Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے  تحریر: ذیشان علی

    بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے تحریر: ذیشان علی

    گردش ایام یا اشاعت اعمال نے آج مسلمانوں کو ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کونسی آنکھ ہوگی جو ہمارے زبوں حالی اور ذلت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو،
    کبھی وہ دور بھی تھا کہ ایک مسلمان عورت کے سر کے بالوں پر کسی غیر محرم کی نظر بھی نہ پڑھ سکتی تھی،
    لیکن آج ان رسم و روایات کو صرف سنا اور سنایا جاتا ہے،
    ماڈرنزم اور فیشن کے نام پر خود کو برہنہ کرنے کا جو ٹرینڈ ہمارے ہاں چل پڑا ہے ڈرامہ انڈسٹری بڑی تیزی کے ساتھ اس پر کام کر رہی ہے، اور عین ممکن ہے کہ حالات سب کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں، اور وہ تہذیب و ثقافت ہمارے سامنے ہو جو نا تو قبول کی جا سکے اور نا دیکھی جا سکے،
    مگر یہ سب کہنا کہ ایسا ہوگا،!!؟ ایسا تو پہلے سے ہو رہا ہے کوشش کرنی ہے کہ ایسا مزید ہونے سے روکا جائے،
    لہذا اپنی روایات کو نظر انداز نہ کریں اس کا ضرور خیال رکھنا ہو گا وہ قومیں جو دوسروں کی اقدار و روایات کو اپناتی ہیں اپنا آپ کھو دیتی ہیں اپنی پہچان اپنی ثقافت نہ رہی تو بھلا وہ قوم کیا کہلائے گی؟
    عورت کی زینت اور عزت اس میں ہے کہ وہ چھپا کر رکھی جائے کیا ہم سبھی ایسا سوچتے ہیں؟
    ہمیں ایسا سوچنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری روایت ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات بھں،
    جب تک مسلمان اسلامی آداب و اطوار سے سختی کے ساتھ بندھے ہوئے رہتے تھے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل پیرا تھے اسلامی قوانین کے آگے اپنی گردن کو جھکائے ہوئے تھے تو کامیابی اور فتح ان کا مقدر ہوا کرتی تھی اور جب سے مسلمانوں نے اپنے طریقے اسلامی کو ترک کر دیا اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کو چھوڑ کر یہودونصاریٰ اور دیگر اقوام کی تہذیب کو اپنانا شروع ہو گئے تو دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے، شروعات ہو چکی ہے اور کافی وقت گزر گیا اور بہت کچھ بدل گیا اور بہت کچھ بدلنا والا ہے،
    لیکن ہمیں اپنی تہذیب اور ثقافت کو فروغ دینا اور وہ چیزیں وہ فیشن کرنے سے بریز کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے اور جس سے ہماری تہذیب کو نقصان پہنچ رہا ہے،

    کیونکہ بلآخر ادھر کے رہیں گے نا ادھر کے،

    یہ کہنا کہ یہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بالکل غلط ہے ایسی باتیں اس لئے کی جاتی ہیں اور وہ بھی بس یورپ کی تہذیب اور ثقافت اور ان کے رہن سہن سے متاثرہ لوگ ہی کرتے ہیں،
    ترقی اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کو مضبوطی سے پکڑ کر بھی کی جا سکتی ہے
    جب مسلمان تمام عالم میں عزت و برتری کے واحد مالک تھے وہ ترقیات کی تمام منازل میں بڑی بڑی قوموں سے آگے تھے تو اس وقت اپنی اسلامی اقدار اور روایات تہذیب کو مضبوطی کے ساتھ اپنائے ہوئے تھے،
    مسلم خواتین تعلیم یافتہ تھیں واعظ و تقریر کہا کرتی تھی تلقین و ہدایت کے بھی فرائض انجام دیتی تھیں اور یہ سب امور پسے پردہ انجام پاتے تھے،
    یہ معیار اور پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتا جو آج ہم نے اپنے ذہن میں بٹھا لیا ہے کہ دوسری اقوام کی طرح آج بھی ہم ترقی کر سکتے ہیں اگر ہم ان کی ثقافت، تہذیب اور روایات کو اپنا لیں،
    یہ سب ہم اقوام مغرب پہ فریفتہ ہو کر کہتے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، ہمارے اصول و قوانین اسلامی اقدار ضابطہ اخلاق ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہرگز نہیں ہو سکتے،
    لہذا کوشش کیجئے اپنی روایات کو زندہ کریں اور اپنی تہذیب کے ساتھ مضبوطی سے جڑ کر ترقی کی طرف قدم بڑھائیں،
    برعکس اس کے کہ ہم ترقی کرنے کی غرض سے اپنی روایات کو مسلسل روندتے چلے جائیں اور پھر ہمارے اس سفر کے اختتام پر جسے ہم ترقی سمجھ رہے ہوں گے اور اپنی منزل پانا،
    درحقیقت ہم نا تو اپنی منزل پا سکیں گے اور شاید سفر کے بجائے ہمارا اختتام ہو جائے،
    اور پھر ہمیں دیکھ کر یا سوچ کر یا پڑھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ،
    ”تم تو نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے”

    @zsh_ali

  • موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔  تحریر:صفدر حسین

    موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔ تحریر:صفدر حسین

    پچھلی کچھ دہائیوں سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آب و ہوا میں قدرتی اتار چڑھاؤ تو معمول کا حصہ ہے لیکن سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کل درجہ حرارت پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
    گلیشیروں کا پگھلنا انتہائی ہیٹ ویو اور طوفان آرہے ہیں ، دنیا کے کچھ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے ہو رہا ہے اور یہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے ، جو زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔
    گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوتی ہے ، CO2اور گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے زمین کے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔
    سورج سے آنے والی ریڈیشن گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعے جذب اور دوبارہ خارج ہوجاتی ہیں اس کے لئے اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ماضی میں اور کم تھا لیکن اب اس درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
    گلوبل وارمنگ کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جنگلات کی کٹائی ، ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلا ہوا دھواں اور جنریٹر ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز جیسے بجلی کے آلات سے خارج ہونے والی حرارت بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔
    آئی پی سی سی کی رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ "انسانوں اور انسانی سرگرمیوں سے پہلے کے دن سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور اس صدی کے دوسرے نصف حصے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت آنے والے عشروں تک بڑھتا رہے گا ، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
    انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) ، جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے 1،300 سے زیادہ سائنس دان شامل ہیں ، اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 3.5 سے 8 ڈگری اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
    ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرکے آب و ہوا کی تبدیلی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے ہمیں روایتی توانائی کے حصول کو ترک کر کے متبادل ذریعےسے توانائی کو حاصل کرنا ہوگا اور جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اس دنیا کو بچایا
    اور آنے والی نسلوں کو ایک اچھا مستقبل فراہم کیا جا سکے ۔

    ‎@itx_safder

  • میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میں نے کیسے لکھنا شروع کیا؟ . تحریر : فرزانہ شریف

    میرا تعلق ایک پڑھے لکھے مذہبی گھرانے سے ہے بچپن سے ہی ہمارے گھر میں اخبار آرہا تھا اور جیسے ہی جوڑ توڑ کرکے اوردو پڑھنی آئی اخبار بہت شوق سے پڑھنی شروع کی پھر جب اردو ٹھیک سے پڑھنی اگی تو بچوں کا کوئی رسالہ ایسا نہیں جو میں نے پڑھا نہ ہو عمروعیار سے لیکر ٹارزن تک نونہال سے لیکر ننھی کلیاں تک ہر رسالہ پڑھا پھر تھوڑی بڑی ہوئی 6th میں تو عنبر ناگ ماریا ایک ناول ہوتا تھا قسط وار اور اس کی کئی سو قسطیں میں نے پڑھ لی تھیں پھر ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ سٹڈی کے ساتھ ساتھ میرا فیورٹ مشغلہ بچوں کے ناول پڑھنا تھا پھر عمران سیریز بھی بہت پڑھا میری دونوں باجیاں شعاع خواتین ڈائجسٹ پڑھتی تھیں ان سے چوری چھپے ان کے ڈائجسٹ بھی پڑھنے شروع کردیے تھے سمجھ اتنی نہیں آتی تھی پھر بھی اچھا لگتا تھا پڑھنا ۔ پھر باجیاں دونوں مدرسے چلی گئیں پڑھنے کیلئے یوں ڈائجسٹ پڑھنے کا سلسلہ وقتی طور پرختم ہوگیا اخبار آنا بھی بند ہوگیا کیونکہ گھرمیں میں اور میرے بڑے بھائی تھے بھائی جان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی پریکٹس کے علاوہ کچھ کرسکیں ۔یوں ہمارے گھر اخبار آنا بند ہوگیا اخبار جہاں بھی آتا تھا وہ بھی بند ہوگیا والد صاحب بیرون ملک تھے ۔لیکن پھر میرا پڑھنے کا سلسلہ رک نہیں سکا تھا سکول کے راستے پر ایک پولٹری فارم تھا وہاں ایک بزرگ نما انکل وہ باقاعدگی سے اخبار لیتے تھے ان سے بولا کہ اخبار کے ساتھ جو بچوں کا ہفتہ وار میگزین آتا ہے وہ مجھے دے دیا کریں وہ انکل اتنے اچھے تھے سکول واپسی پر میرے لیے سنبھالا ہوا وہ میگزین مجھے دے دیتے تھے یوں یہ سلسلہ چلتا رہا پھر میں نے بچوں کے اخبار میں لکھنا شروع کیا بہت پذیرائی ملنے لگی ہر دوسرے ہفتے میری کہانی چھپی ہوتی تھی بھائی جان کو جب پتہ چلا میری کہانیاں بچوں کے میگزین میں چھپنی شروع ہوگی ہیں تو بہت خوش ہوئے آدھے صفحے کی کہانی ہوتی تھی لیکن فیلنگز ایسی ہوتی تھیں جیسے بہت بڑا معرکہ مار لیا ہو بھائی جان نے مشورہ دیا کہ اپنی کہانیاں کاٹ کر ایک رجسٹر پر چسپاں کرتی جاو ۔میں نے ایسا ہی کیا جب خوش ہونا ہوتا تھا وہ رجسٹر نکال کر اپنی لکھی کہانیاں پڑھتی رہتی تھی ۔ایسا معصوم بچپن تھا.

    پھر جب اور بڑی ہوئی اپنی پاکٹ منی سے پیسے بچا کر ڈائجسٹ اور ہسٹری کی بکس لے کر پڑھنی شروع کی امی جی سے چوری چھپے امی جی تعلیمی نصاب کے علاوہ ڈائجسٹ پڑھنے کے سخت خلاف تھیں ان کا خواب تھا کہ ان کی سب اولاد اعلی تعلیم یافتہ ہو۔یوں سٹڈی کے ساتھ چوری چھپے اتنی بکس پڑھیں کہ نام گنوانے شروع کروں تو ختم نہ ہوں پھر پاکستان سے بیرون ملک اگی اپنی فیملی کے ساتھ اور یہاں آکر اتنی بیزی ۔گھر کی الماری بکس سے بھری لیکن پڑھنے کا وقت ہی نہیں اب بس بچپن میں لکھنے والا جنون واپس آچکا ہے یوں آجکل آپ میرے آرٹیکل پڑھ رہے ہیں اور جو میری حوصلہ افزائی کررہے ہیں خاص طور پر باغی ٹی وی جس نے مجھے لکھنے کا موقع دیا میری کزنز میرے بہین بھائی اور آپ سب اللہ سبحانہ وتعالئ ” سب کو صحت و تندرستی عطا فرمائے، اور جو بیمار ہیں انکو شِفا کاملہ نصیب فرمائیں آمین اللھم آمین ‘
    "اللہ تبارک و تعالئ آپ سب کی جائز حاجات اپنی رحمت کے صدقے اپنی آعلئ صفات کے صدقے
    .اپنے "حبیب حضرت محمد مصطفئ صلی اللہ علیہ والہ وسلم” کے طفیل قبول و مقبول فرمائیں آمین اللھم آمین

    @Farzana99587398

  • چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے استعمال کے نقصانات میں کینسر، موٹاپا، شوگر، سردرد، توانائی یک دم ختم ھونا اور ھارمون کا عدم توازن سرفہرست ھیں۔ جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چینی کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر اور ذہنی تناﺅ محسوس کرتے ھیں۔

    مٹھاس کی یومیہ ضرورت۔

    مردوں کے لیے ساڑھے 37 گرام اور عورتوں کے لیئے صرف 25 گرام ھے۔ جو دن بھر کی خوراک سے ھی پوری ھو جاتی ھے۔ جبکہ اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام چینی اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

    کولیسٹرول کا باعث۔

    تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔اور چینی انسانی جسم میں خطرناک چربی کو بھی بڑھاتی ھے۔

    انسولین میں اضافہ

    ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی،جو انسولین کی مزاحمت اور زیادہ چربی والی غذاؤں سے ھوتی ھے اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔
    چینی کے زیادہ استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، اور اس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اور شریانوں پر بھی پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس سے ہائی بلڈپریشر اور اس کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

    چینی سے بھوک میں اضافہ :

    چینی انسان کے اندر بھوک کا احساس بڑھا دیتی ہے، زیادہ چینی کھانے سے دماغ میں جو پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت ہوتی ہے وہ بری طرح متاثر ھوتی ھے جس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے جتنا بھی زیادہ کھانا کھایا ہو۔ اس سے انسان بار بار کھانا کھاتا ھے اور موٹاپے کے ساتھ نظام ہضم بھی خراب ھوجاتا ھے۔

     

    چینی سے بڑھاپا:

    زیادہ چینی کھانے سے انسان کے دوران خون میں ایسے خطرناک مالیکیول پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے جو آپ کی جلد کو بہت زیادہ خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور آپ کی جلد پر جھریاں پڑجاتی ہے ۔

    چینی والی اشیاء:

    سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک، اور بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مشروبات،اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔

    چینی کا متبادل:

    چینی کے متبادل کے طور پر کئی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے:
    گنّے کا رس: اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضایع ہو جاتے ہیں، جب کہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ذریعہ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔
    شہد: سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے بچاۓ رکھتی ہے۔

    @Oye_Sunoo

  • کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    کیا نورمقدم کا قتل روکا جا سکتا تھا! . تحریر : فائزہ خان

    جیسے جیسے لبرل ازم ہمارے معاشرے میں فروغ پا رہا ہے ویسے ویسے اس کے بھیانک نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اس کا ایک شاخسانہ نور مقدم کا کیس ہے نور کے ساتھ کیا ہوا یہ کہانی اب کسی سے چھپی نہیں رہی مگر ہمیں تو بات کرنا ہے کہ یہ قتل کیوں ہوا
    اس کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں جی ہاں ہم بطور معاشرہ بطور والدین بطور مسلمان ہم ہیں اصل ذمہ دار!
    ہم واقعہ ہونے کے بعد پلے کارڈ لے کر کھڑے ہونا تو جانتے ہیں مگر اس واقعے کو ہونے سے روک نہیں پاتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نور قدم کا قتل روکا جاسکتا تھا جی ہاں روکا جاسکتا تھا.

    اگرایک بارنورکے والد اور والدہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی بیٹی جو کہہ رہی ہے اس میں کتنی سچائی ہے پوچھنے کی کوشش کرتے کہ یکدم بغیر بتائے کوئی اولاد کیسے کسی دوسرے شہر جا سکتی ہے کیا نور کے والدین آج کے دور کی خباثتوں کو نہیں جانتے تھے کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ بیٹی کو اپنی دینی معاشرتی اور سماجی اقدار سکھاتے۔

