Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل تحریر  : راجہ حشام صادق

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل تحریر : راجہ حشام صادق

    موجودہ دور میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان نہ ہو۔ ویسے بتاتا چلوں مہنگائی ایک بین الاقوامی مسلہ ہے۔ اس وقت پوری دنیا کے سبھی ممالک میں ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک بڑی حد تک یہ ایک فطری امر بھی ہے کیونکہ دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس رفتار سے چیزوں کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔ یہ بات تو ہم باخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کے خواہشمند زیادہ ہو جائیں تو اس کی قیمت زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    دنیا میں پٹرول، کوئلے، لوہے وغیرہ کے ذخیرے صنعتی ترقی کے پیش نظر جس تیزی سے استعمال ہوئے اس تیزی سے نئے ذخیرے اور وسائل کی دریافت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ چند عام سے حقائق ہیں جو پوری دنیا کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی۔

    مہنگائی کا طوفانے بدتمیزی برپا کرنے والو سنو زرہ

    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا اس وقت صحت انصاف کارڈ تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا احساس پروگرام تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا آمن تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا دنیا میں آپ کی کوئی عزت تھی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا کسی نے قومی قرضے واپس کرنے کا سوچا بھی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا کسی نے یہ جمہوری لباس میں ملبوس لٹیروں سے ریکوری کی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    ملک کی یہ حالت کرنے والوں پر اس طرح کبھی زمین تنگ تھی ؟

    مہنگائی پہلے تو بھی تھی
    مگر اس وقت صرف غریب روتے تھے آج غریبوں کو لوٹنے والے رو رہے ہیں اس مہنگائی پر مگرمچھ کے آنسووں بہانے والوں اللہ تعالٰی کا خوف کرو غریب اور مہنگائی کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا بند کرو۔
    اس سے پہلے ملک کے بدترین حالات تھے الحمدللہ اب بہترین کی طرف گامزن ہیں قارئین کسی کے پروپیگنڈے کرنے سے یہ حالات کو نہیں جھٹلا سکتے کہ
    الحمدللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت دنیا کے نقشے پر ابھر رہا ہے۔

    بس عوام نے کھبرانہ نہیں ہے الحمدللہ بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔
    پہلے ہمارا ٹیکس لادین حکمرانوں کے بچوں اور بچیوں کی عیاشی پر خرچ ہوتا تھا
    اب مہنگائی تو ہے پھر بھی سہولیات کسی نا کسی طریقے سے غریب تک پہنچ رہی ہے ۔

    اللہ پاک آپ کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • لازوال قربانیوں کی داستان  تحریر  : راجہ ارشد

    لازوال قربانیوں کی داستان تحریر : راجہ ارشد

    ۔

    حصہ اول
    آزادی کی جستجوں میں ناجانے کیسے کیسے کڑیل جوانوں نے اپنی جان کے نزرانے پیش کیے ، جانے کتنی ماؤں کی گود ویراں ہوئ،ان گنت سہاگنوں کے سہاگ اجڑے ،لاکھوں معصوموں جانوں کو نیزوں میں پرویا گیا لاتعداد بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں ۔لاکھوں بچوں نے یتیمی کا تاج پہنا تو پھر کہیں جا کے آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

    دنیا کے کیلنڈر پے نقش 14 اگست 1947 کا دن ایک دن نہیں بلکہ لازوال قربانیوں،ازیتوں اور عظم و حوصلے کی داستان ہے جو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے

    لاالہ کے نام پر حاصل کی گئ یہ سر زمیں پاک ہمارے اجداد کی قربانیوں اور وفاؤں کی ایک لا زوال داستاں ہے جس کا لفظ لفظ لہو سے تحریر ہے جسکی اک اک سطر ہمت و استقلال اور درد کی لامحدود گہرائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

    1862 سے 1867 تک تایخ برِصغیر کے الم ناک سال تھے اس عرصے کے دوران 14 ہزارا علمائے دین کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا گیا دہلی سے لیکر پشاور تک کوئی درخت ایسا نا تھا جس پہ ظالموں نے کسی مسلمان کا سر نا لٹکایا ہو ۔

    بادشاہی مسجد جو آج عزیز ہم وطنوں کے لیے صرف تفریح گاہ ہے اس کے صحن میں ایک دن میں ان گنت علماء کرام کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا سلام ہے ان مرد مجاہدوں پہ جن کے سر انگریزوں کے سامنت جھکنے کو تیار نہ تھے وہ صرف لاالہ کا ورد کرتے قربان ہوتے چلے گئے ۔
    برِصغیر کے مسلمانوں پہ جب مایوسی کے بادل چھانے لگے تو چند عظیم ہستیوں نے انقلاب آزادی کا بیڑا اٹھایا ۔

    قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال اب ایک طرف اقبال کا خواب آزادی اور مسلمانوں کی بیداری کا جزبہ تھا تو دوسری طرف قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت جس نے مسلمانوں میں نئ روح اور آزادی کی امنگ پیدا کی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمانانِ برصغیر کو ان کی اعلیٰ روایات یاد دلاتے ہوئے مسلم لیگ کے اجلاس میں فرمایا مسلمانوں میں اخلاقی سیاسی اور ثقافتی شعور کا وہ پہلا سااحساس نہیں رہا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامیان ہند نے اپنی عظمت رفتہ کو آوازدی۔ جرأت، محنت اور استقلال کو مشعل راہ بنایا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ تحریک پاکستان کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئی۔

    23 مارچ کو قرار داد پاکستان کے منظور ہونے کے بعد مسلمانوں کی جدو جہد آزادی نے زور پکڑا لیا مگر وہی دشمنان اسلام کی سازشیں بھی کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئیں ۔آفرین ہے ان بزرگوں ہستیوں پر جنہوں نے اپنے خون سے اس تحریک آزادی کو سینچا اور بلا آخر14اگست 1947 کو سرزمین مقدس پاکستان دنیا کے نقشے پر مانند آفتاب طلوع ہوا۔

    آج 14 اگست کا دن ہمیں پکار پکار کر یہ کہہ رہو ہے کہ اے اہل وطن! تم اس دن کی اہمیت اور قدروقیمت بھول گئے؟
    آزادی کے اس دن کو دیکھنے کیلئے تم نے جانیں قربان کرنے کی قسمیں کھائی تھیں اور تعمیر وطن کیلئے عظیم جدوجہد کی تھی۔تم نے تو اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہوکر یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم پاک وطن کو مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ مملکت بنائیں گے۔ ہم اس وطن کو محبت و اخوت، بھائی چارے، امن و سکون، اسلامی تہذیب پر اسلامی نظام کا گہوارہ بنائیں گے۔ 14 اگست کا دن ہم سے سوال کرتا ہے کہ آج پاکستان کس مقام پر کھڑا ہے؟ آج پاکستان میں لاقانونیت کیوں ہے؟ ناانصافی کیوں ہے؟ درحقیقت آج کا دن ہم سے قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق اتحاد، ایمان اور تنظیم کا تقاضا کرتا ہے۔

    @RajaArshad56

  • مہنگائی کا شور  تحریر : سحر عارف

    مہنگائی کا شور تحریر : سحر عارف

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کا شور ہر دور کی حکومت میں رہا ہے ہماری عوام کی یادداشت شاید بہت کمزور ہے اس لیے ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے بہت جلدی بھول جاتے ہیں اس لیے آجکل عمران خان حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ ہماری عوام کو اتنا شعور تو ہونا چاہیےکہ مہنگائی کی بنیادی وجوہات اور موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں میں فرق کر سکیں۔

    اس وقت سب سو رہے تھے جب اسی قوم کے نام پر بیرون ممالک سے قرضے لیے گئے جن میں سے 20٪ سے بھی کم عوامی فلاح کے لیے خرچ ہوتا تھا باقی تو حکمرانوں نے اپنے اکائونٹس بھرے قرض وآپس کرنے کے لیے اور سود پے قرضے لیے جاتے تھے
    قرض اتارنے کے لئے مزید قرضے لے کر عوام کو کچھ سہولیات بھی دی جاتی تھیں تاکہ کوئی بولے نہ 2018 کے انتخابات تک پاکستان اس جگہ پر پونچ چکا تھا کہ مزید ملک کا نظام چلانے کے لئے ایٹمی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے تھے آپ کا یہ ملک ڈیفالٹر ہونے والا تھا مزید پابندیاں لگنے جا رہی تھیں
    مشکل کے اس دور میں محب وطن وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے بیرونی ممالک کے پے در پے دورے کیے ملکی حالات سے آگاہ کیا اور دوست ممالک سے مدد لی۔

    الحمدللہ اب پاکستان کو پاوں پر کھڑا کیا ہے لیکن ہماری عوام کی یادداشت کمزور ہے اسے مفادات کی ضرورت ہے آرام طلبی ان کی رگ رگ میں خون کی ماند شامل ہو چکی ہے۔ یاد رکھیں غلام ذہن کبھی بھی مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتے ان کو صرف سکون اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے قومی غیرت اور خودداری سے ان کا کوسوں دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا

    ابھی حال ہی میں موجود حکومت نے تقریبا 19 ارب ڈالر بیرونی قرض واپس کیے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو ہے 2008 سے 2018 تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریبا برابر ہے یا اس سے کسی حد تک کم ہے
    کرونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے پوری دنیا کے طاقتور ممالک اور ان کی عوام دو وقت کے لالے پڑھے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے ممالک کی معیشتیں تباہ ہو گئیں لیکن ان مشکل حالات میں بھی الحمدللہ پاکستان نے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوا ۔عوام تک احساس پروگرام کے ذریعے گھر گھر راشن پہنچایا جو کہ ہر ایک خاندان بارہ ہزار روپے کی صورت میں عوام کو میرٹ پر ملا عوامی وزیراعظم نے غربت اور دور دراز سے آنے والے مسافروں کے لئے لنگر خانے اور مسافر خانے بنوائے جو ریاست مدینہ کے ماڈل جیسی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہیں۔ مافیاز سے مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے بڑے بڑے کاروبار پر ملک اور عوام دشمن بزنس مین کا قبضہ ہے اس کے باوجود بہادر اور نڈر حاکم کھڑا ہے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہرممکن کوشش کر رہا ہے پوری دنیا میں مہنگائی کی شرح کو دیکھتے ہوئے مملکت خداداد میں آج بھی مہنگائی کی شرئع انتہائی کم ہے ہمارے ہاں کسی چیز کا فقدان ہے تو پڑھے لکھے لوگوں کے اندر بھی شعور کی کمی ہے۔
    باشعور قوم بننے کے لئے وقت تو لگے گا لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو جائے گی عوامناس کے مفادات کے لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے مگر اس ملک کی سمت درست کرنے کے لئے وقت تو درکار ہے مہنگائی کرنے والے دو نمبر اشیاء بنانے اور فروخت کرنے والے بھی ہم عوام ہی ہیں مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اور ریاست مدینہ جیسے ماڈل کی ریاست بنانے کے لئے ہم عوام کو آگے بڑھ کر سب سے پہلے اپنی سمت درست کرنا ہو گی
    تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے کریں یہ ملک ان شاءاللہ اٹھے گا اور ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے۔

    @SeharSulehri

  • پاکستان کیا ہے؟ تحریر: شہاب خان

    پاکستان کیا ہے؟ تحریر: شہاب خان

    *صرف چند منٹ نکال کے پڑھ لیں ان شاءاللہ کبھی پاکستان سے گلہ نہیں رہے گا آپکو*

    دُنیا میں دُوعالمی جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ تیسری اور فیصلہ کُن جنگ ابھی ہونا باقی ہے جس کے لیے میدان سج رہا ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ھو گی۔ اگر ہم دیکھیں تو دُنیا میں دو ممالک ھی خالص مذھب کی بنیاد پر بنے ھیں ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل جبکہ پاکستان اسلام کے نظریہ پر بنا اور اسرائیل یہودیت کے نظرئیے پر قائم ھوا۔

    اسرائیل اپنے وجود کے قیام سے ھی پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتا ھے جسکی بنیادی وجہ پاکستان کا خالصتاً مذھب اسلام کے نام پر وجود میں آنا ھے اور اسرائیل اچھی طرح جانتا ھے کہ وہ پورے عرب کو زیر کر سکتا ھے لیکن اگر اسے کبھی سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ صرف پاکستان ھے۔ گو کہ پاکستان اور اسرائیل کی کبھی دانستہ و دست بہ دست لڑائی نھیں ھوئی لیکن اسکے باوجود اسرائیل پاکستان سے ایک بار عرب اسرائیل جنگ میں شکست کھا چکا ھے جسکے بعد اسکا یہ یقین ایمان میں بدل چکا ھے کہ پاکستان کے فناء میں ھی اسکی بقاء ھے اسی لئے اسرائیل پاکستان کو باالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نھیں جانے دیتا۔

    اسرائیل پر یہ بات رُوزِ رُوشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو اللہ نے وجود کیوں دیا جبکہ یہ ہماری بدقسمتی اور نااہلی ہے کہ ہم قیام پاکستان کا مقصد ھی نھیں جانتے اور جانے انجانے میں الٹا اپنے ھی وطن کو نقصان پہنچانے میں لگے رھتے ھیں۔

    پاکستان اور اسرائیل کا مذاہب کے نظریہ پر وجود میں آنا کوئی اتفاقاََ حادثہ نھیں بلکہ اس بات کا پیش خیمہ ھے کہ دنیا کی آخری جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہو گی اس پئے اس بات سے قطعی انکار نھیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کوئی عام ملک نھیں بلکہ پاکستان دنیائے ارض کا سب سے اھم اور خاص ملک ھے۔

    پاکستان ھے کیا جسکے بنانے والے بھی چُنے ہوئے، جس کے بننے کا دن بھی چُنا ہوا، جس کا جھنڈا چُنا ہوا، جس کے بننے کا مقام بھی چُنا ہوا۔ جس کے بننے کا مقصد چُودہ سُو سال پہلے بتائے گئے سنہری اصولوں سے چن لیا گیا ھے۔

    جس کی بنیاد مضبوط کرنےمیں لاکھوں کلمہ گو کا خون، بہا جس کی جنگ میں خدا کی نصرت ساتھ رھی، جس کو مٹانے والے خود مٹ گئے، جس کو بچانے والے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارتیں پا گئے، جس کے خطے پر پیارے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئیاں کہ مجھ کو مشرق سے ٹھنڈی ہواؤں کے چلنے کا یقین لگتا ھے۔
    جس ملک سے اللہ اپنے عظیم گھر خانہ کعبہ کی حفاظت کا کام لیں، دُنیا کی پہلی اسلامی مملکت جسے اللہ نے ایک بہترین ایٹمی طاقت بنایا ۔دُنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دی ،دُنیا کے بہترین کمانڈوز، دُنیا کی بہترین فوج، دُنیا کا بہترین جنگی و دفاعی نظام، دُنیا میں محلِ وقوع ایسا دیا کہ دُنیا رشک کرتی ہے، دریا، سمندر، پہاڑ، میدان دئیے، تمام موسم دئیے دنیا کا ھر میوہ دیا، ھر فصل سے نوازا، سر سبز کھیت کھلیان دئیے

    دنیا کی دو سپر پاورز روس اور امریکہ کو پاکستان کے ذریعے نہ صرف شکست دلوائی بلکہ انکے غرور کو سمندر برد کروایا، ھمارے ازلی دشمن بھارت کو ھر بار ناکام و نا مراد لوٹا کر اسکی چیخیں پوری دُنیا کو سنوائیں۔ جس کے مجاہدوں کو دشمنِ دین و کفار سے ٹکرانے کا شرف ملے، ایسے میں یاد رکھنا وھی خدا ھے جو اس ملک کو چلا رہا ہے ،جس کے ہتھیاروں کا کوئی ثانی نہیں، جدید ٹیکنالوجی، ذہین لوگ، چُنے ہوئے انجینیرز اور سائنسدان جنہوں نے محدود وسائل میں ملک کیلئے وسائل بنائے، جو اپنی طرف اٹھنے والی ہر انگلی و ہاتھ کو وہ چوٹ دے جو ھمیشہ کیلئے عبرت بن جائے گویا خدا نے فضائے بدر کے ماحول میں فرشتے اتار دئیے ھوں۔

    جسے غزوہ ہند کی فتح کی خوشخبری چُودہ سُو سال پہلے مل جائے، جو لڑنے سے پہلے تیسری جنگ عظیم کیلئے صف آراء ٹھہرے، جس کا وجود مسلمانوں کے وجود کی ضمانت، کشمیر بنے گا پاکستان سے لیکر یا اھل الا فلسطین پکارنے والا۔

    گو کہ ایسی طاقت ایسی نعمت ایسے ملک سے دھوکہ وہ نا شکری ھے جس کا اذالہ جان دے کر بھی نھیں کیا جا سکتا۔

  • اخلاقیات کا مآخذ   تحریر:سید غازی علی زیدی

    اخلاقیات کا مآخذ تحریر:سید غازی علی زیدی

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    اخلاقیات کا مآخذ کیا ہے؟ اصول و اقدار کی پاسداری، حق وباطل کے تصور سے مکمل آگاہی ، شر سے مستقل لڑائی، فلسفیانہ تحقیق اور مسلسل جستجو۔ مختصراً جو علم انسان پر بھلائی اور برائی کی پہچان واضح کر دے، اچھائی برائی کا شعور دے، باہمی تعلق داری کو فروغ دے یہی علم اخلاق کی اصل روح ہے۔ خود احتسابی ایک مستقل جنگ ہے اصول و اقدار کی، تصورات و نظریات کی۔ ناقدانہ انداز میں خود کو سچ و جھوٹ کی کسوٹی پر وقتاً فوقتاً پرکھنے کی تاکہ اپنے اعمال و افعال کی واضح نیت آشکار ہو۔ یاد رکھیے بلاشبہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ جتنی نیت نیک ہو گی اتنا ہی انسان خود اعتماد اور ذہنی طور پر پرسکون ہو گا۔
    اخلاقیات کسی ایک امر تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار نہایت وسیع ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر و جامع موضوع ہے جس کی حدود ذات سے شروع ہو کر کائنات پر ختم ہوتی ہیں۔ انفرادی ہو یا اجتماعی، سماجی ہو یا مذہبی، عائلی ہوں یا قانونی غرض ہر شعبہ زندگی کے اعمال سے لیکر امور تک اخلاقیات کی پاسداری لازمی ہے۔ سیدھی راہ پر چلنے والے ہر حال میں اخلاقیات کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ فکری و عملی طور پر بہترین اخلاقیات کا تعین کرنا ہی اشرف المخلوقات ہونے کی اصل پہچان ہے۔
    محبت، شفقت، مدد، ایفائے عہد، حق گوئی و صداقت اعلی ترین اخلاقی اقدار کے زمرے میں آتے ہیں لیکن یہ نہ تو نفسیات ہے نا انسانی فطرت بلکہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے بالکل برعکس نفرت، جھوٹ، ایذارسانی، وعدہ خلافی ایسی علتیں ہیں جو انسانی شخصیت کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔
    اخلاقیات کو اپنانے والا انسان نہ صرف خود کیلئے بلکہ پورے معاشرے کیلئے خیر و برکت کا باعث بن جاتا ہے۔ شعور و آگاہی سے بہرہ مند افراد ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتے۔ لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے معاشرے میں سوچنا اور سمجھنا ایک غیر ضروری و قبیح فعل سمجھا جانے لگا ہے۔ عقل و شعور سے عاری لوگ نفسانفسی کی بھینٹ چڑھ کر اخلاقی طور پر مردہ لاش بن چکے ہیں۔ اصل اخلاقیات کا ادراک ختم ہو چکا۔ صرف پیسہ و اختیارات ہی کسی انسان کی عزت کا معیار بن چکے ہیں۔ بنیادی اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا شکار معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہے لیکن باشعور و سنجیدہ افراد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے۔جب تک ہم رجعت پسندی کو خیرباد کہہ کر درایت کو فروغ نہیں دیں گے تب تک ہم پسماندگی و تنزلی کا شکار رہیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے دانشور و اساتذہ بجائے متوازن تنقید اور اخلاقی اقدار کو رائج کرنے کے صرف پند و نصائح تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں انسانیت کی جگہ حیوانیت جڑ پکڑ چکی ہے جو کہ بگڑتے بگڑتے اس نہج پر پہنچ چکی کہ اب اخلاقیات بالکل مفقود ہو کر رہ گئی ہے۔
    مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
    گر بخود محکم نہ بودن چہ سود
    Twitter: ‎@once_says

  • بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز،آسڑیلیا نے نئے کپتان کا اعلان کر دیا

    بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز،آسڑیلیا نے نئے کپتان کا اعلان کر دیا

    آسڑیلین کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر بلے باز میتھو ویڈ کو بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز کے لیے کپتان مقرر کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسڑیلیا کی ٹیم ان دنوں بنگلہ دیش میں موجود ہے آسڑیلیا کی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف پانچ ٹی 20 میچز کی سیریز کھیلے گی۔اس سیریز کا پہلا میچ آج کھیلا جائے گا۔

    آسڑیلین ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے دورہ بنگلہ دیش سے انکار کردیا تھا جس کے باعث نئے کپتان کا اعلان کیا گیا ہے۔آسٹریلوی ٹیم میں ایرون فنچ، ڈیوڈ وارنر اور گلین میکسویل سمیت دیگر اہم کھلاڑی شامل نہیں ہیں۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    دوسری جانب پاکستان اور ویسٹ انڈیزکےدرمیان چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گامیچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا پاکستان کو چار میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

    بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد کے لئے…

    پہلا اورتیسرا ٹی20 میچ بارش کی وجہ سےبغیر کسی نتیجےکےختم ہوگئےتھے جبکہ دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سات رنز سے شکست دی تھی۔

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا ،غیر ملکی کھلاڑیوں کا کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت کا…

    خاتون نے 7 میڈل جیت کر ٹوکیو اولمپکس میں تاریخ رقم کر دی

  • بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد کے لئے آواز ضرور اٹھانی چاہیئے     اراکین یورپی پارلیمنٹ

    بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثرہ افراد کے لئے آواز ضرور اٹھانی چاہیئے اراکین یورپی پارلیمنٹ

    بارسلونا : سپین کی جانب سے یورپین پارلیمنٹ میں بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد انسانی حقوق کی شدید پامالی پر خط لکھنے والے یورپین پارلمینٹیرین میں6 ہسپانوی ممبران شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یورپین پارلمینٹیرین میں کاتالان آزادی پسند رہنما پوجدیمونت اور ان کی پارٹی کے دیگر دو اراکین شامل ہیں اس میں ایک رکن سوشلسٹ پارٹی اور ایک رکن سیوتادانس جماعت کا اور پودیموس کی جانب سے واحد یورپین پارلمینٹیرین ایدویا ولا نوا رویز شامل ہیں۔یوں مجموعی طور دونوں حکومتی جماعتوں ، حزب اختلاف اور آزادی پسند جماعتوں نے کشمیر کے موقف کی تائید کی ہے۔

    اراکین یورپی پارلیمنٹ نے اپنے کمیشن سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کو ہیومن رائٹس واچ ورلڈرپورٹ 2021 اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے ہیومن رائٹس نے 2018-2019 کی رپورٹ میں میں شائع کیا ہے۔

    ملک میں کورونا سے مزید 67 افراد جاں بحق

    انہوں نے کہا کہ 2019سے مقبوضہ کشمیر بدترین لاک ڈاؤن میں ہے، نقل وحرکت، معلومات تک رسائی، صحت، تعلیم اور آزادی اظہار کے حوالے سے حالات خراب ہیں۔

    یورپین کمیشن کے صدر ارسولا وون ڈیرلیئن اور نائب صدر جوزف بوریل کو مخاطب کرکے خط میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق، بنیادی آزادی اور بین الاقوامی قواعد کے مطابق قانون کے چمپیئن کے طور پر یورپی یونین کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے اپنی آواز ضرور اٹھانی چاہیے۔

    وزیراعظم ہاؤس میں اب پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ فیشن اور ثقافت کی تقریبات ہوں گی

    انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ یورپی یونین کو عالمی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل کروانے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنی تمام قوت اور ذرائع استعمال کرنے چاہیئں۔

    یورپی اراکین نے واضح کیا کہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کی حیثیت سے ہم بھارت اور پاکستان کی پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ ساتھ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ اپنی کاؤشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر تے ہیں تاکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے کشمیریوں کے مستقبل کے لیے ان کی آواز سننا اور فیصلے کا موقع دینا انتہائی ضروری ہے۔

    ٹریفک پولیس نے عامر لیاقت کےخلاف اندراج مقدمہ کے لئے سندھ پولیس سے رجوع کر لیا

    خط میں لکھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے، لوگوں کو عقوبت خانوں میں ڈالا جاتا ہے اور لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہے، کئی لوگ زیر حراست ہیں۔

    اراکین یورپی پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ بھارت یہاں پر قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے، یہ دو جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان خطرے کی علامت ہے جو کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتی ہے۔

    قائد ملت لیاقت علی خان کاخاندان کس حالت میں اورکس نے اُٹھائے گھرکے اخراجات؟اہم…

    اراکین یورپی پارلیمنٹ نے کہا کہ سیکیورٹی کے حالات مزید بگڑ گئے ہیں کیونکہ مقامی آبادی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور بھارت کا متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے ان حالات کی وجہ سے وادی میں بدامنی پیدا ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین تناؤ بھی بڑھتا ہے۔

    ہر ہفتے کم از کم 30 ہزار افغان بے گھر ہو رہے ہیں:امریکی اخبار

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھا اور آخری ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا پاکستان کو چار میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ پہلا اور تیسرا ٹی 20 میچ بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے جبکہ دوسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو سات رنز سے شکست دی تھی۔

    دونوں ٹیموں کی جانب سے پلینگ الیون میں ایک سے دو تبدیلیاں متوقع ہیں-

  • زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    زنا ایک ناسور، وجوہات۔ تحریر: احمد فراز خان

    کسی بھی معاشرے کی زینت اور مضبوطی اس کی اخلاقی اقدار میں پیوست ہوتی ہیں۔ زنا معاشرے کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ موجودہ دور میں بد اخلاقی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے جہاں معاشرے میں اخلاقی گراوٹ وقوع پذیر ہو رہی ہے وہیں معاشرے کا امن اور آزادی بھی انتہائی گہرائی سے مضروب ہو رہے ہیں۔
    معاشرے کی بقا اس کی اخلاقی اقدار، تہذیبی اصناف اور ذہنی بلندی سے وابستہ ہے۔
    آج کل کا معاشرہ جہاں مختلف مصائب کا شکار ہے وہیں زنا جیسا ناسور بھی اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
    زنا انسانی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گو کہ یہ انسانی جبلت ہے لیکن بطور انسان اخلاقیات بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑی جا سکتیں۔
    آج کل زنا کی وجوہات کو لے کر ایک وسیع و عریض بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ عورت کے لباس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے تو کسی کے نزدیک مرد کی نظر اس کی ذمہ دار ہے۔
    لیکن ہم ابتدا سے اس ناسور کا جائزہ لیتے ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں پہناووں کو لے کر ایک خاص رسم چل پڑی ہے جس کے تحت عورت کے پہناوے دن بدن سکڑ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دو سال کی بچیوں کو بھی ایسے ملبوسات پہنائے جا رہے ہیں کہ بچیاں کسی فیشن انڈسٹری کی ماڈل لگنے لگ گئی ہیں۔
    بچیاں ابھی دو سال کی ہی ہوتی ہیں کہ انہیں تنگ اور مختصر لباس پہنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ لباس مزید مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دوپٹہ جو کہ خاص مشرقی روایات میں سے ایک تھا، آج کل تو ناپید ہوتا نظر آ رہا ہے۔ زیرِ نظر شعر شاید ہمارے ماضی کے لئے کسی شاعر نے لکھا تھا کیونکہ ہمارا حال تو اس شعر کا بالکل بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔

    تعلق ہے میرا اس قوم سے، جس قوم کے بچے
    خریدیں جب کوئی گڑیا، دوپٹہ ساتھ لیتے ہیں

    عورت مختصر لباس میں معاشرے میں گھومتی ہے اور اسے اپنی آزادی کا نام دیتی ہے۔
    جبکہ دوسری طرف
    ایک بچہ جب دو سال کا ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتا ہے اور اس ماحول پر غور وفکر کرتا رہتا ہے۔ گو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچہ ہے اسے کوئی سدھ خبر نہیں ہو گی لیکن وہ مکمل طور پر معاشرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہی بچہ جب نوجوان ہوتا ہے اور اپنے اردگرد تنگ لباسی کو عام دیکھتا ہے اور وہ عورت جس کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا ہو لیکن وہ نیم برہنہ کپڑوں میں ملبوس کھلے عام گھوم رہی ہو تو اسے دیکھ کر وہ نوجوان بھی تنگ نظر بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نوجوان اپنی انسانی جبلت کے زیرِ اثر شہوانیت کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے اور حوا زادیوں کی طرف اس کی رغبت مزید بڑھنے لگ جاتی ہے۔
    ہمارے معاشرے میں شادیاں ویسے بھی دیر سے ہوتی ہیں اس لئے نوجوان غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    آج کل جہاں فحش ویب سائٹس عام ہیں اور فحش لباس میں ملبوس کچھ گمراہ ذہنی مریضائیں کھلے عام گھومتی ہیں وہیں کسی مومن کو ابلیس بننے میں دیر نہیں لگتی۔
    میری اس بات کا اگر آپ معاشرتی تجربہ کرنا چاہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے علاقے جہاں زنا کی سزائیں جرگوں میں دی جاتی ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے وہاں ترقی یافتہ شہروں کی نسبت زنا کی شرح نہ صرف انتہائی کم ہو گی بلکہ وہاں کی خواتین پردے کا بھی سختی سے اہتمام کرتی ہوں گی اور مرد بھی اپنی نظریں اپنے قابو میں رکھ کر گھومتے ہوں گے۔
    زیادتی اور اغوا کے جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں ان کی اکثریت ترقی یافتہ شہروں میں صرف اس وجہ سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر فیشن اور آزادی کے نام پر عورت سے اس کی حیا اور روایات چھین لی گئی ہیں اور عورت تک مرد کی دسترس آسان کر دی گئی ہے۔
    یہ نام نہاد آزادی اور فیشن کا ناسور مغرب سے درآمد ہو کر آیا اور اب مختلف این جی اوز اور دیگر اداروں کے ذریعے مشرق میں اس کی بڑھوتری اور ترویج پر کام جاری ہے۔
    بطور ایک منظم اور تہذیب یافتہ معاشرہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بنیاد کو نہ بھولیں۔ اس معاشرے کی بنیاد مشرقی اصولوں پر مبنی ہے۔ لہٰذا مغربی تہذیب اور پہناوے یہاں کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم اسلامی لباس اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد شروع کر دیں تو نہ صرف عورت کے لباس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس لباس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مرد کی تنگ نظری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
    کچھ لوگ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر زنا کی وجہ عورت کا لباس ہے تو پردہ دار خواتین اور بچے کیوں محفوظ نہیں؟ اس سے میری عرض ہے کہ جب کوئی جانور خونخوار بن جاتا ہے تو وہ اونٹ اور چوہے میں فرق نہیں کرتا۔ اسے جہاں بھی خون کی خوشبو آئے جھپٹ پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ خونخواری کی وجہ کیا ہے؟ اگر آپ معاشرے کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو آپ میری ساری گزارشات خود ہی سمجھ جائیں گے۔

    زنا جیسے ناسور پر قابو پانے کے لئے ہمیں جلد از جلد اس فیشن انڈسٹری سے چھٹکارہ حاصل کر کے معاشرے کو راہِ راست پہ لانا ہو گا۔
    اگر آپ نے ضائع ہوتا پانی بند کرنا ہے تو آپ کو بجائے اس پانی کو ٹھکانے لگانے یا پائپ کو مروڑنے کے نلکہ ہی بند کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جب تک سر نہ کچلا جائے سانپ زندہ رہتا ہے۔

    لکھنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک آرٹیکل میں سب دلائل اور گفتگو کا سما جانا ممکن نہیں۔ اس کے لئے بیسیوں صفحات پر مشتمل کتابچہ بھی شاید کم پڑ جائے۔ بہر حال ہم صرف جڑ سے ہی اس لعنت کو ختم کر سکتے ہیں اور کوئی حل نہیں ہے۔
    @1nVi5ibL3_

  • ‏بدعنوانی اور پاکستان  تحریر:  جہانتاب احمد صدیقی

    ‏بدعنوانی اور پاکستان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    قیام پاکستانی کے بدعنوانی پاکستان کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔. بدعنوانی سے نمٹنے کے مختلف اداروں کے باوجود بدعنوانی پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔. بدعنوانی ایک ایسا مہلک مریض ہے جس میں ملک کا ہر ارادہ مبتلا ہے، بدعنوانی پر قابو پانے کے بہت سے ادارے برسوں سے بدعنوانی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان کے شہری اس بدعنوانی کے نظام سے بے افسردہ ہیں۔.

    بدعنوانی چار اہم وجوہات کی بناء پر پاکستانی معاشرے کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سب سے پہلے ، پاکستان کی شبیہہ کو پچھلی چند دہائیوں میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ معاہدوں کو دیتے ہوئے بدعنوان طریقوں ، غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے منصوبوں کا آغاز اور اعلی سطح کے عہدیداروں کے ذریعہ منی لانڈرنگ نے ملک کے لئے ایک برا نام پیدا کیا۔.

    1996 میں ، برلن میں قائم سول سوسائٹی کی تنظیم ، شفافیت نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو دنیا کا دوسرا بدعنوان ملک قرار دیا۔. رپورٹ TI پاکستان کے لئے بہت شرمندگی کا باعث تھی کیونکہ اس نے ملک کی شبیہہ کو بکھر نہیں کیا بلکہ غیر ملکی عطیہ دہندگان کو بھی اس کے ترقیاتی منصوبوں میں پاکستان کی حمایت کرنے کی حوصلہ شکنی کی۔

    جب غیر ملکی کمپنیوں اور ایجنسیوں سے کمیشن لینے کے نتیجے میں لالچ کی ثقافت گہری ہوگئی تو ، دنیا کا اعتماد اور اعتماد کم ہوا۔. ٹی آئی کے قومی بدعنوانی کے تصور این سی پی سروے 2010 کے مطابق پاکستان میں 2009 میں 195 ارب روپے سے لے کر 2010 میں 223 بلین روپے تک بڑے پیمانے پر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔.

    پاکستان میں ٹی آئی کے ذریعہ شناخت کیے جانے والے کچھ انتہائی کرپٹ ادارے اور علاقے یہ ہیں: پولیس ، بجلی کا شعبہ ، زمینی انتظامیہ ، مواصلات ، تعلیم ، مقامی حکومت ، عدلیہ ، صحت ، ٹیکس لگانے اور رواج۔

    ٹی آئی کے سروے کے مطابق ، موجودہ حکومت میں بدعنوانی میں پچھلے ایک کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔. نہ تو غیر ملکی شہری اور نہ ہی سمندر سے زیادہ پاکستانی جو اس ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں صرف اس وقت حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جب انہیں رشوت اور کک بیک کی شکل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔.

    بدعنوانی پر صرف اسی صورت میں قابو پایا جاسکتا ہے جب سیاسی اور انفرادی طور پر ہر شہری نہ صرف اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہو بلکہ اس عمل پیرا بھی ہو

    آخر میں ، پاکستان کے تمام حکام کو اپنی طرف سے بدعنوانی کے عنصر کو کم سے کم کرنے اور قانونی طور پر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔. شہریوں کو قانونی کاروبار کرنے پر توجہ دینی چاہئے اور کالے پیسے کمانے سے گریز کرنا چاہئے۔. اگر ہم چھوٹے عوامل پر بھی توجہ دیں گے تو ہم کسی نہ کسی سطح پر بدعنوانی پر قابو پاسکتے ہیں۔.

    ‎@JahantabSiddiqi