Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موبائل فون اور ہم . تحریر : رانا محمد جنید

    موبائل فون اور ہم . تحریر : رانا محمد جنید

    ہم آج اکیسویں صدی سے گزر رہے ہیں، جس میں آئیے روز نت نئی ایجادات پیدا کی جا رہی ہیں جو کے انسانی زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام فرہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جیسے جیسے انسانی زندگی مشکل کی طرف جا رہی ہے ویسے ویسے انسان اپنے لئے نئی چیزیں پیدا کرتا جا رہا ہے، ان میں بہت سے چیزیں تو انسان کو فائدہ کو بے شمار فائدے فراہم کر رہی ہیں اور کچھ کے نقصانات بھی ہیں۔
    آج کے دور سب سے زیادہ اور زیادہ وقت کے لیے جو چیز استعمال ہو رہی ہے وہ موبائل فون ہے، اس میں اب کوئی شک نہیں ہے کے تقریباً دنیا بھر میں موجود ہر شخص موبائل فون سے واقف ہو چکا ہے،ہر شخص موبائل فون کا استعمال جان چکا ہے۔

    موبائل فون عام طور پہ ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے علاؤہ بھی بے شمار فائدے ہیں مثلاً: انٹرنیٹ، انٹرٹینمنٹ اور حساب کتاب وغیرہ چونکہ موبائل فون کے بنانے کا مقصد اس وقت دور کے فاصلے تک ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، موبائل فون وہ ضرورت تو پوری کر ہی رہا ہے۔ پرکیا ہم نے کبھی سوچا موبائل فون نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور بھی کر دیا ہے، موبائل کے حد سے زیادہ استعمال نے انسان کی زندگی پر بے حد اثرات مرتب کئے ہیں چاہے وہ دینی ہوں دنیاوی یا سماجی اگر دیکھا جائے تو موبائل فون اب ہمارے معاشرے کے لئے بے حد ضروری ہو چکا ہے جس سے پیچھا چھوڑا ممکن نہیں، پراس وجہ سے ہم اس کے نقصانات سے بھی منہ نہیں موڑ سکتے اگر پہلے دیکھا جائے کے موبائل فون نے ہماری دینی زندگی پر کیا اثرات چھوڑے ہیں تو شاید ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کے ہم صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ سے ہٹ کر کہاں جا رہے ہیں.

    موبائل فون ہماری دینی زندگی پر کس طرح سے اثر انداز ہوا ہے وہ کچھ اس نظم میں بیان کئے گے الفاظ کے عین مطابق ہے

    موبائل نے ذوقِ تلاوت چُھڑا دی
    موبائل نے تسبیح کی عادت چُھڑا دی

    موبائل نے خود میں ہی مصروف رکھا
    موبائل نے مسجد کی رغبت چھڑا دی

    موبائل نے آنکھوں کو آوارگی دی
    موبائل نے تقوی کی نعمت چھڑا دی

    موبائل وبا ہے، موبائل ہے فتنہ
    موبائل نے اُمت کی خدمت چھڑا دی

    موبائل غمِ آخرت سے ہٹائے
    موبائل نے دعوت کی محنت چھڑا دی

    موبائل نے ایماں کو کمزور کرکے
    موبائل نے راہِ شجاعت چھڑا دی

    موبائل نے لایعنیوں میں دھکیلا
    موبائل نے نیکوں کی صحبت چھڑا دی

    موبائل نے دلدل کو گلشن بتاکر
    موبائل نے دریائے رحمت چھڑا دی

    موبائل کے لت کی نحوست ہے
    موبائل نے شوقِ شہادت چھڑا دی

    اسی طرح سے ہی اقبال کا ایک شعر جو مسلمانوں کے ان حالات کی عکاسی کرتا تھا،

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اب اگر موبائل فون کا انسان کی دنیاوی زندگی پر اثر دیکھا جائے تو وہ بھی کچھ کم نہیں، اس وقت لوگوں کو ایک دوسرے سے بے زار کرنے کے لیے موبائل فون کا بہت ہاتھ ہے لوگ اس فتنے میں اس قدر کھو چکے ہیں کے وہ اپنی قریبی رشتے ئاور دوستوں کو بھی وقت نہیں دے پاتے،جس کی وجہ سے بہت سی غلطی فہمیاں جنم لے لیتی ہیں جو کے بعد میں تعلقات کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں۔
    اور اسی طرح ہی موبائل فون سے ہمارے معاشرے پہ جو اثرات چھوڑے ہیں ان سے بے شمار برائیاں جنم لے رہی ہیں، آج کل لوگ اپنے زیادہ تر لین دین کے معاملات موبائل فون کے ذریعے ہی کرتے ہیں،اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کے کوئی تیسرا شخص موبائل فون کو ہیک کر کے ان کے پیسے یا دوسری ضروری معلومات نکال لیتا ہے اور اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔

    آج کے وقت میں ہر نا بالغ لڑکا اور لڑکی بھی فون کا استعمال کر رہے ہیں اور بعض اوقات والدین ان کی طرف توجہ نہیں دیتے تو وہ برائی کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں، اور پھر موبائل فون میں ایسے ڈرامے اور فلمیں دیکھی جاتی ہیں جن کے ذریعے بچوں کا ‘مائنڈ واش’ ہو جاتا ہے اور وہ اکثر کوئی جرم بھی کر بیٹھتے ہیں اور یہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

    اگرہم موبائل فون کا کم استعمال اور صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں تو ہم خود اور اسے اپنے معاشرے کو بے شمار برائیوں سے بچا سکتے ہیں اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزار کے بہت ساری تلخیوں کو بھی ختم کر سکتے ہیں.

    @Durre_ki_jan

  • سنگلاخ چٹان پہ کندہ بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ ،تحریر : آصف شہزاد

    سنگلاخ چٹان پہ کندہ بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ ،تحریر : آصف شہزاد

    وادی سوات قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ قدیم تہذیبوں کے حوالے سے بھی نمایاں شہرت رکھتا ہے۔یہ علاقہ گندھارا تہذیب کا ایک بہت بڑا مرکز رہا ہے۔جہاں ہزاروں سال قدیم آثار اور کھنڈرات سے مختلف تہذیبوں کا سراغ ملتا ہے۔ ان آثار قدیمہ میں بین الاقوامی شہرت کا حامل مہاتمہ بدھ کا مجسمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

    سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے نو کلو میٹر کے فاصلہ پر شمال کی طرف واقع منگلور نامی گاؤں ہے جہاں بدھ مت دور کے آثار بکھرے پڑے ہیں۔ ان آثار میں سب سے اہم “شخوڑئی مجسمہ” ہے جوکہ جہان آباد کے مقام پر واقع ہے، اس مجسمے کو حیران کن طور پر ہزاروں برس قبل ایک بڑی اور سخت چٹان پر کندہ کیا گیا ہے جس کی لمبائی تیرہ فٹ جبکہ چوڑائی سات فٹ تک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھا کا یہ مجسمہ افغانستان کے صوبہ بامیان میں واقع مجسمہ کے بعد ایشیاء کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے تاہم سنگلاخ چٹان پر کندہ ہونے کی وجہ سے منگلور کا شخوڑئی مجسمہ کافی اہمیت اور مقبولیت کی حامل ہے۔ اس مجسمے کا ذکر قدیم چینی سیاحوں کے سفرناموں میں بھی باقاعدہ طور پر موجود ہے۔

