Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    گزرتے وقت کے ساتھ ماد روطن میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواہ وہ چوری ڈکیتی ہو، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی یا پھر لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ۔ جنسی زیادتی کے علاوہ منشیات فروشی سے نوجوان نسل کو اس منحوس لت میں مبتلا کروا کر ان کی وڈیوزکے ذریعے قابل اعتراض بنا کر انہیں بلیک میل بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو نہ صرف گھناؤنہ اقدام ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ اس لحاظ سے تمام صوبے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ حکومت کا اپنا کردار ہے جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجائے اپنی پوری توجہ اپوزیشن پر الزام تراشی پر ہی رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سب کے سب اپنا ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کاقیمتی وقت برباد کر کے عوام کو در بدر کرا رہی ہیں۔ ملک نہ ہوا بلکہ جنجال پورہ بن چکا ہے۔ آخر حکومت اور حکمراں کب سنجیدہ ہوں گے اوراپنی مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کرائیں گے۔ تین برسوں سے یہی تماشاجاری ہے۔ شہری اس صورت حال سے بہت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پالیسی میکر بھی اس اہم باریکیوں کی جانب توجہ دیں جن پر بار بار ایک پیج پر ہونے کا واویلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس کے اقتدار کے تین برس کم نہیں ہوتے۔ کرنے والوں کے لیے پندرہ دن بھی بہت ہوتے ہیں مگر اس کے لیے قوت ارادی کا فعال ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف اب اپنے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔!! ٭

  • 5 اگست یوم استحصال کشمیر   تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست یوم استحصال کشمیر تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا اور کشمیریوں پر ظلم کا ایک نیا دور شروع کیا۔ آئین ہند میں کشمیر پر دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے۔ آرٹیکل 370 جو مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا
    اور آرٹیکل 35 اے کے تحت یہ واضح کیا گیا تھا کہ کون مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔
    اسکے ختم ہونے کے بعد سے تب سے وہاں بدترین مظالم شروع ہو گئے۔ کشمیری عوام بیرونی دنیا سے کٹ گئے اور وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کے منسوخ ہونے کے بعد سے صورتحال خراب ہو گئی ہے۔
    کشمیری عوام کے لیے صدیوں سے ہر لمحہ بھاری ہے۔
    ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور علاقے میں کسی احتجاج یا اجتماع کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہیں۔

    یہ عمل کیا ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے ، حوا زادیوں کی معصومیت کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے ، کشمیروں کو قید کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر آتش فشاں کی بارش کی جاتی ہے۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں جانداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے ہتھوڑے ہتھوڑوں سے توڑے جاتے ہیں ، ناخن نکالے جاتے ہیں ، اور ان کے سر اور داڑھی کے بال نوچ لیے جاتے ہیں۔

    آج کشمیر ایک خونی سوالیہ نشان ہے جو قلم کی نوک سے ٹپک رہا ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

    جہاں بھارتی سامراج کے ظلم نے آگ بھڑکا رکھی وہیں کشمیری عوام کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ہمت اور بہادری کے نشان ، آج کشمیر کا ہر گھر محاز جنگ کی کیفیت میں، ہر گلی میدان جنگ ہے ۔ کشمیر کا ہر گھر شہیدوں کے خون سے روشن ہو رہا ہے۔ کشمیری عوام بغیر کسی بیرونی مدد کے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ اپنے ہی خون میں ڈوب رہے ہیں اور کشمیر کی آزادی کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ بھارتی قاتل طاقتیں کشمیر پر اپنے خونی پنجے بچھا رہی ہیں ، لیکن آزادی کشمیر کے ہر سانس سے "کشمیر بنے گا پاکستان” کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کا کیا قصور ہے؟
    ایک پرندہ بھی پنجرے سے آزادی چاہتا ہے تو پھر ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو آزادی کیوں نہیں؟
    تقسیم ہند کے دوران بھارتی حکومت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا اور آج تک وہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہیں دیا گیا۔

    1948 کی جنگ آزادی میں جب ہندو سامراج نے کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا۔ 1948 اور پھر 1949 کی قراردادوں میں سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ کشمیری عوام سے آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے طلب کی جائے گی کہ وہ کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھارت کتنا بھی تندہی سے کام کرے ، وہ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پنڈت نہرو نے خود اپنی پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ "اگر کشمیری آزادانہ حق رائے دہی کے معاملے میں ہمارے خلاف فیصلہ کریں گے تو ہم اسے قبول کریں گے۔” لیکن وہ دن اور آج ہندوستان ہے بے شرمی سے کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پاکستانی ریاست اور یہاں کا ہر شہری کشمیری عوام کے درد کو سمجھتا ہے۔ آج مسئلہ کشمیر کو ہر محاذ اور ہر سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ دو سال قبل اپنے دورہ امریکہ کے دوران ، وزیر اعظم نے کشمیری عوام کا موقف صدر ٹرمپ کو بغیر کسی غیر یقینی شرائط کے پہنچایا۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ ہمارے وزیر خارجہ اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات بھی کر رہے ہیں ، جو مختلف معاملات میں مثبت نتائج دکھا رہے ہیں۔ پچاس سال بعد ، اگست 2019 میں ، پاکستان کی درخواست پر ، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔ اسی طرح ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ایک وفد نے کشمیر کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ نومبر 2019 میں جب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے کھل کر کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم ممالک بشمول یورپ اور امریکہ نے کم از کم مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف بھارت کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کریں۔

    ہمیں ہر محاذ پر موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا کو اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی مدد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو جنگ کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل سمجھتے ہیں ، وہ دھوکے کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ جدید ریاستیں ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا مطلب پورے خطے کو آگ اور گولہ بارود کا ذریعہ بنانا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ سے گریز کر رہا ہے ، بلکہ یہ کہ پاکستان کسی غیر ذمہ دار ریاست کی طرح غصے میں جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آج اگر اس جنت کی وادی کو بھارتی سامراج نے روند ڈالا۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخیاں کھو رہے ہیں اور شہداء کے خون سے لال ہو رہے ہیں۔ ان گنت مظلوم لوگوں کی آہیں اور جو ظلم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ عرش الٰہی کا طواف کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ سارا منظر دل دہلا دینے والا ہے ، لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ آزادی کے طلوع ہونے کا پہلا پیش خیمہ ہے۔
    Twitter Handle
    ‎@Patriot_Mani

  • جدید دور کا نظام تعلیم  تحریر : شاہ زیب

    جدید دور کا نظام تعلیم تحریر : شاہ زیب

    وطن عزیز میں جدید دور اور نظام تعلیم کے نام پر جو فحاشی پھیلائی جا رہی ہے اس کے قصور وار سب سے پہلے ہمارے ملک کا میڈیا جو ڈراموں میں فحاشی کو پرموٹ کر رہا ہے۔

    اچھی تعلیم کے نام پر سب سے پہلے دوپٹہ چھین لیا جاتا ہے اور پھر یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے نام پر لباس تبدیل کر دیا جاتا ۔

    جدید دور کا آغاز فحاشی کو فروغ دینے سے ہرگز نہیں وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ میڈیا ڈراموں میں مغربی لباس کو فروغ دیتا ہے اور ہماری عوام ان کے لباس کی کاپی کرنا شروع کر دیتے یہاں تک کے لڑکے لڑکیوں والا ڈریسنگ زیب تن کر رہے ہیں اور لڑکیاں لڑکوں والے

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” لعنت ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ”

    میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ فحاشی کے نام سے عورت سے تعلیم چھین لی جائے یہ موضوع لکھنے کا مقصد صرف اپنی اور معاشرے کی بھلائی کے لئے ھے

    آپ سبھی جانتے ہیں انسان کا لباس موسم اثرات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ سماجی شخصیت بھی ظاہر کرتا ہے جیسے کہ ڈاکٹر پولیس فوجی جوان اور وکیل وغیرہ اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اسی طرح اچھے مسلمان مردوں اور خواتین کی پہچان بھی اس کا لباس ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہوا ہے

    کامیابی اور ترقی صرف تعلیم سے آراستہ ہے لیکن اگر الیکٹرانک میڈیا والے ترقی کے نام سے پردہ چھین رہے ہو تو یہ گمراہی ہے مغرب کی کاپی کرنا ہے تو ڈراموں میں عدل و انصاف بھی کریں یی بچوں اور بچیوں کے حقوق دیں جس سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا نہ ہو

    فحاشی کے روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جو ہماری اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اس کا بہترین حل ہے پیمرا کوئی بھی ایسا ڈرامہ ریلیز نہ ہونے دیں جس میں بے حیائی پرموٹ کی جا رہی ہو
    تو کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ۔
    دوسری بات روایتی تہذیبی و مذہبی پروگرام میں نوجوانوں کی تربیت کی جائے پبلک مقامات پر فحاشی کے خلاف مزاحمت کریں۔ شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • سیاہ یا سخت دل کیا ہے اس کی نشانیاں اور نقصانات تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    سیاہ یا سخت دل کیا ہے اس کی نشانیاں اور نقصانات تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان کی زندگی خوشیوں غموں آزمائشوں اور خوشحالی کا مرکب ہے. کبھی اس پر خوشیوں کی بہار رہتی تو بھی غموں کی دھوپ کبھی اسے آزمائشوں کے تپتے صحرا گزرنے پڑتے تو کبھی خوشحالی کی ہریالی نصیب ہوتی. یہاں تک کہ بیماری صحت اور اس جیسے امتحانات بھی اسی زندگی کا حصہ ہیں. انسان پر جب آزمائش یا پریشانی آتی ہے تو وہ رب کریم کی طرف پلٹتا ہے اور جب خوشحال ہوتا ہے تو رب کریم کی بندگی کو اہمیت نہیں دیتا.
    رب کریم نے اپنی لاریب کتاب میں اے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے.
    اللہ کریم نے ارشاد فرمایا.
    وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ

    سورہ زمر کی ایت نمبر 8 کے اس حصے میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا.
    اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب اللہ اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرے تو وہ اس تکلیف کوبھول جاتا ہے جسکی طرف وہ پہلے پکاررہا تھا.
    اسی زمرے میں نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ راحت و آسائش کے دنوں میں اللہ کریم سے بکثرت دعا کرے۔
    جب انسان پر خوشحالی کا دور آتا ہے تو وہ اللَّهُ کریم کی عطائیں بھول جاتا ہے. اپنے من مستی کی زندگی میں لوٹ جاتا ہے. گناہ کرنے لگتا ہے اور اپنی تنگدستی کے دور کو بھول جاتا ہے. جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے. اور انسان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا. چونکہ شیطان بھی شامل حال ہوتا ہے تو انسان گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور انسان کا دل ہوتے ہوتے سیاہ اور سخت ہو جاتا ہے.

    سیاہ دل کے نقصانات کیا ہیں. 1. انسان کا رب کی راہ میں دل نہ لگنا.
    انسان کو ہر نیکی کے کام میں کیڑے دکھتے ہیں. جیسا کہ

    خیرات نہیں کرتا کہ دولت کم ہو جائے گی.
    نماز نہیں پڑھتا کہ بوڑھوں کا کام ہے.
    نیکی کرنے والوں پر طنز کرتا ہے بڑے آے صوفی صاحب.
    2. شعور گناہ کا ختم ہو جانا.
    ہر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور فخر سے اپنے کیے کا چرچا کرتا ہے. ناحق مال ہڑپتا ہے اور اپنی دھونس بنانے کے لئے اس کا چرچا کرتا ہے.
    دھوکا دے کر اپنی عقل مندی کے گیت گاتا ہے. الغرض گناہ کا شعور ہی ختم کر بیٹھتا ہے.
    جب دل سیاہ ہو جاتا ہے انسان اپنے رب کی بارگاہ سے دور چلا جاتا ہے. گناہ کر کے فخر محسوس کرتا ہے. لیکن جب انسان پر رب کی کرم نوازی ہوتی ہے اور انسان توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی سیاہی دور ہو جاتی ہے.
    پھر اللہ اس کے دل کو اطمینان عطا کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے توبہ کرتا ہے.

    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    بے شک اللہ کا زکر دلوں کو سکون دیتا ہے. یہی سکون اسے واپس رب کی راہ پر لے کر لوٹتا ہے. دل کی سختی کے بارے حضور کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا واضھ پیغام موجود ہے.
    حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:’’اللہ کریم کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ کریم کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ کریم سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو. تو انسان کو چاہیے کہ اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے تاکہ دل کی سختی اور سیاہی سے بچ سکے

    @EngrMuddsairH

  • کشمیر میں تبدیلی آگئ   تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی آگئ تحریر چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دنوں ہونے والے انتخابات کے بعد منگل کو نئے منتخب ایم ایل اے نے حلفہ اٹھایا اور منگل کو ہی کشمیر اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی الیکشن کا انعقاد ہوا اور پاکستان تحریک انصاف نے جیسا کے سب کو پہلےتھا کیونکہ اسمبلی میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی تھی تو پاکستان تحریک انصاف نے اپنا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر آرام سے منتخب کرا لیا آج بروز منگل چار اگست کو بڑا اہم مرحلہ تھا لیڈر آف ہاؤس یعنی وزیز اعظم کا چناؤ ہونا تھا سب کی نظریں وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین جناب عمران خان کی طرف لگی ہوئی تھی پچھلے ایک ہفتہ سے ہمارے ٹی وی چینلز پر مختلف ناموں کا زکر ہو رہا تھا مختلف ایم ایل اے کا انٹرویو ہوا اس کا زکر بڑے شور سے ہو رہا تھا کوئی بیریسٹر سلطان اور کوئی تنویر الیاس کے بارے میں کہہ رہا تھا لیکن اس کے ساتھ سب ایک خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کہہ جناب عمران خان صاحب کوئی نیا چہرہ یکدم سامنے نہ لی آئیں اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا تمام وزیز اعظم کی دوڑ میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہہ اچانک بریکنگ نیوز چلی کہہ سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کو جناب عمران خان صاحب نے کشمیر میں وزیز اعظم کے نام پر مہر ثبت کر دی۔ اگر صیح معنوں میں دیکھا جاۓ تو یہ اختیار پارٹی قیادت کے پاس ہی ہوتا ہے سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق ضلع پونچھ حلقہ عباسپور ایل۔اے 18پونچھ ون کے گاؤں درہ شیر خان سے ہے ۔ سردار عبدالقیوم نیازی 1969 میں عباسپور کے گاؤں درہ شیر خان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق مغل خاندان سے ہے سردار عبدالقیوم خان "نیازی "تخلص لکھتے ہیں ‏سردار عبدالقیوم خان نیازی نے22 سال کی عمر میں ڈسٹرکٹ کونسلر کا الیکشن لڑا جو جیت گئے ۔2006 میں ممبر اسمبلی کے لئے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور امیدوار اسمبلی نامزد ہوئے ، 2006 سے 2011 تک وزیر خوراک سمیت دیگر وزارتوں پر بطور وزیر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 2018 میں مسلم کانفرنس کی رکنیت کو خیر آباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور عام انتحابات 2021 پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تقریباً دس ہزار کی لیڈ سے جیت ان کا مقدر بنی اور آج وہ کشمیر کے 13وزیز اعظم منتخب ہوگے ہماری تمام نیک خواہشات سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کے ساتھ ہیں اپوزیشن اس پر کیا کہہ رہی اس پر پھر بات ہوگی ان شاءاللہ

    اللہ پاک سردار عبدالقیوم نیازی کو کشمیری عوام کی بھر پور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • پہچان ہماری پاکستان تحریر  : راجہ حشام صادق

    پہچان ہماری پاکستان تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں جیسے ہر انسان کی پہچان اس کے نام سے ہے۔اسی نام سے اسے پکارا جاتا ہے۔ اور یہی نام اس کی شناخت ہوتی ہے۔ اس مختصر اور انفرادی تعارف کے بعد ایک قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ نام اور پہچان ان کا وطن ہوتا ہے۔جیسے ہماری پہچان پاکستان

    14 اگست 1947 کو ہمیں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک الگ پہچان ملی ہم انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے لیکن اس جدوجہد آزادی کے پیچھے کئی دہائیوں کی جدوجہد اور لاکھوں افراد کی جانی اور مالی قربانیاں تھیں۔ یہ آزادی ہمیں کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی۔ کہ جائیں آج سے آپ آزاد ہیں۔

    انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی گئی توپوں کے آگے باندھ کر اور گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ جدوجہد آزادی کی تحریک میں ہماری مائوں بہنوں اور آزادی کے متوالوں کی لازوال قربانیاں شامل ہیں لاکھوں لوگوں کو تو صرف اس لیے شہید کیا گیا۔کہ ان کا صرف ایک ہی نعرہ تھا لا الہ الا اللہ ۔ یہی وہ جذبہ جس کی وجہ سے ہمیں آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا اپنے گھروں سے بےگھر ہوئے کسی کے بیٹے ذبح ہوئے تو کئی بہنوں کی عزتیں پامال کی گئیں لیکن جذبہ بلند تھا یہ سب قربانیاں آزادی کے جذبے کو کم نہ کر سکیں۔

    جس نظریہ پر الگ ریاست کے لئے جدوجہد کی اس پر آخری دم تک قائم رہے اور پھر لا تعداد قربانیوں کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمت اللہ تعالٰی کی مدد سے حاصل ہوئی۔آج ہمیں اپنے بچوں کو آزادی کی اہمیت اور اس کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے بارے میں بتانا ہے۔

    آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اللہ پاک کی طرف سے اور اس کی حفاظت کتنی اور کیوں ضروری ہے یہ سب اپنے بچوں کو بتانا ہماری ذمہ داری ہے۔کتنی جدوجہد کے بعد یہ ملک آزاد ہوا کتنے لیڈرز اور علما کا اس تاریخی جدوجہد آزادی میں خون شامل ہے۔

    یہ جو آج ہم جشن آزادی مناتے ہیں نغمے بجائے جاتے ہیں جشن ہوتا ہے شاید آزادی کی اہمیت اور تاریخ سے ہم لوگ آگاہ نہیں ہیں۔ 14 اگست کے دن ہمیں اللہ تعالٰی کا خاض شکر ادا کرنا چاہیئے اس وطن عزیز کی سلامتی کے لئے دعائیں کرنی چاہیئیں اپنے ان تمام شہدا کو یاد کرنا چاہیئے۔ جنہوں نے اس وطن کی تحریک میں اپنی جانوں کے نزرانے دیئے۔

    14 اگست کے دن نئے وطن کا خواب دیکھنے والے علامہ محمد اقبال اور ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جناح کی بہترین سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ہم آزاد ہوئے۔ الحمدللہ آج ہمارے پاس ہر قسم کی آزادی ہے ہماری عبادت گاہیں محفوظ ہیں سیاسی و سماجی حوالے سے آزاد ہیں ہم اپنے فیصلے کرنے میں خودمختار ہیں۔
    اس خاص موقع پے ہمیں اپنی افواج کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے جنہوں نے اس وطن کے قیام کے بعد دشمن کی ہر چال اور ہماری آزادی و خودمختاری پر ہر حملے کو ناکام بنایا یہ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان سلامت ہے تو ہم ہیں ہمیں اپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہے چاہے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑھے

    ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بتانا ہے یہ وطن عزیز کیسے آزاد ہوا تھا اور یہ کیوں ضروری تھا دوقومی نظریہ کیا تھا کتنے لوگوں نے اس آزادی کے لئے جدوجہد کی ہے دعا ہے اللہ پاک اس وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھیں یہ سبز ہلالی پرچم یونہی لہراتا رہے

    میری جنت میرا وطن میرا گھر میرا وطن میری پہچان میرا وطن میرا فخر میرا وطن۔
    پاکستان زندہ اباد

    @No1Hasham

  • پاکستان میں عدل کا دہرا معیار  تحریر: احسان الحق

    پاکستان میں عدل کا دہرا معیار تحریر: احسان الحق

    کسی بھی معاشرے کی ترقی اور امن وامان کے لئے سزاء و جزا کا ہونا انتہائی لازمی ہے. کوئی بھی معاشرہ کسی بھی طریقے سے چل سکتا ہے مگر عدل کے بغیر نہیں چل سکتا. جب عدل ہی نہیں ہوگا تو سزا اور جزا کا تصور ہی ختم ہو جائے گا. جب کسی معاشرے سے سزا اور جزا کا تصور ختم ہو جائے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے. پاکستان میں سزا اور جزا ہی نہیں بلکہ کمزور مظلوم کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے اور طاقتور ظالم کو مظلوم ثابت کیا جاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا. تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی امیر اور طاقتور جرم کرتا تو اس کو چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی غریب جرم کرتا تو اس کو سزاء دی جاتی. تم لوگ عدل سے کام لینا. عدل جو کہ اسلام کا اہم ترین اور بنیادی ترین اصول ہے اس کے مطابق عمل کر کے یورپ اور دوسرے غیر اسلامی معاشرے ترقی کر گئے ہیں اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو کر بھی اس اصول کو نہ اپنا سکے.

    بدقسمتی سے ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے اس بنیادی اور اہم ترین اصول سے بالکل خالی ہے. ہمارے ہاں بھی قدیم قوموں والا نظام عدل رائج ہے. بہت ساری مثالیں بلکہ حقائق موجود ہیں کہ طاقتور آزاد گھوم رہے ہیں. بااثر اور سیاسی یا حکومتی اثرورسوخ والے مجرم اعتراف جرم کرنے کے باوجود معصوموں کی طرح آزاد اور بے خوف و خطر گھوم رہے ہیں. 258 لوگوں کو زندہ جلانے والے نے اعتراف جرم کیا مگر اس کو سزا نہیں دی گئی. تقریباً 120 سے زیادہ لوگوں کے قتل کا اعتراف کرنے والا بھی ابھی تک انجام کو نہیں پہنچا.

    پاکستان میں طاقتور کے لئے اور کمزور کے لئے علیحدہ علیحدہ قانون ہیں. پچھلے دنوں مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنر امجد شعیب نے اپنی گاڑی سے ایک غریب اور کمزور موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا. کچلنے کے بعد اس کو مرنے کے لئے ٹرپتے ہوئے چھوڑ کر فرار ہو گئے. عینی شاہدین کے مطابق گاڑی خود ڈپٹی کمشنر صاحب چلا رہے تھے اور سراسر غلطی بھی ڈپٹی کمشنر صاحب کی تھی. پولیس نے فوراً ڈپٹی صاحب کو دوسری گاڑی میں بٹھا کر موقع سے فرار کروا دیا. مرنے والا کمزور اور غریب تھا، کمزوری اور غربت کی موت مر گیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب معمول کے مطابق مزے میں ہیں.

    عدل و انصاف اور سزاء و جزا کے لئے پولیس اور عدلیہ دو اہم ترین ادارے ہیں. ان دونوں اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے. اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکمرانوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے لئے کوئی قانون نہیں، ان کی مرضی جب چاہیں اور جیسا چاہیں کر گزریں. مالدار اور جاگیر دار اپنے پیسے کے بل بوتے پر قانون اور پولیس کو خرید لیتے ہیں. قانون کی بالادستی کے لئے باقی عام غریب اور کمزور پاکستانی رہ جاتا ہے. جس کی آدھی عمر یا بعض دفعہ ساری زندگی عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگانے میں گزر جاتی ہے. آخر کب کمزور اور طاقتور دونوں ایک ہی قانون کے تحت سزا جزا کے مستحق ٹھہریں گے. آخر کب غریب اور جاگیر دار کے لئے ایک قانون ہوگا؟

    @mian_ihsaan

  • ہم ہیں پاکستان تحریر؛ آمنہ خان

    ہم ہیں پاکستان تحریر؛ آمنہ خان

    پاکستان ایک عظیم نظریاتی ملک ہے۔ جو ہمارے عظیم رہنماؤں کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔
    ہمارے آباؤ اجداد نے قیامِ پاکستان میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنے مال ودولت، زمین، کاروبار کی فکر چھوڑی آنے والی نسلوں کا سوچا اور ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔
    برصغیر میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہ تھی۔ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں تھیں جن کا ساتھ رہنا ممکن نہ تھا اور یہی نظریہ قیام پاکستان کا موجب بنا۔
    چناچہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ بحیثیت مسلمان ہم پاکستانی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری اپنی منفرد تہذیب و ثقافت ہے۔
    پھر کیوں ہم دوسروں کی شخصیت سے متاثر ہو جاتے ہیں؟؟ کیوں یورپ کی ثقافت ہمیں اپنی طرف مائل کرتی ہے؟؟ کیوں ہمسایہ ملک کی رسم و رواج کو ہم نے خود میں بسایا ہوا ہے؟؟
    یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم غور کریں تو زندگی گزارنے کے سنہری اصول آج سے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیے گئے ہیں۔
    قرآن و حدیث کا اگر مطالعہ کریں تو حقوق اللہ اور حقوق العباد مفصل انداز میں بتا دیے گئے ہیں۔

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور ہم خار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اب یہ ہم پہ ہے کہ قولی کے ساتھ ساتھ کتنا فعلی مسلمان بھی بنا جائے۔ کیونکہ یہی تو دو قومی نظریہ تھا۔ یہی تو قیامِ پاکستان کا موجب تھا۔
    ہمارے قومی دن جیسے یومِ قرار داد پاکستان، یومِ آزادی، یومِ دفاع اس لئے تو نہیں آتے کہ جھنڈیاں لگا لی جائیں، باجے بجا لیے جائیں یا پھر منچلوں کی ایک ریلی نکال لی جائے۔
    یہ تو نئی نسل کو متحرک کرنے کا دن ہے۔ تاریخ دہرانے کا دن ہے کہ ہم کتنی دلیر اور جرات مند قوم ہیں۔
    مگر افسوس کچھ لوگ ان دنوں کی اہمیت سے نا آشنا ہیں۔
    پاکستان ہمارے لیے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ دینی مصروفیات کے بعد، دنیاوی فکرات میں پاکستان ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہمیں لسانیت کو ترک کرکے قومیت کو فروغ دینا ہوگا۔

    یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

    دنیا میں ہم جہاں بھی ہوں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے ہوں۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ہم صرف قولی نہیں بلکہ عملی پاکستانی ہوں۔ ہمارے رہن سہن، چال چلن اور ہمارے اطوار پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتی ہو۔
    ہم ایک عظیم تاریخ رکھتے ہیں۔ ہمیں بھلا کسی کو فالو کرنے کی کیا ضرورت۔ جسے آج ہم فیشن یا آزادی کا نام دیتے ہیں وہ بے حیائی اور اسلام سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں۔
    ہر چیز اعتدال میں اچھی لگتی ہے اگر اس سے تجاوز کرو تو وہ اپنی اصل کھو دیتی ہے۔ اسی لیے اگر کسی غیر ملکی سے ہم متاثر ہوکر ہم وہی اطوار اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اعتدال سے کریں کیونکہ اگر اس سے تجاوز کر گئے تو ہم اپنی اصل کھو دیں گے۔
    پیچھے ہماری کیا شناخت بچے گی؟؟
    خود کو پاکستان کا سفیر سمجھیں، پاکستان کا محافظ سمجھیں جسے پاکستان کی نظریاتی حدود کی رکھوالی کرنے ہے، جسے پاکستانیت کو فروغ دینا ہے۔
    فضول کے رسم و رواج میں پڑنے سے بہتر ہے کہ دین سمجھیں اس سے ہم قربِ الہی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
    اردو اور انگریزی زبان میں فرق ختم ہونا چاہیے۔ دونوں زبانوں میں کوئی مقابلہ نہیں۔ اردو ہماری قومی زبان ہے جس کی اپنی اہمیت ہے اور اس کی جگہ کوئی بھی زبان نہیں لے سکتی اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا اردو زبان سیکھنا بولنا اور استعمال کرنا لازم ہے۔

    آئیں اس ١٤ اگست عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کا وقار بلند کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

    خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    (آمین)

    @AmnaKhanPK

  • رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان وہ ملک ہے جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوان آبادی پر مشتمل ہے، پاکستان کی تقریبا 63 فیصد آبادی نوجوان ہے یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے جسے برباد ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور ماں باپ ،بچے اور اہل علم سمیت سب ہی بس اس راستے پر چلتے جا رہے ہیں یہ نہیں سوچ رہے کیا ہماری سمت درست ہے ؟؟

    پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے کالج سے فارغ ہو کر یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے میدان میں آتے میرٹ کے مختلف مراہل سے گزر کر اگر اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہ بھی ملے تو کسی پرائیوٹ میں تو مل ہی جاتا ہے پھر نوجوان اپنے زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کا اوسطا خرچ چار سالوں میں 20-25 لاکھ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے چار سال بھی اس میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔

    دنیا اب تیز اور آگے کی طرف بڑھ گئی ہے کچھ فیلڈ ایسی ہیں جن میں واقعی طالب علم کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ہر فیلڈ کے لئے ایسا ہر گز نہیں ہے، یونیورسٹی سے لاکھوں خرچ کر کے بھی جب طالب علم ڈگری لے کر باہر نکلتا ہے تو اس کو اصل کام فیلڈ میں سیکھنا پڑتا ہے ہماری کتابوں میں موجود چیز یں اسے وہ نہیں سکھا پاتی جو فیلڈ میں وہ چند سالوں میں سیکھ جاتا ہے، اور اکثر نوجوان یونیورسٹی کی ڈگری لے کر بھی بے روزگار پھر رہے ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے بعد نوجوانوں کو انہیں یونیورسٹیوں کی فیسز کم کر کے ان کو وہ ہنر سکھایا جائے وہ تعلیم دی جائے جو آجکل کے وقت میں ان کے کام آئے اور وہ روزگار خود حاصل کر سکیں ہمارا سلیبس آج بھی فلاپی ڈسک پڑھا رہا، بچہ جب عملی میدان میں جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کے وہ تو 30 سال پیچھے کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے پھر وہ فیلڈ میں مار کھا کر سیکھنے کی کوشش کرتا ہے آن لائن سیکھتا ہے اور زندگی کے دو تین سال اس میں لگا دیتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کے اسے یونیورسٹی میں جو عرصہ گزارا اس میں وہ کسی فیلڈ کا ماسٹر بن کر نکلے اور تمام یونیورسٹیوں کے پاس یہ بھی ڈیٹا ہونا چاہیے کے ملک میں کس فیلڈ میں کتنے لوگ درکار ہیں اتنے ہی لوگ اس فیلڈ میں لائے جائیں پھر یہ دیکھا جائے بیرون ممالک میں کونسے ہنر کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے ؟؟ آنے والے وقت میں بچے کیسے روزگار حاصل کر سکتے ہیں یونیورسٹی کا دورانیہ چار سال کے بجائے 1.5 سال کر دینا چاہیے جس میں بچے کو بیرون ملک میں بیٹھے لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ سکھایا جائے، کاروبار کرنا سکھایا جائے، بچے کو یہ بتایا جائے کے زندگی کا مقصد رٹہ لگانا نہیں ہے اگر تمہاری یاداشت اچھی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں تم پھر بھی ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔۔۔تمہیں انگلش فر فر نہیں آتی تو کوئی بات نہیں اتنی سیکھ لو کے اگلے کو اپنی بات سمجھا سکو اور اس کی سمجھ سکو بچے میں اعتماد پیدا کیا جائے اس بنیادی معاشرتی زندگی کے اداب سکھائے جائیں اور اس سے یہ بآور کروایا جائے کے انگلش بولنا کسی کے لائق یا قابل ہونےکی نشاندہی نہیں بلکے یہ صرف ایک زبان ہے، یونیورسٹی کے بچوں کو فیکٹریوں کے بورڈ سے ملوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کے وہ اپنے کاروبار میں کیسی آسانی دیکھنا چاہتے ہیں پھر بچوں سے کہا جائے کے سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں اگر وہ اس قابل ہوں تو ان کے اخراجات فیکٹری مالکان کے زمے لگائے جائیں زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی آپ یہ کر کے دیکھیں اس ملک کے نوجوان بہت قابل ہیں وہ آپ کو ہر مسئلے کا حل دیں گے۔ آپ ان نوجوان کو ہفتے ایک دن صرف اس بات پر ٹریننگ دیں کے لوگوں کے سامنے بات کیسے کرنی ہے حال میں سب کو جمع کر کے تقاریر کروائیں ان سے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو ان کے اندر کے چھپے ٹیلنٹ کو باہر نکالیں کیا پتہ جسے آپ زبردستی ڈاکٹر بنا رہے ہو وہ اچھا شاعر یا سنگر ہو ؟؟؟ پھر بچوں سے پینل بیٹھا کر ان سے انٹرویوز لیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں گھبراہٹ نہ ہو یہاں جو لوگ نوکری کرنے آتے ہیں انٹرویو دینے سے ان کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوتا ہے وہ اپنی بات منوانا نہیں جانتے اپنے آپ کو سستے میں بیچ آتے ان کو لوگوں سے بھاؤ کرنا سکھائیں ان کو یہ بتائیں کے نوکری آپ کی زندگی نہیں ہے وہ آپ کی زندگی کا چھوٹا سا حصہ ہو سکتی ہے پھر ان کو یہ سکھائیں کے اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اس کا معیار پیسہ ہرگز نہیں۔
    یہ ایسی چیزیں ہیں اگر ان پر ہمارے تعلیمی نظام میں عمل ہو جائے تو یقین کریں پاکستان بدل جائے گا میں لکھنا چاہوں تو ایسی ہزار چیزیں اور گنوا سکتا ہوں۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو : آمین

    @Nomysahir

  • آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    ایک سال کے طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر اگست کا مہینہ شروع ہو رہا ہے اور جشنِ آزادی منانے کی تیاری مکمل جوش و خروش سے جاری ہیں، باجے اور پٹاخے بنانے والے کارخانے دِن رات اوور ٹائم پہ چل رہے ہیں، موٹر سائیکل مکینک سائلنسر سے نئی سے نئی آوازیں نکالنے کے آلے تیار کر رہے ہیں، کپڑوں کے برینڈ سفید اور سبز رنگ کے ملبوسات پہ سیل سیل کا واویلا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ پہ جشنِ آزادی کی سیل لگانے کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں اوراس بات کی قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستانی قوم اس سال بھی جشنِ آزادی روایتی جوش و جزبے سے منائے گی، لیکن ایک منٹ۔

    راقم یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ اس سب سے کیا حاصل ہو گا؟ ساتھ ہی ماضی کی کہانیوں، تصاویر اور تحریکِ پاکستان کی قربانیوں کی ایک جھلک نظر سے گزری تو میں لرز کر رہ گیا کہ ہمارے بزرگوں نے بیش بہا قربانیوں کے بعد جو ملک اس لیئے حاصل کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلا کر پوری دنیا کے لیئے ایک مثال بنایا جائے اور اِسی ملک کی آزادی کے دِن یہاں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس ملک کو بنانے والے تو ایمان، اتحاد، تنظیم کا درس دے کر گئے تھے جبکہ چوہتر(74) سال بعد ہماری قوم ان تمام چیزوں کو بھول کر رشوت، کرپشن اور بے حیائی کو اپنا مِشن بنا چکی ہے، اس کالم میں ہم تحریکِ آزادیِ پاکستان پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد اس قوم کے کردار اور ذمہ داریوں پر بات کریں گے۔

    1857 کی جنگِ آزادی کے بعد سے ہی سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعمیر و ترقی پہ خصوصی توجہ دینا شروع کر دی تھی، انہوں نے مسلم کالج اور سائنٹیفک مدرسوں کے ذریعے مسلمانوں کو دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونے کا راستہ دکھایا جسکے بعد مسلمانوں نے سیاست کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول کے لیئے آواز اٹھانا شروع کی، مسلم لیگ کا قیام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی، ابتداء میں مسلمانوں کے قابض انگریز حکومت سے حقوق کی شکایت اور ان کو حاصل کرنے کے لیئے کوششیں رہی لیکن بعد میں ہندو سامراج کے دوغلے رویہ کو دیکھ کر قائد اعظم جیسے ہندو مسلم اتحاد کے داعی نے بھی مسلمانوں کی سیاست کو ہندوؤں سے مکمل الگ کر لیا، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیئے ایک الگ ریاست کی بات کر کے اس تحریک کو ایک نئی منزل دکھائی جسکے بعد سترہ سال کی قلیل مدت میں مسلم لیگ نے قائد اعظم اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں انگریز کو برصغیر سے نکالنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیئے الگ وطن کے قیام کا مشن بھی پورا کر لیا، اس عظیم مشن کی تکمیل کے دوران ہزاروں لوگوں نے اپنے جان، مال اور اسباب کی قربانیاں دی، ایسے ہی قیامِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا جو ہجرتِ پاکستان کہلائی، اس ہجرت کے دوران بھی قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم ہوئی ہزاروں لوگوں نے اپنے پیارے کھوئے، ہزاروں ماؤں کے بیٹے، ہزاروں بیٹیوں کے سہاگ اجڑے لیکن لوگوں کی آنکھوں میں صرف ایک خواب تھا ”پاکستان” اور مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا دیس بسایا جائے جہاں ترقی ہو، خوشحالی ہو، امن و امان ہو اور وہ ملک حقیقت میں اسلامی فلاحی ریاست ہو۔

    آج جب پاکستان کو بنے قریبا چوہتر 74 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن افسوس ہم نے پاکستان زندہ باد کہنا تو سیکھ لیا لیکن پاکستان زندہ آباد کیسے ہو گا یہ نہیں سمجھ سکے، ہم نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ تو بہت لگایا لیکن اس پر عمل اور اسکے فرائض سمجھنے سے محروم رہے، ہم نے ہر سال پاکستان کے قومی دنوں کے موقع پہ بڑے بڑے وعدے اور قسمیں توضرور کھائی لیکن عملی طور پہ ہم بدقسمتی سے بالکل صفر رہے، ہم نے عہد تو پاکستان کا نام روشن کرنے کا کیا لیکن حقیقت میں ہم ابھی تک شائددل و دماغ سے پاکستانی ہو ہی نہیں سکے، آج بھی ہر سال پاکستان کی آزادی کا دن ہمیں اس امید سے دیکھتا ہے کہ شائد پاکستان کے آزادی کا جشن منانے والا کوئی ”پاکستانی” مِل جائے، شائد پاکستان زندہ آباد کانعرہ لگانے والا حقیقت میں بھی اس ملک و قوم کا معمار بن جائے۔

    تعارف: سید منعم فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف اداروں کے ساتھ فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا، کرنٹ افیئرز اور کھیلوں کے موضوعات پر ذیادہ لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ کے لیئے انکا ٹویٹر اکاونٹ: https://twitter.com/Syedmunimpk

    Introduction: Syed Munim Farooq is Islamabad based freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums since 2012. His major areas of interest are Current Affairs, Digital Marketing, Web media and Journalistic affairs. He can be reached at Twitter: https://twitter.com/Syedmunimpk