اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے اس دنیا میں ہدایت کا انتظام فرمایا جو بندہ راہ راست پر نہ ہو گمراہی کا شکار ہو اگر اللہ تعالی کی نازل کردہ ہدایت کو قبول کرے اللہ پاک اس بندے کے ساتھ راضی نامہ کرتا ہے ہدایت کی اتباع کرنے والے لوگوں کو اس دنیا میں نہ ہی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی غم؟ ہدایت انبیاء کرام کی صورت میں کتبہ ثواویہ کی صورت میں صحفاء ابراہیم کی صورت میں اور مقدس کتاب قرآن مجید کی صورت میں اللہ پاک نے اس زمین پر نازل فرمائی جن لوگوں نے ان کی اتباع کر لی اس دنیا میں وہ اللہ پاک کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کر لی۔ اور جس نے ان چیزوں کو ٹھکرایا ان سے انکار کیا پھر ان لوگوں کے لئے اللہ پاک نے سپیشل اپنی قدرت کی طرف سے کچھ نشانیاں نازل کیں تاکہ ان لوگوں کو ہدایت کی سمجھ آ جائے اگر اللہ پاک کسی نبی کے ہاتھ میں اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے اس کو معجزہ کہتے ہیں اور اللہ پاک کہیں ایسے بندے کے ہاتھ میں کوئی اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرے جو نبی نہ ہو اس کو اللہ کا ولی کہتے ہیں اس کے ہاتھ کے اوپر ظاہر ہونے والی نشانی کو کرامت کہتے ہیں ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے معجزہ بھی حق اور ولی کی کرامت بھی حق اگر ان لوگوں کو سمجھ آ جاتی تو پھر وہ مان جاتے ہدایت قبول کرتے اگر سمجھ نہ آتی تو اللہ پاک کی ہدایت کو ٹھکرا دیتے اللہ پاک نے ایسے لوگوں کے لئے جہنم بنائی ہے جو نہ انبیائے کرام کو تسلیم کریں نہ کتبہ ثواویہ کو تسلیم کریں نہ قرآن مجید کے احکامات کو تسلیم کریں اور نہ ہی اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہدایت کو تسلیم کریں اور نہ ہی کسی نبی کے معجزے کو اللہ کی طرف سے نشانی تسلیم کریں اور نہ ہی ولی حق کی کرامت کو تسلیم کریں پھر ایسے لوگوں کے لئے اللہ پاک نے جہنم بنائی ہے ولی جو ہیں اللہ کے دوست ہوتے ہیں ان لوگوں کی ولایت حق ہے ان کی ولایت ان کی بزرگی دوستی اللہ کے ساتھ قریب کا تعلق ہے اللہ پاک نے خود قرآن مجید میں اس کی تفصیل بیان کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدیث قدسی میں ( من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب) کہ اللہ تعالی نے فرمایا جو بندہ میرے سچے ولی کے ساتھ دشمنی کی میرے کسی سچے ولی کا بغض اپنے دل میں پالے میرے سچے ولی کی مخالفت کرے اس کی کرامت کی مخالفت کرے اس کی ولایت کی مخالفت کرے اس کی تلاوت کی مخالفت کرے اس کے سخاوت کی اس کے زور کی مخالفت کرے اس کے تقوی کی مخالفت کرے اس کی سزا کیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے اس بندے کے ساتھ میں جنگ کا اعلان کرتا ہوں میری جنگ ہے اس کے ساتھ میرے ولی کی مخالفت کرنے والے کے ساتھ میری جنگ ہے میرے ولی کے دشمن کے ساتھ میری جنگ ہے اولیاء کرام بزرگان دین اللہ دے کربوسیدہ بندے ہیں ان لوگوں سے تو ہم لوگوں تک دین پہنچایا ہے جاری۔۔۔۔ہے دوسری قسط جلد پبلش جائے گی ان شاءاللہ
تحریر یاسمین ارشد
@IamYasminArshad
twitter.com/IamYasminArshad
Category: بلاگ
-

اولیاء کی شان قسط تحریر: یاسمین ارشد
-

انسان پر اللّہ کی آزمائش تحریر: صادق سعید
سمندر کی گہرائی تک تو شاید کوئی پہنچ گیا ہو لیکن ماں کے پیار کا کنارہ آج تک کسی کو نہیں ملا اور نہ کبھی مل سکتا ہے کیونکہ ماں جب بولتی ہے تو اس کے لہجے میں جبرائیل بولتے ہیں۔
کیونکہ ماں جب مسکراتی ہے تو ایسا لگتا ہے کے جنت کی ساری کلیاں پھولوں کی کھل گئی ہوں۔اللّہ نے ماں کے سینے میں وہ درد وہ محبت وہ الفتوں کا ایک جاہاں آباد کردیا ہے کیوں کے ماں تو پھر ماں ہی ہوتی ہے۔
ماں کے سینے میں رکھا ہوا پیار تو ایک اجیب کائنات ہے تڑپتی ہوئی ممتا اور ایک الگ ہی جاہاں ہے کبھی آپ نے دیکھا ہو کے بچہ جب گھر سے نکلتا ہے دنیا کی بڑی بڑی دانش گاہوں میں اسکا انتظار ہو رہا ہوتا ہے لوگوں کو عقلو دینیش سیکھانے جا رہا ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک بات کو لوگ موتیوں کی طرح جھولیوں میں ڈالتے ہیں اور دنیا کی دانش گاہوں میں یونیورسٹییو میں اور درست گاہوں میں لوگ موتیوں جیسے اس کے جملے سننے کے لیئے بیتاب ہوتے ہیں اس کی باتیں زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتی ہیں تو لوگ سیکھنے کے لیئے جمہ ہوتے ہیں لیکن وہ شخص جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو ماں کتنے بھولے اور پیارے انداز میں کہتی ہے بیٹا زرا سڑک زرا دیہان سے پار کرنا سوچیں زرا آپ جو دنیا کو عقلو دینیش کا سبق سکھانے جا رہا ہے کیا أس کو یہ بھی نہیں پتا کے سڑک کیسے پار کرنی ہے؟
لیکن ماں کے پیار کا روپ ہے یہ ماں کی محبت کا تیور ہے یہ ماں کی الفت کے رنگ ہیں اور جب تک بچہ گھر پلٹ کر واپس نہیں آتا ماں بیچین رہتی ہے ماں کے دل میں کھٹکا رہتا ہے اور بیٹے کے لیئے دعائیں مانگتی رہتی ہے کے میرا بیٹا خیر سے واپس گھر آجائے ماں کے سینے میں اتنا پیار کیوں ہے؟دکھ جی لیتی ہے تکلیفیں گوارا کر لیتی ہے غریب مائیں تو بیٹوں اور بیٹیوں کا پیٹ پالنے کے لیئے کسی کے گھر کے برتن بھی مانجھنے پڑھے تو مانجھ لیتی ہے۔
تکلیفیں سہے لیتی ہے ازییتیں گوارا کر لیتی ہے لوگوں کی غلامیاں قبول کر لیتی ہے مائیں اپنی اولاد کے لیئے کیا کچھ نہیں کر لیتی ماں کو اولاد سے اتنا پیار کیوں ہے؟
ایک ہی جواب ہے اس لیئے کے ماں نے اولاد کو جنم دیا ہے جس ماں نے جنم دیا ہے وہ اتنا پیار کرتی ہے اور جس نے ہمیں خلق دیا ہے وہ کتنا پیار کرتا ہوگا جنم دینے والی کے پیار کا ٹھکانہ کوئی نہیں جو خلق کرنے والا ہے اس کے پیار کا اندازاہ کون کر سکتا ہے۔
ماں گوارا نہیں کرتی کے میرا بیٹا بھوکا رہے تکلیف میں رہے بیٹا بھوک میں تڑپے تو ماں بیچین ہو جاتی ہے اور جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے أسنے کیسے گوارہ کرلیا کے میرا بندہ بھوکا رہے۔
سحری کا کھانا کھایا ہے کڑکھتی دوپہر ہے برستی گرمی ہے زبان پر پپڑی جم گئی ہے حلق خشک ہوگیا کھانے کے لیئے پینے کے لیئے سب کچھ میسر ہے لیکن کہا نہیں ایک گھونٹ بھی نہیں لینا وضو کرتے وقت بھی احتیاط کرنا ہے کہی حلق سے نیچے کوئی قطرا أتر نہ جائے کچھ کھانا بھی نہیں ہے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب نے یہ کیسے گوارہ کرلیا؟
اس مسلئے کو سمجھنے کے لیئے پھر دوبارا ماں کی آغوش میں آنا پڑے گا بیٹا بیمار ہوگیا ماں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئی أس نے دوا تجویز کی سیرپ کڑوا تھا بیٹا پیتا نہیں ماں نے زبردستی أس کو لیٹا دیا أس کا منہ کھولا أس میں قطرے سیرپ کے ٹپکا رہی ہے بچہ چیختا ہے روتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ قطرے بچے کے حلق سے نیچے اترتے جاتے ہیں ماں کے چہرے پر سکون آنے لگتا ہے۔
کیا ماں سفاق ہوگئ ہے؟ نہیں
ماں کی ممتا ختم ہوگئی؟ نہیں
وہ جو بیٹے کی آنکھ میں آنسوں نہیں دیکھ سکتی تھی وہ تڑپتے ہوئے بچے کو دیکھ کر پر سکون کیوں ہے؟
کیا ماں کی ممتا رخصت ہوگئی؟
جواب: نہیں
تو کیوں ماں اتنی خوش ہے؟
کہا بیٹا نہیں جانتا ماں جانتی ہے چند لمحوں کی تکلیف ہے تھوڑی سی کڑواہٹ ہے لیکن جب یہ سیرپ اندر اترے گا تو نتیجہ شفا کی صورت میں ہوگا ماں کی نگاہ اس کڑوہے سیرپ پر نہیں ماں کی نگاہ نتیجے پر ہے۔کہا ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا رب العالمین تمہیں بہت پیار کرتا ہے لیکن بھوک اور پیاس اس لیئے گوارہ کروائی جا رہی ہے کے اس کا نتیجہ تقویٰ کی صورت میں برآمد ہوگا تمہیں اتباع کی دولت ملے گی کے تم تقویٰ کے نور پالوگے اس لیئے یہ مہینہ ایک موقع ہے ایک فہرست ہے ہم اس فہرست کو غنیمت جانے اور اپنے نفس کو قابو میں کریں روزہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے اس لیئے اس سے وہ سب کچھ سیکھیں اور اپنے من کو سنوارنے کی کوشش کریں تو جب ہم تقویٰ کی دولت پالیں گے تو روزے کا مقصود عطاء ہوجائے گا۔
اللّہ آسانیاں حاصل اور تقسیم کرنے کا شرف عطاء فرمائے آمین یارب العالمین۔Name: Sadiq Saeed
Twitter: @SadiqSaeed_ -

مقبوضہ کشمیر تحریر عتیق الرحمن
تقسیم کے وقت کی حکمت عملی نومبر 1947 میں ، مہاراجہ کی ریاست کے زیر اہتمام ڈوگرہ نیم فوجیوں اور آر ایس ایس سے متاثر ہجوموں نے جموں میں تقریبا 300،000 کشمیری مسلمانوں کو برباد کردیا۔ اس نسل کشی کے قتل عام کی وجہ سے جموں میں تقریبا ایک ملین جموں کے مسلمانوں کی نقل مکانی اور جبری نقل مکانی ہوئی۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جموں کے ڈیمو گرافک میک اپ کو جان بوجھ کر تبدیل کرنے کے لیے ریاست کے زیر اہتمام قتل عام تھا ، ایک ایسا علاقہ جہاں مسلمانوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کل آبادی کے 60 فیصد سے زیادہ تھی ، اور اسی وجہ سے اکثریت قتل عام اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں جموں میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے اور ڈیمو گرافکس آج تک مصنوعی طور پر بدلے ہوئے ہیں۔ آج ، مقبوضہ کشمیر میں بہت سے لوگ اس سانحے کے دوبارہ ہونے سے خوفزدہ ہیں۔ ڈیموگرافک تبدیلی کے علاوہ ، ہندوستانی حکومت نے اردو زبان کے استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا ہے – جو کہ علاقے میں گزشتہ 131 سالوں سے سرکاری زبان ہے۔ عوامی جگہوں کے مسلم نام بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں جبکہ اس سال 5 اگست کو مصنوعی طور پر کم کرنے کی کوشش کو دو سال ہو جائیں گے کیونکہ بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے چھین لیا ہے۔ یہ دو سال ایک تلخ یاد دہانی رہے ہیں کہ ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کا غیر معمولی وحشیانہ فوجی قبضہ باقی ہے۔ یہ ایک تاریخی ورثہ بھی ہے ، بلکہ علاقائی امن اور عالمی نظم و ضبط کے لیے بھی خطرہ ہے جو کہ انتخاب اور آزادی کے بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہے۔ بھارت ، بی جے پی کے ماتحت ، تیزی سے نظر ثانی اور بالادستی اختیار کرتا جا رہا ہے ، طاقت کے استعمال اور فوجی مہم جوئی کے ذریعے کشمیر کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ انسانی ہمدردی سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ یاد دہانی کہ آزادی کا بہادر جذبہ ، جو کشمیری عوام میں ان کے آباؤ اجداد نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف ان کی مہاکاوی جدوجہد کے ذریعے ابھارا تھا ، اب بھی باقی ہے۔ سات دہائیوں کے قبضے اور حق خودارادیت سے انکار کے باوجود کشمیری اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق کے لیے مسلسل مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کے ظالمانہ جبر اور مظالم نے ان کے عزم کو متاثر نہیں کیا۔ پاکستان اور اس کے عوام اپنے دلوں اور ذہنوں میں ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہیں۔ ہم ہمیشہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اصولوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے کھڑے ہیں۔ جبری حد بندی اور عالمی سیاست کے بہاؤ کے ذریعے مسلمانوں کی غیر جانبدارانہ نمائندگی کے باوجود ، پاکستان نے آئی آئی او جے کے میں ہمیشہ اس مقصد کے لیے پرعزم رہا ہے ، اور جاری رکھے گا ، بھارت نے پرامن پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے ، جیسا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے زیر اہتمام دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف غلط معلومات کے ڈوزیئر میں انکشاف کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ EŬ DisinfoLab نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے جعلی NGOS اور جعلی نیوز ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے نظام اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی ہیرا پھیری اور شرارتی کوششوں کا انکشاف کیا ہے۔ حال ہی میں ، ایک اعلی ہندوستانی عہدیدار نے ایف اے ٹی ایف پر سیاست کھیلنے اور پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ سب پاکستان اور خطے کے لیے اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ ہم اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا موجودہ ہندوستانی حکومت ایک عقلی اداکار ہے یا نظریاتی طور پر حوصلہ افزائی والی حکومت جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا؟ کشمیر میں جدوجہد مقامی ہے اور اسے ہمیشہ بھارتی کے خلاف عوامی حمایت حاصل رہی ہے یہاں تک کہ کشمیریوں کو یہ حق خود ارادیت دیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی آزادی ہے۔ حکومت کشمیر کاز کو اجاگر کرنے اور بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہے ، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث ہے۔ دنیا بھر میں کئی رہنما اور کشمیریوں کی منفرد شناخت کو کم کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ اگرچہ پاکستان نے کبھی بھی ہندوستانی آئین کے کسی بھی آرٹیکل کو آئی آئی او جے کے پر لاگو کرنے کو تسلیم نہیں کیا ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے نتیجے میں حالات میں مادی تبدیلی آئی ہے۔ کشمیریوں نے ہمیشہ ناانصافی اور ریاستی بربریت کے مقابلہ میں بہادری ، لچک اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ بھارتی قبضے کی مزاحمت کریں گے جب تک کہ وہ اپنے سیاسی حقوق حاصل نہ کر لیں ، جس کی انہیں بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ضمانت دے۔ پاکستان عالمی سطح پر دنیا کو بیدار کرتا رہے گا۔ بین الاقوامی صحافیوں نے پہلی بار بھارت میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پکارا ہے۔ وزیر اعظم ، ان کی کابینہ اور ہماری پارلیمنٹ نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر کے میں سفاکانہ بھارتی اقدامات کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ زمینی صورتحال اور قابض بھارتی افواج کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری تشخص کو مٹانے کا منصوبہ جاری ہے۔ اس میں ایک صدی پرانے ڈومیسائل قانون میں ارباب تبدیلی کے ذریعے جبری آبادیاتی تبدیلی شامل ہے۔ کشمیری لیڈر کمزور صحت میں ہیں اور ان کے اہل خانہ مقامی آبادی میں قابض کی سرگرمیوں اور ارادوں کے خلاف خوف محسوس کرتے ہیں۔ کشمیری اپنے قابضین کے آبادیاتی ڈیزائن کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ بھارت نے سب سے پہلے اس مقصد اور بین الاقوامی قراردادوں کو استعمال کیا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کشمیریوں کی طرف سے ان سخت کارروائیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر مزاحمت کو کنٹرول کیا جائے ، بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی کسی جیل کی طرح تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہر آٹھ کشمیریوں کے لیے ایک بھارتی فوجی ہے۔ ہزاروں سیاسی رہنما ، اساتذہ ، کارکنان ، صحافی اور طلباء ڈراکوین قوانین کے تحت بھارت بھر کی جیلوں میں قید ہیں اور الزامات کو ختم کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی حالت زار کے لیے دنیا کی اقوام سے گزارش کرتا ہوں اور انہیں یاد دلاتا ہوں کہ وہ کشمیریوں اور انسانیت کے اصولوں کے مقروض ہیں تاکہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں جیسا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں درج ہے۔ کشمیر عالمی ضمیر پر ایک ادھورا وعدہ ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیر کے لوگ بھارتی قبضے کی زردی سے آزاد ہوں گے انشاء اللہ۔
@AtiqPTI_1
-

کرونا وائرس،حکومت اور ماہرین تحریر:محمد وقاص شریف
زبان زد عام میں کرونا صرف چند ماہ کی بیماری ہے اس کا ثبوت چائنا کی شکل میں موجود ہے جو اس کا پہلا شکار تھا چائنا میں کرونا دسمبر 2019 میں آیا اور مارچ2020 میں دم توڑ گیا جبکہ باقیات کا خاتمہ تیزی سے جاری ہے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس کی عمر تقریبا اتنی ہی ہے جو یہ ٹائم گزارتا جا رہا ہے پابندیاں پہلے نرم پھر ختم کرتا جا رہا ہے پاکستان میں بھی اس کے خاتمے کا وقت آیا چاہتا ہے ماہرین کے مطابق 25 جون سے اس کے خاتمے کی ابتداء ہو چکی ہے اور اللہ نے چاہا تو اگست کے آخری یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ منظر سے غائب ہو جائے گا پاکستان میں اس کے زیادہ قیام کی وجہ ناقص منصوبہ بندی کمزور فیصلے انڈرسٹینڈنگ کا فقدان آپس کی کھینچا تانی سیاست بازی اور عوامی غیر سنجیدگی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو جون میں اس کا خاتمہ یقینی تھا مگر اب بات نہ صرف یہ کرونا کی اگست میں آ گئی ہے بلکہ اس حکومت کے لیے بھی اگست نہایت ہی مشکل نظر آرہا ہے اور ستاروں کی چال یہ بتا رہی ہے کہ اگست کے آ خر میں کرونا کے ساتھ ساتھ حکومت کے دن بھی گنے جا چکے ہیں ماہرین نجوم کے مطابق اگست کے اخر میں حکومت کے لئے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہو جائے گا جس کے بوجھ تلے یہ دب جائے گی غیب کا علم اللہ پاک ہی جانتا ہے لیکن ستاروں کی چال حکومت کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے اس کا اندازہ ابھی سے ہونا شروع ہوگیا ہے بیساکھیوں کے سہارے کھڑی اس حکومت کی لڑکھڑاہٹ صاف نظر آ رہی ہے اتحادی کھسکتے نظر آ رہے ہیں۔ وزرا گتھم گتھا ہیں تھپکی والے ہاتھ بھی کمزور ہو رہے ہیں تحریک انصاف میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو چکا ہے پنچھی اپنے پر پھڑپھڑا رہے ہیں عملی طور پر حکومت کی گرفت فالج زدہ ہوچکی ہے کارکردگی کا تصور تک نہیں۔ اتحادی سخت رنجیدہ اور اپنے فیصلے پر شرمسار ہیں لگتا ہے کرونا اور حکومت اب چند دن کے مہمان ہیں۔ پوری دنیا کے تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں۔ کہ تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب کے عمل کو غیر ضروری طور پر طوالت دی اپنی پوری انرجی اس عمل پر صرف کی۔ مگر دو سالوں میں احتساب انتقام کے طور پر تو کامیاب رہا مگر حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ غیر ضروری طور پر احتساب کے عمل کو اوڑھنا بچھونا بنایا گیا سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا وفاقی وزراء سندھ حکومت گرانے کے لیے سلطان راہی سے بھی زیادہ بڑھکیں مارتے رہے۔ اپوزیشن کا جو بندہ بولتا اگلے دن کٹھ پُتلی نیب کی پکڑ میں آ جاتا۔ احتساب کے نام پر پوری حکومتی توانائی صرف کر دی گئی مگر تھوڑے ہی عرصے میں اپوزیشن کے سارے لوگ تو جیلوں سے باہر آ گئے مگر پاکستان کے 22 کروڑ عوام غربت۔ بے روزگاری۔ بھوک ننگ۔ عدم تحفظ اور مہنگائی کی کال کوٹھری میں چلے گئے۔ یہ احساس بڑی تیزی سے ذہنوں کا حصہ بن رہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے۔ کسی بھی کام کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے اپوزیشن کو ختم کرنے کی حکومتی کوشش نے خود حکومت کو خاتمے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ تحریک انصاف اپنی ہی ناانصافیوں کا شکار ہو چکی ہے نئے بندے کی تلاش جاری ہے بات چند ہفتوں کی ہے
@joinwsharif -

نکاح کو عام کرو تحریر:سویرااشرف
مرد اور انسان اللہ تعالی کی خوبصورت ترین تخلیق ہیں۔۔دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے لیکن ہمارا معاشرہ، ہماری زندگی، ہمارا گھر ان دونوں کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔۔ اسلیے اللہ تعالی نے انسان کی فطری خواہشات اور زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلیے ایک خوبصورت رشتہ نکاح تخلیق کیا۔۔نکاح اوراسلام :-
اسلام نے نکاح کوانسانی تحفظ کے لیے ضروری قراردیا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”النکاح من سنّتی“ نکاح کرنا میری سنت ہے۔۔۔حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے۔۔۔
نکاح کا مقصد صرف جسمانی تعلق نہیں ہے بلکہ نکاح ذہنی اور روحانی سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔نکاح کرنے سے ہی آپکو اپنا ہمسفر ملتا ہے جو آپکے دکھ سکھ کا ساتھی ہوتا ہے جو پریشانی میں آپکے ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔۔
جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا“ وہی اللہ ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے
نکاح اور ہمارا معاشرہ:-
اسلام نے تو نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے اور اس میں بہت سی آسانیاں رکھی ہیں تا کہ ہر کوٸی نکاح کر سکے لیکن آج کے دور اور اس معاشرے نے نکاح جیسی نیکی کو بہت مشکل بنادیا ہے۔ افسوس!! ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں زنا کرنے کیلیے ایک کمرے جبکہ نکاح کرنے کیلیے لاکھوو کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکاح مشکل ہوجانے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ریپ کیسز بڑھ گٸے ہیں۔۔
جہیز جیسی ایک لعنت ناسور بن کر ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔آج کے دور میں جہیز کے بغیر شادی ناممکن ہے۔۔اگر لڑکی والوں کو جہیز کے نام پر لاکھوں لگانے پڑتے ہیں تو مختلف فضول رسم و رواج کے نام پر لڑکے والے بھی لاکھوں لٹاتے ہیں جس میں دکھاوا شامل ہوتا ہے۔۔
بری، کھانا، ڈھول باجے، سینکڑوں کے لحاظ سے بارات، ولیمے میں نمودو نماٸش کے نام پر لاکھوں لگ جاتے ہیں۔۔یہ سب دنیاوی کام اور فضول خرچی ہے اور فضل خرچی اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے۔۔۔
دوسری طرف اسلام نے نکاح کو بہت سادہ رکھا ہے حتی کہ ہمارے مصطفی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کا نکاح انتہاٸی سادگی سے سرانجام دیا اور ضرورت کی چند چیزیں جن میں جس میں دوچادریں، کچھ اوڑھنے بچھانے کامختصر سامان، دوبازو بند، ایک کملی، ایک تکیہ، ایک پیالہ، ایک چکی، ایک مشکیزہ ،ایک گھڑا اوربعض روایتوں میں ایک پلنگ کا تذکرہ بھی ملتاہے۔۔۔اسلام میں نکاح کا مطلب دوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنا ، نکاح میں عورت کے لئے ولی (سرپرست) کا موجود ہونا، نکاح کا اعلان، دعوتِ ولیمہ، مہر کی ادائیگی اور خطبہٴ نکاح۔ اگر ان امور پر غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ امور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر دعوتِ فکر وعمل اور باعثِ ثواب ہیں۔
اب ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم سے جتنا ہو سکے ہم نکاح کو آسان کریں۔۔ سادگی سے نکاح کو ترویج دیں۔ لڑکی والوں پر بوجھ نہیں ڈالیں۔ فضول رسم و رواج سے کنارہ کشی کریں۔ مسجد میں سادگی سے نکاح کی تقریب سرانجام دی جاۓ اور اپنی حثیت کے مطابق ولیمہ کیا جاۓ۔ نا کہ دنیا داری اور لوگوں کی باتوں سے بچنے کیلیے لاکھوں قرض لیکر نمودو نماٸش کی جاۓ۔۔ اسلام میں حیثیت سے زیادہ خرچ کرنا بھی گناہ ہے اور نٸی زندگی کا آغاز تو اللہ کی رضا سے کرنا چاہیے اسلام اور دین کے مطابق نا کہ دنیا والوں کی خاطر۔۔
اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین
@IamSawairaKhan1 -

لِبَاسُ التَّقوٰی تحریر: محمد اسعد لعل
قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ جو آپ کے اندر خدا تعالیٰ کا ڈر ہے یا خدا کے مقابلے میں اندیشہ ناکی ہے یا یہ احساس ہے کہ آپ کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، اس سے انسان کو جو لباس حاصل ہوتا ہے، اُسے لِبَاسُ التَّقوٰی کہتے ہیں۔یعنی یہ کسی شلوار قمیض یا پتلون کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ تقویٰ کا لباس ہے جو آپ کے باطن کو ڈھانپتا ہے۔یہ کوئی لباس کی قسم نہیں ہے۔جو لباس ہم اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے پہنتے ہیں اس میں تقویٰ کا ظہور تو ہو سکتا ہے کسی نہ کسی پہلو سے لیکن تقویٰ کا لباس اس طرح کا نہیں ہے کہ جسے آپ کسی درزی سے سلوا لائیں۔
اللہ تعالیٰ کے خوف سے آخرت کی ملاقات کے احساس سےاللہ تعالیٰ سے سچی محبت سے ہر مسلمان کو تقویٰ کا لباس اوڑھنا چاہیے۔اور اسی کا نام اسلام ہے۔اللہ کی سچی معرفت آپ نے حاصل کی اور آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اس دنیا کے رشتے ہیں ،بہن ،بھائی، ماں ،باپ ایسی طرح میرا سب سے بڑا رشتہ میرے خالق کے ساتھ ہے ،میرے پروردگارکے ساتھ ہے ،زمین و آسمان کے بادشاہ کے ساتھ ہے وہی میرا معبود ہے اور میں اس کی مخلوق کی حیثیت سے اس کے بندے کی حیثیت سے زندگی بسر کروں گا۔ یہ تقویٰ ہے اور جب اس کا لباس اپنے باطن پہ پہن لیتے ہیں تو اس کا ظہور آپ کی چال ڈھال میں ہوتا ہے ،آپ کی گفتگو میں ہوتا ہے،آپ کے علمی معاملات میں ہوتا ہے۔یعنی یہ لباس ہماری روح نے اوڑھ رکھا ہوتا ہے ۔ یہ تو ہے تقویٰ کا لباس اب ہم ظاہری لباس کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام میں کوئی ظاہری لباس جو ہم اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، مقرر کیا گیا ہے؟
اسلام نے کوئی لباس مقرر نہیں کیا۔لباس کا تعلق اس سے ہے کہ آپ کس معاشرت میں جیتے ہیں ،آپ کا ماحول کیا ہے،آپ کس زمانے میں ہیں۔ اہل عرب ایک لباس پہنتے ہیں،اہل عجم ایک لباس پہنتے ہیں۔ شروع شروع میں اہل عرب کے لوگ ہی ہندوستان میں آئے تھے لیکن عجم کے راستے سے آئے تھے تو بہت سی عجمی روایات ساتھ لے آئے۔یہ جو پاجامہ جسے سلوار/شلوار کہا جاتا ہے یہ ان ہی لوگوں کے لباس میں شامل تھا۔
یہ حضرت محمدﷺ کو بھی دکھایا گیا اور آپ نے پسند فرمایا۔لیکن خود آپﷺ تہمد استعمال کرتے تھے کیوں کہ آپ کے زمانے کا لباس یہی تھا۔
ہر قوم اپنا ایک لباس رکھتی ہے۔اسلام میں کوئی لباس مقرر نہیں کیا گیا لیکن لباس کے بارے میں اصولی ہدایت ضرور دی گئی ہیں کہ جو بھی آپ لباس پہنیں وہ حیا،شرم اور حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کر کہ کہا گیا ہےکہ شرمگاہوں کو ڈھانپنے والا لباس ہونا چاہیے۔وہ لباس کسی انگریز کا بھی ہو سکتا ہے،امریکی لباس بھی ہو سکتا ہے ہمارا پاکستانی لباس بھی ہو سکتا ہےعجمی کا بھی سکتا ہے اور عربی کا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں سلیقے سے شرمگاہوں کو ڈھانپا ہوا ہوناچاہیے۔
دوسری بات یہ کہ لباس کی کوئی ایسی قسم جو کسی دوسری قوم کا مذہبی شعار ہے ، مذہبی شعار بھی دو قسم کے ہیں ۔ایک تو یہ ہے کہ وہ مذہبی شعار کسی بدعت یا شرک پر مبنی ہے تو اس کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔
دوسری یہ کہ وہ کوئی اس نوعیت کی چیز تو نہیں لیکن مذہبی روایت سے پیدا ہو گیا ہے اس کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں ہے۔لیکن اگر اس میں شرک ہے تو اجتناب کریں ،کیوں کہ یہ جتنے بھی لباس ہیں کسی قوم نے ایسے ہی ایجاد کیے ہوتے ہیں۔ان میں بہت سے عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً موسم،علاقے کی روایات،لوگوں کے معاشی معاملات اور لوگ کاروبار کس طرح کے کرتے ہیں ۔ اب دیکھیں کہ وہی تہمد سائیکل کے لیے کتنے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔اس لیے کسی قوم کا لباس ان سب عوامل پر انحصار کرتا ہے۔
آج کل ٹائی کے بارے میں یہ بات مشہور ہےکہ یہ صلیب کا نشان ہے ۔ بہت سے لوگ ٹائی باندھنے کے خلاف ہیں۔ان کے نزدیک یہ اسلام میں جائز نہیں ہے ۔لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹائی صلیب کی علامت ہے۔
ظاہری لباس سے بڑھ کر تقویٰ کا لباس ضروری ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ الاعراف میں آتا ہے کہ
(ترجمہ )اے آدم کی اولاد! ہم نے تم پر لباس اُتارا ہے، جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہےاور زینت بھی اور تقویٰ کا لباس! وہ سب سے بہتر ہے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
@iamAsadLal
twitter.com/iamAsadLal -

کامیابی کیا ہے؟ تحریر :ایم ابراہیم
ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ کامیاب ہو. وہ زندگی بھر ناکامی سے بچتا رہتا ہے اور کامیابی کے حصول کے لیے دن رات تگ و دو کرتا رہتا ہے. اگر آس پاس نظر دوڑائیں تو ہر کوئی آپ کو کامیابی کے بارے سوچتا نظر آئے گا اور اس کے پیچھے بھاگتا نظر آئے گا. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل میں کامیابی ہے کیا اور کیا اس کے حصول کے بعد انسان مطمئن ہو جاتا ہے؟ کیا جسے وہ کامیابی سمجھتا ہے اس کے حصول کے بعد اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی؟
کامیابی ہر انسان کے لئے الگ معنی و مفہوم رکھتی ہے. ہر شخص کے لیے کامیابی کا ایک الگ معیار ہوتا ہے. اُس کی کامیابی انحصار کرتی ہے کہ اس نے کامیابی کا معیار کیا طے کیا ہے. کسی کے ہاں دولت کامیابی ہے تو کسی کے لیے شہرت. کوئی اپنی خواہش یا خواہشات کی تکمیل کو کامیابی قرار دیتا ہے تو کوئی اقتدار. کسی کے لئے نوکری اور کوٹھی بنگلے کا حصول ہی کامیابی کہلاتی ہے. بلکہ عام اصطلاح میں تو لوگ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے والے یعنی خود کفیل شخص کو بھی کامیاب کہتے ہیں. اصل میں جس کے پاس جو چیز نہیں ہے اس کا میسر ہونا ہی اسے کامیابی لگتی ہے. بحرحال یہ بات طے ہے کہ کامیابی کا مطلب ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے. دوسرے لفظوں میں وہ اپنی زندگی کا ایک مقصد طے کرتا ہے پھر وہ محنت کرتا ہے اور اس کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے. لیکن کیا محض ان چیزوں کا حصول ہی کامیابی ہے؟ کیا یہ سب لوگ کامیاب ہیں؟
یہ سب مفاہیم سراب اور فانی دنیا کی کامیابی کے ہیں. کیونکہ یہ دنیا جب فانی ہے تو اس کی کامیابی بھی ایک وقت کے لئے ہو گی دائمی نہیں ہوگی. اصل میں تو کامیابی وہ ہے کہ جو کبھی ختم نہ ہو اور وہ ہے اگلی دنیا کی کامیابی جو کہ ہمیشہ رہنے والی ہے. اللہ تعالی نے اس دنیا کی کامیابی کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے بلکہ ہمیشہ رہنے والی دنیا یعنی آخرت میں کامیابی کے حصول کا ہمیں حکم دیا ہے. قرآن کریم کیونکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے تو قرآن سے پوچھتے ہیں کہ فلاح یعنی کامیابی کیا ہے. ایک جگہ ارشاد ربانی ہوتا ہے "دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے، جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہے” (القران 59:20)
اب اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ اصل کامیابی تو یہ ہے کہ ہم نیک کام کریں کریں، احکام الٰہی کے مطابق اس عارضی دنیا میں زندگی گزاریں اور نیک اعمال کا صلہ یعنی جنت حاصل کریں اور کامیاب ہوں. جیسا کہ ایک اور آیت میں ارشاد ہے” مومنو! رکوع کرتے اور سجدہ کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ” (القرآن 22:77)
یعنی اللہ کے نزدیک ایک انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں اس کی عبادت بجا لائے، نیک اعمال کرے، اس کی مخلوق کی خدمت کرے، ان کی مدد کرے تاکہ اُخروی دنیا میں اللہ کے ہاں سرخرو ہو. ایک اور آیت مبارکہ میں آتا ہے کہ اُس دن (یعنی قیامت کے دن) وہی فلاح پانے والے ہوں گے جن کے پلڑے بھاری ہوں گے یعنی جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی.اگر آپ قرآن پاک کا مطالعہ کریں تو آپ کو اِس دنیا کی کی کہیں اہمیت نہیں ملے گی اور ہم نے اسی فانی دنیا میں میں کامیابی حاصل کرنا شروع کر دی. اگر اس دنیا کی برائے نام کامیابی حاصل کر بھی لیں تو وہ عارضی ہوگی. بے شک اس دنیا میں بھی ہمیں محنت کرنی چاہیے اور ایک اچھا مقام حاصل کرنا چاہیے لیکن یہ زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیے. اِسی ہی کو کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اگلی دنیا میں حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھی محنت کرنی چاہیے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکامات پر عمل کرکے اُخروی زندگی کے لئے بھی کچھ کرنا چاہیے چاہیے. اللہ تعالی ہم سب کو دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا فرمائے. آمین
@ibrahimianPAK
-

ہماری زندگی تحریر: کائنات عزیز راجہ
ہماری زندگی میں بعض لوگوں سے تعلقات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں جنہیں کسی رشتے کا نام تو نہیں دیا جاتا لیکن انہیں نبھانا ضرور جاتاہے، ان میں ایک اہم تعلق دوستی کا بھی ہے۔ دوستی کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہمارے معاشرے میں تقریباً سبھی لوگ کسی نہ کسی سے دوستی نبھا رہے ہیں
دوست کون ہوتا ہے، جس کے دل میں آپ کے لیے خلوص کا دریا موجیں مار رہا ہوتا ہے اور آپ کے پسینے پہ اپنا خون بہانے کو یہ ہر وقت تیار رہتا ہے۔ آپ کی خاطر جوئے خوں عبور کرنے کو بھی تڑپتا ہے، آسمان سے تارے توڑ کے لانے کو بھی پھڑکتا ہے
دوست ۔۔۔۔ کون ہوتا ہے؟
اس کی تعریف کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔۔ میں اپنے احساسات جو میں نے محسوس کیا میں اپنے جذبات جو میں نے دیکھے اپنی ایک بہت ہی پیاری دوست بہنوں جیسی بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہے اس کے بارے میں لکھوں گی ،، آپ سب مجھے آخر میں رائے دینا کیا میرا نظریہ صحیح ہے؟؟؟
دوست دو طرح کے ہوتے ہیں
اچھے دوست اچھی صحبت برے دوست بری صحبت
اچھے اور بُرے دوست کی مثال اس حدیث پاک سے سمجھئے چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اچھے برے ساتھی کی مثال مُشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے(آگ بھڑکانے) والے کی طرح ہے، مُشک اٹھانے والا یا تجھے ویسے ہی دے گا یا تُو اس سے کچھ خرید لے گا یا اس سے اچھی خوشبو پائے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تیرے کپڑے جلادے گا یا تُو اس سے بدبو پائے گا۔(مسلم، ص1084،حدیث 6692
اب اچا دوست کیسا ہوتا ہے (1)اچھا ہم نشیں وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں اللہ یاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ (جامع صغیر، ص247،حدیث:4063
(2)اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو اللہ کو یاد کرے وہ تیری مدد کرے اور جب تو بُھولے تو یاد دلا دے۔ (جامع صغیر، ص244،حدیث:3999
اچھا دوست بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے
کہ اگر کبھی دوست سے کوئی غلطی ہوجائے یا وہ بُری صحبت میں پڑ جائے تو فوراََ اس سے دوری اختیار کرنے کے بجائے اسے سمجھانا چاہئے کیونکہ اچھے دوست کے اوصاف میں سے اہم ترین وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دوست کو بری صحبت میں نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے برائی سے نکالنے کی کوشش کرتا اور اس کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے،
دوست کون ہوتا ہے؟؟؟
جو آپ کو درد میں دیکھ کر تڑپ جائے
جس کی باتوں سے آپ کو تسکین ملے
وہ اگر خاموش ہو تو آپ سے رہا نہ جائے
جو آپ کا غم بانٹے
آپ کو خوش دیکھ کر خوش ہو
آپ کو پریشان دیکھ کر بےچین ہو جائے
ہر مشکل میں آپ کے ساتھ ہو
جو دھوپ میں سائے جیسا ہو
جو بارش میں چھتری ہو
جس کے بارے میں آپ سوچیں تو عجیب سی خوشی محسوس ہو
جو سوچے بنا ذہن میں ہو
جو صرف ذہن میں نہیں بلکہ دل پہ بھی حکومت کرتا ہو
جس سے مل کر آپ کو خوشی ملتی ہو
اور وہ خوشی بھی تمام غموں پہ حاوی ہو
جب وہ پاس ہو تو سب دکھ پریشانی آپ بھول جائیں
اور جب وہ دور ہو تو پھر اسی کے خیال میں رہیں
جو آپ کو بہت عزیز ہو اور سب سے خاص ہو
پھر جب وہ دوستی اس ذات کے لیے ہو جو مومنوں کا دوست ہے تو پھر اس دوستی کی شان تو اور بڑھ جاتی ہے
پھر دوست وہ ہوتا ہے ۔۔۔
جو آپ کو برے کاموں سے روکے
جو نیک کاموں کی رغبت دلائے
جو آپ کے ساتھ برا ہونے سے روکے
ان سب باتوں کے پیشِ نظر آپ کا دوست آپ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو خون سے نہیں بلکہ دل سے بنتا ہے ، احساس سے بنتا ہے
جو آپ کے پاس تو نہ ہو مگر آپ کو اکیلا نہ رہنے دے
جو اپنی یادوں کا دائرہ آپ کے گرد لگا دے
جو کانٹوں میں گلاب ہو
جو آپ کی کل کائنات ہودوست دوست۔۔۔۔ جس کے لیے میرے پاس آج الفاظ ختم ہو گئے وہ ہوتا ہے دوست
"میری جان میرا مان ہو تم
ہاں میری جان ہو تم”
ٹویٹر ہینڈل
@K_A_R123 -

ٹویٹر کی دنیا تحریر : سید لعل حسین بُخاری
ٹویٹر میں ایکٹو ہونے کے بعد بہت سے لوگوں سے ٹویٹر ہی کے زریعےملاقات ہوئ۔کئی ریٹویٹ اور ٹرینڈز گروپوں میں بھی رہا۔خود بھی ریٹویٹ گروپ تشکیل دئیے۔جن میں سے ایک ابھی بھی پاکستان فرسٹ کے نام سے ایکٹو ہے۔
لوگ کہتےہیں کہ ٹویٹر فیس بُک سے کوالٹی کے لحاظ سے بہتر پلیٹ فارم ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فیس بک پہ چلنے والی بدتمیزی،گالی گلوچ اور کاپی پیسٹ ٹویٹر پر بھی موجود ہے،یہاں بھی تقریبا”ہر دوسرا یا تیسرااکاؤنٹ فیک ہے۔زیادہ تر انہیں فیک اکاؤنٹس سے گالی گلوچ اور نامناسب اور قابل شرم کمنٹس کا دھندا کیا جاتا ہے۔
افسوس ناک امر ہے کہ اس گالم گلوچ بریگیڈ کی سرپرستی بعض سیاسی شخصیات کرتی ہیں۔
جن میں سر فہرست نام مریم صفدر کا ہے،مریم بی بی نہ صرف مخالفین کو گالیاں دینے والے ان اکاؤنٹس کو فالو کرتی ہیں بلکہ کئی ایسے اکاونٹس بھی محترمہ نے فالو کر رکھے ہیں،جو ملک دشمنی میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔یہ امر انتہائ افسوسناک ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو ان مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
سیاسی مخالفت اور تعمیری تنقید ضرور ہونی چاہیے،مگر ریاست اداروں کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے۔ایسا کرنا ہمارے اندر اورباہر کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرناہے۔
اگر ہم ٹویٹر پر ایکٹو ہیں اور لوگ ہمیں فالو بھی کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک دن میں اپنے ملک کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے کیا کام کیا ہے؟
کونسا ایسا ٹویٹ ہم نے شیئر کیا ہے کہ جس نے دنیا کو پاکستان کے بارے میں اچھا پیغام دیا ہے؟
اگر ہم میں سے ہر کوئ یہ سوچ لے کہ اس نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا مونہہ توڑ جواب دینا ہے،تو دشمنوں کا بھونکنا ٹونکنا بند ہو سکتا ہے۔
مگر باعث شرم بات یہ ہے کہ باہر سے یا اندر سے جب بھی کوئ آواز ریاستی اداروں کے خلاف اٹھتی ہے تو بہت سے لوگ اندر سے ہی ان کا ساتھ دیکر ملک سے غداری کا مرتکب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
ٹویٹر ایک باثر پلیٹ فارم ہے۔اس پر ٹرینڈز کی صورت اٹھنے والی آواز بین الاقوامی طور پر سنی جاتی ہے۔
ہم اگر کسی ایک گروپ سے وابستہ نہ بھی ہوں تو ہمیں ان آوازوں کے ساتھ اپنی آواز ملانی چاہیے۔تاکہ ملک اور قوم کا کوئ فائدہ ہو سکے۔
ہر اچھی چیز کو ریٹویٹ کرنے کی کوشش کریں۔خواہ آپ کسی کو جانتے ہیں یا نہیں ۔
مگر اچھا پیغام پھیلانے میں مدد ضرور کریں۔
ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح ٹی وی چینلز میں ریٹننگ کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔بلکل اسی طرح ٹویٹر پر بھی دوست احباب ریٹویٹ کے معاملے پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔
اور یہ خواہش ایک قدرتی امرہے کہ ہماری لکھی ہوئ چیز کو زیادہ لوگ ریٹویٹ کریں۔
اسے زیادہ لوگ پسند کریں۔
مگر اس کے حصول کے لئے بلاوجہ کی سنسنی۔بد تہذیبی اور کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے۔
کسی دوسرے کا کریڈٹ نقل کر کے لینے سے بہتر ہے کہ بندہ سیکھے اور اپنے آپ کو اس قابل بناۓ کہ لوگ اسے فالو کرنے پر مجبور نہ بھی ہوں تو اسکی خواہش ضرور کریں۔
فیک اکاونٹس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔اچھا لکھنے والوں کی حوصلہ افزائ کرنی چاہیے اور نئے آنے والوں کو ٹویٹر رولز سے آگاہی میں مدد دینی چاہیے۔
اگر کبھی کچھ غلط لکھا جاۓ تو اسے ڈیلیٹ کرنے میں تامل نہ کیا جاۓ۔کیونکہ ہم بحر حال انسان ہیں۔انسان خطاؤں کا پُتلا ہے۔اپنی غلطی مان لینے ہی میں عظمت اور بڑائ ہے نا کہ غلط بات پر ڈٹ جانے میں۔
اگر آپ سمجھیں کہ آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا،جس سے کسی کی دل آزاری ہوئ ہے اور اسکا جرم یا قصور بھی نہیں تھا،تو پھر معافی مانگنے میں دیر مت لگائیں۔
مگر یہ فارمولہ کرپٹ عناصر بشمول سیاستدانوں پر اپلائ نہیں ہوتا۔
ایسے بد عنوان افراد کے خلاف لکھنا ایک جہاد ہے۔جو بھی کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نظر آۓ اسکے خلاف ضرور لکھیں۔
مگر یہ سب کچھ لکھتے وقت ایک چیز زہن میں رکھیں کہ آپکا لکھا ہوا آپ کو ثابت بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اسلئے تمام تر شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لیکر لکھیں تاکہ آپ کو کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مجھ پر کئی دفعہ اخبارات میں لکھنے کی وجہ سے کروڑوں روپے ہر جانے کے عدالتی دعوے کئے گئے مگر الحمدللہ ان میں سے کوئ بھی میرے خلاف سچ ثابت نہ ہو سکا،کیونکہ میں ہمیشہ دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر خبر لگاتا تھا اور خبر لگانے سے پہلے اپنا ہوم ورک ضرور مکمل کرتا تھا۔
خبر لگاتے وقت ہمیشہ اس شخص یا پارٹی کا موقف بھی ساتھ ہی شائع کریں ،جس کے خلاف آپ خبر لگا رہے ہیں۔
ایسا کرنے سے آپ آدھی قانونی جنگ تو ویسے ہی جیت جاتے ہیں۔
ٹویٹر بھی ایک اخبار کی طرح ہی ہوتا ہے۔جس میں لکھے ٹویٹس ان خبروں کی طرح ہوتے ہیں،جو ہم اخبارات میں بطور نامہ نگار شائع کرواتے ہیں۔
اچھا نامہ نگاروہی ہوتا ہے جو اپنی لگائ گئی خبر کا پہرہ دے سکے۔
اچھا ٹویٹ بھی وہی ہوتا ہے،جس کی سچائ بوقت ضرورت آپ ثابت کر سکیں-
اللہ تعالی ہم سب کو زور قلم دے اور زیادہ
اور اللہ تعالی ہمیں اپنے قلم کی اس طاقت کو اپنے ملک کی بہتری اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کی توفیق دے۔آمین #@lalbukhari
-

جیکب آباد کی جمس ہسپتال بد انتظامی کا شکار تحریر:عبدالرحمن آفریدی
کہتے ہیں جان ہے تو جہاں ہے اگر جان ہو گی تو انسان کچھ کرنے کے قابل ہوگا،حکومت کی جانب سے صحت اور تعلیم کے شعبے میں بھاری بھرکم ہر سال بجٹ میں رکھی جاتی ہے اسکے باوجود سندھ میں صحت اور تعلیم کے شعبے پسماندگی کا شکار ہیں جیکب آباد میں صحت کا شعبہ انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے بدحال ہو گیا ہے یو ایس ایڈ کی جانب سے جیکب آباد کی عوام کو علاج کی معاری سہولیات کے فراہمی کے لئے جدید اور اعلی طرز کی جمس ہسپتال تعمیر کرکے دی گئی لیکن افسوس کہ اتنا بہترین ادارہ پانچ سال سے مکمل فعال نہیں ہو سکا ہے جمس ہسپتا ل سیاسی مداخلت کی وجہ سے بدانتظامی کا شکار ہو گئی ہے 15جنوری 2016میں شروع کی گئی جمس ہسپتال میں اب تک ایمرجنسی کا شعبہ بند پڑا ہے جبکہ متعدد شعبے بھی غیر فعال ہیں جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزز(جمس)کی سالانہ بجٹ 66کروڑ سے زائد ہے اتنی بجٹ رکھنے کے باوجود ادارے علاقے کے لوگوں کو علاج کی معیاری سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے سیاسی سفارش پرجمس ایکٹ کے قواعد کے خلاف ایسے شخص کوجمس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے جسے کے پاس جمس جیسے ادارے کو چلانے کا کوئی تجربہ ہے نہ اہلیت،تین سال سے مقرر ڈائریکٹر جمس میں کوئی بہتری نہیں لاسکے ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی سمیت متعددبند شعبوں کو فعال کر سکے ہیں سول ہسپتال کے ادھار پر لئے گئے ڈاکٹرس کی بدولت جمس کو چلایا جا رہا ہے سول ہسپتال سے ڈاکٹر منگوانے کی وجہ سے سول ہسپتال کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جمس میں سیاسی مداخلت اور بدانتظامی کی وجہ سے 20سے زائد ماہر ڈاکٹر اور پیرا میڈکس عملہ نوکری سے استیعفی دیکر جا چکا ہے،ہسپتا ل کی مینٹیننس،ہاؤس کیپنگ،کینٹین اور سیکیورٹی کے ٹھیکے بھاری رشوت کے عیوض سفارش پر دینے کی وجہ سے ادارے میں دن بہ دن بگاڑ آتا جا رہا ہے،فرضی بلوں کے ذریعے فنڈس نکلوائے جا رہے ہیں لیکن ادارے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی،جمس ہسپتال میں سہولیات کے فقدان،کرپشن اور ڈائریکٹر کے خلاف شہریوں اور سیاسی سماجی تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے ڈائریکٹر جمس عبدالواحد ٹگڑ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا اس حوالے سے نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لئے اشتہار بھی جاری کیا گیا جس پر دس سے زائد امیدواروں نے درخواستیں بھی جمع کرائی جو چار ماہ سے التوا کا شکار ہے اطلاع ہیں کہ موجودہ ڈائریکٹر کو ہٹانے کا فیصلہ موخر کردیا گیا ہے مزید یہ کہ سندھ حکومت کی جانب سے جمس ہسپتال کی توسیع کے لئے20 کروڑ روپے منظو ر کئے گئے ہیں رواں مالی سال کے لئے ہاؤس کیپنک اور مینٹیننس کے ٹھیکے نیلام کے بجائے موجودہ ٹھیکیدار کو توسیع کرکے دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ سیکیورٹی کا ٹھیکہ سفارش پر دینے کا انکشاف ہوا ہے جمس کی پریکیورمنٹ کمیٹی کے چئیر مین اور ڈائریکٹر جمس عبدالواحد ٹگڑ،ڈی سی کے نمائندے کے طور پر شامل اسسٹنٹ کمشنر شہزاد احمد اور ڈاکٹر عصمت علی لہر نے گریفن سیکیورٹی سروسز کو ٹھیکہ دینے کی منظوری دے دی ہے اس فیصلے کے خلاف فرنٹ لائن سیکیورٹی سروسز کے افضل ملک نے ڈائریکٹر ایس ایس پی آر اے کراچی کو درخواست دیتے ہوئے جمس ہسپتال کی سیکیورٹی کا ٹھیکہ خلاف ضابطہ دینے کا الزام لگایا گیا افضل ملک نے اپنی درخواست میں کہاہے کہ 30جون کو جمس میں ہونے والی بولی میں تین کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور کہا گیا کمپنی کے اصل کاغذات جمع کرائے جائیں اور 25جولائی کو گریفن سیکیورٹی سروسز کو ٹھیکہ دے دیا گیا جس پر تحفظات ہیں گریفن سیکیورٹی نے غلط معلومات اور جعلی کاغذات جمع کرائے مذکورہ کمپنی ڈیڑھ سال سے معطل ہے،جس کمپنی کو جمس کی سیکیورٹی کا ٹھیکہ دیا گیا ہے وہ پی ٹی اے میں رجسٹر نہیں بینک اسٹیٹمنٹ بھی کم ہے سندھ روینیو بورڈ میں بھی شارٹ ہے،سیسی اور ای او بی آئی میں بھی شراکت نہیں جبکہ موکل کی تفصیل بھی درست نہیں ہے اور یہ سپر ا رولز کی خلاف ورزی ہے انصاف کی بہتری کے لئے فیصلہ کیا جائے،جمس کی پروکیورمنٹ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عصمت لوہر نے رابطے پر کہا کہ سیکیورٹی کا ٹھیکہ کس بنیاد پر گریفن کمپنی کو دیا گیا یہ تو ڈائریکٹر ہی بتا سکتے ہیں سار ے معاملات وہ دیکھتے ہیں میں رکن ضرور ہوں مجھ سے صرف درستخط لی جاتی ہے میں اس موقع پر تو کچھ ترمیم نہیں کر سکتا مستقل ملازم بھی نہیں ہوں کانٹریکٹ پر ہوں،جمس ہسپتال میں میرٹ کو نظر انداز کرکے سفارشی کلچر کو فروغ دیا گیا ہے جس کے باعث علاج گھر عذاب گھر بنتا جا رہا ہے جمس کو تباہی سے بچانے کے لئے سیاسی مداخلت،سفارشی کلچر کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے جمس کے بورڈ آف گورننس کے ممبران کی بھی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ادارے کو فعال کرنے سمیت بہتر بنانے میں کچھ نہیں کر سکے ہیں بی او جی میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے جو عوام کے حقیقی نمائندگی کرتے ہوں جمس کو مکمل فعال بنانے کے لئے اہل اور تجربہ کار ٖڈائریکٹر کی بھی ضرورت ہے تاکہ جمس جسیے بہترین ادارے سے نہ صرف جیکب آباد بلکہ سندھ اور بلوچستان کے افراد بھی علاج کی بہتر اور معیاری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

@journalistjcd