Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عبادات مساوات  تحریر: آمنہ خان

    عبادات مساوات تحریر: آمنہ خان

    اسلام دینِ کامل ہے جو مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسی دین کے بدولت امت مسلمہ ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ عبادت انسان میں نظم وضبط پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ عبادات کی ادائیگی سے انسان کو بہترین معمول زندگی میسر آتا ہے۔

    اللہ پاک سورة الزایات میں فرماتے ہیں کہ؛

    وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ
    ترجمہ؛ میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔

    عبادات قرب الہی کا ذریعہ بنتیں ہیں۔ یہ انسان میں احساس پیدا کرتیں ہیں۔ اللہ پاک کی رحمتیں، دین کی تعلیمات تمام انسانوں کے لئے برابر ہیں۔ بلکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور فضیلت کی بنیاد محض ” تقویٰ” ہے۔

    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ؛

    یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لَاَعْجَمِیٍِّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلَا لِأَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوٰی
    ترجمہ؛ لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔

    تقویٰ ایک باطنی کیفیت کا نام ہے، جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔
    تمام انسان ظاہری لحاظ سے یعنی رنگ، نسل، علم، حکمت کے اعتبار سے برابر ہیں۔ فضیلت کا معیار تقویُ ہے جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔
    اسلام نام ہی مساوات کا ہے جہاں سب برابر ہیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
    مختلف عبادات بھی ہمیں مساوات کا درس دیتیں ہیں۔
    مثال کے طور پر نماز جو کہ ہم مسلمانوں پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نماز اسلامی مساوات کی واضح مثال ہے۔ جس میں تمام مسلمان بیک وقت ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر خالقِ حقیقی کو سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
    مالدار ہو یا فقیر اللہ کے گھر میں سب برابر ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب انداز میں اس مساوی کیفیت کو بیان کیا ہے۔

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    اس کے ساتھ زکوٰۃ بھی اتحاد و مساوات کا درس دیتی ہے۔ سارا سال امیر ترین طبقہ پیسے کماتا ہے، مال زخیرہ کرتا ہے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
    زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔
    زکوٰۃ کے نظام سے مال و دولت چند لوگوں کی میراث بننے کی بجائے، معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہے اور غریب طبقے تک پہنچ جاتی ہے۔
    غریبوں کا عید کی خوشیوں پہ اتنا ہی حق ہے جتنا امیروں کا۔ عیدالفطر پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور عید الاضحی پر قربانی کے گوشت کی تقسیم ہمیں اسلامی مساوات کا سبق دیتیں ہیں ۔اور یہی عبادات دوسروں کے لیے ہمارے احساسات جگا دیتیں ہیں۔

    حج دینِ اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔
    حج اسلامی مساوات کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان مخصوص ایام میں مخصوص جگہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ایک اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں۔
    اسلام، صرف اسلام ہی ہے جس نے ان انجانے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا رفیق بنا دیا۔
    حج کے موقع پر لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کی پکار مسلمانوں کے مساوات اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہے جو دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔

    اگرچہ روزہ ایک باطنی عبادت کا نام ہے جس کا گواہ صرف اللہ ہے۔ لیکن پھر بھی روزہ دوسروں کے ساتھ احسن سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔
    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہی اس کا اجر دے گا لیکن یہ دل میں دوسروں کے لیے احساس ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان سارا دن بھوک پیاس ترک کرتا ہے تو اسے اپنے غریب بھائیوں کی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس طرح انسان روزہ بھی لوگوں میں مساوات کی روح پھونکتا ہے۔
    ہمیں اللہ پاک نے ان قبائل، اور قوموں میں اسی لیے تقسیم کیا تاکہ ہم پہچانے جائیں۔

    سورة الحجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

    یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
    ترجمہ؛ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں۔

    اللہ ہمیں دین کے حقیقی معنی سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

    ‎@AmnaKhanPK

  • دیہاتی اور شہری زندگی  تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی تحریر: محمداحمد

    دیہاتی اور شہری زندگی میں بہت فرق ہے دیہاتی زندگی گاؤں کی زندگی کو کہتے ہیں جہاں پرفزا ماحول کھلی ہوا ، خالص اشیاء آسانی سے میسر ہوتی ہیں ہر انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی مٹی وہاں کی فزا میں بہت کشش ہوتی ہے انسان خود ہی کھینچا چلا جاتا ہے دیہات کی زندگی میں مویشی پالنا ان کی دیکھ بھال کرنا ان کا کاروبار کرنا معمول سمجھا جاتا ہے گاؤں کی زندگی میں بڑا سکون ملتا ہے

    شہر میں ہر طرف بھیڑ آب و ہوا کا مسئلہ خالص اشیاء کا مسئلہ ہوتا ہے شہر میں رہنے والا جب دیہات میں آتا ہے تو وہاں کا ہی ہو جاتا ہے وہاں کا سکون اسے اطمینان مہیا کرتا ہے شہروں میں لوگ دفاتر میں چلے جاتے ہیں جبکہ گاوں میں تھوڑا مختلف ہے گاؤں میں لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں نماز پڑھ کر اپنے مویشیوں کیلئے چارے کا بندوست کرتے ہیں بہت کٹھن کام ہوتا ہے لیکن دیہات کے لوگ بڑی خوشی کے ساتھ کرتے ہیں دن رات محنت کرتے ہیں جسے ہم اپنے کسان بھی کہتے ہیں اگر دیکھا جاۓ تو انہی کسان کی بدولت ملک چل رہا ہوتا ہے جو گندم کسان کاشت کرتا ہے وہاں کسان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے بیچ دیتے ہیں اور وہ گندم پورے ملک میں لوگ خرید کر اپنے گھر میں روٹی پکاتے ہیں

    اسی طرح دھان (چاول) اور تمام سبزیاں ہیں جو کسان کی انتھک محنت کے بعد شہروں تک پہنچتی ہیں دیہات میں ایک کسان کا سرمایہ اس کے مویشی اس کی زمین ہوتی یے جس پہ وہ کاشت کاری کرتا ہے اپنا اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے گاؤں میں دل موہ لینے والے نظارے آپ کو ملتے ہیں وہاں عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ گھر کے کام کے ساتھ برابر کام کرتی ہے شہروں میں ایک دن اتوار کی چھٹی ہوتی ہے بہت سے لوگ گاؤں کا رخ کرتے ہیں تاکہ موسم کو انجوائے کیا جاۓ کھلے آسمان کا نظارہ کیا جاۓ کاروباری لوگ اتوار کے دن کا شدت سے انتظار کرتے ہیں

