Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی  تحریر چوہدری عطا محمد

    تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی تحریر چوہدری عطا محمد

    25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات نے یہ واضح کر دیا کہہ جس طرح پاکستان میں 25جولائی 2018میں تبدیلی کی ہوا چلی اور تبدیلی آگئ اسی طرح کشمیر میں بھی الیکشن سے پہلے بہت سے مبصرین نے تبدیلی کی پیشین گوئی کی اور تقریباً سب نے ہی اسی طرح کے رزلٹ کی پیشین گوئی کی جو رزلٹ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت کی صورت میں آیا
    کشمیر کی عوام نے تو وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین کی آواز پر نہ صرف جلسوں میں نعرے لگاۓ بھر پور شرکت کی بلکہ الیکشن والے دن تبدیلی والوں کے انتخابی نشان بلے پر مہر لگا کر اپنا حق ادا کر دیا
    کشمیری عوام نے سادہ اکثریت 25سیٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن جتوا کر وزیز اعظم عمران خان سے اب بہت سی توقعات کر لی ہیں
    پاکستان تحریک انصاف یہ بات یاد رکھے کہ عوام کو ترقی اور کمزور علاقوں کو اگر اٹھانا ہے تو اختیارات کو نچلی سطع پر لانا ہوگا اس کا طریقہ بہت آسان ہے اور پوری دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں ان ممالک میں بلدیات کا نظام بہت ہی موثر ہے اگر پاکستان تحریک انصاف کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروا دیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کا فائدہ نچلی سطع پر غریب عوام کو ضرور حاصل ہوگا
    یہاں یہ بات بھی یاد کرواتا چلوں کہ کشمیر میں آخری بلدیاتی انتخابات 1991ء میں ہوئے تھے۔ ذرا غور کیجئے کہ کشمیر میں گزشتہ کتنے لمبے عرصے سے جمہوریت بغیر بلدیاتی اداروں کے چل رہی ہے۔ زرا سوچیں جہاں جمہوریت بھی ہو اور بلدیاتی ادارے نہ ہوں کیا بلدیاتی نظام کے بغیر حقیقی جمہوریت کے ثمرات عوام تک بہتر طریقہ سے پہنچاۓ جا سکتے ہیں پوری دنیا میں تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری ادارے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور اختیارات انتہائی نچلی سطح تک تقسیم کیے جاتے ہیں
    اگر ترقی یافتہ دنیا کی بات کی جاۓ تو دُنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیکس وصولی سے لے کر بیشتر اختیارات شہری حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا
    یہاں یہ بات بھی یاد دلاتا چلوں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ ادوار میں جب آزاد کشمیر میں الیکشن کے جلسے جلوس کئے تھے اس وقت ہر جلسے میں بھی اور اپنے منشور میں بھی لکھا تھا کہ ہم بہت جلدی بلدیاتی انتخابات کروائیں گے پیپلز پارٹی کی جب حکومت تھی تو مسلم لیگ ن کے ابھی کے وزیز اعظم راجہ فاروق حیدر نے بہت یہ مسلہ اٹھایا کہ بلدیاتی انتخابات کرواۓ جائیں لیکن پیپلز پارٹی کے پانچ سال مکمل ہوگے لیکن بلدیاتی الیکشن نہ ہوا پاکستان مسلم لیگ نواز نے 2016ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کا تیسرا نکتہ ہی یہ تھا کہ ہم ہر صورت میں بلدیاتی انتخابات کروایں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جس راجہ فاروق حیدر نے بہت آواز اٹھائی وہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں عدالتی حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکے اور اس کا نقصان آج کے الیکشن میں انہیں بہت زیادہ ہوا
    اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے تو عوامی خواہش کے مطابق اور کشمیر جیسے خوبصورت علاقے کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہوگا کہہ ایسا وزیز اعظم کشمیر میں لایا جا سکے جو ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کی بہتری کے لئے کام کرے اور بلدیاتی انتخابات کا جلد سے جلد انعقاد کرے جس دن کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوگے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت پہلے سے دوگنا ہوجاۓ گی ان شاءاللہ

    اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • تعلیم اور شعور   تحریر: فرمان اللہ

    تعلیم اور شعور تحریر: فرمان اللہ

    ہم ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر شعور کو اجاگر نہ کیا جائے تو وہ تعلیم یافتہ معاشرہ بھی کبھی کامیابی کی منزلوں کو چھو نہیں سکتا۔ آجکل ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور ہم اپنی اس کوشش اور مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ شعور اجاگر نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہم ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

    شعور ہمارے اندر احساس کو جنم دیتا ہے اور احساس کے بغیر کوئی بھی انسان بہترین انسان نہیں بن سکتا، اگر ہم بہترین انسان نہیں بن پائیں تو ہماری تعلیم کس کام کی؟ کیا کریں اُس تعلیم کا اُن ڈگریوں کا؟

    میں نے بہت سارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے جن میں احساس نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور ایسے لوگ معاشرے کے مستقبل کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں شعور اور احساس کے حوالے سے بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور اور احساس کی شدید کمی ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں ہماری آنے والی نسل ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے سکیں۔

