Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مردہ سماج میں ارتعاش کیونکر پیدا نھیں ھوتا ؟ تحریر: صہیب اسلم

    میں سوچتا ھوں کہ اس مردہ سماج میں رھنے والے آھنی زنجیروں اور بیڑیوں کو گلے کا ھار بنا کر جینے والے بے سُدھ مردار ھجوم میں انھیں زندگی کا احساس دلانے والا ارتعاش کیوں کر پیدا نہیں ھوتا؟
    کیوں اس سماج میں رھنے والوں میں سے احساس ختم ھوتا جا رھا ھے؟
    کیوں اس سماج میں بسنے والے اپنے فرائض و ذمہ داری نبھانے کی اخلاقی جرات سے عاری ھوتے جا رھے ھیں؟

    میں سوچتا ھوں کہ اس سماج کا فرد اتنا مردہ کیونکر ھو گیا ھے کہ ابھی بمشکل اپنی زندگی کی دس بہاریں دیکھنے والی حوا کی بیٹی کو بے دردی سے اپنی حوس کا نشانہ بناتا ھے اور پھر اپنی ھی بیٹی کے ساتھ سکون سے سو بھی جاتا ھے؟

    کبھی کبھی میں سوچتا ھوں کہ سماج کا فرد کس طرح کس کے حکم سے، کس کی اجازت سے زمین پر چلتے اپنی اور اپنے خاندان، بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دن رات اپنے وجود کو مٹا دینے والے معصوم انسانوں کے وجود میں بارود اتار دیتا ھے اور ان بد دعاؤں کی فکر سے بھی ازاد ھو جاتا ھے جو ساری زندگی اس کا پیچھا کرتی رھتی ھیں؟

    میں سوچتا ھوں اس سماج کا ھر فرد جس کا بدقسمتی سے میں بھی حصہ ھوں ھر وقت کس مصلحت کی آڑ لئے ھمیشہ ھی خاموش ھو جاتا ھے؟ یہ سماج اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز کیوں نھیں بلند کرتا؟ اپنے حق کیلئے بھی خاموش کیوں رھتا ھے؟ وہ کون سی طاقت ھے جس نے اسے اس قدر بے بس کر دیا ھے کہ اپنے ھی بچوں کیلئے بھی آواز نہیں اٹھاتا؟

    اس سماج کا فرد کیوں چپ رھتا ھے جب کوئی ظالم اسی سماج سے اٹھتا ھے اور میری معصوم زینب کو حیوانوں کی طرح اسکے معصوم وجود کو بھنبھوڑتا ھے چیر پھاڑ کرتا ھے اور بنا کسی خوف و خطر نئی زینب کی طرف چلا جاتا ھے۔

    اس سماج کا فرد کیونکر خاموش تماشائی بن جاتا ھے جب کہیں سے کسی وڈیرے کا بیٹا اپنے پیسے اور اندھا دھند طاقت کے نشے میں کسی ماں کے لال شاہ زیب کے سینے میں صرف اس لئے بندوق کا پورا میگزین اتار دیتا ھے کہ شاہ زیب نے اپنی بہن کی عزت کے تحفظ کی کوشش کی؟

    اس سماج کا ھر فرد تب بھی خاموش ھی رھتا ھے جب
    کوئی قانون کا رکھوالا کسی ماں کے جگر گوشے کو سب کے سامنے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ھے اور وجہ بھی نھیں بتاتا

    اس سماج میں بسنے والا نابینا فرد تب بھی اپنے منہ میں موجود زبان کو کاٹ لیتا ھے جب کوئی مجید خان اچکزئی نشے میں دُھت بد مست ھاتھی کی طرح سڑک کنارے ٹھہرے سب کی رھنمائی کرتے معصوم وردی والے کو اپنی لمبی لینڈ کروزر کے نیچے کچل ڈالتا ھے اور ببانگ دھل قانون کی رسیاں توڑتا ھوا رہا ھو جاتا ھے۔

    اس سماج کا ھر فرد تب بھی منہ پر تالہ اور آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ھے جب کوئی سڑک کنارے مسافروں سے بھری بسوں سے سب کو اتار کر اپنی گولیوں کی زینت بنا کر چپ چاپ چلا جاتا ھے۔

    اس سماج کا ھر فرد اب خاموش رھتا ھے جب
    کوئی ان جیسا زندہ سانس لیتا انسان دن میں گھر سے اپنے بیوی بچوں کیلئے انکے زندہ رھنے کیلئے روزی روٹی کمانے نکلتا ھے اور شام کو اسے چار کندھوں پر اٹھا کر لایا جاتا ھے

    آج جانے کیوں اس بے حس بے درد بے کار سماج کیلئے میری سوچوں نے اتنے سوالات کھڑے کر دئیے کہ شاید ان سوالات کا جواب پاتے پاتے میں بھی کسی دن اس مردہ سماج کی بے حسی کا نشانہ بن جاؤں۔

    لیکن اس سب کے باوجود روشنی کی اک مدھم مگر ٹمٹماتی سی کرن مجھے آج بھی نظر آتی ھے کہ شاید کہیں کوئی اس بیڑیوں میں جکڑے بے حس مردہ سماج میں ارتعاش پیدا کر دے۔ شاید کوئی اپنی چلتی رواں رھتی خوبصورت سانسیں روک کر اس سماج میں رھنے والوں بسنے والوں میں زندگی کا احساس پیدا کر دے

    اسی لئے تو کہتا ھوں اے اس سماج کے وارثین، خود کو آل کل کا مالک سمجھنے والو اس سماج میں بسنے والوں کو کہانی بنانے سے ڈرو، کہانی مسخ کرنے سے ڈرو
    کہانی دیکھنے سے ڈرو کہانی پھیلانے سے ڈرو کیونکہ میرا اللہ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ھے۔ اس کی عدالت میں کوئی ڈالرز، کوئی روپیہ، کوئی سونا، کوئی جائیداد، کسی طاقت کا نشہ، کسی اقتدار کی بھوک کچھ کام نہ آئے گی۔

    کیونکہ کچھ پتہ نھیں ایسا نہ ھو کہ آج تم سماج میں بسنے والوں کی کہانیاں بنا رھے ھو اور کل کو کوئی اٹھے اور تمھاری کہانی بنا دے اور پھر تم تاریخ کے اوراقوں میں بھی نہ ملو حتیٰ کہ کسی کہانی میں بھی نہ ملو۔۔۔۔۔۔

    ٹوئٹر ھینڈل
    @KaalaPak

  • مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    پاکستان میں مڈل کلاس عورت کو اک انسان نہیں اک روبوٹ کنسیڈر کیا جاتا ہے جس کا ریموٹ سوسائٹی ہوتی ہے۔ اگر اک مڈل کلاس لڑکی کی زندگی میں آنے والے چیلنجز کی بات کی جائے تو سب سے بڑا چیلنج اس کی زندگی میں سوشل پریشر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی ساری کہانی صرف اک فقرے کہ گرد گھومتی رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ حتی کہ وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرتے بھی 10 ہزار دفعہ سوچتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ مڈل کلاس لڑکی وہ کھلونا ہے جس کہ انچارج اس کہ ماں باپ سے لے کر معاشرے کا ہر وہ فرد ہے جس سے اس کا کوئی خونی یا جذباتی رشتہ ہو گا۔ مڈل کلاس لڑکیاں وہ کٹھ پتلیاں ہیں جو خوف سے بھر دی گئی ہیں۔ زندگی کہ چھوٹے سے بڑے فیصلے کہ لیے انہیں گھر کہ مردوں پہ یقین کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں گھروں میں پیدا ہوتے ہی یہ درس دیا جاتا ہے کہ ان کہ ماں باپ اور ان کا معاشرہ ہی ان کہ لیے سب کچھ ہے۔ اب اگر بات کی جائے مڈل کلاس لڑکی کی تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی کی تو اس کا تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی بھی اس کے گھر کے سیٹ کردہ اصولوں اور معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں پہ گزرے گی۔ اگر وہ اپنی کوئی خواہش ظاہر کرے گی تو معاشرہ اسے بدکردار اور بد چلن اور اس کی فیملی کہ لیے باعث شرمندگی ہو گی۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کی زندگی کہ سب سے اہم فیصلوں کا پوچھا جائے تو اس کا جواب ہوتا ہے جیسے میرے بڑے کہیں گے میں ویسے ہی کروں گی۔ مڈل کلاس فیملی کی لڑکی کہ لیے کپڑوں سے لے کہ زندگی کہ بڑے بڑے فیصلوں میں اس کی اپنی رائے اور صحیح اور غلط کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ اب آجاتے ہیں مڈل کلاس لڑکی کی رخصتی پہ ،گھر سے رخصت ہوتے اس کہ ماں باپ اور معاشرہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ تمہارا جنازہ ہی اس گھر سے نکلنا چاہیے اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ مڈل کلاس لڑکی اس خوف سے تشدد برداشت کرتے کرتے درحقیقت جنازہ نکالتی ہے اپنا۔ پیدا ہونے سے جوانی تک اس کا ریموٹ اس کہ اپنوں اور معاشرہ کہ پاس ہوتا ہے اور پریکٹیکل زندگی میں داخل ہونے کہ بعد اس کا ریموٹ اس کہ سسرال اور خاوند کہ ہاتھوں میں جاتا ہے۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کہ حقوق کا پوچھا جائے تو یہ جواب ملتا ہے کہ میرے ماں باپ کو پتہ ہو گا۔ میری اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد بھی بہت سی مڈل کلاس لڑکیاں مجھے برا بھلا کہیں گی کیونکہ ان کے مائنڈ ایسے بلڈ کیے گے کہ وہ خود بھی کانفڈنٹ اور بولڈ لڑکیوں کہ خلاف بولتی ہیں۔ میں اس میں بھی انہیں قصور وار نہیں سمجھتی کیونکہ مڈل کلاس لڑکیاں خود کو وہ انسان سمجھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں جو دن رات معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ تابع رہنے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی اس تحریر میں بس وہ مسائل اجاگر کیے ہیں جو روزمرہ زندگی میں مڈل کلاس لڑکیوں کو پیش آتے ہیں۔ میں اپنی اس تحریر پڑھنے والے ہر انسان سے یہ ریکوسٹ کروں گی کہ مڈل کلاس لڑکیاں بھی جیتے جاگتے انسان ہیں انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی اور اللّٰہ کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ مطابق زندگیاں گزار سکیں نہ کہ کٹھ پتلیاں بن کہ۔
    @KhatoonZobia

  • زندگی اور امیدیں  تحریر: محمد علی شیخ

    زندگی اور امیدیں تحریر: محمد علی شیخ

    زندگی یوں تو اس پروردیگار نے ہر انسان کو دی ہے کے وہ ہر انسان کی آزمائش کر سکے عبادت کے لیے فرشتے کم نہیں ہیں لیکن رب کریم نے اپنی حکمت سے انسانی وجود کی تخلیق کی تاکے وہ دیکھ سکے کون الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ پر چل کر آتا ہے ۔ اور کون دنیا کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے ۔۔
    ابھی کچھ اس قسم کا بھی رجحان ہوگیا ہے کے ہم شارٹ کٹ مار کے جنت میں چلے جاہیں نماز کی پابندی ہم نہیں کریں پڑوسی کا خیال ہم نہیں کریں زکوة سے ہم نے پیچھا چھڑا لیا ہے یعنی ہم کچھ نا کریں اور جنت میں جانے کے وسیلے تلاش کر کے جنت حاصل کر لیں مگر ایسا ممکن نہیں ہے ۔
    اور نا ہی کوئی کیسی کا کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ کیسی کا کیسی نبی یا رسول یا ولی اللہ سے خون کا رشتہ جاکر ملتا ہے تو وہ بھی ہمیں جہنم سے بچا نہیں سکتے۔ تو ہمیں سب سے پہلے اس خوش فہمی سے باہر آنا ہوگا ۔۔ دنیا کے ہر بیرونی سفر کے لیے جب ہم کو ہمارے نام کا ہی ٹکٹ لے کر بیرونے ملک سفر ممکن ہوتا ہے۔ تو پھر ہم یہ لاپروائی کیوں کرتے ہیں کیوں کیسی نبی یا رسول یا ولی کے نام پر موت کے بعد کا سفر طے کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کیا ہمیں اب بھی قرآن کریم کے فرمانا عالی شان کو سمجھنے کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ پر الگ الگ نبی کے اور ان کے خون کے رشتوں کا بیان موجود ہے فرعون جیسے ظالم جابر کی بیوی آسیہ، حضرت موسی علیہ السلام کا فرعون کے گھر پرورش پانا، حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا کفر پہ مرنا، حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا نافرمان ہی رہنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا اسلام کی دولت سے محروم رہنا یہ سب اس بات کی واضح مثالیں ہیں۔

    بچپن تو ہمارا بولنے ،چلنے میں گزر جاتا ہے۔ جوانی کی خوب قدر کرنی چاہیے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اچھے اور نیک کاموں میں صرف کرنا چاہیے ورنہ اس دور میں کی جانے والی بے فکری ،لاپرواہی بڑھاپے میں پچھتاوے کا سبب بن جاتی ہے کیوں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا۔جو نوجوان وقت کی قدر کرنا جانتے ہیں وہ صحراوٴں کو گلشن بنا دیتے ہیں ۔جب اللہ ربالعزت نے ہمیں صحراؤں کو گلشن بنانے کی ہمت اور طاقت دی ہے تو پھر ہم کیوں اپنی زندگی کو کانٹوں کی سیج بنا کر پھرتے ہیں اتنے مصروف رہتے ہیں اپنی موت کے بعد کی زندگی کو بھول جاتے ہیں قبر میں کیسی اور نے آ کے سوالات کے جواب نہیں دینے ہم کو دینے پڑھیں گے۔۔ اپنے ہر برے عمل کا حساب ہم کو خود دینا ہو گا۔ تو ہم کو اتنی ہی امیدیں کرنی چاہیں جو ہم با آسانی رزق حلال سے پوری کر سکیں اور اس سے بھی زیادہ فکر زندگی کو اس راستے پر لے کر چلنا چاہیے جو ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا سبب بنے۔۔ اللہ ربالعزت کو بھی جوانی کی عبادت بہت پسند ہے تو جوانی کی قدر کرو یہ ہی وہ وقت ہے جو آپ کے کردار کا آگے جا کے فیصلہ کرئے گا۔۔
    اس رب کریم نے ہم کو ہر نعمت سے نواز ہے کیا یہ کم ہے ؟؟
    ان سب سے بڑھکر اس پروردیگار نے ہم کو امت محمدیہﷺ میں پیدا کیا تو ہم کیوں غافل ہیں ہر گزرتے پل کا شکرادا کرتے رہو۔

    زندگی کا پل کا بھروسہ نہیں اور ہماری امیدیں آسمان کو چھونے کی ہیں۔

    گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی کبھی مت بنو ۔۔کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو پر جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی
    آخرت کی تباہی کا سبب نا بن جائے۔۔
    عمل ایسے ہوں کے ہم اللہ کو پسند آ جاہیں ۔
    علامہ اقبال کا شعر کیا خوب ہے ۔
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔۔
    اللہ ربالعزت ہم سب کو صراط المستقيم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ آپ سب کی دعاوںکا طلبگار ۔۔🙏
    @MSA_47

  • پاکستانی صحافت کے نشیب و فراز تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    شعبہ صحافت میں کسی وقت پرنٹ میڈیا کا دور دورہ تھا۔لوگ صبح ناشتے کے ساتھ اخبار کے منتظر رہتے تھے۔
    جس دن اخبار لیٹ ہوجاتا،لوگوں کی بے چینی دیدنی ہوتی تھی،بار بار ہاکر کو گلی میں نکل کے دیکھا جاتا۔
    جونہی دور سے ہاکر کی سائیکل کی گھنٹی بجتی اور اسکی تازہ اخبار،تازہ اخبار کی آواز آتی،
    اخبار بینوں کے چہرے کھل اُٹھتے۔پھر ایک ہاتھ میں اخبار ہوتا اور دوسرے اخبار میں چاۓ کا کپ۔چاۓ کی چسکیوں کے ساتھ اخبار کی سرخیوں کا مزہ لیا جاتا۔
    ان سب تجربات سے مجھے خود بھی گزرنے کا اتفاق ہوا،میرا صبح کا تجسس عام قارئین سے زیادہ ہوتا تھا،کیونکہ میں براہ راست ان اخبارات میں سے کچھ کے ساتھ بطور رپورٹر منسلک تھا،
    مجھے انتظار ہوتا کہ کس اخبار میں میری کونسی خبر شائع ہوئ ہے۔اسے کس صفحے پر چھاپا گیا ہے؟
    اس کتنے کالم میں جگہ دی گئی ہے،جس دن کوئ خبر فرنٹ پیج پر شائع ہوتی اس دن خوشی کی انتہا نہ رہتی۔صبح گھر سے نکلتے وقت اخبار کو بغل میں دبا کے نکلنا کبھی نہ بھولتا،مقصد دوستوں کو وہ خبر دکھانا ہوتا۔خبر کی اہمیت کے لحاظ سے مقامی،تحصیل ،ضلعی اور صوبائ انتظامیہ کے وضاحتی فون آنا شروع ہو جاتے۔
    ان خبروں سے علاقے کا کوئ مسئلہ حل ہو جاتا تو لوگ جوق در جوق مبارکباد دینے چلے آتے۔
    بطور رپورٹر کیرئر کا آغازمیں نے اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگلش اخبار
    PAKISTAN OBSERVER
    سے کیا،بعد ازاں میں وقتا” فوقتا”روزنامہ خبریں،روزنامہ جنگ،روزنامہ اوصاف،روزنامہ دن،روزنامہ کائنات،اور اس وقت کی نمبر ون اردو نیوز ایجنسی
    NNI
    سے بھی منسلک رہا۔
    اس نیوز ایجنسی کا ان دنوں طوطی بولتا تھا۔تمام بڑے اخبارات اسکی خبر لفٹ کرتے تھے۔
    ان اخبارات میں لکھے گئےاداریوں اور کالموں سے حکومتیں ہل جایا کرتی تھیں۔
    کالم نگاروں میں نزیر ناجی،سویرے سویرے،عبدالقادر حسن،ارشاد حقانی ،منو بھائ اور حسن نثار وغیرہ بڑے نام تھے۔بعد میں آنے والوں میں حامد میر،خوشنود علی خان اور جاوید چوہدری قابل زکر کالم نگار تھے۔حامد میر کے ساتھ اوصاف اور خوشنود علی خان کے ساتھ خبریں میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔
    یہ سب اچھا لکھتے تھے،مگر نہ جانے پھر کیا ہوا کہ حامد میر اور جاوید چوہدری جیسے لوگ کیا سے کیا ہو گئے،
    دیکھتے دیکھتے
    ان لوگوں نے غیر جانبداری کا راستہ چھوڑ دیا،خاص طور پر حامد میر نے اپنی ہی فوج کے خلاف بدقسمتی سے مورچہ سنبھال لیا،جو انتہائ افسوسناک ہے،اسی ڈگر سے ان لوگوں نے اپنی مقبولیت بھی کھو دی۔
    پرنٹ میڈیا کی اہمیت اب بھی ہے مگر پہلے والی بات نہیں رہی۔ الیکٹرونک میڈیا کے آنے سے ابھی کی خبر آپکو ابھی ملنے لگی ہے۔
    کسی خبر کے لئے آپکو اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
    بلیک میلنگ اور زرد صحافت پرنٹ میڈیا میں بھی ہوتی تھی،ابھی الیکٹرونک میڈیا میں بھی موجود ہے۔
    ہر چینلز کی اپنی ترجیحات ہیں،ہر کوئ اپنے مفادات دیکھتا ہے۔اپنے اشتہارات دیکھتا ہے،
    سب سے پہلے اور ریٹننگ کی دوڑ میں جھوٹ اورسنسنی خیزی کا سہارا لیا جاتا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں سے منتھلیاں لی جاتی ہیں۔ان کے ناجائز کو بھی جائز بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔
    پہلے کی حکومتیں بھی اپنی کرپشن چھپانے کے لئے صحافیوں اور ٹی وی چینلز کو نوازتی تھیں۔
    موجودہ حکومت اس گندی روٹین کو ختم کرنا چاہتی ہے،جس کے باعث اسکی راہ میں قدم قدم پر روڑے اٹکاۓ جاتے ہیں۔ہمارے ملک کی صحافت بھی سسلین مافیاز کا ہی حصہ ہے۔
    میڈیا کا مثبت کردار اگر سامنے آۓ تو ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔
    اس ستون کے مضبوط اور مثبت کرادار کا حامل ہونے سے باقی ریاستی ستون خود بخود درست ہو سکتے ہیں۔
    مگر مستقبل قریب میں شائد ایسا ممکن نہ ہو سکے۔
    اب یہ مجھ پر ہے،آپ پر ہے،ہم سب پر ہے کہ ہم اس میڈیا کے منفی پروپیکنڈے کا شکار ہو کر اپنے ملک کی جڑیں نہ کاٹیں۔
    یہ ملک ہمارا ہے۔ہمارا سب کچھ اسی سے وابستہ ہے۔ہم نے اس کے استحکام کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دینی ہے۔
    مضبوط،خوشحال اور مستحکم پاکستان ہی میں ہماری آنے والی نسلوں کی بقا ہے۔پاکستان زندہ باد #

