Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر  : باچاخانزادہ

    تربیتِ اولاد کے چند رہنما اصول تحریر : باچاخانزادہ

    بچوں کی تربیت اس دور کا سب سے اہم چیلنج بن چکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تربیتِ اولاد ایک نہایت صبر آزما اور جاں گسل کام ہے مگر اس کے نتائج و ثمرات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کام مشکل نہیں رہتا۔ بڑے مقاصد کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بچوں کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد اور دنیا و آخرت کا بہترین ذخیرہ بنانے سے بڑا مقصد اور کیا ہوسکتا ہے! سو اس لحاظ سے اس راہ کی مشقتیں پھر بھی کم ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی برحق ہے کہ نیک کام کے ہر مرحلے پر خدا کی مدد و نصرت شامل حال رہتی ہے جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ ذیل میں چند ایسے اصول لکھ رہے ہیں جو تربیت کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوں گے۔ تجربہ اس بات کا شاہد ہے۔
    اولا تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بچے کی مثال ایک سادہ لوح کی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر اس لوح میں رنگ بھرتا ہے۔ جیسا معاملہ اور برتاؤ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ اس کی زندگی کے ضابطے بنتے جاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو خصوصاً بچوں کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    1- غلط کی حوصلہ شکنی
    عموماً بچے کبھی کبھار غلطیاں کردیتے ہیں۔ کبھی تو اوروں کی دیکھا دیکھی میں اور کبھی عدمِ توجہی کے باعث۔ بچہ کوئی غلطی کرے تو اس پر پیار سے باز پرس ضرور کرنی چاہیے، تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں کرنی ہے اور یہ کہ میرے سے سوال جواب کرنے والے لوگ موجود ہیں جو میرے ہر عمل کی نگرانی کر رتے ہیں۔ عام طور پر والدین محبت کے دھوکہ میں آکر ایسے مواقع یہ کہتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ "ابھی توبچہ ہے۔ بعد میں سیکھ جائے گا”۔ یاد رہے یہ ایک تباہ کن غلطی ہوتی ہے جو بچے کی تربیت میں بہت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بعد میں کبھی نہیں سیکھا جاتا، بچپن کا سیکھا پچپن تک ساتھ چلتا ہے۔ پکڑ نہ کرنے کے باعث بچہ اپنی غلطی کی اصلاح کے بجائے اس پر جری ہوجاتا ہے۔ یوں غلطی در غلطی کی ایک لڑی بنتی چلی جاتی ہے۔

    2- اچھائی کی تعریف
    بچے عموماً پاک طینت اور صاف دل ہوتے ہیں۔ برائیوں کی طرح ان کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی اچھی بات کہیں، اچھا کام کریں تو تعریف ضرور کرنی چاہیے۔ اپنی وسعت کے بقدر حوصلہ افزائی بھی کریں تاکہ اسے معلوم ہو کہ اچھائیوں کی قدر کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ عمل انہیں مزید اچھائیوں کی شہہ دے گا۔ اس میں ایک بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ تعریف اور حوصلہ افزائی کے ساتھ مزید اچھائیوں کی بھی ترغیب دی جائے۔ اسی ایک اچھائی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے۔

    3- ضد کبھی پوری نہ کریں
    بچے ضدی کیوں بنتے ہیں؟ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ضد سے بات مانی جاتی ہے۔ جب آپ ان کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے تو وہ سمجھ بیٹھے گا کہ اپنی بات ایسے منوائی جاتی ہے۔ اس لیے بچہ جب کبھی ضد کرے دل پر پتھر رکھ کر اسے پورا کرنے سے باز رہیں۔ وہ روئے دھوئے جو کرے، آپ نے ہار نہیں ماننی۔ یہی بچے کے ساتھ خیر خواہی اور محبت کا تقاضا ہے۔ ایک مرتبہ ضد پوری نہ ہوگی تو پھر کبھی ضد پنے کی شکایت نہیں ہوگی۔

    4- ذمہ داری سونپیں
    عمر کے لحاظ سے بچوں کو ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ چھوٹا ہے تو گھر میں کوئی گلاس اٹھوا دیں۔ اپنے کھلونے سمیٹنے کی ذمہ داری دیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس سے بچے میں احساس ذمہ داری پیدا ہوگی۔ وہ شروع سے ہی ایک ذمہ دار حیثیت سے پروان چڑھنا شروع ہوجایے گا۔ جن والدین کو اپنے بچوں کے بھولے پن اور سادگی کی شکایت رہتی ہے وہ یہ کام کر کے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

    5- گپ شپ کریں، رائے لیں
    بچوں کے ساتھ میٹنگز رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ معمول کی نشستوں کے علاوہ خصوصی نشست رکھنے کا بھی اہتمام کریں جس کے لئے انہیں پہلے سے بتائیں کہ ایک خاص بات کرنی ہے۔ گفتگو سنجیدہ ہونی چاہیے جس میں بچوں کی رائے لی جائے۔ ان کی آراء پر مثبت تبصرے بھی ساتھ کریں۔ کہیں نقص ہو تو وہ بھی بتائیں۔ اس سے بچوں میں فیصلہ سازی کی قوت پیدا ہوگی۔ ان کا دماغ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔

    6- لکھوائیے
    ایک صاحب نے کہا میں نے اپنے بچوں کو بہترین تحریر نویسی سکھانے کے لئے یہ اصول اپنایا کہ جو معاملہ ہو میں ان سے لکھنے کا کہتا۔ یوں وہ لکھ لکھ کر بہترین لکھاری بن گئے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بھی گاہے بگاہے بچوں سے لکھوائیں۔ کہیں گھومنے گئے تو اس پر کچھ لکھوائیں۔ اسکول پر لکھوائیں۔ والدین، اساتذہ، بہن بھائی، پسند نا پسند، ڈھیر سارے موضوعات ہیں جن پر بچے بآسانی لکھ سکتے ہیں۔ لکھنا سیکھیں گے تو سمجھنا بھی سیکھیں گے۔ ایک لکھای قوم کا ترجمان ہوتا ہے۔ لکھنا بھی آنا چاہیے۔

    7- خود مثال بنیں
    بچوں کو جیسا بنانا چاہتے ہیں خود بھی ویسا بننے کی کوشش کریں۔ جو بات انہیں کہیں خود بھی عمل کریں۔ یاد رکھیں! خود عمل کیے بغیر صرف آرڈر جاری کرنا اپنی محنت ضائع کرنے والی بات ہے۔ بچے سنتے کم دیکھتے زیادہ ہیں۔ جیسا ماحول ویسا کردار ہوگا۔ انہیں جیسا دکھایا جائے گا ویسے ان کی شخصیت کی تعمیر ہوگی۔

