Baaghi TV

Category: بلاگ

  • Our self and we writen ByBobswiffey

    Our self and we writen ByBobswiffey

    جس نے اپنے نفس پہ قابو پا لیا گویا وہ دنیا کا بہادر ترین انسان ہے لیکن اپنے سرکش نفس پہ قابو پانا آسان کام نہیں ہے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ہے کہ ”تم میں سے بہتر مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرسکے”

    جہاد کے معنی جدوجہد کے ہیں اللّٰہ سبحان تعالیٰ کے راہ میں پر امن کوششوں اور جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف عمل کرنے کو بھی جہاد کہتے ہیں۔

    جہاد کی دو اقسام ہیں کہ جہادِ اصغر اور ایک جہادِ اکبر ہے۔
    صحابہ اکرم رضوان اللہ علیہم اجمین جب کفار کے ساتھ جہاد کرکے واپس آتے تو کہتے تھے:
    ”ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں۔“
    اور صحابہ نے نفس، شیطان اور خواہشات سے جہاد کو اس لیے اکبر اور عظیم جہاد کہا کہ نفس سے جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے اور کفار کے ساتھ جہاد کبھی کبھی ہوتا ہے۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ مجاہد اپنے دشمن کو سامنے دیکھتا رہتا ہے مگر شیطان نظر نہیں آتا اور دکھائی دینے والے دشمن سے لڑائی آسان ہوتی ہے چھپ کر حملہ کرنے والے دشمن سے۔

    نفس کے خلاف جہاد جہاد اکبر ہے۔اور تمہاری بادشاہی اس دن حقیقی ہوگی جس دن تم اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہو جاو گے۔لہذا پہلا جہاد اپنے نفس کے خلاف ہے۔

    امام غزالیؒ آگے مزید حضرت علی ؓ کا ایک قول بیان کرتے ہیں جس میں شیرِ خدا کہتے ہیں کہ
    ”میں اپنے نفس کے ساتھ بکریوں کے ریوڑ پر ایسے نوجوان کی طرح ہوں کہ جب وہ ایک طرف سے انہیں جمع کرتا ہے تو وہ دوسری طرف نکل جاتی ہیں۔“

    حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
    خدارا، خدارا!! نفس کے خلاف جہاد کرنا، کیونکہ تمہارے لیے سب سے بڑا دشمن یہی نفس ہے۔

    یہاں نفس سے مراد صرف ذاتِ انسان نہیں دل کی خواہشات اور خواہشاتِ نفسانی کا بھڑکتا سمندر ہے جو انسان کو اپنے حساب سے چلاتا ہے اور دینی تعلیمات بُھلا دیتا ہے۔ اپنے جذبات و نفسانی خواہشات کو قابو کرنا ہی اصل جہاد ہے۔
    نفس کے خلاف جنگ میں ‘سکونِ قلب’ ہی
    اصل مالِ غنیمت ہے۔

    اب اگر ہم جدید میڈیکل سائنس اور نفسیات کی تحقیقات کا مطالعہ بھی کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہت ساری بیماریاں زیادہ کھانے اور زیادہ نیند سے سامنے آتی ہیں۔

    ہم اگر اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا شروع کر دیں تو دین اور دنیا کی تمام تر دولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

    کسی نے کیا خوب کہا ہے:
    نفس کے خلاف جہاد کیے بغیر
    الله سے وفاداری ممکن ہی نہیں ہے

    Bobswiffey

    Bobswiffey is a freelance Journalist on Baaghitv For more details about visit twitter account

    Bobswiffey Twitter Account handle

    https://twitter.com/Bobswiffey

     bsp;

  • جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی  تحریر:  محمد آصف شفیق

    جھوٹ : معاشرے میں تیزی سے پھیلتی برائی تحریر: محمد آصف شفیق

    آجکل ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک جھوٹ بھی ہے آئیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جھوٹ سے بچنے کے حوالے سے ہمیں کیا فرمایا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤوں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، اس وقت آپ ﷺتکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے، پھر (سیدھے ہوکر ) بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ﷺاسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپﷺ خاموش نہ ہوں گے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 936

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا: یا آپﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یاجھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 937
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1047
    سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1048

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1049

    مسدد نے بواسطہ بشر اس طرح حدیث بیان کی، کہ آپﷺ تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ سن لو جھوٹ سے بچو اور اس کو بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1227
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، اور جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔ یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1801
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو توڑ ڈالے جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے سفیان کی حدیث میں یوں ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی علامت ہو گی۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 212
    حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 261
    ہمیں ہمیشہ سچ بولنا چائیے اور کوشش کرنی چائیے کہ کبھی بھی کسی بھی وجہ سے جھوٹ نہ بولیں
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں جھوٹ سے بچنے اور ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