    Twitter Account
    @ForIkPakistan

  • عورت   تحریر: اعزاز شوکت

    عورت تحریر: اعزاز شوکت

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِمکنوں
    مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
    عورت کی مدح میں ان اشعار کو لکھےہوئے سو سال بیت گئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عظمت اور حدِ کمال کے بیان کا حق آج تک ادا نہیں ہوسکا۔ مرد کے ہرمعجزے نے کسی نہ کسی عورت ہی کی گود میں پرورش پائی ہے۔ اولین انسان حضرت آدم کو بھی جب تنہائی کی وحشت کاٹ کھانے لگی تو ربِ کریم نے اماں حوا کو پیداکر کے انھیں تسکین بخشی اور یوں مرد اورعورت کے قدم قدم پہ اشتراک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے خلاف بولا اور سوچا تو جا سکتا ہےمگر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    عورت کی ذات کا سب سے حیران کن پہلو اس کی ایک نئی زندگی کو جنم دینے کی صلاحیت ہے۔قدیم زمانوں میں لوگ جب بے جان زمین سے لہلہاتی فصلیں پیدا ہوتے دیکھتے تو اس زمین کی پرستش شروع کردیتے، جب انھوں نے یہی صلاحیت عورت میں دیکھی تو اسے دیوی مان لیا اور اس طرح قدیم مادرسری (Matriarchal)معاشرے کی بنیاد پڑی جوعورت کو مرکزی اہمیت دیتا تھا۔
    سبطِ حسن اپنی کتاب "ماضی کے مزار” میں لکھتے ہیں کہ زراعت کا پیشہ بھی عورتوں ہی کا ایجادکردہ تھا۔ مرد شکاراور جڑی بوٹیاں ڈھونڈنے جنگلوں میں نکل جاتے تھے جبکہ عورتیں بچوں کی نگہداشت کے لیے خیمہ نما گھروںمیں رہتی تھیں، اسی دوران انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جہاں وہ جڑی بوٹیوں کو استعمال کے بعد پھینکتی ہیں وہاں سے ویسی ہی جڑی بوٹیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔یوں آہستہ آہستہ پودے اور فصلیں اگانے کا رواج شروع ہونے لگا۔گویا یہ عورتیں ہی تھیں جن کی دریافت نے پوری انسانیت کو خوراک کے نہ ختم ہونے والے ذخیرے سے روشناس کروادیا۔
    عورت وہی قوت ہے جو کبھی اولمپیاس بن کر سکندر کی پرداخت کرتی ہے تو کبھی قلوپطرہ بن کر مصر کے تخت پر راج کرتی ہے .
    جدید دور میں بھی عورت کی فتوحات ہر شعبے سے ستاروں کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔خود پاکستان میں فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم سلمیٰ تصدق سے لے کر بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسف زئی ، ارفع کریم جیسی خواتین بے مثال کارناموں سے مشعلِ راہ کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔یہ کامیابیاں ہمیں ماضی کی عورتوں کی قدر کااعتراف کرانے کے ساتھ ساتھ اس امر کا احساس بھی دلاتی ہیں کہ آج بھی عورتیں مرد کے شانہ بشانہ محیرالعقول واقعات سرانجام دے سکتی ہیں۔

    @Zee_PMIK

  • نیت .تحریر: فروا نذیر

    نیت .تحریر: فروا نذیر

    اللہ نے انسان کو جہاں اشرف المخلوقات بنایا ہے جو اتنا بڑا انسان کو درجہ دیا ہے وہاں انسان کیلیے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں

    اسلام ہمارادین ہے ہمارا دین اسلام بہت ہی خوبصورت ہے جو ہم سب کو مل جل کر متحد رہنے کا درس دیتا ہے اسلام میں جب انسان داخل ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے پیارے نبی کے آخری الزمان صلی اللہ.علیہ والٰہ وسلم ہونے پر ایمان لاتا ہے آخرت پر ایمان لاتا ہے

    اللہ نے جہاں انسان کو اتنی آسائشیں عطافرمائی وہاں انسان کا بھی کچھ فرض کہ ہو اپنے حصے کا کاموں کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں…

    ویسے سے ہم انسانوں پر بہت سے فرائض ہیں لیکن میں سچ کے بارے میں بات کرنا چاہوں گی اللہ پاک نے ہر انسان کو ہر جگہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی سچ انسان کیلیے اتنی بڑی طاقت ہے کہ دنیا کی سب طاقتیں اس سے کم ہیں…
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم نے ہر جگہ.ہر خطبے ہر بیان ہر حدیث میں سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہے…
    اس بات کو میرا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ.ہم.آج جس دور میں کھڑے ہیں کوئی 10یا 15% فیصد لوگ ہو گئے جو سچ بولتے ہیں سچ سے کام لیتے ہیں..

    ہمارے معاشرے میں سچ جیسے غائب ہو چکا ہے
    ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور بچے چھوٹے ہر کسی سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں یہ سب ہمارے نبی کی تعلیمات تو نہیں جنکو لوگ اپنا رہے ہیں ہمارے نبی کی تعلیمات سچ بولنا ہے
    لوگوں کو قیامت کا آخرت کا ڈر نہیں جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں اور شرمندہ نہیں ہوتا وہ مسلمان کا کام نہیں ہے لیکن معاشرے میں رہنے کے ساتھ ساتھ لوگ سچ کو ترجیح دینے کی بجائے جھوٹ کو اہمیت دیتے ہیں….

