Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مقصد آزادی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مقصد آزادی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    پاکستان اللہ رب العزت کا دیا ہوا ایسا معجزہ ہے. جسے کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے 74 سال گزر چکے. اللی رب العالمین نے اس خطہ پاکستان کو خوب خوب نعمتوں سے نوازہ ہے اور اس پر مزید یہ کہ اسے کفر کی للکار کو زیر کرنے کی لیے افرادی قوت، جزبہ جہاد اور ایٹمی طاقت بنا دیا. مسلمانوں کی ترجمانی کرتا یہ خطہ پاکستان ملت اسلامیہ کے ماتھے پر بڑی شان سے طاقت اور جرات کا تاج بن کر سجا ہوا ہے. ملت اسلامیہ کو جب بھی ضرورت پڑی مدد کے لیے پاکستان کی طرح نگاہ اٹھائی جاتی ہے. یہ سب اللہ رب العزت کی خطہ پاکستان پر کی گئی عنایتیں ہیں. یہ میرے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کے 1400 سال سے بھی قبل اس کی پیشن گوئی کی ہند سے اظہارِ محبت کیا.

    پھر اسے آزاد کرانے والے پیدا بھی کیے. اس کو سر بلند کرنے والوں کو پیدا کیا. یہ سب میرے رب کریم کی عطا اور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا روحانی فیض ہے.

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا خواب ان کی کوشش پھر ان کی تعلیمات سے سوئی ہوئی امت کو جو امید نو ملی اسی کو لے کر اللہ رب العزت کی توفیق سے مرد قلندر بابا اولیاء پیر جماعت علی شاہ کی قیادت میں جوق در جوق طلبہ کے لشکر قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالی’علیہ کے ساتھ ملنا. پھر ماؤں کا بچوں کے دلوں میں جزبہ آزادی اور جہاد پیدا کرنا. یہ سب میرے رب العالمین کا احسان عظیم ہے.
    سلام ان ماوں کو جنہوں نے اپنے لعل زبح کروا لیے لیکن تحریک آزادی پر سمجھوتہ نا کیا. سلام ان بہنوں بیٹیوں پر جن کی بے حرمتی کی گئی لیکن آزادی کا علم ہاتھ سے نا چھوڑا.
    ارادے جن کے پختہ ہوں نگاہ جن کی خدا پر ہو
    طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے.
    پاکستان بن تو گیا لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی اسے ڈھول باجوں کو لیے اصل مقصد کو پیچھے چھوڑ کر یہ قوم اپنے بڑوں کی قربانی کو رائیگاں کرتی دکھائی دے گی.
    پاکستان کا مقصد تو لا الہ الا اللہ ہے آنے والی نسلیں چونکہ اسی کھیل تماشے کی منتظر ہوتی ہیں وہ اس کے فیوض برکات سے ناواقف دکھائی دیتی ہیں. جن کے بزرگ آج بھی اپنوں کی قربانیاں یاد رکھتے ہیں وہ اس دن کو صوم و صلوات کرتے اور اپنے پیاروں کے حق میں دعا کرتے دکھائی دیتے ہیں.
    سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے. جشن آزادی کے دن اس کے لیے دی گئی قربانیوں سے آنے والی نسلوں کو متعارف کرایا جاے. تاکہ کھیل تماشوں گانے باجوں سے ہٹ کر صحیح معنوں میں اس دن کا حق ادا کیا جا سکے.
    روح اقبالیات آج بھی پاکستان کی ترقی کے لئے بھرپور معاون ثابت ہو سکتی ہیں. پاکستان کو آج بھی ان فلسفوں کی ضرورت ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں بھرپور ساتھ دیا.
    خدارا مخلص ہو جائیں پاکستان کو آج بھی جزبہ آزادی کی ضرورت ہے
    *افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
    پاکستان اس وقت قرض و پابندیوں کی جس دلدل میں پھنس چکا ہے. اس سے نکلنے کا واحد راستہ مخلصی ہے.
    اپنے وطن اپنے پیارے پاکستان سے مخلص ہو جائیں. عشق_ وطن ایمان کا حصہ ہے. اس سے محبت کا اظہار کریں اور اپنے گھروں میں بچوں کو قیام پاکستان اور شعور قربانی کا درس سمجھانے کا اہتمام کریں. صوم و صلوات کے ساتھ اس مبارک دن کا آغاز کریں اور جن لوگوں نے اس وطن کے لیے جان مال عزت کی قربانی دی ان کو خراج تحسین پیش کیجئے.

    @EngrMuddsairH

  • اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    کشمیر کا نام سنتے ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں جنت کا نوشہ کھیچا چلا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں ہمیشہ بڑوں کو کہتے سنا تھا کہ اگر جنت دیکھنی ہے تو کشمیر دیکھ لو۔ کشمیر کی خوبصورتی دیکھنے کے بعد بالکل ایسا لگتا ہے جیسے جنت کا ایک ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔

    اس میں پھیلا سبزہ، وہاں کے آبشار، یہاں تک کہ چرند پرند، درخت، پہاڑ نیز ہر چیز میں اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج بھی کشمیر ایسا ہی ہے؟

    آج تو اسی جنت میں آئے روز خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ بھارت کی گیدڑ فوج وہاں کی ماؤں بہنوں کی عصمت دری کرتی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں ان کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ مائیں اپنے لخت جگر اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھتی ہیں۔

    یہاں تک بھارت کی ظالم فوج سے تو وہاں کے بچے تک محفوظ نہیں ہیں۔ اگر بچے گھروں سے باہر نکلیں تو ان کی آنکھیں پیلٹ گن سے چھلنی کر دی جاتی ہیں۔

    پر افسوس صد افسوس کہ پوری دنیا خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ اس دنیا میں اگر یہی سلوک چار پانچ جانوروں کے ساتھ ہو تو یقین جانے یہ جو لوگ آج اپنے منہ سی کے اور آنکھوں میں پٹیاں باندھ کے اندھے بنے بیٹھے ہیں یہی لوگ "جانوروں کے حقوق” کھول کے بیٹھ جائیں گے۔ ان کے لیے ریلیاں بھی نکلیں گی اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    پر ان کے منہ سے کشمیر کے جائز حق میں ایک لفظ بھی نہیں پاتا۔ کیا کشمیری ان کی نظر میں جانوروں سے بھی بدتر ہیں؟ کہ یہ دنیا اور اقوام متحدہ صرف تماشا دیکھے چلے جارہے ہیں۔ آخر کو کوئی بھارت کو اس ظلم و بربریت پر روکتا کیوں نہیں؟ آخر کب تک کشمیری اس قدر ظلم و بربریت سہتے رہیں گے؟

    اب تو کم از کم اقوام متحدہ کو معاملے کی طرف جھنجھوڑنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد کشمیر کے حق میں فیصلہ ہو اور ہمارے کشمیری بہن بھائی ہندوستان کے چنگل سے نکل کر آزادی کا سورج دیکھیں اور ان کی آنے والے نسلیں آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں۔

    @SeharSulehri

  • قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    قارئین آج کا موضوع خاص بچوں کے لیے ہے قرآن مجید
    تو بچوں اللہ تعالٰی نے چار رسول بھیجے جو اللہ تعالٰی کی کتابیں لائے۔ جس میں تورات حضرت موسی علیہ السلام ، زبور حضرت داؤد علیہ السلام اور انجیل حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب اللہ تعالٰی کی کتابیں ہیں۔ چوتھی اور آخری کتاب قران مجید جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی اس کے احکامات پر قیامت تک عمل ہو گا۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلی اخلاق کا کامل نمونہ ہیں۔ اخلاق کے معنی ہیں عادات۔ یہ آچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ، جسے کہ سچ بولنا آچھے اور جھوٹ بولنا برے اخلاق میں شامل ہے۔ جب بھی کسی کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ دراصل اس کے اخلاق کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے آچھے لوگوں سے مل کر معاشرہ اور قوم مضبوط ہوتے ہیں۔ اسی طرح خراب اخلاق والے لوگوں سے معاشرہ اور قومیں فنا ہوتی ہیں۔

    پیارے بچو۔ پچھلی کتابیں ایک تو خاص زمانے کے لوگوں کے لیے تھیں ، دوسرے ان کے ماننے والوں نے جو احکامات اپنی مرضی کے خلاف سمجھے ان کو بدل ڈالا ، جس کی وجہ سے اب یہ کتابیں اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں۔

    قرآن مجید کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے۔ ضابطہ حیات کا مطلب ہے زندگی کے بارے میں ایسے احکامات جو سادہ ، آسان ، سچے اور مکمل ہوں۔ زندگی کا کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کے بارے میں حکم قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔ یہ عربی زبان میں 27 رمضان کی شب قدر میں نازل ہونا شروع ہوا اور تقریبا 23 سال کی مدت میں مکمل ہوا۔ اس کی فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس میں آج تک کسی قسم کی بھی تبدیلی نہیں ہو سکی اور نہ ہو سکے گی۔ یہ قیامت تک اپنی اصلی حالت میں قائم رہے گا کیونکہ اللہ تعالٰی فرمایا ہے

    بے شک یہ ذکر ہم نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    سورہ الحجر۔آیت نمبر 9

    قرآن مجید کا ادب و احترام ہم سب پر لازم ہے یعنی اس کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا اس کا ادب ہے۔قرآن مجید میں انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارئے میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اسے حفظ کر رکھا ہے۔اور آئندہ بھی حفظ قرآن کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ان شاء اللہ

    اللہ پاک پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

    @RajaArshad56

  • خودار قوم  تحریر  : راجہ حشام صادق

    خودار قوم تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں وہی قومیں اپنی منزل تک پہنچی ہیں جنہوں نے پوری خلوص نیت سے جدوجہد کی ہے ان قوموں کا مقدر کامیابی بنی ایسی قومیں جن میں اتحاد تھا جنہوں نے قومی غیرت کا مظاہرہ کیا اپنے اصولوں پر گھٹی رہیں اور خوداری پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا ۔

    ہم بہت سی ایسی قوموں کی تاریخ پڑھتے ہیں اور مثال بھی دیتے ہیں جن قوموں نے اپنے سے زیادہ طاقتور دشمن کا مقابلہ کیا ان پر پابندیاں بھی لگیں انہوں نے پابندیوں کا سامنا بھی کیا لیکن وہ ایک قوم بن کر چٹان کی ماند ڈٹے رہے ایسی قوموں میں ایک ترک قوم بھی ہے جنہوں نے بہت مشکل حالات کا ایک قوم بن کر سامنا کیا مختلف پابندیوں کے باوجود وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔

    اس قوم کی یکجہتی ، اتحاد کو کوئی ختم نہ کر سکا آج وہی ترک قوم دنیا کے سامنے ایک عظیم قوم بن کر ابھر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم آج تک وہ قوم نہ بن سکے جس کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح نے جدوجہد کی اور ایک الگ ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس ریاست کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔

    کہتے ہیں جب منزل سامنے ہو تو اس کے حصول کے لئے یکجہتی ، اتحاد اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس دنیا کے کسی بھی معاشرے کے اندر تبدیلی لانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ قربانیاں بھی دینی پڑھتی ہیں اور یہ قربانی پوری قوم دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہم سمجھتے ہیں انفرادی طور پر ہم اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہیں۔ بھلا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کیئے بغیر کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کی تقدیر بدلی جا سکے۔ ہونا تو یوں چاہیے کہ سب سے پہلے ہمیں ایک دیانتدار قوم بننا چاہیئے شاید اس کے لیے ہم تیار نہیں۔

    ہم سب کو خوداحتسابی کے عمل سے گزرنا ہے اپنی سمت کو درست کرنا ہے ایک شخص اگر خود کو بدلتا ہے تو اس کے بعد اس کا خاندان بدلتا ہے۔ گلی محلے کے لوگوں میں یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس طرح یہ پورے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد بن جاتی ہے۔مگر ہماری قوم اس سے بےخبر بغیر جدوجہد کے خود کو بدلے بغیر اگر معاشرے کے اندر تبدیلی کے منتظر ہیں تو پھر تو اللہ ہی حافظ ہے یہ تو جہالت اور خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

    عزیز ہم وطنوں ہمیں قومی غیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا چند برس کی مشکلات ہیں اس کے بعد آسانی ہو گی ہم ایک عظیم قوم بن کر اس دنیا کے سامنے آئیں گے خود سے عہد کرنا ہوگا کہ سب سے پہلے اپنے اندر مثبت تبدیلی لانی ہے اس تبدیلی کے بعد شخصیت سے متاثر ہو کر لوگ خود کو بدلیں ایک دن پورے معاشرے میں تبدیلی نظر آئے گی۔ان شاء اللہ

    یاد رکھیں منزل جتنی حسین ہوتی ہے اس کا راستہ اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ منزل کے حصول کے لئے قربانیاں دینی پڑیں تو گریز نہ کریں گے ہم تاریخ نے ہمیشہ حق کے راستے پر چل کر مشکلات سے ٹکرانے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ جس دن خوداحتسابی کا عمل ہمارے اندر شروع ہو جائے گا تو پھر ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

    اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • اخلاقیات اور معاشرہ  تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات اور معاشرہ تحریر: فاروق زمان

    اخلاقیات انسان کی عادات واطوار کے معیار کا نام ہے۔ وہ سلوک اور طرز عمل جو معاشرے میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اخلاقیات کسی بھی معاشرے کا حسن ہے، ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلامی معاشرت رکھتا ہے، اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت حاصل ہے، اخلاقیات اور تعلیمات، اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ قرآن و حدیث میں اخلاقیات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا درس قرآن کریم کی بنیادی تعلیمات ہیں۔
    نبی کریم ص نے اپنے آپ کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کیا۔ اور اخلاقیات کی تکمیل کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "میرے نزدیک تم میں سے محبوب شخص وہ ہے، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے۔” (بخآری)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "بے شک مومن کے اعمال میں سے سب سے وزنی چیز حسن اخلاق ہے۔”
    اپنے اخلاق کو بہتر بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ ہم جو بھی علم حاصل کرتے ہیں اس کا بنیادی مقصد اخلاق سیکھنا اور ان کو بہتر بنانا ہے۔ قرآن و سنت اور دنیاوی تعلیم سے اخلاق سیکھ کر معاشرے میں ہم ان کا پرچار کرتے ہیں۔
    احسان، ایثار، حسن معاملات، عاجزی و انکساری، کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، محبت و احترام کے ساتھ پیش آنا، عزت و تکریم دینا، تمیز و تہذیب کے ساتھ گفتگو کرنا، مہربانی کرنا، سچ بولنا، ایمانداری اور دیانتداری کو اپنا وصف بنانا، عملی برداشت کا مظاہرہ کرنا، یہ سب اخلاقیات ہے۔ بے شک حسن اخلاق کے زریعے ہی انسان دلوں کو تسخیر کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کی وجہ سے ہی انسان اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہے۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کا معاشرہ محض جانوروں کا گروہ ہے۔ جب تک انسان میں اخلاقیات زندہ رہتی ہے، وہ انسان رہتا ہے، اس میں اچھائی کا مادہ باقی رہتا ہے، جب اس کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اخلاق کے خاتمے سے برائی اور بے حیائ جنم لیتی ہے۔ معاشرہ بدحالی کا شکار ہو کر انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہتا اور انسانیت نت نئے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔

    انسان کو چاہیے کہ بہتر اخلاق کو اپنائے اور اخلاقیات کو زندہ رکھے۔ انسان کہلانے کا اصل حقدار وہی ہے جو خود کو، اپنی عقل کو، اپنے تمام معاملات کو حسن اخلاق کے تابع کرے۔ منفی رویوں اور جذبات سے خود کو دور کر لے ان کا مثبت جواب دے، اگر کوئی برا سلوک روا رکھے تو اپنا اخلاق تباہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کو مثبت توانائی سے جواب دینا چاہیے اور اخلاق سے قاءیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ بہتر سلوک کر کے اچھیء مثال قائم کرنی چاہیے۔ اس کی دیکھا دیکھی معاشرے کے دوسرے فرد بھی حسن اخلاق کے قاءیل ہوں گے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ، کوئی تمہیں گالی دے تو تم اسے دعا دو۔ اس کے کے برے عمل کا اچھے عمل سے جواب دو، یہ یقیناً اس پر اثر انگیز ہو گا۔ اور اس کے سدھار کاء سبب بنے گا۔
    اخلاقیات معاشرے میں رہنے والے کسی بھی شخص کی انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی زندگی میں اہمیت کی حامل ہے۔اچھے اخلاق کا حامل شخص زاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میںر کامیاب ہوتا ہے، پسند کیا جاتا ہے۔ عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ بلا شبہ بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہی انسانیت ہے اور قابلء ستائش ہے۔ انسان کی زندگی کے روزمرہ کے بہت سے معاملات اچھے اخلاق کو اپنانے سے بہتر ہے ہو سکتے ہیں، اور زندگی میں سکون آ سکتا ہے۔

    آج کے دور میں لوگ بہت شدت پسند مزاج کے کے حامل ہیں۔ لوگوں کے اخلاق تباہ ہو چکے ہیں، اخلاقیات عنقا ہو گئی ہے جھوٹ، لالچ، بد دیانتی، مفاد پرستی، گالم گلوچ، لڑائی جھگڑا، قتل و غارتگری ، کینہ و حسد، بغض، تکبر خود غرضی، رشوت و سفارش، ملاوٹ، کرپشن و بدعنوانی، غرض یہ کہ ہم من حیث القوم اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اسے معاشرے میں رہتے ہوئے ہم کیسے مہزب کہلا سکتے ہیں، کیسے اخلاقیات کا درس دے سکتے ہیں۔ ہمیں اس اخلاقی انحطاط سے نکلنا ہو گا۔ ایسے میں عملی اخلاقیات کی بہت ضرورت و اہمیت ہے۔ ہمیں اچھے اخلاق اپنا کر ان کا پرچار کرنا ہو گا، خود کو بہتر اخلاق سے پیراستہ کر کے اخلاق کا درس عام کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق اور حسن سلوک سے ہی بہتر معاشرہ پروان چڑھ سکتا ہے۔

    @FarooqZPTI

  • سی پیک گوادر پاکستان کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟   تحریر :زاہد كبدانی

    سی پیک گوادر پاکستان کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟ تحریر :زاہد كبدانی

    چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) ملک کے لئے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ تفویض چین میں گوادر کی بندرگاہ کے راستے بحیرہ عرب میں شامل ہوگی۔ سی پیک اس وقت باسٹھ ارب کی مالیت کا ہے اور پورے ملک میں اس کو تیار کیا جارہا ہے ، جس میں تیز رفتار بس کی پیش کش اور موٹر ویز شامل ہیں۔
    سی پیک پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر ہے پاکستان کی ملٹی نیشنل کمپنیاں بڑے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کریں گی۔ پاکستان کی معاشی حالت اچھی ہوگی ۔کارخانوں کو فروغ ملے گا جس سے یہ ہوگا کہ لوگوں کو روزگار ملے گا
    بجلی کی پیداوار زیادہ ہوگی جس سے ہر پاور پلانٹ لگیں گے اور ڈیمز بنے گے جس سے وہ وہ علاقے جہاں بجلی نہیں ہے ان علاقوں میں بجلی مہیا کی جائے گی ۔
    جس ملک میں بجلی کی پیداوار اچھی ہوتی ہے وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
    پاکستان معاشی لحاظ سے طاقتور ہو جائے گا گوادر پورٹ پر نقل و حمل آسانی سے۔ ہوا کرے کی زراعت کو فروغ ملے گا 25 ملین ٹن کے حساب سے پاکستان ایکسپورٹ کر پائے گا
    پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ، بلوچستان ماضی میں دہشت گردی کے حملوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن اب ، وہاں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور صوبہ سماجی و اقتصادی ترقی کے مراحل میں ہے۔ اس صوبے کے عوام نے ایک ایسی حکومت منتخب کی ہے جو سی پیک کی مدد سے اس علاقے کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ گوادر کی بندرگاہ تجارت کا مرکز بن جائے گی اور جو لوگ کم تعلیم یافتہ ہیں ان کو بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمت ملے گی۔
    گوادر میں ایک میگا آئل سٹی بنایا جارہا ہے جو خلیجی ممالک سے درآمد شدہ تیل ذخیرہ کرنے اور اسے چین منتقل کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔ مغربی روٹ کے مقابلے ، جس میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگتا ہے ، اس نئے راستے کو چین کو تیل پہنچانے میں صرف ایک ہفتہ لگے گا۔ اس کے علاوہ خواتین کو بھی ملک کی ترقی میں حصہ لینے کا موقع ملے گا اور ان کے خواب پورے ہوں گے۔ تھر کے عوام کے لئے یہ تبدیلی پہلے ہی نظر آرہی ہے ، جہاں تھر کول پاور پروجیکٹ میں بہت سی خواتین کو ملازمت دی گئی ہے۔

    اس سے پہلے تھر پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ علاقہ تھا اور اگرچہ ابھی ابھی بہت کام کرنا باقی ہے لیکن چین کے تعاون سے اب وہاں لوگوں کی زندگیاں بحال ہو رہی ہیں۔ مالیاتی بحران کے تاریک بادلوں نے ملکی معیشت کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور پاکستانی روپے کی قدر دن بدن گرتی جارہی ہے۔ ایسی مشکل صورتحال میں چین نے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کا ہاتھ تھام لیا ہے تاکہ ملک اپنے دونوں پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔
    بلاشبہ ، خوشحالی کے ساتھ ساتھ خطے میں گیم چینجر کی حیثیت سے بھی ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب ، دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ چینی حکومت کے بیلٹ اور روڈ اقدامات کے سبب پاکستان علاقائی معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا کھلاڑی بن گیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ٹریڈنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی آمدنی ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ، سائنس اینڈ ٹکنالوجی ، بجلی کی پیداوار ، نقل و حمل ، ریلوے ، زراعت ، سیاحت اور بہت سارے دیگر وسائل کے ذریعے ہزاروں مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ عہدیداروں کے مطابق ، پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے ملک بھر میں خصوصی معاشی زون کی تعمیر ، سی پی ای سی کے ایک بڑے منصوبے میں سے ایک ہے۔ سی پی ای سی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے ، اس زون کی تکمیل سے پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ سی پی ای سی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد ، بہت سے دوسرے ممالک نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت خصوصی معاشی زونوں کی تعمیر کا کام زوروں پر ہے ، اس زون کی تکمیل سے پورے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ دریں اثنا ، سی پی ای سی اتھارٹی کے چیئرمین جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیر اعظم کا جنوبی بلوچستان کی ترقی کا خواب حقیقت بنتا جارہا ہے۔ جنوبی بلوچستان میں ، سی پی ای سی کے تحت سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ باسیما خضدار ہائی وے پر 60 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوشاب آواران روڈ پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر سے شمال سے گوادر تک رسائی آسان ہوگی۔ سفر کو آسان اور تیز تر بنانے کے لئے ، پشاور سے کراچی تک ایم ایل ون لائن کی توسیع اور تعمیر نو کا آغاز ہو رہا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ اس قلت کو دور کرنے کے لئے توانائی میں 22 میں سے 9 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اگلے مرحلے میں صنعت و زراعت ، سماجی اور معاشی شعبوں کی ترقی اور گوادر نیو سٹی پر بھی کام کیا جائے گا۔ سی پی ای سی مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات پانا ممکن بنائے گا۔ سی پی ای سی کا ہر پروجیکٹ لوگوں کی بڑی تعداد میں ذرائع آمدنی سے وابستہ ہے۔ سی پی ای سی کی تکمیل کے بعد کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس میگا پروجیکٹ کے ذریعے پاکستان کو اقتصادی راہداری کا درجہ حاصل ہوگا.

    @Z_Kubdani

  • حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟  تحریر: خالد عمران خان

    حکومت سیاحت کے لئے کیا کر رہی ہے؟ تحریر: خالد عمران خان

    سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ ثقافت کے رنگ ،روایات،تاریخی مقامات ،دلکش وادیاں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے قدرتی مناظر کی بدولت پاکستان سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ برس ایک تفریحی میگزین نے پاکستان کو نہ صرف چھٹیاں گزارنے بلکہ مہم جوئی کے لئے بہترین جگہ قرار دیا۔سیاحت جہاں تفریح کا سامان میسر کرتی ہے وہیں کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل کے 2019کےاعداد و شمار کے مطابق سیاحت کی صنعت نے ملکی معیشت میں5.9فیصدتک کا حصہ ڈالاہے ۔اس کےعلاہ تقریباً39 لاکھ نوکریاں پیداہوئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاحت کی صنعت 2025 تک ملکی معیشت میں ایک کھرب روپے کا حصہ ڈالے گی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے حکومت سیاحت کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔سیاحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے چند اقدامات قابل غور ہیں ۔
    سڑکوں کی بہتری: ملک میں سیاحت کے رجحان کو بہتر بنانے اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی میں بہترین سڑکوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اعلیٰ حکام نے اس بات کی اہمیت کو جانتے ہوئے متعددمنصوبوں کا آغاز کیا۔مثلاً خیبر پختون خوا کے سیاحتی مقامات تک باآسان رسائی کے لئےسوات ایکسپریس وے کی تعمیر قابل ذکر ہے۔اس منصوبے سے نہ صرف مسافت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بلکہ شہریوں میں سیاحت کا رجحان اجاگر ہوا۔

    آن لائن ویزہ کی فراہمی :ماضی میں قدرتی حسن سے مالا مال سرزمین تک رسائی کے لئےغیر ملکی سیاحوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے ہوئےحال ہی میں آن لائن ویزہ سسٹم متعارف کروایا تاکہ ویزہ کے اجرا کو آسان بنایاجاسکے۔اس سے نہ صرف191 ممالک کے شہریوں کو آن لائن ویزہ کی سہولت میسر ہوگی بلکہ 50 سے زائد ممالک کے شہریوں کےلئے آن ارائیولول ویزہ کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

    این ۔او۔سی کی شرط کا خاتمہ : گزشتہ ادوار میں غیر ملکی سیاحوں کی ملک کے مختلف تفریحی مقامات تک رسائی کے لئے این او سی ایک بڑی رکاوٹ تھا۔سیاح ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے آتے تو نہ صرف انہیں مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا بلکہ اعلیٰ حکام کے بارے میں سیاحت کے شعبہ میں دلچسپی نہ لینے سے منفی تاثر جاتا۔موجودہ حکومت نے2019 میں سیاحوں کے لئے این۔او۔سی جیسی رکاوٹ کو ختم کردیاجس سے سیاحت کے رجحان میں بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے روزگار میں بہتری کے روشن امکانات ہیں ۔
    امن و امان کی یقینی فراہمی :9/11سانحہ کے رونماں ہونے کے بعد دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی طویل جنگ سے سیاحت کی صنعت بے حد متاثر ہوئی ۔وہ وادیاں جو کبھی سیاحوں کی تفریح کامرکز تھیں دہشت گردوں کی آما جگاہ میں تبدیل ہوگئیں۔گزشتہ دہائیوں سے افواج پاکستان کی جانب سے کئے گئے آپریشنز سے امن و امان بحال ہوسکا۔اس کے علاوہ حکومتِ خیبر پختونخواہ نے شہریوں کے جان و مال کےتحفظ کے لئے متعدد سیاحتی مقامات پر پولیس فورس متعارف کروائی جو کہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔

    تاریخی و مذہبی مقامات کی ازسرنو بحالی: شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ پاکستان تاریخی و مذہبی مقامات کی بدولت خاص کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان میں ایسے کئی مقامات پائے جاتے ہیں جن سے تاریخی و ثقافت کے رنگ جھلکتے ہیں ۔مذہبی مقامات کی بدولت وطن عزیز سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لئے مرکز نگاہ ہے۔ہر سال بھارت اور دیگر ممالک سے سکھ یاتری ننکانہ صاحب آتے ہیں ۔حکومت وقت نے حال ہی میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر مذہبی سیاحت کے رجحان کے لئے کرتار پور راہداری اور وسیع کملیکس کو پائہ تکمیل تک پہچایا۔
    والڈ سٹی اتھارٹی کا قیام:لاہورتاریخی عمارتوں کی بدولت بے دنیا کے تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔لاہور کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے2012 میں حکومت پنجاب نے والڈ سٹی اتھارٹی قائم کی۔
    ورثہ و سیاحت اتھارٹی :حال ہی میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ورثہ و سیاحت اتھارٹی کا قیام عمل میں آیاجس کامقصد ورثے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں نئے سیاحتی مقامات کی دریافت شامل
    ہے۔
    حکومتی سطح پر آگاہی مہم :پاکستان گزشتہ کئی برس دہشت گردی کی زد میں رہا ہے۔اس وجہ سے ایک عرصہ تک پاکستان کودنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جاتا رہا۔ اگرچہ یہ منفی تاثر ایک حد تک زائل ہوتا نظر آتا ہے حکومتی سطح پر اسے ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات جاری ہیں ۔پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نےیہ عندیہ دیا ہے کہ ستمبر 2021میں سیاحت کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا آغاز کیا جا رہاہے۔
    حکومت کے سیاحت کےلئے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں ۔جس سے ملک میں سیاحت کی صنعت کا مستقبل روشن دیکھائی دیتاہے۔

    Twitter ID: @KhalidImranK

  • تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار  تحریر: احسان اللہ خان

    تحریکِ پاکستان میں علامہ شبیراحمدعثمانی رحمہ اللہ کا کردار تحریر: احسان اللہ خان

    شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُن چند جانباز علماء اور مخلص ترین لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے چھٹکارا دلاکر آزادی کا پرچم اُن کے ہاتھوں میں تھمایا، اور ان کے لئے آزادامذہبی زندگی گزارنے کا پُرخار راستہ ہم وَار کیا۔ آپؒ 1885ء کو ضلع بجنور غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے، جہاں آپؒ کے والد ماجد علامہ فضل الرحمن عثمانیؒ سرکاری مدارس کے ڈپٹی انسپکٹر تھے۔ آپؒ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید اور اُن کے صحیح علمی و سیاسی جانشین تھے۔ آپؒ نے 1908ء میں دورۂ حدیث کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا اور مدرسہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی۔
    علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کے دو پہلو ہیں:ایک پہلو آپؒ کی زندگی کا خالص علمی و تحقیقی ہے۔ آپؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی تفسیر کا تکملہ لکھا جواُنہوں نے مالٹا جیل میں سورۃ النساء تک لکھی تھی۔ اِس تفسیر کی تکمیل آپؒ نے اِس خوبی سے کی کہ بڑے بڑے علماء کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔حدیث کے میدان میں آئے تو صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم عربی زبان میں تصنیف کرڈالی ۔ تدریس کے میدان میں آئے تو علمی جوہر دکھلائے۔ آپ کا شماردار العلوم دیوبند کہنہ مشق اور اعلیٰ مدرسین میں ہوتا تھا۔ آپؒ نے 1910ء سے 1928ء تک دارالعلوم دیوبند میں متوسط کتب سے لے کر صحیح مسلم تک کی تدریس کی۔ 1928ء میں آپؒ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت چلے گئے، اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔ 1935ء میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم قرار دیے گئے اور1943ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
    علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا دوسرا پہلوسیاسی ، ملی اور ملکی خدمات کا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جنگ بلقان سے ہوا۔ آپؒ نے تحریک خلافت میں زبردست حصہ لیا۔ آپؒجمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے زبردست رکن تھے۔ 1919ء سے لے کر 1945ء تک آپؒ اسی میں شریک رہے۔بعد ازاں آپؒ نے مسلم لیگ میں شریک ہوکر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی۔ اور تحریک پاکستان کے حامی علماء پر مشتمل ایک جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام ‘‘ کے نام سے تشکیل دی، جس پہلے صدر آپؒ منتخب ہوئے، اور نائب صدر علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے بعد پاکستان کا وجود اِن دونوں حضرات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر یہ حضرات مسلم لیگ میں شرکت کرکے شریعت اسلامیہ کی رُوشنی میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی رہبری نہ کرتے تو مسلم لیگ کی طرف ہوا کے رُخ کو موڑنا اور نظریۂ پاکستان کی طرف سیاست کے دھارے کا منہ پھیرنا ناممکن نہیں تو دُشوار ضرورر تھا۔ علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اِس سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صدر کی حیثیت سے ملک بھر کے دورے کیے ، سرحد کے ریفرینڈم میں کامرانی حاصل کی ، آزادیٔ کشمیر کی جد و جہد میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کی تحریک کو اپنی علمی، تحقیقی، اور سیاسی تجربات کی بنیاد پر کام یابی سے ہم کنار کرایا۔
    اِس میں شک نہیں کہ تمام مکاتب فکر کے جید علماء و مشائخ نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کا کردار اِس تحریک میں سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔اِس لئے کہ مسلمانانِ ہند کی جس بالغ نظری اور حکمت عملی سے رہنمائی علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے کی وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکا۔
    اِس حقیقت کا اندازہ علامہ عثمانی رحمہ اللہ کی اُس تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؒ نے 26 دسمبر 1945ء کو دیوبند کے ایک جلسے میں کی، جس میں آپؒ نے فرمایا:’’عرصہ دراز کی کاوشوں اور غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر حصولِ پاکستان کے لیے میرے خون کی ضرورت ہو تو میں اس راہ میں اپنا خون دینا باعثِ افتخار سمجھوں گا۔ اس ملک میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور مسلمانوں کی باعزت زندگی قیامِ پاکستان سے وابستہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی کامیابی سمجھوں گا اگر اس مقصد کے حصول میں کام آجاؤں۔‘‘
    تحریک پاکستان کی یہ کوشش اور جد و جہد محض اِس مقصد کے لئے کی گئی تھی کہ اِس خطۂ زمین میں مسلمانانِ پاکستان قرآن و سنت کے قوانین نافذ کریں گے اور اپنی تہذیب و ثقافت، علوم و فنون اور اپنی قومی اُردُو زبان کو فروغ دینے کے لئے کسی کے تابع و محتاج نہیں رہیں گے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر علماء و مشائخ نے قربانیاں دیں ، بالخصوص علامہ عثمانی رحمہ اللہ نے اپنی حیاتِ مستعار کے آخری سال مقصد کے حصول کی خاطر قربان کیے ۔ آپؒ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ وطن عزیز ملک پاکستان میں اسلامی احکام اور دینی قوانین کا اجراء اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں، مگر قدرت نے جس سے جتنا کام لینا مقرر کیا ہوتا ہے اُسی قدر اُس سے کام لیا جاتا ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی زندگی کا مشن مسلمانانِ ہند کے لئے علیحدہ ایک نئے خطے کی صورت میں وطن عزیز ملک پاکستان کا عدم سے وجود میں لانا تھا۔ اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی زندگی کا مطمح نظر قدرت کے نزدیک قرار دادِ مقاصد کی تجویز کا پاس کراکر اِس مملکت خداداد کا آئین و دستور قرآن و سنت پر رکھنا تھا۔
    بالآخر تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ پاکستان بننے پر مؤرخہ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان1366ء کی دوپہر کو افتتاحِ پاکستان کی تقریب سعید میں حصہ لینے کے لئے دیوبند سے کراچی تشریف لائے۔ اور 14 اگست کو کراچی میں جشن آزادی میں شرکت فرمائی۔ قائد اعظم محمدعلی جناح رحمہ اللہ نے آپؒ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ملک کے دارالحکومت کراچی میں پہلی پرچم کشائی آپؒ ہی کے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔ اور مجلس دستور ساز میں رُکنیت بھی آپؒ کودلوائی۔ 11 ستمبر 1948ء کو جب قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تو اُن کی وصیت کے مطابق اُن کا نمازِ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے ہی پڑھایا۔
    پھر اِس کے تقریباً ایک سال اور چند ایام بعد علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کو 8 دسمبر 1949ء کی شب کو بخار ہوا، صبح طبیعت ٹھیک ہوگئی، آٹھ بجے صبح پھر سینہ میں تکلیف ہوئی اور سانس میں رُکاوٹ ہونے لگی۔ بالآخر مؤرخہ 13 دسمبر 1949ء بمطابق 21 صفر 1369ھ کو 11:40.AMمنٹ پر سہ شنبہ (منگل کے روز) 64 سال کی عمر میں علم و عمل اور دین و اسلامی سیاست کا یہ آفتاب و ماہتات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس عالم رنگ و بو سے غروب ہوگیا۔ انان للہ وانا ا لیہ راجعون۔
    یہ خبر بجلی کی طرح سارے عالم اسلام میں پھیل گئی۔ اور دُنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بند ہوگئے۔ گورنر جزل خواجہ نظام الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے اپنے دورے منسوخ کردیئے۔ عوام و خواص اور ممالک اسلامیہ میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ میت بغداد الجدید بہاول پور سے کراچی پہنچائی گئی۔ آپؒ کے شاگردِ رشید علامہ بدرِ عالم میرٹھی رحمہ اللہ نے آپؒ کو غسل دیا اور مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ تقریباً دو لاکھ سے زائد مسلمانوں نے آپؒ کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اور آپؒ کا جسد خاکی اسلامیہ کالج جمشید روڈ کراچی میں سپردِ خاک کردیا ؎
    مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
    تو نے وہ’’ گنج ہائے گراں مایہ ‘‘ کیا کیے؟
    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • کہانی شجرکاری کی۔ (آپ بیتی) تحریر سید معین الدین

    کہانی شجرکاری کی۔ (آپ بیتی) تحریر سید معین الدین

    مجھے ہمیشہ سے سرسبز و شاداب ماحول بہت اچھا لگتا ہے دل کرتا ہے ہر طرف ہریالی ہو، ہر طرف خوبصورت اور مٹی کٹے سے پاک درخت ہوں۔ ہر سڑک کنارے بہت سے خوبصورت درخت ہوں جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور تھکن دور ہوتی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے میدانی علاقوں میں ایسا منظر بہت کم ہی میسر ہوتا ہے۔
    پھر میں نے دنیا سے نظریں اوجھل کرتے ہوئے فیصلہ کیا اپنی ایک چھوٹی سی الگ دنیا بسائی جائے۔ جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے گھر کے ساتھ باہر کی طرف تھوڑی سی جگہ جو سڑک اور گھر کے درمیان میں رہ جاتی ہے اس جگہ پر گھاس اور کنارے پر پودے لگانے کا پروگرام بنایا جس کے لیے جگہ کو سیدھا کر کے ایک طرح سے کیاری کی شکل میں ڈھال دیا۔ اگلا مرحلہ گھاس اور پودے لگانے کا تھا تو سوچا پہلے گھاس لگا کر پھر باہر کی طرف پودے لگا دوں گا۔
    اس طرح سے میں مطمئن تھا کہ گھر کے باہر ہی آنکھیں ٹھنڈی کرنے ذریعہ ہوجائے گا ۔
    بس پھر زمین کی جگہ تیار کی اور پودے لگا دیے۔ اس دن بڑا ہی خوش تھا کہ بھائی ہم نے بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال دیا۔ دل کے ارمانوں کا جنازہ تو اس وقت نکلا جب اگلے دن شام کو کام سے واپس گھر آیا تو دیکھا پودوں پتے تو موجود ہی نہیں ہیں۔ معلومات لینے پر پتہ چلا کہ دوسری گلی کے ہمسایوں کی بکری اپنا حصہ سمجھتے ہوئے کھا گئی ہے۔ اس پر دکھ تو بہت ہوا لیکن پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔
    سوچا محلے کے سکیورٹی گارڈ کی منت سماجت کر کے اس بکرا گردی سے نجات حاصل کر سکتا ہوں جس کے لیے تھوڑی سی منت اور تھوڑی سی خدمت کروانے کے بعد سکیورٹی گارڈ صاحب نے ہماری مدد کرنے کی حامی بھر لی اور ہم بھی ذرا دل میں خوش ہو گئے کہ چلیں اب کچھ فائدہ ہو جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تیسرا ہی دن تھا اور ہمارے خواب، خواب غفلت میں شمار ہوئے۔ سکیورٹی گارڈ سے دریافت کیا تو جناب گوش گزار ہوئے، "سر جی میں ایک راؤنڈ لگانے دوسری طرف گیا اور جب واپس آیا تو دیکھا چڑیا چگ گئیں کھیت۔”
    حقیقت میں مجھے تو پودے اگانا جوئے شیر لانے کے مترادف لگ رہا تھا کیونکہ حالت بالکل اسی طرح ہو گئی کہ جیسے شاعر نے کہا، "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔” لیکن ھم بھی اتنی جلدی کہاں آرام سے بیٹھنے والے تھے؟
    اگلے مرحلے میں اس جگہ کے باہر خاردار تار لگوا کر پودے لگانے کا فیصلہ کیا لیکن یی بھی صرف خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔ کیوں کہ کسی شخص کو یہ فضول خرچی لگی اور وہ ایک خاردار تار کو کاٹ کر اتار لے گیا۔ ایسے ہی دوسری اور پھر تیسری تار بھی پہلی تار کی جدائی برداشت نہ کر سکیں اور اس پہلی والی کی طرف پہنچ گئیں۔
    بس پھر کیا ہونا تھا بکریوں نے ایک بار پھر سے راؤنڈ لگایا اور ایسے صفائی کر گئیں کہ اتنی اچھی تو میونسپل کارپوریشن والے بھی نہیں کرتے۔
    اب پھر سے کوئی ترکیب سوچنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے کیونکہ اوسان خطا اور جیب خفا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی پودے لگانے کا جذبہ باقی ہے اگر آپ کے پاس کوئی بہتر ترکیب ہے تو ضرور بتائیں دیکھیں کہ اس پر عمل درآمد ممکن ہے۔

    ٹویٹر آئی ڈی

    @BukhariM9‎

  • اولمپکس 2021 ،”شوخا”کون؟، مودی حکومت یا شاہ رخ خان؟۔ تحریر : احمد علی عباسی

    اولمپکس 2021 ،”شوخا”کون؟، مودی حکومت یا شاہ رخ خان؟۔ تحریر : احمد علی عباسی

    بھارت کے ٹویٹر صارفین ہمیشہ سے ہی دو گروہوں میں تقسیم رہے ہیں ، ایک طبقہ وہ ہے جس کا کام بس مودی حکومت کی پالیسیز کا دفاع ہے،چاہے وہ بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہی کیوں نا ہوں ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے اپنی ذندگی کا مقصد ہندو شرپسندی کے خلاف جد و جہد بنا رکھا ہے ۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل، سرکار کے خلاف بولنے والے ہر انسان کا جینا حرام کیے رکھتے ہیں اور چاہے وہ انسان مودی کی” گستاخی "کرکے خود بھی بھول چکا ہو مگر یہ آئی ٹی سیل والے ہرگز نہیں بھولتے اور نفرت پھیلانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

    ویسے تو ذندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے نشانے پر ہوتے ہیں مگر اداکاروں سے تو شاید ان کی پیدائشی دشمنی ہے ۔
    ہوا کچھ یوں کہ شاہ رخ خان نے بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کی سپورٹ میں کی گئی ان کے کوچ "سجورڈ مرجنے” کے ٹویٹ کا رپلائی اپنی جانب سے چک دے انڈیا میں نبھائے جانے کردار”کبیر خان” کے انداز میں دیا ۔ چک دے انڈیا ہاکی کے بارے بنائی جانے والی فلم تھی جو 2007 میں ریلیز ہوئی ، بھارت سمیت دنیا بھر میں اس کو خوب پذیرائی ملی ،شاہ رخ نے اس فلم میں بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کے کوچ کا کردار ادا کیا تھا اور ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا تھا ۔

    سارا بھارت اولمپکس میں بھارت کے کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی پر خوش تھا مگر پھر بھی شاید اسی خوشی کا اظہار اگر مودی کا کوئی ناقد یا مسلمان کرے تو بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور ہندتوا کے لوگوں کے مطابق وہ رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے ۔ شاہ رخ نے تو صرف بھارتی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہی کیا تھا جب کوچ نے اپنی فیملی کو ٹویٹ میں پیغام دیا کے "میں معذرت خواہ ہوں ، کچھ اور دیر تک آوں گا” ساتھ اپنی ٹیم کے ساتھ اپنی سیلفی بھی پوسٹ کی ۔ شاہ رخ نے رپلائی میں کہا” ہاں ہاں کوئی مسئلہ نہیں بس آتے ہوئے تھوڑا سونا(میڈل) لیتے آئیے گا،ایک ارب کی فیملی کے لیے ،اس دفعہ تو دھنتیرس(ہندو تہوار) بھی دو نومبر کو ہے ۔ ۔ ۔ ۔ منجانب : سابقہ کوچ کبیر خان”.

    اس رپلائی کے بعد تو جیسے ٹویٹر کے”دانشوروں”کو آگ ہی لگ گئی ۔ بھارتی کھلاڑی جتنے بھی میڈلز جیت کر آتے ہیں ،بی جے پی کے سیاست دان انہیں ائیر پورٹ پر ہی "ہائی جیک” کرکے اپنی نمائشی تقریبوں میں لے جاتے ہیں ،اپنی اور مودی کی شان میں قصیدے پڑھواتے ہیں ۔

    اس کے بعد بڑے بڑے پوسٹرز بنائے جاتے ہیں جن پر بیچارے پلئیرز کی تصویر تو کجا ان کا نام بھی اس قدر حقیر لکھا جاتا ہے کے چشمہ لگا کر بھی مشکل سے نظر آئے مگر مودی کی تصویر اس قدر بڑی لگائی جاتی ہے کہ ایسا محسوس ہونا لگتا ہے جیسے اولمپکس میں میڈل اس پلئیر نے نہیں بلکہ مودی نے جیتا ہو ۔ اس پر نا ہی کسی انتہا پسند کو مسئلہ ہوتا ہے اور نا ہی "دیش بھگت” کا ایمان جاگتا ہے ۔ بی جے پی کے طرفدار ڈیجیٹل میڈیا چینل "او پی انڈیا” نے بھی شاہ رخ خان کو "شوخا "قرار دیا،اس منافقت پر صارفین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور شاہ رخ خان کو بھی خوب سپورٹ کیا ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آخر کب تک ٹویٹر نفرت انگیز مواد کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دے گا کیونکہ یہ صرف بھارتی مسلمانوں کہ لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے مسئلہ ہے ۔