Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی  تحریر : چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر : چوہدری عطا محمد

    ارض پاک پاکستان میں تحریک انصاف کی گورنمنٹ کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ہے مہنگائی کا جن جو کہ حکومت کے قابو سے باہر ہے ویسے اگر مہنگائی کی بات کی جاۓ تو پوری دنیا میں مہنگائی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے حکومت وقت اس پر قابو پانے کے معاملہ میں بلکل بے بس ہے

    حکومتی وزیر مشیر اور درجنوں ترجمانوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب بھی نہی ہے ایک حکومتی وزیر نے بتایا پچھلے دنوں عید کی چھٹیوں میں نادرن ایریا میں سیرو تفریح کرنے والوں نے تین سے پانچ دنوں میں 67ارب روپے خرچ کئے اس کا بتانے کے دو مقاصد تھے ایک تو سیاحت کو فروغ ملا جو بہت اچھی بات ہے دوسرا وہ یہ بتانا چاہ رہے تھے موصوف کہ لوگوں کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہی تبھی تو تین چار دن میں اتنا خرچ کیا یعنی عوام خوشحال ہے

    میں زرا موصوف حکومتی ترجمانوں کے گوش گزار یہ بات کرتا چلا کہہ جناب یہ خرچہ کرنے والوں کی تعداد صرف 12 سے 17 فیصد لوگوں کی ہے آپ اس بات پر بیشک بغلیں نہ بجائیں باقی 80 فیصد لوگ مہنگائی کے ہاتھوں بہت زیادہ تنگ نظر آتے ہیں اگر مہنگائی مافیا کے جن کو حکومت نے قابو نہ کیا تو پھر بہت دیر ہو جاۓ گی

    یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہہ ہمارے سرکاری بابوؤں کا بھی بڑا رول ہے مہنگائی بڑھانے میں حکومت کا کام قانون سازی ہوتا ہے اس پر عمل درآمد انہیں سرکاری بابوؤں نے کروانا ہوتا ہے جو شاید اس حکومت سے خوش نہی ہیں سو وہ اس لئے بھی دلچسبی نہیں لیتے اور مہنگائی مافیا عوام کا خون نچوڑ رہا ہے

    عوام وزیر اعظم پاکستان سے لائیو کالز میں بھی اور سوشل میڈیا پر بھی درخواست کرتی نظر آتی ہے کیوں کہہ تحریک انصاف کے ووٹر سپورٹر بھی مہنگائی والے سوال پر کسی غریب کے سامنے اپنی حکومت اور جناب عمران خان صاحب آپ کو ڈیفنڈ نہی کر پاتے مہنگائی کن چیزوں میں زیادہ ہے اور یہ مافیا کس طرح عوام کو لوٹ رہا ہے اگلی تحریر میں بشرط زندگی اس پر بات کریں گے

    اللہ سبحانہ تعالی ارض پاک کی عوام کی مشکلات آسان فرمائیں آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • واٹس ایپ  اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    واٹس ایپ اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    محترم پاکستانیو دُشمن اپنا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور جدید دور میں جدید ہتھیاروں سے پاکستان کہ خلاف ہر محاذ پر متحرک ہےاور یہ وہ ہتھیار نہیں کہ بندوق ، ٹینک یا ہوائی جہاز لیکر ہم پر حملہ آور ہے، ہم اب ففتھ جنریشن وارجیسی جنگ کے نرغے میں ہیں لیکن ایسے میں ہمیں انفارمیشن وار کا استعمال کر تے ہوے ہمیں ففتھ جنریشن وار کو اچھے سے لڑنے کی پوزیشن بنانا ہے۔
    دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اِس دور میں انفارمیشن وار کو بھرپور انداز میں سوشل میڈیا پرمتحرک ہے۔ اور ایسے میں پاکستانی سوشل میڈیا کے بے شُمار پاکستانی بھی دُشمن کے سامنے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہُوے دشمن کو جواب دے رہے ہیں لیکن پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیادہ ایکٹو ٹویٹر اور فیسبک پر جواب دے رہے ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کے واٹس ایپ پر ہم اُتنا ایکٹیو نہیں ہیں اور نہ ہی حکومت اِس طرف توجہ دیتی دکھائی دے رہی ہے ۔

    دُشمن واٹس ایپ پر فرقہ وارانہ لٹریچر پھیلا رہا ہے اور مختلف واٹس ایپ گروپوں میں سُنیوں کو شیعہ کے خلاف جھوٹ پر مبنی اور شیعہ کہ خلاف جُھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ہمارے بہت سے وہ پاکستانی اِس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستانیوں کے دمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جو بنا تحقیق کےایسا جھوٹا مواد آگے شیئر کرتے ہیں اور اِسی طرح دشمن کا پھیلایا جھوٹا پروپیگنڈہ واٹس ایپ پر بہت جلد بہت سارے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے کیسے۔۔؟

    وہ اِس طرح کے واٹس ایپ ہر بچے کے موبائل میں انسٹال ہے اور چھوٹے بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور بحیثت مسلمان ہمارے بچے جلد طیش میں آجاتے ہیں اور اِس لٹریچر کو جلدی جلدی اپنے دوستوں کو کزن وغیرہ کو سینڈ کرتے ہیں اور وہ لٹریچر جلد ہی سینکڑوں ہزاروں پاکستانی بچوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن بڑے بھی کم نہیں ہیں وہ بھی یا تو جزبات میں یا کم علمی کی وجہ سے بنا تحقیق کیئے آگے شیئر کر دیتے ہیں تو لہٰذا ہمیں اِس چیز پر خاص طور پر بہت ذیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اورایسے مواد کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

    ہمیں چاہئے کے اپنے بچوں اور بڑے دوستوں کو اپنے عزیز و اقارب کو اِس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے بلکہ یہ ذہن نشین کر لیں کہ اِسے روکنا بھی ہے کیوں کے نبیﷺ نے فرمایا ہے کے جب تم تک کوئی ایسی بات پہنچے تو پہلے تحقیق ضرور کر لیا کرو کے کیا یہ بات سچ ہے۔؟ اور جب تسلی کرلو تو تب وہ بات آگے پہنچاؤ۔ لیکن یہاں ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے جیسے ہی کچھ رسیو ہوتا ہے پڑھتے ساتھ آگے شیئر کر دیتے ہیں اور جس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ہم انجانے میں گناہ بھی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے ایمان کیلئے بھی خطرہ ہے اور مُعاشرے کے بگاڑ کیلئے بھی۔ کیوں نہ ہم خود سے آج ایک عہد کریں کہ ہم نے اب ایک ذمہ دار شخص بن کر اپنے ملک اور مُعاشرے میں بہتری لانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور ہر اُس بری بات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے اور ہر اچھے اور مثبت تحریر کو چاہے وہ پوسٹ کی شکل میں ہو یا کسی تحریر میں میں اچھائی کو عام کروں گا اور بُری اور ایسی کسی بات کام کا حصہ دار نہیں بنوں گا ، یقین کیجئے یہی بگاڑ جو ہمارے معاشرے میں ایک عام اور معمولی حصیت اختیار کر چُکا ہے یہ ختم ہوجائے گا جیسے قطرہ قطرہ پانی سے دریا بن جاتا ہے ایسے ہی ہم قطرہ قطرہ کر کے اپنے اِرد گرد پھیلتی برائی اور دشمن قوتوں کے منفی پروپیگنڈے کا ناکام بنادیں گے اِن شاء اللہ ۔

    ہمیں ایک ذمہ دار مسلمان اور پاکستانی بن کر اِسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہُوے اپنانا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
    پاکستان کی آرمی پاکستان کے بارڈرز کی حفاظت کر رہی ہے اور ہم سولین پاکستانیوں کو اپنے اندر کہ حالات سنبھالنا ہے ایسے ہی اپنے ارد گرد میں دُشمن کو جواب دینا ہے جو ہمار اندر گُھسا بیٹھا ہے اور ہم نے اُسے حکمت سے اپنے جزبات کو قابو رکھتے ہُوے تگڑا جواب دینا ہے اِن شاء اللہ
    پاک افواج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ آباد

  • بادشاہ است حسین  تحریر: مدثر حسن

    بادشاہ است حسین تحریر: مدثر حسن

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے وہ مہینہ آرہا ہے جس میں جنت کے سردار نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین کی شہادت ہوئی ۔ امام حسین کون تھے ؟
    امام حسین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بیٹے تھے اور حضرت امام حسن کے بھائی تھے ۔۔۔۔
    امام حسین کی پیدائش پر رسول ﷺ بہت خوش ہوئے فرمایا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں نوجوان جنت کے سردار ہیں۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کی سواری وجہ تخلیق کائنات رسول ﷺ خود تھے ۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ کو بے چینی ہوتی تھی۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے نماز کا سجدہ لمبا کر دیا۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے رونے پر رسول ﷺ نے حضرت فاطمتہ الزہرا سے فرمایا بیٹی میرے حسین علیہ السلام کو رونے نہ دیا کرو مجھ سے رہا نہیں جاتا اور اس کا رونا مجھ سے دیکھاجاتا نہیں۔
    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس کے لیے سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”حسین منی وانامن الحسین“حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کودوست رکھے ۔۔۔۔

    امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جس نے نانا کے دین کی لاج رکھی۔امام حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو خود جان قربان کرگئے لیکن یزید کی بیعت نہیں کی ۔
    اما حسین علیہ السلام کون ؟ وہ جو باطل سے لڑ گئے اور باطل کے سامنے ڈٹ گئے ۔۔۔۔

    قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    دین کی پناہ ہے حسین علیہ السلام میرا بادشاہ است حسین ہے
    اگر اہلبیت سے محبت کرنا شیعہ کہلاتی ہے تو سب سن لو میں شیعہ ہوں۔ امام حسین سے نفرت کرنے والا یزید پلید ہے۔۔۔

    امام حسین سے محبت ہماری زندگی کا کل اثاثہ ہے ۔۔۔۔

    اللہ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔

    MudasirWrittes

  • ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک   تحریر  : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی ﷺ کا بچپن اور حسنہ سلوک تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور والدین کے بارے میں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ پیدائشی یتیم تھے۔ حضرت بی بی آمنہ کی وفات کی بعد آپ ﷺ کی پرورش آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بڑی محبت اور دل داری سے کی ۔اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے پوتے تھے مگر وہ خصوصا

    حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق و عادت کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بیت اللہ کی مسند پر ان کے علاوہ کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا تھا مگر انہوں نے آپﷺ کو اس پر بیٹھنے سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ایک موقع پر فرمایا: میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو۔ خدا کی قسم اس کی شان کچھ اور ہی ہے۔ وہ آپﷺ کو کندھے پر بٹھا کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔

    حضرت عبدالمطلب نے اپنی بیماری کے دوران ہی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو پرورش کے لیے اپنے باقی بیٹوں کے بجائے حضرت ابو طالب کے حوالے کر دیا جو خود بھی اپنی عظمت اور سخاوت کی وجہ سے قوم کے سردار مانے جاتے تھے۔وہی آپﷺ کی صحیح طور پر حمایت اور نگرانی کر سکتے تھے۔

    اس وقت مکہ کے اجڈ اور غیرمہزب ماحول میں خود کو برائیوں سے بچا کر پاک صاف زندگی گزارنا صرف نبی ہی کا کام ہو سکتا تھا کیونکہ نبی کی حفاظت اور تربیت اللّٰہ تعالٰی خود فرماتا ہے۔اس لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن ہی سے شریف، سنجیدہ، فرماں بردار، حیادار، راست گو،بلندہمت اور باادب تھے۔

    بچپن کی عمر کھیل کود اور بے فکری کی ہوتی ہے۔ مگر آپ ﷺ کا بچپن بالکل محنتلف اور مثالی ہے۔آپ ﷺ ہمیشہ مناظر قدرت پر غور و فکر کرنے ، خالق کائنات کی عظمت اور اس کے عجائبات پر سوچ بچار کرنے میں سکون محسوس کرتے۔ حضرت ابو طالب آپ ﷺ کے بچپن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بچپن میں آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے ، ہنسی مذاق کرتے ،نہ ہی کبھی کوئی جاہلانہ بات کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کی کبھی بازاری اور آوارہ لڑکوں سے دوستی نہ رہی

    قارئین ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ حسنہ سلوک میں بھی اپنی مثال آپ ہیں
    ایک مشہور وقع ہے کہ ایک بوڑھی عورت مکہ میں رہتی تھی ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے وہ آپ ﷺ پر کوڈا پھینک دیتی۔ کبھی پتھر اور کبھی کانٹے آپ ﷺ کے راستے میں بچھاتی۔آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی لیکن آپﷺ اسے کچھ نہ کہتے تھے۔

    ای دن ہمارے پیارے نبی ﷺ اسی راستے سے گزرے تو کسی نے ان کے اوپر کوڈا نہیں پھینکا۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ آپ ﷺ اس عورت کے گھر گئے ۔ وہ بہت بیمار تھی ۔ آپ ﷺ نے اسے کھانا کھلایا۔ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئی اس کا خیال رکھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے اس سلوک کی وجہ سے وہ عورت مسلمان ہو گئی۔

    اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے نبیﷺ کی طرح سب سے آچھا سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ‏فرقہ ورایت کی وجہ  تحریر: صالح ساحل

    ‏فرقہ ورایت کی وجہ تحریر: صالح ساحل

    ہمارے ہاں آپ نے اکثر سنا ہو گا کے اتحاد امت کانفرنس اور فرقہ ورایت سے پاک پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر آج ہم کوشش کرتے ہیں کے فرقہ ورایت کی اصل وجہ کیا ہے جس نے مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کر دیا تو میں دین کا ایک ادنی سا طالب ہونے کی حیثیت سے جب اس پر غور کرتا ہوں تو مجھے پتہ چلتا ہے کے فراہ ورایت کی یہ لعنت صرف مسلمانوں کے ہاں نہیں بلکہ اس سے پہلے عیسائیوں اور دیگر مذہب کے درمیان بھی موجود تھی اور میری علمی تحقیق اور سوچ کے مطابق اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت کیونکہ کے جب کسی معاشرے میں علمی روایت برقرار رہے گی تو وہاں فرقہ واریت جنم نہیں لے گی ان کے ہاں علمی بحثیں ہوں گی علمی اختلاف ہو گا کئی بار یہ اختلاف بڑھ جائے گا مگر یہ شدت پسندی نہیں ہو گی وہ اس اختلاف پر اپنا اپنا نقط نظر بیان کریں گے لیکن اگر آپ کسی معاشرے میں علم کی روایت کو بند کر دیں اور جہاں خدا کی کتاب کو صرف ثواب کی حیثیت سے پڑھا جائے پڑھنے والے کو اس سے غرض نہ ہو کے میرا رب کیا کہہ رہا بلکہ کے وہ صرف مولوی کی بات کو خدا کی بات سمجھ لے تو جب اس سے کوئ اختلاف کرے گا تو علمی جواب نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدت پسندی کا راستہ اختیار کرے گا اگر ہم آج پوری امانت داری کے ساتھ یہ تحریک شروع کر دیں کے ہر آدمی کو سادہ ترجمہ کے ساتھ زندگی میں اللہ کی کتاب قرآن مجید ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنی ہے تو بہت سے فرقے خود بخود ختم ہو جائے گے مگر ہم صرف قرآن کو ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں حالانکہ کے جگہ جگہ اللہ یہ کہتا ہے کے یہ ہدایت کی کتاب ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقبال نے بھی کہا تھا اے مسلمان تم نے جس کتاب کو مردے بخشوانے کے لیے اور جب روح اٹک جائے تو سورہ یسین کی تلاوت کے لیے رکھا ہے اگر تم سمجھ کے زندگی میں پڑھ لے تو تمہارا مردہ وجود اور ضیمر زندہ ہو جائے اس لیے ہم کو چاہیے قرآن سے تعلق کو جوڑئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر اسرار صاحب جب یہ آیات پڑھتے تھے
    Surat No 3 : سورة آل عمران – Ayat No 67 68

    مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾

    ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ ( خالص ) مسلمان تھے وہ مشرک نہ تھے ۔

    تو کہہ کرتے تھے کے اس آیات کو اپنے اوپر فٹ کر لو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ شیعہ تھے نہ سنی نہ بریلوی نہ دیوبندی بلکہ کے وہ صرف مسلم تھے
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

    ہو تو سبھی کچھ بتاؤ کے مسلمان بھی ہو
    ‎@painandsmile334

  • ‏ن لیگ بنی جھوٹ لیگ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ‏ن لیگ بنی جھوٹ لیگ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خواجہ آصف نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ خدا کی قسم اُٹھا کر کہتا ہوں کہ نواز شریف جلد وطن واپس آ جائیں گے،اُنہیں بس علاج کے لئے جانے دیں۔
    اور پھر نواز شریف چلے گئے خواہ جس طرح بھی گئے بحرحال وہ چلے گئے۔
    اب وہی نواز شریف برطانوی حکومت سے دھکے مارے جانے کے باوجود لندن کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاؤں پڑا ہوا ہے کہ مجھے نہ نکالو۔
    مجھے پاکستان نہیں جانا۔
    یہاں سے فرار ہوتے وقت بیماری کا بہانہ بنایا گیا۔عدالتوں کی مہربانی سے نہ صرف ہر ایک کو چُونا لگایا بلکہ شیریں مزاری جیسے نرم و گداز دل والے حکومتی ارکان کو اپنے ڈرامے سے رونے پر مجبور کر دیا۔
    حالانکہ یہی شیریں مزاری ہے جسے معصوم بچوں کے اغوا،ان کے ساتھ زیادتی،حتی کہ ان کو قتل کر دیے جانے پر بھی رونا نہیں آتا۔
    اس قسم کے حکومتی ارکان کا اس قسم کے گھناونے جرائم پر سخت سزاوں کے معاملے پر نرم رویہ اور انسانی حقوق کے حوالے کسی طور پر لائق تحسین نہیں۔ایسے مجرم کسی انسانی ہمدردی یا حقوق کے لائق نہیں جو معصوم بچوں کو کتوں کی طرح بھنبھوڑ کے رکھ دیتے ہیں۔
    تو بات ہو رہی تھی نواز شریف اور انکے پارٹی قائدین کے سفید جھوٹوں کی،جن کے زریعے یہ لوگ قوم کو 30سال سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔
    نواز شریف نے پاکستان میں تو محض بیماری کا ڈرامہ کیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
    مگر لندن میں جونہی ویزے میں مزید توسیع کی درخواست مسترد ہوئ،وہاں پر انسانی ہمدردی کو بھی ڈھال بنا کر پیش کر دیا۔
    یہ پینترا اس لئے بدلا گیا، کیونکہ وہاں بیماری کا ڈرامہ پٹ چکا ہے۔برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے متعدد بار طلب کئے جانے کے باوجود میڈیکل رپورٹس نہیں دی گئیں،کہ جن سے پتہ چلتا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں اور انکا علاج معالجہ چل رہا ہے۔
    پاکستان میں جن پلیٹ لیٹس کے کم ہونےکو لیکر سارا ٹوپی ڈرامہ کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر لندن جا کر ٹیسٹ کروانے پر وہی پلیٹ لٹس حیران کن طور پر بہت زیادہ نکلیں۔ان رپورٹس کو ہسپتال کے ریکارڈز میں مبینہ طور پر اس لئے کلاسیفائیڈ کروا دیا گیا تاکہ برطانوی قانون کے مطابق انہیں کوئ آدمی دیکھ نہ سکے اور میاں ساب کا مکر و فریب دنیا پر آشکارا نہ ہو سکے۔
    مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کا،ایک دن شاہ کا
    بالاخر برطانوی حکام میںاں ساب کی مکاریوں اور عیاریوں کی تہہ تک پہچ چکے ہیں،جس کے باعث اب نواز شریف کے لندن میں دن گنے جا چکے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ نواز شریف اپیلوں اور حیلوں بہانوں کے زریعے لندن میں کچھ مزید عرصہ گزارنے میں کامیاب ہو جائیں،مگر جو جگ ہنسائ ہونا تھی۔
    وہ تو ہو چُکی۔پاکستان کا تین دفعہ کا وزیر اعظم لندن میں اپنے قیام کو توسیع دینے کے لئے انکے پاؤں پڑ رہا ہے۔یہ نواز شریف اور اسکے حواریوں کے لئے چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
    جن کا اپنا نام تو ہے ہی کوئ نہیں۔مگر ملک کا نام ضروربدنام کر رہے ہیں۔
    ویسے تو جھوٹ اور ن لیگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔مگر پانامہ میں اپنی چوری پکڑے جانے کے بعد تو انہوں نے اگلے پچھلے ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔ان سب جھوٹ بولنے والوں اور فیک چیزیں سچ بنا کے پیش کرنے والوں کی قیادت بہت اچھے طریقے سے کرنے والی مریم صفدر ہیں۔جو آۓ روز کوئ نہ کوئ پُھلجڑی چھوڑنے میں خاصی مشہور ہو چکی ہیں۔جو انہیں شائد بہت جلد گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں لے جائیں۔
    ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد بندہ شرم محسوس کرتا ہے،مگر ن والے ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد دوسرا جھوٹ بولنے کی تیاری پکڑتے ہیں۔
    کچھ اسی طرح ویزہ مسترد ہونے کے بعد نظر آیا۔
    جونہی ویزہ مسترد ہونے کی خبر آئ۔عطا تارڑ جیسے مستقل بنیادوں پر جھوٹ کا ن لیگی بیانیہ بناۓ رکھنے والے لوگ میدان میں آگئے اورایک بار پھر کہناشروع کر دیاکہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس ایک بار پھر کم ہو گئے ہیں۔
    ان کے مسلسل جھوٹوں سے تنگ آکر ان کے اپنے شاہزیب خانزادہ جیسےخاص صحافیوں نے بھی ان کے ڈراموں پر سوال اُٹھانا شروع کر دیےہیں۔گزشتہ رات اس نے شاہد خاقان عباسی کو کہا کہ اگر نواز شریف کے پاس کچھ مستند دستاویزات ہوتیں تو انکا ویزہ کیوں مسترد ہوتا؟
    اب کیا نواز شریف خود واپس آئیں گے یا برطانیہ زبردستی انہیں وہاں سے نکالا جاۓ گا؟
    شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ نوازشریف اپنا علاج مکمل کروا کے آئیں گے۔
    جی ہاں یہی انکے جھوٹوں کی انتہا اور ڈھٹائ کی آخری حد ہے کہ نواز شریف وہ علاج کروا کے آئیں گے جو وہ کروا ہی نہیں رہے #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    ‎@lalbukhari

  • ‏شکریہ ادا کرنا سیکھیں تحریر ام سلمیٰ

    ‏شکریہ ادا کرنا سیکھیں تحریر ام سلمیٰ

    اکثر اوقات ہم سڑک پے جاتے ہوئے لوگو کو روک کر راستہ پوچھتے ہیں۔ اور پھر جیسے ہی ہمیں مطلوبہ جواب ملتا ہے ہم اپنی راہ لیتے ہیں ایک لمحے کے لیے اگلے کا شکریہ ادا نہں کرتے اور بڑھ جاتے ہیں جیسے ہمارا کوئی ملازم کھڑا تھا ہم بلایا اور راستہ پوچھ لیا.
    بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے شکریہ ادا کرنا اور لوگوں اور ہماری زندگیوں میں موجود چیزوں کے لیے شکریہ ادا کرنا ضروری ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ شکر گزار ہونا آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے؟ یہاں ایک فہرست ہے جن وجوہات کے لیے ہمارا شکر گزار ہونا بہت اچھا ہے!

    اور سب سے اچھی بات یہ کے آپکا شکریہ ادا کرنا دوسروں کو خوشی دیتا ہے اور ان میں اچھا کام کرنے کی تحریک پیدا کرتا ہے ایک اچھے معاشرے کے لیے یے سود مند ہے.

    آپ دوسرے لوگوں کو اچھا محسوس کرتے ہیں جب آپ انہیں دکھاتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کی تعریف کرتے ہیں جو وہ آپ کے لیے کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھے دوستوں کو بہترین دوست بنا سکتا ہے۔ ایک سادہ "شکریہ” بہت آگے جاتا ہے اور آپ کو بہتر دوستی میں مدد دیتا ہے ، اور آپ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے دوستوں کے ساتھ رشتوں میں اور رابطوں میں اور بھی بہتر ہو جاتے ہیں۔ جب آپ دوسروں کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں ، تو یہ آپ کو اچھا لگتا ہے اور پھر سب کو اچھا لگتا ہے!

    شکر گزار ہونا آپ کو اعتماد دیتا ہے۔ اسی طرح آپکا شکریہ ادا کرنا دوسروں کو بھی اعتماد دیتا ہے.

    جب آپ اپنی زندگی کی چیزوں کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ ایک خوبصورت غروب آفتاب جیسی آسان چیز ہے اس کو دیکھتے ہوئے اچھا محسوس کریں اور رب تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو آپکو سکون ملتا ہے تو اس طرح شکر آپ کو زیادہ خود اعتمادی دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے اپنے آپ کا موازنہ کرنے کے بارے میں زیادہ پراعتماد اور کم پریشان ہوں گے۔ شکر گزار ہونا اچھی عادت ہے اس عادت کو دیکھ کر دوسرے بھی آپ کی طرح شکر گزار ہونا چاہیں گے.

    شکرگزاری آپ کی سوچ کو مثبت اور آپکو اچھا انسان بناتی ہے۔

    شکر گزار لوگ منفی کے بجائے زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ جب وہ پانی کے ساتھ ایک گلاس دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔ منفی لوگ پانی کا وہی گلاس دیکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ آدھا خالی ہے۔ ہم جو پانی ہے اس کے لیے شکر گزار بننا چاہتے ہیں ، اس پانی کی فکر نہ کریں جو نہیں ہے۔

    سب سے اچھی بات آپکا شکر گزار ہونا آپ کو بہتر سونے میں مدد دے سکتا ہے۔

    اگر آپ ڈائری لکھتے ہیں تو ہر دن کے اختتام پر آپ ان تمام چیزوں کی فہرست لکھیں جن پر آپ اس دن کے شکر گزار ہیں تو آپ کو بہتر نیند آئے گی۔ اس سے آپ کو اپنے دن کی تمام اچھی چیزوں کو یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے ، جیسے آپ کے کھانے میں لذیذ بریانی یہ اپنی پسند کا کھانا کھایا اور شکر ادا کیا ، یا وہ دوست جس نے آپ کے اسکول کے کام میں آپ کی مدد کی ہو اور آپ نے اِسکا خوشی سے شکریہ ادا کیا ہو تو جب آپ یاد کریں گے آپ بڑی مسکراہٹ کے ساتھ خوشی اور سکون سے سو جائیں گے.

    یہ صرف آپ کو خوش نہں کرتا بلکہ جس شخص کا آپ شکریہ آدا کر رہے ہیں اسے بھی خوش کر دیتا ہے.
    شکر گزار ہونا آپ کو زندگی کے مشکل وقت سے گزرنے میں بھی مدد کرتا ہے ، کیونکہ آپ اپنی زندگی کی تمام اچھی چیزوں کو آسانی سے ذہن میں رکھ سکتے ہیں۔ شکر گزار ہونا آپ کو خوش کرتا ہے اور خوش رہنا آپ کے دماغ اور جسم کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے!

    شکریہ ادا کریں ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے.

    ‎@salmabhatti111

  • ‏آذادی  تحریر خالد اقبال عطاری

    ‏آذادی تحریر خالد اقبال عطاری

    آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے. کہتے ہیں وطن سے محبت ایمان کی علامت ہوتی ہے. آذادی کی قدر و قیمت جاننی ہو تو مقبوضہ کشمیر میں 2 سال سے لگے کرفیو سے بھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کشمیری قوم کن مشکلات سے گزر رہی ہے. الحمداللہ عزوجل ہم سب ایک آذاد اسلامی ملک پاکستان میں رہتے ہیں. جہاں پر ہم پر کام آزادی سے کرسکتے ہیں. ہمارا پیارا ملک پاکستان 14 اگست 1947 مطابق 27 رمضان المبارک 1366 ہجری کو آزاد ہوا. اس کی آذادی میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہیں جنہیں شہید کر دیا گیا.
    آزادی کی نعمت کی قدر ہمیں پرندوں سے بھی حاصل ہوسکتی ہے. کہ پرندے جب قید ہوتے ہیں تو اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتے صرف مالک کی مرضی چلتی ہے. لیکن پرندے آزاد ہوتے ہی ہر کام اپنی مرضی سے کر تے ہے. اسی طرح ہم بھی اپنے پیارے آذاد ملک پاکستان کی قدر کریں. اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں. ہمارا پیارا وطن پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے. اس کی آزادی میں علماء کرام سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا.
    تو ہمیں بھی اپنے پیارے وطن کی ترقی میں اپنا حصہ شامل کرنے چاہیے. اسکا ایک طریقہ جیسا کہ آجکل دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے عہد کریں کہ 14 اگست کو ہر پاکستانی ایک پودا لگائے گا اور اسکی دیکھ بھال کرکے اسے درخت بنائیں گے اور یوں ہمارے سوہنے وطن پاکستان کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو گا. اپنے پیارے وطن کو کرپشن سے پاک کریں گے. آج کل نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کے استعمال کو اپنے طور پر روکنے کی کوشش کریں گے اور خود بھی کسی بھی کسی کی منشیات استعمال کرتے ہیں تو آذادی والے دن اسے چھوڑنے کا پکا عہد کریں . اپنی وطن کی سرکاری یا غیر سرکاری کسی بھی طرح کی پراپرٹی کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں .
    اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرتی وسائل سے مالا مال آزاد ملک پاکستان عطا فرمایا. جسمیں سونے سے لیکر نمک تک
    پیٹرول سے لیکر گیس تک،. کوئلے سے لیکر بہترین لکڑی تک ، تقریباً تمام اقسام کے پھل، سبزیاں، خشک میواجات اور بہت ہی بہترین قسم کی زرعی زمین کا حامل آزاد وطن عطا فرمایا.
    الحمدللہ عزوجل ہمارا پیارا پاکستان موسمیاتی لحاظ سے بھی بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے. جس میں چار مختلف موسم ہیں. گرمی سردی، خزاں بہار.
    اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل ہمارے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت فرما اور اسکو دشمنوں کی مزموم سازشوں سے محفوظ فرما.
    ‎@AttariKhalid1

  • کے پی ایل: آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا

    کے پی ایل: آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا

    کشمیر پریمئر لیگ (کے پی ایل) کے تیسرے روز باغ اسٹالینز نے میرپور رائلز کو 15 رنز سے شکست دے دی ہے جبکہ آج اوور سیز وارئرزکا میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا-

    باغی ٹی وی : مظفر آباد اسٹیڈیم میں کے پی ایل کے چوتھے میچ میں باغ اسٹالینز نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹ پر 211 رنز بنائے شان مسعود نے 78 رنز کی کیپٹن اننگز کھیلی، کپتان شان مسعود کی بہترین فارمنس پر انہیں مین آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔

    کے پی ایل کا دوسرا میچ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹیلینز کے درمیان:کوٹلی لائنزکا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا…

    اسد شفیق نے ٹوٹل میں 54 رنز کا اضافہ کیا، جواب میں شعیب ملک کی ٹیم میرپور مقررہ 20 اوور میں 8 وکٹ پر 196 رنز بنا سکی سلو اوور ریٹ پر میرپور رائلز کے کھلاڑیوں کو میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا-

    کشمیر پریمئیر لیگ افتتاحی میچ: راولا کوٹ ہاکس نے میرپورررائلز کوشکست دے دی

    جبکہ ایونٹ کے تیسرے روز دوسرا میچ بارش کی نذر ہو گیا، ٹاس بھی نہ ہو سکا بارش کے باعث راولا کوٹ ہاکس اور کوٹلی لائنز کا میچ بغیر کھیلے ختم کر دیا گیا۔

    کشمیر پریمئر لیگ میں آج بھی دو میچ شیڈول ہیں اوور سیز وارئرز بمقابلہ میرپور رائلز جبکہ راولاکوٹ ہاکس کا کوٹلی لائنز سے مقابلہ ہو گا۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: بھارتی دھمکیاں خاک میں مل گئیں، ہر شل گبز مظفر آباد پہنچ گئے

  • کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیے؟(4) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    بطور ڈینٹل سرجن کلینک پر جب ھم کسی مریض کو دانتوں کی صفائی کا مشورہ دیں تو سب سے پہلی بات جو سننے کو ملتی وہ یہ کہ دانتوں کی صفائی سے تو دانت خراب ھوجاتے میں نے سنا کسی نے صفائی کروای تو اسکے دانت ھلنا شروع ھوگئے کوی کہتا پڑوسی نے کروائ اسکے دانتوں میں ٹھنڈا گرم آگیا تو آئے آج اس پر تفصیلی بات کرتے کہ

    کیا دانتوں کی صفائی کروانی چاھیئے؟
    اور اگر کروانی چاھیئے تو کب اور کیوں کروانی چاھیئے؟
    کیا دانتوں کی صفائی کا کوی نقصان ھے؟
    کیا صفائی کے بغیر بھی کوی حل ھے؟
    صفائی اور رگڑائی میں فرق کیسے سمجھنا چاھیئے؟
    کیا صفائی سے دانت سفید ھوجاتے؟
    تو ایک ایک کرکے ان سب پر مختصرا بات کرتے
    تو اس سب کا جواب کچھ یوں ھے کہ جی بلکل اگر آپ کے دانتوں کو صفائ کی ضرورت ھے اور آپکا ڈینٹل سرجن یہ سمجھتا ھے کہ دانتوں کی صفائی کروائے بغیر مسئلے کا حل نھیں ھوگا تو دانتوں کی صفائی لازمی فی الفور کروایئں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ پائ جانے والی بیماری مسوڑوں کا انفیکشن یعنی Gingivitis ھے جسکی وجہ سے مسوڑوں سے خون آنا اور پھر اسکے بعد دانتوں پر Plaque اور پھر Calculus کا لگ جانا جوکہ پتھر نما ھوتے یعنی Periodontis کی بیماری لاحق ھوجاتی یہ نا صرف مسوڑھے خراب کرتی ان سے خون نکلنے کا باعث بنتی بلکہ آگے چل کر دانتوں کا ھلنا اور نکلنے تک نوبت آجاتی جسم کے دوسرے حصے پر اسکے مضر اثرات الگ دل کے مسئلے معدے کی خرابی خون کی کمی ھیپاٹائٹس کو خراب کرنے اور کئ موذی مرض کا باعث بنتی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ جس مسئلے کو ھم سب سے کم تر سمجھتے وہ کتنے بھیانک رنگ روپ اختیار کرسکتا اسلئے اگر آپ کے دانتوں میں مسوڑوں میں مسئلہ ھو تو فوری ڈینٹل سرجن سے رجوع کریں اگر وہ دوائ اور oral hygiene کو برقرار رکھنے لئے ماؤتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ دینا ھی کافی سمجھے تو ٹھیک نھیں تو لازمی صفائی کروایئں

    اب آتے ھیں کیا صفائی سے دانتوں کو کوی نقصان ھوتا اسکو جاننے لئے ھم کو سمجھنا ھوگا کہ اگر گھر گندا ھو تو اسکو صاف کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری ھوتا نھیں صاف کرینگے تو بیماریاں پھینلنگی ایسے ھی منہ بھی ایک گھر ھے اسکی صفائ میں کوی کمی رہ جائے یا کسی بیماری وجہ سے وہاں مسئلے آجائیں تو اسکی صفائ بھی اتنی ھی ضروری اب جب صفائ ھوتی تو اس سے دانتوں کے درمیان جو پتھر نما گندگی ھوتی جس نے مسوڑوں کو زخمی بھی کیا ھوتا اور نیچے بھی دکھیلا ھوتا انکو صاف کیا جاتا تو ظاہر سی بات وقتی طور پر جگہ خالی معلوم ھوتی جس سے کئ لوگوں کو گمان ھوتا کہ Spaceبن گئی حالانکہ ایسا نھیں اور اگر واقعتا ایسا ھو بھی جائے تو یہ اس سے لاکھ گنا بہتر کہ منہ میں آپ بیماریوں کے ڈھیر لئے پھریں دوسرا کہ دانتوں میں ٹھنڈا گرم آجاتا ایسا وقتی طور پر کبھی کبھی ھوتا جب ھم الٹرا سانک مشین سے صفائ کرتے تو گرم مشین ناڑوں کو sensitize کردیتے ماوتھ واش اور ٹوتھ پیسٹ کا استعمال اس مسئلے کو ایک آدھ ھفتے میں ٹھیک کردیتا یہ نارمل ھے اسکا آنا کوی معنی رکھتا لیکن اصل ایشو تب ھوتا جب مریض کسی جعلی ڈاکٹر کے ہاتھ لگتا اور وہ صفائی کے نام پر سب دانتوں کی رگڑائی کردیتا جس سے دانتوں کی اوپر کی سطح اتر جاتی مریض خوش ھوتا کہ میرے دانت سفید ھوگئے مگر وہ بیچارا ساری زندگی لئے sensitivity لیکر چلا گیا ھوتا ھے یاد رکھیں دانتوں کی صفائی صرف گندگی ھٹاتی مسوڑوں کو مضبوط کرتی دانتوں کو مسوڑوں کو صحت کو بچاتی لیکن دانتوں کو سفید یا کوی نیا رنگ نھیں دیتی جو مریض کے دانتوں کا اصل رنگ ھے وھی اسکو ملتا دانتوں کی صفائی شوگر کے مریض اور دوسری بیماریوں سے جڑے لوگوں کو ھر 6 ماہ بعد کرانی چاھیئے اور جو صحت مند لوگ ھیں انکو صفائی کے بعد ھر 6 ماہ بعد چیک اپ کرایئں ضرورت پڑی تو ٹھیک نھیں تو ضرورت پر ھی کروانی چاھیئے
    یاد رکھیں صفائی نصف ایمان ھے