Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اللہ تعالٰی کی نعمت اولاد   تحریر  : راجہ ارشد

    اللہ تعالٰی کی نعمت اولاد تحریر : راجہ ارشد

    اولاد ہمیشہ انسان کی کمزوری رہی ہے۔
    اولاد نہ ہو تو انسان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اولاد میں صرف بیٹیاں ہوں تو اپنی قسمت کو کوسنے لگتا ہے۔ صرف بیٹے ہو تو بیٹی کے لیے آنکھیں ترسنے لگتی ہیں۔اگر اولاد نافرمان ہو تو انسان جیتے جی خود کو زندہ درگور محسوس کرتا ہے۔

    اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اولاد کو انسان کے لیے آزمائش سے تبعیر کیا ہے۔اولاد نالائق ونافرمان ہو تو انسان کے لیے اس سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی ہے۔اور اگر سرے سے اولاد ہی نہ ہو تو پھر بھی انسان پل بھر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔

    اللہ رب العالمین کی آخری کتاب قرآن مجید میں جابجا اس بات کا تذکرہ موجود ہے ۔کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے۔ سورہ انعام میں فرمان الٰہی ہے کہ اس دنیا میں کسی درخت کا ایک پتا بھی اس کے حکم کے بغیر زمین پر نہیں گرتا۔

    اللہ تعالٰی زمین و آسمان کی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ ہر زی روح کے پیدا ہونے سے مرنے تک اس کے ہر معاملے کا اسے علم ہوتا ہے۔ حتی کہ پتھر کے اندر کیڑے کے حالات سے بھی باخبر ہوتا ہے اور اس کے رزق کا انتظام کرتا ہے۔جب اللہ تعالٰی کی ہمہ گیر حاکمیت کا یہ معاملہ ہو تو پھر انسان جسے قرآن مجید میں ناشکرا اور اس طرح کے دیگر لقابات سے نوازا گیا ہے۔ وہ کتنی ڈھڈئی کے ساتھ اپنے اور اس دنیا کی ہر چیز کے خالق ومالک کو چھوڑ کر اولاد جیسی نعمت کے حصول کے لیے اس کے در پر حاضر ہونے کے بجائے شیطان کے ورغلانے پر جگہ جگہ قبروں اور مزاروں پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ وہ جو خود بے بس و لاچار ہیں۔ جو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت کے امیدوار ہے وہ اسے کیا دیں گے۔

    اللہ تعالٰی جسے اولاد نہ دینا چاہے تو ہزار جتن کر لے اسے اولاد نصیب نہیں ہوتی اور جسے اولاد دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر بانجھ اور عمر رسیدہ عورتوں کی گود بھی ہری کر دیتا ہے۔ یہ شان بے نیازی اللہ رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے۔ہمیں ہر حال میں ہر معاملے میں اپنے خالق ومالک ہی سے مانگنا چاہیے۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    عورت کا مقام تحریر:شعیب خان

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے سازسے ہے زندگی کا سوزِدروں

    دین اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت و رسواٸی اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی و نجات کا پیغام تھی۔ دین اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا خاتمہ کردیا ،جو عورت کے انسانی وقار کو بری طرح سے متاثر کرتا اور عورت کو وہ حقوق و فرائض عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و احترام کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق صرف مرد حضرات ہوا کرتے تھے ۔

    اسلام سے قبل عورتوں کو زندہ زمین میں گڑھ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے آنے اس عورت ذات اس رسم و رواج سے نجات ملی ،اللہ نے تخلیق کے درجے میں بھی عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ اور اسی طرح ﷲ کے اجر کے استحقاق میں مرد و عورت دونوں برابر حقدار ہیں ۔

    قرآن کریم اور احادیث میں عورتوں کے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے. اسکے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کی جائے، احسن سلوک کیا جائے اسکے ساتھ ساتھ اس کے ظریف اور نازک وجود کی تعریف کی گئی ہے

    قرآن مجید میں اللہﷻ کا ارشاد ہے:

    اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ،سورت النساء

    دین اسلام کی وجہ سے عورت کو وہ حقوق و فراٸض بھی ملے جو زمانہ جہالیت میں نہیں ملا کرتے تھے اسلام نے تو عورت کے لئے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن مرد کو بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت سے سرفراز فرمایا۔اسلام نے عورت کو چاروں روپوں میں اسکے حقوق و فرائض دٸیے ہیں جو جہالیت کے زمانے میں دینا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا ۔

    آپﷺ نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا، عورت کو بحيثيت بہن وراثت کا حقدار ٹھہرایا ، اسی طرح عورت بطور بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اس کی تربیت و تعلیم اور احسن طریقے پرورش کرنے پر جنت کا ضامن بنایا۔ عورت کو بطور بیوی اپنے شوہر کا لباس بنایا ہمارا نبی اکرمﷺ نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی اسکے نان و نفقہ کا حقدار مرد کو بنایا

    آج کی عورت ہی دین اسلام کے بقاء اور تحفظ کو بقائے دوام عطاء کر سکتی ہے۔ آج کی عورت کو قرون اول کی عورت کی طرح اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرے کا ایسا نمونہ پیش کرنا ہوگا جسے نئی نسل کو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سرخروئی حاصل ہو۔ اور اگر آج کی عورت کو یہ کوشش بارآور ہو جائے تو وہ نہ صرف ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت انجام سرانجام دےگی بلکہ دین اسلام کی بھی خدمت انجام دے گی کیونکہ
    دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق و فرائض بھی متعین کردیئے جن کی بدولت عورت معاشرے میں پرسکون زندگی بسر کر سکتی ہے!!

    اللہ آپکا حامی و ناصر ہو ، آمین

    ‎@aapkashobi

  • ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟         تحریر: آصف گوہر

    ‏یکساں قومی نصاب پر اعتراضات کیوں؟ تحریر: آصف گوہر

    نصاب سے مراد کسی درجہ کے لئے مختلف مضامین کا مجموعہ جو کہ طلباء کو پڑھا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا
    نصاب سازی کے عمل میں ماہرین تعلیم ریاست کے وضع کردہ رہنما اصولوں کی مدد سے ایسا علمی مواد مرتب کرتے ہیں جو کہ کسی درجہ تک کی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کا تعین کرتا ہے ۔
    ملک خدا دا میں طبقاتی تقسیم کی جھلک تعلیمی اداروں میں پڑھانے جانے والے نصاب میں بھی سرایت کر چکی تھی موجود حکومت پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ملک میں جاری طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے گا اور وزیراعظم عمران نے اقتدار میں آنے سے قبل ہمیشہ ملک میں جاری مختلف طبقاتی نظاموں پر تنقید کی اور اس پر زور دیا کہ ملک میں غریب اور امیر طبقے کے بچوں کے لئے یکساں نصاب ہونا چاہیے ۔ وزارت اعظمی سنبھالنے ہی وفاقی وزارت تعلیم کو یکساں نصاب کی تیاری کی ہدایت دی۔ جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بڑی محنت کے ساتھ تمام صوبائی وزراء تعلیم اور صوبائی حکومتوں کو یکساں نصاب پر قائل کیا اور ملک کے ماہرین تعلیم پرائمری سطح کے ماہر اساتذہ والدین پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ایجوکیشنل ریسرچر چائیلڈ سیکالوجسٹ
    اور ہر مضمون کےماہر افراد پر مشتمل کمیٹی نے کئ ماہ کی عرق ریزی کے بعد مجوزہ مسودات صوبائی وزراء تعلیم کی کمیٹی میں پیش کئے ۔ جس پر صوبوں نے اپنی کمیٹیوں سے سفارشات لیں ۔پنجاب میں بھی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ پنجاب کی ماہرین تعلیم کی کمیٹی بنائی جس نے ان مسودات پر نظر ثانی کی پنجاب کے پرائیویٹ سکولز انتظامیہ کو آن بورڈ لیا گیا اور بڑی طویل مشاورت اور محنت کے بعد وفاق کی تمام اکائیاں پرائمری سطح کے یکساں قومی نصاب پر متفق ہوگئیں جو کہ بہت بڑی کامیابی اور خوش آئندہ بات تھی ۔ اب جبکہ یہ یکساں قومی نصاب نئےتعلیمی سال کےلئےطلباء میں تقسیم کیا جا رہا ہے تو کچھ مخصوص نام نہاد تجزیہ کاروں نے اس پر طرح طرح کےاعتراضات شروع کر دیاان میں ایک موصوفہ کو اعتراض ہےکہ انگلش کی کتاب میں وطن پرستی کی نظم اور اسلامی تہوارعید الاضحی بارےاسباق شامل کیوں کئےگئے
    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محترمہ نے آج سے قبل کبھی پبلک سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو دیکھا تک نہیں کیوں کہ جن اسباق پر اعتراض کیا گیا ہے وہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ایک مدت سے پڑھائے جا رہے ہیں ۔ ایک موصوفہ کو یہ اعتراض ہے کہ واقفیت عامہ کی کتاب اردو زبان میں کیوں مرتب کی گئ ۔ کیا امریکہ برطانیہ جرمنی فرانس اور چین میں کیا کسی غیر ملکی زبان میں پرائمری تعلیم دے جاتی ہے یا اس ملک کی قومی زبان میں ؟
    اس وقت قومی یکساں نصاب پر اعتراض وطن پرستی اور اسلامی مواد پر ہے لیکن اصل تکلیف اس بات پر ہے کہ یکساں قومی نصاب کے نفاذ کے سہرا عمران خان اور تحریک انصاف کے سر کیوں باندھا جا رہا ہےاور وفاق کی تمام اکائیاں کو متفق ہورہی ہیں ۔ان قوتوں کا مقصد تو پاکستانی قوم کو تقسیم در تقسیم کرنا تھا ۔
    پاکستان کےقیام میں مذہب اسلام سب بڑا محرک ہے ۔پاکستانیوں کا قومی نظریہ اسلام کے سنہری اصولوں سے مزین ہے اور یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ پاکستان کا قومی نظریہ اصل میں اسلامی نظریہ ہی ہے ۔ اس لئے لازمی سی بات ہے کہ پاکستان میں پرھائے جانے والے نصاب میں اسلامی طرز معاشرت اکابرین کی زندگیوں پر روشنی اور اسلامی تہواروں کا ذکر خیر ہی آئے گا۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں پرائمری سطح پر میں 2 اگست سے باقاعدہ یکساں قومی نصاب کا نفاز کر دیا گیا ہے جس پر والدین اور تعلیمی ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ‎@Educarepak

  • ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ایف آئ آر اور قانونی پہلو !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہمارے معاشرے میں جہاں نفسا نفسی کا دور ہے وہیں ہر بندہ جلد بازی کے چکر میں رہتا ہے ،کوئ امیر ہونا چاہتا ہے تو وہ بجائے محنت کرنے کے سوچتا ہے کہ میں بس کسی طریقے سے جلدی امیر ہوجاوں پھر وہ یقینن جلدی امیر ہونے کے چکر میں غلط کاموں میں پڑجاتا ہے جس سے اسے شائد کچھ وقتی فائدہ ہو لیکن آخرکار ایسی جگہ پھنستا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئ راستہ نہیں بچتا ،اسی طرح ہمارے ملک میں لوگ انصاف کے حصول کے لئے بھی بہت جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بس میں عدالت پہنچوں تو جج صاحب میرے حق میں فیصلہ دیئے بیٹھے ہوں
    اسی جلد بازی کے چکر میں اور جن سے دشمنی ہوتی ہے ان کو ذیادہ سے ذیادہ نقصان پہنچانے کے ارادے سے وہ سب سے پہلی غلطی FIRدرج کرواتے وقت کر بیٹھتا ہے
    ایف آئ آر کا یہ اصول ہے جتنی سوچ سمجھ کر اور اصل حقائق ،اور فوری طور پر درج کروائ جائے ،جن ١/٢ لوگوں نے آپ کو نقصان پہنچایا صرف ان کے نام اور بلکل سچے حقائق درج کروانے چاہئیں ،ہمارا جھگڑا کسی ایک بندے سے ہوتا ہے ایف آئ آر میں اس کے مامے،چاچے،تایا،دوستوں ،رشتیداروں سب کے نام دیتے ہیں تاکہ ان کو ذیادہ سے ذیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے حالانکہ معاملہ عدالت جانے کے بعد کافی حد تک اس کے الٹ ہوجاتا ہے
    ایک بات رکھیں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے
    آپ ایف آئ آر میں جتنی من گھڑت کہانیاں لکھیں گے اتنا ہی آپ کا نقصان ہے
    پہلے تو کسی بھی معاملے پر تمام اصل حقائق اور آپ سے جو ذیادتی ہوئ وہ لفظ بہ لفظ درج کروائیں
    کئ بار ایسا ہوتا ہے آپ کے سامنے والی پارٹی بڑی اثر رسوخ والی ہے تو پولیس آپ کی ایف آئ آر درج نہیں کرتی یا ٹال مٹول سے کام لیتی ہے تو آپ فوری طور عدالت جاسکتے ہیں اور عدالت حکم جاری کرے گی کہ ان کی ایف آئ آر درج کی جائے
    ایف آئ آر کے بعد اگر جرم قابل ضمانت ہیں تو کئ لوگ فوری اپنی ضمانت کروالیتے ہیں ،ضمانت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ملزمان عدالت سے بری ہوگئے
    اس موقع پر آپ نے ہمت نہیں ہارنی ہوتی اور نا ہی مایوس ہونا ہے بلکہ صبر سے کام لیں اپنے موقف پر جو کہ سچائ پر مبنی ہو پر ڈٹے رہیں تو یقینن آپ کو انصاف ضرور مل کر رہے گا
    کوشش کریں ایف آئ آر درج کرواتے وقت کسی وکیل کو اپنے ساتھ لے جائیں یا درخواست اس سے لکھوالیں تاکہ وہ تمام قانونی پہلووں سے آپ کی بہتر طریقے سے مدد کرسکے ،کیونکہ
    کئ بار کیس کمزور کرنے کے لئے پولیس ایف آئ آر کو کافی کمزور بنادیتی ہے جس کا بھی نقصان یقینن آپ کو ہی بھگتنا پڑتا ہے
    پھر کورٹ میں سارا معاملہ پولیس انویسٹیگیشن /پراسیکیوشن ،گواہاں اور ثبوتوں کی بنیاد پر چلتا ہے
    اور ظاہر سی بات ہے عدالتوں میں ہزاروں کیسز ہوتے ہیں اس لئے ہر کیس چند دنوں میں حل ہونا بہت مشکل ہوتا ہے اس کے لئے حکومت کو عدالتوں /ججز کی تعداد میں یقینن اضافہ کرنے کی ضرورت ہے
    جلد بازی سے ہرگز کام لینے کی کوشش نا کریں
    اگر آپ کا کیس جائز ہے سچ پر مبنی ہے تو تھوڑی دیر ہی سہی انصاف آپ کو ضرور ملے گا

  • ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے  تحریر: محمد معوّذ

    ‏اللّٰه تعالیٰ کا تقرب کیسے حاصل ہوتا ہے تحریر: محمد معوّذ

    عقل و دانش کا امتحان آپ میں سے بعض لوگ تو ایسے سیدھے سادھے ہوتے ہیں جو ہر کس و ناکس کو دوست بنا لیتے ہیں ، اور کبھی دوست بناتے وقت آدمی کو پرکھتے نہیں کہ وہ واقعہ میں دوست بنانے کے قابل بھی ہے یا نہیں ۔ ایسے لوگ دوستی میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں اور بعد میں ان کو بڑی مایوسیوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ لیکن جوعقل مند لوگ ہیں وہ جن لوگوں سے ملتے ہیں ان کو خوب پرکھ کر ہرطریقے سے جانچ پڑتال کر کے دیکھتے ہیں ، پھر جو کوئی ان میں سے سچا مخلص ، وفادار آدمی ملتا ہے صرف اسی کو دوست بناتے ہیں ، اور بے کار آدمیوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں ۔
    اللّه تعالی سب سے بڑھ کرحیم ودانا ہے ۔ اس سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ہر کس و ناکس کواپنا دوست بنا لے گا ، اپنی پارٹی میں شامل کر لے گا اور اپنے دربار میں عزت اور قربت کی جگہ دے گا ۔ جب انسانوں کی دانائی و عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بغیر جانے اور پرکھنے کسی کو دوست نہیں بناتے تو اللّٰه ، جو ساری دانائیوں اور حکمتوں کا سرچشمہ ہے ، ناتمکن ہے کہ وہ جانچنے اور پرکھنے کے بغیر ہر ایک کو اپنی دوستی کا مرتبہ بخش دے ۔ یہ کروڑوں انسان جو زمین پر پھیلے ہوئے ہیں ، جن میں ہر قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں ،
    اچھے اور برے ، سب کے سب اس قابل نہیں ہو سکتے کہ اللّٰه کی اس پارٹی میں ، اس حزب اللّٰه میں شامل کر لیے جائیں جیسے اللّٰه تعالیٰ دنیا میں اپنی خلافت کا مرتبہ اور آخرت میں تقرب کا مقام عطا کرنا چاہتا ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کمال درجہ حکمت کے ساتھ چند امتحان ، چند آزمائشیں ، چند معیار جانچنے اور پرکھنے کے لیے مقرر کر دیے ہیں کہ انسانوں میں سے جو کوئی ان پر پورا اترے ، وہ تو اللّٰه کی پارٹی میں آجائے اور جو ان پر پورا نہ اترے خود بخود اس پارٹی سے الگ ہو کر رہ جائے ، اور وہ خود بھی جان لے کہ میں اس پارٹی میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہوں ۔
    یہ معیار کیا ہیں ؟ اللّٰه تعالیٰ چونکہ حکیم و دانا ہے اس لیے سب سے پہلا امتحان وہ آدمی کی حکمت و دانائی کا ہی لیتا ہے ۔ یہ دیکھتا ہے کہ اس میں سمجھ بوجھ بھی ہے یا نہیں ؟ نرا احمق تونہیں ہے ؟ اس لیے کہ جاہل اور بے وقوف کبھی دانا و حکیم کا دوست نہیں بن سکتا ۔ جو شخص اللّٰه کی نشانیوں کو دیکھ کر پہچان لے کہ وہی میرا مالک اور خالق ہے ، اس کے سوا کوئی معبود،کوئی پروردگار، کوئی دعائیں سننے والا اور مدد کرنے والانہیں ہے ، اور جوشخص اللّٰه کے کلام کو سن کر جان لے کہ یہ میرے مالک ہی کا کلام ہے کسی اور کا کلام نہیں ہوسکتا ، اور جوشخص سچے نبی اور جھوٹے مدعیوں کی زندگی ، ان کے اخلاق ، ان کے معاملات ، ان کی تعلیمات ، ان کے کارناموں کے فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھے اور پہچان جاۓ کہ نبوت کا دعوی کرنے والوں میں سے فلاں ذات پاک تو حقیقت میں خدا کی طرف سے ہدایت بخشنے کے لیے آئی ہے ، اور فلاں دجّال ہے ، دھوکا دینے والا ہے ۔ ایسا شخص دانائی کے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے ، اور اس کو انسانوں کی بھیڑ بھاڑ سے الگ کر کے اللّٰه تعالیٰ اپنے پارٹی کے منتخب امیدواروں میں شامل کر لیتا ہے ، باقی لوگ جو پہلے ہی امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جدھر چاہیں بھٹکتے پھریں ۔

    ‎@muhammadmoawaz_

  • مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں      آرمی چیف

    مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں-

    باغی ٹی وی : ڈی جی آئی ایس پی آر کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یوم استحصال کے حوالے سے سلسلہ وار ٹوئٹس کی گئیں ٹوئٹر پیغام میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر امن ممکن نہیں جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیرانسانی فوجی محاصرہ جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلی کی جا رہی ہے۔


    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی بحران پیدا ہو چکا ہے۔

    کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہماری رگوں میں ایک ہی خون دوڑتا ہے فواد چوہدری

    انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تنازعہ کشمیر کا حل ضروری ہے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال نے علاقائی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔


    آرمی چیف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی جبر جاری ہے کشمیر کے تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

  • عشق تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    عشق تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

     عشق محبت میں تجاوز کرنے کو کہتے ہیں
     یعنی جب محبت شدت احتیار کر لے اور قوی ہوجائے تو اس کو عشق کہا جاتا ہے ۔
     محبت کی انتہاء عشق ہے اور محبت دراصل میں ” طبیعت کا کسی سے شے کی طرف مائل ہونا ، اس سے لذت حاصل
    “کرنا اور اسکو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا نام محبت ہے
    اور جب یہ میلان پختہ اور قوی ہو جائے اسکو عشق کہتے ہیں
    “عشق دراصل محبت کا آخری درجہ ہے”
    عشق جب ہو جائےتو پھر اسکی کوئی انتہا نہیں رہتی ہے

    بقول شاعر ۔۔!۔
    تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں میری
      میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

    عشق ایک ایسی بیماری ہے جو جس کو لگ جاتی ہے پھر وہ بیمارِ عشق اس کی شفاء نہیں چاہتا بلکہ وہ اس بیماری میں مزید ترقی چاہتا ہے۔
    یہ بیماری تمام بیماروں سے جدا ہے۔ کیونکہ جب کوئی دوسری بیماری لاحق ہوتی ہے تو بیمار کو مرنے کا وہم رہتا ہے وہ اس کا علاج  کرواتا ہے ۔ اپنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے دعائیں مانگتا ہے لیکن یہ واحد بیمار ہے جس میں بیمار مزید ترقی کےلیے دعائیں مانگتا ہے۔

    ایک اللہ والے نے عشق کے متعلق فرماتے ہے کہ:۔
    عشق اک ایسا دریا ہے جس کی انتہا نہیں اور نہ کوئی اسکی کی گہرائی اور تہہ تک پہنچ سکتا ہے ، جس نے اس دریا میں غوطہ لگایا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں سیر کرتا رہے گا اور ہر گھڑی نیچے ہوتا جائے گا اس کا اوپر ابھرنے کا کوئی امکان نہیں اس کا نہ کبھی پتہ چلے گا اور نہ کبھی وہ دریا کی گہرائی تک پہنچے گا اور جسکو معشوق تک پہنچنے کے بعد قرار آ گیا اسے عشق نہ سمجھو اسے  ”ہوس“  کہو۔   عشق وہ ہے کہ جتنا معشوق سے قربت ہوتی جائے اور اس سے میل جول بڑھتا جائے عشق کی آگ تیز تر ہوتی جائے۔
    (اللہ کے عاشقوں کی عاشقی کا منظر  ص ٢٧)

     عشق دو طرح کے ہیں ایک کو عشقِ مجازی اور دوسرے کو عشقِ حقیقی کہتے ہیں
    دل سے غیراللہ کو خالی کر کے اللہ کی یاد بسانے کا نام عشق حقیقی ہے۔  اور دل میں غیر اللہ کی یاد بسا کر اللہ کی یاد سے غافل ہو جانے کا نام عشقِ مجازی ہے۔
    عشق مجازی حرام ہے اور اللہ کا عذاب ہے ۔جس میں پڑھ کر انسان اپنی دونوں جہانوں کی زندگی تباہ و برباد کر دیتا ہے نہ وہ دنیا کی زندگی میں چین، سکوں، راحت حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی زندگی میں چین، سکوں، راحت مل سکے گا۔
    کیونکہ جو عاشق ہوتا ہے اس کا دل ہر وقت یادِ معشوق میں رہتا ہے اپنے معشوق کی یاد سے ذرا بھی غافل نہیں رہتا اس کو ہر جانب اپنا معشوق ہی نظر آتا ہے اور اس وجہ سے وہ یاد خدا سے غافل ہو جاتا ہے خدا کی یاد اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔

    کسی نے مجنوں سے پوچھا۔۔۔! کہ
    تمھارا نام کیا ہے ۔؟  ”بولا لیلی“ ۔
    کسی نے کہا کہ لیلی مر گئی ۔ اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔؟
    وہ تو میرے دل میں ہے ، میں ہی لیلی ہوں

    آج کل کتنے عاشق  ، مجنوں اپنے دلوں میں اپنی اپنی لیلی کا چہرہ بسائے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں  اور اپنے دلوں کو یادِ خدا سے غافل کیا ہوا ہے جس خدا نے ان کو زندگی دی ماں کے پیٹ میں نو ماہ حفاظت کے ساتھ رکھا اور پھر اس اندھیرے سے نکال کر دنیا کے روشنی میں لایا اور عنقریب ایک وقت آنے والا ہے کہ دنیا سے رخصتی ہونا ہے اور قبر کے پیٹ میں چلے جانا ہے وہاں دل کی بات زبان پر جاری ہوگی ۔

    ترجمہ:۔
       اور سینوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کیا جائے گا
    (سورت العادیات)

    جو لوگ عشق مجازی میں مبتلا ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
    اک اللہ والے فرماتے ہیں کہ عشق مجازی اک عذاب ہے اگر کسی کو مردود کرنا ہو تو اللہ اس کو عشق مجازی میں مبتلا کر دیتا ہے
    ایک بہت بڑے اللہ والے تھے چالیس سال تک ایک مسجد میں موذن رہے مسجد میں آذانیں دیتے رہے اک دفعہ آذان دے رہے تھے اور مسجد کے پہلو میں ایک عیسائی کا گھر تھا اور چھت سے اس کی بیٹی کو دیکھ لیا بس اس کی عشق میں مبتلا ہو کر اس کے گھر چلے گئے 
    اور اسی کے عشق میں پہلے اسلام چھوڑا اسی کے کہنے پہ خنذیر کا گوشت کھایا اور شراب پی اور اس کے نشہ میں چھت پہ چڑھا اور وہاں سے گھر کر مردار کی موت دنیا سے چلے گے۔

    اس کے بر عکس عشق حقیقی رحمت اور اللہ کا خصوصی انعام ہوتا ہے۔
    غیر اللہ کو اپنے دل سے نکال کر اپنے رب کی یاد کو دل میں بسانے کا نام عشق حقیقی ہے۔
    اللہ اپنے خاص بندے کو اس  نعمت سے نوازتے ہیں ۔ اللہ کا اپنے ان بندوں پر خصوصی کرم ہوتا ہے کہ اپنی محبت کا خزینہ ان کو دیا ہے ۔
    اپنی نفسیانی خواہشات کو اللہ کے لیے ترک کرنا اور  ہر حال میں اپنے اللہ کے حکم کو پورا کرنے کا نام عشقِ الہی ہے۔
     ترجمہ :
    “اور جو ایمان لانے والے ہیں وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں”
    (القران)
     اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے عاشق اللہ کو ہر حال میں چاہتے ہیں۔  ہر حال میں ان کے دل و زبان پر یادِ الہی رہتی ہے۔ 
     حضرت بلال رض ایسے عشق ِ حقیقی اور حبیبی مستفرق تھے کہ امیہ بن خلف اور اس کے آدمی  ان پر بہت ظلم کیا کرتے دوپہر کے وقت ان کو تپتی ہوئی ریت پہ لٹایا جاتا اور سینے پر بڑا پتھر رکھا جاتا تانکہ یہ ہل نہ سکے اور ان کے اردگرد آگ لگا دی جاتی اور ان کے جسم کو نوکیلے کانٹے سے نوچتے تھے ۔  تیز  آگ کی تپش کی وجہ سے حضرت بلال رض کا کلیجہ منہ کو آ جاتا اور کافروں کی چاہت تھی کی وہ اپنے دین سے ہٹ جائیں ان سے ایک ہی سوال کرتے بتا تیرا رب کون ہے ؟
    جواب میں آپ رض  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!۔
    احد ۔۔۔۔۔۔۔۔احد ۔۔۔۔۔احد۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا مستانہ نعرہ لگاتے تھے۔۔
    اللہ کے ہاں  پھر ان کا ایسا مقام بنا کہ مکہ کی گلیوں میں چلتے تھے  اور قدموں کی آہٹ عرش پہ سنائی دیتی تھی۔ جو شحض عشق الہی میں مبتلا ہو گا اللہ کی مدد اور نصرت ہمیشہ اس کے ساتھ ہو گی ۔  ہمارے جسم کے تمام اعضاء عشقِ الہی اور عشق ِ حبیبی  میں مبتلا ہوں ۔  یہ بیماری ہمارے سارے جسم میں پھیلی ہو۔ اس کے اثرات جسم کے ہر اعضاء پر ہوں ۔ ہماری آنکھیں عشق الہی میں مبتلا ہو ، ہماری زبان ،  ہمارے کان ، ہاتھ اور ہمارا دل  یعنی جسم کا ہر اعضاء عشق ِ الہی میں مبتلا ہو جائے۔ کان سے وہ سنیں جو اللہ کا حکم ہو وہ نہ سنیں جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہو۔ آنکھ سے وہ دیکھیں جس کا حکم ہو اور ہماری نظر ادھر نہ اٹھے جہاں پہ اٹھانے سے اللہ اور اللہ کے رسول نے منع کیا ہے۔۔
    فرمایا……!
       نظر شیطان کے تیروں میں سے اک تیر ہے جس چیز پہ پڑتی ہے اس کا عکس دل میں آ جاتا ہے۔
    اگر ہم اس کو غلط استعمال کریں گے تو غلط اور گندے قسم کے عکس ہمارے دل میں آئیں گے۔ اور جو جگہ گندہ ہو جائے وہاں پاک چیز نہیں رکھی جاتی تو دل میں خدا رہتا ہے اگر دل گندہ ہوا تو اللہ کی ذات دل میں کیسے آئے گی۔  اور  اپنے دل کو ہر وقت یادِ الہی میں ہمیشہ مشغول رکھنا چاہیے تانکہ کینہ ، بخض ، حسد جیسی مہلک بیماروں سے دل کو بچایا جائے۔ ۔
    جب ہم اللہ کی مان کر زندگی گزاریں گے  (عشقِ الہی)  تو ہماری دنیا بھی بنے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اللہ والے اک لمحہ بھی یاد الہی سے غافل نہیں رہتے اور ان کو اس میں سکون ملتا ہے۔

    کتنی تسکین ہے وابستہ تیرے نام کے ساتھ
    نیند کانٹوں پہ بھی آجاتی ہے آرام کے ساتھ

    عشق الہی جس کو عطا ہو جائے تو دنیا کی پھر ساری دولت ، طاقت ساری خوشیوں کو وہ ترک کر دیتا ہے۔ اس کو پھر دنیا کے غم میں بھی مزہ آتا ہے ۔ یہ عاشق بظاہر  غم زدہ  ہوں گے لیکن ان کے دلوں  میں سکون ہوتا ہے اور دنیا دار بظاہر خوشحال نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ان کے دل بے چین اور ٹوٹے ہوتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کو عشق الہی عطا کرے۔

    @EKohee

  • مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    مظلوم کی فریاد تحریر : بشارت حسین

    کہا جاتا ہے کہ مظلوم کے دل سے نکلی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔
    ظالم سماج ہر چہرہ دکھی ہے انسان ہی انسان کا دشمن بنا پھرتا ہے۔ دولت مند کی گردن غروروتکبر سے اکڑی ہوئی ہے سر اٹھا کر ایسے چلتے جیسے زمین پہ ہر شے انکی ماتحت ہے۔
    کہیں گاوں کا وڈیرہ سسٹم غریب کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے تو کہیں پولیس کے بھیس میں چھپی کالی بھیڑیں انسانیت سے عاری کمزور طبقے کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔
    کسی کو کوئی خوف خدا نہیں کسی کو یہ یاد نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے انکے مظالم کو۔ مظلوم کی فریاد کو مظلوم کے دل سے نکلے تیر کو جو کہ محو سفر ہے کب ظالم اور اسکی خوشیوں کے درمیان حائل ہو جائے معلوم نہیں۔
    سب کچھ بھولا ہوا ہے ہر سبق انسانیت کا بھولے ہوئے ہیں کچھ بھی نہیں یاد۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا انسانیت کا درس ہمارے پلے نہیں پڑا اس کو محض انکی زندگی کی خوبصورتی اور اعلی اخلاق کی تعریف تک محدود کر دیا۔
    اب کہاں جائیں وہ مظلوم؟
    کس سے اپنی فریاد کریں؟ کس کو اپنی آپ بیتی سنائیں؟ کس کو بتائیں کہ انکی بھوک کو کس طرح انکی کمزوری بنا کر ان سے نیچ کام کروائے گئے؟
    کہاں ہے وہ عدالتی نظام جس میں مظلوم کی دادرسی کی جاتی تھی۔ جہاں مظلوم کو انصاف ملتا تھا ظالم کو سزائیں دی جاتی تھیں۔ لوگ عبرت پکڑتے تھے ظالم ظلم کرنے سے ڈرتا تھا۔ اب معاشرے میں یہ خوف کہاں؟ اب تو آزادی ہے کچھ بھی کر لو سب بازار میں خرید و فروخت کی طرح بک رہا ہے انصاف بک جاتا ہے گواہ بک جاتے لوگوں کی خوشیاں، غم سب کی بولی لگ جاتی کوئی پوچھنے والا نہیں۔
    طاقتور اور دولت مند کو انصاف بھی ملتا ہے چھوٹیں بھی مل جاتی انکے قرضے بھی معاف ہو جاتے ہیں
    لیکن
    غریب کو کیا ملتا ہے تھانے کچہریوں کے چکر ؟
    پولیس کی جھڑکیں عدالتوں کے چکر لمبی تاریخیں اور آخر میں جب سب بک جاتا ہے تو عدم ثبوت کی بنا پر مجرم بری اور مظلوم کی عزت نیلام ہو جاتی ہے۔
    آخر ایسا کیوں اور کب تک؟
    والدین اپنی بچی کیلئے اچھا رشتہ تلاش کرتے ہیں بڑی چھان بین کے بعد رشتے طے ہوتے ہیں خوشیاں منائی جاتی ہیں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔ جہیز کیلئے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دی جاتی ہے بچی کو خوش دیکھنے کیلئے آنے والا وقت اس کا اچھا گزرے ہر چیز لائی جاتی ہے پیسے کم پڑ جائیں تو قرض لیا جاتا ہے حتی کہ کچھ اپنا قیمتی سرمایا مکان تک گروی رکھ دیا جاتا ہے بیچ دیا جاتا ہے۔
    لیکن جب شادی ہو جاتی ہے تو وہ لڑکی سسرال میں ایسے جاتی ہے جیسے کسی خطرناک جیل میں کوئی خطرناک قیدی پہنچ گیا ہو اسکی زندگی کو عذاب بنا دیا جاتا ہے خاموشی سے ظلم سہتی ہے والدین کو بھی پتا نہیں چلتا کہ بچی کو کس جانور سے باندھا ہے انھوں نے۔
    آنے والا کل اچھا ہو گا اس امید سے وہ اپنے دن گزارتی ہے رو لیتی ہے چھپ کر صبر کر لیتی ہے لیکن جب یہ ظلم بڑھ جاتا ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو آخر دل سے ایک آہ ایک تیر نکلتا ہے پھر اس قید خانے کا ہر باسی ہر ظالم اپنے انجام کی طرف جاتا ہے۔
    طاقتور طاقت کے نشے سے چور اپنے ظلم کی داستانیں رقم کر رہا۔
    سیاستدانوں کی اپنی بدمعاشیاں ہیں آخر مظلوم کہاں جائے پھر کس سے انصاف مانگے؟
    ظلم کا دورانیہ لمبا ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ظالم کو اللہ کی طرف سے چھوٹ نہیں ہو سکتی رسی ڈھیلی ہو سکتی ہے لیکن وہ دیکھتا ہے اور جب وقت آ جاتا ہے تو کھینچ لی جاتی ہے رسی پھر سب کچھ ڈھیر ہو جاتا ۔
    کمزور اور طاقتور سب کو اللہ نے پیدا کیا اس نے یہ سب انسان کی آزمائش کیلئے رکھا کون کس طرف چلتا ہے کون اپنی طاقت کا جائز استعمال کرتا ہے اور کون ناجائز استعمال کرتا ہے۔
    آخر طاقت ختم ہو جاتی ہے جب محتاج کر دیا جاتا ہے پھر سب سمجھ آ جاتی ہے لیں وقت گزر چکا ہوتا۔
    دولت، طاقت اور عہدے سب عارضی ہیں دائمی کچھ نہیں ہمیشہ رہنے والی ذات اللہ کی ہے انصاف اس کے ہاں نہیں بکتا نہ سفارشیں کام آتی ہیں نہ خاندانی برتریاں
    وہاں انصاف ہوتا ہے مظلوم کی اپنی جاتی ہے ظالم پکڑ میں آ جاتا ہے پھر سب یاد کروایا جاتا ہے جو بھولا ہوتا ہے۔
    اولاد جب نافرمان ہو جاتی ہے جوانی میں آ کر وہ اپنے خون کی گرمی کی وجہ سے یہ بھول جاتے ہیں کہ انکے والدین کا جسم کا خون انکی زندگی بناتے بناتے ٹھنڈا ہوا ہے جب والدین کو کہتے ہیں کہ تم نے ہمارے لیے کیا کیا تو پھر
    والدین کے دل پہ کیا گزرتی ہے کیسے وہ سنبھالتے ہیں خود کو؟
    برداشت کرتے ہیں وہ بچے کے اس ظلم کو بھی کہ کہیں ہماری آہ نہ لگ جائے لیکن جب برداشت ختم ہو جاتی ہے اور ظلم بڑھ جاتا ہے بات بات پہ ان کو طعنے ملتے ہیں رسوا کیا جاتا ہے تو آخر انکے حصے میں بھی یہ عذاب لکھ دیا جاتا ہے وہ بھی اپنے کیے کو بھگتنا شروع ہو جاتے ہیں
    کیوں کہ اب انکی زندگی میں والدین کی آہ کا تیر لگ چکا ہوتا ہے انکی خوشیوں میں ایک زہر آلودہ آہ شامل پو جاتی ہے۔
    زندگی انکیلئے بوجھل ہو جاتی ہے خوشیاں روٹھ جاتی ہیں
    پھر سمجھ آتی ہے لیکن دیر ہو جاتی ہے بہت دور ہو جاتا ہے سب کچھ بہت دور۔
    اللہ نے اگر دولت دے دی طاقت دے دی عہدہ دے دیا تو یہ سب اللہ کا انعام ہے اس کا شکر ادا کرو۔
    اس کا اصل شکر یہ ہے کہ اس کو اسکی مخلوق کی بھلائی کیلئے استعمال کرو
    نہ کہ مخلوق کو بتاو کہ میں ہی سب کچھ ہوں۔
    نہیں ایسا نہیں سب کچھ اللہ کا ہے اس نے جس کو دیا آزمانے کیلئے دیا وہ لے بھی سکتا کسی اور کو بھی دے سکتا ہے
    بس جب تمہیں دیا تو پھر یاد رکھنا کہ وہ لوگوں کی آہوں کا سبب نہ ہو بلکہ دعاوں کا سبب
    Live_with_honor @

  • سفر نامہ   تحریر: اسامہ اسلام

    سفر نامہ تحریر: اسامہ اسلام

    یہ تقریباً سن 2015 کی بات ہے. رمضان کا مہینہ ختم ہونے والا تھا .سب لوگ عید کی تیاریوں میں مگن تھے. ہم نے تو اپنی تیاری مکمل کر لی تھی لیکن جو مشکل کام تھا وہ رہتا تھا اور وہ کام تھا یہ فیصلہ کرنا کہ عید میں گھومنے کہاں جائینگے.
    میں اور میرے دوست فرمان جنہیں ہم پیار سے "مانے” بلاتے ہیں اور عابد جس کا لقب "گل” ہے ,ہر وقت بیٹھے مشورے کرتے.
    عید گزری لیکن ہم فیصلہ نہ کرپائے کہ کہا جانا ہے, آخرکار میں معمول کے مطابق گھر سے نکلا, اپنی موٹرسائیکل نکالی اور اپنے دوستوں کو لینے ان کے گھر پہنچا.
    گیٹ کے سامنے ہارن بجائی تو صاحبان خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے نشیلی آنکھوں کے ساتھ باہر آئے.
    خیر جو بھی ہوا, یم نے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں. ہم نے نوشہرہ کی طرف رُخ کیا , جب نوشہرہ پہنچے تو لوگوں سے پوچھا کہ یہاں پر کوئی سیر کرنے کی جگہ بتائے. ایک بندے نے "بہادر بابا” کے مزار کا نام لیا. یہ نوشہرہ سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے. ہمارا کیا تھا, جوان تھے, خون میں مستی تھی اور کھلے پرندوں کی طرح ہوا جس طرف لے جاتی, ہم چلے جاتے. ایک موٹرسائیکل پر تین بندوں نے "بہادر بابا” کے مزار کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا.
    گرمی کی جھلسا دینے والی لہریں جب ہمارے گالوں سے ٹکراتی تو دل سے پتہ بتانے والے کے لیے بد دعائیں نکلتی اور ان بد دعاؤں میں اضافہ تب ہوتا جب ان پہاڑی رستوں سے گزرتے گزرتے موٹرسائیکل کسی کھڈے میں گر جاتا. ہم نے راستے میں اپنا خوب مزاق اڑایا لیکن ساتھ ساتھ ہمارے منہ سے کچھ ایسے نازیبہ الفاظ بھی نکلے تھے جس کا تذکرہ میں کرنے والا ہوں.
    کوئی کہتا کہ "بہادر بابا کو اتنی دور آنے کی کیا ضرورت تھی” تو کوئی کہتا کہ "وہ بیل پر سوار ہو کر آئے تھے” (استغفراللہ) اللہ معاف کرے .
    جب ہم وہاں پہنچے تو ١۲ بج چکے تھے.میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں موٹرسائیکل ایک جگہ پر کھڑی کر کے آتا ہوں. میں ٣ منٹ کے لیے گیا اور جب واپس آیا تو میرے دوست غائب تھے. میں نے یہاں وہاں ہر جگہ دیکھا لیکن ان کا کوئی نام و نشان نہ تھا. ہم نیچھے تھے اور مزار پہاڑی کے اوپر تھا. میں نے اس شدید گرمی میں تقریباً ۷ سے ۸ چکر کاٹے , اوپر گیا مزار پر , پھر نیچھے آیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ ہجوم اتنا تھا کہ اسے ڈھونڈنا محال تھا.
    جس طرح میں ان کو ڈھونڈ رہا تھا , اسی طرح وہ بھی میں تلاش میں جگہ جگہ بٹک رہے تھے.
    چونکہ ہم کم عمر تھے اور ایک دوسرے کو ایسی جگہ کھونا جو کہ ہمارے گھر سے کافی دور تھا , کافی پریشان کن تھا. جی کر رہا تھا کہ یہاں چیخ چیخ کر رو لوں.
    آخر کار جب ٣ بج گئے تو میں نیچھے ایک پہاڑی کے سائے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا . میرے سامنے ہماری وہ ساری باتیں آنے لگی جو ہم نے راستے میں "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی.
    میں نے اسی وقت جلدی سے توبہ کیا کہ ہو سکتا ہے ہمیں ان باتوں کی سزا مل رہی ہو جو ہم نے "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی, یہ تو اللہ کے ولی ہے, اللہ کے خاص بندے .
    میں انہی سوچو میں گم تھا کہ میری کانوں میں فرمان کی آواز پڑی جو کہی دور سے مجھے پکار رہا تھا.
    اس آواز نے مجھے انتہائی گہرے سوچ سے بیدار کیا, جب میں نے "مانے” اور "گل” کو دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی, میں اپنے جزبات پر قابو پائے بغیر ان کی طرف بھاگا اور جٹ سے دونوں کو گلے لگا کر خوب رویا.
    اس کے بعد دوستوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھ یہ عہد کیا کہ آج کے بعد کبھی بھی کسی اللہ کے ولی کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہیں گے.
    پھر موٹرسائیکل پر سوار ہو کر واپس پہنچے تو رات کے ۸ بج چکے تھے. رات کا کھانا ساتھ میں کھایا, اس کے بعد اپنا خوب مزاق اڑایا اور اپنے اپنے گھر کو چلے گئے.

  • تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے      عارف علوی

    تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے عارف علوی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے میں آج کے روز تبدیلی کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈوگرا راج کی زیادتی آج تک جاری رکھی لیکن کشمیر کی آزادی تک پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا وزیر اعظم عمران خان نے دنیا بھر میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔

    بھارت کشمیریوں کو اپنی سر زمین پر اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان

    مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی انسانی زندگیوں میں فرق ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں ہر شخص آزاد ہے اور میڈیا بھی آزاد ی سے کام کر رہا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی عوام پر مظالم جاری ہیں اور ہزاروں کشمیری شہید کیے گئے کشمیریوں کے منہ پیلٹ گن سے چھلنی کیے گئے۔

    کشمیر میں ہزراوں بہنیں بیٹیاں مائیں بیوہ ہوئیں ہیں اور یہ زیادتی آج بھی جاری ہے ہے اقوام متحدہ نے میری کشمیری بہنوں اور بھائیوں سے وعدہ کیا تھا حق رائے دہی کا حق ہے آپ کے پاس وہ استعمال ہو گا مگر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا خاموش ہونے لگی مگر میرا کشمیر خاموش نہیں ہو سکتا-

    مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے

    انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا ہر بچہ آزادای کا سپاہی بن جاتا ہے پیدا ہوتے ہی ظلم کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے آزادی کی بات کرتا ہے یندوستانی کتنی تعداد میں وہاں ہیں وہ دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ ظلم و ستم اور زیادتی کی وجہ سے وہاں ہیں اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں کہ وہ وہاں ہو-

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی طرف جو آزاد کشمیر کا حصہ ہیں وہ پر امن آپ نے ہمیشہ دیکھا میڈیا آزاد ہے وہاں جانے کے لئے لوگ آزادی سے رہتے ہیں وہاں پر لیکن مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہے بہانے بہانے سے کرفیو لگتا ہے مقبوضہ کشمیر میں لیکن کشمیری آزادی کی آواز اور آزادی کا جھنڈا پھر بھی اٹھاتے ہیں-

    بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور کشمیر کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا تاریخ گواہ ہے مسلمان کبھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری اکثریت ختم کرنا چاہتا ہے اور 40 ہزار بیرونی افراد کو ڈومیسائل جاری کر دیئے ہیں۔ بھارت کو وارننگ دے رہے ہیں مظالم بند کرے اور بھارت سے 5 اگست کے اقدامات واپس لینے تک مذاکرات نہیں ہوں گے شہدائے کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