Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پنجابی زبان   تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان تحریر : مقبول حسین

    پنجابی زبان نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں بولی جاتی ہے بلکہ یہ کینیڈا ، برطانیہ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر تمام ممالک میں بھی بولی جاتی ہے جہاں جہاں بھی پنجابی تارکین وطن موجود ہیں وہاں پر پنجابی زبان بولی جاتی ہے ۔ برصغیر میں ، دو بڑے گروہ ہیں جو پنجابی کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں مشرقی پنجاب کے سکھ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مغربی حصے میں رہنے والے پنجابی۔ ہندوستان کی ایک ریاست پنجاب میں پنجابی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیتی ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے گورموکی اسکرپٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جسے مشرقی پنجاب بھی کہا جاتا ہے جبکہ اسکرپٹ جو پاکستانی پنجاب میں پنجابی زبان لکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جسے مغربی پنجاب کہا جاتا ہے اسے "شاہ مکھی” کہا جاتا ہے ۔ مشرقی پنجاب کے رہائشیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو سکھ ہیں ، وہ اپنی زبان کے بارے میں بہت خاص ہیں اور اسے وقار اور فخر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ سکھ برادری کے ایک عام تاثر کے مطابق ، اگر کوئی سکھ پنجابی نہیں بول سکتا ، تو اسے جعلی سکھ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے سکھوں کا تعلق رہائش پزیر بین الاقوامی برادری سے ہے اور وہ کبھی ہندوستان کے اصل مقام تک نہیں رہے ، یہاں تک کہ وہ مہارت کے ساتھ پنجابی زبان بھی بول سکتے ہیں ۔
    پاکستانی پنجابیوں کی بات کرتے ہوئے ، پنجابی پاکستان میں اکثریتی آبادی کی مادری زبان اور صوبہ پنجاب کی صوبائی زبان ہے ۔ فوج اور بیوروکریسی جیسے طاقت کے شعبوں میں پنجابی بولنے والی برادری کا غلبہ ہے۔ بدقسمتی سے ، یہ تسلط ان کی زبان کی حیثیت سے ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ خود پنجابی کے علاوہ کوئی بھی اپنی زبان کو فروغ دینے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ جیسا کہ زیدی کے مطابق ، وہ اسے رسمی ترتیبات میں استعمال نہیں کرتے ہیں ، لہذا یہ صرف غیر رسمی بات چیت جیسے معمولی کام انجام دیتا ہے۔ تاریخی بصیرت کے تناظر میں پنجابی زبان کی موجودہ کم حیثیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ انگریزوں کے آنے اور نوآبادیاتی آباد ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں نے کافی عرصہ تک ہندوستان پر حکومت کی۔ مسلم حکمرانی کے دوران ، فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور انتظامیہ اور عدلیہ جیسے اقتدار کے ڈومینز میں بڑے پیمانے پر مستعمل تھی۔ اس وقت ، ہندوستان کی تمام مقامی زبانیں ترقی کر رہی تھیں کیونکہ ان میں سے کچھ جیسے پنجابی بھی تعلیم کا ذریعہ تھا۔ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی ، جب انہوں نے اپنا کنٹرول قائم کرنا شروع کیا تو صورتحال بدل گئی ، لہذا انہوں نے انگریزی کے ساتھ فارسی کی جگہ دفتری زبان کی جگہ لے کر ہندوستان کی تعلیمی پالیسی پر روشنی ڈالی اور انگریزی کو بھی ذریعہ تعلیم اور انتظامیہ کا ذریعہ بنایا۔ انگریزی انگریزی اخبارات کی وسیع گردش کے ساتھ اشرافیہ کی زبان کے طور پر ابھری۔ براس کے مطابق ، انگریزوں نے اردو کو شمالی ہندوستانی ریاستوں کی فارسی اور دیگر مقامی زبانوں کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا ۔ صوبہ پنجاب کی فتح کے ساتھ ہی انہوں نے پنجابی کی جگہ اردو زبان سے لے لی کیونکہ انہوں نے اردو کو صوبہ پنجاب کی سرکاری زبان قرار دیا۔ انگریزوں کا مقصد مقامی زبان کو ختم کرنا اور انگریزی کو اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنا تھا۔ انگریز نے پس منظر میں پنجابی کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم اور انتظامیہ میں اردو نافذ کرکے پنجابی زبان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی کو ایک آزاد زبان نہیں سمجھا اور اس کے ساتھ ، انہوں نے یہاں تک کہ پنجابی بولنے والے طبقے کی ثقافت اور ان کی انوکھی شناخت کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ۔ اگلا قدم انگریزی زبان کو ادارہ بنانا تھا اور لارڈ میکالے نے انگریزی کو اشرافیہ اور حکمران طبقے کی زبان قرار دیا۔ انہوں نے اس کے درس اور عمل درآمد کی وکالت کرکے انگریزی زبان اور ثقافت کی فوقیت کو قائم کیا۔ جب دو قومی نظریہ نے مقبولیت حاصل کی تو ، مسلمان اردو کو اپنی مسلم شناخت کا نشان سمجھے جبکہ ہندی ہندو کی شناخت کی علامت بن کر ابھری۔ اس ہندی تنازعہ نے اس صورتحال کو مزید بڑھاوا دیا تھا کیوں کہ پنجابی زبان کو بھی پیچھے دھکیل دیا گیا تھا کیونکہ اس کو سکھوں کی شناخت سمجھا جاتا تھا ۔ صرف سکھوں کے پاس پنجابی زبان اور اس کے ادب کو فروغ دینا باقی تھا ، لہذا انہوں نے اس کو اورینٹل کالجوں میں متعارف کرایا۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں نے پنجابی زبان کو ویران کردیا اور اردو کو اپنی شناخت کا نشان بنا دیا۔ پاکستان کے آزاد ہونے سے پہلے ہی ، پنجابی زبان ایک زبان کی حیثیت سے سماجی ، سیاسی اور معاشی طور پر تکلیف میں مبتلا رہی ہے ۔ اسے کبھی بھی ہندوستان میں ترقی اور خوشحالی کا کوئی موقع نہیں ملا جس پر مغل شہنشاہوں کا راج تھا اور انہوں نے اپنی زبان فارسی کو طاقت کے ڈومین میں ترقی دی۔ اردو ایک فائدہ مند مقام پر تھی کیونکہ اس میں فارسی کے درمیان قریبی لسانی قربت تھی ، ہندی کے ساتھ باہمی رابطے اور پنجابی کے ساتھ ہم آہنگی وابستگی ۔ جب انگریزوں نے اپنی مغل انجمن کی وجہ سے فارسی زبان کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے صوبہ سندھ میں فارسی زبان کو سندھی سے بدلنے کا فیصلہ کیا ، لیکن انہوں نے فارسی کی جگہ پنجابی میں پنجابی نہیں لگایا۔ اردو ان کی ترجیحی انتخاب تھی اور انہوں نے اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر زور دیا کہ پنجابی آزاد زبان نہیں ہے۔ بلکہ یہ اردو کی بولی تھی جس کی معاشرتی قدر کم تھی۔ ان کے فیصلے کی جڑ زبان کو جانچنے کے معاشرتی معیار پر ہے کیونکہ انہوں نے سماجی و سیاسی بنیادوں پر پنجابی زبان کا جائزہ لیا ۔ اگر وہ لسانی خوبیوں پر پنجابی کا جائزہ لیتے ، تو وہ پنجابی زبان کے بھر پور ادب کو نثر اور شاعرانہ دونوں ہی انداز میں اہمیت دیتے۔ وسیع و عریض عرصہ میں پنجابی زبان میں نمایاں ادب شائع ہوا تھا۔ ہیر رانجھا پنجابی زبان میں لکھی جانے والی بہت سی لافانی محبت کی کہانیوں میں سے ایک ہے ، بدقسمتی سے ، پنجابی زبان کی اعلی ادبی قدر کو اس کی کم سیاسی قدر کے خلاف سمجھوتہ کیا گیا۔ پنجابی بھی سکھ شناخت سے وابستہ ہونے کا نقصان کررہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں نے بھی کبھی بھی سیاسی بنیادوں پر اس کی اہمیت کا اعتراف نہیں کیا ۔ پاکستان تحریک کے دوران ہندی کو ہندوؤں کا شناختی نشان قرار دینے میں زبان کی سب سے آسان تقسیم کی عکاسی ہوتی ہے۔ مسلم شناخت اردو سے وابستہ تھی جبکہ پنجابی سکھ شناخت کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر  تحریر: عائشہ رسول

