کورونا کے سنگین حالات کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے وفاقی وزیر تعلیم کو بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلا کے تعلیمی اداروں کے بارے حتمی فیصلے کرنے کے احکامات جاری کیے۔
ایسے میں پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء میں اُمید کی ایک کرن جاگی ہے، یقیناً یہ اجلاس طلباء پاکستان کی آخری اُمید ہے، اس سے پہلے بھی 28 جولائی کو شفقت محمود نے اپنی سربراہی میں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلانے کا اعلان تو کیا مگر وہ اس اعلان پر پورا نہیں اُتر سکے اور کانفرینس سے پہلے لندن تشریف لے گئے یوں ایک بار پھر طلباء کو مایوس کیا گیا۔
پاکستان بھر میں جس طرح کورونا کے حالات اب چل رہے ہیں یقیناً یہ حالات مئی 2020 سے بہت زیادہ سنگین ہیں، کورونا کی چوتھی لہر (ڈیلٹا ویرینٹ) کی سنگینی کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بہت مرتبہ خبردار کیا ہے، اس کی سنگینی کا ثبوت یہ ہے کہ نئی تحقیق کے مطابق یہ وائرس اُن لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو ویکسین لگوا چکے ہیں اور اس وائرس میں مبتلا ایک شخص پانچ لوگوں کو شدید بیمار کر سکتا ہے۔ مئی 2020 کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے جب مئی میں پاکستان میں کورونا پھیل رہا تھا تب حکومت پاکستان نے ملک بھر کے نوی سے باروی تک کے تمام تر پرچے منسوخ کیے تھے اور جو تھوڑے بہت پیپرز ہوئے تھے ملک بھر میں اُن کو بھی منسوخ تصوّر کر کے طلباء کو اگلی کلاس میں ترقی دی تھی ساتھ ہی انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین (IBCC) کے تیارکردہ فارمولہ کے تحت اُن تمام بچوں کے رزلٹ بنائے گئے تھے۔ یقیناً کورونا کے پیش نظر یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا جس سے بچوں کو لاحق جانی خطرات ٹل گئے، اُن کا تعلیمی سال بھی ضائع نہیں ہوا اور اُن کا رزلٹ بھی متاثر ہونے سے بچا۔ مگر اس بار حکومت کی طلباء کے ساتھ سلوک قابل افسوس اور نا قابلِ برداشت ہے وہ اس لئے کہ اس بار پورے سال میں کورونا کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو صرف تین سے چار مہینوں کے لئے کھولا گیا اور اُن مہینوں میں متبادل کلاسز کا انعقاد کیا گیا جو کہ پورے سال میں صرف پچاس سے پچپن دِن بچوں کو کلاسز میں پڑھایا گیا، جس سے بچوں کا تعلیمی سال شدید متاثر ہوا اور وہ مقررہ وقت میں اپنا کورس مکمل کرنے سے قاصر رہے اس بات کا اقرار شفقت محمود بہت بار کر چکے ہیں کہ طلباء کا یہ مطالبہ درست ہے کہ اُن کو کورس مکمل نہیں کروایا جا سکا، اس کے باوجود حکومت نے طلباء کو کیا ریلیف دیا؟ کچھ بھی نہیں، یہ سب اپنی جگہ، دوسری طرف اس وقت پورا مُلک کورونا کی لپیٹ میں ہے، سندھ میں مکمل لوک ڈاؤن اور دوسرے صوبوں میں اسمارٹ لوک ڈاؤن نافذ ہے، ہر قسم کی ممکنہ پابندیاں لگائی جا چکی ہیں ایسے میں نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء کو امتحان دینے پر مجبور کرنا طلباء کی جانی اور تعلیمی بربادی سے کم نہیں، وہ کیسے؟ جیسے 2 جون 2021 کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے دو ٹوک اعلان کیا اس بار کسی بچے کو امتحان کے بغیر کوئی گریڈ نہیں دیا جائے گا، اور بیسوں مرتبہ یہ بات شفقت محمود کی طرف سے دہرائی گئی ہے بچوں کی صحت اولین ترجیح ہے، اب نوی اور گیارویں کے بچے اُن سے کسی گریڈ کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ تمام بچے اس بات پر اسرار کر رہے ہیں کہ اگر حکومت ہماری صحت کو لیکے سنجیدہ ہے تو ہمیں بغیر کسی گریڈ کے اگلی کلاس میں ترقی دی جائے اور اگلی کلاس میں جب ہم امتحان دیں گے اُس کے نتائج کی بنیاد پر ہمارے اس سال کے مارکس لگائے جائیں جو کہ پچھلے سال بھی نوی اور گیارویں والوں کے ساتھ حکومت نے ایسا کیا تھا، اس سے شفقت محمود کی اس بات کی بھی تائید ہوگی کہ حکومت نے اس سال امتحان کے بغیر کسی بچے کو گریڈ نہیں دیا ساتھ ہی لاکھوں بچوں کو کورونا کے اس وبا سے کافی حد تک محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس فیصلہ سے پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے لاکھوں بچوں کا اگلا تعلیمی سال بھی وقت پر شروع ہوگا اور اگلے تعلیمی سال میں اس طرح کے نا خوشگوار واقعوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے نوی اور گیارویں کے جو چند پیپرز ہوئے ہیں اُنکو اور جو ہو رہے ہیں اُن کو منسوخ تصوّر کرنا یقیناً ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ پیپرز کو مزید ملتوی کر کے طلباء کا اگلا تعلیمی سال بھی متاثر کرنا یہ کوئی موزوں فیصلہ نہیں ہوگا اور یقیناً اس سے طلباء کا بہت زیادہ نقصان ہوگا، ساتھ ہی وزراء تعلیم کو اپنے اجلاس میں دسویں اور باروی کے وہ تمام طلباء جو اس سال بغیر پڑھایئے کے امتحان دینے پر مجبور ہوئے اور اپنے امتحانات دے چکے ہیں اُن کو خصوصی رعایت دے کے طلباء کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت دینا چاہئے، اب وہ وزراء پر منحصر ہے کہ وہ طلباء کو رعایت کس شکل میں دیتے ہیں، متاثرہ تعلیمی سال کو مدنظر رکھتے ہوئے آیا حکومت اُنکو کچھ فیصد اضافی مارکس دینے کا اعلان کرتی ہے یا پھر اس سال کسی بھی سٹوڈنٹ کو فیل نہ کرنے پر غور کرتی ہے۔ طلباء کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے میں نہ تو ملک و قوم کا کوئی نقصان ہے نا ہی حکومت کو کوئی حرج۔ اب دیکھنا یہ ہے چار اگست کو وزراء تعلیم کس رخ بیٹھتے ہیں، اگر قوم کے بچوں کے بہترین مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں تو ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے اور کھل کر حکومت کو داد دیں گے، حکومت کو بھی چائیے قوم کے معماروں کے ساتھ انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کر کے اُن کو ایک مثبت انداز میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اجنڈے میں اپنے ساتھ شریک کرے بجائے اس کے کہ معصوم طلباء کے مفادات کو نظراداز کر کے اُن کو اشتعال دلائیں۔ شُکریہ
Twitter account @Azeem_GB
Category: بلاگ
-

4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم
-

گلگت میں کرونا واٸریس کے وار جاری۔ تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ
ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مہلک واٸریس کرونا کے وار اور تباہ کاریاں جاری ہیں گلگت بلتستان میں کرونا کیسسز کی شرح میں بہت اضافہ ہوچکا ہے خصوصا ضلع گلگت میں کرونا کے بڑھتے کیسسز اور شرح اموات نے لوگوں کی تشویش ,پریشانیوں اور تکلیفوں میں اضافہ کردیا ہے صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند کردی گٸی ہیں اور کرونا سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص آٸیسولیشن سینٹر بھر چکے ہیں اور کچھ پراٸیوٹ ہسپتالوں نے نٸے مریضوں کو لینے سے معذرت کے اشتہار بھی چسپاں کردٸے ہیں طبی ماہرین کے مطابق کرونا کی نٸی لہر مہلک انڈین ڈیلٹا ورژن ہے جس کے مہلک اثرات زیادہ ہیں ماضی میں گلگت بلتستان میں سخت ایس او پیز اور لاک ڈاٶن سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کرونا کی شرح اور صحت یابی کی شرح حوصلہ افزا رہی تھی مگر حالیہ لہر کے بعد صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے سیاسی و سماجی حلقے بڑھتے ہوئے کیسیز اور شرح کے حساب سے مکمل لاک ڈاٶن اور سخت ایس او پیز کا مطالبہ کررہے ہیں گلگت بلتستان ایک پسماندہ اور دورافتادہ خطہ ہونے کی وجہ سے طبی سہوليات اور طب کے شعبے میں ملک کے دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہے خدانخواستہ اگر صورتحال مزید گھمبیر ہوٸی تو روک تھام اور تدارک سنگین چیلنج بن سکتا ہے حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں878 کرونا سے متاثرہ مریض کرونا سینٹرز میں زیرعلاج ہیں اب تک اس موزی واٸیریس سے صوبے میں 147 افراد جاں بحق ہوئے ہیں سب سے زیادہ 67 اموات کے ساتھ ضلع گلگت سرفہرست ہے دوسرے نمبر پر46 اموات کے ساتھ ضلع سکردو اور تیسرے نمبر پر سات اموات کے ساتھ ضلع غذر نمایاں ہے کرونا کیسسز میں شرح کے حساب سے بلتستان 13.40 کی شرح سے پہلے نمبر پر اور ضلع گلگت 8.92 فیصد شرح کے حساب سے دوسرے نمبر پر موجود ہے ایکٹیو کیسسز کی شرح کے حساب سےضلع گلگت297 مریضوں کے ساتھ سرفہرست ہے ضلع سکردو185 کیسسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر جکہ 151 کیسسز کے ساتھ ضلع غذر تیسرے نمبر پر موجود ہے صوبے میں کرونا کیسسز کی شرح %8.45سے بڑھ کر 9.77%تک پہنچ گٸی ہے جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کا سیزن ہے اور اندرون و بیرون ملک سے سیاحوں کی بڑی تعداد گلگت بلتستان میں موجود ہے حالیہ بارشوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے کرونا کیسسز نے بھی سیاحوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے حکومت نے کرونا کیسسز کی شرح کے حساب سے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا ہے اور سیاحوں کے لیے بھی پالیسی وضع کی گٸی ہے کہ کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ اور ٹیسٹ رپورٹ کے بغیر صوبے میں داخلے کی ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے جو کہ خوش آٸند بات ہے دوسری طرف ہسپتالوں میں او پی ڈیز کی بندش کی وجہ سے عام مریضوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حکومت کو چاہیے کہ سخت ایس او پیز کے ساتھ عام عوام کے لیے او پی ڈی سروس یقینی بناٸی جاۓ تاکہ عام مریضوں کو درپيش مشکلات میں کمی آسکے ان حالات میں صوبائی حکومت کو چاہیے کہ کرونا کیسسز کی بڑھتی ہوٸی شرح کو مدنظر رکھتے ہوۓ جامع حکمت عملی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کو سختی سے یقینی بنائے اور عوام الناس بھی طبی ماہرین اور حکومت کی جانب سے وضع کردہ پالیسسز و ایس او پیز پر بھرپور عملدرآمد کریں تاکہ کرونا کیسسز کی موجودہ لہر کے مضر اور مہلک اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے ۔۔۔۔۔ Srufaq@ -

ویکسین کیوں نہ لگوائی جاۓ تحریر : ثروت نجمی
کو ویڈ ۱۹ نے دنیا تو بدل ہی دی، ہمیشہ کی طرح ہمیں ایک نیا عالمی سازش کا مرکز بھی بنا دیا ہے۔
دنیا بھر کے لوگ اس فکر میں ہیں کہ کس طرح سے اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال، پڑوسی محلہ دار، رشتہ دار، دوست احباب اور ہم وطنوں کو اس جان لیوا وائرس سے بچائیں۔
پچھلے ڈیڑھ سال سے دنیا بھر کی حکومتیں مختلف قسم کے لاک ڈاؤن کر کے ، حفاظتی طریقہ کار اور واءرس سے بچاؤ کے پیغامات کو ہر خاص و عام تک پہہچارہی ہیں تاکہ اس وائرس کی تباہ کاریوں کو کسی نہ کسی طریقے سے قابو میں لایا جا سکے۔ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود لاکھوں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں، کڑوڑوں لوگ اس وائرس کی وجہ سے جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس موزی وائرس کے انسانی جسم پڑ پڑنے والے دور رس مضر صحت اثرات کے بارے میں ابھی مکمل معلومات ہی نہیں ہیں۔معاشرتی طور پر اس وائرس کی وجہ سے میل ملاپ، درس و تدریس، غمی و خوشی، دکھ سکھ ، آنا جانا، ملنا ملانا ، غرض یہ کی زندگی کا ہر ایک پہلو اس کی زد میں آکر پاش پاش ہو گیا ہے۔ جو معاشرتی ضابطے دہایوں، صدیوں اور نسل در نسل ہماری زندگی کا حصہ بن چکے تھے، اب اچانک ہی خطرناک اور جان لیوا بن گئے ہیں۔
کسی بھی جگہ ، کسی بھی وقت، کسی سے بھی ملاقات کرنے کی آزادی فلحال ختم ہوگئی ہے۔ بچے اپنے ماں باپ سے ملنے سے قاصر ہو گۓ، میتیں بغیر عزیز و اقارب کے سپرد خاک کر دی گئیں، بیمار جانیں اپنی اقرباء کی عیادت سے محروم ہو گئیں، دفاتر، اسکول، اعلیُ تعلیمی ادارے، جیمخانہ وغیرہ بند ہو گۓ ۔ قصہ مختصر ، زندگی جو ہم جانتے تھے وہ مکمل طور پر بدل گئی ہے۔معاشی طور پر کروڑوں لوگوں کے کاروبار تباہ و برباد ہو گۓ، نوکریاں ختم ہو گئیں، غریب ممالک میں مزید غربت پھیل گئی ہے، امیر ممالک بھی قرضوں کے بھوجھ میں دبیں ہیں۔ کساد بازاری کا ایک بڑھتا ہوا طوفان ہے جو دنیا بھر کی معاشیات کو اپنی ظالمانہ گرفت میں لے رہا ہے۔ غریب مزید غریب ہوا جارہا ہے اور اسے امید کی کرن شازونازر ہی نظر آ رہی ہے۔
یہ تو پھر بھی کافروں کی ایجادات بشمول انٹرنیٹ ، موبائل فون، اور کمپیوٹرز کی معجزہ کاری ہے کہ زندگی کا نظام جاری ہے اور ہم اپنی روز مرہ زندگی کی گذر بسر کر رہے ہیں۔ یہ وہی ایجادات جنہیں ہم مختلف حیلے بہانوں سے رد کرتے ہیں یا ان میں سازشوں کا عنصر تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر کچھ نہیں بات سوجھتی تو ان ایجادات کے استعمال کو فحاشی پھیلانے کازریعہ اور اسلامی اقدار کے منافی قرار دیتے ہیں۔
اس کسمپرسی اور مایوسی میں امید کی واحد کرن وہ علاج ہے جوُ کہ جہنمی کافروں نے اپنی دنیاوی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوۓ اور دن رات کی انتھک کا وشوں سے ایک ویکسین کی شکل میں ایجاد کیا۔ یہ ویکسین دنیا میں امید کی واحد کرن ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی معمول کی زندگی گزارنے کا خواب دوبارہ دیکھنے لگے ہیں۔
جن معاشروں میں اس ویکسین کا استعمال وافر تعداد میں ہو رہا ہے وہاں زندگی کسی نہ کسی معنوں میں واپس آرہی ہے۔ روز مرہ کے معمولات میں توازن آرہا ہے۔لیکن ہمارے معاشرے کی سوچ میں جو یہود و ہنود کی سازشوں کا جال بن دیا گیا ہے وہ اس ویکسین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ہمیں مختلف طریقوں، تاویلوں، شرعی حوالہ جات اور فتاؤں کی مدد سے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہ ویکسین ایک بینالاقوامی سازش ہے جس کے پیچھے کافروں (چین کی استثنی) کا ہاتھ ہے۔ کہ ہم جو دنیا جہان کے سب سے معزز، پاکیزہ، نیک سیرت، غریب پرور، عبادتگار، ہمدرد، اور ترقی یافتہ لوگ ہیں، یہ ویکسین ہماری ان تمام خوبیوں اور صفات کے خلاف ایک کافرانہ ہتھیار ہے۔ ہمارا مقتدر دینی طبقہ تو مزید آگے بڑھ کر یہ بیان فرمارہا ہے یہ ویکسین مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لۓ ایک عالمی کافرانہ سازش ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اربوں مسلمانوں نے مل کر دنیا میں جو ایجادات، خوشحالی، امن، بھائ چارہ اور مثالی اسلامی معاشرے قائم کیا ہے ، ان کی معازاللہ روک تھام ہو جاۓ گی۔
ایک ایسی سازش جس کا تانہ بانہ ہر اس کافر ملک سے ملتا ہے، جس کی امیگریشن لینے کے لۓ مسلمان اپنا جان و مال قربان کرنے کے لۓ ہمہ وقت تیار ہیں۔ دنیا بھر کا جھوٹ اور فراڈ کر کے ہم مسلمان ان ہی کافر ممالک کی امیگریشین لیتے ہیں ، جو ہماری تعداد کو گھٹانے کے لۓ یہ ویکسین لے کر آئے ہیں۔ تو جناب اب یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ ان مقتدرہ حضرات کی نظر میں اسلام کا مفاد اتنا عزیز ہے کہ وہ اس کے لۓ ویکسین نہ لگا کر اپنی جان دے دیں گے ۔ چنانچہ اگر آپ کو بھی اسلام سے اتنی ہی محبت ہے تو پھر ان پہنچی ہوئی ہستیوں کی تقلید میں آپ بھی ویکسین نہ لگوا کر شہید ہو سکتے ہیں اور اگر آپ ایک مسلمان مرد ہیں تو فوراُ ہی جنت پہنچ کر بہتر حوروں، انگنت غلامان، اور اپنی دنیاوی بیگم کے ساتھ عیش و آرام کی ابدی زندگی گزار سکتے ہیں۔ وما علینہ اللالبلاغ۔
-

غنی شاکر اور فقیر صابر تحریر: احسان الحق
اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو رزق دے کر آزماتے ہیں اور کچھ بندوں کو رزق کی تنگ دستی سے آزماتے ہیں. مال دار اور غنی بندے کو ہر حال میں شاکر ہونا چاہئے، یہ بہترین غنی ہے. اسی طرح فقیر اور تنگ دست بندے کو ہر حال میں صابر رہنا چاہئے، یہ بہترین فقیر ہے. ایسے شاکر "غنی” اور صابر "فقیر” کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں اجر عظیم ہے. اگر غنی ناشکری کرنے والا ہو تو ایسا مالدار بدتر مالدار ہے. بے صبری کرنے والا فقیر بدتر فقیر ہے.
ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ اے ابوذرؓ تمہارے خیال میں کثرت مال "مالداری” ہے؟ فرمایا کہ جی ہاں. دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ قلت مال "فقیری” ہے؟ آپ نے جواب دیا ہاں جی. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں،
"ابوذرؓ تمہارا جواب غلط ہے حقیقی مالدار اور غنی وہ ہے جو دل کا غنی ہو، جس کا نفس غنی ہو چاہے اس کے پاس مال کم ہو یا زیادہ. فقیر وہ ہے جس کا دل اور نفس فقیر ہو چاہے اس کے پاس بہت زیادہ مال ہو”.دل کے غنی ہونے کا مطلب ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے راہ میں خرچ کرنے والا اور شاکر ہو. اپنے پاس موجود کم یا زیادہ مال میں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرے یہ حقیقی مالدار اور غنی ہے. اسی طرح مالدار آدمی ہو مگر دل کا فقیر ہو مطلب وہ کنجوس ہو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والا ہو اور ناشکری کرنے والا ہو ایسا بندہ حقیقی فقیر ہے. اسلام میں فقیری اور امیری دونوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور فقیری اور امیری کی مذمت بھی کی گئی ہے. مال کی کثرت سے ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مستحقین پر خرچ کیا جا سکتا ہے جو کہ فقیری پر ترجیح کی وجہ ہے. بہترین مالدار وہ ہے جو شاکر بھی ہو.
پاکیزہ اور حلال بہت ہی عمدہ ہے اگر وہ نیک اور صالح بندے کے پاس ہو. وہ بندہ جو اس پاکیزہ اور حلال مال اور رزق کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے. مال و دولت آنے کے بعد اس کے دل میں غرور و تکبر پیدا نہ ہو. اکثر ہوتا یہ ہے کہ مال و دولت ملنے کے بعد انسان فرعون بن جاتا ہے. غیر شرعی اور غیر قانونی کاموں میں پیسے اڑاتا ہے. اگر مال کسی ایسے بندے کے پاس ہو جو اپنے مال کو ناجائز طریقوں یا ناجائز کاموں میں خرچ کرے، فضول خرچی کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے روک لے، ایسے مالدار کے لئے اس کا مال آخرت کے دن وبال جان بن جائے گا. ایسا فقیر جو بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر شرعی اور غیر قانونی طریقوں سے مال کمانے کی کوشش کرے یا اپنے عقائد اور منہج پر سمجھوتہ کرتے ہوئے غیراللہ کی مدد طلب کرے تو اس کے لئے بھی آخرت کے دن سزا مقرر ہے.
جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی توبہ قبول ہوئی تو کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے کہا میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا اے کعب سارا مال خرچ مت کرو، کچھ مال اپنے پاس رکھو. اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا تھا کہ اے سعد اگر تم اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ کر جائو تو یہ افضل ہے، تمہارے ورثا امیر ہوں تاکہ وہ لوگوں سے بھیک نہ مانگنے پر مجبور ہوں. اس سے یہ ثابت ہوا کہ غریب اور فقیر ہونے سے مالدار ہونا بہتر ہے.
اسلام میں مالدار ہونا یا مال اکٹھا کرنا کوئی گناہ نہیں، شرط یہ ہے کہ مال حلال طریقے سے کما کر حلال طریقے سے خرچ کیا جانا چاہئے. اس مال کو مستحقین کی مدد کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے. اسلام میں فقیر ہونا بھی کوئی عیب نہیں مگر شرط یہ ہے کہ بندہ صابر ہونا چاہئے. فقیر کو تنگ دستی سے تنگ آ کر کوئی غیرشرعی اور غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہئے.
