Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تین فطری قوانین  تحریر:فرقان اسلم

    تین فطری قوانین تحریر:فرقان اسلم

    ہم نے اکثر یہ جملہ سنا ہے کہ "فطرت کبھی نہیں بدلتی” یہ جملہ ایک حقیقت ہے۔ اس جملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی انسان کی فطرت نہیں بدلتی دوسرا یہ کہ فطرت خود اپنے آپ کو نہیں بدلتی مطلب اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔ ایسے بہت سے فطرت کے قوانین ہیں جو کبھی نہیں بدلتے بلکہ موقع ملتے ہی نافذالعمل ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیں جو فطرت کے مطابق چلتے ہیں تو فطرت بھی ان کو آسانیاں فراہم کرتی ہے۔ اور جو اس کے مطابق نہیں چلتے پھر فطرت ان سے انتقام لیتی ہے۔ آج میں فطرت کے تین ایسے قوانین کا ذکر کروں گا جو کڑوے ضرور ہیں مگر ایک اٹل حقیقت ہیں۔

    پہلا قانون فطرت:
    اگر ہم کسی کھیت میں دانہ نہ ڈالیں تو قدرت اسے "گھاس پھوس” سے بھر دیتی ہے.
    بالکل اسی طرح اگر ”دماغ” کو اچھی سوچوں سے نہ بھرا جائے تو کج فکری اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف الٹے سیدھے خیالات آتے رہتے ہیں اور وہ شیطان کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ پھر اس سے بچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
    اس لیے ہمیشہ اچھی اور مثبت سوچوں کو ہی دماغ میں جگہ دی جائے اور فضول خیالات سے بچا جائے۔ کیونکہ فضول سوچوں سے شیطان حملہ آور ہوجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اچھی سوچوں سے ہی اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ جتنا آپ برا سوچیں گے اتنا ہی پریشان اور مصیبت میں مبتلا ہوں گے لٰہذا اچھا سوچیں اور خوشحال زندگی گزاریں۔

    دوسرا قانون فطرت:
    جس شخص کے پاس "جو کچھ” ہوتا ہے وہ "وہی کچھ” بانٹتا ہے۔
    * خوش مزاج انسان خوشیاں بانٹتا ہے۔
    * غمزدہ انسان غم بانٹتا ہے۔
    * ایک عالم علم بانٹتا ہے۔
    * دیندار انسان دین بانٹتا ہے۔
    * خوف زدہ انسان خوف بانٹتا ہے۔
    * محبت کرنے والا انسان محبت بانٹتا ہے۔
    * نفرت کرنے والا انسان نفرت بانٹتا ہے۔
    * دانا انسان دانائی بانٹتا ہے۔
    غرضیکہ جس کے پاس جو کچھ ہوگا وہ وہی بانٹے گا کیونکہ اس کے پاس دینے کے لیے وہی کچھ ہوگا۔ اس لیے ہمیں چاہیئے کہ اچھا بننے کی کوشش کریں اور ہمیشہ اچھائی بانٹیں۔ اپنی بری عادتوں کو چھوڑنے کی کوشش کریں جنتا ہوسکے دوسروں کا بھلا کریں۔ ہمارا کردار ہی ہماری پہچان ہوتا ہے۔

    تیسرا قانون فطرت:
    آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم” کرنا سیکھیں اسی میں ہماری بھلائی ہے کیونکہ اگر۔۔۔
    * کھانا ہضم نہ ہو تو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
    * مال و ثروت ہضم نہ ہو تو ریاکاری بڑھتی ہے۔
    * بات ہضم نہ ہو تو چغلی اور غیبت بڑھتی ہے۔
    * تعریف ہضم نہ ہو تو غرور میں اضافہ ہوتا ہے۔
    * مذمت ہضم نہ ہو تو دشمنی بڑھتی ہے۔
    * غم ہضم نہ ہو تو مایوسی بڑھتی ہے۔

    پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر
    غم کے سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

    اس لیے ہمیں چاہیئے کہ ہم حقیقت کا کھلے دل سے سامنا کریں بعض لوگ حقیقت سے انکار کرتے نظر آتے ہیں جبکہ حقیقت کو تسلیم کرنا ہی دانائی ہے۔ جس حال میں بھی ہوں اللّٰہ کا شکر ادا کریں۔ بعض لوگ ہمیشہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے حالات ایسے کیوں ہیں۔ کیا ساری مصیبتیں اور پریشانیاں ہماری قسمت میں ہی لکھی ہوئی ہیں۔ جس طرح کے حالات ہوں ان کے مطابق چلنا سیکھیں۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم ہے

    مولانا رومی صاحب کا قول ہے کہ "پرسکون وہ ہے جسے کم یا زیادہ کہ فکر نہیں”۔ ہر حال میں شکر ادا کرنا اپنی عادت بنالیں۔ شکوہ ظلمت سے بہتر ہے کہ کوئی دیپ جلائیں۔ اپنی اور دوسروں کی زندگی کو آسان بنائیں۔ خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ جتنا ملے اس پر راضی ہوجائیں۔ اپنے عمل سے لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ حقیقی فاتح وہی ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنا جانتا ہے۔ جو شخص قدرت پر راضی ہوجائے پھر قدرت بھی اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور آسانیاں پیدا فرمائے۔۔۔آمین

    @Rumi_PK

  • زندگی کیا ہے تحریر: عرفان اللہ

    زندگی کیا ہے تحریر: عرفان اللہ


    شاید ابھی تک کسی دانشور یا لیکھاری نے زندگی کی معنی کے بارے کچھ ایسا لیکھا ہو جو ھمارے پلے پڑ جائے، یا زندگی کی ایسی تعریف کی ھو جو سمجھنے میں اور دوسرں کو سمجھانے  میں آسان ہو لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جو زندہ ہے سانس لیتا ہے اسکے پاس زندگی ہے اور جو سانس نہیں لے سکتا اس کے پاس زندگی نہیں ہے۔ میرے حیال میں زندگی ایک کیفیت ہے جو انسان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی کے ساتھ اچھائی کرنے خوشی ملے گی اور کسی ساتھ برائی کرنے پر درد اور بے چینی محسوس ہوگی۔
    یا یو کہئے کہ زندگی ایک ایسی احساس ہے کہ محبت دینے یا ملنے پر انسان کو سکون ملتی ہے اور نفرت دینے یا ملنے پر انسان کو تکلیف دیتی ہے۔
    خیر آئیں چلتے ہیں اس سوال کی طرف کے "زندگی کیا ہے”
    "زندگی” یوں تو پانچ حروف ہے جو لکھنے اور پڑھنے میں بےحد اسان ہے لیکن اسکی مفہوم و مضمون انتہائی پیچیدہ ہے۔زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ زندگی سانس لینے کا نام ہے۔ جیساکہ میں نے بیان کیا کہ زندگی ہر اس انسان کے پاس ہے جو زندہ ہو، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کی معنی، مفہوم اور مضمون کچھ اور ہے، کچھ پیچیدہ اور نہ سمجھنے کی نزدیک ہے۔زندگی مشکل راہو پر سفر مسلسل کا نام ہے جو انسان کو ایک تکمیل تک اور منزل تک لے جاتی ہے۔زندگی کچھ کر گزرنے کا نام ہے جس میں انسان کے ساتھ پیش ہونے والے اچھے اور برے لمحات ہے۔زندگی جہد مسلسل کا نام ہے جو انسان اپنی کامیابی یا منزل مقصود کیلئے کرتا ہے۔زندگی سکھ دکھ کا نام ہے کیونکہ اگر انسان کے ساتھ پیسہ زیادہ ہوجائے تو موج مستی اور خواہشات کی دریا میں ڈوب جاتا ہے لیکن اچانک کسی خونی رشتہ دار کی موت کا سن کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔زندگی میں جہاں کانٹے ھیں وہاں پھول بھی ہے شادی بیاہ اور دوستوں کی محفل خوشی دیتا ہے اور کسی موت یا برے حالات صدمہ پہنچاتی ہے۔زندگی تلخ بھی ہے شرین بھی ہے جب انسان بڑے حالات سے گزر رہا ہو تو تلح آگر اچھے حالات سے گزر رہا ہو تو شرین ۔زندگی وصل بھی ہے ہجر بھی ہے، جب ماں کی پیار ملے تو وصل جب اس ممتا سے دوری ہو تو ہجر ۔زندگی ساز ہے سُر اور سرور ہے، جب تک ان سب کا ساتھ ہو جس کا ساتھ اپکو چاہیے ہوتا ہے ۔زندگی عم بھی ہے خوشی بھی ہے، جب انسان پر اللہ تعالی کی نعمتوں کا بھرمار ہو تو خوشی اور جب اسکا اسقاط ہو تو غم۔زندگی جیو اور جینے دو کا نام ہے، مطلب خود بھی معاشرے میں بے ضرر بن جانا اور دوسرے کو بھی ضرر سے محفوظ رکھنا۔خود بھی انسانیت کے دائرے میں رہنا اور دوسروں کے ساتھ بھی ایسی ماحول میں گزر بسر کرنا۔زندگی حسن اخلاق کا نام ہے یعنی سب کیلئے اپنے اپکو ایک مکمل مسلمان بنانا ۔اور سب سے بڑھ کر زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو جاننے اور اس پر پورا اترنے کا نام ہے۔ شاید یہی زندگی کی محتصر تعریف، معنی اور مفہوم ہے کہ انسانوں سے محبت کیا جائے اور اللہ تعالی کے دئے ہوئے نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