    جدہ ۔ سعودیہ
    @mmasief

  • پاکستان کا اصل دشمن کون؟؟  تحریر:- فرمان اللہ

    پاکستان کا اصل دشمن کون؟؟ تحریر:- فرمان اللہ

    پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ تو ہر کوئی جانتا ہے جو لوگ پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں جو دہشت گردوں کو ٹرینڈ کرکے پاکستان بھیج رہے ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس بات انکشاف وہ خود بھی کر رہے ہیں وہ کون ہے وہ افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ایجنٹ وہ کروا رہے ہیں پاکستان میں دہشت گردی تمام دہشت گردوں کو افغانستان میں بھارت کے ساتھ مل کر افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ایجنٹ ٹریننگ دیتے ہیں اور وہاں سے ان کو اسلحہ دے کر بارڈر کراس کرواکے پاکستان میں داخل کرواتے ہیں

    این ڈی ایس کے ان تمام دہشت گردوں کو پی ٹی ایم اور دیگر سرخے سپورٹ کرتے ہیں جیسے کہ محمود خان اچکزئی ہوگیا اسفندیار ولی خان ہو گیا اور بی ایل اے کی طرف سے ماما قدیر ہو گیا یہ تمام لوگ ان دہشتگردوں کو سہولت بھی فراہم کرتے ہیں اور ان کو ہر طرح کی سپورٹ بھی کرتے ہیں

    پی ٹی ایم کو افغان ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی را نے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کا انتشاری اور سہولت کاری کا ونگ بنایا جو ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرتی ہے اور ٹی ٹی پی کے تمام دہشت گردوں کو پی ٹی ایم اور دیگر سرخے اپنے گھروں میں پناہ دیتے ہیں اور پی ٹی ایم تمام تر ہدایات ٹی ٹی پی کو فراہم کرتی ہے جس کے مطابق ٹی ٹی پی پشتونوں کو قتل کرتی ہے اور انہیں پشتونوں کے لاشوں پر پی ایم سیاست کرتی ہے اور الٹا ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرتی ہے اصل میں ان کو مروانے والے بھی پی ٹی ایم والے خود ہی ہیں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ہاتھوں

    اب یہ ہوئی بات پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغان ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ ہے اور ان کے پالے ہوئے دہشت گردوں کو پاکستان میں پناہ پی ٹی ایم اور دیگر سرخے دیتے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کروا کے پاکستانیوں کا خون بہا کہ افغان ایجنسی والے بہت خوش ہوتے ہیں جن کے ساتھ ساتھ پی ٹی ایم والے بھی خوش ہوتے ہیں جس دن بھی پاکستان آرمی کا کوئی جوان ہو بی ایل اے کے ہاتھوں یا ٹی ٹی پی کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے اس دن پی ٹی ایم والے جشن مناتے ہیں

    تمام تر لوگوں کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے اور تمام تر لوگوں کی آنکھیں کھل بھی چکی ہیں پی ٹی ایم اور دیگر قوم پرست سرخوں کے خلاف یہی لوگ ہیں جو ایک طرف سے امن کا نعرہ لگاتے ہیں دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ذریعے دہشت گردی کرواتے ہیں اور لوگوں کو مروا کر انہیں لوگوں کے اوپر پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور امن کی بات کرتے ہیں لیکن اصل میں یہی دہشت گرد اور تمام کر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں جس دن ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مارے جاتے ہیں اس دن پی ٹی ایم میں مایوسی اور غم اور غصہ ہوتا ہے اور اگر اسی دن پاکستان آرمی کے جوان شہید ہوتے ہیں تو پی ٹی ایم والے خوش ہوتے ہیں

  • صبر کامیابی کی کلید ہے  تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صبر کامیابی کی کلید ہے تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    آپ نے غالبا یہ کہاوت سنی ہے کہ "صبر کامیابی کی کلید ہے”جو معاشرتی ، مذہبی ، نسلی ، صنف یا کسی دوسرے عوامل سے غیر متعلق ہے جو لوگوں کو ممتاز کرتا ہے۔

    کیمبرج لغت کے مطابق ، صبر کی تعریف انتظار کرنے کی صلاحیت ، یا مشکلات کے باوجود کچھ کرنا جاری رکھنے ، یا شکایت کیے بغیر یا ناراض ہونے کے بغیر تکلیف برداشت کرنے” کے طور پر کی گئی ہے جہاں کسی بھی شخص کو ان جذبات کا سامنا کرنا پڑتا۔.
     
    لیکن ہائی اسکول میں اساتذہ نے زور دیا کہ صبر کرنا آپ کا وقت لے رہا ہے۔, مثال کے طور پر, امتحان کے دوران طے شدہ پورے وقت کا استعمال کریں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں کے بہترین جواب میں یا ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے وقت تمام سوالات کا پوری طرح سے جواب دے سکیں۔, اپنا وقت لگائیں تاکہ اس سے کسی قسم کی خلل یا حادثات نہ ہوں۔.
     