    ‏عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف سفر تحریر: عائشہ رسول

    کائنات کا یہ چھوٹا سا کرہ ارض جسے ہم دنیا کہتے ہیں ایسے کروڑہا کرےّ ہیں جن میں اللہ کی مخلوق ہے . دنیا جہاں میں بسنے والوں کو انسان کہتے ہیں۔
    خالق مطلق کا انسان پر سب سے عظیم احسان یہ ہے کہ اس نے زندگی اور موت کا راز پنہاں رکھاہے…قلوب انسانی اور قلوب حیوانی میں فرق صرف احساس ہے.. اگر انسان کو موت کے وقت کا یقین ہو جائے تو اس کی زندگی میں سے یکسوئی نکل جائے. یکسوئی وہ احساس ہے جس پر زندگی قائم ہے.

    انسان سمجھتا ہے مرجانے کے بعد اس کے سر سے گناہوں کا بوجھ اتر جائے گا. ہاں لیکن وہ بوجھ روح اٹھائے رکھے گی.
    دانائی ایسی میں ہے کی صراط مستقیم پر سے خیرو عافیت سے گزرنے کی تیاری کی جائے
    ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے.
    ہمارا زندگی اور موت پر کیا اختیار ہے. حثیت کیا ہے. منزل مقصود ہمیں معلوم ہونی چاہئے. عذابِ الٰہی اور اذیت قبر کی خبر ہونی چاہئے
    راہ غیر مستقیم پر چلنے والا انسان نہیں جانتا اور نہ جاننے کی کوششں کرتا ہے کہ اس کی ابتدا جراثیم حیات اور اسکی انتہا خوراک حشرات ہے. پہلے وہ اپنی ضروریات زمین سے حاصل کرتا ہے بعد میں اُسکا جسم زمین کی ضرورت بن جاتا ہے. پہلے وہ اسی مٹی سے پیدا ہوا مرنے کے بعد اُسی مٹی ملا دیا جائے گا
    اے غافل انسان ! تیرا سفر عالم امید سے عالم ناامیدی کی طرف ہے. خدا نے جو کچھ تجھے عطا کیا ہے اس پر تجھے اختیار بھی دیا گیا ہے مگر حدود کا تعین بھی کر دیا گیا ہے .اس حد سے آگے مت جاؤ جہاں وہ( اللہ) غضب ناک ہوجائے. اس کے غضب کو جو دعوت دیتا ہے وہ انہیں عبرت بنا دیتا ہے
    دنیا مقامِ الوداع ہے اور قبر ابدی اور آخری آرام گاہ….
    دنیا میں جو آئے ہیں وہ جانے کے لئے ہیں اور جو چلے گئے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے یہ ہی دنیا کا اصول ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اس دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھنے اور سچی توبہ اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے
    آمین…

    Official Twitter Handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ایک کہانی تحریر : عثمان غنی

