Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹائٹل: افغانستان اور خطے کی بدلتی صورتحال تحریر: رانا عزیر

    ٹائٹل: افغانستان اور خطے کی بدلتی صورتحال تحریر: رانا عزیر

    بظاہر تو ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ افغانستان کی جنگ ختم ہورہی ہے اور امریکہ یہاں سے شکست کھا کر جارہا ہے، لیکن اسی طرف خطے میں ایک عالمی جنگ کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے۔ آج کہا جارہا ہے، خوش ہورہے ہیں کہ طالبان جنگ جیت رہے ہیں، اور ماضی میں ہم امریکہ کےساتھ ملکر طالبان کے خلاف جنگ بھی کرتے رہے اور ہم پر امریکہ بے تحاشا زبان تراشی بھی کرتا رہا، کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں دنیا کی سپر پاور اب اتنی آسانی سے شکست تسلیم کرلے گی؟
    یہ مت بھولیے کہ ہمارے ہاں جو بھی یا کسی بھی قسم کی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ اس وقت افغانستان میں لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے، طالبان بڑے شہروں کے اندر گھس چکے ہیں اور گمسان کہ جنگ شدت اختیار کرچکی ہے، طالبان اب اندرون شہر گھس کر جو افغانستان کے سب سے اہم صوبے اور شہر ہیں جن کو سقوط کابل سے پہلے بہت اہم کہا جارہا ہے طالبان وہاں قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ اب امریکہ جارہا ہے اسے ہماری ضرورت ہے، لیکن امریکہ بہت منافق ہے وہ اب ہم پر الزام پر الزام لگائے جارہا ہے،معاملات بہت سنجیدہ ہیں۔جوبائڈن بہت شاطر آدمی ہے۔ وہ بھی کلنٹن کی طرح اس خطے کی سیاست کو جانتا ہے اور وہ آخر پراپنا پتا شو کرے گا، جس پر پاکستان کو بہت سی مشکالات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اب نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے اور وہ پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے رہا ہے اور نور ولی محسود کا پاکستان کے قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے کا بیان اسی چیز کی کڑی ہے، امریکہ افغانستان کی پشتون آبادی اور پاکستان کی پشتون آبادی کو ملا کر ایک آزادی کی تحریک شروع کردے گا اور جس طرح داؤد خان نے پاکستان کے مغربی بارڈر پر حملے کیے اور اب وہی صورتحال بنتی ہوئی نظر آرہی ہے، 1950 اور 60 کی دہائی میں جب افغانستان میں داؤد خان کا دور تھا تو قبائلی پشتونوں نے افغان آرمی کے ساتھ ملکر چمن بارڈر پر حملہ کیا اور 30 میل تک اندر گھس آئے اور مزید جھڑپیں بھی پوتی رہیں، وہ الگ پختونستان چاہتے تھے۔ چین اب اس خطے میں پوری طرح سے ایکٹو ہے اور وہ بیک ڈور ڈپلومیسی کو ترجیح دے رہا ہے۔

    تو اب خطے کے حالات خطرناک دوراہے پر ہیں_

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ  تحریر: شعیب خان

    بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ تحریر: شعیب خان


    آج مسلم معاشرہ دین اسلام سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ ہمارا معاشرہ بےحیاٸی کی دلدل میں دس چکا ہے

    بےحیاٸی کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے کہ ہم نے پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاٶٹ سمجھ کر حکم الہی سے کو رد کیا ہے جبکہ نبی کریم ﷺنے اللہ ﷻ کے احکامات کے مطابق پردے کی سختی سے تلقین و تاکید فرمائی ہے ۔

    جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی کو پھیلانے کے محرک ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسلم معاشرے میں سے شرم وحیا کاجنازہ اٹھ جائے ایسے لوگ دنیا میں بھی درد ناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔اور جہنم کاعذاب انتہائی سخت اذیت ناک اور ناقابل برداشت عذاب ہوگا۔اللہ ﷻ کا ارشاد ہے:

    إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُون

    ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش  پھیلے وہ دنیا میں اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔اللہ جانتاہے اور تم نہیں جانتے

    النور:19

    محرم اور نا محرم کا امتیاز پیدا کر کے قوانین و ضوابط کے بارے میں امت مسلمہ کو آگاہ کیا تاکہ ممکنہ بےحیاٸی کو پھیلنے سے روکا جاٸیں جو آگے چل کر اسلامی معاشرے کو تباہ کرسکتی ہے

    اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کو بھی اپنے گھروں سے نکلنے کی ممانعت کر دی گئی تھی مگر بدقسمتی سے مارڈن اور مغربی عورتوں و مرد کی نقالی میں آجکل ہماری مسلم بہن بھاٸی بہت آگے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئیں ہیں اور اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں ۔اسکی وجہ سے تو ہمارا اسلامی اقتدار مجروح ہوتا ہے تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بےحیاٸی کے یہی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں۔حالانکہ دوسروں کی نقل اترنے والے لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    یہ لوگ نقالی میں نہ صرف لباس،رہن سہن،اور کھانے پینے کی چیزوں میں کی جاتی ہے بلکہ مرد زنانہ لباس میں خود کو دیکھنا قابل فخر سمجھتے ہیں اور خود کو مارڈن کہتے ہیں جبکہ ایسے لوگ بس بےحیاٸی و فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔۔

    آپﷺ نے فرمایا ہے کہ لعنت ہے اُن عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ۔

