Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہوائی فائرنگ پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا

    ہوائی فائرنگ پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا

    بھارتی ریاست اترپردیش میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں چچا کے زخمی ہونے پر دلہن نے شادی سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں دلہے والوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دلہن کے چچا زخمی ہو گئے فائرنگ سے چچا کے زخمی ہونے پر 22 سالہ دلہن ارم نے شہزاد نامی دلہے کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا۔

    دلہن نے کہا کہ میں اس شخص سے شادی کیسے کر سکتی ہوں جس کے مہمانوں کی فائرنگ سے میرے چچا زخمی ہو گئے باراتیوں کا میرے خاندان کے ساتھ برتاؤ ٹھیک نہیں تھا اور جب میں ان کے ساتھ جاؤں گی تو یہ میرے ساتھ نہ جانے کیسا رویہ اختیار کریں گے۔

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    رپورٹس کے مطابق دلہن ارم کے شادی سے انکار کے بعد اس کے گھر والوں نے دلہا کی گاڑی توڑنے کے بعد دلہے کے رشتے داروں کی پٹائی کی اور انہیں کچھ دیر کے لیے یرغمال بھی بنالیا تھا بعدازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال پر قابو پایا اور واقعے کا مقدمہ درج کر لیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ تقریب کی ویڈیو کی مدد سے فائرنگ کرنے والوں کی شناخت کی جائے گی تاہم دلہا شہزاد اور اس کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اگر لائسنس یافتہ اسلحے سے فائرنگ کی گئی ہے تو اسلحہ لائسنس کی منسوخی کی رپورٹ بھیجی جائے گی دلہن کے چچا کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

  • 14 اگست 1947  تحریر.محمد عدیل علی خان

    14 اگست 1947 تحریر.محمد عدیل علی خان

    14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو پلیٹ میں نہیں رکھ کر دیا گیا تھا بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں تھی اور اس کے پیچھے قائد اعظم محمد علی جناح کی زہانت تھی اور علامہ اقبال کی شاعرانہ جدوجہد تھی یہ وہی علامہ محمد اقبال تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں غیرت کی پھونک ڈالی تھی آپ ہی کی بدولت قائد اعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح کو آخری اسٹیج کی ٹی بی تھی لیکن آپ نے یہ راز پوشیدہ رکھا اس لئے اگر اس بات کا انگریزوں کو پتہ چل جاتا وہ قیام پاکستان کا فیصلہ آگے بڑھا دیتے قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے آپ کا ہر قدم پر ساتھ دیا اور فاطمہ جناح نے پاکستان کی جدو جہد میں اپنا مثالی کردار ادا کیا
    14 اگست کو آتے ہی ہم سب اپنے گھروں کو جھنڈیوں سے سجا لیتے ہے اور 14 اگست کے اختتام پر وہی جھنڈیاں گٹر نالے کیچڑ میں پڑی ملتی ہے اس جھنڈے کو حاصل کرنے کے لئے ہم نے لاکھوں قربانیاں دی ہیں اگر اس جھنڈے کی اہمیت پوچھنی ہے تو ایک فوجی سے پوچھو وطن عزیز پاکستان کے جھنڈا گرنے سے پہلے ایک فوجی سرحد پر جام شہادت نوش کرتا ہے لیکن جام شہادت نوش کرنے کے باوجود وہ اس جھنڈے کو زمین پر گرنے نہیں دیتا میجر جنرل عزیز بھٹی شہید نے 65 کی جنگ میں پاکستان کا علم تامھے دشمن سے لڑ رہے تھے کہ اچانک آپ کو توپ کے گرج دار گولو نے آپ کا سینا چھلی کر دیا لیکن آپ نے وطن عزیز پاکستان کا جھنڈا گرنے نہیں دیا اور جام شہادت نوش کیا ……
    وطن عزیز پاکستان کے جھنڈے کی قدر پوچھنی ہے شہید کیپٹن بلال ظفر سے پوچھو دہشتگردوں سے پاکستان کی پہاڑی آزاد کروانے والا آپریشن آپ لیڈ کر رہے تھے اور پاکستان کا پرچم آپ نے پہاڑی کی چوٹی پر لگانا آپکا اگلا ہدف تھا اور آپ وطن عزیز پاکستان کا پرچم تھامے آگے پہاڑ کی چوٹی کی طرف بڑھ رہے تھے اچانک دہشتگردوں نے آپکا سینا گولیوں سے چھلی کر دیا کسی عام بندوق سے آپ پر گولیاں نہیں برسائی گئی تھی بلکہ مشین گنز سے آپ پر گولیوں کی بارش کی جا رہی تھی لیکن آپ نے وطن عزیز پاکستان کا پرچم پہاڑی کی چوٹی پر لگا کر جام شہادت نوش کیا اور وطن عزیز پاکستان کا پرچم گرنے نہیں دیا ہم پاکستان کے پرچم کی جو قدر کرتے ہے یہ آپ اور میں سب اچھے طریقے سے جانتے ہیں اگر پاکستان کا کہیں کرکٹ میچ ہو اور پاکستان مقابلہ ہار جائے تو یہی پاکستانی پرچم اسٹیڈیم کی باسکٹ میں ملتے ہے کیا وطن عزیز پاکستان کے پرچم کی لاج صرف افواج پاکستان نے رکھنی ہے) کب تک ہم اپنے پرچم کی بے حرمتی میں حصہ دار رہے گے (خدارا پرچم پاکستان کی عزت کرے اور حفاظت کرے) آخر میں ایک چھوٹی سی عرض ہے کہ اس بار 14 اگست پر کسی غریب کے گھر راشن لے کر دے یا کسی غریب طالب علم کی پڑھائی لکھائی کا خرچہ اٹھائے اس پہ آپ اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو بے حد خوشی محسوس ہوگی

    Twitter @iAdeelalikhan
    Instagram @muhammadadeelalikhan

  • وادی کندیا کے مسائل اور چند تجاویز   تحریر :عبدالمتین

    وادی کندیا کے مسائل اور چند تجاویز تحریر :عبدالمتین

    ضلع کوہستان عمومی اور وادی کندیا خصوصی طور پر حکمرانوں کی وحشت ناک نا اہلی کا شکار ہے. یہ وادی زبردست جغرافیائی اہمیت و مقصدیت کی حامل ہے. اس کے حدود شمالا تانگیر، دیامر اور غذر گلگت بلتستان، شمال مغرب میں ضلع سوات کالام اور چترال کے ساتھ جبکہ جنوب مغرب میں ضلع شانگلہ اور لوئر کوہستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں. یہ وادی پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے اور کچھ عرصہ قبل سب تحصیل کا درجہ پا چکی ہے. اس کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس کا رقبہ بھی نہایت وسیع و عریض ہے.

    وادی کندیا قدرتی حسین و دلکش مناظر اور وسائل سے مالامال ہے. یہاں وسیع رقبے پر گھنے جنگلات پائے جاتے ہیں. یہ خطہ ارض نہایت شاداب اور زر خیز مٹی پر مشتمل ہے. یہاں پر پانی کے وسیع ذخائر، قیمتی پھلدار درختیں، سرسبز چراگاہیں،نایاب جنگلی حیات اور بیش قیمت معدنیات پائے جاتے ہیں. اس وادی کی آب وہوا زبردست صحت افزا اور خوشگوار ہے. یہاں کے پانی میں قدرتی مٹھاس اور ٹھنڈک پائی جاتی ہے اور یہ پانی شفاف اور زود ہضم بھی ہے. یہاں کی ہوا آلودگی سے پاک اور نہایت فرحت بخش ہے. اس وادی کو اللہ نے چار موسم عطا کئے ہیں اس لئے یہاں زرعی اجناس اور میوہ جات اپنی اصلی اور قدرتی ذائقے کے ساتھ افادیت سے لبریز ہوتے ہیں. خوشگوار سیزنز کے بدولت یہاں انسانی صحت کےلئے آئیڈل ماحول ملنے کے ساتھ ساتھ وائلڈ لائف اور آبی حیات کےلئے بھی موزوں ماحول میسر ہے. اسلئے یہاں کی تقریبا کل آبادی معاشی طور پر زراعت اور مال مویشیاں پالنے سے وابستہ ہے.

    قدرت کے ان فراخ دلانہ عطائگیوں کے باوجود یہاں غربت افلاس، جہالت اور اندھیروں کے ڈیرے ہیں. بنیادی انسانی ضروریات و سہولیات سے لے کر سماجی و معاشرتی حقوق تک سے یہاں کے لوگ محروم ہیں. یہاں کی آبادی لاچارگی،بے بسی،تنگدستی و کسمپرسی کی تصویر بنے پھرتے ہیں. یہ لوگ اس اکیسویں صدی میں بھی پتھر کے دور کی زندگی جی رہے ہیں.ان کا کوئی پرسان حال نہیں. ان کے زخموں کا کوئی مداوا نہیں. یہ اپنے سیاسی نمائندگان اور ضلعی افسران کے منہ دیکھنے کو ترس رہے ہیں. ان کی خبر گیری کےلئے کوئی زحمت نہیں اٹھاتا نہ کوئی ان کے حالت زار سے آگاہی کا متمنی ہے. یہ چاروں طرف سے فلک بوس پہاڑوں میں گھرے اس ملک کے غلام قیدی ہیں اور برس ہا برس سے اپنے ناکردہ جرموں کی سزا بھگت رہے ہیں.

    اس وسیع رقبے اور آبادی کے حامل وادی کو تاحال سڑک جیسی اہم سہولت میسر نہیں. آپ قراقرم روڈ سے کندیا پل پر اتریں اور پل سے چند قدم آگے جائیں تو آپ خود کو سڑک کے بجائے پل صراط پر کھڑا پائینگے. اور آپ اگر گاڑی میں ہیں تو آپ دل ہی دل میں اللہ سے اپنے گناہوں کی سچی بخشش طلب کرینگے. آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ آپ کا آخری سفر ہے اور قدرت نے آپ کے موت کےلئے اسی مقام کا انتخاب کر رکھا تھا. ایک گھنٹے کا سفر موت سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے آپ 4 گھنٹوں میں طے کرینگے. صرف یہی نہیں وادی گبرال پہنچ کر اس جیسے تیسے سڑک سے بھی آپ کا ساتھ چھوٹ جائےگا اور آگے کا سفر سامان کے نیچے اپنی کمر رکھ کر پیدل اللہ اللہ خیر سلا. یہ عظیم شاہراہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بنائی ہے.

    وادی کندیا قدرتی جمالیاتی حسن و نعمتوں سے مالامال ہونے کے باوجود بدقسمتی کا شکار ہے. اپنی جغرافیائی دوری اور دشوار گزار اسٹرکچر کی وجہ سے ہمیشہ حکمرانوں اور ارباب اختیار کےلئے غیر پرکشش اور غیر اہم رہا ہے. حکمرانوں، اپنے سیاسی نمائیندوں اور سرکاری محکموں کی مجرمانہ غفلت و عدم توجہ کی وجہ سے یہ وادی پسماندگی، غربت، اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے. یہ وادی اور اس کے مکین بنیادی انسانی ضروریات کے فقدان سے لے کر سہولیات و ترقی کے تمام حقوق سے محروم ہیں. صحت مند اور معیاری خوراک کی قلت کا شکار ہیں. ہسپتال و ادویات نایاب ہیں. مریض معمولی نوعیت کے ٹریٹمنٹ اور ادویات کےلئے ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں. لوگ جسمانی لحاظ سے کمزور اور بیماریوں کے شکار ہیں. تعلیمی معیار نہایت نچلے سطح پر ہونے کی وجہ سے لوگ ذہنی پسماندگی، اور جہالت کی تاریکیوں میں گم ہیں. زرائع آمد رفت کے شدید مشکل صورتحال سے دوچار ہیں.شعور و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی زرخیز مٹی سے خاطر خواہ اجناس نہیں اگائے جاسکتے ہیں. کمرتوڑ محنت کے بعد مکئی کی اتنی پیداوار ممکن ہے کہ خاندان کے لئے ایک سیزن تک پیٹ پال ہوسکے. ویٹرنری کا شعبہ نہ ہونے کی وجہ سے مال مویشیاں مختلف امراض کے شکار رہتے ہیں اور قانون کی رٹ کمزور ہونے کی وجہ سے قیمتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور جنگلی حیات کا بے رحمانہ شکار جاری ہے.

    میری حکمرانوں، سیاسی نمایندوں اور ضلعی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ آپ کندیا کے باسیوں کےلئے نہ سہی اپنے مفادات کےلئے وادی کندیا کی ترقی کا سوچئے. آپ اگر چاہیں تو کندیا کےلئے چند کروڑ روپے خرچ کرکے اچھی شا ہراہ تعمیر کرسکتے ہیں اور پھر اس وادی کو سیاحتی زون ڈکلئیر کریں. آپ دوچار سالوں میں خرچ شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ رقم کمالیں گے. آپ چاہیں تو یہاں کئی منی ڈیم تعمیر کرسکتے ہیں جو ملک کی بجلی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ علاقے کی ترقی و خوشحالی کا باعث بھی بنے گی. آپ چاہیں تو زرعی شعبے میں اصلاحات کرکے وافر مقدار میں زرعی اجناس پیدا کروا سکتے ہیں پھر انہیں منڈیوں تک رسائی دے سکتے ہیں اور اس مد میں سالانہ کروڑوں کما سکتے ہیں. آپ اگر چاہیں تو یہاں کے لوگوں کی صحت اور تعلیم پر توجہ دے کر افرادی قوت پیدا کرسکتے ہیں جو ملک کی تعمیر وترقی میں کردار ادا کرینگے. اور آپ یہاں کے معدنیات،وسائل اور خوبصورتی کو معمولی محنت و رقم کے عوض کیش کراسکتے ہیں. بس آپ کے معمولی توجہ اور دلچسپی کی ضرورت ہے.

    میری کندیا مشران و عوام سے گزارش ہے کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اس ملک کے دولت اور وسائل پر ہم برابری کا حق رکھتے ہیں. آپ اپنے حقوق کےلئے متحد ہوجائیں، ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر نا انصافیوں کے خلاف مشترکہ آواز بلند کریں. آپ کی جدوجہد پرامن ہونی چاہئیے کیونکہ نہ آپ ریاست کے خلاف لڑ سکتے ہیں اور نہ اس کا کوئی فائیدہ ہوگا. علاقائی تعصب، نسلی امتیاز، قومیت، اور ذاتی رنجشوں میں جکڑے رہوگے تو یہ مسائل اور محرومیاں ہمیشہ آپ کا مقدر بنے رہے گی. ابھی وقت ہے اس دلدل سے باہر آنے کا بعد میں صرف تاسف رہے گا.‎

  • بڑے خواب دیکھنا   تحریر: زاہد کبدانی

    بڑے خواب دیکھنا تحریر: زاہد کبدانی

    یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ "اگر آپ کے خواب آپ کو خوفزدہ نہیں کرتے ہیں ، تو وہ اتنے بڑے نہیں ہیں”۔ تو کیا آپ کے خواب کافی بڑے ہیں؟ کیا وہ آپ کو ڈراتے ہیں؟ بڑے خواب دیکھنے میں کیا ضرورت ہے؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو اکثر آپ کے ذہن میں آتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب 1 حقیقت میں ہے کہ بڑے خواب دیکھنے میں صرف ایک سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔ خواب صرف وہ اقساط نہیں ہیں جو آپ کے سر میں کھیلتے ہیں جب آپ سوتے ہیں۔ خوابوں کو انسان کا جذبہ سمجھا جا سکتا ہے جو اسے بڑے سے بڑے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارے درمیان پہلے ہی بہت سی مشہور اور ممتاز شخصیات موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنی محنت اور لگن سے کامیابی کی منزل حاصل کی ہے۔ کسی کو نہ صرف بڑے خواب دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے بلکہ اس خواب کو سچ کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔
    بڑے خواب دیکھنے میں ایک بہتر زندگی کے وژن کو مضبوطی سے تھامنا شامل ہے ، ایک کامیابی اور کثرت میں سے ایک۔ وہاں پہنچتے وقت ایک مشکل کام ہوسکتا ہے۔ کسی کو بہت سی ناکامیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کوئی بھی جس نے ایک بڑا مقصد حاصل کیا ہے وہ جانتا ہے کہ مذکورہ بیان کس طرح درست ہے۔ تاہم ، زندگی میں اگر کوئی کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے اپنے آپ کو کامیاب لوگوں کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ یہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے کہ کبھی خوابوں سے نہ ہٹیں جب کوئی واقعی اس پر یقین نہ کرے۔ یہ یقینی بنانا اچھا ہے کہ آپ کے کچھ خواب ہیں۔ اور جب آپ خوابوں پر یقین رکھتے ہیں تو آپ اسے پورا کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرتے ہیں۔

    کامیاب لوگ بڑے خواب دیکھتے ہیں ، چاہے مقصد انتہائی ناممکن اور حاصل کرنا مشکل معلوم ہو۔ مہاتما گاندھی کو اس کی ایک بہترین مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ان کی محنت اور مضبوط عزم کے ذریعے ہے کہ وہ ایک کامیاب قومی لیڈر بنے۔ ایسے وقت بھی آئے جب کوئی اس پر یقین نہیں کرتا تھا۔ پھر بھی ، اس نے ہمت اور اعتماد نہیں کھویا جو اس نے اپنے آپ میں تھا اور اس سے بھی زیادہ محنت جاری رکھی اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ نے اکثر اور بڑے خواب دیکھے تو کیا ہوگا؟ یہ آپ کے خوف کا سامنا کرنے کے بارے میں ہے۔ ہاں ، خواب دیکھنا خوفناک ہوسکتا ہے ، خاص طور پر اگر آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو خواب دیکھنے ، حیثیت کو چیلنج کرنے اور قوانین کو توڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔
    مستقبل ان لوگوں کا ہے جو اپنے خوابوں میں خوبصورتی دیکھتے ہیں۔ ہم سب کے خواب ہیں جو درست ہیں ، اور ہمیں بڑے خواب دیکھنے کے لیے زندگی کے بارے میں مثبت ہونے کی ضرورت ہے۔ کچھ خواب دیکھنے کے بعد ، اس کے بعد آپ ضروری اقدامات کریں گے جو اس طرح کے خوابوں کی کامیابی کو متاثر کرے گا۔ تو بڑے خواب دیکھیں اور اپنی زندگی بغیر کسی حد کے گزاریں۔ لہذا ، اس مضمون کو سمیٹنے کے لیے ، میں آپ کو ایک اقتباس دیتا ہوں جو بڑے خواب دیکھنے کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔

    @Z_Kubdani

  • دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    دیامر اور سیاحت تحریر: روشن دین دیامری

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان جنت نظیر علاقہ ہے ہر وادی ایک سے بڑھ کرایک خوبصورت ہے۔ہم ذرا گلگت بلتستان کے ضلعوں کے حوالے سے آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کہ کس کس ضلع میں کون کون سے خوبصورت علاقے ہیں جہاں آپ سیاحت کے لیے جاسکتے ہیں۔چونکہ دیامر کو گلگت بلتستان کا گیٹ وے کہا جاتا ہے آپ چاہے ناران کاغان سے جائیں یا کوہستان سے دیامر سے گزر کے جانا ہوگا۔دیامر خوبصورتی میں لاثانی ہے اگر میں یہ کہوں کہ گلگت بلتستان کے خوبصورت ترین چند اضلاع میں دیامر بھی شامل ہے تو غلط نہ ہوگا ۔دیامر کی پسماندگی کی وجہ سے گو کہ سیاحتی شہرت اس قدر زیادہ نہیں لیکن باوجود دیامر کی خراب حالات کے بابوسر اور فیری میڈو میں لاکھوں سیاح گھومنے آتے ہیں ۔آج آپ کو دیامر کے خوبصورت علاقوں کے حوالے سے کچھ تفصیلات دیتا ہوں۔دیامر کے تین تحصیل ہیں چلاس داریل اور تانگیر ۔اس وقت سیاحت صرف تحصیل چلاس تک ہے باقی دو تحصیلوں میں سیاحت بلکل نہیں ہے۔اس کی وجوہات بے تحاشہ ہیں اس پہ لکھنا اس تحریر میں مقصود نہیں ۔اگر کوہستان کے طرف سے اپ دیامر میں داخل ہوجائیں تو سب سے پہلے تحصیل تانگیر کا علاقہ آتا تانگیر ایک تاریخی علاقہ ہے۔تانگیر کے کے ایچ کے ساتھ ایک پل کے ذریعے منسلک ہے۔روڈ سے آپکو یہ علاقہ بہت تنگ لگتا ہے جیسے ہی اپ تانگیر کے طرف داخل ہوتے ہو تانگیر کے وادی واسیع ہو جاتے ہے۔تانگیر کے شروع سے.پہلا گاؤں لورک، دیامر، شیخو ، رِم، جگلوٹ ، گلی، درکلی، کوٹ، فروڑی، پھپٹ، مُشکے ، کورونگہ، اور بھی کئی چھوٹے گاؤں ہیں، مشہور اور خوبصورت جگہیں لورک، جگلوٹ اور مُشکے ہیں، کورونگے سے آگے وادی ستیل ہے،یہ ایک انتہائی خوبصورت علاقہ ہے اس طرح اگر داریل ویلی کی بات کی جائے تو داریل بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے داریل ویلی کھنبری منین داریل منیکال نیلی گل داریل منیکال آٹ داریل بشال گیال کے علاقے سیاحت کے بہت خوبصورت ہے۔اس کے علاوہ داریل میں تاریخی پوگچھ یونیورسٹی بھی موجود ہے جہاں آج سے چار سو سال پہلے لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔اگر اپ چلاس کے بات کریں تو چلاس میں بابوسر نیاٹ بٹوگاہ گوہراباد تھور ہوڈور اور کھنر کی وادیاں انتہائی خوبصورت ہیں۔دیامر میں اگر سیاحت پہ توجہ دی جائی تو سالانہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں جسے ہی دیامر میں امن ہوجاتا ہے تو کسی شرپسند عنصر کو میدان میں اتارا جاتاہے اس کے بہت سارے پس منظر ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔دیامر کے ترقی کے بغیر گلگت بلتستان کے کی ترقی میں ممکن نہیں ایک پرامن گلگت بلتستان کے لیے پرامن دیامر کا ہوناضروی ہے۔

  • اپنی آزادی کے لیے ، اپنے جھنڈے کی قدرکرو  تحریر: صائم ابراہیم ملک

    اپنی آزادی کے لیے ، اپنے جھنڈے کی قدرکرو تحریر: صائم ابراہیم ملک

    پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ برطانوی ہند میں برصغیر کے مسلمان پاکستان کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے دوران یہ نعرہ لگایا کرتے تھے، اس نعرے کے خالق سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے اصغر سودائی ہیں انھوں نے اسے 1944ء میں ایجاد کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برصغیر کے طول و عرض میں ہونے والے مسلم لیگی جلسوں میں گونجنے لگا۔ اس نعرے سے پاکستان کی مذہبی تشخص بھی واضح ہوتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسی وجہ سے کہا تھا کہ تحریک پاکستان میں اصغر سودائی کا کردار 25 فیصد ہے

    جیسا کے ہم سب جانتے ہیں اس پاک سرزمین پاکستان کا قیام 14 اگست 1947 کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی بابرکت رات لیلتہ القدر کی شب معرض وجود میں آیا جبکہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم قیام پاکستان سے تین روز قبل فرانس کی سرزمین پر 11 اگست 1947 کو سب سے پہلے لہرایا گیا اس بات کے گواہ معروف محقق عقیل عباس جعفری
    ہیں جن کے مطابق متحدہ ہندوستان کے بوائے اسکاوُٹ کا دستہ عالمی اسکاوُٹ جمبوری میں شرکت کے لیے فرانس میں موجود تھا کہ بین الاقوامی اخبارات میں یومِ پاکستان کی خبریں شائع ہونے لگیں تو دستے میں موجود مسلمان اسکاؤٹس نے فیصلہ کیا چاہے جو بھی ہو چودہ اگست کو ہمارا الگ ملک بن جائے گا تو اس دن ہم کسی بھی صورت انڈیا کے جھنڈے کو سلامی نہیں دیں گے بلکہ اس دن ہم اپنے الگ ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سبز ہلالی پرچم کے نیچے الگ کھڑے ہوں گے

    تمام شواہد کے مطابق انھوں نے وہاں دستیاب ذرائع سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تیار کیا اور اس طرح برصغیر سے دور فرانس کی سرزمین پر باقاعدہ طور پر پاکستان کا پرچم پر کیف فضاؤں میں سب کے سامنے لہرایا گیا
    پاکستان کے قومی پرچم کا سرکاری نام پرچم ستارہ و ہلال ہے سبز ہلالی پرچم کا ڈیزائن ترتیب دینے والی شخصیت امیر الدین قدوئی ہیں جنہوں نے قائداعظم کے حکم پر پاکستان کے پرچم کا ڈیزائن ترتیب دیا اور یوں پاکستان کا اپنا پرچم معرض وجود میں آیا جبکہ پاکستان پہلا پرچم ماسٹر الطاف حسین اور افضال حسین نے سیا تھا

    یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے گہراسبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند(ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے۔

    کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′, 18′+12′, 10′+6-2/3′, 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لئے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے

    ہم سب جانتے ہیں اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جہاں جہاں محب وطن پاکستانی موجود ہیں وہ آزادی کا جشن منانے کی تیاریاں کرنے لگ جاتے ہیں اور پاکستان میں تو ایک نیا جوش و ولولہ دیکھنے کو ملتا ہےپورے ملک میں جگہ جگہ جھنڈے اور جھنڈیوں کے سٹالز لگ جاتے ہیں ملی نغمے اور ترانے بجنا شروع ہوجاتے ہیں اگست کے مہینے میں آپ کا گزر پاکستان کے جس شہر گلی محلے یا صوبے سے ہو کراچی سے خیبر تک اور کشمیر سے گلگت اور خنجراب تک ہر جگہ پاکستانی پرچم اور ترانے چلتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں

    جہاں آزادی کی خوشی منانا ہم سب کے لیے ضروری ہے وہیں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کے اس آزادی کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بڑوں نے کتنی قربانیاں دی کیسے اپنے کندھے جھکا دیے لیکن نا تو اپنے حوصلےجھکنے دیے اور نا ہی اپنی پہچان سبز ہلالی پرچم کو نیچے جھکنے دیا نا کبھی گرنے دیا اپنے سر تن سے جدا کرا لیے لیکن اپنی ملک کی بقا کو ٹھیس نہیں پہچنے دی یہ ملک ایسے ہی مفت میں نہیں مل گیا اس کے لیے خونِ دل صرف کیا گیا ہے اس پاک دھرتی کو ان گنت جانوں کے نظرانے دے کر اور خون پلا کر سیراب کیا گیا تھا اس کے بعد کہیں جا کر الگ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہے

    لیکن آج جب میں اپنے ملک کے باشندوں کو اور نوجوان نسل کو دیکھتا ہوں تو دیکھ کر سکتے میں چلا جاتا ہوں کے اس قوم کے لیے پاکستان بنا تھا یا پاکستان نے ایسی قوم بنائی ہے؟ تو اس کا جواب مجھے واضح انداز میں مل گیا کے پاکستان نے ایسی قوم نہیں دی کیونکہ ماضی کے جھرونکوں میں ایک نظرڈال کر دیکھیں تو بالکل عیاں ہوجائے گا کے پاکستان نے قائداعظم ، علامہ اقبال ، شاہ ولی اللہ ، سرسید احمد خان نواب لیاقت علی اور ناجانے کتنےمعتبر اور اعلی قسم کے لوگوں سے ہمیں نوازا ہے جن کی مرہون منت الگ ریاست کا جواب پورا ہوا

    آج نوجوان نسل آزادی کا جشن صرف ہلڑ بازی، ناچ گانے، سڑکوں پر ون ویلنگ اور شور شرابہ کرنے والے باجے بجا کر مناتے ہیں جس سے لوگوں کو تکلیف کے سوا اور کچھ نہیں ملتا اور حادثات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے سوا یا ماؤں کے گود اجڑنے کے سوا اور کچھ نہیں ملتا کیا ہمیں آزادی اسی کام کے لیے ملی تھی ؟ ہم کس طرف جا رہے ہیں یہ ہم سب کو آج سوچنا ہوگا اور آنی والی نسل کے لیے بہترین مثالیں چھوڑنی ہونگی تاکہ نئی نسل حقیقی معنوں میں اپنی آزادی اور اس ملک کی قدر کو پہچان سکے

    اس سب سے ہٹ کر سب سے افسوس ناک چیز جو میں نے دیکھی ہے وہ سبز ہلالی پرچم کی توہین جسے صرف 14 اگست تک تو اپنی گاڑیوں اور کپڑوں کے ساتھ سجا کر رکھا جاتا لیکن جیسے ہی آزادی کا یہ دن اختتام پذیر ہوتا اگلی ہی صبح پورے ملک میں ایک الگ ہی نقشہ ابھر کر سامنے آیا ہوتا ہے جس پرچم کے ایک دن پہلے سب سینے سے لگا کر چلتے ہیں اسے پندرہ اگست کو اتار کر نالیوں میں گٹروں میں سڑکوں پر اور بازاروں میں اتنی تذلیل کے ساتھ پھینک دیتے ہیں جیسے زمیں پر پڑا وہ پرچم چیخ چیخ کر پکار رہا ہو کے مجھے اس ملک میں رہنا زیب نہیں دیتا تھا یہ میں کن لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا ؟

    اتنی طویل تحریر لکھنے کا مقصد صرف آپ سب کو یہ بتانا ہے کے اس پرچم کی تذلیل کو مزید آگے مت بڑھنے دیں یہ پرچم ہماری پہچان ہے اور جو قومیں اپنی پہچان کو پاؤں تلے روندتی ہیں دنیا انکی کبھی قدر نہیں کرتی کیوں کے ہم سب اپنی پہچان خود مٹانے پر تلے ہیں ہم سب میں اخلاقیات کا بہت فقدان ہوچکا ہے تبھی اتنی بے دردی سے ہم اپنے آزاد ملک کی آزادی کے دن اپنے ہی پرچم کے ساتھ دشمنوں والا رویہ رکھتے ہیں اور صرف ایک دن کا دکھاوا کرتے ہیں یقین مانیں دل خون کے آنسو روتا ہے جب اپنے پرچم کی بے حرمتی کو دیکھتا ہوں لیکن میرا ملک بہت عظیم ملک ہے انشااللہ اس امید کے ساتھ کے اب کی بار اس آزادی پر وہ سب نہیں ہوگا جو آج سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے

    اپنی آزادی کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے پرچم کی قدر کرو

    اللہ اس وطن عزیز اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالیمن

    @Saimladla786

  • امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    امید زندگی ہے تحریر: صائمہ ستار

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے

    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    زندگی عروج و زوال کا ایک مسلسل سفر ہے.دکھ سکھ,کامیابی ناکامی زندگی کا حصہ ہیں. جہاں زندگی بہت سے خوش کن لمحات دیتی وہے وہیں آزمائشیں بھی لازمی ہیں.
    امید وہ قیمتی سرمایہ ہے جو آخری سانس تک انسان کو زندگی کے اس تھکا دینے والے سفر میں آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم رکھتا ہے.انسان فطری طور پر بہت جلد باز واقع ہوا ہے.اسے سب کچھ اپنے مطابق چاہیے ہوتا اور جب کوئ خلافِ توقع صورتحال پیش آتی ہے تو بجائے حوصلے سے آزمائش کا مقابلہ کرنے کے تھوڑی سی کو شش کے بعد مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے. امید انسان کو وقار اور خود داری کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے جبکہ نا امیدی اور منفی خیالات کسی بھی امتحان کا مقابلہ کرنے سے پہلے ہی انسان کے ہار جانے کی وجہ بنتے ہیں. نا امیدی مسلئے کے نظر آنے والے ممکنہ حل کو بھی دھندلا دیتی ہے اور انسان کو محض انھیرا نظر آتا ہے جبکہ ذرا سی مثبت سوچ اور امید کا چراخ نا مسائد حالات سے نکلنے کے لیے روشنی کا باعث بنتے ہیں.مثبت سوچ اور طرز عمل زندگی کے ہر لمحے کا تقاضا ہے. وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ اسکا کوئ بھی رنگ اٹل نہیں ہوتا. اگر مشکل ہو تو اسکے بعد آسانی کے رنگ کے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں.حالات جس قدر بھی مشکل ہوں,آزمائش کی رات جتنی بھی لمبی اور سیاہ ہو ایک روشن صبح ہر شب کا مقدر ہے. حقیقت یہ ہے کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کا امتحان ہیں. جتنا ایمان زیادہ ہو آزمائش بھی اتنی بڑی ہوتی ہے اور اسکا اجر بھی اتنا ہی زیادہ.راہگزارِ حیات میں آنے والے کٹھن لمحات انسان کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خود سے وابستہ لوگوں کی پہچان بھی کروا جاتے ہیں.مخلص اور مطلبی لوگوں کی پہچان مشکل وقت میں ہی ہوتی ہے. حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دنیاوی سہاروں کی بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھنی چاہیے. اسلام میں مایوسی کو کفر قرار دیا گیا ہے. مومن کبھی اپنے رب کی رحمت سے نامید نہیں ہوتا.
    قرآن میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے،
    ’’ اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ (کفار) نہیں رکھتے‘‘۔(سورہ النساء ،104 )
    لہذا مثبت گمان/امید رکھنا ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا بھی ہے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جیسا میرا بندہ میرے متعلق گمان کرے گا مجھے ویسا ہی پائے گا. لہذا ہمیں چاہیے کہ اس ذات پر جو محض ایک "کُن”سے تقدیر بدل دینے پر قادر ہے زندگی کے ہر معاملے میں بہتری کا گمان رکھیں.امید رحمت کا دوسرا نام ہے خدا پر یقین رکھنے والا رحمت پر یقین رکھتا ہے”
    معاشرے میں منفی سوچ کا زہر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے خود کشی کی شر ح بھی ہر مسلسل بڑھ رہی.یہ ناامیدی کی آخری حد ہے جب انسان کو زندگی کا خاتمہ اپنے مسائل کا واحد حل نظر آتا ہے.زندگی میں جب کسی موڑ پے لگے کہ آپ بہت مایوس ھو یا آپ کو لگے کہ کچھ بھی آپ کے حق میں نہیں ھے تو اک نظر دوڑا کے دیکھیں جو آپ کے پاس موجود ھے. جنکو اللہ تعالیٰ نے قدرتی طور امید اور مثبت سوچ جیسی نعمت سے نوزا ہے انہیں چاہیے کہ زندگی سے مایوس لوگوں کے لیے امید کی کرن بنیں. بعض اوقات انسان کا ایک مثبت لفظ, چند حوصلہ افزاء جملے کسی میں زندگی کی ایک نئی روح پھونکنے اور دل کے بدلنے کا باعث بنتے ہیں. امید افزاء الفاظ جو کسی کو جینے کی ایک نئی امنگ دیں یہ بھی ایک صدقہ ہے.کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ بھی آتے ہیں کہ آگے کا کؤی راستہ نہیں اور واپسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا پھر معجزے ہوتے ہیں”کن فیکون” سے تقدیر بدل جاتی ہے لیکن صبر اور اللہ پر ایمان، بھروسہ شرط ہے۔
    امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں” کل کا دن آج سے بہتر ھو گا ” انشااللہ
    @SMA___23

  • کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ:  راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    مظفر آباد : کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے افتتاحی میچ میں مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی زیر قیادت راولا کوٹ ہاکس نے میرپور رائلز کو 43 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ ہاکس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے۔ احمد شہزاد 69، بسم اللہ خان 59 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ میرپور رائلز کے عماد بٹ نے 3 وکٹیں حاصل کیں راولا کوٹ ہاکس کے بسم اللہ خان کو میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔

    195 رنز کے ہدف میں میرپور رائلز نے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 151 رنز بنائے میرپور رائلز کی جانب سے شعیب ملک 74 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

    گزشتہ روز کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، جس کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے ایونٹ کی رنگارنگ تقریب میں پیراگلائیڈنگ کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔

    کشمیر پریمیئر لیگ ،افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل

    کشمیر پریمیئر لیگ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز تیمور خان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس لیگ کے حوالے سے خواب 2018 میں دیکھا تھا اور 2019 میں اس حوالے سے حکومت سے بات کی۔

