Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایک اور مندر توڑ کر ہم سرخرو ہو گئے تحریر:سمیع اللہ خان

    ایک اور مندر توڑ کر ہم سرخرو ہو گئے تحریر:سمیع اللہ خان

    سکول کی کتابوں میں ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ سلطان محمود غزنوی بطور مسلمان ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کتابوں میں سلطان محمود غزنوی کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ سومنات کے بت کو توڑنا ہے۔ یہ کیوں کر ہوتا ہے کہ ہماری ہیروز کو ہیرو پیش کرنے کیلئے جنگی فتوحات، توڑ پوڑ وغیرہ جیسے افعال کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ذہن میں کبھی کبھی یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہمارے ہیروز کی فراست، دریا دلی، علم، محبت، بھائی چارہ اور قربانیوں کو نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا، کیونکہ کچے ذہنوں پہ یہ کہانیاں گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں اور یہی کچے ذہن پھر بعد میں معاشرے کے اہم ارکان کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
    آج صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں ایک ہندو مندر کے اندر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ کچھ روز قبل ایک آٹھ سالہ بچے نے رحیم یار خان کے ایک مقامی مدرسہ کے قالین پر ’پیشاب‘ چھوڑا۔ جس کے بعد وہاں کے مقامی افراد نے اس 8 سالہ غیر مسلم بچے پر توہین مذہب یا مدرسے کی توہین کا الزام لگایا اور اس پر ایف آئی آر درج کروائی۔ بچہ جب کہ نابالغ تھا اور کم عمر بھی تھا اس وجہ سے بچے کی ضمانت ہوگئی۔
    بچے کی ضمانت کے بعد جہاں اس غیر مسلم 8 سالہ بچے پر پرچہ کٹانے والوں کو کوئی اور چیز نہیں سوجھی تو انہوں نے علاقے کے دیگر افراد کو اشتعال دیلاکر رحیم یارخان کے علاقے بھونگ شریف میں واقع ہے ایک ہندو مندر جس کا نام ’گنیش مندر‘ ہے کہ اندر گھس کر توڑ پھوڑ شروع کی۔ اس دوران پولیس کی کم نفری کی وجہ سے وہ ان مشتعل افراد کو قابو نہ کر سکے اور انہیں رینجرز کی خدمات حاصل کرنا پڑی۔ رینجرز نے وقوعہ پر پہنچ کر مندر سے مشتعل افراد کو نکالا اور کچھ کو گرفتار کیا۔ کچھ اسی نوعیت کا ایک واقعہ کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں بھی پیش آیا تھا۔
    ایسے مواقع پر اور دیگر افراد کو اشتعال دیلانے والے اشخاص کے علم میں یہ بات خوب ہوتی ہے کہ وہ یہ غلط کر رہے ہیں مگر کیونکہ وہ خود اکیلے ایسا کوئی عمل نہیں کر سکتے اس لیے دیگر افراد کو اشتعال دیلاتے ہیں، پھر انہیں مشتعل ہجوم کا سہارا لے کر یا ان کو ڈھال بنا کر اپنی مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان افراد کا مشتعل ہجوم کا ڈھال بنا کر ایسے مقاصد حاصل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو پتہ ہے کے پردے واحد اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ پکڑا بھی جاتا ہے اور انہیں سزا بھی ملتی ہے مگر ایک ہجوم کو پکڑنا، کنٹرول کرنا، سزاء دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ کچھ اسی طرح کے نتائج ضلع کرک میں ہونے والے ایک مندر پر حملے کے سامنے آئے ہیں، کرک میں مندر پر ہونے والے حملے کہ ملزمان کو یا تو عدالت نے رہا کیا یا پھر ہندو برادری پر دباؤ ڈال کر ان سے کیس واپس کروایا گیا۔ یہ بھی ذہن نشین کر لیں کہ کرک مندر واقعے میں سرکاری افسران جو معطل ہوئے تھے وہ بھی تقریبا سارے بحال ہو چکے ہیں۔
    کرک یا رحیم یار خان جیسے واقعات کے بارے میں سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کی وہ مولوی جو مدرسوں، مساجد وغیرہ میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان سے ’کتاب اللّٰہ‘ تربیت لیتے ہیں کہ باہر جاکر میرا یہ کارنامہ کسی کو نہیں بتاؤ گے، ان افراد کے خلاف کبھی یہ دین کے ٹھیکیدار اور یہ خود کو سچے مسلمان ثابت کرنے والے افراد کیوں نہیں نکلتے؟
    یہ جو رحیم یار خان میں ’گنیش مندر‘ کو توڑ کر جو سچے اور ایماندار مسلمان سرخرو ہو چکے ہیں، ان کا اصل مسئلہ ذہن سازی ہے۔ ان کو یہ تو بتایا جاتا ہے کہ کعبہ میں بتوں کو توڑا گیا تھا، سومنات مندر میں محمود غزنوی نے بتوں کو توڑا تھا مگر ان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ سومنات مندر ہو یا کعبہ ہو وہاں بتوں کو توڑنے کی کیا وجوہات تھیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تاریخ کو دو قدم آگے جا کر اور ہمارے جنگجو ہیروز کو اپنی اوقات سے بڑھ کر ’تیس مار خان‘ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ یاد رکھا جائے کہ اچھے الفاظ میں صرف جوڑنے والوں کو لکھا اور یاد کیا جاتا ہے جبکہ توڑنے والوں کو منفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

  • ریپسٹ کو آزاد کرو  تحریر:فجر علی

    ریپسٹ کو آزاد کرو تحریر:فجر علی

    ہم اور معاشرہ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو کبھی ٹورنے سے بھی نہیں ٹوٹتا ۔معاشرہ ہم سے بنتا یہ بات ہم کیوں بھول جاتے ؟ جو ہم کرتے وہی سب دوسرے لوگ بھی کرتے اسے معاشرتی علوم کہتے کہ معاشرے کا علم ہونا ۔
    اب یہاں ایک بات زیر غور رہے کہ جب ایک مرد ایک انسان کسی عورت کی عزت پامال کرتا ہے تو سبھی اس ایک شخص کے نقشے قدم پر کیوں چل پڑے؟
    کیا ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت کو اتنی آسانی سے نوچ دیا جاتا؟ اتنا آسان ہوتا کسی کی زندگی ایک پل میں برباد کرجانا؟
    ہمیں دیکھایا جاتا تھا بچپن میں کہ مدرسے کا قاری جو قرآن سکھاتا ہے وہ باپ سے بھی اونچا رتبہ رکھتا لیکن ہمارے معاشرے میں ہم کیا دیکھ رہے ؟
    مسجدوں میں مدارس میں گرجا گھروں میں اس عبادت گاہوں میں سب جگہ عورت ، خواہ وہ 1 سال کی بچی ہو یا 30 سال کی جوان لڑکی، شادی شدہ ہو یا 3 بچوں کی ماں ، مرد کا لباس اوڑھے بھیڑیے آپکو چاروں طرف نوچنے کیلئے ڈھونڈ رہے ہوتے ہر وقت ۔نظر رکھے ہوئے بیٹھے رہتے کہ کب کوئی بچی کوئی لڑکی کوئی خاتون بس ہو عورت گھر سے نکلے تو فورا سے اسے چھپٹنے کو تیار بیٹھے ہوتے ۔یہ ہمارے معاشرے کے وحشی دریندے ہیں ۔جو ہمیں نوچنے کو تیار بیٹھے ۔
    بچوں کے ماں باپ سے یہاں شکوہ ہے مجھے وہ کیسے اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھتے بچے جہاں بڑھتے ہیں انکے اساتذہ سے ملتے کیوں نہیں ۔
    معاشرہ خراب ہے تو یہاں ریاست کی بھی نااہلی چیخ چیخ کر اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ ہم نے کسی بھی ریپسٹ کو سزا نہیں دی ۔
    ریاست سے ایک بیان جاری ہوا کہ انکے عضو خاص کاٹ دیا جائے گا لیکن یہ بھی محض ہر بیانات کی ایک بیان ہی رہا ۔حوا کی بیٹی ہر روز کہیں نہ کہیں ان درندوں کے ہاتھوں کا شکار ہورہی لیکن ریاست صرف انصاف اگر دیتی ہے تو وہ ہے امراہ کو یا پھر ان لوگوں کو جو پاکستان سے باہر لوگ شور مچاتے ورنہ بیچارے ماں باپ یہاں اپنی بیٹیوں کو لیکر یا توں شہر چھوڑ کر چلے جاتے یا پھر رپورٹ درج نہیں کرواتے ۔
    ریاست ہر معاملے کی طرح یہاں بھی سو رہی سب وحشی کھل کر سامنے آئیں کیونکہ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے ایک کام جب کوئی کرتا تو دوسرا بڑھ چڑھ کر اس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔افسوس ہم ایسے ہی معاشرے کا حصہ ہیں ۔جہاں کبھی کسی کو انصاف ملتے نہیں دیکھا ہا ن گناہ کرکے چھپ جاو یا بیچ میں ہی گھوموں پھرو کیونکہ یہاں انصاف ملنا ایسے ہے جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ۔

    @FA_aLLi_

  • سی پیک ایک گیم چینجر   تحریر: ناہید تبسّم

    سی پیک ایک گیم چینجر تحریر: ناہید تبسّم

    سی پیک چین، پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطوں کا ایک فریم ورک ہے_سی پیک سے پاکستان اور چین کے علاوہ ایران، افغانستان، ہندوستان، وسطی ایشیائی خطے پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہونگے _
    سی پیک پراجیکٹ بحیرہ عرب پر واقع پاکستان کے جنوبی گوادر بندرگاہ کو چین کے مغربی سنکیانگ بندرگاہ سے شاہراہوں، ریلوےاور پائیپ لائنوں کے جال سےجوڑ دے گا_جو بیجنگ اورمشرقی وسطیٰ کے درمیان رابطے کو جوڑ دے گا_
    پاکستان اور چین اس اقتصادی راہداری کی تعمیر کے زریعے دو طرفہ سرمایہ کاری، معاشی اور تجارت، رسد اور لوگوں کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا-
    چین، پاکستان اکنامک کوریڈور عالمی سطح پر دنیا میں معاشی ترقی کی طرف سفر ہے _ جو دنیا کے لیے امن، معیشت کی ترقی کے ساتھ مستقبل کے بہتری کا ضامن ہے _
    سی پیک سے جنوبی ایشیاء کو بازاروں اور منڈیوں تک رسائی اور بڑی مالی اعانت کا موقع فراہم کر ے گا جس کی وجہ سے پاکستان اور چین میں صنعتی ترقی اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی قابل ذکر ہےاس سے لوگوں کو ملازمتوں کی فرا ہمی کے لئیے روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے _
    سی پیک کامیابی کے منازل طے کرتا اگے کی جانب رواں دواں ہے اور اسکا پہلا مرحلہ پایہ تکمیل تک پہچ چکا ہے جس میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کواہم معاشی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا-
    سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے جس میں صنعتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور عنقریب اس سےہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا اورساتھ ہی معاشرتی ترقی، زرعی تعاون، صحت کے شعبے، پانی کی فراہمی اور سماجی شعبے پر بھی توجہ دی جارہی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے-
    تیسرے مر حلے میں باضابطہ تعلیم اور تکنیکی تربیت کے زریعے انسانی سرمائے کی ترقی کو ہموار کیا جانا ہے خاص کر محروم اضلاع میں چین پاکستان اقتصادی راہداری امن، معیشت کی بہتری اور ترقی کے ساتھ روشن پاکستان کی جانب سفر ہے جس سے خطے کے حالات میں بہتری آیے گی-
    سی پیک کے سابقہ چئیرمین عاصم باجوہ جن کی انتھک محنت اورکاوشوں کی وجہ سے سی پیک تکمیل کے مراحل تیزی سے طے کررہا ہے اور اب خالد منصور نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے جو سی پیک کے موجودہ چیئرمین مقرر ہوئے ہیں ان کی کاوشیں بھی رنگ لائیں گی اور تکمیل کے مراحل طے کرتے ہوئے انشاء اللہ پاکستان کی خوشحالی، استحکام ترقی کے لئے سی پیک نیا باب رقم کرے گا –

