Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ماحولیاتی آلودگی اور ہمارا کردار!  تحریر : ناصرہ فیصل

    ماحولیاتی آلودگی اور ہمارا کردار! تحریر : ناصرہ فیصل

    ماحولیاتی آلودگی دنیا کے چند برّے مسائل میں سے ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ جسکے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی وہ اسکے بارے میں کچھ سوچتے ہیں اسکے بارے میں کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کے اسکے بارے میں لوگوں تک سب معلومات پہنچائی جائیں اور انکو اس معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا جائے تاکہ سب مل کر اسکا مقابلہ کر سکیں۔
    ماحولیاتی آلودگی ہماری زندگی کو اقتصادی اور جسمانی دونوں لحاظ سے بہت متاثر کر رہی ہے۔۔ اس پر اگر ابھی بھی توجہ نہ دی گئی تو یہ پوری دنیا کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے. ایک آلودہ ماحول سے بہت سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں جسکا تدارک وقت پر کر لینا ہی بہتر ہے۔
    بہت سے ایسے اقدامات ہیں جو کے ہم انفرادی طور پر اور بہت سے حکومتی سطح پر کیے جا سکتے ہیں ک جس سے ماحولیاتی آلودگی کو بہتر کیا جا سکے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کچھ ضروری اقدامات کرنا ہی ہوں گے.

    سب سے پہلے تو انفرادی طور پر ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہوگا، ہمیں اچھے شہری کا فرض نبھاتے ہوئے ہر قسم کی آلودگی پھیلانے والی چیزوں سے بچنا ہوگا.

    پولی تھین سے بنے شاپرز کا استعمال بند کرنا ہوگا انکی جگہ پر کپڑے کے تھیلے استمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان شاپرز کا استعمال ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسی طرح کوڑا کرکٹ کو بجائے پھینکنے کے اسکا دوبارہ استعمال یعنی ریسائیکل کرنا بھی ایک اچھا قدم ہے اس سلسلے میں۔ سوکھا ہوا کچرا سڑکیں بنانے میں اور گیلا کچرا ہمارے گھروں کے باغات میں یوریا کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔۔
    اسی طرح شور کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں کہ ایک حد سے اوپر نہ جائے۔
    گند نکاسی کے نظام کے لیے مناسب قوانین کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی بہت سے بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ گاڑیوں کو بہت اچھی حالت میں رکھا جائے تاکہ اس سے ہوا کی آلودگی میں کمی لائ جا سکے۔اسی طرح اینٹوں والے بھٹے اور ایسی فیکٹریاں جو ہوا میں دھواں اور گیس خارج کرتی ہیں حکومت کو انکو بھی ایسے نظام لگانے کی ہدایت کرنی چاہیے جس سے یہ دھواں اور گیس ہوا میں نا چھوڑیں۔ بہت سی فیکٹریاں دریا کے ساتھ لگائی جاتی ہیں تاکہ انکا چھوڑا ہوا گند پانی میں ضایع کیا جا سکے۔۔ اس کام کو بھی روکنا ہوگا کیونکہ اس سے آبی آلودگی میں دن با دن اضافہ ہو رہا ہے۔۔۔فیکٹریاں اپنے کیمیکلز اور دوسرے ضایع شدہ چیزوں کو دریا میں بہانا چھوڑ دیں۔
    درخت ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ لیتے ہیں اور ہوا میں آکسیجن چھوڑتے ہیں آب و ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں اس لیے انفرادی طور پر سب اپنے گھروں میں یا اپنے شہروں میں جتنے ہو سکیں درخت لگائیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ماحول اور آب و ہوا چھوڑ کر جائیں۔

    حکومتی سطح پر بھی بہت سے سنجیدہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ ایک تو لوگوں میں آگاہی مہم چلائ جائے جس میں ہر قسم کے میڈیا کا بخوبی استعمال کیا جائے۔جتنا لوگ اس کے بارے میں جانیں گے اتنا ہی وہ اس میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔۔ ٹریفک کے قوانین اور اُن پر پابندی کی بہت اہمیت ہے۔ موجودہ حکومت کا بلین ٹری سونامی ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور بہت اہمیت کا حامل ہے جسکے لیے موجودہ حکومت بہت داد کی مستحق ہے۔
    میری تمام پاکستانی بہنوں بھائیوں سے درخواست ہے کہ ان سب چیزیں پر عمل کریں اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد کریں۔ اگر ہم لوگ ایک اچھے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور اچھی زندگی گزارنا اناaچاہتے ہیں تو خود کو بدلنا ہوگا اور ایک اچھا شہری اور اچھا مسلمان بن کر رہنا ہوگا تاکہ ہم اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے اپنے حصے کا کام کر کے جائیں۔
    پاکستان زندہ اباد

    @NiniYmz

  • شجر_کاری  تحریر: اعجازاحمدپاکستانی

    شجر_کاری تحریر: اعجازاحمدپاکستانی

    درخت اگانا ایک ماحول دوست عمل ہے۔ درختوں کیوجہ سے ہوا صاف رہتی ہے۔ بارشوں کاسبب بنتاہے۔ درخت لگانے سے بنجر زمین بھی خوبصورت اورکارآمد ہوجاتی ہے۔ درخت لگانامسلمانوں کیلئے باعث ثواب بھی ہے۔ اگرپھلدار درخت اگائی جائے تولوگوں اس کے پھل اورسائے سے فائدہ ہوگا۔ پرندوں کیلئے بھی ایک آشیانے کاسامان ہوگا۔ درختوں کیوجہ سے موسم بھی خوشگوار رہتاہے۔ ہمارے نبیﷺنے بھی درخت اگانے کی ترغیب دی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں درخت لوگوں کیلئے ایندھن کاکام بھی کرتے ہیں جہاں ابھی تک سوئی گیس کی رسائی ممکن نہیں ہوئی۔
    ہمارے موجودہ *وزیراعظم عمران خان* بھی شجرکاری میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ خودبھی اس میں حصہ لے رہے ہیں اورجگہ جگہ شجرکاری کے مہمات شروع کئے ہوئے ہیں۔ اپنے پچھلی پختونخواہ حکومت کے دورانئے میں 1ارب سے زائددرخت اگاچکے ہیں جسکو عالمی سطح پربھی کافی پذیرائی ملی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ شجرکاری کادنیا کی موسم سے براہ راست تعلق ہے اورایک ماحول دوست عمل ہے۔
    شمالی علاقہ جات کے جنگلات میں اور بھی شجر کاری کر کے اس کو محفوظ بنانا چاہئے اور جنگلات کو اور بھی وسعت دینی چاہیے تا کہ ہمارے وطن میں موجود ہریالی کی کمی وہاں سے پودے لے کر پوری کی جاسکے.
    مِن حیثُ القوم ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں میں اور اپنے ارد گرد کم از کم ایک، ایک درخت لگائے تاکہ ہمارا بھی اس کارِ خیر میں حصہ ہو اور ہمارا خطہ اور ہمارا پیارا *پاکستان* ہرا بھرا، سر سبز و شاداب اور آلودگی سے پاک ہو۔
    اس یومِ آزادی کو ہمیں چاہئے کہ ہری بھری جھنڈیوں کے ساتھ ساتھ 10، 10 پودے لگائے اور اپنے گھر، محلے، علاقے یا ضلع کی سطح پر اپنے لئے ایک ہدف رکھیں اور بھر پور کوشش کرکے اس کو حاصل کرنا چاہئے-
    ہمیں چاہئے کہ درختوں کی حفاظت کریں اور اس کی کٹائی کو روکے- اور ماحول دوست درخت لگائے جو کارآمد ہو-
    پوری دنیا کے موسم پر درختوں کا براہ راست اثر ہے اور آج پوری دنیا شجر کاری جیسے مہمات جگہ جگہ شروع کر رہے ہیں. تاکہ دنیا کی موسم کو موسم کی شدت سے بچایا جاسکے.
    جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ سالوں سے موسم بدل گیا ہے اور گرمی ہو یا سردی اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے اور بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ کچھ عرصے بعد جیسا کہ آج کل ہم شہری علاقوں میں پانی خریدتے ہیں اسی طرح اگر جنگلات کی کٹائی نہ روکی گئی اور ہم نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا تو ہمیں آکسیجن بھی خریدنی پڑیگی سانس لینے کے لئے کیونکہ دنیا کا موسم انتہائی تیزی سے بدل رہا ہے.
    پوری دنیا کی طرح ہمیں بھی اپنے ملک میں شجر کاری پر زور دینا ہوگی اور اپنی نسلوں کو اس موسمی شدت، آکسیجن کی کمی اور آلودگی سے بچانا ہوگا.
    اور اپنی نسلوں کو بھی یہ پیغام دینگے کہ شجر کاری سے ہی ہمارا ملک ہرا بھرا، صاف ستھرا، موسمی شدت سے محفوظ اور آلودگی سے بچا رہیگا. آج سے ہمیں اپنا یہ شعار بنانا چاہئے کہ ایک فرد ایک درخت لازمی لگائے اور اسکی تبلیغ بھی کریں.

    Twitter ID:
    ‎@IjazPakistani

  • ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏اسلام میں جانوروں کے حقوق تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    اسلام دین کامل ہے، دین اسلام کا پیغام امن و آشتی اور محبت کا پیغام ہے، اور رحمتِ کریمی صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ رب لعالمین کے فیوض و برکات نے جہاں عالمِ انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمتِ بے کراں سے مالامال کیا۔ دورِجاہلیت میں اہلِ عرب جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے۔ رحمت العالمین ﷺ کے آنے کے بعد گویا ان بے زبان جانوروں کو بھی جائے اماں ملی۔

    دین اسلام نے جانوروں کے حقوق متعیّن کرکے رہتی دنیا تک انہیں عزت و تحفظ دیا ہے کیونکہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اوریہ سلامتی کا مژدہ صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ جانوروں کیلئے بھی ہے، آپ ﷺ نے بارہا تلقین فرمائی کہ جانوروں کی ساتھ بدسلوکی کا برتاﺅ مت کرو اور ان سے وحشیانہ سلوک کرنے والوں کو جہنم کے عذاب کی وعید سنائی اور انسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے چنانچہ حضرت امام بخاریؒ نے روایت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ، ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائےمسلم

    قرآن پاک کی دو سو آیات ایسی ہیں جن میں جانوروں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ﷻ نے قرآن مجید میں 35 جانوروں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے نام بھی موجود ہیں۔ اسی طرح قرآن پاک کی چند سورتیں بھی جانوروں کے نام پر ہیں۔ مثلا سورت بقرہ ،سورت فیل اور سورت عنکبوت وغیرہ

    ہمارا دین اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم دیتاہے۔ قران پاک میں جانوروں کے اہمیت وخصوصیت اور ان کے منافع کا پتہ چلتا ہے اور آپﷺ نے قدم بقدم جانوروں کے ساتھ احسن سلوک کاحکم دیا ہے ، نہ صرف گھریلو اور پالتو جانوروں، بلکہ غیر پالتو جانوروں کے ساتھ بھی ہمدردی کی تاکید کی ہے ، جنگلی جانوروں کو بھی کم مار میں مارنے کا حکم دیا ہے اور مذبوحہ جانوروں کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک سے منع کیا ہے اور جانوروں پر بوجھ کم لادنے کا حکم دیا اور دوران سفر ان کے چارہ پانی کی تاکید کی ہے، جانوروں پہ زیادہ بوجھ لادنے اور زیادہ افراد کے سوار ہونے سے منع کیا ،جانوروں کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا کی تاکید کی، جانوروں کے منہ پر مارنے ،جانوروں کے باہم لڑاٸی کروانے کی ممانعت فرمائی اور ایسا کرنے والے کو ملعون قرار دیا ۔

    مکرمی!! ہم میں سے بعض احباب جانوروں کے ساتھ بہت وحشیانہ سلوک کرتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ جانوروں کے کوٸی حقوق نہیں ہے انکے کوٸی جذبات احساسات نہیں ہے، جبکہ نزول اسلام
    کے بعد جہاں انسانوں کے حقوق و فرائض بیان کیے گٸے ہیں وہی جانوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، محبت ہمدردی اور انکے حقوق بیان فرماٸیے گٸے اور بتایا گیا انہیں ہماری طرح درد ہوتا ہے، انکے بھی احساسات اور جذبات ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے

    آخر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں سنجیدگی سے اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیا مسلم کمیونٹی اللہ اور پیغمبر ﷺ کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کر رہی ہے ؟

    اللہ ہمیں جانوروں کے صلہ رحمی کے ساتھ پیش آنے کی اور انکے حقوق پورے کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ،آمین!

  • وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ  تحریر: وسیم

    وبا سے متاثر علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں پیغمبر کا طریقہ تحریر: وسیم

    پیغمبر خدا نے امت کو ایسے علاقے میں جہاں یہ بیماری پہلے سے موجود ہو، داخل ہونے سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بیماری پھیل گئی ہو،وہاں سے دوسرے ایسے علاقے میں جہاں بیماری نہ ہو بھاگ کر جانے سے بھی روکا تاکہ غیر متاثر علاقے متاثر نہ ہو۔ خدا پاک نے جو رہنمائی کی ہے اس بارے میں انسان کو اس کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔ایسی جگہوں سے دور رہنا،ایسی فضا اور آب وہوا سے بچنا چاہیے جہاں اس قسم کی موذی بلاؤں کا زور ہو
    اور یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علاقوں سے جہاں یہ وبا پھوٹ گئی ہو اس سے بھی نکل بھاگنے کو منع فرمایا ہے۔ اس کی غالباََ دو وجوہات ہیں
    پہلی وجہ ہے انسان کا ان مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر اللہ سے تعلق کی مظبوطی کو ظاہر کرنا، خدا پر بھروسہ کرنا، خدا کے فیصلے پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا، اور تقدیر کے نوشتے پر راضی رہنا۔
    دوسری وجہ وہ ہے جسے تمام ماہرین طب نے یکساں بیان کیا اور سراہا ہے۔ وہ یہ کہ ہر وہ شخص جو وبا سے بچنا چاہتا،اس کو لازم ہے کہ اپنے بدن سے رطوبت فضلیہ کو نکال ڈالنے کی کوشش کرے اور غذا کی مقدار کم کر دے، اس لیے کہ ایسے موقع پر جب وبا کا زور ہے جو رطوبات بھی پیدا ہونگی وہ رطوبت فضلیہ میں تبدیل ہو جائیگی، اس لیے کم سے کم غذا استعمال کرے کہ ضرورت سے زیادہ رطوبت پیدا نہ ہونے پائے لیکن ریاضت و حمام کی اجازت نہیں، اس سے اس زمانے میں سختی سے پرہیز کریں، اس لیے کہ انسانی جسم میں ہر وقت فضولیات ردیہ کسی نہ کسی مقدار میں موجود رہتی ہے جن کا آدمی کو اندازہ نہیں ہوتا، اگر وہ ریاضت یا حمام کر لیتا ہے، تو اس سے یہ فضولیات ابھر جاتے ہیں اور پھر ابھار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کیموس جید کے ساتھ مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔
    اور وبا کے پھوٹنے کے وقت وبا کے مقام سے نکلنا اور دور دراز علاقوں کا سفر کرنا سنگین قسم کی حرکت کا متقاضی ہے جو اصول مذکورہ کی روشنی میں سخت ضرر رساں ہوگا ۔ اس سے وبا کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے، اس لیے سفر نہ کرنا ہی بہتر ہے اور مقام وبا سے غیر متاثر مقامات کو جانا مضر خلائق ہوگا۔ اس روشنی میں اطباء کے کلام کی بھی تائید ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبی حکمت اور بالغ تدبیر پر بھی روشنی پڑگئ۔

    جن مقامات پر وبا پھوٹ چکی ہو وہاں داخلے پر پابندی میں چند حکمتیں اور مصالح:
    1: پریشان کن اسباب سے دوری اور اذیت ناک صورت حال سے پرہیز۔
    2:جس عافیت سے معاش اور معاد دونوں کا گہرا رابطہ ہے، اسے اختیار کرنا۔
    3:ایسی فضا میں سانس لینے سے بچاؤ جس میں عفونت گھر کر گئی ہو اور جس کا ماحول فاسد ہو چکا ہے۔
    4: جو لوگ اس مرض کا شکار ہیں ان کی قربت سے روک، ان کے آس پاس پھرنے سے پرہیز تاکہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان تندرست لوگوں کو بھی اس مرض کے پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔

  • میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    میرا کراچی سازشیوں کے نِرغے میں .تحریر: امان الرحمٰن

    کراچی کے مسائل سیاسی بھی ہیں اور شہری بھی۔ سیاسی مسائل تو انتہائی تشویش ناک حالت کے حامل ہیں لیکن شہری مسائل اگر ارباب اقتدار چاہیں اور نیک نیتی سے اقدامات اٹھائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی پہلے جیسا صاف سُتھرا شہر بن جائے روشنیوں کا شہر بن جائے، جب ٹریفک قوانین پرسختی سے عمل درآمد کرایا جاتا تھا۔ ایسا نہیں کہ کراچی جنت تھا ہاں، جنت نشان ضرور تھا۔ لوگوں میں خرابیاں تو تھیں، مگر اُنہیں دور کرنے کا شعُور و اِرادہ بھی تھا۔ آج کی طرح ٹریفک کا اژدھام نہیں تھا۔ نصف گھنٹے کا سفر ڈیڑھ سے تین گھنٹے میں مکمل نہیں ہوتا تھا۔ شہر میں باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ لوکل ٹرین اور ٹرام بھی چلتی تھی۔ ٹرانسپورٹ مافیا غائب تھی۔ طوفان بدتمیزی کی طرح سڑکوں پر دندناتی منی بسیں، کوچز، چنگچیاں، پریشر ہارن نہ تھے، مسافروں سے بدسلوکی تو حالیہ برسوں کی وجہ ہے جو کراچی کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔ اگر شہری مسائل حل کر دیئے جائیں تو کراچی پھر عالمی سطح پر اپنا مقام واپس حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں بات آجاتی ہے ریاست کی کہ جو شہر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہو اُسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، عمران خان صاحب کی حکومت کو اب خیبرپختون خواہ، پنجاب، کشمیر، بلوچستان، گلگت میں اکثریت حاصل ہے تو اب سندھ کی طرف توجہ دیں کراچی سمیت سندھ کی مظلوم عوام کو بھی جینے کا اُتنا ہی حق ہے جتنا پاکستان کے باقی صوبوں کے لوگ حق رکھتے ہیں تو پھر یہ نظر اندازی کس لئے کیا کراچی کو چند سیاست دانوں نے اپنی جاگیر نہیں بنا رکھا۔؟ اگر ریاستی اِدارے اُنہیں اپنا قبلہ درُست کرنے کا کہیں تو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

    ریاست اگر چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ریاست کیا اِن چند سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام اِنسان نہیں بھیڑ بکریاں ہیں۔؟ کیا وہ جینے کا حق نہیں رکھتے۔؟ کیا کراچی اور سندھ کی عوام کو صحت کی سہُولیات کی ضرورت نہیں ہے۔۔؟ آج پورے پاکستان میں ہسپتالوں میں سب سے بُری حالت سندھ اور کراچی کے ہسپتالوں کی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

    کیا اب بھی پیپلزپارٹی کے وہی 70 سال اور 80 سال کی عمر والے اِس ملک کے 65 فیصد نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔۔؟ جو خُود لاکھوں روپے کی تنخواہوں کا بل تو سندھ اسمبلی سے پاس کروالیتے ہیں مگر عوام کا کوئی خیال نہیں جو ہر الیکشن میں اپنی الیکشن کمپیئن تو کروڑوں روپے خرچ کر کے جیت جاتے ہیں مگر عوام کو صرف سانس لینے تک رکھ چھوڑا ہے کیا کراچی سمیت سندھ کی سڑکیں اِن کا مُنہ نہیں چڑاتیں ۔۔۔۔ کیسے چڑاسکتی ہیں یہ بے ضمیر لوگ اب اپنی انتہا کو پہنچ چُکے ہیں اب اِن کو قابو کرنے کا وقت ہے اِنہیں لگام ڈالنے کا وقت ہے۔
    وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے احتساب کا جو نعرہ بلند کیا تھا اب اُسے حقیقی طور اُس پرعملدرآمد کرنے کا وقت ہے، اب کراچی سمیت پورے سندھ کے کئی سالوں سے لہو رستے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے خُدارا ہوش کے ناخُن لیں اِن کرپٹ ٹولیوں سے آزاد کروائیں سندھ کی عوام آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اب کراچی کو گود لے لیں یا کم سے کم کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں جہاں اگر بارش ہی ہو جائے تو زندگی کسی عزاب سے کم نہیں ہوتی۔

    آج کراچی میں کوئی محلہ ایسا نہیں ہے، جہاں سڑکیں سلامت ہوں، نئی کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد سے کلفٹن تک کے راستوں اور سڑکوں کی حالت بیان کرنا مشکل نہیں یہ پورا ملک جانتا ہے تو کیا حکومت کو علم نہیں ہوگا۔۔؟ کوئی علاقہ کوئی محلہ ایسا نہیں ہے جہاں گٹر نہ ابل رہے ہوں اور ملبہ، کیچڑ اور تعفُن نے شہر کو بدصُورت نہ بنا رکھا ہو۔ بس ہلکی سی بارش ہونے کی دیر ہےیہ خُوب صُورت شہر لاوارث محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور اگر پاک فوج مدد کو آجائے تو یہی سیاستدان پاک فوج پر بہتان لگانے اور اُنگلی اُٹھانے لگتے ہیں کہ یہ کام اِن کا نہیں یہ بارڈر پر جائیں اور بے شرموں کی طرح دُشمنوں کی طرح اُن کی زبان بووزراء اور ذمہ داروں کواس سے کچھ غرض نہیں، کراچی کی عوام روتی رہے، سسکتی رہے۔ ہماری بیوروکریسی آنکھیں بند کئے صرف اپنی غرض جو صرف اُن کی لاکھوں روپے میں تنخواہ ہے بس وہیں تک محدود ہے۔ جہاں ضروریاتِ زندگی کی سہولیات تو ہیں ہی نہیں پھر روزگار کا مسلہ ہے جسے سرکاری ملازمتوں میں بھی تعصب اتنا ہے کے ڈومیسائل کا ایشو بنا دیا جاتا ہے یہ سب کیوں ہے کیا یہ جان بوجھ کر نہیں کیا جا رہا۔۔۔! کیا یہ اقدامات ریاست مخالف نہیں ہیں۔؟ کیا لوگوں کو سندھ حکومت خُود تقسیم کر رہی ہے۔۔؟

    اِس بیرونی ایجنڈے کو سندھ حکومت اپنے ہی سندھ میں بسنے والے بشمول کراچی کے لوگوں میں منافرت پھیلانے کا کام کرتے ہُوئے دشمن ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی ناکام کوشش جاری رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ اِن موجودہ حالات کو سنجیدگی سے لیا جائے یہاں کبھی سندھو دیش تو کبھی جناح پور کا نعرہ بلند کرنا کیا یہ لوگوں کی ذہن سازی نہیں کی جا رہی جب پاکستان ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے وہیں ایسے چُھپے دشمنوں کا صفایا کرنا بھی لازم ہے۔میں نے اللہ کو جان دینی ہے یہ جو کراچی میں ہر روز نیا سیلاب آجاتا ہے اور کراچی کے لوگوں کو اتنا ذلیل و رُسوا کیا جا رہا ہے بلکہ یوں کہیں کے تنگ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کی عوام کے خلاف شدید نفرت بھری جا رہی ہے اور کئی ہزار گُنا شدید نفرت پیدا ہو جائے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے اِس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ملک کا سب سے زیادہ کمائی کرنے والا شہر 70 فیصد سے زیادہ ملک کو ٹیکس دینے والا شہرپاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا شہر کراچی اِس طرح بے آبرو ہو؟

    اِس طرح رُسوا ہو؟ اُس کے شہریوں کو اِتنا ذلیل کیا جائے تنگ کیا جائے کے وہ ملک سے بغاوت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔!
    آپ کو یاد ہو گا فاروق ستارہر کچھ دن بعد ایک ہی بات کہا کرتا تھا کے کراچی میں یو این او کی فوجیں بلوا کر انتخابات کروائے جائیں اور بھی کچھ وزراء تھے وہ بھی کہا کرتے تھے اور اب بھی حکومت میں کچھ وزراء شامل ہیں جو یہی بات کہا کرتے تھے۔ یہ باقائدہ ایک پلان بنایا گیا تھا کے 2020 تک کراچی کو پاکستان سے علحدہ کیا جائے گا اور اِس میں کئی غیر ملکی ایجنسیز شامل تھیں اور پیپلز پارٹی ساتھ ملی ہُوئی تھی اور اب بھی یہ ایک ہی ہیں۔ جبکہ پاکستان کی گورنمنٹ کا پلان تھا کے کراچی کو ہانگ کانگ بنانا ہے حکومت نے جو کے اِن ظالموں نے وہ نہیں بننے دیا اور کراچی کے حالات مل کر خراب کرتے رہے۔ یہ سب ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے یہ بات آپ ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں۔ اب یہ جو سیلاب اب ہر بارشوں کے سیزن میں کراچی میں آتا ہے یہ پانی جو کراچی کی دکانوں میں کارخانوں میں فیکٹریوں میں ہر چیز کو تباہ و برباد کر رہا ہے اور اربوں روپے کی جو تیار اشیاء ہیں جو بکنے والی پراڈکٹس ہیں سب برباد ہو رہی ہیں سب پانی میں ڈوب جاتاہے، لوگوں کی گاڑیاں ڈب جاتی ہیں ، یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے کے لوگوں میں بغاوت پیدا ہو لوگ خُود کو لاوارث سمجھیں۔ اب پھر بارشوں کا سیزن آنے والا ہے مون سُون کی بارشیں سر پر کھڑی ہیں اب تو ہوش کرلیں کراچی اور سندھی کی عوام ہمارے ہی بھائی ہیں ہمارے ہی جسم کا حصہ ہیں اُن کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائیں یہ ریاست کے تھنک ٹیک پر لازم ہے کے اِس طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

    آپ ایک ہزار سال کا کراچی کا ریکارڈ چیک کر لیں کبھی ایسی بارشیں نہیں ہُوئی ں جیسی پچھلے دو تین سال سے ہو رہی ہیں۔ پہلے کراچی میں اگر بارش ہوتی تھی پانی کھڑا ہوتا تھا نکل جاتا تھا مگر اب یہ جنگی حالت ہے یہ باریاں لینے والی پارٹیوں نے بطورِ خاص پچھلے بیس سالوں میں اپنی پلاننگ کہ تحت بڑے بڑے نالے بند کروائے انکروچمنٹ کروا کر مٹی ڈالی نالوں کو تنگ کیا اُوپر مکان بنا لئے غریبوں کو دے دیئے پانی نکلنے کے تمام بڑے راستے بند کر دیئے۔ ریلوے کی ساری ذمینیں بھی ایسے ہی غائب کی گئیں کراچی کی زمین بانٹی گئی، یہ سب ایک پلاننگ کا حصہ تھا اُن دشمن قوتوں کا پلان چل رہا تھا جو کراچی کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتی تھیں یہ سب اُن کا کنٹرول تھا اور یہاں کی حکومتیں اپنا مال بنانے کے لئے ضمیر بیچتے رہے ہیں وطن فروش بنے رہے اِن ملک دُشمنوں نے 20 سال لگائے ہیں بہت ہی معصومیت کے ساتھ یہ کام ہوتا رہا اور کراچی کی عوام بیوقوفوں کی طرح منہ اُٹھا کر اپنے حقوق کی جو ٹرک کی بتی اِن سیاہ ستدانوں نے اِنہیں دکھائی اُس کے پیچھے بھاگتے رہے آج انجام ہمارے سامنے ہے پاکستانیو میرے ہم وطنوں میرے سندھی اور کراچی کے بھائی بہنوں ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اِس ففتھ جنریشن وار کو مزاق مت سمجھو کہنے کو یہ مزاق کی بات لگتی ہے "دیوانے کا خواب لگتا ہے "یہ نا ہو کے پانی ہمارے سر سے اُوپر ہو جائے اور پاؤں کے نیچے سے زمین بھی سرک جائے۔ بات بہت لمبی ہو گئی میں صرف اب حکومت سے کہتا ہوں کے ملک کی خاطر کراچی کو بچانے کی خاطر پاکستان کی سلامتی کی خاطر ایک ہی حل ہے کے کراچی کو جلد سے جلد اپنے اختیار کنٹرول میں لے سندھ حکومت نے پچھلے 74 سالوں میں کچھ نہیں کیا تو اب اُن سے کیسی اُمید بس اب اور نہیں اب کراچی کو جینے دو سندھ کو جینے دو اور یہ صرف یا تو ریاست خُود کر سکتی ہے یا فوج کو کراچی کا مکمل اختیار سونپ دیا جائے ۔
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • کائنات کی دو عظیم ہستیاں  تحریر: مریم وحید

    کائنات کی دو عظیم ہستیاں تحریر: مریم وحید

    میں نے محسوس کیا کہ اس کائنات میں صرف دو ہی ہستیاں ہیں جو مایوس نہیں ہوتے۔ خدا اور ماں۔ اس زمین پر بہت سارے ظلم ہیں۔ کتنی ناانصافیاں ہیں۔ کہاں ، اللہ کے احکامات کی کتنی خلاف ورزیاں ہیں اور انسان اپنے اوپر کس حد تک ظلم کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود خدا کی رحمت انسان سے مایوس نہیں ہوتی۔ اس طرح سائے اور پھل بڑھتے رہتے ہیں ، اسی طرح ہوا چلتی رہتی ہے ، سورج اسی طرح طلوع ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح بارشیں ہوتی رہیں اور اس طرح پانی زمین سے ابلتا رہے۔ جاؤ یا پانی میں گر جاؤ اور پوری دنیا اسے یقین دلا رہی ہے کہ اس کا بچہ مر گیا ہے لیکن وہ اس بچے کا آخری سانس تک انتظار کرتی ہے۔ اس کا دل ہر ایک دستک کے ساتھ تیزی سے دھڑکتا ہے ، وہ ہر خط کی طرف بے صبری سے دوڑتی ہے اور اس کا چہرہ ہر کال ، ٹیلی فون کی ہر گھنٹی پر کھلتا ہے۔ قدرت کا یہ معجزہ کیا ہے؟ ہم نے ایک بار سوچا ، یہ ماں کی امید ہے ، یہ ماں کی امید ہے ، امید کی یہ طاقت ، امید کی یہ طاقت ، اللہ تعالی نے صرف ماں کو دی ہے۔ ماہی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بچوں کو حوصلہ دیتی ہے، انہیں ہمت دیتی ہے، انہیں طاقت دیتی ہے اور ان کا حوصلہ بلند کرتی ہے، جو انہیں اچھی دوا دیتی ہیں۔ اللہ اور ماں کا بھی عجیب رشتہ ہے۔

    جب اللہ اپنی رحمت کی ضمانت دیتا ہے تو وہ فورن کہتا ہے کہ میں ستر ماؤں سے زیادہ مہربان ہوں۔ اس پر ایک حدیث کا ترجمہ:

    ترجمہ : حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے۔ اور قیدیوں میں ایک عورت تھی جو اپنے بچے کی تلاش میں تھی۔اتنے میں ان کا دیو میں ایک بچہ اس کو ملا اس نے جلدی سے اسے اپنے گلے سے لگایا اور دودھ پلانے لگی۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے کہا نہیں۔ بخدا! جب تک اس کو قدرت ہوگی یہ اپنا بچہ آگ میں نہیں پھینک سکتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا ہی عورت اپنے بچے پر مہربان ہے اللہ تعالی اپنے بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہے۔

    دوسری طرف ایک ماں کبھی کبھی اپنے بچے کو مایوس اور اداس پاتی ہے۔ تو وہ اسے یہ بھی ہدایت دیتی ہے کہ وہ صرف اللہ سے رابطہ کرے اور صرف اللہ سے مانگے۔ اس دنیا میں شاید ہی کوئی ماں ہو جس نے کہا ہو کہ جس زمین پر اس کے بچے رہتے ہیں وہ تباہ ہو جائے گی۔ وہ ملک فنا ہو جائے گا یا وہ گھر گر جائے گا۔ آپ اس کا ذکر ماں کے سامنے کر سکتے ہیں۔ وہ فورا جھولی پھیلائے گی اور اس جگہ ، یہ جگہ ، یہ شہر ، یہ ملک جہاں اس کے بچے رہتے ہیں ، کے لیے خیر کی دعا کریں گی۔ ایک ماں جس کے چڈور میں سو پیچ ہیں ، جس کے سر پر چھت نہیں اور پاؤں میں جوتے نہیں ، وہ اپنے بچے کے لیے محل کا خواب بھی دیکھتی ہے۔ ایک ماں جس کا بچہ پیدائشی طور پر معذور ہے ، جس کے بچے کے پاس پہننے کے لیے پاجامہ نہیں اور ستر کا احاطہ کرنے والا بھی اپنے بچے کے لیے بادشاہ بننے کی دعا کرتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ڈاکٹر ماؤں نے اپنے کینسر سے متاثرہ بچوں کو تعویذ دیتے ہوئے ، مزاروں کی دھول چاٹتے ہوئے اور ناخواندہ پیروں سے دم گھٹاتے دیکھا ہے۔ یہ کیا ہے ؟ یہ ماں کا عقیدہ ہے۔ ماں کی امید ، ایک امید ، ایک یقین جو اسے مایوس نہیں کرتا ، جو اسے سمجھاتا رہتا ہے ، فطرت کے دامن میں اربوں اربوں معجزے ہیں ، اگر فطرت چاہتی ہے کہ مردے اٹھ بیٹھیں۔

    ٹویٹر ہینڈل: @MeryamWaheed

  • تقدیر اور انسان   تحریر : شاہ زیب

    تقدیر اور انسان تحریر : شاہ زیب

    اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔اللہ سبحان تعالٰی نے زمین اور آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال قبل قل کائنات کی مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھی

    بیشک اللہ سبحان تعالٰی نے انسان کی تقدیر لکھ کر ہی انسان کو پیدا فرمایا تھا لیکن تقدیر بدلی جاتی ہیں یہ میرا ماننا ہے کیونکہ اللہ سبحان اللہ 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں تو کسی بھی ماں کا دل نہیں کرتا اس کا پیارا محتاجی یا برائی والی زندگی بسر کریں

    تقدیر کی اقسام میں سے ایک قسم تقدیر قدریہ یعنی قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل لیکن یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں اگر قدرت کی طرف سے کیا گیا عمل ہے تو پھر حساب انسان کیوں دے گا۔

    شاعر مشرق علامہ اقبال کا ایک قول ہے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ
    خدا پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    یعنی انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور وہ اسطرح کے اللہ سبحان تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرے پوائینٹ کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے اس لیے حساب لیا جائے گا

    اللہ سبحان تعالٰی نے ہر انسان کی تقدیر لکھ دینے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اختیار دیا ہوا ہے وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے اگر کوئی شخص لاکھ کوشش کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتا تو تقدیر میں لکھا بول کر گھر نہیں بیٹھ جائے کرے بلکہ دعائیں اور نیک عمل جاری رکھیں

    اللہ سبحان تعالٰی تقدیر بدل دے گا کیونکہ نیک عمل کرنے والوں کو اللہ مایوس نہیں کرتا۔

  • محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    محنت کش بچے تحریر : واجد خان

    بچے سب کو اچھے لگتے ہیں، والدین اپنے بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے انہیں اچھی تعلیم دلاتے ہیں،اور ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ اچھے شہری اور اچھے انسان بن سکیں، لیکن بدقسمتی سے دنیا میں بعض بچوں کو غریبی اور مجبوری کی وجہ سے تعلیم کے بجائے محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے ۔۔ ۔۔
    یہ بچے سارا دن سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں، بہت سے معصوم اور پھول جیسے بچے گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہوئے، بسکٹ اور ٹافیاں بیچتے ہوئے، اخبار اور پھولوں کے ہار فروخت کرتے نظر آتے ہیں، ان کی عمریں بھی عموماً کم ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔
    بعض والدین بھی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچوں کو کام پہ لگا دیتے ہیں، غربت اور تنگدستی کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی بجائے ان سے محنت مشقت کروانے پہ مجبور ہوتے ہیں، تاکہ وہ بھی کچھ کما کر گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر سکیں، ان میں ایسے بچے بھی ہیں جو ماں باپ کے سائے سے محروم ہوتے ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کام کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    یہ محنت کش معصوم بچے تعلیم سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور اور زندگی کے آرام و آسائش سے بے نیاز صبح سے رات تک اپنے کام میں مگن رہتے ہیں، انہیں تو زندگی کی سہولتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا، یہ ان کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں، لیکن وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔۔۔
    بچوں کو مستقبل کے معمار کہا جاتا ہے، لیکن کیا تعلیم سے محروم یہ محنت کش بچے ہمارے ملک کا روشن مستقبل اور معمار بن سکتے ہیں ؟ محنت مزدوری کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن معصوم بچوں سے مشقت لینا سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔۔
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 11 میں کہا گیا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ فیکٹری، دکان، ہوٹلز، میں ملازمت نہیں کر سکتا، لیکں اس کے باوجود چودہ سال سے کم عمر کے بچے مختلف ہوٹلوں، کارخانوں میں کام کرتے نظر آئیں گے، اکثر بچوں کو گھریلو ملازم کے طور پہ بھی رکھا جاتا ہے جہاں ان کی عمر سے بھی بڑے کام کروائے جاتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔۔۔
    بطور معاشرہ ہم اتنے پستی میں گھر چکے ہیں کہ ان معصوم بچوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک دیکھنے میں آتا ہے،جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابلِ شرم بات ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کی یہ زمہ داری ہے کہ ہم ان بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کریں اور جہاں کہیں انہیں ظلم کا شکار ہوتا دیکھیں ہر ممکن طور پہ ان کی مدد اور داد رسی کریں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور بازاروں میں نظر آنے والے محنت کش بچوں کو روزانہ کی بنیاد پہ کم سے کم دو گھنٹے نکال کر پڑھانے کا اہتمام کریں، یقیناً یہ بچے پڑھ لکھ کر مستقبل کے معماروں میں شامل ہوں گے۔۔۔
    محنت کش بچے قابلِ تعریف اور قابلِ توجہ ہوتے ہیں، زیادہ نہیں تو اپنے گھر کے ملازم بچوں کو ہی تعلیم دینا شروع کریں، ہو سکتا ہے کہ کل کو یہ بچے اس قابل ہو جائیں کہ دوسرے بے سہارا بچوں کا سہارا بن جائیں، اس طرح علم کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں گے۔۔۔
    آئیں بے سہاروں کا سہارا بنیں یہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور اللّٰہ کی خوشنودی کا باعث بھی، آئیے ہم اور آپ بھی اس کا حصہ بنیں
    ” وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں گم ہیں،
    جنہیں تتلی پکڑنا تھی، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

    ‎@Waji_12

  • پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے

    پنجاب سے سوات تک .تحریر ارم رائے

    حصہ اول
    پاکستان کو الله نے خوبصورت رنگوں سے مزین کیا ہے چاروں موسم پاکستان کے پاس تو پہاڑ ریگستان اور میدان اسکے پاس۔ ہر علاقے کی اپنی خوبصورتی اور اہمیت۔ پاکستان کا جتنا حسن میدانوں اور ریگستانوں میں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ سرسبز پہاڑوں میں ہے۔ ملکہ کوہسار مری چلے جائیں گلیات چلے جائیں ناران کاغان چلے جائیں یا سوات ہر جگہ خوبصورتی ہی خوبصورتی بکھری ہوئی ہے۔ کہیں درختوں کے جھنڈ ہیں تو کہیں بہتی آبشاریں ان آبشاروں کا ٹھنڈا پانی جسطرح سکون دیتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ جب بظاہر سخت پہاڑوں کے بیچ سے جو آبشار پھوٹ رہی ہوتی ہے بے ساختہ زبان پر الله کی بڑائی آ جاتی ہے۔ بیشک کس خوبصورتی سے سجایا ہے ان پہاڑوں کو۔ بہت سے علاقے زمین پر جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس جنت نظیر وادیوں تک پہنچانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں قابل زکر ہیں ان علاقوں میں آرام دہ سڑکیں بنانا روڈ بنانا کوئی مذاق یا کھیل نہیں ہے۔ ان علاقوں میں ویسے تو برفباری کے موسم میں بھی سیاح جاتے ہیں اور اس موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن گرمیوں میں گرمی سے بچنے کے لیے بہت بڑی تعداد نا صرف بیرونی ممالک سے بلکہ پاکستان کے اندر سے جاتی ہے۔ ان پہاڑوں آبشاروں اور ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہوتی ہے اچھی یادیں جمع کرتی ہے اور لوٹ آتی ہے۔ گوکہ ان علاقوں کے مقامی لوگوں کی زندگی کافی مشکل ہے لیکن آنے والوں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی خوبی ہے جو وہاں کے لوگوں میں دیکھی ہے۔ مری گلیات جانے کے بعد اس دفعہ ہم لوگوں نے بھی ناران کاغان یا سوات جانے کاپروگرام بنایا۔ ادھی فیملی ناران کاغان کے لیے جانا چاہتی تھی اور آدھی میرے سمیت سوات۔ سوات جانے سے گھبرانے والوں کا خیال تھا کہ حالات بظاہر ٹھیک ہیں لیکن فیملیز کے لیے ابھی بھی محفوظ نہیں ہیں جبکہ ہم جو پرو پی ٹی آئی تھے یہ کہتے تھے کہ اب حالات ٹھیک ہیں اور ہم سوات ہی جائیں گے۔

    یوں قرعہ فال سوات کے لیے یعنی ہماری خواہش کے لیے نکلا ہم تقریباً 25 افراد جن میں 10 بچے بھی شامل تھے 15 جولائی 2021 کو سوات کے لیے نکلے۔ کچھ دیر بھیرہ انٹر چینج پر ریسٹ کے بعد تقریباً 12بجے سوات کے لیے روانہ ہوگئے راستے میں کہیں بھی نا رکتے ہوئے ہم بذریعہ موٹر ویے سوات پہنچے۔ سچ پوچھیں تو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ ضد کی تو ہے اگر خدانخواستہ کچھ مسلہ ہوا تو بہت برا ہوگا۔ لیکن سوات سے گزرتے ہوئے خوشگوار حیرت ہوئی جب تعلیمی ادارے دیکھے۔ لڑکیوں کے سکول دیکھے کالجز یونیورسٹی کا کیمپس دیکھا۔ میڈیکل کالج دیکھا۔ نارمل زندگی دیکھی سکون اترا دل و دماغ میں صبح 6 بجے تک ہم مینگورہ پہنچ گئے تھے۔ اپنے ہوٹل گئے جہاں کی بکنک کروائی ہوئی تھی تھوڑی دیر ارام کیا پھر ناشتے کے لیے نکلے۔ قریب ہی سے ناشتہ کیا اور حیرانکی کے ساتھ بل ادا کیا کیونکہ انتہائی مناسب ریٹ پر ناشتہ کیا تھا۔ مری والی مہنگائی نہیں تھی۔ مینگورہ میں گرمی بہت تھی ویسے جیسے سرگودھا اور باقی شہروں میں ہوتی ہے۔ لیکن وہ دن ہم نے مینگورہ میں ہی گزارہ پارک گٰے ٹکٹس لیے اور داخل ہوگئے ویسے وہ فیملی پارک تھا لیکن ماحول اتنا مناسب نہیں لگا۔ لوگوں کا گھور کے دیکھنا تھوڑا عجیب لگا لیکن شاید اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ مقامی خواتین اور لڑکیاں مکمل پردہ میں تھیں اور ہم لوگ ایسے نہیں تھے۔

    بچوں نے جھولے لیے بہت انجوائے کیا اور ہم لوگوں نے بھی۔ بس ماحول کی وجہ سے تھوڑی کنفیوژن رہی اگر وہ بھی بہتر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔ وہاں سے نکل کر جھیل پر گئے تو گرمی کی شدت کا احساس کم ہوا وہاں بچوں بڑوں سب نے خوب انجوائے کیا۔ کچھ کھانے پینے والی چیزیں پاس تھیں بوتلیں لیں اور وہاں کافی وقت گزارہ۔ کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ سب کچھ بہترین تھا۔ کافی وقت گزرنے پر پھر بھوک محسوس ہوئی اور تھکن بھی تو واپس ہوٹل آئے۔ راستے میں سب سے مزے کا واقعہ ہوا ہم لوگ تھوڑا تھک گئے تھے تو سوچا کوئی شارٹ کٹ مل جائے واپسی کے لیے۔ ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ کسی عام ادمی سے نہیں پوچھتے بلکہ پولیس والے سے پوچجتے ہیں وہاں ایک بہت خوبصورت لمبا چوڑا پولیس والا کھڑا تھا اسکو بلایا اور پوچھا اب خیال یہ تھا کہ شاید پانچ سو ہزار لے کر ہمیں کسی پتلی گلی کا بتا دےگا جو سیدھی ہوٹل تک جاتی ہوگی لیکن اس نے کہا ” زیادہ تیز بننے کی کوشش نا کرو تہذیب کے ساتھ باہرو باہر نکل کر ہوٹل جاؤ بڑی گاڑی شہر کے اندر سے نہیں جا سکتی ” یوں پھر ہم باہر و باہر سے ہی ہوٹل تک پہنچے۔تھوڑا فریش ہوئے اور پھر کھانے کے لیے چلے گئے۔ وہاں کھانا کھایا اور واپس ہوٹل آگئے مینگورہ میں سب سے متاثر کن چیز ریٹس تھے اور مقدار۔ مطلب مقدار اور معیار پر تو سمجھوتہ نہیں تھا لیکن ریٹ بھی بہت مناسب تھا اور لوگ بہت مہمان نواز تھے۔ کھانے کے بعد واپس ہوٹل اگئے تاکہ اگلے دن نئے سفر کالام کے لیے تازہ دم ہوکر سفر کے قابل ہوسکیں۔۔
    جاری
    @irumrae

  • پرانے  اور  نئے  طالبان  میں  کیا  فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق. تحریر:راؤ اویس مہتاب

    دشمن انتہائی گندی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ اور پاکستان پر گھٹیا اٹیک کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کیا سوچ رہا ہے اور پاکستان کے لیے طالبان کو کنٹرول کرنا کتنا آسان اور کتنا مشکل ہے جبکہ پرانے اور نئے طالبان میں کیا فرق ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر کیا دنیا جس طرح شور مچا رہی ہے کیا واقعی پاکستان افغانستان میں تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر ہے تو کیسے۔۔
    امریکہ نے نعرہ لگایا کہ اس کی افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں پیچیدہ مسائل پر دھیان نہیں دے پا رہا جو اسے دینا چاہیے۔ اور بہانہ بناتے ہوئے امریکہ باہر نکل گیا لیکن اس کے جھٹکے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بڑی شدت سے محسوس ہونے لگے ہیں۔
    جہاں یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ طالبان اقتدار پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے تیار ہیں وہیں بائیڈن یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کا پروسی اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان امریکہ کا افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ پاکستان پر یہ سوچتے ہوئے اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طالبان اور القائدہ سے تعلقات ہیں۔ جب اسامہ بن لادن کے خلاف اآپریشن کیا گیا تو بائیڈن اس وقت اوبامہ کے نائب صدر تھے اور اس اآپریشن کو سکرین پر مانیٹر کرتے رہے۔ لیکن اس اآپریشن کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اطلاع پہلے ہی لیک ہو جائے گی۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ طالبان اور ایسے عناصر کو اپنے اسٹریٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے تاکہ ان کے زریعے پاکستان افغان حکومت کو کمزور کرے جو پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی نمبر ون اتحادی ہے۔ جبکہ پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اور وقت تھا جب پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا تھا۔ لیکن اب یہ طالبان پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پاکستان ا س سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لاکھوں لوگ یہاں پر پناہ لے چکے ہیں جس کی وجہ سے اس کی سرحدیں دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تشدد پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کی طرف بھی دہشت گرد عناصر سر اٹھاتے ہیں۔

    امریکہ کی افغانستان میں جنگ میں اگر ایک لاکھ دس ہزار افغانی شہید ہوئے ہیں تو پاکستان نے چھیاسی ہزار لوگوں کی قربانی دی ہے۔ پاکستان کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ ہمارے دشمنوں کو افغانستان میں کھلے عام ہم پر حملہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے،ابھی تک بائیڈن کی عمران خان سے کوششوں کے باوجود فون پر بات نہ کرنا یہ ظاہر کرتی ہے کہ بائیڈن پاکستان پر ابھی بھی اڈے حاصل کرنے کے لیے پریشر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور برطانیہ، سعودی عرب، عرب امارات کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی صلح کی بات کی گئی جس میں ماضی کی تلخیوں کو دفنانے کی بھی بات ہو چکی ہے۔ کیونکہ عالمی طاقتوں کو پتا ہے کہ ان دونوں کی دوستی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ۔طالبان کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اس کے ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر کے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے تاکہ افغانستان میں بھارت کے اثرو رسوخ کو چیلنج کیا جا سکے۔ جہاں چین پاکستان کے قریب آرہا ہے وہیں چین بھارت سے دور جا رہا ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان سپر پاورز کا قبرستان ہے تو یقینا بائیڈن بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغانستان سے ٹرن لے لیا ہے کہ اسے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ٹرن اسی وقت درست ثابت ہوتے ہیں جب کسی کو پتا ہو کہ کہاں ٹرن لینا ہے۔ امریکہ ایک غلط ٹرن لے چکا ہے۔ جسے امریکی ، افغانی، روسی سب ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ اور اب اس غلطی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں دشمن نے گندا کھیل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افغانی سفیر کی بیٹی پر تشدد کا ڈرامہ کروایا جا رہا ہے۔
    کبھی ائر فورس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو کبھی اشرف غنی پاکستان سے دس ہزار جنگجو جانے کی باتیں کر رہا ہے۔ شکست کو حقائق سے تسلیم کرنے کی بجائے ایک جھوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔افغانستان ایک سرد ماحول والا ملک ہے۔ جہاں اکثر صوبوں میں سردیوں میں برف باری اور ٹمپریچر مائنس ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اور ملک کے بیشتر حصے برف سے ڈھکے رہتے ہیں جو نقل و حرکت اور روزمرہ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتا ہےبحثیت انسان جس کی وجہ سے زندگی کے دوسرے معمولات کی طرح ، مجاہدین کی سرگرمیاں بھی ہر سال اس سیزن کے دوران سست روی کا شکار ہوتی ہیں۔لیکن گزشتہ چند سال میں جو غیر معمولی واقعات ہوئے اس میں طالبان نے پورے سال کابل کی کٹ پتلی حکومت کو ناچ نچوایا۔ اشرف غنی کو ہر جگہ کہتے پھر رہے ہیں کہ تین ماہ میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے وہ سردیوں کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی نکلنے کے باوجود ستمبر کی تاریخ اس لیے دے کر بیٹھا ہے کہ اس کے آفیشلی نکلنے اور سردیاں آنے میں وقفہ بہت کم رہ جائے۔اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اور کبھی بھی پاکستان کے خلاف دراندازی سے باز نہیں آتا اب نئے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ اور اب تمام مختلف محکموں اور ترجمانوں نے مبالغہ آرائی شروع کردی ہے اور ان ساری غیر متوقع ترقی اور پیشرفت کے بارے میں جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔۔

    نائب افغان صدرامراللہ صالح جیسے لوگ جو پاکستان میں روس کے خلاف جہاد کی ٹریننگ لے چکے ہیں اور اس کے بعد نہ صرف طالبان کے خلاف جنگ لڑ چکے ہیں بلکے افغان خوفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ اشرف غنی نے وہی پرانے ناکام لوگوں کو اب کام کرنے کی بجائے پروپیگنڈے کی تدبیر کے طور پر مقرر کیا ہے یہ ناکام عہدے دار بے مثال جھوٹ ، جعلسازی اور پروپیگنڈے کا چکر شروع کر چکے ہیں تاکہ دنیا اور اپنے معصوم شہریوں کو گمراہ کر سکیں اور اب ان طالبان کو ختم کرنے کے دعوی کر رہے ہیں جنہیں بیس سال تک 48 ممالک کی افواج کے ہاتھوں شکست نہیں دی جاسکی۔ لیکن یہ بات اشرف غنی کو جان لینی چاہیے کہ جھوٹ ، مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈہ کے ذریعہ طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی پاکستان کے پیچھے چھپا جا سکتا۔اسلامک امارات وسائل پر پابند باغی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جہادی انتظامیہ کی صورتحال ایسی ہے کہ آپریشنوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکےاور اس کا جنگی مشن روک دیا جائے طالبان افغان سوسائٹی کا حصہ ہیں، امریکہ سمیت پوری دنیا ان سے معاہدے اور مذاکرات کر رہی ہے، وہ اپنے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں۔یہ افغان قوم کی وسیع بغاوت ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں گہری ہیں۔
    اگر طالبان کو فتح کرنا اتنا آسان ہوتا تو پورے نیٹو ممالک جو اپنی کتابوں میں موجود تمام بہترین حکمت عملیاں جن میں ملٹری آپریشنز سمیت کارپٹ بمبنگ بھی شامل تھی افغانستان مین ازما چکے ہیں ۔لیکن ختم ہونے کے بجائے ، اس جہادی تحریک نے صرف مضبوط اور مزید علاقوں میں توسیع کی۔بے شک ملا عمر کے صف اول کے ساتھی دارالعلوم اکوڑہ خٹک یا جامعہ بنوریہ ٹاؤن کراچی کے فارغ التحصیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے گوتم بدھ کے مجسموں کو اڑا دیا، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو پر ماننٹ لائن ماننے کے سمجھوتے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا سے گیس پائپ لائن سے انکار کیا اور پھر پاکستان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جبکہ موجودہ طالبان وہ طالبان نہیں ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی طرح تصویر گھنچنے کے خلاف نہیں ہیں، نہ ہی وہ پاکستان کے مدرسوں کے تعلیم یافتہ ہیں، انہوں نے بیس سال جنگ میں رگڑا کھایا ہے اور ان کی تربیت میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ انہوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دی ہے۔ یہ سفارت کے آ داب بھی جانتے ہیں اور جنگ کی سٹریٹیجی بھی۔پہلی نسل کی قیادت سو فیصد پشتون اور وہ بھی جنوبی افغانستان کے پشتونوں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری نسل میں آپ کو پشتونوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، ہزارہ حتی کہ بلوچ نژاد طالبان کمانڈر بھی مل جائیں گے۔طالبان کی موجودہ نسل ان تمام علاقوں پر تقریبا قبضہ کر چکی ہے جہاں ان کے بزرگ کابل پر قبضہ کرنے کے باوجود کنٹرول نہیں کر پائے تھے۔ یہ نسل سینٹرل ایشیا اور ایران سے متصل صوبوں پر قبضہ مکمل کرنے کے قریب ہے۔ پہلی نسل اگر پاکستان کے مشوروں کی محتاج تھی تو آج کی طالبان نسل قطر، ایران، ترک، روس، چین اور سینٹرل ایشیا میں مزاکرات کر رہی ہے۔

    طالبان کی پرانی نسل کے مقابلے میں موجودہ نسل نہ صرف اپنے آپ کو پوری دنیا سے منوانا چاہتی ہے بلکہ اسے یہ بھی پتا ہے کہ معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اور افغانستان کا ستر فیصد بجٹ بیرونی طاقتوں کا محتاج ہے۔ طالبان امریکہ کو تعمیر کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔ طالبان کی اس نسل کو پتا ہے کہ قبضہ کرنا اآسان اور پھر اسے جاری رکھنا مشکل ہے۔تو پوری دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کی بہت سی باتیں پرانے طالبان نے ماننے سے انکار کر دی تھی تو نئے طالبان تو بڑے کاریگر ہیں انہیں اپنی بات پر لانا اور وہ بھی امریکہ اور اشرف غنی کے لیے کتنا مشکل ہے جن سے وہ بیس سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے منہ پر کہتے ہیں کہ ہم نے عصر تک روزہ رکھ لیا ہے اب ہمیں مغرب سے پہلے روزہ توڑنے کا مت کہو۔۔ وہ افغانستان کے معاملات اپنی سوچ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔اس لیے اشرف غنی میرے تمھیں ایک نصحیت ہے کہ اپنے اقتدار کی بجائے اپنے ملک اور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچو۔ سچ بولو اور زمینی حقائق کو تسلیم کرو۔ ورنہ تمھارا انجام بہت بھیانک ہو گا۔