Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انسان اور اسکی انسانیت  تحریر: صادق سعید

    انسان اور اسکی انسانیت تحریر: صادق سعید

    اسلام وعلیکم

    انسانیت رحمدلی اور اخالقیات کا نام ہے ۔ انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ اللّہ نے ہم پر خاص کرم کیا
    ہے لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اللّہ تعالی کی
    عبادت اور انسانیت کی خدمت ہے ۔ انسانیت کی خدمت کا دائرہ جو اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی
    مذہب نے نہیں دیا۔ اللّہ نے انسان کو دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ اس نے انسان کو
    اپنی بندگی کرنے کے لئے اس زمین پر اتارا پر ساتھ ساتھ اس کے دل میں انسانیت اور تمام
    مخلوقات کے لئے رحمدلی کا گوشہ بھی اس کے دل میں اتارا۔ اس کے لئے ہمیں دنیا میں اخلاق
    سیکھنے پڑتے ہیں۔ اخلاقیات سیکھنے کی چیز ہے یہ پڑھنے سے نہیں آتی اور نہ ہی پڑھانے سے
    آتی ہے البتہ جب تک انسان خود کچھ نہیں سیکھنا چاہتا وہ کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسلام ہمیں
    سوچنے اور تلاش کرنے کا کہتا ہے تاکہ ہم ایک بہترین انسان بن سکیں۔ اسکی مثال ایسے لے
    سکتے ہیں کہ جب لکڑی آگ میں جل کر کوئلہ ہو کر رہ جاتی ہے بلکل اسی طرح اگر انسان میں
    انسانیت نہ ہو تو وہ ایسا ہی ہے کہ اس کا مسلمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم تب تک اچھے
    مسلمان نہیں بن سکتے جب تک ہم اچھے انسان نہ بن جائیں۔ انسان کو اپنے اندر ایک عادت ضرور
    ڈالنی چاہئے کہ جو چیز آپکے بس میں نہ ہو اس کی آرزو کرنا چھوڑ دے کیونکہ دوسروں کی بات
    ماننا ان کو اہمیت دینا ایک انسان کے پاس شفاف انسانیت ہونے کی نشانی ہے ۔
    جیسے جیسے دنیا میں انسان بڑھتے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں انسانیت ختم ہوتی
    جا رہی ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم کسی کو دکھ یا پریشانی میں دیکھیں تو آگے بڑھ کے انسانیت کا حق
    ادا کریں اور دنیا میں انسانیت ،رحمدلی اور تقویٰ کا چرچہ عام کریں۔ کیونکہ اچھے اعمال لوگوں کو
    متاثر کرتے ہیں۔ انسان اچھی بری باتیں ایک دوسرے سے ہی سیکھتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ
    ہم اللّہ کی مخلوق کے ساتھ رحمدلی کا معاملہ رکھیں۔ رحمدلی تو جانور تک میں پائی جاتی ہے۔ وہ
    بھی ایک دوسرے کا دکھ،خوشی اور محبت کو محسوس کرتے ہیں پھر ہمیں تو اللّہ نے اشرف
    المخلوقات بنایا ہے اور ہمارے اندر احساس اور محبت کا جذبہ ہماری مٹی میں گوندھا گیا ہے ۔ ہماری
    زندگی ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ ایک انسان کے دل میں انسانیت کا پایا جانا بڑی چیز ہے۔
    کبھی بھی کسی انسان کی ذات اور اس کے لباس کو حقارت سے مت دیکھنا کیونکہ وقت بدلتے دیر
    نہیں لگتی اللّہ کبھی بھی کسی کو بھی کچھ بھی نواز سکتا ہے ۔ اس کو دینے واال اور تمہیں دینے
    والا ایک ہی خدا ہے ۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی دو بار قدر کرتا ہے ایک ملنے
    کے بعد اور دوسرا کھونے کے بعد اور خوشی انسان کو اتنا نہیں سکھاتی جتنا غم سکھاتے ہیں۔
    انسان کی انسانیت تب ختم ہوتی ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کے غم پر ہنستا ہے جس سے
    اسکی اخلاقیات کا فوری اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللّہ پاک نے انسان کا دل ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنوں
    سے ملی ذلت اور غیروں سے ملی عزت کو کبھی نہیں بھولتا۔
    کبھی بھی کسی انسان کی سوچ پڑھنی ہو تو اس سے مشورہ کر لیں۔ اس سے مشورہ کرنے سے
    آپکو اس کا انصاف، اس کا علم اور اس کے کردار کا پتہ چل جائے گا۔ انسان کی پہچان اس کے
    دوست بھی ہوتے ہیں۔ جن لوگوں مین انسان اٹھتا بیٹھتا ہے وہی اس کا عکس ہوتا ہے۔

    اگر کوئی بھی انسان عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے تواپنے دل میں نفرت کے بجائے انسانی
    محبت کو آباد د کرنا سیکھے۔ ہمیں دوسروں کو غیر حقیقت پسندانہ معیار پر پرکھنا نہیں چاہئے۔ مگر
    یہ لوگوں کے لئے آسان نہیں کیونکہ نشوونما بغیر تکلیف کے حاصل نہیں ہوتی اور کامیابی ہمیشہ
    کوشش کے بعد ہی ملتی ہے۔ اگر انسان میں بد اخلاقی ہے تو اس میں انسانیت پھر کوئی چیز نہیں۔
    ہمیں جس سبق کو پڑھنے کی زیادہ ضرورت ہے وہ انسانیت کا سبق ہے ایک مسلمان ہونے کے
    ناطے ہمیں اچھا انسان تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود اچھا انسان بن جانا
    چاہئیے تاکہ کسی اور انسان کی تلاش آپ تک آ کر ختم ہو جائے۔
    آپ انسان ہیں تو خود میں انسانیت پیدا کریں بعض دفعہ انسان سمندر کے اندر کھڑا ہو کر بھی پیاسا
    رہ جاتا ہے کیونکہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہوتا ٹھیک اسی طرح انسان
    کے اندر اگر لوگوں کی محبت، احساس کا جذبہ ختم ہو جائے تو وہ بھی سمندر کے پانی کی طرح
    کھارے ہوتے ہیں۔ اللّہ ہمیں اچھا انسان بننے کی توفیق دے آمین یارب العالمین۔

    Name :Sadiq Saeed
    Twitter: @SadiqSaeed_

  • اسلام آباد، قدرتی حسن کا دارالخلافہ تحریر: عمران راجہ

    اسلام آباد، قدرتی حسن کا دارالخلافہ تحریر: عمران راجہ

    ‎خوبصورتی کی تخلیق اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا کسی بھی پُرجوش شہری منصوبہ ساز کے اہم اہداف ہوتے ہیں ۔ تاہم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بارے میں فخر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ثقافت اور تاریخ کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔
    ‎اسلام آباد ، پاکستان کا خوبصورت دارالحکومت ، غیر معمولی خوبصورتی ، پرامن ماحول اور اعلی معیار زندگی کے لئے جانا جاتا ہے۔ قدرتی نظاروں اور خوبصورتی کی وجہ سے ، اس شہر کو دنیا کا دوسرا خوبصورت دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ یہ شہر اپنے قابل دید مقامات ،سر سبزجنگلات، پارکوں ، اور بہترین سڑکوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسلام آباد رہائش کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ خوبصورت نظاروں کے علاوہ ، اسلام آباد میں ساری سہولیات میسر ہیں جیسے بہترین یونیورسٹیاں ، سکولوں کا بہترین نظام ، جدید تعلیم ، اور صحت کی سہولیات۔ اسلام آباد کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کو خاص طور پر دارالحکومت بنانے کے لیے جنگلات کو کاٹ کر 1960 میں بنایا گیا ہے۔ اور 1963 سے یہ پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ یوں تو اسلام آباد اپنی خوبصورت سڑکوں، پر سکون ماحول اور پرفضا جنگلات کی وجہ سے سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ لیکن یہاں بہت سے ایسے مقامات بھی ہیں جو سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔
    ‎فیصل مسجد
    ‎اسلام آباد میں دیکھنے کے لئے فیصل مسجد ایک مشہور جگہ ہے۔ یہ دنیا کی چھٹی بڑی اور جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہے جو کہ دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔ مسجد کی تعمیر 1976 میں سعودی شاہ فیصل کی جانب سے 28 ملین ڈالر کی گرانٹ کے بعد شروع ہوئی ، اسی لیے اس کا نام فیصل مسجد ہے۔ مسجد جدید فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس مسجد میں ایک لاکھ افراد کی گنجائش ہے۔
    ‎دامن کوہ
    ‎دامن کوہ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام ہے۔ جو اسلام آباد کے شمال میں اور مارگلہ پہاڑیوں کے وسط میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 2400 فٹ اور اسلام آباد شہر سے تقریبا 500 فٹ کی دوری پر ہے۔ یہ رہائشیوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی ایک مشہور مقام ہے۔ یہاں سے پورے اسلام آباد کا نظارہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔ موسم سرما کے دوران یہاں بہت بندر نظر آتے ہیں اوربرفباری کے دوران چیتے اکثر مری کی اونچی پہاڑیوں سے اترتے ہیں۔ دامن کوہ سے پیر سوہاوہ تک چیئر لفٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
    ‎لوک ورثہ
    ‎لوک ورثہ پاکستان کی تاریخ اور ثقافت کا ایک مظہر ہے۔ یہ شکر پڑیاں روڈ کے قریب واقع ہے۔ یہ میوزیم پاکستان کی زندہ ثقافتوں اور روایات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ لوک ورثہ، متعدد ثقافتی اشیاء کو ظاہر کرتا ہے جن میں پاکستان کے مختلف نسلی گروہوں کے مجسمے ، تصاویر ، مٹی کے برتن ، موسیقی اور ٹیکسٹائل کا کام شامل ہے۔ اس میں لائبریری بھی ہے جس میں لوک داستان ، ثقافت ، روایات ، نسلوں اور تاریخ کے بارے میں کتابوں کا ایک بہت بڑا انتخاب ہے۔ میوزیم میں باقاعدہ نمائشیں بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ جن میں کڑھائی والے ملبوسات ، زیورات ، لکڑی کے کام ، دھات کا کام ، بلاک پرنٹنگ ، ہاتھی دانت اور ہڈیوں سے بنی اشیاء شامل ہیں۔
    ‎سید پور گاؤں
    ‎سید پور ایک قدیم گاؤں ہے جس کی ایک متمول تاریخ ہے۔ ماضی میں ، یہ ایک ہندو گاؤں رہا جہاں دور دراز کے علاقوں سے ہندو پوجا کرنے آتے تھے۔ گاؤں کی باقیات آج بھی موجود ہیں جہاں سیاح باقاعدگی سے آتے ہیں۔سید پور پاکستان کے قدیم دیہات میں سے ایک ہے۔ یہ پانچ سو سال سے زیادہ پرانا گاؤں ہے جو اپنے بھرپور ورثے ، ثقافت ، تاریخ اور لوک کہانیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ سید پور اسلام آباد میں ایک قابل دید اور تاریخی طور پر پرکشش مقام ہے جو بیک وقت ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں کی ثقافت اور تاریخ کو اجاگر کرتا ہے۔ سید پور کو 2008 میں فرانس حکومت کے تعاون سے ایک خوبصورت اور جدید گاؤں میں تبدیل کر دیا گیا۔ اب یہاں متعدد پوش ریستوران اور سیاحوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔
    ‎شاہ اللہ دتہ غار
    ‎دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں دیکھنے کے لئے بہت سارے مقامات ہیں اور شاہ اللہ دتہ غار ان میں سے ایک ہے۔ غاروں کے قریب واقع گاؤں 700 سال پرانا بتایا جاتا ہے جو کابل اور گندھارا شہر کو ملانے والے راستے کے طور پر کام کرتا تھا۔ جہاں تک غاروں کی بات ہے تو، مورخین کا دعویٰ ہے کہ ان غاروں کی عمر 2400 سال پرانی ہے۔ یہ غار بدھ مت کے دور ، اورنگ زیب دور اور ہندو عہد کی آثار ہیں۔ غاروں کو ایک تفریح گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں لوگ آتے ہیں ، پکوڑوں،چائے اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
    ‎راول جھیل
    ‎پاکستان میں پانی کا ایک مصنوعی ذخیرہ ہے جو راولپنڈی اور اسلام آباد شہروں کے لیے پانی کی ضروریات فراہم کرتا ہے۔ دریائے کورنگ کے ساتھ ساتھ مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والی کچھ چھوٹی ندیوں کے ساتھ یہ مصنوعی جھیل بنائی گئی ہے جو 8.8 کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ راول جھیل گاؤں مالپور ، بنی گالہ اور مارگلہ ہلز نیشنل کے الگ تھلگ حصے میں واقع ہے۔ جھیل کے آس پاس کے علاقے کو باغ اور پکنک سپاٹ کے طور پر بنایا گیا ہے۔ ماہی گیری اور کشتی رانی کی سہولیات بھی موجود ہیں۔
    ‎پاکستان مونومنٹ
    ‎پاکستان مونومنٹ ایک قومی یادگار ہے جو اسلام آباد ، شکرپڑیاں پر واقع ہے۔ یہ یادگار پاکستانی عوام کے اتحاد کی علامت کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اس کی اندرونی دیواریں گرینائٹ سے بنی پھولوں کی پنکھڑی کی ساخت کی شکل میں ہیں۔ پنکھڑیوں پر قلعہ لاہور ، بادشاہی مسجد ، خیبر پاس اور مینار پاکستان کے خاکے بنےہوئے ہیں۔ یادگار کی چار اہم پنکھڑیاں چاروں صوبوں بلوچستان ، خیبر پختونخوا ، پنجاب اور سندھ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہاں ایک میوزیم بھی ہے جس میں تحریک پاکستان کے اہم واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ خوبصورتی میں بے مثال یہ جگہ سیاحوں کے لیے بہت کشش رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 1500 کے قریب سیاح روزانہ آتے ہیں۔
    ‎شکر پڑیاں
    ‎شکر پڑیاں پہاڑوں پر واقع ایک باغ ہے، یہ ایک قومی باغ ہے جو اسلام آباد ، پاکستان میں زیرو پوائنٹ انٹر چینج کے قریب واقع ہے۔ لوک ورثہ بھی اس کے نزدیک ہی واقع ہے۔ یہاں پر مختلف ممالک کے سربراہان کے ہاتھ سے لگائے گئے درخت بھی موجود ہیں۔ سرسبز درختوں سے ڈھکا یہ پرسکون اور پر فضا مقام سیاحوں کے لئے بہت کشش رکھتا ہے۔
    ‎مونال ریسٹورنٹ
    ‎اسلام آباد کے نزدیک آبادی سے ہٹ کر پہاڑوں کے درمیان مونال ریسٹورنٹ سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ ہے۔ یہاں کے حسین مناظر، بہترین ماحول اور پر پیچ راستے شمالی علاقہ جات کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ مونال ریسٹورنٹ اس وقت اسلام آباد میں تفریح کے لئے بہترین مقام سمجھا جاتا ہے۔
    ‎جناح سپر
    ‎جناح سپر اسلام آباد کی بہترین مارکیٹ ہے۔ یہاں پر شاپنگ کرنے، کھانے پینے اور تفریح کی غرض سے آنے والوں کا بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹورس مال اور گیگا مال میں بھی شاپنگ اور تفریح کے بہترین مواقع ہیں۔
    ‎اسلام آباد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ ہے۔ زیادہ تر غیر ملکی افراد اسلام آباد کے اعلی معیار زندگی، سہولیات اور پرسکون ماحول کی وجہ سے یہاں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے تمام ممالک کے ایمبیسڈر یہاں رہائش اختیار کرتے ہیں۔
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • خود پر ایک نظر   تحریر: سجاد حسین قمر

    خود پر ایک نظر تحریر: سجاد حسین قمر

    اپنی ایک ہفتے کی ہر ایک ایک مصروفیات کو اپنی ڈائری پر لکھیں۔ وہ منفی ہو یا مثبت، ایک ہفتے کے بعد ایک صفحے پر لائن لگا کر ایک طرف اپنی مثبت اور دوسری جانب اپنی منفی مصروفیات درج کریں۔ اب خود جائزہ لیں کہ کس مصروفیت سے آپ کشیدگی اور مایوسی کا شکار ہوئے اور کس سے آپ کو حوصلہ افزائی ملتی ہے یا آپ کا دن اچھا گزرتا ہے۔ اب جس کے اثرات مثبت ہیں اس پر توجہ بڑھا دیں جس کے اثرات منفی ہیں اس کو ترک کر دیں۔ ہم صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے سے پہلے تک لوگوں کی کردار کشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم لوگوں کی برائیاں کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان کے ساتھ برابر کے حصہ دار بنے ہوتے ہیں۔ ہم ہر آتے جاتے شخص کی راہ دیکھتے رہتے ہیں ہم کسی کی درگت بنانے کے چکر میں لگے رہتے چاہے وہ اپنے محلے کا کوئی شخص ہو یا کوئی نامی گرامی بندہ۔
    ایسا کیوں ہے! کیا لوگ اخلاقیات کے بنیادی تقاضوں کو خود میں ڈھالنے سے عاری رہے ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں؟ ہم نے اپنے اسلاف کے دئیے ہوئے اسباق کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ ہماری ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی ہوئی اخلاقی قدریں ہیں۔ کسی بھی قوم کی اخلاقیات کو اس کے حکمران اور دیگر اکابرین رہنمائی کرتے ہیں مگر جہاں اعلیٰ عہدیدار چھوٹی سی بات پر کسی کا مذاق اڑانے کو کار ثواب سمجھتے ہوں وہاں ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ عوام الناس پر ان کی ایسی باتیں اثر نہیں کرتی ہوں گی؟ جہاں آپ کے معتبرلوگ کسی کی شکل و صورت، کسی کے لباس کے مخصوص انداز، کسی کے بولنے اور یہاں تک کہ چلنے پھرنے کی بھی باقاعدہ نقلیں اتارتے ہوئے پائے جائیں تو سماج کی ذہنیت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہوگا اس کا مشاہدہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے اخلاقی معیار کو بہتر بنانے کی بجائے سب اس کو مزید نیچے لے کر جا رہے ہیں یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات ایک لمبے عرصہ تک محسوس ہوتے رہیں گے۔ ہم اس مذہب کے ماننے والے ہیں جس میں کسی کا نام لے کر براہ راست تنقید کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے معاشرے میں نفرت اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کی حوصلہ شکنی کی اور معاشرے میں محبت اور باہمی رواداری کو فروغ دیا۔ آج ہمیں اردگرد نفرت کے کانٹوں کو چن کر وہاں پیار کے پھول برسانے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کی رائے کے احترام کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق کو اس سطح پر لے کر جائیں جہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہ ہو، جہاں جھوٹ اور بددیانتی کی کوئی گنجائش صفر سے بھی نیچے کے درجے پر چلی جائے۔ اس بات کو نظرانداز کردیں کہ فلاں نے ایسا کیا بلکہ اس بات کی فکر کریں کہ اخلاقیات کو بہتر بنانے میں میرا کیا کردار ہوسکتا ہے۔

    جگر مراد آبادی نے کیا خوبصورت انداز میں کوزے میں سمندر کو بند کردیا :

    وہ ادائے دلبری ہو، کہ نوائے عاشقانہ
    جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

  • ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    ایک قوم، ایک نصاب تحریر : ایم ابراہیم

    2 اگست کو دو سے ڈھائی سال کی محنت کے بعد "سنگل نیشنل کریکولم” کا صوبہ پنجاب سے آغاز کر دیا گیا. ابتدائی طور پر یہ پہلی سے پانچویں کلاس کے لیے اور اس کا آغاز صوبہ پنجاب سے ہوا ہے بعد میں بتدریج ساری کلاسز اور اس کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھایا جائے گا. اس طرح صوبہ پنجاب پہلا صوبہ جس نے یکساں قومی نصاب کا اجرا کیا ہے، یقیناً وزیر تعلیم مراد راس صاحب، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ مبارکباد کے مستحق ہیں.
    یکساں نصاب تعلیم وزیراعظم عمران خان کا ذاتی طور پر بھی ایک خواب تھا اور پاکستان تحریک انصاف کا 2018 کے الیکشن کے منشور کا پہلا ایجنڈا تھا جو اب اپنی تکمیل کو پہنچا. یکساں قومی نصاب، تعلیم کے شعبہ میں انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے. اب پورے ملک میں ایک ہی یکساں نصاب پڑھایا جائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں بھی اسی نصاب کو پڑھایا جائے گا. اب سرکاری، پرائیویٹ اور مدارس کا فرق ختم ہو جائے گا. وزیراعظم عمران خان کی یہ ایک دیرینہ خواہش تھی کہ دینی مدارس کے طلباء بھی ڈاکٹر اور انجینئر بنیں اور باقی طلباء کی طرح عملی زندگی میں برابر کے مواقع حاصل کر سکیں جو کہ اب ممکن ہو سکے گا. پہلے سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کو کمزور اور پرائیویٹ اداروں کے نصاب کو معیاری سمجھا جاتا تھا، اب جب سب اداروں میں ایک ہی نصاب ہو گا تو یہ فرق ختم ہو جائے گا اور یکسانیت پیدا ہو گی جو کہ بہت اچھی بات ہے.
    یکساں تعلیمی نصاب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایلیٹ پرائیویٹ، سرکاری اور دینی مدارس کا تصور ختم ہو اور تمام طلباء ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کریں تا کہ عملی زندگی میں یکساں مواقع حاصل کر سکیں. پہلے سرکاری سکولوں کے طلباء اور والدین کسی حد تک احساسِ کمتری کا بھی شکار تھے کہ پرائیویٹ سکولوں میں تو کوئی بہت ہی معیاری اور ہم سے اچھی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، اب یکساں قومی نصاب سے یہ سب باتیں دم توڑ جائیں گی اور پوری قوم میں یکسانیت کی فضا قائم ہو گی. اس نصاب سے قوم پر بھی خوشگوار اثر ہو گا. جب تمام صوبوں کے طلباء ایک ہی نصاب پڑھیں گے تو بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا جو کہ قومی ترقی کے لئے انتہائی ضرورت ہے.
    یکساں قومی نصاب پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کی طرف پہلا قدم ہے. اس سے آگے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعلیمی سہولیات اور دیگر خصوصیات کی بھی یکسانیت پر توجہ دی جانے کی ضرورت ہے تا کہ تعلیمی معیار بلند ہو اور” یکساں نظام تعلیم” کا حصول ممکن ہو. یکساں سہولیات کی فراہمی اس تصور کو ختم کرے گی کہ سرکاری سکولوں میں غریب اور مڈل کلاس فیملی کے بچے بڑھتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں ایلیٹ اور اَپر کلاس فیملی کے بچے پڑھتے ہیں. گو کہ سرکاری سکولوں میں پچھلے چند سالوں سے کافی بہتری آئی ہے لیکن ابھی بھی "کوالٹی ایجوکیشن” فراہم کرنے اور سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کافی ضرورت ہے. کوالٹی ایجوکیشن اور معیار تعلیم کی بہتری کے لیے جہاں تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لیے سہولیات کی فراہمی ضروری ہے وہاں ماہر اور قابل اساتذہ کی بھی ضرورت ہے. اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کے موجودہ صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس صاحب اساتذہ کو صرف پڑھانے پر توجہ دینے کے قائل ہیں اور وہ اساتذہ سے پڑھانے کے علاوہ کی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کر رہے ہیں جو کے خوش آئند بات ہے. ایسے ہی اقدامات سے ہمارے نظام تعلیم میں بہتری آ سکتی ہے.

    @ibrahimianPAK

  • آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ   تحریر : زوہیب زاہد خان

    آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ تحریر : زوہیب زاہد خان

    ہمارے ملک میں اکثریت آبادی غریب طبقے پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غریب ہے. آج کے دور میں مہنگائی شدید بڑھ رہی ہے. اسکے ساتھ غربت اور بیروزگاری میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔

    ان حالات میں اوورسیز پاکستانیوں نے ایک عالمگیر تحریک کا آغاز کیا ہے۔ جسکا نام آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ ہے۔ دنیا بھر سے کئی ہزار پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیا۔ الله کے فضل سے یہ تحریک اب دن بدن مشہور ہوتی جارہی ہے۔

    اس تحریک کے بانی و چیئرمین سید احمد ہیں۔ سید احمد پاکستان کی سب سے بڑی ویلفیئر موومنٹ پاکستان ورلڈ وائد موومنٹ کے بانی اور چیئرمین ہیں۔ انہوں نے ایک بیچ بویا تھا. اس بیچ کو کو رفتہ رفتہ لوگ پانی دیتے گئے اور آج وہ تحریک دنیا بھر کے پاکستانیوں میں ایک عالمگیر تحریک بن کر ابھر رہی ہے۔

    دنیا بھر سے پاکستانی بزنس مین، سول سوسائٹی، وکلاء، پروفیسرز، اسٹوڈنٹس اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس تحریک کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔

    سید احمد کی کاوشوں کی مرہون منت یہ تحریک اس وقت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے درمیان مشہور ہوچکی ہے۔ لوگ بڑھ چڑھ کر اس تحریک کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔

    اس تحریک کی بنیاد پاکستان کو قرضوں کے دلدل سے باہر نکالنے کیلئے رکھی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے ذریعے اس مہم میں عطیات و خطیر رقم بھیج چکے ہیں جوکہ دیامر بھاشا ڈیم اور دیگر توجہ طلب عوامی مسائل کیلئے استعمال ہوگی۔

    یہ مکمّل طور پر ایک غیرسیاسی عالمگیر تحریک ہے۔ پاکستانیوں کو چائیے اس عالمگیر تحریک آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ کا حصہ بنیں۔ اپنے ملک کی خوشحالی کیلئے اس تحریک کا ساتھ دیں۔

    الله رب العالمین کے فضل سے اس تحریک کے عروج میں پاکستان کے نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔ وجاہت سمیع اس تحریک کی مرکزی یوتھ ونگ کے سربراہ ہیں۔ جنہوں نے نوجوان نسل کو موومنٹ کا حصہ بننے کی ترغیب دی. وجاہت سمیع، شکیل احمد، نور وہاب اور دیگر ساتھیوں کی شب وروز کی محنت سے یہ تحریک پاکستان بھر میں بھی عام ہورہی ہے۔

    انشاءاللہ 14 اگست کو یوم پاکستان کے موقع پر آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ کا اسلام آباد میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوگا۔ جس میں بانی و چیئرمین سید احمد خصوصی شرکت کریں گے۔ اس جلسے اور تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے وجاہت سمیع اور انکے ساتھی بھرپور محنت کررہے ہیں۔

    انشاءاللہ ہم پرامید ہیں آئی ایم پاکستان ورلڈ وائڈ موومنٹ کی کوششوں سے اور اوروسیز پاکستانیوں کے تعاون سے پاکستان قرض کے دلدل سے نکلے گا اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

    سونی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد🇵🇰🇵🇰

    Written by : @ZohaibZahidKhan

  • بچوں پر سختی کے برے اثرات  تحریر: علی رضا بخاری

    بچوں پر سختی کے برے اثرات تحریر: علی رضا بخاری

    آج کل بچوں پر بہت سختی کی جاتی ہے اور اس سختی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں۔

    بچے پر سختی کرنے اسے وہ آپ سے دور ہو جائے گا، غصہ کرے گا اور ضدی بن جاۓ گا اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا۔

    سب سے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جو کام بھی کر رہا ہے اچھا کر رہا ہے یا برا کر رہا ہے اگر برا کر رہا ہے تو آپ کا كام اسے سمجھنا ہے، مثلاً وہ گالی دے رہا ہے تو آپ اسے پیار سے سمجھائیں کہ گالی دینا بری بات ہوتی ہے اگر وہ پڑھ نہیں رہا تو آپ اس پر یہ زور نہ دیں کہ بس پڑھو پڑھو پڑھو اس سے اس کے دماغ پر اچھا اثر نہیں پڑے گا، اگر وہ پڑھتا نہیں تو آپ اسے پیار سے پڑھائی کے فائدے بتائیں کہ آپ پڑھ لکھ کر کیا بن سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر کہ ایک اچھا انسان بن سکتے ہیں۔

    اب اگر بچہ ضد کر رہا ہوتا ہے یا آپ کی بات نہیں مان رہا ہوتا تو آپ اسے آنکھیں دکھاتے ہیں اور اس کا بچہ پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب سکول میں کوئی بچہ اس کی بات نہیں مانتا تو وہ اسے آنکھیں دکھائے گا، چلائے گا، ہاتھ اٹھائے گا کیوں کے یہ سب اس نے آپ سے سیکھا ہے۔

    اسلام میں ہے کہ بچہ جب سات سال کا ہو اسے نماز کیلئے کہا جائے نماز کے فائدے بتائے جائیں اور اگر دس سال کی عمر تک نماز نہ پڑھے تو پھر سختی کرنی چاہئے، لیکن آپ تو ڈھائی، تین سال کے بچے پر سکتی کر رہے ہیں اس عمر میں سختی کے بچے کے ذہن پر کیا اثرات پڑیں گے کبھی سوچا ہے؟ جب اسلام میں اتنی سختی نہیں تو آپ کیوں کر رہے ہیں، کیا سکول نماز سے زیادہ اہم ہے؟ اور کچھ نہیں بس آپ اتنی کم عمر میں سختی کر کے بچے کو ذہنی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔

    سختی کرنے سے بچہ غصہ کرے گا، آپ سے دور بھاگے گا اور سب سے بڑھ کر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا، پھر وہ آگے چل کر آپ کی طرح اپنی بات منوانے کیلئے آنکھیں دکھائے گا، غصہ کرے گا، چیخے گا، چلائے گا یعنی آگے چل کر وہ وہی کرے گا جو آپ سے سیکھے گا، لہٰذا بچپن میں بچوں سے پیار کریں کیونکہ وہی عمر ان کے سیکھنے کی ہوتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • والدین کا بچوں پر ذہنی دباٶ تحریر : ثمرہ مصطفی

    والدین کا بچوں پر ذہنی دباٶ تحریر : ثمرہ مصطفی

    انسان کی زندگی بہت خوبصورت ہے اور بچپن اسکا خوبصورت حصہ ہے.بچے پھول کےپتوں کیطرح نازک ہوتے ہیں   اور والدین کا بچوں کی پرورش میں اہم کردار ہے.والدین کا اولین فریضہ ہے کہ وہ بچوں میں خود کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کریں .بچوں کو دوسروں کے سامنے ،گوار،نالاٸق جیسے ناموں سے بلانے سے ان پہ ذہنی دباٶ پیدا ہوتا ہے.جس سے انکی شخصیت متاثر ہوتی ہے.والدین اپنی خامیوں کو چھپانے  کیلے بچوں کو ایک آلہ کی طرح استعمال کرتے ہیں اور   انکی   خواہشات کو پورا کرنے کیلے بچے اپنی جان لگا دیتے ہیں جسکی وجہ سےانہیں ذہنی اورنفسیاتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے.اگر بچے فیل ہوجاٸیں یا کوٸ غلطی کریں.تو والدین انکو ڈانٹنا شروع کردیتے ہیں جس وجہ سے بچے ناامید ہوجاتے ہیں ڈانٹنے کی بجاۓ اگر والدین بچے کو پیار سے سمجھاٸیں تو اس میں اعتماد پیدا ہوگا.گھر اور والدین بچے کی پہلی درسگاہ ہوتے ہیں گھر بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتاہے.اس لیے اگر بچوں کو انکی ذہانت اور صلاحیت کے مطابق ماحول نہ ملے تو انکی ترقی کی رفتار کم ہوجاتی ہے.جیسے کہ اگر کوٸ بچہ فیشن  ڈیزاٸننگ کرنا چاتا ہے اور اسے زبردستی میڈیکل پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے.والدین بچوں کی پسند پر اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں .والدین اپنے بچوں کا موازنہ کرتے ہیں اور انہیں نالاٸق ،بےوقوف ہونے یا پھر کہا جاتا ہے فلاں تم سے بہتر ہے جسکی وہ ذہنی کشمکش ،ڈپریشن،مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے انکے ذہن  میں خودکشی ،ناامیدی ،گھرچھوڑنے ، جیسے خیلات پیدا ہونے لگتے ہیں اور انکا دل بیزار ہوجاتا ہے اور وہ روزمرہ کے کام بھی ٹھیک سے نہیں کر پاتے .اگر والدین بچوں کے دوست بن کر انکی بات سنیں تو بچوں اور خود کو اس طرح کی اذیت سا بچا سکتے ہیں .والدین کو بچوں سے پیار سے پیش آنا چاہیے اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انکی ناجائز خواہشات پوری کریں بلکہ وہ انکے ساتھ کچھ اچھا وقت گزاریں کچھ انکی سمجھیں اور کچھ اپنی سمجھاٸیں .مصروفیات میں سے تھوڑا وقت بچوں کیلے نکالیں .انکی سکول کی سرگرمیوں کا جاٸزہ لیں انکی ٹیچر سے پوچھتے رہیں کلاس میں کیسی کارکردگی ہے اور بچے کو پیار سے سمجھاٸیں بجاۓ اسکے کہ ڈانٹنے لگ جاٸیں .والدین کو بچوں کا دوست بن کے رہنا چاہٸے ناکے حکمران.اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کریں پوشیدہ محبت کی بجاۓ والدین کی محبت اور حوصلہ  بچوں میں جوش ولولہ پیدا کرتی ہےاور ان میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے.والدین اپنی خوہشات کو پورا کرنے کیلے بچوں کو ایسی ایکٹیویٹز کرواتے ہیں جس میں انکی کوٸ دلچسچی نہیں ہوتی جس سے بچوں پرپریشر پڑتا ہے اور وہ ذہنی دباٶ کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ ظلم ہے محبت نہیں . اسکے بجاۓ  والدین کو چاہے  پیار خلوص سے حوصلہ افزاٸی کریں. والدین کی ہر وقت الزام تراشی اور حاکمانہ رویہ بچوں کیلے ناقابل برداشت ہےاس وجہ سے بچے بے چین رہتے ہیں.جب والدین ہر وقت ڈانٹتے رہیں گے اور بچوں کو انکی ناکامیوں اور کمیوں کا احساس دلاتے رہیں گے تو اس سے بچوں کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ مایوس ہو جاتے ہیں .اب یہ والدین کہ ہاتھوں میں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مضبوط بنا کر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں یا کمزور بنا کہ انکی وہی الجھن میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں.
    اس لیے والدین کو چاہے بچوں کو وقت دیں انکی کامیابی پر انہیں شاباش دیں اور غلطیوں پر پیار سے سمجھاٸیں .بچے کس بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں .بچے کی اچھی تربیت نہ صرف خاندان سنوارتی ہے بلکہ ملک و قوم کی خوشخالی کیلے بھی مثبت ثابت ہوتی ہے. 
    @Samra_Mustafa_

  • پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    پاکستان میں دہشت گردی تحریر: سید عمیر شیرازی

    دہشت گردی افراد، گروہوں اور گورنمنٹ کے خلاف سیاسی یا دوسرے مقاصد کے حصول کیلئے طاقت اور دھمکیوں کا استعمال ہے دہشتگردی کشت و خون کا کھیل ہے جس میں دھماکوں اور قتل و غارت کے ذریعے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے اور عوام کو خوفزدہ کیا جاتا ہے دہشت گردی میں جدید سے جدید اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اور ملک میں بھیانک صورت حال پیدا ہو جائے۔
    موجودہ دور میں دہشت گردی اور دھماکے کے ایک منظم عمل بن چکے ہیں آج کل دنیا میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں جہاں دہشت گرد تنظیمیں نہ ہوں،
    ایشیائی ممالک میں ان تنظیموں کی بھرمار ہے ہمارے ملک میں بھی ان تنظیموں کا سلسلہ بہت وسیع ہے دنیا کے مختلف دہشت گرد تنظیمیں "را”
    کے جی بی، سی آئی اے اور موساد ہیں۔
    پاکستان تو ان کا خاص نشانہ ہے اپریل انیس سو اٹھاسی میں ان تنظیموں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں راکٹ برسائے جن سے سیکڑوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے،لاکھوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا عمارتیں زمین بوس ہو گئی سڑکوں پر چلتی ہوئی گاڑیوں پر مزائل گرنے سے بے شمار لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے اور اجڑی کیمپ کے نام سے مشہور فوجی ڈپو میں دھماکے ہوئے جن سے ڈپو میں موجود اسلحہ برباد ہوگیا۔۔۔
    دہشت گرد تنظیمیں بڑی مضبوط اور طاقتور ہوتی ہیں بعض اوقات ان تنظیموں کو غیرملکی حکومتیں بھی امداد فراہم کرتی ہیں انہیں خطیر رقم اور جدید ترین اسلحہ دیتی ہیں بعض اوقات دہشتگرد ڈاکو اور جرائم پیشہ لوگوں کے روپ میں اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی دھماکے اور دہشت گردی کرتے ہیں،
    دہشتگردی کا مقصد عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانا ہوتا ہے تاکہ ملک میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں پاکستان میں تو یہ لعنت وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے یہاں تو آئے دن دہشتگردی اور دھماکے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن میں ہمارا نا قابل تلافی نقصان ہوتا رہتا ہے اس دہشت گرد نے تو وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر صدر ضیاءالحق تک اور دوسرے ایک کئی علماء،وکلاء،ججوں اور سیاستدانوں کو بھی نہ چھوڑا۔
    قومی اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جن کو کام ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنا اور اہم ا امیر شخصیات کو اغوا کرنا ہے اس قسم کے دہشتگرد تاوان کے طور پر بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں اگر یہ تعاون ادا نہ کیا جائے تو یہ اغوا کیے ہوئے افراد کو قتل کر دیتے ہیں،
    دہشت گردی کو بہت ہی محتاط انداز میں چیک کرنا چاہیے حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے غیر ملکی لوگوں کو بزور طاقت پر ملک چھوڑنے پر مجبور کرے دہشت گردی کے سلسلے میں حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ ملک میں آئے ہوئے مہاجرین کو ان کے کیمپوں میں میں محصور رکھیں تاکہ وہ ملک میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہ کر سکیں،
    نیز حکومت کے پاس ایسی پوشیدہ سروس ہونی چاہیے جو ہر قسم کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتی رہے علاوہ ازیں حکومت کو پولیس، فوج، رینجرز اور دیگر رضاکار تنظیموں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے بھی عمدہ قسم کے اقدامات کرنے چاہیے۔
    اب پہلے سے کہی گناہ زیادہ پاکستان کی انٹیلی جنٹس الرٹ ہیں کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا اور اگر کوئی ایسی جرات کر بھی لے تو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے
    پاکستان میں الحمد اللہ دہشت گردی تقریبا ختم ہو چکی ہے اس امن کے حصول کیلئے ہر ادارے نے اپنا نمایاں کردار ادا کیا،
    اللّه پاک اس ملک خداداد کی حفاظت فرمائے تا قیامت اور ملک میں اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر قوتوں کو تباہ و برباد کریں۔

    @SyedUmair95

  • افغانیوں پر رحم فرمائیں تحریر:  محمد عتیق گورائیہ

    افغانیوں پر رحم فرمائیں تحریر: محمد عتیق گورائیہ

    خبروں کے مطابق افغانستان کے تین بڑے شہروں میں طالبان کے شدید حملے جاری ہیں ۔ طالبان افغانستان کے تین بڑے شہروں ہرات، لشکر گاہ اور قندھار میں داخل ہوچکے ہیں ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ قندھار میں گزشتہ 20 سال کی بدترین لڑائی جاری ہے ۔ قندھار ائیرپورٹ پر 3 راکٹ حملے کیے گیے ان میں سے 2 رن وے پر گرے اور پھر فلائٹ آپریشن معطل کر دیا گیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان فضائیہ قندھار ایئرپورٹ سے پرواز بھر کر فضائی حملے کر رہی تھی جس کے جواب میں ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ شہر ہرات کے 5 مقامات پر شدید لڑائی ہورہی ہے ۔ افغان کمانڈر کرنل عبدالحمید ہلاک ہوچکے ہیں اور افغان میڈیا کے مطابق طالبان ہرات کے جنوبی حصے میں داخل ہوچکے ہیں ۔ طالبان نے کمانڈر اسماعیل خان کے محل اور لوگر کے ضلع کنجک کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے ،امریکی فضائیہ نے ہلمند میں طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ بم باری میں بھارتی طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب صوبے ہرات میں طالبان نے اکثریتی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ جس کے بعد افغان فوج کے مزید تازہ دم دستے صوبے کی جانب روانہ کیے گئے ہیں جہاں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ علاوہ ازیں صوبہ جوزجان میں طالبان کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں کے حملوں میں 21 عسکریت پسندوں کے ہلاک اور 10 کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ افغان فوج کے ترجمان محمد حنیف ریضائی نے بتایا ہے کہ مرغاب، حسن تابین، اتما اور جوزجان کو ہم سایہ صوبہ سرپل سے جوڑنے والی سڑکوں سے ملحقہ دیہات میں طالبان کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔
    امریکا افغانستان میں ایک ایسی آگ کا دہکتا الاؤ چھوڑ کر جارہا ہے جو شاید ہی کبھی بجھ پاے ۔ امریکا و دیگر طاقت ور ریاستیں اپنا آپ بچا کر نکل چکے ہیں جبکہ افغانستان کا سر درد پاکستان و دیگر ہم ساے ممالک کا بن چکا ہے ۔ 29 فروری 2020ء کو امریکا اور طالبان کے مابین پانے والے امن معاہدے پر عمل کو امریکا اپنی نگرانی میں یقینی بناسکتا تھا ۔ امریکا نے صرف معاملات طے کرنے پر اکتفا کرکے اپنی ذمہ داری کا پلو جاڑ لیا ۔ افغان حکومت نے پہلے تو امن مذاکرات اور پھر امن معاہدے کی مخالفت شروع کردی اور پھر اس امن معاہدے کو برباد کرنے کے درپے ہوگیا ۔ طالبان کی طرف سے افغان قیدی رہا کردئیے گئے اور افغان قیادت نے طالبان قیدی نہ چھوڑے اور طالبان کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رکھیں ۔ امریکا اگر افغان زمین پر امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہوتا تو اس وقت کوئی نہ کوئی سیٹ اپ بن جاتا ۔ امریکا کے انخلاء کے ساتھ ہی طالبان نے اپنے مقبوضہ جات میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ اس وقت صورت حال یہ بن چکی ہے کہ افغان قیادت ترلے منتوں پر اتر آئی ہے اور طالبان اپنی فتوحات کو بڑھا کر مزید دباؤ بڑھا رہے ہیں ۔افغان فوج کو اگرچہ امریکا کی حمایت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود افغان فوج پڑوسی ممالک میں پناہ کے لیے بھاگ رہے ہیں ۔ اس وقت اگر طالبان کو کسی چیز کا خوف لاحق ہوتا ہے تو وہ افغان فضائیہ ہے جس کا سدباب بھی وہ کررہے ہیں۔ سازشی ٹولہ بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے ۔ افغان قیادت بھی امریکا کو ادھر رکھنے کی خاطر الٹے سیدھے کام کررہی ہے ۔ ہرات میں اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ کو اگر اسی تناظر میں دیکھا جاے تو سمجھ آجاتی ہے کیونکہ وہاں پر داعش و القاعدہ بھی موجود ہے اور افغان قیادت بھی سراسیمگی کے عالم میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے ۔ طالبان شاید پھر سے اپنی حکومت قائم کرنے میں کام یاب ہوجائیں گے اور اس بار امریکا و برطانیہ اور دیگر ممالک کی حمایت بھی مل سکتی ہے ۔ کیوں کہ امریکا و ناٹو نے دیکھ لیا ہے کہ افغانستان پر قابض ہونا ناممکن حد تک مشکل ہے ۔ طالبان کوشش میں ہیں کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر چلیں یہی وجہ ہے کہ وہ محتاط رویہ اپنا کر چل رہے ہیں ۔ افغانستان عرصہ دراز سے ظلم و بربریت کا شکار رہا ہے ۔ عالمی طاقتوں نے اسے خاک و خون میں نہلایا ہے ۔ اب وقت ہے کہ افغان حکومت طالبان کے ساتھ مل بیٹھ کر افغانیوں کو سکون کا سانس لینے دیں ۔ اپنے لوگوں کو خون میں نہلانا نہ تو دانش مندانہ اقدام ہے اور نہ ہی جرات مندانہ ۔ یاد رکھیے کہ اگر سارے افعانی مار دیئے گئے تو طالبان یا اشرف غنی حکومت کس پر کریں گے ؟

  • صلاح الدین ایوبی پیدا کیے جاتے ہیں-تحریر قاسم ظہیر

    صلاح الدین ایوبی پیدا کیے جاتے ہیں-تحریر قاسم ظہیر

    دیکھا جائے تو ہماری قوم عوام کے بہت المیے ہیں جن میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر وقت منتظر رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارا کام کرے آئے اور ہماری ذمہ داری لے کوئی آئے اور یہ فیصلہ کرے کوئی آئے اور ہمارے کندھوں سے بوجھ ہلکا کرے لیکن ہم نے کچھ نہیں کرنا اگر ماضی کی کتاب کے اوراق الٹ کر دیکھا جائے تو ہمارا ایک عظیم الشان ماضی تھا ہم کیا تھے ہم لوگ کٹی پتنگ نہ تھے ہم لوگوں کے آگے ضابطہ حیات تھا ہمارا ایک مقصد تھا آگے بڑھنے کا ہم یہاں پر کسی کام کے آئے تھے جو ہمیں اکثر بھلا چکے ہیں
    دنیا میں کوئی قوم یا لوگ جب بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں تو وہ اپنی محنت لگن اور جستجو کی بنا پر آئے ہیں مسلسل کوشش ان کو اوپر لے کر آئی ہے ہم لوگ کس کے منتظر ہیں محمد بن قاسم صلاح الدین ایوبی طارق بن زیاد یہ لوگ پیدا نہیں ہوئے یہ پیدا کیے گئے حالات و واقعات اور ضرورت نے ان کو پیدا کیا اسلام کو ان کی ضرورت تھی دین ملک و قوم کو ان کی ضرورت تھی آج ہم بحیثیت قوم کہاں پر کھڑے ہیں ہمارا کیا کردار ہے اس سب میں ہم کیا کر رہے ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں
    آج کا مسلمان نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ تعلیمی تحقیقی اور تکنیکی میدان میں بھی مشرکوں سے پیچھے ہے اس کی کیا وجہ ہے ہم لوگ کیوں پیچھے رہ گئے نہ ہم دین کے رہے نہ دنیا کے نہ ہمارا اسلام اور دین پر عمل کامل ہے ورنہ ہمارے دنیا کے کاموں میں کوئی حیثیت ہے جس کی وجہ سے نہ ہمیں دنیا میں عزت مل رہی ہے اور نہ آخرت میں ہمارا مقام ہوگا
    ایک بہن کی آواز پر محمد بن قاسم عرب سے دوڑا چلا ایا طارق بن زیاد نے اپنی غیرت عزت اور اسلام کو تقویت بخشنے کی خاطر سمندر کے کنارے پر کشتیاں جلا دی اس نے یہ جان لیا کہ یہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہے واپس جانے میں اس کی اپنی جان کی بقا تو ہوسکتی تھی لیکن دنیا دین اور آخرت کی بقااس میں نہ تھی اسے پتہ تھا کہ اگر اسلام کو عزت و احترام اور رتبہ بخشنا ہے تو کشتیاں جلا نہیں پڑے گی اسی پر منحصر ہونا پڑے گا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جیت کا گر جیت گئے تو پوری دنیا ہماری ہے اور اگر ہار گئے تو پھر بھی عزت سے سر کروائیں گے نہ کہ غیر کے قدموں میں پڑے رہیں گے
    ہم ایک شاندار ماضی کے مالک ہیں لیکن ہمارا حال اور مستقبل بالکل اس چیز سے منسلک نہیں ہے
    دنیا کی چھوٹی چھوٹی اقوام نے محنت لگن اور جستجو کے بل پر اپنی عزت کا لوہا منوایا لیکن ہم کثرت ہونے کے باوجود خوار ہو رہے ہیں اس کے پیچھے کیا وجہ ہے کچھ وجوہات جو مجھے سمجھ آتی ہے بے مقصد کی چیزوں پر اپنی توانائیاں صرف کرنا ہمارا نوجوان اقبال کا شاہین یہ شاہین جو کبھی مردہ گوشت نہ کھایا کرتا تھا آج اس کا مشغلہ صرف ایک ٹک ٹاک اور فضول کے کام ہے جن کا نہ کوئی فائدہ اور نہ کچھ اخذ ہے جس کی وجہ سے ہماری آنے والی نسل پر بہت منفی اثرات پڑ رہے ہیں

    @QasimZaheer3