    جنوبی افریقی کرکٹر ہرشل گبز بھارت کی دھمکیوں کے باوجود مظفر آباد پہنچ گئے ہیں ہرشل گبز کے پی ایل میں اوور سیز واریئرز کی نمائندگی کریں گے۔

    ٹوکیو اولمپکس: پاکستان کی تمغہ حاصل کرنے کی آخری امید ارشد ندیم آج ایکشن میں نظر آئیں گے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سے مظفرآباد میں کے پی ایل کا آغاز ہوگیا ہے،لیگ کا فائنل 17 اگست ‏کو مظفرآباد میں ہی ہو گا لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں مظفر آباد ٹائیگرز ،میرپور رائلز، راولاکوٹ ہاکس، کوٹلی پینتھرز، باغ اسٹالینز اور اوور سیز واریئرز شامل ہیں ایونٹ جو 6 اگست سے شروع ہونے والا ہے ، اس میں شاہد آفریدی ، شاداب خان ، عماد وسیم اور دیگر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں،ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

  • ریاکاری اور دکھاوا روح کے دشمن . تحریر:  زہراء مرزا

    ریاکاری اور دکھاوا روح کے دشمن . تحریر: زہراء مرزا

    ریاکاری بہت ساری خباثتوں کی ماں ہے، ممتاز نظر آنے کی دھن، خبروں میں رہنا، فضول خرچی، تکبر اور اس جیسے دیگر بیماریوں کی بنیادی وجہ ریاکاری ہے.

    ممتاز نظر آنے کی دھن جب سر پر سوار ہو جائے تو انسان وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے جو کوئی ذی شعور انسان سوچ بھی نہیں سکتا. انسان کی نفسیات پر یہ چیز اس قدر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے کہ انسان اچھی سے اچھی چیز میں نقص نکالنے لگتا ہے. اپنے معاشرے اور اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے. ممتاز نظر آنے کا بخار جب سر چڑھ جاتا ہے تو انسان اپنی تہذیب تمدن ثقافت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کو بھی بائی پاس کر دیتا ہے. کسی فلم ڈرامہ یا ماڈرن سوسائٹی کا اثر لے کر آجکل لوگ منفرد نظر آنے کی خاطر انگریزی کے ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جو پنجابی یا اردو میں ادا کیے جائیں تو کسی بھی شخص کے لیے ناقابل برداشت ہوں، ایسا لباس ذیب تن کرتے ہیں کہ جو نہ تو ہماری معاشرتی روایات کا عکاس ہوتا ہے نہ ہی مذہبی، بلکہ بسا اوقات انسان ایک کارٹون کی مانند نظر آنے لگاتا. ایسا انسان اپنی ذات سے بھی مطمئن نہیں ہوتا. اور ہر وقت ایک ٹراما میں رہتا ہے.

    ریاکاری ایک ایسی بیماری ہے جو آپکو فضول خرچ بناتی ہے.
    میری گاڑی باقیوں سے اچھی ہو. میرا لباس میری بیٹھک، میری پارٹیز میری ڈریسنگ یہ سب ایسا ہونا چاہیے کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھے. اپنے الیٹ لائف سٹائل کو مینٹین کرنے کے لیے جب وسائل کم پڑتے ہیں تو انسان جائز و ناجائز کی تمیز کو بھولنا شروع کر دیتا ہے. چور رستوں سے رقم کما کر اپنا شملا بلند رکھنا اور خود کو امیر اور سپیریر مخلوق ثابت کرنا اس کی مجبوری ہوتی ہے. ریاکار شخص کو ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں اس کی ناک نہ لگ جائے. اپنی ناک بچانے کی سعی کرتے کرتے وہ رب کے عطا کردہ وسائل کا بے جا استعمال کرتا ہے. اور معاشرے کے کمزور طبقے کی حق تلفی کرتا ہے. ریاکار انسان جب فضول خرچی میں تجاوز کرتا ہے تو غریب انسان کی عزت نفس کو قتل کرتا ہے. معاشرے میں طبقاتی تقسیم کی وجہ بنتا ہے. یہ عوامل معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں.

    ریاکاری تکبر کی جانب لے جانے والی موٹر وے ہے. جونہی انسان ریاکاری کی جانب چلا اس کی منزل تکبر ٹھہرے گی. ایسا شخص اپنے سے زیادہ مالدار سے حسد اور اپنے سے کم مالدار سے نفرت کرنے لگتا ہے. تکبر کا مارا انسان ہمیشہ اپنے سے امیر اور زیادہ اثر والوں سے تعلق استوار کرتا ہے. تاکہ معاشرے میں اسے ممتاز سمجھا جائے. اور جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ممتاز شخصیت ہے تو وہ اپنے سے نیچلے طبقے کی نہ صرف تضحیک کرتا ہے بلکہ انہیں انسان سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے. ایسا فرد تکبر کی آگ میں اس قدر جلتا ہے کہ اپنے تمام تعلقات کو ختم کر دیتا ہے. اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے. تکبر کا مارا شخص عزت دینے سے محروم ہو جاتا ہے. یوں ایسے شخص سے محنت کرنے والے کم ہو جاتے ہیں.

    ریاکاری جب معاشرے کا چلن بننے لگے تو نفرتیں عام ہونے لگتی ہیں.، طبقاتی تقسیم کو ہوا ملتی ہے، کرائم ریشو بڑھنے لگتی ہے، اعتماد کی فضا ختم ہونے لگتی ہے. جہالت کے بادل گہرے ہونے لگتے ہیں.

    اگر ہم معاشرے کو حقیقی معنوں میں تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذات سے ریاکاری کو نکال پھینکنا ہوگا. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک جیسے انسان ہیں، کسی کے غریب یا امیر ہونے میں اس کا کوئی کمال نہیں. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مالک کی تقسیم ہے. اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ اہم یا دوسرے غیر اہم ہیں.

    @zaramiirza

  • عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    عدم برداشت تحریر: مجاہد حسین

    آج کے تیز رفتاز دور میں جب انسان ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا ہے وہاں دوسری طرف اس نے اپنے آپ کو اس قدر مصروف کر لیا ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والے معاملات اور حالات سے آگاہی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے دوستوں رشتہ داروں سے میل جول اب نہایت قلیل ہو گیا ہے۔ اس کے کئی معاشرتی نقصانات تو ہیں ہی لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان اس کی اپنی شخصیت کو ہو رہا ہے۔
    کام کی بہتات اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر نے اس میں چڑچڑا پن اور بے حسی جیسی خصلتیں پیدا کر دیی ہیں۔ چڑچڑا پن اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ وہ کام کے دوران ہونے والی باتوں کا اثر ذائل نہیں کر پاتا اور بلآخر اس کا اثر اس کے گھر والوں، بیوی اور بچوں پر بھی پڑتا ہے جس کی وجہ سے خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دوسرے لوگ بھی اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔ عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کو بھی اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں ورنہ بات جھگڑے اور فساد تک پہنچ جاتی ہے۔
    جب بھی عدم برداشت کی بات آتی ہے تو مجھے ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ یہ پچھلے سال رمضان کا واقعہ ہے۔ میں نے اللہ کے حکم سے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا۔ بس میں سیٹ بک کروائی اور مقررہ دن کو ایجنسی میں پہنچ گیا۔ عصر کے بعد ہمارے شہر (الجبیل) سے گاڑیاں نکلا کرتی تھیں۔ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو معلوم ہوا کہ ڈرائیور بھی کوئی پاکستانی ہے۔ سوچا خوب بیتے گی لیکن کیا معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد کیا تماشہ ہونے والا ہے۔ ڈرائیور صاحب بس میں داخل ہوتے ہی بلند آواز میں گویا ہوئے کہ بس میں کسی کو کچھ بھی کھانے کی اجازت نہیں ہے، جس نے کچھ کھانا ہے باہر جا کے کھا لے۔ ہمارے لئے یہ پہلا تجربہ تھا کہ کوئی ڈرائیور ایسا اعلان کرے حالانکہ اس نے ہر سیٹ کے ساتھ کچرا ڈالنے کے لئے ایک ایک پلاسٹک بیگ بھی لگا رکھا تھا۔ خیر، عصر کے بعد گاڑیاں قافلے کی صورت میں مقررہ مقام سے روانہ ہوئیں اور تقریباً دو گھنٹے بعد ایک پیٹرول پمپ پہ افتار کے لئے رک گئیں۔ سب لوگوں نے روزہ افتار کیا نمازیں (مغرب اور عشا اکٹھی) پڑھیں اور گاڑی میں بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ایک مصری شخص، جو ڈرائیور کے عین پیچھے والی سیٹ پہ بیٹھا تھا وہ اپنے لئے کافی لے آیا اور سکون سے پینے لگا۔ اتنے میں ڈرائیور صاحب آئے اور آتے ہی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اس سے کافی کا گلاس چھینا اور دروازے سے باہر جاتا کیا۔ مصری پریشانی سے بولا بھائی میرا 25 ریال کا کپ تھا اور میں تو کچرا بھی نہیں پھینک رہا لیکن یہ کیا طریقہ ہے؟
    اتنے میں ڈرائیور صاحب بولے جس کا ترجمہ ہے کہ "تم مجھے پنگالی یا ہندوستانی مت سمجھو،میں پاکستانہ ہوں اور میں تمہیں مزہ چکھا دوں گا” بس اس بات کا سننا تھا کہ اگلے جوان کے خون نے بھی جوش مارا اور اس نے ڈرائیور کے جو اس کے تقریباً اوپر ہی چڑھ دوڑا تھا پیچھے دھکیلا۔ یہ منظر اس ڈرائیور کے چند مزید رشتہ دار (ڈرائیورز) بھی دیکھ رہے تھے اور وہ سب کے سب مصری شخص پہ ایسے ٹوٹ پڑے جیسے بھوکے شادی کا کھانا کھلنے پہ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس مار دھاڑ میں بیچارے مصری کی پانچ چھے گھونسے اور کافی سارے ٹھڈے پڑ گئے۔ لوگوں کی مداخلت پہ معاملہ ٹھنڈا ہوا اور مصری آنسو پونچھتے ہوئے بس سے اتر کر پیٹرول پمپ کی طرف بڑھ گیا۔
    چند لمحوں بعد وہ ایک پولیس والے کے ساتھ سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ پولیس والے نے اپنی کار ہماری گاڑی کے سامنے لا کر کھڑی کر دی اور تحقیقات شروع ہو گئیں۔ وہ چند شیر جوان جو تھوڑی دیر پہلے اس ڈرائیور کے ساتھ مل کے مصری کو مار رہے تھے آہستہ آہستہ اپنی گاڑیاں نکال کر فرار ہو گئے۔ وہ ڈرائیور جو تھوڑی دیر پہلے پھنے خان بنا ہوا تھا اب معذرتوں پہ آ چکا تھا۔ پولیس والے سے الگ معافی مانگی جا رہی تھی، مصری کے الگ پاؤں پکڑے جا رہے تھے۔ اور ہم سب تین گھنٹے تک ایک نہ کردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے تھے۔ بالآخر بس کے لوگوں اور چند مصری اور سوڈانی مسافروں کی مداخلت سے مصری معاملہ رفع دفع کرنے پہ راضی ہوا اور راضی نامے پہ دستخط کرنے کے بعد ڈرائیور کی جان چھوٹی۔
    اس سارے معاملے کے بعد اکثر لوگوں کو نقصان یہ ہوا کہ ان کے عمرہ کے پرمٹ تین گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے ایکسپائر ہو چکے تھے۔
    کیا ہی اچھا ہوتا کہ ڈرائیور پیار سے اسے کہتا بھائی آپ کافی باہر پی لو ابھی گاڑی رکی ہوئی ہے تو ایک تو یہ تاخیر نہ ہوتی دوسرا ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے نہ جھکتے۔ یاد رہے، جب بھی ہم علی الاعلان کوئی غلطی یا کوئی گناہ کرتے ہیں وہ ناصرف ہمارے لئے بدنامی کا باعث بنتا ہے بلکہ ہم سے منسلک تمام لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے برداشت کرنا سیکھیں تاکہ شرمندگی سے محفوظ رہا جا سکے۔

    @Being_Faani