    درج بالا چند اصول تربیت کے حوالے سے تجربات کا نچوڑ ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے بچے آپ کے لئے دنیا میں نیک نامی اور افتخار کا باعث بنیں گے۔ بچے والدین کی سب سے قیمتی دولت ہیں۔ ان کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دھیان رہے کہیں یہ دولت زندگی کی مصروفیات کی نذر ہو کر ضائع نہ ہو جائے۔ زندگی جتنی بھی مصروف ہو، بچوں کے لیے وقت ضرور نکالیں۔

    @bachakhanzada5

  • تربیت اور تعلیم میں فرق تحریر : اسامہ خان

    تربیت اور تعلیم میں فرق تحریر : اسامہ خان

    انسان کی تعلیم و تربیت کا عمل اس کے پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے انسان تعلیم اور تربیت کے لیے سکول و مدرسہ کی طرف رجوع کرتا ہے بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی ہے کہ اپنے بڑوں سے چھوٹو سے اور بزرگوں سے کیسے بات کرنی ہے یہ تربیت سب بچوں کو یکساں دی جاتی ہے کچھ بچے اس پر عمل کرتے ہیں اور کچھ نہیں جو بچے اس پر عمل نہیں کرتے ان کا عمل نہ کرنے کا بہت بڑا کردار اس بچے کے گھر کے مسائل اس کے والدین کا اس سے بات کرنے کے طریقے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آج انسان اگر 16 پڑھ لے اور اس میں اخلاق نہ ہو تو کسی کام کا نہیں ہے بے شک وہ جتنے بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔ بڑی قسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو تم کرکے بات کی جاتی ہے ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ آپ کو "آپ” کہہ کر پکارے۔ جو ہم اپنے بچوں کو بچپن میں سکھاتے ہیں اور ان کے ساتھ رویہ اختیار کرتے ہیں بچہ ہمیشہ وہی سیکھتا ہے اور بڑے ہو کر اسی تربیت پر چلتا ہے۔
    ہمارے معاشرے کی ایک اور بہت بڑی بدقسمتی ہے بڑے اگر غلط بھی ہو اور چھوٹا ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو اس کو بدتمیز کہا جاتا ہے۔ اور اگر بڑے بات کر رہے ہوں اور چھوٹا چپ کر کے بیٹھا رہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ تمہارے منہ میں زباں نہیں ہے جیسے، آج کے دور میں لوگ تربیت پتہ نہیں کس کو کہتے ہیں۔ اگر وہی کام وہ خود کرے تو وہ ٹھیک ہے اگر وہ چھوٹا کرے تو وہ غلط ہے،
    بچے اپنے والدین کا عکس ہوتے ہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے آپ سے عزت سے پیش ہیں آپ کا احترام کریں۔ تو آپ پر بھی لازم ہے کہ اپنے بچوں کا احترام کرے ان کی عزت کرے اور ان کے ساتھ ایسے پیش آئیں جیسے آپ اپنے ہم عمر کے لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ آج کے دور میں لوگ توقع کرتے ہیں کہ ہم چھوٹوں کو جو مرضی کہیں لیکن وہ ہماری عزت کریں۔ وہ آپ کے منہ پر آپ کی عزت تو ضرور کریں گے لیکن دل میں کبھی نہیں کریں گے۔ ایسی عزت کا کیا فائدہ جو دل سے ہی نہ کی گئی ہو والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسے پیش آئے جیسے میں اپنے بڑوں کے ساتھ آتے ہیں۔ آپ کا بچہ آپ کا بینک ہے جس میں آپ اپنا اخلاق اپنی تربیت جمع کرواتے ہیں جو آج آپ جمع کروائیں گے کل کو وہی آپ کے سامنے آئے گا۔ بہت سے بچے اسی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کی تربیت ہی نہیں ہوئی ہوتی بچے سمجھتے ہیں کہ جیسے ہم گھر میں بات کرتے ہیں ویسے ہی باہر کی دنیا بھی چلتی ہے میری والدین سے اپیل ہے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں ان کو اچھا ماحول مہیا کرے تاکہ بچے قابل انسان بن سکے اور چار آدمی میں بیٹھ کر اپنے خاندان کا نام روشن کر سکے۔ آج غلطی ہماری اپنی ہوتی ہے اور ہم بچوں کو کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارا نام خراب کر دیا حالانکہ کہیں نہ کہیں ہماری تربیت میں کھوتی ہوتی ہے۔ اور میں اپنی ہونہار نسل کو بھی کہوں گا تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل کریں اگر ہر بار غلطی آپ کی نہیں ہوتی تو ہر بار غلطی آپ کے والدین کی بھی نہیں ہوتی آپ کے والدین آپ کو پڑھاتے ہیں بڑا کرتے ہیں اور قابل انسان بناتے ہیں اور اگر آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل نہیں کرتے تو جاھل میں اور آپ نے کوئی فرق نہیں ہے