@mian_ihsaan -

،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو تحریر: عقیل احمد راجپوت
مراد علی شاہ اور حماد اظہر صاحب لاک ڈاؤن سے نہیں تو لوڈ شیڈنگ سے مرتی کراچی ،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو
کراچی حیدرآباد میں لاک ڈاؤن اور ڈیلٹا وائرس کا زور جاری ہے حکومت سندھ لوگوں کو بغیر کسی ضرورت گھر سے نا نکلنے کی تنبیہ کرتی ہوئی اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے میں جوٹی ہے مارکیٹوں کارخانوں اور فیکٹریوں میں سناٹے چھائے ہوئے ہیں سینکڑوں کلو واٹ استعمال ہونے والی بجلی تقسیم کار اداروں کے استعمال میں نہیں آرہی پیداوار کی صلاحیت سے کم بجلی کے استعمال کے باوجود کراچی اور حیدرآباد میں روزانہ 7:30 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس دورانیہ بعض اوقات 12 سے 14 گھنٹے تک بھی ہوجاتا ہے لوڈ کے کم ہونے کے باوجود کراچی حیدرآباد کی عوام کا خون نچوڑنے والے کے الیکٹرک اور حیسکو گرمی کی شدت کے باوجود لوگوں کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں این سی او سی کے جناب اسد عمر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر حماد اظہر صاحب سے کراچی اور حیدرآباد کی عوام کی پرزور اپیل ہے کہ بڑے بڑے بجلی کے بل بھیجنے والے عوام کی خون پسینے کی کمائی پر جبری ڈاکہ مارنے والے ان اداروں کو فوری عوام الناس کو ریلیف دینے کے احکامات صادر فرمائے گرمی اور کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ گھروں سے نا نکلنے کی کوشش کس طرح کریں جب کے لوڈ شیڈنگ کا جن اس مشکل حالات میں بھی قابو میں نہیں آرہا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی عوام کی اس پریشانی کا سد باب کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں عوام کو بیروزگاری پانی سیوریج اور گیس کی قلت جیسے یوٹیلیٹی اشو کو فوری حل کروانے کا مناسب انتظام کیا جائے بلوں میں کرونا ریلیف دیکر تمام پاکستانیوں تک امداد پہنچائی جاسکتی ہے فوری لوڈ شیڈنگ ختم کرکے عوام کو گھروں تک محدود کرنے کا سبب بھی بنا جاسکتا ہے اگر آپ عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو عوام کو ریلیف دیں تکلیف نہیں وفاق صوبے پر اور صوبہ وفاق پر ڈال کر کراچی اور حیدرآباد کی عوام کے دلوں میں موجود لاوے کو مزید نا بھڑکائے کیوں کہ یہ لاوا پھٹا تو پھر کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوگا
ضد نہیں حکومت کریں جس چیز کا آپکے پاس لنگڑا لولا جیسا بھی مینڈیٹ ہے پاکستان کے معاشی حب کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنا بند کریں کراچی پر کاٹھور کے مقام پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر ذلیل کرنا کراچی والوں پر ظلم نہیں تو اور کیا ہے پوری دنیا میں لوگ ہنر مند افراد کو پرموٹ کرتے ہیں پاکستان میں الٹا نظام ہے سب سے زیادہ ٹیکس اور سب سے زیادہ پڑھی لکھی آبادیوں والے شہروں کو پستی کی جانب دھکیلا جارہا ہے جو کسی بھی صورت پاک کے لئے اچھا عمل نہیں بہت سی قربانیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شب وروز محنت سے امن کا قیام عمل میں آیا ہے اس امن کو خراب نا ہونے دیں شہیدوں کے خون سے پروان چڑھنے والے اس امن کو مزید بہتر بنانے کیلئے کوششیں کی جائیں تاکہ مزید کوئی فیملی اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ برداشت نا کرے بجلی کا یہ مسئلہ حل کروانے میں ہم سب کا فائدہ ہی ہوگا انشاء اللہ -

منفی سوچ تحریر : ابوبکر گھمن
سوچ دو طرح کی ہوتی ہے مثبت سوچ اور منفی سوچ ہم یہاں منفی سوچ کی بات کریں گے۔
منفی سوچ کیوں پیدا ہوتی ہے۔
منفی سوچ کی ایک بہت بڑی وجہ ابتدائ زندگی کے کچھ ایسے واقعات اور سانحات ہیں جن کے نتائج منفی ہوتے ہیں اور وہ انسانی زندگی ہر گہرے منفی اثرات مرتب کر جاتے ہیں جو بعد میں رفتہ رفتہ منفی سوچ میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ ان واقعات کے بعد انسان منفی سوچنا شروع کر دیتا ہے ۔ اور وہ ہر چیز کو منفی سوچ سے دیکھتا ہے اور وہ منفی سوچ سوچ کر منفی سوچ کا ماہر بن جاتا ہے کیونکہ منفی سوچنا ایک آسان عمل ہے لیکن ہر چیز کے بارے مثبت انداز سے سوچنا بہت مشکل عمل ہے ۔
سوچ کے منفی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو سوچنا ہی نہیں آتا اگر اس کو سوچنا آ جائے تو اس کو انتخاب مل جاتا کہ کون سی سوچ اختیار کرنی ہے۔
عام طور پر ہمارے پاس ایک ہی انتخاب ہوتا ہے اور وہ ہے منفی سوچنا کیونکہ یہ بہت آسان انتخاب ہے اور مثبت سوچ اختیار کرنا ایک بہت مشکل انتخاب ہے ۔
عام طور ہر ہم کسی شخص کے بارے میں کسی دوسرے سے غلط سن لیتے ہیں حالانکہ اکثر اوقات وہ سچ پر مبنی نہیں ہوتا لیکن وہ بات ہمارے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے پھر ہم اس شخص کو جس محفل میں دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں ہم اس کے بارے میں منفی سوچنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں ہمارے ذہن میں منفی تاثر ہوتا ہے ۔
عام طور پر ہمارے گھروں میں ایک بچے کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے کہ اس کی کسی بات ہر یقین نہیں کیا جاتا اس کو ہمیشہ کمتر تصور کیا جاتا جس کی وجہ سے وہ سب کے بارے منفی سوچ رکھنا شروع کر دیتا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی سوچ بلکل منفی ہو جاتی ہے اور وہ ہر چیز کو منفی نظریے سے دیکھتا ہے۔
ہمارے اندر منفی سوچ کے راستے بنے ہتے ہیں ہم اپنی سوچ کو مثبت بنانے کی نہ خواہش رکھتے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں اس طرح منفی سوچ ہماری زندگی کہ ہر پہلو پر نظر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اگر آپ کسی کی دس خوبیوں میں سے نو خوبیوں کو نظر انداز کر کے اس کی ایک خامی پر توجہ دیتے ہیں تو آپ منفی سوچ رکھتے ہیں منفی سوچ رکھنے والا آدمی کبھی بھی کسی کی خوبیوں کی طرف توجہ نہیں دیتا وہ ہمیشہ دوسروں کی خامیاں ڈھونڈتا اور ان پر تنقید کرتا ۔
منفی سوچ رکھنے والا کبھی کسی پر تنقید اس کی اصلاح کےلیے نہیں کرتا بلکہ وہ تنقید اگلے انسان کو کمتر اور نیچا دکھانے کےلیے ہوتی ہے منفی سوچ رکھنے والا دوسروں کی اچھائیوں کو بھی منفی پہلو سے پرکھتا ہے ۔"زندگی بدلنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے سوچ کو بدلو”
سوچ انسانی زندگی کہ اہم ترین عوامل میں سے ہے آپ ویسے ہی ہوں گے جیسی آپ کی سوچ ہو گی لہٰذا سوچ کے طریقہ کار کو سمجھنا اور اس پر قابو پانے کا فن ہمیں سیکھنا ہو گا تب ہی ہم زندگی میں مثبت انداز سے آگے بڑھ سکیں گے۔
منفی سوچ مایوسی کی وجہ سے جنم لیتی ہے منفی سوچ مثبت سوچ میں تب ہی تبدیل ہو سکتی ہے جب آپ پُر امید ہوں اور یہ تب ہی ہو سکتا جب آپ کا اللہ پاک کی ذات پر مکمل یقین ہو جیسے قرآن پاک میں ارشاد ہے
ترجمہ :
"اللّٰه کی رحمت سے ناامید نہ ہو ".کبھی بھی نا امید نہ ہوں انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ہمیشہ مثبت سوچنے کی کوشش کریں ۔
@Itx_ghumman
-

کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟ تحریر: چوہدری عطا محمد
گزشتہ دو یا تین سالوں سے اسلام آباد سے شروع ہوتا ۂوا عورت مارچ کا شور اب ملک کے مختلف حصوں میں پھلایا جا رہا ہے اب یہ عورت مارچ رفتہ رفتہ موضوع بحث بنتا جارہا ہے۔ عورت مارچ کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے عورت مارچ سمیت کسی کوئی بھی تحریک ہو یا مارچ یا اجتماع یا پھر جلسہ جلوس وغیرہ ان سب میں شمولیت و عدم شمولیت اور حمایت و مخالفت کےلیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس مارچ یا جلسہ جلوس یا اجتماع کے مقاصد، اس کے منشور اور اس کے رجحانات اور سرگرمیوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ پر مبنی تجزیہ کی روشنی میں اس طرح کے مارچ جلسہ جلوس یا اجتماع سے اتفاق و اختلاف یا شمولیت و عدم شمولیت کا فیصلہ کیا جانا چائیے اب تک ہونے والے عورت مارچ کے متعلق میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہہ اس پورے مارچ کے اندر عورت کے جو اصلی حقوق ہیں اس بارے میں تو کسی بھی قسم کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہمارے دور دراز علاقوں میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جو مسائل زندگی میں درپیش ہیں جن کو سامنے لانا ہمارے معاشرہ کی سب سے پہلی زمہ داری ہے اسکا تو کوئی کہیں دور دور تک زکر ہی نہیں ہے اگر عورت کے مسائل کی بات کی جاۓ تو عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی تیزاب گردی ہے ہماری ماؤں بہنوں کو آج بھی قاتل کے لواحقین اور مقتول کے لواحقین کے درمیان صلح کے لئے بہن بیٹیوں کے رشتہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس نام نہاد صلح کی بھینٹ کوئی بہن یا بیٹی چڑھ جاتی ہے آپ زرا غور کیجیے گزشتہ دو یا تین سالوں سے نکالے جانے والے عورت مارچ کے جلوس کی تقاریر یا ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ پلے کارڈ میں کوئی ایک بھی فقرہ عورت کے اصل حقوق کی نشاندہی کر تا ہے کیا اگر آپ انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے تو آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کوئی فقرہ تقاریر یا پلے کارڈ میں بلکل بھی شامل ہی نہیں ہے آپ خود ہی فیصلہ کریں کہہ یہ عورت مارچ کن حقوق کی بات کر رہا ہے معزرت کے ساتھ عورت مارچ کے نعرے سوشل میڈیا پر سننے کو ملے وہ تھے عورت کیا مانگے آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رئیں گی آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی ہے حق ہمارا آزادی اس طرح کے نعروں کے بعد سب سے پہلا جو سوال زئین میں آتا ہے وہ یہ ہے کہہ ہمارے یہ بہنیں بیٹیاں کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہیں کس سے آزادی مانگ رہی ہیں کیا جب وہ پیدا ہوئی تو باپ کے شفقت بھرے سر پر رکھے ہوۓ ہاتھ سے آزادی مانگ رہی ہیں یا پھر بھائی سے آزادی یا پھر جب شادی ہوگئ تو اپنے محافظ یعنی شوہر سے آزادی یہ عورت مارچ کی ہماری بہنیں بیٹیاں کس سے اور کیسی آزادی چائیتی ہیں
اسلام نے عورتوں کو کتنا تحفظ دیا کتنی عزت اور تکریم دی کتنا بلند مقام دیا اس کا تصور بھی کسی اور مزہب میں ممکن ہی نہیں اسلام نے عورت کو پہلے بیٹی کی شکل میں والد کے لئے رحمت کہا اور باپ کو اس کا محافظ بنایا زرا بڑی ہوئی تو بھائی کی شکل میں اسکو ایک اور محافظ مل گیا جب شادی ہوئی تو ایک شوہر کی شکل میں محافظ عطا کر دیا پھر جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس بیٹے کے لئے جنت ماں کے قدموں تلے ہیں جنت کا حصول ماں یعنی عورت کی خدمت میں ہے۔ تو زرا سوچو میری عورت مارچ کی بہنوں بیٹیوں آپ کو کس قسم کی آزادی اور کس رشتہ سے آزادی چائیے۔ اگر مغرب کی بات کریں تو ادھر عورت کو اپنے زاتی استعمال کے لئے بھی خود سے مخنت مشقت کرنا پڑتی ہے مثلاً ادھر عورت جاب کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتی ہمارے ہاں عورت کے تمام اخراجات اور ضروریات کا پہلے باپ۔ پھر۔ بھائی۔ پھر شوہر۔ اور پھر بیٹا زمہ دار ہوتا ہے میں کہیں پر بھی عورت کی ملازمت کی مخالفت نہیں کر رہا آج ہمارے بہن بیٹیاں زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور اس پر ہمیں فخر بھی ہے کہہ ہماری بہنیں بیٹیوں کا ملک کی ترقی اور معیشت میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردو کا ہے
اگر آج کے حالات کا غور و فکر سے اندازہ لگا جاۓ تو ہمارے معاشرہ کے اندر سارے مسائل اور تمام خباسط کی محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ اور اس معاملہ میں ہماری بہنیں بیٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ جب ایک عورت قرآن کریم کی تعلیمات سے واقف ہوگئ اور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے اس کو کیا زمہ داری سونپی ہے تو پھر لازم سی بات ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں کرے گی ہمارے خواتین اب ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں،اپنے حقوق کی صیح معنوں میں جنگ لڑ سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے
ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
میری باتوں سے اتفاق یا اختلاف کا تمام لوگوں کو مکمل اختیار ہے یہ سب میری زاتی سوچ سمجھ ہے آپ اسپر اپنی زاتی راۓ کا مکمل حق رکھتے ہیں
اللہ سبحانہ تعالی ہمیں دین اسلام کو سمجھ کر سنت نبوی صلى الله عليه وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔@ChAttaMuhNatt
-

سوشل میڈیا اور زبان کا شر تحریر: زبیر احمد
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جو زبان پہ آئے بغیر سوچے سمجھے اور اس کے نتائج کا احاطہ کئے کہہ دیتے ہیں۔ زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو قابو میں رکھنے کا محتاج ہے۔ قرآن و سنت نبویﷺ مطابق زبان کا معاملہ بڑا سنگین ہے اور اس سے نکلے ہوئے کلمات قابل مواخذہ ہیں اور ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کیلئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔” (مریم 79)۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جارہی ہیں تو میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل نے جواب دیا کہ حضورﷺ یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیب ہیں جو کہا کرتے تھے ان کا اپنا وہ عمل نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے اندر فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگ جن کی زبان کی تلخیاں معاشروں میں تفریق پیدا کرتی ہیں کہ بھائی بھائی سے لڑ پڑتا ہے، میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کردیتے ہیں۔ ان کی زبان نفرت کی چنگاریاں اگلتی ہے اور ان کے لہجے لوگوں کے اندر تفریق، تشدد، اضطراب اور فرقہ بندیاں پیدا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی زبان قیامت کے دن لوہے کی قینچیوں سے کاٹ دی جائے گی۔بعض اوقات آپ کوئی ایسا بڑا بول یا بات کردیتے ہیں جس سے فتنہ اور شر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے جس سے لوگ آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ بعض اوقات آپ آرام سے زبان سے کوئی جملہ کہہ دیتے ہیں بعد میں اس کو واپس لینا بھی چاہیں تو اس وقت تک شر پھیل چکا ہوتا ہے اس لئے ہمارے بزرگوں نے یہ تاکید کی ہے کہ بولنے سے پہلے اچھی طرح بات کو تولو، غوروفکر کر لو کیونکہ کمان سے تیر نہ نکلا ہوتو آپ کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ جب چاہو اس کو پھینک دو لیکن جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے پھر آپ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے پھر وہ زخمی کرے کسی کی موت کا سبب بنے یا وہ تیر ضائع چلا جائے پھر آپ کا اختیار نہیں ہوتا۔ بولنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ میری زبان سے نکلا ہوا کوئی جملہ میرے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے پہ کیا اثر پیدا کرے گا۔ آج کل سوشل میڈیا پہ جو دل میں آیا وہ لکھ دیا اور لوگوں کے اندر وہ چیز وائرل کردی۔ جس طرح کی تصویر چاہا ڈال دی لیکن بعد میں وہ چیز آپ کے اختیار میں نہیں رہتی ہے۔ اب تو اتنی محدود سوچ والے اور نیچ فطرت کے لوگ بھی سوشل میڈیا پہ بیٹھے ہوئے ہیں جیسا کہ گندے مزاج کے لوگ واش روم کی اندر بیٹھ کر چھپ کے جو ان کے من میں غلاظت ہوتی وہ واش روم کی دیواروں پہ لکھ دیتے، پبلک واش رومز کے اندر یہ مناظر ہم میں سے اکثر نے دیکھے ہونگے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ایسی چھوٹی سوچ کے لوگ وہاں بیٹھ کے لکھ دیا کرتے تھے۔اب ایسے ہی لوگوں کو سوشل میڈیا کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے اور یہاں وہ اپنے بند کمرے میں جو چاہیں لکھ کے سوشل میڈیا پہ ڈال دیں اور اس کے شرفساد اور غلاظت کے چھینٹے کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی۔ ایک ایک حرف جو زبان سے نکلتا ہے، قلم سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ اس کا قیامت کے دن حساب ہونا ہے۔ ایک ایک چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آج اگر سوشل میڈیا پہ کوئی بات کہہ دیتے ہیں یا کسی مجمع عام یا تنہائی میں کوئی بات کرتے ہیں اور پھر اس سے شر پھیلتا ہے تو وہ شر پھر سفر کرتا رہے گا اگر وہ جملے الفاظ کہنا چھوڑ بھی دیں اکاونٹ بند بھی کردیں تو وہ شر و فساد اور اس غلاظت کے چھینٹے جو اڑے تھے وہ آگے بڑھتے رہیں گے اس کا گناہ نامہ اعمال میں درج ہوتا رہے گا حتی کہ مر بھی گئے تو پھر بھی نامہ اعمال میں سب کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ اس لئے اپنے آپ کو محتاط کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ایک ایک لمحے کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے وقت کو قیمتی جانیں۔ اپنی زبان کو کھولنے اور ہاتھ سے کچھ لکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جو میں لفظ کہہ رہا ہوں کیا وہ مجھے کہنا چاہیے یا نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر کی بات کہے ورنہ چپ رہے اس کا چپ رہنا اس کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ کہنا چاہتا ہے تو خیر کی بات کہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کی زبان کے شر سے حفاظت فرمائے، زبان کو قابو میں رکھنے اور خیر و بھلائی کی بات ہی زبان سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین
(Twitter: @KharnalZ)
-

گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن
آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔
پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)
وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔
دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)
اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔
تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)
انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔
چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)
انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔
پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)
اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔
چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)
ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)
اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔
آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)
ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو
یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين
@MudasirWrittes
-

وطن کے رکھوالے تحریر: تماضر خنساء
افواج پاکستان اس ملک کی آہنی دیوار ہیں جنکو دشمن کبھی پاٹ سکا نہ کبھی پاٹ سکے گا ۔۔ویسے تو ہر ملک کی اپنی فوج ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں یہ بات ذرا مختلف ہے ۔۔۔یہاں بات ہورہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج کی ! جنکو اس بات پہ ایمان ہوتا کہ وہ دشمن سے جنگ میں اگر اپنی جان گنوا بھی دیں تو اپنے رب کے حضور شہید ہیں _______اس وطن کا ہر ایک سپاہی موت سے نڈر ہے جبھی اس فوج کا مقابلہ کسی دوسرے ملک کی فوج نہیں کرسکتی _____ہماری تاریخ بھری پڑی ہے ایسے واقعات سے وہ جو تین سو تیرہ اپنے سے دوگنے دشمن پر غلبہ پاگئے وہ جو بدر میں فرشتے قطاروں میں اترے تھے اسلامی لشکر کیلیے یہی وہ قوت ہے جو ایک مسلمان کے پاس ہے اور پاکستان واحد ایٹمی اسلامی طاقت! تو کیوں نہ ہو اسکا ہر ایک رکھوالا بے خوف و نڈر؟
اور شہادت تو وہ اعزاز ہے جسکی تمنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے کی ۔۔۔۔جسکی تمنا خالد ابن ولید” اللہ کی تلوار ” کہلانےوالے صحابی نے کی ۔۔۔مگر یہ اعزاز تو بس انہی کو ملتا ہے جنکو رب العزت نے نوازنا ہو _______
یہی وہ اعزاز ہے جو اس وطن کیلیے اپنی جانیں قربان کردینے پر ابھارتا ہے اور یہی وہ اعزاز ہے جسکی بدولت آج اس اسلامی ملک کی فوج کے آگے دنیا کی کوئ فوج نہیں ٹک سکتی!
اس ملک کے رکھوالے وہ گمنام سپاہی جو اپنا نام و نسب گھربار اس وطن کیلیے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ___ایسا عظیم مقصد جسکا ہو وہ
میں یہ نہیں کہتی کہ فوجی کچھ غلط نہیں کرسکتے ۔۔۔ہاں مگر انکا مقصد انکا جذبہ بہت انمول ہے جسکی وجہ سے ہماری سپاہ ہمارے دلوں میں بستی ہے!
لوگ کہتے ہیں کہ فوجی اپنے کام کی تنخواہ لیتے ہیں مگر کیا جان کی بھی کوئ قیمت ہوسکتی ہے کیا؟ کیا آپ میں سے کوئ یا میں اپنی جان کو جوکھم میں ڈال سکتے ہیں؟ نہیں مگر ہماری سپاہ تو یہی کرتی ہے نا! یہی تو وہ چیز ہے جو اس وطن کی سپاہ کو باقی افواج سے الگ کرتی ہے!
اس وطن کی فوج نے پوری دنیا میں اپنے آپکو منوایا ہے اپنے وطن کیلیے جانیں قربان کردینے والے شہیدوں نے اس فوج کی عظمت کو مزید بلند تر کردیا ہے ______ایک ایسے محاذ پر رہنا جہاں کبھی بھی آپکی جان جاسکتی ہے کیا آسان ہے؟ نہیں اپنے گھربار کو چھوڑ کر ایک الگ جگہ جانا کیا آسان ہے؟
میں کہتی ہوں کہ ایک فوجی کا ایمان ہمارے ایمانوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہوگا! کہ وہ اسی رب کے بھروسے اپنے گھر بار کو چھوڑدیتے ہیں اپنی جانیں اس وطن کیلیے ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں یہ انکا مضبوط ایمان ہی تو ہے جو ان سے یہ سب کروالیتا ہے!
ہماری تو خوش قسمتی یہ ہے کہ اس وطن کی صرف فوج ہی نہیں ہر پاکستانی ہی ایسے جذبے سے سرشار رہتا ہے ______جب کبھی اس وطن پہ کوئ مشکل گھڑی آئے تو سب یک جان ہوجاتے ہیں مگر کچھ لوگ جو اس وطن کو ترقی کرتا سہی سالم نہیں دیکھ سکتے وہ اپنی فوج کیلیے لوگوں میں زہر بھرتے ہیں مقصد ان کا صرف ایک ہی ہوتا اس ملک کی فوج کو کمزور کردینا وہ آہنی دیوار توڑ دینا جو اس ملک کے تحفظ کی ضمانت ہے
کوئ اس فوج کے خلاف تب ہی بات کرے جب اس میں اتنی ہمت آجائے کہ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ سکے صرف اس ملک کی خاطر ۔۔۔وگرنہ اپنا زہر اپنے تک رکھیں ____کیونکہ اس فوج نے اس ساکھ کی بنیاد بھی اپنے خون سے رکھی ہے اور ان شہیدوں کا لہو انکی صداقت کی گواہی ہے ۔۔۔لہو کی گواہی سے بڑھ کر بھی کوئ گواہی ہوتی ہے کیا؟
وہ لوگ جو چلے گئے شہادت کے رتبے سے سرفراز ہوئے وہ تو اپنی منزل پاگئے اور ان سے بڑھ کر کوئ خوش قسمت ہوگا کیا؟
قرآن پاک اللہ رب العزت فرماتے ہیں :
وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ) (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ:اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
رب عظیم نے تو قرآن میں صاف فرمادیا کہ شہید تو مرتے ہی نہیں ہاں مگر ہمیں انکی زندگی کا شعور نہیں اصل میں درحقیقت وہ اپنے رب کے مہمان ہیں ۔۔۔اس سے بڑھ کر کونسا بلند مرتبہ ہوگا جسکی چاہ ایک مسلمان کرسکتا ہے؟
یہی وہ عظیم رتبہ جسکو پانے کی تمنا اس وطن کے ہر فوجی کے دل میں سمائ ہوتی ہے ۔۔۔۔جب جان جانے کا ہی خوف نہ ہو تو پھر کوئ اور خوف ایسے انسان کے سامنے ٹھہر سکتا ہے کیا؟
اس ملک کے رکھوالوں کی یہی بے خوفی اور سکون ہے جو دشمن کو کھٹکتا ہے ۔۔۔۔ان رکھوالوں کا مقصد عظیم ہے انکے جذبے عظیم ہیں اس لیے
اپنے وطن کے رکھوالوں کو عزت دیں جو اس ملک کی ناقابل شکست دفاعی لکیر ہیں ،ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں بلاشبہ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے_______!
اے حق کے راہیوں، حق کے راستے میں جان دینے والوں
تمہیں اس وطن کی عظیم مٹی سلام پیش کرتی ہے ۔@timazer_K