    دو ہزار سات میں عسکریت پسندوں نے اس مجسمےکو تین بار تباہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اس تاریخی مجسمے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم اطالوی حکومت کے ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے سوات کے قدیم آثار اور تاریخی مقامات کو مرمت کرکے اپنی اصل حالت میں واپس لانے کا عندیہ دے دیا ہے اور اس سلسلہ میں کئی ایک جگہ پر مرمت کا کام بھی کیا گیا ہے جوکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کےلئے ایک دفعہ پھر توجہ کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ مرمت کردہ آثار قدیمہ میں جہان آباد کے مقام پر واقع دنیا کا دوسرا بڑا بدھا کا مشہور مجسمہ شخوڑئی بھی شامل ہے۔

    شخوڑئی مجسمہ کو عسکریت پسندوں کی جانب سے رات کی تاریکی میں بارود سے اُڑانے کی کئی بار کوشش کی گئی تاہم شائد زیادہ اونچائی کی وجہ وہ اس کو مکمل طور پر تباہ نہ کرسکے یہاں تک کہ مجسمہ کے چہرے میں ڈرلنگ کے بعد بارود بھر دیا گیا اور دھماکے سے اڑادیا گیا تاہم بدھا کے چہرے کے بالائی حصے کے علاوہ باقی مجسمہ محفوظ رہا۔ جس کے بعد ڈاکٹر لوکا کی قیادت اور اطالوی حکومت کی کوششوں سے مجسمہ کی مرمت اور بحالی ممکن ہوئی اور مجسمہ اپنی اصلی حالت میں ایستادہ ہوا

    منگلور میں واقع شخوڑئی بدھا کے بارے میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین کہتے ہیں یہ مجسمہ ریاضی اور آرٹ کی اصولوں پر بنایا گیا ہے۔اونچائی ، چھوڑائی سمیت ابھرائی اور ناپ کا خاص خیال رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس مجسمہ کو جن زاویوں اور فاصلوں سے دیکھا جاسکتا ہے ان زاویوں اور فاصلوں کی کیلکولیشن کی گئی ہے اور کسی بھی زاویے سے اس کی شکل میں بگاڑ محسوس نہیں ہوتا۔

    وادئی سوات میں اس قسم کے آثار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں دریائے سوات کی وادی کئی ہزار سال سے حملہ آوروں کی آماجگاہ رہی ہے یہاں چکدرہ برج سے لے کر سیدوشریف تک گندھارا کے آثار، بدھ خانقاہیں اور شاہی عمارتیوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔زیادہ تر قدیم تاریخی جگہیں بریکوٹ سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں جن کی زیارت کیلئے سنہ دو ہزار سے قبل زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا تاہم جب عسکریت پسندی کا دور شروع ہوا اور حالات خراب ہوئے تو بین الاقوامی زائرین کا آنا بند ہوگیا تاہم بحالی کے بعد اب باہر دنیا سے ان آثار کو دیکھنے اور ان کی زیارت کرنے کیلئے لوگ آنا شروع ہوگئے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی سری لنکا سے زائرین نے سوات کا دورہ کیا تھا اور اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کی تھی، اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ سیاحت کا مشترکہ موقف ہے کہ حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ ہیں اور اس سلسلہ میں بدھسٹ ٹریل کے نام سے ایک منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے جسے مکمل کرنے کیلئے حکومت پر عظم ہیں یہ ٹریل سوات اور صوابی سے ہوتے ہوئے صوبہ پنجاب کے علاقہ ٹیکسلا تک ہوگی اور اس ٹریل پر جگہ جگہ بدھ مت سے وابستہ آثار اور مقامات تک زائرین کی رسائی اور رہنمائی میں کافی آسانی پیدا ہوگی۔

    آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والے سوات کے معروف محقق محمد پرویش شاھین جن کا تعلق بھی اسی گاؤں سے جہاں یہ مجسمہ واقع ہے کے مطابق دنیا میں واحد شخوڑئی وہ جگہ ہے جہاں اس مجسمہ کچھ ہی فاصلے پر بدھا کے اقوال پر مشتمل کتبے کندہ ہیں۔ماہرین کے مطابق سوات میں تقریباً ایک بزار سال قبل اسلام کی آمد ہوئی تاہم یہاں پر بسنے والے مسلمانوں نے مجموعی طور پر ان آثار کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے برعکس ان آثار کو محفوظ رکھا۔

    محمد پرویش شاھین (ماہر آثار قدیمہ)

     

  • الطاف حسین ثانی نہ بنیں . تحریر : آصف گوہر

    الطاف حسین ثانی نہ بنیں . تحریر : آصف گوہر

    جس انسان کو اس کا اپنا وطن دھتکار دے اور وہ مفرورہوکر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلے اس کے ہاں پھر دشمنوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ماضی قریب میں کراچی کو یرغمال بنانے والے الطاف حسین کا معاملہ ہمارے سامنے ہے قتل و غارت گری اغوا بھتہ خوری کے مقدمات میں مطلوب سفاک مجرم جس سے خوفزدہ پوری میڈیا انڈسٹری کی جرات نہیں تھی کہ اس کی لائیو تقریر میں خلل بھی پڑ جائے جس کی بھتہ خوری سے تنگ کراچی حیدرآباد کے سرمایہ کار اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے جس کی وجہ سے شہر میں روزانہ درجنوں افراد ٹارگٹ کلنگ میں مارے جاتے تھے ۔ بوری بند لاشوں کا ملنا معمول کی بات تھی ۔جب اس الطاف حسین نے لندن پناہ لی تو کراچی سے بھتہ منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن ٹرانسفر ہونا شروع ہوگیا اور اس نے لندن میں اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا اس کی ایک کال پر کراچی کا شہر بند ہوجایا کرتا تھا لندن میں پاکستان دشمن قوتیں الطاف حسین کے پاس جایا کرتی تھیں اوراسکو اپنے مذموم مقاصد کے لئے خوب استعمال کیا گیا۔الطاف حسین نے لندن سے کراچی میں ہونے والے جلسوں سے گھنٹوں خطاب کرنا اور پاکستانی اداروں اور افراد کے خلاف بکواس کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا پھر اسکی بدزبانی اتنی بڑھ گئ کہ مادر وطن پاکستان مخالف نعرے لگوادیئے اس سے قبل الطاف حسین قانون نافذ کرنے والے اداروں پر انکی قیادت کے خلاف مسلسل بکواس کرتا رہا لیکن ملک کے تجارتی مرکز شہر قائد کے امن و امان کے لئے سب برداشت کیا جاتا رہا لیکن جب بات پاکستان کے خلاف نعرہ کی آئی جو اس کے زوال کی وجہ بنی پھر چشم فلک بے دیکھا چند باوردی جوان نائن زیرو داخل ہوئے اور 30 منٹ میں الطاف حسین کی لنکا ڈھا دی۔

    اب آئیں بات کرتے ہیں نوازشریف کی پانامہ پیپرزمیں نام آیا کرپشن کیسزعدالتوں میں چلے ایک سوال سامنے رکھا گیا لندن فلیٹس کہاں سے خریدے رقم کی ادائیگی کیسے کی رسیدیں مانگی گئیں کوئی جواب نہ دے سکے نااہل ہوئے 7 سال قید ہوئی جیل گئے بیماری کا ایسا ڈھونگ رچایا کہ اسلام آباد کی بڑی عدالت کو کہنا پڑا کہ وزیراعظم ضمانت دیں کے منگل تک ملزم کو کچھ نہ ہوگا ۔ حکومت نے عدالت کے تحفظات دیکھتے ہوئے علاج کی غرض سے 7 ہفتوں کے لئے لندن جانے کی اجازت دے دی ۔ موصوف نے جہازمیں بیٹھتے ہی تیور دیکھائے اوربیماری والی سستی غائب ہوگئ پھر جناب لندن کی برگر اور کافی شاپس پر نظر آنے لگے عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر مفرور اور اشتہاری قرار دیا اور جائیداد ضبطگی اور نیلامی کا حکم دیا ملک بوٹا نے شیخوپورہ میں مجرم کی زمین نیلامی میں خریدی ۔
    نوازشریف نے فضل الرحمان کے ذریعے پی ڈی ایم بنوائی اور آہستہ آہستہ الطاف حسین کی طرح قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کے خلاف خطاب شروع کردیئے اور میڈیا ہاوسز نے نشر کرنے شروع کر دئیے جب بدکلامی حد سے بڑی حکومت نے نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ۔

    عالمی اسٹبلشمنٹ کو الطاف حسین ثانی میسر آگیا اورپاکستان مخالف ممالک کے نمائندوں نے ملاقاتیں شروع کردیں اسی دوران امریکا افغانستان سے بستر لپیٹ گیا افغان کٹھ پتلی انتظامیہ کو اپنے لالے پڑ گئے اور وہ پاکستان کو اپنی یتیمی کا سبب سمجھنے لگے۔ افغانستان کے سیکورٹی ادارے کے سربراہ محب نے بکواس کرتے ہوئے پاکستان کو چکلہ کہ دیا پاکستان کے وزیرخارجہ نے بروقت جواب دیا اور کہا کہ اب کوئی غیرت مند پاکستانی اس سے ملاقات کرے گا نہ ہاتھ ملائےگا۔ اسی افغان نے لندن میں نوازا شریف کی رہائش گاہ پرملاقات کی اور خوش گپیوں کی تصاویر جاری کیں گئیں جو تمام محب وطن پاکستانیوں کے لئے شدید اذیت اور غصے کا باعث بنیں۔ اور اس غصہ کا اظہار آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے کیا اورمسلم لیگ ن کو مسترد کردیا.

    ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ نواز شریف نے لندن کے نواح میں بھارتی وفد سے بھی ملاقاتیں کیں ہیں ۔ نوازشریف الطاف حسین کا انجام یاد رکھیں اس کی مقبولیت بھی کم نہیں تھی لیکن پاکستانیوں نے دل سے اتار دیا اب نہ وہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا ۔
    "‏جس فرد کو اس کا اپنا وطن دھتکار دے اور وہ مفرور ہوکر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلے اس کے ہاں پھر دشمنوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔”

    @EducarePak

  • عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    عوامی مقامات اور ہمارا رویہ . تحریر :‌ قیصرعباس سیال

    جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
    میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

    ملکِ پاکستان وہ مملکت خداداد ہے جسے ان گنت قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا. یہ وہ وقت تھا جب عوام میں ملک حاصل کرنے کا شعور تھا اورایک قوم بن کے سوچنے کا وقت بھی. موجودہ دور میں ایک سے بڑھ کر ایک معاشرتی مسائل موجود ہیں. معاشرہ تب بگڑتا ہے جب اجتماعی برائیوں سے قطع نظر انفرادی برائیاں بڑھ جاتی ہیں. ڈاکٹر محمد اقبال یونہی نہیں "افراد” پر زور دے گئے. کیونکہ ایک فرد بذاتِ خود پورا معاشرہ ہوتا ہے. مختلف مقامات پر انسان کا رویہ مختلف ہوتا ہے اور بعض اوقات مختلف ہونا بھی چاہیے. کسی شخص کا مخصوص اوقات میں اپنایا گیا رویہ اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے. عوامی مقامات پر ہمیں کس قسم کے رویے اپنانے چاہیے؟ عوامی مقامات میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا عوامی مقامات پر منفی رویہ معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے؟ آئیے کچھ مقامات پر ہمارے رویوں کا جائزہ لیتے ہیں.

    پبلک پارک: صحت مند جسم میں ہی صحت مند ذہن ہو سکتا ہے، یہ تو ہم نے کتابوں میں پڑھ لیا. اس جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت سی ضروری چیزوں میں سے پارک ایک نہایت ضروری چیز ہے. صبح و شام پارک میں چہل قدمی انسان کو جسمانی و ذہنی طور پر تر و تازہ رکھتی ہے. سوچنے کی ضروت ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے کسی رویے کی وجہ سے پارک میں موجود کوئی شخص متاثر نہ نہیں ہو رہا ہو. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارکس میں کچھ "نوجوان” طبقے سے تعلق رکھنے والے حضرات وہاں آئی فیملیز پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی طور پر ان رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں.

    پبلک مقامات میں زیادہ استعمال ہونے والی جگہوں میں ایک بینکوں کے اے ٹی ایم بھی ہیں. یہاں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور اندر موجود ایک شخص کچھ غیر ضروری معلومات دیکھتے دیکھتے آدھا گھنٹہ صرف کر دیتا ہے جو باہر کھڑے لوگوں کے لیے اذیت ہے. ہمیں چاہیے کہ جس بینک میں اکاؤنٹ ہے اس کی موبائل ایپلیکیشن اپنے موبائل میں رکھیں اور بیلنس معلوم کرنا، بلوں کہ ادائیگی اور فنڈز ٹرانسفر جیسے کام گھر بیٹھ کر ہی کریں تا کے اے ٹی ایم پر کم سے کم رش ہو.

    ملک کا بیشتر طبقہ آمدورفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتا ہے. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بس / ویگن میں موجود اخلاقی اقدار سے ناواقف کچھ لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے جو ساتھ بیٹھے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں.
    سگریٹ-نوشی، پان چبانا، تھوکنا، اونچی آواز میں فون سننا اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی ان میں سے چند ایک ہیں. یہ ضروری ہے کہ سفر کو سفر سمجھ کر ہر شخص ساتھ بیٹھے شخص کو سہولت فراہم کرنے کا شعور رکھے.

    ملک پاکستان کو اللّٰہ پاک نے جس خوبصورتی سے نوازا ہے وہ شاید ہی کسی اور ملک میں ہو. یہاں گرم و سرد علاقے ، سر سبز میدان، دریائی مقامات، سمندری نظارے اور خوبصورت پہاڑی علاقے موجود ہیں. جہاں انواع و اقسام کی جگہیں موجود ہیں جو مقامی و انٹرنیشنل سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں. مگر کچھ عرصہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم بطور سیاح جب کسی مقام پر جاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں یا وہیں سے کچھ لے کر کھاتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ وہیں ڈھیر کر دیتے ہیں.
    پہاڑوں میں وادیوں میں جہاں ہم کیمپ لگاتے ہیں وہاں جا کر کس نے صفائی کرنی ہوتی ہے. اس لیے اشرف المخلوقات ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ان مقامات سے اپنے استعمال کے بعد بچنے والی چیزوں اور کوڑے کو اچھی طرح یا تو تلف کریں یا پھر اپنے ساتھ واپس لائیں اور جہاں کوڑے دان لگے ہوں وہاں ڈالیں. یہ رویہ ہمارے صحت افزا مقامات کو بحال رکھے گا.

    بھی بہت سے مقامات پر ہمارے رویے لوگوں پر منفی اثر ڈال رہے ہوتے ہیں. ان سب مسائل کا ایک ہی حل ہے. کہ ہم دوسروں کے لیے جو پریشانی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں، ہم یہ سوچیں کہ اگر یہ ہمارے لیے کوئی پیدا کرے تو کیا ہمیں ناگوار نہیں گزرے گا؟
    سوچنا شرط ہے. انفرادی تبدیلی لائیں، اجتماعی تبدیلی خود بخود آ جائے گی.

    Twitter : @Q_Asi07

  • اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    اللہ کی رضا .  تحریر :‌ محمد خبیب فرہاد

    معاشرے میں برداشت کا ہونا بہت ضروری ہے،  جس سے زندگی تو آسان ہوتی ہی ہے  انسان کی،  اسکے ساتھ ہی امن کوبھی فوقیت ملتی ہے انتہا پسندی اور لڑائی جھگڑوں پر۔ اخلاق میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ہمیں،  پہلے خد کو ٹھیک کرنا ہے پھر دوسروں کو،  پہلے اپنی نصیحت خد پر تجربہ کرنی ہے پھر دوسروں کو بتلانی ہے معاشرے کی بنیاد ہی ایک دوسرے کی فکر و محبت،  بھائی چارے اور برداشت کرنے میں ہے ایک دوسرے کے کام آئیں ہمیشہ دوسروں کا بھلا سوچیں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔ اپنے نیک مقاصد کی کامیابی کے حصول کےلئے  پوری جان کے ساتھ بھرپور محنت کریں ،  جب تک کہ آپ اپنی منزل مقصود تک پہنچ نہیں جاتے ۔ کوشش کبھی مت چھوڑیئے،  منزل ملے یا ناں ملے ! اگر ، مگر اور کاش زندگی تباہ کر دیتی ہے انسان کی ۔

    اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنا ہی کامیابی ہے ، جو ملا نہیں اس پر مایوس ہونے کے بجائے صبر اور وتحمل کام لیا جائے ۔ یہ دنیا آپکو نہیں سمجھ سکتی سوائے اللہ تعالی کے، اللہ ہی ہے جو اپنے بندے/ بندی کو کبھی بھی مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑتا ! اللہ کوئی نہ کوئی وسیلہ ضرور بنادے دیتا ہے انسان کی مشکلات کودور فرمانے کا۔

    اللہ تعالی کی قربت چاہتے ہو تو اللہ کی خوب عبادت کرو اللہ کا کلام قرآن پاک سمجھ کر پڑھو ذکر الہی زیادہ سے زیادہ کرو ، اپنے دکھ درد میں اللہ کو یاد کرو ، دعائیں کرو رو رو کر اللہ کے آگے جھکو۔ تہجد کی نماز میں قربت الہی حاصل کی جاسکتی ہے، تب اللہ اپنے بندے/بندی سے فرماتا ہے مانگ جو مانگنا ہے میں تجھے دوں ۔

    موت اور زندگی دینے والا میرا اللہ ہی ہے، موت کا فرشتہ ایک گھر کے دن میں پانچ چکر لگاتا ہے، لیکن فرشتہ جان اپنی مرضی سے نہیں نکال سکتا، موت کا فرشتہ تو حکم الہی پر ہی اپنا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ معاشرہ میں عظیم کامیابی کے حصول کے لیے اللہ کی رضا میں راضی بہت ضروری ہے ۔

    ایک دفعہ ایک بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار اپنی کسی منزل کی طرف تیزی سے جارہا تھا تو اک درویش نے بادشاہ کو راستے میں روکا اور کہا کہ گھوڑے سے نیچے اترو، میں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے تو بادشاہ نے کہا جو بات ہے میرے کان میں بتا دو مجھے بہت جلدی ہے ، تو بادشاہ کےبار بار
    کان میں بات بتانے کے اسرار پر ، درویش نے بادشاہ کے کان میں صرف اتنا کہا ہے کہ میں موت کا فرشتہ ہوں اور تیری جان نکالنے آیا ہوں ۔

    یہ سنتے ہی کہ بادشاہ کو سکتا جاری ہوگیا، روئے پیٹے کہ مجھے میرے بیوی بچوں سے تو مل لینے دو ۔ تب درویش نما موت کے فرشتے نے کہا ہم تو اللہ کےحکم کے پابند ہیں، میں تمہیں تمہارے بیوی بچوں سے نہیں ملنے دوں گا۔ تمہاری جان ابھی اسی وقت نکالنے کا حکم مجھے اللہ تعالی نے دے دیا ہے ۔

    شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
    اس سے تو خاموشی بہتر ہے ، کہ کسی کو دل کی بات کہہ کر پھر اس سے کہا جائے کہ کسی سے نہ کہنا ۔ میرا اک دوست مجھ کہتا کہ میرا دل نماز میں نہیں لگتا تو میں کیا کروں کہ میرا دل نماز میں لگ جائے؟

    تومیں نے جواباً اپنے دوست سے کہا کہ:

    جب تم نماز شروع کرو تو زمین کی طرف دیکھو !
    کہ مرنے کے بعد ہمیں زمین میں جانا ہے ۔

    جب رکوع میں جاؤ تو اپنے پاؤں کی طرف دیکھو!
    اس لئے کہ انسان کی جان پاؤں سے نکلتی ہے ۔

    جب سجدہ کرو تو اپنے ناک کیسمت میں دیکھو!
    مرنے کے بعد قبر میں انسان کی سب سے پہلے ناک ختم ہوتی ہے۔

    اور جب تشہد کی حالت بیٹھو تو اپنی خالی جھولی کی طرف دیکھو!

    خالی جھولی دنیا میں آئے اور ہمیں خالی جھولی ہی لوٹنا ہے ۔

    اللہ تعالی ہم سب کو اللہ تعالی کی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطافرمائیں۔

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @khubaibmkf

  • شعور_گناہ  تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    شعور_گناہ تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے. اچھائی اور برائی کی تمیز، رہن سہن کے طور طریقے سکھاے ہیں. زندگی کو راہ راست پر رکھنے اور بقا کے لئے گاہے بگاہے مختلف ادوار میں مختلف انبیاء کرام علیہم السلام بھیجے ہیں. جن کا سلسلہ ہمارے پیارے نبی کریم ختم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر ختم ہوا ہے. یہ سب انسان کو راہ راست کی تلقین اور رب کے بندوں کا رب سے تعلق قائم رکھنے کے لیے کیا گیا. شیطان چونکہ جب سے جنت سے نکالا گیا تب سے نوع انسانی کو راہ رب العالمین سے متنفر کرنے کا کام کرتا چلا آیا ہے. اسی سے محفوظ رکھنے کے لیے بنی نوع انسان کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کے نزول کا سلسلہ چلتا رہا. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ رب العزت نے یہ زمہ داری امت کو سونپی کہ اچھائی کا حکم دے اور برائی سے روکے. انسان کی سب سے بڑی کمزوری جو کہ شیطان کا سب سے کارآمد ہتھیار بھی ہے وہ انسان کے اندر موجود اس کا نفس ہے. جسے شیطان دنیا کی طلب میں الجھاے رکھتا ہے. اگر انسان اس طلب کو کنٹرول نہ کرے تو یہی طلب بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے کو جا پہنچتی ہے. یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے انسان کا تباہی کا سفر شروع ہوتا ہے. انسان ہوس کے حصول کے لیے اچھائی اور برائی کی تمیز چھوڑ دیتا ہے. یہاں ہوس سے مراد ہر وہ خواہش کی شدت ہے جو اگر اعتدال میں رہے تو ضرورت کے درجے میں ہوتی ہے. اگر اعتدال کے دائرے سے باہر ہو جاے تو ہوس بن جاتی ہے.
    اگر انسان کو سفر کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے تو یہ اس کی ضرورت ہے اگر مالی لحاز سے یہ فی الوقت اس کی پہنچ سے دور ہے تو اسے صبر کرنا چاہیے محنت کرے حلال اور حرام کی تمیز رکھے اور اپنے ضمیر کو شیطان کی ہتھے چڑھ کر اس ضرورت کو ہوس بننے سے محفوظ رکھے. ہوس اسی کو کہتے ہیں جس میں کسی طلب کا اپنی اصلی حیثیت سے اس قدر بڑھ جانا کہ اس کے حصول کے لیے انسان حلال اور حرام کا فرق نا رکھے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہر برائی اور گناہ جیسے رشوت، چوری جھوٹ فریب حق تلفی الغرض انسان کا اس کی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہر حد سے گزر جانا یہی ہوس ہے.