  • جاہلیت کے نعرے تحریر::واحید خان

    آج کل جاہلیت کا ایک نعرہ تو یہ ہے کہ ایک کہتا ہے کہ میں پٹھان ہوں، پشتون ہوں دوسرا کہتا ہے کہ میں پنجابی ہوں تیسرا کہتا ہے کہ میں سرائیکی ہوں چوتھا کہتا ہے کہ میں سندھی ہوں پانچواں کہتا ہے کہ میں بلوچی ہوں اپنے آپ کو پٹھان ، سندھی ، بلوچی وغیرہ کہنا کوئی بری بات نہیں لیکن اس کا یہ مطلب لینا کہ ہم سب گویا دوسروں سے جدا مخلوق ہیں ہماری شخصیت ہماری قوم علیحدہ ہونی چاہیے یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ یہود ہندو اور امریکہ کا پروپیگنڈا بے
    ہر ملک کے اندر قومیں ہوتی ہے امریکہ کتنی اقوام پر مشتمل ہے؟؟ کیا وہ ساری ایک ہی نسب والی ہیں امریکہ میں سارے وہ لوگ جمع ہوگئے ہیں۔جو ڈاکو ہوتے تھے یا قتل کرتے تھے۔وہاں گورے بھی ہیں کالے بھی ہے ہندوستان میں کتنی اقوام رہتی ہیں؟؟ لیکن دشمن بڑا چالاک ہے۔ یہود بڑے چالاک ہیں۔
    خلافت عثمانیہ کو بھی قومیت کے نعرے پر توڑا گیا۔اور مسلمانوں پر کبھی اسلام کا لیبل لگا کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔
    آج کل اغیار حاص طور پر پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ پنجابی علیحدہ ہو جائے پشتون علیحدہ ہو جائے بلوچ علیحدہ ہو جائے اور سندھی علیحدہ ہو جائے اور پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ تاکہ پورے کے پورے پاکستان کے مسلمانوں کو ترنوالہ بنا کر ختم کیا جائے اس لیے انہوں نے دیکھ لیا کہ پاکستان کا مقابلہ کرنا مشکل اور ناممکن ہے۔ الحمدللہ پاکستان ایک مضبوط اور قوی ملک ہے انشاء اللہ اغیار اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا .آیت شریف کا مفہوم یہ ہے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں (سورۃ الحجرات آیت نمبر 10 پارہ 26) اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے جس کونے میں بھی مسلمان رہتا ہے وہ ہمارے کلمے کا بھائی ہے
    حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ فوقیت صرف اور صرف تقوی کے بنیاد پر حاصل ہے
    لہذا آج کل جو قومیت کے نعرے لگایا جاتے ہے اصل میں یہ جاہلیت کے نعرے اور اغیار کا سازش ہیں ہمیں ان نعروں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
    Twitter Handle:: ‎@waheed859

  • اسلامی قوانین ضروری ہیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    اسلامی قوانین ضروری ہیں تحریر: یاسر خان بلوچ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حالات جیسے ہیں ان سے آج کل بچہ بچہ واقف ہے بلکہ خوفزدہ ہے۔۔یہ ملک جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا جس کی بنیاد ہی لا الہ الا اللہ ہے آجکل اس میں ہر چیز نظر آتی ہے سوائے اسلامی اصول اور قوانین کے۔آج کل ملک میں جو انتشار اور قتل و غارت گری پھیلی ہوئی ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے۔۔بہت سے آزاد خیال لوگوں کو اس بات سے انکار ہو گا۔۔بہت سوں کو یہ بات قدامت پسندی نظر آئے گی مگر سچ یہی ہے کہ جب تک ہم اسلام اور اس کی تعلیمات سے روگردانی کرتے رہیں گے معاشرہ گراوٹ کا شکار رہے گا۔معاشرے کے اندر پھیلا یہ بگاڑ اور بدنظمی کبھی بھی سمیٹی نہیں جا سکتی جب تک اسلامی قوانین کو لاگو نہ کر دیا جائے۔بچے جنہیں اس باغِ جہاں کا پھول کہا جاتا ہے انہیں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بری طرح روندا اور مسلا جا رہا ہے۔۔خواتین اب گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔۔کہیں شوہر کے ہاتھوں بیوی کا قتل ہو رہا ہے،کہیں بیوی کے ہاتھوں شوہر کا،کہیں اولاد ماں باپ کو قتل کر رہی ہے اور کہیں ماں باپ اولاد کی جان کے دشمن ہوئے کھڑے ہیں۔یہ اس ملک کے حالات تو نہیں ہونے چاہئیے تھے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور جس کی تعمیر کیلیے کئی خاندانوں نے اپنے خون سے آبیاری کی۔ایسے لگتا ہے جیسے قیامت وقوع پذیر ہونے کو ہے۔۔ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ہر انسان دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے۔۔ایسے لگتا ہے جیسے ہر احساس ختم ہو کر رہ گیا ہے۔۔اب لوگ کسی مظلوم کی داد رسی نہیں کرتے بلکہ اس کی ذات کی کھوج میں لگ جاتے ہیں کہ وہ کیسا انسان ہے اور پھر رائے دی جاتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے تو یہ اسی لائق تھا۔اب کسی کے مدد مانگنے پر اس کی مدد نہیں کی جاتی بلکہ ہاتھ میں نصیحتیں تھما دی جاتی ہیں۔ایک انسان دوسرے انسان کے اوپر چڑھائی کرنے کو اور اس کا حق مارنے کو ترقی کی ایک کوشش سمجھتا ہے۔یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تعلیمات کو چھوڑ کر مغرب کو اپنا رول ماڈل بنا لیا ہے۔۔ہم نے اسلامی تعلیمات اور قوانین کو سخت اور انسان دشمن سمجھ کیا ہے حالانکہ انسانیت کی بقا ان ہی میں ہے۔۔ہمیں اسلامی قوانین کے لاگو ہونے سے کیوں ڈر لگتا ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح ہمارے دامن بھی سیاہیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اس لیے ہم بھی کہیں ان کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔اس لیے ہر شخص دوسرے پر ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش ہے کیونکہ اپنا دامن تو بچا ہوا ہے۔اسی لیے تو عمران اور ظاہر جعفر جیسے ہزاروں درندے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔۔اگر کسی ایک کو بھی چوک میں لٹکا دیا جاتا تو حالات شاید کچھ بہتر ہوتے۔زینب کے بعد کوئی ماہم نہ ہوتی۔

  • تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی “بوٹی” یا پاکٹ گائیڈز تحریر : آصف شہزاد

    تین ضرب چار انچ کی چھوٹی سی کتاب نقل کیلئے خفیہ طور پر استعمال ہونے والے پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کے نام سے مقبول ہے ان گائیڈز پر دفعہ ۱۴۴ کے تحت پابندی کے باوجود امتحانات کے دوران یہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت کئے جاتے ہیں۔جن کے استعمال سے بجا طور پر ہونہار طلباء کی حق تلفی ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود بیشتر طالب علم پاکٹ گائیڈز یا بوٹی کو امتحانات میں کامیابی کیلئے کارآمد ذریعہ سمجھتے ہیں اور اب بات یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ جن طلباء کو پڑھنے میں دلچسپی تھی اور نقل کے ذرائع کو معیوب سمجھتے تھے اب وہ بھی ان مواد کے استعمال سے نہیں شرماتے کیونکہ امتحانی حال میں نقل کا استعمال عام ہے اور ان طلباء کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچتا تو اپنی حق تلفی کے رد عمل کے طور پر ان میں پڑھنے اور محنت کرنے کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے اور ہونہار طلباء بھی اب نقل سے کام چلانے میں نہیں شرماتے۔

    یہ بوٹی یا پاکٹ گائیڈز اتنے مقبول ہیں کہ کسی بھی شہر کے تقریباً ہر کتب فروش کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔امتحانات کے دوران پاکٹ گائیڈز کی طلب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے بوٹی مافیا سے جڑے پبلشرز اور پرنٹرز دن رات کام کرتے ہیں اور کتب فروشوں کو بوریاں بھر بھر کے سپلائی کرتے ہیں ان کتب فروشوں میں ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب ان گائیڈز پر پابندی کی خبریں آتی ہیں تو دکاندار ان بوٹیوں کو خفیہ طریقے سے فروخت کرتے ہیں تاہم اگر حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کوئی مسلہ پیش آتا بھی ہے تو کچھ پیسے دیکر معامعلہ رفع دفع کرنا مشکل نہیں ہے

    چند دن قبل سوات میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن کی جانب سے انٹر اور میٹرک کے امتحانات کا انعقاد کیا گیا جن میں طلباء کی جانب سے پیپرز کے بعد انوکھے انداز سے نقل کی کاپیاں ہوا میں اچھال کر برسائے کئے اور سڑکوں پر پاکٹ گائیڈز اور دیگر مواد کی ہزاروں پرچیاں پھینک کر چھوڑ گئے اس عمل کے تصاویر اور ویڈیوز سواشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے اس عمل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔


    میٹرک کے امتحان میں مصروف ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ پیپر میں آئے ہوئے تقریباً ہر سوال کا جواب پاکٹ گائیڈ میں موجود ہوتا ہے جسے آسانی سے الگ کرکے لکھا جاسکتا ہے اگر حال میں سختی زیادہ ہو تو لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس سے کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے تاہم پھر بھی بہت سے طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کرکے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو چکما دیا جاسکتا ہے۔

    پاکٹ گائیڈ المعروف “بوٹی” کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ طلباء اپنے ساتھ دو دو یا تین تین کاپیاں رکھتے ہیں،لہٰذا اگر حال میں سختی ہو تو طلباء کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ ایک پرزہ چھوٹ جانے سے لکھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کیونکہ طالب علم متعلقہ موضع کا دوسرا پُرزہ نکال لیتے ہیں اور یہ ایک عام عمل ہے جسے ہر کوئی کرتا ہے بس میں نے بتادیا اور زیادہ لوگ بتانے سے شرماتے ہیں لیکن میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک عام عمل ہے جسے تقریباً ہر طالب علم کرتا ہے

    ایک کتاب فروش کا کہنا تھا کہ پاکٹ گائیڈ کی فروخت چونکہ منافع بخش کاروبار ہے اسلئے دکانداروں کو امتحانات کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے اس کا کہنا تھا کہ عام دکانداروں کے علاوہ چند ایسے دکاندار بھی ہیں جن کے پاس فوٹو کاپی کی مشینیں لگی ہوتیں ہیں اور وہ پاکٹ گائیڈ سے بھی بہتر مواد فروخت کرتے ہیں جوکہ مشین کے ذریعے اچھے کاغذ اور صاف لکھائی کیساتھ چھاپے جاتے ہیں یہاں تک کہ جاری پرچہ کے دوران بھی طالب علم رفع حاجت یا پانی پینے کا بہانہ بناکر ان دکانداروں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور مطلوبہ سوالات کے جوابات پرنٹ کرواکر امتحانی حال لے جاتے ہیں۔

    ایک اسٹیشنری دکان کے مالک نے کہا کہ اگر حکومت پاکٹ گائیڈز کی فروخت بند کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کتب فروشوں اور اسٹشنری دکانوں کے بجائے شائع کرنے والے پبلشرز اور پرنٹرز پر چھاپے مارکر کاروائی کریں کیونکہ جب تک یہ پاکٹ گائیڈز دستیاب ہونگے تو طالب علموں کیلئے ان کا حصول مشکل نہیں اور یہاں تک کہ آجکل آن لائن کاروبار کا رجحان ہے اور ان چیزوں کو آن لائن بھی کسی کوڈ ورڈ کا استعمال کرکے خریدا یا فروخت کیا جاسکتا ہے غرض جب تک یہ گائیڈز چھپتے رہینگے جدید دور کے طالب علم انہیں حاصل کرتے رہینگے کیونکہ نئی نسل کے پاس ان مواد کو حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں طریقے موجود ہیں۔

  • سر زمین وطن کی چادر ، سبز ہلالی پرچم  تحریر : فضیلت اجالہ

    سر زمین وطن کی چادر ، سبز ہلالی پرچم تحریر : فضیلت اجالہ

    اچانک بریک لگانے کی وجہ سے گاڑی کے ٹائر زور سے چرچرائے تھے ،موسلا دھار برستی بارش کی پرواہ کیے بغیر وہ بے چینی اور اضطراب کی حالت میں گاڑی سے اترا اور بھاگ کر کچھ فاصلے پر موجود کیچڑ لگے کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھا کر چومتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا تھا ،اسکی پہلی محبت کی نشانی ،اور پہلی محبت بھی کبھی بھولی ہے ،یہ تو رگوں میں لہو بن کر دوڑتی ہے ،پہلے عشق کی داستان سناتا وہ سبز ہلالی پرچم کا چھوٹا سا ٹکڑا ،اس پرچم کو آنکھوں سے لگائے وہ ماضی میں ڈوب گیا تھا ،سات سالہ بچہ گھر میں داخل ہوتے ہی چلایا تھا آپی آپی مجھے بھی پاکستانی جھنڈا چاہیے ،اس کی ضد کو دیکھتے اسکی بہن کمرے میں گئی تھی اور اپنی ہری قمیص کو کاٹ کہ اسے جھنڈے کی شکل دیتے ایک چھڑی پر لگا کہ اسے تھمایا تھا ،اس بچے کے ہاتھ میں جیسے ہفت اقلیم آگئ تھی جھنڈے کو لہراتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا بن کے رہے گا پاکستان ،لے کے رہیں گے آزادی ،اچانک ہوا کہ دوش پہ لہراتی آواز
    ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
    نے اسے واپس ہوش کی دنیا میں لاکھڑا کیا تھا آنکھوں سے بہتے اشکوں کو صاف کرتےاس نے دور دور تک بکھری اپنی ناقدری پہ ماتم زدہ پاکستانی جھنڈیوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کاش وہ ان لاکھوں بہنوں کے پھٹے آنچل ان لوگوں کو دکھا سکے جو اس وطن اور اس سبز ہلالی کو حاصل کرنے کیلیے تار تار ہوئے تھے ،اس نے آج جانا تھا کہ کیوں اسے اس پرچم سے اتنا لگاؤ اور عقیدت ہے ،
    اور یہ صرف اس ایک نوجوان کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایسی ان گنت کہانیاں اس پرچم ستارہ و ہلال کے ساتھ جڑی ہوئ ہیں ،اور آج کی نسل کیلیے یہ پرچم یہ جھنڈیاں صرف فوٹو شووٹ اور تفریح کا زریعہ بن کر رہ گئی ہیں

    قومی جھنڈے کی جو ناقدری و بے ادبی ملک پاکستان میں ہوتی وہ دنیا کے کسی اور کونے میں نظر نہیں آئے گی
    جس وطن کا جشن آزادی منانے کیلیے گھروں اور گلیوں کو سجایا جاتا ہے اسی کے قومی نشان لیے ہزاروں جھنڈیاں زمین پر پڑی نظر آتی ہیں۔
    جس پرچم کو جوانوں نے سر پر باندھ کر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے جانیں قربان کی تھیں کچرے میں پڑا ملتا ہے۔
    یہ کیسی محبت ہے
    یہ کیسا جشن ہے
    ہم دنیا کو کیا بتا رہے ہیں ،کیا دکھا رہے ہیں
    اس سبز جھنڈے کی ناقدری کر کے لاکھوں شہیدوں کو کیا جواب دیں گے جنہوں نے اس پرچم کو لہرانے کیلیے اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہ لاالہ کے نعرے پہ حاصل کیے گئے ملک کے قومی پرچم کو قدموں تلے روند کے بروز محشر اللہ اور اسکے رسول کو کیا منہ دکھائیں گے ۔
    وطن سے محبت کا یہ کونسا مقام ہے کہ ایک ویڈیو بنانے کیلیے, ایک ٹک ٹوک کی خاطر اس پرچم کو نا جانے کتنی بار گرایا جاتا ہے ،اس پرچم کی قدر نا کرنے والے اس پرچم کی قدر اس باپ سے پوچھے جس نے اپنے ھی ھاتھوں سے اپنے جوان لخت جگر کو منوں مٹی کے نیچے دفنایا، اس کےباوجود پاکستانی پرچم لہرایا ہے
    اس عظیم پرچم کی قدر اس فوجی کے بیٹے سے پوچھو جسے باپ کی لاش کے بدلے میں یہ جھنڈا عنایت ہوتا ہے۔
    اس ماں سے پوچھو جو اولاد پہ آئے اک کھرونچ کے بدلے دنیا ہلا دہتی ہے لیکن جب جواں بیٹا ،شہید ہوتا ہے تو لہو رنگ آنکھیں لیے مسکراتی ہے اور سبز ہلالی پرچم پہ وارنے کیلیے دوسرے بیٹے کو بھیج دیتی ہے ،کیوں کہ وطن عزیز کا یہ سبز جھنڈا
    آنکھوں کی بینائ اور سکون قلب ہے
    اور اس پرچمِ عظیم کی قدرو منزلت اس پہ جان نثار کرنے والی فوج سے پوچھو
    کیونکہ جب بھی وطن کا کوئی بیٹا شہید ہوتا ہے تو اس کے جسد خاکی کو اس سبز پرچم میں لپیٹا جاتا ہے اس پرچم کی اہمیت وہی جانتے ہیں جو اس کی تاقیامت سربلندی کے لئے اپنے لہو کے نذرانے پیش کرتے ہیں یا وہ اجداد کہ جنہوں نے بقائے وطن اور اس سر سبز و سفید پرچم کی سربلندی کے لیے ناجانے کتنے لخت جگر اس دھرتی پہ وارے ہیں
    14 اگست منائیے لیکن خدارا جتنی محبت سے آپ سبز ہلالی پرچم کو خریدتے ہیں اتنی ہی محبت سے اس پرچم کی حفاظت بھی کیا کریں نہ کہ 14 اگست گزرنے کے بعد روڈ پر پھینک دو.اس پرچم کی اپنی جان سے بھی بڑھ کر حفاظت کریں کیوں کہ یہ صرف کپڑے کا ٹکڑا نہی ہے ،اس کے ہرے رنگ کو لاکھوں جوانوں نے اپنے لہو سے سینچا ہے اسکے غرور سے چمکتے چاند میں انتظار کی سولی پہ لٹکتی نا جانی کتنی سہاگنوں کہ بالوں کی چاندی چھپی ہے ۔اس پہ بنے تارے کی تمکنت کیلیے لاکھوں تارے یتیم ہوئے ہیں ۔
    یہ پرچم ہمارے عزم و اسقلال کی سنہری داستاں ہے اسے یوں بے آبرو نا کیجیے ۔آپ کا لہو سبز ہلالی پرچم کی بقا کا ضامن ہے ۔
    اس پرچم کی کیسی عظیم شان ہے
    اس پرچم کا مطلب پاکستان ہے
    ۔مجھے فخر ہے کہ میں جس سر زمین کی باسی ہوں وہاں مائیں ابھی ایسے سرفروشوں کو جنم دیتی ہیں جو اس دھرتی اور اس پہ لہراتے پرچم کو گرنے نہی دیتے ۔14 اگست ضرور منايے مگر 15 اگست کو بھی وہی جذبہ زندہ رکھيے،کیونکہ
    آزادی نام ہی عقل و شعور کا ، سر زمین مقدس سے عہد وفا کا ، سامراجی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کا، قانون کی پاسداری اور انصاف کی یکساں فراہمی کے لئے جدوجہد مسلسل اور باہمی اتفاق کا ہے ۔
    یہ پرچم ہماری عزتوں کا نشان ہے
    خدارا آپ بھی اس پرچم اور وطن عزیز کی اہمیت کو سمجھیے اس سے محبت کا عملی ثبوت دیں اور جہاں کہیں بھی یہ سبز ہلالی کو گرا ہوا دیکھیں تو جھک کہ اٹھانے میں شرم محسوس نا کیا کریں ۔
    کیوں کہ اس پرچم کی بقا میں ہماری بقا ہے ،یہی سچے محب وطن کی نشانی اور اپنی مٹی سےعشق ھے اور عشق کبھی ختم یا دفن نہیں ھوتا بلکہ ھمیشہ زندہ رھتا ھے۔پہلے خود اس ہلالی پرچم کی عظمت کو سمجھنا ہوگا تبھی ہم دنیا کو بتا پائیں گے کہ ہماری رگوں میں لہو کی جگہ یہ سبز رنگ دوڑتا ہے اور اس سبز پرچم کی خاطر ہم جان دے بھی سکتے اور اسکی طرف بری نظر سے دیکھنے والے کی جان لے بھی سکتے ہیں
    آؤ یہ عہد کریں کہ اس 14 اگست ،جشن آزادی منائیں گے لیکن اس پرچم کی تعظیم میں کمی نہیں آنے دیں گے آؤ عہد کریں کہ

