Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت:  تحریر  محمد جاوید

    چائلڈ لیبر ایک لعنت: تحریر محمد جاوید

    پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے جہاں لوگوں کے حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں تو وہاں ، بچوں کے حقوق کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ۔
    یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ یہ بچے مختلف انڈسٹریز میں کچھ ہوٹلوں اور ورکشابوں میں کام کرتے ہیں۔
    چائلڈ لیبر کے پیچھے اکثر بچوں کے گهريلویں حالات ہوتے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر پڑھنے کی عمر میں یہ بچے محنت مشقت والا کام کرتے
    پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بچوں کی مزدوری کے استعمال کی سب سے اہم وجہ غربت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اسے والدین کا اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے تاکہ وہ خاندانی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
    مہنگائی کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے غریب خاندانوں کا اپنا پیٹ پالنا ہی مشکل ہو جاتا اوراسکی وجہ سے چايلڈ لیبر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ معصوم بچے اس کم عمری میں اپنے خاندان کا پیٹ پلنے میں اپنی زندگی اور مستقبل داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
    پاکستان میں نظام تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانے کے بجائے ملازمت پر چلے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی ، سہولیات کا فقدان اور والدین کے اندر شعور نہ ہونے سے وہ اپنے بچوں کو اسکول بیجنے کے بجائے فیکٹریوں میں ملازمت کے لئے بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی زیادہ تر عمر یں 5-16 سال کی ہے۔ ان بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول میں نہیں ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے پاليسی سازوں کو اس بارے میں سوچنا چائے تاکہ ان معصوم بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔
    اکثر کام کرتے ہوۓ بچوں کو جسمانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ہمیشہ کے لئے معذور بن جاتے ہیں
    چائلڈ لیبر کے نتائج در حقیقت بہت پرشان کن ہیں اس کی وجہ سے اکثر ان کی دماغی استحصال ہو جاتی ہے اور کند ذہن بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو خوشگوار بچپن نہیں ملتا جس کی وجہ سے سیکھنے کھلینے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے اور ان شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ چائلڈ لیبر تیار کرنے اور بچوں پر برے اثرات پیدا کرنے میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ ان چائلڈ لیبر کو مناسب اجرت نہیں دیتا اور وہ پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے جرایم میں ملوث پاے جاتے جیسے کہ چوری کرنے اور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    حکومت کو چائلڈ لیبر کے سماجی مسئلے پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی مخصوص ادرہ بنائے جو صرف اور صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
    چائلڈ لیبر سے بچنے کے لیے قانون سازی کیا جاے ۔ کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اپنے اثاثوں کو بچانے اور اچھی طرح ترقی کرنے کے لیے چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد ان میں سے ایک ہوگا اور یہ اقدامات اٹھا لے گا۔
    حکومت کو چائے کہ چائلڈ لیبر پہ پابندی لگایا جائے اس سلسلے میں قانون سازی کیا جائے تکہ ان معصوم جانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔

    @I_MJawed

  • آئی  ڈی سی کی2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری، اسمارٹ فونز کی فروخت میں 13.2 فیصد اضافہ

    آئی ڈی سی کی2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری، اسمارٹ فونز کی فروخت میں 13.2 فیصد اضافہ

    اسمارٹ فون کی تجارت سے متعلق انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) نے 2021 کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ جاری کر دی سام سنگ نے ہمیشہ کی طرح دوسرے اسمارٹ فونز کو مات دے دی اور اپنی جگہ برقرار رکھی-

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق اپریل سے جون 2021 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت میں گزشتہ سال سے 13.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں سام سنگ نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اپریل سے جون 2021 کے دوران 5 کروڑ 90 لاکھ فونز فروخت کر کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے موبائل میں پہلا نمبر حاصل کیا۔

    رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران چینی کمپنی شیاؤمی کے فونز کی فروخت گزشتہ سال کے کے مقابلے میں 86.6 فیصد زیادہ رہی شیاؤمی نے 5 کروڑ 31 لاکھ سے زیادہ فونز فروخت کئے اور دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ ایپل 4 کروڑ 42 کروڑ آئی فونزفروخت کرکے تیسرے نمبر پر رہی۔

    جبکہ آئی ڈی سی کی فہرست میں چوتھی اور 5 ویں پوزیشن بھی چینی کمپنیوں اوپو اور ویوو نے حاصل کر لیں ہیں۔

    ایک اور ابھرتا ہوا ستارہ ائیل می ہے ، جس نے سال بہ سال تیزی سےترقی کی سب سے اوپر 10 میں 149فیصد اور اس کے حجم کے تین چوتھائی سے زیادہ۔

    رپورٹ کے مطابق چین واحد خطہ تھا جہاں اپریل سے جون 2021 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت کی شرح منفی رہی، اس کی وجہ اس عرصے میں نئے فلیگ شپ فونز متعارف نہ ہونا ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی رپورٹ میں بھی سمارٹ فونز کی دنیا میں سام سنگ نے ایپل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں سام سنگ کی فروخت، عالمی سطح پر کی جانے والی موبائل فونز کی مجموعی فروخت کا پانچواں حصہ قرار پائی تھی۔

    سام سنگ نے پہلی سہ ماہی میں 7 کروڑ 65 لاکھ اسمارٹ فونز فروخت کیے تھے اور مارکیٹ میں اس کے حصص میں 22 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ ایپل نے جنوری سے مارچ کے دوران 5 کروڑ 24 لاکھ آئی فونز فروخت کیے، جس کے بعد کمپنی مارکیٹ میں 15 فیصد حصص کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئی تھی۔

  • شاعری تحریر: محمد حماد

    جب ایک دن میں نے کالم لکھنے کے بارے میں سوچا   کہ چلو آج کچھ طبع آزمائی اس میدان میں بھی  ہو تو ذہن لاشعوری  طور پر اس تحریر کی طرف منتقل ہو ا جو میں نے ایک کتاب سے متاثر ہوکر ” اللہ نورُ السمٰواتِ والارض” کے عنوان سے لکھاجو یونی ورسٹی کے لائبریری کے ایک کتاب "خدا موجود ہے سائنسدانوں کی نظر میں”کے مطالعے کے بعد لکھا۔ لیکن اس تحریر نے مجھے اس مخمصے میں ڈال دیا کہ آج تک میں یہ نہیں جان پایا کہ وہ تحریر تبصرہ تھا ، تجزیہ تھا  یا پھر کالم ۔۔۔؟ لیکن خیر آج شاعری پر لکھنا چاہتا ہوں اور بہت گہرائی میں جانا چاہتا ہو اس یقین کہ ساتھ کہ  میرا  عقل  اس متنوع موضوع  کا متحمل کبھی  بھی نہیں ہوسکتا  کیوں کہ صرف موضوع کے بارے   میں سوچ کر ہی احساسات  میں تغیر پیدا ہونا شروع ہوا  ۔ہوسکتا میرا اس کیفیت کی وجہ شایدمیرا شاعری سے جنون کی حد تک لگاؤ کا ہونا  یا پھر اُردو ادب کی طالب کی حیثیت سے میں  شاعری کے ساتھ ایک  ان جانا  ساتھ اور رشتہ محسوس کرتا ہوں۔ قبل اس کے کہ شاعری اور احساسات کا ذکر طول پکڑ لیں  روئے  سخن شاعری کی طرف ہونا چاہئے اگرچہ  شاعری پر لکھا گیا ہے ، لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جائے گا کیوں کہ یہ وہ لفظی احساس ہے  جو ہر دور کے انسانوں کی جذبات کی ترجمان  رہی  ہے ۔ باوجود اس کے  کہ یہ   کہ زمان ومکاں کے حدود و قیود سے آزاد ہے  یہ معلوم نہیں کہ اس کی ابتدا تاریخِ انسانی میں کب کیسے  اور کیونکر ہوئی؟ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی  ذہن کا خیال ہے  یہ خدائی ودیعت  تخلیقِ انسانی کے ساتھ  دنیائے فانی میں نازل کی گئی۔ تاریخ کے جھرکوں سے آنے والی  مدھم کرنوں کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے    کہ اس کا وجود ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا  اپنے تمام تر عروج  وزوال سمیت۔۔۔۔ عربی زبان کا کیا ہی خوبصورت قول ہے کہ:
            ” الشعرا    ُ تلامیذ الرحمٰن( شعرا رحمان ( اللہ)  کے شاگرد ہوتے ہیں۔)”
    اگر بات کی جائے شاعری کی تعریف کی  تو ایک بار پھر      یہ بات غیر واضح رہ جائے گی  لیکن جہاں تک عقل ناقص کی رسائی ہے وہاں یہ بات عیاں ہے  کہ ہر چیز کی تعریف کا احاطہ کرنا ممکن نہیں بعض چیزیں  اپنا تعارف خود ہوتی ہے جو خود کو اس قدر تفصیل سے منظر ِ عام پر لاتی ہے کہ اس کے لیےلغت کے صفحات الٹنے پلٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی   با ایں ہمہ شاعری کی جو مختلف تعریفیں مختلف  زمانوں میں اس کے حسبِ حل کی گئی ہے سب میں یہ امر مشترک قرار پایا ہے  کہ یہ جذبات اور احساسات  اور ما فی الضمیر کے اظہار  کا وہ  بیان ہے جو  قافیہ اور ردیف کے پیرائے  میں کیا جاتا ہے ۔  یہ بات معقول بھی ہے لیکن میرے خیال میں شاعری کا خوب صورت   توضیحی تصور مارک انڈریو نے پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
            ” شاعری غم کی بہن ہے ، ہر وہ انسان جو دکھ سہتا ہے  اور روتا
            ہےشاعر ہے ، ہر آنسوشعر ہے اور دل ایک نظم ہے۔”
          شاید بہت سوں کو اس با ت سے اختلاف ہو  کہ شاعری کی بہتر سے بہترین تعریفیں کی گئی ہیں، تو بھی وہ اپنے دعوے میں حق بجانب ہیں  لیکن وہ کیا ہے کہ ہر انسان کا اپنا  نکتہ نظر ہوتا  ہے جس کی روشنی میں اسے جو مناسب نظر آتا ہے  اسی کو درست خیا ل کرتا ہے لہذا  آپ کے نظر میں کوئی اور جامع تشریحی تعریف بھی ہوسکتی ہے۔
        اگر کبھی آپ کو بھی شاعری پر لکھنے کی جسارت ہوں تو  تو الفاظ کو اس خیال کے ساتھ احاطہ تحریر  میں لانا  کہ آپ شاعری کے بارے میں جو لکھ رہے ہیں  وہ سمندر کے سینے میں موجود سیپ کے بطن  کے اس پانی کی طرح ہے جس میں جمع قطرے کو نکال باہر کرنے سے سمندر کے پانی پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعری پر ہر زبان میں جو ضحیم کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ بھی  اس موضوع کے اصل روح کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
        شاعری صرف ایک فرد کی جذبات کی زیروبم کا نام نہیں  بلکہ اس میں فرد کے ساتھ معاشرہ ، سماج ، روایات ، تاریخ ، فلسفہ ، حالات کے دھارے اور تقاضے ، حدود وقیود کی پابندیاں، زندگی کی نیرنگیاں    اور امید و نا امیدی کے جلتے بجھتے چراغ بہ یک وقت نظر آتے ہیں گویا شاعری تخیل کے بارش کے بعد کا وہ  ست رنگہ دھنک ہے  جس کی ہر رنگ کا اپنا خاص مزہ ہے۔ آخر میں نیئر نسعود کی  دل کو لگنے والی بات یاد آگئی کہ
                    ” شاعری دنیا کی مادری زبان ہے”

  • پشتو زبان  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    پشتو زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    پشتو زبان ، پشتو کی ہجے بھی کی ، جسے پختو بھی کہا جاتا ہے ، جو کہ ہند یورپی زبانوں کے انڈو ایرانی گروپ کے ایرانی ڈویژن کا رکن ہے۔ وسیع پیمانے پر قرض لینے کی وجہ سے پشتو انڈو یورپی زبانوں کے انڈو آریائی گروہ کی بہت سی خصوصیات کا اشتراک کرتا تھا۔ اصل میں پشتون لوگوں کی طرف سے بولی جانے والی پشتو 1936 میں افغانستان کی قومی زبان بن گئی۔ اسے 35 ملین سے زائد لوگ بولتے ہیں ، جن میں سے اکثر افغانستان یا پاکستان میں رہتے ہیں ایران ، تاجکستان ، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں چھوٹی چھوٹی تقریریں موجود ہیں۔ علماء کو پشتو کی اصل کے بارے میں مخصوص دعووں کے بارے میں اتفاق رائے تک پہنچنا مشکل ہے۔ بہر حال ، یہ بات واضح ہے کہ قدیم دنیا کے ایک متنازعہ حصے میں تقریر کمیونٹی کے مقام نے قدیم یونانی ، ساکا ، پارتھیان اور فارسی کی اقسام سمیت دیگر زبانوں کے ساتھ وسیع رابطے ، اور ادھار لینے پر اکسایا۔ پشتو بھی شمال مغربی ہندوستانی زبانوں ، خاص طور پر پراکرت ، بلوچی اور سندھی کے ساتھ مل گیا۔ ان زبانوں سے ، پشتو نے ریٹروفلیکس آوازیں (زبان کی نوک سے منہ کی چھت کے ساتھ جھکی ہوئی آوازیں) اور تقریبا 5 5،550 لون ورڈز حاصل کیے۔ پشتو کی بولیاں دو اہم حصوں میں آتی ہیں: جنوبی ، جو قدیم / sh / اور / zh / آوازوں کو محفوظ رکھتا ہے ، اور شمالی ، جو اس کے بجائے / kh / اور / gh / آوازوں کو استعمال کرتا ہے- اسپائریٹ-آوازیں جو ایک قابل سماعت سانس کے ساتھ پشتو کی پڑوسی انڈو آریائی زبانوں میں عام ہیں لیکن پشتو میں غیر معمولی ہیں۔ پراکرت ، سندھی اور بلوچی کے قرضے کے الفاظ کو ظاہر کرنے والی معمولی تبدیلیاں عام طور پر پہچاننے میں بہت آسان ہیں۔ مثال کے طور پر ، سندھی میں گڈی ‘ایک کارٹ’ کو ہندی میں گڑی اور پشتو میں گڈائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ، ‘نر بھینس’ کی اصطلاح ہندی میں ریت اور پشتو میں سنر ہے۔ ہندی ، سندھی اور پشتو میں کئی الفاظ یکساں ہیں ، بشمول سدک ‘سڑک’ ، ‘پیڈا’ ایک میٹھی ، ‘اور خیرکی’ کھڑکی ‘۔ پشتو زبان نے تاجک (فارسی کی ایک شکل) اور ازبک (ایک ترک زبان) سے بھی الفاظ لیے ہیں۔ مثالوں میں روئی جرج ‘ایک مشترکہ پلیٹ فارم’ اور الغر ‘حملہ’ شامل ہیں۔ کئی عربی الفاظ یا ان کی فارسی شکلیں بھی پشتو میں ضم ہو چکی ہیں ، جیسا کہ کئی فارسی فعل ہیں۔ فارسی کی آواز / n / کی جگہ پشتو میں / l / ہے۔ پشتو کی جملے کی تعمیر ہندی کی طرح ہے۔ فارسی کے برعکس ، لیکن جیسا کہ پراکرتوں میں ، پشتو اسم صفت کے بعد آتا ہے اور مالک تخلیقی تعمیر میں مالک سے پہلے ہوتا ہے۔ فعل عام طور پر موضوع سے متضاد اور عبوری دونوں جملوں میں متفق ہوتا ہے۔ ایک استثنا اس وقت ہوتا ہے جب ایک مکمل عمل کی اطلاع ماضی میں دی جائے۔ ایسی صورتوں میں ، پشتو کی شکلیں ہندی شکلوں جیسی ہوتی ہیں: فعل اگر موضوع سے متفق ہو تو وہ متنازعہ ہو اور اعتراض کے ساتھ اگر وہ عارضی ہو۔ پشتو ایک ترمیم شدہ عربی حروف تہجی کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ ابتدائی ادبی شکل شاعری ہے۔ محمد ہوتک کا پتا خزانہ (1728–29 “ پوشیدہ خزانہ ") آٹھویں صدی کے بعد سے پشتو شاعری کا مجموعہ ہے۔ افغانستان کے قومی شاعر خوشحال خان خٹک (1613–94) نے بڑی دلکشی کی بے ساختہ اور زوردار شاعری لکھی۔ ان کے پوتے افضل خان پشتون کی ابتدائی تاریخ کے مصنف تھے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • شکرگڑھ  تحریر: زید علی

    شکرگڑھ تحریر: زید علی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع نارووال کی ایک تحصیل کا نام شکرگڑھ ہے۔ نارووال سے 45 کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے۔ شکرگڑھ کی بنیاد 1890 میں رکھی گی۔ تقسیم ہند کے وقت شکرگڑھ ضلع گرداسپور کی تحصیل تھی۔ مگر پاکستان بننے کے بعد یہ ضلع سیالکوٹ سے منسلک ہو گئی۔ 1991 میں نارووال کو ضلع کا درجہ ملنے کے بعد تحصیل شکرگڑھ کو ضلع نارووال کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ تحصیل شکرگڑھ کے شمال میں جموں کا علاقہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو زمینی راستہ بھی یہیں سے ہو کر گزتا تھا۔ شکرگڑھ کے مشرق میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور شمال میں ورکنگ باؤنڈری موجود ہے۔ جس کی لمبائی 193 کلو میٹر ہے۔ جو سیالکوٹ سیکٹر سے شروع ہوتی ہے اور شکرگڑھ کے مقام پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ شکرگڑھ سے ہی انٹرنیشنل بارڈر کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ سوار محمد حسین (نشان حیدر) نے بھی اسی سر زمین پر شہادت پائی۔ یادگار شکرگڑھ آج بھی ہمارے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شکرگڑھ کی سرزمین بہت زیادہ زرخیز ہے۔ نارووال، شکرگڑھ کے باسمتی چاول پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔ تعلیمی میدان میں بھی شکرگڑھ کے طالب علموں نے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ یہاں کے طالب علم مختلف ادوار میں بورڈ ٹاپ کر چکے ہیں۔ یہاں پنجابی اور اردو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شکرگڑھ کے مشرق میں دریائے راوی ہے۔ دریائے راوی بل کھاتے ہوئے اسی تحصیل سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں نالہ بئیں بہتا ہے۔ شکرگڑھ کو ایک اہم مقام یہ بھی حاصل ہے کہ اسی تحصیل کے ایک قصبہ مسرور (بڑا بھائی) سے پاکستان کا سٹینڈرڈ ٹائم لیا گیا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے سورج کی کرن اسی گاؤں میں پڑتی ہے۔ اسی گاؤں سے کشمیری پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ موسم صاف ہو جانے کے بعد اس علاقے سے جموں و کشمیر کے پہاڑ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ رات کو کشمیر میں جلنے والی روشنیوں کو یہاں سے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ شکرگڑھ کا کشمیر کے ساتھ پرانا گہرا اور جغرافیائی تعلق ہے۔ شکرگڑھ کو باب کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔
    شکرگڑھ کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔

    Twitter: ZaidAli0000

  • خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟   تحریر: محمد اختر

    خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟ تحریر: محمد اختر

    ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین کی آبادی کا تخمینہ 50%ہے اور معاشرے میں عصمت دری، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، تیزابی حملوں، گھریلو تشدد، جبری شادیاں اور خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات حیرت زدہ ہیں۔ ریاست پاکستان میں خواتین تحفظ ہمارے اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالیہ واقعات سے بحث و مباحثہ زندگی اوربرابری کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے میدان سے ہٹ گیا ہے، اور انسانی سلامتی کے ان بنیادی اصولوں کی طرف گامزن ہے جو خوف، آزادی، استحصال سے آزادی، ہر طرح کے جنسی تشدد سے آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین
    ماضی قریب میں، پاکستان کی خواتین کی حفاظت اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایسڈ کنٹرول اور ایسڈ کرائم روک تھام ایکٹ 2011 کے تحت گھناؤنے تیزاب جرائم کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ اخلاق کی ضابطے میں ترمیم کی گئی تھی جہاں جرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔انسداد خواتین سے بچاؤ کے قانون، 2011 کے تحت جبری شادیوں سے بچنے والی خواتین کے لئے رواج اور تعصب آمیز رسم و رواج کے بارے میں بتایا گیا ہے، قرآن مجید کے ساتھ گنہگار اہتمام سے شادی اور ان کے وراثت کے حق کے تحفظ کے سلسلے میں جہاں اس طرح کی کارروائیوں کی سزا 3 سے 7 سال کے درمیان ہے۔ اور10 لاکھ روپے قید اور جرمانے کی رقم ہے۔ فوجداری قانون (ترمیم) (عصمت ریزی کا ایکٹ) ایکٹ. 2016 نے صاف ستھری بنیادوں کا احاطہ کیا اور اس خوفناک جرم کے مجرموں اور سہولت کاروں سے نمٹنے میں دور رس اثرات مرتب کیے۔ نابالغوں یا معذور افراد کی عصمت دری کے لئے عمر قید مقرر کی گئی تھی، صوبائی بار کونسل کے ذریعہ عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے لئے قانونی امداد کی دفعات شامل کی گئیں اور اس میں سرکاری ملازمین کی ناقص تحقیقات پر 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر کی گئی۔ فوجداری قانون (ترمیم) (غیرت کے نام پر یا بہانے سے متعلق جرائم) ایکٹ، 16 20 غیرت کے نام پر قتل کو مرتکب قرار دینے کے بعد اسے موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت غیرت مندانہ نقصان یا رازداری کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔

    عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟
    اب، یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ آیا یہ ریاست کی ناکامی ہے، اس کی بے عملی ہے یا معاشرے، کہ ایک ایسے ملک میں خواتین کے خلاف صنفی جبر اور زبردست تشدد کی فضا قائم ہے جو متعدد اہم بین الاقوامی عہدوں پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اس کے آئین اور بہترین قوانین اور اقدامات کے تحفظ میں ناکام ہو رہے ہیں۔پاکستان میں خواتین کی سلامتی اور حفاظت کے سمت نہ لے جانے والے حالات اور واقعات پر آج، ہم اجتماعی طور پر خوف زدہ ہیں۔ ناقص تحقیقات اور نظامِ انصاف کے عملی نفاذ کی اس ناکامی کے لئے کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟ دوسری جانب میڈیا میں خواتین کی غیر قانونی اور غیر منحرف جنسی تصویر کشی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام جزوی طور پر ہمارے ٹیلی ویژن سیریلز پر پڑتا ہے جہاں زیادتی کرنے والے یا اغوا کار کو سزا نہیں ملتی ہے، بعض معاملات میں شکار سے شادی بھی کردی جاتی ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: پائیدار ممکنہ حل
    پاکستان کی عوام کی حفاظت کے عزم کی واضحی اس کی پالیسیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے۔ انتظامی طریقہ کار کے ساتھ مل کر قومی اور صوبائی قانون سازی سب صحیح اقدامات ہیں لیکن اگر ہم اپنے معاشرے میں کمزور لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ مطلوب ہے۔یہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں جابرانہ طریقوں کی نشاندہی کی جائے، اور نچلی سطح پر کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ ہم نے اپنے معاشرے کو خواتین کے حقوق اور برابری کے بارے میں تلقین اور تعلیم عام کریں، شاید اب سبق آموز معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے رضامندی اور اس سے وابستہ اتحادیوں کی تدبیروں کی طرف راغب ہونا چاہئے۔ اسکولوں میں پروگرام متعارف کرایا جانا چاہیے جس کا مقصد دھونس، شکار، نام کی کالنگ اور اس طرح کے رویوں سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہو۔کارکنوں کے ذریعہ اٹھائے گئے نعروں پر بحث کرنے کی بجائے، ہمیں اپنے معاشرے خصوصا نوجوان نسل کے مابین معاشرتی – جذباتی تعلیم اور صحت مند جنسیت کی تائید کریں۔ اجتماعی طور پر، ہمیں ان روایات اور اقدام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو جنسی تشدد کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ازسر نو تشکیل دینا ہوگا۔پاکستان میں فارینزک لیبز اور ماہروں کا بہت بڑا فقدان ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انصاف کی عدم فراہمیمیں جرم کی ناقص تحقیقات بھی بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کا بڑاسبب ہے۔پولیس اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے مگر اس کے بر عکس پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسے ایک مرض کی تشخیص کے لیے ایک مستند ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے بلکل ویسے ہی ایک جرم کی تشخیص اورارتکاب کرنے والے مجرم کو منطقی انجام پہنچانے کے لیے ایک کرمنالودجسٹ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک کرمنالودجسٹ جرم کی وجوہات اور سائینسی طریقے کار کو بروہکار لاتے ہوئے ایک منظم تحقیقات کرنے کے جدید علم سے آراستہ ہوتاہے۔یقین ہے،کہ یہ اصلاحات جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگی۔
    @MAkhter_

  • عورت کا تحفظ  تحریر: حسن ساجد

    عورت کا تحفظ تحریر: حسن ساجد

    چند ہفتے قبل راقم الحروف نے ایک کالم "اسلام، پردہ اور عورت مارچ” کے عنوان سے لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے لبرل، سیکولر اور لادین طبقات وزیراعظم کے حجاب کی پابندی سے متعلق بیان پر خاصے رنجیدہ ہیں۔ راقم الحروف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ اب کی بار محض "عورت مارچ” تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسی بہتر، منظم و مربوط اور جامع ترین منصوبہ بندی سے پاکستان کی ثقافت اور اسلامی اقدار پر حملہ آور ہوں گے۔ بندہ ناچیز کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ آئندہ چند روز میں ممکنہ طور پر پاکستان میں ریپ کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے یہ وسوسے خوفناک حقیقت کا روپ دھارے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ان چند ہفتوں کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب میڈیا یا سوشل میڈیا سے کسی ریپ کیس کی اطلاع نہ ملی ہو۔ کبھی قراتہ العین کیس، کبھی نور مقدم کیس (میری دانست میں یہ بھی ریپ کے بعد قتل کیس ہے)، کبھی کسی معصوم بچی کا کیس تو کبھی کسی بکری کے ساتھ بدفعلی کا کیس اور اب ایک مولوی کے ہاتھوں چار سالہ معصوم بچی کے ریپ کا کیس یکے بعد دیگرے ہماری نظروں سے گزر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یک دم پاکستانیوں میں اس قدر حیوانیت کیسے بھر گئی اور نہ ہی میں یہ سمجھ پا رہا ہوں کہ اس پھیلتی ہوئی آگ کا ذمہ دار اپنے اداروں کو ٹھہراوں یا پارلیمنٹ کو، میں اس کا دوش والدین کی تربیت کو دوں یا معاشرے کی صحبت کو۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ قصوروار جنسی حیوان ہی ہیں یا ہم بھی شریک جرم ہیں۔ میرا سر چکرا کر رہ جاتا ہے جب میں سوچتا ہوں کہ عورت نہ تو Living Relationship کے قائل آزاد خیال ترین معاشرے میں محفوظ ہے اور نہ ہی مساجد کے طیب و طاہر ماحول میں۔ دوسرے طبقے کی بات کیا کرنی مگر ہمارے مولوی حضرات کو یک دم سے کیا انہونی بیت گئی وہ مساجد میں ہی۔۔۔۔۔ استغفراللہ
    لکھاریوں کے قلم اس حساس ترین موضوع پر ہر واقعہ کی مذمت میں حرکت میں آئے مگر بندہ ناچیز خاموشی سے تمام معاملات کے مشاہدہ کی کوشش کرتا رہا کیونکہ راقم الحروف وقتی اور جذباتی سوچ سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زوایوں سے سوچنے کے مرض میں بھی مبتلا ہے۔ میں اس بات کا بارہا اظہار کر چکا ہوں کہ پاکستان بین الاقوامی گریٹر گیمز (International Greater Games) کا سرکردہ اور اہم ترین سٹیک ہولڈر یعنی شراکت دار ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان کا اثرو رسوخ آئے دن بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے۔ اسی لیے سوچ کا ایک زاویہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں ریپ کیسز کا بڑھنا، ان کی بڑے پیمانے پر میڈیا رپورٹنگ، واقعات کی سوشل میڈیا پر انتہا کو چھوتی تشہیر اور پاکستان کو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور متشدد ملک ثابت کرنے کی کوشش کرنا پاکستان کے خلاف کسی گھمبیر سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ ساوتھ افریقہ، آسٹریلیا، بیلجیئم، امریکہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور بھارت جیسے ریپ کیسز کے سر فہرست ممالک کو چھوڑ کر کم ترین سکور کے ساتھ فہرست کے آخری اور نچلے ترین درجوں میں موجود پاکستان کو دنیا کے سامنے "#ریسپتان” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار این جی اوز کا سارا نزلہ بھی اسی ملک پر گرتا ہے۔ اور حقوق نسواں کو لے کر تمام تنقیدی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ تھا

    اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کرتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ کوئی سازش بھی ہے تو ہم اپنے وطن کے خلاف اس سازش میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہاں پے در پے ہونے والے واقعات کو نہ تو ہم نے سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام اور قانون کی مناسب انداز میں عملداری کے لیے منظم اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ زینب انصاری، چارسدہ کی زینب، حوض نور، مشال، قراتہ العین اور موٹروے پر خاتون کی عصمت دری سمیت نہ جانے کتنے ہی واقعات ایسے ہوں گے جن سے ہمارا سامنا ہوا مگر ہم نے کسی ایک سے بھی عبرت حاصل نہیں کی۔ ہمارے یہاں ایک افسوس ناک رواج جنم لے چکا ہے کہ یہاں واقعہ رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے، سرکار کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، واقعہ کی کمزور تفتیش عمل میں لائی جاتی ہے، ملزم کے خلاف طویل عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے اور یہ معاملہ ابھی جوں کا توں لٹکا ہوتا ہے کہ اتنی دیر میں ہم دوسرے واقعہ کو جھیل کر اسی بیان کردہ سرکل کے پہلے مرحلے میں دوبارہ داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ منظم قانون سازی، قانون کی مناسب عملداری، معیاری تفتیش، فوری اور منصفانہ عدالتی کاروائی اور مثالی سزاوں کی عدم دستیابی حیوان صفت جنسی مریضوں کے حوصلے مزید بلند کر رہی ہے جس کے باعث جنسی زیادتی یا ریپ کی آگ کئی زندگیاں اور گھر برباد کرتی ہوئی مسلسل پھیل رہی ہے۔
    آج کے ترقی یافتہ دور میں جب پوری دنیا کی خواتین ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور ہم اپنی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو یقینی طور پر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ریپ کیسز کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی اس قدر میڈیا تشہیر نے حصول علم و رزق کی خاطر گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ والدین اپنی بچیوں کے گھر سے نکلنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
    خواتین کو تحفظ اور ان کے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان حالات و واقعات کی سنجیدگی سمجھے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروکار لائے۔ فحش بینی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات جو ایسے واقعات کا پیش خیمہ بنتی ہیں ان کو حتی الامکان حد تک روکا جائے۔ پارلیمنٹ میں انسداد ریپ آرڈیننس 2020 اور ریپ سے متعلق موجود قانون پر اسکی حقیقی روح کے مطابق عملداری کے لیے جامع اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے اور ایسے واقعات کا شکار لوگوں کے لیے عدالتی انصاف کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ میرے نزدیک ایک فلاحی ریاست کی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو معاشرے کا باکردار اور مہذب فرد بننے میں مدد فراہم کرے۔ لہذا عوام الناس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے کہ میڈیا کی بدولت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تہذیب یافتہ معاشرے سے متعلق آگہی پھیلائی جا سکتی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہ سکول، کالجز، مدارس اور کام کاروبار کی جگہوں پر خواتین کو محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
    حکومت کے ساتھ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہر باشعور اور مہذب شہری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سماجی کارکنان، انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیموں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس نیک عمل میں حصہ لیں اور معاشرے میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے شعور کو اجاگر کرنے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ میرے نزدیک ایک خاتون کو تحفظ فراہم کرنے سے مراد آئندہ ایک مکمل نسل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عورت کا تحفظ ہماری ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل ہم سب کے ذمے ہے۔

    @DSI786

  • لوگ کیا کہیں گے  تحریر: فوزیہ چوہدری

    لوگ کیا کہیں گے تحریر: فوزیہ چوہدری

    لوگ کیا کہیں گے؟ اس سوال کی گونج بہت زیادہ ہے ہماری زندگی میں اور یہ سوال لوگ کیا کہیں گے ہماری خواہشات اور خوشیوں پر سبقت لے جاتا ہے اور انسان اپنی ہی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے صرف اس ڈر سے کے لوگ کیا کہیں گے۔
    ویسے تو فلموں ڈراموں میں آپ نے بہت ہی خوفناک کردار دیکھے ہوں گے لیکن ہماری اصل زندگی میں یہ کردار پائے جاتے ہیں اور وہ کردار نبھاتے ہیں لوگ۔۔۔۔۔ جی ہاں لوگ اور انکی کڑوی باتیں جو کہ جینا مشکل کر دیتی ہیں اور ہم خود بھی لوگوں میں ہی آ تے ہیں اگر کوئی ہماری پسند یا کسی بھی کام پر سوال اٹھائے یا اپنی رائے دے تو ہمیں غصہ آ تا ہے پر ایسا کچھ ہمیں اپنے پڑوس کے بچوں یا پھر خالہ کی بیٹی یا بیٹے کے بارے میں یہ پتا چلے کے وہ پیانو بجانا سیکھنا چاہتا / چاہتی ہے تو ہم خود بھی وہ ہی حرکت کرتے جو کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا ہو سوال اٹھاتے ہیں یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی کوئی سیکھنے کی چیز ہے صرف وقت کی بربادی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    لوگ کیا کہیں گے سوال اتنا ہمارے دماغ پر سوار ہو چکا ہے کے ہر بات پر سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    اتنی ڈارک لپ اسٹک لوگ کیا کہیں گے ؟
    اتنی اونچی ہیل لوگ کیا کہیں گے؟
    میٹرک سائنس کے ساتھ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟
    پسند کی شادی کر لی تو لوگ کیا کہیں گے؟
    ایسے اور بہت سے لمحات ہماری زندگی میں آ تے ہیں جب ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    اس بات پر غور کرنے والا انسان کہ لوگ کیا کہیں گے ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے زندگی میں کبھی آ گے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ ایسے انسان کی اپنی کوئی سوچ اپنی کوئی پسند نہیں ہوتی وہ ہمیشہ دوسروں پر ڈیپینڈنٹ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لیے ہم سفر بھی وہ ہی پسند کرتا ہے جو لوگوں کو اسکے ساتھ اچھا لگے۔
    اکثر ماں باپ اپنے بچوں کی پسند سے شادی اس ڈر سے نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے اتنے ایڈوانس ہیں اتنی چھوٹ دے رکھی ہے اپنے بچوں کو؟ تو خدارا زرا اس بات پر بھی غور کریں کے زندگی آ پ کے بچوں نے گزارنی ہے نہ کہ لوگوں نے مت سوچئے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    کیونکہ لوگوں کا کام ہے بس باتیں بنانا یہ کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے۔اس بات کو میں ایک کہانی سے بھی سمجھانا چاہوں گی۔
    ایک باپ اور بیٹا پیدل چل رہے تھے اپنے گدھے کے ساتھ تو کچھ لوگوں کی باتیں انکے کام میں پڑی کہ دیکھو کتنے بیوقوف ہیں گدھے کے ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ ہم گدھے پر بیٹھ جاتے ہیں تھوڑا ہی آگے گئے تو پھر سے کچھ لوگ بولے دیکھو کتنے ظالم ہیں دونوں ہی گدھے پر بیٹھے ہیں کتنا بوجھ ڈالا ہے گدھے پر اس بات کو سن کر باپ نے فیصلہ کیا کہ وہ پیدل چلے گا اور بیٹے کو گدھے پر بیٹھا رہنے دے گا پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھوں کتنا بدتمیز بیٹا ہے باپ کو پیدل چلا رہا ہے اور خود گدھے پر سوار ہے بیٹا اتر گیا اور باپ کو بٹھا دیا گدھے پر پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھو اس ظالم باپ کو خود گدھے پر سوار ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے اس بات کو سنتے ہی باپ بھی اتر گیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہیں اس کا واحد حل صرف اتنا ہے کہ لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کریں اور آ گے بڑھیں ۔
    ہم نے خود لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری زندگی کا فیصلہ لے سکیں یقین جانیں جس دن آ پ نے یہ سوچ لیا کہ یہ آ پکی زندگی ہے اور اسکا ہر فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف آ پکا ہے اس دن آ پکی زندگی کو ایک نیا رنگ ملے گا اور آ پ زندگی جینا سیکھیں گے ابھی تو صرف گزار رہے ہیں۔
    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خود اعتماد ہونا ضروری ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اس سوچ اور ڈر کو ختم کرنا بھی ضروری ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔اپنے ذہنوں کو کھولیے اور نکلیں اس سوچ سے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    امید ہے تحریر پسند آئی ہو گی۔شکریہ

  • دشمنی مٹاؤ نسل بچاؤ تحریر: محمد نوید

    میانوالی میں قتل و غارت کا بازار ہمیشہ کی طرح گرم ھے پر افسوس کہ کوئی کام نہیں ہو رہا نئے روڈ پل گاوں تو بن جائیں گے لیکن یہاں رہنے والوں کی سوچ تو وہی ہے … لوگ باتیں کر رہے کہ پولیس کچھ نہیں کر رہی اگر اپ پچھلے سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو میانوالی میں جتنے قتل ہوے ان میں دشمن نے آ کر اپنے دشمن کو نہیں مارا بلکہ زیادہ تر بھائی نے بھائی کو مار دیا بیٹے نے باپ کو مار دیا بھائی نے بہن کو مار دیا یا پھر بازار میں چھوٹی سی وجہ سے کسی نے کسی کو مار دیا اور یہ سب کچھ سواے جہالت کے کچھ نہیں ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم میں سے جو لوگ پڑھ لکھ جاتے وہ یہاں سے شفٹ ہو جاتے کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی پڑے گی اور سوچ پر کام کرنا ہڑے گا ورنہ میرے بھائیوں ہر گھر سے اسی طرح بے گناہ لوگوں کے جنازے نکلتے رہیں گے
    پرسوں ایک روز میں مختلف جگہوں پر چار قتل ہوئے دشمنیاں ہر علاقے میں ہوتی ہیں مگر میانوالی میں افسوسناک صورتحال ھے ذرہ سی بات پر کسی کو قتل کر دینا بھائی بھائی کو مار رہا ھے نہ رشتوں کی پہچان ھے نہ بڑے چھوٹے کا لحاظ نہ کسی کی عزت کی پرواہ ماں باپ پیچھے عدالتوں اور جیلوں میں خوار دنیا میں بھی زلیل اور آخرت بھی تباہ حدیث کا مفہوم ھے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ھے اسلام سے دوری نئ نسل کو تباہ کر رہی ھے بدمعاشی ٹرینڈ بن چکی ھے جیل جانا اور پھر کچھ دن بعد ضمانت پر رہا ہو کے آجانا بھی ایک نارمل سی بات ھے کتنے خوبصورت جوان دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے نہ جانے کتنے خاندان تباہ ہو گئے مگر یہ سلسلہ اس جدید دور میں بھیرکنے کانام نہیں لے رہا۔
    ہمیں کب شعور آئے گا آنے والی نسلوں کو ہم کیا پیغام دے رھے ہیں نام کمانا ھے تو اور بہت سے طریقے ہیں رائفل اٹھا کے کسی کو شوٹ کر دینا اصل میں بزدلی کی علامت ھے بہادر انسان وہ ھے جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتا ھے جسمیں جتنی برداشت ھے وہ اتنا بہادر ھے جسمیں برداشت اور صبر نہیں وہ بزدل انسان ھے کبھی یہ بھی سوچاھے کہ کسی کو قتل کرکے کیا خود سکون سے رہ پاؤ گے کبھی نہیں جو انسان بوتا ھے وہ کاٹتا ھے ہتھیار اٹھاؤ جہاں پہ ہتھیار اٹھانا بنتا ھے غریب کا زور بازو بنو طاقتور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرو ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہتھیار اٹھاؤ تاکہ تمہارا نام رہتی دنیا تک یاد رھے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ کسی کو ناحق قتل کر دینا یہ روایت تمہاری نسلیں اجاڑ دے گی کیونکہ پڑھے لکھے لؤگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی ہوگی برداشت کرنا سیکھو دشمن کو بھی عزت دو اگر وہ انسان کا بچہ ہوگا تو سمجھ جائے گا۔۔
    کچھ بھی ہوجائے خدارا کسی انسان کی جان لینا ہمارا سب سے آخری آپشن ہونا چاہیئے۔
    اس سے پہلے کچھ بھی ہو معاملات کو سلجھانے کی حتی الامکان کوشش کریں بدمعاشی نانصافی کے کلچر کو پروموٹ نہ کریں صبر اور برداشت کا دامن تھامیں ابھی بھی وقت ھے ورنہ کوئی خاندان ایسا نہیں بچے گا جو اس کلچر سے متاثر نہ ہوگا شکریہ
    تحریر ۔۔ محمد نوید
    @naveedofficial_

  • آج آزاد جموں و کشمیرمیں نومنتخب ارکان عہدوں کا حلف اٹھائیں گے

    آج آزاد جموں و کشمیرمیں نومنتخب ارکان عہدوں کا حلف اٹھائیں گے

    آج آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں نومنتخب ارکان عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔

    باغی ٹی وی : قانون ساز اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص پانچ مخصوص نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف 29 سیٹوں کے ساتھ پہلے، پاکستان پیپلز پارٹی بارہ سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور پاکستان مسلم لیگ نوازسات سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

    اسلام آباد میں صورت حال مزید خراب: سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ: 600گھرقرنطینہ قرار

    قانون ساز اسمبلی میں جموں و کشمیر پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے پاس ایک ایک نشست ہے۔ پیپلز پارٹی کی دو نشستیں چوہدری یاسین نے حاصل کی ہیں۔ چوہدری یاسین ایک نشست چھوڑیں گے جس پر ضمنی الیکشن ہو گا۔

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں علما و مشائح، ٹیکنو کریٹ اور اوورسیز کے لیے مختص نشستوں پر انتخاب آج ہو گا۔

    وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئےنمبر ون ،نمبر ٹو کی کوئی لائن نہیں سردار تنویر الیاس…

    دوسری جانب پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں آزاد کشمیر اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر انتخاب کیلئے باہمی تعاون کریں گی، اور اس تعاون کی بدولت دونوں اپوزیشن جماعتوں کو خواتین کی نشستوں پر ایک ایک سیٹ حاصل ہوجائے گی۔

    پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چودہدری لطیف اکبر کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے ساتھ ملاقات میں دونوں جماعتوں نے اسمبلی میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور باہمی تعاون سے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    آزاد کشمیر الیکشن: مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مشترکہ لائحہ عمل کے تحت چلیں گی،لائحہ عمل کیا ہوگا؟