Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر:  فائزہ خان

    آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر: فائزہ خان

    آزاد کشمیر کے کل کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ بظاہر میک اپ شدہ ڈمی کو لوگ دیکھنے تو آ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ اسی کو دیں گے جن کی زبانوں سے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں۔ جن کے وعدوں پر انہیں یقین ہے۔ جن کی بیانیہ مضبوط ہیں
    کشمیری جو اپنے فوجی جوانوں پر جان دیتے ہیں انہوں نے نون لیگ کا بنیادی بیانیہ ہی مسترد کر دیا۔ اداروں کے خلاف زبان چلانے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے نون لیگ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    کشمیریوں نے بدلے کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا
    علی امین گنڈا پور کے صرف اتنا کہنا کہ مریم نے سرکاری خرچہ سے پلاسٹک سرجری کرائی انہیں کشمیر سے دیس نکالا دے دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نون لیگ کی حکومت تھی تو سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بدلے کی سیاست کا کھیل کھیلا گیا مگر کیا فائدہ ہوا کشمیریوں نے ان کا یہ کھیل بھی مسترد کر دیا
    جبکہ بلاول کو این الیکشن کی کمپین کے دوران امریکہ جانا زیادہ ضروری لگا صرف امریکہ کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کرتے ہمیں استعمال کرو ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں ایک ایسے وقت میں امریکہ جانا بھی مہنگا پڑا۔ اور آصفہ بھٹو نے پیچھے سے دو ناکام جلسیاں کرکے ان کے الیکشن میں جیتنے کی ہر امید پر پانی پھیر دیا مریم اور بلاول نے اپنی پارٹیوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کشمیر میں الیکشن صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں جیتا گیا بلکہ مریم اور بلاول کی پچگانہ حرکتوں نے بھی پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ دی اور جیتنے میں مدد فراہم کی
    اس بار آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران بہت گہما گہمی نظر آئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے اسی سلسلے میں بہت سے بیانات بہت سخت بھی دے دیے گئے تھے تینوں بڑی پارٹیوں نے ان انتخابات میں گہری دلچسپی بھی لی اور آخری وقت تک اپنے آپ کو ہی فاتح قرار دیتے رہے مگر نتائج وہی برآمد ہوئے جو عمران خان کے جلسے میں آنے والی عوام سے ظاہر تھے دیکھا جائے تو مریم کے جلسے میں بھی عوام کم نہ تھے مگر نتائج نے ثابت کیا کہ عوام بس سجی سجآئی ڈمی کو دیکھنے آتے تھے ورنہ وہ عمران خان کے بیانیہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاص مماثلت رکھتی ہے
    اس سے پہلے کی حکمران جماعتیں کشمیر کے عوام کو الگ حیثیت دینے کو تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کہہ کر کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنی علیحدہ حیثیت رکھنا چاہتے ہیں کشمیریوں کا دل جیت لیا اب دعا یہ ہے کہ عمران کشمیر کی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز کس طرح ان کے اس مشن کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں

    @_Faizakhann

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک   تحریر:یاسرشہزادتنولی

    خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    قلم جب جب اٹھے گا
    سیاہی سچائی کی ہوگی
    میں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کی تمام بہاریں دیکھی ہیں۔اللہ نے خوشیاں دی تو سنبھالی نہ گئیں تو دوسری طرف دکھوں کا ایک سمندر بھی برداشت کیا۔میرے کاندوں نے باپ کے جنازۓ کو اٹھایا ۔مگر دل اس قدر افسردہ اور خون کے آنسو نہیں رویا یوں سمجھے کہ آج صبح کے واقعہ کو دیکھنے کا موقع ملا تو خون کے آنسو بھی خشک ہوگئے۔میں نے آج تک اس قدر رونما ہوا واقعہ کو نہیں دیکھا۔کل حسب عادت گھر سےمانسہرہ پریس کلب جانے کے لئے ۹ بجے گھر سے نکلا اور گاڑی میں سوار ہوا مسافر چڑھتے گئے کیری ڈبہ میں چلنے والی قوالیوں نے ایک سحر باندھ دیا۔میں اسی میں غرق تھا کہ اچانک میری نظر سڑک پر بیھٹے اس بچہ پر پڑی جو گردن جھکائے دنیا و جہاں سے بے خبر تھا وہ شین باغ بفہ کی سڑک کے بیچو بیچ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا اور ٹریفک کا ہجوم،لوگوں کی چلنے کی آہٹ،گاڑیوں کا دھواں،سب سے بڑھ کر وہ ایک زندہ لاش کی مانند تھا اسے یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اس کے کپڑے کہا ں کے کہاں جا رہے ہیں۔اس کی عمر۱۲سے ۱۳ سال تھی،چہرہ جھکا ہوا ہونے کے باوجوداس کی گوری رنگت کو ظاہر کر رہا تھا بال کلر میں رنگے ہوئے تھے اور گولڈن کلر صاف واضح ہورہا تھا۔

    وہ ہیروئن کے نشے میں دھت تھا۔میں نے ہیروئن کے نشے میں دھت بہت سے نوجوان دیکھے ہیں جوکہ پکھل مانسہرہ کے مختلف ایریا میں پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کوئی نشے کی حالت میں کھڑے کا کھڑا رہے گا گھنٹوں، تو کوئی سر جھکائے سجدے کی حالت میں ساکن جسم کے ساتھ دکھائی دے گا،کسی کو اتنا ہوش تک نہیں ہوتا کہ وہ کچرے میں پڑا ہوا ہے اور مکھیاں اس کے گر د چکر لگا رہی ہیں اور وہ اس بدبو دار کچرے کو نرم بستر سمجھ کر سو رہا ہوتا ہے۔بات ہو رہی تھی اس بچہ کی اسے اس حالت میں دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی وہ کس گھر کا ہوگا،کس کے گھر کا چراغ ہوگا،کس ماں باپ کا بیٹا ہوگا،کس بہن کا بھائی ہوگا یا پھر یتیم۔۔۔۔
    کیری ڈبہ میں سوار تمام لوگوں نے استغفار کہا اور میری آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے رومال سے اس دنیا سے ایسے چھپایا جسے وہ میرا کوئی اپنا ہو اور اس کے لئے دل سے خون کے آنسوں جاری ہوگئے ہو۔اسی وقت میرے دل سے ایک بد دعا اس وقت کے حکمراں ضیاء الحق کے لئے نکلی کہ جس نے اس غلیظ وباء کو افغان روس وار میں پاکستان میں داخل کیا آج اس انسان کی اس حرکت کا خمیازہ میری نسل کے میری قوم کے نوجوان ہی نہیں بچے،بوڑھے،جوان مرد و عورت سب ہی بھگت رہے ہیں ہمارے ملک کے ہونہار،نونہال اور مستقبل کے چمکتے ستارے اس نشے میں لگ کر اپنی دنیا برباد کر رہے ہیں۔اس نشے کو پروموٹ کرنے والوں تمھاری نسلیں بھی اس میں مبتلا ہوں گی جب معلوم ہوگا کہ قبر کا حال مردہ جانے۔۔۔۔۔
    اللہ پاک میرۓ پیارۓ پاکستان کے مستقبل ستاروں کو اس موذی نشے کی عادت سے چھٹکارا عطاء فرماۓ۔آمین
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    بھارتی ریاست راجستھان کے 42 سالہ پُرکھا رام سال کے 365 دن میں سے تقریباً 300 دن سوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام کو ایسی انوکھی بیماری ہے جو ایک ارب لوگوں میں سے صرف ایک ہوتی ہے، یعنی اس وقت زیادہ سے زیادہ بھی ہوئے تو دنیا میں پُرکھا رام جیسے صرف 7 لوگ ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پُرکھا رام کو 23 سال پہلے اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جب وہ سونے کے لیے لیٹتے ہیں تو 20 سے 25 دن مسلسل سوتے رہتے ہیں اس دوران اُنہیں جگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

    اس مرض کی علامات میں شدید سر درد اور تھکان شامل ہیں یہ بنیادی طور پر ایک نفسیاتی بیماری ہے لیکن کچھ کیسز میں یہ دماغ میں رسولی ہونے یا چوٹ لگنے سے بھی ہو جاتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام اور اُن کے گھر والے اس اُمید میں جی رہے ہیں کہ اس بیماری کا علاج دریافت ہوجائے اور اُن کی زندگی معمول پر آسکے۔

    جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا علاج تبھی ممکن ہے جب اس کی بنیادی وجہ معلوم ہو سکے۔

  • عمران خان ، مافیا اور عوام۔  تحریر :احسن وقار خان

    عمران خان ، مافیا اور عوام۔ تحریر :احسن وقار خان

    ہم روز مافیا کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ مافیا اتنا طاقتور بنا کیوں ؟
    ہم مافیا کو پاکستان کی بربادی کا سبب تو قرار دیتے ہیں لیکن کبھی خود اس مافیا کے خلاف کھڑے ہوۓ؟
    ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملے گا ۔
    اگر آج کا مافیا اتنا طاقتور ہے تو اس کی قصور وار عوام خود بھی ہے ۔
    ایک طرف غریب عوام مافیا کو گالیاں نکالتی ہے تو دوسری طرف خود یہی عوام اگر اس مافیا کو کچھ کہو تو اس مافیا کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔

    پاکستانی عوام کی سوچ روٹی کپڑے اور مکان سے شروع ہوتی ہے اور دکھ سکھ میں شرکت سے ہوتی ہوئی گٹر کی صفائی ، نالیاں اور روڈیں پکی کرنے پر پورا ہو جاتی ہے ۔

    افسوس کی بات یہ ہے کے ہمارے پیارے پاکستان کی ایک ایسی جماعت نے تین دفعہ حکومت کی۔ جس نے نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان “کا لگایا لیکن بیرون ملک ”مسٹر 10 پرسنٹ“ کے نام سے مشہور رہی۔
    اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کہ کیوں اس جماعت کو سپورٹ کرتے ہو ؟ تو ان کے پاس بس ایک ہی جواب ہوتا ہے ۔””۔۔بھٹو لیڈر تھا اس لیے سپورٹ کرتے ہیں““۔۔ ان سپوٹروں کو نا پاکستان کی تصویر بیرون ملک خراب ہونے کی فکر ہے نا پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے پر اس جماعت پر غصہ ۔۔۔۔۔۔بس فکر ہے تو اس مردہ بھٹو کی جس نے پاکستان کو تقسیم کر دیا ۔

    اس جماعت کے چوروں ڈاکوں پر ہاتھ ڈالو تو یہی عوام جو روتی ہے ان کی خاطر ان کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے تو مافیا طاقتور کیوں نا ہو ۔؟

    اب آتے ہیں دوسری جماعت کی طرف جس کے لیڈر کو عدالت عظمٰی کی طرف سے”” سسیلہن مافیا ““کے لقب سے نوازا گیا لیکن وہ جناب آج بھی کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”مجھے کیوں نکالا “؟؟اور پھر یہی عوام تالیاں مارتی ہے ۔
    حمزہ شہباز کہتا ہےکہ
    ” کرپشن تو ہوتی رہتی ہے“ـ
    مریم نواز کہتی ہے
    ”” میرے باپ کو جان کی گارنٹی دو پھر پاکستان آۓ گا““
    اس شخص کو پاکستان آتے ڈر لگتا ہےجو پاکستان کا تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہے۔
    سب سے بڑا مافیا اس جماعت میں ہے لیکن طاقتور ہے عوام کی طاقت سے۔اس مافیا کو پتا ہے ہم جو مرضی کریں یہ عوام ہماری حفاظت کے لیے باہر نکل آۓگی ۔
    اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کیوں سپورٹ کرتے ہو تو کہیں گے کہ اس نے موٹر وے بنائی اس نے روڈیں بنائیں۔
    کوئی مجھے یہ نہیں بتاتا کہ کیا روڈیں بنانے سے ان کے گھر کا چولہا جلے گا ؟؟؟؟؟۔

    اب آتے ملک کی تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف جو تعلیم ، روزگار کے نعرہ کے ساتھ 2018 میں اقتدار میں آئی جس کا سربراہ عمران خان آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرتا ہے ۔کشمیر کا سفیر بن کر”” کلمہ حق ““بلند کرتا ہے ۔
    جو روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے پر عمل کرتے ہوۓلنگر خانے بھی چلا رہا ہے اور سستے گھر بھی بنا کر دے رہا ہے ۔
    روڈیں اور پل بھی بنا رہا ہے
    صرف اتنا نہیں ملک میں بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
    بہت سی کمپنیاں کارخانےلگا رہی ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گا ۔لیکن عوام کو یہ سب ایک رات میں چاہیے ۔
    اس عوام کو سمجھنا چاہیے کارخانے، فیکٹریاں اور ڈیم ایک دن میں نہیں بنتے ۔انھیں وقت درکار ہے ۔
    عوام کو سوچنا چاہیے کے اسے کس کو سپورٹ کرنا ہے ایک ایسے شخص کو جس کی وجہ سے ہر شخص کا سر فخر سے بلند ہو رہا ہے ۔ایک ایسا شخص جس کے آنے کے بعد پاکستان ہمیشہ سامنے کھڑا رہتا ہے ۔جس شخص کی وجہ سے اب تمام اہم معاملات میں پوچھا جاتا ہے ۔
    وہ شخص جو اقوام متحدہ میں” کلمہ طیبہ“ یہودیوں کے سامنے سر بلند کرتا ہے ۔جو شخص پاکستان کو دن رات محنت کر کے اندھیرے سے اجالوں میں لا رہا ہے ۔
    یا دوبارہ اس مافیا کو سپورٹ کرنا ہے جس نے پاکستان کو لوٹنے کی سوا کچھ نہیں دیا ۔

    خدارا!!!
    تمام پاکستانی سب سے پہلے پاکستان کا سوچیں ۔کبھی کسی کرپٹ کے بازو نا بنیں ۔
    سب سے پہلے پاکستان کو رکھیں ۔
    پاکستان زندہ باد

    @KhanKh23151672

  • اسلامی احکامات اور لبرلز   تحریر : تقویٰ نور

    اسلامی احکامات اور لبرلز تحریر : تقویٰ نور

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے.انسانی زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل قرآن پاک میں موجود نہ ہو. قرآن پاک میں ہر چیز کے متعلق احکامات موجود ہیں. ہر نیک عمل کا اجر اور ہر گناہ کی سزا بتا دی گئی ہے اور اہل ایمان کو بار بار ان احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی تاکید کی گئی ہے.

    دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا. پاکستان کے بانی رہنماؤں نے اس کے قیام کے دوران ہمیشہ پاکستان کو اسلامی احکامات کے مطابق چلانے کے عزم کا اظہار کیا. لیکن آج کے پاکستان میں جب بھی اسلامی احکامات یا سزاؤں کی بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ جو کہ اپنے آپ کو لبرلز کہتے ہیں اس کے خلاف کمپین شروع کر دیتے ہیں.

    مثال کے طور پر اگر خواتین کے پردے کی بات کی جائے تو قرآن پاک میں متعدد مقامات پر عورت کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کی غلیظ نظروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے. لیکن لبرلز اسے عورت کے حقوق کا استحصال کہتے ہیں حالانکہ جتنی آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے اتنی دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دی. افسوس صد افسوس کہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے اور خود کو لبرلز ثابت کرتے یہ لوگ نہ صرف پردے کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ اپنی حرکات سے اللہ کے اس حکم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.

    اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زنا کے بڑھتے ہوئے واقعات قابل تشویش ہیں.اگر مرد و عورت اسلامی احکامات پر عمل کریں. اول تو یہ واقعات ہوں ہی نا اور دوسرا اگر مجرموں کو اللہ کی نافذ کردہ سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تو ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.. لیکن یہاں پھر وہی لبرلز، غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی تنظیمیں اور این جی اوز شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور اسلامی سزا کو( معاذ اللہ) ظلم سے تعبیر کرتے ہیں.

    مختصر یہ کہ خود کو ماڈرن اور لبرلز ثابت کرنے کے چکر میں یہ لوگ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی برباد کر رہے ہیں کیونکہ نجات تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں ہی ہے.
    @TaqwaNoorPTI

  • ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏والدین ہمارا قیمتی اثاثہ ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    جب ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ،جنہوں نے ہمیں دنیا کے رسم و رواج سکھایا ، جو ہمارے لئے مشکلات کے وقت ہمارے پاس موجود تھے ، جو اچھے وقت میں ہمارے ساتھ ہنستے تھے ، جنہوں نے ہمارے لیے اپنی تمام تر خوشیاں اور خواہشات کو قربان کیا ، ہم میں سے بیشتر اپنے والدین کے بارے میں فورا ہی سوچتے ہیں۔ اور یہ سچ ہے، ہمارے والدین وہی ہیں جو ہماری زندگی میں تقریبا ہر چیز کے ساتھ ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    ہمارے والدین ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہمارے لیے پلاننگ کر لیتے ہیں اور کچھ چیزوں کی فہرست بھی بنالیتے ہیں ، ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں ، ہمارے تعلیم کے اخراجات ، ہماری چھوٹی بڑی خواہشات پوری کرنا ، اور مالی اور تعلیمی لحاظ سے ہمارے لئے بہترین سہولتيں مہیا کرنا، ان کے بغیر ، ہم میں سے بیشتر ان جگہوں پر نہیں ہوتے جہاں ہم آج ہیں وہ اپنے والدین کی وجہ مگر بدقسمتی سے ، بہت سے لوگ اپنے والدین کے ساتھ اس طرح سلوک نہیں کرتے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

    کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ نہایت ہی معمولی موضوعات پر لڑتے رہتے ہیں۔ کچھ بچے اپنے والدین کو نظرانداز کرتے ہیں ، بجائے اپنے دوستوں کے ساتھ یا آن لائن وقت گزارتے ہیں۔. جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے والدین کو ہماری ضرورت ہیں ، اور جب ہم اپنے
    پریٹکل زندگی شروع کرتے ہیں تو انہیں سہارا دینے کے بجاٸے اولڈ ایج ہوم میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں
    اسلام میں بھی اس کی سختی سے ممانعت ہے

    اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ والدین کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ سلوک کریں ، چاہے ہم جس صورتحال میں ہوں۔ والدین دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی، اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی ،قران مجید میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے

    اللہ تعالیٰﷻ کا ارشاد ہے۔

    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا ۔بنی اسرائیل:23

    شریعت ہمیں واضح طور پر اپنے والدین کا احترام کرنا حکم دیتی ہے۔ ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ،سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہمارے والدین کی اہمیت اور مختلف آیات کو یاد کرنا چاہئے جو ہمیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی یاد دلاتے ہیں۔. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سارے حدیث بھی ہیں جو ہمیں والدین کے ساتھ احسن سلوک کا درس دیتی ہے

    قارئين!ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں کرنے کی عادت بنانی چاہئے،ہمارے والدین نے ہمارے لیے کتنی تکالیف برداشت کیں ، ہمارے والدین سے روزانہ کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے، ان کا حال احوال پوچھیں انہیں کیسی چیز کی ضرورت تو وہ پوری کیں جاٸیں ، ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، انکی ہر چھوٹی اور بڑی خواہشات کو پورا کرنا چاہیے انکی عزت کرنی چاہیے ،آخر میں بس اتنا کہوں گا اپنے والدین کی قدر کریں اور انکی خدمت کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابیاں حاصل کریں!

    اللہ پاک ہمارے والدین کا سایہ ہم پر قاٸم و داٸم رکھے اور انکی خدمت کرنے کی توفيق عطا فرماٸے ۔آمین!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ‏عنوان : ایسا کیوں؟؟  تحریر : شاہ زیب

    ‏عنوان : ایسا کیوں؟؟ تحریر : شاہ زیب

    یہ میرا ہی تجزیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے اور بالکل سچ ہے
    پاکستانی تاریخ میں نواز شریف تقریباً سب سے زیادہ وقت اقتدار میں براجمان رہے لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان بھی نواز شریف نے ہی پہنچایا
    پہلے تو پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ایسا لوٹا کہ ایک لوہار کے بیٹے صرف چار سال کی عمر میں اربوں روپے کے مالک بن گئے
    اور صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان سے باہر لندن میں مہنگے ترین علاقے میں فلیٹس کے مالک نکلے
    نواز شریف نے ان کا جواز پاکستانی سپریم پارلیمنٹ میں یہ دیا کہ میرے والد ایک معروف انڈسٹریلسٹ تھے جن سے وراثت میں ہمیں اتنی جائیداد ملی
    دوسری طرف بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ
    شہباز شریف نے بھی اسی ایوان میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں ایک غریب کسان کا بیٹا ہوں جو اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچا
    اب نواز شریف اور شہباز شریف دونوں سگے بھائی ہیں
    لیکن دونوں کا باپ کے بارے میں اختلاف ہے جو پاکستانی عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے
    نواز شریف سے معصوم سمجھے جانے والے شہباز شریف کی داستانِ کرپشن دیکھی جائے تو موصوف ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے
    درجنوں ملازمین اور نامعلوم پاپڑ والے/ ٹھیلے والے وغیرہ وغیرہ کے اکاؤنٹ سے ان کی رقم نکل رہی ہے
    یہاں تک کہ ان کے ذاتی اکاؤنٹس سے بھی اربوں روپے کی رقم نکل رہی ہے
    پوچھنے پر ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ ہمارے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرتا رہا
    الغرض ان کی کرپشن کی داستانیں ایسی مشہور ہیں کہ یہ خاندان کرپشن میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے اور ان کی پارٹی مسلم لیگ نواز دنیا میں دوسرے نمبر پر 🙏
    نون لیگ اور پیپلز پارٹی بدل بدل کے باریاں لیتے رہے اور ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے کے میں آپ کے حلق سے پیسے نکال لوں گا اور میں آپ کو لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا لیکن یہ صرف بیان بازیاں تھیں لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے
    پانامہ لیکس وکی لیکس میں ان کی ہوشربا کرپشن کے انکشافات کیے گئے
    2018 کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے ان کو مزید ایکسپوز کیا جس کے بعد ایک نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا جن میں ان کی اصلیت عام عوام تک پہنچی
    جس کے بعد یہ جماعت عوام میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھونے لگی
    نواز شریف حسبِ سابق جیل کے ڈر سے مختلف بیماریوں کا بہانہ بنا کر پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا پارٹی کی کمان ظاہری طور پر شہباز شریف اور عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں آ گئی
    مریم نواز کے عمران مخالف بیانات پاکستان مخالفت کا روپ دھارتے گئے
    حتی کہ جو پاکستان کے خلاف کوئی بات کرتا ہے یہ محترمہ ان کے حق میں بیان کرتی نظر آتی ہیں
    یہ پارٹی شروع سے فوج محالف تو رہی ہی ہے اب پاکستان مخالفت میں بھی کوئی شک نہیں رہا
    نواز شریف واحد پاکستانی سابق وزیراعظم ہیں جن کا بیان پاکستان ہی کے خلاف عالمی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا
    انڈیا امریکہ اور اسرائیل جیسے بد ترین دشمن بھی پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں تو یہ ان کی حمایت کرتے ہیں
    آخر ایسا کیوں؟؟
    کیا وجہ ہے؟؟
    مریم نواز کے آنے سے پارٹی کی جو تباہی ہوئی سو ہوئی پاکستان کی بھی دنیا میں بدنامی ہوئی
    اور ان محترمہ کو کوئی پچھتاوا بھی نہیں بلکہ الٹا مزید یہ کھل کر پاکستان کے خلاف بول رہی ہیں
    وجہ صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہے اور کچھ نہیں 🙏
    اقتدار میں آ کے یہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اس کا مشاہدہ آپ ان کے گذشتہ ادوار سے بخوبی لگا سکتے ہیں
    دنیا کے مہنگے ترین منصوبے انہوں نے پاکستان میں شروع کیے کس لئے؟؟ صرف اور صرف بھاری کمیشن کی غرض سے
    اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آیا کنٹریکٹر اصل میٹریل استعمال کر رہا ہے یا ناقص
    اورنج ٹرین کے منصوبے کو دنیا کا مہنگا ترین منصوبہ قرار دیا گیا ہے
    مہر 27 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط اورنج ٹرین پر جتنا پیسہ لگایا گیا اس سے لاہور تا کراچی مکمل نیا ریلوے ٹریک بچھایا جا سکتا تھا
    یا پورے پاکستان میں ہسپتالوں کا ایک بہترین نظام بنایا جا سکتا تھا
    یہی حال میٹرو بسوں کا ہے جو کہ ادھار پر لی گئیں اور ان پہ لاگت بھی ہم پاکستانی عوام افورڈ نہیں کر سکتے
    کیا اب بھی ہم بحیثیت پاکستانی اس کرپٹ لیگ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟
    یقیناً نہیں
    کیوں کہ ہمیں پاکستان اور پاکستان کے وسائل عزیز ہیں ہم ایک بہترین قوم ہیں جو کم ترین بجٹ کے باوجود دنیا کی بہترین فوج رکھتے ہیں واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے عالم اسلام میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں دنیا میں ایک نمایاں جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں ہر موسم اور ہر طرح کا خطہ ارض رکھتے ہیں
    وسیع معدنی ذخائر اور ہر طرح کے پانیوں کی سرزمین کے باسی ہیں الحمدللہ
    دشمن پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی افادیت سے بخوبی واقف ہے
    اور اس کی نظر میں یہی چیزیں سب سے زیادہ کھٹک رہی ہے
    دشمن نے پاکستان کی سرزمین کو نقصان پہنچانے کی خاطر پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جس سے نواز شریف جیسے لوگوں کو خرید کر اپنی مرضی کے کام کروائے افغانستان کے ذریعہ پاکستان میں امن کو نقصان پہنچایا اور بلوچستان میں کئی نام نہاد تحریکیں چلوائیں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچایا
    پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی اس جنگ میں بے مثال فتح حاصل کی اور اب اس فتح کو برقرار رکھنے میں پاکستانی عوام کا کردار نہایت اہم ہے.
    ہمیں چاہئے کہ اپنے ووٹ کی طاقت ان پاکستانی رہنماؤں کے لیے استعمال کریں جو پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں پاکستان کو لے کر چلتے ہیں نہ کہ دشمنوں کو مضبوط کریں
    پاکستان ہمارا ہے اور فرمانِ قائد کے مطابق "دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی”

  • مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قبا ء اسلام کی اولین مسجد جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی سب سے پہلا پتھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اس کے بعد ایک ایک پتھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے رکھا ، آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ،یہ مسجد کلثوم بن ہدم کی زمین پر قائم کی گئی
    ہمارے پیارے نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے جہاں اہل مدینہ نے آپ ﷺ کا استقبال کیا اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا وہ جگہ قباء تھی اور اسی جگہ مسجد قباء کی تعمیر ہوئی قباء محلے میں ہونے کی وجہ سے مسجد کو مسجد قباء کا نام دیا گیا ہے ،مسجد قباء 8 تا 11 ربیع الاول 1 ھجری میں تعمیر کی گئی
    مسجد قباء مدینہ منورہ کے جنوب میں کم و بیش 5 کلومیٹر پر ہے شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، جب تحویل کعبہ کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ بنفس نفیس قباء تشریف لائے اور قبلہ کا تعین فرمایا ،مسجد قباء کے ساتھ ہی ایک کنواں ہے جو کہ ابو ایوب انصاری ؓ کے نام سے مشہور ہے ، اس مسجد کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 108 میں کچھ ایسے آیا ہے
    لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ١٠٨؁
    جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں ۔(108سورۃ التوبہ )
    مسجد قباء کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قباء سواری پر اور پیدل بھی جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 898
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ہفتہ قباء تشریف لاتے تھے اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ قباء تشریف لے جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 902

    اہل قبا ء کی شان میں نازل ہونے والی آیت

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت فیہ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھّرُوا وَاللہ یُحِبُ المُطَّھِّرِین (یہاں کے لوگ ایسے ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی خوب پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اہل قباء کے بارے نازل ہوئی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ قباء کے لوگ (ڈھیلوں سے استنجے کے بعد) پانی سے طہارت حاصل کیا کرتے تھے اور اسی بنا پر یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی۔سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 44

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل تشریف لاتے اور کبھی سوار ہو کر ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں آ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 275

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا اس طرح ہے جیسے کسی نے عمرہ ادا کیا۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 311

    حضرت اسید بن ظہیر جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد قباء میں (پڑھی گئی) ایک نماز (ثواب میں) عمرہ کے برابر ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1411حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اپنے گھر خوب پاکی حاصل کرے پھر مسجد قباء آ کر نماز پڑھے اس کو عمرہ کے برابر اجر ملے گا ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1412
    عمرہ اور حج کیلئے آنے والے ہوں یا محنت مزدوری کیلئے موجود افراد جو بھی مدینہ منورہ پہنچتا ہے اسکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ مسجد قباء میں حاضر ہو اور دورکعت نماز ادا کرکے عمرہ کا ثواب حاصل کرے ، مجھے بھی الحمد اللہ گزشتہ 17 سالوں میں بکثرت یہ سعادت حاصل رہی جب تک ریا ض مقیم رہا تو واپسی پر مسجد قباء بچوں سمیت نماز ادا کرنے پہنچا کرتا تھا اب جبکہ اللہ رب العالمین نے اپنے فضل و کرم سے رزق کا بندہ بست جدہ میں کردیا ہے تو اب ہر دفعہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی پہلے مسجد قباء پہنچتے ہیں عیدوں کا موقع ہو تو گاڑی وہیں پارک کرکے مسجد نبوی ﷺ جاتے ہیں اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں جتنا ممکن ہو وہاں رکتے ہیں اور پھر بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے واپس آجاتے ہیں جو سکون مسجد نبوی ﷺ میں پہنچ کر ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے ،
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ آپ سب مسلمان بہن بھائیوں کو جلد ان دونوں مساجد میں حاضر ہونے اور عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العامین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • قلم کا ادب   حُسنِ قدرت

    قلم کا ادب حُسنِ قدرت

    قرآن پاک میں جہاں علم کا ذکر آیا ہے وہیں قلم کا بھی آیا ہے کیونکہ علم سکھانے کا ذریعہ”قلم” ہے اسلیے قلم ہمارے لیے حرمت کا باعث ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب میں قلم کی بے حرمتی ہوتی ہوئی دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
    بچے اپنی پنسلز اور مارکرز کو پھینک رہے ہوتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اگر سلیبس کی کتاب گِر جاتی تھی تو وہ ہم اٹھا کر چومتے تھے کہ یہ کتاب کی بے ادبی ہے ہم سے یہ زمین پہ گِر گئی، ہم نے اپنے استادوں کو بھی ایسے کرتے دیکھا تھا کہ اور وہ کہتے تھے کہ بیٹا اگر کتاب کی عزت کرو گے تو ہی علم آئے گا،ہمارے استاد سے پڑھانے کے دوران کتاب زمین پہ کبھی گِر جاتی تو وہ بسم اللہ پڑھ کر اٹھاتے تھے اسے چومتے تھے آنکھوں سے لگاتے تھے اور پھر استغفرُللہ پڑھتے تھے اسکے بعد دوبارہ ایک دفعہ بسم اللہ اور دور شریف پڑھ کے ہمیں پڑھانا شروع کرتے تھے اور آج کل بچے جیسے ہی بال پوائنٹ ختم ہو رہا ہے،مارکرزکی انک ختم ہو رہی ہے یا پین خراب ہو رہے ہیں تو ڈائریکٹ اسے ڈسٹ بین میں یعنی گند والی ٹوکری میں پھینک رہے ہوتے ہیں
    اکثر بچے تو نشانہ فکس کرتے ہیں ڈسٹ بین کا پھر ایک ساتھ استعمال شدہ پنسلز کوڑے دان میں پھینک کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے بال پین ختم کرکے کوئی عظیم۔ کارنامہ سر انجام دیا ہو
    ایک دن سورہ علق پڑھتے
    ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہم قلم کی بے حرمتی کرتے ہیں تب سے میں نے اپنی استعمال شدہ بال پین ڈسٹ بین میں نہیں ڈالتی تھی اور اپنی سہیلیوں کو بھی منع کرتی تھی تاکہ میرا نام قلم کی بے ادبی کرنے والوں میں نہ آئے
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ قلم کی بےادبی کرنے سے بچیں اور آپکے بچے بھی قلم کا ادب کریں تو اسکے لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قلم ہمارے لیے اسلیے بھی مقدس ہے کہ ہم اس کے ذریعے علم سیکھتے ہیں
    اسے اِدھر اُدھر نہ پٹخیں استعمال کرنے کے بعد آرام سے قلم کو اسکی جگہ ہر رکھ دیں
    جب ہمارا بال پین یا مارکرز ختم ہوں تو انہیں ایک باکس میں اکھٹا کریں اور جب وہ بھر جائے تو جو بندہ ری سائیلنگ کےلئے چیزیں لینے آتا ہے اسے دیں یا کسی ایسی شاپ پہ دے آئیں جہاں ریسائیکلنگ کا کام ہوتا ہے۔قلم کو گند میں نہ ڈالیں اور اس کا ادب کریں