    ہر انسان کے اندر یہی نفس اس کے لیے منصف کا کام انجام دیتا ہے لیکن کب تک؟ جب تک یہ شیطان کےبہکاوے میں نہیں آتا. جب تک یہ زندہ رہتا ہے تب تک انسان اچھائی اور برائی کا شعور رکھتا ہے.

    انسان کا گناہ سے قبل گناہ کو بھانپ لینا اور اس سے بعض رہنا یہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے. اور نفس کہ زندہ ہونے کی دلیل ہے.

    *اسی کو شعور_گناہ کہتے ہیں*
    انسان رب کی راہ سے بھٹنے سے بچا رہتا ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں میں شامل رہتا ہے.
    جب شعور_گناہ ختم ہو جائے تو رب العالمین کی طرف سے مہلت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور تب تک چلتا ہے جب تک انسان اپنی پوری قوت وقت طاقت لگا کر گناہوں سے اپنے دامن کو داغدار نہیں کر لیتا. رب کی رحمت اس بندے کو ڈھیل دیتی رہتی ہے وہ گناہ حق تلفی اور حقوق اللَّهُ حقوق العباد سب روند دیتا ہے. اور تباہی اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں اس گناہ کا شعور ہی ختم ہو جاتاہے. وہ گناہ کر کہ سمجھتا ہے کہ میں ٹھیک راستے پر ہوں. جب انسان اپنی پوری قوت گناہوں پر صرف کر کے مطمئن ہو جاتا ہے اور اسے تب بھی احساس نہیں ہوتا کہ میں گناہ کرتا رہا. جب اسے کے رویے میں فرعونیت آجاتی ہے کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگڑ سکتا. تب اس کا احتساب شروع ہو جاتا ہے جسے مکافات کہتے ہیں.
    پھر انسان کی سب کاوشیں بے بس ہو جاتی ہیں اور رب کی رحمت اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے. اور وہ رب کے غضب کا شکار ہونے لگتا ہے.
    اس کی مثال ماضی کے ادوار سے ملتی ہے.
    حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ایک شخص بہت گنہگار تھا ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگا موسی علیہ السلام میں نہ آج تک کوئی گناہ نہیں چھوڑا تم اپنے رب سے کلام کرنے جا رہے ہو. رب سے میرے بارے سوال کرنا کہ وہ مجھے سزا کیوں نہیں دیتا. جب موسی علیہ السلام نے سوال کیا کہ اے رب العالمین اس کے گناہ کا تو سارا شہر گواہ ہے پھر بھی اس پر خوشحالی ہی خوشحالی ہے اسے سزا کیوں نہیں ملتی؟ جواب آیا موسی علیہ السلام اسے سزا مل چکی اسے گناہ کی طرح سزا کا شعور نہیں ہے پوچھا اللہ کیا سزا دی اسے؟ جواب آیا اس کی آنکھ سے ندامت کے آنسو چھین لیے ہیں یہ چاہے بھی تو میرے سامنے توبہ نہ کر سکے گا.
    تو پتہ چلا کہ شعور_گناہ ہو تو ندامت کی توفیق ملتی ہے اور جو رب العالمین کے سامنے اپنے کئے پر نادم ہو جائے رب کریم غفور الرحيم اسے معاف کر کے دوبارہ اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے. اپنے نفس کو شیطان سے بچائیں اور شعور_گناہ کو قائم رکھیں تا کہ رب العالمین کی رحمت کی آغوش میں رہ سکیں اسی میں دنیا و آخرت بھی بھلائی ہے