    لہذا ، ایک بار بار چلنے والا تھیم تھا جس کا تجربہ میں نے ہائی اسکول میں صبر کے ساتھ کیا تھا جس میں آپ کے عمل کرنے سے پہلے سوچنے میں وقت لگتا تھا۔. اس کا مطلب یہ تھا کہ وقت کے ساتھ خود کو اس لمحے سے نکال دو اور میرے عمل کو دیکھیں چاہے وہ جائز ہوں یا نہیں۔. اس نے مجھے اپنے غصے کو ایک حد تک قابو کرنے کی اجازت دی لیکن صبر کی تعلیم کے بارے میں یہ صرف برفانی چوٹی تھی۔.شاید اس حقیقت کی وجہ سے ، کسی بچے کو اپنی صورتحال کو سمجھنے کی ذہنی تیاری نہیں ہوگی اور وہ شاید کسی اور لیکچر کو سننے سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا ، یہ بتانے سے بہتر ہے۔.

     صبر اور اس کے فوائد کے بارے میں بے شمار تحقیقی اور علمی مضامین موجود ہیں جو اس شخص کی ذہنی اور جسمانی حالت پر پڑتا ہے جو کم سے کم اس وقت ہائی اسکول میں مناسب طریقے سے نہیں پڑھایا جاتا جب میں نے زیادہ عرصہ پہلے شرکت نہیں کی تھی۔. شاید اس حقیقت کی وجہ سے ، کسی بچے کو اپنی صورتحال کو سمجھنے کی ذہنی تیاری نہیں ہوگی اور وہ شاید کسی اور لیکچر کو سننے سے نفرت کرتے ہیں ، لہذا ، یہ بتانے سے بہتر ہے۔. 

    جب مجھے بچپن میں ہی کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، یا تو کسی کھیل میں یا حقیقی زندگی کی صورتحال میں ، میں عام طور پر حل کا آسان ترین راستہ تلاش کرتا تھا لیکن اگر میں ایسا نہیں کرسکتا تو میں ہار مان لوں گا۔. تاہم ، میرا رویہ برسوں کے دوران تبدیل ہوتا ہے ، ہار ماننے کے بجائے ، میں کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا سکون زون چھوڑنا ہے مثال کے طور پر جب کلاس کے سامنے ریاضی کی مساوات کرنے پر مجبور کیا گیا کہ مجھے پہلے ہی غلط ہو گیا ، میں نے برقرار رکھا کوشش کرنے پر.
     
    تاہم ، صبر کرنے اور اپنا وقت ضائع کرنے میں فرق ہے۔. اس کی طرف کام کرنے کے بجائے کسی موقع کا انتظار کرنا تاخیر ہے جو ایک سنگین مسئلہ ہے جو بہت سے لوگوں کو خاص طور پر یونیورسٹی کے طلباء میں شامل ہے کیونکہ انہیں آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنا وقت استعمال کریں۔. لہذا ، اسائنمنٹ کو مکمل کرنے کے بجائے یا۔
     
    لوگوں کے ساتھ صبر کرنا اب تک ایک سب سے مشکل کام ہے کیونکہ نہ صرف آپ ان میں قیمتی وقت خرچ کر رہے ہیں بلکہ حتمی نتیجہ آپ کو مایوس کرسکتا ہے۔. دوسری طرف ، ان کے ساتھ صبر کرنے سے دیرپا صحت مند تعلقات پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو زہریلے تعلقات میں صبر کرنا چاہئے۔.
     
    بےصبرا ہونے کا سب سے مشکل پہلو اپنے آپ سے ہے۔. کوئی بھی کامل نہیں ہے اور ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے آپ سے صبر کرنا کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، آپ کو کامیابی کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔.

    تحریر حمزہ احمد صدیقی

    ‎@HamxaSiddiqi

  • آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟   تحریر: سحر عارف

    آخر کب تک عورت تشدد سہتی رہے گی؟ تحریر: سحر عارف

    عورت اللّٰہ تعالٰی کا سب سے انمول تحفہ ہے لیکن عورت پر تشدد ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کبھی اس پہ جنسی تشدد ہوتا ہے تو کبھی جسمانی تشدد۔ یہ بات سرے سے سمجھ میں نہیں آتی کہ جو مرد عورتوں پہ تشدد کرتے ہیں ان کے نزدیک آخر عورت کیا ہے؟ آخر مرد کی نظر میں عورت کیا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا اسے انسانوں کی طرح جینے کا حق نہیں؟ آخر کب تک عورت ظلم سہتی رہے گی؟ مرد کو اللّٰہ نے عورت سے ایک درجہ بلند اس لیے نہیں دیا کہ وہ عورت پر تشدد کر سکے بلکہ اس لیے دیا کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے۔ نکاح کی صورت میں عورت کو اللّٰہ کی امانت کے طور پر مرد کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ پر افسوس آج پھر جہالت اپنے قدم اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک سے ایک واقعہ جو منظر عام میں آتا ہے دل دہلا دیتا ہے۔

    اسی طرح کا ایک واقعہ جو کچھ روز قبل 15 جولائی کی رات قوم کی بیٹی قرةالعین کے لیے ایک بھیانک رات ثابت ہوئی۔ کوئی قیامت نہیں آئی کوئی زمین نہیں پھٹی جب چار بچوں کی ماں کو انہیں کے سامنے ان کے باپ نے کس قدر درندگی سے تشدد کر کے قتل کردیا۔ بچے سے دہائیاں دیتے رہے قوم کی بیٹی قرةالعین اپنی زندگی کے لیے گڑگڑاتی رہی اپنے شوہر سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی پر افسوس عمر میمن جو کہ نشے کی حالت میں چور تھا کسی کی ایک نا سنی اور اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قرةالعین بلوچ کی شادی 2012 میں عمر میمن جو کہ سابق سیکرٹری آبپاشی سند خالد حیدر میمن کا بیٹا ہے اس سے ہوئی۔ شادی کے ایک دو سال تک تو سب ٹھیک رہا پر پھر جیسے جیسے شادی آگے بڑھتی گئی عمر میمن اپنے بیوی بچوں پر تشدد کرنے لگا۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا ہے کہ عمر میمن ایک شرابی ہے۔ وہ بات بات پر میری بہن کو مارتا پیٹتا اور بچوں پر بھی تشدد کرتا ان کے سر پھاڑ دیتا، ہاتھ توڑ دیتا۔ اکثر اوقات میری بہن کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا اور دوسری عورتوں کو گھر بلوا کر عیاشی کرتا۔ قاتل کے والد کو اس تمام صورتحال کا علم تھا اور وہ اکثر کہتے تھے کہ اگر میرے بیٹے کو گرفتار کروایا تو میں اسے دوبارہ باہر نکلوا لوں گا۔

    15 جولائی کی قیامت خیز رات جب عینی کا قتل ہوا تو اس کی بڑی بیٹی رامین زہرہ جس کی عمر نو سال ہے اس نے اپنی ماں کا قتل ہوتے دیکھا وہ چھوٹی سی بچی جس نے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا اس کے ننھے دماغ پر کتنا بھیانک اثر پڑا ہوگا۔ پر عمر میمن، انسان نما حیوان کو زرا ترس نا آیا۔ نشے سے چور جب گھر لوٹا تو جانوروں کی طرح اپنا شکار تلاش کرنے لگا۔ بیٹی کو کیا خبر تھی کہ شکار اس ماں بن جائے گی پر ہوش تب آیا جب عمر میمن کے ہاتھوں اپنی ماں کو پیٹتے دیکھا۔ بچی تھی نا رونے سسکنے کے علاؤہ کیا کرسکتی تھی۔ جیسے جیسے رات بڑھتی گئی عمر کے تشدد میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عمر میمن نے تشدد کر کر کے جب تھک گیا تو بیوی پہ ٹھنڈا پانی ڈالنا شروع کردیا اور ٹھنڈے پانی سے بھگانے کے بعد اےسی کے نیچے پھینک دیا۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی جب اس حیوان کی حیوانگی ختم نا ہوئی تو آخر میں اپنے ہی بچوں کی ماں کا گلا دبا کے عینی سے اس کی سانسیں چھین لی۔ بچے خوف کی حالت میں اس بات سے بے خبر کھڑے تھے کہ ان کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔

    مقتولہ کی بہن کا کہنا تھا کہ جب ہم نے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کٹوانی چاہی تو پہلے پولیس نے منع کردیا اور اب جب ایف آئی آر درج ہوگئ ہے تو پھر بھی پولیس اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ مسلسل اسی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ پولیس کی یہ کوشش رہی کہ جب پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ آئے تو اس میں کسی طرح ردوبدل کر کے قتل کو خودکشی کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مجرم کو بچایا جاسکے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مقتولہ میں شدید تشدد ہوا تھا۔ اگر اب بھی ہم چپ کرکے بیٹھ گئے تو ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور درندہ آزاد ہوجائے گا۔ لیکن ہم چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے ہم انصاف کی خاطر لڑیں گے۔

    اسی سلسلے میں ٹوئیٹر پر ‘جسٹس فار قرةالعین’ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا۔ اس کے علاؤہ مقتولہ کے لیے موم بتیاں جلا کر کئی روز تک احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے اور عینی کو انصاف دلوائیں ٹھیک اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود عوام نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عمر میمن کو پھانسی دی جائے تاکہ اس جیسے باقی درندوں کے لیے سبق ہو اور دوبارہ کوئی دوسری عینی ایسی حیوانیت کا شکار نا ہو۔

    ہم سب کو مل کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ہمیں عینی کے ساتھ ساتھ ان تمام عورتوں کی بھی آواز بننا ہوگا جو دنیا سے ڈر کر خود پہ چپ کرکے تشدد سہتی رہتی ہیں۔ اور پھر ماں باپ کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین ہونے کا صحیح حق ادا کرتے ہوئے جب بیٹیوں کو رخصت کریں تو انھیں یہ بات ذہن نشیں کروا کے بھیجیں کہ اگر یہ انسان نما شخص جانور نکل آئے تو بغیر کسی ڈر اور خوف کے واپس چلی آنا۔ اگر ایسا ہوجائے تو یقین جانیں اس دنیا میں بہت سی عورتیں شوہر کے ہاتھوں تشدد کی وجہ سے قتل ہونے سے بچ جائیں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ماں باپ دنیا داری کا سوچتے ہوئے اور بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر چپ سادھ لیتے ہیں اور بیٹیاں ان کی عزت کا پاس رکھتے ہوئے خود پر تشدد ہونے دیتی ہیں۔

