Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور آیا ہے تب سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے خواتین بچے چھوٹی بچیاں غرض کے ان درندوں سے تدفین ہونے والی لاشیں بھی نہیں محفوظ، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ہمیشہ سے اس معاملے پر متحرک نظر آتے ہیں ان ایشوز پر بات کرتے ہیں آواز بلند کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں پاکستان میں جو اس معاملے پر اپنی سیاست چمکاتے یا اپنا دھندہ رکتے نہیں دیکھ سکتے ہیں ان میں اکثریت ہے ہمارے دیسی لبرلز کی جو اپنے آپ کو کہتے تو لبرل ہیں معاشرے کو دکھانے کے لئے ایک ڈھونگ بھی رچاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ زیادتی کرنے والوں کے ساتھی ہیں۔

    کیسے ؟؟
    چلئیے میں بتاتا ہوں، آپ لوگوں کو زینب زیادتی کیس یاد ہوگا اس کیس کے بعد ملک میں ایک رائے عامہ تشکل پا گئی تھی کے زیادتی کرنے والے کو سر عام سزا دی جائے لیکن یہ لبرل کا کارنامہ ہے اور پی پی اور ن لیگ میں چھپے ان عناصر کا کارنامہ ہے کہ یہ کام نہ ہوسکا ان لوگوں نے اس کی مخالفت صرف اس لئے کی کیونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو بیرون ممالک کے سامنے لبرلز بنا کر پیش کرتے ہیں خاص کر پیپلزپارٹی، اس کے بعد فیصل واوڈا ایک بل لے کر آئے جس میں زیادتی کرنے والے کے لئے عبرتناک سزائیں شامل تھیں جس کی مخالفت ان عناصر نے کی اور کہا گیا کے یہ سزائیں غیر انسانی سزائیں ہیں تو سوال یہ ہے کے وہ لوگ جو بچوں سے زیادتی کے بعد ان کا قتل کرتے ہیں کیا وہ انسان کہلانے کے لائق ہیں؟؟
    یہ لبرلز ان کا ساتھ کیوں دیتے ہیں ؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے؟؟ نہیں ؟

    اس کی وجہ میں بتاتا ہوں زیادتی کے واقعات کا تعلق معاشرتی بے حیائی سے ہے جسے یہ لبرلز آذادی کا نام دیتے ہیں فحاشی اس کی بڑی وجہ ہے اور یہ لبرلز اور ان کا کاروبار اس سے منسلک ہے اس لئے یہ اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے فحاشی اور عریانی کے خلاف ایک جملہ کہا تھا جس پر لبرلز میں صف ماتم بچھ گیا تھا اب کچھ لوگوں نے اس میں اس بات پر بھی اعتراض کیا کے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں انہوں نے کونس فحش لباس پہنا ہوتا ہے ؟؟؟ وزیر اعظم اس بات کا جواب دیں اور اس بات پر کافی مذاق بنایا گیا اس کا جواب یہ ہے ہر زیادتی کا واقعہ فحاشی سے نہیں جڑا ہوتا لیکن اگر آپ اس کی جڑ تک جائیں تو بات فحاشی پر آ کر ہی رکتی ہے، کوئی شخص اگر مسلسل غلط چیزیں دیکھ رہا ہے تو اس میں جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں پھر وہ انہیں پورا کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتا ہے وزیر اعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کے ایسا کرنے والا شخص بے قصور ہے بلکے وزیراعظم نے تو ان کے لئے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جسے یہی طبقہ غیرانسانی قرار دیتا ہے۔

    ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک لڑکی کا قتل ہوا ہے جو اپنے دوست کے گھر بغیر شادی نکاح کے اس کے ساتھ رہ رہی تھی،لبرل اسے آذادی کا نام دیتے ہیں کے اس کی زندگی اس کی مرضی اس لڑکی کو اس کے دوست نے قتل کر دیا آپ سوچ سکتے ہیں اگر اس پر وزیراعظم یا کوئی شخص اس بات کا مطالبہ کر دے کے یہ ہمارے معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے ایسے رشتے جنہیں رشتہ بھی نہیں کہا جا سکتا صرف مغربی معاشرے میں ہوتے ہیں اور اس سے اس معاشرے کی جو تباہی ہوئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں امریکہ اور برطانیہ زیادتی اور آبارشن میں سہرفہرست ممالک میں آتے ہیں وہ الگ بات ہے ان کا میڈیا اس بات کو چھپاتا ہے۔ ایسی بات کرنے والے کا یہ لبرلز کیا حال کریں گے ؟؟؟
    کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک سزا بھی ان کی مرضی کی ہو۔۔۔ تعلقات بھی۔۔۔بیانات بھی۔۔۔قانون بھی اور سوچ بھی ان کی مرضی کی ہو یہ کہتے تو ہیں کے ہم آذادی رائے کا پرچار کرتے ہیں مگر ان کے سامنے آپ ان سے اختلاف کر کے دیکھیں ان سے بڑا انتہا پسند آپ کو نہیں ملے گا۔

    زیادتی کے خلاف سخت اقدامات کا مطلب ان کے کاروبار کی بندش ہے اس لئے یہ لوگ جانتے بوجھتے زیادتی کرنے والوں کی مدد کرنے والے بنے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین ان کے خلاف متحد ہوں اور ملک پاکستان میں زیادتی کرنے والوں کے لئے عبرتناک اور جلد سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کرانے میں ایک پریشر گروپ کا کردار ادا کرناہے۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو. آمین

    @Nomysahir

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود  تحریر: ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود تحریر: ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگر انسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بے عیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگر آج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے
    ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔
     اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں
    بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    Twitter: @zulfiqar7034

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر :  ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر : ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگرانسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بےعیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگرآج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔

    اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    @zulfiqar7034

  • ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    آج کے دور کو بہت سے نام دیے جاتے ہیں گلوبل ویلیج سے ٹیکنالوجی سے لیس تیز بھاگتی دوڑتی دنیا ہمارے اس دور میں ہر شخص مصروف ہر شخص بھاگ رہا ہے اک ریس میں اک دوڑ میں۔ پیسہ بنانے کی دوڑ میں کامیاب ہونے کی دوڑ میں ۔۔ پیسہ زندگی کی ضرورت نہیں رہا بلکہ زندگی کا مقصد بن چکا ہے ۔ کوئ بھی اپنی انکم سے خوش نہیں ہر کسی کو مزید سے مزید کی تمنا ہے۔ خواہ اسکی خاطر اپنا راتوں کا آرام اپنے دن کا سکون اپنا کھانا پینا سب قربان کرنا پڑے کرنے کو تیار ہیں.

    پیدا ہوتے بچے کے مستقبل کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے مستقبل میں اس بچے کو کس پیشے سے منسلک کرنا ہے۔ کونسا پیشہ زیادہ کامیابی سے زیادہ کمانے کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہے سکول سے کالج یونیورسٹی تک اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس ادارے سے پڑھایئں جسکی ڈگری پروفیشنل لائف میں ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کی جائے جس سے ایک اچھی بھاری تنخواہ کی نوکری مل سکے ۔۔
    کچھ عرصہ پہلے تک پیسہ اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔ہم اپنے رشتے اپنی دوستیاں حتی کہ اپنی اولاد تک کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔۔
    ہم زندہ رہنے کے لیے نہیں کماتے بلکہ کمانے کے کیے زندہ رہتے ہیں ۔ دن بدن ہماری ضروریات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے جسکے لیے مزید محنت مزید پیسہ چاہیئے۔

    پیسے کی اس دوڑ اور اس کمائ کی لت نے نوجوان نسل سے وہ کام بھی کروائے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک قبیح سمجھے جاتے تھے۔ ٹک ٹاک سنیک ویڈیوز بگو لایئو جیسی ایپس نے اس دوڑ میں آکر نوجوانوں کو ایک الگ ہی نشے سے متعارف کروا دیا ہے ۔ نوجوان نسل بنا کسی نقصان کے بارے میں سوچے دھڑا دھڑ ان ایپس سے منسلک ہوتے جا رہے ہیں اور اس سے ہماری مشرقی اقدار بہت بری طرح پامال ہوئ ہیں۔دوسرے الفاظ میں اپنی اقدار کا سودا چند ہزار یا لاکھ میں کیا گیا ۔

    ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر چلنے والی کریپٹو کرنسی نے اس ریس میں مزید نوجوان اس آگ میں دھکیل دیے ہیں۔ جوے اور سود کو ایک شوگر کوٹڈ گولیبکی طرح پیش کیا جا رہا ہے جسکو نگلنے کے لے ہزاروں لاکھوں لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔
    بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شخصیت یا معاشرے کی تعمیر نہیں بلکہ پیسہ و شہرت رہ گیا ہے ۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا مقصد بھی پیسہ کمانا ہے طلبا کی ذہنی و اخلاقی تربیت نہیں۔۔جتنا بڑا تعلیمی ادارہ ہو گا اتنے ہے بے حس لوگ معاشرے میں دے رہا ہو گا ان طلبا کی ذہنی گروتھ بھی اسی نہج پر کی جاتی ہے کہ کس طرح وہ مستقبل میں اپنے فانینشل سٹیٹس مزید بڑھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے ہم دن بدن پیسے کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اخلاقیات میں گرا ہوا معاشرہ بنا رہے ہیں اور یہی معاشرہ یہی سوچ اور یہی اقدار اپنی آنےوالی نسلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

    ہم ایک بے حس معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جسکا دنیا میں آنے کا مقصد ہی فقط پیسہ کمانا ہے۔ جہاں نوجوان نسل کو اس بات کی ترغیب دلائ جاتی ہے کی اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو آپکا قصور نہیں اگر آپ غریب مر جایئں تو آپکا قصور ہے۔ اور یہی مقصد زندگی بنا دیا گیا جو ہم آج دیں گے کل اسی حال میں معاشرے کو دیکھیں گے ۔۔۔فیصلہ آج بھی ہمارا ہے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے.

    Twitter handle @ShezM__

  • اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    چین میں 14 سالہ بچہ موبائل فون واپس لینے پر اپنے والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے صوبے انشوئی میں 14 سالہ بچہ والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا اور شکایت درج کرائی کے والد بچوں سے مشقت لینے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے گھر کے کام کرواتے ہیں۔

    تھانے میں موجود افسر کو جب بات سمجھ نہیں آئی تو وہ بچے کو لے کر اس کے گھر پہنچ گئے اور بچے کے والد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ بچہ ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتا ہے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا نہ ہی اپنی پڑھائی پر توجہ دیتا ہے۔

    پولیس اہلکار نے والد کو بچے پر زیادہ سختی کرنے سے منع کیا اور کہا کہ کچھ دیر کے لیے بچے سے موبائل لینے کا خیال خاصا بہتر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اس لڑکے کو نافرمان قرار دیتے ہوئے اس کے والدین پر اعتراض کیا ہے کہ انہیں بچے کے بگڑنے سے پہلے ہی اسے سمجھانا چاہیے تھا لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر بچے نے بدتمیزی کی اور تھانے میں اپنے ہی والد کے خلاف شکایت کردی، تو اس میں بھی والدین کی اپنی لاپرواہی کا دخل ہے۔

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار، انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔

    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔

    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔

    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس وقت پنجاب ،کے پی کے ،گلگت ،وفاق پر مکمل پی ٹی آئ کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے ان تمام صوبوں میں زبردست ترقیاتی کام جاری ہیں ،صحت کارڈ دیئے جارہے ہیں ،قبضہ مافیاز کے خلاف آپریشن جاری ہیں ،عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جارہا ہے ،عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جارہا ہے ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف انڈسٹریز کو مزید بہتر بنانے کے لئے سہولیات دی جارہی ہیں ،صحت ،تعلیم اور پولیس سسٹم میں کافی حد تک بہتری آرہی ہے کسی بھی طرح عوام کو تنہا بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جارہا ہے ابھی کشمیر الیکشن جیتنے کے بعد یقینن کشمیر کی عوام کو بھی تمام سہولیات دی جائیں گی اور کشمیر کی خوشحالی کا دور اب شروع ہوا چاہتا ہے ایسے حالات میں صرف ایک صوبہ سندہ رہ گیا جو ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہونے کی بجائے مزید تباہی وبربادی کی طرف جارہا ہے تعلیم ہے نا صحت اور پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ جسے سندہ حکومت اپنی سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال کررہی ہے ،سندہ میں پچھلے ١٣ سال سے مسلسل پپلزپارٹی کی حکومت چلتی آرہی ہے ہر سال کھربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے لیکن وہ پیسہ عوام پر استعمال ہونے کی بجائے کرپشن لوٹ مار کی نظر ہورہا ہے عوام غربت کی زندگی گزارہی ہے جبکہ وزراء اور حکومتی مشیر اربوں کی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہیں ،سندہ کی عوام کو بلکل بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے پپلزپارٹی کے اس ظلم وستم سے سندہ کی عوام تنگ آچکی وہ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی سے امیدیں لگائ بیٹھی ہے ،پی ٹی آئ واحد پارٹی ہے جو سندہ سے بھی پپلزپارٹی کا صفایا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ان حالات میں وزیراعظم صاحب نے کشمیر الیکشن کے فوری بعد سندہ میں پارٹی کو مضبوط بنانے کی حکمت بنالی اور آئندہ بلدیاتی الیکشن ہوں یا ٢٠٢٣ کا الیکشن پپلزپارٹی کو عبرتناک شکست دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سندہ میں پی ٹی آئ قیادت کو متحرک ہونے کا ٹاسک دے دیا اور وزیراعظم صاحب خود بھی سندہ کا دورہ کریں گے.

    سندہ میں پی ٹی آئ کو مضبوط کرنے کے لئے سب سے پہلے وزیراعظم صاحب کو پی ٹی آئ میں بیٹھے الطاف حسین کی سوچ رکھنے والے تعصب پرست عناصر کی زبان بند کرنی پڑے گی یہ لوگ آئے روز کراچی کو سندہ سے الگ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے سندہ کی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بات کا فائدہ پپلزپارٹی اٹھاتی ہے Mqmمہاجر کارڈ اور پپلزپارٹی سندھی کارڈ کے زریعے عوام میں تعصب پھیلاکر ووٹ لیتے آئے ،mqm کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کا نعرہ لگاکر کراچی شہر سے جیتتی آئ ہے جبکہ پپلزپارٹی باقی سندہ کے اضلاع سے مرسوں مرسوں سندہ نا ڈیسوں کا نعرہ لگاکر الیکشن جیتتی رہی دونوں پارٹیاں اس حد تک تعصب پھیلاتی رہی ہیں کہ نا mqm کبھی سندہ کے دیہی علائقوں میں اپنی جگہ بنا پائ اور نا پپلزپارٹی کبھی سندہ کے شہری علاقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکی اس کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی دونوں تعصب کی بنیاد پر عوام کو آپس میں لڑواکر الیکشن جیتتے رہے.

    لیکن پی ٹی آئ کو یہ غلطی ہرگز نہیں کرنی چاہیے ،پی ٹی آئ کو کراچی تا کشمور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،سندھی مہاجر کی تعصب کی لڑائ کو ختم کرکے دونوں کو ایک دوسرے کو قریب لانے کی ضرورت ہے اس وقت بھی پی ٹی آئ میں کراچی شہر کے کچھ لوگ ایسے بیٹھے ہیں جو الطاف حسین والی سوچ کے تحت تعصب پھیلاتے نظر آتے ہیں وہ ہر وقت کراچی والے کراچی والے کرتے نظر آتے ہیں ان کو لگتا ہے شائد پپلزپارٹی شہر کراچی کے علاوہ باقی پورے سندہ میں بڑے ترقیاتی کام کروارہی ہے بس کراچی کے ساتھ ذیادتی کررہی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں پپلزپارٹی بلاتفریق پورے سندہ کو تباہ کررہی آپ کراچی سے تھرپارکر ،شکارپور،لاڑکانہ ،نوابشاہ ،گھوٹکی کہیں بھی چلے جائیں کسی جگہ آپ کو کوئ ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آئے گا البتہ ان کراچی والے کراچی والے کرنے والوں کی وجہ سے پی ٹی آئ کو سندہ کے باقی اضلاع میں جگہ بنانے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پپلزپارٹی دیہی علائقوں میں پی ٹی آئ کے ان کراچی والے کا نعرہ لگانے والوں کی باتیں عام سندھی کو سناکر یہ تعصب پھیلانے کی کوشش میں لگی ہے کہ اگر پی ٹی آئ بھی اقتدار میں آگئ تو یہ بھی mqmکی طرح کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کی کوئ سازش کریں گے اور سندہ کی عوام بھوک ،پیاس،تکلیفیں سب برداشت کرکے ایک بار پھر پپلزپارٹی کی طرف چل پڑتی ہے تاکہ سندہ کی تقسیم نا ہو پپلزپارٹی اس کام کے لئے سندہ کی قومپرست جماعتوں کی بھی خدمات لیتی ہے تاکہ پی ٹی آئ کو سندہ دشمن مان لیا جائے ،ایسی صورتحال میں پی ٹی آئ پہلے تو بلکل واضع احکامات جاری کرے اپنی ان کراچی اور سندہ کہنے والے پارٹی قیادت کو کہ شہر کراچی کے حقوق کی جب بات کرو تو ساتھ سندہ کے باقی اضلاع کے بھی حقوق کی بھی بات کریں کسی بھی طرح اپنی زبان سے ایسے کوئ الفاظ ادا نا کریں جہاں سندہ کے باقی اضلاع کے لوگوں کو آپ کے الفاظ سے کوئ تعصب کو بو آئے.

    پورے سندہ میں پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش کریں مہاجر اور سندھی بھائیوں کو آپس میں قریب لائیں ان کے درمیان سے نفرت یا تعصب ختم کریں سندہ میں رہنے والے سب ایک ہیں کا نعرہ لگائیں ،پھر سندہ کی بڑی سیاسی شخصیات ،پڑھے لکھے نوجوانوں اور بڑا قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات کو اپنے ساتھ ملائیں ،سندہ میں اپنے کارکنوں کی داد رسی کریں ،مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں ،سندہ کے عوام کی رائے کو تسلیم کریں ،آپ کے کسل لفظ سے کسی کی دل آزاری کسی صورت نا ہو.

    ہر ضلع اوریونین کاونسل تک تنظیم سازی کی جائے ،زرداری لیگ کی سندہ میں کرپشن لوٹ مار بے نقاب کی جائے ،قومپرست جماعتوں سے بھی بات چیت کرکے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں ،سندہ میں پپلزپارٹی مخالف تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں یا ان سے اتحاد کریں ایک بہترین حکمت عملی اور واضع پالیسی کے ساتھ سندہ میں پپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے اترا جائے تاکہ سندہ سے پپلزپارٹی کی بادشاہی دور کا اختتام ہو اور ایک نیا سندہ بن سکے تاکہ سندہ میں پی ٹی آئ حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے.

    @MajeedMahar4

  • لہور لہور اے . تحریر : عمران اے راجہ

    لہور لہور اے . تحریر : عمران اے راجہ

    کسی نے سچ کہا ہے "لہور لہور ہے، جن نے لہور نی تکیا او جمیا نئ ” ( لاہور لاہور ہے، جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا)۔ یہ بات وہی جان سکتا ہے جس نے لاہور کو دیکھا ہو۔ لاہور کے اتنے رنگ اور چہرے ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب لکھنی پڑ جائے ۔ یہاں کے رنگ، ثقافت، تاریخ، قدیم روایات، جدید ترقی کی چکا چوند، باغوں کی ہریالی اور پھولوں کی خوشبو، درختوں سے ڈھکی دو رویہ سڑکیں، پاکستانی ثقافت کی لذت لیے روایتی کھانے، ماضی کی داستان بیان کرتے اور نشان عبرت بنے مقبرے، چمکتے فرش والے مزارات، عظیم درسگاہیں اور زندہ دلان لاہور کی مہمان نوازی یہ سب چیزیں سیاحوں کو بار بار کھینچ کر یہاں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ لاہور ایک شہر ہی نہیں ایک دیرپا احساس اور ایک ناقابل فراموش تجربہ بھی ہے۔ پاکستان کی ثقافت کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے لاہور کو دیکھنا ضروری ہے۔

    شاہی قلعہ
    سیاح جب لاہور میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کا رخ کرتے ہیں۔ شاہی قلعہ مغلیہ فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ جزوی طور پر اکبر نے تعمیر کیا تھا (1556-1605) اور اگلے تین شہنشاہوں نے اس میں توسیع کی۔ شاہی قلعہ میں دیوان عام، دیوان خاص، شیش محل قابل دید ہیں۔ شاہی قلعہ کا داخلی دروازہ بادشاہی مسجد کے سامنے ہے اور اسے "عالمگری گیٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1981 میں یونیسکو نے لاہور قلعہ کو عالمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت سے شامل کیا۔

    بادشاہی مسجد
    شاہی قلعہ لاہور کے مغرب میں بادشاہی مسجد واقع ہے۔ اسے لاہور کے مشہور مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بادشاہی مسجد مغل شہنشاہ اورنگ زیب نے 1671 اور 1673 کے درمیان تعمیر کروائی۔ یہ مسجد مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار ہے ، یہ مغل عہد کی سب سے بڑی اور پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے۔ یہاں بیک وقت ایک لاکھ نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ مسجد اور قلعے دونوں کو سنگ سرخ سے سجایا گیا ہے۔

    مینار پاکستان
    شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے قریب ہی مینار پاکستان واقع ہے. مینار پاکستان ، لاہور کی ایک تاریخی یادگار ہے۔ اسے پاکستان کا سب سے بڑا ٹاور سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹاور اس جگہ پر 1960 اور 1968 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا جہاں آل انڈیا مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 کو علیحدہ وطن کے حصول کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔

    مسجد وزیر خان
    وزیر خان مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1634 میں ہوا اور یہ 1641 میں مکمل ہوا۔ یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل ہے۔ مغلیہ فن تعمیر اور کاشی کاری کے کام کی وجہ سے سیاح اس میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔

    شالامار باغ
    لاہور مغلوں کا شہر ہے ، اور شالامار باغ مغلوں کی ایک اور حسین یادگار ہے۔ فواروں، چشموں ، سنگ مرمر کے تالاب ، درختوں اور گھاس کے میدانوں سے سجا یہ باغ پاکستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ باغات کی تعمیر 1641 میں شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں شروع ہوئی ، اور یہ 1642 میں مکمل ہوئی۔ 1981 میں شالیمار گارڈن کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تحریر کیا گیا تھا.

    والڈ سٹی
    اندرون لاہور جسے اولڈ سٹی بھی کہا جاتا ہے ، لاہور کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ شہر 1000 عیسوی کے قریب قائم کیا گیا تھا ۔ یہ درجنوں حکمرانوں اور کئی ادوار سے گزرا ہے۔ اندرون لاہور مغلیہ دور میں دارالحکومت کے طور پر منتخب ہونے کے بعد شہرت پذیر ہوا ، جس کے نتیجے میں لاہور قلعہ تعمیر ہوا۔ والڈ سٹی کو مغل عہد کے دوران شاہانہ طور پر سجایا گیا وزیر خان مسجد ، شاہی مسجد اور شاہی حمام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ سکھ حکمرانی کے دور میں ، اس شہر کو دوبارہ دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا گیا ، اور یہ ایک بار پھر والڈ سٹی میں تعمیر کردہ متعدد مذہبی عمارتوں کے ساتھ نمایاں ہوا جس میں رنجیت سنگھ کی سمادھی ، اور گوردوارہ جنم آستھن گرو رام داس بھی شامل تھے۔ ابتداء میں اس کے 13 دروازے تھے جن میں سے اب صرف 6 باقی ہیں۔ ان چھ میں سے ہر ایک دیکھنے کے قابل ہے۔

    مقبرہ جہانگیر
    اگر آپ فن تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مقبرہ جہانگیر یقینی طور پر لاہور میں دیکھنے کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ مقبرہُ جہانگیر17 ویں صدی کا ایک مقبرہ ہے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ مقبرہ 1637 سے قائم ہے ، اور دریائے راوی کے کنارے شاہدرہ باغ میں واقع ہے۔ اس کو سنگ مرمر سے سجایا گیا ہے اور دیواروں کو رنگین پتھروں کے ٹکڑوں سے مزین کیا گیا ہے۔

    کامران کی بارہ دری
    کامران کی بارہ دری کو 1540میں پہلے مغل بادشاہ بابر کے بیٹے اور دوسرے مغل بادشاہ ہمایوں کے بھائی کامران مرزا نے تعمیر کیا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہر کا قدیم ترین مغل ڈھانچہ ہے جو اب بھی قائم ہے۔ یہ محل لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے پار ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے کشتی کی مدد لی جاتی ہے۔اس کی دو منزلیں اور بارہ دروازے ہیں جنھیں ہوا کے گزر کےلئے تعمیر کیا گیا تھا۔ لاہور کے دیگر تاریخی مقامات کے برعکس ، اس کی حفاظت نہیں کی جارہی ہے -اور یہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

    داتا دربار
    آپ لاہور جائیں اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے بزرگ سید علی ہجویری داتا گنج بخش کے مزار پر نہ جائیں یہ ممکن ہی نہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہاں 11 ویں صدی میں رہتے تھے۔ یہ لاہور کا مقدس ترین مقام ہے اور اس کے سالانہ عرس میلے میں ملک بھر سے 10 لاکھ زائرین آتے ہیں۔

    مادھو لعل حسین کا مزار
    لاہور ہی میں مادھو لال حسین کا مزار بھی بہت مشہور ہے۔ مادھو لعل حسین سولہویں صدی کے صوفی شاعر تھے۔ ان کے عرس کے موقع پر یہاں ہر سال میلہ چراغاں ہوتا ہے جو لاہور کا ایک مقبول تہوار ہے۔ یہ میلہ شالیمار گارڈن میں بھی ہوتا تھا ، یہاں تک کہ صدر ایوب خان نے سن 1958 میں اس کے خلاف حکم دیا تھا۔

    انارکلی بازار
    انارکلی بازار ، لاہور میں دیکھنے کے لئے ایک بہترین مقام ہےچاہے وہ خریداری ، کھانے ، یا محض تفریح کرنی ہو۔ اس کے رومانوی نام کا اثر ہے یا کچھ اور لیکن لاہور آنے والوں کی تفریح اور شاپنگ انارکلی جائے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہ لاہور کے قدیم بازاروں میں سے ایک ہے۔

    باغ جناح
    لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک وسیع و عریض پارک ، باغ جناح صرف ایک تفریح گاہ نہیں، یہاں ایک نباتاتی باغ ، ایک مسجد اور قائد اعظم لائبریری بھی ہے جو 19 ویں صدی کی وکٹورین طرز کی عمارت میں واقع ہے۔اس باغ کی تعمیر 1860 میں شروع ہوئی۔یہاں پر اس دور کے قدیم درخت آج بھی موجود ہیں۔ پارک کے اندر تفریحی اور کھیلوں کی سہولیات بھی ہیں۔ ایک اوپن تھیٹر ، ایک ریستوراں ، ٹینس کورٹ اور جم خانہ کرکٹ گراؤنڈ۔

    فوڈ سٹریٹ
    جب لاہور کے روایتی کھانوں کی بات ہو تو شاہی قلعہ سے متصل فوڈ سٹریٹ سے بہترین کوئی جگہ نہیں۔اندرون شہر لاہور میں واقع فوڈ اسٹریٹ صرف کھانے پینے کے لیے ہی نہیں بلکہ قدیم حویلیوں میں بنے یہ ریستوران اور اندرون لاہور کی ثقافت کو اجاگر کرتی عمارتیں سیاحوں کو یہاں کھینچ کر لانے پر مجبور کرتی ہیں۔ "حویلیاں ریستوران” اور "کوکوز ڈین” کی چھت پر بیٹھ کر نہ صرف کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے بلکہ آپ بادشاہی مسجد اور لاہور کے حسین نظاروں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    یہ تو قدیم لاہور کی ثقافت کی ایک جھلک ہے۔لیکن اگر جدید لاہور کو دیکھنا ہو تو لبرٹی، ڈیفنس، امپوریم مال، پیکجز مال اور فورٹریس سٹیڈیم میں رنگ و نور کی برسات نظر آتی ہے۔ یہاں آپ کو زندگی بھاگتی دوڑتی اور رقص کرتی نظر آئے گی۔

    جدید دور کا ساتھ دینے کے لیے نئے پلازے اور نئی تفریح گاہیں بنانا ملکی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ لیکن تاریخی عمارات اور مقامی ثقافت کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ ان کی حفاظت کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اسی ثقافت اور تہذیب کو دیکھنے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں حکومت اور عوام دونوں کا رویہ تاریخی عمارات اور ملکی املاک کی حفاظت کے بارے میں غیر سنجیدہ ہے۔ حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور عوام ان مقامات پر گندگی پھیلانے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ ہمیں چاہیے کہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ان کی حفاظت کریں اور حکومت ان کی حفاظت اور تزئین و آرائش کے لیے خصوصی فنڈ مختص کرے۔ کیونکہ یہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے دیکھنے دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں۔ اور اسی سے ملکی ترقی اور بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

    @ImranARaja1

  • عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر :  محمد عمران خان

    عوامی کرپشن اور چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاں . تحریر : محمد عمران خان

    جی ہاں ہم حکمرانوں کو دن رات صبح شام کرپٹ کرپٹ کہتے نہیں تھکتے حالانکہ حکمرانوں سے کہیں زیادہ کرپٹ ہم خود عوام ہیں ۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جی عوام کیسے کرپٹ ہو سکتے ہیں؟
    تو پھر غور سے پوری تحریر پڑھ کے خود فیصلہ کیجئے کہ کیا ہم کرپٹ ہیں یا نہیں؟!
    ایک بینک کے مینیجر سے شروع کرتے ہیں، کہ ‏‎بہت سے بینک منیجر اپنے کام سے بے خبر ہیں انکے زیر انتظام کارکن کا رویہ کلائنٹ کیساتھ ہتک امیز ہوتا ہے, مگر ان صاحب کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ تو کیا ہم اسے ایک ایماندار بینک مینیجر کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب آتے ہیں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی طرف، ڈاکٹر حضرات نے جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے وہ کسی بھی ذی شعور سے ڈھکا چھپا ہر گز نہیں، مریضوں کی زندگی سے کھیلنے کا تو انکا شاید معمول بن چکا ہے، دوائی وہ لکھ کر دیں گے جو انکے بتائے گئے من پسند میڈیکل کے علاوہ آپکو کہیں اور نہیں ملے گی. چاہے وہ دوائی آپ کیلئے فائدہ مند ثابت ہو یا نہیں یہ آپکی قسمت، تو کیا ہم ان جیسے نام نہاد پڑھے لکھے ڈاکٹروں کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    اب بات کرتے ہیں پیٹرول مافیا کی، انکی کارستانیوں کا کس کو نہیں معلوم کہ جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتو فورا بعد ہی قیمتیں بڑھا کر پچھلی قیمت پر خریدا ہوا تیل نئی قیمت پر فروخت کر کے کروڑوں روپے کماتے ہیں، لیکن اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اعلان ہو جائے تو پہلے تو چند روز تک قیمت کم نہیں کرتے بلکہ اسی قیمت پر فروخت کرتے رہتے ہیں، پھر اگر کم کر بھی دیں تو تیل ڈالتے وقت پیمانے میں ایسی ردو بدل کرتے ہیں کہ قیمت بھی وصول ہو جاتی ہے اور گاہکوں کی جیب سے ہی وہ اپنا خسارہ پورا کر لیتے ہیں۔ سوال تو بنتا ہے نا ادھر کہ کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب سے آپ بخوبی واقف ہیں۔

    چلیں شوگر مافیا کے کارنامے بھی دیکھ لیں، چینی اگر مہنگی ہو جائے تو ان کا رکھا ہوا سٹاک فورا باہر آنا شروع ہو جاتا ہے اور دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگتا ہے لاکھوں کروڑوں اربوں روپے کماتے ہیں۔لیکن اگرخدانخواستہ چینی سستی ہو بھی جائے کسی طرح تو یہ بالکل بھی نہیں فروخت کرتے بلکہ اسٹاک کر لیتے ہیں چینی چھپا دیتے ہیں چینی مارکیٹوں میں ناپید ہو جاتی ہے پھر مجبورا ریٹ خود بخود بڑھ جاتے ہیں اور جب ریٹ بڑھ جاتے ہیں تو وہی چینی یہ لوگ نکال کے پھر فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں اربوں روپے کروڑوں روپے کما کے یہ لوگ کہاں جاتے ہیں کدھر کرتے ہیں کیوں کرتے ہیں ایسا ؟کیا یہ ملک کے ساتھ پاکستان کی عوام کے ساتھ ہم غریبوں کے ساتھ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟تو کیا ہم ان کو ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے ہرگز ہرگز نہیں!
    کس کس کا رونا روئیں شوگر مافیا، تیل مافیا، آٹا مافیا یا ایسے کئ مافیاز سے ہمارا ملک بھرا پڑا ہے۔

    چھوڑیں ان بڑے بڑے مافیاز کو تو آپ ذرا چھوٹے لیول پہ آجائیں ہم آپ کو ان کی کارستانیاں بھی سناتے ہیں ۔ چھوٹے سے چھوٹے پرچون والے سے شروع کرتے ہیں ایک پرچون والا دکان دار اگر کسی کو ادھار چیز دیتا ہے تو 2 نمبر چیز دے گا اور ریٹ کم از کم دس فیصد زیادہ رکھے گا۔ ناپ تول میں کمی کرے گا۔ اگر کوئی نقد چیز لینے والا آئے تو اسے اچھی چیز دے گا۔ موجودہ ریٹ لگائے گا۔ اور یہ ان پر احسان نہیں کر رہا ہو گا پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور گڑبڑ کرے گا پرانا خراب شدہ مال نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے چاول دال وغیرہ جو پہلے سے خراب ہوئی پڑی ہوتی ہیں وہ نئے مال میں مکس کرکے بیچ دیتا ہے اچھا کہے کے ،اب جو لینے آئے گا وہ ایک ایک چیز تو چیک کرے گا نہیں لیکن جب وہ گھر جائے گا دیکھے گا استعمال کرے گا تو اس کو بعد میں پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یہاں صرف یہ چیز نہیں ہے اور بھی اس طرح کی بہت سی خرابیاں ہوتی ہیں جو وہ لوگ کرتے ہیں اور خود کو ایماندار کہتے ہیں۔ ان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں خود اپنے ساتھ وہ کیا کر رہے ہیں۔
    تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں جواب ہے نہیں!

    ایک چھوٹے سے چھوٹا گنے کے رس کی ریڑھی والا وہ بھی اسی طرح کی بے ایمانی کرتا ہے گنے کے رس میں برف اتنی ڈال دے گا کہ ہر گلاس میں گنے کا رس آدھے گلاس سے بھی کم ہوگا باقی پورا گلاس پوری جگ اس کی برف سے اس کے برف والے پانی سے بھر جائے گی نمک ڈالے گا مصالحے ڈالے گا اس طرح کی چیزیں ڈالے گا پورا کرکے آپ کو گلاس یا جگ پکڑا دے گا یہ آپ کا گنے کا رس پئیں اس میں زیادہ پانی ہوگا اور معمولی سا گنے کا رس ہوگا۔ اور گنا خراب ہے اچھا ہے جیسا بھی ہے وہ اپنی جوس والی مشین میں ڈال دے گا اور آپ کو اس کا رس نکال کر دے دے گا اس میں گنے میں کیڑے تھے اچھا تھا برا تھا یہ آپ کی قسمت آپ کو بس رس پینا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں!

    شہر سے نکل کرآپ دیہات کی طرف آ جائیں جو لوگ فصلیں اگاتے ہیں کپاس، گنا ،گندم ،چاول وغیرہ جو چیز لوگ اگاتے ہیں وہ اپنی فصل کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں شاید ہی کوئی ہو گا جو اچھا پانی دیتا ہوگا اپنا حلال کا پانی دیتا ہوگا اپنا ٹیوب ویل استعمال کرتا ہوگا شاید ہی کوئی قسمت والا مل جائے۔ لیکن اکثر میں نے خود دیکھا ہے کہ بے ایمانی سے کھیتوں میں پانی ڈالتے ہیں چوری کا پانی لیتے ہیں رات کو کافی کافی دیر تک جاگتے ہیں جب دیکھتے کوئی نہیں ہوتا تو چوری کا پانی کھول کے اپنی فصلوں کو دیتے ہیں چاہے وہ کپاس ہو چاہے وہ چاول ہو چاہے وہ گنے کی فصل ہو کچھ بھی ہو چوری کا پانی دے کے چوری کی فصل اگا کے حرام اس میں شامل کرکے وہ خود کو ایماندار سمجھتا ہے۔ وہ خود کے ساتھ اتنا ظلم کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا نہ تو وہ اپنے بچوں کو حلال کھلا رہے ہوتے ہیں نا خود کھا رہے ہوتے ہیں اور نہ آنے والی ان کی نسلیں حلال کھائیں گی ۔ سب کے سب اس میں شامل ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں ؟ہر گز نہیں!

    بڑے سے بڑے وکیل کیس چاہے جیسا بھی ہو اگلے کا قتل بھی ہو چکا ہو اگلا بہت مجبور ہو لاچار ہو لاوارث ہو اس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ وکیل نہیں کر سکتا تو اس کو انصاف نہیں ملے گا۔ لیکن دوسری طرف اگر اس نے قتل کیا ہو اس نے زیادتی کی ہو اس نے بچوں کا ریپ کیا ہو اس نے بڑی سے بڑی زیادتی بڑے سے بڑا جرم کیا ہو اور اچھے سے اچھا وکیل اتنا سارا پیسہ دے کہ اگر وہ خرید لیتا ہے تو وہ وکیل جی جان سے اس کو جتوانے کے لئے کیس لڑے گا اور آخر اس کو کیس جتوا کر کے ہی دم لے گا تو کیا وہ وکیل نے جو پیسے لیے وہ کرپشن نہیں ہے کیا وہ بے ایمانی نہیں ہے کیا وہ اپنی نسلوں کے ساتھ ظلم نہیں کر رہا جواب ہے کہ ہاں بالکل کر رہا ہے۔ تو کیا ہم اسے ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ جواب ہے کہ نہیں!

    ڈیجیٹل میڈیا پربیٹھے ہوئے صحافی شاید ہی کوئی ایماندار ہو گا اکثریت دیکھنے میں آتی ہے کہ جھوٹی خبریں شیئر کرتے ہیں دوسری پارٹیوں سے پیسے لے کے حکومت پر تنقید کرتے ہیں حکومت سے پیسے لے کے دوسری پارٹیوں پر تنقید کرتے ہیں جو پارٹی ان کو پیسے دے ان کی ہر بری چیز اچھی کر کے دکھاتے ہیں اور جو پیسے نہ دے جو اپنا پیسہ حرام نہ کرے حلال کر کے اپنی قوم کو کھلائے اور ان لفافہ صحافیوں کو پیسے نہ دے وہ بیچارا ایسے ہی ذلیل ہوتا رہے گا دن رات سوشل میڈیا پر بھی اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی یہ میں صرف ایک آدمی کی بات نہیں کر رہا،ایسے شاید کئ لوگ ہوں گے۔
    تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں!

    سکول مافیا کی بات کر لیتے ہیں سکول مافیا وہ مافیا ہے جو اپنے پرائیویٹ سکولوں میں دس دس جماعت پڑھے ہوئے لوگوں کو استاد بنا کر پیش کر دیتے ہیں چند ہزار روپوں کے چکر میں آنے والی نسلوں کو بچوں کو ان سے تعلیم دلوا کے جو خود پڑھے لکھے نہیں ہوتے جن کو خود تعلیم حاصل کرنی چاہیے وہ بچوں کو پڑھا رہے ہوتے ہیں کیا پڑھا رہے ہیں؟ انہیں صرف پرائیویٹ سکول کو چلانے کے لیے ان جیسے لوگوں کو چند روپوں میں خرید کے بچوں سے پھر اس کی قیمت وصول کرتے ہیں، اربوں روپے کروڑوں روپے ان بچوں سے صرف اس مد میں وصول کیے جاتے ہیں کہ ان کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان کو تعلیم کیا دی جارہی ہے یہ نہ تو ہم جانتے ہیں نہ بچوں کے والدین جانتے ہیں اور نہ خود پڑھنے والے بچے جانتے ہیں۔ تو کیا ہم انہیں ایماندار کہہ سکتے ہیں؟ یا استاد کہہ سکتے ہیں ؟جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں!
    میری ایک چھوٹی سی تحریر سے شاید کچھ لوگ اتفاق نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے امید کروں گا کہ آپ سب کو پسند آئے گی ان شاء اللہ ۔اللہ تعالی ہم سب کو ان چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو رزق حلال کھانے اور کمانے کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، آمین یا رب آمین!

    @Imran1Khaan

  • کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے . تحریر:‌ محسن ریاض

    ارتقاء کے دور سے ہی کتاب نے انسانوں کا ساتھ سنبھال لیا تھا مگر اس وقت اس کا استمال بہت محدود ہوتا تھا اس وقت اس کو پتھروں کے ٹکڑوں پر کندہ کر کے ، درختوں کی چھال یا پھر پتوں پر اس کے علاوہ جانوروں کی ہڈیوں پر لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا آہستہ آہستہ آٹھویں صدی میں کاغذ ایجاد ہوا اور کتابوں کو نئی زندگی مل گئی اور ان کاغذوں پر سیاہی کی مدد سے ہاتھوں سے لکائی کی جاتی اور یہ سہولت صرف بادشاہوں اور امرا ء کو حاصل ہوتی تھی اوران مقاصد کے لیے انہوں نے بھاری معاوضے پر خطاط رکھے ہوتے تھے اس طرح یہ سہولت عام افراد تک نہیں پہنچ پا رہی تھی اس زمانے میں زیادہ تر مسلمان ہی کتابوں کے وارث سمجھے جاتے تھے اور ہر میدان میں عیسائیوں سے آگے تھے ابن الہیثم اس وقت ماہر طبیعات تھے جنھوں نے افلاطون کی تھیوری غلط ثابت کی اور بتایا کہ آنکھوں سے روشنی نکل کر چیزوں پر نہیں پڑتی بلکہ روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے جس سے چیزیں نظر آتی ہیں انہوں نے ریاضی کی مدد سے بھی اس چیز کو ثابت کیا- جابر بن حیان پہلے کیمیادان تھے جنھوں نے گندھک کا تیزاب ایجاد کیا اور ایسا تیزاب بھی بنایا جس سے سونا پگھلایا جا سکے –

    اس کے بعد جنگ و جدل کا دور شروع ہوا اورعیسائیوں نے بغداد اور سپین میں مسلمانوں کی لائبریریوں کو جلانا شروع کر دیا یا پھر کتابوں کو قبضے میں لے لیا -قاہرہ کی لائبریری کی کتابوں کو دریا میں پھینکا گیا جس سے دریا کا پانی سیاہ ہو گیا اس کے علاوہ کئی واقعات ہیں اس سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوا اور عیسائی علم کے وارث بن گئے-وقت کا پہیہ ایک بار پھر گھوما اور چھاپنے والی مشین ایجاد ہو گئی اس نے کتاب کے نظریئے کو ہی بدل کر رکھ ڈالا اور چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد ہر خاص و عام کو کتاب تک رسائی مل گئی-اس کہ بعد لوگوں میں کتابوں کا ذوق پیدا ہوا اور لوگوں نے اپنی لائبریریاں بنانی شروع کر دیں دیوان غالب ہو یا کلیات میرانہوں نے لوگوں میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی –

    قیام پاکستان کے بعد چند سالوں تک تو لوگوں کو سنبھلنے میں وقت لگا مگر جب سنبھل چکے تو کتابوں کی طرف رخ کیا اس دور کو کتابوں کے لیے گولڈن دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس وقت کتابوں کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا -قرۃ العین حیدر کے آگ کے دریا نے تہلکہ مچا دیا تھا اس کے علاوہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے اہم کردار ادا کیا -شاعر حضرات میں سے احمد فراز ،حبیب جالب اور فیض احمد فیض نے اپنا کردارادا کیا-

    اس کے بعد ٹیکنالوجی کا دورآیا اور کتابوں سے لوگ دور ہونے لگے ۔زیادہ تر لوگ معلومات کے لیے کتابوں کی بچائے انٹرنیٹ کا سہارا لینے لگے اور اس طرح ایک عہد تمام ہوا-اب تو زیادہ تر لوگ کتابوں کو پی ڈی ایف پر ہی پڑھتے ہیں تاکہ وقت کی بچت بھی کو سکے اور سرمائے کی بھی-مگر وہ چاشنی جو کتابوں کے اوراق میں چھپی ہوتی ہے وہ آنلائن پڑھنے میں کہاں ملتی ہے -مگر اس دور میں بھی فیض فیسٹیول اور دیگر اس طرح کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں تاکہ کتابوں کو زندہ رکھا جا سکے -اس وقت لائبریری میں نہ ہونے کے برابر افراد ہوتے ہیں موجودہ دور میں عرصہ دراز ہو گیا تھا کہ کتابوں کو پرموٹ کیے جانے کے حوالے سے کوئی سیمینار دیکھا گیا ہو مگر گزشتہ دنوں حسنین جمال کی طرف سے کتاب لکھی گئی اور اس کی تقریب رونمائی کے علاوہ حسنین صاحب نے جس طرح مختلف شہروں میں جا کر قارئین سے ملاقاتیں کی اور کتاب کی پروموشن کی وہ قابل دید تھی یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہ صدی کتابیں اپنا وجود قائم رکھ سکیں ورنہ آجکل کے مشینی دور میں طلبا کی اکثریت ایسی ہے جس نے شائد سلیبس کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہو-آج کے دور میں ٹیکنالوجی بھی بے حد ضروری ہے مگر کتابوں کے ساتھ بھی رشتہ بنائے رکھنا چاہئیے۔کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے جو سعود عثمانی صاحب نے فرمایا
    کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
    یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

    mohsenwrites@