    @lalbukhari

  • ٹریفک کا نظام  تحریر : خرم شہزاد

    ٹریفک کا نظام تحریر : خرم شہزاد

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی میں ٹریفک کا نظام ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ کسی ملک کی ترقی کے معیار کو جانچنا چاہتے ہیں تو ایک نظر اس ملک کے ٹریفک کے نظام پہ ڈالیں ، آپ کو اس ملک کے انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ اس قوم کی معاشی اور اخلاقی ترقی کا بھی ادراک ہو جائے گا۔
    امریکہ،  یورپ اور خلیجی ممالک کے بیشتر ترقی یافتہ شھروں کے ٹریفک نظام پہ نظر دوڑائیں تو منظم پولیس ، صاف ستھری سڑکیں ، ٹریفک سگنلز ، اشاروں پہ رکتی گاڑیاں ، جگہ جگہ سپیڈ کیمرہ اور عوام کی سہولت کے لئے سائن بورڈز نظر آئیں گے۔ اور ظاہری بات ہے کہ ان ممالک میں ٹریفک نظام کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور چھوٹی بڑی تمام شاہراہوں کو ایک سسٹم کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر عوام بھی ٹریفک قوانین سے آگاہ ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے ان کا اپنا ہی نقصان ہو گا ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ، جرمانے اور لائسنس پوائنٹس یا لائسنس معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ٹریفک نظام کو دیکھا جائے تو مثبت پہلووں کے ساتھ ساتھ متعدد منفی عوامل بھی نظر آئیں گے جنہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنے وطن کی بڑی شاہراہوں جیسا کے موٹر ویز کو کنٹرول کرنے کے لئے موٹر وے پولیس کی خدمات حاضر ہیں۔ یہ بڑی شاہراہیں صاف ستھری بھی نظر آتی ہیں اور ٹریفک سائن بورڈز ، سپیڈ کیمرہ  اور سگنلز سے بھی آراستہ ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے چھوٹی شاہراہوں پہ بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے لیکن پھر بھی ہمارا ٹریفک نظام اس پائے کا نہیں جو ہمیں ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتا ہے۔ اس میں ہمارے سسٹم کے ساتھ عوام کا بھی قصور ہے جو ٹریفک قوانین کو یکسر نظر انداز کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ لائسینس کے بغیر ہی ڈرائیونگ کرنا پسند کرتے ہیں۔ ٹریفک اشاروں پہ رکنا تو درکنار ، ان ٹریفک اشاروں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار ایک سڑک سے دوسری طرف جانے کیلئے سڑکوں کے درمیاں بنے جنگلے جو کہ ٹوٹ چکا یا توڑ دیا جاتا ہے سے گزرنا پسند فرماتے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار ٹریفک لینز کا خیال رکھنے میں بھی سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ کار سوار اور بڑی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی طرح گاڑی کے اشارے استعمال کرنے کی زحمت بہت کم کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں گاڑیوں کی ہیڈ لائیٹ کا استعمال بے دریغ کیا جاتا ہے اور اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ آپکی گاڑی کی چکا چوند روشنی سامنے سے آنے والے ڈرائیور کے لئے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ہماری عوام کو سڑکوں پہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جلدی ہوتی ہے اور تیز رفتاری سمیت  یہ تمام عوامل حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو ٹریفک قوانین کی آگاہی دی جائے ۔ اسکے لئے سکول اور کالجز کے لیول پہ ٹریفک قوانین کے اسباق متعارف کرواے جا سکتے ہیں اور عام عوام کو لائسنس جاری کرتے وقت وہی اسباق کورس کی شکل میں کروائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ عوامی آگاہی اور قانون کی پاسداری ہی ہمارے ٹریفک نظام کو بچا سکتی ہے۔ اسکے علاوہ ٹریفک پولیس میں اصلاحات کی جائیں ، رشوت خوروں اور نظم و ضبط برقرار نا رکھنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں کیونکہ جزا اور سزا کے قدرتی اور اسلامی قوانین کی پاسداری میں ہی ہماری بقا ہے۔ 

    @drkshahzad

  • ہم اور ہمارا سیاسی کلچر    تحریر : محمد جواد یوسفزئی

    ہم اور ہمارا سیاسی کلچر تحریر : محمد جواد یوسفزئی

    جمہوری نظام آئین کی بنیاد پر چلتا ہے۔ آئین میں حکومت کے انتخاب اور اس کو چلانے کے لیے مفصل ضابطے دیے گئے ہوتے ہیں۔ مزید قوانین اور ضابطے بنانے کے لیے طریقہ کار بھی آئیں طے کرتا ہے۔ آئین اور دیگر قوانین تحریری شکل میں محفوط ہوتے ہیں۔
    لیکن ملک کے سیاسی نظام کو چلانے کے لیے آئین اور قوانین کی کتابیں کافی نہیں ہوتیں۔ ہر ملک میں سیاسی روایات جنم لیتی رہتی ہیں اور وقت کے ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ عوام اور سیاستدان ان رویات کی اسی طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح تحریری قوانین کے۔ یہ پیروی رضاکارانہ ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ روایات اتنی مستحکم ہوجاتی ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان روایات کے مجموعے کو ملک کا سیاسی کلچر کہا جاتا ہے۔
    مستحکم جمہوری معاشروں سیاسی کلچر کو تحریری قوانین سے کم اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ برطانیہ میں دستور کا بڑا حصہ غیر تحریری یعنی انہی روایات پر مشتمل ہے۔
    کسی معاشرے کا سیاسی کلچر اس کے مجموعی کلچر کا ائینہ دار ہوتا ہے۔ جیسی معاشرے کی مجموعی سوچ ہوتی ہے، ویسا ہی اس کا سیاسی کلچر پروان چڑھتا ہے۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں مذہبی فرقہ واریت، شخصیت پرستی، قبائلی اور خاندانی عصبیت، نمود و نمائش، سخاوت وغیرہ کلچر کے اجزاء ہیں۔ ان کا اثر سیاسی کلچر میں نظر آنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ سیاسی نظام معاشرے کے مجموعی ڈھانچے کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس سے ہم آہنگ۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم برطانیہ کا سیاسی کلچر لا کر اپنے معاشرے میں فٹ کردیں۔
    تو کیا ہم اپنے سیاسی نظام کی برائیوں جیسے فرقہ واریت، شخصیت پرستی، قبائلیت وغیرہ کو تسلیم کرکے بیٹھ جائیں؟
    ہر گز نہیں۔ یہ چیزیں جب تک ہمارے سیاسی کلچر میں ہیں، جمہوریت جڑ نہیں پکڑ سکتی۔ لیکن کلچر کو کسی انقلاب یا پارلیمنٹ کے ایکٹ یا ایکزیکیٹیو آرڈر کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
    اس کی ایک مثال ہمارے ہاں پارلیمنٹ کے ارکان کو ترقیاتی فنڈ دینے کی ہے۔ قانونی طور پر ان ارکان کا ترقیاتی کاموں اور فنڈ کی تقسیم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ عملی طور پر بھی یہ کام بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس عمل کو یکسر ختم کردینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ لیکن تجربے نے ثابت کیا کہ ایسا کرنا فوری طور پر ممکن نہیں، کیونکہ یہ سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی صورت حال بیوروکریسی کے سیاسی تبادلوں، ٹکٹوں کی تقسیم میں قبیلے اور براددریوں کا خیال رکھنے، سیاسی جماعت کی قیادت خاندان میں رکھنے وغیرہ کی ہے۔
    ان سب چیزوں سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں تعلیم کے فروع، جاگیرداریت کے خاتمے جیسی بنیادی ضرورتوں پر توجہ دینی ہوگی۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • غیر ضروری رسومات  تحریر: حالد حسین

    غیر ضروری رسومات تحریر: حالد حسین

    گر دیکھا جائے تو ہر جگہ رسم و رواج شوق و زوق سے منائے جاتے ہیں، اور اِن قبیح رسومات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہیں پہلے پہل رشتداروں یا ہمسایوں میں کسی کی حالت علیل ہو جاتی تو لوگ بیمار پرسی کے لئے جاتے اور اچھی صحت کی دُعا دے کر واپس آتے تھے اور سارا زمانہ خوش ہوتا. بیمار پرسی کا ثواب تو ایک قدم پے ہزار نیکی بھی مل جاتی تھی تو تب حقیقت میں لوگ بیمار داری کرنے ہی جاتیں تھیں اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ جو کوئی بھی بیمار ہو جاتا ہے ہم چاہتے ہوئے بھی بیمار پرسی کے لئے نہیں جا سکتے.

    اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانے سے پہلے یہ مشورہ کریں گے کہ ہم نے تو بیمار پرسی کے لئے جانا ہے کیا جیب ہمیں اجازت دیتا ہے ؟ ہم کتنے پیسے دیں گے ؟ اگر کم پیسے دیں گے تو جگ ہنسائی ہوگی وغیرہ وغیرہ. یہ بات بھی واضح رہے کہ جب بھی آپ بیمار پرسی کے لئے جاؤ گے تو بندوبست کر کے جانا ہوگا کیونکہ وہ دائم المریض بھی اِس خیال میں مگن رہتا ہے کہ یہ مجھے کتنے پیسے دیں گے؟ اور گھر والوں کی کیفیت بھی کچھ یہ ہوتی ہیں کہ اب اِس کو کِیا کیا پکایا جائے؟ کیونکہ وہ بھی آپ کے پیسوں کے برابر ہی آپ کو پروگرام منعقد کرتے ہیں.

    مطلب زیادہ پیسے دینے والوں کو زیادہ ڈیش مثلاً چکن، قیمہ، بریانی، نہاری، فروٹ، اور بحرین کا مشہور چپلی کباب ،وغیرہ فراہم کیا جاتا ہے جب کہ کم پیسے دینے والوں کو ایک ادھ ڈیش کا مخصوص پروگرام کیا جاتا ہے. گھر سے جاتے وقت ہم کچھ اِس طرح سوچتے ہیں کہ وہ اگر اچھے طریقے سے مہمان نوازی کریں گے تو ہم زیادہ پیسے دیں گے اور اگر اچھی مہمان نوزای نہیں کریں گے تو ہم کم پیسے دے کر بات کو رفع دفع کریں گے. راقم کے تجزیے کے مطابق دور جدید میں "مہمان نوازی گئی بھاڑ میں” کہاں کی مہمان نوازی.

    یہ تو ویسے بھی سودا بازی ہے بس سودا طے کرنا ہے اور اِس سودا بازی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم لوگ اپنوں کی محبت سے محروم ہوگئے ہیں اللّه کرم کریں آخر کب تک چلے گا؟ جب ہم لوگ کافی عرصہ بعد اپنے رشتداروں کے گھر اُس کے حالات پوچھنے جاتے ہے تو وہ شکوہ کرتا/کرتی ہے کہ مجھ سے بات تک نہ کریں آپ کو ابھی فرصت ملی؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے بیمار معاشرے میں بیمار کی بیمار پرسی کے لئے خالی ہاتھ آنا جانا دشمنی کے برابر بات سمجھی جاتی ہے یا ہمارے معاشی حالت کچھ ٹھیک نہیں اور پیسوں کی تنگی تھی یا ہیں اس کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ مصروفیات اتنے بڑھ چکے ہے کہ بالکل وقت نہیں ملتا صبح جاتے ہیں اور رات کو لوٹتے ہیں۔

    خدارا اِن فضولیات سے باز آجائے اور بغیر پیسوں اور بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے حالات پوچھا کریں اِس سے اور کچھ خاص تو نہیں ہو گا البتہ دن بہ دن محبت بڑھے گی یقین مانے اِس دورِ افتادگی میں ہم صرف ایک چیز کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہے اور وہ ہے "محبت” لوگوں کے پاس سب کچھ موجود ہے ماسوائے "محبت” کے اور ہمارے بیچ محبت نہ ہونے کی وجہ پیسے ہی ہو سکتے ہے.

    پیسوں نے ہی ہمارے بیچ محبت جڑ سے ختم کر دی ہے. کہنے کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو اِس کالم کے زریعے یہ مثبت پیغام پہنچایا جائے کہ یہ مہنگے اور قبیح رسومات کو جڑ سے ختم کرنا چاہئے تاکہ ہمارے بیچ محبت کا یہ سلسہ قائم و دائم رہیں.اللّه ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اِن باتو پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    نوٹ: میرا قبیح رسومات کے حوالے سے کالم شائع ہونے پر میری والدہ محترمہ کے تاثرات کچھ یہ تھے،

    کالم جب شائع ہوا تو سب سے پہلے ماں کو پڑھ کر سنانے اور سمجھانے لگا پڑھنے کے بعد ماں کہنے لگی قیموس یہ جو باتے آپ نے لکھی ہیں اور آپ کا جو مرکزی خیال ہے یہ یقیناً قابل تعریف ہے، پر کیا لوگ اِن باتوں کو عملی شکل دے گے؟

    یہ سوال میرے لئے یقیناً مشکل تھا کیونکہ ایسے ڈھیر سارے خوب صورت اور قابل غور باتے ہیں جو فقط کتابوں تک محدود ہیں وہ لوگ پڑھ کر لُطف اُٹھاتے ہے، پر اُن تمام تر باتوں پر عمل کرنا اُن کے لئے موت کا مترادف ہوتا ہے۔

    میرا کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جِن رسومات اور رواجات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہے اُن کو جڑ سے ختم کرنا چائے۔

    خدا ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین
    حالد حسین ادیب کے قلم سے۔
    Twitter Handle:
    @KD_004

  • حقیقی اسلام اور غیر مسلم کے ذہنی خاکوں کی تعمیر کی وجوہات۔ تحریر بشارت حسین

    دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں سراسر ہدایت ، انسان اور انسانیت کا تحفظ حتی کہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
    دنیا کی نوے سے پچانوے فیصد لوگوں کے ذہن میں اسلام کی وہ تصویر وہ نقشہ موجود ہے جو کہ وہ اپنے قریب رہنے والے مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر بنایا ہے۔
    حالانکہ اسلام کسی شخص کے ذاتی کردار کا نام نہیں اور نہ مسلمانوں کی ابادی، انکے طور طریقے اور رسم و رواج کا نام اسلام ہے۔
    اسلام تو اللہ کا عطا کردہ نظام زندگی ہے جو کہ اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اس کو دنیا میں متعارف کروایا۔
    اسلام انسان اور انسانیت کی بقاء کا دوسرا نام ہے۔ اسلامی تعلیمات انسانیت قدر عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے پہ زور دیتی ہیں۔ اسلام میں کسی چھوٹے بڑے ، امیر غریب ، کالے اور سفید کا کوئی تصور نہیں اور نہ کسی کالے کو سفید پر ، امیر کو غریب پر عجمی کو عربی پر اور نہ کسی بڑے کو چھوٹے پر کوئی فوقیت و برتری حاصل ہے۔
    اسلام میں سب مسلمان ایک جیسے ہیں سب کے حقوق برابر ہیں کسی کیلئے کوئی امتیازی قوانین کا کوئی تصور اور گنجائش نہیں۔
    اسلام نہ تو کسی دوسرے مذہب کا دشمن ہے اور کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ان کی مذہبی عبادات سے روکتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں جب بھی کسی ملک و قوم پہ حکمرانی کی تو وہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا پورا پورا خیال رکھا گیا وہاں انسانیت کو عزت دی گئی بغیر کسی امتیازی فرق کے مسلم اور غیر مسلم کو ایک نظام کے تابع کیا گیا ظالم اور مظلوم کو ہر نسلی و مذہبی امتیاز سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کیا گیا۔
    اسلام صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے جس نے کل کائنات کو پیدا کی جس نے تمام مخلوقات کو انکے رزق کے بندوبست کے ساتھ پیدا کیا۔ اسلام میں اس کی ہی عبادت کی جاتی ہے۔
    یعنی اسلام میں داخل ہونے کیلئے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننا ضروری ہے جس کا اقرار ان الفاظ یعنی کلمہ طیبہ کا پڑھ کر کیا جاتا ہے۔
    لا إله الا الله محمد رسول الله.
    جس کے معنی ہیں
    اللہ۔کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    جو شخص اسلام کو قبول کر لیتا ہے اس کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم اور اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ذریعے وضع فرما دیا۔
    دنیا میں سب مزہبوں سے زیادہ فوقیت اسلام کو اپنی تعلیمات کی وجہ سے حاصل ہے۔
    اسلام کے اندر ہر انسان کی عزت نفس وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ جانوروں کو حقوق دیے گئے ایک دوسرے کی مدد کا درس دیا گیا۔ اسلام میں کسی کو کسی سے زیادتی یا ظلم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اب وہ چاہے مسلمان مسلمان پہ کرے یا مسلمان کسی دوسرے انسان پہ کرے یا جانور پہ کرے۔

    اسلام کے بارے میں دنیا کے غلط تاثرات
    دنیا کے تقریبا ہر ملک میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ہر ملک ہر جگہ کے اپنے رسم و رواج ہیں۔ جب لوگ جہاں مسلمانوں کو دیکھتے ہیں انکے رسم و رواج ، رہن سہن انکے بودوباش تو جو خاکہ انکے ذہن میں بنتا ہے وہی وہ اسلام کے متعلق قائم کر لیتے ہیں کہ یہی اسلام اور اسکی تعلیمات ہیں۔
    حالانکہ اسلام کسی قوم کے رس و رواج یا ذاتی زندگی اور سوچ کا نام نہیں۔
    اگر وہاں کے مسلمانوں کا رہن سہن اچھا ہے کردار واقعی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے تو وہاں کے رہنے والے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں سراہتے ہیں اور اسلام کے بارے میں ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں اور عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے مذاہب ترک کر کے اسلام کو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔
    اب جہاں مسلمانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو انکی زندگی اسلامی تعلیمات کے منافی ہوں وہاں کے لوگ اپنے ذہن میں اس کو اسلام مانتے ہیں اور اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
    حالانکہ یہ انکا ذاتی کردار ہے۔ اسلام جھوٹ ، چوری ، دھوکہ فراڈ ، فتنہ اور فسادات سے منع کرتا ہے۔
    اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان یا حیوان کو تکلیف پہنچے اب اگر کوئی شخص اس طرح کے کاموں میں ملوث ہے تو یہ اسلام نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار ہے۔
    آئیے ہم اسلام کو بدنام کرنے کی بجائے وہ کام کریں جو کہ بحیثیت مسلمان ہمیں کرنے چاہئیں تاکہ غیرمسلم اسلام کے بارے میں کوئی غلط تاثر نہ لیں انکے سامنے اسلام کا اصل منظر پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    اسلام کی اصل تبلیغ ایک مسلمان کی زندگی اس کا قول اور فعل ہے۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    آج کل ہر خاص وعام کی زبان پر ایک ہی نام ہے اور وہ ہے عمران خان، عمران خان نے ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے چاہے وہ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا ، عمران خان ماضی سے لے کر آج تک عوام کے دِلوں پر راج کر رہے ہیں۔

    نوجوان نسل نے عمران خان کے کرکٹ دور کو بذات خود تو نہیں دیکھا مگر اپنے بڑوں سے اسکی قائدانہ صلاحیت کے بارے میں سنا ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت 1992 کا ورلڈکپ ہے۔

    اگر سیاست کی بات کی جائے تو عمران خان کا یہ دور بھی بہترین اور تاریخی ہے۔ جہاں پاکستانی عوام گہری نیند سو رہی تھی وہاں عمران خان کی محنت اور کوششوں نے عوام کو بیدار کیا ہے۔

    عمران خان کی والدہ متحرمہ کینسر جیسے موضی مرض سےانتقال کرگئی۔ عمران خان کی عوام سے فکرو محبت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے غریب عوام کے لیے یہ سوچ کر کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا کہ جو تکلیف میری والدہ نے برداشت کی ہے وہ کسی اور کی ماں کو نہ سہنی پڑے۔

    پھر عمران خان نے عوام کی مشکلات اور تکالیف کو سامنے رکھ کر کینسر ہسپتال بنوایا۔ مختلف شعبوں سے وابسطہ افراد نے عمران خان کو منع کیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر ممکن نہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان کی انتھک محنت کے بعد شوکت خانم ہسپتال تعمیر ہوگیا۔

    ہسپتال نہ صرف تعمیر ہوا بلکہ کافی مریض یہاں علاج کروا کر صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ آج الحمدللہ پاکستان میں ایک کے بجائے دو کینسر ہسپتال ہیں اور تیسرے پر کام جاری ہے جو انشاء اللہ بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔

    اسی طرح عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور 1996 میں پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا۔ سیاست میں آنے کے بعد عمران خان کا مزاق اڑایا گیا مگر عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور اپنی محنت کو جاری رکھا۔

    اس طرح عمران خان کی بائیس سال کی انتھک محنت 2018 کے انتخابات میں رنگ لے آئی اور عمران خان ملک کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ عمران خان نے بہت ہی کم عرصے میں دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، آزاد اور خود مختار ریاست ہے۔

    عمران خان کی کوششوں کے نتیجے میں عالمی دنیا پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اپوزیشن نے بہت کوششیں کیں کہ عوام کا عمران خان پر محبت و اعتماد کو کسی طریقے سے ختم کیا جائے، مگر اپوزیشن کو ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانی پڑی۔

    عوام مکمل طور پر عمران خان پر اعتماد کرتی ہے اور ہر فورم پر دفاع کرتی ہے کیونکہ پاکستانی عوام کو عمران خان کی صورت میں ایک عظیم رہنما ملا ہے۔

    میری دعا ہے کہ اللہ پاک میرے عظیم لیڈر کی حفاظت فرمائے اور نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے آمین۔

    @Chem_786

  • سربز پاکستان  تحریر: حسیب احمد

    سربز پاکستان تحریر: حسیب احمد

    جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں پاکستان میں گرمی کا موسم زیادہ تر علاقوں میں رہتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ گرمی اس لیے پڑتی ہے کیوں کہ یہاں خے کے لوگ اپنی ذاتی مفادات کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں۔ اور پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو شجرکاری مہم کو بڑھاتے ہوئے پاکستانی نوجوانوں کو درختوں اور سربز و شاداب پاکستان کی اہمیت سکھاتے ہیں۔ کافی تنظیمیں پاکستان میں ہر سال موسم گرما سے بچانے کے لیے شجرکاری کرتی ہے جس سے Globalwarming سے بچاؤ ممکن ہے۔

    ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اور ملک کی خدمت کریں۔ درخت خدا پاک کی نعمت ہے، درخت ہمیں اپنے سائے سے ہمیں سخت دوپ سے دور رکھتے ہیں۔

    درخت لگانے سے آپ کی اپنی نسلیں محفوظ رہیں گی، کیا اپنے کبھی سوچا ہے اگر دنیا سے درخت ختم ہوجائیں گے تو کیا ہم سب زندہ بچ پائیں گے۔

    پاکستانی پرچم کا ایک بڑا حصہ سبز ہے ، لیکن ملک کا ایک وسیع علاقہ ہریالی سے خالی ہے۔ پاکستان میں درخت لگانے کا تناسب بہت کم ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جس ملک کو پانچ دریاؤں کی برکت حاصل ہے وہاں سبزہ بہت کم ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کم از کم ایک چوتھائی حصے میں جنگلات ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں جنگلات پانچ فیصد سے بھی کم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ان درختوں کو کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں جو ہماری سینئر نسلوں نے لگائے تھے۔ یہ ایک بہت عام منظر ہے کہ ہر دوسرے دن بے شمار درختوں کو توڑا جا رہا ہے کبھی سڑکوں کو بڑھانے کے لیے اور کبھی نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے کبھی کبھی ہم لکڑیاں حاصل کرنے کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو ، یہ عمل انتہائی افسوسناک ہے۔ تصویر کا زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ان کے متبادل کے بارے میں سوچنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ درخت ماحول کی زینت ہیں۔ وہ زمین کو خوبصورت بناتے ہیں اور صحراؤں کو زمینی جنت میں بدل دیتے ہیں۔

    وہ پرندوں اور جانوروں کو قدرتی رہائش فراہم کرتے ہیں۔ وہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔ وہ زندگی کا دھارا چلاتے رہتے ہیں۔ درختوں کے بغیر ، ماحول ایک بنجر نظر دیتا ہے جہاں نہ پرندے گاتے ہیں اور نہ جانور آتے ہیں۔

    آج عہد کریں سب مل کر ہم نے پاکستان کو سرسبز و شاداب پاکستان بننا ہے کیونکہ یہ ہماری نسلوں کا سوال ہے۔

    اللہ پاکستان کو اس طرح سربزو شاداب بنانے میں ہمارا ساتھ دے اور ہمیں ہمت دے کہ ہم اپنے ملک پاکستان کے لیے کچھ کرسکیں اور اپنی نسلوں کو مثبت انداز میں اپنی خدمات کے بارے میں بتاسکے۔

    "پاکستان زندہ باد”