    @SeharSulehri

  • قانون کی آڑ میں لا قانونیت  تحریر  : راجہ ارشد

    قانون کی آڑ میں لا قانونیت تحریر : راجہ ارشد

    ۔

     موجودہ حکومت کو پاکستان کی بھاگ ڈور ایک ایسے وقت میں سنبھالنی پڑی جب ملک میں مسلہ ،مسائل نہیں بلکہ مسائلستان بنا ہوا تھا۔ سب سے بڑا مسلہ قانون کی بے بسی تھا۔

    یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں قانون کی ناانصافی ہو وہاں معاشرے کی مکمل بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور یہ واحد بندہ ہے عمران خان جو مسلسل اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہ ہو۔سب کے لیے قانون برابر ہو۔

    ہمارے ہاں مجرموں کی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ۔پہلی قسم کے مجرم گلی محلے کے چھوٹے موٹے چور اچکے ہیں جن کو پکڑنے کے لئے قانون فورن حرکت میں آتا ہے۔فوری طور پر قانون ان چوروں کو پابند سلاسل کرتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق جیلیں لاکھوں کی تعداد میں اس قسم کے مجرموں سے بھری پڑی ہیں۔

    دوسری قسم کے مجرم وہ ہوتے ہیں جن کے پوچھے علاقے کے بااثر لوگوں کے ہاتھ ہیں۔ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے قانون ان کے پشت پناہی کرنے والے بااثر لوگوں سے پوچھ کر حرکت میں آتی ہے گرین سگنل نہ ملے تو قانون اور اس کے رکھوالے چپ سادھ لیتے ہیں ۔

    تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خود تھانے سنبھالتے ہیں مجرم بھی خود وکیل بھی خود اور خود ہی جج بھی ہیں۔
    آچھا یہ مجرم ہمارے معاشرے میں معزز بھی کہلاتے ہیں۔

    اس قسم کے مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے جاو تو پورا پولیس سٹیشن والے آپ کو اس ایف آئی آر کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

    ان مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے وقت محرر کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو ان پر چھاپے مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وکلا صاحبان ان کا نام سن کر کیس نہیں لیتے۔ منصف  ان کے خلاف فیصلہ نہیں لکھ سکتے۔

    مطلب ان مخصوص مجرموں نے ملک اور ریاستی اداروں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان کی تعداد بھی کم ہے۔
    ان حالات میں معاشرہ خاک آگے بڑھے گا۔
    ملک کیسے ترقی کرے گا۔
    اللہ کا کرم ہے اب عمران خان تیسری قسم کے مجرموں کو پابند سلاسل کئے جا رہا ہے تو اے پی ڈی ایم والو
    کیوں روڑے اٹکانے کی ناکام کوشش میں لگے ہو۔

    کب تک لاقانونیت اور دہشت پھیلانے والوں کی پشت پناہی کرو گے۔اب مزید یہ ملک ان حالات کا متحمل نہیں ہو سکتاہمیں اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چاہیئے جس کی کوشش عمران خان کر رہا ہے۔

    @RajaArshad56

  • جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    جڑواں بہنیں تحریر: حُسنِ قدرت

    آج کا موضوع دو جڑواں بہنوں پہ ہے جو ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہیں جی ہاں! بالکل الٹ بات ہو رہی ہے دیانت اور بد دیانتی کی کہ یہ کیسے ہمارے معاملات زندگی میں اثر انداز ہوتی ہیں
    ذندگی میں ہمارا مخلتف لوگوں کےساتھ واسطہ پڑتا ہے اور ہمیں مختلف قسم کے معاملات کرتے ہوئے زندگی گزارنی پڑتی ہے یہ معاملات یا معاہدات کسی بھی نوعیت کے ہو سکتے ہیں جیسا کہ سیاسی ،سماجی یا معاشی نوعیت کے اور یہ معاملات ہر حالت میں اکثر دونوں طرف کے لوگوں کےلیے آزمائش ہوتے ہیں کیونکہ یہاں جب اپنے نفع کو سامنے رکھا جاتا ہے تو وہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دوسرے انسان کا میری وجہ سے کوئی نقصان نہ ہو یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرے فریق کو ممکنہ فائدہ ہو
    دیانت داری،ایمانداری کبھی بھی شکست نہیں کھائی سکتی اور وہیں جو بندہ خیانت کرتا ہے اسکی خیانت کبھی بھی پروان نہیں چڑھتی
    خیانت سے کمایا ہوا رزق یا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں نقصاندہ ثابت ہوجاتا ہے
    جب ہم اپنی اردگرد چیزوں کا بغور معائنہ کرتے ہیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دیانت کو فرار نہیں اور خیانت کو قرار نہیں
    مثلاً :ایک بندہ خیانت کرتا ہے حرام مال کماتا ہے اپنا معیار زندگی بلند کرتا ہے اپنے بچوں کو اعلی سکول میں پڑھاتا ہے اسکے برعکس ایک انسان رزق حلال کماتا ہے اپنے بچوں کو چھوٹے سکول میں پڑھاتا ہے اور انہیں حسب توفیق کھلاتا ہے تو اکثر دیکھنے کو یہ نتائج ملتے ہیں کہ خیانت کے مال سے معیارِ زندگی بلند کرنے والے کی اولاد بڑے سکولوں میں پڑھنے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتی اور اس غریب مگر دیانت دار اور حلال کمانے ،کھلانے والے کی اولاد پڑھ لکھ اور سنور جاتی ہے
    جو لوگ بددیانتی،دھوکہ دہی اور خیانت سے پیسہ بناتے ہیں انہیں زندگی میں کبھی بھی قرار حاصل نہیں ہوتا انکی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے وہ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہی رہتے ہیں جبکہ ایک دیانت دار انسان اپنے آپ کو منوا کر رہتا ہے
    جب کوئی انسان خیانت سے مال کماتا ہے یا رشتوں میں خیانت کرتا ہے تو وہ خیانت اسکی ذات پہ بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے بددیانتی،عدم سچائی اور دھوکہ دہی اسکےلیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں جیساکہ سائنسی ضابطہ ہے ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے تو یہ بات ہمارے جسم سے نکلنے والے اور ہم سے سرزد ہونے والے اعمال پر بھی پوری اترتی ہے جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ حشر کے روز سب کو ان کے اعمال کی سزا ملے کی اور جزا بھی لیکن یہ سلسلہ صرف وہیں کے لیے محدود نہیں اس پہ تو عمل دنیا میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے برے اعمال کی جو فصل بوئی تھی وہ پک کر کٹنےکو تیار ہو چکی ہے
    بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے کام کرنے والا انسان کچھ بھی کر لے خود کو مضر اثرات سے نہ نہیں بچا سکتا کیونکہ کوئی بھی انسان قدرت کے بنائے ہوئے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا
    چونکہ دیانت اور بد دیانتی جڑواں بہنیں ضرور ہیں لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے الٹ کام کرتی ہیں اور انکے نتائج بھی ایسے ہی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اسلیے انکی طرف راستے بھی مختلف جاتے ہیں اور انعام بھی اب اوپر لکھی گئی مثال سے آپ لوگوں نے سمجھا ہوگا کہ دیانت کا راستہ بظاہر بہت تکلیف اور جدوجہد والا ہے جبکہ اسکا انعام دائمی خوشی ،آرام اور سکون ہے جبکہ بددیانتی کی طرف جانے والا راستہ بظاہر آسان،خوبصورت اور پر تعیش ہے جبکہ اسکا انجام رسوائی ،پریشانی اور احساسِ جرم ہے اب یہ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں اور ان جڑواں بہنوں میں سے کسے پسند کرتے ہیں.
    Twitter: @HusnHere

  • تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ  تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم کی کمی، غربت ایک وجہ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ایک درخت کی طرح ، غربت کی بھی بہت سی جڑیں ہیں۔ لیکن عالمی غربت کی بہت سی وجوہات میں سے ایک عنصر کھڑا ہے” تعلیم”

    تعلیم کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے مگر بدقسمتی سے ، پاکستان میں تعلیم کے شعبے کی حالت بہت خستہ ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں بھی اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے جس کے باعث ان کے بچوں کو بھی غربت میں زندگی گزارنی پڑتی ہے

    ہمارے ملک میں معیاری تعلیم کی کمی 21 ویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے سے قاصر ہے غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیم کے متحمل نہیں ہیں۔. اس کے علاوہ ، حکومت کی غفلت صورتحال کو مزید مایوس کررہی ہے۔

    اگرچہ تعلیم کے فروغ کے لئے مختلف حکومتوں کے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، لیکن خواندگی کی شرح دہائی کے دوران 56٪ پر ہے۔. کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ، سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے ناقص کلاس رومز ، پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات ، بجلی کی کمی ہے۔

    نجی شعبہ اس سلسلے میں قابل ستائش کام کر رہا ہے۔. لیکن اس شعبے کا مقصد کمانے والی رقم ، تعلیم ناقص کی رسائ سے بالاتر ہے۔ پاکستان میں یونیسکو کے ذریعہ دی جانے والی بنیادی تکمیل کی شرح خواتین میں 33.8٪ اور مردوں میں 47٪ ہے ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے 6 ویں سب سے بڑے ملک میں لوگ بنیادی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں

    حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ اگر ہم غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو غریب لوگوں کو پڑھنے کی سہولتيں دیں انہیں تعیلم دلاٶں کیونکہ تعلیم کو اکثر ایک عظیم مساوات کے طور پر جانا جاتا ہے اس سے ملازمتوں ، وسائل اور مہارتوں کا دروازہ کھل سکتا ہے جس کی وجہ سے ایک کنبہ کو نہ صرف زندہ رہنے کی ضرورت ہے بلکہ ترقی کی منازل طے کرنا ہے۔

    ‎@JahantabSiddiqi

  • صنعت اور کتابت میں فرق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    صنعت اور کتابت میں فرق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    آج کا موضوع پاکستان میں موجود نظام تعلیم کے ایک مخصوص حصہ سے متعلق ہے. جس پر توجہ وقت کی اشد ضرورت ہے. پاکستان میں ہر شعبہ زندگی کے لیے نصاب تو موجود ہے لیکن اس ہر ریسرچ کے مواقع اور ورکشاپس کی شدید قلت ہے. جس سے آنے والی پڑھی لکھی قوم انڈسٹری میں جاتے ہی اپنا مقام حاصل نہیں کر پاتی. ایک طویل عرصہ اور تجربہ اس زمدہ میں درکار ہوتا ہے. المختصر جو تعلیم حاصل کی جاتی ہے یا جو اعدادوشمار سیکھے جاتے ہیں اس کا حقیقی زندگی میں یا انڈسٹریل زبان میں استعمال موجود ہی نہیں ہوتا. نصاب کے اندر دی گئ ریسرچ پر جب عملی ورکشاپس میں تجربہ کیا جاتا ہے تو وہ حقیقت سے قدرے مختلف دکھائی جاتے ہیں. 16 سے 18 سال بچے تو تعلیم حاصل کرتے گزرتے ہیں لیکن وہ اپنے اصل مقصد میں کامیاب نہیں ہو پاتا. شعبہ انجینئرنگ میں جو تحقیقات اور ان پر جو پریکٹس کروائی جاتی ہے عملی زندگی میں اس میں بہت فرق ہوتا ہے. جس سے نت نئی ایجادات اور نت نئے طریقے متعارف کروانے کی بجائے پچھلی تصحیحات کو سمجھنے میں کئی قیمتی سال ضائع ہو جاتے ہیں. اور جو وقت بچتا ہے اس میں طالب علم اپنی نوکری کو پکا کرنے کے گر سیکھنے اور آزمانے میں وقت گزار دیتا ہے.
    پاکستان میں ریسرچ اور نت نئی ایجادات کے فقدان کی ایک بہت بڑی وجہ نصاب کا انڈسٹریل ضرورت کے مطابق نا ہونا ہے. ریاضی کے انگنت ایسے باب جن کا عملی زندگی میں آج تک سراغ نہ مل سکا.
    انجینئرنگ کے قوانین جو پاور اور ہیٹ سے متعلقہ ہیں عملی زندگی سے بہت مختلف ہیں. الغرض پڑھی گئی چیزوں کو من و عن اگر عمل پیرا کر دیا جائے تو کتابوں کی ریسرچ پر بنی ہوئی عمارت گرنے لگے. پاور سٹیشن کی ٹربائن گھومنے سے انکار کر دے. بوائلر اور اس جیسے تھرمل آلات گرم ہونے کی بجائے ٹھنڈک دیں اور تو اور کولنگ سٹیشن اور ٹھنڈک کے آلات آگ سیکنے کے کام آئیں. حقیقتاً یہ مزاق لگتا ہو گا لیکن حقیقت کچھ ایسی ہی ہے. یہاں کانسٹنٹ اور فیکٹر کے نام پر ایسی ایسی بلاوں سے واسطہ پڑتا ہے جنہیں سمجھنے سالوں لگ جاتے ہیں.
    ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اس نے زندگی کے 18 میں سے کوئی کم از کم 7 سے 8 سال ضائع کئے ہیں.
    وقت کی ضرورت ہے کہ انڈسٹریل کانسٹنٹ اور فیکٹرز پر ریسرچ کر کہ انہیں نصاب کا حصہ بنایا جائے. تعلیم کے نصاب میں اصطلاحات لائی جائیں. ہر شعبہ ہائے سے متعلق ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو عملی طور پر نصاب میں موجود کمی کو دور کرے اور اسے اپگریڈ کرے. تاکہ پڑھنے والے طلبہ اور طالبات کمرہ جماعت سے ہے حقیقی عمل سے قریب تر ہو کر روشناس ہوں اور صنعت اور تجربہ گاہ کے علم میں موجود اس فرق کو کم سے کم کر کے ریسرچ کی راہ ہموار کی جا سکے.
    پاکستان میں زیادہ سے زیادہ ریسرچ سینٹر قائم ہوں جن کو جدت اور انڈسٹری کے تعاون سے اس قدر فعال کیا جائے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انڈسٹری کی فوری ضرورت کو پورا کیا جا سکے. جب کوئی شعبہ صنعت متعارف کرایا جاتا ہے تو اس سے متعلق نصاب پر ریسرچ شروع تو ہو جاتی ہے. لیکن اس صنعت کے حقیقی علم اور کتابی مفروضات میں فاصلہ بڑھتا جاتا ہے. حتیٰ کہ یہ فاصلہ بڑھتے بڑھتے اس صنعت کے لیے خاص فائدہ مند ثابت نہیں رہتا. نصاب تو چھپتے ہیں لیکن ہوتے ہوتے حقیقت سے کہیں مختلف ہو جاتے ہیں. اس فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے. ہر شعبہ سے وابسطہ نصاب کو وقت کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں اور صنعت کے جدید قوانین سے متعارف کرانا بہت ضروری ہے. تاکہ صنعت اور کتابت کے اس فرق کو حتیٰ الامکان ختم کیا جا سکے.

    @EngrMuddsairH

  • شُکر گزاری ایک نعمت تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شُکر گزاری ایک نعمت تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    ہر انسان اپنا موازنہ اپنے اردگرد لوگوں سے کرتا ہے تاکہ وہ جان سکے کہ اس میں کون سی خوبیاں اور کونسی خامیاں ہیں ،اسے کن چیزوں کو مزید بہتر کرنا ہے اور کن چیزوں میں وہ اچھا ہے لیکن اکثر اوقات جب انسان یہ کرتا ہے تو وہ بہت زیادہ گہرائی میں جا کر موازنہ کرتا ہے حسد اور جلن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بہت زیادہ ناخوش رہنے لگ جاتا ہے اسلئے انسان کو چاہیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرنے پہ کام ضرور کرے- اپنی چیزوں صلاحیتوں یا نعمتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا بنتا ہی نہیں کیونکہ ایسا کرنے والا انسان بہت زیادہ پریشان اور غم زدہ رہتا ہے
    اکثر لوگ اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی چیز یا نعمت کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں جو کہ انکے پاس موجود ہوتی ہے ایسے وہ خواہ مخواہ اپنے پریشانی خرید لیتے ہیں

    جیسے کسی کے پاس موبائل فون ہے اور کسی دوسرے انسان نے اسکے سال بعد لیا لیکن کمپنی تھوڑی سی اچھی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس نے کتنے عرصے بعد لیا وہ صرف یہ موازنہ کرکے دکھی ہوگا کہ اسکے پاس میرے سے زیادہ اچھی کمپنی کا فون ہے- کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے انکے پاس جو کار ہے اسکا موازنہ دوسرے کی کار سے ،اپنے
    بیگ کا موازنہ دوسرے کے بیگ سے،اپنی گھڑی کا موازنہ دوسرے کی گھڑی سے اور یہاں تک کہ لوگ دوسروں کے پاکٹ میں لگے قلم تک کی قیمت کا موازنہ اپنے پاکٹ میں لگے قلم کی قیمت سے کرتے ہیں اور اپنی آل اولاد تک کا موازنہ بھی دوسروں کی آل اولاد سے کر رہے ہوتے ہیں
    اپنی شے کا موازنہ کسی دوسری شے سے کرنا بہت بڑی بے وقوفی ہےاس کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی ۔ہم کسی بھی عہدے پر ہوں کسی بھی سطح پر ہوں کچھ لوگ ہم سے کم تر ہوتے ہیں اور کچھ برتر (یہاں کمتر اور برتر کے الفاظ صرف فرق سمجھانے کی خاطر ہیں ) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک فرد ایک معاملہ میں ہم سے بہتر ہو تو دوسرے میں ہم سے کمتر ایسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ایک خوبی ہم میں ہو اور وہ خوبی دوسرے انسان میں نہ ہو
    موازنہ کرنے کی عادت بہت خطرناک ہے یہ جن لوگوں میں پائی جاتی ہے وہ عموماً ان چیزوں ک لے کر پریشان ہوتے ہیں جو ان میں نہیں وہ کبھی اپنے پاس موجود نعمت سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے

    یہ رویہ انہیں اس قدر پریشان رکھتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ہر انسان سے حسد کرتے ہیں دنیا کا تو دستور ہی بدلنا ہے تو پھر کیسی پریشانی ہر انسان پہ اچھے برے حالات آتے ہیں اسلیے ہم سب کو چاہیے کہ ہم لوگ لا حاصل پہ جلنے کڑھنے کے بجائے موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کریں اور موازنہ کے نقصانات جن میں ناامیدی،حسد ،بلڈپریشر اسکے علاؤہ کئی ذہنی و جسمانی بیماریاں شامل ہوتی ہیں
    ان سے بچنے کیلیے ضروری ہے کہ ہمیں اس عادت کو ترک کر دینا چاہیئے،خود سے بہتر لوگوں کے بجائے اپنے سے کم تر سے موازنہ ہو تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رب باری تعالیٰ کی کتنی لاتعداد نعمتوں سے ہم فائدہ ہیں جو کروڑوں دیگر افراد کو میسر نہیں ہیں

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

     

    Follow @IamYasif