Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات  تحریر: سویرااشرف

    جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات تحریر: سویرااشرف

    آپ سب کو یاد ہو گا قصور کی زینب سے زیادتی کے بعد اسمبلی میں ایک بل زینب الرٹ کے نام سے منظور ہوا اور یہ امید بڑھ گٸی کہ اب زیادتی کے مجرموں ک سزا ملے گی اور لوگ انصاف حاصل کر سکیں گے لیکن سب بے سود۔۔

    حالیہ دنوں میں ہمارے ملک میں عورتوں سے زیادتی اور تشدد کے واقعات میں تشویس ناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ روزانہ سماجی رابطوں کی ویب ساٸٹس پر کسی کے لیے انصاف مانگنے کا ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے۔۔ واقعہ ہوتا ہے۔عوام جذبات کا اظہار کرتی ہے ٹرینڈ بنتے ھیں کاغذی کارواٸی کیجاتی ہے اور پھر اگلے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن کوٸی موثر اور عملی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جسٹس فار ںسیم آج کا ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ نسیم بی بی اور اسکے 14 ماہ کے بیٹے کا قتل صرف اس وجہ سے کیا گیا گہ نسیم نے واجد نامی شخص کو اپنے ساتھ زیادتی کرنے سے روکا جس کی وجہ سے واجد نامی درندے نے پہلے نسیم کے چودہ ماہ کے بیٹے کو چاقو سے قتل کیا پھر ریپ کرنے کے بعد نسیم کو بھی قتل کردیا لیکن سوشل میڈیا پر ملزم کی تصاویر اور ویڈیوز ہونے کے باوجود وہ اابھی تک آزاد ہے
    اسلام آباد، کراچی اورلاہور سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں جنسی زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو ہماری تباہ حال معاشرتی اقدار پر ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ علمائے دین، اساتذہ اور خونی رشتے جب ایسے واقعات میں ملزمان قرار پاتے ہیں تو مختلف نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں

    زیادتی کے چند واقعات
    لاہور میں حال ہی میں موٹر وے پر جنسی زیادتی کا واقعہ ہوا۔ ثنا نامی ایک خاتون جو بہن سے ملنے کیلئے لاہور آئی تھیں، انہیں 2 ملزمان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    20 جولاٸی کو جٹس فار نور مقدم ٹاپ ٹرینڈ رہا۔نور پاکستان کے ایک سابق سفیر کی بیٹی یہ واقعہ دارلحکومت اسلام آباد میں پیش آیا۔ جسے ظاہر نامی ملزم جو کہ ذہنی مریض تھا نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب نور نے اس سے جان بچانے کیلیے بھاگنے کی کوشش کی تو اس نے نور کو فاٸر کر کے جان سے مار دیا بعد میں چاقو سے اسکے سینے اور کنپٹی پروار کیا اور اسکا سر تن سے جدا کردیا۔ ملزم چونکہ ایک مشہور و معروف بزنس مین کا بیٹا ہے اسلیے وہ سزا سے بچ جاۓ گا۔

    15 جولاٸی کو بھی قرة العین کے لیے ایک ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈ بنا ۔ ٹرینڈ کا مقصد حیدرآباد کی 32 سالہ قرة العین جو کہ چار بچوں کی ماں تھی اسکے لیے انصاف مانگنا تھا۔۔ قرة العین کا قاتل وزیر آبپاشی سندھ کا بیٹا اور اسکا اپنا شوہر تھا۔جس نے غصے میں بیوی کو قتل کردیا۔۔۔ ملزم گرفتار ہو چکا ہے لیکن اس ملک میں جلد انصاف ملنا ایک نا ممکن سی بات ہے۔۔
    اسی طرح روز ایک نیا دن آتا ہے، اپنے ساتھ ظلم کی ایک نٸی داستان لاتا ہے۔ کبھی کسی بچے سے زیادتی ہوتی ہے کبھی کسی عورت کا قتل ہوتا ہے۔ ٹرینڈ چلتا ہے شور اٹھتا ہے اور پھر سالوں عدالتوں می کیس چلتے ہیں

    ایک سروے کے مطابق پاکستان میں موجود 72 فیصد خواتین جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں جو ایک انتہائی خطرناک شرح ہے۔

    آئینِ پاکستان میں جنسی زیادتی بطور جرم
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت جنسی زیادتی ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ قانون کے تحت ایسے مجرموں کو سزائے موت اور 10 سے 25 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
    دوسری جانب اجتماعی زیادتی کے کیسز میں سزا صرف سزائے موت یا عمر قید ہوسکتی ہے جبکہ سزا دینے سے قبل ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر طبی ثبوت سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ مجرم پر جرم ثابت ہوجائے۔
    گزشتہ برس حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کیں جن کا مقصد خواتین کے خلاف ظلم و تشدد اور جنسی زیادتی جیسے واقعات پر فوری انصاف کی فراہمی ہے۔

    عمومی رویے
    یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ کسی شخص کے ساتھ جنسی زیادتی یا ظلم ہوا ہو اور آپ اسے مختلف نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔ بلا شبہ سادہ لباس پہننا اور پردہ کرنا شرعی اصول ہیں لیکن ان اصولوں کی تبلیغ کو جنسی زیادتی کیلئے اخلاقی جواز کے طور پر پیش کرنا خود کسی جرم سے کم نہیں۔
    ہمارے مذہب اسلام نے ہمیں بہت سی باتیں سمجھائی ہیں جن میں سے اہم ترین بات اخلاقیات اور معاشرتی رویوں میں اعتدال ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص مسلمان ہو یا پھر اِسلامی اصولوں پر اتنا ہی عمل کرتا ہو جتنا کہ معاشرے کو ضروری لگتا ہے ، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے۔
    جب کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ یہ رائے دینے لگتے ہیں کہ متاثرہ خاتون نے شاید پردے کی پابندی نہیں کی تھی یا ان کو رات کے اندھیرے میں گھر سے نہیں نکلنا چاہئے تھا۔ ایسی تمام آراء جنسی زیادتی کے مجرموں کو شہ دیتی ہیں۔ہمیں مظلوم کو مشورے دینے کی بجاۓ ظالم کی سزا پر زور دینا چاہیے

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جرم کوجرم سمجھا جائے اور اس کی رپورٹ کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیں۔ عدلیہ فیصلے سنانے میں تاخیر سے کام نہ لے کیونکہ بعض اوقات دیر سے انصاف مہیا کرنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے اور پاکستان میں جراٸم کی بڑھتی وجہ ہی کیسیز کا سالوں عدالتوں میں چلتے رہنا ہے
    بہت سے بچوں، لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا جاتا ہے۔اسلام ایسے جرائم کیلئے سخت سے سخت سزا کی حمایت کرتا ہے جبکہ آئینِ پاکستان میں ایسے جرائم کیلئے مناسب سزائیں موجود ہیں۔
    بدقسمتی سے اس کے باوجود جرائم بڑھ رہے ہیں تو یہ ساری ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومتِ وقت اور عدلیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کا احساس کریں اور عدالتیں جلد از جلد سزاٸیں دیں تا کہ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو سکے
    @IamSawairaKhan1

  • اظہار محبت تحریر : شفقت سجاد دشتی

    یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے مگر افسوس کہ ہم خالی اقرار کو اظہار سمجھ لیتے ہیں۔

    دراصل دور حاضر میں کوئی ایسی عام یا خاص درس گاہ نہیں جہاں محبت کا سبق کم از کم پڑھایا ہی جاتا ہو۔

    بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فلموں ڈراموں اور قصہ کہانیوں میں جو ہوس دکھائی دے رہی ہے ہم اسی کو محبت مان کر چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے شاید معاشرے میں بگاڑ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

    مگر محبت تو بڑا جذبہ ہے۔ یہ بے لوث عقیدت ہے۔
    محبت چاہے والدین سے کی جائے یا اولاد سے، خواہ اساتذہ سے خواہ اپنے روزگار و کاروبار سے، خواہ کسی محبوب یا محبوبہ سے یا پھر حقیقی محبت حق تعالٰی اور اسکے محبوب مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ذات پاک سے کی جائے۔ اس میں بے لوث ہونا تو فرض ہے۔

    یعنی محب اپنے لیئے کچھ نہ چاہے اور ہر اس حال میں کلمہ شکر پڑھے جس حال میں اسکا محبوب اس سے راضی ہو۔ اور وہ خود محبوب کے لیئے ہر طرح سے خیر بن جائے۔

    بیدم شاہ وارثی فرما گئے
    "یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
    جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے”

    مطلب محب کے لیئے محبوب کے در کی خاک بن جانا ہی بڑی عزت، تسلی اور تشفی کا مقام ہے کہ جب محبوب وہاں سے گزرے تو اپنے قدم مجھ پر رکھ کر گزرے۔

    اب بھائی اس کے بعد تو مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جاگتی آنکھوں سے کچھ زیادہ محبت کرنے والے دیکھے ہیں۔ ہاں بہت قلیل بے حد قلیل دیکھے ہیں۔

    افسوس کہ اس جہاں میں بے انتہا اکثریت خود پرست باقی ہیں۔ تو پھر انہیں خدا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔

    بابا بلہے شاہ علیہ رحمتہ فرما گئے کہ
    "”جیں دل وچ پیار دی رمز نہیں، بس اوں دل کوں ویران سمجھ،””
    یعنی اندھیرا اور تاریکی ہے ایسے دل میں اور روشنی و نور کی گنجائش ہی نہیں۔

    آگے فرماتے ہیں،
    "”جیں کوں پیار دی جانڑ سنجانڑ نہیں، اوں بندے کوں نادان سمجھ،””
    نادان کا مطلب تو دانائی سے عاری۔ تو واقعی ظلمت اور حکمت ایک ہی بت میں یکجا تو نہیں ہو سکتی ہے۔

    "”ایہو پیار ہے درس ولی یاں دا، اے مسلک پاک نبی یاں دا،””
    اب اس شعر کی اس سے زیادہ آسان تشریح میں کیا کروں؟ بھائی یہ محبتیں بانٹنا اللہ والوں کا کام ہے۔

    "”انمول پیار دی دولت ای یہ، ایں کوں عقبا دا سامان سمجھ،
    ہیں پیار دی خاطر عرش بنڑے، ہیں پیار دی خاطر فرش بنڑے،
    خد پیار خدا وچ وسدا ہے، میں سچ اہداں قران سمجھ،”
    یہاں تو میری عقل کی حد ختم ہی سمجھیں، محبت کو عاقبت کی تیاری بھی کہہ دیا گیا اور اسکو تخلیق جہاں کی وجہ بھی بتا دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ پاک خود بھی پیار اور محبت کرنے والا رب ہے کہ یہی سبق قرآن بھی دے رہا ہے۔

    "”ناں چاونڑ پیار دا سوکھا اے، ہیں کوں طوڑ نبھاونڑ اوکھا ہے،
    معراج تھیندن ایندے سولیاں تے، کئی چڑھدے نوک سنان سمجھ،””
    ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ محبت کا نام لینا یا دعوی کرنا تو واقعی بہت آسان ہے لیکن نبھانے والے مر مر کے جیتے اور کٹ کٹ کر مرتے ہیں۔

    "”ایہو پیار تاں رب ملوا ڈیندے،
    سُتے لیکھ نظیر جگا ڈیندے،””
    فرماتے ہیں کہ یہی محبت بالآخر رب ذالجلال سے جوڑ دیتی ہے اور خوشبختی و خوش نصیبی کی آمد کا ذریعہ بنتی ہے۔

    "”جیں دل وچ پیار دے دیرے ہن، بس ہوں دل کوں عرفان سمجھ،””
    اچھا اب عرفان تو کہتے ہیں معرفت رکھنے والے کو، یعنی کہ جو اللہ کو پہچاننے والا ہو۔ گویا محبت و سوز رکھنے والا دل یقیناً اللہ کا عارف ہے۔

    اب بھلا ایسے بزرگوں کے عارفانہ کلام سے ہٹ کر کوئی کیا سیکھے یا سکھائے گا عشق و محبت کے اسرار و رموز۔

    اللہ اکبر!

    دعا کریں خدا محبت کرنے والا بنا دے تاکہ مرنے سے پہلے ہم بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ آمین

    @balouch_shafqat

  • مہنگائی اور بیروزگاری   تحریر   : توقیر عالم

    مہنگائی اور بیروزگاری تحریر : توقیر عالم

    ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے میعار زندگی کو بہتر کرے اچھی خوراک اچھا گھر اور بہتر سہولیات کا حصول انسان کی جبلت میں شامل ہے عمر بھر انسان اسی کوشش میں مصروف عمل رہتا یے اسی خواہش کے زیر اثر نئی نئی ایجادات وقوع پذیر ھوتی ہیں کسی بھی معاشرے میں ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا حق ہر فرد کو حاصل ہے ان سہولیات کو ہر انسان کی پہنچ میں لانے کے لیے معاشرے میں روزگار کے مواقع پیدا کئیے جاتے ہیں تاکہ ہر فرد اپنی ضروریات کا حصول ممکن بنا سکے اور اپنا میعار زندگی بلند کر سکے معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم معاشرے کے امن کی ضامن ہوتی ہے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے بہت سے سنگین مسائل پیدا ھوتے ہیں
    افسوس پاکستان میں پچھلے بیس سال سے بیروزگاری اور اس سے پیدا ھونے والے مسائل کو جس طرح نظر انداز کیا وہ قابل مذمت ہے بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خطرے کی علامت ہے ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ بیروزگار ہیں موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا نہ اس کے تدارک کے لیے کوئی جامع حکمت عملی بنائی پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی تیس سال سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے جن کو بیروزگاری جیسا مسئلہ درپیش ہے اکثر نوجوان بیروزگاری سے پریشان ھو کر نفسیاتی مسائل کا شکار ھو جاتے ہیں یا پھر مختلف قسم کے جرائم کے مرتکب ھوتے ہیں ہزاروں کی تعداد میں بیروزگاری سے پریشان نوجوان منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف ایک فرد متاثر ھوتا بلکہ پورا گھرانہ برباد ھو جاتا ہے ایسے لوگ امن و امان کے لیے بھی ایک خطرہ ہوتے ہیں
    تیزی سے بڑھتی ھوئی مہنگائی نے سفید پوش طبقے کو پیس کر رکھ دیا ہے غریب لوگ بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے کام پر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں جس سے شرح خواندگی میں کمی آتی ہے مہنگائی سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ھوتا ہے غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور بیروزگار لوگ پیسہ کمانے کے لیے غیر قانونی طریقے اخیار کرتے ہیں جس سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے
    ہماری حکومت اور اپوزیش اک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور سیاسی بیان بازی کے سوا کوئی کام نہیں کرتے
    حکومت کو چاہیے اس مسئلے کو سنجیدہ لے اور ان کے دیرپا حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے تاکہ نوجوانوں میں پھیلتی ھوئی بے چینی اور مایوسی ختم کی جا سکے پاکستان پر اللہ کا کرم ہے اس کی زیادہ آبادی جوان ہے جو اس ملک کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نصاب کو اپنی عملی ضروریات کے مطابق مرتب کیا جائے فنی مہارت کے لیے قائم کردہ اداروں کو متحرک اور موثر انداز میں چلایا جائے پاکستان میں ایسی پر کشش صنعت دوست پالیساں بنائی جائیں جو بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو لبھائیں تاکہ ملک میں سرمایہ آئے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں مختلف ممالک کو حکومتی سرپرستی میں اپنی افرادی قوت سپلائی کریں جس سے کثیر زر مبادلہ بھی حاصل ھو گا اور بیروزگاری میں کمی آئے گی چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسود قرض دئیے جائیں جن سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا کئیے جا سکتے ہیں
    حکومت کو اس معاملے میں سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ تیزی سے بڑھتی ہوی بیروزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل آنے والے دنوں میں بہت خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
    @Lovepakistan000

  • آپکی خیرات کے اصل حقدار  تحریر : آصف گوہر

    آپکی خیرات کے اصل حقدار تحریر : آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔
    "انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔”
    سورة البقرة 272
    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں بھیک مانگنے کا شعبہ ایک صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔ بھیک مانگنے والوں کے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو اپنے اڈے علاقے میں کسی دوسرے کو بھیک مانگنے کی اجازت نہیں دیتے یہ نیٹ ورک اتنا وسیع ہے کہ بھیک مانگتے کے لئے بچوں کا اغوا کرنے اور انہیں معذور بنانے کے قبیح عمل میں بھی ملوث ہے۔
    بھیک مانگنے والے معذور بچوں کو باقاعدہ کرائے پر لیتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو نیند آور شربت پلا کر عورتیں سارا دن گود میں اٹھائے بھیک مانگتی آپ کو بازاروں گلی محلوں میں نظر آجائیں گی ۔ مختلف فیشن کی طرح بھیک مانگنے والوں کی بھی الگ الگ کیٹگریز ہیں
    اپاہج زحمی کوڑ زدہ بس کا کرایہ پورا کرنے کے نام پر علاج کے لئے بیٹی کی شادی کے نام پر مزدوری نہیں ملی نیا نیا اسلام قبول کیا ہے بچے کے لئے دودھ خریدنا ہے ملنگ اور دولے شاہ کی چوہے یہ چند پیشہ ور بھکاریوں کے حیلے ہیں ۔اس کے علاوہ جدید منگتے بھی ہیں بس سٹاپوں ریلوے اسٹیشنوں لاری اڈوں اور اوور ہیڈ پلوں پر زکوة صدقات کے بکسز رکھے عام ملتے ہیں اللہ رسول کا واسطہ پچاس روپے کا بیلنس کروا دیں مسجد زیر تعمیر ہے سوشل میڈیا پر کئ بیوہ ڈی ایم کرتی ہیں کہ اتنے پیسے دے دو میرے سابق شوہر کی جائیداد میرے نام جب ٹرانسفر ہوجائے گی میں آپ سے شادی کر لوں گی۔
    بڑے شہروں میں پیشہ ور بھکاریوں کی پسندیدہ جگہ ٹریفک سگنلز اور ہسپتال ہیں۔
    انتظامیہ اور پولیس ان کےخلاف وقتا فوقتا آپریشنز بھی کرتی ہے انکو جیل میں بھی ڈالا جاتا ہے کم سن بچوں کو بازیاب کرکے پنجاب چائیلڈ پروٹیکشن بیور کے حوالے کیا جاتا ہے لیکن یہ چند دنوں بعد پھر آجاتے ہیں۔پولیس گاہے بگاہے شہریوں کے نام آگاہی کے پیغامات بھی جاری کرتی ہے کہ
    ‏اپنے صدقات و خیرات ضرورت مند اور مستحق افراد کو ہی دیں۔
    اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑا فضیلت والا کام ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں معاشرے کے نادار مفلس اور بےکسوں کی مدد کرنا کا درس ملتا ہے اسلام نے معاشرے کے غریب مسکین اور ناداروں کی مدد کے لئے زکوة کا خوبصورت اور زبردست نظام دیا ہے ۔
    آپ خیرات ضرور دیں لیکن اس کے لئے اپنے اقربا اور اردگرد میں موجود اصل حقدار کا انتخاب کریں حالیہ کرونا وبا کی ابتداء سے ہی لاہور میں ہمارے ایک دوست سوشل میڈیا کا بڑا نام نوجوان محترم وقاص امجد نے بڑی خوبصورتی اور رات کی تاریکی میں راشن کے سیکنڑوں تھیلے اپنے گردونواح کےضرورت مند گھروں میں خود پہنچائے سوشل میڈیا کے چند ضرورت مندوں کی شناخت ظاہر کئے بغیر باعزت چھوٹے کاروبار کے لئے مالی امداد دی اور درجنوں معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم کیں اللہ سبحان و تعالی انکی کاوشوں کو قبول فرمائے آمین ۔ یہ عمل ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے اردگرد اصل حقداروں کی مدد کریں یقینا یہ صدقہ جاریہ اور نیکی کے عظیم کاموں میں سے ہے۔
    آصف گوہر @EducarePak

  • شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمشہ زندہ رہتے ہیں۔
    یہ تھا 1964ء کا ایک خوشگوار دن شام کا وقت تھا کہ عبد الرزاق کے آنگن میں ایک بچے نے جنم لیا۔ گھر میں خوشی کا سماں تھا کہ عبد الرزاق کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے لیکن کسی کو علم نہیں تھا کہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اردو اور پنجابی ادب کے ایک درخشاں ستارے نے جنم لیا ہے۔ یہ جنم اردو اور پنجابی ادب کے مشہور شاعر اور ادیب محمد لطیف سیف کا تھا۔
    محمد لطیف سیف نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سوک خورد سے حاصل کی۔ اس کی کل تعلیم میٹرک تک تھی۔ زیادہ تعلیم نہ کرنے کی وجہ غربت تھی۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔ کم عمری میں روزی روٹی کی تلاش میں نکلے اور ایک شہر سے دوسرے شہر روزگار کے لیے دھکے کھائے۔ اس سفر میں انھیں سعودی عرب جانا بھی پڑا۔ لیکن اپنے ملک سے محبت نے انھیں واپس بلوایا۔ اور یہاں دوبارہ روزی کی تلاش میں رہے۔ اپنی زندگی کے زیادہ عرصہ غربت اور محنت مزدوری میں گزارنے کی وجہ سے طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی۔ لطیف، انسان تو انسان جانوروں کے درد پر بھی دردمند ہونے والے انسان تھے۔ ان کے عاجزانہ طبیعت کا انکی شاعری پر بڑا گہرا اثر ہے۔ ان کی شاعری میں درد و آہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں محبت اور محبوب کا رنگ بھی ملتا ہے ان کے اشعار میں محبوب کے آگے انداز بھی عاجزانہ ہے وہ محبوب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں ہمیں درد اور غربت کا زیادہ زکر ملتا ہے۔
    ("غریبوں کو ہر دم ستاتی ہے دنیا

    ستم اس طرح بھی یہ ڈھاتی ہے دنیا”)

    محمد لطیف سیف کی شاعری میں حمدیں، نعتیں، غزلیں نظمیں وغیرہ شامل ہیں۔
    ان کے کلام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں، جن میں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں بھی ہیں۔ میڈم نور جہاں نے ان کا پنجابی کلام "جدوں دیاں تیرے نال لڑ گیاہ اکھیاں” گایا ہے۔ ان کے کلام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے کلام کو سخن شناس پوری دنیا میں سنتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مختلف گلوکاروں نے ان کے کلاموں کو اپنی آوازوں میں گایا ہے ۔
    ان کی شاعری کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب "اشک بہاتی تنہائی” جو کہ اردو زبان میں اس کی زندگی میں پبلیش ہوچکی تھی،
    ("میں بھول ک دنیا والوں سے اک بار بھی شکوہ کیوں کرتا

    گر سیف میری بربادی پر نا آشک بہاتی تنہائی”)
    جبکہ دوسری کتاب پنجابی زبان میں ہے "مٹی ملیاں سوچاں” اس کے وفات کے بعد پبلیش ہوئ تھی۔ دوسری کتاب مکمل ہوچکی تھی لیکن پبلیش کرنے ابھی نہیں دیا تھا کہ 6 دسمبر 2016 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور رب کائنات خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کا دن نہ صرف ان کے گھر والوں کے لیے بلکہ سب سخن شناس لوگوں کے لیے تکلیف کا دن تھا۔
    اس کے وفات ہونے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ مل کر ان کی دوسری کتاب شائع کی۔ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کے نام کو بڑے احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے اور اردو اور پنجابی ادب کو پسند کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جگہ کبھی کوئی پورا نہیں کر پائے گا۔ ان کی شاعری ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللّٰہ ان کی آخری منزل آسان فرمائے۔ اللّٰہ ان کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ (امین)

    ("جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے”
    جو ملا بن کے غمگسار مجھے
    کر گیا وہ بھی اشکبار مجھے

    زندگی کس طرح کروں گا بسر
    غم کی دلدل میں مت اتار مجھے

    جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے

    میں خزاں کو دوش دیتا رہا
    د
    زخم دیتی رہی بہار مجھے۔

    ہے عبث سیف یہ مسیحائی
    اب نزع کا ہے انتظار مجھے۔” )

    ________________________
    twitter.com/MahiLatief1

  • عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    آج کل ہمارے معاشرے میں آپس کی ناچاقیں و نفرتیں عروج پر ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ہم جتنی بھی بڑی سے بڑی غلطی کریں چھوٹی لگتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سامنے والا بندہ ہمیں فوری طور پر معاف کرے اگر وہ معاف نہ کرے تو ہم اسے مغرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسے معاف کریں اس کی غلطی ہمیں گناہ کبیرہ لگتی ہے آنا کا مسلہ بنا دیا جاتا ہے۔ جی ہاں گناہ کبیرہ لگتی ہے اب ایسا کیوں؟ کیوں ہمیں اپنی غلطی غلطی نہیں لگتی کیوں ہم اسے آنا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے؟

    ایسا اس لیے کیوں کہ ہم نے نبی آخروالزماں سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر معاف کرنے سے تمہاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا”

    آج کل ہم کہاں کھڑے ہیں ہم تو اسلام سے بہت دور ہو گئے ہیں بلکہ ہم تو اسلام کی مخالف سمت میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم جتنا بڑا گناہ کر لیں ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں لیکن اگر کسی انسان سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے کیوں بھائی اگر اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے بندوں کو بھی معاف کرنا سیکھیں تب جا کے اللّٰہ تعالیٰ معاف کریں گے۔ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے انسان نے غلطی کرنی ہے۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سگے چچا کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا۔بھائی غلطی انسان سے ہوتی ہے اپنی غلطی تسلیم کرنے والا بڑا ہے اور معاف کرنے والا اس سے بھی بڑا ہے۔ معاف کرنے سے یا معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا اس لیے دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف فرمائیں آپ کی غلطیاں معاف کریں تو دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھیں دوسروں کی غلطی کو انا کا مسلہ نہ بنایا کریں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق معاف کرنا سیکھیں اللّٰہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف کریں گے۔

    اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ درگزر کرنا سیکھیں انشاء اللہ زندگی حسین ہو جائے گی اور معاف کرنے سے جو خوشی ملتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو معاف کریں تو دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • چمکتا ہوا سکہ تحریر: جواد یوسفزئی

    ایک سٹور کے کاونٹر پر بقایا میں ایک نیا چمکتا
    ہوا سکہ بھی آیا۔ کافی عرصے سے سکہ نہیں دیکھا تھا۔ معلوم ہوا کہ دس روپے کا بھی سکہ آیا ہے۔ پہلے ایک، دو پانچ، دس، پچیس اور پچاس پیسے اور ایک روپے کے سکے ہوتے تھے۔ ایک روپے کا نوٹ بھی چلتا تھا۔ شروع میں یہ سکے پیتل، تانبے یا نکل کے ہوتے تھے۔ پھر ایلیمونیم کے سکے آنے لگے۔ ایک پیسے سے شروع ہوکر دس پیسے تک۔ پرانے سکے غائب ہوگئے۔ پھر یہ ایلیمونیم کے سکے بھی غائب ہوگئے۔ بعد میں پچیس اور پچاس کے سکے بھی نکل گئے۔ ایک اور دو روپے کے نئے سکے نکل کے بجائے تانبے کے آگئے۔ ایک، دو اور پانچ کے نوٹ بند ہوگئے اور ان کی جگہ سکے چلنے لگے۔ اب یہ بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ ان سکوں کے غائب ہونے کی ایک وجہ تو ان کی ویلیو کا کم ہونا ہے۔ ایک دو بلکہ پانچ روپے کا بھی کچھ نہیں ملتا۔ لیکن زیادہ مقدار میں سکوں سے تو خریداری کی جاسکتی ہے۔ پھر یہ سکے کہاں جاتے ہیں؟ سکوں کی قیمت خرید مہنگائی بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سکے کی سرکاری قیمت خرید اس دھات کی قیمت سے کم رہ جاتی ہے جس سے سکہ بنا ہوتا ہے۔ اس وقت لوگ اس سکے کو خرید و فروخت کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اسے پگھلاکر زیادہ قیمت پر فروخت کریں گے۔ یہ گراہم لا ہے۔ یہ صاحب سولہویں صدی میں انگلینڈ میں بینکر تھے یا شاید بادشاہ کے مالی مشیر بھی۔ ان کا خیال تھا کہ ملک میں سونے اور چاندی کے سکے ایک ساتھ چلیں گے تو چاندی کے سکے سونے کے سکوں کو مارکیٹ سے نکال باہر کریں گے۔ ہم ابتدائی معاشیات میں اسے پڑھتے تھے تو اسے زمانہ قدیم کی کہانی سمجھتے تھے۔ لیکن اب برسوں سے ہمارے ہاں یہ لاء کام کر رہا ہے۔ ایلومینم کے سکے آئے تو تانبے کے سکے غائب ہوگئے۔ ایلومینم کے سکوں کو کاغذ کے نوٹوں نے نکال باہر کیا۔ یہ دس روپے کا سکہ بھی ایک دو سال چلے گا۔ جب اس میں شامل پیتل کی قیمت دس روپے سے بڑھ جائے گی تو لوگ کاغذ کے نوٹوں کے بدلے سکے خرید کر انہیں پگھلا لیں گے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.Com

  • ‏مذہب اور انسانیت   تحریر:  سجاول سلیم

    ‏مذہب اور انسانیت تحریر: سجاول سلیم

    انسان سے محبت اور احترام ہمیں ہمارا مذہب سیکھتا ہے
    اللہ تعالی نے انسان کو ایک جیسی اصلاحیتوں سے نوازا ہے انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک ساری ہدایت مذہب کرتا ہے ماں باپ بہن بھائی رشتےدار برادری ان سب کی پہچان مذہب کرواتا ہے
    دنیا کا کوئی مذہب برے کام کو اچھا کام نہیں بتاتا۔

    اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ظلم و زیادتی نہیں کی جائے انسانی حقوق سب سے اہم پہلو مذہب ہوتا ہے
    انسانی کے اخلاق کا معاشرتی زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ اللعالمین بنا کر بھیجا تاکہ دنیا میں علم کا نور پھیلایا جائے۔ انسانیت کے ذریعے انسانوں کی عزت کی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا سے اللہ کے اس حکم کے ساتھ اترے کہ نبوت کا اعلان کر کے اللہ کے پیغام کو ساری انسانیت میں عام کر دیں۔

    آپ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسلام انسانیت کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کے احترام کا بیڑہ اٹھایا، آپ بیواؤں، غریبوں یتیموں، پڑوسیوں کے غمگسار ہیں۔ اس اصول کو آپ نے ساری انسانیت کے سامنے پیش کیا۔
    انسانیت اور اچھا اخلاق انسان کو ہمیشہ اونچے مرتبے پر فائز رکھتا ہے۔
    وہی انسان سب سے اچھا ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔ انسان کو اتحاد اور محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے. انسانیت کی خدمت کا جو دائرہ دین اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی مذہب نے نہیں دیا۔
    قرآن مجید میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا اور ایک انسان کی جان کو بچانا پوری انسانیت کی جان کو بچانے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
    مذہب امن کا ضامن ہے کیونکہ مذہب اخوت، اتحاد ، محبت اور مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اور نفرت ، عداوت کو بالکل ختم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے کام انا انسانیت ہے۔ ہمارے معاشرے سے انسانیت مر چکی ہے
    غریبوں اور مظلوموں پر ہم ظلم کرتے ہیں حالات سے مجبور لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے لیکن ہمارا مذہب اس چیز کی اجازت بالکل بھی نہیں دیتا کہ کسی مجبور شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔

    آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بے مثال خطبہ حجۃ الوداع میں اس حقیقت کاا ظہاربایں الفاظ فرمایا:’’ اے لوگو ! کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے ،تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔‘‘

