Baaghi TV

Category: بلاگ

  • وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    ‎ اسلامی جہموریہ پاکستان کے 21 وزرا اعظم تقریباً گزشتہ سات دہائیوں سے گزرے لیکن آج تک کسی بھی وزیر اعظم نے ریاست مدینہ جیسے طرز کی ریاست بنانے کی بات نہیں کی اور نہ اپنی تقاریر اور انٹرویو میں کبھی اس بات کی خواہش ظاہر کی پاکستان میں گزشتہ کہی دہائیوں سے دو پارٹی سسٹم رائج تھااس سسٹم کو توڑا ایک تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف نے جس کے چئیر میں جناب عمران احمد نیازی ہیں جو ملک کے 22وزیر اعظم بنے اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم نے ایک خواب خود دیکھا اور پھر اپنی قوم کو وہ خواب دکھایا کہ ارض پاک پاکستان کو ہم مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے
    یہاں تک تو یہ ایک خواب تھا جو ملک کے وزیر اعظم نے اپنی قوم کو دیکھایا اب ہم بات کرتے ہیں اپنی قوم کی تو جناب پاکستانی قوم پورے اقوام عالم میں اپنی ایک الگ سوچ اور پہچان کے مالک ہیں ہمارے تاریخ میں آنے والوں کے حکمرانوں کے بارے میں اقوام عالم اور اس میں موجود تجزیہ کاروں اور میڈیا کے دماغ میں ایک مختلف سوچ پائی جاتی ہے بدقسمتی سے وہ سوچ ہمارے بارے میں اتنی اچھی نہیں ہے ہمارے ہی بارے میں ایک بیان ایک مغربی ملک کی ایک شخصیت نے دیا کہ پاکستانی پیسے کی خاطر اپنی ماں تک کو بیچ ڈالتے ہیں کسی نے ہمیں کرپٹ کسی نے غدار اور کسی نے ہمیں دہشت گرد کہا اور کہا کہ یہ لوگ پیسے یا زاتی مفادات کی خاطر بڑے سے بڑا جرم کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ملک کے حکمران نے دنیا کی اس سوچ کو غلط ثابت کرنے کی ٹھان لی اور ہمیں ریاست مدینہ کا خواب دیکھایا جس سے عوام الناس میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا لیکن ساتھ ساتھ ہم نے کردار کشی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جیسے ماضی میں ایک حکمران جماعت نے ہماری سابقہ وزیر اعظم بینظیر کی فیک اور جھوٹی فحش تصاویر ہیلی کاپٹر سے مختلف شہروں میں گرائی اور آج وہی پارٹی اور چند اور مفاد پرست چھوٹی پارٹیوں نے مزئیب کا استعمال کرتے ہوۓ ریاست مدینہ کے خواب دیکھانے والے وزیر اعظم کو یہودی ایجنٹ اور اسرائیل کا ایجنٹ کے جھوٹے الزامات سے نواز نا شروع کر دیا یاد رکھیں اس طرح کی سینکڑوں مثالیں آج بھی موجود ہیں حصول اقتدار کے لئے ہم کیا کچھ نہی کر جاتے زرا سوچیئے بدقسمتی سے ہم ایک قوم کم اور ہجوم زیادہ ہیں جس ملک میں ایک چپڑاسی سے لے کر ملک کے حکمرانوں تک سب کو رشوت کی لت لگی ہو پولیس۔ ڈاکٹر انصاف فراہم کرنے والے ہمارے ججز حضرات سب اپنی اپنی حثیت سے اس گنگا بھی ہاتھ دھو رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہہ کوئی دو سو پر راضی ہو جاتا تو کوئی دو ہزار اور کوئی دو لاکھ اور کوئی دو کروڈ ہر بندے کا رشوت کا اپنا ایک معیار ہے ہمارے سرکاری ملازمین کبھی وقت پر دفتر نہیں جاتے ہمارے اساتذہ جو اس قوم کے معمار ہیں انہوں نے کبھی اپنی زمہ داری پوری نہیں کی ہوگی ہمارے مسیحا ڈاکٹر بھی اس فرض سے بری زمہ ہیں ہمارے والدین نے بچوں کی کبھی ریاست مدینہ طرز کی پرورش نہیں کی ہمارے بچے سگریٹ نوشی شراب اور زنا قتل جیسے جرائم کو فخر سے سر انجام دیتے ہوۓ نظر آتے ہیں
    پیارے غیور پاکستانیوں پہلے ہجوم سے ایک قوم بننے کی راہ پر گامزن ہوں ہمارے حکمران نے آج وہ راستہ ہمیں دیکھا دیا ہے ریاست مدینہ کے راستے پر چلیں پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کا مقابلہ نہیں کر پاۓ گی جب آپ نے ریاست مدینہ کے راستے پر چلنا ہے تو وقتی مشکلات تو ضرور آئیں گی اسی لئے ہمارے وزیر اعظم بار ہا کہتے ہیں مشکلات سے گبھرانا نہیں آپ نے یقین مانیں ارض پاکستان کے واسیوں آپ ایک عظیم اور بہادر قوم ہیں اپنے آباؤ اجداد کی طرف ہی دیکھ لیں آپ کی رگہوں میں جن کا خون ہے انہوں نے کتنی مشکلوں اور قربانیوں سے یہ ارض پاکستان آپ کے لئے حاصل کیا پیارے دیس کے واسیوں ہمیں بس اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا جب ہم اپنی سوچ کو ریاست مدینہ کے ماڈل کی طرز پر بدل لیں گے تو پھر آپ کو ترقی کرنے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا
    آخر میں اللہ سبحانہ تعالی سے دعا ہے کہہ ہمیں صیح معنوں میں ریاست مدینہ والی طرز اور سوچ پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین
    اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہوس کے بارے اللہ رب العزت کے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    ہر وہ چیز جو انسان کی طلب سے بڑھ جاے اور اچھائی اور برائی کا فرق ختم کر ڈالے ہوس کہلاتی ہے. خواہ دولت کی ہو، شہرت کی ہو، عزت کی یا سٹیٹس کی.
    اللہ کریم نے خود بھی قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱)حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲)
    ترجمہ: زیادہ مال زخیرہ کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا ۔ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔
    اس سے علم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص، اور فخر کا اظہار کرنا مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی اُخروی سعادتوں سے محروم کو کر رہ جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورہ الحدید کی آیت نمبر 20 میں ارشاد فرماتا ہے.
    ترجمۂ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل کود، زینت اور آپس میں فخر اور غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر برتری چاہنا ہے ۔ دنیا کی زندگی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہوا سبزہ کسانوں کواچھا لگے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (جیسے بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللّٰہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا( بھی ہے ) اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کاسامان ہے۔
    اور قرآن کریم لیں ارشاد فرمایا
    ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ سورۃ منافقون کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرمایا.
    ترجمۂ : اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
    اور پھر سورۃ التغابن کی آہت نمبر ۱۴-۱۶ میں ارشاد فرمایا

