Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر:  چوہدری عطا محمد

    پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر: چوہدری عطا محمد

    آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں گے کہ پردیس کیا بلا ہے اور اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو یہ نہیں پتہ کہہ پردیس کسی اذیت کا نام ہے پردیس کا درد کیا ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو یہ سزا بھگت رہا ہوتا ہے، یقین مانیں ایسی عجیب سی تنہائی کا عالم کے بیشمار لوگوں کےاپنے آس پاس ہوتے ہوئے بھی اکیلاپن محسوس ہوتا ہے،
    ہے ناں عجیب سزا ،عام لوگ بیرون ملک دولت کمانے کو میٹھی جیل کا نام بھی دیتے ہیں ایسی جیل جس کی دیواریں تو نہیں لیکن انسان کو ہر وقت تنہائی اور دم گھٹنے کا احساس رئیتا ہے ، مگر کیا کرے حالات اور انسانی ضروریات کی وجہ سے اور اپنی فیملی جس میں اس کے بہن بھائی بوڑھے والدین اور کچھ کے بیوی و بچے ان سب کو بہتر حالات اور بہتر سہولیات دینے کے لئے اس میٹھی جیل میں اندر سے روتے ہوۓ اور سامنے سے ہنستے ہوۓ وقت گزارتا ہے ایک پردیسی
    عید الاضحی کا تیسرا اور چھٹیوں کا آخری دن تھا جمعتہ المبارک کا دن تھا جمعہ کی نماز کے بعد میرا ایک انجنئیر دوست مجھ سے عید ملنے آیا یہ بھی بتاتا چلوں میرا یہ دوست اپنی فیملی یعنی بیگم اور دو بچوں سمیت رئیتا ہے جیسے ہی وہ میرے پاس پہنچا مجھے بھی یکدم لگا کہہ عید ہوگئ ہے کیونکہ اس کو گلے مل کر بہت ہی چائیت کا احساس ہوا می ملنے کے بعد اس کو بیٹھایا اور خود جاکر اس کے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنے لگا ہم بہت بے تکلف دوست ہیں اس نے آواز دی سادہ پانی کی بوتل لاؤ اور صرف دودھ والی چاۓ بناؤ اور کچھ بھی نہیں کھاؤں پیو گا مجھے پہلے ہی پتہ تھا سو می اسے پانی کی بوتل دی اور چاۓ کا سامان چولہے پر رکھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا ہم ادھر ادھر کی باتین کرنے لگے پانچ سات منٹ ایسے ہی باتوں میں گزر گے اتنے میں چاۓ بن گئ میں نے چاۓ دوکپ میں ڈالی اور ساتھ الماری سے نمکو کا پیکٹ نکالا اور چاۓ نمکو لے کر دوست کے پاس بیٹھ گیا ہم چاۓ پیتے رہے اور پاکستان کے سیاسی معملات پر گپ شپ لگانے لگے کچھ دیر میں ہی میں محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان ہے میں اس سے پوچھا کہہ چہرے سے پریشان لگ رہے آپ بھائی تو کہتا کہہ کہہ کچھ نہیں میں دو تین بار اصرار کیا تو وہ بتانے لگا اس کی زبانی میں چاند رات فیملی کے ساتھ شاپنگ کر کے گھر کو واپس لوٹا اور تھکاوٹ سے جلدی سوگیا صبح زرا جلدی جاگنا ہوتا کیونکہ ادھر نماز فجر کے لئے جاتے تو عید کی تیاری کر کے جاتے یعنی فجر کی نماز سے ایک گنٹھہ اور کچھ منٹ بعد عید کی نماز ہوجاتی ہے می نماز عید پڑھی اور جلدی سے گھر کی طرف آیا آتے ہی موبائل کا نیٹ آن کیا کیونکہ سارے راستہ سوچتا رہا پاکستان سے پتہ نہیں عید مبارک کے لئے پوری فیملی بہن بھائی کتنی دفع کال کر چکے ہوں گے لیکن وہ شاید میری بھول تھی موبائل آن کر کے پاس رکھا ناشتہ کیا لیکن دھیان موبائل کی طرف ہی تھا کہ ابھی کال آۓ گی لیکن ناشتہ سے لنچ اور لنچ سے ڈنر تک گزر گیا می رات سونے کے لیے بیڈ پر پہنچا تو اپنے اوپر بہت رونا آیا دل میں خیال ہے کہہ کیا می اکیلا ہی ہوں میرا کوئی بہن بھائی ماں باپ رشتہ دار نہیں ہیں کیا کسی ایک فرد نہ بہن نے نہ چھوٹے یا بڑے کسی بھائی نے نہ ہی نہ والد صاحب نے کسی نے بھی عید مبارک تک کی کال تو دور کی بات ہے واٹس پر میسج تک نہیں کیا مجھے والدہ کی بہت یاد آئی کیونکہ جب وہ حیات تھی تو سب کو بول بول کے کسی نہ کسی سے کال کر وا ہی دیتی تھیں
    آپ سوچیں دوسرے دن پاکستان میں عید تھی میں نے سب کو باری باری کال کر کے مبارک باد دی لیکن کسی ایک نے بھی مجھے یہ نہیں کہا کہ سوری ہم بھول گے تھے کل آپ کی بھی عید تھی بڑی بہن کو جب کال کی تو ہلکا سا گلہ کیا تو وہ فورا بولی بھائی آپ کو پتہ ادھر کتنی مصیبتیں مجھے یاد ہی نہیں تھا کہہ آپ کی عید تھی کل آپ لو بتاتا چلوں یہ سب میرے وہی بہن بھائی ہیں جن میں سے ہر ماہ کوئی نہ کوئی اپنی مشکل بتاتا اور مجھے کہتا اتنے پیسے بھیجو می آج تک ان میں کسی کو نہ نہیں کہی ہر خوشی اور غمی میں اگر خود حاضر نہ ہوا لیکن ہر طرح کی ہر قسم کے حالات میں ان لی ضرور مدد کی جس نے جتنے پیسے کہا بیگم سے چوری یا اس کے سامنے ہر حال میں اپنے بہن بھائیوں کو بھیجے لیکن میرا خیال ہے ہم پردیسیوں کو ہمارے فیملی والے ایک اے ٹی ایم مشین ہی سمجھتے ہیں نہ تو ہمارے دئیے ہوۓ گفٹ کی ویلیو نہ ہمارے دئیے ہوۓ پیسے کی ویلیو نہ ہی ہماری اپنی یہ کہتے ہوۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا
    آخر میں بس اتنا ہی کہتا چلوں کہہ خدرا جن کے فیملی ممبرز یا کوئی دوست احباب پردیس میں ہیں ان سب کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیا کریں یقین جانیں ان کی سانسیں اپنے ملک اور آپ کی خوشیوں اور پریشانیوں کے ساتھ چلتی
    اللہ پاک ارض پاک اور اس کی معشیت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دے کہہ کسی کو بھی روزگار کے لئے پردیس جیسی میٹھی جیل نہ جانا پڑے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    دنیائے تاریخ میں دو ریاستیں ایسی ہیں جو نظرئیے کی بنیاد پر بنی ہے۔ پہلا مدینہ طیبہ اور دوسرا مدینہ ثانی یعنی پاکستان۔ مدینہِ طیبہ اور پاکستان میں ایک دلچسپ ربط ہے جو لوگ لغت سے شغف رکھتے ہیں وہ لغت اٹھا کے دیکھیں مدینہ طیبہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے مدینہ یعنی شہر یا رہنے کی جگہ جبکہ طیبہ صاف کو کہتے ہیں یعنی کہ صاف رہنے کی جگہ۔ اب آجائے پاکستان پہ تو پاکستان فارسی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے پاک یعنی صاف اور ستان یعنی رہنے کی جگہ۔ اب پاکستان کو اگر عربی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا مدینہ طیبہ، اگر مدینہ طیبہ کو فارسی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا پاکستان۔

    پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اور پاکستان کلمۂ طیبہ کے نعرے اور نظریہِ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
    قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ "ہمیں محض رہنے کیلئے ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ چاہیے جہاں ہم اسلامی قوانین کو پرکھ سکےاور اپنے پیغمبرﷺ کی سنت پر عمل کرسکے”۔
    میری خواہش ہے کہ بالعموم ہر پاکستانی اور بالخصوص ہر نوجوان کو دو غیر معمولی وجود یعنی قائد و اقبال اور ایک غیر معمولی تخلیق یعنی پاکستان کے بارے میں پتہ ہو۔

    پاکستان ایک معمولی تخلیق نہیں ہے۔ قدرت کے اشاروں کوسمجھئے اللّٰہﷻ کے ہمارے اوپر بیش بہا احسانات ہے۔ جسمیں سےایک احسانِ عظیم یہ ہے کہ ہم بغیر کسی محنت، بغیر کسی حجت اور بغیر کسی خوبی کے امتِ محمدیؐ میں پیدا ہوئے۔ دوسرا احسانِ عظیم یہ کیا کہ ہمیں سرزمینِ پاکستان میں پیدا فرمایا۔ دوسری بات سے شاید بہت سے لوگ اختلاف بھی کرے کہ پاکستان میں پیدا ہونا احسان کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں تو بہت سی پریشانیاں ہیں، بدامنی ہے، بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے ناانصافی ہے

    جسکی خاطر سارے دُکھ جھیلیں
    تو پھر بھی پاکستان گھر تو آخر اپنا ہے

    پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا جو کہ نزولِ قرآن 27ویں رمضان کی رات تھی۔ شبِ قدر کو پاکستان کابننا محض اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔
    اسلامی دنیا میں ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ یہ بھی محض ُحسنِ اتفاق نہیں ہے- یاد کریں وہ دن جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے چاغی کا پہاڑ پاکستان میں لال ہوا تو فلسطین میں لوگوں نے اسرائیل کوللکار کر کہا تھا کہ اب ہمارے اوپر ظلم نہیں کرنا اب ہم ایٹمی طاقت ہے۔ دُنیا میں سات ممالک کے پاس ایٹمی طاقت ہے جس میں سے 6 غیر مسلم ممالک ہیں جبکہ مسلم ممالک میں واحد پاکستان ہے جو کہ ایٹمی طاقت ہے۔ یعنی مسلمان ایٹمی طاقت ہونے سے ہمیں امت کی سرداری کاشرف بھی اللّٰہ نے بخشا۔
    قُرآنِ مجید فِرقانِ حمید کے سورۃ الرحمٰن میں جتنے بھی باغات و میوہ جات کا ذکر ہے تو گویا کہ سورۃ الرحمٰن کی تفسیر ہے پاکستان۔

    ایک روایت کے مطابق: اللہﷻ کے رسولِ مقبولﷺ نے مختلف مقامات کے بارے میں پیشنگوئیاں کی عرب کیطرف اشارہ کیا کہ یہاں سے مجھے منافقت کی بدبُو آرہی ہے پھر ایک طرف اشارہ کیا جسمیں پاکستان اور افغانستان شامل ہے کہ یہاں سے مُجھے خوشبوں آرہی ہے جبکہ دوسری روایت کے مطابق فرمایا تھا کہ یہاں سے مُجھے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہے گویا کہ پیغمبرِ خداﷺ کا پیغام اور خوشخبری ہے پاکستان۔

    پاکستان اتنا بڑا معجزہ ہے جیسا کہ صالحؑ کی اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ اس قوم نے اس احسان کی ناقدری کی تو صفحۂ ہستی سے مٹ گئے جبکہ ہم اس تحفے کی بے توقیری کرکے دنیا میں ذلیل ورسوا ہورہے ہیں۔

    ماں کے بارے میں ہم گالی نہیں سُن سکتے کیونکہ اس نے بچپن میں سینے سے دودھ پلایا ہوتا ہے اور جوانی تک سارے مصائب اور غم اُٹھائے ہوتے ہیں لیکن ماں مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں کرسکتی اور نہ ہی اُس کا اِتنا طاقت و قُدرت ہوتا ہے۔ اِسی طرح دھرتی بھی ماں ہوتی ہے۔یہی دھرتی ماں ہمیں ساری زندگی اپنے سینے سے اناج کھلاتی ہے وطن وہ ماں ہے جو مرنے کے بعد اپنی آغوش میں دو گز زمین بھی دے دیتی ہے۔

    پاکستان کی عزت کیجئے اور عزت کروائیے۔ بے ضمیر لوگ کہتے ہیں وطن نے کیا دیا ہمیں جبکہ باضمیر اور غیور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے وطن کو کیا دیا۔ میں ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ادب سے کہتا ہوں کہ ہم کیا دے سکتے ہیں وطن کو۔
    پاکستان کو ہم اگر کچھ دینا چاہتے ہیں تومیری التجاء ہے کہ وہ مرد جن کے ذمے اپنے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے کم از کم اپنے شعبوں میں دیانتداری سے کام کریں اس یقین کیساتھ کہ ایک بے ایمان بندہ کم ہوجائے اور وہ بہنیں جو کہ مائیں بنی ہے یا بنے گی وہ ایک احسان کرے کہ ایک اچھی نسل دے اس قوم کو۔ اس قوم و ملت کو ضرورت ہے ایسے نسل کی جو اس ملک کو وہ مقام دلائے جس کیلئے یہ وجود میں آیا ہے۔

    کھڑے تھے ہم بھی تقدیر کے دروازے پر
    لوگ دولت پہ گرے ہم نے وطن مانگ لیا

    میں مشکور ہوں ربّ ذوالجلال کا کہ پاکستان میرے نام کا بھی حصہ ہے، میری ذات کا بھی حصہ ہے اور میری جان کا بھی حصہ ہے۔ پاکستان سے مُجھے عشق ہے۔ یہ میری لیلیٰ اور میں اسکا مجنون ہوں۔ پاکستان کا محبت میری رگ رگ میں بسا ہے۔
    پاکستان ہمیشہ قائم و دائم سلامت و آباد رہے۔
    خوش رہیں خود بھی اور خوش رکھیں اپنے ساتھ منسلک لوگوں کو۔ اپنا اور اپنے دیس کا خیال رکھیں۔
    پاکستان زندہ باد

    @IjazPakistani

  • یتیم کی تکریم     تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    یتیم کی تکریم تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    یتیمی ایک ایسا امتحان ہے جو کسی بھی شخصیت پر اس آزمائش بن کر آ پڑتا ہے. بلاشبہ اس میں اللہ رب العزت کی بے پناہ مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان پر واضح ہوتی ہیں. لیکن اس امتحان کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ حقیقی مخلص اور بناوٹی رشتوں کی اچھے سے پہچان ہو جاتی ہے. اس زمرہ میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بھی زکر کیا ہے اور یتیم کی تکریم کا زکر ہے.
    1. یتیم کی تکریم کا کیا مطلب ہوا؟
    اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
    كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ(۱۷) سورۃ الفجر
    ترجمہ: ہرگزنہیں بلکہ تم یتیم کی عزت (تکریم) نہیں کرتے۔
    آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یتیم کی مدد کی بات نہیں بل اس کی عزت اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوے اس کی مدد کی بات ہے.
    اس آیت کے پہلو میں بہت سے موضوعات موجود ہیں جن میں 1. یتیم کے مال کی حفاظت اور بلوغت پر اسے لوٹانا.
    2. اس کی پرورش کے پہلو
    3. اس کے ساتھ اخلاق و اخلاص
    وغیرہ
    فی زمانہ کیمرا ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے یتیم کی عزت نفس کا قتل فرض اولین سمجھا جاتا ہے.
    اللہ کی رضا ہے تو زمانہ میں رسوا نا کر صاحب
    تیرے چند ٹکے اس کی عزت نفس بیچ نہ بیچ ڈالیں.

    یہاں فی زمانہ مال کو اس لیے تقسیم کیا جاتا ہے کہ کوئی دیکھے تو کہے صاحب بڑا رحم دل ہے. او بھائیو رحم قبول کرنے والے کا فرمان بھی سنو. آپ کا صدقے، خیرات کی نہیں یتیم کی عزت کی بات ہے. زمانے کے سامنے عزت اور گھر کی چاردیواری میں اس کی تزلیل؟
    یہ کہاں کا انصاف ہے؟
    یہ کفار کا طریقہ ہے کفار جب یتیموں کو دھکے دیتے ان کی تزلیل کرتے اللی کریم نے قرآن میں سورۃ الماعون میں ارشاد فرمایا.
    فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ: پھر وہ ایسا ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ یعنی دین کو جھٹلانے والے شخص کا اخلاقی حال یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔
    فیصلہ کیجئے ہتہم کے ساتھ ظلم تو کفار کا طریقہ ہے. مسلمان کو تو یہ زیب ہی نہیں دیتا
    یتیم کی پرورش تو رب العالمین کی رضا کیلئے ہونی چاہیے پھر یہ زمانے میں دکھاوا کیسا؟
    جب رضا الہی مقصود ہو تو فرمان الہی کو مد نظر رکھنا لازم ہے. رب کریم یتیم کی تکریم کا حکم فرماتا ہے. یاد رکھیں یتیمی اس کا قصور نہیں لیکن ہاں! آپ کا امتحان ضرور ہے کہ کس طرح اس کی پرورش کی مال میں خیانت تو نہ کی. اس کی وراثت کھا تو نہیں گئے. بےشک اسلام کامل دین ہے. اللہ کریم نے خاص یتیم کا تزکرہ ہی اسی لیے فرمایا کیوں کہ کمزور پر ظلم آسان ہوتا ہے. طاقتور تو مزاحمت کر لیتے ہیں. یہاں اللہ رب العزت نے یتیم کے حق میں خود بات ارشاد فرمائی ہے. پتا چلا یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ جہاں دیکھو یتیم کی تزلیل کرو اور اس کا حق کھا جاؤ.
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید ارشاد فرمایا وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے (سورۃ النسا.)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے گھروں میں سب سے اچھا وہ گھر ہے جس میں یتیم سے اچھا سلوک کیا جائے جبکہ برا وہ گھر ہے جس میں یتیم سے برا سلوک کیا جائے۔ ‘‘ ( سنن ابن ماجۃ، الحدیث: ۳۶۷۹
    ایک جگہ فرمایا: بیواؤں اور مسکینوں کی پرورش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘

    ( سنن ابن ماجہ الحدیث: ۲۱۴۰)
    آئیے ہم اپنی اصلاح کریں. کمزوروں کی یتیموں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کی امداد کریں. کیمرا کی آنکھ نا بھی دیکھے رب کی آنکھ ضرور دیکھتی ہے. احسان کیجیے. اللہ رب العالمین نے سورہ الرحمن میں احسان کے بدلے احسان کا وعدہ فرمایا ہے. ہاد رکھیں یتیم ہوتے دیر نہیں لگتی. آج احسان کیجیے تاکہ کل کو اللہ آپ کے ساتھ احسان کرنے والے پیدا فرمائے.
    فیصلہ آپکا

    @EngrMuddsairH

  • مرد محافظ ہے  تحریر: سحر عارف

    مرد محافظ ہے تحریر: سحر عارف

    آج تک ہمارے معاشرے میں صرف عورتوں کے حقوق سے لے کر ان کی معاشرے میں اہمیت، ان کی آزادی کے لیے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے آواز اٹھتی رہی ہےاور ایسے میں عورتوں کو پیش آنے والے ان تمام مسائل کی وجہ مردوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

    کہیں نا کہیں یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ زیادہ تر مرد ہی عورتوں کی آزادی کے خلاف، ان کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ہیں۔ پر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد ایک سے نہیں ہوتے۔ جہاں کچھ مرد عورت ذات کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کو تشدد اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں وہیں بہت سے مرد عورت ذات کی عزت کرنا بھی باخوبی جانتے ہیں۔ یہی چیز اگر ہم اپنے گھروں میں دیکھیں تو ہمارے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان مردوں سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر ایسے مرد بھی موجود ہوتے ہیں جو راہ چلتی عورتوں سے نظریں جھکا ہر چلتے ہیں۔

    پر افسوس کا عالم یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف چند ایسے مردوں کی وجہ سے جو عورت ذات کو درپیش مسائل کی وجہ بنتے ہیں باقی کے تمام مردوں کو بھی انہیں جیسا سمجھتے ہے۔ اگر غور کریں تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ہم صرف غلط کو دیکھنے اور دیکھانے پر زور رکھتے ہیں تو پھر ہمارے اردگرد سب غلط ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔

    ٹھیک اسی طرح معاشرے میں چند بھیڑیوں کی وجہ سے ہم مرد ذات کو ہی برا کہنا شروع کردیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جو مرد عزت کے قابل ہو اسے عزت ضرور ملنی چاہیےنا کہ باقی غلط راہ پہ چلنے والے مردوں کی طرح ان سے سلوک کیا جائے۔ "مرد” لفظ ہی اپنے اندر بےتحاشا مٹھاس سموئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی اپنے اردگرد حفاظت کی دیوار کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہمارے محرم مرد ہمارے اصل سائبان ہیں۔ جو خود مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہماری حفاظت کرتے ہیں اور اپنے ہونے کا ایک خوبصورت احساس دلاتے ہیں۔

    ہماری خوشیوں کی خاطر ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ مرد اہے کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نا ہوپر وہ اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر اپنے سے جڑے لوگوں کی خواہشات پوری کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتا ہے۔ دن سے رات تک چاہے شدید سردی ہو یا گرمی سخت محنت کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ بےشک ایسے مرد سراہے جانے کے قابل ہیں۔

    آج کے دور کی عورت مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہے پر کچھ معاملات میں وہ کبھی مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہنر اللّٰہ نے صرف مرد ذات کو ہی دیا ہے۔ اللّٰہ مے مرد کے جسم میں اتنی طاقت دی ہے کہ وہ اس طاقت کا استعمال کرکے عورت کو معاشرے میں پلنے والے گندے بھیڑیوں سے بچا کر اسے تحفظ کی گھنی چھاؤں میں بیٹھا سکتا ہے۔ عورت مرد کی طرح م،دوری نہیں کرسکتی، اپنے سے، زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی پر اس کے برعکس مرد اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں کا پیٹ پالنے کی خاطر مزدوری کرسکتا ہے۔ وہ اپنے سے کئی کئی گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور پھر بھی کسی سے شکوہ نہیں کرتا۔ مرد تکلیف میں ہونے کے باوجود رو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ انھیں رونے کا حق نہیں دیتا۔ بس اپنے اندر ہی اندر اپنا غم اور تکلیف جذب کرلیتا ہے۔ پھر میں یہ کسیے نا کہوں کے مرد اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے۔ جو عورت کی ہی طرح محبت، اعتبار اور عزت کا حقدار ہے۔

    @SeharSulehri

  • انتخابات اور الیکشن کمیشن  تحریر : راجہ ارشد

    انتخابات اور الیکشن کمیشن تحریر : راجہ ارشد

    اسلامی جہموریہ پاکستان میں الیکشن کوئی بھی ہوں عام انتخابات ، ضمنی انتخابات یا پھر سینٹ انتخابات جو بی ہارا اس نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا  اور الیکشن کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی ۔

    پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں جو کبھی جیتی ہیں کبھی ہار جاتی ہیں۔
      جیت جاتے ہیں تو جشن یسے مناتے ہیں جیسے 28 فروری کا سرپریز انہوں نے ہی دیا ہو اور ہارنے والے اسے متنازعہ کہہ کے ریاستی اداروں پر الزمات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔
     
    مزے کی بات ہارنے والوں کی جب کبھی حکومت آتی ہے تو وہ کبھی اصلاحات کی کوشش ہی نہیں کرتے۔اور اگر کوئی بندہ اصلاحات کرنے کی بات بھی کرئے تو یہ مخالفت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

    حکومتی جماعت کو کرپٹ نظام کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے کرپٹ نظام کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو کنٹرول کیا جاتا ہے ہم نے یہ ماضی میں دیکھا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے ان کے مطالبے پر 4 حلقے 4 سال میں وپن نہیں ہوئے تھے اس لیے عمران خان نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پاکستان میں شفاف انتخابات اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔

    سینٹ الیکشن کی ہی بات کر لیتے ہیں اس الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کتنی ہوتی ہے سب سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کو پتہ ہے ۔ عمران خان نے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا ان ارکان کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی اس ویڈیو میں دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی تھے لیکن کاروائی صرف اور صرف کپتان نے کی باقی سب خاموش رہے۔

    کپتان حکومت کو قانون سازی میں دشواری کا سامنا ہے وجہ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور وہ قانون سازی میں بڑی رکاوٹ ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو۔
    سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس بھیجا کہ ووٹنگ وپن ہونی چاہئیے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ  سے اس سلسلے میں رائے بھی طلب کی۔
    سپریم کورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے بھی حکومتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور خفیہ طریقہ پر ووٹنگ کی حمایت کی اندازہ کریں کہ ایک حکومتی ادارہ نے حکومت کی مخالفت کی یہی عمران خان کی کامیابی  ہے۔
    سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہا اور بالآخر سپریم کورٹ نے بھی حکومتی آرڈیننس پر اپنی رائے دیں اور حکم دیا کہ ووٹنگ خفیہ ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے مزید تشریح کی اور کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور شفاف الیکشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن  کی رائے کے برعکس حکم دیا کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جاتا، بے شک ووٹ خفیہ ہی ڈالا جائے گا لیکن ہر پارٹی کی سربراہ کی خواہش پر اس کو بتایا جاسکے گا کہ ووٹ کہاں ڈالا گیا ہے۔
    اب جبکہ ووٹ کا پتہ چل سکے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ووٹ قابل شناخت ہوگیا تو یقینا ہارس ٹریڈنگ کاخاتمہ ہوگا اور کرپٹ مافیا اپنے چال نہیں چل سکے گا اور یہی عمران خان حکومت کی جیت ہے۔
    دیکھا جائے تو خفیہ ووٹنگ کا فائدہ حکمران جماعت کو زیادہ ہوتا ہے سارے اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں حکومت چاہیے تو خزانے کا منہ کھل دے اور سب ارکان کو پیسوں سے خریدلے جیسے ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں لیکن عمران خان کی نیت صاف ہے وہ چاہتے ہیں کہ ادارے آزاد ہو پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک کرپشن سے پاک ملک بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے اندر جو کرپٹ مافیا  کے لوگ ہیں ان کا خاتمہ کریں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @RajaArshad56

  • کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    آپ کے کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے جو آپ کو معلوم ہے یا نہیں ، دراصل آپ کے پیدا ہونے پر ہی شروع ہوا تھا! بہت سارے عوامل ہیں جو آپ کے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرتے ہیں ، بشمول آپ کی دلچسپیاں ، قابلیتیں ، اقدار ، شخصیت ، پس منظر اور حالات۔ کیریئر کونسلنگ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو کیریئر ، تعلیمی ، اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے اپنے آپ کو اور کام کی دنیا کو جاننے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    کیریئر کی ترقی صرف یہ فیصلہ کرنے سے کہیں زیادہ ہے کہ آپ فارغ التحصیل ہونے پر آپ کیا نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، مطلب یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی آپ بدلاؤ گے ، حالات بدلیں گے ، اور آپ کو کیریئر اور زندگی کے فیصلے مستقل طور پر لینے پڑیں گے۔ کیریئر کونسلنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نہ صرف آپ کے فیصلے کرنے میں مدد کریں ، بلکہ آپ کو مستقبل میں کیریئر اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے آپ کو ضروری علم اور صلاحیتیں فراہم کرنا ہیں۔

    میں کیا توقع کرسکتا ہوں؟

    آپ کا کیریئر کونسلر آئے گا:
    آپ یہ جاننے میں مدد کریں کہ آپ کون ہیں اور آپ اپنی تعلیم ، کیریئر اور اپنی زندگی سے کیا چاہتے ہیں۔
    آپ کے خیالات ، خیالات ، احساسات اور اپنے کیریئر اور تعلیمی انتخاب کے بارے میں خدشات کے بارے میں بات کرنے کیلئے کوئی شخص بن جائے ، جو آپ کو اپنے خیالات اور احساسات کو الگ الگ کرنے ، ترتیب دینے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اپنے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرنے والے عوامل کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کریں اور اپنی دلچسپیوں ، صلاحیتوں اور قدروں کا اندازہ کریں۔
    کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل اور ذرائع تلاش کرنے میں آپ کی مدد کریں۔ اگلے اقدامات کا تعین کرنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے میں مدد کریں۔

    آپ کا کیریئر کونسلر نہیں کرے گا:
    آپ کو بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے ، یا آپ کو بتانا چاہئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا آپ کو کیا پیشہ اپنانا چاہئے۔ کورس کے انتخاب یا نظام الاوقات میں آپ کو مشورے دیں۔

    کس کو کیریئر کونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    چونکہ کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، لہذا کیریئر کونسلنگ کسی کے لئے بھی موزوں ہوسکتی ہے ، بشمول تازہ افراد ، سوفومورس ، جونیئرز ، سینئرز اور یہاں تک کہ سابق طلباء بھی۔ قبل ازیں آپ اپنے مستقبل کے بارے میں جان بوجھ کر فیصلے کرنا شروع کردیتے ہیں ، تاہم ، آپ جتنا بہتر تیار ہوں گے! ہمارا مشورہ ہے کہ تمام افسران کیریئر کونسلر سے مل کر تشریف لائیں۔

    ذیل میں خدشات کی کچھ مثالیں ہیں جو طلبا کو کیریئر کونسلنگ میں لاتے ہیں۔
    کیریئر اور اہم اختیارات کی تلاش
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں کس چیز میں بڑا کام کرنا ہے۔”
    "میں نے اسے کیریئر کے ایک دو آپشنز تک محدود کردیا ہے ، لیکن مجھے ان کے درمیان انتخاب کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی ہے۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے اندازہ نہیں ہے کہ فارغ ہونے کے بعد میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ سب سے بڑا میجر کیا ہوگا۔
    "میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں اپنے بڑے سے کس قسم کی ملازمت حاصل کرسکتا ہوں۔”
    "مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں جاننے کے لئے وہاں موجود تمام مختلف کیریئر کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔”

    تنازعات کو حل کرنا
    "مجھے بہت سارے مختلف مضامین پسند ہیں ، اور میں اپنا اہم تبدیل کرتا رہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کون سا میرے لئے سب سے بہتر ہے!”
    "میں اپنی کسی بھی جماعت کو پسند نہیں کرتا ہوں اور کوئی بڑی کمپنی مجھ سے واقعی اپیل نہیں کرتی ہے۔”
    "میرے پاس بہت سارے کام کا تجربہ ہے اور میں ایک نیا کیریئر کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہوں جو میں پہلے سے موجود ہنروں کو استوار کروں گا۔”
    "میں ___ پروگرام میں جانے کا ارادہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے درخواست دی اور میں داخل نہیں ہوا۔ اب میں کیا کروں؟”
    "میں نے ہمیشہ سوچا کہ میں ___ بننا چاہتا ہوں ، لیکن میں اپنے بڑے ہو گیا اور مجھے واقعی میں یہ پسند نہیں کرتا!”
    "میں واقعی میں اپنے بڑے کو پسند کرتا ہوں ، لیکن یہ وہ نہیں ہے جو میں اپنے کیریئر کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کس نوعیت کا کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے ڈر ہے کہ میں یہ کام کرنے میں زیادہ رقم کمانے کے قابل نہیں ہوں گے۔”
    "میرا کنبہ حقیقت میں چاہتا ہے کہ میں ___ بنوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اگر میں واقعی میں یہی چاہتا ہوں تو۔”
    "میں نے ہمیشہ ___ ہونے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں۔”
    "میں وہاں جانے کے لئے ایک فیلڈ ڈھونڈنا چاہتا ہوں جہاں ہمیشہ ملازمت کی کافی مقدار ہوگی۔”
    "میں ایک ایسا کیریئر تلاش کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے اپنے کنبے کے لئے قابل قدر مالی اعانت فراہم ہوسکے۔”
    "میں اپنے کیریئر کی سمت کام کر رہا ہوں ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں واقعی میں گھر میں رہنے والے والدین بننا چاہتا ہوں۔”
    "میں نے ہمیشہ بائوس میں ہی رہنے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ کرنا ہے مجھے حرکت کرنا ہوگی۔”
    "مجھے نوکری نہیں مل سکتی ہے ، لہذا میں گریڈ اسکول جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔”

    کیریئر کونسلر کون ہے؟
    کیریئر سروسز کا عملہ آپ کی مدد کرنے میں آپ کو ماسٹر ڈگری حاصل ہے اور اس میں کیریئر ڈویلپمنٹ تھیوری ، مشاورت کی تکنیک ، انتظامیہ اور تشخیص کی تشریح ، اور کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل میں مہارت حاصل ہے۔ کیریئر کونسلرز مشاورت یا کیریئر کونسلنگ میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔

    آپ کی ملازمت کی تلاش / کیریئر کے حصول کا عمل آپ کے کیریئر کی ترقی کا ایک اہم پہلو بھی ہے ، اور اسی وجہ سے ، جاب سرچ ایڈوائزیشن اور کیریئر کی صلاحکاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے کیریئر کونسلر کو بھی آپ کی ملازمت کی تلاش کے تمام پہلوؤں کی مدد کے لئے مکمل طور پر تربیت حاصل ہے۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • کربلا،  وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    کربلا، وادی کرب و بلا . تحریر: سید غازی علی زیدی

    اہل بیت کے مقدس خوں سے رنگین، مکر و فریب سے اٹی، بے وفائی سے بھری، عشقِ حقیقی کے پروانوں کی اک داستان الم

    حق و صداقت
    صبر و استقامت
    فلسفہ شہادت
    حسین کی عظمت
    یزید نشان عبرت

    عراق، 61 ہجری، ماہ محرم الحرام، وادی کربلا کا المناک منظر: تپتا ریگستان, دہکتا آسمان، دشمن قہرمان، لیکن رب مہربان۔
    نواسہ رسول ﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ کی شہادت، جب روشن سورج سیاہ ماتمی لباس پہن کر افق پر نمودار ہوا۔ تاریخ انسانی کی وہ خونیں شام جب امام عالی مقام ؓ اور اہل بیت کے مقدس لہو سے دریائے فرات آگ و خون کا دریا بنا۔
    اپنوں کی غداری اور سفر کی صعوبتیں سہنے کے باوجود، اس وادی پرخار میں اہل بیت کی آن و شان پوری تب و تاب کے ساتھ قائم دائم تھی۔ جرآت و شجاعت سے لبریز کیا بچے کیا بوڑھے، دین کی سربلندی جن کا مقصد حیات تھا، وہ کہاں ان مشکلات کو خاطر میں لاتے تھے۔ یہ حق کی اذان اور باطل کی پکار کا مقابلہ تھا۔ کوئی معمولی دنگل نہیں بلکہ وہ عظیم الشان معرکہ تھا جس نے تاقیامت حسینیت اور یزیدیت میں فرق واضح کردیا۔ چشم فلک نے نہ پہلے کبھی ایسا مقابلہ دیکھا نہ خاک ارض کبھی ایسے مقدس لہو سے تر ہوئی۔

    جو کربلا میں شاہِ شہیداں سے پھِر گئے
    کعبہ سے منحرف ہوئے قرآں سے پھِر گئے

    حق و باطل مدمقابل تھے، نواسہ رسولﷺ کا امتحان تھا اور وہ برگزیدہ ہستی کیا خوب کامیاب ہوئی کہ اس رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی جو آج 1400 سال گزرنے کے باوجود بھی زندہ و جاوید ہے۔ ایک دین کیلئے کٹ کر بھی ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا تو ایک فاتح ہو کر بھی روز محشر تک ملعون ٹھہرا۔ جنت کے جوانوں کا سردار روز حشر جب یزید کا گریبان پکڑے گا تو کیا یزید اور اس کے چیلوں کے پاس کوئی جائے پناہ ہوگی؟ کیا سرور کائنات ﷺکے اس فرمان عالیشان کے بعد بھی یزید کیلئے کوئی جائے پناہ ہو گی؟
    ’’جس نے ان دونوں (حسنؓ اور حسینؓ) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سےدشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی‘‘۔ (متفق علیہ)

    یہ کوئی عام قصہ نہیں بلکہ جرآت و استقلال کی وہ لازوال داستان ہے جس نے تاریخ انسانی کو ایک نیا موڑ دیا۔ وہ ناقابلِ فراموش دن، جب سیدنا امام حسینؓ نے حق و انصاف اور سربلندی اسلام کیلئے سر مبارک کٹا تو دیا لیکن جھکایا نہیں۔ نظام خلافت کو ملوکیت و موروثیت میں بدلنے والوں کیخلاف علم جہاد بلند کیا اور اس دن اہل بیت کے مقدس لہو کے غسل نے اسلام کو نئے سرے سے جلا بخش کر ہمیشہ کیلئے رسم حسینی کی بنیاد ڈال دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کبھی اسلام پر کفر و ظلمت کے سائے چھائے، تب امام عالی مقام ؓ کی تقلید ہی واحد راہ نجات ثابت ہوئی۔

    بیعت یزید کے انکار نے تاقیامت ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کی جرات مندانہ روایت قائم کر دی۔ امام عالی مقام ؓ نے اپنی عظیم و الشان شہادت کے زریعے، اللّٰہ کی حکمرانی اور اللّٰہ کے رسول ﷺ کے قانون کے نفاذ کا عالمگیری پیام اہل حق تک پہنچا دیا۔ وہ عظیم پیغام جس پر عمل پیرا ہونے میں ہی نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانیت کی نجات ہے۔

    مطلق العنان یزید کیخلاف للکار دراصل استعماریت و استکباریت کیخلاف علم بغاوت بلند کرنا تھا۔ آغوش نبوت میں پرورش پانے والے نواسہ رسولﷺ، جگر گوشہ بتول ؓ، فرزند حیدر کرار ؓ امام عالی مقام نے احیائے اسلام کی خاطر جو لازوال داستان شجاعت رقم کی وہ حریت پسندوں اور راہ عشق کے مسافروں کیلئے اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

    تاریخ کے ان سیاہ ترین دنوں کا تصور کرنا بھی ہم گنہگاروں کیلئے محال ہے کجا یہ کہ اس دردناک واقعہ کو احاطہ تحریر میں لانا۔ ہوس اقتدار کے مارے ہوئے خودساختہ جابر حاکم کے سامنے سینہ سپر باکردارنوجوانان اہل بیت و اطہار کی بے مثال دلیرانہ شہادت کا معاملہ ہو یا شیر خوار معصوم پھولوں کی پیاس سے تڑپ کا احوال، علم اسلام کی سربلندی کیلئے شجیح مردان حق کا عزم مصمم ہو یا خانوادہ رسول ﷺ کی عفت مآب بیبیوں کی فاسق و فاجر یزید کے دربار میں بآواز بلند للکار، ہر ہر سانحہ جلال حیدری کی یاد تازہ کرتا ہے۔ نہ کوئی ڈر و خوف، نہ جاہ و حشم کی چاہ، نہ اقتدار کا لالچ، نہ جانوں کی پروا؛ ایسی جرات، ایسی جوانمردی، ایسا استقلال سوائے اہل بیت کے کون بھلا دکھا سکتا تھا؟؟

    حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
    بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

    آج حسینیت، مسلم و غیر مسلم کے فرق سے بالاتر، ہر مظلوم مگر عزم و ہمت کے پیکر کیلئے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے پھر چاہے وہ مطلق العنان بادشاہ ہو یا ظلم وبربریت کا نظام حکومت۔
    جہاں بھی کہیں کوئی ظالم اپنی حدود پھلانگتا ہے وہیں تاریخ کے دریچوں میں جلوہ گر خانوادہ رسولﷺ کی بے مثال قربانی، مظلومین کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی ہے ۔

    قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    واقعہ کربلا صرف قربانی کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ تو عشق حقیقی میں اپنا سب کچھ تیاگ دینے والوں کی داستان مہر و وفا ہے جو تاقیامت ظلمت کے اندھیروں سے نبردآزما، راہ عشق کے مسافروں کیلئے روشن چراغ اور اہل بیت کی محبت سے سرشار ہم عاصیوں کیلئے توشہ آخرت ہے۔

    اے اہلِ بیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    یہ نذرانہ گر قبول افتند زے عز و شرف

    @once_says

  • نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    ہرانسان کو زندگی گزارنے اور اپنی روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے مستقل ذرائع آمدن کی ضرورت ہوتی ہے. ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن ہو جس سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے اور سکون سے زندگی گزار سکے. آج کل کے دور میں جب قدرتی ذرائع کم اور انسان کی جگہ مشینری لیتی جا رہی ہے تو اور بھی مستقل ذریعہ آمدن کی فکر بڑھتی جا رہی ہے. آج کل دو ہی بنیادی ذرائع آمدن ہر جگہ زیر بحث ہوتے ہیں اور وہ ہیں نوکری اور کاروبار. ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اس کا معاشی مستقبل محفوظ ہو. یہ دونوں ذرائع بالکل الگ ہیں اور ان کا الگ قابلیت کا معیار، کام اور آمدن بھی مختلف ہیں.

    پہلے ہم نوکری کی بات کرتے ہیں. نوکری کی دو قسمیں ہیں سرکاری اور غیر سرکاری. ہمارے معاشرے میں سرکاری نوکری کو بہت ہی محفوظ معاشی مستقبل کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجوہات مستقلی، سروس میں سرکاری مراعات، بچت اور سب سے اہم تا زندگی ملنے والی پنشن ہے. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ سرکاری نوکری سے وابستہ ہیں تو آپ کو کوئی فکر نہیں بس اب آپ تاحیات سرکار کے ‘ ذمہ’ ہیں. نوکری کے لیے اہل ہونے کے لیے سب سے بنیادی چیز جو چاہیے وہ ہے تعلیم. اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو آپ اپنی ڈگری کی کیٹگری اور شعبہ کے لحاظ سے ایک سرکاری نوکری حاصل کر سکتے. ریاست جو آپ کے کے ذمہ کام لگائے گی وہ آپ خوش اسلوبی سے سر انجام دیں گے اور آپ کو متعلقہ شعبہ کے کے قوانین کے مطابق سرکاری مراعات وغیرہ اور ماہانہ آمدن دی جائیں گی. اسلام جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ ہونے کی عمر ساٹھ سال ہے. ساٹھ سال کے بعد حکومت آپ کو ایک حساب کے مطابق آپ کو یَک مُشت رقم بھی دے گی اور بعد میں تاحیات پینشن بھی دے گی، یہی خصوصیات سرکاری نوکری کو سب سے پرکشش بناتی ہیں. لیکن اس دور میں جب سرکاری نوکریوں کی کمی اور حکومت خود نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کر رہی ہے. حکومت چاہتی ہے کہ نوجوان کاروبار کریں، با اختیار بنیں، دوسروں کے لیےبھی روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ملک کا بھی فائدہ ہو.

    اب بات کرتے ہیں کاروبار کی، کاروبار ذاتی ہوتا ہے اور کاروبار کرنے کے لئے جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے وہ ہےسرمایہ. آپ سرمایہ کاری کریں گے اور پھر کاروبار کی نوعیت کے حساب سے آپ کی آمدنی ہوگی. کاروبار میں یہ ہے کہ آپ کو رِسک لینا پڑتا ہے، جب آپ سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں، پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں تو قدرتی اور ملکی حالات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جس سے آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ اب کرونا وائرس کی آفت میں کئی کاروبار ٹھپ ہوئے اور سرمایہ کاروں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا. لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے جتنے بھی امیر ترین افراد ہیں آپ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سب کاروباری تھے آپ کو کوئی نوکری والا امیر ترین نہیں ملے گا. نوکری کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کا رہن سہن اچھا ہوگا اور پرسکون یعنی نارمل زندگی گزاریں گے. اس کے برعکس کاروبار میں آپ کو کئی مشکلات بھی آئیں گی، نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ ہے کہ منافع کے بھی کوئی حد نہیں. نوکری میں آپ کو مخصوص وقت اور قوانین کے اندر رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، کاروبار میں وقت کی کوئی قید نہیں جتنا آپ کاروبار کو زیادہ وقت دیں گے اتنا زیادہ کمائیں گے. کاروبار ہو یا نوکری اپنی دلچسپی کے شعبہ میں کرنے چاہئیں تاکہ آپ کو زہنی سکون میسر ہو.

    ibrahimianPAK@

  • ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ماڈرن ازم کے دلدادہ ہوں یا مذہب کے ٹھیکیدار، دانشور ہوں یا فنکار، سیاستدان ہوں یا اساتذہ، سب کو جیسے سانپ سونگھ چکا ہے۔ ہر زبان خاموش، ہر دل کبیدہ خاطر ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا کہ اس سارے معاشرتی بگاڑ میں کہیں نہ کہیں ان کا حصہ بھی ہے۔ ببول کا بیج بویا ہو تو پھول نہیں بلکہ کانٹے ہی اگتے۔ کانٹے بھی وہ جن کا زہر ہماری نئی نسل میں اس بری طرح سرایت کر چکا کہ اب کوئی تریاق بھی کام نہیں دے رہا۔ اخلاقیات کی پامالی کی ہر حد پار ہو چکی ہے۔ سماجی قدروں کا زوال پورے جوبن پر ہے اور کسی میں ان سرکش موجوں کے سامنے بند باندھنے کی جرات بھی نہیں ہورہی۔ ایک خوف و وحشت کی فضا ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا۔ نہ راہ چلتی بزرگ خاتون محفوظ ہے نہ گلی میں کھیلتی معصوم بچی، چھوٹا بچہ ہویا کوئی خاتون خانہ ہر کسی کی عصمت و جان کو خطرہ ہے۔ ہوس زدہ درندے ہر جگہ کھلے گھوم رہے، اذیتیں دے کر قتل کر رہے، کتوں کی طرح بھنبھوڑ رہے۔ جنون اور ہیجان کا یہ عالم کہ الامان الحفیظ۔ جو لوگ کبھی اپنے خاندانی ہونے پر فخر کرتے تھے خود کو معاشرے کا باوقار فرد گردانتے تھے ان کی ہی اولادیں اتنی سفاک کیسے ہو گئی ہیں؟

    آخر معاشرے میں تمام۔حدود و قیود کو پار کرتا جنسی ہیجان کیونکر پیدا ہو گیا ہے؟ کیا آج سے دو دہائیوں پہلے تک یہ سب کچھ تھا؟ نہیں بلکل نہیں۔ پھر اب ایسا کیا ہو گیا؟ جواب بہت سادہ اور واضح ہے- فحاشی و بے حیائی۔ مغربی معاشرے کی تقلید میں ہم نے بجائے تعلیم وہنر کو کاپی کرنے کے انکی تہذیب کو جوں کا توں کاپی کرلیا یہ جانے بغیر کہ اس کے مستقل اثرات کس قدر بھیانک ہوں گے۔
    قارئین کرام ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اتنا جنون اتنی سفاکیت راتوں رات نہیں پیدا ہوتی۔ معاشرے میں تبدیلی کا عمل ہمیشہ آہستگی سے آتا ہے۔ قطرہ قطرہ، نامحسوس طریقے سے یہ زہر اترا نہیں اتارا گیا ہے۔ فحاشی وعریانی کا سیلاب ایک دم نہیں آیا بلکہ ہم نے پوری دلی رضامندی سے ماڈرن بننے کے چکر میں اس کو اپنے معاشرے میں رائج کیا ہے۔

    مغربی سیکولر و لبرل معاشرے سے متاثر ہمارے دانشوروں نے اپنی شاندار اسلامی تعلیمات کو دقیانوسی قرار دے کر پس پشت ڈال دیا۔ سیاستدانوں کو مغربی جمہوریت ہی معاشرے کا اصل حسن لگی۔ تو مذہبی رہنماؤں نے معاشرے کی ایلیٹ کلاس میں فٹ ہونے کیلئے مخلوط تعلیم سے لیکر مخلوط محافل تک سب کچھ جائز قرار دے دیا۔ برقع میں بھی ایسی جدیدیت آ گئی کہ پردے کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگیا خواہ سکول ہو یا آفس۔ بات یہاں تک بھی کنٹرول میں تھی لیکن سونے پر سہاگا الیکٹرانک میڈیا اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز نے پوری قوم کو ناچ گانے پر لگا دیا۔ جب اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو پاکستانیوں نے موبائل پر پورن فلموں کو دیکھنے کے سب ریکارڈ توڑ دیے۔

    خدارا ابھی بھی وقت ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں۔ اربابِ اختیار ہمت کریں ان جنسی درندوں کو سرعام پھانسیاں دیں تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں اور اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ معاشرے کا بگاڑ سدھارا جاسکے۔ مغربی معاشرہ تو خود لبرل ازم اور الحادیت کے چکر میں تباہ ہو چکا۔ اگر کسی کو شک ہے تو بیشک ریپ کیسز، چائلڈ پورنو گرافی، عورتوں و بچوں پر تشدد کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جاؤ وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں۔”(الانعام۔151)۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کر جاتی تو پہلے خدا اُسے مہلت دیتا کہ وہ اپنی اصلاح کرے اگر روش نہ بدلی جائے تو خدا کا غضب جوش میں آتا اور تباہی سب کا مقدّر بن جاتی۔

    @once_says

  • عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    مجھے آج بھی ایک لڑکی کا واٹس ایپ سٹیٹس اچھی طرح یاد ہے بلکہ میرے پاس اس کا سکرین شاٹ بھی پڑا ہے جو کہ اس کا آخری واٹس ایپ سٹیٹس تھا جس میں تحریر یہ تھی کہ "کہنے والوں کا کیا جاتا،سہنے والے کمال کرتے ہیں”یہ آج سے تقریباً تین سال قبل سہارا میڈیکل کالج نارووال کی ایم بی بی ایس کی طالبہ ڈاکٹر نرگس حیات خان کا خودکشی سے پہلے آخری رات کا سٹیٹس تھا۔ اس خودکشی کے وجہ کیا تھی وہ ایک الگ بحث ہے لیکن بتانا یہ تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی بھی چیز پر بے جا تنقید اور اکثر اوقات حد سے زیادہ تنقید کر دیتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں یعنی سہنے والے ہی جانتے ہیں ورنہ ہم کہنے والوں کا کیا جاتا جو منہ میں آئے کہہ دیں۔عورت مارچ در حقیقت ان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی آواز ہے جو ظلم سہتی ہیں،جن کو ہراساں کیا جاتا ہے،جائیداد میں حق سے محروم رکھا جاتا ہے،جن پر ان کے شوہر تشدد کرتے ہیں،جن سے شادی کے لیے مرضی نہیں پوچھی جاتی،جن پر رشتے سے انکار پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے،اور وہ نور جو کل تک عورت مارچ میں قاتل کو لٹکانے کا مطالبہ کرتے کرتے پھر خود ایک ظالم قاتل سے قتل ہو جاتی ہے۔اب ذرا دیکھ لیجئے عورت مارچ کے مطالبات کیا ہیں۔اگر عورت مارچ میں جائیداد میں حق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کہہ دیا جاتا کہ جناب اسلام نے جائیداد میں عورت کو حق دیا ہے۔اسلام نے تو دیا ہے کیا آپ نے جائیداد میں حق دیا؟ پاکستان میں نوے فیصد سے زیادہ لوگ بیٹیوں کو جہیز تو دیتے ہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔

    عورت مارچ میں شادی کے لیے عورت کی مرضی کی بات کی جاتی ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کیا اسلام نے خود یہ حق نہیں دیا؟ اگر اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ سے ان کی مرضی دریافت کرتے ہیں تو کیا پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ پھر وہی شرح ہے کہ بہت کم والدین ہیں۔لہزا عورت مارچ میں پاکستان کی عورتوں کے مطالبات کو یہ کہہ کر نہ ٹھکرایا جائے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہیں،اسلام نے تو دیے ہیں آپ نے نہیں دیے۔اب آ جائیں باقی مطالبات پر، تو کیا پاکستان میں خواتین پر ہونے والے تشدد کی شرح باقی ممالک کی نسبت خطرناک حد تک نہیں بڑھ رہی؟ کیا اگر خواتین قانون سازی اور قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں تو غلط کر رہی ہیں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفظ عورت مارچ کو ایک گالی کیوں بنا دیا گیا؟ یہ ہماری خواتین ہیں،اس ملک کی برابر کی شہری اور اس ملک کی آدھی آبادی۔یہ خواتین کا ایک پرامن مارچ ہے،ایک آواز ہے،محض ایک آواز۔ آپ اس آواز کو بند کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو اس آواز سے اتنی الجھن کیوں ہے؟ عورت مارچ پوری دنیا میں ہوتے ہیں کیا آئین پاکستان میں عورتوں کو سڑک پر نکل کر پرامن اکٹھ یا ریلی نکالنے کا حق نہیں ہے؟ عورت مارچ نہ تو پاکستان کے خلاف ہے نا ہی اسلام کے خلاف ہے۔اور ہر گز نہیں ہے یہ صرف ظالم کے خلاف ہے اور حق نہ دینے والے غاصب کے خلاف۔آخری بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عورت مارچ بے حیاء معاشرے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے بتائیے کہ دو ہزار اکیس میں عورت مارچ کے تھیم لوگو میں جن خواتین کی تصاویر تھیں وہ حجاب پہنے ہوئے تھیں۔عورت مارچ بے حیائی کی آزادی کی بات یا مطالبہ نہیں بلکہ عورت کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر وہ حجاب کرنا چاہے تو کوئی اسے روکے نہیں یا اگر وہ حجاب نہ کرنا چاہے تو بھی اسے روکا نہ جاے۔باقی شر پسند عناصر یا کچھ نعروں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے جو کہ عورت مارچ میں زاتی طور پر کسی کے ہو سکتے ہیں اسے آپ عورت مارچ کا مجموعی طور پر نظریہ نہیں کہہ سکتے۔اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے ضرور کیجئے لیکن ان کے نظریات اور مطالبات کو بھی سنیے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عظیم پاکستان ترقی کرے تو عورتوں کی کسی بھی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کریں،تمام گروہوں،طبقوں اور خیالات کو سنیں اور سننے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ عدم برداشت سے معاشرے ترقی نہیں کرتے۔

    @SS_Sulehri