہاز ہے یہ تباہ کن بحری جہاز زمین سے زمین اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے اور اس میں دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے تارپیڈو بھی نصب ہیں۔ یہ بحری جہاز ملک کی ساحلی پٹی کی حفاظت اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار ایک مکمل طور پر فعال پیکج ہے۔
    ابھی حال ہی ہی میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے روس کی بندرگاہ سینٹ پیٹرزبرگ کا دورہ کیا جو پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کی شاندارمثال ہے ۔ پی این ایس ذوالفقار نے روسی بحریہ کی 325 ویں ڈے پریڈ میں شرکت کی۔سینٹ پیٹرزبرگ میں جہاز کے قیام کے دوران مشن کمانڈر اور جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے لیننگراڈ نیول بیس کے کمانڈر کیپٹن سالوشین آندریو اور ڈپٹی گورنر خارجہ تعلقات جناب ایوگینی ڈی گریگوریف سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ معززین نے پاک بحریہ کیلئے خیر سگالی اور گرم جوشی کا اظہار کرتے ہوے روس کی نیول ڈے پریڈ میں شرکت پر پاک بحریہ کا شکریہ ادا کیا۔ مشن کمانڈر نے روسی عوام بالخصوص روسی بحریہ کیلئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ مشن کمانڈر نے بندر گاہ پر جہاز کے قیام کے دوران روسی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔بعدازاں مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے پسکیریوسکو میں یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ اس کے علاوہ رشین نیوی ڈے کی اہمیت کے لحاظ سے پی این ایس ذوالفقار پر ایک تقریب اور پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر روسی حکومت کے عہدیداروں ، سفارتی شخصیات اور رشین فیڈریشن نیوی کے افسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔پی این ایس ذوالفقار کا روس کا دورہ اور 325 ویں نیوی ڈے کے موقع پر روسی بحریہ کی پریڈ میں شرکت پاک بحریہ اور رشین فیڈریشن نیوی کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کی تجدید اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کا باعث ہے۔ بندرگاہ سے روانگی پر پاک بحریہ کے جہاز نے رشین فیڈریشن نیوی کے جہاز اوڈینٹوسو کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق عریبین مون سون میں بھی حصہ لیا۔
    علاوہ ازیں عالمی سمندروں میں تعیناتی کے سلسلے میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے ہیمبرگ، جرمنی کا بھی دورہ کیا۔ جہاز کی آمد پر، برلن میں پاکستان کے دفاعی اتاشی اور جرمن بحریہ کے افسران نے جہاز کا استقبال کیا۔بندرگاہ کے دورے کے دوران، مشن کمانڈر کموڈور سید رضوان خالد اور جہاز کے کمانڈنگ افسر کیپٹن راو¿ احمد عمران انور نے چیف آف اسٹاف جرمن نیول کمانڈ رئیر ایڈمرل فرینک لینسکی، کمانڈر ہیمبرگ نیول کمانڈ کیپٹن مائیکل گس اور ہیمبرگ پورٹ کے چیف ہاربر ماسٹر مسٹر پولمین سے ملاقاتیں کیں۔ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے کے امن اور بحری سیکیورٹی کے لیے پاک بحریہ کی خدمات کو سراہا گیا۔ مشن کمانڈر نے جرمنی کی عوام کے لیے بالعموم اور جرمن بحریہ کے لیے بالخصوص چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی جانب سے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسر نے جرمن بحریہ کی یادگار لیبو کیل پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ علاوہ ازیں پی این ایس ذوالفقار پر پاکستان اور جرمنی کے مابین 70سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے کی خوشی میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔قبل ازیں پی این ایس ذوالفقار نے پولینڈ بحریہ کے جہاز او آر پی کورموران کے ساتھ دوطرفہ بحری مشق میں حصہ لیا۔ مشق میں جدید بحری حربے جن میں میری ٹائم انٹر ڈکشن آپریشنز بورڈنگ، فورس پروٹیکشن ڈرل شامل تھے۔ مشق کا مقصد بحری معاملات کے ذریعے دفاعی معاونت کو فروغ دینا اور دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔پی این ایس ذوالفقار کا دورہ جرمنی اور پالش بحریہ کے ساتھ بحری مشق میں شرکت دوست ممالک کے درمیان نہ صرف بحری افواج کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث ہے بلکہ سفارتی اور دفاعی تعلقات کوبھی فروغ دیتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار نے برطانیہ کی بندرگاہ پورٹسموتھ کا بھی دورہ کیا، جہاں میزبان بحریہ اور پاکستان کے سفارتی حکام نے پاک بحریہ کے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مشن کمانڈر نے جہاز کے کمانڈنگ آفیسر کے ہمراہ میزبان حکام سے ملاقاتیں کیں، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ بحری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشن کمانڈر نے امیرالبحر کی جانب سے برطانیہ کے عوام کیلیے خیر سگالی کا پیغام پہنچایا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق دورے میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں نے مشترکہ بحری مشق واٹ اسٹار میں بھی حصہ لیا۔ مشق کے دوران جدید بحری آپریشنز کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاک بحریہ کے جہاز کا یہ دورہ اور مشترکہ مشق میں شرکت دونوں ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔
    پاک بحریہ نے خلیج عدن میں پھنسی کشتی کو بچالیا ، پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقارنے بحری گشت کے دوران خراب سمندری حالات میں 16 گھنٹے تک آپریشن کے بعد کشتی کو کھینچ کر بحفاظت ساحل کے قریب پہنچایا۔ کشتی سفر کے دوران آپریشنل صلاحیت کھو چکی تھی۔ مسافر کئی دنوں سے بغیر پینے کے پانی اور خوراک سمندر میں امداد کے منتظر تھے پاک بحریہ زمانہ امن و جنگ دونوں میں عسکری، سفارتی اور انسانی ہمدردی کے آپریشنز سر انجام دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رپتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پاکستان نیوی کا کھلے سمندر میں یہ اس طرز کا دوسرا امدادی آپریشن ہے۔ پاک نیووی کی امدادی سرگرمیوں کا دائرہ کار نہ صرف وسیع ہت بلکہ دنیا بھر کے ممالک اس کے معترف بھی ہیں۔
    یوں تو پاک بحریہ کی شاندرا کارکردگی کا زکر اکثر کیا جاتا ہے لیکن پاک بحریہ کے افسران اور نوجوان جو جو اپنی جاں جوکھم میں ڈال کر دن دارت دفاع وطن اور عوامی خدمات میں مصروف رہتے ہیں ان کے شب روز کس طرح گزرتے ہیں اس بارے بہت کم لوگوں کو جانکاری ہے بتایا جاتا ہے دوران ڈیوٹی ایسے افسران بھی ہیں جو اپنے بچوں کی پیدائش کے مواقع پر وہاں موجود نہیں ہوتے ۔ مگر سب سے تکلیف دہ کہانیاں ان کی ہیں جو اپنے پیاروں کے جنازوں میں شریک نہیں ہو پاتے اور یہ بوجھ اپنے دلوں پر لیے پھرتے دان رات خدمت میں مصروف رہتے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ لوگ بہت بہادر ہیں جفا کش ہیں۔ وہ سخت ترین کاموں کے بارے میں شکایت نہیں کرتے اور نہ ان کے لب کھلتے ہیں وہ ہمیشہ مسکراتے چہروں اور کھلی بانہوں سے اپنی ذمہ داریوں کو گلے لگاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے لئے بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ مختص کیا جائے ،اور اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالنے کے حوالے سے بھی انہیں یاد رکھا جائے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہم پرسکون شہروں میں انہیں کی وجہ سے رہتے ہیں۔

  • شکر واجب ہے  تحریر : شاہ زیب

    شکر واجب ہے تحریر : شاہ زیب

    انسان کی زندگی مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے۔
    جس میں نعمت ہے تو ساتھ ہی زحمت بھی ہے۔
    سکھ ہے تو ساتھ ہی دکھ بھی ہے۔
    سکون ہے تو بے آرامی بھی ہے۔
    یعنی ہر چیز/جذبے کے ساتھ اس کا دوسرا پہلو بھی موجود ہے۔
    جو اس زندگی کا اصل حسن ہے۔
    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثریت اب بس منفی چیزوں، رویوں، باتوں کے متعلق ہی بات کرتی پائی جاتی ہے۔ اگر اتنی نعمتوں کے ساتھ تھوڑی سی آزمائش بھی آجاۓ تو کیا ہم پر شکر کرنا واجب نہیں رہتا؟
    ہماری زندگی میں ہر دن کوئی نہ کوئی خوشی ضرور ملتی ہے اور کبھی غم بھی۔
    لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ ہم اس خوشی کا ذکر کم اور غم کا ذکر زیادہ کرتے ہیں۔ کیا اس خوشی کا شکر ہم پر واجب نہیں؟
    ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی سے خوش یا مطمئن نہیں ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے شکر ادا کرنا اور نعمتوں کا شمار کرنا کم کر دیا ہے۔ ہم ہر وقت خود ترسی یا کسی غم میں ڈوبے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس وہ نہیں جو فلاں کے پاس ہے۔ کیا ہوتا اگر وہ ہمیں مل جاتا؟
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو آپ کے پاس ہے موجود ہے وہ کسی اور کی بھی خواہش ہو سکتی ہے؟
    ہماری زندگی میں بے سکونی، بے آرامی، جیلسی، منفی رویوں کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنے حال سے خوش اور آسودہ نہیں۔
    ہم ﷲ پاک کی عطا کردو نعمتوں سے خوش نہیں اور ان تمام چیزوں کا شکر نہ ادا کر کےہم نے خود کو بے سکون اور بے چین کر رکھا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں مزید ناشکری کر رہا ہے۔
    یاد رکھیں! ﷲ تعالیٰ جب ہمیں اپنی نعمت عطا کرتے ہیں تو ہم پر اس کا شکر واجب ہوجاتا ہے۔ اور جب ہم شکر ادا کرتے ہیں تو نہ صرف اس سے دینے والی ذات خوش ہوتی ہے بلکہ ہمیں بھی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ جس سے ﷲ خوش ہو کر ہمیں مزید نوازتا ہے۔
    آپ بھی آج سے شکر گزاری کی عادت کو اپنائیں۔ ﷲ نے جو عطا کیا اس کا شکر کریں۔زندگی میں مزید ترقی کے لیے دعا اور محنت ضرور کریں کہ یہ آپ کا حق ہے لیکن اس سب میں یہ بھی نہیں بھولیں کہ جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے وہ ہمارے اعمال کے بدلے نہیں بلکہ ﷲ تعالیٰ کی رحمت کے صدقے ملا ہے۔
    جس کا شکر ادا کرنا ہم پر واجب ہے۔ اور بے شک اسی میں انسان کی فلاح ہے۔

