Baaghi TV

Category: بلاگ

  • منفی خیالات سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ تحریر:   مریم صدیقہ

    منفی خیالات سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟ تحریر: مریم صدیقہ

    منفی تجربات اور درد ناک یادیں انسان کی خود اعتمادی کو مجروح ، زندگی سے خوفزدہ اور اس کے ذائقہ سے محروم رکھتی ہیں۔ آپ دردناک یادوں کو اپنی زندگی کے تجربے کا ایک اہم حصہ کیسے بنا سکتے ہیں؟
    جیسا کہ آپ اور باس کے درمیان ایک ناخوشگوار گفتگو جو آپ سارا دن بلکہ بعض دفعہ پورا ہفتہ اسی کو سوچنے میں گزار دیتے ہے جس سےشدید ذہنی دباو کا شکار بھی ہو سکتے ہیں جبکہ اس کے برعکس آپ اس وقت اپنے دل کی ساری باتیں اگر سب کے سامنے کر دیتے یا اگر غلطی پہ تھے بھی تو اس کے لیے معذرت کر لیتے توبہتر نتائج ہو سکتے تھے۔ اکثر و بیشتر ، اعتماد میں کمی کے باعث انسان یہ سھاد نے میں ناکام رہتا ہے کہ اس کی سوچ مثبت تھی اور وہ کچھ غلط نہیں کرنا چاہتاتھا پراسے سمجھانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس سب سے لوگ ذہنی طور پر بچپن میں واپس چلے جاتے ہیں ، جس وقت اس کے دوست جارحانہ الفاظ سے پکارتے اور وہ ان سب سے خود کو بہت الگ اور تنہا محسوس کرتاتھا۔ یا جب آپ وہ پیاروں کے ساتھ گزارا ہوا تکلیف دہ وقت یاد کرتا ،اور خود کو منفی سوچوں سےاس کامورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ہر ایک کوزندگی میں کم از کم ایک بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ، اگر ہم ان واقعات کو زیادہ عرصہ تک یاد رکھیں تو ہماری زندگی مستقل منفی بن سکتی ہے۔
    منفی سوچ کا ذہنی صحت اثر:
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہم جتنا زیادہ وقت گہری منفی سوچ میں ہوں گے ، اتنا ہی زیادہ ہم ڈپریشن کا شکار ہوتےجایں گے۔کیوں کہ منفی سوچ ایک عادت بن جاتی ہے جسے گزرتے لمحوں کے ساتھ تبدیل کرنا بہت مشکل ہے اور یہاں تک کہ اگر ہم صورت حال کو تعمیری انداز سے دیکھنا چاہیں تو بھی ہم یہ نہیں کر سکتے۔ ذہنی پریشاناں، بے چینی کو بڑھاتی اور دیگر عوارض کا باعث بھی بنتی ہیں،جو ہماری زندگیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ہم اپنی ہی کمزوری کے غلط احساس سے مغلوب ہو جاتے، اور ان چیزوں میں راحت تلاش کرنے لگتے ہیں جو ہمیں اپنے تجربات سے دوسری طرف لے جاتی ہیں مثال کے طور پر ، زیادہ کھانے یا کمپیوٹر گیمز میں۔
    اسے کیسے روکا جائے:
    اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنا شروع کریں۔ یہ نا صرف پہلی نظر میں آسان لگتا ہے بلکہ نتائج بھی آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔یہ جاننے کے لئے یہ پتہ ہونا ضروری ہے کہ آپ کب سے تباہ کن یادوں میں گم ہیں۔ اور پہلا قدم اس سے لڑنے کے لیے ہے کہ آپ جان لیں کہ یہ سب آپ کے اپنے اندر کا ڈرامہ ہے جس کے پروڈیوسر سے لے کر اداکار تک، سب کردار آپ کو ہی نبھانے ہیں۔اور جس تیزی سے آپ یہ کام کریں گے ، اتنا ہی اپنی توجہ کو کسی مثبت سوچ کی طرف موڑنا آسان ہوگا۔
    اس عنوان کے بارے میں مختلف زاویہ سے سوچئے اور اپنے آپ سے ایک سوال پوچھیں –منفی سوچ آپ کے حالیہ واقعات کو کس طرح متاثر کررہی ہے؟ ہم اکثر خود سے بہت زیادہ تنقید یا متعصبانہ سلوک کرتے ہیں۔ شاید آپ اب اچھے کام کر رہے ہیں ، مگر ماضی آپ کے تخیل کا صرف ایک سایہ ہے۔ اگر حالات نے کسی طرح سے آپ کی زندگی کو تبدیل کیاہے تو اس کے بارے میں سوچیں کہ اب آپ ایسا کیا تبدیل کر سکتے ہیں جس سے آپ کو بہتر محسوس ہو؟ اپنے ماضی کے لوگوں سے ملیں اوربات کریں، ضرورت پڑے تو اپنے خدشات کا بھی تذکرہ کریں۔ اس بات کو قطع ہی نظر انداز کر کے کہ آپ کی گفتگو کس موڑ پہ جا رہی یقینا اس فیصلہ کن اقدام سےآپ کو،ماضی کو ماضی میں ہی چھوڑنے میں خاصی مدد ملے گی۔ اگر کسی وجہ سے ملنا ناممکن ہے تو ، بات چیت کرنے والے کا کردار ایک ماہر نفسیات کے ذریعہ لیا جاسکتا ہے ، جس کے ساتھ آپ واقعات کو مختلف زاویے سے دیکھ سکتے ہیں۔
    دن بھر کے تمام حالات و اقعات کو سمجھنے کے لیے انسانی دماغ کو کچھ وقت درکار ہوتا ہے تواگر بیس منٹ بھی صرف خود کو دیں اور اس میں بس ان واقعات کا سوچیں جس سے آپ کو کسی بھی ایک لمحے میں خوشی محسوس ہوئی ہوتو یقینایہ ذہنی اذیت سے نجات دلانے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اور جب آپ یہ کام کرلیں ، تو خود سے وعدہ کریں کہ آپ بعد میں اپنے تکلیف دہ لمحوں کے بارے میں پھر سوچیں گے۔یہ احساس کہ آپ کو تکلیف دہ موضوع پر واپس آنے کا موقع ملے گا لاشعوری طور پر آپ کو اس سے دور ہونے میں مدد دے گا۔ اور ان لمحوں کی بدولت ، آپ بہتر ہوتی صورتحال کو دیکھ پائیں گے۔جیسے ہی ہم کسی چیز کے بارے میں اپنے آپ کو سوچنے سے روکنا شروع کرتے ہیں تو ذہن فورا ہی مخالف نتیجے کی طرف لے جاتا ہے۔ لاشعوری طور پر اندرونی مزاحمت آپ کو اذیت سے بھرپور یادوں میں واپس جانے پر مجبور کرتی ہے تو اس سب سے بچنے کے لیے خود کو مصروف کریں اور دن میں کسی بھی وقت کی اچھی اور مثبت یادوں کو وقت دینا نہ بھولیں۔ آپ کے خوش رہنے سے ہی آپ کے ارد گرد کے لوگ خوش رہ سکتے ہیں!

    @MS_14_1

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • جنگی قیدی اور اسلام  تحریر : اے ار کے

    جنگی قیدی اور اسلام تحریر : اے ار کے

    دو متحارب قوتوں کے درمیان جنگ
    ( عین لڑائی کے دوران یا لڑائی کے احتمال کے وقت ) گرفتار ہونے والا شخص جنگی قیدی کہلاتا ہے۔
    تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام سے پہلے قدیم جاہلیت کے دور میں جنگی قیدیوں کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
    جنگی قیدیوں کے حقوق کاغذ پر بھی تسلیم نہیں کئے جاتے تھے۔
    جنگی قیدیوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا تھا یا ایسا غلام بنا لیا جاتا تھا کہ مالک کو ان کے زندگی اور موت کا مختیار بنا دیا جاتا۔
    اسلام کا ابرِ رحمت برسا تو انسان کی احیثیت یک دم بدل گئی اور محسنِ انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نےانسانی سماج پر احسانِ عظیم فرمایا۔
    فتح مکہ کے موقع پر فوج میں اعلان کروایا کہ کسی مجروح پر حملہ نا کیا جائے کسی بھاگنے والے کا پیچھا نا کیا جائے کسی قیدی کو قتل نا کیا جائے۔
    بلکہ سب کیلیے عام معافی کا اعلان کیا۔
    بے شک ۔۔۔۔۔!!!
    اسلام سے زنگی خوبصورت ہوجاتی ہے۔
    ظہور اسلام کے بعد جن مصائب و تکلیفات کا سامنا صحابہ کرام نے کیا اج بھی ان مصائب تکلیفوں کا سامنا صالحین کر رہے ہیں۔
    اج بھی میر صادق میر جعفر جیسے دین کے غدار لوگ مسلمانوں کے صفوں میں پائے جاتے ہیں۔
    نام نہاد مہذب مغربی اقوام کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ مسلم اکثریتی ملکوں میں زمامِ اقتدار ان لوگوں کو سونپی جاتی ہے جو مغرب پرست ہو اور مسلمانوں کے خون سے مغرب کی پیاس بجھانے میں مغرب کی تقلید کرتی ہو۔امریکہ بہادر کوافغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد جیسے ہی افغانستان سے
    راہ فرار ملی اسٹوڈنٹس ( طالبان )یک بعد دیگرے ولایتوں (صوبوں) کو برق رفتاری سے فتح کرنے لگ گئے ہیں اور انکی پیش قدمی تاحال جاری ہے۔
    اسٹوڈنٹس نے جنگ کے پینتھرے یکسرتبدیل کئے ہیں اورشروعاتی لڑائی وہاں سے شروع کی(شمالی افغانستان قندوز شبرغان فاریاب وغیرہ) جہاں سن 2000 ء سے پہلے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور شمالی اتحاد کی ملیشیاء ("گلم جلم ملیشیا“ اسے ”بوری لپیٹ ملیشیا“ بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہ لوگ دشمن کو قالین وغیرہ میں لپیٹ کر ہلاک کرتے تھے)ان کا ہر حملہ پسپا کرتی۔ اج الحمد اللہ وہاں کی فضاء "اللہ اکبر ” کےفلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔
    طالبان کے پیش قدمی کے ساتھ ہی ذہن میں دشت لیلی کی المناک داستان اور غدار جنرل رشید دوستم گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔
    دسمبر 2001 ﻗﻨﺪﻭﺯ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ محاصرہ طاﻟﺒﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺮﻝ ﺭﺷﯿﺪ ﺩﻭﺳﺘﻢ ﻧﮯ وعدہ کیا تها کہ تم لوگ ہتھیار ڈال دو ﻣﯿﮟ نے ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺳﮯ مذاکرات ﮐﺮلئیے
    ﻣﯿﮟ ﺍٓﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ بحفاظت نکالونگا،
    کہیں دنوں سے محاصرہ ،بھوک پیاس سے نڈھال، اور اسلحہ کی شدید کمی کے باعث ،
    مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ لڑائی میں ان کا ہی زیادہ نقصان ہونا تھا اس صورتحال میں یہ انکا بہترین فیصلہ تھا۔کیونکہ اس معاہدے کا ضامن بہر حال ایک مسلمان تھا
    جنہوں نے قران پر ہاتھ رکھ کر انکو یقین دلایا تھا کہ میں بحفاظت سب کو قندوز سے شبرغان تک پہنچاہونگا۔ یوں مجاہدین نے
    ہتھیار ڈال دئیے۔
    دوستم نے گنجائش سے زیادہ طالبان کوکنٹینروں میں ڈال کے قندوز سے شبرغان روانہ کیا ۔
    جب ان بند کنٹینروں میں ان مظلوموں کا دم۔گھٹنے لگا تو زور زور سے کنٹینر پیٹناشروع
    کر دئیے۔
    عالمی امن کے مہذب اور نام نہاد ٹھیکداروں نے کنٹینر کھولنے کے بجائے ان چلتی کنٹینروں پر فائرنگ کا حکم دے دیا۔
    ایک جرمن رپورٹر کے مطابق کہ میری گاڑی اس کنٹینروں کے قافلے کے پیچھے جا رہی تھی اور اب پورے روڈ پر خون ہی خون بہہ رہا تھا۔
    طالبان کی بڑی تعداد کو کنٹینروں میں ہی
    شہید کر دیا گیا اور جو بچ گئے یا زخمی تھے انکے ہاتھ پاؤں باندھ کر جنرل دوستم ( جو اجکل فیلڈ مارشل ہیں) نے دشت لیلی میں زندہ دفن کر دئیے ۔
    امریکی حکومت کی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کی دستاویزات اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینٹیلیجنس رپورٹ ،جو 2002 میں ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی تھی، کے مطابق دشت لیلی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1500 سے 2000 کے درمیان تھی جبکہ طالبان کے مطابق اس سانحہ میں شہید ہونے والے مجاھدین کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔
    یاد رہےافغانستان کے سب سے بڑا فوجی
    اعزاز( مارشل جنرل ) پانے والا جنرل دوستم روسی اتحاد کے افغانستان پر قبضے کےبعد روس کی حمایت میں بھی جنگ لڑی اور
    بعد ازاں شمالی اتحاد کے پرچم تلے امریکہ کا ساتھ دے کر طالبان کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ٹویٹر ہینڈل: @chalakiyan

  • مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے  تحریر: زاہد کبدانی

    مسلم طلبہ کے لئے اسلامی تعلیم کتنی اہم ہے تحریر: زاہد کبدانی

    تعلیم کے دائرہ کار میں ، اسکولی طلباء کے لئے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے ، یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی اسکول کی دنیا میں داخلے سے قبل اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے دنیا کی تعلیم میں داخل ہوں تو وہ اس کی عادت ڈالیں اور وہ صرف اسے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں طلباء کے لئے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے ، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ طلباء میں بہت سے منفی اثرات پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ، ابتدائی اسکول کے بچے جنہوں نے طلباء میں اسلام کو اکسایا اور اس کے بعد اچھی سمت سگریٹ پی۔ طلباء جدید دور کے منفی اثرات سے بچیں گے۔ اسلام زندگی کا ایک طریقہ ہے ، اگر ہم میں اور ہماری زندگیوں میں کوئی مذہب نہیں ہے تو پھر زندگی بے چین ہو جائے گی ، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی ہدایت نامہ موجود نہیں ہے ، دین میں ہر چیز کا اہتمام قرآن اور احادیث میں کیا گیا ہے ، جس سے شروع ہوتا ہے۔ دل کا ارادہ ، عبادت ، سلوک ، تعلیم ، خرید و فروخت یا معیشت ، معاشرتی۔ جیسا کہ آیت نمبر 255 میں بیان کیا گیا ہے ،

    سور بقرہ۔ طلباء کو اسلامی تعلیم کے فوائد میں متعدد چیزیں شامل ہیں:

    پہلے ، بچوں کے روحانی معاملات میں ، اگر بچوں نے ٹی کے دی ڈپو سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے ، تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے ، مثال کے طور پر باجماعت نماز پڑھنا ، والدین یا اساتذہ سے مصافحہ کرنا ، یقینا درخواست دینے میں ، طالب علم واقعتاً ماحول سے مدد اور تعاون کی ضرورت ہے ، خاندانی ماحول بنیادی چیز ہے جو والدین ہیں ، والدین کو لازمی ہے کہ وہ بچوں کو روزمرہ کی زندگی میں عمل درآمد کرنے کے لئے ہدایت کریں اور ان کی مدد کریں ، اس کے بعد طلباء کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کے بعد والدین کو بھی اپنے بچوں کے تعلقات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے ، کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کرنا ضروری ہے ، اس کی روحانی گہرائی جتنی زیادہ ہوگی وہ جدید دور میں ہونے والے نقصان سے بچ جائے گا ، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا۔
    دوسرا ، سلوک یا اخلاقیات کے لحاظ سے ، اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے ، مثال کے طور پر والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار ، شائستہ ، سب کے ساتھ شائستہ ، ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مدد کرنا ، اس موقع پر ، طلباء کو آزمائے جانے کی ضرورت ہے والدین اور اساتذہ کے طرز عمل یا اخلاق سے ، اسلامی مذہب اور اچھے اخلاقی سلوک کے علم کے ساتھ ، طلباء کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ سیکولہ ایس ڈی ٹربائک دی ڈپوک طلباء کو اسلامی تعلیم مہیا کررہے ہیں اور خاندانی ماحول ، والدین ، ​​تعلقات ، اساتذہ کی مدد سے ، جو اس کے بعد زندگی میں لاگو ہوتے ہیں ، مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے بچانے میں مدد فراہم کریں گے جو طلباء کو جدید معاشرے میں دوچار کرچکے ہیں۔

  • ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے   تحریر : لاریب ناز

    ‏انسان کو اللّٰہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تحریر : لاریب ناز

    ۔دنیا کی کسی بھی مخلوق سے موازنہ کر لیا جائے تو ہمیشہ انسان ہی بہترین نظر آئے گا۔
    عقل ، شعور، حس ،اعضاء، شکل و صورت نیز ہر خوبی میں بنی نوع انسان کو برتری حاصل ہے۔
    ہر اچھے برے کی تمیزاور فرق کی صلاحیت بھی صرف انسان کو عطا کی گئی۔
    خواہشات کرنے کا شرف بھی صرف حضرت انسان کو ہی حاصل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    "اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا کی۔”

    ان سب کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں ہم پر
    رزق ، ہوا ، پانی ، زمین سب اس رب کی عطا کی گئی نعمتیں ہیں۔ لیکن ہم ان سب احسانات اور نعمتوں کو بھول چکے ہیں ہم روز حشر کیسے سامنا کریں گے کیا منہ دکھائیں گے؟
    کہ جس نے ہمیں تخلیق کیا اتنی ساری نعمتیں عطا کی ہم اسی کو بھول گئے۔
    اسی کے آگے سجدہ ریز ہونے میں غفلت برتی۔۔۔۔۔
    اسی کا شکر ادا نہ کیا۔
    اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو سکے
    اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بھی ہم صراط مستقیم پر نہ چل سکے۔
    ہم اپنے مقصد تخلیق کو بھول گئے اور دنیا کی رنگینیوں میں اتنا کھو گئے کہ ہم بھول گئے کہ یہ دنیا فانی ہے، لاحاصل ہے ، مٹ جانے والی ہے۔

    ہم بھول گئے کہ زندگی اللّٰہ کی عطا کی گئی امانت ہے، جسے ہم نے اللّٰہ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق گزارنا ہے ۔ ہماری احسان فراموشی کے باوجود بھی وہ رب ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔اس کے باوجود بھی ہم ایک دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب سے ملاقات کے مواقع بھی گنواتے ہیں صرف اس دنیا کے لیے جو کہ محض ایک فریب ہے۔

    یہ سب جانتے ہوئے بھی پھر ہم اپنے رب کے ساتھ ایسا کیونکر کر سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا؟ کیا ہمارے گناہ کرنے پر اس نے ہم سے رزق چھینا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!!
    پھر اپنے خالق کے ساتھ ایسا رویہ کیوں۔۔۔۔۔؟؟
    ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ایک روز ہمیں رب کے حضور حاضر ہونا ہے تب کیا کریں گے ہم۔۔۔۔؟؟

    ابھی بھی وقت ہے اللّٰہ عزوجل کی معرفت کو پہچانو اور اپنے تخلیق کے مقصد سے آگاہ ہو ۔ یہ دنیا فانی ہے اور یہ کسی کی بھی ملکیت نہیں ہو سکتی۔تقویٰ اور پرہیز گاری ایسی چیزیں ہیں جو انبیاء کرام علیہم السلام کا ورثہ ہیں پس تم انبیاء کے وارث بنو نہ کہ اس فانی دنیا کے۔

    اللّٰہ عزوجل نے ہمیں آخری امت بنا کر ہم پر اپنا فضل کیا ہے اور ہم سے پہلی امتوں کے بارے میں ہمیں آگاہ کر کے بتا دیا کہ ان پر عذاب کیوں نازل ہوئے؟

    اگر ہم نے اپنی عادات و اطوار کو نہ بدلا اور ان کے حالات سے عبرت حاصل نہ کی تو یقیناً ہمارا حشر بھی انہی اقوام جیسا ہو گا۔

    ‎@LaraibNaz2

  • کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت  تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت سے جیت لیا الحمداللہ؟ کشمیر کے الیکشن میں انڈین بیانے کی ہار ہوئی ہے انڈین میڈیا چیخ رہا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اور نون لیگ کے ایک امیدوار اسماعیل گجر نے بیان دیا ہم انڈیا سے مدد مانگے اس انڈیا سے جو ہمارے مظلوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے اس انڈیا سے جو بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے اس انڈیا سے مدد مانگیں گے جو دنیا میں ہمارے پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے یہ لوگ کیوں ہمدرد ہے انڈیا کے نون لیگ انڈیا سے کیا مدد مانگے گی کیا ان سے کہے گی اپنی فوج آزاد کشمیر میں بھیج دیں چیف الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو چاہیے اس کو نااہل کر دیں ان لوگوں نے قومی سلامتی کا مذاق بنایا ہوا ہے اسماعیل گجر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا یہ سچ کہا وہاں ایک لاکھ کشمیری ہمارے بہن بھائیوں کو شہید کر دیا گیا اور ہزاروں کشمیر ی انڈیا کی قید میں ہے جموں کشمیر میں ہماری کشمیری بہنوں کی عزت کو پامال کیا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لی لیکن نون لیگ انڈیا سے مدد مانگے گی افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ہم نے چالیس سال تک ووٹ دیے اپنے ملک کا حکمران سمجھا لیکن یہ ہمارے دشمن ملک انڈیا سے مدد مانگے گے اور نون لیگ کا لیڈر نواز شریف ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے جن لوگوں نے ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا افغان سیکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ سے نواز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی لندن میں جس کو حمداللہ نے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ایکسپوز کر دیا یہ ملاقات انڈیا کی خواہش پر سی آئی اے نے ایک عرب ممالک کی مدد سے یہ ملاقات کروائی حمداللہ محب اجیت ڈاوول کا قریبی دوست ہے اور اجیت ڈاوول سے کشمیری سخت نفرت کرتے ہیں اب نون لیگ کو سمجھ نہیں آرہی جو حمد اللہ محب سے ملاقات ہوئی اس کی کیا توجیج پیش کریں نون لیگ نے پہلے کہا باہمی دلچسپی کے امور پر ملاقات ہوئی ان دونوں کی باہمی دلچسپی کا امر ایک ہی ہے وہ ہے افواج پاکستان جس ٹائم اس ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تو پاکستانیوں کا ردعمل دیکھ کے مریم نواز نے دو تصویریں شیئر کی وہ بھی دو سال پرانی حمد اللہ محب پاکستان دورے پر آئے ہوئے تھے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی جنرنل قمر جاوید باجوا کی تصویر شیئر کرکے مریم نواز نے پاکستانی عوام کو بیوقوف بنا رہی تھی میڈم مریم صاحبہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری حیثیت سے ملاقات کی تھی وہ بھی تب حمداللہ محب نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور پاکستان نے بھی اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا دوسری تصویر عمران خان کی شیر کی جب وہ افغانستان گئے اور قطار میں کھڑے لوگوں کا اشرف غنی تعارف کروا رہا تھا اس قطار میں حمداللہ بھی کھڑا تھا توعمران خان کیا کہتا؟ کہ اس بندے کو قطار سے نکال دو تب بھی حمداللہ نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور نہ ہی بائکاٹ ہوا تھا ورنہ عمران خان انڈین وزیر خارجہ کی طرح شائد ہاتھ بھی نہ ملاتا اس سے؟ اور مریم نواز نے ایک اور تصویر شئیر کی پرائیویٹ گاڑی میں جوان ڈیوٹی پر جا رہے تھے اس گاڑی پر پی ٹی آئی کا جھنڈا بڑا لگا ہوا تھا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو مینشن کر کے پوچھ رہی تھی یہ کیا ہے دوسرے دن پاک فوج کے جوان ڈیوٹی پر جاتے ہوئے گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور 4 جوان شہید ہوگئے تین زخمی ہوئے پاک فوج سے ن لیگ کی نفرت اور اس حادثے نے بھی کشمریوں کے دلوں میں آگ لگائی۔ پاک فوج ستر سال سے ایل او سی پر کھڑی آزاد کشمیر کا دفاع کر رہی ہے اور ایل او سی کی دوسری جانب کھڑی 10 لاکھ انڈین فوج کو روکے ہوئے ہے اور روزانہ ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں پاک فوج کے خلاف کشمیری کچھ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈیا اور مودی پر زبردست تنقید کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ کسانوں کو سود کے بغیر قرضہ دیں گے بے روزگاروں کو بھی سود کے بغیر قرضے دیں گے اور کشمیریوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے کشمیری دس لاکھ تک اپنا علاج مفت کرا سکیں گے اور عمران خان نے اپنے تقریر میں یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کو ریفرنڈم کے ذریعے موقعہ دیں گے کہ وہ خود مختیار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا عمران خان کا آخری جلسہ اتنا بڑا تھا شاید کشمیر میں کبھی ایسا جلسہ نہیں ہوا بیرون ملک دشمنوں اور نون لیگیوں کے تمام پروپیگنڈے کے باوجود کشمیری انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے الحمد اللہ محبت کرتے ہیں اسی وجہ سے کشمیر کا الیکشن عمران خان نے جیتا کشمیریوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور آخر میں اپنے سب کشمیری بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں پاکستان زندہ باد. پاک فوج زندہ باد

    @IamYasminArshad

  • نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ایک ایک کرکے اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کے اردگرد کے لوگ اب سامنے آرہے ہیں اور جو انکشافات ہورہے ہیں ۔ اس کے مطابق کوئی شک نہیں ہے کہ ظاہر جعفر ایک وحشی ، بے غیرت اور ظالم انسان ہے ۔

    ۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہر جعفر کے قریبی دوست اس کے اس مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر نے اپنے بھائی حمزہ پر بھی ایک بار گلف اسٹک سے حملہ آور ہو چکا ہے ۔ پھر یہ شخص اپنی ماں پر بھی تشدد کر چکا ہے ۔ برطانیہ میں بھی ایک لڑکی پر تشدد کر چکا ہے جس کے نتیجے میں یہ برطانیہ سے نکالا گیا ۔ ۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہے ۔ اور یہ شخص اتنی شراب نوشی کرتا تھا کہ ہوش کھو بیٹھتا تھا ۔ ۔ اس شخص کی شخصیت ایسی تھی کہ یہ گندے لوگوں میں رہا کرتا تھا ۔ اس کے دوست بھی اسی قماش کے تھے ۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نور مقدم کی دوست ہیں زہرا ۔۔۔ کو بھی سفاک قاتل گندے میسج کرتا تھا ۔

    ۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو مختلف لوگ اپنے وی لاگز اور صحافی ٹویٹ کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ مجھے کسی نیت پر شک نہیں ہے ۔ مگر میرا ماننا یہ ہے کہ یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ وہ پاگل ہے ۔ تو ان تمام صحافیوں کو میں یہ کہوں گا کہ جانے انجانے میں ان سے غلطی ہو رہی ہے ۔ ان کو سمجھنا چاہیئے کہ ظاہر جعفر کے دوست اور ماں باپ جو اب بہت صاف ستھرے اور معصوم بن رہے ہیں یہ جان بوجھ کر ایسی چیزیں سامنے لارہے ہیں کہ ظاہر جعفر کو جب عدالت میں کیس چلے تو ریلیف ملے ۔ حالانکہ یہ open and shutکیس ہے کہ ایک معصوم بچی تشدد ہوتا ہے وہ بے دردی سے قتل کر دی جاتی ہے ۔ اور موقع واردات سے مجرم ، قاتل پکڑا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی آلہ قتل بھی برآمد ہوجاتا ہیں ۔ پھر بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ پولیس کس چیز کا انتظار کررہی ہے ۔ اور یہ ہی بات نور مقدم کے دوست اور باقی لوگوں کے ذہن میں بھی ہے ۔ کہ اگرچہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا لیکن وہ اسے سزا دینے میں تاخیر کر رہے ہیں۔۔ اس روز روز کے ریمانڈ سے کیا ہو گا؟ جب تمام شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف مقدمہ چلائیں تاکہ اسے جلد سے جلد سزا ہو۔۔ یہ بھی اہم چیز ہے کہ پولیس نے ابھی تک دہشتگردی کا مقدمہ اس گھناونے شخص کے خلاف درج نہیں کیا ہے ۔ حالانکہ معاشرے میں جو اس سے دہشت کی فضا قائم ہوئی ہے ۔ یہ ہونا چاہیے تھا ۔

    ۔ پھر یہ چیز بھی اس بات کو تقویت دے رہی ہے کہ جب ظاہر جعفر کو پولیس عدالت لے کر جا رہی تھی تو پولیس والا کہہ رہا تھا کہ بڑا معصوم بچہ ہے ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پولیس کو اس کے خاندان نے کوئی چمک تو نہیں دیکھا دی ہے جو پولیس والے اس سفاک قاتل معصوم بچہ کہہ رہے ہیں ۔ ساتھ ہی جب یہ عدالت میں لایا گیا تو یہ بالکل ٹھیک اور نارمل دیکھائی دیا ۔ کیا پولیس کسی قاتل کے ساتھ ایسا رویہ رکھتی ہے ۔ آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں یہاں تو چھوٹے چھوٹے کیسوں میں پولیس ملزم کی کھال اتار کر رکھ دیتی ہے ۔ تو پھر اس کیس میں کیوں اتنا رحم اور اچھے الفاظ کا چناؤ پولیس کو یاد آرہا ہے ۔ اس حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن عطا الرحمان ہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔ کیا کہیں اس کیس کو جان بوجھ کر تو نہیں آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جا رہے کہ فائدہ ظاہر جعفر کو ملے سکے ۔ اور لوگ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو بھول جائیں ۔

    ۔ ابھی اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ظاہر جعفر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ وڈیو میں شادی کی ایک تقریب میں ملزم باری باری لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ پولیس اس ویڈیو کے ذریعے ملزم کے دوستوں کے اس گروپ سے سے رابطے کی کوشش کرے گی۔ جس سے ملزم کے 27 سالہ نور مقدم کا سفاکانہ انداز میں سر تن سے جدا کرنے کا پس منظر سامنے آ سکے گا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پولیس تو گونگوں سے بھی چیزیں اگلوا لیتی ہے ۔ مجرم ان کے ہاتھ میں اس سے انوسٹی گیشن نہیں کی جا رہی ہے ۔ بلکہ چیزوں کو گول گول گھمایا جا رہا ہے ۔

    ۔ پھر پولیس نے ملزم کا بیرون ممالک انگلینڈ اور امریکہ سے بھی کرمینل ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطے کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ اچھی چیز ہے ۔ پر کیا آپ کو نہیں معلوم کہ یہ تفصیلات آنے میں کتنے دن لگیں گے۔ حالانکہ نور مقدم کے وکیل آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ نور کے خاندان پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ معاملات کو کورٹ سے باہر
    settle کرلیا جائے ۔ یعنی دیت اور قصاص کے تحت ۔ تو ہماری پولیس کو ذرا اپنے ہاتھ پاؤں تیزی سے چلانے چاہیں ۔ اور اس سفاک قاتل ظاہر جعفر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔ اوراس قاتل سے بالکل وہ ہی سلوک کرنا چاہیئے جس کا یہ حق دار ہے ۔ یہ نہیں کہ یہ امیر ، انگریزی بولتا ہے تو ہم اس کو معصوم بچہ کہیں ۔ یہ سفاک قاتل ہے جس نے ساری واردات پوری پلاننگ سے کی ہے ۔ کیونکہ 19 جولائی کو اسکا ٹکٹ تھا امریکہ جانے کا اور یہ ایئر پورٹ گیا بھی وہاں سے یہ واپس آیا اور اگلے دن نور کا قتل کر دیا ۔ ملزم کے گھر سے اس کا پاسپورٹ اور بیرون ملک جانے کے لیے لیا جانے والا ٹکٹ بھی بازیاب ہوا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ملزم ظاہر جعفر کے والد نے گرفتاری کے بعد کہا ہے کہ وہ نور کے والد کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور وہ ان سے درخواست کریں گے۔ کہ یہ ایک بہت ہی گھناؤنا جرم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ انصاف ہو۔

    ۔ بڑی اچھی بات کی ہے مگر یہ ان کو اب کیوں یاد آئی ہے ۔ دراصل ابا جی اب پکڑے گئے ہیں تو بول رہے ہیں ہمیں پتہ نہیں تھا ماں باپ کو ان کا بیٹا کس قسم کا ، کس قماش کا اور کس کردار کا حامل ہے ۔ حالانکہ اس واقعہ کے دوران بھی گھر کے ملازم باربار کال کرکے بتا رہے تھے ۔ کہ ان کا بیٹا کیا کر رہا ہے ۔ کاش ان معصوم والدین کو اس وقت خیال آیا ہوتا اور یہ اپنے ملازمین کو حکم دیتے کہ بیٹے کو پکڑ کر ذبردستی کسی کمرے میں بند کردیتے ۔ قابو کر لیتے ۔ لڑکی کو کسی طرح گھر سے باہر نکل دیتے ۔ بھاگا دیتے ۔
    ظاہرجعفر اس گھر میں اکیلا تھا اور ملازم چار تھے اور ظاہر کوئی عثمان مرزا جیسا بہت موٹا تازہ بھی نہیں ۔ چار ملازم باآسانی اس کو قابو کر سکتے تھے ۔

    ۔ دوسرا میرا یہ پوائنٹ ہے کہ ظاہر جعفر کی ماں کو جب پتہ چل گیا تھا تو اس نے پولیس کو بلانے کی بجائے کسی اور کو کیوں بلایا ۔ اگر ظاہر جعفر کی ماں نے ہی بروقت پولیس کو اطلاع دی ہوتی اس معصوم بچی کی جان بچ سکتی تھی ۔ کیونکہ اگر ظاہر جعفر کی نشوں کی لت اور باقی تمام ہسٹری کو صحیح مان بھی لیا جائے۔ تو پھر تو یہ چیز ذہن میں آتی ہے کہ ماں باپ کو بالکل معلوم تھا کہ ان کا بیٹا کس حد تک گر سکتا ہے اور کیا کر سکتا ہے ۔ اس لیے میری نظر میں ظاہر جعفر کی ماں باپ بھی کم مجرم نہیں ہیں جو انھوں نے انتظار کیا کہ ایک معصوم پھول کو کچل دیا جائے ۔ ۔ کیونکہ نور دو دن سے ظاہر جعفر کے حس بے بجا میں تھی ۔ اس نے بھاگنے کی بھی کوشش کی ۔ یہ بات بھی ملازموں نے ماں باپ کو بتائی ۔ پھر ان ماں باپ کے دل میں رحم نہیں آیا کہ ان کا بیٹا کسی کی بیٹی کے ساتھ کیا ظلم اور زیادتی کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ آپ دیکھیں جب نور مقدم اور ظاہر جعفر کے مشترکہ دوست نور کو بچانے کے لیے ظاہر جعفر کے گھر پہنچے تو نوکروں نے ان کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ ۔ اس کیس میں اگر ملازمین ہی پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو قتل روکا جا سکتا تھا۔

    ۔ یہ سب اب بڑے معصوم بن رہے ہیں چاہے ظاہر جعفر کے ماں باپ ہوں ، ملازمین ہوں یا ظاہر کے دوست ۔ پر سچ یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے پولیس کو نہیں بتایا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔ دیکھا جائے تو ہمسایوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پھر پولیس پہنچی ۔ یعنی نہ ملازمین ، نہ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، نہ ہی اس کے دوست حالانکہ ماں باپ اور ملازمین کو پل پل کا پتہ تھا کہ اندر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ظاہر جعفر کے ماں باپ ، ملازمین ، دوست اب سب اپنے آپ کو بہت پاک صاف اور جو معصوم ثابت کر رہے ہیں ۔ میری نظر میں یہ بھی اس گھناونے واردات کاحصہ ہیں کیونکہ یہ چپ رہے ۔ دیکھتے رہے ۔ سنتے رہے ۔ اور قتل ہونے دیا ۔

  • بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری کے اسباب، اثرات اور ان کا حل . تحریر: اقصیٰ صدیق

    بے روزگاری ہمارے معاشرے کا ایسا رَوگ ہے جوکہ مسلسل بےشمار برائیوں اور طرح طرح کے جرائم پھیلنے کا سبب بن رہا ہے۔
    بے روزگاری کو عام طورپراس صورتحال سے تعبیر کیا جاتا ہے جب افراد جو ایک مخصوص عمر سے زیادہ (عام طور پر15 سال سے زیادہ) تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں اور تنخواہ یا خود ملازمت میں ملازمت نہیں رکھتے ہیں۔ وہی افراد کام کے لیے دستیاب ہوں۔ بے روزگاری ایک اہم معاشی اشارے ہے کیوں کہ اس سے فائدہ مند ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے کارکنوں کی رضامندی کا اشارہ ہوتا ہے۔ تاکہ وہ بھی قومی معیشت میں اپنا کردارادا کرسکیں ۔

    موجودہ صورتحال کی طرف دیکھا جائے تو ہمارا موجودہ نظام تعلیم کچھ حد تک پڑھے لکھے نوجوان پیدا تو کر رہا ہے مگر ایک بڑی اکثریت کو وہ تعلیم نہیں دی جا رہی جس کی شاید ان سب کو ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں ہنرمند نوجوانوں کی کمی ہے اور زیادہ تر نوجوان حکومتی نوکریوں کے منتظر ہوتے ہیں۔
    معیاری تعلیم کی ثابت دستیابی اس کا مسئلےحل ہے۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔

    عالمگیریت نے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن ثقافتی امتزاج گلوبلائزیشن کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے جس سے پوری دنیا کے لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن ، ہاتھ بانٹنے کی روایتی سرگرمیاں حدود ختم ہوتے ہی معدوم ہوجاتی ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے . جو بے روزگاری کو کم کرسکیں۔ کسی بھی معیشت میں بے روزگاری موجود ہے کیونکہ لوگ ایک نوکری سے دوسری ملازمت کی طرف جارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت میں سامان اور خدمات کا مطالبہ پورا روزگار نہیں دے سکتا ہے۔ یہ سست معاشی نشوونما یا زوال کے اوقات کے دوران ہوتا ہے۔ اعلی بے روزگاری سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے ، معاشی نمو کو نقصان ہوتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق جون 2005 میں، تمام بے روزگار افراد میں سے 33.5 فیصد چوبیس سال سے کم عمر کے افراد تھے، ان میں سے کچھ ان کے اہل خانہ کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھے۔ بیروزگاری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کو بھی روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہر آٹھ سیکنڈز کے بعد ایک نئے فرد کا اضافہ ہوتا ہے جو آبادی میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ترقی کی سمت دیکھتے ہوئے آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ آبادی کے بڑھنے کی موجودہ رفتار اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع اس ملک کو ایک سنگین سماجی مشکل سے دوچار کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
    امن و امان تب ہی ہو سکتا ہے اگرمعاشرے کا ہرفرد اپنا اپنا کردار ادا کرے ۔

    بیروزگاری کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے ۔ جب آپ کی معیشت میں استحکام ہوگا ۔ معیشت مضبوط ہوگی ۔ انڈیسٹریز لگیں گی ۔ سرمایہ داری ہوگی ۔ اور یہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیئے معاشرے کے ہر طبقے ، سرمایہ دار سے لیکر ایک عام فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں حکومت کو عوام کے سامنے نئی ترجیحات کیساتھ نئی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنی پڑیں گی ۔ اور ان تمام چیزوں میں پہلے سب سے اہم امن کا خریدنا ہے ۔ امن ہوگا تو یہ مراحل طے ہونگیں ۔ بصورتِ دیگر بنجر زمین میں آبیاری کا کوئی فائدہ نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کام میں لانے کے لئے معاشرے کو بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
    کیوں کہ ایک ملک بے روزگاری اور معاشی حیثیت کو بھی متاثر کرسکتا ہے اسی طرح بے روزگاری ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے ۔

    @_aqsasiddique

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم)  تحریر:  رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم) تحریر: رانا بشارت محمود

    جیساکہ آپ نے اِس سلسلے کی پہلی قسط جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری آج کی سوسائٹی اور زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں تھی، ضرور پڑھی ہوگی۔ تو چونکہ یہ اُسی سلسلے کی دوسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ہماری خط و کتابت اور علمی و ادبی کتابوں کو پڑھنے والے ورثے کا ناپید ہو جانا۔

    اِس سلسلے کی پہلی قسط میں آج کے دور کے اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آنے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن برے اثرات کا ذکر کیا گیا تھا اُن کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی برا ہوا کہ جو ہمارا انتہائی قیمتی خط و کتابت کا ورثہ تھا جس کے زریعے ہم اپنے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں اور وہ لوگ جنہیں کوئی پیغام یا خبر بھیجنا مقصود ہوتا، تو خط لکھا جاتا تھا جسے کبھی تار کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

    اور پھرعیدین کے موقع پہ تو بازاروں میں تو طرح طرح کے ڈیزائنوں والے عید کارڈز بھی ملا کرتے تھے جنہیں پھر ہم مختلف اشعار لکھ کر یا پھر چھوٹی سی تحریر لکھ کر مبارکبادوں کے ساتھ اسے ڈاک کے ذریعے بھیجنے کے لئے اپنے گلی، محلوں یا پھر کسی قریبی گاوں میں موجود لیٹر بکس میں ڈال کے آیا کرتے تھے۔

    پھر اِس سارے خوشگوار اور شاندار عمل سے گزرنے کے بعد اُس بندے کا کام شروع ہوتا تھا، جس کا نام اور کام دونوں کو ہی ہم آج کے دور میں ناپید ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں اور اُس کا نام ڈاکیا تھا۔ جو اُن خطوط یا تاروں، شادی کارڈوں اور عید کارڈوں کو لیٹر بکسوں سے وصول کرنے کے بعد اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے مطلوبہ پتوں پہ اُن کے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں تک پہنچاتا تھا (البتہ! دیہاتوں اور قصبوں میں زیادہ تر منگنیوں اور شادیوں وغیرہ کے موقع پہ شادی کارڈز دے کر اپنے خاندانی طور پہ رکھے ہوئے نائی/ حجام جسے مقامی اور پنجابی زبان میں سیپی بھی کہا جاتا ہے، اُسے بھی بھیج دیا جاتا ہے/تھا)۔

    اور اب نہ تو وہ خطوط اورعید کارڈ ہی رہے ہیں اور نہ ہی وہ اُس سہانے دور میں سائیکلوں پہ گھومنے والے ڈاکیے، وہ سب کچھ تو جیسے دفن ہی ہو کے رہ گیا ہو۔ کیونکہ اب اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہر طرف عام ہو جانے کے بعد عیدین اور تہواروں پہ بس اِنہی موبائلوں کے زریعے صرف یا تو ایک میسج بھیج دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ کہ فون کال کر کے دو چار منٹ کے لیے پیغام دینے کی غرض سے تھوڑی بہت بات کر لی جاتی ہے۔

    اب تھوڑا آگے چلیے تو آپ کو بتلاوں کہ کبھی جو ہمارا کتابیں پڑھنے کا دور ہوا کرتا تھا۔ (جس کا ہم میں سے کچھ تو ہو سکتا ہے اب بھی شوق رکھتے ہوں مگر زیادہ تر تو بُھلا ہی چکے ہیں) اور جس میں بہت سارے اچھے اچھے مصنفوں کی علمی، ادبی، اسلامی، تاریخی، ہنسی و مزاح اور کئی دوسرے موضوعات پہ مبنی لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھنے کا ایک بڑا ہی اچھا زمانہ ہوا کرتا تھا۔

    کہ جب وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریوں یا پھر بازاروں میں موجود کتابوں کی دوکانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کے کتابوں کو گھر لے کے آنا اور پھر کئی کئی دن تک اُن کو پڑھنے میں ہی گزار دیے جاتے تھے۔ اور پھر کتابوں کو پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو علم و حکمت کی باتیں کتابوں کو پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں، ایک تو وہ دل و دماغ پہ نقش ہو جاتی ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ باتیں حِفظ کی طرح اپنے قاری کے دماغ میں گھر کر لیتی ہیں اور اُن کا بھولنا پھر تقریباً ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

    اور پھر اِن کتابوں کو پڑھنے کے بعد اپنے کتابوں کا شوق رکھنے والے دوستوں سے بھی کئی موضوعات پہ انتہائی اچھی علمی، ادبی اسلامی اور تاریخی گفتگو بھی اپنے آپ میں ایک شاندار قسم کی بیٹھک بن جایا کرتی تھی۔ اور یہی علمی و ادبی بیٹھک اُن سب کے علم میں مزید اضافہ کا باعث بھی بنتی تھی۔ الغرض یہ سارے کا سارا عمل ایک انتہائی خوشگوار تجربہ ہوا کرتا تھا۔

    مگر! مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آ جانے کے بعد اب نہ تو وہ گفتگو ہی رہی ہے، نہ ہی ویسی بیٹھکیں رہیں ہیں اور نہ ویسے شوق ہی باقی رہے ہیں۔ اب تو ہر کوئی اپنے اِن موبائل فونز میں ہی گم ہو کے رہ گیا ہے اور نہ کسی کے پاس وقت ہی رہا ہے اِن کتابوں کو پڑھنے کا۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو بلا شبہ جدید ٹیکنالوجی کے اس آج کے دور میں چاہے ہم کتنے ہی آگے کیوں نہ نکل جائیں مگر ہمیں یہ بھی کرنا چاہیے کہ اپنے قیمتی وِرثوں کو کسی نہ کسی صورت میں ہم زندہ بھی رکھیں اور اچھی اور علمی کتابوں کو بھی پڑھنے کے لیے تھوڑا وقت بھی ضرور نکالا کریں کہ کہیں ہم اِن کتابوں سے مکمل طور پہ ناواقف ہی نہ ہو جائیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • لیڈر کے دو الفاظ   تحریر  : راجہ ارشد

    لیڈر کے دو الفاظ تحریر : راجہ ارشد

    اللہ پاک کا بڑا کرم ہے کہ عرصہ 20 سال سے مسجد حرام مکہ اور مسجد حرام مدینہ کی زیارت نصیب ہو رہی ہے ۔الحمدللہ

    جب بھی گئے اپنے وطن عزیز کو خاص دعاؤں میں یاد رکھا ہر بار اللہ تعالٰی سے یہی دعا ہوتی کہ

    یااللہ ہمیں بھی کوئی اپنے نبی پاک ﷺ کے چاہنے والا حکمران نصیب فرما۔اس قوم پے رحم فرما ظالم اور جابر حکمرانوں سے ہماری جان چھڑا

    آخر کار اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو عمران خان کی شکل میں تاریخ کا عظیم ترین لیڈر اور نبی پاک ﷺ کو چاہنے والا مل گیا جو پاکستانی قوم کو بلندیوں کی طرف لے جا رہا ہے ۔

    ایک عظیم قوم کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنی خوداری پے سمجھوتا نہیں کرتی۔ ابھی حال ہی میں اس عظیم لیڈر کے دو الفاظ نے جہاں اقوام عالم کو خود داری اور خود مختاری کا پیغام دیا وہاں پر دو الفاظ میں پوری قوم کو پیغام دیا کہ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ چکی ہے اور پاکستان اب اپنے فیصلے خود کرے گا اپنی قوم کے مفادات کو پہلے رکھا جائے گا۔

    وہ دو الفاظ تھے کیا
    Absolutely not
    دیکھنے اور پڑھنے میں یہ دو الفاظ ہیں مگر در حقیقت یہ دو الفاظ اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھے ہوئے ہیں ۔

    اس قوم کے لیڈر کے دو الفاظ نے قوم کو وہ بلندی عطا کی ہے جس کا خواب علامہ محمد اقبال اور برصغیر کے دیگر مسلمان رہنماء دیکھ چکے تھے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے دو الفاظ نےقوم کی عقابی روح کو جگا دیا یہ دو الفاظ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے لئے ہی نہیں بلکہ عمران خان کے بدترین سیاسی مخالفین کو بھی پسند آئے ۔پوری قوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور کیوں نہ ہو کہ پاکستان مفاد پرست حکمرانوں کے چنگل سے نکل چکا جن کی خارجہ پالیسی ترتیب دیتے وقت نظر بیرون ملک اپنے اثاثوں پر ہوتی تھی۔ذاتی کاروباری مفادات پر مبنی پالیسیاں ترتیب دیتے وقت قوم کی خواہشات کی عکاسی کرنا ناممکن ہے ۔

    آچھا یاد رکھیں یہ دو الفاظ نہیں بلکہ اس قوم کے نوجوانوں کے لئے ایک پیغام ہیں اک امید ہیں کہ ہماری شناخت بھی اقوام عالم میں ایک خودمختار ملک اور خودمختار قوم کی حیثیت سے ہو گی۔

    یہ دو الفاظ جہاں قوم کے لئے اطمینان کا باعث ہیں وہاں پر عالمی قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہیں۔

    اللہ تعالی ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو اور ہمارے لیڈر کا محافظ ہو۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @RajaArshad56