    نورمقدم کا قتل روکا جاسکتا تھا اگر ظاہر جعفر کا باپ ذاکر جعفر بیٹے کی کال کو سنجیدگی سے لیتا جب اس نے فون کرکے باپ سے کہا کہ نور مجھ سے شادی پے نہیں مان رہی میں اس کو قتل کرنے لگا ہوں تو کیا اسے اپنے بیٹے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا مگر دولت کی بندھی پٹی آنکھوں سے ہٹتی تو ذاکر جعفر کو اپنے بیٹے کا انداز سمجھ آتا اس نرم رویے سے تو یہی ظاہر ہے کہ بیٹے کو باپ کا بھرپور حمایت حاصل تھی اسی کی شہ تھی کہ ظاہر نے اتنی جرات کی کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔
    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ دوست جن کے سامنے ظاہر نے کہا کہ اگر میں ایک قتل کردوں تو کیا پاکستان کا قانون مجھ پر لاگو ہوگا کیونکہ میں تو امریکن شہریت رکھتا ہوں دوستوں کے اس بیان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اچانک طیش میں آکر کیا جانے والا قتل نہیں ہے بلکہ ظاہر کے دماغ میں اس کی پلاننگ پہلے سے چل رہی تھی یہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت قتل کیا گیا اس کا ایک اور ثبوت ہے ظاہر کی اگلے دن کی امریکہ کی فلائٹ کی کروائی جانے والی سیٹ کی بکنگ۔ مطلب وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ قتل کرنا ہے اور پھر باہر بھاگ جانا ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر وہ ملازم گیٹ کھول دیتے جب نور ان کی منتیں کر رہی تھی کہ یہ مجھے مار دے گا خدا کے لئے دروازہ کھول دو مگر نہ جانے اس گھر کی بنیادوں میں کتنے ملازم دفن ہوں گے کہ خوف کے مارے دونوں ملازم ظاہر کے باپ کو فون کرکے صورتحال بتاتے تو رہے مگر ظاہر کو روکنے کی جرات نہ کر سکے کیا خبر کل کو انہی ملازمین پر قتل کا ملبہ تھوپ دیا جائے اور ذاکر اپنے بیٹے کو لے کر صاف نکل جائے اور جس کی ہمارے عدالتی نظام سے توقع بھی کی جاسکتی ہے.

    اس قتل کو روکا جا سکتا تھا اگر ہمسائے جو بہت دیر سے گھر پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے وقت پر کوئی ایکشن لیتے انہیں پولیس کو بلانا تب یاد آیا جب حادثہ رونما ہو چکا تھا اس میں ان کا قصور نہیں قصور تو اس لائف سٹائل کا ہے جس کے عادی تمام اسلام آباد کے مکین ہوچکے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھو کہیں کچھ غلط ہوتا دیکھو تو آنکھیں بند کر لو یہی آنکھیں بند کرنے کا انداز ہے جو ایسے حادثوں کا باعث بنتا ہے نور کے والدین نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند رکھیں ظاہر کے والدین نے دولت کی پٹی باندھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ہمارا معاشرہ آنکھیں بند کیے اقدار کی آخری سانسیں لے رہا ہے.
    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    @_Faizakhann

  • مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    جی ہاں مسلم لیگ نون اب تباہی کے آخری دہانے پر ہے مسلم لیگ اصل میں ایک ہی تھی لیکن شریف خاندان نے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ کر پہلے ق لیگ اس میں سے الگ کی اور اس کے بعد مسلم لیگ آہستہ آہستہ ٹوٹتی ہی گئی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اور شریف خاندان نے ملکر ملک پاکستان کو بہت لوٹا چوریاں کی ۔ منی لانڈرنگ کی بہت سے کیسزز ہوئے ان کے خلاف اور اب تک بھی چل رہے ہیں جن کی تفصیلات میں اگر جائیں تو ان کی چالاکیوں پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن اصل جرم ان کا جو ہے وہ ملک دشمنی اور غداری ہے ۔ انہوں نے ملک کو لوٹا پیسے کھائے پیسے لے کر باہر بھاگے یہ سب تو ہے ہی لیکن ان کی غداری کی وجہ سے ملک پاکستان بدنام ہوا جو ناقابل معافی ہے ۔

    ویسے تو ان کے ملک دشمنی اور غداری کے جرموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن چند ایک ایسے ہیں جو میں یہاں پر لکھ رہا ہوں۔ سب سے پہلا جرم جو ہے وہ امریکہ سے پیسے لے کر ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کرنا تھا جو کہ اس وقت کے لوگ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان صاحب بتاتے ہیں کہ شریف برادران نے ایٹمی دھماکوں کی سخت مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد ان کا دوسرا جرم جس کی وجہ سے آج مقبوضہ کشمیر پر انڈیا قبضہ جمائے بیٹھا ہے وہ ہے گارگل سے اپنی فوجیں واپس بلانا اور انڈیا کو موقع دے کر اپنے فوجی مروانا گارگل کی جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں تبدیل کروانا کارگل میں جتنے بھی فوجی شہید ہوئے اس کا زمہ دار میاں محمد نواز شریف ہے ۔اس کے علاوہ انڈیا میں جاکر حریت راہنماوں سے ملاقات نہ کرنا اور مودی اور آر ایس ایس کے بیانئے کو تقویت دینا بھی ایک سنگین جرم ہے ۔انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام تک زباں پر نہ لانا اور اجمل قصاب کو پاکستانی شہری تسلیم کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔
    انڈین میڈیا پر بیٹھ کر چھرا گھونپنے والی باتیں کر کے پاکستانی فوج کو بدنام کرنا۔

    اس کے علاوہ ماڈل ٹاون میں بیگناہوں کا قتل بھی نواز شریف فیملی کے کبیرا گناہوں میں شامل ہے ۔ معزز قارئین اس کے علاوہ حال ہی میں ایک ایسے بندے سے لندن میں ملاقات کرنا ایک افغانی جو کے پاکستان کے بارے میں مغلظات بک رہا ہو۔ اس سے ملاقات بھی سوالیہ نشان ہے ۔
    پاک آرمی کے خلاف ہرزہ سرائی اور ملک کے اداروں کو متنازعہ بنانا بھی ان کے جرم میں شامل ہے۔ ججز کی ویڈیوز بنانا اور ان کو بدنام کر کے اپنی مرضی کے فیصلے دلوانا بھی ملک کا بہت بڑا نقصان ہے آج اگر پاکستانی عدالتی نظام پر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس کی وجہ شریف خاندان ہے ۔
    قوم اب ان کی تمام حرکتیں دیکھ چکی ہے جو کچھ لوگ لا شعوری طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ یا کچھ غدار وطن وہ بھی بہت جلد ان سے سے الگ ہو جائیں گے کیونکہ میری قوم چوری معاف کر سکتی ہے ہر جرم معاف کر سکتی ہے لیکن غداری کی کوئی معافی نہیں ۔
    اللہ ملک پاکستان کو ترقی اور استحکام عطا فرمائے اور شیاطین اور غداروں کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • کامیاب لوگوں کی نشانیاں  تحریر : فیصل اسلم

    کامیاب لوگوں کی نشانیاں تحریر : فیصل اسلم

    دنیا میں کن کن اہم ترین شخصیات نے اپنے وقت کے درست استعمال پر اپنی زندگی کا نمونہ پیش کیا ؟
    مسلمانوں میں جو بہترین آئیڈیل رول ماڈل ہے وہ نبی پاک ﷺ کی ذات پاک ہے
    آقا ﷺ کی حیات پاک کا جو انداز ہے اس پر بھی آپﷺ کے ارشادات موجود ہیں
    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر ایک ۔

    اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر دو ۔

    اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر تین ۔

    اپنی امیری کو غربت سے پہلے
    غنیمت جانو

    نمبر چار ۔

    اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت جانو

    نمبر پانچ ۔

    اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو

    اس سے بہتر ارشادات اپکی زندگی کو کامیابی و کامرانی پر لانے کے لئے نہیں ہوسکتے
    آپ کو لوگ ملیں گے کے جو مصروف ہوجاتے ہیں زندگی کی بھاگ دوڑ میں جنکی شادی ہوجاتی ہے بچے ہوجاتے ہیں فیملی اور پھر مسلے بن جاتے ہیں ان چیزوں میں آدمی مصروف ہوجاتا ہے
    لیکن زندگی میں ایک عمر ایسی بھی آتی ہے جس میں نہ گھر کا مسلہ ہے نہ بچوں کی ٹینشن ہے نہ اور کوئی مصروفیت ہے تو بس پڑھنا ہے اور اپنے مقصد کو پانا ہے اگر آدمی ان فراغت کے دنوں میں کچھ نہ کرسکا تو مشغولیت کے دنوں میں کیا کرسکے گا
    اس مشغولیت سے پہلے اپنی جو فراغت ہے اسکو غنیمت جانو
    یہ جو احساس ہے یہ احساس بھی بہت لوگوں کو ہوتا ہے لیکن محض احساس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک آپ اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتے
    ورنہ تو کون چاہتا ہے کے میں اپنے وقت کو ضائع کروں کون چاہتا ہے کے میں ہارے ہوئے لوگوں میں شمار کیا جاؤں کامیاب لوگوں میں نہیں
    اپنی زندگی میں کون ناکامی کو پسند کرتا ہے لیکن جب تک آپ اپنے فراغت کے وقت کو سہی استعمال کرنا نہیں سیکھینگے تو تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے خدارا دوسروں کو کامیاب ہوتا دیکھ کر جلنا چھوڑوں اپنے اندر تبدیلی کی جرت کو بیدار کرو وقت کی قدر کرو یہ وقت اپکا اگر چلا گیا تو صرف پشتانے کے سوا آپ کچھ حاصل نہیں کرسکو گے دیکھو تو سہی اصحاب رسول ﷺ اور خلفا راشدین کی زندگیوں کو کے انہوں نے اپنے وقت کا کس طرح اور کب کیسے استعمال کرا ابھی وقت ہے اس وقت کو ضایع مت کرو
    بس ہمیں وقت کی قدر کرنے کی قیمتی دولت نصیب ہوجاے
    وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے علما کرام ایک بہت بہترین مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کے جس طرح ایک برف بیچنے والا اس بات کی فکر کرتا ہے کے یہ برف پگھل رہی ہے جلدی بیچ دوں ایسا نہ ہو یہ برف پگھل جائے اور سارا سرمایہ ضایع ہوجاے
    اور حقیقت میں ہمارے ہاتھ میں برف کا بلاک دے دیا گیا ہے کسی کے پاس شاید ٢٠ سال کا ہے کسی کے پاس ٥٠ سال کا ہے اور یہ مسلسل پگھل رہا ہے اور اس کے ساتھ ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ بھی ضایع ہوتا چلا جا رہا ہے اور جب ہم اپنی گزری زندگی کے سرمایہ (وقت) کو کھو چکے ہوتے ہیں تو پھر ہم شکوہ اپنی قسمت پر کرتے ہیں جب کے قسمت خود ہمارے ہاتوں میں ہوتی ہے اگر ہم اپنے فراغت کے ایام میں زندگی کے لا تعلقی والے کام چھوڑ کر اپنی ذہنیت کا سہی استعمال کریں تو ہمیں کامیاب انسان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر ہم ہر کام کو اس کے وقت کے مطابق ادا کریں اور اللّه کا شکر کرتے ہوئے اگے بڑھیں تو ان شاء اللّه کامیابی ہمارا مقدر ضرور بنے گی
    کامیاب انسان کی نشانی ایک یہ بھی ہے کے وہ اپنی گزری غلطیوں پر نظر رکھتے ہوئے اگے بڑھتا ہے یا کوئی دوسرا اسکو اسکی غلطی بتا تا ہے تو وہ اس پر تنقید کرے بغیر اپنی غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرتا ہے اور اللّه بھی اللّه بھی ایسے بندوں کی مدد کرتا ہے
    اپنے آپکو تکبر جیسی لعنت سے دور رکھیں اور اپنے سے کامیاب لوگوں کو دیکھ کر جلنے کے بجاے انکی زندگی کو دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کریں
    اللّه بڑا رحیم ہے وہ اپنے بندوں کی ہر محنت و کش پر نظر رکھتا ہے اور اسکو اسکی محنت کا پھل بھی جلدی دیتا ہے اور اسکو نہ ختم ہونے والی عزت و مقبولیت سے بھی نوازتا ہے کوشش کریں کے اپنے آپکو وقت کے ساتھ ڈھالیں نہ کے وقت کو اپنے ساتھ اور ہمیشہ اللّه کا شکر ادا کرتے رہیں ان شاء اللّه کامیابی آپ کے قدم ضرور چومے گی
    اللّه کا شکر ادا کریں کے اس نے آپکو انسان بنایا اور اس نے آپکو مسلمان بنایا اور اپنے حبیبﷺ کا امّتی بنایا جہاں آپکو اپنی زندگی کو کامیابی کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے بیشمار ہیرے مل جاینگے لہٰذا وقت کی قدر کریں فضول کاموں سے پرہیز کریں اور جو کچھ آپ نے کھویا اس پر رنج و غم کرنے کے بجاے اگے کی سوچیں اور کوشش کریں کے اپنے اسلاف کی زندگی کا مطالع کریں جس میں آپکو بہت سے کامیابی کے راستے نظر آہی جاینگے

    اگر چاہ ہے کچھ پانے کی زندگی میں
    تو بیدار کر اپنی لگن وقت کی قدر کو

    ‎@FsAslm7

  • میرے ہمرکاب تحریر: حبیب الرحمٰن خان

    میرا بچپن اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیل کود کر گزرا۔ میری سکول میں ہمیشہ پوزیشن اچھی رہی اسی وجہ سے اپنے اساتذہ اکرام کی آنکھوں کا تارا رہا۔ کچھ دوست جو میرے بچپن کے ساتھی تھے زندگی کے بقیہ حصے میں بھی ساتھ رہے میں نے پراہمری سکول سے فارغ ہونے کے بعد ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور وہاں بھی اساتذہ کی توجہ اور والدین کی دعاؤں سے ہر سال پوزیشن لیتا رہا۔ پھر کالج میں آ گیا زندگی چلتی رہی میں نے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں منصوبہ بندی شروع کر دی۔
    لیکن بنیادی طور پر میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ سو سب خاندان کے افراد مجھے سرکاری نوکری کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔بظاہر مجھے بھی متبادل راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ سو اپنی تعلیمی اسناد کے ساتھ ملازمت کے لیے کوشاں ہو گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ ملازمت ملنا جؤۓ شیر لانے کے مترادف ہے اور میری ڈگریاں اس کے حصول کے لیےشاید ناکافی ہیں۔لیکن میرے ساتھی مجھے ہر لمحہ حوصلہ دیتے رہے جن میں سے اکثر کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میری ڈگریوں نے میرا ساتھ چھوڑ بھی دیا پھر بھی میں اپنے دوستوں کے توسط سے نوکری پانے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ گھر کے حالات مجھے زیادہ عرصہ تک بے روزگار رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ایک دن میں اپنے ایک دوست کے گھر اس سے ملنے گیا تو اس کے والد صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے احوال پوچھا تو اپنی ساری تگ و دو ان کے گوش و گزار کر دی۔ انھوں نے انتہائی شفقت سے مجھے سمجھایا کہ ملازمت کا حصول آسان نہیں ہے اس سے بہتر ہے کہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو کاروبار پر صرف کرو۔ ان کی بات بظاہر معقول تھی لیکن کاروبار کے لیے پیسہ کہاں سے آۓ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا جب ان کو صورتحال بتائی تو انھوں نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ بنک سے قرضہ دلوا دوں گا۔ ان کے اس مشورے کو باقی دوستوں کے سامنے رکھا تو سب نے انکی تائید کی پھر گھر والوں کو جیسے تیسے راضی کیا اور اپنے اکلوتے گھر پر قرض لے لیا۔ قرض کے حصول میں انھوں نے ہی میری مدد کی۔قرض ملنے پر میں اپنے دوست کے والد کے پاس گیا اور رہنمائی چاہی۔ تو انھوں نے فراغ دلی سے اپنی ہی فیکٹری میں حصہ دار بننے کی آفر کی مجھے یہ آفر انتہائی موزوں لگی کیونکہ کاروبار میں بھی میرا تجربہ نہیں تھا۔دیگر احباب کی مشاورت کے بعد میں انکا باقاعدہ حصہ دار بن گیا۔ میں زاتی طور پر فیکٹری کی نگرانی کرنے لگا اور زندگی چلنے لگی پھر تین سال بعد اچانک مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ فیکٹری خسارے میں چلی گئی ہے اور میرا سرمایہ ڈوب گیا ہے یوں یہ آسمانی بجلی مجھ پر ایسی گری کہ میرا گھر بک گیا ہم کراۓ کے مکان میں آگۓ۔ میں نے اپنے دوست کے والد سے اسی فیکٹری میں ملازمت کی درخواست کی تو انھوں نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ فیکٹری پہلے سے خسارے میں ہے۔مالک مکان کا کراۓ کے لیے اصرار بڑھنے لگا۔ گھر میں نوبت فاقوں تک پہنچ آہی۔ میرے ایک غریب دوست نے مجھے ایک سکول کے باہر برگر لگانے کا مشورہ دیا مجھے عجیب سا لگا لیکن میرے اس دوست نے جبر کر کے (ایسا سمجھ لیں) مجھے آمادہ کیا اور ریڑھی سمیت دیگر چیزوں کے حصول میں نہ صرف مدد کی بلکہ کچھ دن بلامعاوضہ میرے ساتھ کام بھی کیا
    آج الحمدللہ میری زندگی گزر رہی ہے اور کبھی کبھار میرے دوست کے وہ والد جنھوں نے مجھے برباد کیا اسی سکول میں اپنے ایک اپاہج نواسے کو لینے آتے ہیں اور میرے پاس سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے جانتے ہی نہیں
    لیکن میں اللہ پاک کا شکر گزار ہوں کہ میں ان کی طرح صاحب ثروت تو نہیں لیکن ان کے نواسے کی طرح اپاہج بھی نہیں
    #حبیب_خان