    ‎@shahzeb___

  • عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران  تحریر حمزہ احمد صدیقی

    عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تحریر حمزہ احمد صدیقی

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایک عظیم حکمران تھے ،ایک ایسے حکمران جو صدیوں بعد قیامت تک نہیں آسکتی ایسی حکمران جس کے خلق کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اجالوں میں تبدیل کر دیا کرتی ہیں،ایسی عظیم حکمران تھے، انکی زندگی سادگی کا مجسمہ تھی
    ۔آپ ؓ نے عدل و انصاف، مساوات ،سادگی ، امانت و دیانت، شجاعت ،صداقت کا وہ درس دیا جس کی وجہ سے امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کو تمام حکومت کرنے والوں پر برتری حاصل ہے ۔ آئیے ان کی خوبصورت دور حکومت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

    امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطاب ؓ نے ٢٣ جمادی الثانی کو منصب خلافت سنبھالا اس وقت آپؓ کی عمر تقریباََ باون برس تھی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے وفات سے قبل آپؓ کا نام خلافت کے لئے تجویز کر دیا تھا اور بعض صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا تو انہوں نے اس تجویز کو بے حد پسند کیا البتہ بعض صحابہ کرام ؓ نے حضرت عمرؓ کی سخت طبیعت کی طرف اشارہ کیا تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا کہ جب خلافت کا بوجھ آئے گا تو آپؓ خود نرم ہو جائیں گے

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ہر لحاظ اور ہر پہلو سے سادہ رہائش تھے، سادہ خوراک کھانے کے عادی تھے ، سادہ لباس زیب تن کرتے تھے اور آپ ؓ کا رہن سہن بھی سادگی کی اپنی مثال تھا، گویا امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ سادگی کا ایک مرقع بھی تھے ۔

    امیرالمومنین کے پاس صبح و شام قیصر و کسریٰ کے درباروں سے سفیر چلے آتے تھے اور نصف جہاں پر انکی بھیجی ہوئی افواج حملہ کر رہی تھیں عظیم عظیم فاتح امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ کے زیر کمان سرگرم عمل تھے اور آپ ؓ ایسے حکمران تھے، جس کے بدن پر کئی کئی پیوند لگا کرتہ پہنا ہوتا تھا ، آپؓ سر پر معمولی عمامہ اور ہاتھ میں کوڑا تھامے جنگل میں بیت المال کے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں سرگرداں تھے ، کبھی کاندھے پر مشک لٹکائے تیزی سے بیوہ کے گھر کی جانب رواں دواں ہوتے تھے ۔

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ ایسے حکمران تھے ،جن میں غرور و تکبر کا نام و نشان تک نہ تھا ، آپؓ جیسا حکمران بھلا کس طرح متکبر ہو سکتا ہے، جس کے لباس پر ایک نہیں سترہ پیوند لگے ہوں، علامہ شبلی نعمانی ؒ امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ عمرؓ بن خطابؓ کی سوانح عمری الفاروقؓ میں رقم طراز ہیں کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا عظیم حکمران دکھا سکتے ہو؟ جس کی سادگی یہ ہو کہ قمیص میں سترہ سترہ پیوند لگے ہوں۔

    امیرالمومنین عمرؓ بھی خطاب ؓ اپنی عوام کی فلاح و بہبود اور اپنی رعایا کے خدمت و آرام کا خاص خیال رکھتے تھے۔ آپ ؓ عوامی شکایات کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ آپؓ کا یہ معمول تھا کہ ہر فرض نماز کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں بیٹھ جاتے اور قوم کے لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے اسی موقع پر احکامات جاری کرتے۔ آپ ؓ راتوں کو گشت کرتے اور راہ چلتے لوگوں سے مسائل و حالات پوچھتے تھے ۔ آپ ؓ دوردراز علاقوں کے لوگ وفود کی صورت میں حاضر ہوکر اپنے مسائل وغیرہ سے آگاہ کرتے تھے اور بعض دفعہ آپؓ مختلف علاقوں کا خود دورہ فرماتے تھے اور لوگوں کی شکایات کا ازالہ فرماتے تھے ۔

    امیرالمومنین عمرؓ بن خطابؓ اپنے کاندھے پر مشک رکھ کر غریب و لاچار عورتوں کے ہاں پانی بھر آتے تھے، آپ ؓفرش خاک پر سو جاتے تھے، آپؓ بازاروں میں گشت لگے تھے اور ضرورت مندوں کی مدد فرماتے تھے ، آپؓ جہاں جاتے تھے وہاں جریدہ و تنہا جاتے تھے ، آپؓ اونٹوں کے بدن پر اپنے ہاتھ سے تیل ملتے تھے ، آپؓ دور دربار، نقیب و چاؤش، حشم وخدم کے نام سے آشنا نہ ہوتے ، اور پھر یہ رعب و ادب ہو کہ عرب و عجم آپ کے نام سے لرزتے تھا اور جس طرف آپؓ رخ کرتے ہتھے زمین دہل جاتی تھی ، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج کا لشکر رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب آپؓ کا رعب و دہشت قائم ہوتا تھا۔

    امیرالمومنین بہت عظیم شجاع تھے، جب اسلام لائے تو قریش قبلیہ سے لڑے یہاں تک کہ بیت اللہ میں نماز پڑھی آپؓ کی بہادری نے یہ گوارہ نہ کیا کہ چھپ کر بیٹھا جائے ،امیرالمومنین نے اعلانیہ دین اسلام ظاہر کیا اور کفار مکہ سے ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر آپؓ کا یہ وصف بہت وسیع تھا کہ آپؓ نے اپنے دامن شجاعت میں کمزور مسلمانوں اور کفار کو پناہ دی اسی طرح مدینہ کے ہو نہار اور دلفگار تلامذہ میں آپؓ کو بہت بلند مقام حاصل تھا وہ اس نورانی مکتب عشق کے قابل فخر ارادت مند تھے ۔

    ۔امیرالمومنین حضرت عمرؓ بن خطانؓ نے ١٣٠٩٥٠١ مربع میل علاقہ اپنے دور خلافت میں فتح کیا، آپ ؓ کا مدت خلافت چونکہ تقریبا ساڑھے دس سال تھی ،اس مدت خلافت پر رقبہ کو جب تقسیم کیا گیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، ایک دن کا مفتوحہ علاقہ تقریباََ ٣٥١ مربع میل نکلا، آپؓ نے ٣٦٠٠ علاقے فتح کیا ، آپ کے دور خلافت نو سو جامع مسجدیں اور چار ہزار عام مساجد تعمیر کی گئیں ،آپؓ نے ملک کو آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا بعض مورخین حضرات نے سات صوبے بھی لکھے ہیں ،امیرالمومنین عمرؓ بھی خطابؓ کی سلطنت کی وسعتوں کا اندازہ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ صرف مفتوحہ علاقے سینکڑوں اضلاع پر مشتمل تھے ، آپ ؓ نے صرف مصر میں٤٣ اور فارس میں ٤٥ اضلاع تھے ۔

    23 لاکھ مربع میل کے علاقے پر حکومت کرنے والا عظیم حکمران حضرت عمر ؓ بن خطاب جس کا دل خوف خدا ۔ سے سرشار تھا ایسا حکمران جو عادل و انصاف کا پیکر تھا ایسا عظیم رہنما جس کے خزانہ میں سونے، چاندی، ہیرے موتی، جواہرات اور ریشم کے انبار تھے۔ مگر اس عظیم حکمران کے پاس نہ کچھ پہننے کے لئے نہ کھانے کے لئے..

    اس عظیم حکمران عمرؓ بن خطابؓ کا دور خلافت تاریخ کا درخشندہ اور بے مثال دور ہے۔ ان کے دور خلافت کی کہانیاں تمام مذاہب میں ضرب المثل بن گئی ہیں۔

    اللہ پاکﷻ ہمیں عمرؓ بھی خطاب ؓجیسی صفات والا حکمران عطا فرماٸے، آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi ۔