    میرے پیارے بھائیو اور بہنوں میرا یہ سب لکھنے کا مقصد ہے سب لوگ جھوٹ کو چھوڑ دیں ابھی بھی وقت ہے سب انسان سچ کی رسینکو پکڑ لیں تاکہ ہم سب دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں…

    سچ بعض اوقات کڑوا ہوتا ہے لیکن یہ ہر مشکل کو دور کردیتا ہے اللہ پاک ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے انکی مدد کرتا ہے

    میری سب بھائیو بہنوں سے درخواست ہے: کہ سب سچ کو اپنائیں تاکہ ہمیں دنیاو آخرت میں شرمندہ نہ ہونا پڑے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سبکو سچ کے راستے پر چلائے اور ہر مشکل سے بچائے

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • بھارت و اسرائیل گٹھ جوڑ .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    بھارت و اسرائیل گٹھ جوڑ .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    بھارت و اسرائیل جیسے ملک ایسے ہیں کہ جو وقت پڑنے پر دوستوں کو بھی کاٹ کھائیں ۔ ابھی حال ہی میں فرانسیسی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کو 50ہزار سے ایسے فون نمبروں تک رسائی ملی ہے جو اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کو استعمال کرنے والے ملکوں کا ہدف ہوسکتے ہیں ۔ 80کے قریب صحافیوں کے تجزیے سے کافی کچھ چونکا دینے والا سامنے آیا ہے ۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حکومتی اہلکاروں ، صحافیوں ،انسانی حقوق کے کارکنوں، وکیلوں ، کاروباری شخصیات ، سیاسی شخصیات اور کئی لوگوں کے فون نمبر اس فہرست میں شامل ہیں ۔ ہمارے لیے ان سب میں اہم ہمارے وزیراعظم عمران خان کا نام ہے کہ جن کا پرانا نمبر اس فہرست میں شامل ہے ۔ ان کا نام بھارت نے 2019ء میں اہمیت والے افراد میں منتخب کیا تھا ۔ ان میں سے 67 افراد کے موبائل ڈیوائسز کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تجزیہ کرنے کے لیے حاصل کیا جس میں سے 37 فون ایسے تھے جن پر پیگاسس کے حملے کا سراغ ملا۔

    معلومات کے مطابق یہ سافٹ وئیر اسرائیل کے ایک گروپ این ایس او کا ہے جو کہ 2010ء میں قائم کی گئی تھی اس کمپنی کا سب سے معروف سافٹ وئیر مذکورہ بالا ہی ہے جوکہ آئی فون اور اینڈرائڈ فونوں تک خفیہ طریقےسےرسائی کرکے جاسوسی و دیگر کام کرتا ہے ۔اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سافٹ وئیر سرکاری اداروں کو بیچا جاتا ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی و جرائم پیشہ عناصر کو روکنا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ اخبار، جو کہ اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بھی ہے، کہ مطابق این ایس او کمپنی کے 750 کے قریب ملازمین ہیں اور گذشتہ برس کمپنی کی سالانہ آمدنی 24 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔ یاد رہے کہ اس کمپنی کے اکثریتی حصص لندن کی ایک نجی فرم کے پاس ہیں ۔ اس سافٹ وئیر کو خریدنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی اجازت بھی درکار ہے اور بی بی سی کے مطابق 45 سے زائد ممالک اس سافٹ وئیر کے متاثرین میں شامل ہیں جن میں پاکستان، فلسطین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، سنگاپور، عمان، لیبیا، لبنان، وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی باعث حیرت ہوگی کہ اس مہنگے ترین سافٹ وئیر کا استعمال بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے 25 کے قریب راہ نماوں کی جاسوسی کراے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔ جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق "جو کہ ایمنسٹی اور فوربڈن سٹوریز نے کی ہے ” دس ممالک ایسے ہیں جو پیگاسس سافٹ وئیر کے صارفین میں شمار ہوتے ہیں جن میں بھارت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان،بحرین، قازقستان، میکسیکو، مراکش، ہنگری اور روانڈا شامل ہیں۔ مذکورہ سافٹ وئیر بھیجے جانے والے ربط پر کلک کرتے ہی خود کو فون میں انسٹال کر کے دی گئی ہدایات کے مطابق کام شروع کردیتا ہے جس میں تصاویر، ویڈیوز، فون نمبرز، ای میلز ، پیغامات ، کیلنڈر ، پیغاماتی ایپلیکیشنز وغیرہ کا تجزیہ کرسکتا ہے یا پھر اپنے سرور کو بھیج سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں کیمرہ و مائیک وغیرہ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فوربڈن سٹوریز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پیگاسس کا تازہ ترین ورژن بغیر ربط یا کوئی مواد ڈاؤن لوڈ کیے بغیر اپنے آپ کو انسٹال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔ماہرین نے اس کو صلاحیت کو ’زیرو کلک ولنریبیلٹی‘ کا نام دیا ہے ۔

    ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کرونا جیسے مہلک مرض سے نبردآزما ہے پہلی، دوسری، تیسری لہر کے بعد چوتھی لہر نے حضرت انسان کے اعصاب کو شل کردیا ہے ۔ ایسے میں اسرائیل گھناونے عزائم میں نہ صرف مبتلا ہے بلکہ اس کی فروخت بھی کررہا ہے ۔ بھارت جہاں 49 لاکھ سے زائد افراد کرونا کی وجہ سے موت کو گلے لگاچکے ہیں اور بھارتی کسانوں نے بھارت سرکار کے ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ ایسے میں اپنے ملک کی خدمت کرنے اور حالات کو بہتر کرنے کی بجاے دوسرے ممالک کے سربراہان و راہ نماؤں کی جاسوسی کرتے پھرنا کہاں کی انسانیت ہے ؟پاکستانی قیادت کو بھی آگے بڑھ کر ایمنسٹی و دیگر اداروں کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھانا چاہیے کہ یہ ہماری قومی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے ۔ امریکا کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ اسرائیل و بھارت کس قدر گر سکتے ہیں ۔ ماضی میں بھی اسرائیل پر مختلف طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہورہا ہے ۔

  • کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود

    کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود

    متروک شدہ کوہ پیمائی کا لباس پہن کر اپنا شوق پورا کرنے والا علی سدپارہ کا نام 2016ء میں عالمی میڈیا میں گونجا کہ انھوں نے سردیوں کے موسم میں قاتل پہاڑ (نانگا پربت) کو منفی 52 کے درجہ حرارت اور تیز برفیلی آندھی کے باجود سر کرلیا ہے ۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ تھا جس کی جتنی تعریف کی جاے اتنی کم ہے ۔ سردی کے موسم میں بغیر آکسیجن نانگا پربت کو سر کرلینا ایک منفرد ریکارڈ تھا جس کی شاید ہی کسی میں ہمت ہو ۔ علی سدپارہ نے نانگا پربت پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب علی سدپارہ کی گم شدگی کی اطلاع ملی تو ہر آنکھ نہ صرف اشک بار ہوئی بلکہ ہاتھ بھی دعا کے لیے اٹھے کہ علی سدپارہ مل جاے ۔علی سدپارہ کا پورٹر سے کوہ نوردی کا سفر جہاں اپنے اندر جہاں سموے ہوے ہے وہی پر اسباق در اسباق بھی ہیں جو نئے کوہ پیماؤں کو سیکھنے چاہیے ۔ علی سدپارہ کوہ پیمائی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ اپنی تسکین کے لیے کرتے تھے گویا کہ انھیں برف پوش اور فلک بوس پہاڑوں سے عشق تھا ۔

    علی سد پارہ پہلا پاکستانی کوہ پیما تھاجس نے 8 ہزار میٹر بلند دنیا کی سات چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی 5 بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکا تھا جس میں 8611 میٹرز بلند K 2 بھی شامل ہے لیکن اب کی بار موسم علی سد پارہ کے حق میں نہ تھا ورنہ قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد پہلے سے مفتوح ہو چکی کے ٹو چوٹی کی کیا حیثیت تھی؟ امسال فروری میں علی سدپارہ مع ساجد سدپارہ ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو کے ساتھ کےٹو کو سر کرنے کی مہم کو نکلے ۔ ساجد سدپارہ کو 8 ہزار میٹر کی بلندی پر ریگولیٹر خراب ہونے کی وجہ سے ساتھ چھوڑنا پڑا ۔ یہ آخری ملاقات تھی جو باپ کی اپنے بیٹے سے تھی ۔ بیٹا تو واپس آگیا جبکہ باقی تین افراد نے اپنی مہم جاری رکھی ۔ چند دنوں کے بھر پور ریسکیو آپریشن کے بعد بھی لاپتہ کوہ پیما نہ ملے تو انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا لیکن ان کے بیٹے نے ازخود ریسکیو آپریشن جاری ر کھنے کا اعلان کیا ۔ٹویٹر پر علی سدپارہ نے 24 جولائی کو ٹویٹ کرتے ہوے بتایا کہ وہ علی سد پارہ کی تلاش کے لیے بوٹل نک اور اس سے آگے کے علاقوں میں چھان بین کریں گے ۔ اور پھر بیٹے کی محنت رنگ لائی اور انھیں اپنے والد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں کے لاشے مل گئے ہیں۔

    کوہ پیمائی جہاں مہنگا ترین کام ہے وہی پر خطرناک حد خطرناک کام ہے ۔ علی سدپارہ کی زندگی جہاں مہم جوئی سے عبارت ہے وہی پر ان کی زندگی ثابت کرتی ہے کہ وسائل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔ شروع میں ان کی مدد و حمایت کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے اور سرکاری سرپرستی تو پاکستان میں نصیب والوں کو ملتی ہے ۔خبروں کےمطابق چند ایک لالچی قسم کے افراد نے بعد ازاں سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر ان سے اپنی مرضی کے بیانات دلوانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ مردقلندر اپنی بات پر اڑا رہا ۔ ایسے منفرد لوگ قوموں کو کبھی کبھی میسر آتے ہیں اور زندہ قومیں ان کی زندگی میں ہی ان کی اہمیت سے واقف ہوتی ہیں ۔ بعدازمرگ اعزازات و انعام واکرام کا مطلب اپنی شہرت کے سوا کیا ہوتا ہے ؟ معذرت کے میں آج تھوڑا تلخ ہوگیا ہوں ۔ ہم اپنے سیاست دانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا کھلا کر ان کی ہوس مزید بڑھاتے ہیں لیکن ان اصلی نمایندگان قوم و ملت کو سرکاری سرپرستی تک دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں ۔ہمیں بطور قوم اپنے اجتماعی خیالات کو بدلنا ہوگا ہمیں تعین کرنا ہوگا کہ ہم کس راہ پر چل کر ترقی یافتہ ممالک میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ یہ صرف سیاست سے ممکن نہ ہوگا بلکہ ہمیں اس طرح کے معاملات میں بھی درد دل رکھ کر فضا ہموار کرنا ہوگی تاکہ علی سدپارہ جیسے لوگ پاکستان کا نام روشن کرسکیں اور حالیہ اولمپکس جیسا حال بنواکر مزید جگ ہنسائی کا باعث نہ بنیں ۔

  • بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    پاکستان بننے کی تاریخ سے شروع کیا تو بات بہت لمبی ہو جائے گے ایک دہائی پیچھے سے شروع کرتی ہوں، مختاراں مائی کے نام سے شروع کریں تو اس معاشرے کی تہذیب، مذہب سے لگن سب کچھ ماند سا پڑا ہوا لگتا ہے۔
    مختاراں مائی کو برہنہ کر کے سرِ بازار لانے والا یہی مردانہ معاشرہ ہے۔ ہماری جذباتی قوم نے کچھ دن واویلا کیا اور نئی ڈگر پر چل نکلے، پھر کہیں کسی کے چہرے پر تیزاب تو کسی وڈیرے نے کسی کی بہن کو بھائی کے سامنے ہراساں کیا۔ قوم نے پھر چند دن شورو غوغا کیا اور ہم پھر آگے کو نکلے۔
    چند سالہ ننھی زینب پر بھی ہم نے بہت ٹسوے بہائے اور قانون سازی کا نعرہ مار کر جذباتی قوم کو پھر ایک سستے نشے کا ٹیکہ لگا کر سلا دیا۔
    وحشی جانور جیسے معاشرے نے نشے اور جذبات سے باہر آتے ساتھ ہی ایک ماں کو اس آزاد اور مسلمانوں سے بھرے ہوئے معاشرے میں تین بچوں کے سامنے جس اذیت سے دوچار کیا کہ اس موضوع پر بولنا تو دور کی بات سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت یہ باتیں ہوئیں کہ سخت قانون سازی کر کے نا مرد کرو، عمر قید یا سزائے موت جیسی سخت م، بروقت اور عبرتناک سزائیں دو تاکہ یہ معاشرہ سدھر جائے۔
    پھر یہی مسلمان، برابری کے حقوق سے بھرا معاشرہ قربانی کے دنوں میں حوا کی بیٹی کے گلے پر چھری چلا دیتا ہے۔

    اور پھر ہم سب شدت سے بھرے معاشرے کے افراد طیش میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے اندر کے جانور کو کسی نئی نشے کے گولی دے کر سلانے لگ گئے، اگر اس کے لئےقانون سازی کی گئی ہوتی تو ایک ہفتہ ہونے کو ہے ابھی تک کیا تفتیش ہی چل رہی ہوتی کہ مدعی اور مدعا الیہ دونوں کو پتہ ہے کہ قاتل اور مقتول کون ہیں، اس کے باوجود کوئی سزا نہیں۔
    افسوس صد افسوس اس بات پر کہ جب ایسا کوئی حادثہ رپورٹ ہوتا ہے تو ہم سب لوگ اس مسئلے میں بھی تعمیری تنقید کے بجائے تخریبی اور مفاد پرستی کی لائن بنا کر غل غپاڑہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک طبقہ مذہب اور ایک مذہب بیزاری کے بیانات نکالتا ہے، ایک سیاسی تو ایک اختلافی نوٹ بھی مفاد کی بنیاد پر چھاپنا شروع کر دیتا ہے، کبھی بھی ہمارے معاشرے کی کسی بھی اکائی نے نہیں کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر ایک سزاوجزا کا معیار بنائیں بلکہ سبھی اپنے اپنے تحفظ میں لگ جاتے کہ ہم تو بڑے پاک باز لوگ ہیں، کبھی مدرسوں میں ننھے بچوں سے زیادتیاں، کبھی راہ چلتی حوا کی بیٹی کے آبرو ریزی، تو کبھی زبردستی کے مذہب تبدیلی کے واقعات اور بڑے بلند و بانگ دعوے کرنے والا موم بتی مافیا۔جس کےہی ایک بڑے ہرکاروں میں سے ظاہر جعفر نامی درنگان نکل رہے اب۔ذہنی بیماری کا کسی مذہب، شخص یا طبقے سے ہر گز تعلق نہیں ہوتا یہ ایک سوچ ہے جسے باالعموم طور پر پورے معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

    عثمان مرزا کیس، نور مقدم کیس، نسیم بی بی جسے شیر خوار بچی سمیت چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، اس جیسے کتنے ہی ایسے واقعات ہوں گے جو حوا کی بیٹی اپنی آبرو بچانے کی آڑ میں کسی کو بتاتی بھی نہیں ہوگی، چپ چاپ سہہ جاتی ہوگی۔
    قوموں کی ترقی بھی اس آڑ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی، جیسے درندہ صفت ظاہر جعفر کا کہنا کہ وہ امریکی شہری ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہ سکتا۔ اگرچہ ظاہر جعفر کے امریکی شہری ہونے کا اس کے بچ جانے سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ ویانا کنونشن کے مطابق استشنیٰ صرف سفارتی عملے کو ملتا ہے۔
    خیر بات کہاں سے کہاں نکلتی جا رہی ہے، جب تک ہم صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے قرآن پاک میں دئیے ہوئے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان معاشرتی بیماریوں کی بنیادوں پر ہم روشن خیال اور برابری کا معاشرہ استوار نہیں کر سکتے۔
    سورہ الانعام میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلی جس نے کبھی خود ہی بدلنے کی کوشش نہیں کی۔
    اب یہ ملک اور اس کی عوام کو پھر سے قانونی معاملات میں الجھا کر اک اور نیا نشہ دیا جا رہا ہوگا، اللہ کرے کہ ہماری غیرت جاگے ، ہمارا معاشرہ اپنے اندر کے درندوں کو حقیقی معنوں میں مار کر آگے بڑھے اور عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کسی اور عورت مارچ کا سہارا نہ لینا پڑے، پاکستان پائندہ باد

    ٹوئٹر اکاوُنٹ:
    @Kirankhan9654

  • ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری
    ٹویٹر : @nabthedentist

    پچھلے کالم میں بچوں کے دودھ کے اور پکے دانت آنے اور ان سے جڑی بیماریوں پر سرسری بات کی تھی آج اس کالم میں بچوں کے دانتوں سے جڑے سب سے بڑے مسئلے یعنی ٹیڑھے دانتوں کو ڈسکس کیا جایئگا
    بچوں میں ٹیڑھے دانتوں کے آنے کی کئ وجوہات ھوسکتی ھیں جن میں کچھ پر والدین بے بس اور کچھ کو ٹھیک رکھنا والدین کے بس میں ھوتا ھے کافی ساری وجوہات میں سے کچھ یہاں رکھے دیتا ھوں
    1۔بچوں کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے یا انکی فیملیز میں کسی کے دانت ٹیڑھے ھونا
    2۔بچوں کا فیڈر یا انگوٹھا منہ میں زیادہ رکھنا اور اس سے تالو کو آگے کی طرف مستقل کھینچتے رھنا
    3۔جبڑے کا چھوٹا ھونا
    4۔نئے پکے دانتوں کا سائز نارمل سے زیادہ بڑا ھونا
    5۔یا دونوں چھوٹا جبڑا بڑے دانتوں کا ھونا
    6۔بچپن میں دودھ کے دانت کسی وجہ سے جلدی نکلوالینا

    الغرض متفرق وجوہات سے دانتوں کا ٹیرھا پن آجاتا اب دانت ٹیڑھے بھی کئ اقسام میں کئ اشکال میں ھوتے جب تک انکو جان نھیں لیتے بطور ڈینٹل سرجن انکا علاج کرنا اور بچے کی فیملیز کو سمجھانا انتہائ مشکل ھوجاتا
    1۔دانتوں کا باھر کی طرف نکلنا
    2۔دانتوں کا ٹھیک ھونا مگر جبڑے کی ھڈی کا باھر کی طرف ھونا
    3۔یا دونوں دانت بھی اور جبڑے کی ھڈی کا باھر ھونا
    4۔دانتوں کا اندر ھونا یا جبڑے کا کافی اندر ھونا یا دونوں کا ھی اندر ھونا
    5۔دانت ٹیڑھے آگے پیچھے اپنی جگہ پر ھی آنا
    6۔دانتوں کی ایک ھی جگہ crowding یعنی رش ڈال دینا
    ٹیڑھے دانتوں کا علاج جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا 11 سال کی عمر یا پھر اسوقت جب canine منہ میں نکلتے اسوقت کیا جاسکتا اس سے پہلے اگر دانتوں کو کسی حد تک ٹھیک رکھنا یا اپنی جگہ پر رکھنا چاہتے تو removable appliance لگا سکتے ٹیڑھے دانت عمر کے کسی حصے میں لگا سکتے میرے پاس کلینک میں 60 سال کے لوگ بھی آکر دانت سیدھے خرواکر جاچکے ٹیڑھے دانتوں کے علاج کے اسوقت کئ قسم کے علاج موجود ھیں
    1۔ کنزرویٹو آرتھوڈونٹک ٹریٹمنٹ یعنی Braces
    یہ علاج سب سے کامیاب 100 فیصد رزلٹ اور دیر پا ھے اس میں دانتوں پر سٹین لیس سٹیل بریکٹس اور تار لگائی جاتی اور قریبا سال دو سال یا کئ کیسز میں 4 -5 سال تک یہ تار لگائی جاتی ھے پہلے مہینے تین سے چار بار ڈینٹل کلینک پھر ھر ماہ ایک یا دو بار آنا پڑھتا ھے
    2۔کلر لیس آلائنر
    یہ طریقہ کار زیادہ تر پروفیشنل لوگوں میں لگائے جاتے جو دانت سیدھے ھوتا کسی کو دکھانا نھیں چاہتے کیونکہ یہ کلر لیس ھوتے تو لوگوں کی نظروں میں نھیں آتے انکا رزلٹ بھی سو فیصد ھوتا مگر یہ علاج کافی مہنگا اور رزلٹ کافی دیر سے حاصل ھوتا ھے

    ٹریٹمنٹ کے دوران ایک ڈینٹل سرجن لئے جو سب سے مشکل کام ھوتا وہ مریض کو اور اسکی فیملی کو یہ باور کرانا ھوتا کہ ان دانتوں کیلئے سپیس بنانی ھے اور اسکے لئے کم از کم 4 دانت دو اوپر والے اور دو نیچے والے نکالنے ھونگے
    اور ایکبار جب ٹریٹمنٹ ھوجائے تو سب سے اہم مرحلہ دانتوں کو اپنی جگہ قائم اور برقرار رکھنا ھے اسکے لئے ریٹینر لگائے جاتے جو مریض کو کم از کم تین ماہ سے ایک سال تک لگانے پڑتے
    کئ کیسز جن میں جبڑا شامل ھو وہ ان ٹریٹمنٹس سے ٹھیک نھیں ھوپاتا ایسے میں سرجریز کی ضرورت بھی پڑجاتی

  • میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    اللہ قُرآن میں فرماتا ہے: اور مردوں پر عورتوں کا حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر حق ہے معروف طریقے پر اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ سورۃ البقرہ 228 اس آیت مبارکہ میں صرف حُسن معاشرت کے لیے ہی نہیں کہا گیا کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا مردوں پر اللہ نے فرض کیا ہے، بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے مسائل کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اِس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستُور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستُور نہیں ہوسکتا، اِس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گُزاری جائے تو اِس رشتے میں کبھی بھی تلخی اور کڑواہٹ پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ اسلام دینِ فطرت اور دینِ انسانیت ہے، اِس نے مسلمانوں کو ایسا نظام مُعاشرت عطاء فرمایا ہے کہ جس میں انسانی زندگی اور ہر طبقے کے افراد کے حقوق و فرائض متعین کردیئے گئے ہیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کے حقوق و فرائض کے حوالے سے اسلامی تعلیمات بہت واضح ہیں۔ اسلام میں حقوق و فرائض کے حوالے سے بیویوں کے باہمی تعلق اور اِس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اِس کے لیئے مرد و عورت دونوں پر ذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے حقوق و فرائض فرض کئے گئے ہیں، جن سے خاندان کی بُنیاد مضبوط ہوتی ہے اور مُعاشرے میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

    سورۃ نِساء میں حُکم دیا گیا: ’’اور اُن کے ساتھ اچھی طرح گُزر بسر کرو‘‘۔ ترجمہ رُوح القرآن جلد دوم عورتوں کے ذمے احکام بیان کرنے کے بعد قُرآن کریم دوبارہ شوہروں کو بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیتا ہے کہ تمہارے اوپر عورتوں کے جو حقُوق ہیں، اُنہیں اچھی طرح ادا کرو، اور خُود کو بالادست و بااختیار سمجھتے ہوئے اُن کے ساتھ دستور شرعی کے خلاف بدسلوکی نہ کرو، مگر یہاں ہمارا مُعاشرہ دین سے دُور ہوتے ہوتے اپنی ذاتی زندگی سے بھی دُور ہوتا جا رہا ہے ہمارے رشتے رسم و رواج غیر اسلامی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنی اصل زندگی جس کا طور طریقہ ہمیں ہمارے نبیﷺ نے اپنی زندگی میں عمل کرتے ہُوے زندگی کا تمام ضابطہِ حیات بتایا سکھایا مگر ہم دعوے تو نبیﷺ سے "عشق” کے کرتے ہیں اور عمل ہمارا غیر اسلامی ہے تو اِس رشتے میں دراڑ تو ہم خُود ڈالتے ہیں، وجہ کیا ہے ہم تفصیل میں نہیں جاتے عام باتیں زیرِ نظر رکھتے ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم صرف درگُزر کرنے سے ہی ایک دُوسرے کا اعتماد، پیار، خلوص حاصل کر سکتے ہیں، اِس لئے درگُزر کرنا سیکھیئے اللہ تعالیٰ بھی درگُزر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تو کیوں ناں ہم درگُزر کرتے ہُوئے اپنے رشتے کو بھی خُوشحال بنائیں خُوبصُورت بنائیں اور اللہ بھی ہم سے خُوش ہو اور رحمتیں نازل ہوں، ہمارے مُعاشرے میں جہاں بے شُمار تبدیلیاں ائی ہیں یا یوں کہیں کے شامل کی گئی ہیں جن میں جُھوٹ، غیبت، تہمت، حسد، یہی چند چیزیں ہیں جن سے ہمارے خُوبصورت رشتے برباد ہو رہے ہیں ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں اپنے اسلامی طریقے اپنانے سے ہی ہم اپنی زندگی پرسکون اور خُوشحال بنا سکتے ہیں جس کے لئے ہمیں صرف اپنی عادتیں اسلامی تہذیب کہ مطابق بنانا ہوں گی، پھر آپ خُود اپنی نظروں سے دیکھیں گے یہی مُعاشرہ آپ کے سامنے بہترین مُعاشرہ بنتا چلا جائے گا اِن شاء اللہ
    اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    @A2Khizar

  • استاد کا معاشرے میں مقام  تحریر : اسامہ خان

    استاد کا معاشرے میں مقام تحریر : اسامہ خان

    انسان ایک اشرف المخلوقات ہے لیکن اس کو اشرف المخلوقات کا اصل مقصد اور مطلب اس کے والدین اور اس کے استاذہ کرام سمجھاتے ہیں، ایک بچہ پیدا ہوتا ہے زندگی کے تین برس گھر میں گزارتا ہے اور اس کے بعد دنیاوی اور دینی تعلیم کے لئے سکول و مدرسہ جاتا ہے یہاں سے اس کا استاذہ کرام سے سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے سکول میں اس کے بہت سے اساتذہ کرام تبدیل ہوتے ہیں جیسے کہ پرائمری سکول کے الگ استاد ہوتے ہیں مڈل کے الگ اور میٹرک کے الگ ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے پرائمری میں بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکھایا جاتا ہے کیا اس نے اپنے استاذہ اور والدین کا کیسے احترام کرنا ہے اور بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی زندگی کیسے گزار سکتا ہے اور کامیاب انسان بننے کے لئے اس پر سب کا احترام لازم ہے۔ یہ سلسلہ کالجز اور یونیورسٹیز میں چلتا رہتا ہے لیکن جب بچہ یونیورسٹی میں جاتا ہے تو اس کو دنیا کے اصل رنگ دکھائے جاتے ہیں ان رنگوں میں ایک رنگ یہ بھی ہوتا ہے آپ کے ساتھ ساری زندگی کوئی نہیں چلے گا سوائے آپ کے والدین کے اور ساتھ ہی ساتھ استاذہ کرام پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے اس کے بعد جب وہ بچہ ایک اعلی درجے کا افسر بن جاتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے استاذہ کرام کی دعائیں اور محنتوں کا صلہ ہوتا ہے اگر استاذہ کرام اس پر اپنا وقت اور محنت نہ لگاتے شاید وہ بچہ ایک اچھے مقام تک نہ پہنچ سکتا آج استاذہ کرام کو برا بھلا کہا جاتا ہے کہ آپ نے ہمارے بچے پر ہاتھ کیوں اٹھایا اگرچہ دیکھا جائے تو آپ کے بچے کی بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے، کل کو وہ بچہ جب ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے تو استاد کو بھی کبھی بھی داد نہیں دیتا کہ آپ نے ہمارے بچے پر اتنی محنت کی کہ آج وہ اتنا اچھے مقام پر پہنچ گیا ہے حالانکہ استاد اس بچے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے کہ یہ بچہ ہم سے پڑھ کر گیا ہے اور آج اتنے اچھے مقام پر بیٹھا ہے، ایک استاد کے ہاتھ سے پڑھے ہوئے بچے سیاست دان، جج، وکیل، ڈپٹی کمشنر اور بہت بڑے بڑے انسان بنتے ہیں۔ لیکن افسوس اپنی کامیابی کے بعد ہم اپنے استاد اکرام کو بھول جاتے ہیں ایک دفعہ ایک استاد کا ٹریفک پولیس افسر نے چلان کاٹ دیا استاد کی مصروفیات کی وجہ سے پورا مہینہ چلان نہ بھروا سکے جب استاذہ کرام کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ نے چلان کیوں نہیں جمع کروایا تو انہوں نے کہا میں استاد ہوں مصروفیات کی وجہ سے میں چالان جمع نہ کروا سکا جب جج نے یہ سنا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ سب اٹھ کھڑے ہوئے ان کے احترام میں تو جج صاحب نے کہا آپ جیسے استاذہ کرام کی وجہ سے آج ہم جج بنے ہیں یہ کہہ کر جج صاحب نے چلان پھاڑ دیا اور استاد صاحب کو باعزت طریقے سے ان کی مصروفیات کی طرف روانہ کیا۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں پائی جاتی ہیں آج ہم جو بھی ہیں اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہیں ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہیں اس لیے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ اہم مقام پر فائز ایک استاد ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ باشعور قومیں بناتے ہیں وہی قومیں کل کو ملک کے لیے دن دگنی رات چگنی محنت کرتے ہیں لیکن یہ سفر یہی پر ختم نہیں ہوتا جب ایک انسان ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتا ہے اور اپنے ملک کے لیے کام کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کو اس وقت بھی ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی رہنمائی کر سکے کہ آپ نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کیسے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور یہ عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے