ہمارے معاشرے میں گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں لڑکیوں کو نام دیا جاتا ہے ۔کام والیاں ۔۔۔۔کہ یہ تو کام والی ہے ۔۔وہ سارا دن ہمارا کام کریں گی ۔ہمارے جوٹھے برتن دھوئیں گی ۔۔خون پسینہ ایک کر دیں گی صبح سے شام کام کر کر کہ۔چاہے گھر میں سو لوگ کی دعوت ہو یا دس لوگ کی ۔برتن دھونا ان پر فرض ہو جیسے ۔۔بعد معاوضے میں انھیں ہزار پانچ سو دے کر ان کی سات نسلوں تک احسان جتانا مالکان پر فرض ہو جیسے ۔۔ایک بیوہ عورت کسی گھر کام کرتی ہے وہ بیمار ہے یا شوہر بیمار ہے وہ نہیں آتی ۔تو کہا جاتا ہے بیٹی کو بھیج دے ۔۔اپنی بچی کو کسی غیر گھر بھیجنا وہ بھی اس گھر جہاں دو عورتیں تو سات مرد ہو ۔۔بہت ہی ہمت کا کام ہوتا ہے ۔۔۔وجہ صرف دو وقت کی روٹی اور ماہانہ چند ہزار پیسے ۔اس کے علاوہ اتارے ہووے کپڑے یا بچا ہوا سالن بس ۔۔یہ بھی کوی دیتے ہیں مطلب یہ بھی گر کوی دے تو غنیمت ہے ۔ورنہ تو ان لوگوں کو ایسے دھتکارتے ہیں لوگ جیسے ان میں اور دوسروں میں مریخ اور زمین جیسا فرق ہو ۔۔ان کے ہاتھ سے بنا سپائسی کھانا کھا لینا ہے ۔۔لیکن اسی کھانے کو اگر وہ کھاے تو برابری یاد آجانی ہے ۔۔ان کے ہاتھوں کے بنے مشروب پی لینے ہے ۔لیکن وہی مشروب اگر وہ پئیں تو مشروب خراب کہلاتا ہے ۔۔ان کے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو نہلانا ان کے کپڑے پہنانا تو منظور ہے لیکن ان ہی لوگوں کے بچوں ساتھ اپنے رئیس بچے کو کھیلنے نہی دینا کہ وہ کام والی کا بچہ ہے ۔۔گھروں میں کام کرنے والی عورتوں بچیوں ساتھ کچھ لوگوں کا سلوک انتہائ بھیانک ہوتا ہے ۔۔بحثیت قوم تو ہمیں غریبی امیری کے فرق کا سبق گھروں سے والدین کے زریعے ملتا ہے ۔۔اگر بچہ خوش ہو کر کام والی کے بچے ساتھ کھیل لے گا تو ماں ڈانٹے گی سر پہ مت چڑھاو اسے ۔۔یہ لوگ سر چڑھانے کے قابل نہی ہوتے ۔۔اگر بچی خوشی میں کام والی کی بچی کو دوست یا سہیلی سمجھ کر اس کے ساتھ ایک برتن میں کھا لے گی تو گویا قیامت ہی آجاے گی پھر تو والدین خود ایسا لیکچر دیتے ہیں اولاد کو کہ کل وہی بچے ان والدین کا جوٹھا کھانا کھاتے بھی کراہت محسوس کرتے ہیں ۔۔5 سے 14 سال کے ہزاروں بچے ہیں جو ملک کے کسی نہ کسی کونے میں محنت مزدوری کررہے ہیں ۔ گھروں میں کام کرنے والے لڑکا یا لڑکی بھی جسمانی ذہنی تشدد کا سامنا کرتے ہیں ۔لاہور میں واقع عسکری نائن کے ایک گھر میں کام کرنے و الی 10 سالہ ارم کو چوری کے الزام میں ہاتھ پاؤں سے باندھ کر پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو بعدازاں ہسپتال میں پہنچ کر دم توڑ جاتی ہے۔ ارم کی بیوہ ماں کا دکھ کون سمجھے گا۔ بیٹی مزدوری کے لئے آئی تھی زندگی سے بھی گئی۔ نواب ٹاؤن میں ننکانہ کا 15 سالہ محمد قاسم عمر خان کے گھر میں تشدد سے جان دے دیتا ہے۔ غریب باپ کی دہائی کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ لاہور ہی کے ویلنشیاء ٹاؤن میں حکم عدولی پر مالکن سعدیہ کے ہاتھوں 14 سالہ عثمان کی زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے اس کے جسم پر نظر آنے والے تشدد کے نشانات سے مالکن بے خبری کا اظہار کر دیتی ہے۔ غریب کا تو مقدمہ لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی کوٹھیاں‘ محلات کتنی ننھی‘ معصوم جانیں نگل گئیں غربت نے پردہ نہ اٹھنے دیا۔ لاہور میں ایک پروفیسر سلمان کے گھر میں سیالکوٹ کی 16 سالہ لڑکی پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جنسی زیادتی ثابت ہو جاتی ہے۔ پولیس اور ڈاکٹروں کی تصدیق کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔یہ تو میرے ملک میں ہوتے واقعات ہے ۔۔اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف پاکستان میں ہی ایسا ہے تو ہرگز نہیں
عرب ممالک میں یہ عام ہے ۔۔وہاں آج بھی رواج ہے لڑکیوں کو تین چار پانچ سال کے ایگرمنٹ پر خرید کر لایا جاتا ہے گھروں میں کام کروانے کے لیے ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہاں تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں لیکن یہ شہنشاہی سوچ ہمارے سے کئ زیادہ ان لوگوں میں بھی ہے ۔ان کے بچوں کا ہر کام ہر کام وہ کام والیاں کرتی ہے چوبیس گھنٹے ان کی تہوار سب ان بچوں کے کام کرتے ہی گرز جاتے ہیں ۔۔کسی کی غربت کا یوں فائدہ اٹھاتے ہیں ہم ۔۔کہنے کو ہم سب مسلمان ہے
آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں بلند ترین مقام عطا فرمایا تھا۔ اور آپؐ کو ایسے خدام بھی بخشے تھے جو آپ کی خدمت پر ہمیشہ کمربستہ تھے اور آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار تھے مگر اس کے باوجود آپ اپنے لئے عام دنیاوی معاملات میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار کرنا پسند نہ فرماتے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔
اپنے خادموں کا بوجھ ہلکا کرتے اور انہیں آرام پہنچانے کی اتنی کوشش فرماتے کہ وہ آپ پر جان فدا کرنے کے لئے مستعد رہتے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے عمل کو وقار بخشا اور ہاتھ سے کام کرنے میں عزت کی نوید سنائی۔
اس نبی کی امت ہے ہم ۔۔ گھر کے کام کاج میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ بھی بٹاتے اور اپنی جوتی خود مرمت کرلیتے تھے اور اپنا کپڑا سی لیا کرتے تھے۔ پھر ہم میں کہاں سے آگئ یہ شہنشاہی والی سوچ ۔۔۔ملازموں سے کام کروانے والی ۔۔آپ جانتے ہو یورپ کی ترقی کا کہیں نہ کہیں یہ بھی راز ہے کہ وہ لوگ وقت کے پابند ہے وہ لوگ اپنا کام خود کرتے ہیں ان کو وزیراعظم بھی سڑک پر تھوک دے تو اپنا تھوک خود صاف کرتا ہے ۔۔ان کے آگے پیچھے لمبی گاڑیوں کے پروٹوکول نہیں ہوتے ۔۔۔وہاں ہر بندہ بندی خودمختار ہے اپنے کام کرنے میں وہاں کوی کسی کا ملازم نہیں ہوتا ۔۔یہاں تو جس کے پاس چار پیسے آجاتے وہی مالک ہے اس سے نیچے والا ملازم ۔۔۔افسوس ہوتا ہے کبھی کبھی کہ ہم نے اپنے کلچر کے ساتھ ساتھ اپنی مسلمانی والی پہچان بھی ختم کر لی
Category: بلاگ
-

کام والیاں تحریر: حنا
-

درخت لگاؤ پاکستان بچاؤ تحریر: موسی حبیب راجہ
ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺩﺭﺧﺖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺯﯾﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﺭﯾﺦِ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻭﺍﻓﺎﺩﯾﺖ ﻣﺬﮨﺐ ﻭ ﺳﻤﺎﺝ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻭﺗﮩﺬﯾﺐ ﺗﮏ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﮭﻞ ﺩﺍﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺻﺤﺎﺋﻒ، ﺍٓﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺍﻓﺎﺩﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﮕﮧ ﭘﺎﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺭﻧﮓ ﺩﺍﺭ، ﺧﻮﺷﺒﻮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﮮ ﺩﺍﺭ ﭘﮭﻞ، ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﻭ ﺩﺍﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
اسلامی روایات اور فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شجرکاری کے بارے میں ارشادت ملتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شجرکاری کو پسند فرمایا ہے اور اسکی ترغیب بھی دی ہے۔دور حاضر میں عالمی سطح پر درپیش مسائل میں سرفہرست ماحول کا بچاؤ، آبی وسائل کی دستیابی ہے لاتعداد کُتب رسائل، جرائد، تحقیقی مقالے ، اخبارات اور ٹی وی مباحثوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ درخت ہی زندگی ہیں۔ موسم برسات کی آمد سے پہلے پہلے گٹلی دار جتنے بھی پھل ہیں ان کی گٹلیاں صاف کرکے ایک تھیلی میں اپنے پاس محفوظ کیجیے اور کرنا صرف اتنا ہے کہ سفر کے دوران یا گلی محلے چوک چوراہوں سڑک اور گزرگاہوں پر ایک مخصوص اور محفوظ سی جگہ دیکھ کر اپنے حصے کی شمع جلائیے۔ ساون کے مہینوں میں برسات کی وجہ سے درختوں کو پانی کی کمی کا سامنا نہیں ہوتا جس سے یہ آسانی سے پروان چڑھتے ہیں۔پانی زندگی کی بہت بڑی نعمت ہے درخت اس نعمت کے ضیاع سے ہمیں بچانے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بھی ہیں مثلاً برسات کے دنوں میں سیلاب زدہ علاقوں میں زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کو درختوں سے پیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کے پچھلے دور میں خیبرپختونخواہ میں بلین ٹری سونامی جیسا عالمی درجے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا اور اب جب پاکستان تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں بھی برسراقتدار ہے تو گرین اینڈ کلین پنجاب اور گرین اینڈ کلین پاکستان جیسے منصوبوں سے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بہت معاون کردار ادا کر رہے ہیں مگر یہ اجتماعیت کے کرنے کے کام ہیں انہی کاموں کو فلاح عامہ کی خاطر ہم سب کو مل کر مکمل کرنا ہے۔ اور میرا تو ماننا یہ بھی ہے کہ پیار درختوں سے کیجیے درختوں کے پیچھے نہیں۔ ایک تو اس سے ماحول کے آلودہ ہونے کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے دوسرا ملکی آبادی پر بڑھنے والے بوجھ کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔بقول علامہ محمد اقبالؒ:
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجرسے امید بہار رکھ
Writer Details

Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter
The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline
https://login.baaghitv.com/mujsa-habib-darkhty-lagye-pakistan-bachao/
-

پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن تحریر: ندرت حامد
دنیا میں جتنی بھی کینسر کی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں پھیپھڑوں کا کینسر ‘ کینسر کی دوسری قسم ہے جو کہ بہت عام ہے ۔پھیپھڑوں کا کینسر مرد و خواتین میں یکساں پایا جاتا ہے اور اموات کی وجہ بنتا ہے ۔ یکم اگست کو ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس میں پھیپھڑوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی اور شعور اجاگر کیا جاتا ہے اس دن معاشرے میں لوگوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں ۔تمباکو سگریٹ اور دیگر نشہ آور ادویات جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کو جنم دیتی ہیں ان کے نقصانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ پھیپھڑوں میں خلیوں کی ابنارمل گروتھ کا کو کینسر کہا جاتا ہے ۔ اور دنیا میں بہت زیادہ اموات پھیپھڑوں سے کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بعض اوقات خون کے ذریعے یہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے ۔کینسر کوئی براہ راست نہیں لیکن بہت سے ایسے عوامل ہیں جو کہ وجہ بنتے ہیں جس میں تمباکو نوشی سب سے زیادہ عام ہے ۔ تمباکو کے دھویں میں 70 فیصد کارسنجن ہوتے ہیں جو کہ کینسر کی وجہ بنتے ہیں ۔ اگر خاندان میں کسی کو کینسر ہے جیسے ماں باپ بہن بھائی تو اگلی نسل میں کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا شخص اس بیماری کا تجزیہ نہیں کر سکتے یہاں تک کہ کینسر آخری مراحل تک پہنچ جاتا ہے ۔یا شدت اختیار کر جاتا ہے ۔ مسلسل کھانسی اور وہ جو طویل عرصے تک رہتی ہے۔ کھانسی سے خون کا آنا سانس میں کمی ۔ سینے کمر یا کندھوں میں درد جو کہ کھانسنے ہنسنے یا سانس لینے کی وجہ سے ہوتا ہے کینسر کی علامات میں سے ہے ۔ مختلف کیسز میں علامات مختلف ہو سکتی ہیں ۔پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی مراحل میں نشاندہی اور بروقت علاج فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ خود کو اور اپنے پیاروں کو پھیپھڑوں کے کینسر سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے ۔
اس کا مکمل علاج دریافت ہونے تک اس کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں میں آگاہی پیدا کریں ۔ اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں ۔
@N_Hkhan -

غربت تحریر : شاہ زیب
ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔ غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔ ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔ دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔ تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔ غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔ اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔ جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔ غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں
اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔ اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔
-

یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے، تحریر: محمد عاصم صدیق
ساتوں بیٹیوں کا کے باپ کو جب دوسری بار دل کا دورہ پڑا تو، فرسٹ ایڈ کے لئے اس کے پرس سے وہ گولی فوری نکال کر اس کی زبان تلے رکھی گئی تاکہ عارضی طور پر زندگی کی سانس کو بحال رکھا، لیکن گولی نے کوئ اثر نہ کیا، اور یوں لاتعداد بیٹیوں کی کفالت کرنے والا باپ ہمیشہ کے لئے اس جہاں سے چلتا بنا، بعد میں تحقیق ہوئ تو پتہ چلا کہ گولی نمبر دو تھی جس کا اثر ذرہ بھی نہ ہوا،
نمبر دو ادویات بنانے والی کمپنی کو اس کا بھی احساس نہیں رہا کہ کم از کم جان بچانے
والی گولی کو جعلی نہ بناتی،
اسی طرح معاشرے میں جعلی اور ملاوٹ سے بھری چیزوں کی مارکیٹ میں بھر مار ہے، جس چیز کو بھی پرکھیں ، وہ آپ کو نمبر دو اور غیر معیاری نظر آئے گی،
غیر معیاری کی پیشکش اتنی دلکش ہے معیاری شہ کو بھی مات دے،
ہم کسی چیز بھی دیکھ لیں وہ حفظان صحت کے اصولوں سے بہت پرے نظر آتی ہے، ہمارے گھروں میں روزانہ چائے بنتی ہے اور چائے چھوٹے بڑے کے حلق سے گزرتی ہے لیکن چائے جس دودھ سے تیار ہوتی ہے، اسے ٹی وائٹنر کہا جاتا، اور ٹی وائٹنر میں دودھ نام کی کوئ چیز تک نہیں بلکہ یہ اک لیکوئیڈ مادہ ہے جس سے چائے تیار کی جاتی ہے، اور اسی طرح چائے کی پتی کو دیکھ لیں جو اصلی چائے نہی ہے بلکہ کالے چنوں کے چھلکوں سے اور مساگ کی کڑواہٹ سے مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اور سستے دام ہونے کی وجہ سے لوگ خرید کر چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں،
اسی طرح ہم چولہے پہ تیار ہونے والی دوسری چیزوں کی غیر معیاری چیزوں سے نہیں بچ رہے ہیں، اگر سبزیاں دیکھیں تو گٹر کے پانی سے پل بڑھ کر ہمارے معدہ کا حصہ بنتی ہیں،اور جس گھی سے تیار ہوتی ہیں وہ انتہائ غیر معیاری ہے جو کہ مردار جانوروں کی چکنائی سے تیار ہوتا ہے اور یوں عوام اک بار پھر سستے دام میں اپنی مہنگی صحت کی دھجیاں اڑاتے ہیں،
رہا مسلہ پانی کا، پانی کا بھی یہی مسلہ ہے، ہر دسواں آدمی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے وجہ صرف آلودگی سے بھرا پانی ہے،
گورنمنٹ میٹرو بسیں ،اورنج ٹرین اور ہائ فائ روڈوں پر اربوں خرچ کرتی ہے لیکن عوامی صحت کی طرف توجہ نہیں کرتی، جس ملک کا وزیراعظم خود صحت مند ہو تو ظاہر ہے وہ دماغ کا ضرور کم ہو گا،
کیونکہ عقل انسان سے صحت چھین لیتی ہے،
ہم جس فیلڈ میں بھی غور کریں انسان انسان کی زندگی کو تباہ کئے جا رہا ہے، کوئ پوچھنے والا نہیں جس کے ہاتھ میں پیسہ وہیں حکمران ہے، پیسہ ہمیشہ قانون کو توڑ دیتا ہے، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں ، ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، صحت بگڑتی چلی جا رہی ہے،کوئ کسی کا پرسان اس لئے بھی نہیں کہ وہ خود مبتلاء صحت ہے،
اگر یہی صورت حال رہی تو پھر بیماریوں کا یہ گھمبیر مسلہ آپے سے باہر ہو جائے گا، اور ایسا نہ کہ پھر ریاست پہلے بھی ناکام ہے اور پھر مزید ناکامی پہ ناکامی دیکھے،
عوام الناس کو بھی گونگا بہرا نہیں ہونا چاہئے اللہ کریم نے کائنات کی سب سے اہم نعمت عقل کی دی ہے اس سے بھی فایدہ اٹھانا چاہئے اور غیر معیاری اور معیاری چیز کو پرکھے جہاں کھانے پینے کی چیزوں بارے میں غلط ہوا دیکھے تو روکے یا پھر ریاستی مدد کو کال بھی کر سکتا ہے، کیونکہ ہماری صحت سب سے پہلے ہے، اسی صحت کے ساز سے کائنات میں رنگینیاں ہیں، اگر صحت سلامت ہے تو غریبی میں بھی امیری ہے اور صحت نہیں تو امیری بھی غریبی ہے، ہم جو بھی کھا رہے ہیں پی رہے ہیں اپنے نصیب میں لکھا سمجھ کے کر رہے ہیں اور یوں سلسلہء حیات چلتے جا رہا ہے، حالانکہ نصیب بنانے والی خود پاکیزہ ہے پاکیزہ چیزوں کو پسند کرتا ہے،
اللہ ہم سب کو معیاری اور غیر معیاری چیزوں کی پرکھنے بارے آگاہی دے، اللہ ہم سب کی صحت سلامت رکھے، کیونکہ ہوائیں رنگ خوشبوئیں سب اسی کی مٹھی میں ہیں چاہے تو موسم پل میں بدل دے چاہے تو ہماری سیات حسنات میں بدل دےMuhammad Asim Siddiq
۔ Twitter Handle : @Asimsiddiq_
Email; asimsak47@gmail.com -

ہر حال میں خیر ہی خیر صرف مومن کا حصہ ہے تحریر: ملک منیب محمود
بیماری دکھ مصیبت نقصان پریشانی میں سب ہی مبتلا ہوتے ہیں کوئی ایک شخص بھی اس زمین کے سینے پر ایسا نہیں ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ میں مصائب و آلام سے یقینی طور پر محفوظ ہوں گردش ایام کا وارسا پر ہوتا ہے آج اگر آپ کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے تو کل کسی اور کا نمبر ہے آج اگر آپ کو زخم لگا ہے تو آپ کیوں بھول رہے ہیں کل کوئی اور زخم کھا چکا ہے اور آنے والا کل نہ معلوم کس کے لیے اور کیا لانے والا ہے مصائب و آلام پریشانیاں اور الجھنوں سے سبھی کو پیش آتی ہیں غریب کو بھی اور امیر کو بھی بادشاہ وقت کو بھی اور فقیر کو بھی مومن اور اس والے کو بھی خدا کے منکر اور فاسق کو بھی گردش لیل و نہار کی چکی میں آج ایک پکچر آیا ہے تو کل کسی اور کی باری ہے۔
"یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں” (آل عمران 3:140)
آپ کا شدید مالی نقصان ہو گیا ہے اس کے معاشی ذرائع مسدود ہو گیے ہیں وہ بستر مرگ پر لیٹا صحت کے لئے ترس رہا ہے۔ یہ بیوی بچوں کے مسائل سے پریشان ہیں۔وہ ایک نہ کہانی مصیبت میں مبتلا ہے۔اس پر ایک عجیب ہی آفت ٹوٹ پڑتی ہے۔انہیں مناظر کا نام دنیوی زندگی ہے پھر یہ آفتیں اور مصیبتیں خدا کے باغیوں پر بھی آتی اور خدا کے پرستاروں پر بھی اور قدرتی بات ہے کہ آفات و آلام سے سب ہی متاثر ہوتے ہیں خدا پرست بھی متاثر ہوتے ہیں اور خدا بیزار بھی دکھ کا احساس سب کو ہوتا ہے درد کی ٹیسیں سب کے سینے میں اٹھتی ہی تکلیف میں ان کی زبان سے نکلتی ہے۔آپ آنے والی مصیبت سے پریشان نے مسکراتا چہرہ مغموم میں دل غمزدہ ہے طبیعت تھکی ہوئی ہے اور آپ کے شب و روز نشاط و ولولہ کی رونق سے خالی ہیں یہ ایک فطری بات ہے آپ کو ہرگز ملامت نہیں کی جا سکتی آپ کو ملامت کرنے والا انسان کی فطرت سے ناواقفی چوٹ لگے اور تکلیف نہ ہو زخم پہنچے اور دکھ نہ ہو خوف ہو اور دل نہ لرزے کیسے ممکن ہے؟
البتہ دو باتیں ضرور پیش نظر رکھے بلکہ ان کو جذب کیجئے آپ دل میں سکون کی ٹھنڈک محسوس کریں گے اور غم غلط ہو گا اور آپ کو اپنی مصیبت ہلکی معلوم ہونے لگے گی پہلی بات تو یہ کہ مصیبت تکلیف الجھن پریشانی وقت اور ہنگامی چیزیں ہیں ان کی مدت بہت تھوڑی ہوتی ہے آپ ہی سوچئے اگر آج آپ پر کوئی مصیبت آئی ہے تو آپ عمر عزیز کے کتنے سال آرام وراحت میں گزار چکے ہیں چاند سال کے راحت و آسائش کے مقابلے میں چند گھنٹے اور چند دنوں کی تکلیف و مصیبت کی کیا اہمیت صبح و شام کی چند گردشوں میں دکھ کے یہ دن بھی گزر جائیں گے اور پھر ذہن پر زور دے کر ہی یاد کریں گے تو یاد آئے گا کہ ہم کبھی اس مصیبت سے دوچار ہوئے تھے اور پھر آپ کو خدا کے کلام کا یہ فقرہ بھی یاد ہو جائے گا کہ ہر دکھ کے ساتھ راحت ہے اور ہر تنگی کے ساتھ خوشحالی ہے اور خدا نے بندے کے دل میں یہ حقیقت جمانے کے لیے یہ فقرہ دو بار دہرایا ہے
"یہ حقیقت ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے بے شک تنگی کے ساتھ فراخی ہے۔”( الم نشرح)
اور یہ بھی اطمینان بخش عقیقۃ ہے کہ خدا نے ہر چیز کی مدت اور مقدار دے کر دیے کسی کے بس میں نہیں جو اس سے کمی بیشی کر سکے مصیبتوں اپنا وقت پورا کرکے ہی دور ہوگی اور ضرور ہوگی ۔طول غم حیات سے گھبرا نہ اے جگر
ایسی بھی کوئی رات ہے جس کی سحر نہ ہو۔Written by” Malik Muneeb mehmood”
-
نفسی نفسی، تحریر : محمد خبیب فرہاد
زندگی کی دوڑ میں اور فانی دنیا کی شان و شوکت کی لالچ میں ہم اپنوں سے اس طرح دور ہورہے ہیں، جیسے خزاں کے موسم میں سوکھے پتے درخت سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں ایسا ، جس سے ہماری خاندان و معاشرے کی ساکھ کمزور ہو رہی ہے ۔ ہر زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ آداب زندگی کیا ہے بڑوں کا ادب و احترام کیا ہے، آجکل اگر گھر کا بڑا کوئی کام کہہ دے تو کہنا نہیں مانتے اور اوپر سے بد تمیزی سے پیش آتے ہیں ۔ کیا اولاد ماں باپ کا حق ادا کرسکتی ہے؟ بالکل بھی نہیں! ایک دفعہ کا ذکر ہے، کہ ایک شخص اپنی بوڑھی ماں کو حج کروانے ساتھ لے گیا ، وہ ماں جو چل نہیں سکتی تھیں۔
اس شخص نے اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھا کر حج کروایا، حج مکمل ادا کرنے کے بعد جب وہ شخص حج سے واپس لوٹا تو اس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کردیا ہے، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے شخص تونے رائی کے دانے کے برابر بھی ابھی حق ادا نہیں کیا اور نہ کبھی اپنی ماں کا حق کرسکے گا ۔ ماں ہی ہے جو خد گیلے بستر پر سوجاتی ہے ، پر اپنے بیٹے کو سوکھی جگہ پر لیٹاتی ہے۔ ماں نہ ہو تو دنیا میں رہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔ ماں ہی وہ ہستی ہے ، جسے صرف یہی فکر رہتی ہے کہ بیٹےنے کچھ کھایا ہے کہ نہیں ماں کو تمہارے پیسوں کی نہیں تمہارے وقت کی ضرورت ہے، جو شخص اپنی ماں کو مسکرا کر دیکھتا ہے تو اللہ کی طرف سے اس شخص کو ایک حج ادا کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے ۔
جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بتایا کہ کس طرح پہلی قومیں تباہ ہوئیں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ سنتے ہی خوفزدہ ہوگئے ، اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خد کو کمرے میں بند کرلیا اور متواتر تین دن بنا کچھ کھائے پئیے ،
بارگاہ الہی میں روتے رہے یا اللہ میری امت کو بچا لے یا اللہ میری امت کو بچا لے۔اسی وقت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے ، جس میں ایک خاص دعا تھی ، وہ خاص دعا ہر پیغمبر علیہ السلام کو اپنے دور میں ملی اور سب پیغمبر علیہ السلام وہ دعا مانگ چکے ہیں۔ لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہ دعا اپنی امت کے لئے سنبھال کر رکھی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم چاہتے تو اہل بیت سلامتی کے لئے دعا مانگ چکے ہوتے، مگر نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہ دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے اللہ سے دعا
کرنے کو ترجیج دی ہے ۔قیامت کا خوفناک منظر ہوگا، ہر اک شخص پکار رہا ہوگا نفسی نفسی، حتی کہ سارے پیغمبر علیہ السلام بھی نفسی نفسی پکار رہیں ہوں گے ۔ ایک طرف سے آواز آئے گی امتی امتی یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت وہ آواز
نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہوگی ۔ پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی امت کی مقام محمود پر
اللہ تعالی سے اپنی امت کی شفاعت کے لئے دعا کریں گے۔اللہ تعالی ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین@khubaibmkf
-

وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئےنمبر ون ،نمبر ٹو کی کوئی لائن نہیں سردار تنویر الیاس خان
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور نو منتخب ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کیلئے نمبر ون ،نمبر ٹو کی کوئی لائن نہیں ، عمران خان کا فیصلہ من وعن قبول کریں گے –
باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین نے مجھے جو ٹاسک دیا اس کو پورا کریں گے بیرسٹر سلطان کو ہمیشہ بڑا بھائی کہا وہ قابل احترام ہیں، وہ پارٹی کے صدر ہیں ،ہم نے کبھی ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا ،اختلافات کی غلط خبریں پھیلائی جاتی ہیں ،الیکشن میں ہم نے مل کر کمپئین کی اور جلسوں میں اکٹھے رہے،ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
آزاد کشمیر الیکشن: مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مشترکہ لائحہ عمل کے تحت چلیں…
سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملات ایک ہفتے تک مکمل ہو جائیں گے ،آزاد کشمیر میں حکومت سازی مکمل ہونے پر عمران خان اے جے کے اسمبلی سے خطاب کریں گے-
انہوں نے کہا کہ کشمیر کو صوبہ بنانے کے پروپیگنڈہ میں کوئی حقیقت نہیں ،آزاد کشمیر پاکستان کی ریاست ہے اوررہےگی ،کشمیری عوام وزیر اعظم عمران خان کے ہر فیصلہ پر لبیک کہیں گے کیونکہ عمران خان کشمیریوں کے سفیر ہیں اورانہوں نے یہ بن کر دکھایا ۔
یفک پولیس ادارے کا چہرہ ہے، شہریوں سے خوش اخلاقی کو یقینی بنائیں آئی جی اسلام آباد
سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ پی ٹی آئی پورے ملک سمیت آزاد کشمیر میں متحد ہے اور رہے گی راجہ فاروق حیدر نے تیرہویں اور چودہویں ترمیم کے حوالے سے کیا کھویا کیا پایا ؟سب کچھ سامنے لایا جائے گا، عمران خان کشمیرکو جتنا خودمختار کر رہے ہیں اتنا آج تک کسی نے نہیں کیا۔
وفاقی پولیس ملازمین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یکم سے 4 اگست تک پر وقار تقاریب
-

قومی کرکٹر محمد رضوان نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں بھی انہوں نے ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
باغی ٹی وی: محمد رضوان ایک کے بعد ایک عالمی ریکارڈ اپنے نام کرتے جا رہے ہیں انہوں نے گزشتہ روز کے میچ میں ایک سال میں ٹی 2 انٹر نیشنل میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے –
ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی 20 میچ میں محمد رضوان نے 46 رنز سکور کئے ، جب انہوں نے میچ میں 43واں رن لیا تو ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا-
محمد رضوان اس سال 14اننگز کھیل کر 752 رنز بنا چکے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ ریکارڈ آئر لینڈ کے پال سٹرلنگ کے پاس تھا ، پال سٹرلنگ نے سال 2019 میں 20 اننگز کھیل کر 748رنز بنائے تھے ۔محمد رضوان اس سال سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں ، انہوں نے اس سال تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ 1189 رنز بنائے ہیں ۔
دوسری جانب پلیئر آف دی میچ محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ آج بہت خوش ہوں بحیثیت باؤلر آج یہ میرا انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلا پلیئر آف دی میچ ہے اس ایوارڈ کو ہمیشہ یاد رکھوں گا-
محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ ہمارے مجموعے میں دس سے پندرہ رنز کم تھےمگر ایک باؤلنگ یونٹ کی حیثیت سے ہم نے اچھا پرفارم کیاکپتان نے مجھے بہت حوصلہ دیاویسٹ انڈیز کے پاس بہت اچھے پاور ہٹرز موجود ہیں ایسے بلے بازوں کے خلاف اچھی باؤلنگ پر خوش ہوں-
انہوں نے کہا ٹیم کی جیت سے کھلاڑیوں کا مورال بلند ہوا ہے بطور بیٹنگ یونٹ مزید بہتری کی ضرورت ہے ہماری بیٹنگ اس قابل ہے کہ ہم 180 رنز کا مجموعہ بنا سکتے ہیں امید ہے کل کا میچ جیت کر سیریز اپنے نام کرلیں گے-
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا
-

ٹوکیو اولمپکس :25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلہ، پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی
ٹوکیو اولمپکس میں 25میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلے میں پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی ۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستانی شوٹر غلام مصطفی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن حاصل کرلی جبکہ قومی شوٹر محمد خلیل اختر سٹیج 1 میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دیکھا سکے۔
مون سون بارشوں کا سپیل کب تک جاری رہے گا؟
پاکستانی شوٹر غلام مصطفی ٰبشیرسٹیج 1 میں 293 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر موجود ہیں جبکہ محمد خلیل اختر 286 پوائنٹس کے ساتھ 16 ویں نمبر پر ہیں۔
واضح رہے کہ شوٹنگ ایونٹ میں 27 شوٹر حصہ لے رہے ہیں، 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل مقابلے کی دوسری سٹیج کل ہوگی، ٹاپ 6 شوٹر فائنل راونڈ کے لئے کوالیفائی کریں گے۔