    ہم تو لڑیں گے وطن کے لیے
    جھنڈا تو ملے گا کفن کے لیے

    @_Ujala_R

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    بچے فرشتوں کا دوسرا روپ اور اللہ کی خاص رحمت ہوتے ہیں۔ والدین کیلیے اولاد نعمت ہوتی ہے اللہ پاک نے بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر انسان کو خاص الخاص بنایا ہے۔
    ہر انسان کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

    آج میں ان چھوٹے بچوں کی بات کرنا چاہوں گی جو معاشرتی نا انصافیوں اور اس ظالم معاشرے کی سرمایہ دارانہ روشوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور بچپن سے ہی ہاتھوں میں قلم کی جگہ ہتھوڑی اور کندھوں پہ سکول بیگ کی جگہ بیلچہ اٹھا لیتے ہیں۔
    کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو یہ چاہے کہ میں بچپن سے ہی کمانا شروع کردوں۔
    ہر گھر میں حالات مختلف ہوتے ہیں
    اللہ پاک کیلیے سب انسان برابر ہیں لیکن اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ کسی کو کم دیئے تو کسی کو زیادہ۔
    اللہ لے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی آزماتا ہے۔

    اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔
    ہمارے معاشرے میں معاشرتی ناانصافیاں شروع سے چلتی آ رہی ہیں۔
    گو کہ آج کل کے دور میں زندگی گزارنا آسان نہیں ہے پیسہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔ اس لئے ہر شخص کو اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لئے زر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم، راشن، ادویات، اور دیگر روزمرہ کی بنیادی ضروریات پیسوں کے بغیر نہیں مل سکتیں۔
    جن بچوں کو اچھی تعلیم اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے
    آخر کیوں۔۔۔؟؟
    صرف اور صرف پیسے کیلیے!!!!!

    انسان کا اچھی اور بہترین زندگی گزارنا حق ہے۔ اور ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کی اولاد پڑھے لکھے اور ترقی کرے۔
    کیونکہ ایک بچے کیلیے تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن ایسی کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بچوں کو تعلیمی اداروں کی بجائے فیکٹریوں اور کارخانوں میں داخل کر دیا جاتا ہے؟ حالانکہ بچوں کی تعلیم اور صحت کی ذمہ داری تو ریاست کی ہوتی ہے۔
    جب ہم بغور جائزہ لیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جن حکمرانوں کو ہم نے اپنے اور ملک کے بھلے اور مفاد کے لئے منتخب کیا تھا ہمارے اصل دشمن ہی وہی نکلے۔ حکمرانوں کی اپنی تجوریاں تو بھری رہیں لیکن عوام ے گھروں کی چارپائیاں بھی بک گئیں۔ حکمرانوں کی اولاد تو یورپ اور دوبئی میں عیاشی کرتی رہی لیکن عوام کی اولاد سڑکوں پہ آ گئی۔
    یہی دو طبقاتی نظریہ ہی قوموں کی کمزوری کی وجہ ہوتا ہے۔
    بچے قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اس قوم کے ہونہار بچوں پہ منحصر ہوتا ہے۔ جس قوم کے بچے ہی سڑکوں پہ ہوں اس قوم کا مستقبل کیا ہو گا۔
    معاشرتی نا انصافیوں کا شکار بچے جب معاشرے میں کہیں کام کرتے نظر آتے ہیں تو لوگ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
    میرا اس موضوع پر تحریر لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ جہاں چھوٹے بچے ورکرز ہیں کام کر رہے ہیں ان کو حقارت سے نہ دیکھیں اور انکی مزدوری وقت پر دیں تاکہ وہ تعلیم کو چھوڑ کر جس مقصد کیلیے کما رہے ہیں وہ پورا ہو سکے اور وہ سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔
    آپ سب سے بھی جتنا ہو سکے ایسے مظلوم بچوں کی مدد کریں تاکہ اگر ممکن ہو سکے تو وہ ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر سکیں۔۔۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ہر آزمائش میں سرخرو کریں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم
    ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم صبح سویرے ہی کالام کا سفر شروع کریں گے لیکن تھکاوٹ کے باعث یہ جلدی ممکن نا ہو سکا اور ہمیں منیگورہ سے کالام تک نکلنے نکلتے 1 بج گیا۔ کالام تک روڈز خوبصورت اور محفوظ تھا بس ایک دو جگہ پر ہمیں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی باقی سفر اچھا رہا۔ ایک دو جگہ رکنے کی وجہ سے ہم کالام شام تک پہنچے۔ اب وہاں ہوٹل کی چوائس میں مشکل پیش آئی کیونکہ ہم میں سے اکثریت دریائے سوات کے قریب ٹھہرنا چاہتے تھے جبکہ بچہ پارٹی جھولے اور سلائڈز والے ہوٹل کا انتخاب کیے بیٹھے۔ خیر لیا ہم نے پھر دریائے سوات کے رخ والا۔ پہلی بار یوں دریا کے قریب ٹھہرنا اور سونے کا تجربہ ہوا۔ سامان سیٹ کمروں میں کیا اور کچھ سستانے لگے۔ پھر ایک چکر بازار کا لگایاوہاں عجیب سی خاموشی تھی مطلب عورتوں کا رش تو دور کی بات عورت نظر ہی نہیں ارہی تھی۔ کچھ دکانیں کھلی تھیں اور ڈرائی فروٹ مارکیٹ بہت بڑی تھی۔ وہیں سے گھومتے پھرتے میں اپنا پاؤں زخمی کروا بیٹھی۔ خیر پھر ہم "کمال” ہوٹل گئے وہ دریا کے کنارے تھا کھانا کھایا وہاں البتہ بہت بڑی تعداد لوگوں کی دیکھی جن میں خواتین، مرد، بوڑھے، بچے سب شامل تھے۔ کھانے کا زائقہ بہت زبردست تھا۔ سروس اچھی تھی۔ اور بل بھی مناسب تھا۔ یہاں بھی مجھے مقدار، زائقہ، معیار اور ریٹ نے کافی متاثر کیا۔ کھانے کے بعد ایک چکر پھر بازار کا لگایا تب زرا گہماگہمی تھی۔ لوگ گھوم رہے تھے کہیں کوئی خوف کا شائبہ تک نا تھا۔ لگتا نہیں تھا کہ چند سال پہلے تک یہ سارا علاقہ خوف کی علامت تھا۔ سکون اور خوشگوار ماحول میں مجھے وہ تمام لوگ یاد آئے جو قربان ہوئے اس آمن کو لانے کے لیے۔ مقامی آبادی سے لے کر افواج پاکستان کے جوانوں تک۔ کیونکہ انہیں کے خون سے ہوا ہے یہ چمن آباد۔ الله پاک اسے دشمن سے محفوظ رکھے۔ امین ثمہ آمین۔ واپسی پے سب باہر رک گئے جبکہ میں ہوٹل واپس اگئی ٹیرس پر چائے منگوائی اور دریا کے شور کو سنا محسوس کیا۔ اسکی لہریں ایسی بپھری ہوئی تھیں جیسے کسی چیز کا کسی بات کا شدید غصہ ہو۔ جیسے ابھی سب کو لے ڈوبیں گی۔ بہا کے کہیں دور لے جائیں گی۔ ان لہروں کو دیکھتے ہوئے اور ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتے ہوئے آپ عجیب دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ جہاں صرف آپکی زات ہوتی ہے ماضی کے دکھ حال کے چیلنجز اور مستقبل کی پلاننگ سبھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے ان لہروں کی نظر ہو جانے والے وہ نوجوان بھی یاد آئےجنہیں یہ لہریں بہا کے لے گئیں مجھے ناطق لکھنوی کا شعر یاد ایا وہاں بیٹھے لہروں کا شور سنتے