    ایک کہانی تحریر : عثمان غنی

    ‏اچھا تو بات ہورہی تھی ہماری
    ارے ہماری ہورہی تھی۔۔۔۔۔
    ہماری ہی ہورہی تھی ناں
    بھئی آپ سے پوچھ رہے ہیں
    ہم ٹھرے صدا کے بھلکڑ ۔۔بھلکڑ سے بھی زرا آگے
    ارے نہیں زیادہ آگے مت جاییے گا اپ پاگل پر پہنچ جائیں گے
    اوہ بلکہ پہنچ گئے آپ
    چلیے الٹے بانس بریلی کو والا محاورہ استعمال کرتے ہوئے واپس ائیے۔۔۔۔ آئیے نا راستے میں آپکو مریم بی بی کا قافلہ ملے گا
    کیا سوچ رہے ہیں
    آتے ہوئے بھی مل سکتا ہے جاتے ہویۓ بھی بھئی وہ تو ماہر ہیں المپک میں چمپئین ٹرافی جیت چکی ہیں
    ہیں اولمپک میں چیمپئن ٹرافی
    ارے پھر سے غلط بول دیا چلیں اپ بھلکڑ سے ککڑ ککڑ دھکڑ دھکڑ کڑکڑ کڑ کڑ کڑ سے ہوتے ہوئے پاگل تک چلے جائیں
    ارے اب کیا سوچ رہے ہیں یہ منہ پر اتنا بڑا الٹے نو کی شکل کا کیا ہندسہ بنا رکھا ہے کہیں چھ تو نہیں
    ارے نہیں نو ہی بس رخ دوسری طرف ہے
    اچھا سوالیہ نشان ہے
    مگر کس بات کا بھلکڑ ککڑ کا یا پریم بی بی کا
    ارےےےےےے مریم بی بی کا
    آپ مریم بی بی کو نہیں جانتے
    ویسے بتائین پاکستانی ہی ہین نا
    آپ ارے ہم تو آگرے میں بیٹھ کر شاہی قلعہ اور دلی میں بیٹھ کر تاج محل دیکھ آتے ہیں
    اور اگر کبھی لاہور سے گزر ہو تو اجمیر شریف ضرور جاتے ہیں
    ویسے یہ بھارت ماتا گائیں اور پتا مودی کا زکر کہاں سے آگیا
    اوہ ایک تو اپ اتنے نا لائق ہیں اب آپ پتا مودی کا نہیں پتا ارے مریم بٹیا کے چاچا ہیں کاہے اب سمجھ گئے نا
    ویسے نالائق سے آگے بھی ککڑ دھکڑ پاگل آتا
    ارے مودی پتا کر تعارف کرا دیا اپ کو تو مریم بٹیا کا ہی نہیں پتہ
    ارے وہی نامی گرامی معزز ترین چور نواز شریف کی لاڈو بٹیا ہے مریم
    حق حا
    بیچاری پھوٹے نصبوں والی نکلی
    بہت سیکھا بہت سیکھا میٹرک فیل ہوتے ہویے بھی انگریجی فل سپیڈ مین سیکھی اور تو اور لہوریوں میں بیٹھ کر لکھنو کی اردو بھی بول دیتی ہیں
    مگر نصیب ہی ماڑا ہے ہماری بٹیا کا
    جیسے ہی ابا حضرت چور المعروف بیماریوں والی سرکار کا پتہ کٹا ادھر بیٹی آئی چچا استعفے والے المعروف خادم اعلی کو کھڈے لائن لگا کر یہاں سے نیازی آیا بیٹھا تھا
    پھر کیا ہوا بیچاری کو زوروں سے بدنام کیا اس سنکی کریکٹر نے
    عجیب انسان ہے کوئی وہ بھی ابریم بٹیا اللہ کی ثنائی کا بہترین نمونہ ترس نا آوے اسے بٹیا کو پریشان کرتے ہوۓ
    ساری زندگی اس غریب صفدری کے ساتھ گزار دی اور اف تک نا کی
    بس اقتدات کا سوچ سوچ کر ٹیڑھے انگن میں تھک تھیا تھا کرتی رہی ناچ ناچ کر گھنگرو کی فیکٹریاں بند کرا دی مگر ملا کیا
    تین کوجھے بچے جن میں سے دو تو اس صفدری سے ملتے ہی نہیں
    اور وہ یوتھیے سارا دن ان کے ابا دھونڈنے کا کام کرتے ہین کمینے۔۔۔۔۔
    ارے میں بھی کیا کہانی لیکر بیٹھ گیا
    بڑھا ہوگیا ہوں اب کہانیاں یاد نہیں رہتیں بس مریم بیٹیا کی پارٹی میں آئی لڑکیوں کو دیکھ کر دل جوان کر لیتا ہوں
    اور او او او ہۓ وہ کہاں گئی چٹی گوری سی
    نہیں سمجھ آرہا
    پاس آؤ
    ارے وہ تنظیم سازی والی
    لگتا ہے بھائیوں مے گھر بٹھا دیا بچی کو
    ہۓ ہۓ بڑی کوئی فرمابردار بچی تھی کبھی اف تک نا کی
    ارے ارے کیا سمجھ رہے ہیں آپ لوگ
    مریم بی بی کے آگے اف تک نا کی
    اچھا تو بات کچھ اور ہوری تھی
    مریم بی بی روز بریلی جاتی ہیں
    ارے نہیں یہ نہیں
    وہ تو بریلی آتی جاتی رہتی ہیں
    وہ نااہل نیازی ہے نا
    وہ کرتا ہے یہ
    بیچاری اسکے لیے ارے وہ کہتے ہیں انگریزی میں ارے کیا کہتے ہیں اسے پڑھے لکھے نہیں ہو کیا
    ہاں سیلف ڈیفینس کے لیے کبھی جھوٹ بولیں تو وہ نا اہل صدا کا نیازی ورلڈ کپ کہ آجری گیند کی طرح انہیں چکھا لگا کر گراؤنڈ کیا کراؤڈ سے بھی باہر پکھوا دیتا ہے
    ویسے بانس تو بریلی میں بہت ہوتے ہیں جیسے جناب فارمر پرائمنسٹر چور پاکستان کی پارٹئ میں کھوتے
    مگر کیا کریں انکی بڑی مارکیٹیں ہی وہی لگتی ہین جہاں یہ بڑی تعداد میں ہوں
    اب اگر امرتسر کی ہیرا منڈی کے باہر پھولوں کی مارکیٹ نا ہو اور تو بھلا مزا آیے گا
    ارے پھولو کا استعمال ہی وہی ہے
    تم کیا دیکھ رہے ہو
    ایسے دیدے پھاڑ پھاٹ کے
    ارے نگلو گے کیا منحوس
    اچھا امرتسر کی ہیرا مینڈی
    بڑے ہی شریر ہو کمینے نا ہو تو
    ہۓ وہ بھی کیا دن تھے مریم بی کے پرداد ہے اللہ بخشے ہیرا منڈی سے بڑا کمایا انہیوں نے بڑا کمایا
    سہی سمجھ رہے ہو انہیں پیسوں سے تو مریم بی بی کومیڈیکل کالج میں داخلہ دلایا
    ارے کیا کیا
    اور کیا پوچھنا ہے
    چل چھچھورے اب بس باقی کل


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال.  تحریر شاہ زیب احمد

    ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال. تحریر شاہ زیب احمد

    شوگر یعنی ذیا بیطس ایک دائمی مرض ہے اور جسم کے تقریباً ہر حصے کو متاثر کرتا ہے، پاکستان میں تقریبا 4 کروڑ لوگ ذیا بیطس کا شکار ہیں.
    دراصل جو غذا ہم کھاتے ہیں اسی سے ہمارا جسم توانائی حاصل کرتا ہے، وہ توانائی پروٹین ، فیٹ اور کاربوہائڈریٹ کے صورت میں ہوتی ہے جو نظام ہضم سے پورے جسم میں تقسیم ہو جاتی ہے، جسم کے لئے توانائی کا ایک بنیادی ذریعہ کاربوہائڈریٹ ہے جو مختلف گلوکوز سے مل کر بنتا ہے۔ یہی توانائی یعنی جو کھانا ہم نے کھایا ہوتا ہے وہ نظام انہضام میں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، کاربوہائیڈریٹس بھی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جاتے ہیں جہاں سے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور سیلز (خلیوں) میں چلے جاتے ہیں اور خلیوں یعنی پورے جسم کو توانائی مل جاتی ہے!
    کاربوہائیڈریٹس ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جانے کے خون میں شامل ہو تو جاتے ہیں لیکن گلوکوز کے ساتھ یہاں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسولین کے بغیر یہ خلیوں کے اندر نہیں جا سکتے، جیسے کسی افسر سے ملنے کے لئے وہاں کے سیکورٹی گارڈ اندر لے کے جاتے ہیں ایسے ہی ہر سیل (خلیے) پر موجود انسولین ریسپٹر (گارڈ) ہوتے ہیں اور ان ریسپٹر کے مدد سے گلوکوز خلیے کے اندر جاتے ہیں اور جسم کو توانائی حاصل ہو جاتی ہے.
    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسولین ہے کیا؟*
    انسولین ایک ہارمون ہے جو ہمارے جسم کے حصے Pancreas یعنی لبلبے میں پیدا ہوتا ہے،
    لبلبہ انسولین بنا دیتا ہے جو خون میں شامل ہو کر خلیوں تک پہنچ جاتا ہے جہاں یہ انسولین گلوکوز کے لئے راستہ بنا کر خلیوں کے اندر جانے میں مدد دیتا ہے،
    خون میں اگر گلوکوز کا لیول بڑھ جائے (عموما زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے) تو لبلبے کو میسج چلا جاتا ہے جہاں سے وہ زیادہ انسولین خارج کر دیتا ہے اور گلوکوز کو زیادہ مقدار میں خلیوں میں پہنچا کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم کر دیتا ہے یعنی خون میں گلوکوز لیول کنٹرول رکھتا ہے،
    شوگر یعنی ذیا بیطس کے صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے جس میں اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو وہ کم نہیں ہوتی، اس کے دو اہم وجوہات ہے
    پہلا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اور انسولین پیدا ہی نہیں ہے رہا، اس حالت کو ٹائپ 1 ذیا بیطس کہتے ہیں، جسکا علاج صرف انسولین کے ٹیکے لگانا ہی ہیں

    دوسرا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام کر رہا لیکن خلیوں پہ موجود انسولین ریسپٹر کام چھوڑ دیتے ہیں اور گلوکوز کو خلیوں کے اندر جانے نہیں دیا جاتا، اس قسم کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کہتے ہیں، اس کا علاج انسولین کے ٹیکے کیساتھ ساتھ مختلف گولیوں کے شکل میں بھی موجود ہے.

    آج سے سو سال پہلے یعنی 1921 تک ذیا بیطس (شوگر کا مرض) ایک لاعلاج مرض تصور کیا جاتا تھا، جہاں یہ تصور عام تھا کہ ٹائپ 1 ذیا بیطس کے شکار مریض ایک یا دو سال ہی زندہ رہ سکتے ہیں،
    لیکن بیسوی صدی میں ایک عظیم ایجاد کیا گیا جس سے بے شمار انسانوں کی زندگیاں بچائی جانے لگی اور اس ایجاد کو "ہیمولین/انسولین” کا نام دیا گیا جس سے آج کروڑوں لوگ ذیا بیطس کا علاج کر رہے،

    1920 تک سائنس دانوں نے لبلبے کے خلیوں پر تحقیق کر لی تھی جسے islets کا نام دیا گیا اور یہ دریافت ہو گیا کہ islets ہی وہ خلیے ہے جن کے ناکارہ ہونے سے لوگ ذیا بیطس ٹائپ 1 کا شکار ہوتے ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد مزید تحقیق آسان ہوگئی جس سے اس مرض کا علاج ڈھونڈا جا سکیں.
    اکتوبر 1920 میں کینڈین سرجن فریڈریک بینٹنگ Frederick Banting نے انسولین کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا جہاں سے اسے تحقیق کرنے کا ایک آئیڈیا مل گیا، یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ شوگر کا تعلق میٹھی اور زیادہ کلیوریز والی خوراک کے کھانے سے ہے اور میٹھا کھانا چھوڑنے سے مریضوں میں کچھ بہتری آتی ہیں،
    فریڈریک بینٹنگ چونکہ سائنس دان نہیں تھے اور تحقیق کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھی تو 7 نومبر 1920 کو انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا دورہ کیا جہاں پہ وہاں کے ٹاپ پروفیسر جوہن جیمس ریکارڈ میکلاڈ سے ملاقات کی اور دونوں نے ایک ساتھ تحقیق کرنے کا ارادہ کر لیا۔
    مہینوں محنت کے بعد بالآخر 17 مئی 1921 کو تجربہ شروع کر لیا ، میکلاڈ نے تجربہ گاہ فراہم کرنے سمیت ایک ریسرچ اسٹوڈنٹ چارلس ہربرٹ بیسٹ جو خون میں گلوکوز کا مقدار ناپنے میں ماہر تھے کو فریڈریک بینٹنگ کا اسسٹنٹ بنا دیا.
    بینٹنگ، میکلاڈ اور بیسٹ تینوں نے مل کر ریسرچ شروع کی کہ کیسے *کتے* کے لبلبے سے انسولین ہٹایا جا سکتا ہے، آپریشن کے ذریعے کتوں کے لبلبے نکالے گئے، جس سے دوائی بنانا شروع کر دیا، یہاں یہ واضح ہو گیا تھا کہ لبلبے کے بغیر کتے ذیا بیطس کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں،
    کئی تجربات ناکام ہونے کے بعد جولائی میں ایک کامیاب تجربہ کیا جسکا بالآخر 10 نومبر 1921 کو پہلا کامیاب نتیجہ سامنے آگیا، ابھی بھی اتنی خاص دریافت نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے ذیا بیطس کے شکار کتے میں انسولین کے ٹیکے لگانے سے 70 دن تک کتے کو زندہ رکھا، مزید کئی تجربات کئے،. کتوں پر کامیاب تجربے کے بعد اب اسے انسانوں پر آزمانے کے لئے 12 دسمبر 1921 کو ایک بائیو کمیسٹ جیمس کولیپ بھی فریڈریک کی ٹیم میں شامل ہوگئے، تاکہ وہ حاصل شدہ انسولین کو مزید صاف کر سکے اور انسانوں پر آزمانے کے قابل بنا سکیں، اس دفعہ انسولین ایک گائے کے لبلبے سے حاصل کی گئی.
    *انسانوں پر تجربہ*
    11 جنوری 1922 کو ایک 14 سالہ نوجوان لیونارڈ تھامسن جو ٹائپ 1 ذیا بیطس کا شکار تھا اور شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا کو ٹورنٹو ہسپتال میں انسولین کا ٹیکہ لگا دیا گیا 24 گھنٹوں کے اندر تھامسن کا ہائی شوگر لیول کم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی تھامسن کو انجکش کی جگہ انفکشن ہوگیا تھا جو ایک سائیڈ ایفکٹ تھا، بائیو کمیسٹ کولیپ نے دن رات محنت کی تاکہ انسولین کو بالکل شفاف بنایا جا سکے اور سائیڈ ایفکٹس کم سے کم تر کرسکیں، 23 جنوری 1922 کے دن تھامسن کو انسولین کا دوسرا ٹیکہ لگایا گیا اور اس بار اسکا ہائی شوگر لیول نارمل پہ آگیا اور کوئی انفکشن/ سائیڈ ایفکٹس بھی ظاہر نہیں ہوئے جو ایک مکمل طور پر کامیاب تجربہ ثابت ہو گیا،
    بینٹنگ اور بیسٹ اب مزید تحقیق اور محنت کر رہے تھے تاکہ انسولین کو زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکیں ، ایلی لیلے پہلے انسان تھے جنہوں نے اس میں مدد کی اور انسولین کو زیادہ مقدار میں بنانا شروع کیا، تجربہ کامیاب ہو گیا تھا لوگ ٹھیک ہونے لگ گئے تھے
    یہ خبر دنیا میں آگ کی طرح پھیلنے لگی، اور اس ایجاد کو ایک عظیم کارنامہ بتایا گیا،
    25 اکتوبر 1923 کو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کے اعتراف میں بینٹنگ اور میکلاڈ کو مشترکہ طور پر نوبل پرائز انعام سے نوازا گیا (جو انہوں نے ٹیم کے ساتھ شئیر کر دیا تھا).
    ذیا بیطس کے علاج کے لئے کافی عرصے تک انسولین جانوروں (گائے اور خنزیر) سے حاصل کیا جاتا رہا، لیکن یہ زیادہ مؤثر نہیں تھا زیادہ تر مریضوں میں اس کے سائیڈ ایفکٹس آرہے تھے بالآخر محنت اور تحقیقات سے 1978 میں پہلی دفعہ انسانوں کے خلیوں سے حاصل شدہ انسولین بنایا گیا جسے humulin کا نام دیا گیا، 1983 میں ایلی لیلے نے باقاعدہ طور پہ یہ انسولین بنانا شروع کیا اور اسکی سپلائی بھی تیز کر دی گئی، آج انسولین مختلف اقسام میں مختلف ناموں سے مارکیٹ میں دستیاب ہے جس سے کروڑوں لوگوں کا علاج ہو رہا ہے.
    اج انسولین کے کامیاب تجربے کو 100 سال پورے ہوگئے ان سو سال میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو چکی ہے سو سال پہلے جو لا علاج مرض تھا اب اس مرض کے ساتھ لوگ روز مرہ کی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں جس کا سہرا یقیناً بینٹنگ اور اسکی ٹیم کو جاتا ہے..

  • ‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

    ‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ ہی سپر طاقت ہی ثابت ہوا ہے ۔کبھی تو مسلمانوں کو سیاسی عروج کی بنیاد پر اسلام فاتح اور غالب بن کر رہا اور سیاسی غلبہ کے فقدان کی صورت میں اس نے قلوب پر حکمرانی کی۔ تاریخ میں چند ایسے موڑ بھی آئے ہیں جب لوگوں کومحسوس ہو چلا کہ اسلام اب زوال پذیر ہے اور اس کا چل چلاؤ شروع ہو چکا ہے لیکن تھوڑی ہی مدت میں اچا نک کایا پلٹ گئی اور اسلام پر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا ۔ پہلی مرتبہ عالم اسلام پر اور خصوصاً اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی حکومت خلافت عباسیہ اور بغداد پر تاتاریوں کی یورش کے موقعہ پر لوگوں کومحسوس ہوا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز سے اسلامی علوم وفنون کی دھجیاں اڑ گئی تھیں اور تہذیب و تمدن کا چراغ غل ہو گیا تھا لیکن ایسے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت کا ستاره اقبال گردش میں تھا، اسلام کی روحانی طاقت قلوب کو سفر کر رہی تھی اور جنھوں نے مسلمانوں کو مفتوح بنالیا تھا اسلام نے اسی فاتح قوم کے قلوب کو فتح کرنا شروع کیا، تا کہ وہی تاتاری ایک دن اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور پاسبان بن گئے۔
    اسی طرح گذشتہ صدیوں میں جب ہندوستان سے سلطنت مغلیہ اور پھر خلافت عثمانی کا زوال ہوا ، اور نتیجہ کے طور پر اسلامی ممالک پر یوروپی استعار کا تسلط ہوا، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شاید زوال پذیر ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت یقیناً شکست خوردہ اور زوال پذیر تھی، لیکن اسلام کی روحانی طاقت اور قوت تسخیر نے شکست تسلی نہیں کیا اور اس نے اہل یوروپ وان مریکہ کے قلوب کومسخر کرنا شروع کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور اکثر اسلامی ممالک و علاقہ جات پر یورپ کے استعماری قبضہ و تسلط کی وجہ سے گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ مسلمان بھی امریکہ یا یورپ میں اپنی بستیاں بسائیں گے اور وہاں پورے اسلامی تشخص و امتیاز کے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے، بلکہ مساجد و ن مراکز بنا کر یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کو اپنامدعو بنائیں گے۔ آج صورت حال یہ ہے امریکی مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ اور یورپ میں تقریبا پانچ کروڑ ہورہی ہے ۔ اسلام اس وقت امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔
    اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں، بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ ۃشا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ”آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ، بلکہ پورے یورپ پرحکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہوسکتا ہے۔ میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت ونمو کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ج ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ، جو اس کو ہر زمانہ میں قابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا سکتا ہے۔ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابل قبول ہو گا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابل قبول ہونا شروع ہو گیا ہے۔ فرانس کے طالع آزماسکندر مانیپولین بوناپارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اورتعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا۔ قرآن کے یہی اصول ہی میں صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
    آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئیندہ ۳۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی وغیرہ۔
    اہل یورپ پر ان کی خوف چھایا ہوا ہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہل مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالم اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ اسلاموفوبیا کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیات اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔ غرض یہ کہ اسلام کا وجود وظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے ۔ یہ ایک ایسا نقطئہ انقلاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔ اسلام کا بھی روحانیت کا سرچشمہ اعلی تھا اور وہ آج بھی انسان کی بھٹکی ہوئی روح اور اس کے آوارہ ذہن کو ایمان و یقین کی تازگی اور روحانیت کی لذت آگیں حلاوت سے بالیدہ و زندہ بناسکتا ہے۔
    Twitter | ‎@IhsanMarwat_786

  • اسلامی قوانین وقت کی اہم ضرورت تحریر: مطاہر مشتاق

    اسلامی قوانین وقت کی اہم ضرورت تحریر: مطاہر مشتاق

    ہمارے ملک میں گزشتہ کئی برس سے جہاں ننھی بچیوں اور بچوں سے زیادتی اور ثبوت مٹانے کے لیے قتل وغارت کے واقعات ہو رہے ہیں وہیں درس و تدریس سے وابستہ معزز اور محترم سمجھے جانیوالے شعبہ سے منسلک چند افراد کی گھناؤنی اور مکروہ فعل انجام دیتے ہوئے وڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں،
    بطور اسلامی معاشرہ ہم شدید ترین زوال کا شکار ہیں نا ہمیں مذھبی و تدریسی افراد تحفظ کا مکمل احساس دلانے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں نا ہی قانون مکمل تحفظ فراہم کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کر رہا ہے،
    شیطانیت کا لبادہ اوڑھے چند درندے اپنے مکروہ فعل کے بعد سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات اور اپنی وڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوام اور متاثرہ فرد کی آواز دبانے میں کامیاب ہیں،
    وہیں قانون اور وزارتِ انسانی حقوق کے سربراہان سرعام پھانسی جیسی اسلامی سزا کے عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،
    قرآن میں اللہ نے امن و امان کو ملحوظ رکھتے ہوئے سخت سزائیں اسی لیے بتائیں کہ معاشرہ میں امن قائم ہو سکے،
    مگر حیراننگی ایوانوں میں بیٹھے اُن عوامی نمائندوں پر ہے جو اسلامی قوانین کے نافض العمل ہونے میں رکاوٹ ہیں،
    انکو ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی قتل و غارت کا علم بھی ہے مگر وہ جان بوجھ کر ایسے سخت قوانین کے خلاف ہیں کہ جن سے ظالم کو قرار واقعی سزا ہو سکے،
    اور وہ دیگر افراد کے نشانِ عبرت بنے،
    سُننے اور پڑھنے میں تو یہی آیا تھا کہ یہ مُلک اسلام کے نام بنا تھا،
    اور بانیِ پاکستان جناب محمد علی جناح اسکو مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے،
    مگر اس ُملک کی جڑوں کو اشرافیہ،سرداروں،وڈیروں،چوہدریوں،ملاؤں نے دیمک کیطرح ایسے کھوکھلا کیا ہے اور مزید بھی کر رہے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خواہش شائد اگلے کئی سال مزید بھی بامراد نا ہو پائے،
    موجودہ حکومت تاریخ کی پہلی حکومت ہے کہ جس کو کشمیر،پنجاب،بلوچستان،خیبر پختونخواہ(سرحد)اور گلگت بلتستان میں عوام کا اتنا اعتماد حاصل ہوا ہے کہ وہ بیک وقت تمام جگہ پر بھاری اکثریت سے الیکٹ ہوئی ہے،
    اس حکومت کے پاس یہ تاریخی موقع ہے کہ وہ سرعام پھانسی سمیت کالا باغ ڈیم جیسے اہم عوامی مفاد کے معاملات میں مؤثر قانون سازی کرے،
    تاکہ ہماری آنیوالی نسلیں امن و سکون سے بھرپور خوشحال پاکستان میں زندگی بسر کرسکیں۔

    ‎@iamMutahir4

  • ظالم کے سامنے خاموش رہنا ظالم کو طاقتور بنانے کے مترادف ہے  تحریر: عقیل احمد راجپوت

    ظالم کے سامنے خاموش رہنا ظالم کو طاقتور بنانے کے مترادف ہے تحریر: عقیل احمد راجپوت

    اپنی استطاعت کے مطابق ظالم کے سامنے ڈٹ جانا ہی جہاد ہے کیونکہ ظالم وہ نہیں ہے جو ظلم کر رہا ہے ظالم وہ ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے ڈرتا ہے سچ گوئی گناہ نہیں ہے ظالم سے ٹکرانے والوں کو دنیا صدیوں بعد بھی یاد رکھتی ہے ظالم کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا ہے معاشرے میں ہونے والے ظلم کو اپنی طاقت آواز یا کم سے کم دل میں برا کہنے پر بھی اللہ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہو اپنی قبروں پر عذاب سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں سے نکالنا چاہتے ہو تو ظلم کے سامنے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح ڈٹ جانا سیکھوں بچوں کو بھی جو اللہ کی رضا کی خاطر گھر چھوڑ کر نہیں آئے کیوں کہ حق کے راستے پر چلنے کے لئے قربانی بھی عظیم دینا پڑتیں ہیں معصوم بچوں کے خشک گلوں کی آہ جب آسمان پر پہنچتی ہیں تو رب تعالیٰ کا عرش بھی لرز جاتا ہے اپنے حصے کی آواز بلند کرو شہر کی محرومی اور ہونے والے ظلم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا کرو ظالم کے سامنے سرخرو ہونا ہی قبر میں کئے گئے سوالات میں آسانی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے ظالموں کو ٹی وی لاؤنچ اور ہوٹلوں پر دوستوں اور عزیزوں کے سامنے گالیاں دینے سے ظالم کمزور نہیں ہوتا صبح ہونے تک وہ مزید طاقتور ہوجاتا ہے شہر میں ہر طرف پھیلی غلاظت بہتے گٹر اور لوڈ شیڈنگ جیسے بیشمار مسائل سے روزانہ نبرد آزما ہونے والی قوم کس مسیحا کے منتظر ہیں ان کے جو چالیس سال تک حکمرانی کرتے رہے ہیں یا ان کے جو آٹھ سالوں سے خیبرپختونخوا کو تو نیا نہیں بنا سکے پاکستان کو نیا بنانے نکلے ہیں ایک بار بہترین ایڈمنسٹریٹر سمجھ کر مصطفیٰ کمال کی آواز میں آواز ملا کر تو دیکھو ہوسکتاہے کہ تمہارے مایوسی کے چھائے بادل چھٹنے لگیں ہوسکتا ہے کراچی روشنیوں کا شہر بننے کی راہ میں حائل آپکی ایک لسانیت کی عینک کا کردار ہو جس کے ہٹنے کے ساتھ ہی تمہاری پریشانیوں کا حل نکل آئے کراچی میں رونقیں تمہارے ایک سوچ کے بدلنے سے بحال ہوسکتی ہیں کراچی حیدرآباد کی سڑکوں پر پھر سے ڈسٹ اڑنا بند ہوسکتا ہے پانی صاف آ سکتا ہے روڈ کوریڈور پھر سے بننا شروع ہوسکتے ہیں تم آج بھی کسی کو ووٹ دیکر پریشانیوں میں مبتلا ہو ایک بار مصطفیٰ کمال کو آزمانے کہ سوا تمہارے پاس دوسرا کوئی مقابل نہیں ہے

  • آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین

    آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین

    تعارف
    میرا نام سکندر ذوالقرنین ہے میرا تعلق ضلع سرگودھا پنجاب سے ہے میں اوورسیز پاکستانی بھی ہوں
    باغی ٹی وی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا اپنی رائے دینے کا
    تحریر!
    ‏25 July 2018 سے
    ‏25 July 2021 تک

    25 جولائی 2018 ایک امید کا دن تھا ایک 22 سالہ پارٹی کا تیس سالہ حکمران پارٹی سے مقابلہ تھا ایک طرف نظریہ تو دوسری طرف ووٹ کو عزت دو۔ ہوا یہ کہ نظریہ جیت گیا 2018 کے بعد تین سالوں میں بہت کچھ ہوا اور کچھ لوگ ہر روز رات کو حکومت کو گھر بھیج چکے ہوتے تھے کرو نا اور مہنگائی کے جھروکوں سے ہوتی ہوئی تین سال مکمل ہوئے اب معاشی حالات کافی بہتر ہورہے ہیں
    اور وزیراعظم خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہ آ سکا۔تین سال اپوزیشن اسی کا انتظار کرتی رہی ہیں کہ کوئی نہ کوئی کرپشن کا سکینڈل ضرور آئے گا
    25 جولائی 2021 کادن امتحان کا دن تھا ضمنی انتخابات نے حکومت کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی حکمران جماعت کو فکر بھی لاحق تھی کہ کہیں کوئی ہوا ہی نہ چل پڑے اور کشمیر میں وہی ہوا جو روایت تھی اور عمران خان جیت گئے حکومت کو کافی حوصلہ ملا اور اپوزیشن کا وہی رونا شروع پریس کانفرنس اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے کشمیر میں حکمران جماعت کی حالت بہت ہی زیادہ پتلی رہی پیپلز پارٹی سے شکست کھائی حکمران جماعت یعنی نون لیگ کی مریم نواز نے کیمپین تو خوب کی لیکن ووٹ نہ لے سکی اب وہاں کسی لوکل لڑائی کو خوب مرچ مصالحے لگا کر حالات خراب ہونے کے دعوے کر رہی ہیں یہ تک احساس نہیں کہ اس وجہ سے ملک کی بدنامی ہوگی آزاد کشمیر ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں کے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ کشمیری ابھی بھی غلامی میں ہی ہیں غلام تو آپ میاں نواز شریف کے بھی ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے شاہد خاقان صاحب فرمایا رہے ہیں کہ الیکشن پر ریاست کا قضبہ ہے الیکشن وہی ہیں جو آپ جیت جاؤ اللہ صبر عطا کرے پیپلز پارٹی سے بھی مار کھائی اور اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا پیپلز پارٹی نے بھی دھاندلی کی ہے
    دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے
    تحریک انصاف میں علی امین صاحب اور مراد سعید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ بھرپور کمپین کی اور الیکشن جیت لیا حالانکہ دوسری طرف پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت تھی پیپلزپارٹی کی جیت حیران کن تھی بلاول کو چھوڑ کر امریکہ بھی چلے گئے تھے پھر بھی گیارہ سیٹوں پر جیت جانا بہت اچھی کار کردگی ہے وہ خود بھی حیران ہوگئے

    انڈین اخبار میں آیا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا

    انڈیا سے مدد مانگنے والو ں کو سبق مل چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے اس کو تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی
    چاہیے
    تحریک انصاف کے 2 کارکن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے ان کے لئے دعائے مغفرت اور پاکستانی فوج کے 4 نوجوان
    شہید ہوئی اللہ پاک ان کی یہ قربانی قبول کرے اور ہمارے ملک کو سلامت رکھے آمین
    عمران خان نے تقریروں میں بہت سارے وعدے کیے ہیں اب وہ وعدے پورے کرنے کا وقت آ چکا ہے اور امید ہے کہ ایک مضبوط وزیراعظم بنایا جائے گا جو کہ کرپشن سے پاک ہوگا
    وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھرپور محنت کریں اس کامیابی کو ثابت کریں کہ وہ لوگوں نے ان کو صحیح الیکٹرک کیا ہے اللہّ حکومت کو پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے لیے آپ کچھ کرنے کی توفیق دے
    @sikander037 #sikander037

  • الیکشن اور اس کے کردار  تحریر:  قاسم ظہیر

    الیکشن اور اس کے کردار تحریر: قاسم ظہیر

    دنیا میں کہیں بھی جب الیکشن ہوتا ہے عوام کی رائے بھٹی بھی نظر آتی ہے کچھ موجودہ حکومت کو دوبارہ سے حکومت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے گھر جانے کی ترغیب دیتے ہیں مختصر یہ کہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا مختصر کردہ شخص حکومت میں آئے. زمینی حقائق, عوام کی رائے اور کچھ اندرونی طاقتیں سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھاتی ہیں اور آخر پاکستان میں کوئی نہ کوئی حکومت آ جاتی ہے
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کبھی بھی عوام کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی.جس کی وجہ سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے .جمہوریت کا مطلب خالصتا عوام کی حکومت ہے جہاں پر اکثریت کی رائے کا احترام ہر شخص پر لازم ہے.اس کے برعکس کرنے سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.پاکستان میں آئے روز الیکشن کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت کو اپنی مدت کے پہلے دو سال تو صرف اسی بات کی وضاحت میں لگ جاتے ہیں کہ وہ جس گورنمنٹ میں بیٹھے ہیں اس کو لوگوں کی اکثریت حاصل ہے.ہر اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان یہی چیز زیر بحث رہتی ہے کہ وہ جس طرح حکومت میں آئے ہیں وہ قانونی طریقہ نہیں عوام کی اکثریت حاصل نہیں جس سے نہ صرف ٹیکس پیر کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا. دوسرے ممالک اس حکومت کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کو ڈیموکریٹک تسلیم کرتے ہیں.آج کل دنیا میں دیکھا جہاں پر بھی سویلین بالادستی ہے انکو کو لوگ زیادہ عزت اور احترام دیتے ہیں
    ان تمام مشکلات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ایک جامعہ اور واضح پالیسی لانا ہے جس پر سب کا اتفاق ہو اور جس سے ہمارے الیکشن میں بہتری آئی ہے جیتنے والا جیت مان جائے اور ہارنے والا اپنی خوشی خوشی ہاں تسلیم کر لے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ایسا کرنا بالکل مشکل نہیں رہا ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے انتخابات کو مکمل صاف شفاف بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک سنجیدہ اور اعلی ظرف کی ضرورت ہے
    کسی بھی ملک کے بیرونی مضبوط ہونے کا انحصار اس کے اندر مضبوط ہونے میں ہے اور الیکشن کا شفاف نہ ہونا اندرونی خلفشار اور ناچاقی کا باعث بنتا ہے.ہمیں پاکستان میں جلد سے جلد اس مشکل پر قابو پانا ہوگا.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زیادہ سے زیادہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلا رہے گا.ان تمام مصیبت سے چھٹکارا پانے کا حل صرف اور صرف الیکشن ریفارمز میں ہے جو ہمیں جلد سے جلد کرنا ہوں گے.الیکشن فارم سے نہ صرف ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی بلکہ سویلین بالادستی قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اس کو وہاں کی عوام کی اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر قانونی طاقت اس کو ہٹا نے یا مضموم عزائم رکھنے سے باز رہے گی.
    پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناطے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان کا حل نکالیں گی اور الیکشن کو سنجیدگی سے لیں گے جس کی وجہ سے ہمارے آنے والے الیکشن کا نظام صاف شفاف ہو گا اور جو شخص بھی وزیراعظم ہاؤس کا خواں ہوگا.وہ قوم کی اکثریت کا رہنما ہوگا.

    @QasimZaheer3

  • عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    یوں تو عورت مارچ عورتوں کے تحفظ کے نام بنی ہے جس میں نام نہاد عورتوں کے حقوق کے لیے بنی تنظمیں بھی پیش پیش ہوتی ہیں لیکن کیا عورت مارچ میں اٹھائے گئے اصل ایشوز واقعی ہمارے معاشرے کا اصل مسلہ ہے؟؟؟

    کیا واقعی عورت کو اپنے شوہر کو کھانا گرم کرکے دینا ایک ایسا ایشو ہے جسے اٹھایا جانا چاہیے ؟؟ کیا واقعی عورت کے سیگریٹ پینا ، چھوٹے لباس پہننا ، سڑکوں پر ناچنا ، جیسے مسائل اتنے اہم ہیں کہ یہ عورت مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈز کی زینت بنے رہتے ہیں؟؟

    دراصل عورت مارچ کی آڑھ میں معاشرے کی تباہی ہورہی ہے ہمیں اپنی خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں تاریخ گواہ ہے پہلے عورتوں کو حیوانوں سے بد تر سمجھا جاتا ہے بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا بیٹی پیدا ہوتے ہی اسکا قتل کرنا عام تھا لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس انتہا کو پہنچ چکی تھی ،اس کے باوجود ماننے سے بھی انکار کیا جارہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللہ العلمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا اور زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی اور عملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اسکو ذمداریاں سونپی گئی

    آسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد عورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا انسان کے دل و دماغ میں عورت کا حق مقام و مرتبہ اور وقار اس کو متعین کیا اور اس کی سماجی ،تمدنی ،اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے خواتین
    کو ان کے حقوق دلائے اور
    خواتین کو معاشرے میں چا عزت مقام دلایا ۔ہمیں اب معاشرے میں ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو در حقیقت عورتوں کو پیش آتے ہیں عورت مارچ میں سوائے عورت کے تحفظ پر بات کرنے کے تمام تر بے حیائی کو پروموٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔

    کچھ بہنیں جو عورت مارچ کی حقیقت سے واقف نہیں انہیں اب پہچان کرنی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مرد اور عورت پر مشتمل ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے کسی بھی ایک جنس کے حوالے سے ایک دوسرے کے دلوں میں نفرتیں پھیلانا دور جہالت ہے ایک دوسرے کے خلاف لوگوں کو اکسانہ ایک احمقانہ حرکت ہے اس سے معاشرے میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی "کا ایک قول ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم میں بے حیائی برہنگی کو عام کر دو اور یہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے ساتھ یہی سب کچھ کرنا چاہتی ہیں یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک رخ ہے میری تمام بہنوں سے گزارش ہے ان کے اصل مقصد کو سمجھیں اور دیکھیں
    ک آپ کے اصل مسائل کیا ہیں ؟۔۔ عورت تحفظ کے نام پر بنی تنظمیں بیرون ملک فنڈنگ وصول کرتی ہیں اور مغربی کلچر کو پروموٹ کرتی ہیں جس میں انہیں اسلام میں عورتوں کے تحفظ پر آگاہی دینا تو دور کی بات انہیں مذہب کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا ہے اس سازش کو ہمیں مل کر روکنا ہے اور اس کے خلاف لڑنا ہے انشاء اللہ