کس بھی معاشرے کی خوب صورتی اس میں رہنے والے انسانوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان ہی ایک اچھے یا برے معاشرے کے زمہ دار ہوتے ہیں ایک اچھا معاشرہ تب بنتا ہے جب وہاں ایک دوسری کے درمیان برداشت کا کلچر ہو وہاں ایک دوسرے کی رائے کو سنا جاتا ہو لوگ اختلاف رائے رکھتے ہوں مگر ایک دوسرے سے نفرت نہ کرتے ہوں مگر بد قسمتی سے پاکستان بھی اس بیماری سے دو چار ہے یہاں عدم برداشت کا کلچر بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے سیاست دان سے لے کر مولوی تک ہر انسان اس کا زمہ دار ہے یہاں لوگوں کی بات سنی نہیں جاتی بلکہ کے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم دن بدن پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں ہم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کے خدا نے ہر انسان کو ذہن دیا ہے اور وہ سوچتا ہے اپنے نظریات قائم کرتا ہم کو چاہیے کے اگر ہم اس کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں تو دلیل سے علمی رد کریں مگر علمی رد کے بجائے ہم عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں اب ہمیں یہ کون سمجھے کے ایک ہی رائے تب ہو سکتی ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیں یا خدا ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت واپس لے لے عدم برداشت سے معاشرے میں خوف سا بن جاتا ہے نئے افکار لوگ اس ڈر سے بیان نہیں کرتے کے کہیں ہم مشکلات کا شکار نہ ہو جائیں
جس سے شاید ہم اس بات پر تو خوش ہو رہے ہوتے ہیں کے لوگ ہمارے پیروکار مگر ہم ذہنی غلام پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور یہ اتنا خطرناک ہے کہ خاص کر جب یہ مذہب سے متعلق ہو تو آنے والی نسلیں الحاد کا شکار ہو سکتی ہیں کیوں کے ہم اپنے اس روایہ سے ان کے آندار سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر رہے اور آج کے دور میں مذہب پر اعتراضات ان کے جوابات نہ ہونے کی وجہ سے وہ متنفر نہ ہو جائیں ہمیں چاہیے کے اور شعبہ میں برداشت کے کلچر کو فروغ دیں دوسروں کے موقف کو آرام سے سنائیں اور اپنی باری پر جواب دیں جواب نہ ہونے کی صورت میں جواب تلاش کریں نہ کے الزام تراشی کریں
@painandsmile334
Category: بلاگ
-

عدم برداشت تحریر : صالح ساحل
-

ٹائم پاس تحریر: افشین
کسی کے ساتھ وقت گزاری کرناموجودہ دور میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے ہر کوئ ٹائم پاس کے چکر میں ایک دوسرے کو دھوکا دے رہا ہے اس عمل میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہے اول تو کسی کو موقع ہی مت دیں کہ کوئ اپکے ساتھ ٹائم پاس کر سکے پر دلِ ناداں غلطی کر ہی جاتا ہے باتوں میں آہی جاتا ہے مٹھاس لہجے کے جال میں پھنس ہی جاتا ہے انسان غلطی ایک نہیں بہت سی غلطیاں کرتا ہے پرکسی معصوم کے ساتھ ٹائم پاس کرنا اور اسکو کہیں کا نہیں چھوڑنا بہت بڑا گناہ ہےٹائم پاس سے آپ اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں ٹائم پاس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوسکتی ہے اور بہت سے لڑکے لڑکیاں اس وجہ سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ ٹائم پاس سے دو انسانوں کو ایک دوسرے کی عادت لگ جاتی ہے جیسے نشے کی عادت لگ جانا۔ اگر ایک کو فرق نہیں بھی پڑتا دوسرا ضرور برباد ہوجاتا ہے۔ٹائم پاس کرنے والے کسی ایک کی نہیں بہت سے لوگوں کی زندگیاں خراب کر دیتے ہیں کاش ایسے لوگوں کے لیے بھی کوئ قانونی سزا بنی ہوتی دل کے مجرم قرار پاتےکسی کا قتل کرنا گہری جسمانی چوٹ دینا یہ سب زخم وقت کے ساتھ بڑھ ہی جاتے ہیں پھر کسی کو روحانی اذیت میں مبتلا کرنا زندہ مار دینا ہے اس کا کوئ کفارہ نہیں ہوسکتا ہے معافی لفظ استعمال کرنے سے اذیت کم نہیں ہوجاتی اگر ٹائم گزارنا ہے تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں گیمز کھیل لیں کتابیں پڑھ لیں اگر کسی سے بات کرتے بھی ہیں اسکو خوشی دینے کے مقصد سے کریں چونکہ ہر کوئ اپنی پریشانیاں دور کرنا چاہتا ہے تو کسی کے ذہنی سکون کا باعث بنے ناکہ اس کو مزید پاگل کردے کسی کو اچھا وقت دینا کسی کی دلجوئ کرنا نیکی ہے مگر کسی کو ٹائم پاس بنانا کسی کو اذیتوں میں دکھیلنا درندگی ہےمثال کے طور پہ لڑکا لڑکی کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کرتا ہےپھر محبت کا دعوہ کرنے لگ جاتا ہے کچھ تو ثابت کرتے ہیں اپنی اچھی تربیت کچھ بس وقت گزاری کے لیے جھوٹے دعوے کرتے ہیں کچھ عرصہ چلتی ہے محبت کہانی پھر وہی اسکو اپنے مزاج کے خلاف لگنے لگتی ہے جس کو شروعات میں ذہنی سکون مان رہا ہوتا ہے جس کو کہہ رہا ہوتا ہے بس تم ہی میری کل کائنات ہو تمھاری خوشی چاہیے بعد میں اسی کو جان کا عذاب کہنے میں دیر نہیں لگاتا جب ایک دوسرے کو چُنا تھا اس ٹائم کیا سوچا نہیں تھا یا کوئ اور ملا نہیں تھا ؟؟ارے کیوں برباد کرتے ہو ایک دوسرے کو؟؟اس میں ناصرف لڑکے لڑکیاں بھی شامل ہیں ایک لڑکی کسی کے ساتھ ایسے کرتی ہے تو وہ لڑکا باقی لڑکیوں سے بدلہ لینے لگتا ہے یہ سوچ کہ سب ایک جیسی ہیں کیا یہ صیح عمل ہے؟؟کچھ مہینے یا سال محبت کے نام پہ ٹائم پاس ہوتا ہے پھر ختم ہوجاتا ہے یا پھر دوستی کے نام پہ شروع ہوجاتا ہے۔ تم میری محبت ہو کہنے والا کہہ دیتا ہے مجھے اب تم سے محبت نہیں رہی میری زندگی میں کوئ اور آگئ یا پھر یہ کہہ دیتا ہے ساتھ چلنا ہے تو چلو مگر اب ہم دوست ہیں!! کیا محبت دوستی میں بدل سکتی ہے ؟؟؟ کیا وہ محبت بھرے جذبات اور الفاظ فریب تھے ؟؟؟ کیا وہ ٹائم پاس تھا؟؟؟آپ کیا کہے گے اسکو؟؟؟ ہمم کوئ جواب ملے ضرور بتائیے گا !! کچھ لڑکیاں لڑکے آسانی سے راستہ بدل لیتے ہیں مگر کچھ جو پاگل پن میں جا چکے ہوتے ہیں وہ اس سمجھوتے میں جینے لگتے ہیں کہ چلو ساتھ تو ہے کافی ہے انکو کسی کو چھوڑنا موت کی مانند لگتا ہے۔ عادت کہے یا پاگل پن یا جنون !! کسی کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا، اسکے لیے جس کے جذبات سچے ہو جس کے خلوص میں ملاوٹ نا ہو اگر عادت بھی ہے تو نشائ کا نشہ نا ملے تو بھی وہ مر ہی جاتا ہے یا پھر وہ اس راہ پہ چل نکل پڑتا جس کو دلدل کہتے ہیں کسی نا کسی برائ کی طرف راغب ہوجاتا ہےیہ الفاظ تو میرے ہیں پر اس میں ہر اس انسان کی آواز شامل ہے جو اس ٹائم پاس کی زد میں آچکا ہے
