Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شاہ محمود قریشی  تحریر: دانش اقبال

    شاہ محمود قریشی تحریر: دانش اقبال

    آج پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہ لکھنے کا دل کیا

    کچھ سال پہلے تک شاہ جی کو میں اتنا خاص پسند نہیں کرتا تھا اور میرے ذہن میں ان کے بارے میں کچھ منفی خیالات تھے – میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ شاہ جی اپنے کچھ ذاتی مفادات کے حصول کے لۓ عمران خان کے ساتھ ہیں جو کسی کو پارٹی میں اہم حیثیت حاصل کرتے نہیں دیکھ سکتے اور ایک دن یہ خان صاحب کو دھوکہ دیں گے

    سب سے ذیادہ خطرہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہوا جب وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش دل میں رکھنے والے شاہ جی کی خواہش ادھوری رہ گٸ اور مجھے یقین ہو گیا کہ قریشی صاحب اب گۓ کہ گۓ لیکن میرے اندازے غلط ثابت ہوۓ اور آج جب بھی کوٸی مجھ سے خان کے نمبرون اور بااعتماد کھلاڑی کا پوچھتا ہے تو فوراً زبان پہ شاہ جی کا نام آتا ہے

    پی ٹی آٸی جواٸن کرنے کے بعد سے اب تک قریشی صاحب نے پارٹی کے لۓ جان توڑ محنت کی ہے اور ایک اثاثہ ثابت ہوۓ ہیں
    اپوزیشن میں رہ کے خان صاحب کے ساتھ ساتھ جنگ لڑی دھرنے دٸیے ریلیاں نکالی اور اس وقت جب جاوید ہاشمی جیسے لوگ پھسل گۓ انہوں نے پارٹی کو سنبھالنے اور مورال اوپر رکھنے میں اہم کردار ادا گیا
    اور پھر 2018 کے الیکشن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوۓ جنوبی پنجاب سے پی ٹی آٸی کو بھرپور کامیابی دلواٸی اور ان کے تجویز کردہ تقریباً سب امیدوار جیت گۓ جس کا کریڈٹ بلاشبہ خان کی سحر انگیز شخصیت اور بے انتہأ شہرت کے بعد قریشی صاحب کو ہی جاتا ہے

    سب سے اہم خارجہ کا محاز سنبھالنے کے بعد انہوں نے عملی طور پر وہ کارکردگی دکھاٸی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی

    عمران خان نے بہت سے اہم خارجہ محاز ان کے حوالے کۓ اور شاہ جی اب تک خان صاحب کے اعتماد پر پورا اترے ہیں

    آج کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان کے دنیا سے نا صرف پہلے سے بہت بہتر تعلقات ہیں بلکہ پاکستان کی عزت اور وقار بحال ہو چکی جو کہ پچھلے دو ادوار میں ایک مذاق بن چکی تھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مل کے پاکستان کا جھنڈا پوری دنیا میں گاڑا اور مضبوط موقف کے ساتھ ہر اہم فورم پر بھرپور نماٸندگی کی

    آپ کے سی این این کو دٸیے گۓ انٹرویو نے کچھ "ڈیپ پاکٹس” کو چھوڑ کے باقی ساری عوام کو بہت خوش کیا اور یہودی میڈیا کو ایکسپوز کرنے پر سب نے دل کھول کر تاٸید اور تعریف کی

    پی ٹی آٸی کے بہت سے پرانے ارکان جو پارٹی چھوڑ چکے لیکن انہیں ابھی تک پی ٹی آٸی کے بانی رکن کہہ کے خان صاحب پہ تنقید کی جاتی ہے کہ خان صاحب نے پرانے ساتھیوں کے بجاۓ الیکٹیبلز کو فوقیت دی

    میرے خیال میں جو خود کو بانی رکن کہتے ہیں لیکن خان صاحب کو چھوڑ چکے ہیں ان کی کوٸی حیثیت نہیں کیونکہ قریشی صاحب جیسے ساتھی بے شک بانی رکن نہیں لیکن لاثانی رکن ہیں

    تبدیلی کے سفر میں خان صاحب کا ساتھ دینے والے ہی ہمارے لیڈر ہیں اور سر آنکھوں پر ہیں اور شاہ محمود قریشی صاحب اس فہرست میں سب سے اوپر دکھاٸی دیتے ہیں

    ایک اور بات جو شاہ جی کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کا شفاف اور بے داغ سیاسی کیرٸیر- شاہ جی پہ کبھی کوٸی کرپشن کا الزام نہیں لگا اور ان کے کردار کے سب ہمیشہ معترف رہے

    شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ گفتگو اور اس پہ گفتگو کا سٹاٸل سب کو بھاتا ہے
    شاہ جی نے کبھی کسی کی ذات پہ گھٹیا ریمارکس نہیں دٸیے اور ہمیشہ اخلاق کے داٸرے میں رہ کہ اپنا موقف پیش کیا

    میں پی ٹی آٸی کے تمام سپورٹرز کی جانب سے شاہ محمود قریشی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں

    @ch_danishh

  • تمباکو  نوشی کی وجوہات  ونقصانات   تحریر   سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@

  • خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں   تحریر: سیدہ بنت زینب

    خون عطیہ کریں، زندگیاں بچائیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    کیا آپ ایک منٹ کے لیے وقت نکال سکتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے سوچ سکتے ہیں کہ جب آپ اس صورتحال میں ہوں کہ آپ کو کسی ایسی چیز کا انتظار کرنا پڑے جو واقعی، واقعی آپ کے لئے اہم ہے؟ اس واحد چیز کا انتظار کرنا جو آپ کو اس دنیا میں زندہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہو. ایک لمحے کے لیے سوچیں آپ یا آپ کے پیارے ایمرجنسی روم میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ سرجری میں بہت خون بہہ رہا ہے اور آپکو فوراً خون کی ضرورت ہے لیکن خون کی فراہمی کافی نہیں ہے اور آپ کو خون کہیں سے نا مل رہا ہو….!
    ایسی صورتحال سے گزرنا تو دور کی بات ہم ایسا سوچنا میں نہیں چاہیں گے لیکن یہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ نے پہلے ہی اس صورتحال کا تجربہ کر لیا ہو.
    بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر لوگ خون عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کافی اموات ہوتی ہیں مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا معصوم بچوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ بوقت خون کا عطیہ نا ملنے کی صورت میں اپنی زندگی کی بازی ہارتے جا رہے ہیں. شاید اس سب کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں لوگ اس مسلئے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے.
    جب ہم اپنے ننھے بیٹوں اور بیٹیوں کے رخسار کا لمس محسوس کر رہے ہوتے ہیں تب نہ جانے تھیلیسیمیا سینٹرز میں کتنی بے درد سوئیاں بچوں کی کلائیوں میں پیوست کی جا رہی ہوتی ہیں. کتنے ننھے پھول بہار سے پہلے ہی خزاں کی نذر ہو جاتے ہیں.
    اپنے بچپنے کو پیشِ نظر رکھ کے تصور کیجیے تھیلیسیمیا کا شکار ان لاکھوں بچوں کا کہ سانسوں کی ڈور سلامت رکھنے کے لیے جو ہر پندرہ دن بعد خون کے عطیات کی بھیک مانگتے ہیں.
    خون کا یہ عطیہ انکی معصوم آنکھوں کے بجھتے ہوئے خوابوں کو تعبیر دیتا ہے. ان کو دیگر صحتمند ہم عمروں کے ساتھ قدم بقدم چلنے کی توانائی فراہم کرتا ہے.
    ٹیم سرعام پاکستان سید اقرار الحسن کی سربراہی میں ان معصوم بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے تین سال سے اپنی جدوجہد (میرا خون بھی حاضر پاکستان) کا آغاز کیے ہوئے ہے. تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کےچہروں پر زندگی کی خوشیاں بانٹتے ہوئے الحمدللہ ٹیم سرعام پاکستان کے جانباز پورے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں. ایمرجنسی میں خون کا عطیہ دے کر قیمتی جان بچانی ہو یاں تھیلیسیمیا سے لڑتے ننھے پھولوں کو مرجھانے سے بچانا ہو، ٹیم سرعام کے جانباز ہر جگہ اپنے خون کا عطیہ کرنے کے لیے صف اول میں ملتے ہیں. مجھے بتاتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ٹیم سرعام نے پاکستان کے ہر بڑے شہر میں بلڈ کیمپس کا انعقاد کیا تھا کہ کہیں بھی خون کی کمی کی وجہ سے کوئی زندگی نا مرجھائے.
    اقرار بھائی نے ہم جانبازوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ "خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کا خون کسی زندگی کا وسیلہ بن جائے. ‏خون عطیہ کرنا وہ نیکی ہے، جس میں ہم کسی کی جان بچانے کے کام آتے ہیں.” ہماری ٹیم کا ہر جانباز انتہائی شوق اور جذبہ جنون کے ساتھ اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹا ہوا ہے.
    خون کا کوئی نعم البدل نہیں. ہر خون کا عطیہ دینے والا تین معصوم زندگیاں بچاتا ہے. تو آئیں آج ہی یہ عہد کریں انشاء اللہ ہم سب خون کا عطیہ ضرور دیں گے. آپکے خون عطیہ کرنے سے کسی معصوم بچے کے چہرے پر جینے کی جو امید ملے گی، یقین کیجئے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت احساس نہیں ہو سکتا. یہ عہد کر لیں کہ
    "‏خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے”

    @BinteZainab33

  • لبرل اور سیکولر اسلام دشمن !   تحریر: احسن ننکانوی

    لبرل اور سیکولر اسلام دشمن ! تحریر: احسن ننکانوی

    دنیا میں آپ کہیں بھی دیکھ لیں لبرل اور سیکولر ملحد آپ کو مختلف نظر آئیں گے۔
    لیکن ان میں کچھ چیزیں قدرے مشترک بھی ہیں۔
    آپ کہیں بھی دیکھ لیں یہ لوگ نہ تو عیسائیت کے خلاف ہوں گے نہ بدھ ازم کے اور نہ ہی یہودیوں کے نہ ہی ہندو ازم کے۔
    لیکن جب اسلام کا نام آتا ہے تو ان لوگوں کو موت پڑ جاتی ہے۔
    یہ دوسرے مذاہب کے تہواروں کو تو کچھ نہیں بولتا بلکہ ان کو پسند بھی کرتا ہے۔
    لیکن اس کو جمعہ میں لوگوں کے اکٹھے ہونے سے اور عیدوں کے اجتماع سے اک انجانی تکلیف ہوتی ہے ۔
    دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں روزانہ پوری دنیا میں کے-ایف-سی میکڈونلز اور بھی بہت سارے برینڈز جانوروں کا گوشت کرتے ہیں۔
    لیکن جب مسلمان سنت ابراہیمی ادا کرتا ہے تو ان کو جانوروں پر ترس آنا شروع ہو جاتا ہے ۔
    اگر دنیا میں کہیں بھی لوگ اپنے تہواروں ہولی دیوالی پر فضول خرچی کر رہے ہوں ان کو بھری نہیں لگتی لیکن حج پر جانے سے روکتا ہے۔
    کہ اس سے اچھا کسی غریب کو دے دو ۔
    یورپ میں لوگ سال میں لاکھوں ہزاروں کی تعداد میں اپنے پوپ کی زیارت کرنے کے لئے ویٹیکن سٹی کا رخ کرتے ہیں۔
    ہندو لاکھوں کی تعداد میں اپنے سالانہ میلوں میں مختلف مندروں میں شرکت کے لئے پورے بھارت سے اجتماع میں آتے ہیں۔
    اور وہ وہاں پر اکٹھے ہو کر اپنی رسومات ادا کرتے ہیں ۔
    یہودی بدھ ازم سبھی مذاہب مختلف علاقوں سے اپنے سالانہ تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
    مجال ہے کہ ان کے کان پر جوں تک رینگتی ہو ۔
    لیکن جب مسلمان حج کے لئے جمع ہوتے ہیں۔تو ان ہی لبرلز کی چیخیں آسمان تک سنائی دیتی ہیں۔
    جب چرچ کی راہبائیں برقعہ پہنتی ہیں یہودیوں کی عورتیں برقعہ پہنے ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔
    مسلمانوں کی عورتوں کے حجاب پر اس کو کوئی اندرونی دکھ ہوتا ہے ۔
    اور میں نے بہت سارے ایسے لوگوں کی وال پر کافی دفعہ یہ بات بھی پڑھی کے مسجد میں پیسے دینے سے یا مسجد میں کوئی چیز دینے سے بہتر ہے۔
    کہ کسی غریب کی بیٹی کو بیاہ دو تو میں ان کو کہنا چاہتا ہوں۔
    الحمدللہ غریب کو بھی دیتے ہیں اور مسجد میں بھی دیتے ہیں۔تم لوگوں کو یہ دکھ نہیں ہونا چاہیے۔
    یہ ہے سیکولرازم اور الحاد کا اصل دکھ اور ان کا اصل چہرہ۔ ان کی کتابیں، ان کے رسالے، ان کی ویب سائٹس، ان کے فیس بک پیجز ان کے ٹوئٹر اٹھالیں آپ کو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام سے نفرت ملے گی.
    آپ تازہ صورت حال ہی دیکھ لیں بہت سے لوگوں نے عید قرباں پر لوگوں کو بھٹکانے کی کوشش کی ۔
    یہ پیسے کسی غریب کو دے دو
    ایک نے تو یہ بھی پوسٹ کی ہوئی تھی کہ میں ان پیسوں سے اپنے محلے میں ٹھنڈے پانی کا کولر لگواؤں گا ۔
    کیا ان کو اب ہی یاد آتا ہے کولر لگوانا سارا سال کدھر سوئے رہتے ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت ساروں نے تو یہاں تک مخالفت کی کہ جانور کی زندگی کا سوال ہے ۔
    اور ان ہی حضرات کی وال میں پوسٹیں لگی ہوئی تھیں۔
    کہ آج نہاری کھائی کسی نے کڑاہی کھائی تب ان لوگوں کو یاد نہیں آتا ہے کیا کی جانور مر رہے ہیں۔ یا ان کو سنت ابراہیمی پر ہی یاد آتا ہے ۔
    ویسے ایک بات اور بھی بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے لے جا رہے تھے۔
    تو شیطان نے اس وقت بھی روکا تھا ۔
    کیونکہ یہ ملحد اور سیکیولر ز نہیں یہ منافق ہیں اور انتہائی گھٹیا دشمن ہیں اسلام کے