    کاروبار کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے شہر کے لوگ اپنے وقت کو اس طرح مینٹین کرتے ہیں کہ وقت نکال کے گاؤں کا رخ کرتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں اگر شہروں کے لوگوں کو گاؤں میں ایک ماہ گزارنا پڑھے تو بہت مشکل ہوگا شہر والوں کیلئے کیونکہ شہروں کی طرح دیہات میں سہولیات کم ہوتی ہیں فون ، انٹرنیٹ وغیرہ کی وہ سپیڈ نہیں ہوتی جو شہروں میں ہوتی ہے اس لئے شہر والوں کو رہنا مشکل ہے گاؤں کے لوگ اس چیز کے عادی ہوتے ہیں وہ پر سکون ماحول میں رہتے ہیں شہروں میں اگر فوتگی ہوجاۓ تو چند عزیز و اقارب سوگ میں ہوتے ہیں بہت سے ہمسایوں کو بھی نہیں پتا ہوتا کیا پہاڑ ٹوٹا ہے ہمسائیوں میں لیکن دیہات میں سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تمام گاؤں سوگ کی حالت میں ہوتا ہے

    بہت سے لوگ گاؤں کو چھوڑ کر شہر کی طرف سفر کر دیتے ہیں وقت کے ساتھ انہیں سکون شہروں میں میسر ہوتا ہے لیکن وہ گاؤں کی رنگینیوں کو بھول جاتے ہیں اپنا بچپن جہاں گزارہ ، اپنے والدین کے ساتھ گزرے دن اپنے دوستوں کے ساتھ گزاری یادیں سب بھول جاتے ہیں پھر وہی لوگ شہر میں ہی خوشی ڈھونڈتے ہیں اپنا آرام اور آسائش شہر میں ڈھونڈتے ہیں اور آخر کار گاؤں میں ہی اُن کی آخری منزل ہوتی ہے

    @JingoAlpha

  • آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی  تحریر: محمد خواص خان

    آزاد کشمیر کا سیاحتی مقام گنگا چوٹی تحریر: محمد خواص خان

    خوبصورت علاقے قدرت کی تخلیق کا ایک بہترین شہکار ہیں ۔ جن کو دیکھنے سے بنی نوع آدم سکون اور راحت محسوس کرتی ہے وطن عزیز بھی خوبصورت مقامات کی دولت سے مالا مال ہے بلند وبالا چوٹیاں، گہرے اور ٹھنڈے بہتے چشمے سفید اور سبز چادر اوڑھے دلکش پہاڑ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ پاکستان بھر سے لاکھوں اور دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ جتنی ہمارے ہاں خوبصورت ترین علاقے ہیں بدقسمتی سے اتنے ہی یہ علاقے پسماندہ اور سہولیات سے محروم ہیں ماضی قریب تک تو کسی گورنمنٹ بے بالکل بھی اس طرف توجہ نہیں دی جبکہ موجودہ حکومت آٹے میں نمک کے برابر کچھ کررہی ہے ۔ حالانکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سیاحتی مقامات سے اچھی خاصی آمدن لے رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ان چیزوں کو پس پشت ڈال جارہا ہے ۔

    کشمیر جنت نہیں ہے لیکن جنت نما ضرور ہے ۔ کشمیر کا تقریبا ہر علاقہ گرین اور انتہائی خوبصورت ہے کشمیر میں بہت زیادچشمے اورخوبصورت چوٹیاں ہیں لیکن ان تک پہنچنے کے لیے راستے انتہائی دشوار ہیں ۔ اسی لیے زیادہ تر سیاح وہاں کا رخ نہیں کرسکتے ۔ انہی بلند و بالا چوٹیوں میں سے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ہے ۔ جو انتہائی خوبصورت چوٹی ہے

    اسلام آباد سے 200 کلو میٹر شمال مشرق میں آزاد کشمیر کے دو اضلاع باغ اور مظفر آباد کے سنگھم پر واقع ایک خوبصورت سیاحتی مقام جسے گنگا چوٹی کہاجاتا ہے ۔اسے گنگاکیوں کہا جاتا ہے یہ ایک حل طلب سوال ہے ظاہراً یہ نام ہندو مذہب سے منسوب ہے تاریخ دان اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی صورتحال ہو گئی۔ انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیااس نے شیوا کو براہمان کے پاس بھیجا پھر وہاں سے آکاش گنگاکا وجود ہوا ہے جو ہندوں کی کتب میں درج ہے ۔بعض کتب میں یہ چوٹی دیوی گنگا کے نام سے منسلک ہے ۔ گنگا چوٹی کی بلندی تقریبا دس ہزار فیٹ ہے ۔یہاں پہنچنے کے لیے باغ سے براستہ سُدھن گلی سے پہنچا جاسکتا ہے ۔سُدھن گلی میں طعام وقیام کا اعلی بندوبست ہے ۔خصوصاً دیسی ہوٹل اپنی نفاست اور لذیذ دار کھانوں سے مشہور ہے اگر آپ کا یہاں جانا ہو تو ایک دفع ضرور ٹیسٹ کریں سپیشلی کڑی پکوڑہ اعلیٰ ومعیاری ہے۔ سُدھن گلی سے آگے آدھا راستہ پکا اور زیادہ کچا ہے تاہم اس پر کام جاری تھا یہاں گرمیوں میں موسم کافی معتدل اور سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کے بے تاب رہتا ہے ۔یوں تو سارا کشمیر ہی خوبصورت ہے لیکن گنگا چوٹی اس خوبصورتی کا ایک خاص درجہ رکھتی ہے۔سرسبز میدان ،ٹھنڈی ہوائیں اور دھند کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی گنگا چوٹی کی طرف سفر کا آغاز کیا گوکہ راستہ طویل تھا لیکن ہر حسین منظر نے آنکھوں کو تازگی اور دل کو سکون میسر کیا راستے میں ایک دو کیمپ(جن میں چاٸےاوربسکٹ کاساماں موجودتھا) اور کافی سارے مویشی نظر آئے ہم جوں ہی آدھے راستے پہنچے بادلوں کو بھی پتہ چل گیا کہ مہمان پہنچ چکے ہیں ۔گنگا چوٹی کے چاروں اطراف جنگلات ہیں ۔گنگا چوٹی جنگلی حیات اور نباتات کا مسکن ہے جہاں موسم بہار میں ہر طرف خوبصورت پھول کھلتے ہیں. چوٹی جولائی میں اکثر سفید چادر اوڑھے رکھتی ہے جس سے آپ مکمل نظارہ نہیں کر سکتے۔سیروسیاحت پر پہلی تحریر ہے آئندہ لکھنے کا مصم ارادہ ہے ۔آپ لوگوں سے بھی گزارش ہے سیاحتی مقامات کا پروموٹ کریں ۔

    Twitter I’d link
    @iamkhawaskhan

  • بغداد کی بربادی اور ہم  تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    بغداد کی بربادی اور ہم تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    تاریخ بتاتی ہے کہ ابوجعفر بن المنصور نے سن 762 میں بغداد کی بنیاد رکھی اور پھر چند ہی دھاہیوں میں اس شہر نے اتنی ترقی پائی کہ برصغیر سے لے کر افریقہ تک کے صاحب ہنر و علم بغداد دیکھنے کے لیے بے چین ہو گۓ
    اور بغداد بھی ایسے صاحب علم کے لیے بے چین رہتا اور باکمال شخصیات کی کتابوں کو ہیرے جواہرات سے تولا جاتا
    بغداد میں عظیم الشان مساجد اور مدارس تعمیر کیے گۓ۔
    اس شہر نے باکمال شخصیات سے محبت کا شرف حاصل کیا جن میں فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ
    عظیم کیمیا دان جابر بن حیان
    الجبرا کے عظیم بانی الخوارزمی
    فلسفے اور حکمت کے دو عظیم نام الکندی اور الرازی
    مشہور مفکر الغزالی، عربی کے مشہور شاعر ابو نواس، تاریخ دان طبری اور کئی عالمِ دین اسی شہر کے باسی تھے
    لیکن اس شہر کی بربادی کا سبب بھی مسلمانوں کے آپس کے باہمی اختلاف ، تفرقہ بازی اور زاتی مفادات تھے
    کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان نے بغداد کا پچاس دن مسلسل محاصرہ کیے رکھا اس وقت بغداد کے پاس دنیا کے مضبوط ترین قلعے تھے لیکن دل اور ایمان کی ناپختگی نے ان قلعوں کی مضبوطی کو پاش پاش کر دیا۔
    تاریخ خلافت عباسیہ کے خاتمے کی تاریخ کچھ اس طرح رقم کرتی ہے ہلاکوخان نے محاصرے کی ابتداء 29 جنوری 1258   کو کی اور محاصرہ کا اختتام 10 فروری 1258 کو ہوا
    اس وقت خلافت عباسیہ کے سربراہ مستعصم باللہ انتہائی کمزور انسان تھا جب وزراء کے مشورے کے ساتھ وہ ہلاکو خان سے مزاکرات کے لیے گیا تو اپنے ساتھ اپنی اولاد، وزیر بھی ساتھ لے کر گیا
    خلیفہ کے سوا سب کو قتل کر دیا گیا اور منگولوں کی فوج نے شہر میں داخل ہو کر سامنے آنے والے ہر شخص کو تہہ تیغ کر دیا ایک ہی دن میں ہزاروں افراد شہید ہو گۓ ۔ خلیفہ کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ منگولوں کے عقیدے کے مطابق بادشاہ کا خون بہانا بد شگونی سمجھا جاتا تھا سو ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو باندھ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑاۓ تاکہ خون نہ بہے۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کی بربادی کی اہم وجہ مراکش اور ایران کا خلافتِ عباسیہ کا ساتھ نہ دینا تھا
    الغرض بغداد کو ایسے تباہی کیا گیا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی
    لیکن اس بربادی میں مسلمانوں کا اپنا حصہ زیادہ تھا علم و فن سے منہ موڑ لیا گیا بادشاہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گۓ جس سے معاشرے کی ترقی پر جمود طاری ہو گیا اور عوام نے لاپرواہی اختیار کر لی
    کیا آج ہم بھی اسی ڈگر پر نہیں چل رہۓ؟
    کیا ہمارے وزراء مشیران عیاشیوں کے بے پناہ دلدادہ نہیں ہو گۓ اور
    کیا ہم (عوام) بھی لاپروا نہیں ہو گۓ
    اور کیا ہماری بربادی کا وقت بھی قریب نہیں آ گیا (خدانخواستہ)
    کیا ہمیں اپنے حکمرانوں کو راست پر لانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرنے چاہیں اور کرپٹ عناصر کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرنے سے چشم پوشی اختیار کر لینی چاہیے
    سوچئیے گا
    اور مناسب سمجھیں تو آنکھیں کھلی رکھ کر شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کریں
    #حبیب_خان

  • کیا چین نے امریکہ سے سپر پاور کا نمبر چھین لیا ہے؟ تحریر حمیداللہ شاہین

    کیا چین نے امریکہ سے سپر پاور کا نمبر چھین لیا ہے؟ تحریر حمیداللہ شاہین

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ کمزور پالیسیوں اور جوبائیڈن کی موجودہ امریکی حکومت کی صورتحال اور چین کی طرف سے دوسرے ممالک کے ساتھ روابط کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ اگلے چند سالوں میں چین دنیا کا سپر پاور ملک ہوگا
    یا تو ہم کہتے ہیں کہ سفارتی شکست یا امریکہ کی کمزور پالیسیاں چین کو مستقبل میں ایک طویل کھیل کھیلنے کے لیے ایک واضح راستہ دے سکتی ہیں۔ چین کوئی غلطی نہیں کر رہا ہے اور اپنے حریف امریکہ کے خلاف اپنے سفارتی رویے کے ذریعے ان ممالک کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہچکچاہٹ کے بغیر زبردست ہٹ دھرمی کھیل رہا ہے جن کا امریکہ کے ساتھ تھوڑا سا اختلاف ہے۔
    یہ ایک طویل عرصے سے ایک عام سوچ تھی کہ ایک سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ ہمیشہ اگلے بیس سے چالیس سالوں کے لیے نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری دنیا کے لیے اپنی پالیسیاں بناتا ہے۔ جب بھی پسماندہ ممالک میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں وہ ہمیشہ بہتر حل کے لیے امریکہ سے مدد لیتے ہیں اور امریکہ دنیا کی سپر پاور کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن امریکہ کے "ڈونلڈ ٹرمپ” کی آخری حکومت اور "جو بائیڈن” کے موجودہ دور نے حیرت انگیز طور پر اپنی میراث کھو دی جبکہ چین نے امریکہ کے خلاف سفارتی پالیسیوں میں ترمیم کے ذریعے اپنی بہترین کوشش کی۔
    روس اور چین کے درمیان ایک حالیہ ویڈیو کانفرنس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ دو طاقتوں میں ایک بڑا معاہدہ ہو رہا ہے اور امریکہ کو اپنی سفارتی پالیسیوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنا چاہیے۔ یہ خبر مختلف عالمی میڈیا فورمز پر نشر ہوئی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے 20 سال پرانے معاہدے میں توسیع کی جس کا مقصد ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدوں کو ختم کرنا ہے۔ دنیا میں امن اور دیگر متضاد حالات
    چین نے پاکستان اور افغانستان کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ جب کہ چند دن پہلے میڈیا گفتگو کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین افغانستان میں امن کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
    چین ان ممالک کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور تعلقات کو بڑھا رہا ہے جنہیں امریکہ نے کھودا ہے یہ قابل ذکر ہے کہ چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر کے بڑے معاہدے سے چین کو گرم پانیوں تک آسان رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چابہار بھارت کے لیے ایک خواب تھا جو چین کی شمولیت کے بعد ڈوب گیا ہے۔ ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے کہا "ہم نے اپنے ہندوستانی اور چینی دوستوں پر بہت واضح کر دیا ہے کہ چابہار ہر ایک کے لیے تعاون کے لیے کھلا ہے۔ چابہار چین کے خلاف نہیں ہے… گوادر کے خلاف نہیں ہے۔ چابہار ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم سب مل کر افغانستان کی مدد کر سکتے ہیں خطے میں ترقی اور خوشحالی میں مدد کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ معاہدے کی شکل میں چین کے داخلے کے بعد گوادر کی قدر کم کرنے کے مقصد سے ایران کی چابہار بندرگاہ سے منسلک ہندوستانی امیدیں ختم ہوگئیں۔ اب کھیل چین کے ہاتھ میں ہے چاہے وہ کھیلے یا نہ کھیلے۔
    چین اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان تمام معاہدوں کے علاوہ حالیہ جی 7 سمٹ میں جو بائیڈن نے اپنے اتحادیوں کو چین کی معاشی طاقت کے خلاف متحد محاذ بنانے پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مشرقی اور مغربی حصوں میں چین کا گڑھ امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک سیشن کے دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن نے شرکاء کی توجہ چین میں جبری مشقت کے طریقوں کی طرف مبذول کرائی جس کے ذریعے وہ اس کے خلاف دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن صرف کینیڈا ، برطانیہ اور فرانس نے چین کے خلاف بائیڈن کے نقطہ نظر کی تائید کی جبکہ جرمنی ، اٹلی اور یورپی یونین تھوڑا ہچکچاتے نظر آئے اور کوئی مثبت علامت ظاہر نہیں کی۔
    امریکہ کی نئی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چین کی جبری مشقت اس کا اندرونی مسئلہ ہے اور وہ کبھی بھی کسی دوسری طاقت کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ جو بائیڈن کی حکومت میں بہت سے داخلی مسائل ہیں جنہیں اولین ترجیح پر حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اب تک نظر انداز کیا گیا ہے۔
    روس ، پاکستان ، ایران کے ساتھ چین کے تعلقات اور اب ایک مستحکم افغانستان میں اس کی گہری تشویش دراصل مضبوط سفارتکاری ہے جو کہ امریکہ کے اقتصادی طور پر بڑھتے ہوئے چین اور ایران ، پاکستان اور افغانستان جیسے پسماندہ ممالک کے لیے اس کی پالیسیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں جیسے بھارت۔ امریکہ ان ممالک پر اپنی کمان کھو رہا ہے جبکہ چین ان کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔
    چین کی ایران، پاکستان اور افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلقات میں بہتری کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ اگلے کچھ ہی سالوں میں چین دنیا کے سارے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گا اور ایک نئی تاریخ رقم کر کے امریکہ کو سپر پاور کے تخت سے اتار دے گا اور خود تخت نشین ہو کر ایک نئی عالمی طاقتور ترین ملک کے طور پر سامنے آئے گا۔
    @iHUSB

  • 18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    18 ماہ سے پاکستان میں پھنسے طلباء حکومتی مدد اور چین کے ویزا کے منتظر – تحریر :یاسر اقبال خان

    جب سے کورونا وبا آیا ہے دنیا کے ہر حصے میں موجود طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہے۔ کورونا وبا کے شروع میں تو سب ممالک نے سٹوڈنٹ ویزا بند کیا تھا لیکن جب سے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوا ہے، برطانیہ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے طلباء کیلئے ویزا پالیسی آسان کردی ہے- طلباء کو نہ صرف ویزا مل رہا بلکہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ بیرونی ممالک میں سیاحت سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی پاکستانی زیرتعلیم طلباء تھے ان کو ویزے مل گئے ہیں وہ سب اپنے یونیورسٹیز جاچکے ہیں یا جا رہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں چین میں زیر تعلیم طلباء آج بھی پاکستان میں پھنسے ہیں۔ جن کو 18 مہینوں سے چین کا ویزا نہیں مل رہا اور ویزا کے منتظر ہیں یہ طلباء مطالبہ کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کی طرح ہمیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے چین کا ویزا جاری کیا جائے اور پاکستانی حکومت ہماری ذمہ داری لے اور چین کے ساتھ بات کرے تاکہ ہم پر کورونا وبا کی وجہ سے لگی یہ سفری پابندیاں نرم کی جائے۔

    جب دسمبر 2019 میں ووہان میں کوویڈ 19 وبائی بیماری پھیل گئی، چین میں حکام کا پہلا ردعمل شہر کو سیل کرنا تھا۔ جیسے جیسے وائرس پھیلتا گیا تو ہر طرف سفری پابندیاں لگا دی گئی تاکہ وائرس کو چین میں پھیلنے سے روکا جائے۔ چین سے غیر ملکی شہریوں میں گھر جانے والوں میں 196 ممالک کے نصف ملین سے زائد بین الاقوامی طلباء شامل تھے جن میں پاکستانی طلباء بھی کثیر تعداد میں تھے جو پاکستان آئے اور پھر پاکستان میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ اب چین نے کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور چین نے تقریبا 40 فیصد سے زیادہ آبادی کی ویکسینیشن مکمل کی ہے تو مغربی ممالک کی طرح چین بھی پاکستانی طلباء کے لئے ویزا پالیسی میں نرمی کرے۔ 18 مہینے ہمارے تعلیم کے ضائع ہو چکے ہیں ہم شدید اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔

    چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء اکثر وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے کمپین و ہیشٹیگ ‎#TakeUsBackToChina میں ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں ٹیگ کرتے نظر اتے ہیں کہ ان کیلئے پاکستانی حکومت چینی حکومت سے بات کرے۔ طلباء نے اس سوشل میڈیا مہم کے ساتھ یو این، چینی پریذیڈنٹ ژی جنگ پنگ کو مدد کیلئے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ان کے اوپن لیٹرز بھی لکھے گئے ہیں جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئے۔ پاکستان میں پھنسے ان طلباء میں بعض ایسے ہیں جو چین میں کورونا وبا پھوٹ پڑنے پر پاکستان آئے تھے اور بعض ایسے ہیں جن کو 2020 اور 2021 میں چین کے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ ملا ہے۔
    پاکستانی طلباء چین میں انڈر گریجویٹ، ماسٹر اور پی ایچ ڈی ڈگریوں میں رجسٹرڈ ہیں ان طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کو آن لائن کلاسز میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، کچھ تو پسماندہ علاقوں سے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس ہی نہیں کہ آن لائن کلاسز لے سکے جو میڈیکل ڈاکٹری کی ڈگری پڑھ رہے ہیں آن لائن کلاسز میں ان کیلئے کلینکل کام کرنا ممکن نہیں اور ماسٹر و پی ایچ ڈی طلباء آن لائن کلاسز میں لیب کے بغیر ریسرچ نہیں کر سکتے۔ جن طلباء کو 2020 اور 2021 میں داخلے ملے ہیں ان میں سے کچھ کو تو یونیورسٹیوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اپ آن لائن کلاسز کے بجائے لمبا انتظار کرے اور جب تک سفری پابندیاں نرم نہیں ہوتے تو اس وقت تک اپ پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ کے ساتھ وزیر داخلہ شیخ رشید نے 3 جون 2021 کو ملاقات میں پاکستانی طلباء کا معاملہ اٹھایا تھا اور چینی سفیر نے یہ معاملہ جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں زیادہ تفصیل نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہوسٹ عدل شاہزیب نے وزیر تعلیم شفقت محمود کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چینی سفیر کے ساتھ پاکستانی طلباء کا مسئلہ اٹھاؤں گا اور میں سمجھتا ہوں چین میں حالات کافی اچھے ہوگئے ہیں، پاکستانی طلباء کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

    Twitter: ‎@RealYasir__Khan

  • سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق  تحریر : اسامہ خان

    سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق تحریر : اسامہ خان

    پاکستان 1947 میں بنا اور پاکستان کا پہلا وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب تھے ان کے بعد بہت سے وزیراعظم آئے اور 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ہوا اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو صاحب تھے انہوں نے پاکستان کی خدمت کے لیے کافی اچھے کام کیے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا تھا اور اس پارٹی میں سے نظیر بھٹو صاحبہ بھی وزیراعظم بنیں 1988-1990 اور دوسری بار 1993-1996 تک وزیراعظم رہیں اور یہاں سے وقت شروع ہوتا ہے پاکستان مسلم لیگ نون کا، پاکستان مسلم لیگ نون 1993 میں نواز شریف کی صدارت میں بنی نواز شریف صاحب سب سے پہلے وزیراعلی پنجاب بننے، اور آہستہ آہستہ نواز شریف صاحب وزیراعظم اور ان کا بھائی شہباز شریف وزیراعلی پنجاب بننے، ان کی پارٹی کا صرف ایک ہی مقصد تھا خود بھی کھاؤ اور اپنے دوست احباب کو بھی کھلاؤ بے شک ملک ڈوبتا ہے ڈوبتا رہے ان دونوں بھائیوں نے مل کر جتنی کرپشن ہو سکتی تھی کی تاکہ آنے والے وقتوں میں یہ خاندان بیٹھ کر کھا سکے انہوں نے کوئی ایک ادارہ نہیں چھوڑا جس میں انہوں نے کرپشن نہ کی ہو اور اس کے ساتھ ہی ساتھ عمران خان صاحب جو کہ موجودہ وزیراعظم ہیں پاکستان کے شریف فیملی کے دور میں جدوجہد کرتے رہے اور پوری عوام کو آگاہ کرتے رہے کہ یہ پورا خاندان چور ہے جیسے جیسے عوام میں شعور آتا گیا تو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کو ووٹ دینا چھوڑ دیا سب سے پہلے عمران خان صاحب کی حکومت خیبر پختونخوا میں بنی عمران خان صاحب نے وہاں پولیس اور دیگر اداروں کا نظام ٹھیک کیا اور کرپشن فری خیبر پختونخوا بنانے کی جدوجہد شروع کردی یہ جدوجہد خیبرپختونخوا میں جاری تھی کہ پانامہ کا کیس سامنے آگیا جس میں مسلم لیگ نون کی آج تک کی 30 سال کی کرپشن سامنے آگئی جس کی وجہ سے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا اور وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ابھی الیکشن میں کچھ دیر باقی تھی تو نون لیگ نے حقان عباسی کو کچھ دنوں کے لیے وزیر اعظم مقرر کیا حقان عباسی صاحب کی شان دیکھئے جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تو ایئرپورٹ پر شرٹ کے ساتھ ساتھ پینٹ بھی اتار کر چیک کروا آئے اپنی، کتنے افسوس کی بات ہے اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اگر ان کو کوئی صرف ہاتھ لگا دے تو ان کی توہین ہو جاتی ہے، 2018 میں جنرل الیکشن آئے اور پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنی حکومت بنائیں اور ملک پاکستان کے عمران خان صاحب بائیسویں وزیراعظم بنے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب جہاں انکی کرپشن کو عوام کے سامنے لا رہے ہیں وہی بہت سے ترقیاتی کام کروا رہے ہیں جیسے کہ ماحولیات میں اور درخت لگانے میں پاکستان سب سے پہلے نمبر پر جارہا ہے نہ کہ صرف پہلے نمبر پر جارہا ہے ان ایونٹس کی میزبانی بھی کر رہا ہے وزیراعظم کی ہدایت پر احساس پروگرام شروع کیا گیا جس میں غریب طبقے کو اور طالب علموں کو سپورٹ دی جا رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ صحت کارڈ کا ہے ہر ایک خاندان کو ایک صحت کارڈ دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ خاندان سلانہ 7 سے 8 لاکھ تک فری علاج کروا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب واحد لیڈر ہیں جو صرف ملک پاکستان کے لیے اپنی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب اب تک دنیا میں سب سے مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں خان صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ جب امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوں اور فوجی انڈوں کے لیے اجازت مانگی گئی عمران خان صاحب نے تاریخ رقم کر دینے والے الفاظ بولے اور امریکہ کو منھ توڑ جواب دے کر نہ کیا۔ خان صاحب نے کہا میں اپنی قوم پر ظلم کیسے کر سکتا ہوں جیسے پچھلی حکومتوں نے کیا وہ خود اجازت دے کر بعد میں حملوں کی تعزیت کرتے تھے۔ خان صاحب کا بہت بڑا کارنامہ جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا، اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر براہ راست اپنی عوام کی کال سننا اور ان کے مسلے حل کرنے کے لئے فل فور ہدایات جاری کرنا۔ خان صاحب جیسا لیڈر نہ آج تک پاکستان کو ملا ہے اور نہ ہی کبھی ملے گا خان صاحب کے اور بھی بہت بڑی بڑی خدمات ہیں جو کہ ہر باشعور انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ان بڑے کارناموں میں سے ایک شوکت خانم میموریل ہاسپٹل ہے۔ سب عمران خان صاحب کا ساتھ دیں
    @usamajahnzaib

  • ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔  تحریر: آصف شاہ خان

    ابن عربی اور نظریہ وحدت الوجود۔۔ تحریر: آصف شاہ خان

    ہم میں سے بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ابن عربی اور لفظ وحدت الوجود کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ابن عربی کے کسی بھی تصنیف میں ہمیں وحدت الوجود کا لفظ نہیں ملتا ہے۔شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کیلئے پہلی بار لفظ وحدت الوجود ابن عربی نے نہیں بلکہ ابن تیمیہ رحیم اللہ نے استعمال کیا ہے۔ مشہور محدث ابن تیمیہ نے شیخ الاکبر ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ پر تنقید کے طور پر اس کو وحدت الوجود کا نام دیا تھا اور ابن عربی پر فتویٰ لگایا تھا۔
    شیخ الاکبر ابن عربی نے اپنی کتاب "فتوحات مکیہ” میں خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں ایک تصور پیش کیا ہے ، اس تصور کو ہم اگر آسان الفاظ میں بیان کرنا چاہے اس کی یہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا۔۔۔
    وجود باری تعالیٰ فلسفے کا ایک مسلہ ہے لہذا ہم ابن عربی کے اس فلسفے کو اصولوں کے مطابق بحث کرنے کی کوشش کریں گے۔ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ کو ہم غور سے دیکھیں تو اس کے مختلف معنوی پہلؤں نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو بڑا مشہور ہوگیا ہے وہ یہ پہلو ہے جس کو لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے ابن عربی پر تنقید کی ہے اور اس کو جواز بناتے ہوئے ابن عربی پر فتویٰ لگایا یے۔ یہ معنوی پہلو آج کل بہت عام بھی ہے زیادہ تر صوفیاء، ادباء اور علماء ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے یہ مطلب لیتے ہیں اور اس کو وحدت الوجود سے ہی یاد کرتے ہیں- وحدت الوجود کے ابن تیمیہ کا بیان کردہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کی اس بات کا کہ ایک حقیقی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ اس سے مراد ہے کہ سب مخلوقات اور سب چیزیں اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں یعنی سب واحد چیز ہے اور اس سے مراد لیتے ہوئے ابن تیمیہ نے اس کو وحدت الوجود کا نام دیا جس کا مطلب ہے کہ سب ایک ہی وجود ہے۔ اگر ہم اس پہلو کو دیکھ لے تو یہ پہلو نظریہ حلول کے طرح نظر آتا ہے یا یوں سمجھئے کہ یہ نظریہ حلول کی ایک شکل ہے۔ اور نظریہ حلول کو اگر غور سے پڑھ لیا جائے تو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کا مکمل مخالف نظر آتے ہیں اور تقریباً تمام ائمہ، فقہاء اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نظریہ حلول ایک کفریہ نظریہ ہے۔ لیکن جہاں تک بات ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ ہے اس کے اور بھی پہلوؤں ہیں اور ان پہلوؤں میں ایک زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے اگر ہم اس کو فلسفے کے اصولوں کے مطابق دیکھ لے۔ ابن تیمیہ کے علم اور اس کی نیت پہ ہم کسی قسم کا شک تو دور کے بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ اس کی نیت خراب یا علم میں کمی تھی لیکن ہاں ہم فلسفے کے مسئلے میں ان کے سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ یہاں اختلاف سے مراد یہ نہیں کہ ابن تیمیہ کی بات غلط ہے لیکن یہاں اختلاف سے مراد یہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ فلسفے کا مسلہ ہے اور فلسفے کے مسئلے میں اس نے جس معنوی پہلو کا انتخاب کیا ہے وہ تو اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن ابن عربی کا اس تصور سے یہ مطلب نہیں تھا کہ سب ایک وجود ہے۔ اس بات کو ٹھیک ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس کچھ دلائل ہیں جس کو لے کر فلسفے اور عقلی طریقوں سے ہم ثابت کرسکتے ہیں۔
    سب سے پہلی بات ابن تیمیہ نے ابن عربی کے وفات کے بعد یہ فتویٰ دیا تھا تو لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی نے اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ اس کے انکار کے آثار ہیں کیونکہ اس وقت وہ زندہ ہی نہیں تھے۔ اور دوسری بات اس نظریے کے وہ پہلو زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے وہ پہلو یہ ہے کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ میں ایک حقیقی وجود سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم سب اللّٰہ کے وجود کا حصہ ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اللّٰہ کے علاؤہ ساری چیزیں فانی ہیں صرف ایک اللّٰہ کا وجود ہے جو حقیقی ہے اور نہ ختم ہونے والا ہے۔ اس کے سوا تمام اشیاء کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور جب اس کے کوئی حثیت نہیں حقیقت نہیں تو پھر اس کا زکر ہم کیوں کرے اس لئے ابن عربی یہ لکھتا ہے کہ ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللّٰہ تعالیٰ کا باقی سب کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے ہیں ۔ اس پہلو کو ہم اگر عقلی دلائل سے وضاحت کرنا چاہئے اور فلسفے کے اصولوں کے مطابق بحث کرنا چاہئے تو کچھ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ تصوف محبت کا اعلیٰ درجہ ہے جس میں انسان کی محبت کسی چیز یا انسان سے بڑھ کر اللّٰہ کے لافانی وجود سے ہوجاتی ہے اور پھر اس کی سب پسند نا پسند اللّٰہ کے رضا کیلئے ہی ہو جاتی ہے اس کے اندر تکبر اور غرور ختم ہو جاتا ہے اس کے اندر یہ بات ختم ہو جاتی ہے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں یا ایسا آدمی ہوں وغیرہ اور اس میں وہ اتنا مگن ہو جاتاہے کہ اس کو اپنی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔ اس کو اپنا وجود تو نظر آتا ہے لیکن اپنے فانی ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کو اس کی کوئی حیثیت معلوم نہیں ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ یہ سوچتا ہے کہ جب کوئی حیثیت نہیں تو زکر کس لئے کروں۔ اس تصوف کے تصور کو اگر ہم ابن عربی کے نظریے کے ساتھ موازنہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ بھی ہمیں یہی بات فلسفے میں سمجھاتی ہے کہ حقیقی لافانی وجود اللّٰہ کا ہے باقی سب فانی ہیں۔ اس بات کو شرعی اصولوں سے بھی دیکھیں تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابن عربی کے تصور وجود باری تعالیٰ سے مراد یہ تھا کہ باقی وجودیں ہیں لیکن اس کے کو حیثیت نہیں کوئی حقیقت اور لافانیت نہیں لہذا اس کے ہونے یا نہ ہونے کے اقرار کا کیا فائدہ اس لیے اس وجود کا زکر کیا جائے جو حقیقت ہے ۔
    یہ مضمون میری زاتی تجزیے اور فکر پر ہے لہذا میں غلط ہوسکتا ہوں آپ لوگ میری سوچ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔

    __________________
    تحریر: آصف شاہ خان

    @Ibnepakistan1

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر:  آمنہ فاطمہ

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: آمنہ فاطمہ

    میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے سوشل میڈیا ایسی انسانی ایجاد ہے جس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اسکے فوائد سے ہر انسان مستفید ہو رہا ہے
    سوشل میڈیا کی بدولت میلوں کا سفر انسان کچھ سیکنڈز میں طے کر لیتا ہے جہاں لوگ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے سالوں انتظار کرتے تھے آج وہ واٹس ایپ,سکائپ,فیس بک, سنیپ چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی اپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے منٹس میں آنلائن ملاقات کر لیتے ہیں آپ گھر بیٹھے دنیا سے رابطے میں رہ رہے ہیں جہاں خبر نامے کا انتظار کیا جاتا تھا آج خبریں جاننے کے لیے کسی نیوز چینل کو لگانے کی تردد نہیں کرنی پڑتی آپ کہیں بھی کسی جگہ پر بھی موجود ہوتے ہوئے سوشل میڈیا سے گلوبل نیوز حاصل کر سکتے ہیں
    اب معلومات حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑتا او نہ ہی کتابیں چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے محض ایک لفظ گوگل پر لکھنے سے کیا کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اسطرح کم وقت میں زیادہ کام کیا جا سکتا ہے طلباء کو کسی بھی طرح کی انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے گھر بیٹھے فری لیکچرز یوٹیوب اور دوسری اپلیکیشنز پر میسر ہوتے ہیں حتیٰ کہ اب تو روزگار بھی آنلائن موجود ہیں نوکری کے حصول کے لیے جگہ جگہ دھکے نہیں کھانے پڑتے غرض کہ زندگی کہ ہر معاملے میں سوشل میڈیا کا کردار کہیں نہ کہیں موجود ہے
    اللّہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور جیسی صفات سے نوازہ ہے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے انسان نے ان صفات کا بہتر استعمال کرتے ہوئے آج چاند پر پہنچنے کی منازل بھی طے کر لیں دنیا میں ایجادات کی بھرمار کر دی ہے
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کو سوشل میڈیا پر آزادی رائے کا اختیار حاصل ہے مگر اس کا غلط استعمال کب کسی کے لیے دل آزاری کا سبب بن جائے کوئی نہیں جانتا
    جہاں سوشل میڈیا نے انسان کے لئے ترقی کی منازل طے کرنا آسان بنا دیا ہے وہیں انسان کی منفی سوچ اور غلط استعمال کی وجہ سے معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے
    کچہری میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں دوڑتا ہوا باپ اور بھائی اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ویسے انھیں آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ کورٹ میرج کر کے انکی بیٹی نے انہیں دنیا والوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جہاں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہے وہیں اسکے غیر ضروری استعمال سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں ہمارے بچے اور نوجوان گھنٹوں آنلائن گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ساری ساری رات سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال کرنا اور پھر ایسی موویز اور ویڈیوز دیکھنا جو کسی صورت انکو ایک اچھا انسان بننے میں مدد نہیں کر سکتیں, ماں باپ کو بچوں کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت ہے اورانٹر نیٹ کے صحیح وغلط استعمال کےمتعلق آگاہی دینا ضروری ہے
    ہمیں اس بڑھتی ہوئی برائی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا سدباب کرنا ہو گا تا کہ آئندہ نسلوں کو برائیوں سے پاک ایک خالص معاشرہ مہیا کیا جا سکے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کے منفی بہاؤ کی بجائے اس کے مثبت اثرات سے بہرہ ور ہوں آج کل کی جدید ایجادات کے مضر پہلوؤں سے خود بھی بچیں اور اپنی نسل کو بھی بچائیں

  • وزیراعظم عمران خان کا عوام سے ٹیلیفونک رابطہ   تحریر: محمد وسیم

    وزیراعظم عمران خان کا عوام سے ٹیلیفونک رابطہ تحریر: محمد وسیم

    ماضی میں بہت سے وزیراعظم گزرے ہے لیکن ہر ایک وزیراعظم جب اپنا عہدہ سنبھالتا ہے تو وہ عوام سے اس طرح دور ہوجاتے ہے کہ ان کا شکل کیا ان کی آواز بھی کوئ نہیں سنتا۔ جب سے عمران خان وزیراعظم بنا ہے تو ان کی یہی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو عوامی وزیراعظم بناۓ۔
    پاکستان میں چونکہ ہر وزیراعظم، صدر، اور یہاں تک کے عام وزیر کو بھی سیکورٹی کا مسلۂ ہوتا ہے اور اس وجہ سے ادارے انہیں اس طرح کلھم کھلا انہیں اجازت نہیں دیتی۔ عمران خان چاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی باہر کے ممالک جیسا سسٹم ہو لیکن وہ فلحال مشکل ہے ۔
    پاکستانی عوام کے مسائل کی اگر بات کی جاۓ۔ تو وہ ایک ٹیلیفون کال کیا ایک لاکھ ٹیلیفونک کال سے بھی نہیں حل ہوسکتے۔ ہر کسی کے ہزار مسلۓ ہے ایک گھنٹے کی کال پر 8 10 بندو‌ں سے بات ہوسکتی ہے ۔ اگر چہ یہ ایک اچھی کوشش ہے لیکن اس طرح عوام کے مسائل حل کرنا بہت مشکل ہے ۔
    اگر عمران خان عوام کیلۓ اچھا دل رکھتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن ٹیلیفونک کال سے عوام کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ اقتدار کے پانچ سال ہوتے ہے اگر اسی پانچ سالوں میں اداروں کو ٹھیک کیا جاۓ تو انہیں کالز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
    ہر وزیراعظم الیکشن سے پہلے وعدے بہت کرتے ہے اور بہت نعرے مارتے ہے لیکن اقتدار میں آتے ہی سارے دعوے اور نعرے بھول جاتے ہے اور عوام کو ایسے ہی چھوڑ جاتے ہے ۔ عوام کو اس وقت ٹیلیفون کالز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں ادارے ٹھیک کر کے دینے ہے جہاں پر عوام جا کے بغیر سفارش کے اپنا کام کرسکے۔ اس وقت اس ملک میں ہر جگہ رشوت اور سفارش سے کام چل رہا ہے جس کو ختم کرنا ہوگا۔ہمارے ملک میں چونکہ غربت زیادہ ہے تو اس وقت عوام کا ایک ہی مسلۂ ہے اور وہ مہنگائ ہے ۔
    پارلیمان میں بیٹھے لوگ مفت میں تنخوا لے رہے ہے اور عوام کے پیسوں سے مفت سرکاری وسائل کا استعمال کررہے ہے۔ عوامی نمائندوں کو چاہئیے کہ وہ عوام کے مسلۓ سنے اور اسے حل کریں۔ اگر ایم این ایز اور ایم پی ایز عوام کے مسائل نہیں سن سکتے تو وہ عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرکے الیکشن کیوں لڑتے ہے ؟
    میں نے ممالک دیکھے ہے جہاں صدارتی نظام ہے اور کئ ممالک دیکھے ہے کہ جہاں جمہوری نظام ہے اور دونوں کا موازنہ کرکے میں اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ جس ملک میں صدارتی نظام ہے وہاں کے عوام بہت خوش ہے۔ یہاں ہمارے ملک میں تو دھاندلی کرکے بدمعاش اور عیاش لوگ ہمارے حکمران بن جاتے ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ایسے حکمران آتے ہے تو عوام کی چینخے نکل جاتی ہے۔ یہاں ہر کسی کے ہزار مسلۓ ہے ہر کوئ بےایمانی، کرپشن، بےروزگاری، اور مہنگائ سے تنگ ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک انہوں نے چار دفعہ ٹیلی تھون کیا ہر بار میں عوام انہیں مسائل کے انبار لگادیتے ہے جس کا عمران خان بہت اچھے طریقے سے جواب دیتا ہے اور انہیں حوصلہ بھی دیتے ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ عوام کے مسائل سننے اور حل کرنے کا کیا یہی طریقہ ہے ؟کیا اب وزیراعظم ہی یہی کام کریگا؟ مجھے غیرت ہوتی ہے کہ میرے ملک کے عوام ابھی تک کیوں سو رہے ؟ کیوں وہ ایک سہی بندے کو ووٹ نہیں دیتے اوو جا کے اپنا ووٹ پیسوں پر دے کے آتے ہے اور بڑی فخر سے کہتے ہے کہ ہم نے بھی اپنا ووٹ ڈال دیا۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان کی سوچ بہت اچھی ہے اور وہ بہت اچھا سوچ رکھتے ہے اس ملک کیلۓ۔ ہم اللہ س دعاگو ہے کہ وزیراعظم خان کو ہمارے لئیے اچھا لیڈر بناۓ اور اگر وہ اپنے عوام کا سوچتے ہے تو انہیں ہمت عطا کریں کہ وہ اس عوام کیلۓ کچھ اچھا کرسکے۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370