Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جدید خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔  تحریر: زاہد کبدانی

    جدید خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ تحریر: زاہد کبدانی

    ہم زیادہ تر تمام معاملات کے قابل ذکر باہمی تعلق سے اندھے ہیں۔
    یہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک پیچیدہ کائنات میں یہ دیکھنا مشکل ہے کہ آپ کے ساتھ کون سی مجبوریاں کام کرتی ہیں اور قوتیں آپ کے خلاف کام کریں گی۔

    ٹوسٹر حاصل کرنے کے مقابلے میں ، پھر ہم آخری مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہیں اور اس کے ارد گرد چلنے والے مختلف طریقہ کار کو نہیں سمجھتے ہیں۔ تکرار کریں ، پیدا نہ کریں تخلیقی تخلیقات پرانے خیالات کا تازہ مجموعہ ہوتی ہیں۔ اختراعی مومن تخلیق نہیں کرتے ، وہ تعلق رکھتے ہیں۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں

    مزید یہ کہ ، ترقی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ اس سے انچ فیصد ترقی حاصل کرنا ہے جو پہلے ہی پورے طریقہ کار کو پہننے اور شروع کرنے کے برعکس کام کرتا ہے۔ انفرادی پروازوں کے طریقہ کار نے ایک جیسی کورس کی پیروی کی۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔
    ہم عام طور پر اورول اور زین کو چارج کرتے ہیں کیونکہ وہ جدید پرواز کے موجد ہیں۔ ٹوسٹر پروجیکٹ اس کی ایک اچھی مثال ہوسکتی ہے جس طرح ہم اکثر جدید ماحول کی پیچیدگی کا مشاہدہ نہیں کرتے ہیں۔ جب بھی آپ ٹوسٹر خریدتے ہیں ، اس کے بعد آپ کبھی یقین نہیں کریں گے کہ دکان سے دیکھنے سے پہلے کیا ہونا چاہیے۔

    آپ پہاڑ سے لوہے کے پھینکنے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم کو زمین سے اوپر کی طرف کھینچنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ ترقی کی تمام قوتوں کے دوران ، ترازو چھوٹے نقاد بن گئے ، جو ابتدائی طور پر موصلیت اور گرمی کے لیے مفید رہے ہیں۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    آخر میں ، یہ چھوٹے پھول پرواز میں موثر پنکھوں میں بڑھ گئے۔ جب آپ کے ٹوسٹر کی وجہ سے پلاسٹک کیس بنانے کا وقت آگیا ، تو تھویٹس کو احساس ہوا کہ وہ پلاسٹک کی چادر بنانے کے لیے خام تیل کی خواہش کرے گا۔ اس بار اس نے بی پی کی پیشن گوئی کی اور پوچھا کہ وہ اسے آئل رگ میں کب اڑائیں گے اور پھر اس کو تیل دیں گے۔
    انہوں نے فورا انکار کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ تیل کی تنظیمیں لوہے کی کانوں کی طرح کافی نہیں ہیں۔ تھویٹس کو وینائل بٹس جمع کرنے اور ان کے پگھلنے کو اپنے ٹوسٹر مثال کے طور پر ڈھکنا پڑا۔ یہ اتنا سادہ نہیں جتنا یہ لگتا ہے۔
    گھر میں بنے ٹوسٹر نے کچی گیجٹ کے مقابلے میں پگھلنے والی کوکی کی طرح دکھائی دینا چھوڑ دیا۔ یہ پیٹرن اس ٹوسٹر پروجیکٹ کی مکمل لمبائی تک جاری رہا۔ پہلے کے طریقہ کار کی مدد کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن نہیں تھا۔ سب سے زیادہ نکل اجزاء بنانے کے لیے ، مثال کے طور پر ، اسے پرانے سکے پگھلانے کا سہارا لینا پڑا۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس نے بعد میں کہا ، "میں نے محسوس کیا کہ اگر آپ نے شروع سے ہی شروع کیا تو آپ اپنی زندگی آسانی سے ایک ٹوسٹر بنانے میں گزار سکتے ہیں” ہم اکثر جدید تجاویز مانتے ہیں اور بامقصد تبدیلیاں خالی سلیٹ کی ضرورت ہوتی ہیں۔ جب کاروباری کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ، ہم چیزوں کو بیان کرتے ہیں جیسے ، "ہمیں براہ راست ڈرائنگ بورڈ پر واپس جانے دو”

    ایک بار جب ہم ان رواجوں پر یقین کر لیتے ہیں جو ہم قیاس کو تبدیل کرنا پسند کریں گے ، "مجھے صرف ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔” لیکن ، تخلیقی ترقی تمام پچھلے خیالات اور ایجادات کو پیش کرنے اور سیارے کو مکمل طور پر دوبارہ تصور کرنے کا نتیجہ ہے۔ مخلوق کی بادشاہی کے بعد کوئی جادوئی لمحہ نہیں تھا۔

    "آئیے شروع سے شروع کرتے ہیں اور ایک ایسا جانور بناتے ہیں جو اڑ سکتا ہے” اڑنے والے پرندوں کی نشوونما کام کرنے والے خیالات کو دہرانے اور وسعت دینے کا ایک سست ذریعہ تھا۔ ٹوسٹر پروجیکٹ 2010 میں واپس آیا ، تھامس تھویٹس نے فیصلہ کیا کہ وہ شروع سے ہی ٹوسٹر بنانا چاہتا ہے۔

    وہ ایک دکان پر گیا ، ٹوسٹر خریدا جس کا اسے پتہ چل سکتا تھا ، اور گھر جا کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔ اس نے سٹیل کے اجزاء بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس لوہے کی کھوج کا پتہ لگانے کے بعد وہ سٹیل پیدا کرنے کا پابند تھا۔

    تھویٹس نے اس کی جگہ پر لوہے کی کان بلائی اور پوچھا کہ جب وہ اسے چند کاموں کے لیے استعمال کرنے دیں گے۔ شروع سے شروع کرنا عام طور پر ایک خوفناک خیال ہے۔ کامیابی قلیل المدتی رہی ہے۔ شروع سے شروع نہ کریں تھویٹس نے فرض کیا تھا کہ ٹوسٹر ایک نسبتا سیدھا نظام ہے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    اب تک وہ اس کی تعمیر کا کام مکمل کر چکا تھا ، لیکن فرش پر 400 اجزا بچھے ہوئے تھے۔ ٹوسٹر میں 100 سے زیادہ الگ الگ مادے شامل تھے جن میں سے تین نکیل ، پلاسٹک سٹیل ہیں۔ ایک بار جب آپ کسی پیچیدہ مسئلے کو سنبھال لیتے ہیں تو ، عام طور پر اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کیا کام کرتا ہے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    کوئی بھی تصور جو اب کام کر رہا ہے اس نے بہت سارے آزمائش پاس کیے ہیں۔ پرانے خیالات صرف ایک خفیہ ہتھیار ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ایک پیچیدہ دنیا میں رہنے کے قابل تھے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • افغان امن عمل ، طالبان، اور افغانستان کی بگڑتی صورتحال    تحریر:زاہد چوہدھری

    افغان امن عمل ، طالبان، اور افغانستان کی بگڑتی صورتحال تحریر:زاہد چوہدھری

    افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کرنے کی پہلی کوشش اوباما کے دور میں میں منظر عام
    پر ٓئیں۔ پھر 2011 ء اور 2013ء کے اوائل میں کو ششیں کی گئیں لیکن بد قسمتی سے وہ بھی ناکام رہیں؛ جون 2013ء میں قطر میں ہونے والے مذاکرات کو صدر حامد کرزئی نے صرف اس لے منسوخ کر دیا تھا کیونکہ طالبان نےُُُ امارت اسلامی افغانستان کا پرچم اس دفتر پر لگادیا تھا جہامذاکرات منعقد ہونا تھے۔اس کے صرف ایک ماہ بعد طالبان نے اپنا دفتر بند کر دیا اوافغان امن عمل مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہے۔ پھر تین سال بعد ایک ا جلاس امریکہ، چین اور پاکستان کے درمیان2016ء میں ہوا، جس کی سربراہی پاکستان نے کی، اورجس کا مقصد طالبان کابل امن کو یقینی بنانا تھا، لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔

    ٹرمپ، جنہوں نے اگلے سال امریکہ میں عہدہ سنبھالا، نے افغانستان امن مذاکرات کو ایجنڈے میں شامل کیا اور طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں کیں۔دوسری طرف اشرف غنی حکومت نے نہ صرف امریکہ کے اس ا قدام کی ؎حمایت کی بلکہ کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ طالبان کے ساتھ مختلف وعدے بھی کیے گئے جن میں افغان جیلوں میں قید طالبان کی رہائی، اور طالبان کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کرنا، اور دونوں جانب سے حملوں کا روکنا شامل تھا۔ لیکن جب کابل حکومت نے طالبان سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا تو طالبان نے کابل حکومت سے یہ کہتے ہوے منہ موڑ لیا کہ وہ خود کو صرف امریکہ سے مخاطب کریں گے نہ کہ غنی سے۔ اس کے بعد 2018ء سے طالبان نے سخت گیر اور غیر سمجھوتے والا رویہ محدود طریقے سے کم کیا،امریکہ اور طالبان کے نمائندوں نے فروری 2019ء میں امن مذاکرت کے لیے دوحا میں ملاقاتیں کیں جو چھ ماہ تک جاری رہیں اور یہ اعلان کیا گیا کہ امریکہ اور طالبان معاہدے کے قریب ہیں۔

    تاہم، اگست 2019ء میں یہ مثبت مزاج جلد ہی غائب ہو گیااور اگلے مہینے امریکی نمائندہ خصوصی برا ئے افغان امور زلمے خلیل زاد نے اعلان کیا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور یہ کہ ٹرمپ کی منظوری طلب کی گئی ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے کابل میں دہشت گردانہ حملے میں ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد اس معاہدے کو روک دیا تھا۔

    پھر دسمبر2019ء میں امریکہ اور طالبا ن کے درمیا ن دوبارہ مذاکرات شروع ہو ئے،یہ خیال کہ خلیل زاداور طالبان حکام کے درمیان امن مذاکرات ٓہستہ ٓہستہ ختم ہوگئے تھے،اور پہلی بار دیکھا گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بہت ٹھوس ہوے ہیں۔ تشدد میں کمی، افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء،بین الافغان مذاکرات، اور طالبان کے امن معاہدے کے مذاکرات کے فریم ورک کے اندر انسداددہشت گردی کی ضمانت جیسے فیصلوں کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور یہ کہ امریکہ ستمبر 2021ء تک اپنی افواج کو افغانستان سے نکال لے گا۔امریکہ نے یہ معاہدہ اس شرط پر کیا کہ طالبان افغانستان کے اندر القائدہ جیسے عسکریت پسند گروہوں کا خاتمہ کریں گے۔

    ان مذاکرات کی رو سے افغانستان سے تقریبا 20 سال کے بعد امریکی فوج نے صدر بائیڈن کی ہدایت پر ملک سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ پنٹاگو ن کے مطابق 95 فیصدامریکی فوجی انخلا کر چکے ہیں، جسکے ساتھ ہی طالبان نے اپنی موجودگی کو ملک کے بڑے حصوں تک بڑھا دیا ہے، اور طالبان نے دعوہ کیا کہ انہوں نے ملک کے بیشتر داخلی اور خارجی راستوں پر قبضہ جما لیا ہے، جن میں پاکستان کے ساتھ منسلک اسٹریٹجک بارڈر سپین بولدک، ایران اور ازبکستان کے بارڈرز شامل ہیں۔

    لانگ وار (Long War Journal) کے مطابق طالبان صوبہ ہرات کے 16 میں سے13 اضلا ع پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، اسکے علاوہ طالبان421 اضلا ع میں سے 223 اضلا ع کا کنٹرول رکھتے ہیں جن میں سے 116اضلا ع میں حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری ہے، اور 68 پر کابل حکومت کا قبضہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی 34 میں سے 17 صوبائی دارلحکومتوں کو طالبان کی طرف سے براہ راست خطرہ ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، طالبان نے ہرات،ہلمند،اور قندھارکے گرد گھیرہ تنگ کر دیا ہے جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    غیر ملکی افواج کے انخلاء اور طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں افغانستان کی سیکیورٹی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، لاکھوں لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اور شہری ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، لیکن نہ طالبان اور نہ ہی حکومت کسی ایسے نقطے پر رضا مند ہو پا رہے ہیں جس سے افغانستان میں دیرپا امن ممکن ہو، جو کہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب کابل اور طالبان مزاکرات کی میز پر بیٹھیں، وگرنہ ممکنہ مفادات کاٹکراؤ مزید تشدد میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ افغان امن عمل ان افغانیوں پر منحصر ہے جوکہ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔

    Zahid Chaudhary – from King Edward Medical University is a freelance writer, author, and columnist. He works with multimedia channels, and his articles have been featured multiple times. He currently writes for Baaghitv.
    Twitter ID: @zahidch01

  • ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    پینتیس برس تک اقتدار کی باریاں سمیٹنے والی ن لیگی قیادت شریف خاندان کو ملک کی ترقی کیلئے ابھی بھی بلا شرکت غیرے اقتدار ملنے کے خواب آتے ہیں۔ تین بار کے وزیراعظم نواز شریف اور پانچ بار کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف حصول اقتدار کی اس کشمکش میں بظاہر بوکھلائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ برسوں اقتدار میں رہنے والے برادران اپنی اولاد کی خواہشوں کے آگے بھی مجبور نظر آرہے ہیں۔ اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ن لیگ میں شریکے کی کھچڑی پک رہی ہے۔برادران اپنے تئیں اقتدار اپنے سیاسی جانشینوں کو سونپنا چاہتے ہیں۔ اور اسوقت دونوں بھائیوں کی اولاد میں ایک کی بیٹی اور دوسرے کا بیٹا عملی سیاست میں ہے۔ عمومی رائے ہے کہ نواز شریف کو اپنی بیٹی میں ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم دکھائی دیتی ہے جبکہ شہباز شریف کا بیٹا خود نواز شریف بننا چاہتا ہے۔ پارٹی کے اندر چل رہے اس کھیل کے بعد برادران کے
    مفاہمت اور مزاحمت کے سیاسی بیانیے ہیں۔ غیر سنجیدہ لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ ن لیگ کے بٹوارے پر منتج ہوگا جبکہ سنجیدہ حلقے اسے بھی سیاسی چالبازیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بات کرتے ہیں برادر اکبر
    میاں نواز شریف کی تو اقتدار سے باہر آنے کے بعد وطن عزیز میں جتنا عرصہ خاموش رہے۔ خاموش رہ کر بیماریوں کا گھر دکھائی دینے لگے۔ ان کے چاہنے والوں کی پریشانی روز بروز بڑھنے لگی کہ ان کے مسیحا کو آخر کیا غم لاحق ہوگیا ہے۔ خدانخواستہ یہ سایہ ان کے سروں سے اٹھ گیا تو ملک کو ، اس قوم کو کون سنبھالا دے گا۔
    ٹی وی سکرینوں پر دکھائے جانے والے میاں جی کی حالت قابل رحم نظر آنے لگی ان کے پلیٹلیٹس کو لیکر میڈیا نے دن رات میاں نواز شریف کی پتلی حالت پر حکومت وقت کو لتاڑنا شروع کردیا۔ ڈاکٹر نے میاں صاحب کی سانسیں گنوانا شروع کردیں۔نوبت یہاں تک آگئی کہ بالآخر وطن واپسی کا 50روپے والا بیان حلفی اسٹامپ پیپر دیکر میاں صاحب اپنی لندن والی آرامگاہ کو سدھار گئے۔ ملکی سیاست میں میاں نواز شریف کی بیٹی مریم بی بی کی دبنگ انٹری ہوئی۔ بیماری کی وجہ سے جو الفاظ ادا کرنے کیلئے والد کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی وہ بیٹی مریم زوجہ صفدر کی زبان سے ادا ہونے لگے سیاسی جلسے جلوسوں میں ملکی اداروں اور من پسند شخصیات کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ ادھر پر فضا مقام لندن کی آب و ہوا کے اثر سے میاں نواز شریف دھیرے درمے سخنے صحت یاب ہوتے گئے تو ان کے غصے کا پارہ بھی بتدریج بلند ہونا شروع ہوگیا۔ پاکستان میں لاغر سا نظر آنے والا شیر ٹویٹر کے علاوہ ویڈیو پیغامات کے ذریعے گرجنا برسنا شروع ہوگیا۔ نونہالان وطن اپنے چاہنے والوں کو اداروں سے نفرت ،حقارت، مر مٹنے اور ڈٹ جانے کی تبلیغ کی جانے لگی۔ بیرون ملک اپنی اولاد کیساتھ بیٹھا ہوا شیر مزاحمت کے بیانیے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتا اور اسی سے اپنے حامیوں کو جوش دلواتا ہے جبکہ ن لیگ کا مرد آہن جونیئر شریف مفاہمت کے بیانیے سے ڈنگ ٹپاؤ کام نکلواؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو گیا۔اعلی قیادت کے اس سارے کھیل میں آزاد کشمیر کے انتخابات بھی ہوگئے۔ برسر اقتدار جماعت واضح سیٹیں حاصل کر کے کامیاب ٹھہری۔ مگر مفاہمت اور مزاحمت کا تماشہ بدستور لگا ہوا ہے۔
    برادران کے اس سارے سیاسی کھیل تماشہ میں ان کے دیرینہ رفیق اور حامی کچھ ڈانواں ڈول دکھائی دے رہے ہیں جنہیں ہر نئے دن نئی نئی وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ جوشیلے حامیوں کا حال تو پتلا ہوا جاتا ہے کہ وہ کس چکر میں بلکہ گھن چکر میں پھنس گئے ہیں بیشتر کو تو حلقہ احباب میں منہ چھپانے کیلئے بھی ماسک کی ضرورت درپیش آرہی ہے۔ ن لیگ کے حامی مزاحمت والا بیانیہ لیکر چلتے ہیں تو خود کو شیر گردانتے ہیں دوسری جانب جب مفاہمت کے بیانیے کی باری آتی ہے تو شیر بیمار ہوکر آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتا ہے۔ مریم بی بی کی مزاحمتی راگنیاں بھی چچا کی مفاہمتی بانسریا میں دبتی جارہی ہیں۔ ن کے ووٹر اور سپورٹر ایسے حالات میں خود پریشان ہیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کے آخر کہاں جائیں؟؟؟ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان کے حامی بھی ن میں سے کبھی ش تو کبھی میم بلکہ میم میخ نکالنے کا عمل کرنے لگتے ہیں۔اور ان ووٹروں کی حالت زار دیکھ کر اب یہی اندازہ ہوتا ہے۔
    خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔
    ‎Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر کی بیش بہا خوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ارض زمین میں جنت کا ٹکڑا اُتر آیا ہو ۔ اللہﷻ کی بیش بہا خوبصورتیوں کا مرکز کہلانے والی سرسبز و شاداب وادیِ کشمیر جس کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے اور جنت میں پہچنے کا احساس محسوس کرنے کی آرزو شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو دل میں نہ رکھتا ہو۔ مگر قدرت کی بیش بہا خوبصورت وادی کشمیر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو نازی عقوبت خانہ بنے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں۔

    8 لاکھ کشمیری باشندے ایک بہت بڑی جیل میں قید ہیں جس میں نہ کشمیری بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی مریض اور بزرگ اپنی طبی معائنے کے لیے ہسپتال کا رخ کرسکتے ہیں، نہ ہی کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کو اپنے اوپر ڈھائے جانے والے بھارت کےمظالم کی
    داستان سنانے کے لیے انٹرنیٹ میسر ہے۔ کورونا واٸرس کو جواز بناتے ہوئے بچی کھچی رعایتوں کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔۔اور کشمیر بھارتی فوجوں کے شکنجہ میں گھراہوا ہے۔

    وہ کون سا ظلم وستم ہے جو اہل کشمیر پر نہیں کیا جاتا ستر برس سے زاٸد کا عرصہ گزر چکا ہے اس بات کو سنتے سنتے کہ اہل کشمیر کا مسئلہ ابھی اقوام متحدہ میں حل طلب ہے مگر آئے روز یہ خبریں سننے کو اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بھارتی کی فوج نے وادی کشمیر کو جنگ کا میدان بنایا ہوا ہے وادی کشمیر میں ہہیمانہ تشدد اور بے قصور کشميریوں کا خون سر عام بہانا ، بچوں کو بوڑھوں کو پلیٹ گنز کے ساتھ اذیت دینے کے بعد شہید کردیا جاتا اور یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عورتوں کی عزت و آبرو کو پامال کرنا بھی بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وادی کشمیر میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ آج تک کشمیر کی بے گناہ عوام برداشت کر رہے ہیں ہر دن کئی کئی گھرانے اُجاڑ دینا اور یہ ہی نہیں بلکہ ایسی روح کانپ جانے والی سزاوں سے کشمیریوں بہن بھاٸیوں کے دن کا شروعات ہوتی ہے کہ رات تک کئی کشمیری بچے یتیم ،کئی کشمیری عورتیں بیوہ اور کئی گھرانے بے آسرا ہوجاتے ہیں اور پھر اس طرح ظلم و ستم کی حالت میں غم سے نڈھال ،چور چور یہ کشمیری جلد ہی موت کو گلے لگا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔

    حریت رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری بہن اور بھاٸیوں کو جیلوں قید کیا گیا ہے جہاں انہیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے

    قارٸین! پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔ ۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارد ادیں اہل کشمیر سے اِس بات کا عہد کرتی ہیں کہ اہل کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔

    موت کے سائے میں زندگی گزارنے والے کشمیری آج بھی پر امید ہیں کہ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب کشمیری بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے ان شاء اللہ۔

    میری اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ آپ نے اہل کشمیر سے حق خود ارادیت کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا جاٸیگا اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی شخص چین سے نہیں بیٹھے گا

    اللہ پاک اہل کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو تباہ برباد کر دے، آمین.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    گزرتے وقت کے ساتھ ماد روطن میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواہ وہ چوری ڈکیتی ہو، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی یا پھر لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ۔ جنسی زیادتی کے علاوہ منشیات فروشی سے نوجوان نسل کو اس منحوس لت میں مبتلا کروا کر ان کی وڈیوزکے ذریعے قابل اعتراض بنا کر انہیں بلیک میل بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو نہ صرف گھناؤنہ اقدام ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ اس لحاظ سے تمام صوبے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ حکومت کا اپنا کردار ہے جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجائے اپنی پوری توجہ اپوزیشن پر الزام تراشی پر ہی رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سب کے سب اپنا ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کاقیمتی وقت برباد کر کے عوام کو در بدر کرا رہی ہیں۔ ملک نہ ہوا بلکہ جنجال پورہ بن چکا ہے۔ آخر حکومت اور حکمراں کب سنجیدہ ہوں گے اوراپنی مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کرائیں گے۔ تین برسوں سے یہی تماشاجاری ہے۔ شہری اس صورت حال سے بہت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پالیسی میکر بھی اس اہم باریکیوں کی جانب توجہ دیں جن پر بار بار ایک پیج پر ہونے کا واویلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس کے اقتدار کے تین برس کم نہیں ہوتے۔ کرنے والوں کے لیے پندرہ دن بھی بہت ہوتے ہیں مگر اس کے لیے قوت ارادی کا فعال ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف اب اپنے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔!! ٭

  • 5 اگست یوم استحصال کشمیر   تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست یوم استحصال کشمیر تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا اور کشمیریوں پر ظلم کا ایک نیا دور شروع کیا۔ آئین ہند میں کشمیر پر دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے۔ آرٹیکل 370 جو مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا
    اور آرٹیکل 35 اے کے تحت یہ واضح کیا گیا تھا کہ کون مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔
    اسکے ختم ہونے کے بعد سے تب سے وہاں بدترین مظالم شروع ہو گئے۔ کشمیری عوام بیرونی دنیا سے کٹ گئے اور وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کے منسوخ ہونے کے بعد سے صورتحال خراب ہو گئی ہے۔
    کشمیری عوام کے لیے صدیوں سے ہر لمحہ بھاری ہے۔
    ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور علاقے میں کسی احتجاج یا اجتماع کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہیں۔

    یہ عمل کیا ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے ، حوا زادیوں کی معصومیت کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے ، کشمیروں کو قید کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر آتش فشاں کی بارش کی جاتی ہے۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں جانداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے ہتھوڑے ہتھوڑوں سے توڑے جاتے ہیں ، ناخن نکالے جاتے ہیں ، اور ان کے سر اور داڑھی کے بال نوچ لیے جاتے ہیں۔

    آج کشمیر ایک خونی سوالیہ نشان ہے جو قلم کی نوک سے ٹپک رہا ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

    جہاں بھارتی سامراج کے ظلم نے آگ بھڑکا رکھی وہیں کشمیری عوام کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ہمت اور بہادری کے نشان ، آج کشمیر کا ہر گھر محاز جنگ کی کیفیت میں، ہر گلی میدان جنگ ہے ۔ کشمیر کا ہر گھر شہیدوں کے خون سے روشن ہو رہا ہے۔ کشمیری عوام بغیر کسی بیرونی مدد کے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ اپنے ہی خون میں ڈوب رہے ہیں اور کشمیر کی آزادی کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ بھارتی قاتل طاقتیں کشمیر پر اپنے خونی پنجے بچھا رہی ہیں ، لیکن آزادی کشمیر کے ہر سانس سے "کشمیر بنے گا پاکستان” کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کا کیا قصور ہے؟
    ایک پرندہ بھی پنجرے سے آزادی چاہتا ہے تو پھر ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو آزادی کیوں نہیں؟
    تقسیم ہند کے دوران بھارتی حکومت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا اور آج تک وہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہیں دیا گیا۔

    1948 کی جنگ آزادی میں جب ہندو سامراج نے کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا۔ 1948 اور پھر 1949 کی قراردادوں میں سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ کشمیری عوام سے آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے طلب کی جائے گی کہ وہ کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھارت کتنا بھی تندہی سے کام کرے ، وہ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پنڈت نہرو نے خود اپنی پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ "اگر کشمیری آزادانہ حق رائے دہی کے معاملے میں ہمارے خلاف فیصلہ کریں گے تو ہم اسے قبول کریں گے۔” لیکن وہ دن اور آج ہندوستان ہے بے شرمی سے کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پاکستانی ریاست اور یہاں کا ہر شہری کشمیری عوام کے درد کو سمجھتا ہے۔ آج مسئلہ کشمیر کو ہر محاذ اور ہر سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ دو سال قبل اپنے دورہ امریکہ کے دوران ، وزیر اعظم نے کشمیری عوام کا موقف صدر ٹرمپ کو بغیر کسی غیر یقینی شرائط کے پہنچایا۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ ہمارے وزیر خارجہ اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات بھی کر رہے ہیں ، جو مختلف معاملات میں مثبت نتائج دکھا رہے ہیں۔ پچاس سال بعد ، اگست 2019 میں ، پاکستان کی درخواست پر ، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔ اسی طرح ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ایک وفد نے کشمیر کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ نومبر 2019 میں جب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے کھل کر کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم ممالک بشمول یورپ اور امریکہ نے کم از کم مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف بھارت کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کریں۔

    ہمیں ہر محاذ پر موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا کو اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی مدد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو جنگ کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل سمجھتے ہیں ، وہ دھوکے کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ جدید ریاستیں ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا مطلب پورے خطے کو آگ اور گولہ بارود کا ذریعہ بنانا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ سے گریز کر رہا ہے ، بلکہ یہ کہ پاکستان کسی غیر ذمہ دار ریاست کی طرح غصے میں جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آج اگر اس جنت کی وادی کو بھارتی سامراج نے روند ڈالا۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخیاں کھو رہے ہیں اور شہداء کے خون سے لال ہو رہے ہیں۔ ان گنت مظلوم لوگوں کی آہیں اور جو ظلم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ عرش الٰہی کا طواف کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ سارا منظر دل دہلا دینے والا ہے ، لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ آزادی کے طلوع ہونے کا پہلا پیش خیمہ ہے۔
    Twitter Handle
    ‎@Patriot_Mani

  • جدید دور کا نظام تعلیم  تحریر : شاہ زیب

    جدید دور کا نظام تعلیم تحریر : شاہ زیب

    وطن عزیز میں جدید دور اور نظام تعلیم کے نام پر جو فحاشی پھیلائی جا رہی ہے اس کے قصور وار سب سے پہلے ہمارے ملک کا میڈیا جو ڈراموں میں فحاشی کو پرموٹ کر رہا ہے۔

    اچھی تعلیم کے نام پر سب سے پہلے دوپٹہ چھین لیا جاتا ہے اور پھر یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے نام پر لباس تبدیل کر دیا جاتا ۔

    جدید دور کا آغاز فحاشی کو فروغ دینے سے ہرگز نہیں وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ میڈیا ڈراموں میں مغربی لباس کو فروغ دیتا ہے اور ہماری عوام ان کے لباس کی کاپی کرنا شروع کر دیتے یہاں تک کے لڑکے لڑکیوں والا ڈریسنگ زیب تن کر رہے ہیں اور لڑکیاں لڑکوں والے

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” لعنت ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ”

    میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ فحاشی کے نام سے عورت سے تعلیم چھین لی جائے یہ موضوع لکھنے کا مقصد صرف اپنی اور معاشرے کی بھلائی کے لئے ھے

    آپ سبھی جانتے ہیں انسان کا لباس موسم اثرات کے بچاؤ کے ساتھ ساتھ سماجی شخصیت بھی ظاہر کرتا ہے جیسے کہ ڈاکٹر پولیس فوجی جوان اور وکیل وغیرہ اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اسی طرح اچھے مسلمان مردوں اور خواتین کی پہچان بھی اس کا لباس ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہوا ہے

    کامیابی اور ترقی صرف تعلیم سے آراستہ ہے لیکن اگر الیکٹرانک میڈیا والے ترقی کے نام سے پردہ چھین رہے ہو تو یہ گمراہی ہے مغرب کی کاپی کرنا ہے تو ڈراموں میں عدل و انصاف بھی کریں یی بچوں اور بچیوں کے حقوق دیں جس سے معاشرہ میں بگاڑ پیدا نہ ہو

    فحاشی کے روک تھام کے لئے حکومت کوشش تو کرتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے لبرل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جو ہماری اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اس کا بہترین حل ہے پیمرا کوئی بھی ایسا ڈرامہ ریلیز نہ ہونے دیں جس میں بے حیائی پرموٹ کی جا رہی ہو
    تو کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ۔
    دوسری بات روایتی تہذیبی و مذہبی پروگرام میں نوجوانوں کی تربیت کی جائے پبلک مقامات پر فحاشی کے خلاف مزاحمت کریں۔ شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • سیاہ یا سخت دل کیا ہے اس کی نشانیاں اور نقصانات تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    سیاہ یا سخت دل کیا ہے اس کی نشانیاں اور نقصانات تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان کی زندگی خوشیوں غموں آزمائشوں اور خوشحالی کا مرکب ہے. کبھی اس پر خوشیوں کی بہار رہتی تو بھی غموں کی دھوپ کبھی اسے آزمائشوں کے تپتے صحرا گزرنے پڑتے تو کبھی خوشحالی کی ہریالی نصیب ہوتی. یہاں تک کہ بیماری صحت اور اس جیسے امتحانات بھی اسی زندگی کا حصہ ہیں. انسان پر جب آزمائش یا پریشانی آتی ہے تو وہ رب کریم کی طرف پلٹتا ہے اور جب خوشحال ہوتا ہے تو رب کریم کی بندگی کو اہمیت نہیں دیتا.
    رب کریم نے اپنی لاریب کتاب میں اے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے.
    اللہ کریم نے ارشاد فرمایا.
    وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ

    سورہ زمر کی ایت نمبر 8 کے اس حصے میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا.
    اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب اللہ اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرے تو وہ اس تکلیف کوبھول جاتا ہے جسکی طرف وہ پہلے پکاررہا تھا.
    اسی زمرے میں نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ راحت و آسائش کے دنوں میں اللہ کریم سے بکثرت دعا کرے۔
    جب انسان پر خوشحالی کا دور آتا ہے تو وہ اللَّهُ کریم کی عطائیں بھول جاتا ہے. اپنے من مستی کی زندگی میں لوٹ جاتا ہے. گناہ کرنے لگتا ہے اور اپنی تنگدستی کے دور کو بھول جاتا ہے. جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے. اور انسان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا. چونکہ شیطان بھی شامل حال ہوتا ہے تو انسان گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور انسان کا دل ہوتے ہوتے سیاہ اور سخت ہو جاتا ہے.

    سیاہ دل کے نقصانات کیا ہیں. 1. انسان کا رب کی راہ میں دل نہ لگنا.
    انسان کو ہر نیکی کے کام میں کیڑے دکھتے ہیں. جیسا کہ

    خیرات نہیں کرتا کہ دولت کم ہو جائے گی.
    نماز نہیں پڑھتا کہ بوڑھوں کا کام ہے.
    نیکی کرنے والوں پر طنز کرتا ہے بڑے آے صوفی صاحب.
    2. شعور گناہ کا ختم ہو جانا.
    ہر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور فخر سے اپنے کیے کا چرچا کرتا ہے. ناحق مال ہڑپتا ہے اور اپنی دھونس بنانے کے لئے اس کا چرچا کرتا ہے.
    دھوکا دے کر اپنی عقل مندی کے گیت گاتا ہے. الغرض گناہ کا شعور ہی ختم کر بیٹھتا ہے.
    جب دل سیاہ ہو جاتا ہے انسان اپنے رب کی بارگاہ سے دور چلا جاتا ہے. گناہ کر کے فخر محسوس کرتا ہے. لیکن جب انسان پر رب کی کرم نوازی ہوتی ہے اور انسان توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی سیاہی دور ہو جاتی ہے.
    پھر اللہ اس کے دل کو اطمینان عطا کرتا ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے توبہ کرتا ہے.

    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
    بے شک اللہ کا زکر دلوں کو سکون دیتا ہے. یہی سکون اسے واپس رب کی راہ پر لے کر لوٹتا ہے. دل کی سختی کے بارے حضور کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا واضھ پیغام موجود ہے.
    حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:’’اللہ کریم کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ کریم کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ کریم سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو. تو انسان کو چاہیے کہ اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے تاکہ دل کی سختی اور سیاہی سے بچ سکے

    @EngrMuddsairH

  • کشمیر میں تبدیلی آگئ   تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی آگئ تحریر چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دنوں ہونے والے انتخابات کے بعد منگل کو نئے منتخب ایم ایل اے نے حلفہ اٹھایا اور منگل کو ہی کشمیر اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی الیکشن کا انعقاد ہوا اور پاکستان تحریک انصاف نے جیسا کے سب کو پہلےتھا کیونکہ اسمبلی میں اکثریت پاکستان تحریک انصاف کی تھی تو پاکستان تحریک انصاف نے اپنا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر آرام سے منتخب کرا لیا آج بروز منگل چار اگست کو بڑا اہم مرحلہ تھا لیڈر آف ہاؤس یعنی وزیز اعظم کا چناؤ ہونا تھا سب کی نظریں وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین جناب عمران خان کی طرف لگی ہوئی تھی پچھلے ایک ہفتہ سے ہمارے ٹی وی چینلز پر مختلف ناموں کا زکر ہو رہا تھا مختلف ایم ایل اے کا انٹرویو ہوا اس کا زکر بڑے شور سے ہو رہا تھا کوئی بیریسٹر سلطان اور کوئی تنویر الیاس کے بارے میں کہہ رہا تھا لیکن اس کے ساتھ سب ایک خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ کہہ جناب عمران خان صاحب کوئی نیا چہرہ یکدم سامنے نہ لی آئیں اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا تمام وزیز اعظم کی دوڑ میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہہ اچانک بریکنگ نیوز چلی کہہ سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کو جناب عمران خان صاحب نے کشمیر میں وزیز اعظم کے نام پر مہر ثبت کر دی۔ اگر صیح معنوں میں دیکھا جاۓ تو یہ اختیار پارٹی قیادت کے پاس ہی ہوتا ہے سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق ضلع پونچھ حلقہ عباسپور ایل۔اے 18پونچھ ون کے گاؤں درہ شیر خان سے ہے ۔ سردار عبدالقیوم نیازی 1969 میں عباسپور کے گاؤں درہ شیر خان میں پیدا ہوئے ان کا تعلق مغل خاندان سے ہے سردار عبدالقیوم خان "نیازی "تخلص لکھتے ہیں ‏سردار عبدالقیوم خان نیازی نے22 سال کی عمر میں ڈسٹرکٹ کونسلر کا الیکشن لڑا جو جیت گئے ۔2006 میں ممبر اسمبلی کے لئے مسلم کانفرنس کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اور امیدوار اسمبلی نامزد ہوئے ، 2006 سے 2011 تک وزیر خوراک سمیت دیگر وزارتوں پر بطور وزیر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 2018 میں مسلم کانفرنس کی رکنیت کو خیر آباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور عام انتحابات 2021 پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تقریباً دس ہزار کی لیڈ سے جیت ان کا مقدر بنی اور آج وہ کشمیر کے 13وزیز اعظم منتخب ہوگے ہماری تمام نیک خواہشات سردار عبدالقیوم نیازی صاحب کے ساتھ ہیں اپوزیشن اس پر کیا کہہ رہی اس پر پھر بات ہوگی ان شاءاللہ

    اللہ پاک سردار عبدالقیوم نیازی کو کشمیری عوام کی بھر پور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • پہچان ہماری پاکستان تحریر  : راجہ حشام صادق

    پہچان ہماری پاکستان تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں جیسے ہر انسان کی پہچان اس کے نام سے ہے۔اسی نام سے اسے پکارا جاتا ہے۔ اور یہی نام اس کی شناخت ہوتی ہے۔ اس مختصر اور انفرادی تعارف کے بعد ایک قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ نام اور پہچان ان کا وطن ہوتا ہے۔جیسے ہماری پہچان پاکستان

    14 اگست 1947 کو ہمیں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک الگ پہچان ملی ہم انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے لیکن اس جدوجہد آزادی کے پیچھے کئی دہائیوں کی جدوجہد اور لاکھوں افراد کی جانی اور مالی قربانیاں تھیں۔ یہ آزادی ہمیں کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی۔ کہ جائیں آج سے آپ آزاد ہیں۔

    انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی گئی توپوں کے آگے باندھ کر اور گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ جدوجہد آزادی کی تحریک میں ہماری مائوں بہنوں اور آزادی کے متوالوں کی لازوال قربانیاں شامل ہیں لاکھوں لوگوں کو تو صرف اس لیے شہید کیا گیا۔کہ ان کا صرف ایک ہی نعرہ تھا لا الہ الا اللہ ۔ یہی وہ جذبہ جس کی وجہ سے ہمیں آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا اپنے گھروں سے بےگھر ہوئے کسی کے بیٹے ذبح ہوئے تو کئی بہنوں کی عزتیں پامال کی گئیں لیکن جذبہ بلند تھا یہ سب قربانیاں آزادی کے جذبے کو کم نہ کر سکیں۔

    جس نظریہ پر الگ ریاست کے لئے جدوجہد کی اس پر آخری دم تک قائم رہے اور پھر لا تعداد قربانیوں کے بعد ہمیں آزادی جیسی نعمت اللہ تعالٰی کی مدد سے حاصل ہوئی۔آج ہمیں اپنے بچوں کو آزادی کی اہمیت اور اس کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے بارے میں بتانا ہے۔

    آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اللہ پاک کی طرف سے اور اس کی حفاظت کتنی اور کیوں ضروری ہے یہ سب اپنے بچوں کو بتانا ہماری ذمہ داری ہے۔کتنی جدوجہد کے بعد یہ ملک آزاد ہوا کتنے لیڈرز اور علما کا اس تاریخی جدوجہد آزادی میں خون شامل ہے۔

    یہ جو آج ہم جشن آزادی مناتے ہیں نغمے بجائے جاتے ہیں جشن ہوتا ہے شاید آزادی کی اہمیت اور تاریخ سے ہم لوگ آگاہ نہیں ہیں۔ 14 اگست کے دن ہمیں اللہ تعالٰی کا خاض شکر ادا کرنا چاہیئے اس وطن عزیز کی سلامتی کے لئے دعائیں کرنی چاہیئیں اپنے ان تمام شہدا کو یاد کرنا چاہیئے۔ جنہوں نے اس وطن کی تحریک میں اپنی جانوں کے نزرانے دیئے۔

    14 اگست کے دن نئے وطن کا خواب دیکھنے والے علامہ محمد اقبال اور ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جناح کی بہترین سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ہم آزاد ہوئے۔ الحمدللہ آج ہمارے پاس ہر قسم کی آزادی ہے ہماری عبادت گاہیں محفوظ ہیں سیاسی و سماجی حوالے سے آزاد ہیں ہم اپنے فیصلے کرنے میں خودمختار ہیں۔
    اس خاص موقع پے ہمیں اپنی افواج کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے جنہوں نے اس وطن کے قیام کے بعد دشمن کی ہر چال اور ہماری آزادی و خودمختاری پر ہر حملے کو ناکام بنایا یہ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان سلامت ہے تو ہم ہیں ہمیں اپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہے چاہے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑھے

    ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بتانا ہے یہ وطن عزیز کیسے آزاد ہوا تھا اور یہ کیوں ضروری تھا دوقومی نظریہ کیا تھا کتنے لوگوں نے اس آزادی کے لئے جدوجہد کی ہے دعا ہے اللہ پاک اس وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھیں یہ سبز ہلالی پرچم یونہی لہراتا رہے

    میری جنت میرا وطن میرا گھر میرا وطن میری پہچان میرا وطن میرا فخر میرا وطن۔
    پاکستان زندہ اباد

    @No1Hasham