    حقیقت میں جہاں ہر انسان معاشرے کی اصلاح یا بگاڑ کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہاں معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری حکام بالا پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین پر عمل درآمد کریں اور شہریوں کو کرائیں جن سے معاشرہ بےحیاٸی کی طرف آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحی پہلو نکل سکے۔

    بے حیائی کے اس سیلاب کے خلاف آواز اٹھاٸیے اس سے پہلے کہ بے حیائی کا یہ سیلاب ہمارے گھروں، ہماری عزتوں کو بھی  بہا کر لے جائے۔۔۔

    اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

    @aapkashobi

  • معذور افراد کی زندگی کتنی مشکل ہے  تحریر : احمد فریدی

    معذور افراد کی زندگی کتنی مشکل ہے تحریر : احمد فریدی

    اس دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز دنیا کا مہتاج ہونا ہے جو کہ زندگی کی تمام مشکلات اور پریشانیوں سے اذیت ناک ہوتا ہے،
    کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ معذور افراد کی زندگی میں کیا مشکلات ہوتی ہیں اور وہ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں اور پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک یہ معاشرہ کیسا سلوک کرتا ہے؟
    کہتے ہیں کہ مرنے والے سے سب سے بڑی وفا یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے آخری رسومات میں شرکت کرے اور اپنی اپنائیت اپنی محبت کا یقین دلائے لیکن یہ سب چاہتے ہوئے بھی ایک معزور افراد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ دنیا کا مہتاج ہوتا ہے اور اس وقت ہمارے قریبی رشتے دار کہتے ہیں اپ کا کیا کام بہت رش ہے آپ گھر بیٹھیں اور صرف اپنوں کی وافات کے موقع پر ہی نہیں بلکہ شادی بیاہ اور دیگر روز مرہ کے معمولاتِ زندگی اور تقریبات میں شرکت بھی نہیں کرنے دیتے
    آج پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے کچھ حالات بدلے اور چند دن حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا تو محسوس ہوا کہ کیسے سارا سال گزرتا ہے ان لوگوں کا جو بیچارے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیا ان کا دل نہیں کرتا کے انکے ساتھ بھی کوئی وقت گزارے کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ وہ بھی باہر کی دنیا دیکھیں
    جب پیدائشی یا چھوٹی عمر میں انسان کسی طرح کی بھی معذوری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو سب سے اہم چیز اسکی پڑھائی ہوتی ہے جس سے وہ محروم رہتا ہے 100 میں سب صرف 05% افراد ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں،
    جو خود سے پانی تک نہیں پی سکتے کھانا تک نہیں کھا سکتے انہیں پاکستانی تعلیمی ادارے نے کیا سہولیات مہیا کی ہیں ہمارے ہاں تو ان کا حق بھی نہیں دیا جاتا،
    اگر ہم اپنا موازنہ یورپ سے کریں تو وہاں آپ جا کر دیکھیں کہ کیسے انہوں نے اپنے معذور افراد کے لیے اقدامات کیے ہیں
    کیسے انہوں نے اپنے معذور افراد کو سپیشل پرسن بنایا اور ایک نارمل انسان سے کہیں بہتر اقدامات کیے تاکہ وہ معذوری کو مجبوری نہ بنائیں اور اچھے طریقے سے زندگی گزاریں یقیناً اس کا واحد حل صرف اور صرف تعلیم یافتہ ہونا ہے،
    ہمیں ہرصورت ان لوگوں کے لیے آواز بلند کرنی پڑے گی جو بیچارے نا تو احتجاج کر سکتے ہیں نہ کوئی انکی سننے والا ہوتا ہے واحد اللہ ہی انکا سہارا ہے ہم لوگ صرف اپنی حکومت کو کہتے ہیں کہ وہ کوئی اقدام اٹھائے کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے جتنا آپ کر سکتے ہیں کم ازکم وہ تو کریں اور کچھ نہیں کرسکتے تو انکے ساتھ وقت تو گزار سکتے ہیں،
    اور یقین جانئے یہ دنیا کی سب سے بڑی خوشیوں میں سی ایک ہے کہ آپ کیسی کو اپنا وقت دیتے ہیں اور جہاں تک بات ہے وہیل چیئر کی تو وہیل چیئر معذور افراد کی آدھی زندگی ہے،
    اگر ہماری حکومتوں نے معذور افراد کو بھی اپنا شہری مانا ہوتا بروقت اقدامات کیے ہوتے معذور افراد تک مفت وہیل چیئر پہنچائی ہوتی معذوری سرٹیفکیٹ بنوانے کا آسان طریقہ رکھا ہوتا اور سپیشل پرسن والے کارڈ بنا کر انہیں ماہانہ کی بنیاد پر وظیفہ مقرر کیا ہوتا تو آج معذور افراد آپ کو یوں سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر نہ آتے، اور مخیر حضرات آگر حق حقداروں تک حق پہنچاتے تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا ان لوگوں کی وجہ سے ہم جیسے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، دوسروں کو الزام دینے کے بجائے آپ خود کو دیکھیں آپ نے کیا کیا ہے آگر ہر بندہ اپنی ذمےداری نبھائے تو معذور افراد کی زندگی بہتر اور بہت خوبصورت بننے کے ساتھ ساتھ گزر بھی جائے گی اور وہی اسی طرح دوسروں کی خدمت کریں گے دوسروں کیلئے جدوجہد کریں گے دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑیں گے دوسرے معذور افراد کو اپنایت کا احساس دلائیں گے ان کیلئے سہارا بنے گے،
    پاکستان کی حکومت پاکستان کے ادارے پاکستان کے ٹرسٹ پاکستان کے مخیر حضرات اس اہم ایشو کو اپنے اہم ایشو میں شامل کریں تاکہ پاکستان کے لاکھوں معذور افراد اس پریشانی سے ان محرومیوں سے نکل سکیں اور اپنی صلاحیت پاکستان کیلئے پاکستان کے غریبوں مزدوروں اور معذوروں کیلئے استعمال کریں،
    اس دعا کے ساتھ اور اس امید کے ساتھ اختتام کررہا ہوں یقیناً صاحب اقتدار اور صاحبِ استطاعت ہماری مودبانہ گزارش کا نوٹس لیتے ہوئے تمام تر اقدامات بروئے کار لائیں گے،
    اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو پاکستان ذندہ باد
    Twitter ID
    👇
    https://twitter.com/ahmad_faredii?s=09

  • سوشل میڈیا پر عدم برداشت  تحریر  :  سید محمد مدنی

    سوشل میڈیا پر عدم برداشت تحریر : سید محمد مدنی

    ہمارے سوشل میڈیا پر برداشت کی کمی ختم ہو چکی ہے ہم معمولی سی بات کو بھی گالی اور بدتمیزی سے جوڑتے ہیں کوئی بھی بات ہو ہم سب سے پہلے گالی کا سہارا لیتے ہیں اور گالی دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کے جیسے ہم سامنے والے سے جیت گئے ہیں لیکن حقیقتاً ہم اپنی تربیت کا مظاہرہ دکھا اور ہار رہے ہوتے ہیں اور پستی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جب ہمارے پاس دلیل نہیں رہتی تو ہی ہم گالی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ جو گالی دیتا ہے وہ اسی کو آ کر لگتی ہے

    آپ نے دیکھا ہوگا کے ہم آپس میں مذاق کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو گالی دے جاتے ہیں اور یہی اگر لڑائی ہو جائے تو بہت برا لگتا ہے آخر کیوں بھئی جب مذاق میں آپ گالی دیتے ہیں تو سنجیدگی یا غصے کے وقت آپ کو وہی گالی بُری کیوں لگتی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کے اگر آپ بے ہودہ یا نا مناسب زبان استعمال کریں گے تو اسے کچھ لوگ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں ہنستے ہیں قہقہے لگاتے ہیں کیا آپ نے کبھی تھوڑی سی دیر کے لئے یہ سوچا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں ہم دوسروں کو تو تلقین کرتے ہیں کے گالی مت دو لیکن ہم خود وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے ہم معمولی بات چیت میں گالی بے ہودہ گفتگو کو سرِ فہرست رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ فخر کی بات نہیں بلکہ بے غیرتی کی بات ہے ایک چیز یہ بھی دیکھی گئی ہے کے اگر کوئی ماں بہن تک پہنچ کر گالی دیتا ہے تو جواب میں دوسرا بھی وہی کچھ کرتا ہے اور اگر کوئی جواباً گالی نا دے تو اسے بزدل سمجھا جاتا ہے جناب یہ بزدلی نہیں شرافت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے بزدلی کہا جاتا ہے ایک تو گالی نا دیں اور نا ہی اس پر فخر محسوس کریں

    میں نے مشاہدہ کیا ہے اگر اپ اپنی بات سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہتے ہیں تو لوگ اس پر اتنی بات نہیں کرتے جلدی ری ایکٹ نہیں کرتے جبکہ یہی بات کسی بھی گالی کے تناظر میں یا عجیب بے ڈھنگی زبان میں لکھ دیں تو مشہور زیادہ ہوتی ہے جیسے کے ایک گروہ نے ایک

    پ یہ ن د ی س ر ی

    (معذرت چاہوں گا الفاظ ملا کر نہیں لکھ سکتا)

    جملہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر آدمی وہی جملہ دھہرانے لگا میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات میں عجیب فنگ ڈھنگ نا سلیقہ نا آداب کے عنصر کو شامل کیا جائے، ہو سکتا ہے میری یہ بات بری لگے بہت لوگوں کو لیکن میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں کسی محفل میں آپ بیٹھے ہوں اور کوئی عجیب سی بات کہہ ڈالیں یا پھر فلاں کی سری یا فلاں کا کچھ کہیں تو دیگر افراد آپ کو دل میں برا ہی جانیں گے اس لئے ہمیشہ اچھی گفتگو کریں اور بات وزن دار کریں کیونکہ زبان سے ادا ہؤا لفظ اور کمان سے نکلا ہؤا تیر واپس ہرگز نہیں آتے

    آئیے اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ مثالیں قائم کریں اور گندی اور بے ہودہ گفتگو سے اجتناب کریں تاکہ ہمارا نام اچھے الفاظ میں لیا جائے اور لوگ ہمیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں

    @M1Pak

  • قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    "اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاو ! ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اور ان کو خبر تک نہ ہو” ایک ننھی چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا یہ مدھم آواز خضرت سلیمان علیہ السلام نے سنی اور مسکرا دئیے اور اللہ کا شکر ادا کیا حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں نہایت وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ بنایا تھا اور نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں، جنات اور ہوا تک کو ان کا تابع کر دیا تھا ۔ اللہ نے انہیں اتنی عظیم سلطنت بخشنے کے ساتھ اور حکمت اور غیر معمولی قوت فیصلہ بھی عطا فرمائی تھی
    حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور 992 قبل مسیح میں پیدا ہوئے (قبل مسیح کا مطلب ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے 992 سال پہلے) وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد تحت پر بیٹھے ۔ شروع کے تین سال مشکلات کے تھے۔جس میں مختلف معرکے پیش آئے ۔ بالآخر آپ نے سب مخالفین پر قابو پایا اور ایک نہایت مستحکم اور وسیع حکومت قائم کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تعمیرات کا بہت شوق تھا ۔انھوں نے ہیکل سلیمانی اور بہت سے نئے شہر تعمیر کروائے
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا۔ سوائے ہد ہد کے سب حاضر تھے۔ ” ہد ہد کہاں ہے؟” حضرت سلیمان علیہ السلام نے ناراضگی سے دریافت فرمایا، "وہ آکر غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ اسے سخت سزا دوں گا” کچھ ہی دیر میں ہد ہد آگیا ۔ اور اس نے یوں گفتگو شروع کی۔ "میں ابھی بھی ملک یمن سے آرہا ہوں ۔ وہاں میں نے ایک قوم دیکھی جو بہت خوشحال ہے۔ اس کی حکمران ایک عورت ہے۔ یہ قوم گمراہ اور مشرک ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں”
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ حال سن کر ہد ہد کے ذریعے وہاں کی ملکہ کو خط بھیجا۔ اس خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کیا گیا تھا۔ اور اس میں ملکہ اور اس کی قوم کو سیدھے راستے پہ آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ یمن کی ملکہ کا نام ” بلقیس” تھا اور اس ملک میں جو قوم آباد تھی۔ وہ "سبا” کہلاتی تھی ۔ ملکہ کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے درباریوں سے اس خط کے بارے میں رائے طلب کی۔ سب نے ایک زبان ہوکر یہی مشورہ دیا کہ ہمیں اس بادشاہ سے جنگ کرنی چاہیے۔ ہم سب بہادر بھی ہیں۔ اور ہمارے پاس بہت سا سامان جنگ بھی ہے
    ملکہ ذہین اور دانا تھی۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کے بارے میں پہلے سن چکی تھی۔ اس نے اپنے درباریوں کو سمجھایا کہ جلدی کرنا درست نہیں۔ جنگ کوئی بھی جیت سکتا ہے۔ اور جو جیت جاتا ہے وہ بستیوں کو تباہ اور عزت دار لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کچھ تحائف بھیجے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ بات یہیں ختم ہو جائے
    یوں ایک وفد پیش قیمت تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا” اللہ تعالٰی نے دین و دنیا کی جو نعمتیں مجھے عطا فرمائی ہیں وہ تمہارے تحائف سے بہت بہتر ہے۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں، تم ان کو واپس لے جاو۔ اور اپنی ملکہ سے کہہ دینا کہ اس نے شرک اور گمراہی کا راستہ نہ چھوڑا اور اللہ کا دین قبول نہ کیا تو ہم ایسے لشکروں سے حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی تم میں طاقت نہ ہو گی”
    ملکہ سمجھ گئی کہ یہ معاملہ دنیاوی مال و دولت کی حرص کا نہیں ہے۔ چنانچہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے کیلئے خود روانہ ہو گئی۔ جب وہ پروشم کے قریب پہنچی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچا کہ اس کو اپنے پیغمبر ہونے کی نشانی دکھائی جائے تاکہ اس کو سچائی قبول کرنے میں آسانی ہو۔ آپ علیہ السلام نے دربار کے حاضرین سے پوچھا کہ کوئی ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچے سے پہلے اس کا تحت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ وہ دربار برخاست ہونے سے پہلے تحت لے آئے گا۔ ایک شخص نے، جو کتاب کا علم رکھتا تھا، کہا کہ میں پلک جھپکنے میں تحت یہاں لا سکتا ہوں۔ اور اگلے لمحے تحت وہاں موجود تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور اپنے درباریوں سے فرمایا کہ اس میں تھوڑی تبدیلی کر دو تاکہ ہم آزمائیں کہ ملکہ کتنی ذہین ہے۔ جب ملکہ پہنچی تو اپنا تحت دیکھ کر کہنے لگی۔” یہ تو میرا تحت معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کی عظمت پہلے ہی پہچان گئی تھی۔ ہم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے”
    ملکہ نے ظاہری اور دنیاوی اعتبار سے تو اطاعت قبول کر لی تھی۔ لیکن اس کی سوچ میں ابھی گہرائی پیدا نہ ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو سمجھانے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کر لیا۔ ان کے محل کا فرش شیشے کا تھا۔ جس کے نیچے نہر بہہ رہی تھی
    اوپر سے دیکھنے پر شیشہ نظر آتا تھا۔ صرف پانی ہی بہتا نظر آتا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ کو اپنے محل لے گئے۔ ملکہ نے نیچے دیکھا تو اس نے فورا اپنے پائنچے اٹھا لیے۔ وہ سمجھی کہ نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ کہیں میرے کپڑے بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔” تم دھوکے میں ہو یہ پانی نہیں شیشہ ہے”۔ ملکہ نے ان کی اس جملے پر غور کیا۔ تو اس کا ذہین روشن ہو گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ سورج کو سجدہ کرنا بھی ایک دھوکہ ہے۔ وہ ہستی ہی سجدے کے لائق ہے ۔ جس نے اس سورج اور تمام کائنات کو بنایا ہے۔ اور یوں وہ ایمان لے آئی۔
    حضرت سلیمان علیہ السلام اکتالیس سال حکومت کرنے کے بعد 924 قبل مسیح میں وفات پاگئے۔ وفات کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ آپ علیہ السلام نے جنوں کو ایک نیا شہر تعمیر کرنے کے کام پر مامور کیا تھا۔ یہ کام ابھی نامکمل تھا ۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا آخری وقت آگیا۔ آپ علیہ السلام اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ اور اسی حالت میں آپ علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ سب سمجھتے رہے کہ آپ علیہ السلام کام کی نگرانی فرما رہے ہیں ۔عصا میں آہستہ آہستہ گھن لگ رہا تھا۔ایک دن عصا گھن کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ تب جنوں اور تمام مخلوقات کو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ہے۔

    @Shandana_Twitts

  • حضرت عمر فاروق رض تحریر:  محمد طلحہ رفاقت

    حضرت عمر فاروق رض تحریر: محمد طلحہ رفاقت

    خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض عنہا کمال رعب و جلال اور دبدبہ رکھنے والے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاص صحابی تھے
    تاریخ نے ہزاروں جرنیل اور بڑے بڑے سپہ سالار پیدا کیے لیکن دنیا جہاں کے فاتحین، دنیا جہاں ہے سپہ سالار حضرت عمر فاروق رض کے سامنے طِفلِ مکتب لگتے ہیں

    انکا شمار خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہوتا ہے آپ خلفاء راشدین میں سے دوسرے نمبر پر ہیں
    حضرت عمر فاروق رض وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی خاص دعاؤں میں گڑ گڑا کر اللہ رب العزت سے مانگا اور اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق رض کی صورت میں ہیرا صحابی میسر کیا
    حضرت عمر فاروق رض واہ واحد صحابی ہیں جن کو آتا دیکھ کر شیطان مردود اپنا راستہ تبدیل کرلیتا تھا
    مسلمان تو یقیناً حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بے حد متاثر ہیں جبکہ بیسوں غیر مسلم حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بھی متاثر ہیں جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا اسلام کو ترقی کی جانب جو پروان ملی وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروفوں میں درج ہے

    حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کو پوری دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر اپنی سر توڑ کوشش کی اور کوششیں بجا لاتی ہوئی مقصد میں کامیابی ملی آج انہی کی ہی مرہونِ منت ہمارے پاس اسلام کی صورت میں خوبصورت ترین دین ہے
    یقیناً حضرت عمر فاروق رض اور ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں کی بدولت ہمارے پاس خوبصورت ترین دین میسر ہوا

    ایک عالم دین نے کیا خوب کہا کہ حضرت عمر فاروق رض عطاء اے خداوندی ہیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت سے حیران کن طور پر یہ دعا مانگی کہ اے اللّٰهُ عمرو بن ہشام یا پھر حضرت عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کی زینت بنا تو اللہ ربّ العزت نے عمر فاروق رض کی صورت میں دین اسلام کو رونق بخشی

    شہادت کے وقت آپ رض کی عمر تریسٹھ برس تھی حضرت صہیب رض نے آپ رض کی نماز جنازہ پڑھائی روضہ نبوی میں حضرت ابو بکر صدیق رض کے پہلو میں آپ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ رض

    خادمِ نورالہدی بے شک ہیں وہ تنویر پھول
    نکہتِ باغ نبوت حضرت فاروق ہیں

    @Talha0fficial1

  • ‏میرا پاکستان میری پہچان   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏میرا پاکستان میری پہچان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ہمارا ملک پاکستان جو جدوجہد کے مستقل عمل میں ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ، اسے باقی دنیا کے منفی عکاسیوں کے مقابلے میں بتانا یقینا زیادہ اچھا ہے۔.

    یقینی طور پر ہمارے ملک میں بہت سارے مسائل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا ملک کیسی سے کم ہے۔ ہم پہلی اسلامی جوہری طاقت ، دنیا کی چھٹی بڑی فوج ،جو کسی بھی دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ، نہ صرف خوبصورتی اور سکون سے بھرے ہوئے علاقوں بلکہ معدنیات سے بھی مالا مال ہیں۔. صحت ، تعلیم ، انسانی وسائل اور سماجی شعبے میں بروقت سرمایہ کاری مثبت نتائج لا رہی ہے حالانکہ آہستہ آہستہ ہمارے پاس سائنس اور ٹکنالوجی ، کھیلوں ، سماجی علوم ، فنون لطیفہ اور دیگر شعبوں میں غیر معمولی ہنر مند صلاحیتوں کے حامل پرجوش اور باصلاحیت نوجوان ہیں۔

    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ اس پرجوش نوجوان کے پاس یقینی طور پر ان کے پاکستان کو مزید خوشحال بنانے کے لئے تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔

    مکرمی ہمیں پاکستان کو مزید کامیاب بنانے کے لیے محنت کرنی ہوگی ، سب سے پہلے ہمیں تعليمی نظام پر توجہ دینی چاہیے ۔. پاکستان کو اپنی خواندگی کی شرح اور معیاری تعلیم کی کمی کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔. اس وقت کی ضرورت سائنس اور ٹکنالوجی سیکھنے کی ثقافت کو فروغ دینا ، بہتر انفراسٹرکچر ، نئی ایجادات کے ساتھ بڑھتی ہوئی صنعت کی ضرورت ہے۔.

    تحقیق اور ترقی بالکل تکمیل پذیر ہوگی کیونکہ کامیابی کے لیے اس طرح کے بنیادی شعبوں پر دنیا کی توجہ مرکوز ہے۔. بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ہمارے نوجوانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ پاکستان کو بدعات کے میدان میں کس طرح بہتر درجہ بندی پر ڈال سکتے ہیں۔.

    ہمارے پاس دماغ اور ذہانت ہے لیکن اس کے لئے مناسب سمت کی ضرورت ہے۔. ہمارے پاس بڑھتی آبادی ، صحت ، خوراک اور پانی کی قلت اور عام آدمی کی سلامتی کے چیلنجز ہیں لیکن ان تمام امور کو فنڈز ، وسائل اور پالیسی کے صحیح استعمال سے حل کیا جاسکتا ہے۔. اخلاص اور قوم کے ساتھ وفاداری ایک پہلو ہے جس کی پاکستان کو ہم سب سے ضرورت ہے۔.

    ہم سب کو اپنے ملک کے ذمہ دار ، دیانتدار اور قانون کے پابند شہریوں کی ضرورت ہے۔ ہم جو ہیں اس پر فخر کریں اور ہمیں اپنی ثقافتی اقدار ، زبان اور تاریخ کے بارے میں شرمندہ یا معذرت نہیں کرنا چاہئے۔ باقی ممالک اپنی تاریخ کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنے وژن رہنما عظیم قائد اعظم محمد علی جناح پر فخر کرنا چاہئے ، جو دوسرے سرشار ساتھیوں کے ساتھ مل کر عالمی نقشہ پر پاکستان کو نقش کرنے میں کامیاب رہے تھے۔.

    بچوں کو آزادی کے معنی سمجھنے میں مدد کرنا اور انہیں ایسا ماحول مہیا کرنا جس میں وہ آزادی کے حقیقی جوہر سے لطف اندوز ہوسکیں ریاست کی ذمہ داری ہے۔. ہمیں چاہیے پاکستان کو سیاحت کو فروغ دے کیونکہ اللہ ﷻ نے پاکستان کو شمالی علاقوں میں انتہائی خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اگر ان کی دیکھ بھال کی جائے تو وہ ملک میں بہت سارے سیاح لاسکتے ہیں۔.

    بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی میں پہلے سے کافی بہتر ہوگی ہے اسکو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے

    آئیے یہ نہ بھولیں کہ ہم ایک فخر قوم ہیں جس کی ثقافتی اقدار اور ایک شاندار ماضی ہے۔ ہمیں اپنا 74 واں یوم آزادی مناتے ہوئے اپنی آزادی کو پسند کرنا چاہئے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک آزاد ریاست کی قدر کو سمجھیں جس سے ہمیں نوازا گیا ہے۔. آئیے اپنی قوم کی خدمت کا عہد کریں اور اسے پرامن اور خوشحال قوم بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ہم واقعی اپنے کارناموں پر فخر کرسکیں۔.

    اللہﷻ پاکستان کو شاد و آباد رکھے آمین!

  • حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضور کے عظیم ساتھی حضرت خالد بن ولید ایک عظیم جرنیل اور ایک عظیم فاتح تھے۔
    میدان جنگ میں آپ کی مہارت حیران کن تھی۔ اپ کی کنیت ابو سلیمان اور ابو ولیدہ تھی اور آپ کا لقب سیف اللہ تھا (اللہ کی تلوار)
    اپ کا نسب ساتویں پشت میں حضرت ابوبکر صدیق سے ملتا ہے عباس کی والدہ لباب الکبرا کی بہن تھیں۔
    آپ کے والد ، قریش کے سرداروں میں سے تھے اور مکہ کے امیر ترین افراد میں سے تھے۔
    حضرت خالد بن ولید شروع سے ہی ایک بہادر ، محنتی اور سخت آدمی تھے۔ آپ نے یہ آرام چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کے بل بوتے پر کام کیا۔
    جب اسلام کا ظہور ہوا تو آپ قریش قبیلے کے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کی سخت مخالفت کی تھی۔
    آپ حدیبیہ کے امن تک اہل اسلام کے خلاف کفار کی طرف سے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں بھی شریک تھے۔
    جنگ احد میں آپ مکہ کے قریشی گھڑسواروں کی قیادت کر رہے تھے۔ جب اپ نے پہاڑی راستے میں ایک اہم مقام چھوڑا اور پیچھے سے ائے اور لشکر اسلام پر حملہ کیا ، جس نے جنگ کا رخ موڑ دیا۔
    حضور کے فوجی نظم و ضبط اور سوچ سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار ان کے دل میں ا گئی جس نے بعد میں ان کے لیے اسلام کے جھنڈے تلے آنا آسان بنا دیا۔
    حضرت الولید نے اپنے بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔
    آپ کے بھائی نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں گے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ سے مشورہ کیا اور دونوں حق کی تلاش میں مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔
    حضرت عمر بن العاص اور حبشیہ کے نجاشی شاہ سے اسلام کی صداقت پر یقین کرنے کے بعد ، وہ راستے میں حضرت خالد اور حضرت عثمان سے ملے اور اپ تینوں اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل کر خدمت مصطفیٰ پہنچے۔
    جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تینوں کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: اہل مکہ نے اپنے جگر آپ پر پھینکے ہیں۔
    حضرت خالد بن ولید نے پہلے ان سے اور پھر دوسروں سے بیعت کی۔ اور تینوں اسلام کی عظیم فوج میں شامل ہو گئے۔
    اسلام قبول کرنے کے بعد ، حضرت خالد بن ولید نے نبوت کے زمانے ، حق اور حضرت عمر فاروق دور میں مختلف لڑائیوں میں لشکر اسلام کی قیادت کی۔
    آپ نے جمادی الاولیا ہجری میں موطا کی جنگ میں بھی حصہ لیا تین دیگر جرنیلوں حضرت زید بن حارثہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد انہوں نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی۔
    آپ کہتے تھے کہ ایک جنگ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور آخر میں صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی۔
    حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر حضرت خالد بن ولید کی عظیم خدمات اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔
    حضرت ابوبکر صدیق نے مرتدین کے خلاف لشکر روانہ کیا اور ایک لشکر کی قیادت آپ کے حوالے کی۔
    اپ نے مسلمان کو جھوٹوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا۔ ایک سخت لڑائی کے بعد ، مسلمہ مارا گیا اور اس کے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔
    اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے رومیوں کے خلاف شام اور عراق میں فوجیں بھیجیں لیکن حضرت خالد بن ولید کا رخ نے ایرانیوں کی طرف کیا ۔
    پہلی لڑائی ایرانی افواج اور مجاہدین اسلامیہ کے درمیان البلات میں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں لڑی گئی جس میں رب کائنات نے لشکر اسلام کو فتح عطا کی۔
    حضرت خالد بن ولید ایک سال اور دو ماہ تک عراق میں رہے اور 15 جنگیں لڑیں ، ان میں سے سب جیتے ، پھر یہاں سے انہیں یرموک پہنچنے کا حکم دیا گیا۔
    حضرت خالد بن ولید مارشل آرٹس می رول ماڈل ان کے عظیم کارنامے اب بھی تاریخ کے انمٹ نقوش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
    ان کی وفات 5 ہجری میں ہوئی جب وہ ساٹھ برس کے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی اور بعض کے مطابق مدینہ منورہ میں۔
    اپنی موت کے وقت ، آپ نے کہا: "میں نے تقریبا تین سو لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں اپنے جسم کے ہر حصے میں تلوار ، نیزہ اور تیر سے زخمی ہوا ہوں لیکن میں شہادت سے محروم رہا ہوں اور میں آج بستر پر مر رہا ہوں۔ اللہ تعالی بزدلوں کو امن نہ دے۔ ”
    آپ نے وصیت کی تھی کہ میرے بازو اور گھوڑے کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کے لیے وقف کیا جائے اور اپ کے تمام اثاثے ایک غلام ، گھوڑا تھا۔
    حضرت خالد بن ولید کو اللہ کے رسول سے بے پناہ محبت تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا: "خالد کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اس نے کفار کے خلاف کھینچی ہے۔ ”

    @Patriot_Mani

  • کیسے نہ ہو عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد تحریر: مریم صدیقہ

    کیسے نہ ہو عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد تحریر: مریم صدیقہ

    اس بات سے بلکل انکار نہیں کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہےہر چیز کی قیمت میں آئے دن اضافے کی خبرسننے کو ملتی ہے چاہے وہ پیڑولیم مصنوعات ہوں یا کھانے پینے کی اشیاء۔ مگر اس کے باجود یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ عوام کا اعتماد اب بھی خان صاحب پہ ہی ہے۔ یہ اس لیے ہر گز نہیں کہ وہ آخری آپشن ہیں بلکہ اس لیے کیوں کہ اب اس قوم کو یقین ہو چکا ہے کہ وقتی پریشانی ضرور اٹھانی پڑ رہی ہے مگر اس تکلیف کے بعد جو آسانی آئے گی وہ ان کی نسلوں کو سنوار دے گی۔
    بے شک مہنگائی نے عوام کی کمر توڑدی ہے لیکن ہر پاکستانی کے لیے اس سے بڑھ کہ اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ اب دنیا میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے ، اب انہیں خود کو پاکستانی بتاتے ہوئے شرم کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔کیوں کہ جو ان کا پرائم منسٹر ہے وہ دنیا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کرتا ہے ،وہ اب امریکہ کو اسی کی زبان میں “Absolutely Not” کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہ “Do More” کی بجائے برابری کی سطح پہ تعلقات قائم رکھنا جانتا ہے،وہ امریکی ایڈ کی بجائے تجارت کو فروغ دینے پہ بات کرتا ہے، وہ ظلم کا ڈٹ کے مقابلہ کررہا ہے، وہ کشمیر کا سفیر بنا ہے، وہ چائنا جیسے دوست سے دوستی نبھانا اور بھارت جیسے دشمن سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جب وہ خطاب کرتا ہے تو اسے پرچی کی ضرورت نہیں پیش آتی اور دنیا کی نظریں اس پہ اور دنیا کے ہر بڑے چینل کی ہیڈلائن ہوتا ہے۔ اس نے وقت کے فرعونوں کو للکارا ہے۔ پاکستانیوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کے لیڈر کو صرف بیرونی ہی نہیں بہت سے اندرونی دشمنوں کا بھی سامنا ہے۔ ہر مافیا چاہے وہ قبضہ مافیا ہو چینی مافیا اس کے راستے کی روکاٹ بنا ہوا ہےمگر وہ ان سے بھی لڑ رہاہے۔سیاسی مخالفین کو کب کہاں کس طرح ٹھوکنا ہے یہ خان صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔وہ پاکستانی عدالتوں سے صادق اور امین ڈیکلیرڈ ہے۔ ہاں تھوڑے کنجوس ضرور ہے کیوں کہ وہ "کھاتا ہے تو لگاتا بھی توہے” والی سیاست نہیں کرنا جانتا۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کیسے عوام پہ ہی خرچ کرنا ہے اورمزید چوری ہونے سے کیسے بچانا ہے یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
    تو پھر کیسے نہ ہو پاکستانی عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد۔ وہ کپتان جس نے حکومت میں آنے سے پہلے ان کے لیے انتھک محنت کی ، 22 سال اپنے نوجوانوں کا انتظار کرتا رہا،ان کے لیے لڑتا رہاتاکہ وقت آنے پہ یہ اس کا ساتھ دیں اور دنیا کو بتا دیں گے کہ پاکستانی کسی کم نہیں ۔تو اب وہ وقت ہے جب پاکستان کے نوجوان خان کی سر پرستی میں ہر قسم کی جنگ چاہے وہ اندرونی دشمنوں سے ہو یا بیرونی لڑ سکتے ہیں کیوں کہ یہ جنگ خان کی نہیں یہ پاکستان کی جنگ ہے ، یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے جس میں بہت سی پریشانیاں اور روکاوٹیں ضرور ہیں مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افرزا ہوں گے۔ بس ہمت، حوصلہ اور یقین رکھیں اچھے دن آنے والے ہیں۔

    @MS_14_1

  • حقوقِ نسواں  تحریر: تحریر عبید الله

    حقوقِ نسواں تحریر: تحریر عبید الله

    کسی بھی موضوع پر گفتگو سے پہلے اس کی بنیاد جاننا لازمی ہے۔
    حقوق سے مراد وہ بنیادی معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی اور حکومتی و قانونی
    اصول ہیں جن کے میسر ہو نے سے کوئی بھی فردِ واحد معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ حقوق نسواں سے مراد وہ تمام حقوق ہیں جو کہ اسلام اور عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آئین پاکستان میں درج ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو بنانے اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کےلیے مرد اور عورت دونوں کی برابر کی کاوشیں لازم ہیں۔ اگر معاشرے کو ہم ایک موٹر سائیکل سے تشبیہ دیں تو مرد اور عورت اس کے دو پہیے ہیں اگر ان میں سے ایک پہیہ میں خرابی آئے تو دوسرا بھی اس سے متاثر ہوتا ہے اور نتیجتاً موٹر سائیکل منزل تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی رک جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر مرد اور عورت دونوں اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام نہ دے سکیں تو معاشرے ترقی اور خوشحالی کی بجائے انتشار اور بے راہ روی کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں اس لیے دونوں کے حقوق اور کردار سے انکار ممکن نہیں۔
    عورتوں کے حقوق سےانکار ممکن نہیں کیونکہ عورت کے حقوق اور اکرام تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے اپنی کتاب میں شامل فرما دیےاورہر لحاظ سے عورت کو صاحب عزت قرار دیا۔ اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت رکھ دی، بیٹی ہے تو نعمت قرار دیا، بہن ہےتو غم خواراور جائیداد میں حصہ دار اور بیوی ہے تو لباس اور باعثِ سکون قرار دیا۔ اسی طرح اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ووٹ دینے اور شہری ترقی میں حصہ لینے کا حق بھی دیا ہے۔ سیاست یا سوشلائیز ہونے کا بھی حق دیا ہے اس کے باوجود آجکے جدید دور میں بھی مرد حضرات عوامی بسوں میں خود کھڑے ہوکر عورت کو جگہ دیتے ہیں اور اس بات سے کون قطع نظر ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی بسوں میں سوار نوجوان آج بھی اس سیٹ پر نہیں بیٹھتے جس کے ساتھ والی سیٹ پر عورت بیٹھی ہواور بے شک اس سب میں بھی قابل تحسین ہیں وہ مائیں اپنے بچوں کی تربیت یوں احسن طریقے سے کر رہی ہیں لیکن افسوس آج عورت کے حقوق کے نام پر ایسے لبرل حضرات آگے آرہے ہیں جو گو کہ مرد اور عورت دونوں کے لباس میں ہیں لیکن وہ عورت کے حقوق اور تقدس سے دور اور نا واقف ایسے بے حیائ پر مبنی نعرے لگاتے ہیں کہ باعزت گھرانوں کے مردوخواتین سن کر شرم کے مارے پانی پانی ہو جائیں۔ گوکہ یہ لبرلز تعداد میں تھوڑے ہی سہی(آٹے میں نمک)، لیکن مرد اور عورت کے نام پر دھبہ اور معاشرے کے لیے ناسور ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی معصوم بیٹیوں کو اس نظامِ الٰہی سے متنفر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ جس نے ایک ایسے وقت میں جب عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں کو قابل منتقلی جائیداد سمجھا جاتا تھا تو اسلام نے معاشرے میں عورتوں کو عزت دی اور انہیں بے مثال حقوق سے تحفظ دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، اپنی پسند کے کسی سے شادی کرنے، شادی کے بعد اپنی شناخت برقرار رکھنے، خلع لینے، کام کرنے، جائیداد کی ملکیت اور فروخت کرنے، قانون کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے، معاشرتی معاملات میں حصہ لینے کا حق دیا ہے۔ جس نے عورت کو اس قدر حقوق سے نوازا اس باپ بھائی کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل ہیں۔ جو کہ ہمہ وقت اپنی بہن بیٹی کے ناز و نخرے اٹھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
    اگراس موضوع پر لکھنا شروع کیا جائے تو شاید الفاظ اور اوراق ختم ہو جائیں لیکن موضوع پھر بھی سمندر کو کوزے میں بند کر نے کے مترادف ہے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد و عورت کی بقا دین اسلام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

    @ObaidVirk_717