    @Sajawal_13

  • نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    کبھی لمحوں میں صدیاں بیت جاتی ہیں، کبھی لمحے گزارنے کے لیے صدیوں
    انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فطری عمل تو اپنی جگہ،انسان کی زہنی کیفیات گردش ایام کی پیمائش کرتی ہیں۔حضرت عزیر ؑ اور اصحابِ کہف ؓ کے واقعات تو معجزہ وکرامت سے منور ہیں ہی لیکن عامۃالناس پر یہ پیمائشیں اثراندازہوتی ہیں۔ فلم تین گھنٹے کی دیکھنے کے بعد بھی وقت کا پتہ نہیں چلتا اور نماز کا آدھاگھنٹہ بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہماری
    روح، ضمیر اور سوچ کی سمت کاتعین کرتی ہیں۔ قبرکے امتحان میں اگر کامیاب ہو گئے تو صدیوں کی زندگی چند لمحوں میں گزرجائے گی اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو ایک ایک لمحہ اذیت ناک گزر ے گا اور کوئی چھڑانے والا بھی نہیں ہو گا۔
    قارئین محترم!دنیا میں اربوں کھربوں انسان آئے،انتہائی مختصر زندگی بسرکی اوراپنا باب زندگی سمیٹ کر چل بسے۔انسان کے جانے کے بعد بھی اگرکسی شخص کا تذ کرہ ہوتاہے تو صرف اُس کے کردار کی بدولت ہوتا ہے۔ مال ومتاع،جاہ ومنصب توعارضی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جوزندگی کےبعدبھی انسان کوجلاہ بخشتے گی وہ اس کا کرداراورمشن ہے۔روز ازل سے دو کردارہمیشہ مدمقا بل رہے ہیں۔لیکن بے سرو ں سامانی کے با وجود فتح نے ہمیشہ حق کےپلڑے میں اپناجھکاؤ رکھا۔معرکہ کربلا ہو یا نمرود کے دربار میں حضرت ابرا ہیم ؑ، غزوہ بدر ہو فرعون کے مقابلہ میں موسی ؑکاکردار، ہمارے لیےحق والوں کی معیت مشعل راہ رہی ہے۔ نمرود، فرعون، یزید اور ابو جہل مال ومتا ع، روپے پیسے، جاہ ومنصب اور حواریوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مٹ گئے۔آج ان کا نام لیوا تک نہیں رہا۔لیکن نیکوں کاروں کی سنگت کر نے والا چاہے اصحابِ کہف ؓ کا کتا ہو یا حضرت سلیمانؑ کے راستے پرآنے والی چیونٹی۔ان کے نام تا قیامت زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرو توجواب ملتاہےکہ ایک بندے کی کوشش سے کیا فائدہ ہو گا؟لیکن اصل بات کردارکی ہے۔حضرت ابرا ہیم ؑ کے لیے جب آگ جلائی گئی تھی تو ایک گرگٹ دورسے پھو نکیں مارنےلگا۔تا کہ آگ کی تپش میں اضافہ ہو جائے۔ وہ ایسا کر تو نہ کر سکا لیکن قیامت تک کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی لاتی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ کو بجھا ئے گو کہ وہ آگ کوبجھاتونہ سکی لیکن بجھانے والوں میں شامل ہو گئی۔آج صدیوں بعد بھی اُس کا تذکرہ ہوتا ہے۔آج لاکھوں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کے خلاف ویب سائٹس
    لانچ کی ہو ئی ہیں۔جو مختلف میڈیا کے ذریعے ہماری نئی جنر یشن کے قلوب واذہان پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔کفار نے پلانگ کے تحت ہمیں مغلو ب کر نےکے لیے صدیوں پر محیط ورکنگ کی ہو ئی ہے۔ برِصغیر کے وائسرائے لارڈمیکا لے نے 1835 میں رعب ودبدبہ بٹھا نے کے لیے کہا تھا”یو رپ کی ایک الماری کی کتابیں برصغیرکے سارے لٹر یچر سے بہترہیں“۔حالانکہ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس برصغیرکیے لٹر یچر میں قر آن مجید بھی ہے۔جس سے تمام علوم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔اس نظریے کا تسلسل آج بھی نظر آرہاہے۔ہمارے لوگ یورپ کی نمو دو نما ئش سے مرعوب ہو کر وطن عز یز پاکستا ن کو چھو ڑ کر وہا ں رہا ئش پز یر ہو کر مغلوبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    اگران تمام حالات کو بنظر غائر دیکھیں تو قصورہمارااپناہی ہےاجتماعی طورپریہ سوچ غالب ہو تی جارہی ہے کہ اگرمیں اپنے حصے کا کردارنہ بھی اداکروں توخیرہے کیوں کہ باقی جو سب اپنا کرداراداکررہے ہیں،حالانکہ ایساہوتانہیں۔ایک بادشاہ نے اپنی راعیہ سے کہا کہ تمام لوگ رات کےاندھیرے میں اس تالاب میں ایک ایک گلاس دودھ کا ڈال دیں جب صبح اٹھ کربادشاہ نے دیکھا تو ساراتالاب پانی کا بھراہواتھا۔اس نے جب معاملے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہر بندے کی سوچ یہ تھی کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیاہو گاجب باقی سب نے دودھ ڈالناہے۔ یہ سوچ کروہ سبھی پانی کاگلاس ڈالتے رہے اور ساراتالاب پانی سے بھر گیا۔یوں اگرانفرادی کوشش نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حصے کاکرداراداکرتے جائیں اورنتیجہ اللہ پرچھوڑدیں تو ضرور بہتری آئے گی۔
    ہم دھوکہ کھانے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سچے لوگ سامنے آنے پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اور ہاں! اگر دھوکہ کھانا ہی ہے تو کم از کم اسلام کےنام پر توکھائیں،نیت سچی ہونے کا ثواب تو مل جائے گا۔ حضرت عمر ؓ اپنےجس غلام کو دیکھتے کہ لمبی نماز پڑھ رہا ہے آپ ؓ اسے آزاد کردیتے،کسی نےکہا کہ یہ آپؓ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو آپ ؓنے فرمایا کہ (مفہوم)کہ میں اللہ کے نام پرایسے ہزاردھوکے کھانے کو تیارہوں۔ترکی میں ہم نے دیکھاکہ عوام نے طیب اردگان کی ایک کال پر اتنی بڑی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر قوم کی توقعات پرپورا اترتا ہو۔مسلم اُمہ کی عوام کی سب سے بڑی توقع ایک ہی ہے کہ پوری دنیا پر اسلام کاپرچم بلند ہوجائے تاکہ برما،فلسطین،کشمیر،عراق
    ،افغانستان اورشام پرکفارکی بربریت ختم
    ہو جائے اور ان کامال، جان، عزت اورآبرو محفوظ ہوجائے۔معیشت کی ثانوی
    حیثیت ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔عوام کے جذبات اور اُمنگوں کی
    ترجمانی کرنے والالیڈر جب بھی مل جائے گا ملک کی ترقی و خوشحالی کی منازل
    بڑی برق رفتاری سے طے ہوں گی۔اقبالؓ کی روح تو آج بھی کہ رہی ہے۔
    نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
    حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ (مفہوم) ”کفار کا سب سے پہلا حملہ میری
    اُمت کے نظام حکومت پر ہوگا،اور سب سے آخر پر حملہ نمازپرہوگا“(مستدرک
    الحاکم)۔توآج وطنِ عزیزکے نظام کو کفار دوست ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے
    لیے ما لی و بدنی کرداراداکرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائد
    اعظم اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق محفوظ اور خوشحال پاکستان فراہم
    کر سکیں۔

    DrAkAliOfficial

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    ہر کوئ چاہتا ہے کہ انہیں صاف و شفاف ماحول ملے لیکن بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہے جو کہ اپنے ماحول کو صاف بنانے کیلۓ کچھ بھی نہیں کر رہے اور ہر روز اپنے ماحول کو بدترین بنا رہے ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صفائ نصف ایمان ہے ۔ یعنی صفائ ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہے اور حضورﷺ کو اپنا آخری نبی مانتے ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم حضورﷺ کی اس بات پر عمل کرتے ہوۓ صفائ کو اپنا نصف ایمان بناۓ۔ اس سے ہم نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہمارا ملک بھی صاف رہے گا اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
    پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں سے ہوتا ہے جو کہ آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری خود کی وجہ سے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی خاص وجوہات میں شامل ایندھن کا جلانا، سڑک کے اطراف کچھرا پھینکنا، جنگلات کی کٹائ، گاڑیوں اور بجلی کے آلات کا غیر ضروری استعمال، کیڑے مار ادویات کا غلط استعمال اور صنعتی فضلہ یہ سب ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کر رہے ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا بنیادی وجوہات ہے۔
    جب گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی میں بھی شدت سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہمارے خوراک، موسم، اور ہمارے صحت پر بھی پڑتا ہے۔
    نیشنل جیوگرافک کے مطابق موسمیاتی حالات میں شدت کی وجہ سے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا جیسے برف کی چادریں پگھل جاتی ہے اضافی پانی جو کہ کبھی گلیشئرز میں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندر میں پانی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے جو کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
    ماحولیاتی آلودگی ہمارے لیۓ ایک بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے ۔ جب اگر بارشیں نہیں ہوگی تو ہماری زمینیں زرخیز نہیں ہوگی۔ جب زمینیں زرخیز نہیں ہوگی تو فصل سہی نہیں ملےگا اور جب سہی فصل نہیں ملے گے تو اچھی صحت نہیں ہوگی اور بیماریاں زیادہ ہونگی کہیں ہم خشک سالی کا شکار ہونگے اور کہیں سیلاب کا۔ ہمارے پاس بھوک سے مرنے والے چہروں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
    ہمیں اگر اپنے ملک پاکستان کو آلودگی سے پچانا ہو تو ہمیں چاہئیے کہ پولی تھین بھیگ کا ہرگز استعمال نہ کرے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی چیز ہے لیکن زمینی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ یہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے .پولی تھین بیگ بہت نقصان دہ ہیں جن کا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنی ہوگی. شمسی اور ہوا سے توانائی کا استعمال کیا جانا چاہئے جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج پیدا نہیں کرتا ہے۔ بہاولپور میں پاکستان کا فوٹو وولٹک پاور اسٹیشن ، 100 میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک کام کر رہا ہے.
    ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقائدہ حکومتی سطح پر بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کے تحت پورے ملک میں 1 بلین درخت اگاۓ جائینگے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ یہ ایک انتہائ سحر انگیز اقدام ہے ۔ جس میں نہ صرف درخت اگانے ہے بلکہ جگہ جگہ پر جو گندگی پڑی ہے اس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم حکومت کے ساتھ بلین ٹری سونامی میں جوش و جزبے کے ساتھ شامل ہو

    جیسا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہمارے ایک متحدہ عمل اور منزل مقصود پر اعتماد کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت میں تبدیل ہونے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان کو صاف و شفاف اور سرسبز و شاداب بنانا بھی ہمارا ایک خواب ہے جسے ہم ایک دن ضرور پورا کرینگے. اور اپنے ملک سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے۔ اپنے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ ہر پاکستانی سے درخواست کرونگا کہ اس مون سون میں اپنے حصے کا ایک پودا لازمی لگواۓ.

    Waseem khan
    Twitter id: @Waseemk370