    @EngrMuddsairH

  • اسلام اور پاکستان کا تعلق؟  تحریر: فرح بیگم

    اسلام اور پاکستان کا تعلق؟ تحریر: فرح بیگم

    ہم صدیوں سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا. لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک پاکستان میں کوئ قانون اسلام کے مطابق نہیں چل رہا .یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز پستی کی طرف جا رہے ہیں.ہم پاکستان کے حق میں بولتے وقت ایک بہت اچھا منطق سامنے لے کے آتے ہیں.کہ پاکستان ہماری ماں ہے اور اسی وجہ سے ہم اس سے محبت کرتے ہیں.یہ میں گواہی کیساتھ کہ سکتا ہوں جب یہ ماں اپنے بچوں کے لئے پانی پیدا کرنا چھوڑ دے گی اور جانوروں کے لئے گھاس پیدا کرنا چھوڑ دے گی تو سب یہ لوگ اپنے ماں کا بھی ساتھ چھوڑ دیں گے.دنیا میں اس وقت پاکستان سے بھی زیادہ خوب صورت ممالک موجود ہیں جہاں انسان کو زندگی کی تمام تر سہولتیں میسئر ہیں اور وہاں پر انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی حقوق ملتے ہیں. تو کیوں نہ میں وہاں جا کر رہائش اختیار کر لوں جہاں پر میری زندگی اچھی طرح سے گزرے.
    پاکستان سے محبت اور عشق کرنے کی وجہ کچھ اور ہے.پاکستان سے محبت اسلام کی وجہ سے ہے.
    جب دنیا کے نقشے میں نئے ممالک وجود میں آرہے تھے تو کوئ اس وقت کہ رہا تھا کہ ہم مصری ہیں اور صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اس لئے ہمیں یہاں رہنے دو.اُس وقت کوئ یہ کہتا ہوا نظر آرہا تھا کہ ہمارے پاس سے دریائے فرات گزرتا ہے اس لئے ہمیں علیحدہ ملک دے دو.پاکستان کو حاصل کرنے وقت صرف ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا اللہ الا اللہ.
    اس وقت 189گھر ہیں لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو مسجد کی حیثیت حاصل ہے.پاکستان نور ہے اور نور کو کبھی زوال نہیں. لیکن آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم زوال کی طرف جا رہے ہیں اس کی چند وجوہات ہیں.آپ پاکستان کی شاہراؤں پر نکل کر دیکھیں تو آپ کو مذہبی نعرے لکھے ہوئے نظر آئیں گے اور ان پر لکھا ہو گا حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے.رسول اکرم کی عزت ہم سب پر فرض ہے.لیکن افسوس کیساتھ ہم اُن کے کہے ہوئے باتوں پر عمل نہیں کر رہے.حضرت محمد کی زندگی ہمارے لئے ایک عملی نمونہ ہیں.
    دوسری بات ہم نے آج کل قرآن پاک کو صرف گھروں میں سجانے کے لئے رکھا ہوا ہے اس کو سمجھنے کی کوئ کوشش نہیں کرتا. دنیا بھر کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل ضرور آپ کو قرآن مجید میں ملے گا.آج کل ہم صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں.نماز پڑھنے کے بعد دودھ میں ملاوٹ کرنے کو کوئ بُرا کام نہیں سمجھتا. جھوٹ بولنا اور دوسروں کا حق مارنا ہمارا وطیرہ بن کر رہ گیا ہے. ہم اپنی ناکامیوں کا قصوروار امریکہ کو ٹھہراتے ہیں.ان ناکامیوں کے ذمے دار ہم خود ہیں. چند سالوں پہلے امریکہ کا کوئ وجود نہیں تھا پوری دنیا میں لوگ برطانیہ کو سپرپاور سمجھتے تھے.لیکن اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی دنیا پر راج کیا تھا. ہمارا اکثر خدا سے یہی شکوہ رہتا ہے کہ اللہ تعالی کافروں پر بہت مہربان ہے. یہی باتیں علامہ اقبال نے بھی شاعرانہ انداز میں یوں بیان کہیں تھیں.
    رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
    برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانوں پر
    اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے. کوئ مسلم امہ میں ایسی طاقت نہیں ہے جو یہودیوں کا مقابلہ کرے. کیا اللہ پاک عاجز ہیں کہ ان یہودیوں پر اپنا عذاب نازل نہیں کر رہا.دراصل بات یہ ہے کہ ہم لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں. ہم ایس ایچ او سے ڈرتے ہیں,ہم وزیراعلی سے ڈرتے ہیں اور ہم امریکہ سے ڈرتے ہیں.لیکن اللہ کے سوا کسی سے اور سے ڈرنا شرک کہلاتا ہے.جو اللہ کا بندا اللہ کے دین کے آگے سر جھکاتا ہے.وہ اللہ کا نمائندہ ہوتا ہے. اور وہ بندا جو اس نیک راہ سے ہٹ جائے تو وہ کافر سے بھی بد تر ہو جاتاہے.ہم دودھ میں ملاوٹ کرتے وقت فوڈ اتھارٹی سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں ڈرتے .حالانکہ اللہ تعالی سارے جہانوں کا مالک ہے اور وہ ہر چیز دیکھ رہا ہے.
    انشااللہ ایک دن پھر مسلمان عروج پر ہو نگے اور ملک پاکستان جس کی بنیادیں اسلام کے نام پر کھڑی کی گئیں .ایک دن ضرور یہاں سورج نئ افق کے ساتھ طلوع ہو گا.اس وقت ہم مسلمان سائنس کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں.کوئ بھی نئ چیز تعمیر کروانی ہو تو بیرونی ممالک سے انجینئر منگواتے ہیں.
    اللہ کو پا مردی مومن پہ بھروسہ
    ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
    ہم اس وقت دنیا کا صرف جنگی حوالے سے مقابلے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں.لیکن ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہورہا کہ ہم تعلیمی حوالے سے اپنے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں.ہمارے ملک کا تعلیمی سلیبس انگریزوں کے مشورے سے تیار ہوتا ہے.اور اس سے بڑی افسوسناک بات ہم اپنی قومی زبان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.پوری دنیا کی پانچ ہزاز سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں .کسی ممالک نے دوسروں کی زبان اختیار کرنے کے بعد کوئ ترقی نہیں کی. دنیا میں کئ ممالک ایسے ہیں جہاں پی ایچ ڈی اپنی زبان میں کروایا جاتا ہے.
    تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا چاہیے.پاکستان کا تب تک ترقی کرنا مشکل لگ رہا ہے جب تک یہاں اسلامی قانون نافذ نہ کیا جائے.یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اس ملک کو چلانے کا بھی سب سے بہتر حل یہاں پر اسلامی قانون کا نفاز ہے.

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر  تحریر : محمّد عثمان

    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر تحریر : محمّد عثمان

    ………………
    عید کے تیسرے دن دوست کے ساتھ شاہ عبدالطیف بھٹائی رح کے مزار پر جانا ہوا تو وہاں موجود سات آٹھ سال کا ایک خوب صورت اور معصوم سا بچہ اچانک ہمارے پاس آ کھڑا ہوا. "انکل ہم سے بیلون خرید لیجیے نا امی کے لیے دوا لانی ہے.” میرے ساتھ میرے دوست نوید احمد (بھٹ شاہ والے ) تھے. بچے کی خوبصورتی، اس کے لہجے کی معصومیت اور بیلون بیچنے کا اس کا یہ انداز ہم دونوں کے لیے حیران کن تھا. میں نے بچے کو پیار کرتے ہوئے اس کا نام اور پتہ پوچھا. ہمیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ بچہ( بھٹ شاہ) کا رہائشی ہے. ہم نے بچے سے بیلون لے کر اسے کچھ پیسے دے دییے اور اسے یہ کہہ کر گھر جانے کو کہا کہ ہم تمہارے گھر آئیں گے. رات جب ہم واپس آئے تو بچے کی بتائی ہوئی جگہ پر اسے ڈھونڈنے نکلے. تھوڑی سی کوشش کے بعد اس کے گھر کا پتہ چل گیا. گھر میں اس کی والدہ تھیں جو واقعی بیمار تھیں اور بیماری کی وجہ سے کام پر جانے سے معذور تھیں. انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ گھروں میں کام کرتی ہیں جس سے ان کے گھر کا خرچ چلتا ہے. انہوں نے اقرار کیا کہ بحالت مجبوری وہ اپنے بچے کو بیلون بیچنے کے لیے باہر بھیجتی ہیں تاکہ گھر کا خرچ نکل سکے اور دوا وغیرہ کا انتظام ہو سکے.
    خاتون کی بات کس حد تک صحیح ہے یہ پتہ کرنے کے لیے ہم نے آس پاس کے کچھ معتبر لوگوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ عورت واقعی قابل افسوس ہے. اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے.
    اللہ عزیزی مبشر حیات خاں اور اسامہ سلمہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے بروقت وہاں فوری ضرورت کی چیزیں مہیا کر دی ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ضرور ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، اپنی تحریر و تقریر سے زمانے میں انقلاب لانے کا خواب دیکھتے ہیں اور ہمارے اس پاس میں ہی نہ جانے کتنے گھر ہماری توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا. ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو. آج ہمارے یہاں عبادات کے نام پر مساجد ضرور آباد ہیں، بڑے بڑے اصلاحی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے خدمت خلق کے نبوی اصول کو بہت حد تک فراموش کر دیا ہے. یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں اپنے محلے کے اس گھر کی خبر نہیں جہاں غربت و افلاس کی وجہ سے دو وقت چولہا جلنا محال ہے. اللہ ہمیں معاف فرمائے.
    ………….