    "عرفان اللہ”‎@Muna_Pt‏”زندگی کیا ہے”
    شاید ابھی تک کسی دانشور یا لیکھاری نے زندگی کی معنی کے بارے کچھ ایسا لیکھا ہو جو ھمارے پلے پڑ جائے، یا زندگی کی ایسی تعریف کی ھو جو سمجھنے میں اور دوسرں کو سمجھانے  میں آسان ہو لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جو زندہ ہے سانس لیتا ہے اسکے پاس زندگی ہے اور جو سانس نہیں لے سکتا اس کے پاس زندگی نہیں ہے۔ میرے حیال میں زندگی ایک کیفیت ہے جو انسان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی کے ساتھ اچھائی کرنے خوشی ملے گی اور کسی ساتھ برائی کرنے پر درد اور بے چینی محسوس ہوگی۔
    یا یو کہئے کہ زندگی ایک ایسی احساس ہے کہ محبت دینے یا ملنے پر انسان کو سکون ملتی ہے اور نفرت دینے یا ملنے پر انسان کو تکلیف دیتی ہے۔
    خیر آئیں چلتے ہیں اس سوال کی طرف کے "زندگی کیا ہے”
    "زندگی” یوں تو پانچ حروف ہے جو لکھنے اور پڑھنے میں بےحد اسان ہے لیکن اسکی مفہوم و مضمون انتہائی پیچیدہ ہے۔زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ زندگی سانس لینے کا نام ہے۔ جیساکہ میں نے بیان کیا کہ زندگی ہر اس انسان کے پاس ہے جو زندہ ہو، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کی معنی، مفہوم اور مضمون کچھ اور ہے، کچھ پیچیدہ اور نہ سمجھنے کی نزدیک ہے۔زندگی مشکل راہو پر سفر مسلسل کا نام ہے جو انسان کو ایک تکمیل تک اور منزل تک لے جاتی ہے۔زندگی کچھ کر گزرنے کا نام ہے جس میں انسان کے ساتھ پیش ہونے والے اچھے اور برے لمحات ہے۔زندگی جہد مسلسل کا نام ہے جو انسان اپنی کامیابی یا منزل مقصود کیلئے کرتا ہے۔زندگی سکھ دکھ کا نام ہے کیونکہ اگر انسان کے ساتھ پیسہ زیادہ ہوجائے تو موج مستی اور خواہشات کی دریا میں ڈوب جاتا ہے لیکن اچانک کسی خونی رشتہ دار کی موت کا سن کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔زندگی میں جہاں کانٹے ھیں وہاں پھول بھی ہے شادی بیاہ اور دوستوں کی محفل خوشی دیتا ہے اور کسی موت یا برے حالات صدمہ پہنچاتی ہے۔زندگی تلخ بھی ہے شرین بھی ہے جب انسان بڑے حالات سے گزر رہا ہو تو تلح آگر اچھے حالات سے گزر رہا ہو تو شرین ۔زندگی وصل بھی ہے ہجر بھی ہے، جب ماں کی پیار ملے تو وصل جب اس ممتا سے دوری ہو تو ہجر ۔زندگی ساز ہے سُر اور سرور ہے، جب تک ان سب کا ساتھ ہو جس کا ساتھ اپکو چاہیے ہوتا ہے ۔زندگی عم بھی ہے خوشی بھی ہے، جب انسان پر اللہ تعالی کی نعمتوں کا بھرمار ہو تو خوشی اور جب اسکا اسقاط ہو تو غم۔زندگی جیو اور جینے دو کا نام ہے، مطلب خود بھی معاشرے میں بے ضرر بن جانا اور دوسرے کو بھی ضرر سے محفوظ رکھنا۔خود بھی انسانیت کے دائرے میں رہنا اور دوسروں کے ساتھ بھی ایسی ماحول میں گزر بسر کرنا۔زندگی حسن اخلاق کا نام ہے یعنی سب کیلئے اپنے اپکو ایک مکمل مسلمان بنانا ۔اور سب سے بڑھ کر زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو جاننے اور اس پر پورا اترنے کا نام ہے۔ شاید یہی زندگی کی محتصر تعریف، معنی اور مفہوم ہے کہ انسانوں سے محبت کیا جائے اور اللہ تعالی کے دئے ہوئے نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

    ‎@Muna_Pti :ٹویٹر

  • اقبال کا تصوراتی مرد مومن  تحریر سمیرا وکیل

    اقبال کا تصوراتی مرد مومن تحریر سمیرا وکیل

    جب میں نے اقبال کے بارے میں پڑھا تو اقبال کا تصوراتی مرد مومن میرے دل کو چھو گیا اسکو پڑھنے کے بعد مجھے بہت سی باتیں سمجھ آئی جو اس سے پہلے میرے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھی۔۔ جب ہم اسکول میں ہوتے تھے تو پڑھایا جاتا تھا کہ اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں پھر جب کالج میں آئے تو اقبال کی کئی شعر و شاعری پڑھی لیکن اسے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور نا ہی دلچسپی ظاہر کی لیکن جب مرشد عمران خان نے اپنے جلسوں میں کئے گئے خطاب کے دوران کہا کہ اجکل کا نوجوان اقبال کو پڑھے کہ وہ کتنا بڑا شاعر مشرق ہے اور اگر زندگی گزارنی ہے تو اقبال کے شاہین بن کر زندگی گزارو۔۔
    پھر میں نے اقبال کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اقبال صرف قومی شاعر ہی نہیں بلکہ علامہ اقبال ایک بڑے مفکر عظیم المرتبت شاعر تھے

    علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے امت مسلمہ کو ایک پیغام دیا اور اپنی نظموں کے ذریعہ انسانیت کی رہنمائی کی ان کی شاعری انسانی زندگی کو راہ راست پر لگانے کا ایک بہترین کارگروسیلہ ہے ۔۔

    جب بھی اقبال کی شاعری پڑھیں تو اسے سمجھنے کی کوشش ضرور کریں تاکہ اسکا اثر ہمارے دلوں میں ہو سکے

    اب ہم آتے ہیں اقبال کے تصوراتی مرد مومن کی جانب کہ اقبال کا تصوراتی مرد مومن کیا ہے؟