کیوں کسی سے محبت کے دعوہ کے بعد اتنی آسانی سے جذبات بدل جاتے ہیں؟ ظاہر ہے سب فریب تھا اتنا گہرا تعلق رکھنے کے بعد یا تو جدائ ہوجاتی ہے یا پھر دنیا کی نظر میں "ہم دوست ہیں ” یہ کہہ کہ رشتہ چلتا رہتا ہے۔ اور ایک ایسا وقت بھی آجاتا ہے دوستی بھی اختتام پذیر ہوجاتی ہے ٹائم پاس کہا جائے؟ اسکو کیا کہا جائے ؟ کیجیے سوال خود سے کیا یہ اذیت نہیں ؟کتنی آسانی سے دوسرا انسان آجاتا ہے نا!!کیسے نئے رشتے کے لیے آپ پرانے رشتے کا لحاظ تک نہیں کرتے رنگ برنگے لوگوں میں خوش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کو وہ اذیت دو جو وہ سہہ نا پا رہا ہو پھر اسکی باری پھر ناجانے کس کی باری کسی کو اتنی اذیت نا دیں کہ اپ کو بھی کسی اور کے ذریعے ایسی اذیت سہنی پڑے کیونکہ مکافات عمل آٹل ہے اور ہر ایک جواب دہ ہوگا اپنے اعمال کا !! اذیت یہ بھی ہے جب کوئ تیسرا جانتے بوجھتے درمیان میں آنے کی کوشش کرئے، کیوں کسی کی زندگی میں زہر بن کے آجاتے ہیں ؟پھر کہتے ہیں ہم تو کچھ نہیں کیا حالانکہ اپنا کام تمام کر دیتے ہیں جو وہ کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں ۔
خدارا رحم کھائے خود پہ اور دوسروں پہ کوئ رشتہ ناتہ نا سہی انسانیت باقی ہونی چاہیے
آگ لگے دھواں نا ہو اور محبت ہو اذیت نا ہو نا ممکن ۔ٹائم پاس نا کرئے کسی سے محبت کرئے نبھائے رشتوں کو سمجھے میری گزارش ہے میری تحریر پڑھنے والوں کے لیے ایسے رنگ بدلتے انسانوں سے بچیں کسی کے ساتھ ٹائم پاس نا کریں اپنی حدود میں رہیں محبت کا دعوہ کرئے تو اسکو نکاح کی صورت میں پورا کریں اگر ملنا نا مکمن ہو تو ایسے رشتے بنا کے اذیت نا دیں پہلے سے سوچ کے کسی کی زندگی میں داخل ہو محبت محبت ہوتی ہے دوستی میں تبدیل نہیں ہو سکتی، اور اتنا آسان نہیں ہوتا دنیا کے سامنے خود کو دوست ظاہر کرنا اور حقیقت کچھ اور ہونا ،اور جو محبت ہوجانے کے بعد بھی اپ کا ساتھ نہیں چھوڑتے دوستی میں رہ کے صبر کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں دنیا کے سامنے دوست ہی بن کے آپکے ساتھ رہنے لگتے ہیں انکے جذبات سمجھےکہ وہ آپکا ہر حکم کیوں مان رہے ہیں ظاہر ہے وہ مخلص ہیں ہمیشہ کا ساتھ چاہتے ہیں کیا ایسے انسان کے ساتھ بھی اپ ٹائم پاس کریں گے ؟سچے جذبات کی قدر کریں اور آخری بات کہنا چاہوں گی جو کسی ایک کو ایسی اذیت میں مبتلا کر سکتا ہے وہ کسی کے لیے سکھ نہیں بن سکتا اپنے قدم سنبھال لیں ایسی راہ کے راہ گیر نا بنے جو کسی کو خوشی کسی کو اذیت دے رشتوں میں عزت برقرار رکھیں -

ہم عوام اور ہماری اخلاقی تربیت تحریر: قاسم ظہیر
کسی نے کیا خوب انداز میں ہماری ترجمانی کی ہے کہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں .میرے نزدیک ہم اخلاقی پستیوں کی انتہا کو چھو تے جا رہے ہیں جس کی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی. .لوگوں کا رہن سہن اور ان کا تہذیب و تمدن ان کے معاشرے اخلاقیات اور ان کی دینی تربیت کا عکاس ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں ہماری تہذیب و تمدن ہماری اخلاقیات ہماری تربیت ہمارے مہذب ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے یا نہیں یہ بات قابل غور ہے .کسی قوم کا عروج و زوال اس کی اخلاقیات پر منحصر ہے اخلاقی پستی کا شکار قومی تنزلی کا شکار رہتی ہیں ہم بڑی بڑی تاریخ کی کتابیں اٹھا کر پڑھ لیں ان میں واضح لکھا ہے کہ جن نے اخلاقی پستی اختیار کرلی ان کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوا
ہمارے معاشرے پر نظر دوڑائی جائے تو ہم اخلاقیات میں اس گراوٹ کا شکار ہے جہاں پر ہمارا ثانی کوئی نہیں ہم نے اخلاقی پستی کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے اپنے آپ کو اخلاقیات کے بد ترین درجے پر فائز کر دیا ہے
اگر ہمارے پاکستان کر نظر دوڑائی جائے تو ہر شخص وہ کام کرتا ہے جو دوسرے کا ہے لیکن کوئی بھی وہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں جو اس کا اپنا اور ذاتی کام ہے ہم سیاست کو ہی لے لیں سیاسی میدان میں ہم ایک دوسرے کے نظریاتی مخالف بننے کی بجائے ہم ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالی دینے سے بھی گریز نہیں کرتے
موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اپنی اخلاقی تربیت کی ہے بحیثیت فرد میں اپنی قوم کی کتنی خدمت کر رہا ہوں اور میں اپنے حصے کا کتنا کام اور کردار ادا کر رہا ہوں کیونکہ علامہ اقبال صاحب نے فرمایا ہے نا کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
آج کل کے ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر کوئی سوشل میڈیا یوز کرتا ہے وہاں سب سے زیادہ اشد ضرورت جس چیز کی ہے وہ ہماری اخلاقی تربیت کی ہے ہم ہر سیاسی محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں اور خلاف ہونا یا اختلاف ہونا جمہوریت کا حسن ہے لیکن ہم اپنے اقدار روایات اور اور اسلامی تعلیمات کو بلا کر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہیں اور جیسا کہ موجودہ حالات میں بھی دیکھنے کو ملا کہ تشدد واقعات سامنے آتے ہیں جس سے بہت قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں گھر اجڑتے ہیں
میں اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق ہر شخص سے یہ التماس کرتا ہوں کہ خدارا اپنی قوم عوام خاندان اور دین کی خاطر ایک دوسرے کی عزت کریں اور عزت کرنے سے نہ صرف آپ کے اپنے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ دوسرے شخص کی نگاہ میں بھی آپ کی قدر و قیمت بڑھے گی@QasimZaheer3
-

ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات تحریر: زبیر احمد
عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال اب بہت بگڑ چکی ہے جس کی بہتری کے لئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں نوشتہ دیوار ہیں جس سے دنیا کا کوئی ملک انکار نہیں کرسکتا۔ آج 2021 میں فضاء میں کاربن کی شدت تقریبا 419 پارٹس فی ملین پہ جاچکی ہے یہ شدت تاریخ میں 300-350 سے زیادہ نہیں تھی مہذب دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس کا حوالہ دیا جاسکے کہ اتنی شدید مقدار میں کاربن فضاء میں موجود رہی ہو۔ آج کی دنیا اس حوالے سے حد سے زیادہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ کوئی ایسا حل نہیں کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو واپس بہتری کی طرف موڑ سکیں لیکن ہنگامی اقدامات کے ذریعے مزید تباہی سے بچا جاسکتا ہے اس وقت زمین کا درجہ حرارت ایک سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ اگر ہم آسان الفاظ میں سمجھنا چاہیں تو حالیہ کچھ عرصہ میں امریکا، آسٹریلیا اور ترکی کے جنگلات میں لگنے والی آگ، بحراوقیانوس اور چین میں آنے والے سیلاب اور پچھلے سال پاکستان بھارت میں ٹڈیوں کا حملہ انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ثبوت ہیں اور اس کے نقصانات ہم دیکھ رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ایک جیسا متاثر ہورہے ہیں لیکن یہ مسئلہ ممالک کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی سے انسانی زندگی متاثر ہورہی ہے لوگ آج بھی اس کے نقصانات اٹھا رہے ہیں اور زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان ممالک نے معاشی استحکام کے لئے صنعتی ترقی جاری رکھنے کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی خود کو محفوظ رکھنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اس وقت دنیا ایک ہنگامی صورتحال سے دوچار ہے اس سے نمٹنے کے لئے تمام ممالک چاہے ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑے گی۔ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں سے ایک ہے، 1994 سے پاکستان میں کاربن کا اخراج 123 فیصد تک بڑھا ہے اور گرین گیسوں کے اخراج میں ہر سال مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے تو 2030 تک زندگی گزارنے کے لئے ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ پاکستان کو گرین ہاوس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے پروگراموں پہ توجہ دینے کے ساتھ ان پہ عملدرآمد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی کہ 2030 تک گرین گیسوں کے اخراج میں 20فیصد تک کمی لائی جائے۔ ملک میں 25فیصد تک جنگلات میں اضافے سے 40فیصد تک کاربن کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے سماجی و معاشی حالات پر مجموعی طور پہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات دیکھتے ہوئے عوامی سطح پہ آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سب نے ملکر ماحولیاتی تبدیلی کے ماحول اور معیشت پہ اثرات کو سمجھنا ہے اسی طرح پاکستان ان مشکل ماحولیاتی حالات پر قابو پا سکتا ہے اور پائیدار مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔(Twitter: @KharnalZ)
-

بدگمانی ایک زہر ہے تحریر: معین وجاہت
تبلیغ جماعت والے گشت کررہے تھے کہ ایک صاحب کو گھر میں داخل ہوتے ہوٸے دیکھا تبلیغی جماعت والے بھی اس کے پیچھے گٸے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بچہ باہر آیا تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کہا کہ فلاں صاحب گھر پر ہے جو اب ہمارے سامنے گزرگئے بچے نے کہا میں دیکھتا ہوں بچہ گھر گیا اور واپس آکر کہا وہ گھر پر نہیں ہے،امیر صاحب کو اندازہ ہوا کہ اب تو سب کو بدگمانی ہوگی تو کہا کہ دیکھو پیچھے بھی دروازہ ہے شاید وہ گھر آیا ہو اپنی ضرورت پورا کرکے پھر کسی کام کے لیے گیا ہو۔
تو غور کریں تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کتنا اچھا گمان کیا۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کسی پر اچھا گمان کرنا چاہیے۔آج کل بہت سے لوگ دوسروں کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
کسی بات کی تحقیق کٸے بغیر کسی شخص کے بارے میں کوٸی برا خیال قاٸم کرلینا کہ اس نے شاید ایسا کیا ہوگا یہ بدگمانی ہے۔اپنی طرف سے کسی شخص کے بارے میں کوٸی خیال گھڑلینا ،یا معمولی سی بات کسی کے اندر نظر آٸی اور اس پر اپنی طرف سے ہواٸی قلعے تعمیر کرلینا اور اوراس کے بارے میں بدگمانی میں متبلا ہونا گناہ ہے۔جب تک کسی کے بارے میں کوٸی بات دلاٸل کے ساتھ آنکھوں سے مشاہدہ کرکے ثابت نہ ہوجاٸے تو اس وقت تک ہمیں کسی کے کےبارے میں کوٸی برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔
معاملات میں بھی ہم بغیر تحقیق کے لوگوں پر بدگمانی کرتے ہیں۔کوٸی ہمارا فون نہ اٹھاٸے تو ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے اب ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتا،ہوسکتا ہے وہ کسی کام میں مصروف ہو اس میں بہت احتمالات ہوسکتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی کے پاس آپ نے دیکھا کہ بہت ذیادہ روپے پیسے ہیں تو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ حرام کا پیسہ ہے،حرام خوری کرتا ہے تو یہ بدگمانی ہے۔
اور یہ ایک ایسا زہر ہے جب آدمی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے ہر آدمی چور،بےایمان،بدفطرت اور بدکردار دکھاٸی دینے لگتا ہے۔
عربی کا مقولہ ہے:
سوء الظن مرض یقتل کل شیی جمیل
”یہ بدگمانی ایسا گناہ ہے جو ہر چیز کے نکھار کو ختم کردیتا ہے“
ابن ابی الدنیا کی کی کتاب ”حسن ظن باللہ“میں آیات اور احادیث کے 150 نصوص پیش کٸے گٸے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں پر نیک گمان رکھیں اور بدگمانی سے بچیں۔
اس لیے ہمیں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔بزرگوں کا فرمان ہے کہ بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی پر براٸی کا الزام لگاٸے ہیں اور یہ براٸی کا الزام قیامت کے دن ثابت کرنا ہوگا۔لہذا بدگمانی سے پہلے ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ بدگمانی مجھے قیامت کے دن ثابت کرنی ہوگی۔یہ بدگمانی بیشک کسی رشتہ دار کے بارے میں ہو،یا عام انسان کے بارے میں ہو،یا کسی عالم کے بارے میں ہو۔
اور یاد رکھنا چاہیے بدگمانی ایک ابتداء ہے جس کی انتہاء غیبت اور بہتان پر ہوتی ہے۔
اللہ تعالی ہمیں بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرماٸیں۔ -

الٹی گنگا تحریر: بشیر احمد
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ظالم بادشاہ پورے جاہ و جلال کے ساتھ دربار سجائے تخت پہ سایہ فگن تھا ۔۔۔۔کہ کسی وزیر نے محاورتا” کہہ دیا کہ
” یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے”
الٹی گنگا کا نام سنتے ہی بادشاہ سلامت اشتیاق و جلال سے اٹھ کھڑا ہوا اور شاہی چغہ لہراتے ہوئے وزیر موصوف کو حکم دیا کہ ۔۔۔۔پتہ کرو کہ الٹی گنگا کہاں واقع ہے؟پورا دربار خوف سے ساکت تھا۔۔۔۔کسی کو کیا معلوم کہ الٹی گنگا کہاں بہتی ہے؟؟؟
تمام وزرا کی یہ خاموشی دیکھ کر شہنشاہ مزید طیش میں آ گیا ۔۔۔۔
اور وزیر موصوف کو حکم دیا دو ہفتوں کے اندر اندر الٹی گنگا دریافت کر کے لے لاو ورنہ تمہاری گردن مار دی جائے گی۔۔۔۔۔۔
چنانچہ وزیر موصوف دربار سے فرشی سلام بھرتا ہوا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔۔
حواس باختہ وزیر ایک ہفتے تک گھوڑا دوڑاتا رہا مگر اسے کوئی ندی، نالا یا دریا ایسا نہ ملا جو مشرق کی طرف الٹا بہہ رہا ہو۔۔۔۔ہر ندی نالا غربی سمت رواں دواں تھا۔۔۔۔
آخر کار کسی بھلے مانس نے بتایا کہ گنگا تو ہندوستان میں واقع ہے۔۔۔۔
چنانچہ وزیر ہندوستان کی طرف روانہ ہو گیا اور منزلوں پہ منزلیں مارتا ہوا دریائے گنگا جا پہنچا۔۔۔۔۔
وہاں جاکر اسے شدید مایوسی ہوئی کیونکہ گنگا بھی اپنی ٹھیک سمت یعنی مغرب کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔۔۔
چنانچہ وہ کسی امید کے تابع گنگا کے ساحل کے ساتھ ساتھ گھوڑا دوڑاتا رہا کہ شاید کسی جگہ ۔۔۔گنگا الٹی سمت بہہ رہی ہو۔۔۔۔مگر اسے کسی جگہ بھی الٹی سمت بہاو نہ ملا۔۔۔
آخر تھک ہار کہ گنگا کے کنارے ایک پیپل کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر سو گیا۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ نیند تو سولی پہ بھی آ جاتی ہے۔۔۔۔چنانچہ جلد ہی وزیر بے چارہ خوابوں کی وادی میں کھو گیا۔۔۔۔۔
خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک نورانی شکل والے بزرگ تشریف لائے جن کے ماتھے پر مہراب جلوہ آفروز تھا اور ایک چار پہیوں والی ریڑھی نما گاڑی پہ سایہ فگن تھے اور گاڑی معجزاتی طور خود بخود چل رہی تھی۔۔۔۔
چنانچہ وزیر خواب میں اس کے پاوں سے لپٹ گیا اور آہ فریاد کی۔۔۔
کہ میرا بادشاہ بہت ظالم ہے وہ مجھے اور میرے بیوی بچوں کو قتل کرا دے گا۔۔۔۔مجھے صرف یہ بتا دیں کہ الٹی گنگا کہاں بہہ رہی ہے۔۔۔۔۔
بزرگ کے چہرے مبارک پہ کئی رنگ آئے اور کئ گزر گئے آخرکار ایک مبہم تبسم ابھر آیا اور جنوب مغرب کی سمت اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کسی بدیسی زبان میں بارعب انداز میں فرمایا کہ۔۔۔۔
"اوچ ونج۔۔۔۔اوچ ۔۔۔۔۔۔(اوچشریف جاو)
چنانچہ وزیر نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا مگر اب بھی بزرگ کے وہ الفاظ کسی ارتعاش کی طرح زہن میں گونج رہے تھے۔۔۔۔اوچ ونج۔۔۔۔اوچ ونج۔۔۔۔۔۔اوچ ونج۔۔۔۔۔۔چنانچہ اس نے فورا گھوڑے کو ایڑ لگائی اور بزرگ کی بتائی ہوئی سمت روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
کئ دنوں کی مسافت کے بعد ایک نئی دنیا میں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ایک بازار میں پہنچا دو تین بندوں سے جگہ کا نام پوچھنے کی کوشیش کی مگر سبھی موبائل پہ لگے ہوئے تھے کسی نے جواب نہ دیا۔۔۔آخر ایک فقیر کو ایک اشرفی تھمائی تو اس نے بتایا یہ نوابوں کا شہر بہاول پور ہے اوچ ستر کلومیٹر آگے ہے۔۔۔۔۔
دو گھنٹے گھوڑا دوڑانے کے بعد ایک اور شہر آیا وہاں ٹرین اسٹیشن موجود تھا پوچھنا کیا۔۔۔ایں شہر اوچ است؟ یہ اوچ شہر ہے؟ جواب ملا ۔۔۔۔ہنوز اوچ دور است۔۔۔۔۔۔
یہ ڈیرہ نواب صاحب ہے۔۔۔۔قریب ہی ایک غریبوں کی بستی تھی
وزیر نے ایک انگریزی کیکر کے ساتھ گھوڑا باندھا ۔۔۔۔۔اتنے میں ایک تگڑی موچھوں والا کندھے پہ رومال ڈالے ایک ببر شیر جوان موچھوں کو تاو دیتا ہوا ۔۔۔۔آن پہنچا اور بڑے پرتپاک انداز میں ملا اور اپنی کٹیا میں لے گیا۔۔۔۔وہاں پر ۔۔۔۔۔(حورالمستورات فی لخیام) کی عملی تصویر موجود تھی۔۔۔۔
چنانچہ مشروب حسن بن صباح پیش کیا گیا۔وزیر کو جب ہوش آیا تو شاہی چغہ ایک طرف پڑا تھا ۔۔۔جیبوں کو ٹٹولا تو بے اختیار منہ سے یہ شعر نکلا۔۔۔۔۔
اجڑ گیا وہ باغ ۔۔۔۔جس کے لاکھوں مالی تھے۔۔۔۔
وزیر جب رخصت ہوا تو دونوں جیب خالی تھے۔۔۔۔المختصر۔۔۔۔وزیر مرتا کیا نہ کرتا اوچشریف پہنچ گیا۔۔۔شہر میں داخل ہوتے ہی پورے اوچ کے آوارہ کتوں نے گھوڑے اور وزیر کو گھیر لیا اور شایان شان استقبال کیا۔۔۔۔
اوچشریف کی پاک گلیاں پسلتے پھلانگتے وزیر موصوف ۔۔۔بالے نائی۔۔۔کی دکان پہ پہنچا۔۔۔گھوڑا نزدیکی بجلی کے کھنمبے کے ساتھ باندھا اور شیو کروانے کی غرض سے بالے نائی کے سامنے کرسی پر براجمان ہو گیا۔۔۔۔
شیو کے دوران وزیر نے ساری رام کہانی بالے نائی کو سنائی۔۔۔۔
بالا نائی کہانی سنتا رہا اور روتا رہا۔۔۔۔۔۔اتنے میں بالے نائی کے شاگرد جگنو نے ڈیک پہ جاری گانے کی آواز اونچی کی۔۔۔۔۔۔۔۔جو ہم نے داستاں اپنی سنائی۔۔۔۔آپ کیوں روئے۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد بالے نائی نے ایک سرد آہ بھری اور وہ تاریخی الفاظ کہے جو اوچ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او کاکے۔۔۔یہ اوچشریف ہے یہاں ہر گلی میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔۔۔۔آو خود ملاحظہ فرما لو۔۔۔۔۔۔
وزیر بالے نئی کے ساتھ باہر آیا تو دیکھا کھمبے کے ساتھ بندھا وزیر کا گھوڑا مر چکا ہے ۔۔۔شائد بجلی کے میٹر کی سرعت رفتاری دیکھ کر شرم سے مر گیا ہو گا۔۔۔۔۔
بالا نائی وزیر کو لے کر جیسے ہی ٹینکی چوک سے ہوتا ہوا بورڈنگ موڑ پہنچا سامنے۔۔۔۔الٹی گنگا پوری حشر سامانیوں کے ساتھ رواں دواں تھی۔۔۔۔۔
اس کے بعد پورے شہر کی سیوریج کو غربی سمت ڈھلوان کے بجائے۔۔۔الٹی گنگا بہا کر شرقی سمت واقع عباسیہ لنک کینال میں گندہ پانی ڈالنے کی ناکام کوشیش کے ضمن میں ایجاد فرمایا جانے والا گندہ کھوہ ملاحظہ کیا گیا۔۔۔۔۔جسے دیکھ کر۔۔۔
وزیر نے خوشی سے کلکاری ماری اور خالی جیب بغیر گھوڑے کے اپنے بادشاہ کو خبر دینے بھاگ کھڑا ہوا -

زندگی کا اہم ترین سوال۔ تحریر : فہد ملک
ہر کوئی جو بہتر محسوس کرتا ہے وہ چاہتا ہے۔ ہر کوئی ہلکا پھلکا ، خوشگوار اور سادہ زندگی گزارنا چاہتا ہے ، جذباتی جذبات کا تجربہ کرنا اور شاندار سرگرمیاں اور تعلقات رکھنا ، شاندار نظر آنا اور پیسہ لانا ، اور مرکزی دھارے میں رہنا اور بہت زیادہ قابل احترام اور سراہا جانا اور اس مقام پر ایک مکمل ہاٹ شاٹ جب آپ کمرے میں ٹہلتے ہیں تو بحر احمر جیسا حصہ۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے ، اسے پسند کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس موقع پر کہ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں ، "آپ کیا چاہتے ہیں؟” اور آپ کچھ اس طرح کہتے ہیں ، "مجھے مطمئن رہنے کی ضرورت ہے اور ایک ناقابل یقین خاندان اور ایک نوکری ہے جو مجھے پسند ہے ،” یہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ایک سنجیدہ دلچسپ انکوائری ، ایک انکوائری جس کے بارے میں شاید آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا ، کیا درد آپ کی زندگی میں بنیادی چیز ہے؟ آپ کس چیز کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں؟ چونکہ یہ تمام اکاؤنٹس اس بات کا زیادہ تعین کرنے والے ہیں کہ ہماری زندگی کیسے ختم ہوتی ہے۔
ہر کوئی ایک شاندار نوکری اور مالی خودمختاری چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص 60 گھنٹے کام کے ہفتوں ، لمبی ڈرائیوز ، اور ناخوشگوار انتظامی کام کو برداشت نہیں کرنا چاہتا ، اہمیت کی خود ساختہ کارپوریٹ زنجیروں اور لامتناہی ڈیسک ایریا کی نرم حدوں کو تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جہنم کی آگ افراد کو خطرے کے بغیر امیر ہونے کی ضرورت ہے ، بغیر تپسیا کے ، بغیر کسی تاخیر کی خوشی کے کثرت جمع کرنے کے لیے۔
ہر کوئی غیر معمولی جنسی تعلقات اور ایک حیرت انگیز رشتہ کرنا چاہتا ہے ، پھر بھی ہر شخص انتہائی مباحثوں ، آف کلٹر ہشس ، تکلیف دہ جذبات ، اور پرجوش سائیکوڈرما سے نہیں گزرے گا۔ اس طرح وہ بس جاتے ہیں۔ وہ طے کرتے ہیں اور معجزہ کرتے ہیں "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟” ایک طویل عرصے تک جب تک انکوائری تبدیل نہ ہو جائے "ایک منظر کا تصور کریں جس میں؟ "کیا یہ تھا؟ اور جب قانونی مشیر اپنے گھر لوٹتے ہیں اور سپورٹ چیک راستے میں ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ، "یہ کس لیے تھا؟” اگر وہ 20 سال پہلے سب سے آسان آپشن اور مفروضوں کے لیے طے نہیں کرتے ہیں ، تو پھر اس وقت کس کے لیے۔ نعمت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مثبت منفی سے نمٹنے کا نتیجہ ہے۔ آپ زندگی میں دوبارہ گرنے سے پہلے اتنے طویل عرصے تک منفی مقابلوں سے دور رہ سکتے ہیں۔تمام انسانی رویوں کے علاقے میں ، ہماری ضروریات کافی زیادہ تقابلی ہیں۔ مثبت تجربے سے نمٹنا مشکل نہیں ہے۔ یہ منفی تجربہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ، وضاحت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔ اس کے بعد ، جو ہم زندگی سے بچ جاتے ہیں وہ ان اچھے جذبات کے ذریعے کنٹرول نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں ، پھر بھی اس خوفناک جذبات کے ذریعے جو ہم ان اچھے جذبات تک پہنچانے کے لیے تیار اور مدد کے لیے تیار ہیں۔ افراد کو ایک حیرت انگیز جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی کے ساتھ اختتام نہیں کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اگر آپ ایمانداری سے درد اور حقیقی دباؤ کو پسند کرتے ہیں جو ایک ورزش مرکز کے اندر طویل عرصے تک رہنے کے ساتھ ہوتا ہے ، سوائے اس کے کہ اگر آپ اپنے کھائے ہوئے کھانے کا اندازہ لگانا اور سیدھا کرنا پسند کرتے ہیں ، اپنی زندگی کا بندوبست کرتے ہیں۔ چھوٹے پلیٹ سائز کے حصوں میں افراد کو کاروبار میں جانے یا مالی طور پر آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر بھی ، آپ ایک نتیجہ خیز کاروباری وژن کو ختم نہیں کرتے سوائے اس کے کہ اگر آپ کو اندازہ ہو کہ خطرے کی قدر کو کس طرح دیکھنا ہے ، کمزوری ، دوبارہ سے مایوسی ، اور کسی ایسی چیز پر پاگل گھنٹے کام کریں جس کے بارے میں آپ کو کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ کارآمد ہوگا۔ افراد کو ایک ساتھی ، ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی صورت میں ، آپ کسی ایسے شخص کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو حیران کن ہو جو کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ہے یہ محبت کے دور کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو جیتنے کا موقع نہیں ہے کہ آپ نہیں کھیلتے ہیں۔
آپ کی خوشحالی کا فیصلہ کیا نہیں آپ کس چیز کی تعریف کرنا چاہیں گے؟ انکوائری یہ ہے ، "درد کا اہم واقعہ جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟” آپ کی زندگی کی نوعیت آپ کے مثبت مقابلوں سے طے نہیں ہوتی ، البتہ آپ کے منفی مقابلوں کی نوعیت۔ نیز ، منفی مقابلوں کا انتظام کرنا زندگی کا انتظام کرنا ہے۔ وہاں ایک بری نصیحت کا لہجہ ہے جو کہتا ہے ، "آپ کو حال ہی میں اس کی کافی ضرورت کا موقع ملا ہے!”
ہر کوئی کچھ چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ ، ہر کوئی کچھ نہ کچھ چاہتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں جانتے کہ یہ ان کی ضرورت کیا ہے ، یا بلکہ ، انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ "کافی” ہے۔ چونکہ ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ آپ کو زندگی میں کسی چیز کے فوائد کی ضرورت ہے ، آپ کو بھی اسی طرح اخراجات کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو فٹ فگر کی ضرورت ہے ، آپ کو پسینہ ، جلن ، صبح سویرے ، اور کھانے کی خواہش کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ آپ کو یاٹ کی ضرورت ہے ، آپ کو اسی طرح دیر سے شام ، خطرناک کاروباری چالوں ، اور ایک فرد یا 10،000 کو پریشان کرنے کا موقع درکار ہے۔ اگر آپ کو کئی مہینوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کی ضرورت پڑ جائے ، کئی سالوں کی بظاہر نہ ختم ہونے والی رقم کے بعد ، پھر بھی کچھ نہیں ہوتا ہے اور آپ اس کے قریب کبھی نہیں آتے ہیں ، پھر ، اس وقت ممکنہ طور پر آپ واقعی ضرورت ہے ایک خواب ، تسبیح ، تصویر ، جعلی ضمانت۔ شاید جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ نہیں ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے آپ صرف اس کی تعریف کریں۔شاید واقعی کسی ذریعہ کی ضرورت نہ ہو۔ ایک بار میں لوگوں سے پوچھتا ہوں ، "آپ کیسے برداشت کرنے کا فیصلہ کریں گے؟” یہ لوگ سر جھکا کر مجھے دیکھتے ہیں جیسے میرے بارہ ناک ہیں۔ لیکن میں اس بنیاد پر پوچھتا ہوں کہ اس سے آپ کی خواہشات اور خوابوں کے مقابلے میں مجھے آپ کے بارے میں بلاشبہ زیادہ روشنی ملتی ہے۔ چونکہ آپ کو کچھ لینے کی ضرورت ہے۔ آپ بغیر درد کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ سب گلاب اور ایک تنگاوالا نہیں ہو سکتے۔ مزید کیا ہے ، آخر کار وہ سخت انکوائری ہے جو اہم ہے۔ خوشی ایک سادہ انکوائری ہے۔ مزید یہ کہ عملی طور پر ہم سب کے تقابلی جوابات ہیں۔ واقعی دلچسپ انکوائری درد ہے۔ وہ کونسا درد ہے جو آپ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟ . انکوائری آپ کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ وہی ہے جو مجھے اور آپ کو بناتا ہے ، یہ وہی ہے جو ہمیں خصوصیات اور الگ تھلگ کرتا ہے ، اور آخر کار ہمیں متحد کرتا ہے۔ میری جوانی سے پہلے اور جوانی کے جوانی کے ایک بڑے حصے کے لیے ، میں نے خاص طور پر ایک پرفارمر ، ڈیمیگوڈ بننے کے بارے میں تصور کیا۔ گٹار کی کوئی بھی دھن جو میں سنتا ہوں ، میں ہر صورت میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور اپنے آپ کو سامعین کے سامنے کھڑا ہونے کا تصور کرتا ہوں۔ یہ خواب مجھے کافی دیر تک روک سکتا ہے۔ میں اپنے موقع کی تلاش میں تھا اس سے پہلے کہ میں وہاں سے باہر نکلنے اور اسے کام کرنے میں وقت اور مشقت کی جائز پیمائش میں حصہ ڈالوں۔ سب سے پہلے ، میں نے اسکول مکمل کرنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے پیسے لانے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت ، میں نے وقت نکالنے کی توقع کی۔ پھر ، اس وقت… کچھ نہیں۔ میری زندگی کے بیشتر حصے کے بارے میں اس کے بارے میں تصور کرنے کے باوجود ، سچ کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ نیز ، اس میں مجھے کافی وقت لگا اور بہت زیادہ منفی مقابلوں کو آخر کار اس وجہ سے حل کرنا پڑا کہ: مجھے واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے نتائج سے پیار تھا ، سامعین کے سامنے میری تصویر ، لوگ خوش ہو رہے ہیں ، میں کانپ رہا ہوں ، میں جو کھیل رہا ہوں اس میں میرا دل خالی کر رہا ہوں ، پھر بھی مجھے سائیکل سے محبت نہیں تھی۔ نیز ، اس وجہ سے ، میں اس پر چکرا گیا۔ ایک سے زائد بار. میں نے اس میں ہلچل مچانے کے لیے کافی کوشش نہیں کی۔
مجھے انعام کی ضرورت تھی جدوجہد کی نہیں۔ مجھے آؤٹ پٹ کی ضرورت تھی نہ کہ سسٹم کی۔ مجھے جنگ سے نہیں بلکہ صرف فتح سے محبت تھی۔ مزید یہ کہ ، زندگی اس طرح کام نہیں کرتی ہے۔ آپ کی پہچان ان خصوصیات سے ہوتی ہے جن کے لیے آپ جدوجہد کریں گے۔ وہ افراد جو ایک ریک سینٹر کی جدوجہد میں حصہ لیتے ہیں وہ وہی ہیں جو بطور موزوں ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو طویل کام کے ہفتوں اور پیشہ ور بیوروکریسی کے قانون سازی کے مسائل کو سراہتے ہیں۔ وہ افراد جو بے سہارا کاریگر کی زندگی کی پریشانیوں اور کمزوریوں میں حصہ لیتے ہیں آخر کار وہی رہتے ہیں اور اسے بناتے ہیں۔ یہ خود نظم و ضبط یا "حوصلہ افزائی” کی کال نہیں ہے۔ یہ کوئی درد نہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یہ زندگی کا سب سے بنیادی اور ضروری حصہ ہے۔ ہماری جدوجہد ہماری فتوحات کا فیصلہ کرتی ہے۔ ان خطوط پر ، ساتھی ، اپنی جدوجہد کو دانشمندی سے چنیں۔ @Malik_Fahad333 -

ضلع مظفرگڑھ! قاتل روڈ ڈبل کرو ۔ تحریر علیہ ملک
ضلع مظفرگڑھ کی عوام زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہو تم جانوروں سے بھی بدتر ہو۔ کچل دیئے جاؤ گے کسی افسر کی گاڑی سے ،کسی ٹرالر یا بس کی ٹکر سے۔کیونکہ تم پیدل چلنےوالے،سائیکل،موٹرسائیکل اور رکشوں پر سفر کرنیوالے غریب لوگ ہو۔تمہیں کیا معلوم امیر ، امراء افسر کی گاڑیوں مرسڈیز ، پجارو کا انجن کتنے ہارس پاور کا ہوتا ہے اور اسکی کتنی سپیڈ ہوتی ہے۔اور کتنا مزہ آتا ہے اس کو فل سپیڈ میں نشے میں دھت ہو کر چلانے کا، مگر تم غریب لوگ جب ہمارے سامنے آتے ہو تو سارا نشہ اور مزہ کراکرا کر دیتے ہو خوامخواہ میں کچلے جاتے ہو۔ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ سال 2014 کی رپورٹ کی مطابق دنیا کا امیرترین انسان میکسیکوکارلوس سلم اپنی دولت میں سے روزانہ دس لاکھ ڈالر بھی خرچ کرے تو اس کی ساری دولت کے ختم ہونے میں 220 سال لگ جائیں گے اور اگر وہ اپنی ساری دولت کو ایک عام سیونگ اکاؤنٹ میں رکھے تو اس کی دولت پر اسے جو منافع ملے گا اس کی رقم روزانہ 43 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہوگی۔ یہ ہے تفریق تم میں اور ہم میں۔یہی عدم مساوات ہمارے عہد کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ ایک طرف تو دنیا کے امیرترین افراد کی تعداد دوگنی ہورہی ہے تو دوسری طرف اسی دوران کم از کم دس لاکھ مائیں بچوں کی پیدائش کے دوران موت کا شکار ہوگئیں کیونکہ انہیں طبی نگہداشت کی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ اور نہ ہی میسر ہوں گی کیونکہ جہاں صحافی کا قلم بکتا ہو طوائف کی جسم کیطرح، جہاں منتخب یا سابق سیاسی نمائندوں پر بے حسی طاری ہو، جہاں انتظامیہ کرپشن میں دھنس چکی ہو، جہاں حکمران 74 سال سے ملک کو دمیک کیطرح چاٹ رہے ہوں۔جہاں قانون امرا کے گھر کی لونڈی ہو، جہاں انصاف کی بولی لگتی ہو، وہاں روڈز کیوں بنیں گے وہاں ہسپتالوں کی حالت زار کیوں بدلے گی ، وہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کیوں میسر ہوں گے۔ اگر ایسا ہو جائے پھر تو امیر اور غریب کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو۔جائے گا۔۔پھر غریب کے بچےاعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے اور تب ہماری افسر شاہی اور وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔لہٰذا ان کو روند ڈالو ، کچل ڈالو، ان کی نوجوان نسل کا قیمہ بنا ڈالو۔ ان کو ایسا سبق سکھاؤ کہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں یہ پڑھنا لکھنا چھوڑ دیں۔ان کے جسم میں ملک کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا دھڑکتا دل روڈ پر پڑا تڑپ رہا ہو،انکے سپنوں کو بھاری بھرکم گاڑیوں کے آہنی راڈوں اور ٹائروں کے بیچے مسل ڈالو۔ تاکہ یہ سر نہ اٹھا سکیں۔ یہ سسکتے اور ٹڑپتے رہیں۔ اور لوگ ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں جیسے کوئی لاوارث کتے کو کچلا جاتاہے ان کا انجام بھی ویسے ہو گا۔ یہ المیہ ہے جہاں حقائق کو مسخ کر کے غریب کی عزت و عصمت کی قیمت ، جبکہ قتل کیے جانے کے بعد ڈرا دھمکا کر ، ہراساں کر کے ، ریاستی پریشر ڈال کر اسلام کا سہارا لیتے ہوئے دیت دی جاتی ہے۔ اس خون کی قیمت دے کر اپنی گاڑیوں سے غریب کا گندا خون دھو ڈالتے ہیں۔کیونکہ غریب ان کے لیے حقارت کی علامت ہے اور امراء کی سوسائٹی میں ایک بد نما داغ اور دھبہ ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں مساوات کا درس دیتا ہے ۔
@KHT_786
-

بیٹیاں رحمت ہی رحمت تحریر: چوہدری عطا محمد
اللہ سبحانہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جہاں کروڑوں رحمتوں اور نعمتوں سے نوازہ ہے ان رحمتوں میں سے ایک رحمت اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے انسان کو بیٹی سے نواز نے کی ہے بیٹی ہر گھر کا مقدر نہیں ہوتی جس گھر پر اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے خاص رحمت ہوتی ہے اسی گھر میں اللہ سبحانہ تعالی بیٹی جیسی رحمت عطا کرتے ہیں ہمارے مذہب اسلام کی بات کی جاۓ تو ہمارے دین میں بیٹی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے بیٹیاں اللہ کی رحمت تو ہیں ہی وہی پر بیٹیاں اپنے والدین کے لئے دوزخ سے نجات کا باعث بنتی ہیں اور جنت کے حصول کا زریعہ بھی بنتی ہیں اللہ سبحانہ تعالی نے اقوام عالم میں ایسا نظام بنایا ہے کہہ یہ نہ تو عورتوں کے بغیر مکمل ہوتا ہے اور نہ یہ دنیا کا نظام مردوں کے بغیر ہی مکمل ہوتا ہے آدی لئے قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کیلئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے گو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا فرما دیتا ہے(سورۃ شوریٰ)
یعنی اس ارشاد باری تعالی سے صاف بات پتہ چلتی اللہ سبانہ تعالی جس کو جب چاۓ اور جو چاۓ عطا فرماۓ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زرا مختلف سوچ کے حامی لو گ پاۓ جاتے ہیں می عام روایت کی بات کر رہا ہوں جیساکہہ ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہو تو بہت خوشیاں منائی جاتی مبارک باد دی جاتی۔ مٹھائیاں تقسیم کی جاتی جشن مناۓ جاتے لیکن اس کے برعکس جب بیٹی پیدا ہوتی تو سارے خاندان میں خاموشی چھا جاتی سب مایوس نظر آتے ایسا محسوس ہوتا ادھر اللہ کی رحمت نہی جیسا کہ خدانخواستہ کوئی عزاب آگیا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو کچھ ایسے قبیلے اور رشتہ دار بھی ہوتے جو بیٹی کی پیدائش پر رشتہ تک ختم کر دیتے خاوند اپنی زوجہ محترمہ کو چھوڑ دیتا اور بیٹی کی پیدائش کا زمہ دار گہنگار اپنی ہی بیگم کو ٹھہراتا اور اللہ سبحانہ تعالی کے قرآن کریم میں ارشاد تک کو ہی بھول جاتا ان سب کی بڑی وجہ ہماری ہمارےپیارے دین سے دوری کی ہے دین سے دوری کی وجہ سے ہی ہمارے اخلاقی معاشرتی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے اگر آج کے ترقی یافتہ دور کی بات کی جاۓ تو بیٹیاں کسی بھی میدان میں بیٹوں سے پیچھے نہی بلکہ ان کے شانہ بشانہ اور ان سے آگے بڑھ رہی ہیں بیٹیاں بیٹوں کی بنسبت کئ گناہ بڑھ کر اپنے والدین کی خدمت کرتی ہیں اپنے والدین کا بڑھاپے میں سہارا بنتی ہیں اسی وجہ سے آج ہمیں ہر شعبہ ہاۓ زندگی چاۓ میڈیکل ہو یا فوج پولیس ہو یا ٹیلی کمیونیکشن آپ کو ہر جگہ لڑکیاں نظر آئیں گی ایک اور بات لڑکیوں میں مقابلہ کرنے کی قوت بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے لڑکیاں زیادہ مشکل حالات کا مقابلہ صبر واستقامت سے کر سکتی ہیں
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، یا اللہ جب آپ اپنے بندے پر مہربان ہوتے ہیں تو کیا عطا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی عطا کرتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر کہا جب زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا تو میں دوسری بیٹی عطا کرتا ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر سب سے زیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر کیا عطا کرتے ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیسری بیٹی عطا کرتا ہوں اور فرمایا کہ جب میں اپنے پیارے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں تو اس بیٹے کو بولتا ہوں جاؤ اور اپنے باپ کا بازو بنو اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں تو مجھے اپنی خدائی کی قسم کہ میں اس کے باپ کا بازو خود بنوں گا۔
اس سے ثابت ہوا کہہ بیٹیاں اللہ پاک کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہیں اور ہمیشہ ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھا جانا چائیے ویسے بھی ہمارے ہاں بیٹیاں اپنے بابا کی پریاں بھی ہوتے بابا کی آنکھوں کی چمک اور بابا کے دل کی دھڑکن ہوتی اور والدین بیٹی کی پیدائش سے ہی اپنی بیٹی کے لئے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں مانگتے رہیتے اللہ سبحانہ تعالی ہر بیٹی کے مقدر خوبصورت بناۓ یہی ہر والدین کی خواہش ہوتی
بیٹیاں ہر گھر کی گڑیا ہوتی رونق ہوتی اور اپنے بابا کے لئے کسی بھی قیمتی زیور سے کم نہی ہوتی ہیں ۔اگر بیٹی باپ کے گھر میں ہوتی ہے تو رحمت ہوتی ہے شادی شدہ ہوتی ہے تو آگے جا کر کسی کے بچوں ماں یعنی جنت بنتی ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالی کے حکم ہے جنت ماں کے قدموں میں ہے اور یاد رکھیں ماں ایک بیٹی بنتی ہے۔ہمیں سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو رحمت سمجھیں گے، اور ہمیشہ بیٹیوں کی ولادت پر بھی ایسے ہی خوشیاں منائیں گے جس طرح بیٹوں کی ولادت پر مناتے ہیں ہماری بیٹیاں ہماری بخشش کا ساماں ہیں ، اللہ پاک تمام بیٹیوں کے مقدر خوبصورت بناۓ آمین ثمہ آمین@ChAttaMuhNatt
-

نچلے طبقے کا احساس۔ تحریر : انجینیئر مدثر حسین
اپنے نچلے طبقے کے لوگوں کا احساس کرنا صرف حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ ہر
صاحبِ استطاعت کا فرض بنتا ہے کہ اپنے سے کمتر اور غریب غربا لوگوں کا احساس کرے۔ایسے لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھے روز محشر صرف نمازوں اور حج و عمرے کا سوال نہیں ہو گا آپ کے اور بھی کچھ فرائض ہیں
اللہ تعالٰی دولت دے کے بھی انسان کو آزماتا ہے کہ تم اس کی مخلوق کے غریب لوگوں کے ساتھ کیسا برتاو رکھتے ہو۔
جب دولت کا حساب ہو گا جس کو آپ کمزور اور غریب طبقے پر خرچ کر سکتے تھے لیکن نہیں کیا
کسی غریب کے لیے احساس کا ہونا ہی انسانیت ہے۔ اپنی سیاسی جماعت سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کا خیال رکھنا ہی انسانیت کی معراج ہے لیکن بحیثیت قوم ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو چکے ہیں ہمارے اندر احساس ختم ہو چکا ہے ۔
ہم اپنی شادیوں میں لاکھوں روپے اڑانے والے کبھی بھوکے کو ایک وقت کا کھانا نہیں کھلا پاتے یہاں تک کہ اسی معاشرے کے عزت دار اور سفید پوش افراد بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک حصہ طاقتور افراد ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اللہ پاک کی عدالت میں جب انصاف ہو گا تو ہم سب وہاں مجرم ہونگے انسانیت کے مجرم روز قیامت شرمندہ ہونگے ہمارے ملک کے اندر ایک بڑی تعداد میں ایسے افراد ہیں جو دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں پھر یہی لوگ کچھ بھیک مانگتے ہیں تو کچھ سارا دن محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں
اس غربت ، بھوک اور افلاس کی ذمہ دار صرف حکومت وقت ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص ہے جو اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہے جس اللہ نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن شاید ان امیروں کو اس پر یقین کم ہے اسی لیے تجوریاں بھر رہے ہیں۔
بحیثیت ایک سچا مسلمان ہمیں اپنے حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے اللہ تعالٰی کی مخلوق کی مدد کرنی چاہیے ہمیں اپنے اندر احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری وجہ سے اس معاشرے کے وہ افراد جن کے سر پر چھت نہیں جن کی کوئی شناخت نہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ان کا سہارا بن سکیں۔اللہ تعالی ہم سب کو سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائیں ۔آمین
@EngrMuddsairH