  • اسلام میں عورت کے احکام  تحریر: منصور احمد قریشی

    اسلام میں عورت کے احکام تحریر: منصور احمد قریشی

    الّٰلہ تعالٰی کے ہاں ایمان و عمل کے مطابق اجر و ثواب اور فضیلت میں عورت مرد کی طرح ہے ۔ آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ بلاشبہ عورتیں ( عمومی احکام میں ) مردوں کی مانند ہیں ۔ “ (ابوداؤد)

    عورت اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے ۔ کیونکہ دینی احکام کے خطاب میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ سواۓ ان مسائل کے جن میں شریعت خود فرق بیان کر دے ۔ اور یہ احکام مشترک احکام کے مقابلے میں بہت تھوڑے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ شریعت نے مرد و عورت کی خلقت کے اعتبار سے خصوصیات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔

    الّٰلہ عزوجل کا ارشاد ہے :۔
    “ کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ “ ( الملک : ۱۴)

    چنانچہ کچھ امور و ذمہ داریاں عورت کے ساتھ خاص ہیں ۔ اور کچھ مردوں کے ساتھ ۔ ان کی ایک دوسرے کی خصوصیات میں دخل اندازی زندگی کا توازن بگاڑ دیتی ہے ۔ بلکہ عورت کو گھر میں رہتے ہوۓ مرد کے برابر اجر و ثواب کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے ۔

    کسی مرد کا اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام ہے الا یہ کہ اس عورت کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو ۔

    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :۔
    “ کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ علیحدگی ہرگز اختیار نہ کرے الا یہ کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    عورت کے لیۓ مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے ۔ البتہ اگر فتنے کا ڈر ہو تو مکروہ ہے ۔ حضرت عائشہ رضی الّٰلہ تعالٰی عنہا کا فرمان ہے :۔ جو کچھ عورتوں نے کرنا شروع کر دیا ہے اگر رسول الّٰلہ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم اس کا مشاہدہ فرما لیتے تو انھیں ضرور مسجدوں میں جانے سے روک دیتے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ ( بخاری و مسلم )

    جس طرح مرد کی نماز مسجد میں کئی گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کے لیۓ گھر میں نماز پڑھنا زیادہ باعثِ اجر ہے ۔ ایک عورت نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : الّٰلہ کے رسول صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں ۔
    آپ صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ تم جانتی ہو کہ تمھیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے ۔ حالانکہ تیرا بند گھر میں نماز پڑھنا تیرے حجرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور حجرے میں نماز پڑھنا تیرے صحن والے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور تیرا صحن والے گھر میں نماز پڑھنا قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا تیرے لیۓ میری اس مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے “ ۔ ( مسند احمد )

    اور نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :-
    “عورتوں کی بہترین مسجدیں ان کے گھر ہیں “ ۔ ( مسند احمد )

    عورت کے لیۓ الّٰلہ تعالٰی نے وراثت میں جو حق رکھا ہے ، وہ حق اسے دینا ضروری ہے اور روکنا حرام ہے ۔

    نبی کریم صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
    “ جس نے وارث کی میراث روک لی ۔ الّٰلہ تعالٰی روزِ قیامت جنت سے اس کی میراث ختم کر دے گا “ ۔ ( ابن ماجہ )

    خاوند پر بیوی کا خرچ لازم ہے ۔ اور اس سے مراد دستور کے مطابق کھانے ، پینے اور رہائش و لباس کی ہر وہ چیز ہے ۔ جس کے بغیر عورت کا گزارہ نہ ہو ۔

    ارشادِ باری تعالٰی ہے :۔
    “ چاہیۓ کہ آسائش والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی نپی تُلی ہو تو وہ الّٰلہ کے دیئے ہوۓ میں سے ( اپنی وسعت کے مطابق ) خرچ کرے “ ۔ ( الطلاق ۶۵ )

    اگر کسی عورت کا شوہر نہیں ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنا اس کے باپ ، بھائی یا بیٹے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر اس کا کوئی قریبی نہ ہو تو دیگر لوگوں کے لیۓ مستحب ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔

    جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی الّٰلہ علیہ وآلہ وسلم ہے :-
    “ بے شوہر عورتوں اور مسکینوں کے لیۓ دوڑ دھوپ کرنے والا الّٰلہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے “ ۔ ( بخاری و مسلم )

    Twitter Handle : @MansurQr

  • کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز  تحریر: زاہد کبدانی

    کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز تحریر: زاہد کبدانی

    ہر جگہ تعلیمی خلل پیدا کرنا ، کرونا وائرس وبائی بیماری نے طلباء کی زندگیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید ان کی آئندہ کی تعلیمی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ نسبتا کسی کا دھیان یہ نہیں رہا ہے کہ اس نے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پہلے سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی ، ای لرننگ حل فراہم کرنے والے ، اور مقامی سطح پر تعلیم کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے حکومتی پالیسیاں نیز طالب علموں میں ذاتی وسائل کی کمی تھی۔کرونا وائرس بحران کو بہت سے ممالک سے بہتر طریقے سے نپٹانے میں ، پاکستان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت سے گریز کیا اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔ اس کی سمجھدار پالیسیاں یہاں تک کہ معیشت کو چلتی رہیں۔ ہمسایہ ممالک چین (جہاں پہلا کرونا وائرس انفیکشن پایا گیا تھا) اور بھارت (دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک) سے قربت کے باوجود ، پاکستان حیرت انگیز طور پر محفوظ ہے جب یورپ اور امریکہ کے ساتھ مقابلے میں 98 فیصد بحالی کی شرح ہے۔

    تعلیمی ٹکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — اسمارٹ فونز ، ٹیبلٹس ، بڑھا ہوا اور ورچوئل ریئلٹی ، اور تیز رفتار انٹرنیٹ ، 4 جی ، اور 5 جی کنیکٹوٹی۔ یہ سب آن لائن تعلیم کو زیادہ پیداواری ، انکولی اور قابل رسائی بناتا ہے۔ در حقیقت ، ای لرننگ انڈسٹری کی فی الحال قیمت 200 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس کی توقع ہے کہ 2026 تک اس میں 375 بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، پاکستان کے دنیا کے کچھ بدترین تعلیمی نتائج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس میں دنیا کی دوسری بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اسکول میں نہیں ہیں: 22.8 ملین بچوں کی عمر 5 سے 16 سال ہے ، جو پاکستان کے اسکول جانے والے بچوں کا 40 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے ، اس وبائی امراض کا آغاز پاکستان کی تمام صوبوں میں یکساں نصاب کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کے کنٹرول کے اقدامات پھیل رہے ہیں ، محکمہ تعلیم اور اعلی سطحی یونیورسٹیوں نے خود کو ناقص سمجھا یا ، زیادہ تر معاملات میں ، آن لائن سیکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ ماضی میں ، پاکستان نے دہشت گردی کے حملوں اور سیاسی خطرات کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے ، لیکن آن لائن تعلیم کے آس پاس ابھی تک کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں تھی۔ پاکستان میں ابھرتا ہوا موبائل فون استعمال کنندہ مارکیٹ ہے۔ اس وقت آبادی کا 75 فیصد موبائل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ لیکن 220 ملین آبادی میں – جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، وہاں صرف 76.38 ملین انٹرنیٹ استعمال کنندہ ہیں۔ یہی آبادی کا صرف 35 فیصد ہے ، جس میں صرف 17 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی ای-لرننگ سسٹم کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آن لائن سیکھنے کی پالیسی کے خلاف مزاحمت میں ٹکنالوجی یا نئی پڑھنے کی تدریسی تعلیم کو اپنانے اور کلاس روم کے ماحول میں استعمال ہونے کی مزاحمت بھی منفی کردار ادا کرتی ہے۔

    وبائی مرض سے سیکھا گیا اسباق پڑھنے کی جگہوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور نصاب کی تشکیل نو کے موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ شکل 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کا مستقبل۔ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ میں ، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی ہے کہ آن لائن کلاس آسانی سے چلائیں۔ ملاوٹ ، فاصلہ ، اور آن لائن تعلیم کو تقویت دینے کے لئے،MOOCs ، Corseera اور EdX کو زیادہ سے زیادہ آگاہی اور رسائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورچوئل ، بڑھا ہوا ، اور مخلوط حقیقت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ، عمیق سیکھنے کی ٹکنالوجیوں اور جدید تعلیم کی جگہوں کو بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے استعمال کے ساتھ ، مزید انٹرایکٹو ، شخصی اور نتیجہ خیز سیکھنے کے حل کی تعمیر میں ہماری مدد کرکے سیکھنے کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ مزید خاص طور پر ، جب ہم اسٹیم میں عملی ، عملی طور پر سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے مواد کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، تو بڑھتی ہوئی حقیقت نسبتا سیکھنے کے نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم دینے میں مجازی مواد فراہم کرسکتی ہے, تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ای لرننگ کے لئے جدید اور جدید نظام موجود ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس تعلیمی سال کے دوران سیکھنے کے بہاؤ کو متحرک رکھیں۔ لیکن پاکستان میں ، آن لائن سیکھنا ایک نوزائیدہ مرحلے پر ہے۔ ایمرجنسی ریموٹ پڑھنے کے طور پر شروع کرنے کے بعد ، اس کو مزید اپنانے اور حدود کو دور کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ، تصنیف کے خصوصی اوزار تیار کرنا ، اور آن لائن سیکھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آگاہی

    @Z_Kubdani