    اس کی اساس خالصتاً اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے

    انسان کامل یا مرد مومن کی زندگی جو آئین الٰہی کے مطابق ہوتی ہے ،فطرت کی عام زندگی میں شریک ہوتی ہے اور اشیاء حقیقت کا راز اس کی ذات پر منکشف ہو جاتا ہے پھر وہ اپنی منزل پر پہنچ کر انسان کامل کی غرض کی حدود سے نکل کر جوہر کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اس کی آنکھ خدا کی تخلیق کردہ کائنات پر اس کا کلام خدا کا کلام اور اس کی زندگی خدا کی زندگی بن جاتی ہے یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانیت اور الہیت ایک ہو جاتی ہے اور اس کا نتیجہ انسان ربانی کی پیدائش ہے۔۔

    "ہر لخطہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن ”
    "گفتار میں کردار میں اللہ ہی ہر بان ”
    "قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت ”
    ” یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان”
    "یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن”
    "قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن ”
    "جس سے جگر میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم ”
    "دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ ہے طوفان٫

    اقبال کا مرد مومن حیات و کائنات کے قوانین کا اسیر نہیں بلکہ حیات و کائنات کو اسیر کرنے والا ہے۔
    قرآن مجید نے انسانوں کو تسخیر کائنات کی تعلیم دی ہے ۔۔۔
    شاہین کا شکار پرندے ہیں لیکن انسان کا شکار انسان کو نہیں ہونا چاہیے جب میں نے پڑھا تو معلوم ہوا کہ اقبال اپنی قوم کے نوجوانوں کو اپنی صفات کا حامل دیکھنے کے خواہشمند تھے اس لیے انہیں شاہین کے بچوں کہہ کر مخاطب کرتے تھے شاہین کو اس طرح علامت بنا کر اس سے پہلے کبھی کسی شاعر نے پیش نہیں کیا تھا۔۔
    اقبال کی باتوں میں انسان کی خودمختاری کا بھی بہت بار ذکر کیا گیا ہے۔۔

    مرد مومن میں ایمان کی مضبوطی ، دینی جذبہ اور ذات الٰہی کی شکر گزاری ہوتی ہے میں اقبال کو قرآن کا شاعر کہتی ہوں یہ وہی خوبی ہے جس سے میں اقبال کی ذات سے بے حد متاثر ہوئی ۔۔
    جس نے بھی اقبال کو پڑھا سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ہر کسی کا موقف انتہائی خوبصورت تھا میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی اپنے طور پر اقبال کے بارے میں پڑھیں اور سمجھیں انشاء اللہ ضرور آپکی ازدواجی زندگی میں اور معاشرے میں اپکو ایک بہترین مسلمان،اور انسان بنے میں مدد ملے گی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے گے ۔۔

  • پاکستان کے گمبھیر مسائل اور وجوہات تحریر: زبیر احمد

    پاکستان کے گمبھیر مسائل اور وجوہات تحریر: زبیر احمد

    بچپن سے ہم میں سے اکثر کچھ جملے سنتے آرہے ہیں اور سن سن کے ہم میں سے اکثریت کو اس سے شدید چڑ ہوچکی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے پاکستان کسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ آپ نے بھی یقینی طور پہ ایسے جملے لاتعداد بار سنیں ہونگے۔ اگر ان جملوں کی گہرائی میں جایا جائے اور اعدادوشمار، منطق سے اندازہ لگایا جائے کہ 74 سال گزرنے کے باوجود پاکستان اتنے برے حالات میں کیوں ہے۔اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے غربت اور پسماندگی، ہمارے ملک میں 30 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے اس کا مطلب ہے کہ ساڑھے 6 کروڑ لوگ دن میں 300 روپے سے کم کماتے ہیں اب سوچیں اگر ایک شخص روازنہ کے 300 روپے کماتا ہے تو اس کی تنخواہ 9000 روپے بنتی ہے اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ 9000 میں گزارہ ہوسکتا یے یا نہیں۔ پاکستان میں اوسطا ایک گھر میں پانچ سے چھ افراد رہتے ہیں اور ان لوگوں کا کفیل بھی عام طور پہ ایک ہی شخص ہوتا ہے جو گھر کا سربراہ ہوتا ہے۔ اب آپ اندازہ کریں جو لوگ دیہاڑی کا 300 روپے کماتے ہیں وہ کس طریقے سے اپنا گزارہ کرتے ہوں گے کس طرح سے وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں گے ان کی خوراک کا بندوبست کریں گے ان کی پرورش کریں گے۔ پچھلے 74 سالوں میں کسی ایک حکومت نے بھی غربت ختم کرنے کا پروگرام ترتیب نہیں دیا۔ بینظیر انکم سپورٹ اور احساس جیسے پروگرامز نے ہماری قوم کو مزید سست اور بھیک مانگنے پہ مجبور کردیا۔ ایک چینی محاورے کا ترجمہ ہے کہ اگر کوئی شخص بھوکا ہے تو اس کو مچھلی نہ دیں بلکہ اس کو مچھلی پکڑنا سکھا دیں لہذا ہماری حکومت کے لئے لوگوں کو ہر ماہ امداد دینے کی بجائے ان کو پیسے دینے کے بجائے ان کے اندر ہنر مہارت پیدا کریں ان کو ووکیشنل ٹریننگ دیں تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا سا کام یا بزنس کرسکیں۔ کوئی مکینک کی دوکان کھول سکے کوئی پلمبر الیکٹریشن کا کام کرسکیں تاکہ اپنی روزی روٹی کا بندوبست خود کر سکیں۔
    ایک اور گھمبیر مسئلہ جس پہ لوگ بات نہیں کرتے وہ ہے فوڈ سیکورٹی کا ہے۔ پاکستان میں 5سال سے کم عمر 38 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، سندھ میں یہ شرح 50 فیصد تک ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے بچہ اپنی عمر کے حساب سے جسمانی اور ذہنی طور پہ نشوونما رک جاتی ہے اس وجہ سے آئندہ اپنی زندگی میں محنت کرنے کے باوجود بھی اپنی صلاحیتوں کو پہچان نہیں پاتا۔ غربت، ناخواندگی، سماجی عدم مساوات، حفظان صحت کی حالت اسکی چند بڑی وجوہات ہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے اگر حکومت نے اس پہ توجہ نہ دی تو اگلے پانچ سے دس سالوں میں لوگ کھانا نہ ملنے کی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہوں گے اور مرنا شروع ہوجائیں گے. ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کے حساب سے پاکستان کا دنیا میں 154واں رینک ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس بنیادی طور پہ کسی بھی ملک کا صحت کا نظام، تعلیم کا نظام، زندگی گزارنے کے معیار کو دیکھتا ہے۔ پاکستان کے لئے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس رینکنگ میں 154ویں نمبر پہ ہونا ایک بہت ہی شرمناک بات ہے کیونکہ ہمارے پڑوسی ممالک بھی ہم سے آگے ہیں، بھوٹان 129ویں، بنگلہ دیش 133ویں، بھارت 131ویں، سری لنکا 72ویں اور مالدیپ 95ویں نمبر پہ ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ملک میں انسان کے زندہ رہنے کے لئے بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں، نہ تعلیم کا نظام ہے نہ صحت کا نظام ہے نہ کھانے کا نظام ہے نہ ہی کوئی زندگی گزارنے کا معیار ہے جو امیر ہے وہ امیر تر ہے اور جو غریب ہے وہ غریب تر ہوتا جارہا ہے۔
    پاکستان کے بدترین ہیلتھ نظام کی بات کی جائے تو ڈاکٹر مریض کا تناسب 1 اور 1300 کا ہے مطلب یہ ہے کہ 1300 مریضوں کے لئے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے جبکہ ہسپتالوں میں 1608 مریضوں کے لئے صرف ایک بیڈ موجود ہے۔ حکومت پاکستان جی ڈی پی کا صرف 1.1فیصد ہیلتھ پہ خرچ کرتی ہے۔ پاکستان دنیا کے صرف ان تین ممالک میں شامل ہے جن میں ابھی بھی پولیو کا مرض موجود ہے باقی دو نائجیریا اور افغانستان ہیں۔
    پاکستانی قوم ٹیکس سے بھاگتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا ٹیکس ریونیو صرف 9.6فیصد ہے آئی ایم ایف کے مطابق ترقی پذیر ممالک کا ٹیکس ریونیو کم سے کم 15فیصد ہونا چاہیے۔ اتنا کم ٹیکس جمع ہونے کی وجہ سے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوتے کہ کوئی ترقیاتی کام کرسکے اور جو ٹیکس جمع ہوتا یے وہ اربوں ڈالرز میں لئے گئے قرضوں کی اقساط دینے میں نکل جاتا ہے۔ جبکہ اگر عوام کی بات سنیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران، سیاستدان کرپٹ اور چور ہیں۔ اور ہم خون پسینے، محنت و مشقت سے کمایا گیا پیسہ حکومت کو کیوں دیں جبکہ کوئی سہولیات نہیں ہیں۔ 2021 میں بھی پاکستان کی خواندگی کی شرح 60فیصد ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ 100 میں سے صرف 60 ایسے ہیں جو پڑھ لکھ سکتے ہیں جبکہ خواتین کی شرح صرف 46فیصد ہے۔ یہ ایک بہت ہی بڑی وجہ ہے پاکستان کے ترقی میں پیچھے رہ جانے کی اور اسی وجہ سے ہم تیسری دنیا کے ممالک میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ہماری خواتین کو پڑھایا نہیں جاتا جسکی وجہ سےوہ معیشت میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتیں اور ہمارا اتنی بڑی تعداد میں انسانی ریسورس ضائع چلا جاتا ہے۔ ایک اور مسئلہ جس پہ شرمندگی اور افسوس ہوتا ہے وہ ہے ہم اپنی نااہلی اور تنگ نظری کی وجہ سے ڈیمز نہیں بنا سکے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد عجیب وغریب ملک ہے جس میں لوگ سیلاب اور خشک سالی دونوں سے مرتے ہیں۔ ڈیم پانی کو محفوظ کرتا یے جس سے کوئی بھی ملک اپنی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے، اس کے ساتھ ڈیم کے پانی سے بجلی بنائی جاتی ہے۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اور بجلی کی بھی شدید کمی ہے لہذا ہمارے لئے ڈیمز بنانا نہایت ضروری ہے. ڈیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بھارت نے 74 سال میں 3500 سے زیادہ چھوٹے اور بڑے ڈیمز بنائے ہیں جبکہ پاکستان نے اتنے ہی سالوں میں صرف 150 ڈیمز بنائے ہیں ان میں اکثر چھوٹے ڈیم ہیں اور وہ بھی 50-60 سال پہلے تعمیر ہوئے تھے۔
    اگر مسائل کی وجوہات کی بات کی جائے تو سب سے پہلے قیادت کا بحران ہے دوسری وجہ اداروں میں کرپشن، بے ایمانی اور نااہلی ہے تیسری وجہ میرٹ کا نہ ہونا اور اس کے بعد ہمارے ملک میں جمہوریت کا کمزور ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ انصاف کا نہ ہونا، تعلیم پہ توجہ نہ دینا اور اسکے ساتھ ذہن سازی، اخلاقیات سازی کا فقدان اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نہ ہونا بھی بڑی وجوہات ہیں۔
    یہ اتنے گہرے اور گھمبیر مسائل ہیں کہ ان کو حل کرنے کے لئے بھرپور توجہ اور وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن کہیں نہ کہیں سے تو شروعات کرنی ہیں تاکہ پاکستان کا شمار بھی انسانی ترقی کے حوالے سے دنیا کے صف اول کے ممالک میں ہوسکے۔ انشاء اللہ

    tweets @KharnalZ

  • وزیراعظم آذاد کشمیر کی مقبولیت میں کیسے اضافہ ہوا  تحریر: فرزانہ شریف

    وزیراعظم آذاد کشمیر کی مقبولیت میں کیسے اضافہ ہوا تحریر: فرزانہ شریف

    یہ سچ ہے کہ کافی سے زیادہ لوگوں نے سردار عبدالقیوم کا نام بھی پہلی دفعہ سنا ۔۔اور لوگوں کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں لفافوں کو جلن سے برا حال رہا ان کا بس نہیں چل رہا تھا سردار عبدالقیوم کی جگہ خود وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیں۔۔اور انصافین بے بسی سے عبدلقیوم کا دفاع کرتے رہے صرف اس وجہ سے کہ ان کا انتخاب ہمارے لیڈر عمران خان نے کیا تھاعوام بھروسہ رکھے اپنے رب پر اور اس مرد قلندر پر جس کے ہاتھ میں اللہ نےاس ملک کی باگ دوڑ تھمائی ہوئی ہے جو لوگ سمجھ رہے ہیں یہ بزدار پارٹ ٹو ہے جیسے بزدار نے اپنی اچھی کارکردگی سے مخالفین کے منہ بند کردیے ان شاءاللہ سردار عبدالقیوم بھی کشمیر کے لوگوں کے مسائل حل کرکے کشمیری عوام کی آنکھوں کا تارا بن جائیں گےکیونکہ خان صاحب میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں ۔۔اچھا بتاتی چلوں کہ
    سردار عبدلقیوم خان نیازی پی ٹی آئی میں کب اور کیسے مقبول ہوۓ
    سردار عبدلقیوم خان نیازی بیرسٹر سلطان محمود اور سردار امتیاز خان کی ذاتی کوششوں اور ذاتی خواہش پر پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں شامل ہوۓ تھے
    مسلم کانفرنس کے مرحوم قائد سردار عبدلقیوم خان کی سر پرستی میں سیاسی تربیت حاصل کی ۔
    نیازی صاحب کی پی ٹی آئی میں سخت مخالفت تھی ۔انکو شکست دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی
    ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نیازی صاحب کا ٹکٹ بھی خطرے میں چلا گیا ۔۔اور پی ٹی آئی کے ایک دھڑے کی طرف سے نیازی صاحب کی دوبارہ مسلم کانفرنس میں شمولیت کی خبریں ہیڈ لائن بن چکی تھی ۔
    نیازی صاحب جب سے پی ٹی آئی میں بیرسٹر سلطان کی قیادت میں شامل ہوۓ ان کو پہلے سے موجود پی ٹی آئی راهنما سردار مرتضی علی خان نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مرتضی علی خان بیرسٹر سلطان محمود کو خیر باد بول کر تنویر الیاس صاحب کی کشتی میں سفر کرنا شروع ہو گئے ۔
    سردار عبدل قیوم خان نیازی کی مقبولیت میں اضافہ اس وقت ہوا جب نیازی صاحب نے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا سب سے بڑا جلسہ ڈیويزن پونچھ کی قيادت کے ہمراہ راولاکوٹ کے مقام پر کروایا ۔
    اس جلسے کو ركوانے کے لیے بڑی سے بڑی آفر بھی نیازی صاحب کو اپنے قدموں سے لڑکھڑا نہ سکی اور آج پاکستان آزادکشمیر بلکہ پورے پاکستان کی نیوز چینلز کی ہیڈ لائن پر ان کا ذکر چلتا رہا
    بےشک اللہ جیسے چاہے عزت دے
    ۔

    Farzana99587398@

  • ترقی و خوشحالی کا ضامن بلدیاتی نظام تحریر؛  ثمینہ اخلاق

    ترقی و خوشحالی کا ضامن بلدیاتی نظام تحریر؛ ثمینہ اخلاق

    کسی بھی ریاست کا ریاستی نظام بنیادی طور پر صدارتی یا پارلیمانی ھوتا ھے۔ صدارتی ڈھانچے میں تمام تر اختیارات صدر کے پاس ھوتے ھیں گو کہ سینیٹ کا عمل دخل بھی ھوتا ھے لیکن اخری و خصوصی اختیارات پھر بھی صدر کے پاس ھوتے ھیں جنھیں صدارتی نظام میں سینیٹ ختم نھیں کر سکتی جبکہ سب سے بڑی ریاستی عدالت بھی اسکی وضاحت تو کر سکتی ھے لیکن ختم نھیں۔

    اسی طرح دوسرا ریاستی نظام پارلیمانی ھوتا ھے جس میں ریاست کا سربراہ وزیراعظم ھوتا ھے جبکہ ساتھ پارلیمنٹ لازم حصہ ھوتی ھے۔ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم بطور قائد ایوان پارلیمنٹ میں حکومتی جماعتوں کی نمائندگی کرتا ھے اور ر طرح کا بل پارلیمنٹ سے پاس کروایا جاتا ھے۔ گو کہ اس میں بھی وزیراعظم صوابدیدی اختیارات رکھتا ھے لیکن پارلیمنٹ مکمل اختیار رکھتی ھے کہ وزیراعظم کے خصوصی اختیارات سے بنائے کسی بھی قانون کو کالعدم کر سکتی ھے۔

    صدارتی و پارلیمانی نظام ریاستی امور کے نگران ھوتے ھیں عمومی طور پر داخلہ، خارجہ، قانون و انصاف، پارلیمنٹ و سینیٹ کے ذریعے آئینی تبدیلیاں شامل ھوتی ھیں جبکہ اس سب کے ساتھ ایک اور متوازی نظام حکومت بھی ھوتا ھے جسے بلدیاتی نظام حکومت کہتے ھیں۔ بلدیاتی نظام حکومت ریاستی امور نھیں دیکھتا بلکہ ریاست کے اندر سماج کے بنیادی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیتا ھے۔

    بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ کا نظام صدارتی و پارلیمانی نظام کے ھم پلہ کبھی بھی نھیں ھو سکتا اور نہ ھی صدارتی و پارلیمانی نظام کے تحت چلنے والے بنیادی امور کو سنبھال سکتا ھے لیکن صدارتی و پارلیمانی نظام کے تحت چلنے والے ریاستی ڈھانچے کی ترقی کا سبب ضرور بنتا ھے۔

    بلدیاتی نظام کو لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی اسی لئے کہا جاتا ھے کہ اس نظام کے تحت ترقی کی شرح پسماندہ ترین علاقوں سے لیکر ترقی یافتہ میٹروپولیٹن شہروں میں برابر ھوتی ھے۔

    بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم یونین کونسل لیول سے شروع ھو کر چئیرمین لیول سے ھوتا ھو ضلعی یا ڈسٹرکٹ ناظم پر آ کر مکمل ھو جاتا ھے جس کے تحت حکومتی اختیارات کا بالکل نچلی سطح تک منتقل کرنا ھے جس میں مقامی علاقے کے معززین کو علاقے کی ترقی و بنیادی وسائل کیلئے نامزد کمیٹی میں بطور نگران کام کرتے ھیں جس میں سیاسی سے زیادہ وھاں کے مقامی لوگوں کے ذریعے مقامی لوگوں کیلئے معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ھوتا ھے۔

    کسی بھی ریاست کا ترقیاتی ڈھانچہ وھاں کے بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کا مرھون منت ھوتا ھے اس لئے بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ ایکٹ جس قدر مضبوط ھو گا مقامی سطح پر ترقیاتی امور کی شرح اتنی ھی تیز ھو گی جسکی وجہ سے صدارتی و پارلیمانی ڈھانچہ اندرونی طور پر اتنا ھی مضبوط ھو گا۔

    ترقی یافتہ ممالک کو سامنے رکھا جائے تو اس میں کوئی شک نھیں کہ وھاں کے مضبوط بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم نے حکومتی اختیارات عام عوام تک نچلی سطح میں منتقل تو کئے ھی ھیں لیکن ساتھ میں صدارتی و پارلیمانی ڈھانچے کو بھی مضبوط تر کیا ھے۔

    بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم ھی واحد نظام ھے جو سیاستدانوں کی نرسری کہلاتا ھے جس کی وجہ سے صدارتی و پارلیمانی نظام کے مرکزی انور تک پہنچنے والا شخص جھاں بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت مقامی سماج کی خدمت کرتا تھا ویسے ھی اب حکومتی امور میں اسقدر دسترس رکھتا ھے کہ اگے چل کر صدارتی و پارلیمانی نظام میں بھی ریاستی امور کو بخوبی سر انجام دیتا ھے۔

    عوام کی بنیادی ضروریات خوراک، صحت، تعلیم، امن و امان اور بہترین وسائل کے ذرائع ھیں جو صرف اور صرف وھاں پر موجود بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ھی پورے ھو سکتے ھیں کیونکہ دور دراز کے رھنے والے ریاستی مرکز سے دور علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی ضروریات پوری ھی اسی بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ھو رھی ھوتی ھیں اور ان علاقوں کے لوگوں کی رسائی بھی اپنے بلدیاتی نمائندوں تک ھی ھوتی ھے۔

    اگر ھم موجودہ بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کا بغور جائزہ لیں تو اس میں ذاتی مفاد کے حصول سے لیکر ذاتی سکون کے حصول تک ھی زور لگایا گیا ھے جسکی وجہ سے وسائل کا درست استعمال نھیں ھو سکا اور مقامی لوگوں کیلئے اپنے بلدیاتی نمائندوں تک رسائی ممکن نھیں رھی اور وہ دور دراز علاقے آج بھی بے بسی کی بھیانک تصویر بنے نظر آتے ھیں جھاں سماج کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وسائل بھی دستیاب نھیں ھوتے جسکی وجہ سے ان علاقوں کی محرومیوں میں اضافہ ھوتا جاتا ھے جو آگے چل کر صدارتی و پارلیمانی ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیتا ھے جسکا نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ سب سے پہلے ریاست میں داخلی انتشار کے مسائل جنم لیتے ھیں جو بعد میں بڑی عسکری تنظیموں کا روپ دھار کر ریاستی اداروں کو چیلنج کرنا شروع ھو جاتے ھیں۔

    پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن سے قبل جھاں متعدد وعدے کئے تھے ان میں ایک وعدہ بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ماندہ خامیوں کو دور کر کے دوبارہ سے نافظ العمل کرنا بھی تھا کیونکہ صدارتی و پارلیمانی ڈھانچے میں بیٹھے منتخب یا سلیکٹ افراد کا کام ریاست کیلئے قانون سازی کرنا ھے جبکہ مقامی سطح تک ترقیاتی امور کو لیکر چلنا بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کا کام ھے۔

    اس کیلئے پاکستان تحریک انصاف نے پرانے بلدیاتی نظام کو ختم کر کے نئی قانون سازی کے ذریعے نئے بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ کسی مصلحت کے تحت آج تک وفاء نھیں ھو سکا جس کا سب سے زیادہ نقصان مقامی لوگوں کو ھوا کیونکہ پرانے بلدیاتی نظام کو ختم کر کے تمام مقامی منتخب نمائندوں کو معزول کر دیا گیا تھا اور نئے بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کو نافظ بھی نھیں کیا جا سکا۔
    اس حوالے سے ایک حد تک دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی دو رائے نھیں کہ یہ ایک بہت توجہ طلب کام ھے جس میں بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ھے جس میں الیکشن میں حصہ لینے والے افراد کی تعلیمی قابلیت سے لیکر ان کی ذھنی صلاحیت تک کے امور کو جانچنا شامل ھے تا کہ کل کو منتخب ھونے والا شخص اتنی اھلیت تو رکھتا ھو کہ سرکاری دستاویزات سے لیکر عوامی مسائل کو سن کر انھیں قانونی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ھو۔

    لیکن سوال یہ ھے کہ بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کب تک نافظ ھو گا کب تک اسکی نوک پلک سنوار لی جائے گی کب تک اس نظام سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچنا شروع ھو گا کب تک دور دراز کے پسماندہ علاقے اس سے استفادہ حاصل کرنا شروع ھوں گے۔
    یہ وہ سوالات ھیں جو آج بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نھیں اور پوری قوم اس چات کی امید رکھتی ھے کہ جلد از جلد بلدیاتی نظام یا پارلیمانی سسٹم کو نافظ کر کے اختیارات مقامی سطح تک منتقل کئے جائیں گے تا کہ دو نھیں ایک پاکستان کے ساتھ ساتھ طبقاتی نھیں بلکہ سب کا یکساں پاکستان کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔

    @SmPTI31

  • جدید خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔  تحریر: زاہد کبدانی

    جدید خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ تحریر: زاہد کبدانی

    ہم زیادہ تر تمام معاملات کے قابل ذکر باہمی تعلق سے اندھے ہیں۔
    یہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک پیچیدہ کائنات میں یہ دیکھنا مشکل ہے کہ آپ کے ساتھ کون سی مجبوریاں کام کرتی ہیں اور قوتیں آپ کے خلاف کام کریں گی۔

    ٹوسٹر حاصل کرنے کے مقابلے میں ، پھر ہم آخری مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہیں اور اس کے ارد گرد چلنے والے مختلف طریقہ کار کو نہیں سمجھتے ہیں۔ تکرار کریں ، پیدا نہ کریں تخلیقی تخلیقات پرانے خیالات کا تازہ مجموعہ ہوتی ہیں۔ اختراعی مومن تخلیق نہیں کرتے ، وہ تعلق رکھتے ہیں۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں

    مزید یہ کہ ، ترقی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ اس سے انچ فیصد ترقی حاصل کرنا ہے جو پہلے ہی پورے طریقہ کار کو پہننے اور شروع کرنے کے برعکس کام کرتا ہے۔ انفرادی پروازوں کے طریقہ کار نے ایک جیسی کورس کی پیروی کی۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔
    ہم عام طور پر اورول اور زین کو چارج کرتے ہیں کیونکہ وہ جدید پرواز کے موجد ہیں۔ ٹوسٹر پروجیکٹ اس کی ایک اچھی مثال ہوسکتی ہے جس طرح ہم اکثر جدید ماحول کی پیچیدگی کا مشاہدہ نہیں کرتے ہیں۔ جب بھی آپ ٹوسٹر خریدتے ہیں ، اس کے بعد آپ کبھی یقین نہیں کریں گے کہ دکان سے دیکھنے سے پہلے کیا ہونا چاہیے۔

    آپ پہاڑ سے لوہے کے پھینکنے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم کو زمین سے اوپر کی طرف کھینچنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ ترقی کی تمام قوتوں کے دوران ، ترازو چھوٹے نقاد بن گئے ، جو ابتدائی طور پر موصلیت اور گرمی کے لیے مفید رہے ہیں۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    آخر میں ، یہ چھوٹے پھول پرواز میں موثر پنکھوں میں بڑھ گئے۔ جب آپ کے ٹوسٹر کی وجہ سے پلاسٹک کیس بنانے کا وقت آگیا ، تو تھویٹس کو احساس ہوا کہ وہ پلاسٹک کی چادر بنانے کے لیے خام تیل کی خواہش کرے گا۔ اس بار اس نے بی پی کی پیشن گوئی کی اور پوچھا کہ وہ اسے آئل رگ میں کب اڑائیں گے اور پھر اس کو تیل دیں گے۔
    انہوں نے فورا انکار کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ تیل کی تنظیمیں لوہے کی کانوں کی طرح کافی نہیں ہیں۔ تھویٹس کو وینائل بٹس جمع کرنے اور ان کے پگھلنے کو اپنے ٹوسٹر مثال کے طور پر ڈھکنا پڑا۔ یہ اتنا سادہ نہیں جتنا یہ لگتا ہے۔
    گھر میں بنے ٹوسٹر نے کچی گیجٹ کے مقابلے میں پگھلنے والی کوکی کی طرح دکھائی دینا چھوڑ دیا۔ یہ پیٹرن اس ٹوسٹر پروجیکٹ کی مکمل لمبائی تک جاری رہا۔ پہلے کے طریقہ کار کی مدد کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن نہیں تھا۔ سب سے زیادہ نکل اجزاء بنانے کے لیے ، مثال کے طور پر ، اسے پرانے سکے پگھلانے کا سہارا لینا پڑا۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس نے بعد میں کہا ، "میں نے محسوس کیا کہ اگر آپ نے شروع سے ہی شروع کیا تو آپ اپنی زندگی آسانی سے ایک ٹوسٹر بنانے میں گزار سکتے ہیں” ہم اکثر جدید تجاویز مانتے ہیں اور بامقصد تبدیلیاں خالی سلیٹ کی ضرورت ہوتی ہیں۔ جب کاروباری کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ، ہم چیزوں کو بیان کرتے ہیں جیسے ، "ہمیں براہ راست ڈرائنگ بورڈ پر واپس جانے دو”

    ایک بار جب ہم ان رواجوں پر یقین کر لیتے ہیں جو ہم قیاس کو تبدیل کرنا پسند کریں گے ، "مجھے صرف ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔” لیکن ، تخلیقی ترقی تمام پچھلے خیالات اور ایجادات کو پیش کرنے اور سیارے کو مکمل طور پر دوبارہ تصور کرنے کا نتیجہ ہے۔ مخلوق کی بادشاہی کے بعد کوئی جادوئی لمحہ نہیں تھا۔

    "آئیے شروع سے شروع کرتے ہیں اور ایک ایسا جانور بناتے ہیں جو اڑ سکتا ہے” اڑنے والے پرندوں کی نشوونما کام کرنے والے خیالات کو دہرانے اور وسعت دینے کا ایک سست ذریعہ تھا۔ ٹوسٹر پروجیکٹ 2010 میں واپس آیا ، تھامس تھویٹس نے فیصلہ کیا کہ وہ شروع سے ہی ٹوسٹر بنانا چاہتا ہے۔

    وہ ایک دکان پر گیا ، ٹوسٹر خریدا جس کا اسے پتہ چل سکتا تھا ، اور گھر جا کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔ اس نے سٹیل کے اجزاء بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس لوہے کی کھوج کا پتہ لگانے کے بعد وہ سٹیل پیدا کرنے کا پابند تھا۔

    تھویٹس نے اس کی جگہ پر لوہے کی کان بلائی اور پوچھا کہ جب وہ اسے چند کاموں کے لیے استعمال کرنے دیں گے۔ شروع سے شروع کرنا عام طور پر ایک خوفناک خیال ہے۔ کامیابی قلیل المدتی رہی ہے۔ شروع سے شروع نہ کریں تھویٹس نے فرض کیا تھا کہ ٹوسٹر ایک نسبتا سیدھا نظام ہے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    اب تک وہ اس کی تعمیر کا کام مکمل کر چکا تھا ، لیکن فرش پر 400 اجزا بچھے ہوئے تھے۔ ٹوسٹر میں 100 سے زیادہ الگ الگ مادے شامل تھے جن میں سے تین نکیل ، پلاسٹک سٹیل ہیں۔ ایک بار جب آپ کسی پیچیدہ مسئلے کو سنبھال لیتے ہیں تو ، عام طور پر اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کیا کام کرتا ہے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    کوئی بھی تصور جو اب کام کر رہا ہے اس نے بہت سارے آزمائش پاس کیے ہیں۔ پرانے خیالات صرف ایک خفیہ ہتھیار ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ایک پیچیدہ دنیا میں رہنے کے قابل تھے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • افغان امن عمل ، طالبان، اور افغانستان کی بگڑتی صورتحال    تحریر:زاہد چوہدھری

    افغان امن عمل ، طالبان، اور افغانستان کی بگڑتی صورتحال تحریر:زاہد چوہدھری

    افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کرنے کی پہلی کوشش اوباما کے دور میں میں منظر عام
    پر ٓئیں۔ پھر 2011 ء اور 2013ء کے اوائل میں کو ششیں کی گئیں لیکن بد قسمتی سے وہ بھی ناکام رہیں؛ جون 2013ء میں قطر میں ہونے والے مذاکرات کو صدر حامد کرزئی نے صرف اس لے منسوخ کر دیا تھا کیونکہ طالبان نےُُُ امارت اسلامی افغانستان کا پرچم اس دفتر پر لگادیا تھا جہامذاکرات منعقد ہونا تھے۔اس کے صرف ایک ماہ بعد طالبان نے اپنا دفتر بند کر دیا اوافغان امن عمل مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہے۔ پھر تین سال بعد ایک ا جلاس امریکہ، چین اور پاکستان کے درمیان2016ء میں ہوا، جس کی سربراہی پاکستان نے کی، اورجس کا مقصد طالبان کابل امن کو یقینی بنانا تھا، لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔

    ٹرمپ، جنہوں نے اگلے سال امریکہ میں عہدہ سنبھالا، نے افغانستان امن مذاکرات کو ایجنڈے میں شامل کیا اور طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں کیں۔دوسری طرف اشرف غنی حکومت نے نہ صرف امریکہ کے اس ا قدام کی ؎حمایت کی بلکہ کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ طالبان کے ساتھ مختلف وعدے بھی کیے گئے جن میں افغان جیلوں میں قید طالبان کی رہائی، اور طالبان کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کرنا، اور دونوں جانب سے حملوں کا روکنا شامل تھا۔ لیکن جب کابل حکومت نے طالبان سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا تو طالبان نے کابل حکومت سے یہ کہتے ہوے منہ موڑ لیا کہ وہ خود کو صرف امریکہ سے مخاطب کریں گے نہ کہ غنی سے۔ اس کے بعد 2018ء سے طالبان نے سخت گیر اور غیر سمجھوتے والا رویہ محدود طریقے سے کم کیا،امریکہ اور طالبان کے نمائندوں نے فروری 2019ء میں امن مذاکرت کے لیے دوحا میں ملاقاتیں کیں جو چھ ماہ تک جاری رہیں اور یہ اعلان کیا گیا کہ امریکہ اور طالبان معاہدے کے قریب ہیں۔

    تاہم، اگست 2019ء میں یہ مثبت مزاج جلد ہی غائب ہو گیااور اگلے مہینے امریکی نمائندہ خصوصی برا ئے افغان امور زلمے خلیل زاد نے اعلان کیا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور یہ کہ ٹرمپ کی منظوری طلب کی گئی ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے کابل میں دہشت گردانہ حملے میں ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد اس معاہدے کو روک دیا تھا۔

    پھر دسمبر2019ء میں امریکہ اور طالبا ن کے درمیا ن دوبارہ مذاکرات شروع ہو ئے،یہ خیال کہ خلیل زاداور طالبان حکام کے درمیان امن مذاکرات ٓہستہ ٓہستہ ختم ہوگئے تھے،اور پہلی بار دیکھا گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بہت ٹھوس ہوے ہیں۔ تشدد میں کمی، افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء،بین الافغان مذاکرات، اور طالبان کے امن معاہدے کے مذاکرات کے فریم ورک کے اندر انسداددہشت گردی کی ضمانت جیسے فیصلوں کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور یہ کہ امریکہ ستمبر 2021ء تک اپنی افواج کو افغانستان سے نکال لے گا۔امریکہ نے یہ معاہدہ اس شرط پر کیا کہ طالبان افغانستان کے اندر القائدہ جیسے عسکریت پسند گروہوں کا خاتمہ کریں گے۔

    ان مذاکرات کی رو سے افغانستان سے تقریبا 20 سال کے بعد امریکی فوج نے صدر بائیڈن کی ہدایت پر ملک سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ پنٹاگو ن کے مطابق 95 فیصدامریکی فوجی انخلا کر چکے ہیں، جسکے ساتھ ہی طالبان نے اپنی موجودگی کو ملک کے بڑے حصوں تک بڑھا دیا ہے، اور طالبان نے دعوہ کیا کہ انہوں نے ملک کے بیشتر داخلی اور خارجی راستوں پر قبضہ جما لیا ہے، جن میں پاکستان کے ساتھ منسلک اسٹریٹجک بارڈر سپین بولدک، ایران اور ازبکستان کے بارڈرز شامل ہیں۔

    لانگ وار (Long War Journal) کے مطابق طالبان صوبہ ہرات کے 16 میں سے13 اضلا ع پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، اسکے علاوہ طالبان421 اضلا ع میں سے 223 اضلا ع کا کنٹرول رکھتے ہیں جن میں سے 116اضلا ع میں حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری ہے، اور 68 پر کابل حکومت کا قبضہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی 34 میں سے 17 صوبائی دارلحکومتوں کو طالبان کی طرف سے براہ راست خطرہ ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، طالبان نے ہرات،ہلمند،اور قندھارکے گرد گھیرہ تنگ کر دیا ہے جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    غیر ملکی افواج کے انخلاء اور طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں افغانستان کی سیکیورٹی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، لاکھوں لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اور شہری ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، لیکن نہ طالبان اور نہ ہی حکومت کسی ایسے نقطے پر رضا مند ہو پا رہے ہیں جس سے افغانستان میں دیرپا امن ممکن ہو، جو کہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب کابل اور طالبان مزاکرات کی میز پر بیٹھیں، وگرنہ ممکنہ مفادات کاٹکراؤ مزید تشدد میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ افغان امن عمل ان افغانیوں پر منحصر ہے جوکہ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔

    Zahid Chaudhary – from King Edward Medical University is a freelance writer, author, and columnist. He works with multimedia channels, and his articles have been featured multiple times. He currently writes for Baaghitv.
    Twitter ID: @zahidch01

  • ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    پینتیس برس تک اقتدار کی باریاں سمیٹنے والی ن لیگی قیادت شریف خاندان کو ملک کی ترقی کیلئے ابھی بھی بلا شرکت غیرے اقتدار ملنے کے خواب آتے ہیں۔ تین بار کے وزیراعظم نواز شریف اور پانچ بار کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف حصول اقتدار کی اس کشمکش میں بظاہر بوکھلائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ برسوں اقتدار میں رہنے والے برادران اپنی اولاد کی خواہشوں کے آگے بھی مجبور نظر آرہے ہیں۔ اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ن لیگ میں شریکے کی کھچڑی پک رہی ہے۔برادران اپنے تئیں اقتدار اپنے سیاسی جانشینوں کو سونپنا چاہتے ہیں۔ اور اسوقت دونوں بھائیوں کی اولاد میں ایک کی بیٹی اور دوسرے کا بیٹا عملی سیاست میں ہے۔ عمومی رائے ہے کہ نواز شریف کو اپنی بیٹی میں ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم دکھائی دیتی ہے جبکہ شہباز شریف کا بیٹا خود نواز شریف بننا چاہتا ہے۔ پارٹی کے اندر چل رہے اس کھیل کے بعد برادران کے
    مفاہمت اور مزاحمت کے سیاسی بیانیے ہیں۔ غیر سنجیدہ لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ ن لیگ کے بٹوارے پر منتج ہوگا جبکہ سنجیدہ حلقے اسے بھی سیاسی چالبازیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بات کرتے ہیں برادر اکبر
    میاں نواز شریف کی تو اقتدار سے باہر آنے کے بعد وطن عزیز میں جتنا عرصہ خاموش رہے۔ خاموش رہ کر بیماریوں کا گھر دکھائی دینے لگے۔ ان کے چاہنے والوں کی پریشانی روز بروز بڑھنے لگی کہ ان کے مسیحا کو آخر کیا غم لاحق ہوگیا ہے۔ خدانخواستہ یہ سایہ ان کے سروں سے اٹھ گیا تو ملک کو ، اس قوم کو کون سنبھالا دے گا۔
    ٹی وی سکرینوں پر دکھائے جانے والے میاں جی کی حالت قابل رحم نظر آنے لگی ان کے پلیٹلیٹس کو لیکر میڈیا نے دن رات میاں نواز شریف کی پتلی حالت پر حکومت وقت کو لتاڑنا شروع کردیا۔ ڈاکٹر نے میاں صاحب کی سانسیں گنوانا شروع کردیں۔نوبت یہاں تک آگئی کہ بالآخر وطن واپسی کا 50روپے والا بیان حلفی اسٹامپ پیپر دیکر میاں صاحب اپنی لندن والی آرامگاہ کو سدھار گئے۔ ملکی سیاست میں میاں نواز شریف کی بیٹی مریم بی بی کی دبنگ انٹری ہوئی۔ بیماری کی وجہ سے جو الفاظ ادا کرنے کیلئے والد کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی وہ بیٹی مریم زوجہ صفدر کی زبان سے ادا ہونے لگے سیاسی جلسے جلوسوں میں ملکی اداروں اور من پسند شخصیات کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ ادھر پر فضا مقام لندن کی آب و ہوا کے اثر سے میاں نواز شریف دھیرے درمے سخنے صحت یاب ہوتے گئے تو ان کے غصے کا پارہ بھی بتدریج بلند ہونا شروع ہوگیا۔ پاکستان میں لاغر سا نظر آنے والا شیر ٹویٹر کے علاوہ ویڈیو پیغامات کے ذریعے گرجنا برسنا شروع ہوگیا۔ نونہالان وطن اپنے چاہنے والوں کو اداروں سے نفرت ،حقارت، مر مٹنے اور ڈٹ جانے کی تبلیغ کی جانے لگی۔ بیرون ملک اپنی اولاد کیساتھ بیٹھا ہوا شیر مزاحمت کے بیانیے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتا اور اسی سے اپنے حامیوں کو جوش دلواتا ہے جبکہ ن لیگ کا مرد آہن جونیئر شریف مفاہمت کے بیانیے سے ڈنگ ٹپاؤ کام نکلواؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو گیا۔اعلی قیادت کے اس سارے کھیل میں آزاد کشمیر کے انتخابات بھی ہوگئے۔ برسر اقتدار جماعت واضح سیٹیں حاصل کر کے کامیاب ٹھہری۔ مگر مفاہمت اور مزاحمت کا تماشہ بدستور لگا ہوا ہے۔
    برادران کے اس سارے سیاسی کھیل تماشہ میں ان کے دیرینہ رفیق اور حامی کچھ ڈانواں ڈول دکھائی دے رہے ہیں جنہیں ہر نئے دن نئی نئی وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ جوشیلے حامیوں کا حال تو پتلا ہوا جاتا ہے کہ وہ کس چکر میں بلکہ گھن چکر میں پھنس گئے ہیں بیشتر کو تو حلقہ احباب میں منہ چھپانے کیلئے بھی ماسک کی ضرورت درپیش آرہی ہے۔ ن لیگ کے حامی مزاحمت والا بیانیہ لیکر چلتے ہیں تو خود کو شیر گردانتے ہیں دوسری جانب جب مفاہمت کے بیانیے کی باری آتی ہے تو شیر بیمار ہوکر آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتا ہے۔ مریم بی بی کی مزاحمتی راگنیاں بھی چچا کی مفاہمتی بانسریا میں دبتی جارہی ہیں۔ ن کے ووٹر اور سپورٹر ایسے حالات میں خود پریشان ہیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کے آخر کہاں جائیں؟؟؟ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان کے حامی بھی ن میں سے کبھی ش تو کبھی میم بلکہ میم میخ نکالنے کا عمل کرنے لگتے ہیں۔اور ان ووٹروں کی حالت زار دیکھ کر اب یہی اندازہ ہوتا ہے۔
    خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔
    ‎Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر کی بیش بہا خوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ارض زمین میں جنت کا ٹکڑا اُتر آیا ہو ۔ اللہﷻ کی بیش بہا خوبصورتیوں کا مرکز کہلانے والی سرسبز و شاداب وادیِ کشمیر جس کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے اور جنت میں پہچنے کا احساس محسوس کرنے کی آرزو شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو دل میں نہ رکھتا ہو۔ مگر قدرت کی بیش بہا خوبصورت وادی کشمیر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو نازی عقوبت خانہ بنے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں۔

    8 لاکھ کشمیری باشندے ایک بہت بڑی جیل میں قید ہیں جس میں نہ کشمیری بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی مریض اور بزرگ اپنی طبی معائنے کے لیے ہسپتال کا رخ کرسکتے ہیں، نہ ہی کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کو اپنے اوپر ڈھائے جانے والے بھارت کےمظالم کی
    داستان سنانے کے لیے انٹرنیٹ میسر ہے۔ کورونا واٸرس کو جواز بناتے ہوئے بچی کھچی رعایتوں کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔۔اور کشمیر بھارتی فوجوں کے شکنجہ میں گھراہوا ہے۔

    وہ کون سا ظلم وستم ہے جو اہل کشمیر پر نہیں کیا جاتا ستر برس سے زاٸد کا عرصہ گزر چکا ہے اس بات کو سنتے سنتے کہ اہل کشمیر کا مسئلہ ابھی اقوام متحدہ میں حل طلب ہے مگر آئے روز یہ خبریں سننے کو اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بھارتی کی فوج نے وادی کشمیر کو جنگ کا میدان بنایا ہوا ہے وادی کشمیر میں ہہیمانہ تشدد اور بے قصور کشميریوں کا خون سر عام بہانا ، بچوں کو بوڑھوں کو پلیٹ گنز کے ساتھ اذیت دینے کے بعد شہید کردیا جاتا اور یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عورتوں کی عزت و آبرو کو پامال کرنا بھی بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وادی کشمیر میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ آج تک کشمیر کی بے گناہ عوام برداشت کر رہے ہیں ہر دن کئی کئی گھرانے اُجاڑ دینا اور یہ ہی نہیں بلکہ ایسی روح کانپ جانے والی سزاوں سے کشمیریوں بہن بھاٸیوں کے دن کا شروعات ہوتی ہے کہ رات تک کئی کشمیری بچے یتیم ،کئی کشمیری عورتیں بیوہ اور کئی گھرانے بے آسرا ہوجاتے ہیں اور پھر اس طرح ظلم و ستم کی حالت میں غم سے نڈھال ،چور چور یہ کشمیری جلد ہی موت کو گلے لگا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔

    حریت رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری بہن اور بھاٸیوں کو جیلوں قید کیا گیا ہے جہاں انہیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے

    قارٸین! پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔ ۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارد ادیں اہل کشمیر سے اِس بات کا عہد کرتی ہیں کہ اہل کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔

    موت کے سائے میں زندگی گزارنے والے کشمیری آج بھی پر امید ہیں کہ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب کشمیری بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے ان شاء اللہ۔

    میری اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ آپ نے اہل کشمیر سے حق خود ارادیت کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا جاٸیگا اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی شخص چین سے نہیں بیٹھے گا

    اللہ پاک اہل کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو تباہ برباد کر دے، آمین.

    ‎@JahantabSiddiqi