    @NahdT5

  • اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء

    اسلام، وراثت اور عورت تحریر :سید اویس بن ضیاء

    حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرد اہل خیر کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اس میں ظلم اور نا انصافی کرتا ہے تو اس کے برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے اور ایک مرد ستر سال تک اہل شر کے اعمال کرتا ہے پھر وصیت میں عدل و انصاف سے کام لیتا ہے تو اس اچھے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے،( ابن ماجہ، جلد دوم، حدیث:863)”۔

    اسلام واحد دین ہے جو امن محبت اور انصاف کا درس دیتا ہے اسلام میں زندگی کے ہر پہلو پر نہایت ہی باریک بینی سے روشنی ڈالی گئ ہے زندگی کے تمام تر معاملات میں عورت کو وراثت دینے کا ایک اہم مسئلہ ہے جس پر قران مجید میں کئ بار ذکر آیا ہے۔
    اسلام میں بیٹیوں کا وراثت میں حصہ بیٹوں کے مقابلے نصف مقرر کیا گیا ہے اور بیوی کا آٹھواں حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہمیں اسلام کے قوائد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو وراثت میں مکمل حصہ دینا چاہیے۔ وراثت تقسیم ہونے کا مسئلہ ہمیشہ انسان کی موت کے بعد درپیش آتا ہے جو کہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔
    عام طور پر ہمارے معاشرے کے دو قسم کے کمزور طبقے یعنی یتیم بچے اور عورتیں تقسیمِ وراثت کے وقت ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس سے لوگوں کے درمیان نا اتفاقی اور لڑائ جھگڑے جیسے بڑے مسائل جنم لیتے ہیں جو کہ بعد میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس طرح اسلام میں چوری، ڈکیتی، زنا، شراب پینا حرام ہے اسی طرح وراثت میں حصہ داروں کو انکا حق نا دینا بھی حرام ہے۔
    ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ یہ کہہ کر حیلے بہانے بناتے ہیں کہ ہم نے جہیز دیا ہے تو اب جائیداد میں سے حصہ کیوں دیں جائیداد سے حصہ عورتوں کا اسلام و آئنی حق ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات آئے دن ایسی خبروں کی زینت ہوتے ہیں کہ مختلف مقامات پر جائیداد (جو کہ اسلامی حق ہے)مانگنے پر عورتوں نا صرف کو ڈریا دھمکایا جاتا ہے بلکہ ان پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انکو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔
    آج کے جدید دور میں عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کا بھی علم رکھتی ہیں اگر انہیں انکا حق نہیں ملتا یا انکی حق تلفی کی جا رہی ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر لیتی ہیں اور قانون کے ذریعے اپنا حق حاصل کرتی ہیں اگر چہ ہمارا نظام عدل سست روی کا شکار ہے لیکن انصاف ہمیشہ حق دار کو ہی ملتا ہے ہماری حکومت وقت سے التجا ہے کہ عورتوں کے وراثتی حقوق کی حفاظت کےلئے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے
    اگر چہ ہمارے معاشرے میں ظلم کرنے والے ہیں مگر مظلوم کا ساتھ دینے والے انصاف پسند لوگ بھی ہیں جو کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہیں جو اپنی ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں ، بیویوں کو مکمل حقوق فراہم کرتے ہیں اور ساتھ اللہ کی پاک ذات کا ڈر دل میں رکھتے ہیں

    قران پاک مین واضع طور پر فرمایا گیا ہے کہ:”سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے،(النور: 63)”۔
    ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دئے احکامات پر عمل کرنے چاہیے اور عورتوں کو وراثت میں حصہ کے ساتھ ساتھ انکے تمام حقوق کا خیال رکھنا چاہیے جوکہ ہم پر لازم ہے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو راہ حق پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے

    @SyedAwais_

  • معاشرہ اور اس میں بڑھتی بےحیائی  تحریر مدثر حسن

    معاشرہ اور اس میں بڑھتی بےحیائی تحریر مدثر حسن


    بحثیت مسلمان ہمارے مذہب نے عورتوں کو پردے اور مردوں کو نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن ہمارے پیارے ملک ِپاکستان میں، جو کے بنا ہی اسلام کے نام پر ہے اس میں مرد اپنی نظر نیچی رکھنا اور عورت پردہ کرنا گناہ سمجھتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ دن با دن تنزلی کا شکار ہو رہا ہے اور ہم صرف ایک تماشائی کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں پھیلی اس بےحیائی کی بہت سی وجوہات ہے، جیسے کے ہمارے مارننگ شوز، گیم شوز، سوشل میڈیا کا غلط استعمال،اور خاص کر ہمارے ڈرامے جس میں ہمارے کلچر اور مذہب سے ہٹ کر بہت سی چیزیں دکھائی جاتی ہیں،اسکی ایک عام مثال ہم یہ لے لیتے ہیں کے اکثر ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے کے اگر مرد عورت کو طلاق دے اور وہ پرگنینٹ ہو تو طلاق نہیں ہوتی لیکن اگر اپ اس کے بارے میں تحقیق کریں تو اسلام کے مطابق طلاق واقع ہو جاتی ہے،اب اپ خود سوچیں کےجو لوگ اس بارے میں سہی معلومات نہیں رکھتے وہ اپنی دنیا اور آخرت خراب کر بیٹھتے ہیں۔

    کچھ دن پہلے ایک پرائیویٹ چینل کا ایوارڈ شو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ہمارے ملک کی مہشور و معروف اداکاراؤں نے ادھ ننگے کپڑے پہن کر خود کو لبرل ثابت کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کی جو کہ ایک اسلامی مملکت کے شہری ہونے کے ناطے ہمارے لیے بلکل بھی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہے، ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کے ان ادکاروں کی فین فولّوینگ نہیں ہوگی تو اب اگر ان کے اس بیہودہ فیشن کو دیکھ کر کوئی انکو فالو کرے تو ہمارا معاشرہ کس قدر تباہی کا شکار ہوگا ہم اسکا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہیں۔

    ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے بھی کچھ دن پہلے ایک غیر ملکی انٹرویومیں اسی طرف اشارہ کیا کے دنیا میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعیات کی ایک بڑی وجہ عورتوں کا نا مناسب لباس بھی ہے، جو کے کافی حد تک درست بھی ہے۔ بہت سے لوگ اس سے اختلاف بھی کرتے ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورت کو ہی ہمیشہ ان چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے، جبکے ہمارے معاشرے میں مرد کو کھلی آزادی ہے کے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا بےجا استمعال بھی ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا سبب ہے، جیسے کے ٹویٹر ،فیس بک ، انسٹا گرام اور خاص کر ٹک ٹاک جہاں سے برائی جنم لے رہی ہے، جہاں آپ کو انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے انتہا بیہودگی ملے گی۔ اور اسکو روکنے والا بھی کوئی نہیں اگر کوئی ایسی کوشش کرے محض دو دن کے لیے ٹک ٹاک بین کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد پھر وہ بیہودگی ہمارے سروں پر ناچتی ہے۔
    ایک اور بڑی وجہ جو کی آزادی مارچ جیسی تحریک ہے جو کے ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی بدترین وجہ ہے جس میں عورت کی آزادی کے نام پر اسکو بےحیائی کی شہ دی جا رہی ہے۔

    بحثیت مسلمان ہمیں چاہیے کے ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور بےحیائی جیسے فتنے سے دور رہیں اور اس کی خلاف آواز اٹھاتے رہیں کیوں کے ایک محفوظ معاشرہ ہی ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کی ضرورت ہے

    @MudasirWrittes

  • یوٹیلٹی سٹور مافیا

    یوٹیلٹی سٹور مافیا


    ویسے تو پورے پاکستان میں یوٹیلٹی سٹور مافیا نے یوٹیلٹی سٹورز پر قبضہ کیا ھوا ھے اور پنجاب میں بھی یہ قبضہ مافیا پیچھے نہیں ھے جس شہر یا یونین کونسل میں چلے جاو آپ کو چینی گھی اور آٹا نہیں ملے گا اگر غلطی سے کسی سٹور پر یہ چیزیں موجود ھوں بھی تو سٹور والے کہتے ہیں پہلے دوسرے ایٹمز لے لیں ایک ہزار کی خریداری کریں اس کے بعد آپ کو ھم یہ چینی وغیرہ بھی دے دیں گے اگر کسی کو صرف آٹا کی ضرورت ھے یا اگر اس مزدور کے پاس صرف ایک آٹا کے پیسے ہیں تو وہ بھلا دوسری چیزیں کیسے خریدے گا جب اسے یوٹیلٹی سٹور سے یہ چیزیں نہیں ملیں گیں تو پھر یقینا وہ کسی پرییویٹ دکاندار سے آٹا خریدے گا جو یوٹیلٹی سٹور سے کافی مہنگا ھوتا ھے.
    میری آنکھوں دیکھا حال ضلع بھکر کی یونین کونسل بہل میں اگر آپ کسی بھی سٹور پر چلیں جاییں بیشک ایک ہفتہ لگاتار جاتے رہیں اور چینی گھی کا پوچھیں
    تو سٹور والے کہیں گے ایک ماہ سے گھی چینی پیچھے سے آ بھی نہیں رھی اگر آپ اس وقت پہنچ جاییں جب اس یوٹیلٹی سٹور کی گاڑی آیی ھو تو کہتے ہیں ابھی ھم لوگوں نے گنتی کرنی ھے صبح آجاییں کیونکہ ان کی گاڑی ہمیشہ عصر کے وقت یوٹیلٹی سٹور کا سامان لاتی ھے جب آپ صبح جاوگے تو کہیں گے وہ گھی چینی تو ختم ھوگیی ہے کچھ اور چاھیے تو لے جاییں کیونکہ گھی اور چینی یہ راتوں رات بلیک میں بیچ دیتے ہیں
    یونین کونسل بہل کے کچھ نیے نویلے سیاسی لوگ اور کچھ بلیک میلر مل کر یہ دھندہ کر رھے ہیں میرے پاس ثبوت بھی ہیں اور گواہ بھی…
    لعنت ایسے لوگوں پر جو یوٹیلٹی سٹور کا راشن بھی نہیں چھوڑتے جو غریب طبقے کیلیے آتا ھے یہ لوگ بلیک میں بیچوا دیتے ہیں.
    یہ وہ گدھ ہیں جو ہمیشہ مردار کھاتی ہیں یہ لوگ بھی گدھ ھی ہیں کیونکہ سبسڈی سے آیی چیزیں جو سب کا حق ھے اور خاص طور پر مزدور اور غریب طبقے کا زیادہ حق ھے جنہیں یہ گھی چینی اور آٹا ملنا چاھیے وہ بیچارے مزدور لوگ ان حرام خور مافیا کی وجہ سے کچھ نہیں خرید سکتے بھکر میں بھٹہ مزدور بہت زیادہ ہیں کیونکہ یہاں بھٹہ کا کام بہت زیادہ ھے جب میں بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو لاین میں تین تین گھنٹے کھڑا دیکھتا ھوں تو بہت تکلیف ھوتی ھے پھر اتنی دیر لاین میں لگ کر بھی انہیں ایک کلو چینی یا آٹا کے بیس کلو کا تھیلا ملتا ھے تو سوچتا ھوں کہ کب ان حرام خوروں پر اللہ کا عذاب آے گا جو غریب کے حق پر ڈاکا مارے ھوے ہیں .
    جو بھٹے کا مزدور دو یا تین گھنٹے لاین میں کھڑے ھوکر آٹا چینی یا گھی لے گا تو اس بیچارہ کا کتنا وقت برباد ھوگا اور اس بیچارے کا کتنا نقصان ہوگا لیکن ان حرام خوروں کو نہ شرم و حیا ھے
    اور
    نہ ھی خوف خدا…
    ھماری حکومت سے درخواست ھے کہ تمام یوٹیلٹی سٹورز میں کیمرے لگاییں تاکہ اس مافیا سے جان چھڑایی جاسکے اور جو حکومت کی طرف سے کم نرخوں پر چیزیں دستیاب ہیں وہ غریب تک بھی پہنچ سکیں.

    ان یوٹیلٹی سٹورز پر کام کرنےوالے دوستوں کوبھی سوچنا چاھیے کہ جب تم لوگوں کی دس سال سے تنخواہیں بند تھیں یوٹیلٹی سٹورز خسارے میں تھے تو اس حکومت نے تمہیں تنخواہیں دیں تمھارے سٹوروں پر ایٹم پورے کیے اور اب تم لوگوں نے حرام کھانا شروع کردیا ھے جب کویی مزدور یا گاہک آپ سے خریداری کرنے آتا ھے اور اس کو اس کی مرضی کی چیزیں نہیں ملیں گیں تو تمھارے سٹور بھی ایک دن بند ھوجاییں گے
    کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ھے
    خدارا ابھی بھی وقت ھے ان بلیک میلروں سے بچو خود بھی حلال کھاو اور اپنی اولاد کو بھی حلال کھلاو

    @KHANKASPAHI1

  • آزادی کی قدر کریں  تحریر: تماضر خنساء

    آزادی کی قدر کریں تحریر: تماضر خنساء

    یہ وطن ____یہ پاک سر زمین ! جہاں آج ہم آزاد
    فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، جہاں مسلمان ہو یا کوئ عیسائ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتا ہے، کوئ زبردستی نہیں ہے، کوئ خوف نہیں ہے، یہ وطن کس قدر قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا، کس قدر جانوں کا تاوان وصول کیا اس مٹی نے ہم سوچ بھی نہیں سکتے!
    جی ہاں آج ہم ان آزاد فضاؤں میں سانس تو لیتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کیلیے اپنا سب کچھ قربان کردیا، اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالا، اپنے خاندان قربان کردیے، اپنا چین و سکون چھوڑدیا بس اس آزاد مٹی کی خاطر! جہاں اُنکی آنے والی نسلیں آزاد ہوں، جہاں اسلام کا نام لینے والے کلمہ پڑھنے والے آزادی سے اپنے رب کے حکم بجالاسکیں، جہاں امن و آشتی کا دور دورہ ہو، جہاں انصاف کا ترازو سب کو برابر تولتا ہو، جہاں حاکم عادل ہو_______
    مگر ان عظیم لوگوں کی آنے والی نسلیں یعنی کہ ہم! ہم تو اس سرزمین کی اہمیت ہی نہیں سمجھتے اور یوں آزادی کی اس دولت کو گنواتے جارہے ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں ہے _____ہم بھول گئے کہ یہ وطن یونہی نہیں حاصل ہوا، بلکہ اسکو حاصل کرنے کیلیے خون کے نذرانے پیش کیے گئے تب کہیں جاکر آج ہمیں یہ آزاد وطن ملا، ہم بھول گئے قائد کے نصب العین کو، ہم بھول گئےاِن قربانیوں کو، ہم نے سب کچھ فراموش کردیا______آج اس وطن میں برائ کی جڑیں بنانے والے ہم خود ہوگئے، آج ہم نے اپنے وطن کی جڑیں خود ہی کھوکھلی کرنا شروع کردیں، جس وطن نے ہمیں نام دیا، مقام دیا، ہمیں عزت دی، آج اسی وطن کو ہم نے غیروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے ______
    یہ وطن جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا، جس سے کفار پہ لرزہ طاری ہوگیا کہ آج اس زمین پہ ایسی مملکت وجود میں آچکی ہے جسکی بنیاد ہی” لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ” ہے،ہم نے اسکی بنیاد کو ہی پروان نہیں چڑھنے دیا ____ اپنے وطن کے ساتھ دشمن سے بھی بڑھ کر برا سلوک کیا، پہلے اسکا ایک بازو الگ کردیا گیا تب بھی ہمیں ہوش نہ آیا اب بھی ہم مدہوش ہیں_______
    ذرا سوچیے یہ آزاد سرزمین نہ ہوتی تو آج کشمیر کی طرح کا حال ہوتا ہمارا، ہماری جانیں محفوظ نہ ہوتیں، ہماری ماؤں بہنوں کی عصمتیں دن کے اجالے میں بھی تار تار ہوتیں ، جہاں سانس لینا ایک کلمہ گو کیلیے حرام کردیا جاتا، ہر وقت کا کرفیو ہر وقت کا خوف ہمارے سروں پر مسلط رہتا ___ایک آزاد ملک میں رہنے کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ہم اب آزاد نہیں رہے تو اٹھیے اور فلسطین جائیے اور جاکر دیکھیے کہ غلامی کیا ہوتی ہے آزادی کیا ہوتی!
    ہم بھول گئے کہ ہم آزاد ہیں، بے بسی کی خود ساختہ بیڑیاں پہن کر اپنے ذہنوں کے غلام بنادیے گئے ہیں کہ آزاد ہو کر بھی ہم مجبور ہیں ____
    ہم نے اپنی ہی فوج کے خلاف سوشل میڈیا پہ محاذ کھول لیے بجائے اس کے کہ ہم انکے پیچھے کھڑے ہوتے ہم نے انہی پہ نقب لگانا شروع کردی_____ اس وطن کی زمام کار ایسے ہاتھوں میں ہم نے بار بار سونپی جن ہاتھوں نے اسے بڑھ چڑھ کر لوٹا، اس کی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع کردیں کیونکہ ہم خود بھی تو اسی رستے پر گامزن ہیں _____ہمیں تو یہ بنا بنایا وطن جو مل گیا مفت میں بیٹھے بٹھائے، قربانیاں تو اُن لوگوں نے دیں جو گزر گئے______
    وہ کہتے ہیں نا کہ جو چیز آسانی سے مل جائے یا مفت میں ملے تو اسکی قدر کہاں رہتی ہے؟
    یہی ہماری بھی کہانی ہے ہمیں بھی آزادی کی قدر نہیں ہے، اس پاک سرزمین کی قدر نہیں ہے،اور جس چیز کی بے قدری کی جاتی ہے تو پھر وہ چھین لی جاتی ہے! ______
    ہوش میں آئیں اس سے پہلے کہ ہم آزاد نہ رہیں، قدر کریں اس، وطن کی، اُن قربانیوں کی جن کی وجہ سے آج یہ آزادی جیسی نعمت ہمیں ملی ہے وگرنہ کل کو یہ آزادی، یہ آزاد سرزمین نہ رہی تو سوچ لیجیے کہ ہمارا حال کیا ہوگا ____ہمارا حال تو فلسطینیوں سے بھی برا ہوگا ،ہمارا حال کشمیر سے کچھ زیادہ مختلف نہ ہوگا اس لیے قدر کیجیے اس مٹی کی اور کوشش کیجیے کہ جہاں تک ہوسکے اس وطن کو اور اسکی ساکھ کو فائدہ پہنچے ______ آزادی کا یہ دن ہر سال ہمیں یہی تو یاددلاتا ہے کہ ہمارا مقصد زندگی کیا ہے صرف” لا الہ الا اللہ "ہے اور یہی ہماری اور اس وطن کی کامیابی کی ضمانت ہے _________
    پاکستان کا مطلب کیا
    "لاالہ الا اللہ ”

    @timazer_K

  • نيوزي لينڈ 18 سال بعد پاکستان آئے گي تحریر:انيلا سلطان

    نيوزي لينڈ 18 سال بعد پاکستان آئے گي تحریر:انيلا سلطان

    پاکستان کرکٹ بورڈ ( پي سي بي ) کي کوششيں رنگ لے آئي۔ ويسٹ انڈيز، بنگلاديش اور سري لنکا کے بعد کرکٹ نيوزي لينڈ نے پاکستان ميں کھيلنے پر رضا مندي ظاہر کردي۔ جس کے بعد پي سي بي نے دورے کے شيڈول کا اعلان کرديا۔ نيوزي لينڈ کرکٹ ٹيم اگلے ماہ 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گي۔ جس ميں تين ون ڈے ميچز اور پانچ ٹي ٹوئنٹي ميچز کھيلے جائيں گے۔

    پاکستان اور نيوزي لينڈ کے درميان وائٹ بال سيريز کي ميزباني لاہور اور راولپنڈي کريں گے۔ ون ڈے سيريز پنڈي کرکٹ اسٹيڈيم اور ٹي ٹوئنٹي سيريز قذافي اسٹيڈيم لاہور ميں کھيلي جائے گي۔ پي سي بي نے رواں سال ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے دو ٹي ٹوئنٹي ميچز کا اضافہ کيا ہے۔ ون ڈے ميچز 17، 19 اور 21 ستمبر کو پنڈي ميں شيڈول ہے۔ ٹي ٹوئنٹي سيريز 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک لاہور ميں ہوگي۔ آئي پي ايل کے باعث نيوزي لينڈ کے اہم کھلاڑي پاکستان کے خلاف سيريز کا حصہ نہيں ہوں گے۔ کين وليمسن، ٹرينٹ بولٹ اور کائل جميسن سميت کئي اہم کھلاڑي سيريز کھيلنے نہيں آئيں گے۔ ياد رہے کورونا کي وجہ سے ملتوي ہونے والي انڈين پريميئر ليگ کے بقيہ ميچز کا آغاز 19 ستمبر سے متحدہ عرب امارات ميں ہوگا۔ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ يو اے اي ميں ہے جس وجہ سے نيوزي لينڈ کے زيادہ تر کھلاڑي پاکستان سے کھيلنے کے بجائے آئي پي ايل کو ترجيح دے رہے ہيں۔

    نيوزي لينڈ نے آخري بار 2003 ميں پاکستان کا دورہ کيا تھا جب قومي ٹيم نے نيوزي لينڈ کو پانچ ون ڈے ميچوں کي سيريز ميں وائٹ واش کيا تھا۔ اس سيريز ميں پاکستان کے اوپنر ياسر حميد اور عمران فرحت نے رنز کے انبار لگائے تھے بولنگ ميں شعيب اختر اور محمد سميع بہترين بولر قرار پائے تھے

    نيوزي لينڈ کے بعد اکتوبر ميں انگلينڈ کي ٹيم 16 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گي۔ جہاں ٹي ٹوئنٹي ميچز کھيلے جائيں گے۔ ورلڈ کپ سے قبل يہ سيريز دونوں ٹيموں کو ميگا ايونٹ کي تياريوں کو حتمي شکل دينے ميں موثر ثابت ہوگي۔ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ کے اختتام پر پاکستان نے ويسٹ انڈيز کي ميزباني کرني ہے۔ جس کے بعد پي ايس ايل کا ساتواں ايڈيشن ہوگا۔ پاکستان سپر ليگ کے بعد پي سي بي فروري مارچ 2022 ميں آسٹريليا کي ميزباني کرے گا۔ آسٹريليا نے آخري بار 1998 ميں پاکستان کا دورہ کيا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس مصروف شيڈول سے اندازہ لگايا جاسکتا ہے کہ پاکستان ميں انٹرنيشنل کرکٹ بحال ہونہيں رہي ”بحال” ہوچکي ہے۔

  • بھیڑیا  جنگل کا بادشاہ یا شیر !  تحریر: ناصرہ فیصل

    بھیڑیا جنگل کا بادشاہ یا شیر ! تحریر: ناصرہ فیصل

    ہمارے یہاں شیر کو بہادری کے علامت سمجھا جاتا ہے اور اسکو جنگل کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے لیکن بھیڑیے کے بارے میں بہت سی ایسی معلومات ہیں جن سے ہم میں سے اکثر لوگ بلکل ناواقف ہیں اور ان خصوصیات کو جاننے کے بعد یہ فیصلہ پڑھنے والے پر چھوڑتی ہوں کہ کیا واقعی شیر اس منصب کا حقدار ہے یا بھیڑیا!
    ہم سب نے بہت شوق سے ڈراما سیریل ارطغرل دیکھا اور اس میں ایک حیران کن بات یہ دیکھی کہ جب کبھی کسی کی بہادری کی مثال دی جاتی تھی تو اسکو بھیڑیے سے تشبیہ دی جاتی ۔۔جب کہ ہمارے یہاں تو کسی کو بہادر کہنا ہو تو اسکو شیر کے نام سے بلایا جاتا ہے۔ جس طرح ہمارا قومی جانور مارخور ہے اسی طرح تُرک کا قومی جانور بھیڑیا ہے۔ اور بھیڑیوں سے متعلق جو معلومات ملی ہیں اور انکی جو خصوصیات پتہ چلی ہیں اس کے بعد آئیڈیا ہوتا ہے کے ترک انکو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ تُرک اپنے بچوں کو شیر کے بجائے بھیڑیا بولتے ہیں کیوں کہ انکے نزدیک شیر جیسا خونخوار ہونے سے بہت اچھا ہے کے بھیڑیے کی طرح غیرت مند اور نسلی بنا جائے۔

    ویکیپیڈیا کے مطابق ” بھیڑیا ایک ایسا جانور ہے جو اپنی آزادی سے بہت پیار کرتا ہے اور کسی صورت اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ بھیڑیا وہ واحد جانور ہے جسکو سدھایا نہیں جا سکتا یعنی اس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا باقی سب جانوروں بشمول شیر کے ، غلام بنایا جا سکتا ہے۔ بھیڑیا غضب کی تیز نگاہ رکھتا ہے اور اتنا پھرتیلا ہوتا ہے کے کسی جن کو بھی سامنے دیکھ کر اس پر چھلانگ مار کر اسکو ختم کر سکتا ہے۔

    بھیڑئے کی بہترین خصوصیات میں والدین سے حسن سلوک، اسکی بہادری ، وفاداری اور خودداری شامل ہیں۔ جو کہ اسکا طرہ امتیاز ہیں۔
    بھیڑیے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ مردہ جانور نہیں کھاتا جو کہ جنگل کے بادشاہ کی خصوصیات میں شامل ہے۔ بھیڑیا اپنی محرم مؤنث پر غلط نگاہ نہیں رکھتا یعنی وہ باقی تمام جانوروں کے برعکس اپنی ماں اور بہن کو شہوت کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ وہ ہمیشہ اپنی بیوی کا وفادار رہتا ہے اور ادھر اُدھر مونہہ نہیں مارتا۔ اسی طرح اسکی مادہ بھی ہمیشہ اسکی وفادار رہتی ہے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی مر جائے تو دوسرا اسکے مرنے والی جگہ پر کم از کم تین ماہ تک کھڑا رہ کر افسوس اور ماتم کرتا ہے۔۔ بھیڑیے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں کیوں کہ وہ ایک ہی ماں باپ سے ہوتے ہیں۔

    عربی میں بھیڑیے کو "ابن البار” یعنی نیک بیٹا کہتے ہیں۔۔ کیونکہ اسکے والدین جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو یہ انکا خیال رکھتا ہے انکے لیے شکار کر کے لاتا ہے۔ ایسی خاصیت اور کسی جانور میں نہیں۔بھیڑئے جب ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں تو ایک خاص طریقے سے انکا کارواں چلتا ہے جو کے اسکی دفاعی صلاحیتوں کے متعلق بھی کافی معلومات فراہم کرتا ہے۔ کارواں کچھ اس طریقے سے چلتا ہے۔۔
    سب سے آگے بہت بوڑھے اور بیمار بھیڑیے چلتےہیں۔ اُن کے بعد پانچ ایسے بھیڑیے ہوتے ہیں جو بلکل طاقتور اور مستند ہوتے ہیں وہ ان بیمار بھیڑیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ انکو ہر قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں۔
    انکے بعد بہت چاق وچوبند، ہوشیار اور دفاع میں ماہر بھیڑیے ہوتے ہیں جو کہ کسی حملے کی صورت میں فوراً کارواں کا دفاع کر سکتے ہیں۔
    درمیان میں سارے عام سے بھیڑیے ہوتے ہیں اور آخر میں ان سب کا قائد ہوتا ہے جو یہ نگرانی کرتا ہے کہ سب اپنے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہے ہیں کہ نہیں۔ عربی میں اس سربراہ کو الف کہتے ہیں یعنی جو سب سے الگ ہو اور اکیلا ہزار کے برابر ہوتا ہو۔
    اس سربراہ کے لیے وہ اپنے میں سے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں جس میں ہمارے لیے بھی ایک خاص سبق موجود ہے۔ان سب خصوصیات کی بنا پر تُرک بھیڑیے کا اتنا احترام کرتے ہیں اور اسکو اپنا قومی جانور بنا رکھا ہے۔
    بھیڑئے مختلف اقسام کی آوازیں نکال سکتے ہیں جن میں گرانٹ, چیخنا، بھونکنا، سیٹی بجانا، اسکریچنگ اور سرگوشی شامل ہیں۔
    یہ زبردست شکاری ہوتے ہیں۔ یہ پیک کی صورت میں رہتے ہیں اور ہر پیک کا ایک سربراہ یا رہبر ہوتا ہے۔

    @NiniYmz

  • قانون ، نا انصافی ، امیر اور غریب   تحریر : نواب فیصل اعوان

    قانون ، نا انصافی ، امیر اور غریب تحریر : نواب فیصل اعوان

    پاکستان میں امیر طبقہ قانون سے بالاتر ہے ۔
    قانون کو قانون سمجھنا تو دور کی بات کچھ طبقہ قانون کو جیب میں رکھے پیسے سے تشبیح دیتا ہے مطلب کہ قانون ان کے نزدیک صرف پیسہ ہی ہے جیسا چاہے وہ ظلم و بر بریت کی تاریخیں رقم کر لیں مگر قانون میں ترمیم ان کی جیب میں پڑا پیسہ کرا دیتا ہے ۔
    معاشرے میں اس وقت ہو رہے ظلم و جبر کے واقعات میں اس ملک کے رٶسا امرا اور بااثر افراد زیادہ ملوث ہیں ۔
    ایک امیر ، جاگیردار ، خان یا وڈیرہ جرم کر کے تھانے جا سکتے ہیں مگر قانون ان کو کچھ نہیں کہے گا بلکہ ان کے مخالف پہ چڑھاٸ کردینگے متعدد کیس بنا دینگے مختلف دفعات لگا دینگے اور شام کو روزی روٹی کر کے آنے والے تازہ مزدوری والے شخص پہ عذاب ٹوٹ پڑے گا بے چارہ گھر بھوکے بیٹھے اہل و عیال کیلۓ روٹی لے کے جانے والا راستے میں سے اٹھا کے تھانے بند کر دیا جاۓ گا ۔
    جاگیرداروں ، وڈیروں کے ٹاٶٹ رات کو کھلے سانڈھ کی طرح چھوٹیں گے اور اس غریب کے گھر جا گھسیں گے اور وہ بدترین تشدد کا نشانہ بناٸیں گے کہ روح لرزا دینے والے مناظر دیکھنے کو ملیں گے ۔
    غریب جاٸینگے تھانے انصاف کے حصول کیلۓ مگر آگے نہ سنی جاٸیگی ۔
    زخمی جب ہسپتال جاٸینگے تو آگے ڈاکٹر صاحبان کو سردار صاحبان و جاگیرداران کے فون موصول ہو چکے ہونگے وہ معمولی زخموں کی رپورٹ بنا دینگے ۔
    حالانکہ شدید زخمی ہونگے وہ پر نہیں ڈاکٹرز معمولی خراشیں ظاہر کر کے ڈسچارج کر دینگے ۔
    اگر کوٸ غریب عدالت کا دروازہ جا کھٹکاۓ تو بھی جواب کچھ مختلف نہیں ہوگا پہلے پہل بھاری فیس کی مانگ ، ہسپتال سے جاری کردہ رپورٹ اور تھانے دی گٸ درخواست یا مقدمے کی کاپیاں دینی ہونگی ۔
    بات یہاں یہ قابل غور ہے کہ ایک غریب جس کو تھانے سے ہی بھگا دیا جاۓ جس کی شدید چوٹوں کو معمولی چوٹیں ڈیکلیٸر کر دیا جاۓ وہ بے چارہ عدالت کیا موقف رکھے گا ۔
    اس کا موقف بھی ثبوتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کمزور اور وہ تو پہلے ہی کمزور یوں ایک امیر ، جاگیردار یا وڈیرہ اپنے پیسے سے قانون کو غریب کے خلاف کر دیتا ہے ۔
    الغرض کہ پاکستان میں اگر عدم توجہ یا عدم انصاف غریب کیلۓ اور توجہ یا انصاف امیر کیلۓ متعین کردہ ہے ۔
    یہ ملک ڈنڈے والوں کا ہے غریب یہاں یا تو پس جاتے ہیں یا انصاف کے حصول کیلۓ تگ و دو میں مارے جاتے ہیں ۔
    ملک میں امیر ہی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں باقی غریب جیسے اس ملک کی شودر قوم ہوں ۔
    انصاف کے حصول کو عام کرنے کیلۓ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے پولیس محکمے میں اصلاحات کرے ۔
    چٹی دلالوں اور کرپٹ افسروں کو فوری معطل کر کے ان کی جگہ نوجوانوں کو بھرتی کرے ۔
    ہسپتالوں کو ٹھیک کرے جہاں من پسند لوگوں کو من پسند رپورٹیں بنا کر دی جاتیں ہیں ڈاکٹروں کو لگام ڈالے جو سیاسی یا بااثر لوگوں کے
    جج صاحبان انصاف پہ مبنی فیصلے کریں ۔
    امیر اور غریب کیلۓ قانون برابر ہوں ۔
    امیر و غریب کو مساوی حقوق حاصل ہوں ۔
    ایک افسر غریب کے سامنے جوابدہ ہو ۔
    تمام تھانوں کو کسی کے دباٶ میں نہ آنے کی ہدایات دی جاٸیں تاکہ منصفانہ طریقے سے تحقیقات کا آغاز ہو اور غریبوں کو بھی امیروں کی طرح
    انصاف انصاف اور انصاف ملے ۔