Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زندگی اور مشکلات  تحریر:  سیدہ بنت زینب

    زندگی اور مشکلات تحریر: سیدہ بنت زینب

    زندگی خوبصورت ہے لیکن ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، اس میں مسائل بھی ہوتے ہیں اور اصل چیلنج ان مسائل کا ہمت کے ساتھ سامنا کرنا ہے. زندگی کی خوبصورتی کو بام کی طرح کام کرنے دینا، جو مشکل وقت میں درد کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے.
    خوشی، غم، فتح، شکست، دن، رات سکے کے دو رخ ہیں. اسی طرح زندگی خوشی، لذت، کامیابی اور سکون کے لمحات سے بھری ہوئی ہے جو مصائب، شکستوں، ناکامیوں اور مسائل سے جڑی ہوئی ہے. اس کرہ ارض پر کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو مضبوط، طاقتور، عقلمند یا امیر ہو، جس نے جدوجہد، تکلیف یا ناکامی کا تجربہ نہ کیا ہو.
    اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی خوبصورت ہے اور ہر لمحہ زندہ رہنے کا جشن لیکن مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے. جو شخص زندگی میں مشکلات کا سامنا نہیں کرتا وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا.
    مشکلات انسان کی ہمت، صبر، ثابت قدمی اور حقیقی کردار کی جانچ کرتی ہیں. مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور ہمت کے ساتھ زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتیں ہیں.
    اس طرح زندگی صرف گلابوں کا بستر نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے. کانٹے بھی اس کا ایک حصہ ہیں اور ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے جس طرح ہم زندگی کے باقی خوبصورت پہلو کو قبول کرتے ہیں.
    کانٹے یاد دلاتے ہیں کہ کامیابی اور خوشی کیسے ہم سے دور ہو سکتی ہیں لیکن اس سے مایوس نہیں ہونا بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ کانٹوں کا درد مختصر ہوتا ہے، اور زندگی کی خوبصورتی جلد کانٹوں کی چبائی پر قابو پاتی ہے.
    وہ لوگ جو اس تاثر میں ہیں کہ زندگی گلاب کا بستر ہے جلد ہی مایوس ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں. جو ہمت سے مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور کامیابی کو اپنی محنت سے قبول کرتا ہے وہی ہے جو زندگی میں حقیقی خوشی، اطمینان اور سکون کا ذائقہ چکھتا ہے.
    وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ اچھا وقت ہمیشہ کے لیے رہتا ہے، مشکلات کے دوران آسانی سے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں. وہ مطلوبہ محنت اور کوششیں نہیں کرتے کیونکہ وہ آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں.
    آپ ایک طالب علم کی مثال لے سکتے ہیں، جو آدھی رات کو جاگ جاگ کے محنت کرتا ہے، قربانیاں دیتا ہے اور فتنوں کا مقابلہ کرتا ہے تاکہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے. اسی طرح ایک کامیاب ایگزیکٹو کو زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ نہ بھولیں کہ زندگی کامیابی اور ناکامی، خوشی اور غم کا امتزاج ہے.
    اگر انسان مشکل وقت میں امید کھو دیتا ہے، تو وہ کامیابی حاصل نہیں کرے گا اور دوسروں کی جگہ لے لے گا. یہاں تک کہ مضبوط ترین بادشاہوں اور شہنشاہوں کو بھی ان کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. زندگی گلاب کا بستر تو انکے لیے بھی نہیں رہی.
    خلاصہ یہ کہ زندگی گلاب کی طرح خوبصورت ہے لیکن اس میں چیلنجز ہیں جو کانٹوں کی طرح ہیں اور ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے. جو لوگ ان چیلنجوں کو قبول کرتے ہیں اور کامیاب ہوتے ہیں، وہی ہیں جو زندگی کو صحیح معنوں میں جینا جانتے ہیں. اسی طرح زندگی سے لطف اٹھائیں بلکہ درد کی چوٹیں برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہیں.
    زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں ہے، اصل زندگی تو وہ ہے جو دوسروں کے لیے جی جائے. اپنی مشکلات کے باوجود دوسروں کے دکھ درد میں ان کا ساتھ دیا جائے، دوسروں کے لیے کام کیا جائے. سب سے بڑھ کر اپنے ملک اور اسکے لوگوں کے لیے کام کیا جائے تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں میں "عظیم قابلِ تعظیم” بن جائے. پاکستان ذندہ باد….!