    ترجمۂ : اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کر دو اور بخش دو تو بیشک اللّٰہ بڑا بخشنے والا، بہت مہربان ہے ۔تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک (تمہارے لیے) آزمائش ہی ہیں اور اللّٰہ کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللّٰہ سے ڈرو اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانوں کے لیے بہتر ہوگا اور جسے اس کے نفس کے لالچی پن سے بچا لیا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔
    احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو مزید واضح کر دیا گیا.
    حضرت مُطْرَف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت آپ سورہ التَّكَاثُرُ‘‘ کی تلاوت فرما رہے تھے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا: ’’ابنِ آدم کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال،اے ابنِ آدم:تیرا مال وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
    ایک اور روایت جو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں ایک جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔دوسری جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔تیسری جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑنے والا ہے

    مزید حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔
    مزید حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے، سرکارِ دو عالَم محمدمصطفیٰ رہبردوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں ہوتی بلکہ اصل مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے، خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں محتاجی کا خوف نہیں ہے لیکن مجھے تمہارے بارے اس بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں مبتلا ہو جاؤ گے

    ایک روایت حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں وہ ان بکریوں کو اس سے زیادہ خراب نہیں کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔
    ان ارشادات و فرامین سے بھرپور آگہی ملتی ہے کہ اپنی طلب کو کنٹرول کرنا کتنا ضروری ہے۔
    نفس اور شیطان کے خلاف علم جہاد بلند کیجئیے۔ زندگی کے اصل مقصد کو سمجھئے. ہوس سے بچییے اور اللاہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حتی الامکان کوشش کریں کی شیطان کی چالوں سے اپنے نفس کی حفاظت کی جاے اور اپنی طلب کو طلب کے درجے سے بڑھنے سے بچایا جائے
    تا کہ جب رب العالمین کی رحمت اپنے بندے کو پکارے تو بندے کو اس کی پکار سنائی دے۔ جب رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی صدا بلند ہو تو بندے کا نفس اسے سن کر اپنا قبلہ درست کر سکے۔ اپنے آپ کو رحمان کے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر قائم رکھنے اور اپنے اندر کے منصف کو زندہ رکھنے کے لیے
    نفس کے خلاف جہاد اتنا ہی ضروری ہے جتنا شیطان کے خلاف ضروری ہے۔ یاد رکھیں جس طرح شیطان سے جہاد، رحمن کا راستہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے اسی طرح نفس سے جہاد، رحمن کے راستے پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے محفوظ رہیں ہر طلب کو ہوس میں بدلنے سے۔ فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • میرا وطن میری پہچان اسلامی جمہوریہ پاکستان۔  تحریر  : راجہ حشام صادق

    میرا وطن میری پہچان اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    دنیا کے نقشے پہ 14اگست 1947 کو مانند آفتاب جو طلوع ہوا
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    اسلام کے نام پے حاصل کی گئ سر زمین وطن کو اللہ تعالٰی نے ہر قسم کی رعنایات بخشی۔

    اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان 881913 مربع کلو میٹر کے ساتھ دنیا کا تیتیسوا بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان پانچویں نمبر پر آتا ہے ۔
    وطن عزیز کے مشرق میں بھارت جیسا بزدل دشمن دیس ہے شمال میں چین جو اپنی مثال آپ ہے پاک چین دوستی کے چرچے ہر زبان عام ہیں۔مغرب میں دوست ملک افغانستان ہے اور جنوب کی طرف ساحلی پٹی ہے جو اسے بحیرہ عرب سے ملا دیتی ہے ۔
    میرے وطن کو اللہ تعالی نے ہر قسم کے موسم سے نوازا جس میں آپکو گرمی ،سردی ،خزاں اور بہار کا موسم ملتا ہے۔ یہاں لاتعداد قدرتی مناظر انسانی آنکھوں کو سرور بخشتے ہیں ۔

    وطن عزیز کا درالخلافہ ہونے کا اعزاز اسلام آباد کو حاصل ہے تو وہی شہر قائد کراچی کو روشنیوں کا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔اس کے بعد بڑا شہر آتا ہے لاہور۔

    لاہور جسے زندہ دل لوگوں کا شہر کہا جاتا ہے۔یہاں ایک طرف عظیم تاریخی مقامات انسان کو ماضی میں دھکیلتے ہیں اور دوسری طرف لزیز کھانے آپ کو کہیں اور جانے نہی دیتے ۔

    پاکستان کی جھیلیوں کا شمار دنیا کی خوبصورت ترین جھیلیوں میں پایا جاتا ہے۔ وہی شمالی علاقہ جات کا حسن دیکھنے لائق ہے۔ شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،ناران کاغان،خیبر پختنخوا شامل ہیں ۔ یہاں قدرت کے بے شمار نظاروں کے ساتھ ساتھ مختلف عمارتیں قلعے،جنگلات ،شاہرائیں اور وادیاں بھی قابل ستائش ہیں سکردو میں پایا جانے والہ ٹھنڈا صحرا دیو سائ قدرت کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بلوچستان کے پہاڑی سلسلے زیارت کوئٹہ اور گوادر کی خوبصورتی کی کوئی مثال نہی ملتی۔
    بہاولپور کا صحرا چولستان اور ڈیرہ غازی خان کا فورٹ سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

    پاکستان میں صوبہ پنجاب ،پانچ دریاؤں کی سرزمین ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب ۔اس میں بہت سے سیاحتی مقامات ہیں جن میں سے دارالخلافہ اسلام آباد کے ساتھ لگنے والا شہر مری کو خاص مقام حاصل ہے۔ جنوبی پنجاب میں ملتان کو سر زمین اولیا ء کا درجہ حاصل ہے ۔ملتان میں مشہور سوغات ملتانی سون حلواہ ہے ۔یہاں کے آم بھی بہت مشہور ہیں۔

    تاریخی اور سیاحتی لحاظ سے شہر لاہور کو خاص مقام حاصل ہے جو قدیم ثقافتی ورثہ سیاحت اور تفریح کے حوالے سے ہر وہ کشش اپنے اندر رکھتا ہے جو ہر سیاح کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے ۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر رنگ و نسل ،اور مزہب کے لوگ پائے جاتے ہیں جو پاکستان کو دلکش رنگوں کا مجموعہ ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان محبتیں بانٹنے والا ملک ہے ۔کرتار پور راہداری معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کے احترام کرتا ہے ۔گوکہ بہت سی اندرونی و بیرونی طاقتیں پاکستان کا امن تباہ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں لیکن پاکستان کی بہادر افواج حکومت اور عوام کی مشترکہ کوشش سے پاکستان میں کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے ۔

    ہمیں وطن عزیز کے لیے مزید محنت ہمت عزم اور لگن کی ضروت ہے تاکہ ہمارا یہ ملک پاکستان ترقی پزیر ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکے۔
    اس کے لیے ہم سب کو باہم اختلاف بھلا کر قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔ اور عزم و ہمت کیساتھ کام کرنا ہوگا۔ تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

    اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارا معاشرہ اور قانون تحریر: سحر عارف

    ہمارے معاشرے میں ہر شخص کی زبان سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے قانون اندھا ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں بدقسمتی سے ملک خداداد کے اندر وہ چیز اندھی ہے۔ جس نے پورا ایک معاشرہ قائم رکھنا ہوتا ہے ۔ جہاں انصاف قائم کرنے کے لئے قانون ہی اندھا ہو وہاں امن کیسے قائم ہو سکے گا۔

    ایسی جگہوں پر پورا معاشرہ اندھا اور بہرہ بن جاتا ہے اور پھر ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ لوگوں کے سامنے ظلم ہو بھی رہا ہو تو لوگ کتراتے ہیں کہ ہمیں کیا ہم کیوں کسی دوسرے کی لڑائی کا حصہ بنیں۔اور پھر ظالم کو لوگ اپنا ہمدرد اور محافظ سمجھنے لگتے ہیں عزت کا معیار طاقت بن جاتی ہے۔ معاشرے کی بنیادوں میں ناانصافی ظلم جھوٹ اور کرپشن پائی جاتی ہے۔تو بتائیے ایسے میں معاشرے کیسے اپنے پائوں اور اصولوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

    ایسے معاشرے جہاں قانون نافذ کرنے والے انصاف قائم کرنے والے اپنی قیمت لگواتے ہیں۔ جہاں انصاف کرنے سے زیادہ اپنی عیاشیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جو لوگ قانون کو ایک کتاب سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے جس نے جب چاہا پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

    ایسے معاشروں میں ظلم بھی ہوتا ہے ناانصافیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اور پھر وہاں انسانیت ختم ہو جاتی ہے سفاک حکمران مسلط ہو جاتے ہیں۔پھر وہاں قانون کی حیثیت ایک طوائف جیسی بن جاتی ہے۔ جس کا جب چاہا قیمت ادا کر کے خرید لیتے ہیں ایک مظلوم کو کئی سال انصاف کے لئے ٹھوکریں کھانے پڑھتے ہیں ۔جہاں طاقتور اور بااثر لوگ قانون کو توڑ کر بھی انصاف خرید لیتے ہیں وہاں انصاف کرنے والے قاضی کا کردار اس طوائف جیسا ہوتا ہے ۔جس کے سامنے گاہک کھڑے ہوں اور وہ اس کی بولی لگاتے ہیں۔

    ایک طوائف سے بھی زیادہ بدکردار ہیں وہ قاضی جو اپنا ضمیر ہی نہیں میری قوم کی نسلوں کا سودا کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے مجرم کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جو معاشرے کے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرتا ہے۔ جو ٹارگٹ کلنگ منشیات اور جسم فروشی جیسے دھندوں میں شامل ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے کا حصہ رہ کر شرم محسوس تو ہوتی ہے جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں تو آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال تو بنتا ہے کہ کیا یہ ملک یہ آزاد ریاست صرف اشرافیہ کی ہے ۔کیا چند لوگ اس قوم اور ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں سفارش اور رشوت دے کر منصف کے منصب پر بیٹھنے والے یہ دو ٹکے کے ضمیر فروش لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟

    ایسے وطن فروش کس قانون کے تحت فیصلے اپنی مرضی سے کرتے کرتے ہیں میں ایک پاکستانی شہری ہوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزاد فرد ہوں۔ میرا حق بنتا ہے میں ایسے قاضی سے سوال کروں وہ کس قانون کے تحت توہین عدالت ہر اس شہری پر لگا سکتا ہے جو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بات کرتا ہو۔ جس عدالت کے باہر چند ٹکوں کے بدلے جھوٹے گواہ ملتے ہیں۔ اسی عدالت کا قاضی جھوٹے فیصلوں کے لئے چند ٹکوں پر بک جاتا ہے ۔لگتا تو پھر ایسے ہی ہے کہ میرے ملک کے اندر جنگل کا قانون بھی نہیں ہے جانوروں کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہوں گے۔

    مگر یہاں میرے معاشرے میں تو ہر طاقتور وقت کا فرعون ہے۔کوئی بھی صاحب اقتدار ہر بااختیار خود کو وقت کا خدا سمجھ لیتا ہے۔

    ہم سب کو ایسے اشرافیہ کے خلاف اعلان بغاوت کرنا ہو گا ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے جس میں طاقتور کو چھوڑ دیا جائے غریب کی زندگی تباہ کر دی جائے ۔کیا اس ملک کی بڑی عدالت میں بیٹھا وہ جج جواب دے گا۔ جس نے ہزاروں نواجوانوں کی زندگیاں اندھیری کوٹھڑیوں کی نظر کر دی ہیں۔ یاد رکھیں ایک عدالت خدا کی بھی ہے لیکن وہاں جانے سے پہلے میں سوال کرتی ہوں اگر انصاف قائم نہیں کر سکتے تو میں یہ حق محفوظ رکھتی ہوں ۔ ایسے قاضی کا گریبان ہو گا میرا ہاتھ ہو گا میں ایسے اندھے قانون پر یقین نہیں رکھتی جس میں منصف بھی اندھا ہو جس میں حاکم وقت بھی اندھا ہو جہاں پورا معاشرہ اندھا بن جائے۔
    @SeharSulehri

  • امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیر یا غریب ہونا نا تو عزت کا باعث ہے نا ہی ذلت کا ۔۔
    غربت کی سب سے بڑی وجہ روزگاری ہے اسلام آباد: مالی سال 21-2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ اس کی زمے داری نا تو آنے والی حکومت قبول کرتی ہے نا ہی جانے والی ۔۔ ہمارے ملک پاکستان میں امیر اور امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب اور غربت میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے نا جانے کیسے کیسے کر کے ماں باپ بچوں کی تعلیم مکمل کرواتے ہیں ان کے بہتر مستقبل کے لیے۔۔ اس پر تعلیم کا حال ایسا ہے نا تو ٹیچرز اس قابل ہیں جو بہتر تعلیم دے سکیں غریب انسان گورنمنٹ اسکول میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے وہ بھی مشکل سے۔۔
    اس پر ستم یہ ہے 90 فیصد گورنمنٹ اسکول میں سیاسی بھرتی ہوتی ہے کچھ گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں تو کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔۔
    باقی جو بچتے ہیں وہ کیسے تمام مضامین پڑھا سکتے ہیں۔۔ صاحب حیثیت حضرت پرائیویٹ اسکول افورٹ کر لیتے ہیں اور کچھ تو بیرونے ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتےہیں۔۔ کیا غریب کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیا اس کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔۔
    جب اس کو بنیادی حقوق نہیں مل سکتے تو پھر کیوں ان سے ووٹ کی بھیک مانگ کر یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔۔ غریب انسان ہر بار دھوکا کھاتا ہے یہ سوچ کر اب کچھ اچھا ہوگا اب اس کے بچوں کا بہتر مستقبل ہوگا مگر کچھ مہینوں میں پتہ چلتا ہے ملک کی حالت خطرے میں ہے۔۔ پھر وہ بیچارہ اپنے ملک کے لیے دعا کرنے لگ جاتا ہے۔۔ آخر یہ سب کب تک چلے گا کیوں ہر بار اس کو امید کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔۔ اس سے بہتر ہے ایک بار ہی سچ بول کر قصہ ختم کر دیا جائے تا کے وہ اپنی زندگی میں ایسی خواہش تو نا کرئے جو وہ پوری نا ہو سکے۔۔ڈگریاں ملنے پر بھی درد درد کی ڈھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریاں وہ ہی بچے حاصل کرتے ہیں جو اپنے اور ماں باپ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔۔ ڈگریاں لے کر بھی ٹھیلا یا رکشہ یا بیکری یا فورٹ پانڈا یا شاپنگ مال پر ہی کام کرنا ہے تو پھر ماں باپ کو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دیلوانے کا کیا فائدہ۔۔اور اگر کیسی کے بیٹا نا ہو وہ تو بیچارہ ساری زندگی یہ ہی سوچ سوچ کے موت کے منہ میں چلا جائے گا اگر کل کو اس کو کچھ ہو گیا تو اس کی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔۔ میرا یہ کہنے کا بھی ہرگز مطلب نہیں ہے کے نعوذباللہ اللہ ان کو چھوڑ دے گا۔ مگر میں ایک باپ ہونے کی حیثیت سے بول رہا ہوں۔۔ واللہ میں خود اللہ سے اپنے لیے اتنی زندگی کی گزارش کرتا ہوں یا رب مجھے اتنی زندگی دینا میں تیرے فضل وکرم کے ساتھ اپنی سب بیٹوں کو عزت سے رخصت کر سکوں۔۔

    غریب شہر تو فاقے سے مر گیا صاحب۔
    امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی۔

    غریب ہونا گناہ نہیں ہے پر اب لگتا ہے غربت ہی گناہ ہوتی جا رہی ہے۔۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔۔
    @MSA_47

  • استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین

    استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین


    آج کل کے شاگرد اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہی نہیں بلکہ استاد کی ہمیشہ تذلیل کرتے ہیں ایسے بہت سے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے گزرے ہیں جہاں شاگرد اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں
    استاد روحانی ماں باپ کا درجہ رکھتا ہے جہاں ماں باپ بچے کی تربیت کرتے ہیں وہی استاد اسے تعلیم سے آراستہ کرکے ایک مضبوط انسان بتاتا ہے استاد ہمیشہ استاد ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کے کسی شعبے سے منسلک ہو آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی استاد کا واقع بتاتے ہیں جس نے ایک شاگرد کو ہنر سکھایا اور وہی شاگرد استاد کے مقابلے میں ہو گیا
    ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺩﺍﺅ ﭘﯿﭻ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺍﻧﺴﭩﮫ ﺩﺍﺅ ﺳﮑﮭﺎ ﺩیئے ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ۔

    ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺯﻋﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻓﻮﻗﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣَﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔

    ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩَﻧﮕﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﮨﺎﻧﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻋُﮩﺪﮮ ﺩﺍﺭ، ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺖ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩَﻧﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻗﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺍﺅ ﮐﺎ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﺩﺍﺅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﭩﺦ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ

    ﺍﺱ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﮩﻠﯽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﻟﺖ، ﺷﮩﺮﺕ، ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻡ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮑﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ بنتا ﮨﮯ۔ ﺍﺱ لئے ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
    ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﮮ ہرگز نہ کرے نہیں ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷُﻌﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻣُﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ
    کچھ دن قبل ہمارے علاقے کے نامور پہلوان کلیم اللہ بچار جو ملکی و غیر ملکی کشتیوں میں اپنا مقام رکھتے تھے جنہوں بڑے بڑے نامور پہلوانوں کو دھول چٹا دی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے کلیم اللہ بچار ضلع مظفرگڑھ کے نامور پہلوان تھے حکومت کی سرپرستی نا ہونے کی وجہ سے سوائے کرکٹ کے باقی کوئی کھیل نہیں بچا !
    کلیم اللہ بچار خوش مزاج ، ماں باپ اور اساتذہ کی عزت کرنے والے انسان تھے میری دعا ہے کہ :
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‎@SabirHussain43

  • انصاف اور وطن عزیز پاکستان  تحریر :عدنان یوسفزئی

    انصاف اور وطن عزیز پاکستان تحریر :عدنان یوسفزئی

    یہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا زمانہ ہے۔ ایک عورت ایک بچے کو اپنے گود میں لئے آتی ہے۔ وە عورت خلیفہ دوم سے یہ شکایت لگاتی ہے کہ یہ بچہ آپ کے بیٹے کی امانت ہے۔ فورا فرمان جاری ہوتا ہے کہ میرے بیٹے کو حاضر کیا جائے ۔

    اب دنیا یہ تماشا دیکھتی ہے کہ بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے خلیفہ عمر فاروق رضی الله عنہ اپنے  بیٹے پر حد قائم کررہاہے۔

    اب خلیفہ کے سامنے اسکے اپنے بیٹے پر کوڑے برس رہے ہیں۔جس وقت  جب کوڑے پورے ہونے لگتے ہیں، اس دوران خلیفہ کا بیٹا نزع کی حالت میں چلا جاتا ہے ۔اس وقت خلیفہ دوڑ کر اپنے بیٹے کو گود میں لیتا ہے۔

    وہ اپنے بیٹے سے کہتا ہے کہ اے میرے بیٹے، جب تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے پہنچ جاؤ تو حضور صلی الله علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ اے اللہ کے رسول! عمر رضہ الله عنہ نے انصاف قائم کرنے میں اپنے بیٹے کو بھی معاف نہیں کیا۔
    جس معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے  ،وہاں پر حقدار کو ان کا حق ملتا ہے۔

    جس معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے، وہاں پر کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا ۔ظالم کو اپنے ظلم کے انجام کا پتہ ہوتا ہے -انصاف ہی تو ہے جس کے نفاذ سے ہم مثالی امن دیکھ سکتے ہے۔

    انصاف اگر ہوگا تو وہاں پر مظلوم اپنے آپ کو بے آسرا  نہیں تصور کرے گا۔

    اسلام میں انصاف کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہےکہ میری امت اسی وقت تک سر سبز رہے گی جت تک یہ تین خصلتیں اس میں باقی رہیں گی۔ایک یہ کہ جب وہ بات کرے تو سچ بولیں

    دوسرے یہ کہ جب وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں تو انصاف کو
    ہاتھ سے نہ جانے دیں۔تیسرے یہ کہ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ کمزوروں پر رحم کریں۔اسلامی معاشرے میں جب اسلام کے انصاف پر مبنی  قوانین نافذ ہوتےہیں، وہاں پر قاضی کے سامنے ایک خلیفہ اور ایک مشرک دونوں ایک  جیسے انداز میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

    وہاں پر قاضی اس مشرک کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور قول ہے کہ ایک سلطنت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

    وطن عزیز پاکستان کو جو مسائل درپیش ہے، انکا اصل وجہ انصاف کی فقدان ہے۔پاکستان میں آمیر اور غریب کے لیے انصاف کے الگ الگ پیمانے ہیں۔ایک آمیر کو پاکستان کے لوگوں کی اربوں روپوں کے چرانے اور باہر ملک بھیجوانے پر زیادہ سے زیادہ یہ سزا دی جاتی ہے کہ اسکو ایک عہدے سے فارغ کرکے دوسرے عہدے پر لگایا جاتا ہے۔جبکہ ایک غریب کو غلطی سے بتی تھوڑنے پر بھی  بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔
    اب ہمارے ہاں ایسے جرائم منظرعام پر آرہے ہیں جن کی بابت چند عشرے قبل تک سوچنا بھی محال تھا۔ اس سے زیادہ پستی اور گھناؤنی حرکت کیا ہوگی کہ باپ اپنے ساتھیوں کو معصوم بیٹی پر ظلم کرنے کی دعوت دیتا پایا گیا۔ تعجب خیز امر یہ کہ گھناؤنے جرائم میں ملوث مجرم ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے اور بے حس دکھائی دیتے ہیں۔

    کمزور قانونی نظام نے ان سے غلط اور درست، خیر اور شر کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی کو فوری انصاف کیونکر مہیا کیا جائے؟ انصاف نہ ملنے سے پاکستانی معاشرے میں انتشار اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا قانونی نظام مضبوط و مستحکم بنانا اشد ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو فوری انصاف مل سکے۔ فی الوقت تو پاکستان میں دوہرا قانونی نظام مروج ہے۔

    طاقتور، دولت مند اور بااثر پاکستانی جرم کرکے بھی رہا ہوجاتا ہے جبکہ غریب پاکستانی جرم نہ کرنے پر بھی جیل کی ہوا کھانے پر مجبور ہے۔ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔

    آخر میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب تک پاکستان میں انصاف کی واقعی عملداری نہیں ہوتی، تب تک ملک بدامنی اور شر وفساد کا شکار ہوتا رہے گا -اسلئے ارباب اقتدار کو چاہیے کہ انصاف کی عملداری کو قائم کیا جائے ۔حقدار کو انکا حق ملے اور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے نجات دی جائے۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم تعلیمی تجربات کی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو طلباء کو متنوع نقطہ نظر کی تعریف کرنے ، بالترتیب وسیع دنیا سے ان کے رابطوں کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے اور ثقافتوں اور ممالک میں تعاون کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اور انضباطی اور بین الضابطہ علم کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان مسائل کی تحقیقات اور کارروائی کی جاسکے۔ ان کے لیے اور وسیع دنیا کے لیے۔ عالمی تعلیم ایک "اضافی” یا "اچھا ہونا” کورس نہیں ہونا چاہیے جسے صرف مٹھی بھر طلباء ہی لے سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے اسکول کے آخری چند ہفتوں میں کسی تفریحی منصوبے سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ کیوں؟ عالمی مسائل اور نقطہ نظر کو کسی بھی اور تمام مواد کے شعبوں کو سکھانے کے لیے بطور لینس آسانی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ، عالمی تعلیم مندرجہ ذیل جامع طالب علموں کے نتائج کا باعث بن سکتی ہے جو تعلیمی کامیابی اور مجموعی طور پر فلاح کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب طلبہ مستند کاموں اور حقیقی دنیا کے تجربات کے ذریعے مواد سیکھتے ہیں تو ان کے مشغول ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں زیادہ حاضری اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عالمی تعلیم طلباء کو حقیقی دنیا کے مسائل اور سرگرمیوں سے براہ راست مشغول کرتی ہے۔ طالب علموں کو میکسیکو میں ساتھیوں کے ساتھ اسکائپ کرنے کے مقابلے میں ہسپانوی زبان پر آمادہ کرنے کا کیا بہتر طریقہ ہے ، یا انہیں عالمی موجودہ واقعات پر براہ راست سرخیوں سے کھینچ کر مباحثہ پر مبنی مضمون لکھنے کی مہارت سکھائیں۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ، 40 ملین سے زیادہ امریکی ملازمتیں بین الاقوامی تجارت سے منسلک ہیں۔ آج کل آجر اعلی ثقافتی مہارتوں کے حامل اعلی گریجویٹس کے لیے بے چین ہیں جو انہیں متنوع ٹیموں اور پوری دنیا کے گاہکوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ طلباء کو وسیع دنیا اور اس میں لوگوں ، ثقافتوں اور نقطہء نظر کے تنوع کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ، اسکول طلباء کو بازار میں مسابقتیہ برتری بھی دے رہے ہیں۔
    دنیا سے اور اس کے ساتھ سیکھنا نہ صرف طلباء کی تعلیمی ترقی کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ ان کی سماجی جذباتی نشوونما میں بھی معاون ہوتا ہے۔ عالمی تعلیم کسی کی اپنی شناخت ، ثقافت ، عقائد اور وسیع تر دنیا کے ساتھ کس طرح جڑتی ہے ، سماجی ہمدردی بشمول ہمدردی ، نقطہ نظر لینے ، تنوع کی تعریف کرنے ، اور دوسروں کا احترام کرنے ، اور مختلف افراد اور گروہوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی مہارت کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مؤثر مواصلات اور تعاون کے ذریعے
    گلوبل لرننگ طلباء کو قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے بامقصد کارروائی کریں۔ جب طلبہ کو ان مسائل کی چھان بین کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں (چاہے وہ بندوق کا تشدد ہو ، صاف پانی تک رسائی ہو ، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو) ، ان مسائل کو کیوں کھولیں ، اور ان کو بہتر بنانے کے لیے حل نکالیں ، وہ بااختیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ متعدد اساتذہ اور اسکول کے منتظمین عالمی تعلیمی اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں ، میں نے تصدیق کے ساتھ کام کیا ہے ، ایک بار جب آپ طلباء کے لیے ایکشن لینے کے دروازے کھولیں گے تو آپ فنڈ ریزرز ، مہمات ، پراجیکٹس ، پروگراموں اور احتجاج پر حیران رہ جائیں گے۔ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔
    @aliaqib7301

  • سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ  تحریر:خدیجہ نقوی

    سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ تحریر:خدیجہ نقوی

    چند دنوں پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک ویڈیو ہر عام و خاص کی زباں پہ محو گفتگو تھی۔ جی ہاں میں لاھور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی وائرل ویڈیو کی ہی بات کر رہی ہوں۔
    اس ویڈیو نے اپنے ہر طبقہ فکر کو اپنے اندر سمو لیا تھا کچھ لوگ لڑکی لڑکے کہ محبت کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے تو وہیں ایک طبقہ ایسا تو جو اسلامی نقطئہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔ جب بات عورت کی آۓ اور اس طرح آۓ تو میرا جسم میری مرضی والی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام میں سے صرف اپنے مطلب کو justify کرتا حصہ اٹھایا اور اس عمل کی حمایت میں اس جواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ کہ اسلام میں لڑکی کو اسکی مرضی کا پورا اختیار دیا ھے۔
    بات رسد و طلب کے خط کی طرح اپنی اونچائی کو چھو کہ آہستہ آہستہ گرنے لگی اور لوگ اس واقعے کو بھولنے لگے۔اس کے کچھ عرصے بعد سننے میں آیا کہ دونوں کی شادی ہو گئ ھے۔اور چ
    پھر یہ خبر آئ کہ شادی نہیں ہوئ بات پکی ہو گئ ھے تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی ہو جاۓ گی جس سے ایک تسلی ہوئ کہ چلو آخر کو جو ہوا س ہوا مگر یہ ایک اچھا انجام ہو گا۔ایک دن ہونہی فیس بک سکرولنگ کے دوران ایک ویب چینل پہ لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کا انٹرویو نظروں سے گزرا کہ جسے دیکھ کہ میں سر پکڑ کہ رہ گئ کہ ایک لڑکی جو اپنی اپنے ماں باپ کی عزت کو پس پشت رکھ کہ سرعام شہریار کو پرپوز کرتی ھے اور وہ اس لئے کہ لوگوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں اور جس کا جواب شہریار بھی مثبت انداز میں دیتا دیکھائی دیتا ہے لیکن کچھ عرصے میں وہ لڑکا اپنے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوۓ فیملی پریشر میں رشتہ ختم کئے اگلی زندگی کی جانب رواں دواں ہوتا ھے۔
    یہاں سوال میرا ان لنڈے کے لبرلز سے ھے کہ کل تک جو محبت کے قصیدے پڑھتے تھکتے ہیں اب اس بے وفائی پہ کچھ تو شرم کر لیں۔
    سوشل میڈیا کی آزادی ڈراموں اور فلموں میں کالج یونیورسٹی کی عشق محبت کی لازوال داستانیں آپ کے بچوں کو یونیورسٹی میں آئنسٹائن یا نیوٹن نہیں بلکہ ہیر رانجھا۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کا پیروکار بنا رہی ھے۔
    حد تو اس وقت ہوتی ھے جب یونیورسٹی کے انتظامیہ اس پہ کوئ سخت ایکشن نہیں لیتی جب تک ان پہ معاشرتی دباؤ نہ آۓ۔۔۔ شہریار اور حدیقہ کے کیس میں بھی یہی ہوا ان سے پہلے اس یونیورسٹی میں دو طلبہ کہ طرف سے دو بار یہ ڈرامہ ہو چکا ھے مگر وہ ایکسپیل ہونے سے بس اس لے بچے کہ انکی ویڈیوز وائرل نہیں ہوئ۔ اور یونیورسٹی پہ کوئی معاشرتی اور اخلاقی دباؤ نہ تھا۔
    یہاں ایک سوال ان تعلیمی اداروں سے بھی ھے کہ مدرسے تو صرف درس و تدریس کا مسکن تھے تو کیوں آج انڈین گانوں پہ کالج یونیورسٹی کی فنکشنوں میں نوجوان اساتذہ کے سامنے تھرکتے پھرتے ہیں۔
    کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادراے مغربی ثکافت کی پرچھائ بن گۓ ہیں۔۔۔
    یہاں سوال اس باپ سے ھے کہ جس نے اچھا کمانے کے لیے دن رات ایک کردیا اولاد کو خود سے دور اور زندگی کے نازک ترین دور میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جہاں باپ کی نظر میں یہ تک نہ آیا کہ میرا بیٹا یا بیٹی کس سے بات کرتا ھے کس طرح کی بات کرتا ھے۔
    یہاں سوال ھے ایک ماں سے آج کی۔ماں جس کی زندگی میں گھر کے کام اور سوشل میڈیا رچ بس گیا ھے اپنا فارغ وقت اپنے پہ لگانے کی غرض سے یو ٹیوب فیس بک پہ وقت گزارنے والی خواتین اپنی بچیوں کی پرسنل زندگی میں اب کیوں دخل اندازی نہیں کرتی۔ بچوں کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ بلکہ آزادی تو یہ ھے کہ لڑکیاں جب کیپٹن مریم بن کے شہید ہوتی ھیں بے نظیر بن کے سیاست میں قدم رکھتی ہیں تو والدین کے ساتھ قوموں کا فخر بن جاتی ھیں۔

    Twitter ID ‎@KhadijaNaqvi01

  • جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    آئے روز اس دنیا میں نئی سے نئی ایجادات اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائے جانے کی اس دوڑ میں جہاں اِس اشرف المخلوقات نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بہت ساری کامیاب ایجادات کی ہیں۔ اُنہی ایجادات میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں تقریباً ہر ایک انسان کے استعمال میں رہنے والے سمارٹ سسٹم موبائل فونز بھی ہیں۔

    جیساکہ اِس سے پہلے بھی اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے منفی اور بُرے اثرات پر میرے تین کالمز شائع ہو چکے ہیں تو آج میں اپنی اِس تحریر کے زریعے اِن موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے اچھے اور مثبت اثرات بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر ہم اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے فوائد کو دیکھیں تو یہ اَن گنت ہیں جن کا شمار کیا جانا بھی بہت مشکل ہے، لیکن میں اپنے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک زیادہ سے زیادہ فوائد کا تفصیلاً ذکر کر سکوں۔

    ~ تیز ترین پیغام رسانی، ڈیجیٹل کتابت کا بہترین زریعہ اور قرآن و حدیث تک کا موبائل کے زریعے مطالعہ بھی ایک بڑی سہولیات میں سے ایک ہے۔

    اس موجودہ اکیسویں صدی میں اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی کے زریعے اب ہر کام آسان و سہل ہونے کے ساتھ ساتھ تیز ترین بھی ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے وقتوں میں ہمیں جہاں اپنے کسی جاننے والے کو اپنا ایک پیغام پہنچانے کیلئے کئی کئی ہفتوں اور مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا، اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز نے ہمارا یہ کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ اب اگر ہمیں پوری دنیا میں کہیں بھی کسی کو اپنا کوئی پیغام بھجوانا ہو یا پھر اُن سے بات کرنی ہو تو اِن موبائل فونز کے زریعے پلک جھپکتے ہی ہمارا پیغام اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ جاتا ہے۔

    پوری دنیا میں کہیں بھی اب آپ کا کسی سے بات کرنے کے لیے بس اُس کا رابطہ نمبر ہونا ضروری ہے جس کے زریعے سے آپ اُن سے کسی بھی وقت خواہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، آپ اپنا پیغام لکھ کر، اپنی آواز ریکارڈ کر کے یا پھر آپ براہ راست آپس میں بات کر کے بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اور پھر آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کے نام سے پکاری جانے والی لا تعداد ایپلیکیشنز بھی ایجاد ہو چکی ہیں، جنہیں ہم اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز میں انسٹال کرنے کے بعد اُن کے زریعے سے بھی ہم آپس میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو کال کے زریعے ہم آپس میں باتیں بھی کر سکتے ہیں۔ جو کہ ایک انتہاء درجے کی ترقی، سہولت اور فوائد میں سے ایک ہے۔

    اسی طرح پہلے ادوار میں اگر ہمیں اپنی کوئی من پسند کتاب پڑھنے کا جی چاہتا تھا تو اُسے ڈھونڈنے کے لیے کئی کئی دن صَرف کرنے پڑتے تھے، بعض اوقات تو ہفتے اور مہینے بھی لگ جایا کرتے تھے۔ لیکن جب سے یہ جدید سسٹم موبائل فونز عام ہوئے ہیں تب سے آپ کو صرف انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے زریعے سے آپ کسی بھی مصنف کی کوئی بھی کتاب چند منٹوں میں انٹرنیٹ کے زریعے ڈھونڈ کر ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور اسے اپنے موبائل پہ ہی پڑھ بھی سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ پھر آپ اخبارات، رسائل، تدریسی و ادبی اور تاریخی کتب، شعر و شاعری، اقبالیات، فنونِ لطیفہ اور ہر وہ اقسام کی کتابیں جو آپ کو پسند ہوں اور آپ پڑھنا چاہتے ہوں، چند منٹوں میں انہیں بھی انٹرنیٹ کے زریعے سے ڈھونڈ کر پڑھ سکتے ہیں۔ جو کہ اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کی وجہ سے ہی ہمارے بہت سارے وقت کی بچت بھی ممکن ہوئی ہے اور یہ ایک بہت ہی بہترین اور آسان سہولتوں میں سے بھی ایک ہے۔

    اس کے بعد اگر ہم اسلامی لحاظ سے بھی دیکھیں تو پہلے جہاں ہمیں قرآن مجید کے علاوہ باقی جتنی بھی کتب تھیں (کیونکہ قرآن مجید تو الحمد للہ ہر گھر میں بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں) جن میں قرآن مجید کا مختلف علماء کا کیا ہو ترجمہ، قرآن مجید کی تفسیر، احادیث کی کتب اور اِن کے علاوہ جتنی بھی اسلامی کتب تھیں، اُن کو پڑھنے کی غرض سے حاصل کرنے کے لیے ہمیں دور دراز شہروں میں موجود لائبریریوں اور کتابوں کی دوکانوں پہ جانا پڑتا تھا اور بعض اوقات تو ہمیں اپنی مطلوبہ کتب عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں، جس کا پھر کافی دنوں یا ہفتوں اور بعض دفعہ تو مہینوں تک کا انتظار کرنے کے بعد، وہ بھی سپیشل آرڈر کی صورت میں منگوانے پر بامشکل ملا کرتی تھیں۔

    تو اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہمیں قرآن مجید کی بھی بہت ساری ایسی ایپلیکشنز مل جاتی ہیں، جن کو ہم انٹرنیٹ کے زریعے سے اپنے اِن موبائل فونز میں ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں اور پھر جب چاہیں اسے انٹرنیٹ کے بغیر ہی تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ آپ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر، احادیث قدسیہ، فقہاہ اور تقریباً ہر طبقہ فِکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی لکھی گئی کتابیں، پھر ان کی تقاریر اور دینوی و دنیاوی مسائل پہ اُنکی کی گئی جراح کو بھی اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز پہ ہی پڑھ، سُن اور دیکھ بھی سکتے ہیں۔ جِس سے ہمارے وقت کی بھی بہت ساری بچت ہو جاتی ہے اور ہم ایک ہی موضوع پہ مختلف علماء کی لکھی ہوئی کتابوں سے حوالے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک انتہائی اعلٰی درجے کی سہولت اور بڑے فوائد میں سے ایک بھی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ ہم پہ بطور مسلمان اور ایک اچھے محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناطے سے بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی اور اِن جدید سسٹم موبائل فونز کو ایک غنیمت اور نعمت جانتے ہوئے جہاں تک ہو سکے نیکی اور اچھائی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اِن موبائل فونز کے زریعے سے ہی پھیلائی جانے والی لا تعداد برائیوں، ان کے بُرے اسباب، استعمال اور اثرات سے بھی دوسروں کو بچانے کی جتنی ممکن ہو سکے، کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ تاکہ ہم اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK