Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں عدل کا دہرا معیار  تحریر: احسان الحق

    پاکستان میں عدل کا دہرا معیار تحریر: احسان الحق

    کسی بھی معاشرے کی ترقی اور امن وامان کے لئے سزاء و جزا کا ہونا انتہائی لازمی ہے. کوئی بھی معاشرہ کسی بھی طریقے سے چل سکتا ہے مگر عدل کے بغیر نہیں چل سکتا. جب عدل ہی نہیں ہوگا تو سزا اور جزا کا تصور ہی ختم ہو جائے گا. جب کسی معاشرے سے سزا اور جزا کا تصور ختم ہو جائے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے. پاکستان میں سزا اور جزا ہی نہیں بلکہ کمزور مظلوم کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے اور طاقتور ظالم کو مظلوم ثابت کیا جاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا. تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی امیر اور طاقتور جرم کرتا تو اس کو چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی غریب جرم کرتا تو اس کو سزاء دی جاتی. تم لوگ عدل سے کام لینا. عدل جو کہ اسلام کا اہم ترین اور بنیادی ترین اصول ہے اس کے مطابق عمل کر کے یورپ اور دوسرے غیر اسلامی معاشرے ترقی کر گئے ہیں اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو کر بھی اس اصول کو نہ اپنا سکے.

    بدقسمتی سے ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے اس بنیادی اور اہم ترین اصول سے بالکل خالی ہے. ہمارے ہاں بھی قدیم قوموں والا نظام عدل رائج ہے. بہت ساری مثالیں بلکہ حقائق موجود ہیں کہ طاقتور آزاد گھوم رہے ہیں. بااثر اور سیاسی یا حکومتی اثرورسوخ والے مجرم اعتراف جرم کرنے کے باوجود معصوموں کی طرح آزاد اور بے خوف و خطر گھوم رہے ہیں. 258 لوگوں کو زندہ جلانے والے نے اعتراف جرم کیا مگر اس کو سزا نہیں دی گئی. تقریباً 120 سے زیادہ لوگوں کے قتل کا اعتراف کرنے والا بھی ابھی تک انجام کو نہیں پہنچا.

    پاکستان میں طاقتور کے لئے اور کمزور کے لئے علیحدہ علیحدہ قانون ہیں. پچھلے دنوں مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنر امجد شعیب نے اپنی گاڑی سے ایک غریب اور کمزور موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا. کچلنے کے بعد اس کو مرنے کے لئے ٹرپتے ہوئے چھوڑ کر فرار ہو گئے. عینی شاہدین کے مطابق گاڑی خود ڈپٹی کمشنر صاحب چلا رہے تھے اور سراسر غلطی بھی ڈپٹی کمشنر صاحب کی تھی. پولیس نے فوراً ڈپٹی صاحب کو دوسری گاڑی میں بٹھا کر موقع سے فرار کروا دیا. مرنے والا کمزور اور غریب تھا، کمزوری اور غربت کی موت مر گیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب معمول کے مطابق مزے میں ہیں.

    عدل و انصاف اور سزاء و جزا کے لئے پولیس اور عدلیہ دو اہم ترین ادارے ہیں. ان دونوں اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے. اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکمرانوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے لئے کوئی قانون نہیں، ان کی مرضی جب چاہیں اور جیسا چاہیں کر گزریں. مالدار اور جاگیر دار اپنے پیسے کے بل بوتے پر قانون اور پولیس کو خرید لیتے ہیں. قانون کی بالادستی کے لئے باقی عام غریب اور کمزور پاکستانی رہ جاتا ہے. جس کی آدھی عمر یا بعض دفعہ ساری زندگی عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگانے میں گزر جاتی ہے. آخر کب کمزور اور طاقتور دونوں ایک ہی قانون کے تحت سزا جزا کے مستحق ٹھہریں گے. آخر کب غریب اور جاگیر دار کے لئے ایک قانون ہوگا؟

    @mian_ihsaan

  • ہم ہیں پاکستان تحریر؛ آمنہ خان

    ہم ہیں پاکستان تحریر؛ آمنہ خان

    پاکستان ایک عظیم نظریاتی ملک ہے۔ جو ہمارے عظیم رہنماؤں کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔
    ہمارے آباؤ اجداد نے قیامِ پاکستان میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنے مال ودولت، زمین، کاروبار کی فکر چھوڑی آنے والی نسلوں کا سوچا اور ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔
    برصغیر میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہ تھی۔ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں تھیں جن کا ساتھ رہنا ممکن نہ تھا اور یہی نظریہ قیام پاکستان کا موجب بنا۔
    چناچہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ بحیثیت مسلمان ہم پاکستانی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری اپنی منفرد تہذیب و ثقافت ہے۔
    پھر کیوں ہم دوسروں کی شخصیت سے متاثر ہو جاتے ہیں؟؟ کیوں یورپ کی ثقافت ہمیں اپنی طرف مائل کرتی ہے؟؟ کیوں ہمسایہ ملک کی رسم و رواج کو ہم نے خود میں بسایا ہوا ہے؟؟
    یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم غور کریں تو زندگی گزارنے کے سنہری اصول آج سے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیے گئے ہیں۔
    قرآن و حدیث کا اگر مطالعہ کریں تو حقوق اللہ اور حقوق العباد مفصل انداز میں بتا دیے گئے ہیں۔

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور ہم خار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اب یہ ہم پہ ہے کہ قولی کے ساتھ ساتھ کتنا فعلی مسلمان بھی بنا جائے۔ کیونکہ یہی تو دو قومی نظریہ تھا۔ یہی تو قیامِ پاکستان کا موجب تھا۔
    ہمارے قومی دن جیسے یومِ قرار داد پاکستان، یومِ آزادی، یومِ دفاع اس لئے تو نہیں آتے کہ جھنڈیاں لگا لی جائیں، باجے بجا لیے جائیں یا پھر منچلوں کی ایک ریلی نکال لی جائے۔
    یہ تو نئی نسل کو متحرک کرنے کا دن ہے۔ تاریخ دہرانے کا دن ہے کہ ہم کتنی دلیر اور جرات مند قوم ہیں۔
    مگر افسوس کچھ لوگ ان دنوں کی اہمیت سے نا آشنا ہیں۔
    پاکستان ہمارے لیے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ دینی مصروفیات کے بعد، دنیاوی فکرات میں پاکستان ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہمیں لسانیت کو ترک کرکے قومیت کو فروغ دینا ہوگا۔

    یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

    دنیا میں ہم جہاں بھی ہوں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے ہوں۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ہم صرف قولی نہیں بلکہ عملی پاکستانی ہوں۔ ہمارے رہن سہن، چال چلن اور ہمارے اطوار پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتی ہو۔
    ہم ایک عظیم تاریخ رکھتے ہیں۔ ہمیں بھلا کسی کو فالو کرنے کی کیا ضرورت۔ جسے آج ہم فیشن یا آزادی کا نام دیتے ہیں وہ بے حیائی اور اسلام سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں۔
    ہر چیز اعتدال میں اچھی لگتی ہے اگر اس سے تجاوز کرو تو وہ اپنی اصل کھو دیتی ہے۔ اسی لیے اگر کسی غیر ملکی سے ہم متاثر ہوکر ہم وہی اطوار اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اعتدال سے کریں کیونکہ اگر اس سے تجاوز کر گئے تو ہم اپنی اصل کھو دیں گے۔
    پیچھے ہماری کیا شناخت بچے گی؟؟
    خود کو پاکستان کا سفیر سمجھیں، پاکستان کا محافظ سمجھیں جسے پاکستان کی نظریاتی حدود کی رکھوالی کرنے ہے، جسے پاکستانیت کو فروغ دینا ہے۔
    فضول کے رسم و رواج میں پڑنے سے بہتر ہے کہ دین سمجھیں اس سے ہم قربِ الہی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
    اردو اور انگریزی زبان میں فرق ختم ہونا چاہیے۔ دونوں زبانوں میں کوئی مقابلہ نہیں۔ اردو ہماری قومی زبان ہے جس کی اپنی اہمیت ہے اور اس کی جگہ کوئی بھی زبان نہیں لے سکتی اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا اردو زبان سیکھنا بولنا اور استعمال کرنا لازم ہے۔

    آئیں اس ١٤ اگست عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کا وقار بلند کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

    خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    (آمین)

    @AmnaKhanPK

  • رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان وہ ملک ہے جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوان آبادی پر مشتمل ہے، پاکستان کی تقریبا 63 فیصد آبادی نوجوان ہے یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے جسے برباد ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور ماں باپ ،بچے اور اہل علم سمیت سب ہی بس اس راستے پر چلتے جا رہے ہیں یہ نہیں سوچ رہے کیا ہماری سمت درست ہے ؟؟

    پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے کالج سے فارغ ہو کر یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے میدان میں آتے میرٹ کے مختلف مراہل سے گزر کر اگر اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہ بھی ملے تو کسی پرائیوٹ میں تو مل ہی جاتا ہے پھر نوجوان اپنے زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کا اوسطا خرچ چار سالوں میں 20-25 لاکھ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے چار سال بھی اس میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔

    دنیا اب تیز اور آگے کی طرف بڑھ گئی ہے کچھ فیلڈ ایسی ہیں جن میں واقعی طالب علم کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ہر فیلڈ کے لئے ایسا ہر گز نہیں ہے، یونیورسٹی سے لاکھوں خرچ کر کے بھی جب طالب علم ڈگری لے کر باہر نکلتا ہے تو اس کو اصل کام فیلڈ میں سیکھنا پڑتا ہے ہماری کتابوں میں موجود چیز یں اسے وہ نہیں سکھا پاتی جو فیلڈ میں وہ چند سالوں میں سیکھ جاتا ہے، اور اکثر نوجوان یونیورسٹی کی ڈگری لے کر بھی بے روزگار پھر رہے ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے بعد نوجوانوں کو انہیں یونیورسٹیوں کی فیسز کم کر کے ان کو وہ ہنر سکھایا جائے وہ تعلیم دی جائے جو آجکل کے وقت میں ان کے کام آئے اور وہ روزگار خود حاصل کر سکیں ہمارا سلیبس آج بھی فلاپی ڈسک پڑھا رہا، بچہ جب عملی میدان میں جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کے وہ تو 30 سال پیچھے کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے پھر وہ فیلڈ میں مار کھا کر سیکھنے کی کوشش کرتا ہے آن لائن سیکھتا ہے اور زندگی کے دو تین سال اس میں لگا دیتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کے اسے یونیورسٹی میں جو عرصہ گزارا اس میں وہ کسی فیلڈ کا ماسٹر بن کر نکلے اور تمام یونیورسٹیوں کے پاس یہ بھی ڈیٹا ہونا چاہیے کے ملک میں کس فیلڈ میں کتنے لوگ درکار ہیں اتنے ہی لوگ اس فیلڈ میں لائے جائیں پھر یہ دیکھا جائے بیرون ممالک میں کونسے ہنر کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے ؟؟ آنے والے وقت میں بچے کیسے روزگار حاصل کر سکتے ہیں یونیورسٹی کا دورانیہ چار سال کے بجائے 1.5 سال کر دینا چاہیے جس میں بچے کو بیرون ملک میں بیٹھے لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ سکھایا جائے، کاروبار کرنا سکھایا جائے، بچے کو یہ بتایا جائے کے زندگی کا مقصد رٹہ لگانا نہیں ہے اگر تمہاری یاداشت اچھی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں تم پھر بھی ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔۔۔تمہیں انگلش فر فر نہیں آتی تو کوئی بات نہیں اتنی سیکھ لو کے اگلے کو اپنی بات سمجھا سکو اور اس کی سمجھ سکو بچے میں اعتماد پیدا کیا جائے اس بنیادی معاشرتی زندگی کے اداب سکھائے جائیں اور اس سے یہ بآور کروایا جائے کے انگلش بولنا کسی کے لائق یا قابل ہونےکی نشاندہی نہیں بلکے یہ صرف ایک زبان ہے، یونیورسٹی کے بچوں کو فیکٹریوں کے بورڈ سے ملوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کے وہ اپنے کاروبار میں کیسی آسانی دیکھنا چاہتے ہیں پھر بچوں سے کہا جائے کے سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں اگر وہ اس قابل ہوں تو ان کے اخراجات فیکٹری مالکان کے زمے لگائے جائیں زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی آپ یہ کر کے دیکھیں اس ملک کے نوجوان بہت قابل ہیں وہ آپ کو ہر مسئلے کا حل دیں گے۔ آپ ان نوجوان کو ہفتے ایک دن صرف اس بات پر ٹریننگ دیں کے لوگوں کے سامنے بات کیسے کرنی ہے حال میں سب کو جمع کر کے تقاریر کروائیں ان سے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو ان کے اندر کے چھپے ٹیلنٹ کو باہر نکالیں کیا پتہ جسے آپ زبردستی ڈاکٹر بنا رہے ہو وہ اچھا شاعر یا سنگر ہو ؟؟؟ پھر بچوں سے پینل بیٹھا کر ان سے انٹرویوز لیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں گھبراہٹ نہ ہو یہاں جو لوگ نوکری کرنے آتے ہیں انٹرویو دینے سے ان کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوتا ہے وہ اپنی بات منوانا نہیں جانتے اپنے آپ کو سستے میں بیچ آتے ان کو لوگوں سے بھاؤ کرنا سکھائیں ان کو یہ بتائیں کے نوکری آپ کی زندگی نہیں ہے وہ آپ کی زندگی کا چھوٹا سا حصہ ہو سکتی ہے پھر ان کو یہ سکھائیں کے اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اس کا معیار پیسہ ہرگز نہیں۔
    یہ ایسی چیزیں ہیں اگر ان پر ہمارے تعلیمی نظام میں عمل ہو جائے تو یقین کریں پاکستان بدل جائے گا میں لکھنا چاہوں تو ایسی ہزار چیزیں اور گنوا سکتا ہوں۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو : آمین

    @Nomysahir

  • آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    ایک سال کے طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر اگست کا مہینہ شروع ہو رہا ہے اور جشنِ آزادی منانے کی تیاری مکمل جوش و خروش سے جاری ہیں، باجے اور پٹاخے بنانے والے کارخانے دِن رات اوور ٹائم پہ چل رہے ہیں، موٹر سائیکل مکینک سائلنسر سے نئی سے نئی آوازیں نکالنے کے آلے تیار کر رہے ہیں، کپڑوں کے برینڈ سفید اور سبز رنگ کے ملبوسات پہ سیل سیل کا واویلا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ پہ جشنِ آزادی کی سیل لگانے کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں اوراس بات کی قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستانی قوم اس سال بھی جشنِ آزادی روایتی جوش و جزبے سے منائے گی، لیکن ایک منٹ۔

    راقم یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ اس سب سے کیا حاصل ہو گا؟ ساتھ ہی ماضی کی کہانیوں، تصاویر اور تحریکِ پاکستان کی قربانیوں کی ایک جھلک نظر سے گزری تو میں لرز کر رہ گیا کہ ہمارے بزرگوں نے بیش بہا قربانیوں کے بعد جو ملک اس لیئے حاصل کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلا کر پوری دنیا کے لیئے ایک مثال بنایا جائے اور اِسی ملک کی آزادی کے دِن یہاں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس ملک کو بنانے والے تو ایمان، اتحاد، تنظیم کا درس دے کر گئے تھے جبکہ چوہتر(74) سال بعد ہماری قوم ان تمام چیزوں کو بھول کر رشوت، کرپشن اور بے حیائی کو اپنا مِشن بنا چکی ہے، اس کالم میں ہم تحریکِ آزادیِ پاکستان پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد اس قوم کے کردار اور ذمہ داریوں پر بات کریں گے۔

    1857 کی جنگِ آزادی کے بعد سے ہی سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعمیر و ترقی پہ خصوصی توجہ دینا شروع کر دی تھی، انہوں نے مسلم کالج اور سائنٹیفک مدرسوں کے ذریعے مسلمانوں کو دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونے کا راستہ دکھایا جسکے بعد مسلمانوں نے سیاست کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول کے لیئے آواز اٹھانا شروع کی، مسلم لیگ کا قیام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی، ابتداء میں مسلمانوں کے قابض انگریز حکومت سے حقوق کی شکایت اور ان کو حاصل کرنے کے لیئے کوششیں رہی لیکن بعد میں ہندو سامراج کے دوغلے رویہ کو دیکھ کر قائد اعظم جیسے ہندو مسلم اتحاد کے داعی نے بھی مسلمانوں کی سیاست کو ہندوؤں سے مکمل الگ کر لیا، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیئے ایک الگ ریاست کی بات کر کے اس تحریک کو ایک نئی منزل دکھائی جسکے بعد سترہ سال کی قلیل مدت میں مسلم لیگ نے قائد اعظم اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں انگریز کو برصغیر سے نکالنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیئے الگ وطن کے قیام کا مشن بھی پورا کر لیا، اس عظیم مشن کی تکمیل کے دوران ہزاروں لوگوں نے اپنے جان، مال اور اسباب کی قربانیاں دی، ایسے ہی قیامِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا جو ہجرتِ پاکستان کہلائی، اس ہجرت کے دوران بھی قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم ہوئی ہزاروں لوگوں نے اپنے پیارے کھوئے، ہزاروں ماؤں کے بیٹے، ہزاروں بیٹیوں کے سہاگ اجڑے لیکن لوگوں کی آنکھوں میں صرف ایک خواب تھا ”پاکستان” اور مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا دیس بسایا جائے جہاں ترقی ہو، خوشحالی ہو، امن و امان ہو اور وہ ملک حقیقت میں اسلامی فلاحی ریاست ہو۔

    آج جب پاکستان کو بنے قریبا چوہتر 74 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن افسوس ہم نے پاکستان زندہ باد کہنا تو سیکھ لیا لیکن پاکستان زندہ آباد کیسے ہو گا یہ نہیں سمجھ سکے، ہم نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ تو بہت لگایا لیکن اس پر عمل اور اسکے فرائض سمجھنے سے محروم رہے، ہم نے ہر سال پاکستان کے قومی دنوں کے موقع پہ بڑے بڑے وعدے اور قسمیں توضرور کھائی لیکن عملی طور پہ ہم بدقسمتی سے بالکل صفر رہے، ہم نے عہد تو پاکستان کا نام روشن کرنے کا کیا لیکن حقیقت میں ہم ابھی تک شائددل و دماغ سے پاکستانی ہو ہی نہیں سکے، آج بھی ہر سال پاکستان کی آزادی کا دن ہمیں اس امید سے دیکھتا ہے کہ شائد پاکستان کے آزادی کا جشن منانے والا کوئی ”پاکستانی” مِل جائے، شائد پاکستان زندہ آباد کانعرہ لگانے والا حقیقت میں بھی اس ملک و قوم کا معمار بن جائے۔

    تعارف: سید منعم فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف اداروں کے ساتھ فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا، کرنٹ افیئرز اور کھیلوں کے موضوعات پر ذیادہ لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ کے لیئے انکا ٹویٹر اکاونٹ: https://twitter.com/Syedmunimpk

    Introduction: Syed Munim Farooq is Islamabad based freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums since 2012. His major areas of interest are Current Affairs, Digital Marketing, Web media and Journalistic affairs. He can be reached at Twitter: https://twitter.com/Syedmunimpk

  • مزاحیہ فنکار؟  یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    مزاحیہ فنکار؟ یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    80ء کی دہائی میں جب سوویت یونین افغانستان میں میں اپنے پیر جمانے کے لئے داخل ہوئی تو اس وقت افغانستان میں موجود ایک مخصوص طبقے نے ان روسیوں کا بھرپورساتھ دیا۔ روس نے بھی ان ضمیر فروشوں کو اپنے عزائم کے لیے خوب استعمال کیا۔ یہ طبقہ بنیادی طور پر کیمونیسٹ تھا جنہیں آجکل سرخے کا نام سے جانا جاتا ہے۔

    بنیادی طور پر سرخہ جس کا مقصد ہی غلامی ہے انکی ذہنیت مادرپدر آزادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ لبرلزم کے نام پر مذہبی اور ثقافتی ورثے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ پہلے یہ روسیوں کے ساتھ تھے اور اب بھارت کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔ انکی حیثیت کسی استعمال شدہ ٹشویپرز کے جیسی ہے۔ یہ پہلے استعمال ہوتے ہیں جیتے جی اور پھر انکی لاشیں بھی اسی دشمن کے ایجنڈے کو سرو کرتیں ہیں جسکے انہیں معاوضے تک نہیں ملتے۔۔۔ حالیہ دنوں میں اسکی ایک مثال بھی ملی۔ شوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جسکے ساتھ یہ تحریر درج کی جا رہی تھی

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/ManzoorPashteen/status/1420063152620941323

    ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ ہونے والی یہ تصویر غالباً چھے سال پرانی ہے اور یہ ٹویٹ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان میں پشتون قوم کو تحفظ کے نام پر چونا لگانے والا منظور پشتیں ہے جس نے نقیب اللہ محسود مومنٹ کو ہائی جیک کر کے اپنے ناپاک ملک دشمن عزائم کو پورا کیا اور خوب پیسے کمائے۔

    یاد رہے کہ جسے بار بار پاک افغان سرخہ گروپ "مزاح نگار” کہہ رہا ہے وہ درحقیقت ہتھیاروں کا شوقین ایک بچہ باز شخص تھا۔ اپنی پچاس سالہ زندگی میں کمال محنت سے جرائم کی دنیا میں بھی اس نے خوب نام کمایا تھا۔ بچوں سے جنسی تعلق استوار کرنے کا شوقین یہ شخص دکھنے میں ہی پرانی بالی ووڈ فلموں کا شکتی کپور لگتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر اس شخص کی جدید اسلحے کے ساتھ لی گئی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو اسکے کردار کا بخوبی اندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں۔۔ یہ اور بات ہے کہ بھارتی چینلز اور این۔ڈی۔ایس کے کابلی بھیڑ اسے مزاح نگار ثابت کرنے پر تُلّے ہوئے ہیں۔۔۔

    یہ شخص جسے آج سے پہلے شاہد ہی آپ نے کبھی دیکھا ہو کو راء اور این۔ڈی۔ایس سوشل میڈیا پر "مشہورِ زمانہ” بتاتے پھر رہے ہیں۔ یہ اتنا ہی مشہورِ زمانہ ہے کہ اسے مشہور کہنے والوں کے قریبی رشتےدار تک اسکے نام سے ناواقف ہیں۔ ویسے قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ موصوف نذر محمد الیاس خاشا زوان کے نام سے پکارے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی پارلیمان میں براجمان انہی سرخوں کے ساتھی احباب بھی اسی لائن کو ٹریس کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔۔ محسن داوڑ نامی رکن قومی اسمبلی کے الفاظ میں:

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/mjdawar/status/1420080452984000514

    گویا کہ یہ بھی وہی سکرپٹ کاپی پیسٹ کر رہے ہیں جو کابل سے انہیں وٹس ایپ کیا گیا تھا۔۔۔ آج سے پہلے ہم نے کبھی محسن داوڑ کے منہ سے اس شخص کے بارے میں کچھ نہ سنا تھا لیکن اچانک محسن داوڑ کی جانب سے اس نام نہاد مزاح نگار کی شان میں قصیدے اور افغان طالبان کے امن مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔۔

    اگر آپ اس کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ وہ برائی ہے جو قندھار میں طالبان کے ہاتھوں مار دی گئی ہے اور ہمارے کچھ جاہل لوگ ، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں ، اس پر آنسو بہا رہے ہیں۔

    پہلے ، یہ ایک ازبکی تھا ، پھر وہ اس پوسٹ کی کمانڈ کررہا تھا ، عملی طور پر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا تھا۔ یہ ہمارے عظیم آقا کی توہین کرتا صاف نظر آ رہا تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان قوم اس مسخرے کو ناپسند کرتی تھی۔ ایک وڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ یہ ٹی۔ٹی۔پی کے دہشتگرد کمانڈروں جیسی شخصیت کا مالک شخص تھا۔

    میرا موقف نہایت صاف اور واضح ہے۔ سوال اس شخص کی معصومیت یا بے گناہی کا نہیں بلکہ اس پروپیگنڈے کا ہے جو اسکو اچھا بنانے کے لیے مسلسل کیا جا رہا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کرنے کے پیچھے ہمارے رکن قومی اسمبلی جناب محسن داوڑ اور دیگر سرخوں کے پاس کیا وجوہات ہیں؟

    @MrWaheedgul

  • زمین کو سانس دو. تحریر : زہراء مرزا

    زمین کو سانس دو. تحریر : زہراء مرزا

    تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایک درخت 30 بچوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے. ایک بچے کو اگر مصنوعی طریقے سے آکسیجن فراہم کرنے پڑے تو یہ 5000 روپے کی آکسیجن یومیہ درکار ہے. پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے.
    مختصر کہیے تو گیارہ کڑوڑ روپے ایک شخص کے زندہ رہنے کے لیے درکار ہوں.

    زاویہ نظر بدلیے….
    سب سے پہلے تو اس بات پر اپنے خالق کا شکر ادا کریں کہ کتنی مہنگی چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں مفت عطا کر رکھی ہے. اور ہم سے اس چیز کا نہ تو کوئی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہماری تمام تر سرکشوں کے باوجود اس نعمت (آکسیجن) کے استعمال سے روکا جاتا ہے.

    خالق دو جہاں کے شکر کے بعد سوچیے…!!
    آپ ارب پتی بھی ہوتے تو کیا پوری زندگی میں تین ارب 30 کڑوڑ روپے صدقہ کر سکتے تھے؟؟
    ہرگز نہیں… لیکن اگر آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تو بھی آپ اس سے کئی گناہ زیادہ صدقہ کر سکتے ہیں. آپ سب ارادہ کر لیں کہ ہم اس معاشرے کو ہر سال ایک پودا دیں گے جو بڑا ہوکر ایک درخت بن جائے گا تو آپکی عمر اگر ساٹھ سال ہوئی تو ہر سال 3 ارب 30 لاکھ روپے صدقہ کا ثواب آپکو ملے گا. اپنی زندگی میں 2 کھرب روپے کا صدقہ کرنے والا شخص آپ نے تو شاید تمام عمر سوچا تک نہ ہو.؟؟

    جی اتنا بڑا صدقہ..!
    ایک درخت لگائیے…. اور دنیا کو سانس فراہم کیجیے….
    ابھی تک تو میں نے فقط ایک آکسیجن فراہم کرنے والے درخت کے متعلق بتایا ہے؟
    اگر آپ نے ایسا درخت لگایا جس نے لوگوں کو دھوپ میں سایہ دیا، بھوک میں پھل دیا، پرندو‌ں کو گھر دیا، زمین کو بارش دی تو آپ محسوس کریں کہ آپ معاشرے کے ساتھ کتنی بڑی نیکی کر رہے ہیں؟ آپ اگر ایسا کرتے ہیں تو یقیناً آپکو اپنے انسان ہونے پر ناز ہوگا. کیونکہ پوری کائنات میں آپ واحد مخلوق ہیں جسے اللہ نے یہ شعور دیا ہے کہ وہ درخت لگائیں. دنیا کو اس وقت گلوبل وارمنگ کا جس طرح سامنا ہے یہ میں اور آپ فقط سوچ ہی سکتے ہیں؟ ایمازون کے جنگلات کی آتشزدگی ہو یا افریکہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ. کہیں آبادیوں کے بڑھاؤ کی خاطر کٹنے والے جنگلات ہوں. یا جلانے اور آلات بنانے میں ضرورت سے زائد استعمال ہونے والی لکڑی..
    یہ سب ہی گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں سے ہیں. فیکٹریوں اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن نے جہاں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور متھین گیس کی مقدار کو بڑھاوا دیا ہے. وہیں جنگلات اور درختوں کی کٹائی نے آکسیجن کو مزید کم کر دیا.

    کیا آپ دیکھتے نہیں کہ میٹرو سٹیز میں رہنے والے افراد میں بیماریوں کا رجحان دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے.
    دمہ، سکن الرجی،ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی بیماریوں میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے.
    گرمیوں میں ہیٹ سٹوک اور سردیوں میں سموگ کا راج یہ تمام کے تمام مضمرات یا تو انڈسٹری کے بے جا پھیلاؤ سے منسلک ہیں یا پھر درختوں کی بے وجہ کٹائی سے. درختوں میں اضافہ نہ صرف گلوبل وارمنگ کو کم کرتا ہے ساتھ ہی ساتھ سموگ اور ہیٹ اسٹوک سے بھی محفوظ رکھتا ہے.

    یاد رکھیے جتنے درخت کم ہونگے اتنی ہی سانسیں کم ہونگی. لہٰذا اگر سانس کو بچانا ہے تو ایک پودا لگانا ہے. درخت لگائیے اور دور جدید میں سب سے مہنگا صدقہ کیجیے…! کیونکہ فرمان پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ انسان کی جان بچانا انسانیت بچانے کے مترادف ہے.

    @zaramiirza

  • کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے     وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے وزیر اعظم آزاد کشمیر

    آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہے کہ ہماری اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے-

    باغی ٹی وی : مظفرآباد میں میڈیا سے یوم استحصال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم وستم کی نئی داستانیں رقم کر رہا ہے وزیراعظم عمران خان پوری امت مسلمہ کی نمائندگی کررہا ہے۔ کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کا رہنے والا ہوں اولین ترجیح کشمیر کی آزادی ہے-

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران…

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ وادی چنار کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہونے پر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں وفاقی ادارے کی جانب سے پاکستانی جھنڈوں کی بےحرمتی

    یوم استحصال کشمیر پر ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور سڑکوں پر ٹریفک رک گئی۔ ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن چینلز پر ایک منٹ کی خاموشی کے فوراً بعد پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔

    مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں آرمی چیف

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے اسلام آباد میں واک کی قیادت کی ریلی میں وزیر داخلہ شیخ رشید بے بھی شرکت کی واک کے شرکا نے سیاہ پٹیاں باندھی تھیں اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائے تھے۔

    تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم…

    علاوہ ازیں وزیر خارجہ دفتر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر قیادت ریلی نکالی گئی جس میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی شرکت کی –

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی دونوں ٹیموں کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شامل تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پہلا ایک روزہ میچ 17 ستمبر کو ہو گا-

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم میں 3 ایک روزہ میچز اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گےدونوں ٹیموں کے درمیان 3 ایک روزہ میچز راولپنڈی اور 5 ٹی ٹوینٹی میچز لاہور میں ہوں گے جو 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہیں گے-

    نیوزی لینڈ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے لیےترتیب دیئے گئے بمپر کرکٹ سیزن 22-2021 میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی نیوز ی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کراچی پہنچے گی۔آسٹریلیا بھی آئندہ سال فروری مارچ میں پاکستان کا دورہ کرے گی-

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے اس سے قبل نومبر 2003 میں آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گئے تھے۔ 2003 کے بعد پاکستان اب تک تین مرتبہ نیوزی لینڈ کی میزبانی کرچکا ہے تاہم یہ تمام میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے۔

    غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    چیف ایگزیکٹو نیوزی لینڈ کرکٹ ڈیوڈ وائیٹ کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں،  ہم پاکستان کے ہوم انٹرنیشنل سیزن کے آغاز میں پاکستان کا دوبارہ دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔

    ڈیوڈ وائیٹ نے کہاکہ بھارت سے باہر نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کا دورہ کیا اور ہمارے پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔خوشی ہے کہ ایک مشکل وقت ختم ہونے کے بعد اب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوچکی ہیں۔

    سیریز کا مکمل شیڈول:
    11ستمبر: اسلام آباد آمد، 12تا14 ستمبر:روم آئسولیشن، 15تا16ستمبر: ٹریننگ/ پریکٹس/ انٹرا اسکواڈ میچ

    17، 19اور 21 ستمبر: ایک روزہ بین الاقوامی میچ، راولپنڈی جبکہ 25 ، 26 اور 29 ستمبر ، یکم اکتوبر اور 3 اکتوبر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور

    گزشتہ روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوینٹی کھلاڑیوں کی رینکنگ جاری کر دی آئی سی سی کی جاری کردہ رینکنگ کے مطابق انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان پہلے نمبر ہیں جبکہ پاکستانی کپتان بابر اعظم دوسرے نمبر پر برقرار ہیں۔

    ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے اختتام پر بابر اعظم کے 14 رینکنگ پوائنٹس میں کمی ہونے کے بعد بابر اعظم کے رینکنگ پوائنٹس 819 ہو گئے جبکہ انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان کے رینکنگ پوائنٹس 841 پر آ گئے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان ٹی ٹوینٹی ریکنگ میں چھٹے سے ساتویں نمبر پر چلے گئے جبکہ بھارتی بلے باز کے ایل راہول چھٹے نمبر پر چلے گئے۔

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر: سحر عارف

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر: سحر عارف

    پودے کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے ہمیں آکسیجن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہوا کو آلودگی سے بھی پاک کرتے ہیں۔ آج جو ہمارے اردگرد ہوا موجود ہے وہ ذہر اور گندگی سے بھرپور ہے جسے جب ہم سانس لیتے ہوئے اپنے جسم میں اتارتے ہیں تو ان گنت بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    ماحول کو گندگی اور بیماریوں سے پاک صاف رکھنے کے لیے شجرکاری کی اشد ضرورت ہے۔ ایک تو یہ ماحول کو صاف ستھرا رکھتے ہیں اور دوسرا پودے انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔

    ہمارے ہاں جیسے ملک کے موجودہ حالات چل رہے ہیں عوام کی کثیر تعداد ذہنی دباؤ کا شکار ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں پودے بہت خوبصورتی سے کام آتے ہیں۔ یہ ہمارے درد اور تکلیف کو اپنے اندر اتارتے ہوئے ہمیں ذہنی دباؤ سے باہر نکالتے ہیں۔

    پھر پودوں کے اور بھی بہت سے فوائد موجود ہیں ایک تو اس کی جڑیں بوٹیوں سے ہم بےشمار ادوایات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاؤہ یہ ماحول کو شور جیسی آلودگی سے بھی پاک کرتے ہیں۔ کبھی توجہ فرماتے ہوئے محسوس کیجیئے گا کہ جن مقامات پر پودے موجود ہوں وہاں کس قدر سکون ہوتا ہے۔

    پچھلے کئی سالوں کی نسبت آج ہمارے ملک میں کافی حد تک شجرکاری ہوچکی ہے اور مزید بھی ہورہی ہے۔ اس ملک میں بہت سی حکومتیں آئیں اور بہت سے وزرائے اعظم بھی آئے پر موجودہ حکومت سے پہلے کبھی بھی سابقہ حکمرانوں میں سے کسی نے بھی شجرکاری پر توجہ نا دی۔

    پر ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی الودگی پر توجہ دیتے ہوئے شجرکاری کی مہم کے آغاز کا سہرا بھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کو جاتا ہے۔ جنہوں نے حکومت سنبھالتے ساتھ ہی شجرکاری کے حوالے سے پاکستانی عوام کو شعور دیا اور کثرت سے پودے لگانے کی درخواست کی۔ آج ملک میں کافی حد تک پودے لگائے جاچکے ہیں۔

    پر ملک کو مزید سرسبز و شاداب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ شجرکاری کا یہ سلسلہ کسی قیمت رکنا نہیں چاہیے اور دوسرا یہ کہ جب بھی کوئی پودا لگایا جائے تو اس کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے چند ماہ تک پودے کی بھرپور حفاظت کی جائے یہاں تک کہ وہ اپنے جڑیں مضبوطی سے زمین میں گاڑھ لے۔

    @SeharSulehri

  • خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی  تحریر : تماضر خنساء

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی تحریر : تماضر خنساء

    اللہ تعالی کی یہ سنت ہے کہ وہ ایسی قوم کی حالت
    نہیں بدلتے جو اپنی حالت کو خود ہی نہ بدلنا چاہے
    ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے

    :اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ
    (الرعد :11)
    بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے”
    آج اگر ہم خود کو دیکھیں تو یہی وجہ ہے کہ ہمارے حالات نہیں بدلتے کیونکہ ہم خود ہی نہیں بدلنا چاہتے ۔۔۔آج اس معاشرے میں اگر کوئ ایک دھوکہ دے تو اسکی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی وہی شروع کردیتے، چوری کرنا دوسروں کا حق مارنا، مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پیسے اینٹھنا —-غرض یہ چیز ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے کہ جو جیسے چاہتا ہے بس اپنا فائدہ ہو جس میں وہی کرتا ہے اور لوگ اسکو روکنے کے بجائے وہی کام شروع کردیتے۔۔۔۔ہم یہ تو چاہتے کہ ہمارے حالات بدل جائیں مگر ہم خود بدلنا نہیں چاہتے ۔۔۔۔اس قوم کے بگاڑ میں اس قوم کا ہی اپنا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔ہم۔اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی بے ایمانی اور دھوکہ دہی کرنا نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔ہر برائ کی جڑ خود ہم سے ہی جڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اگر کسی بھی برائ کو ختم کرنا ہے تو خود سے شروع کرنا ہوگا نہ کہ دوسروں سے ۔۔۔۔۔ہمارے معاشرے میں منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جو غلط کام ہم خود کررہے ہوتے اسی پر دوسروں کو کھلم کھلا لعنت ملامت کرتے ہیں آخر ہم دوسروں پہ انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان کیوں نہیں جھانکتے ۔۔۔۔لوگوں کو جج کرنا ہمیں خوب آتا ہے مگر ہر انسان خود کو کیوں اسی مقام پر نہیں رکھتا؟ پھر ہمیں اپنے معاشرے سے ڈھیروں شکایتیں ہیں مگر ان شکایتوں کو ہم خود میں سے دور کرنا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔دوسروں کو انکے غلط کام پر ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرنا خوب آتا ہے مگر ہماری اپنی باری کبھی آتی ہی نہیں!
    آج اگر ہمیں اپنے معاشرے سے چھوٹی برائیوں سے لیکر بڑی برائیوں تک کا خاتمہ کرنا ہے تو ہمیں خود سے ہی شروع کرنا ہوگا جو کام اگر کوئ دوسرا کرے اور ہمیں برا لگے دیکھیے کہ وہی کام کہیں آپ خود بھی تو نہیں کرتے؟ اگر کرتے ہیں تو پہلے خود کے اندر سے اس برائ کو دور کریں تبھی وہ برائ باقی معاشرے سے بھی. دور ہوگی وگرنہ کبھی نہیں ۔۔۔۔
    ہر برائ کو دور کرنے کی ابتدا خود سے کریں پہلے خود کو بدلیں اسکے بعد ہی حالات بدلیں ورنہ حالات بدل جانا ایک خواب ہی رہے گا ۔۔۔۔۔
    آج ہمارے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے چکی ہیں ۔۔۔۔ہم اخلاقی پستی کا شکار ہوچکے ہیں ۔۔۔۔وہ تعلیمات جو اللہ اور اسکے رسول نے ہمیں دیں انہیں تو ہم بس کتابوں میں پڑھنا پسند کرتے ہیں اسکے آگے اپنی زندگی میں اسے لاگو کرنے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔وہ تعلیمات وہ زندگیوں کے نمونے ہمارے لیے مشعل راہ تھے. مگر ہم نے ان سب کو بس کتابوں اور تاریخ کا حصہ بناکر رکھدیا جبکہ ان ساری تعلیمات کو آج ہماری زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔جو ہمارے لیے مشعل راہ تھا، اسے تو ہم نے پس پشت ڈال دیا پھر جب ہم ناکام ہیں تو اسکا، سارا قصور وار ہم دوسروں کو سمجھتے ہیں جبکہ قصور وار تو ہم ہی ہیں ______
    ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتے ۔۔۔دھوکہ دینا نہیں چھوڑتے توبڑے معاملات میں ہم کیسے سچ بول پائیں گے؟
    آج اگر کوئ اور بھی سچائ پہ گامزن ہوتا ہے تو ہم اسکا ساتھ تک نہیں دے پاتے یہی وجہ یے کہ حق کیا ہے ہم یہ جان ہی نہیں پاتے ۔۔۔۔ہر چمکتی چیز کی طرف ہم دوڑتے ہیں ہر گناہ کی طرف ہم بھاگے بھاگے جاتے ہیں ۔۔۔ہم اپنا مقصد زندگی تو بھول ہی گئے!
    ہماری زندگی کا مقصد پیسے کمانا، نام کمانا چاہے وہ کسی بھی طرح سے ہو بس یہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔اچھائ اور برائ کی تمیز کو الماری میں لاک کرچکے ہیں جسکی چابی بھی ہم نے جان بوجھ کر کھودی ہے ۔۔۔
    ہماری زندگی کا مقصد تو اصل میں اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا تھا جس کیلیے ہمیں اس دنیا میں آزمائش کیلیے بھیجا گیا ۔۔۔مگر ہم نے اپنا مقصد زندگی بھلادیا اور اس زندگی کو دائمی سمجھ لیا ہے _____
    اس معاشرے کو بدلنے کیلیے خود سے آغاز کیجیے کہ جب تک آپ خود کو بدلنا نہیں چاہیں گے تو ہمارا حال یہی رہے گا
    بقول شاعر :
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جسکو خیال آپ اپنی حالت کو بدلنے کا

    @timazer_K