    Twitter @UsmanKbol
    Email MrUsmann44@gmail

  • صوبہ بلوچستان میں صاف پانی کے مسائل . تحریر: حمیداللہ شاہین

    صوبہ بلوچستان میں صاف پانی کے مسائل . تحریر: حمیداللہ شاہین

    کسی بھی انسان اور حیوان کے زندہ رہنے کے لئے پانی کی اہمیت کو نظراندازنہیں کیا جاسکتا، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پانی ہماری زندگی کے لئے بہت اہم ہے اوراس کے بغیر کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پانی زمین پر بہت زیادہ مقدارمیں ہے، دنیا 30٪ زمین اور 70٪ پانی سے محیط ہے۔ پھر بھی میٹھا پانی 3٪ کی بہت کم مقدارمیں ہے۔ انسانی استعمال کے لئے دستیاب میٹھے پانی کی مقدار صرف 0.01٪ ہے ، باقی پانی گلیشیراوربرف میں پابند ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک ارب بیس کروڑ افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ میٹھے پانی کا معیاراورمقدار دونوں کم ہیں۔ مزید یہ کہ آبی آلودگی پانی سے متعلق سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ ہے۔ یہ ایک وسیع مسئلہ ہے جو ہماری صحت کو خراب کررہا ہے۔ غیرمحفوظ پانی ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں افراد کی جان لیتا ہے۔ آبی وسائل غیرمستحکم طریقے سے استعمال ہورہے ہیں اور یہ بھی آلودہ ہورہے ہیں۔ پانی کی آلودگی اس وقت ہوتی ہے جب نقصان دہ مادے، اکثرکیمیائی مادے آبی ذخائرکو آلودہ کرتے ہیں اوراسے انسانوں اورماحولیات کے لئے زہریلا دیتے ہیں۔

    اس تناظرمیں بلوچستان کو بھی پانی سے وابستہ بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ صوبے کے بیشتر مقامات پر معیار کی خرابی کی وجہ سے لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس میں دھول کے ذرات، خطرناک آلودگی اور مائکروجنزم کی موجودگی کی وجہ سے پانی سے وابستہ بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے۔ انسانی سرگرمی بنیادی طور پر سطح اور زمینی آلودگی دونوں کے لئے ذمہ دار ہے۔

    صوبے میں پانی کی آلودگی کے سب سے اہم وسائل یہ ہیں:
    ناقص سیوریج نظام ، زہریلے کیمیکلز اور صنعتوں اور اسپتالوں سے آبی گندوں کو ضائع کرنا، ٹھوس فضلہ کی ناقص تلفی، ناقص صفائی اور انتظام ، زراعت اور سطح کا بہاو، بعض اوقات بار بار سیلاب آتا ہے۔ فضلہ گندگی نہ صرف سطحی پانی بلکہ زمینی پانی کے معیار پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ ، یہ مادے زیرزمین پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور اسے غیر محفوظ اور انسانی استعمال کے لئے نا مناسب بنا دیتے ہیں۔

    مزید برآں ، صوبے میں زیادہ تر عوامی پانی ہینڈ پمپ اور پائپڈ نیٹ ورک کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ متعدد عوامل جیسے کراس کنکشن ، ٹوٹی پھوٹی یا لیک پائپ، خراب شدہ نظام، پانی کی ناجائز فراہمی کی وجہ سے، تقسیم کے نظام میں پانی آلودہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ذریعہ مقرر کردہ پانی کے معیار کے پیرامیٹرز کی خلاف ورزی اکثر کی جاتی ہے اورشہری علاقوں میں پینے کے پانی کی تقسیم ڈبلیو ایچ او کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ پینے کے پانی میں مختلف آلودگی پھیلانے والوں میں، مائکروبیل آلودگی صوبے میں صحت عامہ کے لئے سب سے سنگین خطرہ ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے اکٹھا کرکے متعدد قسم کی تحقیق کی گئی ہے۔ جس نے پینے کے پانی میں ضرورت سے زیادہ مائکروبیل آلودگی ظاہر کی ہے جس کی اجازت NEQS کی طرف سے مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے۔

    پورے صوبے میں پانی سے متعلق یہ پریشانی ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے ، اور صوبے کے رہائشیوں کو صحت کے سنگین مسائل درپیش ہیں خصوصا غریب افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال اس کی موت ہوجاتی ہے اور پانی کے خراب معیار کے سبب ہزاروں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ آلودہ پانی کے ساتھ رابطے میں آنے پر اسہال ، ٹائیفائیڈ ، ہیپاٹائٹس، معدے کی بیماریوں، پھیپھڑوں کی بیماریوں، گلے کی بیماریوں، پولیو امیلائٹس، آنتوں کے کیڑے اورجلد میں انفیکشن ہونے کے سب سے عام مسائل ہیں۔

    کچھ علاقوں میں، کلورینیشن (ٹریٹمنٹ پلانٹس اورصفائی ستھرائی کے نظاموں میں پینے کے پانی کو صاف کرنے کے لئے ایک مشہور طریقہ)، ابلتے ہوئے پانی، فلٹریشن کا استعمال پانی کی جراثیم کشی کے لئے ہوتا ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں ہے اور صرف شہری علاقوں تک ہی محدود ہے کیونکہ لوگوں نے پانی کی صفائی کے لئے یہ عمل بہت کم کیا ہے۔ بدقسمتی سے عوام میں شعور کی کمی کی وجہ سے لوگ گھریلو پانی کے علاج معالجے جیسے کلورینیشن، شمسی ڈس انفیکشن، ابلتے اور گھریلو چھوٹے سائز کے فلٹرزپرعمل نہیں کرتے ہیں۔

    اگرچہ قومی پینے کے پانی کی پالیسی (NDWP) 2009 اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ (PEPA) 1997 کو متعارف کرایا گیا ہے، لیکن ان کا نفاذ قریب صفر ہے۔ پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایکٹ کے سیکشن نمبر11 میں ، یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی طرح کے نالے یا کوڑے کو خارج نہیں کرے گا یا اس مقدار میں جو NEQS کی سطح سے بالاتر ہے۔ تاہم ماحولیاتی قوانین کا کمزور نفاذ پانی کے بڑھتے ہوئے آلودگی کے لئے ذمہ دار ہے۔ مزید برآں بیداری کا فقدان، ناقص نگرانی، انتظام، ناکافی بجٹ مختص، علاج کی کمی، فلٹریشن اورڈس انفیکشن کے طریقوں، ذمہ دار حکام کے مابین ہم آہنگی کا فقدان بلوچستان اور مجموعی طور پر پاکستان میں ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کے نفاذ میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔

    لہذا پینے کا پانی رنگ، گندگی، بدبو اور جرثوموں سے پاک ہونا چاہئے۔ یہ جمالیاتی لحاظ سے خوشگوار اور پینے کے لئے محفوظ ہونا چاہئے۔ پینے کے پانی کی تقسیم کے نظام کے علاج اور بحالی کے لئے پینے کے پانی کے معیار کے معیار کو مستقل طور پر قائم کیا جانا چاہئے۔ واٹر اینڈ سیینیٹیشن ایجنسی (واسا) کو نجی اداروں کی مدد سے آبی وسائل کے تحفظ اور آلودگی کو اس کے ماخذ سے کنٹرول کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا چاہئے۔ حکومت پانی کے علاج کے لئے پینے کے صاف پانی کے علاج کے پلانٹ لگائے۔ زہریلے پیتھوجینز کو مارنے کے لئے قانون اورقواعد و ضوابط کے مطابق پانی کی تقسیم کے نظام اورکلورینیشن کی مناسب دیکھ بھال کی جانی چاہئے۔

