Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

    یقین کرو تم کر سکتے ہو تحریر: شمسہ بتول

    ہم بچپن سے یہ الفاظ سنتے ہیں کہ تم یہ نہیں کر پاٶ گے یا تم سے یہ نہیں ہو گا یا تم یہ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود اپنی زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے اور پھر دوسروں کے کانوں میں بھی یہی الفاظ پھونکتے ہیں۔ حلانکہ اس دنیا میں کوٸی بھی چیز نہ ممکنات میں سے نہیں ایسا نہ ممکن کہ آپ کسی کام کو کرنے کی کوشش کریں اور وہ نہ ہو۔ آپ کیا کر سکتے ہو اور کیا نہیں یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے لوگوں کو یہ فیصلہ نہ کرنے دیں کیونکہ اپنے بارے میں جس طرح آپ جانتے کوٸی اور نہیں جان سکتا۔ ہمارا دماغ جس میں ہر چیز ہر لفظ ٹہر جاتا ہے اب یہ آپ کے اختیار میں کہ اس میں مایوسی کو جگہ دینی ہے یا امید کو۔ اگر آپ اپنے دماغ میں ایک بات بٹھا لیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں اللہ نے مجھے قابلیت اور صلاحیت سب کچھ عطا کیا ہے بس مجھے اب ہمت کرنی ہے اور اپنے مقصد کے لیے کوشش کرنی ہے تو آپ ضرور کامیاب ہونگے ۔اور اگر آپ خود ہی یہ سوچ لیں کے آپ کسی قابل نہیں یا آپ کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی آپ کو motivate نہیں کر سکتی۔ ایک بچہ پیدا ہوتے ساتھ ہی چلنا شروع نہیں کر دیتا وہ بچہ پہلے گرتا ہے
    پھر اٹھتا ہے اور تین چار بار یہی ہوتا پھر آخر کار وہ آہستہ آہستہ اپنی ماں کی طرف قدم بڑھاتا جو بازو پھیلاۓ اس کی منتظر ہوتی لیکن اگر ماں بچے کے لڑکھڑانے پر اسے آکر سہارا دے دے گی تو وہ کوشش نہیں کرے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتی وہ چاہتی کہ اپنے پیروں پہ چل کر اس کی طرف آۓ اب اور بچے کی محبت کا مرکز چونکہ ماں ہوتی وہ کیسے بھی ہمت کر کے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوے اسکے پاس پہنچ جاتا
    بلکل اسی طرح آپکا مرکز بھی آپ کا مقصد ہونا چاہیۓ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف قدم بڑھاتے جاٸیں ہو سکتا ہے دو تین دفعہ آپکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑھے مگر ہر بار ایسا نہیں ہو گا اور بلآخر آپ کامیاب ہو جاٸیں گے۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں دنیا کی کوٸی طاقت آپکو اس وقت تک شکست نہیں دے سکتی جب تک آپ خود شکست تسلیم نہ کر لیں۔ اسلیے خود پر اعتماد رکھیں اگر آپ خود ہی اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تو کوٸی دوسرا کیسے کرے گا۔
    خامی اگر آپ کے اندر کوٸی موجود بھی ہے تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ حقیر ہیں اس دنیا میں کوٸی شخص مکمل نہیں ہے ہم سب میں کوٸی نہ کوٸی خامی موجود ہوتی اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اس سے مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے یہ سراسر بے وقوفی ہے کیونکہ لوگ تو آپ کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے دور حاضر میں زندگی اتنی مصروف ہے کہ کسی کے پاس فرصت ہی نہیں کہ وہ کسی اور کے بارے میں سوچ سکے ہاں کچھ فارغ لوگ آپکی ٹانگیں ضرور کھینچتے مگر جب آپکے اندر خود اعتمادی موجود ہو گی تو یہ سب چیزیں کوٸی معنی نہیں رکھیں گی اور آپکو خود اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی ہے کوٸی اور آ کر آپ کے لیے یہ نہیں کرے گا۔ اپنی ذہن سے یہ جملہ نکال کر پھینک دیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کو اشرف المخلوقات یونہی تو نہیں بنایا اور کہا ہے۔ اس نے آپ کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اس لیے خود پر یقین کرنا سیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ناکامیاں تو زندگی کا حصہ ہیں اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ نکمے یا ناکارہ ہیں بلکہ اسکا مطلب ہے کہ آپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاٸیں اور پھر سے کھڑے ہوں اور دنیا کو ثابت کریں کہ اگر ہو ہمت سینوں میں تو سر کر لیے جاتیں ہیں پہاڑ بھی۔ خود سے بس ایک جملہ کہا کریں کہ آپ کر سکتے ہیں😇

    @b786_s

  • پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چار میچوں پر مشتمل ٹی 20سیریز کا پہلا میچ آج کھیلا جائے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والا میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7بجے شروع ہوگا جبکہ میچ سے قبل کھلاڑیوں کی جانب سے جم کر پریکٹس بھی کی گئی۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں مختلف کمبی نیشن بنانے کی کوشش کریں گے اور بنچ اسٹرنتھ کو بھی آزمائیں گے دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کے دیگر تین ٹی ٹوئنٹی میچز 31جولائی، یکم اور تین اگست کو شیڈول ہیں۔

    علاوہ ازیں قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ویسٹ انڈیز پہنچنے پر کورونا ٹیسٹ کئے گئے تھے جن کی رپوٹس منفی آئی ہیں۔

    واضح رہے کہ دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست ہوئی تھی جس کے بعد ٹیم انگلینڈ سے ویسٹ انڈیز روانہ ہوئی تھی۔

  • "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    "توکل اللہ تحریر:افشین ماوی

    اللہ پاک رحمن ہے رحیم ہے کریم ہے اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ پختہ یقین ہے امید اور یقین صرف رب کریم پہ سرخروع ہونے کی دلیل ہے ہر دعا کے اخر میں امین کہنا اپنی دعا کی قبولیت اور اللہ کی قدرت پہ بھروسہ اور پختہ یقین ہے اکثر لوگ دعا مانگنے کے بعد کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی دعا قبول ہوتی ہے بس کن فیکون پہ اور مقرر وقت پہ ہوتی ہے اللہ پاک کے فیصلوں پہ اگر ہم راضی ہوجائے تو ہر مشکل کی راہ نکل آتی ہے خود سے منسلک ایک حقیقت کا انکشاف کرنا چاہوں گی میرا ایک پودا کچھ قبل روز تیز بارش اور گرج چمک ہونے کی وجہ جل گیا بجلی اس پہ پڑنے سے وہ اوپر سے پوری طرح جل گیا نیچے سے کچھ تنا اور ایک پتہ بچا میری والدہ محترم نے اس پودے کو دوبارہ سے صیحح کرنے کے لیے اس میں کھاد ڈال دی اور اس امید پہ کہ اللہ اس پودے میں پر سے جان ڈال دے گا مجھے پہلے نہیں بتایا مگر کچھ دن بعد والدہ نے بتایا کہ ایسا واقعہ تمھارے پودے کیساتھ درپیش آیا اب تمھارا پودا پر سے صیحح ہوگیا ہے مجھے یہ سن کہ خوشی بھی تعجب بھی ہوا کیسے اس پودے کی پر سے زندگی رواں ہوگئ وہ رب کریم ہر شے پہ قدرت رکھتا ہے میں اکثر مایوس ہوجاتی ہوں مگر میرا بھروسہ ایمان ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ میرے ساتھ ہے بس جینے کی وجہ مل جاتی ہے ہر مشکل میں اللہ کے سوا کسی بھی انسان کو ہمنوا نا پایا اسلیے اللہ پہ بےحد پختہ یقین نے ہر مشکل کو خود آساں فرمایا رب پاک کی ذات کی مدد پہ یقین اس کدھر ہے کہ خود سے بے خبر ہوسکتی ہوں پر رب پاک مجھ سے باخبر ہے اسکا یقین آخری سانس تک قائم و دائم رہے گا
    مجھ کو ملے نا ملے میرے ہونے کا نشاں
    وہ باخبر ہے مجھ سے جو ہے لامکاں
    نا کر سکوں میں خود کے فیصلوں پہ بھی یقین
    پر اس ذات پہ ہے پختہ یقین کہہ دو ہردعامیں امین !

    @ Hu__rt7

  • یہ نظام بدلنا چاہیے  تحریر: محمد وقاص شریف

    یہ نظام بدلنا چاہیے تحریر: محمد وقاص شریف

    عید سے دو روز قبل شام کو قربانی کےجانور دیکھنے فتح پور کے قریب کے دیہات میں جانا ہوا۔ وہیں ایک چک میں ہماری ملاقات محمداسماعیل سے ہوئی جو چھوٹے سے زمیندار ہیں۔ہم نے پوچھا کہ کتنی زمین ہے۔ کہنے لگے تیرہ ایکٹر تھی مگر اب صرف چار ایکٹر رہ گئی ہے، باقی نو ایکٹر ایک جھوٹے مقدمے پر لگ گئی ہے۔
    مزید تفصیلات پوچھیں تو بتانے لگے کہ آج سے دس بارہ سال قبل کسی سے زمین کے ایک حصے کا سودا کیا۔ انھوں نے کچھ پیسے بیعانے کے طور پر دیے اور ایک پرونوٹ پر دستخط کروائے کہ اتنی رقم وصول کی ہے، اور پرونوٹ پر اصل رقم کی بجائے پندرہ لاکھ لکھوا لیا۔ محمد اسماعیل ایک ان پڑھ شخص تھا، لینے والے بھی قریبی تھے اس لیے بغیر کسی سے تصدیق کروائے، انگوٹھے لگا دیے۔
    مخالف پارٹی نے کچھ دن کے بعد سودا کینسل کر دیا اور کہا کہ ہماری رقم واپس کر دیں۔ اسماعیل نے جتنے پیسے لیے تھے وہ واپس کیے تو انھوں نے کہا کہ یہ ہماری رقم نہیں بلکہ ہمیں پندرہ لاکھ دیں جو آپ نے لیے ہیں۔ گواہ بھی موجود تھے کہ اصل کتنی رقم دی گئی تھی۔
    مخالف پارٹی نےاس دھوکے بازی کو قانونی رنگ دے کر کیس کر دیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ میں کئی سال مقدمہ چلا اور فیصلہ محمد اسماعیل کے حق میں ہو گیا۔ مخالف پارٹی نے اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ ہائی کورٹ میں کئی سال پھر مقدمہ چلا اور پھر سے محمد اسماعیل کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔ اب تک محمد اسماعیل مقدمے کی فیس اور آنے جانے کے خرچ پر نو ایکٹر لگا چکا تھا۔ مخالف پارٹی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ محمد اسماعیل نے سپریم کورٹ کے وکیل کی فیس کا پتہ کیا تو اس نے دو لاکھ مانگے۔
    محمد اسماعیل یہاں کے وڈیرے پیروں کے پاس گیا، منت ترلا کیا کہ اب چار ایکٹر بچ گئے ہیں یہ بھی چلے جانے ہیں، جو دو لاکھ ادھر دینے ہیں وہی آپ لے لیں اور یہ صلح کر وا دیں۔ پیروں کو محمد اسماعیل پر رحم آگیا اور دو لاکھ دے کر محمد اسماعیل کی جان چھوٹ گئی۔
    دس بارہ سال عدالتوں کے دھکے کھانے، نو ایکٹر اور دو لاکھ گنوانے کے باوجود بھی محمد اسماعیل کو انصاف نہ مل سکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ہے ہمارا نظام انصاف۔ یہ انصاف کا سسٹم ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ اس پورے سسٹم کو ہی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی خرابی وکلاء ہیں جو بنے تو اس لیے تھے کہ اس نظام کو سہارا دیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی وکلاء اس نظام کو سب سے زیادہ خراب کر رہے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں اطراف کے وکیل عدالت کے باہر مل کر خوش گپیاں لگاتے ہیں اور طے کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح بس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہونے دینا۔
    نظام انصاف کی دو خصوصیات لازمی ہیں، پہلی یہ کہ فوری ہو اور دوسری یہ کہ فری ہو۔ مگر یہ نظام ایسا ہے کہ بندے کو کنگال کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور وقت اتنا لگتا کہ نسلیں انصاف کی امید میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جب ایک عدالت سے فیصلہ ہو گیا تو پھر کسی بھی دوسری عدالت میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟
    اور اگر ضلعی عدالت میں انصاف نہیں ہوتا تو پھر سارے مقدمے سپریم کورٹ میں ہی سن لیے جائیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے گھر چوری ہوئی ، پولیس نے چور پکڑ لیے، سامان برآمد کروا لیا۔ اب کیس عدالت میں پیش ہوا۔ سیدھا سا کیس ہے جس میں چور پکڑے بھی چا چکے اور سامان بھی برآمد ہوا، سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگز اور فارنزک رپورٹ کے علاوہ چوروں کا اقرار جرم بھی موجود۔ اب ایسے مقدمے میں وکیل کی کیا ضرورت مگر وکیل کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ دو تین وکیل تبدیل کیے مگر جس کو بھی کیا کسی ایک نے بھی مجھ سے وقوعہ کی تفصیلات تک نہیں پونچھیں۔ میں نے بتانے کی کوشش کی تو بھی نہیں سنی، عدالت میں خود پیش ہوا تو چھ دفعہ جج نے سوائے نئی تاریخ کے کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد اتنے ثبوتوں کے باوجود تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے۔ اس دوران اس نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے کوئی اس نظام کوبدلنے کی کوشش کرے تاکہ میرے ملک میں ناانصافی ختم ہو، لاقانونیت کا خاتمہ ہو جائے اور دھوکے دینے والوں کو سخت سے سخت سزاملے اور جھوٹے مقدموں میں پھنسانے والوں کو کڑی سزائیں ملیں۔ یہ انقلاب صرف تب آ سکتا ہے جب وہ لوگ سنجیدہ کوشش کریں جو اسی نظام کا حصہ ہیں۔
    @joinwsharif7

  • خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے  تحریر: ذیشان علی

    خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے واقعات جو ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی غور و فکر کا مقام ہے تحریر: ذیشان علی

    ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. جب ہم یہ نام لیتے ہیں تو بڑا فخر محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر بھی فخر ہے،اس لیے جب ہمارے ملک کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہے تو ہمیں مسرت ہوتی ہے،
    لیکن کیا ہم اپنے ملک کے نام کے ساتھ جڑے اسلام جو کہ ہمارا مذہب بھی ہے کا پاس ہے،؟
    ہمیں اس کی قدر ہے؟ اس کا ادب و احترام اور اسے باوقار بنانے کی کیا ہم سمجھ رکھتے ہیں،
    کیوں ہمارے معاشرے کے افراد ملک اور اپنے وقار کو بد نام کرنے کے ساتھ ساتھ گناہوں اور ایسے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں جو ناقابل معافی ہے،
    عورت کی عزت اور ناموس کا محافظ مرد ہے، لیکن انتہائی شرم کا مقام ہے ہمارے معاشرے کے ان افراد کے لیے جو عورتوں پر ظلم اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں،
    ہمیں تو انصاف پسند ہونا چاہیے ہمارا دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ تو کیا تم لوگ دین سے پھر گئے ہو جو اس کے منع کرنے کے باوجود اس ظلم اور گناہ کو جاری رکھے ہوئے ہو،
    آج کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ ظلم کرو گے تو وہ ظلم تمہیں لوٹایا جائے گا، کیا تمہیں اس کی خبر نہیں یا اس کا کوئی خوف نہیں،؟
    تم باز نہیں آتے تو پھر تمہیں ٹھیک کرنے کے ہماری ریاست ہے اور اس کا قانون ہے،
    ہم مل کر آواز بلند کریں گے اور تم لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گئیں، ہم قانون سے تم لوگوں کی ایسی کی تیسی کروائیں گے کہ تم لوگ یاد رکھو گے بلکہ تم لوگوں کی نسلیں بھی یہ سب یاد رکھیں گی،
    قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور عوام کے محافظوں سے ہماری منہ زور اپیل ہے کہ ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں،
    ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی اللہ حفاظت کرے اور میری تمام ماؤں بہنوں اور بیٹیوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اسلامی اقدار کو اپنائیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عمل پیرا ہوں۔
    اللہ اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کی مدد کرتا ہے بےشک اس کا وعدہ ہے وہ اپنے بندوں کو مصیبت میں تنہا نہیں چھوڑتا،
    جن خواتین پر ظلم ہوتا ہے جن کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے وہ اس گناہ سے مبرا ہیں اور کچھ شک نہیں کہ پروردگار انہیں بخش دے گا وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے،
    ظلم کو روکنا ریاست اور معاشرہ کے ذمہ داری ہے اپنی خواتین کی حفاظت کریں اور دوسروں کی ماں بہن بیٹی کو اپنی ماں بہن بیٹی جیسا سمجھیں یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے،
    عورت کوئی کھیل کا سامان نہیں ہے کہ جب دل چاہا اس سے کھیلا اور جب دل بھرا اسے پھینک دیا،
    اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہو ایسا کرنے والوں پر ہر گز ہر گز تمہیں اس ظلم کا حساب دنیا اور آخرت دونوں میں دینا پڑے گا،
    معاشرے کو گندا اور تباہ و برباد مت کرو کہ اس سے خود بھی رسوا ہو گے اور اپنے خاندان والوں کو بھی رسوا کرو گے،
    اسلامی اقدار کو فروغ دو پانچ وقت کی نماز ادا کرو شیطانی وسوسوں سے دور رہو اور عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈروتے رہوں،
    اللہ بے ہدایت لوگوں کو ہدایت دے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں لکھی انہیں غرق کر یہ ہمارے معاشرے کا ناسور ہیں سو ہمارے معاشرے کو ان ناسوروں سے پاک کر دے،

    @zsh_ali

  • ‏کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار  نام: محمد عمران خان

    ‏کشمیر میں انڈین بیانئے کی ہار نام: محمد عمران خان

    وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے جیت گئی۔
    مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بیان دیا کہ "کشمیری غلامانہ سوچ رکھتے ہیں اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔”
    کشمیریوں کو دی گئی اس شرمناک گالی سے قطع نظر اس نے تسلیم کر لیا کہ دھاندلی ‏نہیں ہوئی ہے اور عمران خان کشمیریوں کے ووٹ سے ہی یہ الیکشن جیتے ہیں ۔”
    پورے پانچ سال میں کشمیر کا وزیراعظم رہتے ہوئے جس بندے نے کشمیریوں کے حق پہ ڈاکا ڈالا، ان کے فنڈز ہڑپ کر گیا، کشمیر میں پانچ سالوں میں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا، کشمیری عوام کو ہمیشہ مایوس کیا، جب کشمیریوں نے اس مایوسی کا بدلہ لیا تو راجا فاروق حیدر نے نہایت ہی شرمناک شکست کھانے کے بعد کشمیریوں کو ہی الٹا گالیاں دینا شروع کر دیں جو کہ نا صرف کشمیریوں بلکہ پورے پاکستان کیلئے انہتائی افسوسناک بات ہے۔ تم کس قسم کے وزیراعظم ہو کہ اپنے ہی عوام کو غلام ذہن سوچ رکھنے والا کہہ رہے ہو؟ کیا تمہیں ان کی قربانیاں یاد نہیں آئیں؟ کیا کئ سالوں سے کشمیریوں کا حق کھانے کے بعد تمہیں الٹا وہی کشمیری غلام لگنے لگے؟ قابل مذمت بیان دیا ہے راجا فاروق حیدر نے، جس پر کوئی بھی خاموش نہیں رہ سکتا ، کوئی بھی نہیں کیونکہ قوم سب سمجھتی ہے ۔
    کشمیر انتخاب میں اینٹی انڈیا اور پرو انڈیا بیانیہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ پس ثابت ہوا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جب بھی جلسہ کیا تو اپنی ذاتی گاڑیاں بھر بھر کے جلسہ گاہ کو سجایا گیا، یا وہاں کے لوگ جلسے میں آئے بھی تو مریم نواز صاحبہ کا تماشا دیکھنے آئے، ووٹ دینے کا انکا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا،
    اور ووٹ دیتے بھی کیسے؟ جب بھی مریم نواز نے تقریر کی تو ہمیشہ پاکستان کے اداروں کے خلاف بات کی، ہمیشہ ہر جلسے میں پاک فوج کے خلاف بولتی رہیں ۔ اپنے ہر جلسے میں عمران خان نے یہ کر دیا عمران خان نے وہ کر دیا، بس صرف عمران خان عمران خان کرتی رہیں،
    کشمیر پہ مظالم انڈیا نے ڈھائے ہوئے ہیں، اور ڈھا رہا ہے ۔
    کشمیری عوام کو ہر طرح کی تکلیف نریندر مودی دے رہا ہے اور مریم نواز صاحبہ نے وہاں جا کے مودی کا نام تک نہیں لیا، کیا کشمیری اتنے بے وقوف ہیں کہ وہ آپ کی مکاری نہیں سمجھ سکے؟
    عمران خان جب اپنی ہر تقریر میں انڈیا اور نریندر مودی کو جھاڑ رہا تھا تو مریم نواز اور بلاؤل مودی کا نام تک لینے سے کترا رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ
    ‏عمران خان مقبوضہ کشمیر میں مودی کو مظالم کا ذمہ دار ٹہرا رہا تھا تو مریم نواز عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ذمہ دار ٹہراتی رہی۔

    کشمیری گھاس نہیں کھاتے۔ نا ہی کشمیری ابھی دودھ پیتے بچے ہیں، مریم نواز صاحبہ کی تقریریں سن سن کر کچھ کشمیریوں نے سوشل میڈیا پر طنز کیا کہ "اگر مریم نواز کی تقریروں سے "عمران خان” کا نام
    ‏نکال لیا جائے تو وعدہ کرو، آو گے، دو گے اور لوگے وغیرہ ہی رہ جاتا ہے۔”

    عین مہم کے دوران نواز شریف کی جعلی تصویر فوٹو شاپ کروا کر اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی کہ "کشمیر سے رشتہ پرانا ہے ”
    پکڑی گئی تو ڈیلیٹ کردی ۔ مگر ڈلیٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نا ہوا، آج کل تیز زمانہ ہے لوگوں نے سکرین شاٹ لے کر ٹویٹ کیے تو مریم صفدر کا جھوٹ فریب نا صرف کشمیر والوں نے دیکھا بلکہ پوری دنیا میں بہت رسوائی ہوئی اور اس جعل سازی پر معذرت بھی نہیں کی۔ جس کا صلہ اسے کشمیر میں بد ترین شکست کی صورت میں مل چکا ہے۔
    لہذا عرض ہے نانی یہ اپنا چورن لاہور میں بیچے ،یا پھر سندھ کا رخ کرے۔ کیونکہ یہ جہاں بھی جائے گی رسوائی اس کا مقدر ہو گی، امید ہے کہ اب پاکستان کا ہر ذی شعور یہ بات سمجھ چکا ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان ہی پاکستان کے اصل محب وطن لیڈر ہیں جو پاکستان کو اپنے وطن کو سپر پاور بنا کر ہی دم لیں گے ان شاء اللہ!
    پاکستان زندہ باد عمران خان پائندہ باد!!

    @Imran1Khaan

  • دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے ایلون مسک کی آمدنی سے متعلق نئے اعداد شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق ان کی روزانہ کی آمدنی 3.75 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔

    ٹیسلا نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ کمپنی کی آمدنی 2021 کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی کی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر کے 1.14 ارب تک پہنچ گئی ہے۔

    کیلیفورنیا میں موجود کمپنی اپریل سے جون کے دوران ریکارڈ دو لاکھ سے زائد گاڑیاں تیار کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پیر کے روز ٹیسلا کے اسٹاک کی قیمت 676.42 ڈالر فی شیئر تک پہنچ چکی تھی۔

    ٹیسلا کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے ایلون مسک نے ابھی بٹ کوائن کرنسی نہ خریدی ہے اور نہ ہی فروخت کی ہے۔

    بلومبرگ بلینیئر انڈیکس کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ ایلون مسک کی مجموعی مالیت دو برسوں کے دوران 177 بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

    تاہم اب جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے، برقی کاریں اور خلائی راکٹ بنانے والی معروف کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کو دنیا کی امیر ترین شخصیات میں پہلے نمبر پر آنے کے لیے 32 بلین ڈالر کی ضرورت ہے

    جبکہ پہلے نمبر پر اب بھی ایمازون اور بلواوریجن کے بانی جیف بیزوز ہیں، جن کی نیٹ ورتھ 208 ارب ڈالر سے زائد ہے، اور بل گیٹس 151 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

  • ہوس اقتدار اور شریف خاندان  تحریر-سید لعل بُخاری

    ہوس اقتدار اور شریف خاندان تحریر-سید لعل بُخاری

    اقتدار تو آنی جانی چیز ہے،اسکی وجہ سے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں اسی ملک کی بدولت ہیں۔
    اس مُلک نے جتنا شریف خاندان کو نوازا،ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
    فوج نے انہیں گود میں پالا
    اسٹیبلش منٹ کی آنکھ کا یہ تارہ رہے
    مگر اقتدار چھن جانے کے بعد زخمی بھیڑیے کی طرح یہ ملک پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
    اقتدار بھی کسی اور نے نہیں چھینا،بلکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس سے محروم ہونا پڑا
    نہ یہ کرپشن میں پکڑے جاتے اور نہ ہی انکی موجیں کبھی ختم ہوتیں
    مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا
    چور جتنا بھی ہوشیار ہو ایک دن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہچتا ہے۔
    یہی کچھ شریفوں کے ساتھ ہوا۔
    پانامہ کیس نے انکا بھانڈہ پھوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔اب
    کشمیر الیکشن میں شکست انہیں بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی
    مریم کی سربراہی میں اس وقت ایک ایسا گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے ملک کے لئے تباہ کُن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں کو لڑانے کے لئے ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو کشمیر اورپاکستان کو خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف سے دھکیل سکتا ہے
    مگر ان کی بلا سے،
    اگر خاکم بدہن ایسا کچھ ہوا تو ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔
    پوارا خاندان پہلے ہی لندن میں قوم کے پیسے پر عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
    ضرورت پڑی تو مریم بی بی بھی گلاسی اُٹھاۓ رفو چکر ہو جاۓ گی۔
    ان کے لئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لینا بھی کوئ مشکل کام نہیں۔
    جس کی مثال نواز شریف کا 50روپے کے اسٹامپ پر ملک سے فرار ہے۔
    کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے والے ججز نے کبھی سوچا ہے کہ جس بیمارکی زندگی کی گارنٹی وہ عمران خان سے مانگ رہے تھے،اس نے وہاں جا کے علاج کے بجاۓ پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔وہ یا توجاگنگ کرتا ہے یا پاکستان کے دشمنوں سے ملاقاتیں۔
    بات یہاں تک بھی نہیں رُکتی کہ یہ خاندان اقتدار سے دوری کا بدلہ پاکستان سے لے رہا ہے،یہ خاندان تو اتنا احسان فراموش ،کم ظرف اور بے فیض ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوۓ بھی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا تھا
    کون بھول سکتا ہے ان کی وہ سازشیں جو یہ اقتدار میں موجود رہتے ہوۓ اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کرتے تھے۔ڈان لیکس جیسے متعدد واقعات ہیں ،جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی فوج کے بھارت سے زیادہ مخالف تھے اور ہیں-
    ان کے کرتوت کئی دفعہ سامنےآۓ،مگر انہیں کچھ نہ کہا گیا
    پرویز رشید اور مشاہداللہ مرحوم جیسے غلامان کو قربانی کا بکرہ بنا کے انہیں پھر معاف کر دیا گیا
    یہ کہتے ہوۓ ہوۓ کہ چلو خیر ہے ، یہ بچی ہے
    اب وہی بچی ایک بار پھرملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔
    چلیں خیر جانے دیں،اُس کا زکر ہی کیا
    وہ تو بچی ہے ! #

    تحریر سید لعل بُخاری
    @lalbukhari

  • بزرگ

    بزرگ

    بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے

    ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا

    ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا

    ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
    کہتے
    ” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”

    بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
    جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔

    اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
    زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیں

    شائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
    چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
    کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
    شعر ہے کہ
    اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
    ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے

    @Talha0fficial1

  • دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    ﷲ سبحانہ و تعالی کا روحِ عرض پر ایک اصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم اس (ﷲ)کے دئیے ہوئے مہم/راستے پر نہیں چلی اس(ﷲ) نے اس قوم کو تباہ کر دیا یا اس سے اپنی رحمت کے سائے اُٹھا لیے اور ان کو کھلی چھُوٹ دے دی گئی کہ جو کرنا ہے کرو ایک دن میری ہی طرف پلٹ کر آؤ گے۔ چھ سو سال حکومت کی عربوں نے اور بلاآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پھر رحمت کے سائے ترکوں کے حصے میں آئے پھر برصغیر پر پڑے اور ستائیسویں رات یعنی شبِ قدر کو پاکستان ایک تحفہ کی صورت میں نازل ہوا۔ دنیا میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چلی، کوئی عرب قومیت پر، کوئی نسل اور رنگ پر لیکن تحریک پاکستان وہ واحد تحریک تھی جو اسلام کے نام پر چلی کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ یہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بنا، آج اسی میں رہنے والے مسلمان صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اس ملک کو ﷲ سبحانہ و تعالی نے خاص مقصد کے کیے ہمیں تحفہ میں دیا لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملنے والے ملک میں ہر جگہ دوہرا میعار پایا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والا ہر شخص اپنے چند ٹکے کے فائدہ کے لیے اسلام مذہب، دین، ایمان، قانون اور ریاست کا نقصان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہاں ایک گلی محلے سے لے کر گاؤں شہر اور پھر صوبوں میں بھی نسلی تناسب عام ہے اسلام تو دور انسانیت کی بھی قدر نہیں۔ آج کل ہر جگہ سیاست چل رہی ہے وہ گھر ہو یا رشتہ دار، گاؤں ہو یا شہر، صوبہ ہو یا ملک۔ یہاں ایک پڑھے لکھے انسان کو ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ملازمت حاصل کرنے کے لیے لیکن ایک ان پڑھ جاہل چور ڈاکو وزیراعظم تک بن جاتا ہے۔ ہر ایک بندہ خود کو ایک اسلامی مذہبی مان کرکے دوسروں کو کافر یہودی ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ عوام ایک پڑھے لکھے یا مذہبی بندے کو ووٹ نہیں دیتی اور چور ڈاکو ، کرپشن سے بھرپور کو وزیر تک بنا دیتی ہے۔ ایک وقت کی روٹی چرانے والے کو مار مار لہولہان کر دیتی ہے اور اربوں چوری کرنے والوں کے نام کے نعرے لگتے ہیں۔ کسی محکمے میں ایک ایماندار آفیسر آنے سے سارے کرپٹ آفسران اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا حق تو دور کی بات ہے اپنے ہی گھر کے افراد اور رشتہ داروں کا حق کھانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہر چیز میں ملاوٹ کرنے کی عادت کو دن بدن بڑھاتے ہیں اور الزام اپنے ہی چُنے ہوئے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ اپنی پسند کی چیزیں اقتدار مل جائے تو ٹھیک ورنہ اسلام کیا ریاست کیا ہر ایک کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے والے ملک ہونے کے ساتھ ہم بےایمانی میں سب سے اُوپر ہیں۔ اس میں کسی کافر، یہودی اور عیسائیوں کا عمل دخل نہیں بلکہ اپنا ہی دوہرا میعار ہے جو ہم کو ہمارے کردار اور عادات پر پردہ ڈال کر صرف دوسروں کی خامیوں کو دیکھنے اور پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج کل پاکستان میں رہنے والے پاکستانی اور مسلمان کم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان زیادہ نظر آتے ہیں۔ بشتر افراد سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کسی بھی ملک و ریاست کی سلامتی، امن و امان میں کلیدی کردار صحافت اور میڈیا کا ہوتا ہے جب کہ آج کل میڈیا بھی سیاست زد میں آیا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ سب ہی ایک طرح کے ہیں بہت سے صحافی آج بھی دن رات محنت کرکے ریاست، اسلام اور عوام کے مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب عوام کو سوچنا کہ ہمیں خود کو ٹھیک کر کے ایک اچھے مسلمان اور پاکستانی بننا ہے تاکہ ہم سے جو ﷲ نے بحثیت قوم کام لینا ہے وہ بھی کر سکیں اور دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے آخرت بھی سنور سکے۔ @SajjadHQamar