Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    گھر بیٹھے آن لائن پیسے کمائیں تحریر: زارا سیٌد

    پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا حصول وقت کے ساتھ مشکل ھوتا جا رھا ھے متوسط طبقے کے لیے ممکن نہیں کے سب بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی جاۓ ۔ نوجوانوں کو چاھیے کہ ڈگری کے حصول کے ساتھ ساتھ اس طرح کے ہنر سیکھیں جن کی مدد سے آپ آن لائن پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بیروزگاری ایک بہت بڑا مسئلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں کئی لوگ ، بذریعہ انٹرنیٹ یا شارٹ کورسز، اور آئی ٹی کے ہنر سیکھ کر پیسے کما رھے ھیں۔

    فری لانسنگ:

    آپ فری لانسنگ کے ذریعے اپنے اخراجات خود اٹھا سکتے ھیں۔ فری لانسنگ کی پہلی شرط کوئی ہنر سیکھنا ہے، جیسے ایس سی او ، ڈیجیٹل مارکٹنگ ، گرافک ڈیزائننگ اور ویب ڈیزائننگ وغیرہ ۔یہ سب آپ گوگل اور یو ٹیوب سے با آسانی سیکھ سکتے ھیں ۔
    آج کل ہر بندے کو اپنی ویب سائٹ اور برانڈنگ چاہیے تاکہ اپنی حریف کمپنی سے بہتر کارکردگی کر سکیں ۔ آپ لوگ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی بھی ہنر سیکھ کر فری لانسنگ کر سکتے ہیں ۔
    آپ لوگ فائیور، اپ ورک اور فری لانسر ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹس پر اپنے ہنر کے مطابق کام اور کلائنٹس ڈھونڈ سکتے ہیں ۔

    آپ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پراجیکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ شروعات میں آپ کو اپنا پورٹ فولیو بنانا ہوتا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ آپ کو کام آتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کلائنٹ کو آپ کا کام پسند آئے گا تو وہ ضرور آپ کو کام دے گا ۔

    یوٹیوب:

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے آپ یو ٹیوب کو بھی اپنا کیرئیر بنا سکتے ھیں۔ جس فیلڈ میں اپ کو دلچسپی ھو اسی کے مطابق چینل بنائیں ۔ یوٹیوب چینل بنانے کے لیے آپ کو یوٹیوب سے ھی کافی معلومات مل جائیں گی ۔

    کاروبار:

    اگر آپ پہلے ہی کوئی آف لائن دوکان چلا رہے ہیں تو اسی کو آن لائن لے آئیے، فیس بک اور ٹویٹر ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے گاہک تلاش کیجیے اور اپنے کاروبار کو بڑھائیے ۔ اگر آپ کے پاس بیچنے کے لیے کوئی پراڈکٹ فی الوقت دستیاب نہیں تو اپنے علاقے کی کسی بھی مشہور پراڈکٹ یا سوغات کو آن لائن بیچنا شروع کر دیں اور وقت کے ساتھ اسے بڑھاتے جائیں۔

    آنلائن ٹیوشن:
    دنیا کے سکول، کالجز، یونیورسٹیز میں جتنے بھی سبجیکٹس پڑھے پڑھائے جاتے ہیں وہی سب آن لائن بھی پڑھا کر بہترین انکم حاصل کی جا سکتی ہے ۔ آپ بھی آن لائن فیلڈ میں آئیں ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا ۔

    مختلف ھنر:

    اگر آپ کو سلائی، کڑھائی کا ھنر اتا ھے تو آپ بچوں کے کپڑے سلائ کر کے یا عورتوں کے کپڑے ،چادریں کڑھائی کر کے آن لائن ویب سائٹس مثلاً فیس بک، ٹویٹر، او ایل ایکس وغیرہ پر فروخت کر سکتے ھیں۔

    یاد رکھیں ناجائز طریقوں سے کمائی گئی دولت میں نا ھی برکت ھوتی ھے اور نا عزت ۔ کوشش کریں جائز طریقے سے حلال کمائیں وہ چاھے کم ھو اس میں عزت بھی ھے اور برکت بھی ۔

    ٹویٹر: @Oye_Sunoo

  • حیاتِ قلب   تحریر: نصرت پروین

    حیاتِ قلب تحریر: نصرت پروین

    دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
    کہ یہ ہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
    قلب انسانی جسم میں بادشاہ کی حثیت رکھتا ہے۔ انسان کے تمام احساسات، جذبات اور خیالات کا محور و مرکز یہ دل ہی ہے۔ یہ حیات کو بحال رکھنے کا اہم جزو ہے۔ یہ بہترین حصہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر یہ شیطان کا آلہ کار بن جائے تو یہ بد ترین عضو قرار پاتا ہے۔ انسان کے تمام عقائد اور اعمال کا دل سے گہرا تعلق ہے۔ اور اسکا اثر انسان کی ساری حیات پر ہوتا ہے۔ لہذا دل کا بنیادی طور پر زندہ ہونا بہت ضروری ہے۔
    بقول امام بخاری:
    "عمل سب سے پہلے قلب کا ہے پھر اعضاء کا ہے۔”
    رسول اللهﷺ نے فرمایا: جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہو تو سارا نظام درست رہتا ہے۔ اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا نظام بگڑ جاتا ہے۔ جان لو وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔
    اگر جسمانی طور پر کوئی بیماری لگ جائے تو ہم اسکا خوب علاج کرتے ہیں۔ لیکن اگر روحانی طور پر دل کو بیماریاں لگ جائیں تو اعمال کو گھن لگ جاتا ہے۔ خواہش پرستی، شہوت، حسد، خودغرضی، تکبر، کینہ، حرص اور شیطانی وسوسے یہ دل کی بیماریاں ہیں۔ ان بیماریوں میں مبتلا انسان کا دل الله کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے اور انسان گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
    حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ الله علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ دلوں کو کس چیز نے مردہ کیا ہے تو اس پر انہوں نے کہا تمہاری آٹھ عادتیں ایسی ہیں جس سے دل مردہ ہوجاتے ہیں:
    ۱۔ تمہیں الله تعالیٰ کے حق کی معرفت حاصل ہوئی۔( تمہیں پتہ لگ گیا کہ الله تعالیٰ کا حق کیا ہے؟) لیکن تم نے ادا نہیں کیا۔
    ۲۔ تم نے قرآن حکیم پڑھا لیکن اسکی حدود پر عمل نہیں کیا۔
    ۳۔ تم الله کے رسولﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہو لیکن ان کی سنت پر عمل نہیں کرتے۔
    ۴۔ تم کہتے ہو کہ تمہیں موت کا ڈر ہے لیکن موت کے لیے تیاری نہیں کرتے۔
    ۵۔ الله تعالیٰ فرماتے ہیں:
    بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے اسے اپنا دشمن ہی سمجھتے رہو(سورہ فاطر:6)
    مگر تم نافرمانی کر کے شیطان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو۔
    ۶۔ تم دوزخ سے اپنے خوف اور ڈر کا اظہار کرتے ہو۔ لیکن کام وہ کرتے ہو جس سے دوزخ میں جانا یقینی ہوجائے۔
    ۷۔ تم جنت کے خواہشمند ہو لیکن وہ کام نہیں کرتے جو تمہیں جنت میں پہنچا دیں۔
    ۸۔ جب تم بستروں سے اٹھتے ہو تو اپنے عیبوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہو اور لوگوں کی عیب جوئی میں لگ جاتے ہو۔
    (احیاء العلوم)
    بقول حافظ ابن قیم رحمہ الله جب دل مردہ ہو جائے تو اپنی معصیت کاشعور نہیں رہتا۔ (الفوائد) مردہ دل کے ساتھ جینا بہت ازیت ناک ہوتا ہے۔ ایسا دل گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا۔ گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے لیکن محسوس نہیں کرتا۔ ایسا دل اپنی مفید غذا ایمان کو چھوڑ کر مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا دل باطل عقائد میں مبتلا ہو جاتا ہے، وہ الله کو بھول جاتا ہے، اور خود کو شیطان کے سپرد کر دیتا ہے۔ اور پھر مردہ دل میں شیطان یہ بات ڈال دیتا ہے کہ میں تو میں گنہگار ہوں میری دعا کیسے قبول ہوگی۔ انسان گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا اور توبہ کر کےگناہ چھوڑنے کی بجائے شیطان کے بہکاوے میں آکر دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ بقول شاعر:
    تیری دعا میں اثر کچھ اس لئے بھی کم ہوگیا
    تیری روح سو گئی، تیرا دل مردہ ہو گیا۔
    آپ غور کریں آپ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو ایک بات
    آپکے رب کی طرف سے ہوتی ہے اور ایک وسوسہ شیطان کی طرف سے۔ تو آپ شیطان کے وار سے بچنے کی کوشش کریں اور وہی کام کریں جو رب کو پسند ہو۔
    حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ بے شک مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے اور اگر استغفار کر لے تو اس کے دل کو صاف و شفاف کیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ گناہ کرتا چلا جائے تو سیاہ دھبہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔
    مسند احمد کی روایت میں ہے دل چار قسم کے ہوتے ہیں:
    پہلا قلب (سلیم) یعنی ایسا دل جو صاف شفاف ہوفرمایا اس کی مثال روشن چراغ جیسی ہے۔ جس میں کوئی خرابی نہ ہو۔
    دوسرا قلب اغلف ہے جو غلاف میں بند کر دیا گیا ہے اور پھر اوپر سے دھاگے کے ساتھ باندھ دیا گیا۔
    تیسرا قلب منکوس یعنی اوندھا دل ہے اس کا سر نیچے اور پیندا اوپر ہے۔
    چوتھا دل مخلوط دل ہے دوپہلو والا دل۔
    پہلا دل تو مومن کا ہے جو پوری طرح نورانی ہے۔ دوسرا دل کافر کا ہے جس پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ تیسرا دل منافق کا ہے جو جانتا ہے اور انکار کرتا ہے۔ اور چوتھا دل اس منافق کا ہے جس مین ایمان اور نفاق دونوں جمع ہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مردہ دل کیسے زندہ کیا جائے؟
    مردہ دلوں کو الله زندہ کر سکتا ہے الله کا قرآن زندہ کر سکتا ہے۔ تو الله سے مدد مانگی جائے۔
    الله رب العزت کا فرمان ہے:
    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
    ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے۔
    (سورہ یونس:57)
    حافظ ابن قیم رحمہ الله نے بیان کیا ہے کہ جس نے یاحی یا قیوم مسلسل کہنا شروع کر دیا الله اس کے دل کو زندہ کر دیتے ہیں۔
    انسان سب سے پہلے دل کے اندر رب کو دریافت کرے۔ تفکر و تدبر، صبر و شکر، توکل، اور اخلاص یہ ایسے اعمال ہیں جن کا تعلق دل کی عبادت سے ہے
    رسول کریمﷺ نے فرمایا آدمی کا دل الله تعالی کی دو انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے جب چاہے اسے سیدھا رکھتا ہے اور جب چاہے اس ٹیڑھا کر دیتا ہے لہذا دل کی سلامتی کے لئے آپﷺ کثرت سے یہ دعا کرتے۔
    یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِكَ
    اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے!میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔
    (مسند احمد:26679)

    قلب سلیم سے مراد سلامتی والا دل ہے۔ جو خالص توحید پر مشتمل ہو۔ حق پر ہو۔ بے عیب ہو۔ نفاق، سرکشی، نافرمانی، حسد اور شک و شبہ سے پاک ہو۔
    انسان جب دل کی عبادت سے متعلقہ اعمال جو اوپر بیان کئے گئے ہیں انجام دیتا ہے تو وہ رب کو پالیتا ہے۔پھر الله انسان کو نور دیتا ہے۔ انسان اسی نور کی روشنی میں صالح اعمال کرتا ہے اور قلب سلیم تک پہنچ جاتا ہے۔
    تو دل بدلیں۔ اور قلب سلیم کے مقام تک پہنچ جائیں۔دل بدلے تو زندگی بدل جاتی ہے۔
    زندگی زندہ دلی کا نام ہے
    مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔
    @Nusrat_writes

  • کراچی اور بھکاری  تحریر: ام سلمہ

    کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    بھکاری جو کراچی میں اس وقت ایک بڑے اور آسان پیشے کا رخ اختیار کر کیا ہے بہت ہی آسان لگتا ہے حلیہ بدلنا اور سڑک پے آجانا اور بھیک مانگنا کہیں عورتیں کہیں مرد کہیں بچے کہیں بوڑھے کہیں زبردستی معذور کیئے گئے لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں.
    بھکاریوں کی دن با دن بڑھتی ہوئی رفتار سے جرائم کو روکنے والے ادارے اس شک میں ہیں کہ کراچی میں بھکاری بھی بچوں کے اغوا ملوث ہیں.
    اور ساتھ ساتھ پولیس نے بھکاری مافیا کے منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں شمولیت کا انکشاف کیا ہے.
    پولیس کی طرف سے کراچی کی سڑکوں سے متعدد بھکاریوں کوگرفتار کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جہ سکے کے ان کے ساتھ بھیک مانگنے والے بچے شاید ان کے اپنے نہ ہوں اور ان کو اغوا کیا گیا ہو
    اس شبہے کی تصدیق کے لئے پولیس پولیس بچوں اور گرفتار شدہ بالغ بھکاریوں کا کچھ طبی جانچ کرنے کا کام شروع کر رہی ہے۔
    پولیس نے کچھ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شہر میں بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لئے مشترکہ تفتیش کا آغاز کیا ہے۔تاکہ اگر یہ کسی قسم کی جرائم میں ملوث ہیں تو اسکا پتہ لگایا جہ سکے.
    کراچی پولیس چیف سے بات کرنے پے پتہ چلا کہ اس سلسلے میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کے "حکومت سندھ کے کچھ محکمہ جیسے کے سوشل ویلفیئر اور بچوں کی پروٹیکشن اتھارٹی کچھ ٹرسٹ ، ٹریفک پولیس اور کچھ ہیلپ لائن جیسے کے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، جرائم کو روکنے کے محکمے ، اور دیگر تنظیمیں اس کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔”
    ان کے مطابق اس بات کے کافی شواہد مل رہے ہیں کہ کراچی کے بھکاری بھتہ منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
    پولیس سربراہ نے کہا ان بھکاریوں میں سے بیشتر کا تعلق شہر کی مقامی آبادی سے نہیں ہے دوسرے شھروں سے آتے ہیں. اس میں سے کچھ تو جنوبی پنجاب کی طرف کے ہیں اور کئی نسلوں سے بھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے مختلف زبانوں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کئی غیر ملکی شہری بھی ہیں ، جن میں سے ایک بڑی تعداد افغانی بھی ہے۔
    انہوں نے کہا ،مختلف تنظیموں سے ہماری ملاقات کے دوران ، ہم نے ان بھکاریوں کے ہمراہ بچوں کے بارے میں اپنے شک کا ظاہر کیا اور ان کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ بچوں کو کہیں سے اٹھایا تو نہں گیا ہے۔
    بہت سے معاملات میں ، بھکاریوں نے جان بوجھ کر اغوا کیے گئے بچوں کے اعضاء اور ہاتھ / پاؤں کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھیک مانگنے کے کاروبار میں بطور اوزار استعمال کرسکیں۔
    کراچی پولیس چیف کے مطابق ، شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی نگرانی میں کورنگی اور ملیر میں بھکاری بچوں کے رہائش کے مراکز موجود ہیں جہاں بھکاریوں اور ان کے بچوں کو رہائش اور کھانے کی مکمل سہولت فراہم کی جائیں گی۔
    پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی صحیح طرح تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ بکھاری مافیا کو پتہ چلے اور ساتھ ہی عوام کے بھی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بچوں کے اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے اور ایک معاشرہ بنانے میں ہوں پولیس کی مدد کر سکیں.

    @salmabhatti111

  • تحریک آزادی کا سفر تحریر: مزمل مسعود دیو

    تحریک آزادی کا سفر تحریر: مزمل مسعود دیو

    1857ء میں سلطنت مغلیہ کے آخری حکمران بہادر شاہ ظفر کو شکست دیکر انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو انگریزوں نے ہندووں کے ساتھ ملکر مسلمانوں کو غلامی میں دھکیلنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ انگریزوں کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے تھا کیونکہ یہ حاکم قوم تھی۔ کسی وقت بھی سر اٹھا سکتے تھے اور ہندو جو عرصہ دراز سے رعایا بن کر رہ رہے تھے‘ اسی حال میں مطمئن اور خوش تھے بلکہ اب انہیں انگریزوں سے مل کر مسلمانوں کو دبانے کا موقع ہاتھ آگیا تھا۔ انگریز حکومت نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ ہندوئوں کی سرپرستی کریں اور مسلمانوں کیو کمزور کریں تاکہ یہ خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا سکے۔

    ہندووں نے مسلمانوں کی شکست اور زوال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کا ڈھونگ رچایا کہ انگریز کے سامنے ہندو مسلمان مل کر ہی اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف انگریز کی تابعداری اور بھرپور تعاون کی حکومت کو یقین دہانی کرا دی۔ 1885ء میں کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو ہندو سیاستدانوں نے اس میں جوق در جوق شمولیت اختیار کی۔ مسلمان جو بہادر شاہ ظفر کی شکست کے بعد پریشان تھے انہیں بھی اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے کانگرس میں شمولیت کرنا پڑی۔ ہندووں کے تعصبانہ رویے نے مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا اور ڈھاکہ میں 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کیلئے باقاعدہ سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔

    انگریزوں کی مسلمانوں سے نفرت کا فائدہ ہندووں کو ہونے لگا اور اس بات کو بھانپتے ہوئے سرسید احمد خان نے جدید تعلیم کے حصول کے لیے علی گڑھ میں ایک ادارہ بنایا جسے بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی بنا دیا گیا۔ یہیں سے قائداعظم کی رہنمائی میں دو قومی نظریہ پروان چڑھا۔ ملی یکجہتی نے قوم میں ایک نئی جان ڈال دی۔ قوم میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔ قائداعظم جو پہلے کانگریس میں تھے، مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ قائداعظم نے 1929ء میں مطالبات کے 14 نکات پیش کردیئے اور کانگریس نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس الہ آباد میں ہوا جس کی صدارت حضرت ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ہندووں کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم بیان کیے اور اس سے نجات کا واحد حل مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک کے مطالبے کے طور پر بتادیا۔

    1936ء میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیاگیا اور 1937 ء کے الیکشن کے نتیجہ میں صوبائی حکومتیں بنائی گئیں۔ کانگریس حکومت کے صوبوں میں مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا گیا ، جائیدادوں پر غاصبانہ قبضے کر لئے گئے اور مسلمانوں کو درجہ دوم کا شہری بنا کر ان کے وجود کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔سرکاری ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کر دیئے گئے۔ ان تمام حالات کی وجہ سے 23 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا تاریخ ساز جلسہ لاہور میں کروایا گیا اس جلسہ کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی اس کے علاوہ بہت سارے مسلم قائدین نے شرکت کی۔ جلسہ کے آخری سیشن میں تاریخی قرارداد پاکستان پاس کی گئی۔ جلسہ گاہ میں جس جگہ پر سٹیج لگایا گیا تھا یہ وہی جگہ ہے جہاں مینار پاکستان پوری شان سے کھڑاہے۔ اس پارک کا پرانا نام منٹو پاک تھا جسے تبدیل کرکے اب اس پارک کا نام اب اقبال پارک رکھا گیاہے۔
    اس جلسے کے بعد مسلمانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور انہوں نے متحد ہوکر ایک علیحدہ وطن کے علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عہد باندھ لیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے میں شدت آتی گئی اور انگریز اس بات پر سوچنے کو مجبور ہوگئے۔ مسلمان رہنماوں نے ہر محاذ پر اپنے مطالبے کو بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا اور آخرکار 14 اگست 1947ء کو وہ ملک پاکستان ہمیں مل گیا جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور اس کو پورا قائداعظم محمد علی جناح نے کیا۔
    آزادی کی اس نعمت کے لیے ہمارے آباو اجداد نے بہت قربانیاں دیں اپنے گھر بار چھوڑے اور ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ یہ آزادی اتنی سستی نہیں اس کی قیمت کا شاید ہم میں سے کوئی بھی اندازہ نئیں لگا سکتا۔ اس کی قدر کریں اور عہد کریں کہ اس ملک کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ نکال دیں گے اور اس کا دفاع کریں گے۔
    اللہ پاک ہمارے وطن کو تاقیامت سلامت رکھے آباد رکھے اور شاد رکھے۔ آمین

    ‏@warrior1pak

  • حسد بیوقوفی ہے  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    حسد بیوقوفی ہے تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    حسد ایک ایسی مہلک بیماری ہے جو انسان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ تی۔ ہم حسد کیوں کرتے ہیں ؟ کبھی سوچا ہے یقیناً نہیں سوچا ہوگا! آج سوچ کر دیکھیں کہ ہم آخر کس وجہ سے حسد کرتے ہیں۔ اب بات کُچھ یوں ہے کہ جب کوئی شخص ہماری آنکھوں کے سامنے کامیابی سمیٹ رہا ہوتا ہے تو ہمارے دل میں یہ خیال آتا ہے فلاں شخص آخر کیوں کامیاب ہو رہا اُسکی عزت کیوں ہو رہیں ہے؟ مگر میں پیچھے رہ گیا مجھ سے سب کچھ چھین لیا جائے گا۔ جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہر انسان کا اپنا نصیب ہوتا ہے جو اسکو مل کر رہتا ہے اور دُنیا کی کوئی طاقت اُس سے چھین نہیں سکتی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی محنت کے بغیر بستر پر لیٹ کر خود کو کامیاب کروانا چاہتے ہیں جو کہ فطرتی طور پر نا ممکن ہے اور جب ایسا نہیں ہو پاتا تو ہم پھر دل میں حسد کی چنگاری کو آگ پھیلانے کے لیے ابھار دیتے ہیں اور پھر یہ چنگاری ہماری شخصیت کو ہیں جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے نعمتیں رکھی ہیں ہر انسان کو اُسکی محنت اور لگن کے مطابق نوازا ہے۔مگر پھر بھی کچھ لوگ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔جب کہ کچھ لوگ خود کچھ نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض کہ شکار بنے ہوئے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اللہ کی تقسیم کو کھلم کھلا کیوں چیلنج کر رھے ھیں؟ ہمیں پتہ ہی نہیں کے جس چیز کی ہم مانگ کر رھے ھیں وہ ہمارے لیے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے یہ ہم نہیں جانتے مگر رب العالمین جانتے ہیں۔رب کعبہ ہمیشہ انسان کو وہی دیتے ہیں جو اسکے لیے بہتر ہے کیوں کہ وہ اپنے بندے سے ماں سے بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔
    حسد کے متعلق شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے بہت خوب لکھا ہے جو میں بیان کیے دیتا ہوں۔”تم کیوں اپنے ہمسائے کے رزق،گھر اور جو نعمتیں جو اسے اللہ نے دی ہیں سے جلتے ہو۔یہ رویہ تُمھیں اللہ کے نزدیک قابل نفرت بنا دیگا۔اگر تم اس حصے سے جلتے ہو جو اللہ نے اسے عنایت کیا ہے تو تم اس بندے کے ساتھ زیادتی کر رھے ہو۔اور اگر تم اپنے حصے کی وجہ سے حسد کر رہے ہو تو تُم نا انصاف ،جاھل ہو کیونکہ تمہارا حصہ تمھارے سوا کسی کو نہیں دیا جائے گا۔تمہیں کیا پتہ کے جس مال کی وجہ سے تُم اسے حسد کر رھے ھو وہ آخرت میں اسکے لیے کتنا عذاب بن جائے گا اور اس وقت تُم کو احساس ہوگا کہ تم کیا مانگ رھے تھے”۔اس لیے اللہ کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور رزق حلال کی تمنا کریں۔آپکی آخرت اور دنیا کی زندگی پرسکون رھے گی۔ ہم اپنی محنت اور خدا سے دعا کی بدولت سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے اُن سے حسد نہیں کریں گے تو رب العالمین بھی ہمارے لیے آسانی پیدا کریں گے۔ اللہ ہمیں اس بیماری سے محفوظ رکھے۔ آپکی دعا کا طالب۔شکریہ
    TA: @AhtzazGillani

  • قبرستان میں سونے والی خاتون اور ہمارا معاشرہ تحریر : عروج منطور

    میں پولیس اسٹیشن میں تھا ۔ وہاں کا تھانیدار میرا دوست ہے ۔ باتیں کرتے کرتے وہ اپنا کام بھی نمٹا رہا تھا ، وہاں آئی ایک سائل خاتون کی بات سن کر میں چونک گیا ۔وہ کہہ رہی تھیں میں ہر رات قبر میں لیٹ کر سوتی ہوں ۔
    میں نے ان سے کہا اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ معلوم ہوا خاتون کے شوہر وفات پا چکے ہیں ۔ وہ گھر میں تنہا ہوتی ہیں ۔ کہنے لگیں قبر اور کمرے میں فرق ہی کیا ہے ، چاروں طرف دیواریں اور اوپر چھت ۔ لائٹ بند کر کے میں باقاعدہ نیت کرتی ہوں کہ مر گئی تو یہی میری قبر ہے ،24 گھنٹے تسبیح ہی کرتی رہتی ہوں ۔ اس کہانی میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی
    ان خاتون کو یقین تھا کہ ان کے رشتہ دار انہیں قتل کر کے ان کے مکان پر قبضہ کر لیں گے ۔ خاتون چاہتی تھی کہ وہ مر جائے تو اسی مکان کو اس کی قبر ڈکلیئر کر دیا جائے ۔ اپنی ذات میں ولی ہونے کے زعم کے ساتھ ساتھ ان کا حسد اور انتقام اس سطح پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتی تھیں ۔
    خاتون کے بچے بیرون ملک تھے اور واپس آنے کو تیار نہیں تھے۔خاتون مکان چھوڑ کر بچوں کے پاس جانے پر آمادہ نہیں تھیں ۔انہیں ڈر تھا کہ وہ گئیں تو مکان پر قبضہ ہو جائے گا ۔ وہ یہ مکان بیچنے پر بھی آمادہ نہیں تھیں۔ تھانیدار نے ان کے رشتے داروں کو بھی بلا لیا ۔انہوں نے کہا کہ خاتون کے وہم کا علاج کچھ نہیں ۔دو ماہ پہلے تک خاتون کے تمام اخراجات ہم اٹھاتے تھے ،اب بھی راشن پانی کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ خاتون کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،ہمارے بھائی کی بیوہ ہے ۔ پہلے یہ مکان خاندانی جائیداد میں تھا ،ہم نے ہی حصے کر کے خاتون کے نام یہ مکان کروایا تھا ۔ جیسے ہی مکان خاتون کے نام ہوا انہیں وہم ہو گیا کہ اس مکان پر یہ رشتے دار قبضہ کر لیں گے اور انہیں قتل کر دیں گے۔
    ان کے دیور بڑی سے بڑی قسم اور گارنٹی دینے کو تیار تھے، ان کے اپنے ذاتی گھر اور کاروبار تھے لیکن خاتون کا اصرار تھا کہ انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہوا تو پرچہ ان کے دیوروں کے خلاف کاٹا جائے اور ان کے گھر کو قبر ڈکلیئر کیا جائے ۔
    وہ اپنے ممکنہ قتل کی ایڈوانس درخواست اور وصیت لکھ کر لائی تھیں۔ یہ ایسی درخواست تھی جو قتل ہونے والا ایڈوانس میں اپنے دستخط کے ساتھ تھانے جمع کروا رہا تھا اور فوری پرچہ دینا چاہتا تھا
    یہ کہانی صرف اس خاتون کی نہیں ہے ۔ ہم میں سے اکثر نفسیاتی طور پر ایسے ہی ہو چکے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے ہماری چھوٹی سی خوشی سے بھی باقی سب جل جاتے ہیں ، حسد کرتے ہیں اور ہمارے خلاف انتقامی باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی روٹین میں معمول کی بات کرے تو ہمیں لگتا ہے ضرور یہ اشارہ ہماری جانب ہے ۔
    یہ رویہ ہمیں آہستہ آہستہ نفسیاتی مریض بنا رہا ہے ،ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے سمیت 21 کروڑ لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں
    آگہی کے ایک خاص لمحے اس درویش کو ادراک ہوا تھا ۔اس دنیا میں اہم اب کوئی بھی نہیں رہا ۔کسی کے چلے جانے سے نہ تو دنیا کا کاروبار رکتا ہے اور نہ کسی دفتر کا نظام ٹھہرتا ہے ۔یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہے اور ہر سیر کو سوا سیر میسر ہے ۔
    کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ دوسرے کی خوشی سے جلے اور اگر کوئی حسد کرتا بھی ہے تو اس پر توجہ دینا بےوقوفی اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے خوش رہنے کا راز پایا ۔ میں نے لوگوں کی پروا کرنی چھوڑ دی ۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اس دنیا کے لیے میں اتنا اہم نہیں ہو سکتا کہ کوئی اپنے کام چھوڑ کر مجھ سے حسد کرے گا یا میری خوشیوں سے جلے گا ۔ اگر ایسا محسوس بھی ہو تو میں اسے نظر انداز کرکے مسکراتا ہوا گزر جاتا ہوں ۔میں اب ایسی ٹینشن پالنے کا قائل نہیں جس کا انجام کچھ نہ ہو ۔
    آپ اگر خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھرپور انداز میں لطف کشید کیجیے ۔ لمحہ موجود میں خوش رہنے کا ہنر سیکھیں ۔ اپنی خوشیوں کے لمحے یہ سوچ کر برباد نہ ہونے دیں کہ کون کون جل رہا ہو گا اور کس کس کو جواب دینا ہے ۔
    یاد رکھیں ایک ہی کام کچھ لوگوں کے نزدیک درست ہو گا اور کچھ کے نزدیک غلط ہو گا ۔آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔آپ نے صرف اپنے ضمیر کو خوش رکھنا ہے ، کیا درست ہے اور کیا غلط یہ اپنے ضمیر سے پوچھیں اور پھر ثابت قدم رہیں ۔
    اپنی نجی خوشیوں کو دکھاوے میں بدلنے کی بجائے اپنی یادوں کا حصہ بنائیں ۔ تصاویر ضرور بنائیں لیکن اتنی نہیں کہ اپنی آنکھ کو براہ راست نظارے سے محروم کر کے وہی منظر لینز سے دیکھتے رہیں ۔
    یقین مانیں زندگی بہت خوبصورت ہے ،محبت کرنے والوں کے لیے تو بہت ہی خوبصورت ہے لیکن یہ خوبصورتی اس وقت اذیت میں بدل جاتی ہے کب آپ اپنے آپ کو نیشنل ہیرو سمجھنے لگتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوشی سے باقی سب کو جلن ہو رہی ہے آپ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس جلن کا جواب سوچنے لگتے ہیں۔ ٹھیک اسی وقت وہ خاص لمحہ آپ کی مٹھی سے پھسل جاتا ہے جو آپ کے لیے باعث تسکین ہونا تھا

    Twitter ID: @AroojKhan786

  • اوور کوٹ پہنا انسان . تحریر : محمد اسامہ

    اوور کوٹ پہنا انسان . تحریر : محمد اسامہ

    ہمارے معاشرے کا انسان ننگا کیوں؟
    میں‌ نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ معاشرے میں جنسِ مخالف کا تجسس ختم کردیا جائے یا نکاح کو آسان کر دیا جائے۔ نہیں تو ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے جو خلاف توقعات ہوں گے. اسطرح مسائل بڑھیں گے.

    پچھلے کالم کے نتیجہ خیز جملوں کو شامل کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کل اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر بانیِ پاکستان،قائداعظم محمد علی کی ایک تصویر لگی ہوئی ہے، اس تصویر کے ساتھ قائداعظم کا سنہری قول”ایمان، اتحاد اور تنظیم”درج ہے۔اس شاہراہ کا نام "اسلام آباد ایکسپریس وے” ہے، اسے عرفِ عام میں "لاہور جی ٹی روڈ” کے نام سے پکارا جاتا ہے. معاملہ یہ ہے کہ ایک نوجوان جوڑے نے نیم برہنہ حالت میں قائداعظم کی تصویر کے ساتھ تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی ہیں. جس کو دیکھ کر پاکستانی عوام دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے.

    پہلے گروہ مشتعل ہے کہ اس جوڑے کو جرات کیسے ہوئی کہ بانی پاکستان کی تصویر کا ساتھ جا کر نیم عریانی میں تصویریں بنائے. اس طرح انہوں نے پاکستان عوام کی دل آزاری کی ہے اور چیلنج بھی کیا ہے کہ ہم کبھی بھی اور کہیں بھی جو کرنا چاہیں، جس طرح کرنا چاہیں کرسکتے ہیں. صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ایک خاص خیالات کا حامل طبقہ اس انداز کو پھیلانے کا محرک ہے. یہ کام صرف پاکستانیوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کیے جارہے ہیں. ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان مکروہ حرکات کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

    ایسے کاموں میں استعمال ہونے والے یہ سوچ کر شامل ہوتے ہیں کہ جدید دور ہے تو اسکے تقاضے بھی جدید ہیں جو جدید انداز میں پورے کر کے تشہیر کا ذریعہ بنیں گے. پسند اور نا پسند کرنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں. جنہوں نے پسند کرلیا تو انکا شکریہ ادا کردیں گے اور جنہوں نے ناپسند کیا تو انہیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑے گا. یہ رویہ انتہاہی گھٹیا ہے جس سے صرف اپنی پہچان اکارت ہوگی. بصد افسوس ہمارے پڑھے لکھے آزاد خیال لوگ اس رویہ کو اپنانے میں دن رات محنت کررہے ہیں.

    اسی طرح گزشتہ ماہ ایک ستائیس سالہ لڑکی کا بے دردی سے قتل کیا گیا. اس قتل کی وجوہات بھی کچھ ایسی ہی ہیں. قتل کرنے والا نوجوان امریکہ کا پڑھا لکھا ہے. مقتولہ سابق سفیر کی بیٹی ہے. دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں. پھر بھی جنسی زیادتی ہوئی اور جنسی زیادتی کے بعد قتل ہوا. قتل بھی ایسا جس میں مقتولہ کا سر دھڑ‌سے جدا کردیا جاتا ہے. جسم پر آلہ قتل کے بے دردی سے وار کیے جاتے ہیں. یہ جوڑا "میرا جسم،میری مرضی” کا خوشہ چیں تھا. مہان حیرت ہے پھر بھی یہ واقعہ رونما ہوگیا. مدرسے کا مولوی بھی جب اسی قسم کا جرم سرانجام دیتا ہے. تب تو مسجد، مذہہبی طبقے کو خوب نشانہ بنایا جاتا ہے. اب تو یہ جرم آزاد خیالوں کی طرف سے ہوا ہے؟

    دوہرے معیار پر سوال تو بنتا ہے نہ؟

    جان لیں جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے. مجرم کسی مذہب کے اصول و ضوابط کو نہیں دیکھتا، وہ بس جرم کر دیتا ہے. اگر وہ اپنے مذہب کو دیکھتا، پیروی کرتا تو جرم ہی نا کرتا. اس سے واضح‌ ہوجاتا ہے کہ ایک دوسرے کی بھلائ، خیر کی دعوے دار تحریکوں کے حقیقی مقاصد وہ نہیں جو نظر آتے ہیں بلکہ اور ہیں جنہیں اوور کوٹ پہنایا ہوا ہے.

    بقول غالب
    ہیں کواکب کچھ،نظر آتے ہیں کچھ
    دیتے ہیں یہ بازی گر،دھوکا کھلا

    @its_usamaislam

  • غیبت سے بچیں     تحریر: صفدر حسین

    غیبت سے بچیں تحریر: صفدر حسین

    گناہ درحقیقت دنیا اور آخرت میں تمام مصائب برائیوں اور عذاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور تمام گناہوں میں سے بدترین وہ ہیں جو انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ غیبت اور بہتان دونوں گناہ اللہ نے حرام کیے ہیں کیونکہ یہ لوگوں میں دشمنی برائی اور اختلاف کو جنم دیتے ہیں اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک ہی گھر کے لوگوں اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے درمیان دشمنی کا سبب بنتے ہیں۔ وہ نیکیوں میں کمی اور برائیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور بے عزتی اور بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔
    غیبت کرنا شرم اور رسوائی کا کام ہے۔ ان کا مرتکب دوسروں کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو جاتا ہے ۔ اللہ ان کاموں سے منع کرتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں کہتا ہے غیبت سب سے ناپاک اور حقیر چیزوں میں سے ہے ۔پھر بھی انسانوں میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے اس طرح کہ کوئی بھی اس سے آزاد نہیں ہے سوائے چند لوگوں کے۔
    غیبت کرنے کا مطلب ہے کسی شخص کے بارے میں کچھ بتانا (اس کی غیر موجودگی میں) جس کے بارے میں ذکر کرنے سے وہ نفرت کرتا ہے چاہے وہ اس کے جسم ، اس کی مذہبی خصوصیات ، اس کے دنیاوی معاملات ، اس کے جسم ، اس کے کردار کے بارے میں ہو۔ اس کی دولت ، اس کا بچہ ، اس کا باپ ، اس کی بیوی ، اس کا چلنے کا انداز اور اس کی مسکراہٹ۔ یہ ایک ہی ہے چاہے آپ اس کے بارے میں الفاظ کے ساتھ ، تحریروں کے ذریعے ذکر کریں ، یا آپ اپنی آنکھوں ، ہاتھ یا سر سے اس کی طرف اشارہ کریں۔
    جہاں تک اس کی مذہبی خوبیوں کا تعلق ہے ، یہ تب ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہیے وہ گنہگار ہے ، وہ چور ہے ، وہ غدار ہے ، وہ ظالم ہے،وہ نماز نہیں پڑھتا ، "وہ اتنی جلدی دعا کرتا ہے وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا وہ زکوٰۃ مناسب طریقے سے ادا نہیں کرتا ۔
    جہاں تک دنیاوی معاملات کا تعلق ہے تب یہ ہوتا ہے جب آپ کہتے ہیں اس کا اخلاق خراب ہے، وہ یہ نہیں سوچتا کہ کسی کا اس پر حق ہے،وہ بہت زیادہ بات کرتا ہے وغیرہ۔
    اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے: ” اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے "(قرآن 49:12) اس آیت میں اللہ تعالیٰ غیبت کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے اور وہ غیبت کرنے والے کا موازنہ اس شخص سے کرتا ہے جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی کا گوشت کھانے سے نفرت کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ غیبت کرنے سے گریز کرے
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا: اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو (تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی (جو تم بیان کررہے ہو) اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان باندھا۔

    (سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4874) (مسلم)

    @itx_safder

  • تعلیم کی ضرورت و اہمیت  تحریر: اعجاز حسین

    تعلیم کی ضرورت و اہمیت تحریر: اعجاز حسین

    آج کے اس تیز ترین دور میں تعلیم بہت زیادہ ضرورت و اہمیت کی حامل ہے۔زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    حالانکہ آج کمپیوٹر اور ایٹمی ترقی کا دور ہے۔ساٸنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے ۔مگر سکولوں میں بنیادی عصری علوم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجٸینٸرنگ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف علوم حاصل کرنا جدید دور کا تقاضا ہے۔
    جدید علوم تو ضروری ہیں ہی ساتھ ہی دینی علوم کی تعلم بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔اس کیساتھ ساتھ انسان کو اخلاقی تعلیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اسی تعلیم کیوجہ سے زندگی میں اللہ کی اطاعت،عبادت ،محبت،خلوص،ایثار،خدمت خلق ،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اخلاقی تعلیم کیوجہ سے ہی ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
    تعلیم کے حصول کیلیے قابل اساتذہ کا میسرہونا لازم ہے۔جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر مبّرا ہو گیا،بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے۔انہیں شعور اور ادراک سے مالامال کرتا ہے۔علم و آگہی نیز فکر و تدّبر پیدا کرتا ہے۔
    اگر موجودہ حالات کو دیکھا جاۓ تو شعبہ تدریس کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے۔
    محکمہ تعلیم،سکول انتظامیہ ،معاشرہ بھی بس چار کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا۔آج ڈگری،نمبر اور مارک شیٹ پر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قابض رہا ہے۔
    جن کے نزدیک اس عظیم شعبے کی کوٸی اہمیت نہیں رہی۔بدقسمتی اس بات کی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوتے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کیلیے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جسکی وجہ سے تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔
    مگر پھر بھی جسطرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی جدید تعلیم سے کبھی دور نہیں رہے۔ بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں، زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں ۔آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
    جہاں پوری دنیا کرونا کی وبا سے متاثر ہوٸی ہے وہیں تعلیمی نظام بھی بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس مشکل وقت میں حکومت ،تعلیمی اداروں اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عاٸد ہوتی ہے کہ وہ باہمی تعاون سے تعلیمی نظام کو دوبارہ بحال کریں۔
    تعلیم ہی ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔
    حضرت معاذبن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا” علم سیکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کیلیے علم سیکھنا خشّیت، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت، اسکا پڑھنا پڑھانا تسبیح، اسکی جستجو جہاد ، ناواقف کو سکھانا صدقہ اور اسکی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا ثواب کا ذریعہ ہے۔نیز علم تنہاٸی کا ساتھی، دین کا راہنما، خوشحالی و تنگدستی میں مددگار، دوستوں کے نزدیک وزیر، اور جنت کی راہ کا مینارِ ہدایت ہے۔
    علم ہی کے ذریعے اللہ کی اطاعت و عبادت کیجاتی ہے۔ اسکی حمدوثنا ہوتی ہے،اسی سے پرہیزگاری ہوتی ہے، اسی سے صلہ رحمی کیجاتی ہے، اسی سے حلال اور حرام میں فرق جانا جاتا ہے۔
    تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیرہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے۔یہ انسان کا حق ہے جو کوٸی اس سے چھین نہیں سکتا۔انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہاٸی کیلیے فدیہ کی رقم مقرر کی گٸی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دٸیے گٸے۔ لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،انہیں حکم ہوا کہ دس ،دس بچوں کو لکھنا ،پڑھنا سکھادیں تو چھوڑ دیے جاٸیں گے۔چنانچہ سیّدنا زید بن ثابتؓ نے جو کاتب وحی تھے ۔اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔
    اسی بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیم کی اہمیت کیا ہے۔اور اسکا حصول کتنا ضروری ہے۔
    تعلیم نام ہے کسی قوم کی روحانی اور تہذیبی قدروں کو نٸی نسل تک پہنچانے کا، کہ وہ انکی زندگی کا جز بن جاۓ۔ جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوۓ وہ غلام بنا لٸے گٸے یا پھر جب انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔
    قرآن مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر حصول تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ” جو شخص طلبِ علم کے راستے پر چلا،اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیا“۔
    اسوقت ہمارے مروّجہ روایتی طریقہ تدریس میں بچوں کیلیے کوٸی کشش باقی نہیں رہی۔بچے سکول، کالج اور جامعات میں جانے سے کتراتے ہیں۔لگ بھگ 70 فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بھی کچھ فیصد بچے پراٸمری سطح کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ روایتی طریقہ تدریس میں کوٸی تبدیلی نہیں کی گٸی اور دوسری وجہ مہنگاٸی کی شرح میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو چاٸلڈ لیبر کے طور پر کام میں مشغول کروا دیتے ہیں۔
    اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی دلچسپی کے لیے دیگر پروگراموں کو ترتیب دے کر ان میں دلچسپی کا سامان پیدا کیاجاۓ۔

    @Ra_jo5

  • ابوجہل کا قتل  تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل کا قتل تحریر: محمد معوّذ

    ابوجہل ایک ایسے گروہ میں تھا جنہوں نے اس کے گرد اپنی تلواروں اور نیزوں کی باڑھ قائم کر رکھی تھی ۔ ادھر مسلمانوں کی صف میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جن کے اردگرد دو انصاری نوجوان تھے ، جن کی موجودگی سے وہ مطمئن نہ تھے کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر ان سے کہا : چچا جان ! مجھے ابوجہل تو دکھلا دیجے ۔“
    انہوں نے کہا : ” اسے کیا کرو گے ؟
    اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے جدا نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے ہے وہ مر جائے۔
    اتنے میں دوسرے نے بھی یہی بات کہی ۔ اس کے بعد جب6 صفیں پھٹ گئیں تو عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ابوجہل چکر کاٹ رہا ہے ، انہوں نے دونوں جوانوں کو اسے دکھلا دیا ۔ دونوں جھپٹ پڑے اور تلوار مار کر قتل کردیا ۔ ایک نے پنڈلی پر ضرب لگائی اور اس کا پاؤں یوں اڑ گیا جیسے موسل کی مار پڑنے پر گٹھلی اڑ جاتی ہے ۔ دوسرے نے بری طرح زخمی کردیا اور اس حال میں چھوڑا کہ صرف سانس آجارہی تھی ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ یہ دونوں عفراء کے صاحبزادے معاذ اور معوّذ رضی اللہ عنہ تھے ۔ معوذ رضی اللہ عنہ تو اسی غزوے میں شہید ہو گئے البتہ معاذ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک باقی رہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کو ابوجہل کا سامان دیا۔
    معرکہ ختم ہو گیا لوگ ابوجہل کی تلاش میں نکلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے اسے پا لیا ابھی اس کی سانس آ جا رہی تھی انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا سر کاٹنے کے لئے داڑھی پکڑی اور فرمایا
    اللہ کے دشمن آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا اس نے کہا
    مجھے کاہے کو رسوا کیا؟
    کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے اوپر بھی کوئی آدمی ہے پھر بولا کاش مجھے کسانوں کی بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔
    اس کے بعد کہنے لگا مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔
    ابوجہل نے کہا: او بکری کے چرواہے تو بڑی مشکل جگہ پر چڑھ گیا
    اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ لیا اور خدمت نبوی میں حاضر کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
    تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دے دی ۔
    پھر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔

    @muhammadmoawaz_