Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمباکو پر آپ کی زندگی سے پابندی کیوں لگائی جائے؟  تحریر: زاہد کبدانی

    تمباکو پر آپ کی زندگی سے پابندی کیوں لگائی جائے؟ تحریر: زاہد کبدانی

    تم شاید پہلے ہی جانتے ہو کہ تمباکو برا ہے۔ در حقیقت ، تمباکو نوشی کی فیصد برسوں سے کم ہے۔ بدقسمتی سے ، تاہم ، اب بھی بہت سارے لوگ ہیں جو روزانہ تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ آپ ہیں ، یا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کو تمباکو ڈالنے میں مشکل ہو رہی ہو تو تمباکو اور اپنی صحت کے بارے میں یہ حقائق چیک کریں۔

    تمباکو کا استعمال بڑی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔

    کینسر بہت سی بیماریوں میں سے ایک ہے جسے تمباکو کی مصنوعات آپ کی زندگی میں لا سکتی ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو ، آپ کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوسکتا ہے۔ اگر آپ چبانے والا تمباکو یا نسوار استعمال کرتے ہیں تو یہ منہ یا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ ان جان لیوا بیماریوں کے ساتھ ، تمباکو کا استعمال دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (COPD) ، ہائی بلڈ پریشر ، اور قبل از وقت دل کے دورے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تمباکو اور کارسنجن جو کہ مصنوعات کے ساتھ آتے ہیں مستقبل میں صحت کے بہت سے مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

    مسوڑوں کی بیماری ایک حقیقی امکان ہے۔

    تم تمباکو نوشی کرتے ہو یا چبانے والے تمباکو کا استعمال کرتے ہو ، یہ مسوڑھوں کی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ یا تو ان مصنوعات میں سے یا منہ کے ذریعے جاتا ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے مسوڑھے اور دانت مصنوعات سے برے کی سخت طاقت لیتے ہیں۔ یہ داغدار دانتوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ آپ کی صحت کے لیے کوئی خاص تشویش نہیں ہے ، یہ خود کی خراب تصویر اور ذہنی صحت کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

    خشک اور خراب جلد:
    تمباکو آپ کی جلد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ بنیادی طور پر ، یہ آپ کو خشک کرتا ہے اور وقت سے پہلے جھریاں ، عمر کے مقامات اور دراڑوں کو فروغ دیتا ہے۔ واحد علاج؟ تمہیں رکنا ہے۔ موئسچرائزر اور کریم تب تک جا سکتی ہیں جب آپ تمباکو کی مصنوعات کی شکل میں اپنے جسم میں بہت زیادہ خرابی ڈال رہے ہوں۔

    نشہ:
    ظاہر ہے ، تمباکو کی مصنوعات میں موجود نیکوٹین اسے انتہائی لت کا باعث بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار شروع کرنے کے بعد ، اسے روکنا انتہائی مشکل ہے۔ یہ مذکورہ بالا صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے ، لیکن اس تناؤ میں بھی اضافہ کرسکتا ہے جو آپ کو پہلے سے ہے۔ صحت کے مسائل کا دباؤ یا چھوڑنے کا دباؤ واقعی تمباکو کو ایک مسئلہ بنا سکتا ہے جو آپ کے دماغ اور جسم پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔
    کیا تمباکو سگریٹ سے بہتر ہے؟ رولنگ تمباکو رول اپ کم از کم آپ کے لیے عام سگریٹ کی طرح نقصان دہ ہیں اور صحت کے لیے وہی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں ان کے مقابلے میں منہ ، غذائی نالی ، گلے اور گلے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اگر آپ تمباکو کا استعمال کرتے ہیں تو اسے ترک کرنے میں دیر نہیں ہوگی! ایک پارٹنر ڈھونڈیں ، ڈاکٹر سے ملیں ، یا پروڈکٹ استعمال کریں تاکہ آپ اچھے طریقے سے پروڈکٹ چھوڑ دیں۔ تمباکو صرف آپ کی زندگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، لہذا ابھی چھوڑیں اور مستقبل میں اپنی صحت کو بچائیں۔

    @Z_Kubdani

  • خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام :آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا "شرمندہ”، کئی عملہ معطل

    خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام :آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا "شرمندہ”، کئی عملہ معطل

    خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے منیجر کو برطرفی کا سامنا ہے آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کمپنی کی خاتون کارکن کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزام کی تحقیقات کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق علی بابا نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کمپنی نے پالیسیز اور اقدار کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ فریقین کو معطل کر دیا ہے اور ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی جنسی بدسلوکی کے خلاف ’قطعی ناقابل قبول‘ کی پالیسی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق متاثرہ خاتون نے کہا ہے 27 جولائی کو منیجر نے اسے ایک کلائنٹ سے ملاقات کرانے کیلے علی بابا ہیڈکوارٹرز سے نو سو کلومیٹر دور جنان شہر اپنے ساتھ جانے پر مجبور کیا۔

    متاثرہ خاتون نے کمپنی کے اعلیٰ افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ اسے رات کے کھانے کے دوران ساتھی کارکنوں کے ساتھ شراب پینے پر بھی مجبور کیا گیا 27 جولائی کی رات کھانے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی اور اگلے دن صبح ہوٹل کے کمرے میں خود کو بغیر کپڑوں کے پایا۔

    خاتون نے بتایا کہ اس نے نگرانی کے لیے نصب کیمرے کی فوٹیج حاصل کرلی جس میں منیجر کو رات کے وقت چار بار اس کے کمرے میں آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر اس الزام ک

    چینی نژاد کینیڈین پاپ اسٹار اور ہالی ووڈ اداکار کرس وو جنسی زیادتی کے الزام میں…

    ے حوالے سے ہیش ٹیگ نمایاں رہا۔ سنہ 2018 میں چین میں ’می ٹو‘ مہم کے بعد سے جنسی بدسلوکی کے معاملے نے توجہ حاصل کی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا نے علی بابا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈینیل ژانگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے پر ’شرمندہ، غصے اور صدمے‘ میں ہیں۔

    دوسری جانب علی بابا کے چیف ایگزیکٹو ڈینیل ژانگ نے کمپنی کے ملازمین کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کمپنی کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے دو سینئر اہلکار اس الزام پر تحقیقات میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے چکے ہیں علی بابا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ ریپ کے الزام کا سامنا کرنے والے منیجر نے خاتون ورکر سے نشے کی حالت میں جنسی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔

    پولیس نے راج کندرا کے لیپ ٹاپ سے درجنوں فحش ویڈیوز اور دیگر مواد برآمد کر لیا

    خط میں مزید کہا گیا کہ اس منیجر کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور اسے دوبارہ نوکری پر کھبی نہیں رکھا جائے گا کمپنی متاثرہ عورت کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری پورا کرے گی اس کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

    جبکہ ویبو پر جاری ایک بیان میں جنان پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مبینہ جنسی زیادتی کے کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں-

  • اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ تحریر:شعیب خان


    اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
    گو پاس میرے درہم ودینار نہیں ہیں

    لفظ اخلاقیات یونانی زبان کے لفظ اخلاق سے نکلا ہے جس کا معنی ہے کردار اور رواج۔ اسی طرح اخلاقیات سے مراد کسی معاشرے، کسی ادارے کیلٸے اخلاقی اصولوں ،اور اخلاقی اقدار کا نظام موجود ہو

    دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات مسلمانوں کواخلاقِ حسنہ کا درس دیتی ہیں، ضعیفوں کا ادب واحترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی قدر ومنزلت، غریبوں اور بے کسوں کی دادرسی ، اپنوں کے ساتھ محبت والفت اور جذبہ ایثار وہمدردی کا سبق دیتی ہیں

    نبی کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اخلاق کا اتمام بھی ہے ۔آپ ﷺ کامل اخلاق کی تکمیل کیلٸے اس جہاں میں تشریف لاٸے ۔ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک ورق آپﷺ کے خُلقِ عظیم کا اجلا نقش ہے۔

    میرے پیارے مسلمانوں بھاٸیوں!! اخلاق کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ معاشرہ مہذب ہو یا غیر مہذت ۔اخلاق دنیا کے ہر معاشرے کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ،انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز اخلاق ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا مسلم معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی ناپید ہوچکے ہیں جس کے باعث آپﷺ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ اسوجہ سے ہمارا معاشرہ رسواء اور زوال پذیر ہو رہا ہے اور بد اخیلاقات ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح ختم کررہی ہے

    دین اسلام جس کی اصل پہچان اخلاقیات کا عظیم باب ہے اور جس کی تکمیل کے لئے مُحَمَّد ﷺ مبعوث کیے گئے تھے آج اسی دین اسلام اور آخری نبی کے اخلاق حسنہ کو ماننے والے اخلاقیات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ ہماری عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، گلی، محلہ ، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و ستم ،بچیوں کے ساتھ زیادتی، فساد، عورتوں پر تشدد ،ماں باپ کی نافرمانی ، کینہ ، جھوٹ ، بہتان تراشی ، غیبت ، قتل و غارت، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیات کے بازار، ہوس کے اڈے ، مے خانے ، جوا ، چوری چکری ، ،زنا کاری، رشوت خوری، سود خوری ،حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی منافقت ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی کرنا آخر وہ کون سا اخلاقی بیماری ہے جو ہم سب میں نہیں ۔ خود غرضی اور کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم سب نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی اقسام ہے جو ہمارے معاشرے کے زوروں پر نہیں؟

    تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم خود پارسا اور مسلمان کہلاتے ہیں ۔۔۔ایسے برے اخلاق و اطوار والی
    عوام کا خود کو مسلمان کہلوانا تو دور کی بات ، ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ایسے میں دین اسلام ، اللہ ﷻ اور آپ ﷺ کا مبارک بھی اپنی ناپاک زبانوں سے لینے کی جسارت نہ کرو اس لیے کہ تم ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔

    گر نہ داری از محمد رنگ و بو
    از زبان خود میسا لا نام او

    قارئين!! معاشرہ اکائی سے بنتا ہے ہر فرد معاشرے کا حصہ ہے۔ ہر فرد خود کو نہیں، معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں ہر فرد سمجھتا ہے کہ ہر برائی اور خرابی دوسرے لوگوں میں ہے ، یہ منفی سوچ معاشرے کو اخلاقیات سے گراتی ہے کیونکہ ہر فرد اپنی ذات سے ہٹ کر دوسرے لوگوں میں خامیاں اور برائیاں دیکھتا ہے۔ ہر فرد اپنیٕ ذمے داریوں سے بھاگتا ہے اور اپنی برائیوں اور خاميوں کا جواز پیدا کرتا ہے ۔

    اللہ ﷻ ہمیں ہدایت دے آمین!

    ‎@aapkashobi

  • پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ

    پاکستان کیلئے ہر دم حاضر گمنام ہیروز ! تحریر احسن علی بٹ


    آج کل جہاں دشمن ہمارے پیارے ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں وہاں ہمارے گمنام ہیروز اپنے وطن پاکستان کے دفاع کیلئے ہر دم تیار ہیں آج میری گمنام ہیروز کی مراد وه تمام محب وطن پاکستانی ہیں جو بے لوث ہوکر اپنی مدد اپ کے تحت دشمن کی سوشل وار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور دشمن کو لاجواب کر رہے ہیں یہ تمام لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے پیارے وطن کے لیے ہر دم حاضر ہوتے ہیں یہ سوشل میڈیا کی جنگ (وار) لڑنا بہت اہم ہے دشمن ممالک ہمارے ملک کے خلاف عالمی سطح پر جھوٹی خبرے پھیلاتا ہے تاکہ پاکستان سے دوسرے ممالک نفرت کریں اور پاکستان کی عزت و وقار میں فرق آجائے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا الحمداللہ ہماری نوجوان نسل اب میدان میں اگئی ہے اور دشمن کی ہر سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے تیار ہے خاص کر ہمارا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کے خلاف غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلا رہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند لوگ ہیں پاکستانی امن نہیں چاہتے اور اس طرح کی بہت سی فیک چیزے جو بھارت اپنے میڈیا پر چلا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف دنیا کو اکسانے کی کوشش کررہا ہے لیکن اب مجھے فخر ہے کہ نوجوان نسل جن کو میں گمنام ہیروز کا لقب دیتا ہوں یہ بھارت کی سازشوں کو چکنا چوڑ کررہے ہیں اور پاکستان کا حقیقی اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لارہے ہیں کہ پاکستانی امن پسند لوگ ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں ہم انتہا پسند نہیں ہیں ہم خطے کے امن پر ہی یقین رکھتے ہیں
    بھارت جتنی مرضی اب پاکستان مخالف جھوٹی کمپين چلوا لے بھارت کو اب منہ کی کھانی پڑے گی کیوں کہ اب پاکستانی یوتھ ان کی چھترول اب سوشل میڈیا وار میں بھی کرے گی اور پاکستان کا نام جو بدنام کرنا چاہے گا اس کو یہ گمنام ہیروز بے نقاب کریں گے اور مودی جو کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں کے حقوق ان سے چھین رہا ہے اور ظلم کی انتہا کر رہا ہے پاکستانی گمنام ہیروز اس پر خاموش نہیں رہے گے مودی اور بھارتی فورسز کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مودی حقیقت میں انتہا پسند ہے اور آج دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ جموں کشمیر میں مودی اور بھارتی فورسز نے کرفیو لگایا ہوا ہے اور کشمیر میں ناانصافی کررہے ہیں کہاں گے انصاف فراہم کرنے والے عالمی ادارے کو انصاف کے دعوے دار ہیں اور کہاں گے ہیومن رائٹس کہاں گے عالمی قوانین کیوں بھارت کے آگے عالمی ادارے خاموش ہیں کیا وجہ ہے ؟؟
    ہمارے گمنام ہیروز نے جس طرح کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے رکھا اس پر تمام کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں اب وقت ہے کہ ہم ایک قوم بن کر اپنے دشمن کا مقابلہ کریں اور دشمن کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈا کو اسی طرح بے نقاب کرتے رہے پاکستان کا جھنڈا ہمشہ بلند رہے گا اور ہم ہر دم وطن کے دفاع کیلئے حاضر رہے گے
    آئیں آج عہد کرتے ہیں کہ اپنے پیارے وطن پاکستان کو جب جب ہماری ضرورت پڑے گی اسی جذبہ سے اپنے ملک کی خدمت کرے گے جس طرح سے ہمارے اباؤ اجداد نے اس وطن کو حاصل کرنے میں قربانیاں دی ہیں اور انکی بے پناہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد یہ پیارا وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان ملا اور میری للّه پاک سے دعا ہے کہ ہمیں سب کو اپنے عظیم ملک پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے جذبہ عطاء فرما
    پاکستان زندہ باد!
    Twitter Account : ‎@AhsanAliButtPTI

  • پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے  تحریر؛شمسہ بتول

    پاکستان قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ اور حسین شاہکار ہے تحریر؛شمسہ بتول


    14 اگست 1947، ,27 رمضان المبارک کی بابرکت رات کو ایک عظیم ریاست وجود میں آٸی جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔ پاکستان ہمارے لیے اللّٰہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ ہمارے آباٶاجداد کی لاتعداد قربانیوں کے بعد ہمیں یہ وطن عزیز حاصل ہوا جس میں ہم اپنی مرضی سے اپنے اپنے کلچر اور مذہب کی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکتے۔
    پاکستان اندھیروں میں ایک امید کی کرن بن کر ابھرا جہاں ہر فرد کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا گیا خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار یا کسی بھی نسل سے ہو ۔ اس وطن کی قیام میں ہمارے شہیدوں کا لہو ، ہماری بہنوں کی عزتیں بھی شامل ہیں اور یہ سب قربانیاں ہمارے بڑوں نے اپنی آنے والی نسل یعنی ہمارے لیے دیں تھی مگر افسوس ہم نے ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا اور اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کی جیسا کہ اسکی قدر کرنے کا حق ہے۔
    آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے وطن کی سڑکوں یا گلی کوچوں میں میں کوڑا کرکٹ پھینکنا شروع کر دیں۔ اس کے قوانین توڑیں اور نہ ہی اسکا یہ مطلب ہے کہ آپ اس ملک کو کوسنا شروع کر دیں کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلہ ہے وغیرہ وغیرہ سو اس لیے جی ہم باہر چلے جاتے ہیں ۔یہاں مساٸل کے علاوہ رکھا ہی کیا ہے اور اس طرح کی بہت سی باتیں جو کہ سراسر غلط ہوتیں ہم بڑے فخر سے کہہ رہے ہوتے۔
    آزادی راۓ کے نام پہ ملک کو کوسنا منافقت کے زمرے میں آتا ہے اس ملک نے آپ کو شناخت دی ایک پہچان دی عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا اور محض چند مساٸل کی بنیاد پر یہ کہہ دینا کہ یہاں ہے ہی کیا جبکہ ہمیں تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے بڑوں نے لہو دے کر اسے حاصل کیا اب ہم نے محنت و لگن سے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اس کے مساٸل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہے نہ کہ اسے چھوڑ کر بھاگ جانا ہے
    اور جن کے پاس باہر جانے کا آپشن نہیں ہوتا وہ پھر سارا سال اسکی سڑکوں پہ کوڑا کرکٹ پھنکتے یا پھر بجلی چوری کر لی یا ٹیکس چوری اور پھر شور مچانا شروع کر دیتے کہ جی پاکستان میں تو مساٸل ہی بہت ہیں۔ اور پھر سال میں ایک دن 14 اگست پہ جھنڈا لگا کے اور سوشل میڈیا پہ پوسٹ شیٸر کر دی یہ بتانے کے لیے جی ہمیں تو بڑی محبت ہے بس ایک دن کے لیے ۔اس طرح فرض ادا نہیں ہوتے عملی طور پر اس سے محبت کرنا سیکھیں صرف ترانے کے وقت کھڑا ہو جانا کافی نہیں بلکہ ادب کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ آپ اس ملک میں ٹیکس چوری نے کریں اس کے وساٸل کا بے دریغ استعمال نہ کریں بجلی چوری نہ کریں پانی اور گیس ضاٸع نہ کریں اس کی سڑکوں اور گلیوں میں کوڑا نہ پھینکیں۔
    اس دن باجے بجا کر ٹاٸم پاس کرنے کی بجاۓ اپنے بچوں کو ترغیب دیں کہ بیٹوں یہ دن تجدید عہدو وفا کا دن ہے اس دن ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد ریاست میں سانس لے رہے اور عزت و تحفظ کے ساۓ میں جی رہے ہیں ۔لہذا ہم اس دن یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر ممکن پاکستان کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کریں گے اس کے وساٸل کا ضیاع نہیں کریں گےاور اس کے قوانین کا احترام کریں گے اور پوری ایمانداری سے اس وطن کے فراٸض جو کہ ہمارے اوپر لاگو ہیں ہم ادا کریں گے۔
    اور یہی اس وطن سے محبت اور وفا اور ادب کا تقاضہ ہے۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
    جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان کے بغیر ہمارا کوٸی وجود نہیں اور نہ ہی کوٸی شناخت۔ مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے😇

    ‎@b786_s

  • معاشرتی و سماجی جرائم و مسائل    تحریر : علی حیدر

    معاشرتی و سماجی جرائم و مسائل تحریر : علی حیدر

    ذی شعور ذمانے کے باسی ہونے کے باوجود بھی کرہ ارض سے ابھی تک انسان ہزاروں سال سے موجودہ جرائم کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے ۔ شاید یہ انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر موجود رہے جو اب ہمارے رگ و پے میں سما کر ہماری فطرت بن چکے ہیں۔ حالیہ دور میں یہ جرائم ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں لیکن حالات کچھ ایسے ہیں کہ ان جرائم و مسائل کو جرم تسلیم کرنا تو درکنار ان کی طرف توجہ ہی نہیں دی جاتی کیونکہ ایسے مسائل سے معاشرے کے ہر فرد کا دامن آلودہ ہے۔
    چغل خوری , بہتان تراشی , شراب نوشی , جوا , ڈکیتی جسمانی و جنسی تشدد اور رشوت خوری ہمارے معاشرے کے وہ جرائم ہیں جن سے ہمیشہ بےغفلت برتی گئی اور ان کے خلاف کسی بھی ذمانے میں مؤثر اور دیرپا اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ چناچہ یہ مسائل اب ہماری سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر کے ہمارے معاشرے کا شیرازہ بکھیر رہے ہیں۔
    یہ مسائل ایک دوسرے کے اسباب ہیں ۔ رشوت ستانی مجرم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ مجرم کو اس بات کا ادراک پہلے سے ہوتا ہے کہ اس کو مزاحمت و تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور وہ قانون کے جال کو چند نوٹوں کے عوض توڑ کر اپنا تحفظ یقینی بنا لے گا۔ اس سے بے روزگاری ,سماجی کاہلی اور حق تلفی کو فروغ ملتا ہے کیونکہ معاشرے کا غالب اور امیر طبقہ اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر غریبوں کا حق غصب کرتا ہے اور ان کے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔

    اگر معاشرے میں پنپتے ہوئے تمام مسائل کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو شاید رشوت خوری کے منفی اثرات میں باقی تمام مسائل کے منفی اثرات پر غالب اور ذیادہ تباہ کن ہوں گے کیونکہ رشوت خوری ہر طرز کے مجرم کی جان بخشی کرتی ہے۔ ڈکیت , غاصب اور متشدد انسان جو مختلف جرائم میں ملوث ہوتے ہیں وہ بے خوف اور بے دریغ جرم سرانجام دیتے ہیں۔
    سماج میں موجود منشیات کے عادی افراد ہمارے لئیے المیہ ہیں اور معاشرے کا قابل فکر پہلو ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذندگیوں میں مفلوج اور ناکارہ ہوتے ہیں ۔ منشیات کی لت میں مبتلاء ان افراد کو اکثر ریپ کیسز اور ڈکیتیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ منشیات کے عادت کے اسباب میں ذمے داریوں سے فرار , احساس محرومی و کمتری اور غربت قابل ذکر ہیں۔ ان افراد کی بہتر مشاورت سے ان کو معاشرے کا مثبت فرد بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی واضح طریقہ کار اور لائحہ عمل نہیں ہے جس سے ایسے افراد کو معاشرے میں دوبارہ مثبت فرد کے طور پہ بحال کیا جا سکے۔
    ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور جنسی تششدد سب سے ذیادہ عام اور تشویشناک ہے ۔ اس حوالے سے ہمارا معاشرہ دو واضح طبقوں میں منقسم ہے ۔ مذہبی طبقے کا مؤقف یہ ہے عورت کی آزادی اور بے پردگی بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہی ہے ۔ دوسرا طبقہ سیکولر ہے جو اس بات کو رد کرتا ہے۔ سیکولر طبقے کے مطابق معاشرے میں ریپ کیسز کی وجہ جہالت ہے۔
    وجوہات کی بہتر جانچ کے بعد واضح لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے اس جرم کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس جرم پر مجرم کو سخت سزا دے کر اور مناسب تعلیم و شعور کو فروغ دے کر جنسی تشدد اور ذنا کو کافی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔
    جھوٹ , دھوکہ دہی , بد دیانتی , بہتان تراشی اور چغل خوری وہ مسائل ہیں جن کا سامنا روزمرہ ذندگی میں معاشرے کے ہر فرد کا ہوتا ہے۔ ان مسائل پر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان مسائل کو مسائل ہی نہیں سمجھا جاتا ۔ دراصل معاشرے میں ایسے مسائل کی بلند شرح ہماری شعوری گراوٹ اور اخلاقی پستی کو ظاہر کرتی ہے۔ چغل خوری , جھوٹ اور مکرو فریب جیسے روزمرہ جرائم کے ارتکاب سے نفرتیں جنم لیتی ہیں اور عزیز و اقارب کے رشتوں میں فاصلوں کا سبب بنتے ہیں۔ معاشرے میں اپنا وقار بلند رکھنے اور سزا سے بچنے کے لئیے ہر انسان جھوٹ اور فریب کا سہارا لیتا ہے۔ ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے بہتر اور مؤثر آگاہی اور مناسب تعلیم سے ختم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مسائل قدر ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں کہ ان کو مکمل طور پہ ختم کرنا نا ممکن ہے۔
    جوا اور سٹہ بازی بھی ہمارے معاشرے کے ان جرائم میں شامل ہیں جن کے تدارک کے لئیے واضح قانون اور لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ جوے کے عادی افراد مجرمانہ ذہنیت کے حامل اور کاہل ہوتے ہیں جو اپنی تمام تر جائیداد کو نیلام کر کے داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ جوا بھی شراب کی طرح انسان کو معاشرے کا مفلوج اور ناکارہ فرد بنا دیتا ہے۔ ایک جواری کی روزمرہ ذندگی کے معاملات میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کیونکہ وہ آسان راستہ اپنا کر دولت کے حصول کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئیے ایک جواری اکثر چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھی نہیں کتراتا ۔

    معاشرے کو ایسے جرائم سے پاک کرنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ مناسب قانون سازی کر کے قانون کو متحرک بنایا جائے جو مجرم کو چوری , ڈکیتی , ریپ اور شراب نوشی جیسے جرائم میں ملوث ہونے پر سزا دے ۔ جبکہ دیگر مسائل جیسا کہ جھوٹ , بہتان اور چغل خوری کے تدارک کے لئیے مناسب آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔

    ‎@alihaiderrr5

  • خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ

    خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تحریر : مریم صدیقہ


    وہ جس کے انصاف کی گواہی آج بھی دنیا دیتی ہے،وہ جس نے آدھی دنیا میں اسلام کا پرچم لہرایا تھا،وہ جس کو دیکھ کے شیطان بھی راستہ بدل لیتا تھا، وہ جس کے خوف سے دشمن کانپ اٹھتا تھا، وہ جس کے اسلام قبول کرنے کی دعائیں میرے نبی محمد ﷺ نے مانگی تھی، وہی ہستی جس کا آج یوم شہادت ہےاور کوئی عام نہیں بلکہ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے فرمایا : "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔” وہ جس کے اسلام قبول کرنے پہ میرے نبیﷺ نے کہا کہ اٹھو بلال! آج اذان چھپ کر نہیں بلکہ کعبہ کی چھت پر جا کر دو تاکہ کفار کو پتہ چلے عمر اسلام قبول کر چکا ہے، وہ جس کی شہادت پہ یہودی کہنے پہ مجبور تھے کہ اگر عمر دس سال زندہ رہ جاتے تو مشرق سے مغرب تک ایک یہودی بھی نہ بچتا اور پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوتا۔
    دنیانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعدایسا حکمران نہ دیکھا جس نے 22 لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کر کےاس پہ حکومت کی لیکن ایک دن زار و قطار روتے دیکھائی دیے رونے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ نہر کے پل سے بھیڑ بکریوں کا ریوڑ گزر رہا تھا اور پل میں ایک سوراخ تھا ، اس سے ایک بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی میں اس لیے رو رہا ہوں کہ کل میں خدا کے ہاں جوابدہ ہوں گا کہ تر ی حکومت میں بکری کی ٹانگ ٹوٹی تو کیوں ٹوٹی ہے تو اس پل کو مرمت نہیں کروا سکتا تھا۔اتنا خوف خداوندی تھا کہ کہتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر کو اللہ کے ہاں جواب دینا ہوگا۔بہادری اس قدر تھی کہ ہجرت کا وقت تھا تمام لوگ کفار کے ڈر سے رات کے اندھیرے میں مکہ سے مدینہ جا رہے تھے تو ایسے میں عمر فاروق اپنی تلوار لہراتے مکے کی گلیوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ جس نے اپنے بچوں کو یتیم کروانا ہے اور بیویوں کو بیوہ کروانا ہے تو وہ آئے عمر کا راستہ روک کے دیکھائے کیوں کہ عمر آج ہجرت کر رہا ہے۔عوام کا احساس اس حد تک تھا کہ راتوں کو گلیوں میں بھیس بدل کے پہرہ دیتے تھے کہ کوئی بھوکا تو نہیں ہے ان کی سلطنت میں۔
    محمدؐ کے صحابی کا وہ زمانہ یاد آتا ہے۔
    بدل کر بھیس گلیوں میں وہ جانا یاد آتا ہے۔
    احتساب، برابری اور انصاف کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ سب سے پہلے خود کو اس کے لیے پیش کیا ایک مرتبہ ابی بن کعب اور آپ کے درمیان اختلاف ہوگئے اور یہ معاملہ قاضی زید بن ثابت کو پیش کیا گیا جب معاملہ شروع ہوا تو امیرالمومنین کا لحاظ کرتے ہوئے قاضی نے آپ کا احترام کرنا چاہا توآپ نے روک دیا اور فرمایا یہ تمہاری پہلی ناانصافی ہے یہ کہہ کر ابی بن کعب کے برابر بیٹھ گئے جب گواہ طلب کیے گئےتو آپ کا کوئی گواہ موجود نہ تھا لہذا آپ کو مدعی علیہ کے طور پر قسم کھانی تھی قاضی نے پھر سفارش کی کہ امیر المومنین کو قسم کھانے سے معاف کر دیا جائے ۔آپ رضی اللہ عنہ ناراض ہوگئے فرمایا یہ تمہارا دوسرا ظلم ہے پھر معاہدے کے مطابق قسم کھائی اور فرمایا "اے قاضی انصاف کرتے وقت جب تک امیر اور فقیر اور ایک عام آدمی تمہارے نزدیک برابر نہ ہو تم قاضی کے عہدے کے قابل نہیں سمجھے جاسکتے ۔”
    خلیفہ دوم نے حکومت چلانے کےوہ طریقے بتائے جن پر آج تک عمل ہو رہا ہے سلطنت کو صوبوں میں تقسیم کیا اور انکے عہدداروں کو نصحیت کی کہ رعایا کے لیے ان کے دروازے ہر وقت کھلے رہنے چاہیےپھر پولیس کا محکمہ قائم ہوا اور افسران کو حکم دیا کہ امن کے ساتھ ساتھ لوگوں کی دیکھ بھال بھی کرتے رہے ایسے ہی عدالتی نظام بھی انہیں کے دورخلاقت میں رائج ہوا اور ججز کو اختیار حاصل تھا کہ قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان رہبروں میں سےہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں تک کے لیے زندگی کی اصول واضح کیے جن سے آج بھی دنیا استفادہ حاصل کرتی ہے۔اگر آج اسلامی دنیا پھر سے عروج اور دنیا پہ اپنی حکمرانی چاہتی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا جائزہ لے اور اسے اپنی مشعل راہ بنائیں ۔ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر قربان نہ کرے اور اگر واقعی کامیابی چاہتے ہیں تو اسلام کی ایسی تعلیمات کو ہرگز فراموش نہ کریں۔
    تقاضا ہے کہ پھر دنیا میں شان حق ہویدا ہو
    عرب کے ریگزاروں سے کوئی فاروق پیدا ہو
    بڑا غوغا ہے پھر قصر جہاں میں اہل باطل کا
    کوئی فاروق پھر اٹھے تو حق کا بول بالا ہو

    ‎@MS_14_1

  • مراد_رسولؐ حضرت عمرؓ بن خطاب  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مراد_رسولؐ حضرت عمرؓ بن خطاب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    دنیا میں عشق کی ایک سے بڑھ کر ایک مثالیں گزری ہیں۔ میرا قلم اتنا قابل نہیں کی فضائل حضرت عمرؓ پر لکھ سکے۔ کیونکہ یہ وہ صحابہ کرام اور ان سے منسلک ہر چیز اللہ رب العزت کی جانب سے منتخب کی گئی۔ قرآن بھی جگہ جگہ اس کی گواہی دیتا ہے۔ ہر اک چیز کو چنا گیا ہے۔اسی طرح اللہ کریم نے امت میں سے جسے چاہا دین کا نور عطا کیا اور صحابہ کرام کے درجے پر فائز فرمایا۔ اعلان نبوت کے ابتدائی دور میں تو چھپ چھپ کر عبادت کا سلسلہ جاری رہا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چھپ کر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھے ہوے تھے۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جزبہ دیکھتے ہوئے اللہ کے حبیب حضور خاتم النبیین محمد صلی الله عليه وآلہ وسلم نے اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ اٹھائے اور التجا کی کہ میرے رب دین کو مکہ کے دو بہادر ہستیوں میں سے ایک سے تقویت عطا کر۔ اللہ رب العزت کے اسلام کے لیے خاندان شجاعت کے پھول اور نسل _ خطاب سے حضرت عمرؓ کو دین کی دولت سے نواز دیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت کے چرچے پورے عرب میں تھے۔ مائیں اپنے بچوں کو خوف دلاتی کہ سو جاؤ عمر آ جاے گا۔ جب یہ تحفہ اسلام کو ملا تو آپ رضی الله تعالیٰ عنہ مراد رسول ﷺ کہلاے کیوں کہ آپ کو باضابطہ طور پر اسلام کی شجاعت و مرتبت کے لیے منتخب کیا گیا۔ آپ رضی الله تعالیٰ عنہ کے اسلام قبول کرتے ہی پہلا اعلان جو فرمایا کہ ۔ مسلمان اب کھلے عام اللہ کی عبادت کریں گے کون ہے جو اپنی اولاد کو یتیم کرانا چاہے گا بیوی کو بیوہ کرانا. چاہے گا جسے اسلام سے مقابلہ کرنا ہے پہلے مجھ عمرؓ سے مقابلہ کرے۔ اس اعلان سے مسلمانوں کے جزبے کو توقیت ملی۔
    پھر حضور نبی کریم خاتم النبیین محمد صلی الله عليه و آلہ وسلم سے جو مرتبوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت مشہور ہے۔
    1۔ مراد رسولؐ کہلاے۔
    2۔ آپﷺ نے فرمایا میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اگر کوئی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔
    3۔ عشرہ مبشرہ کا شرف حاصل کیا۔
    4۔ بیت المقدس کی فتح کا سہرا بھی آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سر ہے۔
    5۔ نظام عدل کی ایسی مثال قائم کی جس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    6۔ کفر کے لیے عزاب اور امت کے لیے نہایت شفیق۔
    موضوع بہت طویل ہے لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں صرف ایک واقع عرض کرنے کا شرف حاصل کروں گا جس سے بہت سے اسباق ملتے ہیں۔
    ریاست عمرؓ میں ایک بار اک گلی سے گزر ہوا تو بچوں کے رونے کی آواز سنائی دی۔ آپ رضی تعالیٰ عنہ دن کو انصاف کی کچہری اور ریاستی معاملات تو رات کی تاریکی میں گلیوں کے چکر لگاتے کی ریاست میں کوئی ضرورت مند نہ رہے کسی کی سفید پوشی ایسی نہ ہو جسے تواضع نا کیا جا سکے۔ 22 لاکھ مربع میل ریاست کا سلطان بھیس بدل کر رعایا کی حالت دیکھنے راتوں کو گلیوں میں گھوما کرتا تھا.
    *مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو انتخاب رب العالمین ہو انداز جدا کیسے نا ہو.*
    اک گلی سے گزر ہوا بچوں کے رونے کی آواز سنائی دی دروازے پر دستک دی تو اندر سے خاتون کی آواز سنائی دی سوال کیا بچے کیوں رو رہے جوا آیا گھر پر کھانے کو کچھ نہیں بھوک سے رو رہے ہیں۔ اور میں عمرؓ کی جان کو رو رہی ہوں۔ حضرت عمرؓ کا جسم لرز گیا۔ فورا بیت المال گے اناج اپنے کندھے پر لاد کر لاے خادم نے اٹھانا چاہا تو جواب دیا اگر قیامت میں میرا بوجھ اٹھا لو گے تو اب بھی اٹھا لو۔ ریاست کا سربراہ ایسا ہوتا ہے۔ فرمایا کرتے تھے دریا _فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو جواب عمرؓ کو دینا پڑے گا۔ خیر دروازہ کھلوایا۔ بچوں کی بھوک سے حالت دیکھ کر تلملا اٹھے۔ عورت کو کھانا بنانے کا کہا اور خود بچوں کو پیٹھ پر بٹھا کر کھلانے لگے. کھانا تیار ہوا بچوں کو کھلایا۔ ماں کا دل چوٹ کھا گیا کہنے لگی کتنے شفیق انسان ہو تم اور اک عمرؓ ہے لیرے بچوں کا خیال کیوں نہ آیا اسے. اسے تو قیامت والے دن نہیں چھوڑوں گی۔ حضرت عمرؓ کا دل اور پگھل گیا۔ کہنے لگے عمرؓ کو معاف کر دو سارا دن ریاست کی کچہریوں میں گزارتا ہو گا. آخر انسان ہے تھک بھی جاتا ہو گا۔ رب العالمین کے ساتھ شرف عبادت بھی حاصل کرتا ہو گا. عورت کہنے لگی کہاں تم اتنے خدا ترس اور کہاں عمرؓ تم اس کی وکالت کیوں کرتے ہو قیامت کا دن ہو گا میرا ہاتھ اور عمرؓ کا گریبان رب کی عدالت میں پکڑوں گی۔ حضرت عمرؓ کو بچوں کی طرح بلک کر رونے لگے فرمایا وہ بد نصیب عمرؓ تمہارے سامنے کھڑا ہے. جو کہنا ہے آج کہ لو آج عمرؓ حساب دے لے گا۔ کل قیامت میں مجھے بخش دینا. 22 لاکھ مربع میل کی سلطنت کا سلطان جس سے کفر لرز اٹھے اور رب کریم کی مخلوق پر اتنے رحم دل بے شک اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے لوگ ہیں.
    قلم کی زبان کو لگام دینا مجبوری ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل بے شمار اور اس تحریر کے الفاظ محدود ہیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر آلود خنجر کے وار سے شہید کیا گیا. ان کے بنائے گئے اصول حکمرانی سے دنیا میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے. آج اکہی کی تعلیمات کے کچھ اصولوں کو *umar law* کو دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں نے اپنا رکھا ہے. پاکستان میں نظم عدل، سزا و جزا، غریب کی داد رسی کا شدید فقدان ہے. اللہ کریم صاحب اختیار لوگوں کو کمزوروں کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے. تاکہ معاشرے کے توازن کو بہتر بنایا جائے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق *Umer Law* کو نافذ کر کے نظام عدل کو بہترین کیا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے   تحریر  : راجہ حشام صادق

    یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے تحریر : راجہ حشام صادق

    ایک فرق تو ہر انسان کو نظر آ رہا ہے کہ ماضی کا پاکستان اور آج کا پاکستان ماضی کے دور سے بہت بہتر ہے اب ہماری قوم کے اندر جو شعور آ رہا ہے ایسا ماضی میں نہ تھا۔ اب ہر پاکستانی کو اس کے حقوق کا پتہ چل چکا ہے۔

    آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں کوئی ظالم کسی پر ظلم یا کسی مظلوم کو دبا نہیں سکتا یہی تبدیلی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کے پاکستان میں عوام میں اتنا شعور تو آیا کہ وہ ظالموں اور جابر لوگوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ کوئی آٹھ سال پہلے پشاور جانے کا اتفاق ہوا دل میں ایک ڈر سا تھا۔ دل اور ذہن میں ایک خوف تھا کہ آئے روز جس شہر کے اندر دھماکے ہوتے ہیں۔ نہ جانے کس مقام پر زندگی تمام ہو جائے سانسیں ساتھ چھوڑ جائے ایسے ماحول میں کون کس پر یقین کرئے سامنے سے آنے والے شخص پر بھروسہ کیسے کرئے کہ وہ پاس آ کر کہیں بارود ہی نہ بن جائے اور اپنے ساتھ کئی معصوم جانوں کو اڑا کر نہ لے جائے۔

    اللہ پاک کا شکر ہے کہ وقت گزرا حالات بدلے قوم کے ذہنوں سے دہشتگردی کا خوف ختم ہوتا گیا افواج پاکستان کی قربانیوں سے اس ملک میں امن لوٹا۔
    اور آج اللہ پاک کے فضل و کرم سے الحمداللہ یہ ملک پاکستان تیرا اور میرا پاکستان محفوظ ہے ماضی کی تمام جمہوری حکومتوں نے اس ملک پاکستان کے اندر دہشتگردی کروائی ملک دشمنوں کے ہاتھوں ہمارے حکمران بکتے رہے ملک میں افرا تفری اور قتل و غارت کی قیمت وصول کرتے تھے۔ایسے سیاستدانوں کے ساتھ نفرت کی وجہ بھی یہی تھی۔ اور شاید میری طرح آپ نے بھی ان ماضی کی پارٹیوں کو چھوڑ کر ایک ایسی جماعت ہا تحریک کے سربراہ کا ساتھ دیا جس کی حب الوطنی پر آج بھی کسی کو کوئی شک نہیں جس لیڈر نے انصاف کا نعرہ بلند کیا بائیس سال جدوجہد کی اور اقتدار میں آیا ایسے لیڈر کا ساتھ میرے اور ملک کے لاکھوں نوجوانوں نے بغیر کسی مفاد کے دیا بغیر کسی عہدے یا ذاتی فائدے کے دن رات محنت کی ان ہی نوجوانوں کے ووٹ اور بہادری کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ وطن ایک دلیر ایماندار اور مضبوط جمہوری حکومت کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔

    ہزاروں نوجوانوں نے اس تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے قربانیاں دیں
    یہ اس ملک کے نوجوانوں کا ہی حوصلہ تھا کہ کبھی آنسو گیس کا سامنا کیا تو کبھی لاٹھی چارج کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنا کر ڈرایا گیا
    سینے پر گولیاں کھائیں تعلقات ختم کیئے لیکن اس ملک کی بہتری کے لئے ڈٹے رہے۔ آج بھی اس ملک کا نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہے۔

    آج کا نوجوان جس نے اس پیارے وطن کا سوچا جس کے اندر آج بھی لڑنے کا جذبہ موجودہ ہے جو آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ محنت اور جدوجہد کا پھل آنے والی نسلیں کھائیں گی۔ مشکل کی اس گھڑی میں جو نوجوان اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں مورخ ان کو محب وطن پاکستانی لکھے گا تاریخ میں ان بہادروں کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔یاد رکھیں ظالم اور جابر حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے والوں کو تاریخ ہمیشہ بہادر کے نام سے پڑھے اور لکھے گی ۔

    ان شاء اللہ ملک پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنا ہے۔ وطن کی حفاظت کے لئے قربانیاں دینے والے وطن کے بیٹوں کو سلام ان کی جرات کو سلام جنہوں نے اس وطن کی سرحدوں پر لڑ کر قربانی دیں یا اس سسٹم کے خلاف کھڑے ہوئے جو ماضی کے حکمرانوں نے بنا رکھا تھا پانچ سال تیرے پانچ سال میرے
    میڈیا پے تم مجھے برا بھلا کہو میں تمہیں کہوں گا پر شام کا کھانا ایک سات ہو گا یہ جمہوریت تھی۔

    نوجوانوں اور اس وطن کے دلیر بیٹوں کے ہوتے ہوئے کوئی اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا
    تو نوجوانوں یہ جنگ ابھی جاری ہے بس تم نے کھبرانا نہیں ہے ابھی مشکل وقت ہے جو کھڑا رہے گا تاریخ میں امر ہو جائے گا
    یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے یہ سبز ہلالی پرچم یونہی صدا بلند رہے۔ ان شاء اللہ

    اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف

    ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف

    اردو جو کہ قیام پاکستان سے ہی پاکستان کی قومی زبان بن گئی یا یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اردو پاکستانیوں کی پہچان بن گئی۔ ایک دور تھا کہ جب پاکستانی اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے سکولوں، کالجوں میں شوق سے اردو بولتے اور سیکھتے تھے۔ اس وقت اردو زبان کو بہت اہمیت حاصل تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ایک وقت میں اردو زبان کو بہت ترقی بھی حاصل رہی۔

    اردو زبان کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ ہاتھ ہمارے ادیبوں اور شعراء کا ہے جنہوں نے اپنی بے انتہا محنت سے اردو زبان کے لیے کام کیا۔ بے شک یہ ان کی اپنی زبان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اردو کو آج بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی قیام پاکستان کے وقت تھی؟ کیا باحثیت قوم ہم آج اپنی قومی زبان کا حق صحیح سے ادا کررہے ہیں؟ کیا اپنی زبان کو پیچھے چھوڑ دینے سے اور اسے بھول جانے سے ہم دنیا میں اپنی پہچان بنا پائیں گے؟ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے آخر اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟

    آج اکیسویں صدی میں اردو زبان کافی حد تک اپنا مقام کھو چکی ہے۔ جہاں صدیوں پہلے اردو بولنے، لکھنے اور سننے کا ذوق زور وشور سے ہوا کرتا تھا آج وہیں بہت سے پاکستانی کو انگریزی بولنے، سننے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ اردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کر رہا ہو یا پھر کوئ اردو مضمون میں ڈگری لے رہا ہو تو لوگ انھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انھیں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جو سائنسی مضمون پڑھنے والے بچوں کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاؤہ آج کے دور میں پڑھے لکھے ماں باپ اپنے بچوں کو کم عمری میں ہی انگریزی زبان سیکھنی شروع کر دیتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر اچھی انگریزی بول سکے۔

    یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت سے بچے اپنی مادری زبان سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر جب ان کے سامنے کوئی دوسرا اردو بولتا یا لکھتا ہے تو اسے بچے خود سے حقیر سمجھتے ہیں اور یوں معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ جو قومیں اپنی زبان، اپنی ثقافت کو اپنے ہاتھوں کھو دیتی ہیں وہ پھر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی صرف اور صرف زوال کا شکار ہوتی ہیں۔

    بس اب تو ڈر اس بات کا ہے کہ ناجانے اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟

    زبانیں کاٹ کہ رکھ دی گئی نفرت کے خنجر سے
    یہاں کانوں میں اب الفاظ کا رس کون گھولے گا؟
    ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
    ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا؟
    (فیض احمد فیض)

    @SeharSulehri