    "کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے”

    سمندر کسطرح خاموشی سے بہتا ہے۔ پرسکون سا۔ اسکی لہریں اسکا شور اف الله۔ سب کی واپسی تقریباً ایک بجے ہوئی لیکن ہم سب پھر وہیں ٹیرس پر بیٹھے رہے تقریباً تین بجے تک پھر کمروں میں گئے وہاں نیند کا ایسے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسے ہم گھروں میں سوتے ہیں۔ کیونکہ پھر اگلے دن کی تیاری اور پروگرام کی ترتیب سونے کہاں دیتی ہے۔ اگلے دن ہم نے "اوشو” جنگل جانا تھا وہ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے جب ہم پہنچے ناشتہ کرنے کے بعد تو کئی لوگوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔ جھولے تھے گھڑ سواری اور اونٹ کی سواری بھی تھی۔ لیکن ہم اس سے پہلے اگے "کارگل” جھیل پرچلے گئے ہمارا سامنا دو بچوں سے ہوا ایک کا نام صابر تھا عمر یہی کوئی آٹھ دس تھی۔ نشانہ بازی کے لیے غبارے تھے اس کے پاس بچوں نے نشانے لیے اور تصاویر بنائیں لیکن وہ بچے ہمارے ساتھ رہے "اوشو” سے لے کر "جھیل” تک۔ اس بچے کی خدمت اور اپنے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعہ بتاتی ہوں ہوا کیا۔ صابر نے کہا کہ ہم آپکو جھیل تک لے جاتے ہیں ڈرائیور نے اسےگاڑی میں بیٹھا لیکن میں نے یہ کہہ کر اتار دیا کہ علاقہ محفوظ لگ تو رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا اعتبار مناسب نہیں ہے اگر بچہ خود کہہ دے کہ یہ لوگ مجھے آغواہ کر کے لے جارہے ہیں تو ہم کیا کریں گے۔ اس لیے اگر انہوں نے انا ہوا تو خود اجائیں گے ہم ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اتار دیا انہیں اور خود چلے گئے کافی اگے جانے کے بعد پتہ چلا کہ گاڑی چونکہ بڑی ہے تو اس لیے نہیں جاسکتی سڑک تنگ ہے جانا ممکن نہیں پیدل جانا ہوگا بس ہم پھر مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کی اور اگے پیدل نکل گئے۔ جب تک ہم لوگ پہنچے صابر اور اسکا دوست پہنچ چکے تھے وہاں چھوٹے کیری ڈبے ٹائپ اسانی سے چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بھی بچے ہمارے چھوٹے چھوٹے کام کرتے رہے۔ پہنچ کے یاد آیا کہ آموں کی پیٹیاں تو ہم گاڑی میں ہی بھول آئے سگنل وہاں تھے نہیں کیا کرتے کچھ سمجھ نا آئی تو صابر نے کہا ہم جاتا ہے لے کر اتا ہے۔ کسی سے لفٹ لے کر گیا اورپندرہ منٹ میں آم ہمارے پاس تھے۔ کیا ٹھنڈا پانی تھا جھیل کا۔ بہت مزا آیا۔ دریا کی لہریں وہاں بھی یونہی شور کررہی تھیں۔ لکھا ہوا تھا کہ پتھروں پر بیٹھ کر تصاویر بنوانے سے گریز کریں۔ کیونکہ بہاؤ بہت تیز ہے۔
    جاری

  • یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب.  تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ کی فضیلت، اہمیت اور آداب. تحریر: احسان الحق

    یوم جمعہ افضل الایام اور سید الایام ہے. جمعہ کا دن تمام ایام کا سردار اور تمام ایام سے افضل دن ہے. جمعہ کی نماز ہم پر فرض ہے. اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 62 میں فرمایا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور اپنی تجارت بند کر دو”. اذان سننے کے بعد کاروبار جاری رکھنا حرام ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جمعہ ترک کرنے سے بعض آ جائیں ورنہ بغیر عذر کے جمعہ ترک کرنے والوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیں گے اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے.

    یوم جمعہ کی بہت بڑی فضیلت ہے. یوم جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا. جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں داخل فرمایا. اسی دن یعنی جمعہ کے دن ہی آپ آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا گیا. جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی.

    جمعہ کے آداب اور سنتوں کے متعلق احادیث میں تفصیل موجود ہے. جمعہ کے دن ہر مسلمان پر غسل کرنا واجب ہے. جمعہ کے دن تمام مسلمانوں کو غسل کا خاص اہتمام کرنا چاہئے. ناخن تراشنے چاہیئں. دستیاب کپڑوں میں سے سب سے عمدہ لباس کا انتخاب کرنا چاہئے. تیل اور خوشبو اگر دستیاب ہو تو ان کا استعمال کرنا چاہئے. جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرتا ہے اور چل کر پہلی فرصت میں مسجد میں پہنچتا ایسے شخص کے لئے اونٹ کی قربانی کا اجر ہے. دوسرے وقت میں جانے والے کے لئے ایک گائے، تیسری گھڑی میں جانے والے کے لئے سینگ والے مینڈھے کی قربانی کا اجر ملے گا. چوتھے نمبر پر جانے والے کے لئے ایک مرغی کی قربانی کا ثواب ہے اور سب سے آخر میں جانے والے کے لئے ایک مرغی کے انڈے برابر ثواب ہے. خطبہ جمعہ شروع ہوتے ہی فرشتے رجسٹر بند کر کے خطبہ سننا شروع کر دیتے ہیں.

    مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہو اتنی نوافل پڑھ لیں. خطبہ شروع ہونے کے بعد 2 رکعات نفل لازمی ادا کرنی چاہیئں. لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگنا چاہئے ہاں اگر آگے جگہ خالی ہو تو پھر پہلے اگلی صفوں میں بیٹھنا مناسب ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ خلوص نیت، خاموشی اور توجہ سے خطبہ جمعہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک کے درمیان ہفتے بھر کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ ہو. ارشاد نبویؐ ہے کہ خطبہ شروع ہونے کے بعد اگر کسی نے کسی دوسرے بندے کو گفتگو کرنے سے منع کرنے کے لئے صرف اتنا کہا کہ خاموش ہو جاؤ تو یہ بھی لغو بات ہے اور لغو بات کرنے والے کا جمعہ نہیں.

    جمعہ کے روز کرنے والے کاموں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والا انتہائی اہم اور افضل کام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو. آپ لوگوں کے درود مجھ تک پہنچائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن میں ان لوگوں کی شفاعت کروں گا جو کثرت سے درود بھیجتے ہیں. جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہئے. جو بندہ سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لئے ایک نور چمکتا رہتا ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ جمعہ کے لئے آنے والے شخص کے ہر ایک قدم کے بدلے ایک سال کی تہجد اور ایک سال کے روزوں کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    سردار عبدالقیوم نیازی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہہ لوگ شیروانی اور واسکٹ سلاتے ہیں مجھے تو وزیز اعظم بننے کی خبر کاغزات نامزدگی والے دن صبح کو ہوئی اور مجھے فون آیا کہہ آپ وزیز اعظم کے لئے کاغزات جمع کروایں اگر بات کی جاۓ اپوزیشن کی تو اس نے تو تنقید کرنی ہی تھی جو بھی نام سامنے آتا اس پر تنقید اپوزیشن تو لازمی سی بات ہے کرے گی اگر تنویر الیاس صاحب کا نام آتا تو کہنا تھا اے ٹی ایم مشین کو وزیز اعظم بنا دیا اگر بیریسٹر سلطان کو بناتے تو کہنا تھا وہی پرانی بوتل میں نہی شراب اپوزیشن کا کام تو تنقید ہے اس نے تو کرنے ہی تھی اچنبے کی بات تو یہ ہے سردار عثمان بزادر کی طرح ہمارے میڈیا کے چند بڑے ناموں نے بھی حلف برادری کی تقریب کے فورا بعد سردار عبدالقیوم پر اپنی تنقید کے نشتر برسا دئیے کسی نے کہا کہہ یہ اولیاء اللہ اور درباروں عقیدت مند ہیں اس لئے ان کانام چنا گیا کسی نے کہا ان کانام ع سے شروع ہوتا ہے کسی نے ان کے حلقہ کے نمبر کا زکر کیا کسی نے پختون اور قبیلہ کا زکر کیا جس کو جو ملا اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی میرے خیال میں جو بلکل ہی زیادتی پر مبنی تنقید ہے ہمارے میڈیا کو معلوم ہونا کہہ سردار عبدالقیوم نے کشمیر کے حلقہ سے الیکشن لڑا اور وہ کامیاب ہوۓ اور پورے کشمیر کے کسی بھی حلقہ سے ایم ایل اے کا کامیاب امیدوار ویز اعظم بننے کا مستحق ہوتا ہے بے جا تنقید سے اس حلقہ کی عوام اور پورے کشمیر کی عوام میں اختلاف پیدا نہیں کرنا چائیے تھا میڈیا کا جو سوال بنتا ہے وہ ہے اگر سردار عبدلقیوم پر کوئی کرپشن کیسز ہے تو اسکو ہائی لائیٹ کرے وگرنہ بے جا تنقید غیر مناسب ہے
    سردار عبدلقیوم صاحب کے لیے بہت سے چیلنج ہوں گے اپوزیشن میں سابقہ وزیز اعظم اور اپنی پارٹی کے اندر بھی سابقہ وزیز اعظم اور بھی بہت سے نامور نام ہیں اب سردار عبدالقیوم کس طرح اپنی پارٹی اور اپوزیشن کو لے کر چلتے ہیں یہ بھی ان کا امتحان ہوگا اگر تو سردار عبدلقیوم کشمیر کے مسائل کو حل کرنے جن میں بلدیاتی نظام نہیں ہے بے روزگاری ہے اور عوام کے صحت و انصاف بچوں کی پڑھائی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو اپوزیشن اور میڈیا دونوں کے منہ ہی کشمیر کی عوام بند کر دے گی اگر سردار عبدالقیوم اپنے کپتان عمران خان کے ویثرن کو آگے لے کر چلتے ہیں تو پھر اپنے کپتان کی مکمل حمایت ان کو حاصل ہوگی اور وہ اپنی کرسی پر مضبوطی سے کام کر سکیں گے جو بات زبان ذدہ عام ہے ان کے بارے میں وہ تو بہت اچھی ہے کہہ سردار عبدالقیوم انتہائی نفیس اور سادہ طبعیت انسان ہیں وہ اپوزیشن اور پارٹی کو بہت اچھے سے ڈیل کریں گے اگر اس میں بھی کامیابھی ملتی ہے تو آئندہ آنے والے سالوں میں کشمیر میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھے گا اور حقیقی تبدیلی جس کا تحریک انصاف کے چئیر مین ویز اعظم پاکستان جناب عمران خان نے دیکھا ہے وہ پورا ہوگا ان شاءاللہ
    ہماری دعا ہے سردار عبدالقیوم صاحب کو اللہ پاک حقیقی معنوں میں ہمارے کشمیری عوام کے حقوق کی آواز ملک کے اندر بھی اور بیرون ملک بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرماۓ اور ساتھ میں کشمیر کی عوام کے مسائل کو بھی حل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین۔ ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt