Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میں کنفیوز ہوں! تحریر:      آفاق احمد

    میں کنفیوز ہوں! تحریر: آفاق احمد

    ایک سال پہلے جب عمران خان کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی ہے تو اس میں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ گندم ہے گندم ایکسپورٹ کر دی جائےپھر جب ایک سال بعد کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی ہے بتایا جاتا ہے ہمارے پاس تو گندم تھی ہی نہی اوپر سے ہم نے ایکسپورٹ کردی، اصل میں مسئلہ کابینہ میں کرپٹ ٹولے کا ہیں اب گندم کی قلت اگئی۔جب تک یہ ٹولہ ختم نہی ہوتا تب تک یہ کنفیوژن رہی گی

    اسی طرح ایک سال کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی ہے کہ ہمارے پاس تو ضرورت سے زیادہ چینی موجود ہے کیو نہ چینی ایکسپورٹ کر دی جائے، ایک دفعہ پھر وہی کام ہو جاتا ہے، کہ ہمارے پاس تو چینی پہلے ہی کم تھی اوپر سے چینی ایکسپورٹ کر دی گئی، اب چینی کی قلت۔سیم ایشو!

     ایک دن وزیراعظم کو پتہ چلا کہ چینی، گندم پر تو کابینہ کو غلط، جھوٹے، جعلی اعدادوشمار والی بریفنگز دی ہیں۔ وزیراعظم حیران ہو گیا اور کہنے لگا اب یہ غلط بریفنگز کیوں دی گئی کس نے دیں، ذمہ دار کون، کیا سزاملی، کچھ پتا نہیں ۔ کیونکہ جب اسٹیبلشمنٹ نے خان کو دو تہائی اکثریت سے روکا تھا اور وہ ابھی تک سسک سسک کہ تین سال گزر گئے تو پھر خان نے تو چپ کرنا ہے کیونکہ خان بہت کچھ کرنے والا تھا لیکن جب آپ ایک بندہ دونوں ہاتھوں سے باندھے تو کچھ نہی کر سکتا۔
    آجائیں کپتان نے خود چینی ایکسپورٹ، سبسڈی کی اجازت دی تھی اور تحقیقات کا حکم دے دیا

     گزرے تین سال سے ملک میں انرجی کے حوالے سے کیا کیا نہی ہوا، ایل این جی، بجلی،گیس بل اضافے، انرجی سیکٹر چوری، نجی بجلی گھر ڈاکے،لیکن کپتان نے ڈٹ کر اپنی انرجی پالیسیوں کا دفاع تو کیا لیکن ایک دن کپتان بولے’’مجھے تو تین سال انرجی پر غلط بریفنگ دی تھی۔ اسی روز رات کو ہی اسد عمر کو فارغ کردیا گیا۔

    اب آجائے نوز شریف کا مسئلہ۔
    6گھنٹے کابینہ اجلاس ہوا اور سب نے چیک کرنے کے بعد خودہی نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت دی مگر یہ سب ڈرامہ رچایا اور کہتے تھے کہ اس نے ہمیں غلط رپورٹ دی تھی حالانکہ ان سب کو معلوم تھا۔ تو پاکستان کہ ڈاکٹر یہ بھی نہی جانتے تھے کہ اس میں کیا تھا وہی رپورٹ اج لنڈن کے ڈاکٹر نے فراڈی ثابت کیے کہ اس رپورٹ میں ایک بیماری نہی ہے اب
    کیونکہ کچھ خاص باتوں کی وجہ سے اور ڈیل کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اور گورنمنٹ مل کہ طے ہو جا تا ہے اور ان کو جانے دیا جاتا ہے
    اب باری ادویات کی آجاتی ہے ادویات مہنگی ہوتی ہے پھر بعد میں وہی بندہ سکریٹری بن جاتا ہے
    ان سب چیزوں کا مین وجہ ڈیل ہے جب آپ ایک بندے کو اپنے من کے لئے نہی چھوڑتے تو پھر ملک میں اسی طرح کی کنفیوژن رہی گی
    جب اپ ایک بندہ لے کہ آتے ہے تو پھر ان کو چھوڑ دے
    اسی وجہ سے آج نوے فیصد لوگ یہ بات تسلیم کرتے ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بدنام ہے
    خدا کے واسطے اس بندے کو اپنے من کے لئے چھوڑ دے
    میں کنفیوز ہوں!
     

    ٹویٹر آئی ڈی ‎@afaq6464

  • صحت مند طرز زندگی تحریر: زارا سیٌد

    صحت مند طرز زندگی تحریر: زارا سیٌد


    صرف جسمانی تندرستی ھی صحت مند رہنے کی واحد بنیاد نہیں ہے۔ صحت مند ہونے کا مطلب ذہنی اور جذباتی طور پر فٹ ہونا ہے۔ صحت مند ہونا آپ کے مجموعی طرز زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ صحت مند طرز زندگی گزارنے سے ھر قسم کی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھنا آپ کی خود اعتمادی اور اپنے اچھے امیج کے لیے اہم ہیں۔ آپ کے جسم کے لیے جو صحیح ہے وہ کریں اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھیں ۔

    ایک صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ، آپ کو صحت بخش خوراک کی ضرورت ہے۔ اپنی خوراک میں زیادہ پھل اور سبزیاں دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء شامل کریں اور کاربوہائیڈریٹ ، زیادہ سوڈیم اور غیر صحت بخش چربی کم سے کم کھائیں۔ جنک فوڈ اور مٹھائیوں سے پرہیز کریں ۔ فاقے کرنے سے وزن کم نہیں ھوتا بلکہ اس طرح آپ کی بھوک مزید بڑھ جاۓ گی جب آپ کھانا دوبارہ سے شروع کریں گے ۔

    اچھی غذائیت:

    اچھی غذائیت اکثر کئی بیماریوں سے بچنے کے لیے دفاع کی پہلی لائن ہوتی ہے ، صحت مند زندگی کا سب سے پہلا اصول اچھی خوراک ھے ۔

    پانی:

    اچھی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ پانی پیئں،

    منشیات:

    کوشش کریں ھر قسم کے نشے سے خود کو بچائیں اگر کسی بھی قسم کا نشہ یا سگریٹ کے عادی ھیں تو کسی اچھے ماہر نفسیات کی مدد سے اسے چھوڑا جا سکتا ھے۔

    اچھا رویہ:

    ایک مثبت رویہ آپ کی توانائی کو بڑھاتا ہے ، آپ کو ایک مضبوط انسان بناتا ھے جو دوسروں کو متاثر کر سکتا ہے ، اور آپ میں مشکلات سے نمٹنے کا حوصلہ آتا ھے ۔ سب کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں اور دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کر دیا کریں اس سے دلی سکون حاصل ھوتا ھے۔

    ورزش:

    جسمانی ورزش ، یوگا، ایروبک ، واک، تیراکی آپ کے جسم کو مضبوط بناتی ھے اور فالتو چربی کم کرنے میں مدد کرتی ھے اور ورزش کسی بھی قسم کے ذھنی دباؤ کو کم کرتی ھے یہ ضروری نہیں کہ آپ جم میں جا کر سخت ورزش ھی کریں لیکن آپ کو ہر ممکن حد تک فعال رھنے کی ضرورت ہے۔ آپ آسان ورزش کر کے اپنے آپ کو حرکت میں رکھیں۔ وہی کریں جو آپ کا جسم آپ کو کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بس ضروری یہ ہے کہ آپ ورزش جاری رکھیں۔ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ورزش کریں اور کم از کم تیس سے چالیس منٹ تک ورزش کریں ۔

    مشاغل:

    ایسے کاموں میں خود کو مصروف رکھیں جو آپ کو پسند ھیں روزانہ کے کام اور ذھنی دباو سے خود کو بچانے کے لیے بریک ضرور لیں ۔

    دوست:

    مثبت سوچ کے لوگوں سے دوستی رکھیں۔ تمام مسائل سے بچا نہیں جا سکتا۔ لیکن کوشش کی جا سکتی ہے دوستوں کی حوصلہ افزائی اور تعمیری تنقید سے آپ کو بہتر بننے میں مدد ملے گی ۔ھمیشہ زندگی کے روشن پہلو کو دیکھنے کی عادت ڈالیں۔ بدترین صورتحال میں بھی کچھ اچھا اور مثبت ضرور ھوتا ھے ۔ اس پر غور کریں۔ صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنا اتنا مشکل نہیں ہے جو کچھ آپ کرتے ہیں کرتے رہیں اور اوپر درج صحت مند رہنے کی تجاویز کو خود پہ لاگو کریں-یقینا آپ بغیر کسی دقت کے معاشرے کے اچھے فرد بن سکتے ھیں ۔

    ٹویٹر: ‎@Oye_Sunoo

  • نوکری نہیں کاروبار کریں !!  تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    نوکری نہیں کاروبار کریں !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر


    ہمارے ملک پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد بہت ذیادہ ہے اگر سب نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لئے اور پاکستان کی بہتری کے لئے کچھ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ان کو فوری کاروبار کی طرف آنا چاہیے
    اس وقت ایسے لاکھوں نوجوان اسی امید پر اپنی جوانی کا وہ عرصہ جس میں وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں کو ایک سرکاری نوکری کے چکر میں بیٹھے بیٹھے ضائع کردیتے ہیں
    اور ہر سال تعلیمی اداروں سے لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر فارغ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری نوکری بھی اب کافی مشکل ہوگئ
    آپ اپنے ارد گرد نظر اٹھاکر دیکھیں جو بندہ سرکاری نوکر ہو اور اگر کسی کرپشن وغیرہ میں ملوث نا ہو تو یقین کریں وہ ساری زندگی اپنا اچھا گھر تک بنا نہیں سکتا اور اسی جگہ پر کسی کاروباری پر نظر دوڑائیں تو وہ اچھی خاصی دولت کے مالک ہوتے ہیں
    دنیا میں جتنے بھی امیر ترین لوگ ہیں وہ یا تو کاروباری شخصیات ہیں یا پھر جن لوگوں نے سرکار میں آکر اپنے ملک کا پیسہ لوٹا ہو
    عزت اور حق حلال کی کمائ والا سرکاری ملازم کبھی دولت جمع نہیں کرسکے گا
    اس لئے خود کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ابھی سے کسی چھوٹے سے کاروبار سے آغاز کریں ،مت سوچیں لوگ کیا کہیں گے ،لوگوں کی باتوں پر توجہ نا دیں اپنا رزق حلال کمانا شروع کریں یقین کریں جب آپ کامیاب بن جائیں گے تو یہی تنقید کرنے والے لوگ آپ کو بہت ذیادہ عزت دیں گے ،کوئ بھی کام شروع کریں ،محنت کریں اللہ پر یقین رکھیں اور یہی سوچ رکھیں کہ آپ نے ایک بہت بڑا بزنس مین بننا ہے ،برگر،بریانی،جوس،سبزی،فروٹ،سموسے،پکوڑے ،چائے،وغیرہ جیسے کئ ایسے چھوٹے کاروبار ہیں جس میں سرمایہ بہت کم ہے لیکن اس میں اچھا خاصہ منافع ہے آپ خود مارکیٹ میں ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں
    گھر پر سارا دن فارغ بیٹھ کر گھر سے روزانہ ۵٠٠ لینے سے اچھا ہے اپنا حق حلال کاروبار کرکے محنت مزدوری سے روزانہ ١٠٠٠/١۵٠٠ اپنے گھر لے کر آئیں جس سے آپ کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور آپ کے اس چھوٹے سے کام کی وجہ سے تھوڑا بہت وطن عزیز کا بھی فائدہ ہونا ہے معاشی لحاظ سے بھی اور حکومت پر نوکریوں کا کوئ بوجھ نہیں پڑنا
    اس لئے تمام دوست کاروبار شروع کریں آج سے کریں ،خواتین بھی گھر بیٹھ کر کاروبار کرسکتی ہیں آج کل تو ہر چیز اونلائن مل رہی ہے تو اپنا کوئ فیس بک پیج ہی بناکر اس پر مختلف چیزیں بیچیں حلال رزق میں اللہ پاک نے برکت رکھی ہے یقین کریں چند ہی سالوں میں آپ اپنا ایک اچھا نام کماسکتیں ہیں اور عزت کے ساتھ پیسہ بھی

  • پاکستان میں چائے کی کاشت کا منصوبہ۔ ناکامی یا کامیابی ؟ تحریر:یاسرشہزاد۔

    پاکستان میں چائے کی کاشت کا منصوبہ۔ ناکامی یا کامیابی ؟ تحریر:یاسرشہزاد۔


    وزیراعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے ٹی گارڈن شنکیاری مانسہرہ کے دورہ میں باتیں تو بہت کیں لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں جتنا وہ سمجھتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات تو یہ ہے چائے کی کاشت کو جب تک پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اسلام آباد کے چنگل سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس وقت تک یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
    کونسل نے یہاں ایک کچھڑی بنا دی ہے۔ یعنی چائے کے ساتھ زیتون کی کاشت اور پھر مختلف پھلوں کے پودوں کی کاشت وغیرہ
    بنیادی طور پر زیتون کی کاشت یعنی تیل دار اجناس یا درخت۔ اس کے لئے ایک ادارہ آئل اینڈ سیڈ کارپوریشن ہوتا ہے۔ یہ اس کا کام ہے۔
    اسی طرح سبزیات اور پھلوں کے لئے بھی ایک ادارہ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل بورڈ ہوتا ہے یہ اس کا کام ہے۔
    چائے کے لئے پاکستان ٹی بورڈ ہے یہ اس کا کام ہے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کو فعال کرکے انھیں اس پر کام کرنے دیا جائے۔
    پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اگر چائے میں اتنا ہی مخلص ہے وہ یہ بتائیں کہ پچاس سال میں انھوں نے کتنے رقبہ پر چائے کے باغات لگائے؟
    میں اس وقت تفصیل میں نہیں جانا چاہتا اس کے لئے الگ سے ایک آرٹیکل لکھوں گا یا اپنے صحافی بھائیوں کو بلا کر انھیں اصل حقائق سے آگاہ کروں گا۔
    اہم بات یہ ہے کہ معاون خصوصی اپنے دورہ میں اسلام آباد سے صحافیوں کی ٹیم لے کر آئے جو چائے کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے۔ جبکہ مقامی صحافیوں کو نظرانداز کیا گیا۔ شاید معاون خصوصی ڈرتے تھے کہ ان سے اصل سوالات نہ پوچھ لئے جائیں۔
    اگر معاون خصوصی ملک کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ دوبارہ یہاں کا دورہ کریں اور مقامی صحافیوں کا سامنا کریں یا کسی چینل پر ہمارے ساتھ لائیو آجائیں ۔
    معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل میں اس وقت چائے کا کوئی ایسا ماہر نہیں جو اس چائے کے بارے عملی طور پر معلومات رکھتا ہو۔ یہ بھی عرض کروں کہ معاون صاحب ان لوگوں سے میٹنگ کریں جو اسے سمجھتے ہوں اور وہ لوگ مقامی طور پر موجود ہیں جو 1980 کے بعد سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ جن میں صحافیوں کا کردار کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
    بحیثیت مجموعی میں سمجھتا ہوں کہ معاون خصوصی کا یہ دورہ صرف ایک نمائشی دورہ ہوگا۔

    https://t.co/qquHD0JKfP‎

  • لمحہ فکریہ  تحریر۔۔ محمد نوید

    لمحہ فکریہ تحریر۔۔ محمد نوید


    ہمارے میانوالی شہرکی تہذیب و ثقافت اور لوگ پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ میانوالی کی ثقافت میں جہاں سادگی کے رنگ نمایاں ہیں وہاں حیا کو بھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔یہاں کی خواتین ہمیشہ با پردہ ہو کر باہر نکلتی ہیں اور پردے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔اگر خواتین کسی گلی یا چوراہے سے گزریں تو مرد حضرات رستہ خالی کر کے ایک طرف ہو جاتے ہیں۔یہاں کے لوگ عورتوں کو اپنی ماوں بہنوں جیسی عزت دیتے ہیں۔لیکن گزشتہ چند سالوں سے موسیقی کے نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی نے میانوالی کی تہذیب کوبہت نقصان پہنچایا ہےاور یہ فحاشی و عریانی بڑی تیزی سے سرایت کر رہی ہے۔گلوکاروں نے ماڈلنگ کے نام پر بے حیائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔گزشتہ روز ایک گلوکار کی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جو نہایت ہی بے ہودہ تھی وہ خود تو بڑی عمر کے تھے لیکن ایک دوشیزہ کے ساتھ نہایت ہی غیر اخاقی انداز میں رنگ رلیاں منا رہے تھے۔جس عمر میں انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اس عمر میں خود بھی بدکاری کر رہے ہیں اور پھر اس کی ترویج بھی کر رہے ہیں۔اب انسان ان سے سوال کرے کہ حضرت آپ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کے ساتھ اس طرح کی ویڈیوز بنوا کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔خیر سستی شہرت کے نشے میں دھت یہ لوگ اچھائی برائی کا تصور بھی نہیں کرتے۔ قابلِ فکر بات یہ ہے کہ کسی شخصیت نے اس سیلابِ فحاشی کے آگے بندھ باندھنے کی ادنیٰ سی بھی کوشش نہیں کی۔اس معاملے میں اسلام کے احکامات بھی واضح اور روشن ہیں.
    قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
    "جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحاشی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک عزاب کے مستحق ہیں ”
    سورة النور : 19
    حدیث شریف میں آتا ہے کہ
    "حیاء اور ایمان دونوں ایک ساتھ ہیں اگر ان میں ایک بھی اٹھا لیا حائے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے” ( الحاکم )

    ضرورت اب اس امر کی ہے کہ ان گلوکاروں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے خلاف یک جا ہو کر مہم چلائی جائے اور ان کے غلط افعال کی حوصلہ شکنی کی جائےورنہ بتدریج بے حیائی کی راہ ہموار ہوتی جائے گی اور اسکے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔
    اگر آپ میری تحریر سے متفق ہیں تو اس پیغام کو آگے پھیلائیں۔ شکریہ

    ‎@naveedofficial_

  • پاکستان کا29 سال کا انتظار مزيد طويل تحریر:سلطان محمود خان

    پاکستان کا29 سال کا انتظار مزيد طويل تحریر:سلطان محمود خان

    پاکستاني ايتھليٹ ارشد نديم ميڈل تو نہ جيت سکے مگر پوري قوم کے دل جيت لئے۔ جيولن تھرو کے فائنل ميں ارشد نديم نے پانچويں پوزيشن حاصل کي۔ جس کے بعد مياں چنوں کا سپوت فخر پاکستان بن گيا ۔ مستري کے بيٹے ارشد نديم کے پاس اسپورٹس کي بہترين سہوليات تو نہ تھيں ليکن اس کا جذبہ آسمان سے بلند تھا ۔۔ اس نے مسلسل محنت اورلگن سے قوم کو اميد دلائي اور کروڑوں لوگوں کے دل جيت لئے۔ پاکستان میں جیولن تھرو نامی کھیل کو کوئی نہیں جانتا تھا ليکن اس کھیل کی پہنچان "ارشد ندیم” بنے اور اب نئے نوجوان کھلاڑي ارشد نديم کي وجہ سے جيولن تھرو ميں آئيں گے۔

    ٹوکيو اولمپکس تک ارشد نديم کے سفر کي بات کريں تو اس کے پاس نہ جديد سہوليات تھي نہ ٹريننگ کيلئے غير ملکي کوچ، اس کے باوجود ارشد نديم نے وہ کردکھايا جو شايد کسي نے سوچا بھي نہ تھا۔ ارشد نديم نے دل ضرور جيتے مگر وہ 29 سال بعد پاکستان کو اولمپکس ميں ميڈل نہ جتواسکے۔ اب سوال يہ ہے کہ کيا ہم کسي بھي مقابلے ميں دل جيتنے جاتے ہيں؟؟ ٹھيک ہے کہ ہمارے پاس سہولتيں نہيں، جديد ٹريننگ کا سامان نہيں، غير ملکي کوچز نہيں ليکن جذبہ تو ہے کيا جيت کيلئے صرف جذبہ کافي نہيں ہوتا ؟ تو اس کا جواب ہے نہيں۔ سوال يہ ہے کہ پاکستان کيوں 29 سال سے اولمپکس ميں کانسي کا تمغہ بھي نہيں جيت سکا؟ اور بھارت کے نيرج چوپڑا نے گولڈ ميڈل کيسے جيت ليا؟؟ تو اس کا جواب ہے سہولتيں، آسائشيں، ٹريننگ کيلئے جديد سازو سامان، جيولن تھرو ميں بھارتي ٹيم کے کوچ تھے ورلڈ ريکارڈ ہولڈر جرمن ليجنڈ "او ہون” مگر نيرج چوپڑا نے صرف جرمن کوچ پر انحصار نہ کيا۔ جنوبي افريقہ ميں بائيو ميکينکس ايکسپرٹ کے ساتھ ٹريننگ کي۔ جب کہ پاکستان کے ارشد نديم کو غير ملکي کوچ کا ساتھ نہ مل سکا۔ ٹوکيو اولمپکس سے قبل بھارتي ايتھليٹ ٹريننگ کے لئے يورپ گئے جہاں انھيں جديد سہولتيں ملي مگر پاکستاني ايتھليٹ ان سب سے محروم رہے۔ ويٹ لفٹنگ مقابلے ميں پانچويں پوزيشن لينے والے طلحہ طالب بھي جديد سہوليات اور بہترين کوچز سے محروم رہے تھے۔

    پاکستان کے 10 ايتھليٹس نے ٹوکيو اولمپکس ميں حصہ ليا اور تمام کے تمام ناکام ہوئے۔ جيولن تھرو ميں ارشد نديم اور ويٹ لفٹنگ ميں طلحہ طالب نے بہترين پرفارمنس دکھائي مگر وہ بھي پاکستان کا ميڈل جيتنے کا انتظار ختم نہ کرواسکے۔ پاکستان نے آخري بار 1992 کے بارسلونا اولمپکس ميں ہاکي ايونٹ ميں کانسي کا تمغہ جيتا تھا اب 29 سال گذر جانے کے بعد بھي پاکستان ميڈل سے محروم ہے۔ کھليوں کے عالمي مقابلوں ميں کاميابي کے ليے جہاں کھلاڑيوں کو وسائل فراہم کرنے ہوں گے وہيں جديد ترين سہوليات سے آراستہ ہائي پرفارمنس سينٹرز وقت کي ضرورت ہيں

  • بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    بے روز گاری تحریر:اعجاز حسین

    ‏”
    بے روزگاری کو عام طور پر اس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد ایک مخصوص عمر سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے اور ملازمت نہیں رکھتے۔
    بے روز گاری ایک عالمی مسٸلہ ہے۔ایشیاٸی ممالک میں بے روزگاری زیادہ ہے۔جس میں پاکستان بھی شامل ہے ۔بے روزگاری ایک سماجی براٸی تصورکی جاتی ہے جس سے خطرناک حالات جنم لیتے ہیں۔یہ معاشی زہر ساری سوساٸٹی میں پھیل جاتا ہے۔ اور ملک کی سیاسی صورتحال بھی متاثرہوتی ہے۔
    بیروزگاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو بھی مجرم بنا دیتی ہے ۔اس سے بد عنوانی پھیلتی ہے جھوٹ بڑھتا ہے۔اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آ جاتا ہے ۔بیروزگار آدمی سے سچاٸی، شرافت ، اور امانت داری کی توقع کرنا ناممکن ہے۔
    غربت اور بیروزگاری ریاست کی سب سے بڑی کمزوری اور نااہلی مانی جاتی ہے۔بیروزگاری سے بے اطمینانی اور بے چینی پھیلتی ہے۔بےاطمینانی سےسیاسی بے چینی اور حکومت کی اطاعت سے انحراف کے جذبات ابھرتے ہیں۔سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے۔اور پھر بغاوت انقلاب کی صورت نمودار ہوتی ہے۔
    حکومت کیلیے لازم ہے کہ بیروزگاری کے لیے مٶثر اقدامات کرے۔تاکہ لوگ اپنےکاموں میں مصروف رہیں اور معاشرے میں بے چینی نہ پھیلے۔
    ”برطانوی فلاسفر سر ڈبلیو بیورٸج کا تجزیہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بیروز گار افراد کو زمین پر گڑھےکھودنے پرلگاۓ رکھے اور پھر انھیں پُر کرانے پر مامور رکھے ۔یہ زیادہ مٶثر قدم ہے نہ کہ بیروزگاری کے مہلک اثرات حکومت پر حاوی ہوں۔
    سرکاری محکموں اور پراٸیویٹ اداروں نے اخبارات کے ذریعے آسامیاں پُر کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مختلف آسامیوں کے لیے امید وار بلاۓ جاتے ہیں۔سرکاری ملازمتوں کیلیے پہلے ہی گٹھ جوڑ کر لیا جاتا ہے۔آسامیوں کی تشہیر ایک عام دفتری کارواٸی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پراٸیویٹ ادارے مجبوراً امیدواروں کو کم تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں۔ جہاں سے انہیں کسی وقت بھی ملازمت سے ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ ادارے لیبر قوانین کی پرواہ تک نہیں کرتے۔طویل دورانٸے کے اوقات میں کام لیتے ہیں۔
    اب سرکاری دفتروں میں آسامیاں پُر کرنے کے لیے ”سفارشی“ اور ”رشوتی“ افراد ہی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ بیروزگاری کا مسٸلہ بڑی سنجیدہ صورت اختیار کر چکا ہے۔تعلیم یافتہ ،غیر تعلیم یافتہ،ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد سب متاثر ہیں۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں میٹرک،انٹرمیڈیٹ، اور گریجویٹ افراد ملازمتوں سے محروم ہیں۔دفاتر کے چکر لگاتے ہیں لیکن ملازمت کیلیے کوٸی آسامی دستیاب نہیں ہوتی۔
    دوسرا مرحلہ صنعتی بیروزگاری کا بھی ہے ۔انڈسٹری پر بھاری ٹیکس لگانے سے اب صنعت کاروں نے جدید مشینیں لگا لی ہیں جہاں بہت کم تعداد میں ملازم رکھ کر زیادہ مقدار میں پروڈکشن حاصل کی جاتی ہے ۔آۓ دن ہڑتالوں اور فیکٹریوں کی تالا بندی سے تجارت اور کامرس پر بھی برے اثرات مرتب ہوۓ ہیں۔ ہڑتالوں کیوجہ سیاسی اور لسانی فسادات ہیں ۔سیاسی لیڈر اپنی دکانیں چمکانے کیلیے ناممکن مطالبات کرتے ہیں۔جس سے ملک میں لوٹ مار کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ان حالات میں صنعت بہت متاثر ہوٸی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں ۔ملک مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
    ساری دنیا آج کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں ملازمت پیشہ اور خاص کر مزدور طبقہ بہت متاثر ہوا ہے ۔ملک مزید لاک ڈاٶن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
    نوجوان نسل ڈگریاں لیکر بیکار رہنے کی وجہ سے ذہنی خلفشار کا شکار ہے ۔جس سے معاشرہ بہت سے مساٸل کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔
    بے روزگاری ایک ایسا عفریت ہے جس سے دور جدید کی تمام قومیں پناہ مانگتی ہیں۔ امریکہ کے عوام کی نظر میں آج بھی سب سے خطرناک معاشی بحران بیروزگاری ہی ہے۔
    جب تک دنیا کی حکومتوں نے ملکی معاشی نظام کو اپنی گرفت میں نہیں لیا تھا تب تک بیروزگاری کسی حد تک انفرادی مسٸلہ تھی ۔مگر موجودہ صورت حال میں جب ملک کے تمام وساٸل حکومت کے ماتحت ہیں بیروزگاری اور افراطِ زر دونوں ہی حکومت کی پالیسیوں کے تحت بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔گو انفرادی طور پر کسی شخص کے روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت اسکی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے مگر روزگار کے مواقع معیشت کے پھلنے پھولنے سے ہی پیدا ہوتےہیں۔ جس کا زیادہ تر انحصار حکومت کی صحیح پالیسیوں پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مناسب تربیت اور تعلیم کے باوجود ہمارے ہاں بیشمار افراد کو روزگار نہیں مل پاتا۔
    کہنے کوتو پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے پر ہم آخر اسکو کس نظر سے فلاحی ریاست کہتے ہیں اور کس بنیاد پر اسکو فلاحی ریاست ہونے کا درجہ دے رہے ہیں۔اسلام کے نام پر اس ملک کو بنایا گیا لیکن آج یہ حالات ہو گٸے ہیں ہر طاقتور اپنے سے کمزور کے حقوق سلب کر رہا ہے اور فراٸض کی پاسداری نہ کرتے ہوۓ ملک کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے۔آخر اس سب کیوجہ کیا ہے ؟
    ہم لوگ نفسیات کے کس درجے پر آ گٸے ہیں۔اگر ان سب مساٸل کا جاٸزہ لیا جاۓ تو وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے بیروزگاری۔
    آج جسطرف بھی نظر ڈالی جاۓ ہر تیسرا پڑھا لکھا شخص روزگار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ اس دوران بہت بار اسکا واسطہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی چیزوں سے پڑتا ہے۔ہر ایک اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے اور اگر کوٸی کچلا جاۓ تو کسی کے پاس دوسرے کو اٹھانے کی فرصت نہیں ہے۔اورحالات کو بہتر کرنے کیلیے حکومتی سطح پر بھی کوٸی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔روزگار نہ ملنے پر سب سے زیادہ نقصان ان نوجوانوں کا ہوتا ہے جنہوں نے اعلیٰ یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے اور اپنی تعلیم پر انھوں نے لاکھوں روپے صَرف کیے ہوتے ہیں اور جب اتنی تعلیم حاصل کرنے اور میرٹ پر آنے کے باوجود بھی وہ ملازمت نہیں حاصل کر پاتے تو وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    حکومت کو نجی تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے سیاستدان جلسوں میں تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں روزگار دینے کے۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔اگر وہ غریب لوگوں پر تھوڑی سی توجہ دیں اور انکو بھی روزگار فراہم کیا جاۓ تو یہ لوگ برے اور غیر قانونی کاموں میں پڑنے کی بجاۓ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرینگے۔
    ہماری نوجوان نسل بیروزگاری کیوجہ سے تباہ ہو رہی ہے انکی صلاحیتوں کو ایسے حالات میں زنگ لگنا لازم ہے جب ان کے پاس اپنی صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے کے مواقع نہیں ہیں۔

    @Ra_jo5

  • شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت،دوسری،تیسری قسط  تحریر: محمد صابر مسعود

    شیخ محمد یونس رحمۃ اللہ علیہ ایک موہوب شخصیت،دوسری،تیسری قسط تحریر: محمد صابر مسعود

    اسکی وجہ شیخ کی وہ ایمانی فراست بھی تھی جس کی بدولت انہیں حاضرین کی حقیقت کا فوراً اندازہ ہوجاتا تھا کہ کون تقویٰ کا خوگر ہے اور کس نے اپنے دل میں ظلمت کو جگہ دی ہے، دنیوی معاملات سے یکسر علیحدہ، علم و معرفت کے بادہ کش اور مولیٰ کی خلوت نشینی کرنے والے عموماً شعور و بصیرت کا وہ مقام حاصل کرلیتے ہیں جس پر فائز ہوکر باطنی کیفیات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا اور قلب و جگر کے احوال خود عیاں ہوکر سامنے آجاتے ہیں، متقدمین و متاخرین علماء میں اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔
    شیخ کی کتاب حیات کا سب سے روشن ورق انکا علمی انہماک ہے وہ محدثین کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو ساری کشتیاں جلا کر علمی میدان ہی کے مسافر بن جاتے ہیں اور اسے دنیا کی رنگینیوں سے کوئ سروکار نہیں ہوتا، انہوں نے جب حدیث رسول کو اپنا موضوع بنایا تو سستانے کا نام نہیں لیا، وادی کے ہر ٹیلے کو سر کیا، ہر پتھر کو الٹ کر دیکھا اور کارواں کی تلاش میں عرصۂ دراز تک صحرا نوردی کرتے رہے، انکا مطالعہ ذوق سے بڑھ کر فطرت و مزاج بن گیا تھا جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہتی اسی طرح انہیں بھی کتب کی ورق گردانہ کے بغیر چین نا آتا تھا، وہ زندگی کے شب و روز مطالعہ میں گذارتے تھے اگر کہیں سفر پر ہوتے تو سب سے پہلے نایاب کتب، نادر مخطوطات اور قدیم تصنیفات کو تلاش کرتے، وہ معرفت کی شراب پی کر گویا دنیا کو تو بھول ہی گئے تھے اسلئے پوری زندگی مجرد رہے اور ابن جریر طبری، ابو اسحاق شیرازی، امام نووی، حافظ ابن تیمیہ، عزالدین ابن جماعہ، شیخ طاہر الجزائری اور مولانا ابوالوفاء افغانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے علم دین کی خدمت کو شادی پر ترجیح دی، باری تعالیٰ کسی کی قربانی کو ضائع نہیں کرتا، اس لئے انہیں حدیث کی بزم میں ایسا بلند مقام عطا فرمایا کہ بڑے بڑے علماء کو جب کوئی اشکال پیش آتا تو وہ سب بلا تکلف ان سے رجوع کرتے تھے، استفادہ کرنے والے ان علماء میں ہمیں شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، محدث کبیر حضرت مولانا عبدالجبار اعظمی رحمۃ اللہ علیہ، محی السنۃ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئ جیسے بلند و بالا نام ملتے ہیں ۔
    علمی رسوخ کی اصل آزمائش درس و تدریس کے منصب پر ہوتی ہے، یہ در اصل صلاحیت کو پرکھنے کی وہ عظیم کسوٹی ہے جو لائق کی لیاقت کو اجاگر کرکے اور نا اہل کے بودے پن کو فوراً آشکارا کردیتی ہے، اس بزم میں محنت سے جی چرانے والے کبھی نہیں ٹک پاتے اور نکمے پژمردگی کا شکار ہوکر اپنا وقار کھو بیٹھتے ہیں، یہاں تو اسی دیوانے کا سکہ چلتا ہے جو ذہین و باتوفیق ہونے کے ساتھ اولوالعزم ہو، وہ شاہینوں کی طرح پرواز کرکے ثریا کر کمندیں ڈالے اور ستاروں کی گزر گاہوں سے آگے بڑھ کر آسمان سے تارے توڑ لانے کا عزم رکھتا ہو، ایسا معلم جب مسند درس پر جلوہ افروز ہوتا ہے تو اسکے مطالعے کی وسعت، مضامین کے ورود، لہجے کے بانکپن اور فاتحانہ اسلوب کی بدولت علمی حلقوں میں تہلکہ مچ جاتا ہے، طالبان علوم نبوت حیران و ششدر ہوتے ہیں، معاصرین کو اچنبھا ہوتا ہے اور یہ معلم بالآخر زمانے پر چھا جاتا ہے، شیخ مرحوم بلاشبہ ایسے ہی معلم تھے، انہوں نے جب مظاہر علوم سہارنپور کی مسند حدیث کو رونق بخشی تو ہر سمت معرفت کا سماں بندھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور بحث و تحقیق کے ایسے یاقوت و مرجان لٹائے کہ بخارا و سمرقند کی یادیں تازہ کردیں، ان کا درس فقہ الحدیث تک محدود نہیں نہ تھا بلکہ وہ ان اسلاف و متقدمین کے مسلک پر تھے جو منشاء نبوت کو سمجھانے کے لئے روایت و درایت کے ہر پہلو کی تشریح کرتے ہیں اور کہیں بیجا تعصب کا شکار نہیں ہوتے وہ تاویل بارد کے خلاف تھے لیکن مطلق آزادی کے بھی ہم نوا نہ تھے جو امت کو ائمہ اربعہ کی تقلید سے نکال کر اباحیت کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی، شیخ کی یہ ضوفشانیاں آب و تاب کے ساتھ تقریباً پچاس سال تک ایمان و یقین کی سوغات تقسیم کرتی رہیں اور اس طویل عرصے میں ہندو پاک کے علاؤہ لندن و افریقہ اور عرب ملکوں کے بے شمار پروانوں نے آکر انکی شمع معرفت سے اپنے دامن کو روشن کیا ۔۔
    علمی شخصیات عموماً زہدو قناعت کی خوگر ہوتی ہیں ان کا سرمایئہ حیات بحث و تحقیق کی وہ وادی ہے سبزہ زاروں میں کھو کر وہ دنیا کو بھول جاتے ہیں اور اسکی رنگینیوں کو کبھی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھتے، شیخ مرحوم کی زندگی شہادت دیتی ہے کہ انہیں نبوی وراثت کا یہ مقام بھی حاصل تھا۔ وہ بچپن میں مفلوک الحال تھے، افلاس میں ہی پلے بڑھے اور تدریس کے ابتدائی زمانے میں کافی عسرت رہی لیکن کیا مجال کبھی بھی فقیری سے ذرا بھی گھبراہٹ ہوئ ہو اور وسعت و کشادگی کی بابت انہوں نے کبھی بھی سوچا ہو، دنیا دوسروں کے لئے وسیع ہو سکتی ہے لیکن مرحوم کا تعلق تو بس اس سے اتنا ہی تھا کہ زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لئے بقدرِ ضرورت ہی سامان سفر ہو اس لئے انکی زندگی بس درسگاہ سے قیام گاہ تک محدود تھی، باقی عالم رنگ و بو کی رعنائیاں کیا ہوتی ہیں انہیں اس سے کوئ سروکار نہ تھا، افریقہ و لندن میں انکے معتقدین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جسے اللہ نے مالی وسعت کے ساتھ مشائخ کی خدمت کو حوصلہ بھی عطا کیا ان مخلصیوں نے کیا کیا نہ چاہا اور کون کونسی سبیلیں نہ نکالیں لیکن مرحوم نے انہیں دنیوی پھیلاؤ کی اجازت نہ دی، اگر انکے دل میں مادیت کا کوئ معمولی ذرہ ہوتا تو محبین کی ان عنایتوں کو وہ بھی آسانی سے فتوحات کا نام دے کر اپنا شیش محل تعمیر کر سکتے تھے لیکن نہیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ عزیمت کا نہیں خطرات کا راستہ ہے اور اس پر چل کر تقویٰ کا دامن بالآخر داغدار ہو ہی جاتا ہے، اس لئے شیخ کی زندگی تو بس اسی کمرے تک محدود رہی جو رہائش گاہ کم کتب خانہ زیادہ تھا، شاعر نے تو طبع آزمائی ہی کی ہوگی لیکن یہاں تو دیوانہ زبانِ حال سے کہ گیا۔

    ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا
    مریں گے ہم کتابوں پر، ورق ہوگا کفن اپنا۔۔

    دنیا کی رنگینیوں سے توجہ ہٹا کر ملاءِ اعلی سے وابستگی میں زہدو قناعت کا بہت کردار ہوتا ہے تاریخ میں جن عبقری علماء نے مثالی خدمات انجام دیں وہ اپنے درویشانہ مزاج کی بدولت ہی ذوق انابت تک پہنچے اور ان کا دل اس وقت تک ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا جب تک آنکھیں اشکوں سے غسل نہ کرلیتیں وہ اپنے تمام تر اوصاف و کمالات کے باوجود خود کو حقیر و عاصی سمجھتے تھے اور انہیں نجات و مغفرت کی امید اپنے اعمال و اشغال کی بناء پر نہیں بلکہ الله کے فضل وکرم کی بنیاد پر تھی شیخ مرحوم کی زندگی کا مطالعہ کر نے والے شہادت دیتے ہیں کہ انہیں عبادت کا یہ ذوق مکمل طور پر حاصل تھا پورا دن درس و مطالعہ میں گزار کر جب وہ بستر پردراز ہوتے تو خلوت نشینی کا ذائقہ انہیں بہت جلد بستر چھوڑنے پر مجبور کر دیتا تھا پھر وہ ہوئے اور ان کا مولا…ان کا بیشتر حصہ آه و بکاء میں گزر جاتا اور اس راز و نیاز کی کسی کو خبر تک نہ ہوتی وہ اس باب میں بھی واقعتا اسلاف ومتقدمین کی مثال تھے۔
    @sabirmasood_

  • بند دروازہ  تحریر فرزانہ شریف

    بند دروازہ تحریر فرزانہ شریف

    پڑھنے والی آنکھ مسکرا دے کہ
    اللہ تمہاری کوشش دیکھ رہا ہے۔
    وہ تم سے اور تمہاری کوشش سے محبت کرتا ہے۔
    وہ جلد تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے اور جو آج کا دکھ ہے وہ کل تک لگے گا
    کہ کبھی تھا ہی نہیں۔
    ان شاء اللّٰہ الرحمٰن_
    آپ نےکبھی نوٹس کیا ہے…
    بہت سے ایسے چھوٹے موٹے معمولی سے گناہ ہوتے ہیں…
    جنہیں آپ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھتے ہیں لیکن آپ چاہ کر بھی نہیں کرپاتے… کوئی نا کوئی چیز راستے میں آڑے آجاتی ہے…
    جیسے قدرت ہی نہ چاہتی ہو کہ آپ وہ کام کریں….
    یا یوں ہوتا ہے, وہ غلط کام ہی کسی طرح آپ سے دور ہو جاتا ہے..
    یہ بھی اللّہ کا بہت بڑا احسان ہے اس کے بندوں پر…
    کیونکہ بہت سی برائیاں جنہیں ہم برائی بھی نہیں سمجھتے, روزِ حشر دکھائی جائنگی تو ہم نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے کے قابل بھی نہیں ہونگے…ہم تو اللہ سبحان تعالی کا یہ احسان ہی نہیں اتار سکتے کہ ہم ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئے اس کے عطا کئے خوبصورت گفٹس کا ہردم شکر بجا لائیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھیں کہ اللہ شائد اپنے حقوق معاف کردے لیکن اپنے بندوں کے حقوق معاف نہیں کرے گا کینہ پروری منافقت سے بچیں ۔فیملی میں یا دوستوں میں لڑائی جھگڑے میں صلح کروانے والے بنیں نہ کہ تیل اور تیلی لگانے کا کا م سرانجام دینے کی خود پر ڈیوٹی لگا لیں

    جب آپ اپنی فیملی میں یا کہیں اور جہاں دیکھیں ایک بندہ غصے میں ہے،اور کچھ کر گزرنے کی حالت میں ہے جبکہ غلطی بھی مکمل اسی کی ہے،اور سب اسی بندے کا قصور نکال رہے ہیں تو آپ سب کے مخالف ہوکر اس بندے کا ساتھ دیں ،میں نے بہت بڑی لڑائیاں،بہت بڑے حادثے کا باعث بن جانے والی لڑائیاں ایسی تدبیروں سے رکتی دیکھی ہیں۔
    جب ایک بندہ غصے میں ہو تو وہ مکمل شیطان کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔
    اسے اس وقت آپ اس کو جو کچھ بھی سمجھائیں گے وہ اس کا الٹ ہی اثر لے گا۔
    لہذا کوشش کریں،جب لڑائی ہو،فساد ہو،حشر برپا کردینے والی قیامت خیز بحث ہو اور یہ بحث خون کے رشتوں میں ہو تو آپ نے اس وقت حق کا نہیں،انصاف کا نہیں،اس انسان کا ساتھ دینا ہے،جو مکمل شیطان کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔
    یقین کیجیے یہ ساتھ دینا اس شخص کو آپ کا ہمیشہ مرید بنا دے گا۔
    آپ کے بہن بھائی اتنے برے نہیں ہیں جتنا برا شیطان ان پر حاوی ہوکر ان کو آپ کے لیے برا بنا دیتا ہے۔
    اس بات کو سمجھیں خود کو اور خود کے بہن بھائیوں کو اپنے پیاروں کو بچائیں۔اگر کسی پر برا وقت چل رہا ہے ماضی میں اس کا رویہ بےشک آپ کے ساتھ جیسا بھی رہا ہو اللہ کی رضا کے لیے اس کا ساتھ دینا اس کا حوصلہ بڑھانا اس کی آدھی مشکل ختم ہوجائے گی اور ایسا میں تجربہ کرچکی ہوں کہ وہ بندہ پھر جب تک ذندگی ہے اپ کا مرید بن جائے گا اور اللہ کی خوشنودی بھی آپ کو حاصل ہوجائے گی مشکل ہر انسان پر آسکتی ہے اللہ سے ہروقت مشکل وقت آنے سے معافی مانگتے رہنا چاہئیے جس بندے کا ذکر کررہی ہوں ان کے گھر کبھی جانا ہوتا تھا وہ بندہ اپنے گھر کا دروازہ بھی نہیں کھولتا تھا اکثر مایوس ہوکر واپس آیا کرتی تھی ہر دم دوسرے لوگوں کا ساتھ دیتا تھا اور ہمیں اس قابل ہی نہیں سمجھتا تھا کہ ہم سے کوئی سیدھے منہ بات بھی کرے اور جب مشکل وقت آیا تو سب سے پہلے ہمیں آواز دی اور ہم نے بنا سوچنے سمجھے ہر ممکن ساتھ دینے کا وعدہ کیا اپنے گھر تحفظ دینے کا وعدہ کیا بات کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ دنیا چند دن کی چاندنی ہے دل میں بغض نفرت رکھ کر ہم اللہ اور اس کے محبوب کو تو ناراض کرتے ہی ہیں اپنے دل کا سکون بھی ختم کردیتے ہیں جتنا ہوسکے جتنا آپ کے بس میں ہے اتنا کریں خیر بانٹیں ۔تاکہ جب اللہ الرحمن کے پاس جائیں آپ ندامت سے نظریں نہ جھکائیں بلکہ اللہ کی نظر میں خود کو سرخرو پائیں کہ اللہ اپ کے اچھے عمل کی جزا آپ کی سوچ سے بڑھ کر عطا فرمائے گا کبھی اپنے مال و دولت پر غرور نہ کریں میں نے اکثر کھکھ پتی کو لکھ پتی ہوتے دیکھا ہے لاکھ پتی کو کنگال ہوتے دیکھا ہے اپنی طبعیت میں عاجزی پیدا کریں اللہ عاجز بندے سے بہت محبت کرتا ہے اور اسے اپنے غیب کے خزانوں سے نوازتا ہے بدیر یا جلدی ۔لیکن کبھی اس کی رحمت سے مایوس نہ ہونا جو پتھر میں کیڑے کو خوراک پہنچا سکتا ہے اس پاک ہستی پر یقین رکھیں آپ کے حصے کا رزق سکھ چین آپکو ضرور ملے گا بس آپ ثابت قدم اور اپنے پروردیگار پر مکمل بھروسہ رکھیں ۔بےشک اللہ بےانصافی نہیں کرتا اس کا ہر دم شکر ادا کرنا اپنی ذندگی کا نصب العین بنالیں کہ میں نے شکر کرنے والوں کو بہت بڑے مرتبے میں فائز ہوتے دیکھا ہے ہمیشہ اپنے پیاروں کا خیال رکھیں جن کے لیے آپ بہت اہم ہیں جن کو آپ کے دنیا سے جانے کا سب سے ذیادہ صدمہ ہوگا ان کو اپنی ذندگی میں ہی اتنا پیار دیں کہ وہ پھر آپکو یاد تو کریں لیکن ان کے دل اپ کی محبت سے لبریز رہیں اچھی یادیں چھوڑ کر جائیں اپنے پیاروں کے پاس کہ ان کے جینے کے لیے کچھ تو ان کے پاس ہو کہ وہ آپ کی جدائی پر صبر کرسکیں ۔۔
    میں ذیادہ لمبا آرٹیکل اس لیے بھی نہیں لکھتی میرے ماموں جی میرا آرٹیکل پڑھتے ہیں بہت محبت سے تو باریک لفظ پڑھتے انھیں کافی تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن میرے لکھے ورڈز وہ بہت محبت سے پڑھتے ہیں یہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات ہے ۔۔میرے آرٹیکل لکھنے سے جس طرح میرے بہین بھائیوں نے خوشی کا اظہار کیا وہیں میری کزنز کی خوشی واقعی میرے لیے خوشگوار سرپرائز تھی اللہ میرے پیاروں کو اور آپ سب کو دنیا و آخرت میں عزت عطا فرمائے اور اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے۔۔عشق مصطفیﷺ
    کی جیسی لو آپ کے دل میں پہلے سے بھی ذیادہ کردے ہردم خوش آباد رکھے آمین۔۔
    https://twitter.com/Farzana_Blogger?s=09

  • کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر  تحریر : فضیلت اجالہ

    کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر تحریر : فضیلت اجالہ

    تہمت لگانا یا بہتان باندھنا مطلب آپ نے کسی شخص کو وہ برائ کرتے دیکھا نہی لیکن صرف زاتی تسکین کی خاطر آپ نے وہ برائ اس سے منسوب کردی یہ سوچے بغیر کہ
    کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعی لحاظ سے بھی انتہائی سخت گناہ اور حرام کام ہےاور اخلاقیات کے بھی منافی ہے

    ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی اور اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائ الزام تراشی اور تہمت لگانا ہے ،کچھ لوگ یہ فعل اپنے مزموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلیے کرتے ہیں اور کچھ صرف زاتی تسکین ،وقتی خوشنودی اور بعض اوقات کسی کی خوشامد کیلیے بھی یہ گھٹیا کام سر انجام دیتے ہیں
    ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بھاری وزن ہے ، یعنی کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ لوگوں (مسلمانوں )کو زبانی سے تکلیف دینے والوں یعنی تہمت اور بہتان لگانے کو مکمل طور پر گناہ قرار دیاہے اور سخت عزاب کی وعید سنائ ہے
    خدا لعنت کرے ان لوگوں پر جو کسی بےگناہ پر تہمت لگاتے ہیں اور سنی سنائی جھوٹی باتوں کو آگے آپنے سے ملاکر پھیلاتے ہیں اور لوگوں کی عزتیں اچھالتے ہیں اور مکافات عمل کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں
    اپنی زندگی کی Frustration اور جھوٹی انا کی تسکین کے لیے محفل میں چار لوگوں کے ساتھ کسی کے عیب یا زندگی کے مسائل پر اپنی عاقلانہ رائے کا اظہار کرتے یا اس بندے کی کردار کشی کرتے وقت یہ یاد رکھیں کہ حشر کے میدان میں جب خدا سب کے عیبوں پر سے پردہ اُٹھائے گا تو تہمت لگانے والے کی آنکھ پر سے بھی پٹّی اُتاری جائے گی۔ اور اُس کے سامنے ہر اُس شخص کو کھڑا کیا جائے گا جس کی پارسائی پر دُنیا کی عدالت میں اُس نے فیصلہ سُنایا تھا۔

    اُس لمحے خدا کے سامنے اپنی کہی کسی بات کی دلیل پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا آپ کو۔۔۔ بلکل ویسے جیسے آپ نے کسی کے لیے غلط گمان کرتے اُسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

    زندگی کی کہانی فلم کی طرح تین گھنٹے پر مشتمل نہیں ہوتی۔ اصل زندگی کی کہانیاں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ اُلجھی ہوئی ہوتی ہیں۔ خدا تو نصوح کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے پھر انسان کو کیا حق ہے کہ کسی کے لیے سزا کا انتخاب کرے؟

    صحیح غلط، نیک یا گناہ گار یہ فیصلے خدا اور بندے کے آپس کے معاملات ہیں۔ برائے مہربانی اپنی ناقص عقل کو تکلیف نہ دے کر صرف اپنی ذات کا محاصرہ کیجیے۔
    کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں سوائے بغض حسد اور کینہ کے کچھ نہی ہوتا
    وہ بہن بھائی جیسے پاک رشتے پر بھی انگلی اٹھانے سے باز نہیں آتے۔اییسے لوگ خدا اور خدا کے احکامات کو بھول بیٹھے ہیں ۔
    جبکہ اللہ تعالی بار بار فرمارہے ہیں
    جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں یا اس پر تہمت لگائ ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا اور روز آخرت یہی اسکا ٹھکانہ ہوگا یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے دنیا میں ہی توبہ کر لے تو اس کی خلاصی ممکن ہے

    ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔

    الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور جس کسی پر تہمت لگائ ہو اس سے معافی کا خواستگار ہونا چاہیے
    اگر کوئی کچھ نہیں کہہ رہا یا کر رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ کچھ کر نہیں سکتا۔
    بہتر ہے جو اللّٰہ پر معاملات چھوڑ کر چپ ہو گیا ہے، اسے چپ ہی رہنے دے۔

    اگر وہ خاموشی توڑ گیا تو یقین کرو، وہ وہ راز وہ وہ کچھ سامنے آئے گا، لوگ اپنے پیدا ہونے پر معافی مانگے گیں۔.
    اللہ تعالیٰ بہترین انتقام لینے والا ہے..

    @_Ujala_R