    حکومت ماحولیاتی قوانین اور ضوابط کو نافذ کرکے سخت کارروائی کرے۔ نیز اگر کسی کو بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا ہے تو کسی کو بھاری جرمانے اور قید کی سزا دی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ اس چھلکے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لئے فعال شرکت کی ضرورت ہے۔ فضلہ کی مناسب تلفی ، گند نکاسی کا مناسب نظام، گندے پانی کا علاج، کم سے کم زرعی اور سطح کا بہاو، مناسب صفائی اور انتظام وغیرہ کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کو آلودگی سے پاک بنانے کے لئے سرکاری شعبے کے ساتھ مقامی لوگوں کے تعاون اور شرکت کی ضرورت ہے۔

    پانی زندگی ہے۔ اور ہمیں آبی ذخیروں کو آلودہ کرکے اپنی زندگی کو نہیں مارنا چاہئے بلکہ ہمیں پانی کی حفاظت کرکے اپنے آنے والے نسلوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔

    @iHUSB

  • اندھے  مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    اندھے مقلدین . تحریر : جواد خان یوسفزئی

    ملتان سے اسلام آباد واپسی کے راستے میں ایک ایسی تحریر لکھ رہا ہو جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ الفاظ اکٹھے ہو رہے ہیں اور نہ ہی سوچ ۔۔۔ پنجاب کا صوبائی درالکومت لاہور اور سرزمین اولیا ملتان میں مختلف اور تاریخی مقامات کا وزٹ کر نے کے بعد ملتان سے اسلام آباد کے لمبے اور تَکا دینے والے سفر کے باعث زہن بھی ماوّف ہیں اور نیند کی غلبے کی وجہ سے لکھنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے ۔

    چلتی ہوئی گاڑی میں یوں بھی کچھ لکھنا آسان نہیں ہوتا !
    راستوں کی نہ ہمواری کے باعث ہاتھ ایک جگہ پر ٹھہر ہو ہی نہیں پاتا۔۔اور آج تو محض ہاتھ نہیں سوچھے بھی تو کسی ایک نقطے پر ٹھہر نہیں ہو پا رہی ۔۔ کیونکہ ملتان میں جو دیکھا ہے اُس نے میرے دیکھنے اور سوچھنے کے تمام زاویوں کو بدل کر رکھ دیا ہیں ۔
    میں نےبیس برسوں میں شاید یہ پہلی بار دیکھا ہوں ۔

    یہ کہانی ” حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزار کے احاطے میں ہونے والے وہ مناظر جس پرلکھنا بھی مشکل ہے ۔ وہ مناظر آپ آخر میں اس تحریری نوٹ میں پڑھ لیں گے لیکن حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کے بارے جو قصہ مشہور ہے پہلے وہ زرا پڑھیئے گا. کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مورخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس نے ملتانیوں سے آگ مانگی۔ اور اہل ملتان نے اس درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آگیا۔ نام ان کا شمس تھا انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ نہیں دے رہے۔ ایسے میں سورج شمس کی مدد کو آیا بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پر آ گیا۔ اورشاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر مزے سے کھا لی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ملتانی زبان میں” دھپ سڑی “کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو کچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں لیکن یہ کچھ سوالات کو ضرور جنم دیتی ہے۔ مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟ اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید یہ شہر اس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکار بھی نہ ہوتا۔ ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟ خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں اور آیئے وہ مناظر ملاحظہ کیجئے۔

    برصغیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ اسلام حضرت بہاالدین زکریا اور سلسلہ سہروردیہ کے مشہور و معروف روحانی پیشوا حضرت شیخ شاہ رکن عالم رحمتہ اللہ علیہ کی مزار کے بعد چند منٹ کے فاصلے پر حضرت شاہ شمس تبریزی سبزواریؒ کی مزارکا رخ کرلیا۔
    ملتان کے گنجان گلیوں میں واقع شاہ شمس تبریزی کے مزار پہنچے تو مزار کے تمام داخلی راستوں پر دس زیادہ پولیس اہلکار تعینات کردی گئی تھی۔ راستے میں تین جگہ جامہ تلاشی دینے کے بعد مزار کے احاطے میں داخل ہو ۔ مزار پر زائرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جو لوگ زیارت کے لیے آئے تھے وہ جوش وجذبہ سے بھرپور تھے۔

    اب میں عین اُس ہال میں کھڑا تھا جہاں پر بہت آسانی سے تمام تر ہونے والے عمل کو نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔میری پہلی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو چہچ چہچ کر کہتا تھا کہ مولا مجھے یہاں موت نصیب کریں ۔ ساتھ میں کھڑی جوان لڑکی رو رو کر یہ دعا مانگتی تھی کہ بابا تین سال ہونے کو ہے مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی۔ ایک اور عمر رسیدہ شخص مزار پر چادر ڈال کر چلتے چلتے دو تین سجدے کر کے چلے گئے۔ وہاں موجود ہر دوسرا شخص ایسی ایسی حرکتے کررہے تھے جسے دیکھ کر میری اندر کی روح کانپ اُٹھی ۔کچھ لوگوں نے قبر کے ساتھ لگی ہوئی گریل کو تالا لگا کر اپنی من پسند دعائیں کی ۔۔خواتین زائرین نے سرخ اور کالا دھاگہ باندھ کر منتے مانگتی رہی۔ ایک اور اندھے مقلد نے اپنی نئی نویلی دہلن کے ساتھ اسی دعا سے رخصت ہوئے کہ شادی کی زندگی کے بعد سکون ملے۔ اس علاوہ لڑکے اور لڑکیاں مزار کے اندر ایک دوسرے کو انگوٹھی پہن کر” بابا” کو گواہ بناتے رہے۔کچھ مردوعورت اپنے محسوس انداز میں قبر کا طواف کر رہے تھے ۔ متعد افرا دیا جلا کر عجیب قسم حرکتیں کرہے تھے ۔ چند حضرات قبر کے ساتھ لیٹ کر پورے دن کی تکاوٹ دور کر رہے تھے ،سیڑ یوں میں بیٹھے چرس کے نشے میں دُھن نشائی اس کے علاوہ تھے۔

    یہ وہ مناظر تھے جو بیان کرسکا اس کے علاوہ جو ہے وہ نہ قابل بیان ہے نہ تو اس کےلیے الفاظ ہے اور نہ ہی ہمت ۔۔۔یہ تحریرلکھتے ہوئے زہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ دنیا اب بھی اندھے مقلدینوں سے بَری پڑی ہے ۔مزار کی تقدس پامال کرنے میں ان اندھے مقلدینوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ جن چیزوں سے ہمیں روک دیا گیا ہے ان سے بازنہیں آتے ۔
    آج کل ہم اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ہمیں ہر مسئلہ میں آزادی چاہئے ہر معاملہ کو طبیعت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو،آج ہم جہالت میں اس طرح ڈوب چکے ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنالیا ہے جو طبیعت کہتی ہے، جس کی طرف عقل چلنے کو کہتی ہے اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ غلط ہو یا ٹھیک ۔ عقل وطبیعت کی لاٹھی نے ہمیں مار کر اس قدر اندھا کردیا ہے کہ غلط اور ٹھیک میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کون سی چیز ہمارے لیے ٹھیک ہے اور کون سی چیز غلط ہے۔

    ہماری دھرتی پر سب سے زیادہ بوجھ جہالت کا ھے جو انسانوں کے دماغ کو مفلوج بنا دیتی ہے. ‏ہماری قوم ہر دوسری چیز کو قیامت کی نشانی کہہ دیتی ہے مگر مجال ہے اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی وہ اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں !

    Jawad_Yusufzai@