    @BinteZainab33

  • فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت: "کے الیکٹرک” مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے      چیئرمین نیپرا

    فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت: "کے الیکٹرک” مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے چیئرمین نیپرا

    چیئرمین نیپراکا کہنا ہےکہ”کے الیکٹرک” مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیپرا میں گزشتہ روز کے الیکٹر ک کی ماہانہ اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹس کی مد میں سماعت ہوئی ،کے الیکٹرک نے اوسط 55 پیسے فی ماہ اصافہ کی درخواست کی تھی –

    سماعت میں چئیرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کے حکام سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ جون میں بجلی کی پیداوری لاگت میں اضافہ کیوں ہوا ؟ اپریل سے جون 2021 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بجلی کیوں پیدا کی گئی، ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے سے قبل نیپرا سے اجازت کیوں نہیں لی گئ ؟-

    پاکستان ٹیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے شعیب اختر

    جس پر کے الیکٹرک حکام نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرنس آئل اور گیس کی کمی کی وجہ سے ڈیزل سے بجلی پیدا کی گئی ہے، پہلے دستیاب ذرائع کو استعمال کیا پھر ڈیزل سے بجلی پیدا کی ہے۔

    نیپرا اتھارٹی نے کہا کہ گیس پریشر کم تھا یا نہیں ،تفصیلی رپورٹ فراہم کریں، گیس کی کمی کے حوالے سے ایس ایس جی سی کو جو شکایات کے الیکٹرک نے بھیجی ہیں اس کی تفصیل فراہم کریں، گیس سپلائی معاہدہ نہ ہونے سے کب تک کراچی والے مہنگی بجلی خریدیں گے۔

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.22 فیصد ہو گئی

    کے الیکٹرک حکام نے جواب میں کہا کہ کوئی بھی کمپنی گیس معاہدہ کرنے کو تیار ہے ، پی ایل ایل کے ساتھ 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس معاہدے پر جلد دستخظ کرلیں گے-

    چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ڈیزل کو بیک اپ فیول کے طور پر استعمال کرنے کی نیپرا سے اجازت کیوں نہیں لی گئی ، مشروط اجازت دی تھی ،کے الیکٹرک نے بجلی باہر سے کیوں لی جس پر کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ ہم پہلے سی پی پی اے سے سستی بجلی لیتے ہیں-

    وزیر اعظم ہاؤس کے کمرشل استعمال پر ن لیگ او پی پی رہنماؤں کا رد عمل

    نیپرا حکام نے بتایا جون 2021 میں اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی پر ایک ارب 12 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا جس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ میں بھی سمجھتا ہوں کہ کے الیکٹرک مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے –

    کے الیکٹر ک کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے عوامی سماعت مکمل ہو گئی تھی اتھارٹی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد اپنا فیصلہ جاری کرے گی-

    نیپرا میں پیسکو اور میپکو کے ڈسٹری بیوشن اور اور سپلائی کے ملٹی ائیر ٹیرٖ ف کے حوالےسے گزشتہ روز بھی سماعت ہوئی، پیسکو کی درخواست کی سماعت 5 اگست تک ملتوی کر دی گئی جبکہ میپکو کی درخواست کی سماعت مکمل ہو گئی ، نیپرا اتھارٹی درخواست کی سماعت پر فیصلہ بعد میں سنایا جائیگا ۔

  • ‏ہمارا سیاست میں کیا کام    تحریر؛ طیب شبیر

    ‏ہمارا سیاست میں کیا کام تحریر؛ طیب شبیر

    پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آج کوئی ایماندار اور قابل آدمی آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو یہ اس کے لیے ناممکن بات ہو گی۔
    بلکہ آج تو یہ تک کہا جاتا ہے کہ سیاست شریف آدمی کا کام نہیں۔
    آخر کیوں ہم یہ نہیں چاہتے کہ اچھے لوگ سیاست میں آئیں کیوں ہم نہیں چاہتے کہ ہم اپنے انتظامی معاملات کسی اچھے انسان کے سپرد کریں۔؟
    جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء انکی سیاسی رہنمائی فرماتے تھے۔

    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی راہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب ایک نبی وفات پا جاتے تو دوسرے نبی ان کی جگہ آ جاتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تو پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: ”خلفاء (نائب) ہوں گے اور بہت ہوں گے، ان کا حق انہیں ادا کرو، اور اپنے حق کے متعلق اللہ سے سوال کرو۔“
    صحيح البخاري #3455
    یہ ناانصافی ہمارے ساتھ جو کی گئی ہمارے بڑوں کی طرف سے کی گئی ہے جن کی نیت تو اچھی تھی لیکن انکو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اسکا نتیجہ اس صورت میں نکلے گا۔
    کچھ لوگوں نے خود کو اس ذمہ داری سے اس لیے بھی دور رکھا کہ کل اللہ کے حضور اسکا حساب دینا پڑے گا۔

    کچھ نے سوچا سیاست تو کسی شریف النفس آدمی کا کام نہیں
    کچھ نے کہا ہمارا کیا لینا دینا سیاست سے ہم تو غیر سیاسی ہیں۔
    ہمارے غیر سیاسی ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند مالدار لوگوں نے اہل نہ ہونے کے باوجود اس ذمہ داری کو سنبھال لیا اور اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے پیسے کا استعمال کیا اور پھر اپنے پیسے کے نقصان پورا کرنے کے لیے ہمارا ہی پیسہ لوٹا ۔
    انتخابات میں پیسے کا استعمال اس قدر کیا جاتا ہے کہ اب کوئی غریب ایماندار آدمی تو انتخابات میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
    مسئلہ یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ہم وہیں پر کھڑے ہیں آج بھی ہم کسی شریف اور ایماندار آدمی کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتے آج بھی کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اسکا اپنا بیٹا بھتیجا یا کوئی عزیز اگر اس میں قابلیت ہے تو وہ آگے آئے اور انکے معاملات کو سنبھالے ہم لوگ بس انہی چند خاندانوں کے نعرے لگا کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
    آج بھی خاندان سے ایک شخص آٹھے گا اور کسی بدعنوان شخص کے چار نعرے لگائے گا کسی نااہل بندے کے ساتھ دو تصویریں بنائے گا اور پورے خاندان کی ووٹیں تھالی میں رکھ کر پیش کر دے گا ۔
    آج اگر ہم بھی اپنے بڑوں کے اسی قول پر قائم رہے کہ “ ہمارا سیاست میں کیا کام “ تو جو ناانصافی ہمارے ساتھ کی گئی ہم آنے والی نسل سے اس سے بھی بڑی ناانصافی کریں گے۔

  • ہمارے معاشرے کی تباہی تحریر: علی معصوم

    ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں قدر و قیمت انسان کی نہیں رہی بلکے اس کے سٹیٹس کی ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی حالت نہیں بلکے اوكات پوچھی جاتی ہے کے آپ کے پاس دولت کتنی ہے آپ کا بزنس کیا ہے آمدنی کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    غریب تو ویسے بھی تباہ ہے جسے اکثر امیر زادے گلی کا آوارہ جانور سمجھتے ہیں وه جیے، مرے، کھاہے یا بھوکا رہے اس کی پرواہ کسی کو نہیں البتہ کوئی امیر زادہ راستے میں بھی مل جاہے تو دس بار کھانے پینے کا پوچھا جاتا ہے۔ اور آجکل اگر ہم کسی بھی محفل میں چلے جاہیں تو وہاں امیر کے لیے مخصوص قسم کا الگ سے بیٹھنے کا انتظام، کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے غریب کو دور سے سلام اور امیر کے لیے ہر شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور آگے سلام کرنے کو جک جاتا ہے۔
    دیکھنے میں آیا ہے آجکل اکثر لوگ شادی بیاہ کے فیصلوں میں بھی سٹیٹس کو ترجیح دیتے ہیں کے لڑکا کیا کرتا ہے؟ لڑکے کا رہن سہن کھانا پینا حلال حرام اخلاق مطلب اس سے نہیں بلکے مطلب اس سے ہے کے اس کے پاس دولت کتنی ہے اور یہی سوچ ہمارے معاشرے کی تباہی ثابت ہوئی۔
    اندازے کے مطابق پاکستان میں اکثر طلاق یافتہ عورتيں تعلم یافتہ یا امیر خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور غریب کم پڑی لکھی عورتيں کم طلاق یافتہ ہوتی ہیں جس کی وجہ یہی ہے لڑکی کی شادی کرتے وقت امیر زادوں نے سٹیٹس کو ترجیح دی لیکن غریب گھرانے کے لوگوں نے لڑکے کو اہمیت دی اس کی اچھایاں یا براہیاں۔۔۔۔
    معاشرہ تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وه امیر اور غریب کے درمیان فرق کو ختم نا کر دے اور یہ فرق تب ختم ہو گا جب تک ہم دنیاوی تعلم کے ساتھ ساتھ دینی تعلم کی طرف لوٹ کر نہیں آتے۔
    رسول ﷺ نے فرمایا علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمیں چین جانا پڑے۔
    علم کہتے ہیں جاننا
    اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا۔
    آجکل لوگ سائنس کی تعلم کے لیے بیرونے ملک جاتے ہیں وه دنیا میں رہنے کے لیے فنی تعلم حاصل کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی علم سے دور بہت دور رہتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجنیئر، وکیل وغیرہ علم نہیں فن ہے اور یہ فن اس کے پاس ہوتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے اس کے ہارے میں جانے۔ علم صرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں جاننا ہے باقی سب فن ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا لیکن علم ہر شخص پے فرض ہے۔
    ہمارے معاشرے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہی علم ہے ہم نے فن کو علم سمجھا اور پھر علم سے دور رہ کر ہم سلیبرٹی بن گے ہم نے اللّه کے دین اسلام سے غلطیاں نکالنا شروع کی، ہم نے شہریت کو بھلا دیا، ہم نے اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق کر لیا، ہم نے شہریت میں دی جانے والی سزاہوں کو جہالت سمجھ لیا جس سب کا نقصان ہمیں یہ ہوا کے ہمارا معاشرہ تباہ ہو گیا۔ ہم نے امیر اور غریب کے درمیان فرق پیدا کیا، بچوں کے ساتھ زیادتی، قتل و غارت، چوری، زنا، تشدد، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریب اور پھر ان کے بے رحمی سے قتل ہر برے عمل میں اضافہ ہوا اس کی وجہ یہی ہے کے ہم نے علم/شہریت سے دوری اختیار کی۔
    جب تک ہم علم کی طرف اللّه اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹ کر نہیں اہے گے تب ہمارا ممعاشرہ ایسے ہی تباہ ہوتا رہے گا۔
    @AM03100

  • پاکستان ٹیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے           شعیب اختر

    پاکستان ٹیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے شعیب اختر

    سابق پاکستانی کرکٹر اور کشمیر پریمیئر لیگ کے امن کے سفیر شعیب اختر نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو کشمیر پریمیئر لیگ پر قائم کردہ موقف پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ لیگ کا ہونا کشمیر کے لیے بہت اہم ثابت ہوگا، پی سی بی کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑیوں کو لیگ میں شامل کرے۔

    سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے۔

    شعیب اختر کشمیر پریمئیر لیگ میں امن کے سفیر مقرر

    واضح رہے اس سے قبل شعیب اختر نے ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل کے بارے میں پیشنگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں پاکستان بھارت کو شکست دے گا۔

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا شعیب اختر کا کہنا تھا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اس مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں پہنچیں گی، جس میں بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی کنڈیشنز اور پچز دونوں ٹیموں کو سپورٹ کریں گی۔

    کشمیر پریمئیر لیگ: خوفزدہ بھارت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو خط لکھ دیا

    خیال رہے کہ تمام طرز کے ورلڈ کپ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں گیارہ میچز میں شکست ہوئی ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 17 اکتوبر سے 14 نومبر تک متحدہ عرب امارات اور اومان میں کھیلا جائے گا۔عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت سے یو اے ای منتقل کیا گیا ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا ، جیت گا کون ؟ شعیب اختر نے دی بڑی پیشن گوئی

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا ،غیر ملکی کھلاڑیوں کا کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت کا فیصلہ

  • رجعت پسندی   تحریر:حُسنِ قدرت

    رجعت پسندی تحریر:حُسنِ قدرت

    زندگی میں ہماری سوچ ہر معاملے کے بارے میں دو قسم کی ہوتی ہے ایک مثبت اور دوسری منفی جبکہ مثبت سوچ کا ایک پہلو "رجعت پسندی” ہے جسے ہم آپٹیمزم کہتے ہیں
    رجعت پسندی کا مطلب ہے اگر آپ بہت زیادہ کوشش کرنے کے باوجود ناکامی کا شکار ہو رہے ہیں تو ہار نہ مانیں اور دوبارہ کوشش کریں اپنا کوشش کرنے کا طرز دیکھیں اور اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو مزید بہتر طریقے سے کوشش کریں اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کامیابی کی طرف اپنی جدوجہد جاری رکھیں
    اللہ تعالیٰ کا یہ قانون اٹل ہے کہ اگر انسان کسی چیز کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ اسے ضرور حاصل کرتا ہے اگر زندگی کے کسی مرحلے میں آپ لوگوں کا ناکامی سے سامنا ہو تو اسکا مطلب ہے کہ ہم سے ہی کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے کیونکہ قانون قدرت ہمیشہ ہے اٹل رہے ہیں
    اکثر لوگوں کو جب انکی کوشش یا خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں ملتا تو وہ اپنی غلطی تلاش کرکے اس کا ازالہ کرنے کی جگہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں
    اگر کسی کام کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں آتا تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری کوشش رائیگاں گئی ہے کوشش اور محنت کبھی بھی ضائع نہیں جاتی اسکا نتیجہ ضرور نکلتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اسکا شعور نہیں ہوتا
    جیسا کہ ایک انسان کسی کاروبار میں پیسے انوسٹ کرتا ہے اور وہ ڈوب جاتے ہیں تو اگر وہ روتا رہتا ہے دوبارہ کوشش نہیں کرتا تو وہ اسکی ناکامی ہے لیکن اگر وہ انسان اپنے پچھلے کاروبار میں کی گئی غلطیوں سے سیکھتا ہے نوٹ کرتا ہے کہ اسے خسارہ کہاں اور کس وجہ سے ہوا اور کون سی ایسی غلطی تھی جس کی وجہ سے اسکا کاروبار ڈوب گیا تو وہ جب دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرتا ہے پھر ان پوائنٹس کا خیال کرتا ہے کہ یہ غلطی وہ نہیں دہرائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اگلی دفعہ اس کا کیا گیا کاروبار بہترین طریقے سے کامیاب ہو اور پہلے سے اسٹیبلش لوگوں سے زیادہ جلدی وہ بہت زیادہ ترقی کرے اور کامیاب بھی ہو
    اگر آپ لوگوں کی محنت اور کوشش کا نتیجہ آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہے تو مایوس ہو کر محنت نہ چھوڑیں کیونکہ محنت ہمیشہ رنگ لاتی ہے یہ بہت بڑی اور کھلی حقیقت ہے ایک سیانے کا قول ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ صرف اس لیے ناکام رہتے ہیں کہ کامیابی کے سرے پہ پہنچ کر محنت چھوڑ دیتے ہیں
    یہ بات ماننا یہاں مشکل ہے کہ ہم مثبت طرز عمل اور رجعت پسندی کو اپناتے ہوئے اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں خاص کر جو ماحول یہاں بنا ہوا ہے سیاسی،سماجی اور معاشی نظام درہم برہم ہوا ہے لیکن اسکی زمہ داری ہم پہ عائد نہیں ہوتی ہمارا کام بس اپنے حصے کا مثبت کام کرنا ہے
    رجعت پسندی کے ذریعے آپ مثبت سوچ کو اس طرح اپنا سکتے ہیں کہ آپ اس وقت تک محنت جاری رکھتے ہیں جب تک بامراد نہیں ہو جاتے
    کیونکہ چیلنج ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں وہ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس انعام کے قابل ہیں جو ہمارے لیے اللہ تعالٰی نے محفوظ کر رکھا ہے
    کامیابی اور ناکامی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اگر آپ ناکامی کو پاچکے ہیں تو یقیناً بہت جلد کامیابی آپ سے ملے گی
    دنیا کی ہر چھوٹی بڑی شے سے جذباتی تعلق رکھنا اور اسکے نہ ملنے یا کھو جانے پر اداس ہو جانا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اگر ہم چاہیں تو اپنی محنت کوشش مثبت سوچ (رجعت پسندی) اور دعا سے وہ واپس حاصل کرسکتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • سندھ بھی کپتان کا تحریر:  فرزانہ شریف

    سندھ بھی کپتان کا تحریر: فرزانہ شریف

    کشمیر فتح کرنے کے بعد خان صاحب کا اگلا پڑاو سندھ ہے جوں جوں 8اگست قریب آرہی ہے جیالوں کی رات کی نیند دن کا سکون ختم ہونا شروع ہوچکا پہلے لاک ڈاون کا سوشا چھوڑا وہ کامیاب نہیں ہوا اب 8تاریخ کو بےچارے کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی مثال بنیں گے نہ ہنس سکیں گے نہ رو سکیں گے۔۔زرداری جو کہتا تھا میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا اب بھیگی بنا بیٹھا ہے اندر سے یہ چور لٹیرے خوف زدہ ہیں اوپر اوپر سے بلاول بھٹو کہتا ہے خان صاحب یہ میرا پہلا اور آپ کا آخری الیکشن ہو گا۔
    بلو رانی! تمہارے خاندان نے ابھی تک اس ملک کو کیا دیا ہے؟ عمران خان نے بغیر حکومت کے عوام کو ورلڈ کپ، نمل یونیورسٹی، 3 کینسر ہسپتال اور سیاسی شعور دیا ہے، اور جب سے حکومت میں ایا ہے بنا قرض کے پہلا پورا سال ملک چلایا بناکسی کے اگے جھولی پھلائے۔۔۔۔!! اور ان تین سالوں میں بڑے بڑے منصوبے شروع کیے دس ڈیمز پر کام شروع ہے جو 2028تک مکمل ہوجائیں گے تب تک سندھ سے بھی ڈاکو راج ختم ہوجائے گا ان شاءاللہ
    چاروں صوبوں کا سلطان
    ان شاءاللہ عمران خان
    فیلحال خان صاحب کا پہلا جلسہ مٹھی میں ہورہا ہے 8اگست کو ۔۔۔
    تو سوچ لو کشمیر کا سلطان بننے کے بعد کیا اب سندھ کو آپ کے مزید لوٹنے کے لیے چھوڑ دے گا سوچنا وی ناں
    اس وقت میں بہت ہنستی ہوں
    جب جیالے کہتے ہیں خان صاحب ہمت ہے تو ہمارے لیڈر کو نااہل کرکے دکھاو
    آپ کو نااہل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے آپ کا پہلے ہی بیڑا غرق ہو چکا ہے آپکو 5000سے زیادہ ووٹ نہیں مل رہے۔ خان صاحب کو مردے مارنے کا شوق نہیں
    زرداری اور فریال تالپور کے ہوتے ہوئے اپکو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ۔پیپلز پارٹی پنجاب سے تو ایسے ختم ہوگی ہے جیسے برسات کے بعد مینڈک۔۔

    ‏کبھی کسی نے نوٹ نہیں کیا کہ جیالوں اور نون لیگیوں کا ایک ہی اسٹائل ہے۔ واسکٹ مافیا اور کاٹن مافیا ٹائپ اکڑتے ہوئے ۔
    پی ٹی آئی منسٹرز پر نظر دوڑائیں تو نہائت سلجھے ہوئے صوبر اور شفیق ۔ جن سے بات کرنے میں خوف نہ محسوس ہو ۔
    یہ تبدیلی کی نشانی ہے

    ‏پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے کسی بھی ساستدان کی ہسٹری آپ دیکھ لیں ۔ کرپشن میں لت پت پایا جائے گا ۔ جبکہ ان دو پارٹیز کا موازنہ پی ٹی آئی کے منسٹرز سے کریں ۔ کسی بھی منسٹر پر کرپشن کا کوئی چارج نہیں ۔
    یہی وجہ ہے kpkمیں خان صاحب دوسری دفعہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ایسے ہی کشمیر میں دو تہائی اکثریت لینے میں کامیاب ہوگے ہیں اب ان شاءاللہ سندھ بھی کپتان کا ۔۔

  • بے لگام سوشل میڈیا  تحریر: محمد آصف شفیق

    بے لگام سوشل میڈیا تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہے نہ کوئی اخلاقیات کا تصور الا ماشااللہ کوئی چند افراد آپ کو مل جائیں ، جہاں تک سوشل میڈیا ٹیموں کا تعلق ہے اس میں بھی باجماعت ٹرولنگ کرنا بے ہودہ قسم کے ہیش ٹیگز چلا کر با جماعت لوگوں کو برے برے القابات سے نوازنا اور پھر اس پر اترانا ،
    اگر آپ صرف ٹویٹر کو ہی لے لیں میں نے اگست 2009 میں ٹویٹر پر اکاونٹ بنایا ، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسی تحریر یا ٹویٹ نہ کیا جائے جس سے کسی کا دل دکھے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے گالی کا جواب بھی بھلائی سے دیا ، الحمد اللہ سوشل میڈیا ٹیمیوں کے کئی پرو ایکٹیو افراد ایڈ ہیں ایک دوسرے کو فالو بھی کیا ہوا ہے اور اکثر اوقات کوشش ہوتی ہے اگر کوئی اچھا ہیش ٹیگ ہو تو اس میں اپنا حصہ ڈال دوں
    دوسری سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کی بھی اپنی سوشل میڈیا ٹیم ہے اور میں الحمد للہ کافی عرصہ سے اس سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہوں محترم شمس الدین امجد بھائی اس ٹیم کو لیڈ کرتے ہیں ، ہر فرد کیلئے رہنمائی اور تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے گاہے بگاہے اون لائن بھی اور منصورہ لاہور میں بھی تربیتی نشستیں رکھی جاتی ہیں آجکل بھی تین روزہ مرکزی میڈیا ورکشاپ جاری تھی جو کہ آج ہی اختتام پزیر ہوئی جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے شرکاء سے خطاب کیا
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ہوں یا قاضی حسین احمد ؒ یا سید منور حسن ؒ سب نے اپنے سوشل میڈیا ورکرز کو ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے اور اس بات کی گواہی آپ کے کٹر دشمن بھی دیں گے کہ جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم ایک منظم اور باوقار ٹویپرز پر مشتمل ٹیم ہے جو ہمیشہ اخلاقیات کی پابندی کرتی ہے اپنے مخالفین کو بھی جواب اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دیتی ہے
    آج کچھ بہترین افراد کے ٹویٹر سے گالیوں کے ٹویٹ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہمیں ، فالورز زیادہ ہو یا کم اکاونٹ ویری فائی ہو یا نہ ہو مگر ہم اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں بحثیت مسلمان ہمیں علم ہونا چاہئے کہ گالیا ں نکالنا کیسا ہے ، تہمت لگانا کیسا ہے ، الزامات لگانا کیسا ہے ، چھوٹ بولنا کیسا ہے ، کچھ خدا کا خوف ہی نہیں ہے موت یاد ہی نہیں مرنا نہیں ہے کیا ؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 47
    رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں مندرجہ ذیل چار عادتیں ہوگی وہ پکا منافق ہوگا جب گفتگو کرے تو جھوٹ کہے جب وعدہ کرے تو پیمان شکنی کرے جب کوئی معاہدہ کرے تو معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غداری کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکنے لگے اور جب کسی میں مندرجہ بالا خصلتوں میں سے کوئی بھی خصلت ہوگی تو اس میں ایک نشانی منافقت کی ہے تاوقتیکہ وہ اس عادت کو ترک نہ کر دے۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 439
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 933
    عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 264
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2078
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے وہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائیں اورہمیں اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنے دین پر چلنے والا بنائیں ۔ آمین یا رب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب  تحریر: ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب

    ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب تحریر: ٹوکیو اولمپکس اور ایتھلیٹ طلحہ طالب

    کھیلوں کا سب سے بڑا عالمی میلہ جاپان کے دارلحکومت ٹوکیو میں کورونا وبا کے سائے میں سج گیا ہے۔ کھیلوں کے مقابلے جاپان کے مختلف شہروں میں ہوں گے۔ افتتاحی تقریب میں بھی کورونا کا خوف غالب تھا جس کی وجہ سے رنگا رنگ تقریب میں مہمان انتہائی قلیل تعداد میں موجود تھے اور مارچ پاسٹ میں بھی کھلاڑیوں کی تعداد کم کردی گئی تھی۔
    اس عالمی ایونٹ کی افتتاحی تقریب میں کورونا رولز پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔ کھلاڑیوں کے مارچ پاسٹ میں زیادہ تر دستوں نے چہروں پر ماسک لگا رکھے تھے اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا تھا۔ پاکستانی پرچم ماحور شہزاد اور خلیل اختر نے اٹھایا ہوا تھا۔ پاکستانی کھلاڑی سفید شلوار قمیض اور سبز واسکٹ میں ملبوس تھے۔
    ٹوکیو اولمپکس میں 33 کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں ریکارڈ 339 گولڈ میڈلز کے لیے دنیا بھر کے 207 ممالک کے 11 ہزار سے زیادہ ایتھلیٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ اس مرتبہ ٹوکیو اولمپکس میں خواتین کی ایک ریکارڈ تعداد شرکت کر رہی ہے جن کا تناسب 48 فیصد ہے۔
    ٹوکیو اولمپکس میں 22 رکنی پاکستانی دستے میں 10 ایتھلیٹس اور 12 آفیشلز شامل ہیں۔ پاکستانی ایتھلیٹس 6 کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے میڈل جیتنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اولمپکس تاریخ میں پہلی مرتبہ 3 خواتین کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں جن میں نیشنل بیڈمنٹن اسٹار ماحور شہزاد، ایتھلیٹ نجمہ پروین اور تیراک بسمہ خان شامل ہیں۔ پاکستان 28 سال سے اولمپک گیمز میں میڈل جیتنے کا منتظر ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان ہاکی کا عالمی چیمپیئن تھا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم اولمپکس کے عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کرسکی۔
    ان سب باتوں میں سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی دستے میں شامل ہونہار اور محنتی ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے 45 سال بعد ویٹ لفٹنگ کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرکے ملک کا نام روشن کردیا۔ طلحہ طالب نے 67 کلوگرام ویٹ لفٹنگ کیٹگری کے عالمی مقابلے میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے وطنِ عزیز پاکستان اور پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ طلحہ طالب نے مجموعی طور پر 320 کلوگرام وزن اٹھایا اور اس میں ایک دفعہ 170 کلوگرام وزن اٹھانا بھی شامل ہے۔ وہ صرف 2 کلوگرام کے فرق سے میڈل جیتنے سے محروم رہے۔ مگر انہوں نے پوری پاکستانی قوم کے دل جیت لیے۔ طلحہ طالب کا کہنا تھا کہ اگر ان کو بنیادی سہولیات اور عالمی معیار کا سامان اور تربیت دی جاتی تو وہ ضرور میڈل جیت کر آتے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ طلحہ طالب نے اپنی مدد آپ کے تحت محنت کی بلکہ جس جگہ وہ ہاسٹل میں رہتے تھے اس کا کرایہ بھی وہ خود دیتے تھے۔ ان کو کسی قسم کوئی سپورٹ اور مالی معاونت نہیں کی گئی۔ جب کہ دوسرے ممالک کے ایتھلیٹس کو ہر طرح کی معیاری سہولیات میسر ہوتی ہیں۔
    لٰہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایتھلیٹس کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا جائے۔ ان کو انٹرنیشنل لیول کی جدید سہولیات اور سامان مہیا کیا جائے۔ ان کی مالی معاونت کی جائے۔ اور سب سے ضروری بات یہ کہ کوچنگ سٹاف بھی انٹرنیشنل لیول کا ہونا چاہیئے۔ ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہو۔اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مقابلے منعقد کیے جائیں تاکہ ہونہار کھلاڑیوں کو موقع مل سکے۔کم از کم ہر یونیورسٹی میں اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے جہاں جدید سامان اور سہولیات موجود ہوں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے فنڈ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہمارے ایتھلیٹس کو مناسب سہولیات میسر ہوں اور وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرسکیں۔

    ‎@Rumi_PK

  • 32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان . تحریر :‌ غنی محمود قصوری

    32850 دنوں پر مشتمل ظلم کی داستان . تحریر :‌ غنی محمود قصوری

    ہندوستانی زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وادی کشمیر جنت نظیر میں مسلمان 95 فیصد،جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44 فیصد ہیں جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بدھ مت 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں.

    1931 سے کشمیری قوم تقریبآ 32850 دنوں سے غلامی کی زندگی گزار رہی ہے مگر گزشتہ 730 دنوں یعنی 5 اگست 2019سے ان کی مظلومیت میں انتہاہ کا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ غاصب ہندو نے کیا ہے.

    ہندوستان میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل کرکے پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کیا تاکہ کشمیر کو تقسیم کرنے کے فارمولا پر عمل درآمد کیا جائے.

    کرفیو لگاتے ہی ہندوستانی گورنمنٹ نے 500 سے زائد حریت لیڈروں بشمول بزرگ ترین لیڈر سید علی شاہ گیلانی کو قید کر دیا
    جس پر کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی اور اور گزشتہ دو سالوں سے 5 اگست کو بطور یوم سیاہ منا رہی ہے.

    اس سال بھی 5 اگست کو کشمیری بطور یوم سیاہ کے طور پر منائینگے کشمیریوں نے پوری وادی کو ہندوستانی فوج کے انخلا پر مبنی پوسٹرز سے بھر دیا ہے اور ہڑتال کے ساتھ احتجاج کی کال بھی دی ہے جس کیلئے مقبوضہ کشمیر میں 10 ہزار فوج کا ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے.

    بھارت نے اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے کشمیریوں پر ظلم کی ہر حدیں پار کیں ہیں مگر کشمیری قوم کا جذبہ آزادی کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی چلا گیا ہے.

    ہندوستان نے 1989 سے لے کر ابتک مقبوضہ وادی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1 لاکھ سے زائد معصوم کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا.

    ہندوستان کی اس قتل غارت گری سے 25 ہزار سے زائد خواتین بیوہ اور 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب کشمیری بچے یتیم ہوئے ہیں جبکہ ہندوستانی فوج نے 13 ہزار سے زائد کشمیری خواتین کی عصمت دری کی اور 2 لاکھ سے زائد املاک کو تباہ کیا.

    حتی کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی خاطر جانوروں پر استعمال کی جانے والی پیلٹ گن کشمیریوں پر استعال کی جاتی ہے. اس پیلٹ گن میں 300 سے 600 چھرے ہوتے ہیں جو کہ انسانی جسم میں داخل ہو کر سخت اذیت کا باعت بنتے ہیں.
    ایک تحقیق کے مطابق پیلٹ گن سے متاثرہ 33 فیصد سے زائد افراد دوبارہ اپنی آنکھوں کی بینائی حاصل نہیں کر پاتے مگر اس سب مظالم کے باوجود وہ ایک ہی نعرہ لگاتے ، کشمیر بنے گا پاکستان، ہندوستان جتنا مرضی ظلم کرلے وہ اپنا مستقل جبری قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے جس نے ایک اذان کی تکمیل کی خاطر 22 شہادتیں پیش کی تھیں.

    رواں سال ہندوستان نے مظالم کی نئی داستان رقم کی ہے مگر اس کے ساتھ کشمیریوں نے بھی جرآت و استقامت کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے. کشمیر کا بچہ بچہ ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا ہے.

    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں

    ان شاءاللہ بہت جلد کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا.