شروع سے ہی انسان کی جبلت میں لڑنا قبضہ کرنا شامل ہے۔اپنے لوگوں کے لیے اپنے مذہب کے لیےاپنے جذبات کے لیےاپنے اندر پیدا ہونے والی نفرت کے لیے وہ دوسرے انسان پر حملہ کرتا ہے۔گروہوں میں لڑنے لگا تو جنگیں شروع ہو گئیں۔ اب تک بڑی بڑی عظیم جنگیں ہو چکی ہیں۔اب جو جدید دور آیااُس میں پانچ جنریشنز بنائی گئیں جو جنگ کی اقسام ہیں۔دو جنگیں جب بھی ہوئی ان کے درمیانی وقفے کو امن کہتے ہیں، اور یہ وقت انسانوں کو بہت کم نصیب ہوا۔کیوں کہ جب سے دنیا بنی ہے جنگیں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔اربوں انسان اب تک اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، بے شمار انسانیت کا قتل ہو چکا ہے۔انسانوں نے ہی انسانوں کو قتل کیا ہے۔اس کیے کہتے ہیں کہ انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
فرسٹ جنریشن وار 1648 میں شروع ہوتی ہے۔اس وقت یورپ کے عیسائی آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس دور میں مذہبی رہنماؤں کےکنٹرول میں فوجیں ہوا کرتی تھیں۔ چرچ فیصلہ کرتا تھا کہ کدھر حملہ کرنا ہے اور کیسے جنگ لڑنی ہے۔ آج کل پاکستان میں ترقی ڈرامہ ارطغرل بہت شوق سے دیکھا جا رہا ہے اس میں بھی کافی حد تک چرچ سے فوج کو کنٹرول کیا گیا ہے۔تب بادشاہ کٹپتلی کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔1648 میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مذہب کو انہوں نے جنگ سے الگ کر دیا۔فوجیں پھر ریاست اور ان کے حکمرانوں کے پاس چکی گئیں۔فوجیوں کو پہلی مرتبہ باقائدہ یونیفورم دیاگیا۔فوجی اور عام آدمی میں واضح فرق نظر آتا تھا۔ اس وقت پیدل فوج اور بنیادی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑی جاتی تھی، یہ بنیادی ہتھیار تلوار، تیر اور نیزےیا ایسے ہی دیگر ہتھیار تھے۔فرسٹ جنریشن وار کے آخر میں بندوق کا استعمال بھی کیا گیا۔یہ بندوقیں آج کی جدید بندوقوں سے مختلف ہوا کرتی تھیں۔ اسے بہت مشکل سے استعمال کیا جاتا تھا۔تب جنگیں خالی میدانوں میں جا کر لڑی جاتی تھیں۔ اس دور میں فوجی جرنیل اپنی فوج کے ساتھ ہی میدانِ جنگ میں موجود ہوتے تھے ۔
سیکنڈ جنریشن وارکا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ اس جنریشن میں فرسٹ جنریشن وار کو موڈیفائی کیا گیا۔پہلے اگر بندوق کی رینج 10،20یا 50 میٹر تک تھی تو اب اس کی رینج 100،200یہاں تک کہ 500 میٹر تک ہو گئی تھی۔ فوجیں دور سے ہی اپنے دشمنوں پر حملہ کرتی تھی۔اب ان بندوقوں کو استعمال کرنا آسان ہو گیا تھا۔ان ہتھیاروں نے جنگ کا طریقہ کار ہی بدل دیا ۔اس دور میں ہی پہلی مرتبہ کیموفلج کپڑوں کا استعمال کیا گیا جسے فوجی پہن کر گردونواح کے مطابق خود کو ڈھال کر چھپ جاتے تھے۔فوج کو چھوٹے چھوٹے یونٹس میں بانٹ دیا گیا ۔جو جلدی حملہ کر کے چھپ جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ تھرڈ جنریشن وار میں بھی یہ طریقے استعمال کیے گے اور اب بھی یہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
گولہ باری ،ایٹم بم اور راکٹ بھی اسی دور کے آخر میں استعمال کیے گئے۔ جبکہ اس دور میں جرنیل فوجیوں کے ساتھ نہیں ہوتے تھے ،بلکہ محفوظ جگہ سے ریڈیو پر احکامات دیے جاتے تھے۔ اسی دور میں ہی پہلی بارکوڈ وارڈ استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کو حکمتِ عملی کا پتہ نہ چل سکے۔
امریکی سول وار ، سپینش سول وار اس کے علاوہ ایرن اور عراق کی جنگ 1980 سے 1988 تک سیکنڈ جنریشن وارکی مثالیں ہیں۔
اب چلتے ہیں تھرڈ جنریشن وار کی طرف۔ تھرڈ جنریشن وار میں مزید جدت آ گئی۔اب صنعتی انقلاب بھی آ گیا تھا۔دنیا اور ٹیکنالوجی بہت آگے بڑھ چکی تھی۔جنگ لڑنے والے ممالک نے یہ محسوس کیا کہ رفتار کی بڑی اہمیت ہے۔جتنی تیزی سے آپ جاتے ہیں اور جتنا آپ سرپرائز دیتے ہیں اُتنا زیادہ آپ اچھا لڑ سکتے ہیں۔اس جنریشن نے تیزی سے حملہ کرنے کے لیے ٹینکس بنائے۔ ہیلی کاپٹراورجہاز بنائے جواوپر سے بم پھینکتے تھے ۔ خطرناک میزائل استعمال کیے گئے۔ تھرڈ جنریشن وار زیادہ خطرناک تھی ۔اس میں ایک آدمی سیکڑوں لوگوں کو مار سکتا تھا۔جس فوج کے پاس ٹیکنالوجی کم ہوتی تھی اس کا فائدہ دوسری افواج اُٹھا لیتی تھیں۔رفتارحد سے بڑھ چکی تھی،دنوں کے فاصلے گھنٹوں اور منٹوں میں طے ہونا شروع ہو گئے تھے۔
پاکستان اور انڈیا کی جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں وہ سیکنڈ اور تھرڈ جنریشن وار فیئر کی جنگیں ہیں۔ کوریاکی جنگ،سوویت یونین ،امریکہ کی سرد جنگ ، اسرائیل اور عربوں کی جنگ اور افغانستان میں امریکہ کی جنگ تھرڈ جنریشن وار فیئر کی مثالیں ہیں ۔
آج بھی اگر کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک سے بَراہِ راست لڑے گا تو تھرڈ جنریشن وار کو ہی استعمال کرے گا۔ اس وقت ترقی اور یونان کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے اگر جنگ ہوئی تو یہ تھرڈ جنریشن وار ہی ہو گی۔
اب دیکھتے ہیں کہ فورتھ جنریشن وار کیا ہے۔اس میں فوج اور عام عوام کے درمیان فرق ختم کر دیا جاتا ہے۔اس میں سیاست اور جنگ مکس ہو جاتی ہے۔ فورتھ جنریشن وار میں یہ کیا جاتا ہے کہ پروپیگنڈہ کے ذریعےسے،فنڈنگ کے ذریعے سے،لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ،لوگوں کی غربت ، محرومیوں اور ناانصافیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے،نوجوانوں کو گمراہ کر کے ایسا لٹریچر دیا جاتا ہےجس پر اُن کے جذبات بھڑکتے ہیں اور پھر وہ ایک ایسے گروہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ کر دیتے ہیں یا پھر ایسا گروپ بن جاتا ہے جو کسی خاص مقصد کے تحت خاص قسم کے لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں فورتھ جنریشن وارفیئر۔اس کا آغاز 1989 میں امریکہ نے اپنی شاطر ذہنیت کے ساتھ کیا تھا۔
ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) فورتھ جنریشن وار کی مثال ہے جس نے پاکستان پر حملے کیے۔ایک وقت ایسا تھا کہ چالیس حملے ہوے پاکستان میں۔کبھی جی ایچ کیو پر حملہ کیا تو کبھی مساجد پر ،کبھی امام بارگاہ پر حملہ کیا تو کبھی بازاوں میں بم دھماکے۔یہ حملے فورتھ جنریشن وارفیئر کے حصہ تھے۔ٹی ٹی پی اور دوسرے گروہوں کو باقائدہ انڈیا ،اسرائیل اور سی آئی ای کی جانب سے فنڈنگ کی گئی۔
فورتھ جنریشن وار فیئر میں آج تک صرف ایک ملک ہے جس نے یہ جنگ جیتی ہے باقی ساری ریاستیں ہاری ہیں ۔ جہاں جہاں یہ جنگ چھڑی کوئی اس کو نہیں جیت سکا سوائے ایک ملک کے اور وہ ملک ہے پاکستان۔اس میں پاکستان کا بہت نقصان بھی ہوا اور فورتھ جنریشن وار ہے ہی مسلمانون کے خلاف کیونکہ اسے امریکہ نے شروع کیا تھا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کے اور مسلمانوں کے خلاف شروع کیا۔لیکن پاکستان اس سےکامیابی کے ساتھ لڑا اور اپنی جیت ثابت کی۔
یہ تو تھیں پہلی چار جنریشنز وار پانچوی بہت اہم ہے اس پر الگ سے تفصیل سے لکھوں گا اور انشاءاللہ بہت جلد آپ باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اَللہ نِگَہبان۔
@iamAsadLal
twitter.com/iamAsadLal
Category: بلاگ
-

وار جنریشنز کیا ہے؟ تحریر: محمد اسعد لعل
-

بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت تحریر : فیصل اسلم
اگر ہم تاریخ کا مطالع کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کے زمانہ جاہلیت یعنی نبی پاک ﷺ کی ولادت مبارکہ سے پہلے کے زمانے میں عربوں میں بے حیائی اور بے شرمی عام تھی مرد و عورت کے ناچ گانے سے محظوظ ہونا یہ سب اس وقت بھی عام تھا ۔
عرب کے بڑے بڑے شعرا عورتوں کے نازیبا حرکتوں اور اداوں کا ذکر اپنی شاعری میں فخریہ کرتے تھے اور اسی طرح بعض لوگ باپ کے مرنے پر معاذاللّه باپ کی بیوی یعنی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتے ۔ان کے علاوہ بھی بے شرمی و بے حیائی کی رسمیں ان میں عام تھیں الغرض جاہلیت کے معاشرے کا شرم و حیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا ۔
لیکن جب ہمارے پیارے رسول ﷺ دنیا کو اپنی نورانی تعلیمات سے منور کرنے تشریف لائے تو آپ نے اپنی نگاہ حیا دار سے ایسا ماحول بنایا کے ہر طرف شرم و حیا کی روشنی پھیلنے لگی جناب عثمان رضی اللّه عنہ جیسے لوگ پیدا ہونے لگے جن کے بارے میں خود نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کے عثمان سے تو آسماں کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
اور اسی باحیاپرور ماحول کا نتیجہ تھا کے جب حضرت ام خلاد نامی صحابیہ کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا تو یہ اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات لینے باہر نکلیں تو اس وقت بھی اپنے چہرے پر نقاب ڈالنا نہیں بھولیں
چہرے پر نقاب ڈال کے جب بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا اس وقت بھی با پردہ تو بی بی ام خلاد کہنے لگیں کے میں نے اپنا بیٹا ضرور کھویا ہے لیکن اپنی حیا نہیں کھوئی وہ اب بھی باقی ہے
معلوم ہوا کے نبی پاکﷺ نے اپنے ماننے والوں پر شرم و حیا پر مبنی زبردست ماحول بنایا اور آج ہم دیکھتے ہیں کے شرم و حیا کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ لوگ جو شرمیلے ہوں فطرتی طور پر ان میں شرمیلا پن زیادہ ہو اور وہ اسکا اظہار کریں تو انکو طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں ایسوں کو یاد رکھنا چاہیے کے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو جتنی زیادہ ہو اتنا ہی خیر میں اضافہ ہوتا ہے اسلئے رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کےحیا صرف خیر ہی لاتی ہےاور ہمارے معاشرے میں گردش آیام یا شامت اعمال نے جس طرح آج مسلمانوں کو جس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے وہ کون سی آنکھ ہوگی جو ہماری زبوں حالی اور ذلّت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو مسلمانوں کی ذلّت و رسوائی ، خوارگی ، بدنامی ، بے عزتی و محرومی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کیا کل بھی مسلمانوں کے احوال و کوائف یہی تھے جو آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں
انگریزی تہذیب ایک فتنا بار گھٹا بن کر افق عالم پر چھائی ہوئی ہے اور اکثر ممالک میں یورپی تہذیب ایک فتنہ اجتماعی و معاشرتی مفاسد و شرور کی آگ لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے کے یہ شرور وفتن کی لو پوری دنیا کو اپنے لپٹ میں لے لے گی اس میں شک نہیں کے ہمارا معاشرہ بری طرح بے حیائی کی لپٹ میں آچکا ہے فحاشی و عریانی کی تندو تیز ہوائیں شرم و حیا کی چادر کو تار تار کر رہی ہیں دور جدید کی خرافات نے غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے اس نام نہاد ترقی نے بے حیائی کو فیشن کا نام دے کر میڈیا کے ذریعے گھر گھر لا دیا ہے مغرب سے بے حیائی کی آنے والی آندھی تہذیب شرم و حیا کو ختم کرنے کے درپے ہے یہی وجہ ہے کے مسلم معاشرے میں بے حیائی و فحاشی کا چلن عام ہو رہا ہے
اسکی بنیادی وجہ علم دین سے دوری ہے
آج تفریح گاہوں میں بے حیائی کے مناظر عام ہو رہے ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں آج خواتین کی ایک تعداد ہے جو شرم و حیا کی چادر کو گھر میں رکھ کر بازاروں میں بے حیائی و بے شرمی کو فروغ دیتے ہوئے نظر آتیں ہیں اور پھر وہ مرد حضرات جنکی آنکھوں سے شرم و حیا کا سرمہ اڑچکا ہے وہ ایسیوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے نظر آتے ہیں پہلے تو فلم و ڈراموں کے حیا سوز منظر ٹی وی اور سینماؤں کی سکرینوں پر ہوتی تھی لیکن آج موبائل کی سہولت نے ان تک ہر کسی کی رسائی ممکن بنا دی ہے آج اجنبیہ اجنبی کے ساتھ اکیلی ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی حلانکے یہ حرام ہے
آج اجنبی اور اجنبیہ باہم ملاقات کرتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور مسکراتے نظر آتے ہیں آج شرعی پردے کو پورانے دور کی رواج میں شمار کیا جاتا ہے آج مسلمان عورت بینا پردے و حجاب کے بن سنور کے باہر باہر گھومنے میں فخر محسوس کرتی ہیں
مرد و عورت دونوں نے اسلامی تعلیمات و شرم و حیا کو بھولا دیا ہے ہمارے اسلاف کیسے ہوتے تھے اسکی ایک مثال یہ ہے کے ایک زمانے کے مشہور اللّه کے ولی حضرت یونس بن یوسف جوان تھے اکثر مسجد میں وقت گزارا کرتے تھے ایک بار جب آپ مسجد سے گھر جا رہے تھے تو راستے میں آپکی نظر اچانک ایک عورت پر پڑی اور دل اس کی طرف مائل ہونے لگا پھر آپ نے شرمندہ ہو کر نظریں نیچی کرلیں اور پھر رب کی بارگاہ میں یہ دعا کی یا رب بے شک یہ آنکھیں جو تو نے دی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن اب ان سے مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کے کہیں میں انکی وجہ سے ہلاکت میں نہ پڑ جاؤں اور عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں اے اللّه میری ان آنکھوں کی بینائی سلب کرلے پھر انکی دعا قبول ہوئی اور وہ بھری جوانی نابینا ہوگئے
بے شک یہ ان بڑی ہستیوں کا کمال ہی ہے لیکن ہم بطور مسلمان اپنی نظروں کو ان کاموں سے روکیں جن سے بے شرمی و بے حیائی کا خطرہ محسوس ہو
اس میں کوئی شک نہیں کے شرم و حیا ایک ایسا مضبوط حصار ہے جو ذلّت و رسوائی کے تمام کاموں سے بچاتا ہے اور جب کوئی شخص اس شرم و حیا کے دائرے کو توڑنے کی صرف کوشش بھی کرتا ہے تو مسلسل بے شرمی و بے حیائی و فحاشی کے کاموں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے یوں تو انسان میں بہت سی عادتیں اور اوصاف پاۓ جاتے ہیں لیکن شرم و حیا ایک ایسا وصف ہے کے اگر لب و لہجے و عادات و حرکات و اطوار سے یہ پاکیزہ وصف ختم ہوجاے تو تو بہت سی اچھی عادتوں اور بہت سے عمدہ اوصاف پر پانی پھر جاتا ہے دیگر نیک اوصاف شرم و حیا کا وصف ختم ہونے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں اور ایسے خواتین و مرد دوسروں کے نظروں سے گر جاتے ہیں
یاد رکھیں دکھ سکھ۔ خوشی غمی ۔ غصے اور شفقت سمیت بہت سے اور اوصاف جانوروں میں بھی پاۓ جاتے ہیں جبکے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے یہ جانوروں میں نہیں ہوتی تو انسان و جانور میں فرق شرم و حیا کے ذریعے ہی ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی انسان میں سے شرم و حیا جاتی رہے تو اب اس میں اور جانور میں کچھ خاص فرق نہیں رہ جاتا اسلئے ہمارے دین نے شرم و حیا اپنانے کی بہت ترغیب دلائی ہے
نبی و آخری رسول ﷺ کے کچھ ارشادات حیا ممتعلق درج ذیل ہے
1)آپ ﷺ نے فرمایا
بیشک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بگی اٹھا لیا جاتا ہے
2) آپﷺ نے فرمایا
بیشک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے
3)آپﷺ نے ارشاد فرمایا
بے حیائی جس چیز میں ہو اسکو عیب دار کردیتی ہے اور ہی جس چیز میں ہو اسکو زینت بخشتی ہے
اللّه پاک ہمارے معاشرے سے بے حیائی و بےشرمی و فحاشی کی نحوست کو ختم فرما دے امینگناہوں سے بھرپور نامہ ہے میرا
مجھے بخش دے کر کرم یا الہی@FsAslm7
-

ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد
ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے اپنے اقدامات اور اعمال کو نہیں دیکھتے ہر وقت ہیرا پھیری انسان کا وطیرہ بن گیا ہے ٹھگی کرنا دھوکہ دے کر پیسہ کمانا ہم اچھا عمل سمجھتے ہیں یاد رکھیں جیسے ہم اور ہمارے اعمال ہوتے ہیں ویسے ہی ہم پر ہمارے حکمران ہوتے ہیں جیسے کہ
دودھ میں پانی ملانا:
لوگ دودھ میں پانی ملا دیتے ہیں کتنی ملاوٹ کرتے ہیں آپ سب جانتے ہیں کتنی مارکیٹیں بند ہوئی ہیں کتنے دفاتر آۓ روز بند ہوتے ہیں لیکن ملاوٹ کا سلسلہ نہیں رُک رہا اس ملاوٹ پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی جہاں دودھ میں ملاوٹ پکڑی گئی ہے وہاں سے دودھ تلف کر دیتے ہیں اور انہیں جرمانہ کر دیتے ہیں یہ دَھندہ پھر شروع ہو جاتا ہے بعض جگہوں پر دودھ میں کیمکل کا استعمال بہت کیا جارہا یے جس میں ڈیٹرجنٹ ، صابن، یوریا، سوڈا وغیرہ استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دل کے مرض اور کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں دودھ کو جانچنے کیلئے بہت سے طریقے ہیں جس کے بارے میں ہم سب کو پتہ ہونا ضروری ہے کہ جو دودھ ہم استعمال کر رہے ہیں کیا وہ بیماریوں سے پاک ہے کہ نہیں
دودھ میں اگر کیمکل کا استعمال کیا ہوا ہے تو اس کو جانچنا بہت آسان ہے دودھ کو سونگھ کر بھی دودھ کی بُو سے پتہ لگ جاتا ہے اس کے علاوہ دودھ میں انگلیاں ڈبو کر چکناہٹ سے بھی پتہ لگ جاتا ہے اس میں کیمکل کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں خالص دودھ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اگر خالص دودھ کو فریج میں رکھ دیں تو اگر ذائقہ بدل جاۓ اس کا مطلب اس میں ضرور ملاوٹ کی گئی ہے اس کے علاوہ دودھ کو چیک کرنے کیلئے ایک چمچ کھانے کا نمک اگر پانچ ملی لیٹر دودھ میں ملائیں اگر دودھ نہیں نیلا رنگ کر دیا تو اس کا مطلب ان میں ملاوٹ ہے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا کام ہر گاوں میں کیا جاتا ہے پھر بھی لوگ دھوکے بازی سے باز نہیں آتے اور ہمیشہ حکمرانوں کو کوستے نظر آتے ہیں اسی طرح شہد میں شیرے کا استعمال ہےشہد میں شیرے کا استعمال:
شہد کے بہت سارے فوائد ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اس میں شفا ہے انسانوں کیلئے”
آج کل بازاروں میں بہت سے لوگ گھومتے نظر آتے ہیں کہ شہد لے لیں ایسے چال بازوں سے ہوشیار رہیں وہ ملاوٹ والا شہد بیچ رہے ہوتے ہیں ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ایک واقع ہوا ایک بوتل شہد لی وہ بھی ملاوٹ والی ۔ اس کے بعد مجھے شہد جانچنے کا شوق ہوا کہ کیسے چیک کر سکتے ہیں شہد اصل ہے یا ملاوٹ والا پتہ لگ جاتا ہے
اگر کبھی بھی کو چھوٹ لگ جاۓ یا زخم ہوجاۓ تو شہد لگا کر دیکھیں اگر خون رک گیا تو شہد اصلی ہے ملاوٹ والا شہد ایک جگہ رُکے گا ہی نہیں (گاؤں میں اس طریقے کو عام استعمال کرتے ہیں)
شہد کی اپنی خاص خوشبو ہوتی ہے جس کو سونگھ کہ بھی پتا لگا سکتا ہے اگر آپ شہد میں ایک ڈیلی نمک رگڑیں تو اصل شہد کی پہچان یہی ہے کہ اس شہد میں سے نمک کا ذائقہ نہیں آۓ گا شہد کا اپنا خاص ذائقہ ہوتا ہے قبض کی حالت میں بھی ہم لوگ رات کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں 2 چمچ اگر خالص شہد کے حل کر کے پی لیں تو پیٹ ٹھیک ہو جائے گااب سوچیں اور بتائیں ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں پھر ہم کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایسا کر رہے ہیں ویسا کر رہے ہیں لیکن انسان کو یاد رکھنا چاہیے جیسی عوام ویسے حکمران ۔ ہم سب اپنے کردار کو نہیں دیکھتے اپنے مفادات کی خاطر لوگوں کا گلا کاٹنے تک چلے جاتے ہیں
اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح گھی کو کیمیکل سے لوگ تیار کر رہے ہیں اور اُس کے ساتھ مرغیوں کی انتڑیوں سے کیسے تیل تیار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے اسی وجہ سے اصل ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں@JingoAlpha
-

شادی سے پہلے دلہا دلہن کی مشاورت یا ٹریننگ کا سلسلہ تحریر : ام سلمیٰ
گو کے پاکستان میں یہ طریقا رائج نہں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ ضروری سمجھا جاتا ہے شادی کے بعد کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے یہ ایک نہایت آسان طریقہ ہے کے شادی سے پہلے دولہا اور دلہن کی ٹریننگ کی جائے اور ان کے اندر شادی سے متعلق جو سوال پیدا ہوں ان کو تفصیلی سمجھایا جائے.معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک وجہ یہ بھی ہے.
شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت یہ کیا ہے؟
شادی کی توقعات کا تعین کرنے سے لے کر اس بات کا تعین کرنے تک کہ آیا آپ اور آپ کا ساتھی دونوں زندگی کے معاملات کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرتے ہوئے اپنے زندگی کے نئے معاملات کو کیا طرح آسانی سے سلجھائیں گے. خواہ وہ بچے پیدا کرنے کے بارے میں ہو یہ زندگی کے کسی بھی معاملے پر دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں یہ ایک صفے پے آسکتے ہیں،کوئی سوال حد سے باہر نہیں ہے۔ اس کے بارے میں اس طرح سوچیں کے جتنا آپ اپنے لیے اہم ہیں دوسرے کے بارے میں بھی ضرور جانیں اور جانیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی ، جتنی جلدی آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں آگاہی ہوگی اتنی آسان آپکی زندگی ہوگی.شادی سے پہلے کی مشاورت/ٹریننگ کیا ہے؟
شادی سے پہلے کی مشاورت تھراپی کی ایک شکل ہے جو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔ عام طور پر ، شادی سے پہلے کے ماہر / کونسلر جوڑے کے بارے ساری بتائیں جانیں کی کوشش کرتا ہے اور شادی کے بارے میں جو جوڑے / کپل اپنے تاثرات تاثرات سے آگاہ کرتے ہیں ہیں پھر کونسلر / ماہر ان کو ان کے دماغ میں آئے سوالات کو صحیح طرح انہیں سمجھتا ہے.شادی سے پہلے آپ ضرور اس سے متعلق مشورہ کریں کونسلر /ماہر سے اور آپ ہر وہ چیز شیئر کریں جس کی آپ توقع کر سکتے ہیں اگر آپ اپنے شادی جیسے بڑے دن سے پہلے ماہر سے مشاورت کریں تو یہ نہایت مفید ہے.
مشورے کس سے کریں/ ماہر سے ملیں
ایک لائسنس یافتہ سائیکو تھراپسٹ ، ریلیشن کوچ سے.
1. آپ کی شادی کی توقعات اور کردار کے عقائد
آپ کو ایک اندازہ ہو سکتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی کیسی ہوتی ہے اور اس کا شراکت دار ہونے کا کیا مطلب ہے زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بد آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اور کیا مختلف محسوس کرتے ہے۔ شادی کی مشاورت میں ، آپ پتہ چلے گا کے آپ شادی کو کیا سمجھتے ہیں اور دوسرے شادی کے بارے میں کیا تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہر آپ سے اس کے بارے میں بات کریں گے کہ ہر شخص دوسرے سے کیا توقع کرتا ہے. آگر آپکو اپنے ساتھی سے توقع ہے تو وہ بھی کچھ توقع آپ سے رکھتا ہے.
ماہر آپکو یے بھی گائیڈ کرتا ہے کے آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرتا ہے شادی کے بعد
کسی حد تک ، ہم سب اپنے ماحول کے عادی ہوتے ہیں، زندگی میں کسی اور کے شامل ہونے کے بعد دوسرے کو اچھی بری عادتوں کے ساتھ قبول کرنا ہوتا ہے جو کے وقت اور ماحول کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی جاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم خوبیوں کو منتقل کرتے ہیں اور پرانے تعلقات سے نئے تعلقات کو دوبارہ تخلیق کرتے ہیں ، اور ہمیشہ ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کو اپنا لیتے ہیں.3. مستقبل کے تنازعات کو حل کرنے کے منصوبے۔
ماہر آپکو یہ بھی سمجھاتا ہے کے "اگر کوئی جوڑا آزادانہ طور پر کسی بھی موضوع پر بات نہیں کر سکتا ، چاہے کتنا ہی ذاتی ہو یا مشکل تو اس کے لیے ایک اچھی زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے اچھی پر سکون زندگی کے لیے شادی شدہ جوڑے کا آپس میں مشاورت کرنا ضروری ہے، شادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے شادی کی مشاورت اگر آپ مشورہ نہں کرنا چاہتے اپنے ساتھی کے ساتھ تو شادی کی کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں یے ایک اہم پہلو ہے.ماہر کے مطابق شادی میں خوش رہنے کا طریقہ
4. پیسے کا مناسب انتظام۔
ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ شادی کو آباد اور برباد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اس کے مناسب انتظام مستقبل میں ہونے والی مالی لڑائیوں کو روک سکتا ہے ، آپ شادی سے پہلے کی مشاورت میں اپنے پیسے کے تمام خیالات کو سامنے رکھیں گے۔ اور اپنے ساتھی اپنی سہی حالات سے صحیح طرح آ گا ه رکھیں ایک صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔ ہر ایک کی پیسے کی کہانی ، ماضی اور حال کی مالی تاریخ اور مستقبل کے مشترکہ اہداف اور ارادوں کے بارے میں واضح ہونا جوڑے کو اس مشترکہ تعلقات کی خرابی سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔صحت مند شادی میں پیسے کے بارے میں کوئی راز یا شرم نہیں ہونی چاہیے۔
5. مباشرت / جنسی تعلق کے مسائل سے بچنا۔
پیسے کی طرح ، مباشرت /جنسی تعلق انتہائی ذاتی ہے ، اور زیادہ تر جوڑے شادی کے کسی موقع پر مباشرت /جنسی تعلق کے مسائل میں پڑ جاتے ہیں.اس کے بارے میں بھی ماہر جوڑوں کو گائیڈ کرتا ہے.6. صحت مند ماحول کو فروغ دینا۔
کھلی اور براہ راست بات چیت کسی بھی تعلق کے کلیدی اجزاء ہیں ، خاص طور پر اگر آپ اور آپ کے ساتھی کے پاس بات چیت کے مختلف طریقے ہیں۔ شادی سے پہلے کی مشاورت آپ کے انداز کو دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور وہ آپ کی شادی کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔اگر آپ کا ساتھی صحت مند ہے اور مناسب طریقے سے غصے کا اظہار کرتا ہے لیکن غصہ آپ کے لیے چار حرفی لفظ ہے تو پھر بات چیت میں ایک مسئلہ بن جائے گا۔تو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا نہایت اہم ہے.شادی سے پہلے کی ماہر سے مشاورت آپکو کئی قسم کے مسائل سے بچا سکتی ہے آپ بچوں کے بارے میں بھی مشاورت کر سکتے ہیں شادی سے پہلے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کتنے بچے چاہتے ہیں اپنے ماہر سے بات کریں ، والدین کے شادی کے بعد کے انداز ، خاندانی میں ایک نئے فرد کی شمولیت اور بہت کچھ کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اس زریعے سے جوڑوں کو مسائل کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے میں ان کی اور ان کی شادی کو بہتر طور پر تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔
@salmabhatti111
-

بغض عمران کی سزا۔عوام کو کیوں ؟ تحریر-سید لعل حسین بُخاری
یہ چیز سمجھ سے بالاتر ہے کہ بلاول سرکار عمران خان سے عداوت کی سزا سندھ کے عوام کو کیوں دے رہی ہے؟
جب پوری دنیا نے عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو نہ صرف سراہا بلکہ پاکستان نے کرونا کی پہلی تینوں لہروں پر اسی کامیاب حکمت عملی سے قابو بھی پایا تو پھر بلاول میاں کیوں ضد پر اڑے ہیں۔
انہیں کیوں عوام کی مشکلات نظر نہیں آتیں؟
وہ مکمل لاک ڈاؤن سے کیوں غریب آدمی کا چولہا بند کرنا چاہتے ہیں؟
وہ کیوں تاجروں سے روزگار چھین لینا چاہتے ہیں ؟
وہ کیوں اُبھرتی ہوئ ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں ؟
سندھ حکومت کی نااہلیوں کی تو ویسے لمبی داستان ہے، مگر کرونا کے حوالے سے ہی بات کی جاۓ تو اب تک کرونا ویکسین کی چوری کے سب سے زیادہ واقعات بھی سندھ ہی میں ہوۓ۔
محکمہ صحت کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے لوگوں سے پیسے لیکر اُن کے گھروں میں جا کر ویکسین لگائ گئی۔
اس سرکاری ویکسین کا اندراج کسی اور کے نام کا کیا گیا،جبکہ ویکسین لگائ کسی اور کو گئی۔
اسی وجہ سے بہت سے لوگ جب ویکسین لگوانے ویکسی نیشن سنٹرز میں گئے تو یہ سُن کر ان کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی کہ ریکارڈ کے مطابق انہیں تو ویکسین لگ چکی ہے۔
اسی طرح پچھلے دنوں ٹیسٹنگ کے دوران 40ایسے افراد سامنے آۓ ،جنہیں کرونا کا بھارتی ویرئینٹ اپنا شکار بنا چُکا تھا۔
یہ لوگ کرونا پازیٹو آنے کے بعد پر اسرار طور پر غائب ہو گئے۔
جو سرا سر سندھ حکومت کی نااہلی تھی۔اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ان 40کرونا پازیٹو افراد کی وجہ سے تیزی سے پھیلنے والا بھارتی وائرس کتنا اور پھیلا ہو گا،اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔کیونکہ اس کے پھیلنے کی شرح بعض رپورٹس کے مطابق پرانے وائرس سے چار گنا زیادہ ہے-
سندھ حکومت نے شروع ہی سے SOPs فالو کروانے میں لیت و لعل سے کام لیا،جس کے باعث کرونا کی شرح سندھ میں سب صوبوں سے بڑھ گئی۔
ان سب باتوں کو چھوڑیے،
مراد علی شاہ کی ہونہار ٹیم ویکسین لگوانے کے انتظامات تک بہتر انداز سے نہیں کر سکی۔
کراچی اور پاکستان کے سب سے بڑے ویکسی نیشن سنٹرایکسپوسنٹر سمیت تقریبا” تمام ہی سنٹرز اس وقت تک ہُلڑ بازی اور طوفان بد تمیزی کا شکار ہیں۔
نہ لائنیں ہیں ، نہ ماسک ہیں اور نہ ہی مناسب فاصلہ ہے۔
جس سے خدشہ ہے کہ یہاں سے کرونا کم کرنے کی بجاۓ پھیلانے میں مدد کی جارہی ہے۔
ان سنٹرز میں لڑائ جھگڑے اور لاٹھی چارج کی بھی خبریں ہیں۔
دوسرے صوبوں کے بر عکس سندھ نے ٹیڈی پیسے کی ویکسین نہیں خریدی،حالانکہ بلاول کی پسندیدہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائ معاملہ ہے۔
ان بدحالیوں اور ناہلیوں کے بعد بلاول کے وہ دعوے کدہر گئے، جن میں وہ کہتا تھا کہ سندھ کا مقابلہ باقی صوبوں سے نہیں،دنیا کے دیگر ممالک سے ہے۔
دنیا کا کونسا ایسا ملک ہو گا؟
جہاں سندھ جیسی ابتری اور خراب ترین صورتحال ہو گی۔
بلاول کے دعوے اپنی جگہ
سندھ کےبہت سے ہسپتالوں اور سکولوں میں اب بھی گدھے بندھے نظر آتے ہیں۔
آوارہ کتوں کے کاٹنے پر لگائ جانے والی ویکسین دستیاب نہ ہونے کی بدولت کتنے معصوم بچے اور بڑے اپنی زندگی کی بازی ہار چُکے ہیں۔
ان لوگوں کا خون کس کے سر ہے؟
ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ بلاول کی بہن آصفہ آوارہ کتوں کو مارنے کی مخالفت کرتی ہے۔اُس کے نزدیک یہ جانوروں کے حقوق کی پامالی ہے۔
اس خاندان کے لئے باعث شرم ہے کہ جو انسانوں کے مرنے کی تو پرواہ نہیں کرتا مگر جانوروں کے حقوق کا محافظ ہے۔
ان کے نزدیک انسان تو کتوں کے کاٹنے سے مرتے رہیں،مگر کتوں کو نہ مارا جاۓ،کیونکہ یہ حقوق کی پامالی ہے۔
ہر شعبے میں ناکامی کی زمہ داری وفاق اور عمران خان پر ڈالنامعمول بن چکا۔
مراد علی شاہ کے وزرا اور مشیروں کو جب بھی دیکھیں۔ٹی وی سکرین پر وفاق کے خلاف چارج شیٹ لے کے بیٹھے ہوتے ہیں،
مقصد صرف اپنی نا اہلیاں چھپانا اور اپنی نوکریاں پکا کرنا ہوتا ہے۔
نہ کوئ منصوبہ بندی نہ کوئ حکمت عملی۔
سندھ حکومت کب خواب غفلت سے جاگے گی؟
کب بغض عمران سے نکل کر سندھ کے عوام اور پاکستان کا سوچے گی؟تحریر-سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari -

مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے
اسلام آباد: مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری قوم آج یوم استحصال منا رہی ہے۔
باغی ٹی وی : بھارت کے غیر قانونی قبضے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ وادی چنار کے فوجی محاصرے کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں بھارت کی مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور کشمیری عوام کے خلاف بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کی مذمت کے لیے متعدد تقاریب منعقد کی جائیں گی۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں یکجہتی واکس کا انعقاد کیا جائے گا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اسلام آباد میں واک کی قیادت کریں گے واک کے شرکا سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائیں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ایک منٹ کی خاموشی کے دوران ٹریفک رک جائے گا اور سائرن بھی بجائے جائیں گے اور ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن چینلز ایک منٹ کی خاموشی کے فوراً بعد پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے بجائیں گے۔
بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم
رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت صوبائی دارالحکومتوں کی مرکزی شاہراہوں پر پوسٹرز اور بل بورڈز آویزاں کئے گئے ہیں جن پر کشمیری عوام کی حالت زار کو اجاگر کیا گیا ہے اور مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے مظالم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یو م استحصا ل پر اپنے پیغام میں صدر مملکت کا کہنا ہے کہ ہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
وزیر اعظم کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو جبری حراست اور انسانی حقوق کی دیگر بدترین پامالیوں کا سامنا ہے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کا محاسبہ کریں۔
جب تک کوئی قانون نہیں ہوگا، خواتین زیادتی کا شکار رہیں گی، ماہرہ خان
-

تھیلسیمیا نسل در نسل چلنے والا مرض تحریر: سحر ملک
میرا ریسرچ ورک حمزہ فاؤنڈیشن پشاور میں تھا میں جب بھی ڈیٹا کولیکٹ کرنے جاتی تو وہاں بچوں کے ساتھ وقت گزارتی اسطرح ان سے دوستی ہو جاتی۔ ہر ہفتے یا تین دن بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہو پاتی تھی، ان میں ایک لڑکی طیبہ بھی شامل تھی جو لگ بھگ میری ہم عمر تھی لیکن دکھنے میں کافی کمزور دبلی پتلی سی تھی خون کے موذی مرض (تھیلیسیمیا) نے اس کی جسمانی ساخت پر اثر کر رکھا تھا۔
وہ جب بھی مجھے دیکھ لیتی تھی میرے پاس دوڑ کے آ جاتی تھی۔ اسکا تعلق چارسدہ سے تھا مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب اس سے بات ہوتی اسکی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہوتے تھے۔ایک دن مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھ ہی ڈالا کہ تم رو کیوں رہی ہو اس نے کہا کہ یہ بھی کیسی زندگی ہے ہر ہفتے مجھے اپنے گھر والوں کو تکلیف دینی پڑتی ہے کہ مجھے پشاور لایا جائے اسکے والد ٹریفک پولیس تھے وہ اسے پشاور لانے کے لئے چھٹی نہیں لے سکتے تھے تو اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اسکی خواہش تھی کہ وہ بھی ہماری طرح زندگی جئے۔
طیبہ نے مجھے بتایا کہ اسکے ساتھ زیادہ تر چھوٹے بچے ہیں اور اسکا ایک ہی واحد دوست تھا جو اسکا ہم عمر تھا اسکا بھی چند دن پہلے انتقال ہو گیا ہے اسکے انتقال کے بعد طیبہ نے بھی جینے کی امید چھوڑ دی۔
یہ کہانی صرف طیبہ کی ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس بچے کی ہے جو تھیلسیمیا جیسی خونی بیماری سے لڑ رہا ہے۔
آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اور کس کو متاثر کرتی ہے؟
8 مئی یومِ تھیلسیمیا کے طور پہ منایا جاتا ہے۔
جس میں لوگوں کو تھیلسیمیا کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہے کہ کیسے اسے روکا جا سکتا ہے۔تھیلسیمیا مرض میں مریض کے جسم میں ہیموگلوبن (خون کے سرخ ذرات) کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
تھیلسیمیا میں خون کی کمی، تلی کا بڑھ جانا اور ہڈیوں میں گودے کی کمی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سےتھیلسیمیا سے متاثر بچہ ساری زندگی انتقال خون کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگاتا رہتا ہے، یا پھر بون میرو ٹرانسپلانٹ ( Bone Marrow Transplants ) کے لئے ڈونر ڈھونڈنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں ہر سال 8 سے 12 ہزار بچے اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ خاندان میں شادی کرنا ہے۔
تھیلیسیمیا کی تین اقسام ہیں تھیلیسیمیا مائنر، تھیلسیمیا انٹر میڈیا اور تھیلیسیمیا میجر۔
تھیلسیمیا مائنر:
جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔تھیلسیمیا انٹر میڈیا:
یہ تھیلسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔تھیلسیمیا میجر:
یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ تھیلسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔
اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلسیمیا میجر ہوگا۔ اس لئے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں اس میں کوئی قباحت نہیں، اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔آئیں تھیلسیمیا کے مریضوں کی مدد کریں۔
آپ کے خون کا عطیہ کئی زندگیاں بچا سکتا ہے۔ -

بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے صدر مملکت ، وزیراعظم
صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیریوں کا جذبہ توڑنے میں ناکام ہوچکے-
باغی ٹی وی : یوم استحصال پروزیراعظم عمران خان نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو جبری حراست اور انسانی حقوق کی دیگر بدترین پامالیوں کا سامنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کا محاسبہ کریں۔
کشمیرپرOICنےاصولی موقف اپنایا،خیرمقدم کرتےہیں: پاکستان
ادھرعارف علوی نے پیغام میں کہا کہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بیان میں کہا تھا کہ سیکرٹری جنرل کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان اوآئی سی کے اصولی مؤقف کی تجدید ہے اوآئی سی او نے پھربھارتی غیرقانونی اقدامات پر اصولی مؤقف اپنایا بیان کشمیری عوام کی جدوجہدپراوآئی سی کی حمایت کااعادہ ہے۔
بھارت کا مقبوضہ کشمیرپرغاصبانہ قبضہ ،یورپی یونین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے…
انہوں نے کہا تھا کہ کشمیرکاز پر اوآئی سی کی مسلسل حمایت کو سراہتےہیں اوآئی سی کشمیرکاز پر مختلف پلیٹ فارمز پر حمایت کااعادہ کررہی ہے اور اس موضوع پر متعدد قراردادیں منظور کی ہیں تازہ ترین قراردادنومبر2020میں نیامے میں منظور کی گئی۔
زاہدحفیظ کا کہنا تھا کہ اوآئی سی اقوام متحدہ کےبعددوسری بڑی تنظیم ہے جس کے4براعظموں سے 57 رکن ممالک اور 5 مبصر ریاستیں رکن ہیں اسلامی سربراہ تنظیم مسلم امہ کی مشترکہ آواز ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں اب پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ فیشن اور ثقافت کی تقریبات ہوں گی
-

جیو اور جینے دو تحریر: سیدہ بخاری
وہ جب پیدا ہوا تو سارے خاندان میں خوشیاں منائی گئیں ،آخر کو دو بیٹیوں کے بعد دنیا میں آیا تھا خوشی تو بنتی ہی تھی۔
لاڈلا بیٹا ماں کی آنکھوں کا تارا اور بہنوں کا راج دلارا،
ابھی ساتویں دن سر کے بال بھی نہیں مونڈے گئے تھے کہ ماں نے لاڈلے کے سر پر سہرا سجانے کے خواب بننا شروع کر دئیے۔
ماں کا ایک ہی ارمان تھا کہ کب میرا لاڈلا اس قابل ہوگا کہ میں خوبصورت سی بہو لیکر آؤں گی،،،،
وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور وہ وقت قریب آ ہی گیا جس کا لاڈلے کی ماں اور بہنوں کو انتظار تھا،
جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھے
سر پر سہرا سجانےکی گھڑی بالآخر آن پہنچی تھی۔
ماں اور بہنوں کو نازک سی گورے رنگت والی بہو خوب بھائی تھی کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا۔
وہ بھی آنکھوں میں ڈھیروں خواب سجائے اپنے پیا دیس سدھار گئی اور دل میں خود یہ یہ عہد کئے کہ اپنی سیرت اور اخلاق سے سب کو جلد ہی اپنا گرویدا کر لے گی لیکن ہائے،،،،
ہائے یہ قسمت بھی عجیب کھیل کھیلتی ہے،
سسرال ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر بعض اوقات اچھی شکل ،اچھا اخلاق، نیک سرت اور باکردار ہونا بھی آپکا بسنے میں ساتھ نہیں دیتا اور آپکی ہر ریاضت بے کار چلی جاتی ہے۔
اسکی چھوٹی چھوٹی بے ضرر سی نادانیاں اسکا عیب اور گناہ بنا دی گئی تھیں۔
اسکا ہنسنا، بولنا اور سب سے گھل مل جانے والی عادات اسکا گناہ بن گئی تھیں۔
لاڈلا تو اپنا بیٹا تھا نا اب اسکی نادانی کی سزا بھی بہو رانی بھگت رہی تھی کیونکہ دل اتنے تنگ تھے کہ یہ قبول ہی نہ کر پائے کہ لاڈلا پہلے بیٹا اور بھائی تھا تو اب ایک شوہر بھی بن چکا ہے۔
لاڈلا بیوی کے ساتھ بیٹھے تو بیوی بے حیا،،،
لاڈلا کبھی مسکرا کر بیوی کی طرف دیکھ لے تو "بہو کے لچھن ٹھیک نہیں بازاری کہیں کی مردوں کو رجھانا خوب جانتی یے”
لاڈلا بیوی کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھائے تو ” گھر میں جوان بہنیں ہیں ان کے دل پر کیا گزرے گی یہ دیکھ کر”
لاڈلا بیوی کو موٹر سائیکل پر ساتھ بٹھا لے تو "کیسے چپک کر میاں کے ساتھ بیٹھی ہے کیا اپنے باپ کیساتھ بھی ایسے بیٹھتی تھی”
ارے یہ تو جھلکیاں ہیں مکمل داستان آپ کیلئے سننا دشوار ہو جائے گی۔
بہو رانی ماں سے ایک چپ سو سکھ کا سبق سیکھ کر آئی تھی سو ایک لمبا عرصہ خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہی اور یہ سوچتی رہی کہ محبت تو فاتح عالم ہے ،دلوں کو مسخر لیتی ہے اور ایک دن وہ بھی سب کے دلوں کو جیت لے گی لیکن وہ یہاں بھی غلط تھی،،،،بدکرداری، چوری، ماں باپ کی گندی تربیت کے الزاموں سے لیکر شوہر کا اولاد نہ دینا تک سہ لیا اور اسکا ساتھ دیتی رہی لیکن،،،،
لیکن دل نہیں جیت پائی اور پھر ایک دن تھک ہار کر لاڈلے کو اسکی ماں کی آغوش کو
میں سونپ کر پھر سے اپنے کچے پکے آشیانے میں واپس آگئی ،،،،
یہ جو ٹوٹے پھوٹے بے ترتیب الفاظ میں کہانی لکھی گئی ہے یہ کسی بہت اپنے کی حرف حرف حقیقت داستان ہے،،،،یہ کسی کی آٹھ سالہ ذندگی کے وہ بہترین سال تھے جو چھوٹے دلوں کی کم ظرفی کی نظر ہو گئے،،،یہ اس آٹھ سالہ کہانی کا صرف دس فیصد حصہ ہے ۔
یہ ہمارے پاکستانی معاشرے کے ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے جہاں بڑے ارمانوں سے کسی کی بیٹی کو لایا جاتا ہے اور پھر اسکو تھوڑ دلی، کم ظرفی اور شک و شبے کی ایسی آگ میں دھکیل دیا جاتا ہے جسکا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔
خدارا 🙏
جب کسی کی بیٹی کو اپنے گھر کی عزت بنا کر لائیں تو اسکو عزت سمجھیں اور عزت دیں ، کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں ہوتا اور اس رشتے کی یہی خوبصورتی ہے کہ فریقین اسکو ایکدوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کریں۔
جیسے اپنی بیٹی کو اسکی چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے معاف کردیتے ہیں ویسے ہی بہو کیلئے بھی دل بڑا کرنا سیکھیں۔
یہ ایک پہلو ہے جو میں نے سنا اور اسکو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ،اور بہت سے واقعات اس سے الٹ بھی ہیں جہاں نئی نویلی دلہنیں گھروں کو توڑنے کا اور فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہیں تو دونوں طرف ہی اصلاح کی شدید ضرورت ہے،،،
جو لڑکیاں بیاہ کر اگلے گھر جائیں وہ بھی شوہر کو اپنی ملکیت نہ بنائیں اور جو لوگ دوسروں کی بیٹیاں بیاہ کے لائیں وہ انکو اور کچھ نہ سہی تو انسان ضرور سمجھیں🙏
چونکہ ہمارے یہاں پاکستان میں ذیادہ تر مڈل کلاس اور اس سے بھی نیچے کا طبقہ آباد ہے اور ایسے میں جوائینٹ فیملی سسٹم کا ہی رواج ہے تو دونوں طرف سے دل بڑا کر کے ایک دوسرے کو قبول کرنے کی ضرورت ہے، اعلی ظرفی سے گھر میں نئے اضافے کی صورت آئے فرد کو کھلے دل سے قبول کرنے کی ضرورت ہے،
سسرال والے نئی نویلی دلہن کو گھر میں جگہ بنانے کا موقع دیں اور بہو سب کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھے۔
اپنے خاندانی نظام کو پرسکون طریقے سے چلانے کیلئے جیو اور جینے دو کے فلسفے کو اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام کر کے ہی ایک خوشحال گھرانہ تشکیل پا سکتا ہے کیونکہ ایک دوسرے کی عزت کے ساتھ جذبات کا احترام اور احساسات کا خیال کر کے ہی بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ -

خواہش تحریر : اے ار کے
خواہش سے مراد کسی مادّی شے یا
مرتبہ و مقام جسے پانےکیلیے بندہ ( مومن) ہر قانونی، غیر قانونی آئینی و غیر آئینی اور شرعی و غیر شرعی ( یعنی قانون ، آئین و دین کے متعین کردہ حدود) کو پھلانگتا ہے۔
خواہشات کی تکمیل انسان کو خوشی اور تسکین دیتی ہے۔
عقل و منطق کے برعکس ، اپنی خواہشات سے والہانہ محبت کے نتیجے میں انسان معاشرے میں بھی خوار و ذلیل (ریاستی مجرم)ہوجاتا ہے۔ اور ایمان ( شرعی لحاظ سے )بھی خطرے میں پڑھ جاتا ہے۔
انسانی خواہشات انسانی ضروریات کی پیداوار ہیں۔
انسان فطرتاً خواہشات کے اگے ڈھیر ہوتا ہے۔
دراصل نفس ہی انسان میں خواہشات پیدا کرتا ہے اور اسی نفس ہی کے ذریعےانسان خواہشات کا غلام بنتا ہے ۔
دنیا کی رنگینیوں میں ایسی کشش و جاذبیت موجود ہے جو بنی نوع انسان کو زیر کرنے اور اسے اپنی طرف راغب کرنے کیلیے کافی ہے۔
اور فطرت انسانی میں بھی ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو دنیا کی کشش سے میل کھاتے ہیں۔
"” اسلام اور خواہشات "”
خواہش اور ضرورت دو الگ چیزیں ہیں۔
بھوک اگر ضرورت ہے تو ذائقہ خواہش۔
محبت اگر ضرورت ہے تو قربت تمنا۔
خواہشوں کا سفر دراصل خود شناسی سے
شروع ہوتا ہے۔اگر احتیاط سے کام نا لیا جائے اوراسلام کے وضع کردہ حدود و قیود سے تجاوز ہوتی ہے تویہ خود پرستی کی اس انتہا تک پہنچ جاتاہے جہاں انسان کی جھولی میں سوائے نقصان کے کچھ نہیں رہتا۔
پس۔۔۔! جس نے خود کو جانا اس نے ربّ کو جانا۔
اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے- اسلام کے معنی تابع ہونا ہے یعنی خود کو خدا کا تابعدار و فرمانبردار بنانا ہے۔ الله کے احکامات سے دور ہو کر انسان گمراہ اور باغی بن جاتا ہے ۔
ہر مومن ، ہر وقت خدا کو حاضر سمجھتا ہے۔ لہٰذا ﷲ کے احکام کی پیروی کرنے والا مسلمان ہے اور نفس کی پیروی کرنے والا شیطان کے راستہ پر نکل پڑتا ہے۔
نفس کا تابع قیامت کی مطلق پروا نہیں کرتا۔
نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا مومن کیلیے قید خانہ ہے
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟
کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمّہ لے سکتے ہو؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سُنتے اور سمجھتے ہیں؟
یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گُزرے۔
(القُرآن ، سورت الفرقان ایت نمبر 43 )
انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کے ذریعے اشرف المخلوقات بنا کر ،فرشتوں اور تمام مخلوقات پرفوقیت دے کرافضل بنایا ِاِنسان کو
"”لَقَد خلقنا الا نسان فی احسن تقویم””
کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا کسی بھی دوسری مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ نے یوں نہیں فرمایا۔
اب چونکہ نفس ہی دراصل انسانوں میں خواہشات پیدا کرتا ہے اور اِسی نفس ہی کے ذریعے ہم خواہشات کے غلام بنتے ہیں اور ہماری نفسی خواہشات ہی ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہیں ۔ انسان کی سب سے بڑی دشمن اُس کی خواہشات ہوتی ہیں ۔ حضور اقدسﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ جو کچھ سابق اُمتوں نے کیا ہو گا میری اُمت میں بھی وہ برائیاں ضرور ظاہر ہو نگی ۔
اللہ تبارک تعالیٰ قران میں فرماتے ہیں
بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔
[قرآن ، سورت الانعام ، آیت نمبر 119]
ہم مسلمان ہیں اور کلمہ پڑھنے کے بعد ہماری تمام خواہشات ایک خاص حدود میں آکر قید ہو جاتی ہیں۔نفس کی ہر خواہش کا اُلٹا کرنا ہی دراصل تقویٰ ہے۔
آج پوری دنیا میں سب سے زیاہ خواہشات کے شکار ہم مسلمان ہو رہے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے لیے تو یہ دنیا قید خانہ ( جیل ) کی طرح ہے اور ہم نے زندگی رسول اللہؐ کی شریعت رسول اللہ ﷺکے مطابق گُزارنی ہے ۔
تقویٰ کے معنی ایک مومن مسلمان نے اپنی روح کو پاک رکھنے کے لیے تمام برائیوں اور خواہشات سے اپنے آپ کو بچانا ہے اُن سے پرہیز کرنا ہوتا ہے۔ نفس بڑا ہی ظالم ہوتا ہے ۔غصہ ، جھوٹ ، غیبت ،حسد یہ سب دراصل نفس کی اصل بیماریاں ہیں اور تمام خواہشات انہی کے کوکھ سے جنم لیتی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کوعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امینٹویٹر ہینڈل : @chalakiyan