  • ایمانداری کیا ھے ؟  تحریر .ڈاکٹر راہی

    ایمانداری کیا ھے ؟ تحریر .ڈاکٹر راہی

    دنیا کا کوئی قبیلہ دنیا سے الگ نہیں
    اس کائنات کی کی جڑ ایک ہے
    مرکز ایک ہے
    ساری کائنات ہمارا وطن ہے
    اس دنیا میں پائی جانے والی ہر چیز (سارے وسائیل)تمام انسانوں کا مشرکہ ورثہ ہیں
    کوئی بھی زبان مستقل نہیں
    کوئی بھی نظریہ حتمی نہیں
    کوئی بھی تہذیب حرف آخر نہیں
    کوئی بھی گروہ عقل کل نہیں
    کوئی بھی شے کامل نہیں
    تاریخ گواہ ہے ہزاروں بولیاں ماضی کا قصہ ہوگئیں
    ہزاروں رسمیں بدلیں
    خیالات نظریات بدل گئے رہن سہن انداز تقاضے بدلتے گئے
    سوچ کی سمت ہمیشہ روشنی کی طرف ہے
    کوئی بھی سرحد مستقل نہیں رہی
    اس دھرتی پر حکومتیں سرحدیں ہمیشہ بدلتی رہی ہیں
    دریاوں کے رخ بدل رہے ہیں
    کبھی گلیشیرزکے تیزی سے پگھلنے کا خوف ہے تو کبھی اوزون تہہ کے تباہ ہونے کی تشویش
    سمندر کی لہروں بدلتے موسموں زلزلوں خانہ جنگیوں نے انسان کو کبھی ٹکنے ہی نہیں دیا
    بدلتے ہوئےحالات کےساتھ ساتھ ہر مذہب کوبھی نئے تقاضوں کے مطابق تشریح کی ضرورت پیدا ہو رہی ہے
    تو کیوں نا؟
    مل بیٹھ کر آئندہ نسلوں کو تصادم سے بچانے کی کوئی سبیل تلاش کی جائے
    ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اک دوسرے کو سنا جائے
    باہمی احترام کو فروغ دے کر
    مکالمے کے ذریعے مسائیل کا حل نکالا جائے
    نیکی کوئی بھی گناہ گار شخص کر سکتا ہے
    برائی کسی مومن سے بھی ہو سکتی ہے
    ہدائیت پر سب کا برابر کا حق ہے یہ نصیب والوں کو ملتی ہے
    ہدائیت کسی یہودی کو بھی نصیب ہو سکتی ہے کوئی مسلمان گھرانے میں پیدا ہو کر بھی بھٹک سکتا ہے
    ہم نے خوامخواہ کی نفرتوں کی دیواریں بنا رکھی ہیں
    نفرت بڑھنے کی وجہ طبقات کا اک دوسرے کے خلاف سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا ہے
    دنیا میں جتنی بددیانتی اہل قلم کر رہے شاید ہی کوئی دوسرا طبقہ اتنی بد دیانتی کرتا ہو
    اہل قلم نے اپنے اپنے طبقے کی خوشنودی کی خاطر قلم کے ذریعے ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دکھانے کی کوشش کی ہے جس سے وہ راضی ہو
    میں فنکشنل مسلم لیگ سے ہوں مجھے اس پارٹی کے سوا دوسری پارٹیوں کے خلاف بولنے میں آسانی محسوس ہوگی میں سنی ہوں شیعہ فقہہ کی خرابیاں خوب بیان کر سکتا ہوں
    میں ہندوستان میں ہندو ہوکر مسلمانوں کی نیت پر سوال اٹھاوں گا کہ یہ بھارت سے مخلص نہیں
    اور پاکستان میں مسلمان ہو کر ہندووں کی نیت پر شک کروں گا
    پنجاب میں پیدا ہوکر سرائیکیوں کے خلاف سرگوشیاں کروں گا سندھی ہوکر پنجابیوں کو برا بھلا کہوں گا
    ہر علاقے کی فضا الگ ہے
    ہم نے اپنے دماغوں میں بھی ہر طرح کی سوچوں کی لکیریں کھینچ رکھی ہیں
    مفادات کی خاطر ہم حالات سے سمجھوتا کر لیتے ہیں
    جہاں ذاتی مفاد کی بات ہوتی ہےسچائی کو چھوڑ دیتے ہیں
    ساری انسانیت تنہاتنہا ہوکر مر رہی ہے
    ہم پر جو آسمانی آفات آتی ہیں وہ سرحدیں نہیں دیکھتیں رنگ نسل نہیں دیکھتیں
    اکثر دیکھا ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے بڑی بڑی سپر پاورز بے بس دکھائی دیتی ہیں
    انڈیا میں سیلاب آئےیاایران میں زلزلہ امریکہ میں طوفان آئے یا کہیں قحط سالی دنیا کا کوئی بھی ملک تن تنہا کچھ نہیں کر سکتا ترقی کے اس دور میں بھی ہم اپنے آفت زدہ علاقوں سے زندہ لوگوں کو بر وقت بچا نہیں سکتے
    ہمارا جینا مرنا اک دوسرے سےوابسطہ ہے ہم اک دوسرے کی ضرورت اور سہارا ہیں مگر ہم اپنا قیمتی وقت خواہمخواہ کی لڑائیوں میں ضائع کر رہے ہیں
    وسائیل کی برابر تقسیم اور اور اک دوسرے کےوجود کو تسلیم کئیے بغیر کوئی بھی مسلہ حل نہیں ہو سکتا
    سارا پاکستان ہندووں سے پاک نہیں ہو سکتا
    سارا بھارت ہندووں پر مشتمل نہیں ہوسکتا
    یہودی فلسطین میں بھی جی رہے ہیں مسلمان اسرائیل میں بھی ہیں
    دنیا کے امن کے لئیے لازم ہے کہ دوسرے طبقے کی برائی دیکھ کر اس کی اچھائیوں یانیکیوں اور خدمات کو نظر انداز نہ کیا جائے
    سنی سنائی باتوں پر رائے قائم نہ کی جائے
    مخالفت برائے مخالفت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا
    ہم سچ صرف محدودلوگوں کے متعلق لکھتے ہیں
    کوشش کر کے کبھی اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کیا جائے
    جس دن ہم نے ایمانداری سے چیزوں کو پرکھنا اور ان کے متعلق ایمانداری سے لکھنا اور سوچنا شروع کیا
    وہ کوشش پر امن دنیا کی منزل طے کرنے کے لئیے کسی عبادت سے کم نہیں ۔
    Doctor Rahii

  • مضبوط رشتے  تحریر:  ڈاکٹر زونیرا

    مضبوط رشتے تحریر: ڈاکٹر زونیرا

    انسان کی زندگی میں خوشی کا دارو مدار زیادہ تر اس کے رشتوں کی کوالٹی پہ ہوتا ہے۔ آپ کتنے بھی کامیاب ہوجائیں، کتنے بڑے عہدے پر چلے جائیں، کتنی دولت کما لیں لیکن جب تک آپ کے رشتے مضبوطی سے قائم نہیں ہوں گے، اپ دیرپا خوشی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان سماجی حیوان ہے، اسے ہر حال میں لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان کے رشتے مضبوط ہوں اور وہ رشتوں کے ساتھ مخلص ہو تو وہ دولت کے بغیر بھی خوش نظر آئے گا۔
    ابراہم ماسلو (Abraham Maslow) ایک سائیکالوجسٹ گزرے ہیں۔ ان کی تھیوری کے مطابق انسان کی بنیادی ضروریات کے بعد اس کی دوستی اور رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کو انسان کی ضرورت کہا ہے۔
    رشتوں کو سمجھنا اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے ڈیل کرنا بھی ایک فن ہوتا ہے۔ رسمی تعلیم میں یہ چیز نہیں سکھائی جاتی۔ اس لئے جس کو جتنا سمجھ میں آتا ہے ویسا ہی نظریہ بنا لیتا ہے اور اس کے مطابق چلنے لگتا ہے۔ رشتوں میں پائیداری اور مضبوطی لانے کے لئے بہت سی چیزیں ہیں لیکن یہاں کچھ چیزوں کا ذکر کرتے ہیں۔
    سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ سب انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سب کی ذہانت، پسند ناپسند، مقاصد، سوچ اور طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ جب آپ یہ چیز سمجھ لیں گے کہ ہر کوئی آپ سے مختلف ہے تو آپ اپنی پسند اور نا پسند کو سختی سے نافذ کرنے سے رک جائیں گے۔ آپ کو پتہ ہوگا کہ آپ کی پسند یا ناپسند اگلے بندے کی پسند یا ناپسند نہیں ۔ ایسا انسان اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے گا کہ اگلے بندے کو بھی پسند ہے یا نہیں۔ وہ ہر جگہ اپنی مرضی مسلط کرنے سے باز رہے گا۔ مثلا بچوں کو کس اسکول میں پڑھانا ہے، عید کی شاپنگ کب کرنی ہے، گھر میں فرنیچر کونسا ہونا چاہیے، وغیرہ۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیں اگر کوئی شخص ہر دفعہ اپنی مرضی کا کھانا اپنی بیوی سے بنواتا ہے، تو اس کو اپنا پسندیدہ کھانا تو ملے گا لیکن یہ ممکن ہے کہ اس کے رشتوں میں وہ مضبوطی نہ آئے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی کی مرضی کا کھانا باہر سے لے آئے گا۔ اپنی پسند کو چھوڑ کے اس کی پسند کو سامنے رکھے گا۔ تو ممکن ہے کہ اس کی بیوی دوسرے دن اس کی پسند کا کھانا بنایے اور اس کے رشتوں میں بھی کافی مضبوطی آ جائے۔ عورت کو تو ویسے بھی پیار دیا جائے تو وہ دگنا کرکے لوٹاتی ہے۔ یہ صرف ایک کھانے کی مثال تھی۔ اسی طرح آپ اپنے دوستوں میں، بہن بھائیوں میں اور والدین سے ان کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھیں گے تو اس سے رشتوں میں مضبوطی آئے گی۔ سائیکالوجی میں جب سے individual differences کا تصور آیا ہے۔ تب سے انسان کو پرکھنے کا نظریہ بھی بدلا ہے۔ انسانوں میں فرق مختلف پہلو میں ہوتا ہے۔ مثلا ان کی پرسنلٹی میں، ان کے سیکھنے کے انداز اور رفتار میں، جیسے کچھ لوگ پڑھ کے اچھے سے سمجھتے ہیں، کچھ لوگ سننے سے سمجھتے ہیں، کچھ لوگ دیکھنے سے سمجھتے ہیں، اور کچھ لوگ کام کرکے اچھے سے سمجھتے ہیں، اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور ان کو کنٹرول کرنے ( emotional intelligence )میں بھی لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں آپ کو پتہ ہوں گی تو آپ کو دوسروں کی رائے پے غصہ بھی نہیں آئے گا۔
    دوسری اہم بات کہ اپنے رشتوں میں مخلص رہیں۔ ان کو کبھی دھوکا نہ دیں۔ آپ جیسے ہیں ویسے ہی ان سے برتاؤ کریں۔ اپنے رشتوں کو بچانے کے لیے نقاب کا سہارا نہ لیں۔ یہ ایک ایسا راز ہے جسے اکثر لوگ نہیں جانتے مگر اس سے رشتوں میں بے پناہ مضبوطی اتی ہے۔ اگر آپ اپنے اردگرد غور کریں تو جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، تو آپ ان کی باتوں اور ان کی حرکتوں سے اندازہ لگا لیتے ہیں۔ اور جو لوگ آپ کے ساتھ مخلص ہیں ان کا بھی آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انسان کی باتوں کے علاوہ انسان کا رویہ اس کے چہرے کے تاثرات (facial expressions)، اس کا باڈی لینگویج بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ کمیونیکیشن کی فیلڈ میں بتایا جاتا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ ہم اپنے لہجے اور باڈی لینگویج سے رابطہ کرتے ہیں۔ اگر آپ اندر سے سچے ہوں گے تو آپ کا باڈی لینگویج بھی ویسا ہی اظہار کرے گا۔ آپ کی آنکھوں سے سچائی جھلک رہی ہوگی، آپ کی مسکراہٹ میں بھی معصومیت اور خوبصورتی ہوگی، آپ کی باتوں سے پھول جھڑیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اندر سے ایک دفعہ مخلص ہوں۔ یہ خوبی ہر رشتے کے لئے لازمی ہے چاہے وہ میاں بیوی کا رشتہ ہو، چاہے وہ استاد شاگرد کا ہو، چاہے ڈاکٹر مریض کا ہو، چاہے گاہک اور دکاندار کا ہو۔ جب آپ اندر سے مخلص ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ آپ نے کبھی نوٹ کیا ہوگا کہ کچھ دکانداروں سے آپ کو کشش ہو جاتی ہے، کئی دفعہ تو 2 یا 3 گلیاں چھوڑ کے آپ اسی دوکان دار کے پاس جاتے ہیں، جبکہ اس دکاندار سے نزدیک بھی کئی دکانیں ہوتی ہیں، اور ایک ہی ریٹ پر وہ سیل کرتے ہیں لیکن پھر بھی آپ اسی دکاندار کے پاس جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے آپ کا دل جیت لیا ہوتا ہے۔ کسی بھی رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے دل جیتنا ضروری ہے۔
    مسئلہ یہ ہے کہ جو رشتے ہمارے پاس ہوتے ہیں ہمیں ان سے ڈیل کرنے کا ہنر نہیں آتا۔ ہم ان کو کھو دیتے ہیں اور پھر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے باہر کی طرف بھاگتے ہیں۔ اور غیروں میں رشتوں کو تلاش کرتے ہیں۔ یہاں سے نئے مسائل کا آغاز ہوتا ہے۔
    اگر آپ کی زندگی میں بھی خوشی ختم ہوگی ہے تو غور کیجئے کہ آپ کے رشتے کتنے مضبوط ہیں۔ زیادہ امکان یہی ہوگا کہ خوشی ختم ہو جانے کی وجہ رشتوں کی کمزوری ہے۔ ایسے میں ایک ایکٹیوٹی کیجیے۔ اپنی رشتوں کی پسند اور ناپسند کا انتخاب کیجیے۔ جو جو ان کو پسند ہے وہ کام کیجئے ان کے لیے وہ چیزیں خرید کر دیجئے۔ یقین کریں اس سے جو خوشی اور جو سکون آپ کو ملے گا وہ اپنی پسند کی چیزیں خریدنے سے نہیں ہوگا۔ اور سب سے بڑی بات کہ رشتے بھی مضبوط ہونے لگیں گے۔ ہر کام کو کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ پہلے ایک فہرست بنائیں جس میں لکھیں کہ کن کن رشتوں کو اپ نے مضبوط کرنا ہے۔ پھر ہر رشتے کے آگے اس کی پسند نا پسند لکھئے۔ اور پھر ان کو پورا کرنا شروع کیجئے۔ شاید آپ کی لسٹ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جن پر آپ کا کوئی اثر نہ ہوتا ہو۔ ایسے لوگوں پر آپ لاکھ کوشش کر لیں وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان کو اثر ہو نہ ہو لیکن آپ کے اندر ایک سکون کی کیفیت آئے گی۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
    ” جو پتھر پہ پانی پڑے متصل
    تو بے شبہ گھس جائے گی پتھر کی سل”
    "یعنی ایک پتھر پے اگر پانی لگاتار پڑتا رہے گا تو وہ پتھر کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔”
    آپ بھی کوشش جاری رکھیں، امید کا دامن نہ چھوڑئیے، ایک امید ہی تو ہوتی ہے جو زندگی میں زندگی بھر دیتی ہے، ورنہ مایوسی تو کفر کے زمرے میں آ جاتی ہے، ایک امید ہی ہے جو آپ کو صبح صبح تازگی کے ساتھ دن کا آغاز کرواتی ہے۔ مجھے بھی امید ہے کہ اپ اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مخلص ہو کے رشتوں کی پسند کا خیال رکھیں گے، اس کے بعد بھی کچھ ٹیکنیکس بتاتا رہوں گا لیکن اس ایک ایکٹیوٹی پر عمل کریں، اس سے ہی آپ کے رشتوں میں کافی بدلاؤ نظر آئے گا .

  • عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر:  واجد علی

    عزتیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر: واجد علی

    شائد ہی کوئی لڑکی ہو جس کو گلی، محلے، بازار یا سکول کالج جاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ یا کم از کم کھا جانے والی اوباش نظروں کا سامنا نا کرنا پڑا ہو اور اگر زرا خود کو اس 10 بارہ سال کی لڑکی کا سوچیں اس کے معصوم ذہن میں کتنا ڈر بیٹھ جاتا ہے کتنا سہم جاتی ہو گی اور اسکو تنگ کرنے والا بھی تو انسان ہے اسکے گھر پر بھی تو ماں بہنیں ہوں گی

    لیکن یہ احساس لوگوں میں نہیں پایا جاتا افسوس کے ساتھ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بنیادی طور پر تربیت ہی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ انہیں اس معاملے میں تمیز نہیں سیکھائی جاتی بازاروں گلیوں اور سڑکوں پر جانے والی خواتین کو ایسے نازیبا الفاظ سننے کو ملتے ہیں جس سے وہ ذہنی طور پر خوف کا شکار ہوجاتی ہیں

    اور اجکل تو سوشل میڈیا پر بھی خواتین کو شکار بنانے کی کوشش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے خواتین کو گلیوں اور بازاروں، دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ غرض ہرجگہ ہراساں کیے جانے کا سامنا بڑھتا ہی چلا جارہا ہے یہ عمل پاکستان میں کئی سالوں سے جاری ہے عورتوں کے تحفظ کی کئی تنظمیں بن چکی مگر وہ بھی اس میں کمی نا لا سکے

    بلکہ ہمارے معاشرے میں چھیڑ چھاڑ یا انہیں ہراساں کرنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر جس طرح ہر ایک آدمی اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو اہم سمجھتا ہے اسی طرح دوسری خواتین کے احترام کو بھی لازمی سمجھے ۔۔

    کچھ خواتین خوف کا شکار ذیادہ ہوتی ہیں اس وجہ سے شکایات نہیں کر پاتی اور اگر کوئی خاتون کسی مرد کے خلاف شکایت کرے تو اسے بدکردار سمجھا جاتا ہے افسوس ۔۔۔

    آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں اور عورتوں سے ذیادتی بہت عام ہو چکی ھے ہر ایک روز ایک نا ایک بچی یا عورت ذیادتی کا نشانہ بنتی ھے اور دو تین دن نیوز چینل پر بریکنگ چلتی ھے اس کے بعد نیوز چینل بھی خاموش ہو جاتی ھے کیا ہم نے پھر کبھی اس مظلوم عورت یا وہ بچی جو زیادتی کا شکار ہوٸی ہم نے کبھی اس سے پوچھا ھے؟ کیا ہم نے اسے انصاف دیا ھے گزشتہ کٸی ماہ پہلے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس ہوا کہ ذیاتی کرنے والے ملزم کو نامرد بناٸنگے کیا اس قانون پر عمل ہوا ھے؟ ذیادتی کرنا زنا کے زمرے میں آتا ھے اور اسلام مزہب میں زنا گناہ کبیرہ ھے بلکہ حرام ھے اس کا سزا یہ ھے کہ اسے سنگسار کیا جاۓ لیکن افسوس پاکستان میں اب تک کوٸی ایسی قانون نافز نہیں ہوا جو مظلوم کو انصاف اور ظالم کو سزا دی جاۓ یہاں امیر کےلٸے الگ قانون اور غریب کےلٸے الگ قانون چلتا ھے اگر مظلوم امیر گھرانے کا ہو تو عدالت اس کے حق میں فیصلہ کرتا ھے اور اگر غریب ہو تو تاریخ پہ تاریخ
    کیا غریب صرف عدالتوں کے چکر کاٹینگے یا انصاف بھی ملے گا

    لیکن یہ ختم کیسے ہوگا ؟؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی شروعات ہم کرینگے؟؟ کیا کبھی آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت انہیں ہر اچھے برے عمل کی تمیز سیکھائے گے تاکہ معاشرے سے ان سب کی روک تھام کی جا سکے ۔۔۔

    تحریر : واجد علی
    @Munna_Wajji (twitter)

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم)  تحریر:  رانا بشارت محمود:

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم) تحریر: رانا بشارت محمود:

    امید ہے آپ نے اِس سلسلے کی پہلے شائع ہونے والی دو اقساط ضرور پڑھی ہوں گی، جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری نوجوان نسل کی زندگیوں پہ پڑنے والے اثرات کے بارے میں تھی۔ تو چونکہ یہ بھی اُسی سلسلے کی تیسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ریڈیو، کیمرے، ٹیپ رکارڈر و کیسٹ، وی سی آر، چراغ، موم بتی، لال ٹین و ٹارچ لائیٹیں اور وقت دیکھنے کے لیے ہاتھ پہ باندھی جانے والی گھڑیوں سمیت سب کچھ گُم سا ہو کے رہ گیا ہے۔

    تو اِس سے پہلے شائع ہونے والی پہلی دو اقساط میں بھی موجودہ دور میں اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن اثرات کا ذکر کیا گیا تھا، اُن کے ساتھ ساتھ یہ جدیدیت بھی آگئی ہے کہ جو پہلے ہماری استعمال کی جانے والی بہت سی چیزیں تھیں، جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یا تو پہ سب تقریباً ختم ہی ہو گئی ہیں یا پھر اگر کچھ موجود ہیں بھی تو وہ صرف اس وجہ سے کہ ان میں جدیدیت لائی گئی ہے۔

    عام طور پہ دیہاتوں اور قصبوں میں شام ہونے کے بعد (چوپال، دارا، ڈیرہ یا حویلی کے نام سے مشہور جگہیں) جہاں بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ پھر ان کا آپس میں حالاتِ حاضرہ پہ گفتگو کرنا، جس کے ساتھ ساتھ ہُکا بھی پیا جاتا تھا اور ریڈیو پہ خبریں اور طرح طرح کے پروگرام بھی سُنے جاتے تھے۔ یہاں تک کے اگر پچیس تیس سال پہلے کے دور کو دیکھیں تو بڑے شہروں میں بھی کئی جگہ پر یہی طریقہ عام ہوا کرتا تھا۔ اور ریڈیو پہ خبریں اور پروگرام سننے کے بہانے سب کا اکٹھے ہو کر مِل بیٹھ جانا بھی ایک دل کو موہ لینے والا منظر پیش کر رہا ہوتا تھا۔

    اور پھر تصویریں بنانے یا بنوانے کے لیے استعمال کئے جانے والے مختلف کمپنیوں کے کیمرے جو کہ تب بہت کم لوگوں کے پاس ہوا کرتے تھے اور پھر تصویریں بنوانے کی غرض سے دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والوں کا ( جن کے قریب یہ سہولت موجود نہیں ہوتی تھی) اپنے نزدیکی شہروں میں موجود فوٹو سٹوڈیوز میں جانے والا بھی ایک سہانا دور ہوا کرتا تھا۔

    پھر اسی طرح سے اپنی یا کسی کی آواز کو ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا استعمال کرنا بھی ایک انوکھا تجربہ ہوا کرتا تھا جن میں کیسٹ ڈالی جاتی تھی، اس کے بعد وی سی آر جو اُس وقت فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے لیے سب سے جدید ٹیکنالوجی مانی جاتی تھی۔ ان کا استعمال بھی ایک شاندار تجربہ ہوتا تھا۔

    اِس کے بعد اب آگے چلیے تو آپ کو بتلاؤں کہ اگر ہم زیادہ نہیں تو صرف تین عشرے ہی پیچھے چلے جائیں تو تب تک پنجاب کے بھی بہت سارے علاقوں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی، تو وہاں کے طلباء پھر اپنا سبق پڑھنے کے لیے یا پھر گھر والے روشنی حاصل کرنے کی غرض سے رات کے وقت موم بتی، چراغ یا لال ٹین اور پھر بجلی کی سہولت آ جانے کے بعد تک بھی ٹارچ لائٹیں استعمال کیا کرتے تھے۔ (البتہ! اس اکیسویں صدی میں بھی جنوبی پنجاب کے کئی علاقے، اندرونِ سندھ کے بھی بہت سے علاقے، پختونخواہ کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں تو اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچائی جا سکی ہے)۔

    اور پھر اُس کے بعد تب وقت دیکھنے کی خاطر مختلف اقسام کی گھڑیوں کا بھی کلائیوں پہ باندھنے کا ایک شاندار دور ہوا کرتا تھا۔ اور اُس دور میں جس کے پاس گھڑی ہوتی تھی تو اُس کی بھی اپنے حلقہ احباب میں بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی، کیونکہ دوسروں کو اُس سے وقت جو پوچھنا پڑتا تھا۔ (البتہ! ابھی بھی گھڑی پہننے کا بہت رواج ہے لیکن اب یہ صرف فیشن کی حد تک ہی رہ گیا ہے اور وقت دیکھنا غرض بالکل بھی نہیں رہا)۔

    اور اب اگر اِس کا دوسرا رُخ دیکھا جائے تو اِن سب مندرجہ بالا چیزوں کو تیار کرنے والی کمپنیاں، پھر اِن کو بیچنے والے دوکاندار اور پھر اِن کے خراب ہو جانے پہ تصلیح کرنے والے مکینک تک تقریباً سب کے سب لوگ بے روزگار بھی ہوئے ہیں۔

    اور اس سب کے پیچھے صرف اور صرف ایک یہ ہی وجہ ہے، اور یہ کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد یہ سب کچھ اب پرانے وقتوں کی طرح ماضی کا حصہ ہی بن کے رہ گیا ہے۔ اور زیادہ تر یہ سبھی چیزیں اب صرف فلموں، ڈراموں، کہانیوں اور تصویروں تک ہی رہ گئی ہیں، اور وہ بھی جن میں پرانے دور کا دِکھانا مقصود ہو اُن میں یہ چیزیں آثارِ قدیمہ کی صورت میں دکھائی جاتی ہیں۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو کیونکہ اب اِس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں اِن سب چیزوں کی بالکل بھی ضرورت نہیں رہی، لیکن اگر ہمارے پاس ان میں سے کچھ چیزیں موجود ہیں تو اُن سب چیزوں کو اپنا قیمتی ورثہ جانتے ہوئے انہیں سنبھال کے حفاظت کے ساتھ رکھیں۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ہماری اُن پرانے وقتوں کی چیزوں کو دیکھ اور پرکھ سکیں ناکہ وہ یہ سب صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھ کر حیران ہوا کریں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name:
    Rana Basharat Mahmood – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی

    ہم مدارس کے خیرخواہ ہیں تحریر: حفیظ الرحمن قلندرانی

    السلام علیکم
    آج قائد جمعیت کی ایک پرانی تقریر حکمرانوں کی منافقت کے بارے میں سنی تو سوچا اس موضوع پر کچھ لکھ لوں
    امید ہے آپ دوستوں کو یہ پوسٹ اچھا لگے گا

    دوستوں آپ کو معلوم ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے افسوس کا اظھار کیا تھا
    اور فرمایا تھا میں چاہتا ہوں کہ مدارس سے بھی ڈاکٹر اور انجنیئر نکلیں
    انھوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے بھت دکھ ہوتا ہے کہ مدارس کے طلباء ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے؟؟؟
    تو میں کہنا چاہتا ہوں خان صاحب مدارس کو چھوڑو اور جو ادارے آپ کے ماتحت ہیں ان سے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا کرو
    خان صاحب آپ کے ماتحت چلنے والے اسکول کالجز اور یونیورسٹیز میں کونسے ڈاکٹر اور انجنیئر پیدا ہوئے ہیں کبھی ان کو بھی بیان کیا کریں
    ان بیچاروں کے لئے بھی دکھ کا اظھار کریں جو ڈاکٹر اور انجنیئر بننے کے لئے اپنے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر اور انجنیئر نہیں بنتے
    اور جو بات ہے مدارس کے طلباء کی وہ الحمد للہ عالم اور حافظ بننے کے ارادے سے آتے ہیں عالم اور حافظ ہی بنتے ہیں
    ان کا خاص جو کام ہے بقول آپ لوگوں کے مردے نہلانا الحمد للہ انھوں نے اس میں بھی اتنی مہارت حاصل کی ہوتی ہے کہ مدرسے کا ناکارہ ترین طالبعلم بھی مردے کو نہلا لیتا ہے
    اور عوام کو کوئی بھی مسئلا درپیش ہو وہ ان کے اس مسئلے کو شرعی طریقے سے بھترین طریقے سے بیان کرتے ہیں
    اور جب حافظ قرآن کی ضرورت ہو رمضان میں ہر مسجد میں قرآن سنانے والے مدارس کے ہی حفاظ ہوتے ہیں
    ہر مسجد کا امام و خطیب مدرسے کا فارغ ہوتا ہے اور الحمد للہ یہ نا ممکن بات ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس مدرسے یا وفاق المدارس کا جعلی سند ہو
    اور جو اسکول کالج یونیورسٹیز کی بات ہے جو ہمیشہ حکمرانوں کے ماتحت رہے ہیں
    ان میں آپ نے آج تک کیا کیا ہے ذرا میں اس کی وضاحت کردوں
    ہمارے ملک میں جب کوئی منصوبہ بنانا ہو مثلا روڈ بن رہے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں وہاں کام کرنے والا اور اس کام کا ٹھیکہ لینے والے چین کے انجنیئرز ہیں اب یہاں پوچھنے کی بات یہ ہیکہ ہمارے انجنیئرز کہاں ہیں
    جو ہمیں چین کے انجنیئرز کی ضرورت پڑی
    اور جب خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوتا ہے ہم اس کی تحقیقات کے لئے فرانس سے تحقیقاتی ٹیم بلاتے ہیں ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پڑہے لکھے کہاں گئے
    اور تو اور کچھ دن پہلے ایک خبر چلی یورپ نے پاکستانی جہازوں کی پرواز پر پابندی لگائی اس وجہ سے کہ ہمارے پائلیٹز کی ڈگریاں جعلی تھیں آپ کے سیاستدانوں کی ڈگریاں بھی جعلی ہیں آپ کے اسکولوں میں پڑہانے والے ماسٹرز کو پڑہنا نہیں آتا میں آپ کو آپ کے اپنے ہی اداروں کی کتنی خامیاں بیان کروں جناب
    بس ہم آپ کو اتنا کہنا چاہتے ہیں آپ ایسی باتیں کر کے مدارس کے طلباء اور عام عوام کے ذھن میں مدارس کے بارے میں تشویش میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ اس ملک میں کس مقصد سے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں
    الحمد للہ ہمارے اکابرین نے آپ جیسوں کی چالوں سے بچنے کے لئے ہماری خوب اصلاح کی ہے
    اور آپ وہی کام کریں جو آپ کے ماتحت ہیں آپ ہماری فکر نہ کریں کہ ہم کیوں ڈاکٹر اور انجنیئر کیوں نہیں بنتے اور خدا کے واسطے ہماری اصلاح کرنے کی بھی کوشش نہ کریں
    انشاءاللہ جب میں عالم بن گیا میں خود آپ کی اصلاح کرنے کی کوشش کروں گا
    اور جیسا کہ قائد جمعیت نے فرمایا تھا مدارس بنتے ہی آپ جیسوں کی اصلاح کرنے کے لئے ہیں
    تو انشاءاللہ ہمارے مدارس آپ کو یہ ثابت بھی کر کے دکھائیں گے
    اور الحمد للہ ہمیشہ ثابت بھی کیا ہے
    #دینی_مدارس_زندہ_باد
    #پاکستان_پائندہ_باد
    آپ کی دعائوں کا طلبگار

  • عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی    تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    عورتوں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی قانون کی گمشدگی تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    جب ریاست کا وجود بھی نہ تھا تب بھی شاید ایسا ہوا ہوگا جیسے اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے کون کہے گا کہ یہ انہی لوگوں کا دیس ہے جو عورتوں کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنے آپ کو قربان کر دیتے تھے. اب یہ دھرتی عورتوں کے لئے جہنم بنا دی گئی ہے. جہاں پر عورت کا غیرت کے نام پر قتل, اجتماعی زیادتی, جنسی اور جسمانی تشدد, ان کو پیسوں کے عوض بیچنا, جرگوں میں انکی عزت کی قیمت لگانا عام بن چکا ہے. یہ واقعات اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگے ہیں کہ لوگوں میں اس کی حساسیت ہی ختم ہوگئی ہے. عورتوں کے قتل اور تشدد کے حوالے سے اس حد تک بے حسی بڑھ گئی ہے کہ اب لوگوں کے رونگٹے بھی کھڑے نہیں ہوتے. اب تو یہ ان کے لئے جیسے معمول کی کوئی خبر ہو کچھ دنوں سے عورتوں پر تشدد اور قتل کے حوالے سے غیر معمولی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں پر وہ خبریں اس ملک کی عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندوں کی آنکھوں کو بھگا بھی نہ سکیں. مدیجی میں ملزم نے اپنی بیوی, دو بیٹیوں سمیت اپنی چاچی گولیاں مار کر قتل کر دیا کچھ دن پہلے حیدرآباد میں قرت العین کو شوہر نے تشدد کر کے مار ڈالا, ٹنڈو جام میں عورت کو زندہ جلا کر قتل کردیا یے تو وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں کئی ایسے واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے.

    پاکستان میں قانون پر عملدرآمد تو دور کی بات ہے اس کی موجودگی کو بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا. عورتوں پر ظلم اور تشدد کے خلاف قانون انکا سہارا نہیں بن سکا. لوگوں کے دلوں میں سے قانون کا ڈر ہی نکل گیا انسانی حقوق تو دور کی بات ہے. پاکستان کی آدھی آبادی کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا. ہمارے حکمران خود کو دنیا میں لبرل اور روشن خیال گنوانے کے لئے عورتوں کے حقوق کے لئے قانون سازی تو کرتے ہیں پر اس قانون پر عمل ہو نہیں پاتا. پاکستان کے حکمرانوں کی ادا ہی نرالی ہے ہر بات پر نوٹس لینا انکا مرغوب مشغلہ ہے معاملہ شاید ہی اس سے آگے بڑھا ہو بہت کم دیکھنے کو ملا ہے. دراصل پاکستان میں عورتوں کے خلاف ظلم اور بربریت کا گولا جس گائے کے سینگ پر رکھا ہوا ہے انکا نام ہے جرگائی بھوتار. انکی رسائی اقتدار اور اختیار کے ایوانوں تک ہے. انہوں نے انصاف کے نام پر ناانصافی کا نظام قائم کیا ہوا ہے. جہاں پر یہ عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف سزا دلواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرواتے ہیں وہ جرگہ کرواتے ہیں جہاں پر عورت کے سر کی قیمت اور عصمت دری کی قیمت مقرر کردی جاتی ہے. عورت کے قتل کے فتوے جاری کردیے جاتے ہیں. مظلوم عورتوں کی چیخیں ان ناانصافیوں کے خلاف حکمرانوں کی اناوں کی دیواروں تک بھی نہیں پہنچ پاتی.

    پاکستان میں عورتوں پر بڑھتے ظلم, جنسی اور جسمانی تشدد اور انکے قتل کے واقعات میں اضافہ پر حکمرانوں کا پریشان نہ ہونا بھی بڑی پریشانی کی بات ہے. پاکستان میں عورتوں پر تشدد بند کروایا جائے ریاستی قانون کو فعال کیا جائے اور عورتوں کے قتل کے کیسز کو جلد از جلد میرٹ پر فیصلا دے کر ملزمان کو سزا دے کر مظلوم عورتوں کو انصاف مہیا کیا جائے.

    @Nadir0fficial