Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کامیابی اور ناکامی

    کامیابی اور ناکامی

    کبھی کبھی زندگی رولاتی ہے، تڑپاتی ہے۔صدمے پہ صدمہ تکلیف پر تکلیف ، پریشانی کے بعد بڑی پریشانی، ناکامی کے بعد زیادہ ناکامی، اور ذلت پے ذلت ، اور دکھ پے دکھ۔ جبکہ کبھی کبھی یہ بہت ہنساتی ہے۔ راحت پے راحت دیتی ہے۔ خوشی پر خوشی ، کامیابی کے بعد بہت بڑی کامرانی اور عزت اور شہرت کے بلندیاں دکھاتی ہے ، کبھی کبھی ڈھیر سارا پیار اور پیار والا محبوب دیتی ہے اور کبھی کبھی ہر طرف سے نفرت اور محبت کرنے والے محبوب کو ہارا دیتی ہے۔ کوئی بہت کم محنت سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور کوئی ہر روز تھکا دینے والی زندگی جیتا ہے۔ کبھی کسی کا ایک پرڈاکٹ کسی کا ایک ایپلیکشن وائرل ہو کے اسے بل گیٹس بنا دیتا ہے ۔ اور کبھی کبھی صدام حسین اور سقراط کی طرح عیش وعشرت کی زندگی سے قیدی بنا دیتی ہے۔
    کبھی یہ میٹرک پاس کو پائلٹ بناتی ہے اور کبھی انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹر ڈگری ہولڈر کو چوکیدار اور کبھی کبھی دیہاڑی دار مزدور بنا دیتی ہے۔ زندگی چلتی رہتی ہے ۔ اگر انسان کامیاب ہو ۔ مالدار ہو مشہور ہو راحت اور خوشی میں ہو تو بھی یہ وقت اور زندگی نہیں رکتی اور اگر کانٹوں کے اوپر زخموں میں چور اور تکالیف ہی تکالیف میں بھی یہ کبھی نہیں رکی۔
    لیکن زندگی میں کامیابی اور ناکامی انسان کے ہاتھ اور طاقت میں نہیں۔ کوئی بھی انسان اپنے ذہانت اپنی خوبصورتی اور اپنی قابلیت سے اللہ کے مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ چاہے وہ مشہور پاپ سٹار مایکل جیکسن ہی کیوں نہ ہو ۔ جو اپنی زندگی پچاس سال تک جینے کا منصوبہ بناتا ہے ۔ ڈاکٹروں کا ٹیم اکسٹرا باڈی پارٹس بھی اس کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔
    اللہ ہم کو سمجھانے کے لیے رنگ برنگ معجزے ہر وقت اور ہر زمانے میں دکھاتا ہے۔ لیکن ہماری آنکھوں پر غرور کا پردہ ہے، ہماری آنکھوں پر کامیابی کا پردہ ہے ۔ جو ہمیں یہ سب دیکھنے اور سمجھنے سے دور کرتی ہیں ۔ بقول جناب واصف علی واصف صاحب وہ آنکھیں کبھی بھی معجزات اور کرامات نہیں دیکھ سکتی جس پہ حرام کا پردہ ہو۔

    ہمارا کام تو آجکل تصوف اور تزکیہ نفس سے ہٹ کے بہت ماڈرن ہو چکا ہے ۔ ہم تو بڑے عقل مند اور ہوشیار ہو گئے ہیں۔ دنیا میں پہلے ایک افلاطون تھا اور آجکل لاکھوں نہیں کروڑوں افلاطون ہیں ۔ خود کو دنیاوی کاموں میں بڑا اور استاد سمجھنا اور خود کو انسانوں میں سب سے یا کسی ایک سے بھی افضل سمجھنا ذھنی بیماری اور ذھنی کمزوری ہے۔ آج کوئی مصیبت میں، کمزور، غریب اور ناکام ہے تو وہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوگا۔ کل اگر اللہ چاہے تو اسےکامیاب مالدار اور عزت والا بنا دے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے آج آپ کا نوکر کل آپ کا لیڈر بن جائے۔ اللہ جسے عزت دے دے۔
    دوستوں زندگی میں دکھ درد ، غم خوشی ہم کو سکھانے کے لیے آتی ہے۔ کبھی بھی کسی کو کم اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر اور صبر کرنا چاہیے ۔ غریب کی مدد اور مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے۔
    @The_Pindiwal

  • نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    نوکریاں کیسے حاصل کریں . تحریر : نعمان سرور

    پرانے وقتوں میں یا آج سے 20 سال قبل ایک رواج تھا کے جب بھی کوئی شخص تھوڑا بہت پڑھ لیتا تھا تو اس کی نظر سرکاری نوکری پر ہوتی تھی چونکہ ان دنوں تعلیم کم ہوتی تھی وسائل کم ہوتے تھے تو لوگوں کو پڑھ کر نوکری مل جاتی تھی یا جو لوگ سرکاری نوکری حاصل نہیں کر پاتے تھے وہ فوج میں تو چلے ہی جاتے تھے۔

    دورگزرتا گیا تعلیم عام ہونے کے ساتھ کمرشل ہوگئی اور پاکستان نے گریجویٹس کے ڈھیر لگا دئیے نوکریاں کم ہونے لگیں اور بیروزگاری بڑھنے لگی لوگ پی ایچ ڈی کر کے بھی معمولی تنخواہ پر کام کرنے پرمجبور ہوگئے، پھر ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا لیکن ہماری نوجوان نسل نے اس کو سمجھنے میں دیرکی آہستہ آہستہ لوگوں کو پتہ چلتا گیا اور لوگ اس نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے گئے اس میں ایسے کئی ہنر شامل ہوگئے جو نوجوان سیکھ کر گھر بیٹھے نوکری حاصل کرنے لگے.

    نئی سکلز جو نوجوان سیکھ سکتے ہیں ان میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ یہ بذات خود ایک وسیع فیلڈ ہے اس میں کسی بھی چیز میں مہارت حاصل کر لیں، وڈیو ایڈیٹنگ سیکھ لیں، کانٹینٹ رائٹنگ سیکھ لیں، ویب سائٹ بنانا، موبائل ایپ بنانا، آرٹیفشل انٹیلیجنس، ایکسل مینیجمنٹ، کاپی رائٹنگ، بلاگنگ، یوٹیوب چینل شروع کرسکتے ہیں ایسی کوئی 25 سے زیادہ سکلز ہیں جو آپ سیکھ کر آن لائن لاکھوں کما سکتے ہیں اور سیکھنے کے لئے کئی ایسی ویب سائٹس ہیں جو آپ کو مفت سکھا دیتی ہیں یوٹیوب سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے آپ اس سے سیکھ سکتے ہیں غرض کے اتنے ہنرایسے ہیں کے جن میں بس آپ کو سیکھنے کے بعد چند گھنٹے کام کرنے کے لاکھوں ملتے ہیں بات ساری آپ کی محنت اورمخلص پن کی ہے آپ جیسے جیسے محنت کرتے جائیں گے ترقی کرتے جائیں ان میں آپ کو کسی کی منت نہیں کرنی کوئی سفارش نہیں کروانی کوئی رشوت نہیں دینی،آپ خود اپنے بزنس کے مالک ہونگے اپنی مرضی کے گھنٹوں میں کام کرسکتے ہیں، اب نوکری صرف اس شخص کے لئے نہیں ہے جو کام کرنا ہی نہیں چاہتا ورنہ اگر کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو پوری دنیا مین کام موجود ہے بس آپ کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہے آپ کو اپنی سوچ سرکاری نوکری سے نکال کر محنت کی طرف لے کر آنی ہے جب آپ یہ کر لیں گے تو نوکریاں آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔

    آن لائن کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کے آپ کو وسائل کی ضرورت نہیں ہے آپ کے پاس ایک اچھا لیپ ٹاپ ہونا چاہیے اور انٹرنیٹ تو آجکل ہرکسی کے پاس ہے بس اس سے فائدہ اٹھائیں اورکام شروع کریں حکومتوں سے گلا کرنا چھوڑ دیں اپنی سی وی لے کر مقامی نمائندوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑدیں، سرکاری اداروں میں ایک نوکری پر ہزاروں درخواستیں دے کر اپنے ذہن کو ایک عجیب کیفیت میں مبتلہ کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا اللہ تعالی اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو قوم اپنے حالات خود نہ بدلنا چاہے۔

    پاکستان ایک ترقی پزید ملک ہے جو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے صرف آئی ٹی کی صنعت اورنوجوانوں کو ہنر مند بنانے سے ہم اربوں ڈالر کما سکتے ہیں، اس سلسلے میں حکومت نے نوجوانوں کے لئے مفت ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے لاکھوں نوجوان فائدہ حاصل کرچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے ملکی سطح پرایک ایسا فورم بنایا جائے جہاں نوجوان اپنے آئیڈیاز لے کر آئیں اور سرمایہ کار ان پر میں سے بہترین آئیڈیازکو سپانسر کریں ایسے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گا۔

    پاکستان نے سال 2020-2021 میں تقریبا 2 ارب ڈالر تک اس صنعت سے کمائے ہیں اگر حکومتی وسائل اور نوجوان اس میں دلچسپی لینا شروع کردیں تو یہ صنعت اگلے 5 سال میں آسانی سے 10 ارب ڈالر تک جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا حکومت نے ایک اور بہترین کام کیا ہے کہ آئی ٹی پر کوئی بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا اس سے اس میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان حکومت ایمازون کو پاکستان میں لانے میں کامیاب ہوگئی ہے اب اگلی باری پے پال جیسی سروس کی ہے اگر حکومت اسی طرح نوجوانوں کی مدد کرتی رہے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ صنعت پاکستان کے قرضے اتارنے میں مدد کرے گی۔
    آخر میں نوجوان نسل کو پیغام ہے ہمت کریں میدان میں آئیں اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔
    اللہ ہم سب کا حامہ و ناصر ہو : آمین

    @nomysahir

  • ٹریفک کی روانی دل کے مریضوں کی موت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے   تحریر: عقیل احمد راجپوت

    ٹریفک کی روانی دل کے مریضوں کی موت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی شہر میں مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے پہلے تو کوئی سرکاری ایمبولینس سروس نہیں ہے کیا کمال کی بات ہے پورے پاکستان کو اورنج لائن میٹرو ٹرین میٹرو بس سروس کے لئے 68پرسنٹ ریونیو اکھٹا کرکے دینے والے کراچی شہر میں ایمبولینس سروس بھی خیراتی اداروں کے مرحون منت ہے میرا آج کا موضوع یہ نہیں وہ بیمار ہے جو کراچی میں گندے پانی اور گندگی کی وجہ سے آئے روز بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں مگر ان کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے کوئی ایمرجنسی ٹریک ہی دستیاب نہیں پورے کراچی سے کسی اسپتال کی جانب جانے کے لئے جن سڑکوں کا انتخاب آپ کو کرنا ہوگا اس میں ٹریفک جام گھنٹوں کی بات ہے اب آپ کے مریضوں کی قسمت اچھی رہی تو وہ ٹریٹمنٹ ملنے تک اسپتال منتقل ہوجائے گا اور صحت مند زندگی کی جانب لوٹ آئے گا آپ بیتی بتا رہا ہوں مجھے دل کا دورا پڑا ایمرجنسی کی صورت میں مجھے گھر والوں نے رکشہ میں ڈال کر کارڈیو اسپتال واٹر پمپ لیجانے کی کوشش کی ابھی فور کے چورنگی پر ہی گھر والوں کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے کیونکہ وہاں سے گاڑی کو نکالنے کے لئے کم سے کم آدھا گھنٹہ درکار ہوتا ہے اللہ کا کرنا اور میرے زندگی کے دن ابھی باقی تھے سامنے چھیپا کے بوتھ سے ایک ایمبولینس میں ڈال کر گھر والوں نے آگے کا سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا بھلا ہو چھیپا ویلفیئر کے ڈرائیور کا جس نے منی کارڈیو پہنچایا مگر برائی سامنے سے دستک دے رہی تھی ڈاکٹر نے کہا فورا بڑے کارڈیو یعنی این آئی سی وی ڈی لیجائے یہاں انتظام نہیں ہے الٹے پاؤں واپس گھر والوں نے بڑے کارڈیو پہچانے کی ٹھانی اور پھر ایمبولینس سروس کے ذریعے مجھے کارڈیو پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کے بعد اینجیو گرافی اور اگر ضرورت ہوئی تو انجیو پلاسٹی کی تجویز دی اور آپریشن تھیٹر میں میری انجیو پلاسٹی کردی گئی اسنٹ دل کے اندر پیوست ہو گیا لیکن سب پریشانیوں اور گھٹن کے جو لمحے میں نے گزارے ہیں وہ روڈ پر ٹریفک میں پہنس کر اپنی زندگی کے لئے لڑنا ہے حکومت مریضوں کے لئے فاسٹ ٹریک ایمرجنسی روڈ کا پلان ترتیب دے جس سے بہت سی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے

  • امید پہ دنیا قائم ہے  تحریر:  محمد وقاص عمر

    امید پہ دنیا قائم ہے تحریر: محمد وقاص عمر

    امید ایک شے ہے جس کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔ہر ذی روح امید کے سہارے زندہ ہے۔امید ایک خوشی ہے بلکہ یوں کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ امید ایک نئی زندگی ہے۔اس دنیا کی زندگی سے الگ ایک زندگی جہاں انسان دنیا کی زندگی میں ہار مان جاتا ہے تب یہ امید اسے ایک نئی زندگی دیتی ہے۔جب انسان بالکل ناامید ہو جاتا ہے تو یہ امید ہی ہوتی ہے جو انسان کو خوشی اور سکون دیتی ہے۔یوں کہہ لیں امید برے حال کی دوا ہے جس سے انسان کو راحت نصیب ہوتی ہے جب اس کو مشکلوں اور غموں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔شاید امید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دیا گیا سب سے الگ اور ایک انوکھا تحفہ ہے۔

    یہ کائنات امید پر ہی قائم ہے۔ آج کی اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں ہم رہ رہے ہیں اگر امید نہ ہوتی تو انسان کبھی یہاں تک نہ پہنچ سکتا۔ اگر امید نہ ہوتی تو انسان آج بہت ساری ایجادات سے محروم ہوتا۔اس کی جیتی جاگتی مثال انیسوی صدی کا موجد تھامسن ایڈیسن کی ایجاد ات ہیں۔سب سے بڑھ کر جو تحفہ اس نے مصنو عی روشنی یعنی بلب کی شکل میں دنیا کو دیا اس احسان کے نیچے دنیا کے تمام حسین و دلکش شہر آج بھی دبے ہوئے ہیں۔

    بلب کی ایجاد کے سلسلے میں ایڈیسن نے ایک ہزار کے قریب تجربات کیے جن میں نو سو ننانوے بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن جب بھی اس کا کوئی تجربہ ناکام ہوتا وہ امید کے سہارے اس ناکامی کو برداشت کر لیتا۔اسے امید تھی کہ ایک دن یہ بلب جل کر رہے گا اور امید نے اس کے اندر کی لگن کو مزید بڑھایا اور آخرکار تھامسن ایڈیسن نے بلب روشن کر کے دکھایا۔

    اس کی ایک اور مثال جب انسان کسی پرندے کو قید کرتا ہے تو پرندے کو اس قیدی تنہائی میں جو چیز زندہ رکھتی ہے وہ امید ہی ہوتی ہے۔اس ایک امید کا ہی سہارا ہوتا ہے کہ شاید وہ اس قید سے چھٹکارا پا لے گا اور ان بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں اور اس نیلے آسمان کو چیرتے ہوئے اپنی زندگی گزارے گا۔یہ امید ہی ہے جس کی وجہ سے وہ قید تنہائی کی اندر بھی زندگی بڑی خوشی سے گزار رہا ہے۔

    دوستو امید ایک مشکل وقت کی ساتھی ہے۔امید کے سہارے انسان کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔انسان کی زندگی میں ہر طرح کے اونچ نیچ آتے رہتے ہیں لیکن اگر انسان نا امید ہو جائے تو زندگی بیکار ہو جاتی ہے۔لیکن اگر انسان امید کا دامن نے چھوڑے تو امید انسان کو کھٹن سے کھٹن مشکلات طے کروا کر ہی دم لیتی ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کا امید کا دامن نہ چھوڑیں۔

    Twitter id @ waqasumerpk

  • نفس، شیطان اور حضرتِ انسان   تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    نفس، شیطان اور حضرتِ انسان تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    اللّٰه نے دنیا میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا جب کہ انسان نے خود کو ظالم بنا کر ظلم کی انتہا کر دی
    آج کے دور میں ایک انسان دوسرے انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس دشمنی میں دوسرے کا نقصان کرنا اپنا فرض سمجھنے لگے ہیں اس کی سب سے بڑی اور اکلوتی وجہ انسان کا نفس ہے

    انسان بھول چکا ہے سب سے بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے اور نفس کی کہے پر لبیک کر کے انسان ہر حد سے گِر رہا ہے

    آج کا انسان کہتا ہے کہ انسان جانور سے بدتر ہے لیکن خود کو راہِ راست پر کوئی نہیں لاتا۔ دوسرے کے عیب گننے
    میں سب ماہر ہیں لیکن خود کے عیب بھول جاتے ہیں

    نفس کی غلامی اور نفرت کے اندھیرے سے نکل کر اجالے
    میں قدم رکھیں
    کیونکہ
    ’’غلامی میں جسم تو رہتا ہے مگر اس سے روح خالی ہو جاتی ہے اور جس جسمِ میں روح نہ ہو اس سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (نفس کی) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ اسی طرح ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے اس کے نزدیک ہر جدید یا نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘

    غور کریں کہ تاجر اپنے کاروبار پر بیٹھا تسبیح کیے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ناقص مال کی فروخت بھی جاری ہے۔ یہی حال ہمارے علمائے کرام کا بھی ہے کہ علماء لوگوں کو تو واعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن اپنے آپ کو اور اپنے باطن کو نصیحت نہ کر سکے۔ ہم میں سے ہر وہ شخص جو کسی بھی کاروبارِ زندگی سے وابستہ ہے وہ ایسی ہی مثال پیش کر رہا ہے۔ ہم ان رذائل سے کیونکر چھٹکارا نہ پا سکے؟ اس لیے کہ ذکر و تسبیح جس نے کرنی ہے (یعنی قلب) اس تک بات نہیں پہنچی تو اصلاح کیسے نصیب ہو گی

    انسان کے پیدا ہوتے ہی اسے اللّٰه کا نام سکھا دیا جاتا ہے۔ اللّٰه کے نام کو سن سن کر انسان جان تو جاتا ہے کہ اللّٰه مالک ہے رازق ہے وغیرہ لیکن اس کی پہچان نہیں آتی۔ پہچان تب ہی آتی ہے جب اس قلب میں اللّٰه کےذکر کا نور کسی کامل و مکمل شیخ و رہبر کے قلب کے وسیلے سے داخل ہوتا ہے۔ یہی نور اس کو اپنے مالک کی اصل پہچان نصیب کرتی ہے اور اسے اپنے رب کا شکر گزار بندہ بناتی ہے۔ اسی نور سے "تصدیق بالقلب” میسر آتی ہے اور حقیقتِ ایمان اسی کا دوسرا نام ہے

    جب تک یہ ذکر کا نور قلب کو میسر نہیں آتا اس وقت تک صورتِ ایمان ہے۔ نماز تو پڑھ لیتا ہے لیکن وہ محض صورتِ نماز ہی ہوتی ہے یہی ذکر کا نور میسر نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں محض بھوک پیاس کاٹتا ہے اور اعمالِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ جس کسی کو یہ ذکر کا نور میسر آتا ہے تو وہ حقیقت میں حاصلِ رمضان و ایمان یعنی "لعلکم تتقون” کا نمونہ بنتا ہے

    آپ کے وجود نے ایک دن دنیا سے ختم ہو جانا ہے باقی رہے گا تو صرف ذکر. اب اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نیک ذکر یا برے ذکر میں یاد ہونا ہے ہر بات کا انحصار ہمارے خود کے اوپر ہے
    اس لیے اپنے ضمیر کو جگائیں اور خود کو بدلیں دنیا آپ کو دیکھ کر بھی بدل سکتی ہے

    "نفس کی غلامی سے موت اچھی”

    @H___Malik

  • کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    کچے گھروندوں کے دیمک زدہ باسی . تحریر: عرفان محمود گوندل

    قدرت نے انسان کو زندہ رہنے اور بستیاں بسانے کے لئے مختلف نشانیاں بھیجیں ہیں۔ دو جاندار خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ایک شہد کی مکھیاں اور دوسرا دیمک۔ دیکھنے کو دیمک ایک بے ضررسا کیڑا ہے لیکن اندرہی اندر جتنا نقصان یہ پہنچاتا ہے انسانوں کے پہنچائے ہوئے نقصان سے پھر بھی کم ہے۔ بیمار لوگوں کے بارے میں عوام الناس کہتی ہے کہ ان کو بیماری دیمک کی طرح چاٹ گئی ہے۔۔ کچھ ایسی ہی مماثلت ہماری عوام اور دیمک میں ہے۔ جب قانون بے اثرہوجائے۔ جب معاشرے کو تعلیم دینے والے بھاگ جائیں۔ جب معاشرےکی راہنمائی کرنے والے لٹیروں کا روپ دھارلیں، جب قانون امیراورغریب میں فرق کرنے لگے، جب دولت ہی سب کچھ ہو، جب اقرباء پروری کا راج ہو، تو پھرمعاشرے شترِبے مہار( ایسا اونٹ جو جنگل میں آوارہ پھرتا ہو) کی طرح جس طرح چاہے منہ اٹھا کے چل پڑتے ہیں۔

    میں جب بھی بڑے بڑے شہروں کے محلوں کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتا ہوں تو مجھے دیمک کے گھروندے یاد آتے ہیں،۔ بچپن میں جب پاؤں کی ٹھوکر سے دیمک کے گھروندے کو توڑتے تھے تو مٹی کے گھرندوں کے نیچے سے ایک کالونی نظرآتی تھی۔ جس میں بے ترتیب گلیاں مکانات اور چلتے پھرتے دیمک کے کیڑے نظر آتے تھے۔ کچے گھروندے ٹوٹ جانے سے دیمک کے کیڑوں میں افراتفری مچ جاتی تھی، کوئی اناج اٹھائے بھاگ رہا ہوتا تھا، کوئی جان بچانے کے لئے، کوئی اپنے بچوں کو لئے، ہرکوئی جس سمت جس کا منہ لگتا تھا بھاگتا دکھائی دیتا تھا۔

    دیمک، شہد کی مکھیاں اور ہم ، سب ایک ہی طرح کی کالونیوں میں رہتے ہیں۔ ہماری کالونی میں ملکہ بادشاہ سپاہی اور مزدور ہوتے ہیں. ہمارے ہاں بچوں کی پیدائش و پرورش ہوتی ہے. جیسے شہد کی مکھیاں اوردیمک اپنا بادشاہ اورملکہ چنتے ہیں ایسے ہی ہم بھی چنتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بادشاہ اور ملکہ نہیں بلکہ ایم این اے اور ایم پی اے چنے جاتے ہیں۔دیمک کی ملکہ اوربادشاہ کی طرح جب ہماری ملکہ اور بادشاہ کے پر نکل آتے ہیں تو یہ آڑ کر دوسری جگہ اپنی کالونی بنا لیتے ہیں. جیسے ہمارے ہاں ایم پی اے اور ایم این اے منتخب ہونے کے بعد یورپ امریکہ اور کینیڈا میں گھر بنا لیتے ہیں، اگر ایک ہی جگہ دو بادشاہ یا ملکہ ہوں تو شہد کی مکھیوں اور دیمک کی طرح یہ نیا قبیلہ آباد کرلیتے ہیں اور اپنی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں۔

    جیسے ہمارے ہاں ایک ملک کے دو بادشاہ بن جائیں تو پھر آدھا تمھارا آدھا ہمارا کا نعرہ لگا کر تقسیم کرلیتےہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں ہماری کالونیوں کی طرح مزدور اور سپاہی چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں. انکی زندگی اسی کام میں گزرتی ہے.عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کا کام اندھیرے کا ہے. دیمک کے سپاہی اور مزدور پیدائش کے بعد سے ہی اندھے ہو جاتے ہیں. اندھیری سرنگوں میں ان کو آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اس لئے آنکھیں ہوتے ہوۓ بھی یہ اندھے ہی ہوتے ہیں۔ ہماری کالونیوں میں مزدور اور سپاہی نوکری حاصل کرنے کے بعد اندھے ہوجاتے ہیں ہمارے سپاہیوں اور مزدورکو بھی آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ غلام معاشروں میں اندھے مزدور بہتر کام کرتے ہیں۔ جو دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے پر نکل آتے ہیں پھر وہ مزدور نہیں رہتے بلکہ حاکم بن کے اڑ جاتے ہیں اور کہیں اور مزدوروں سے الک تھلگ کالونیاں بنا کے رہتے ہیں۔

    دیمک کے کیڑے ہم انسانوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں۔ ان میں لالچ اور الگ کرکے جمع کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔ وہ اجتماعی زندگی گزارتے ہیں۔ دیمک کی کالونیوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ دو گھروں میں لڑائی ہو اور بندوقیں نکل آئیں دو چار قتل ہوں دس پندرہ زخمی ہوں۔۔ نہ ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی دکان پہ سیل لگی ہو اور مادہ دیمک چھوٹے سے دروازے سے سینکڑوں کی تعداد میں دکان میں گھسنے کی کوشش کریں۔ بھگدڑ مچے اور کئی زخمی ہوجائیں۔ نہ کسی کے بچے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیمک کی کالونیوں میں قتل بھی نہیں ہوتے۔

    دیمکوں کی ملکہ انڈے دیتی ہے جس سے بچے نکلتے ہیں اور ان بچوں کی حفاظت پولیس اور مزدور کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مزدور بچے پیدا کرکے پالتے ہیں جبکہ ملکہ اور بادشاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ مزدور دیمک اور ہمارے مزدوروں میں فرق یہ بھی ہے کہ دیمک کے مزدور بلا تفریق سب کو ایک جیسی غذا مہیا کرتے ہیں جبکہ ہمارے مزدور دوسروں کو ملاوٹ شدہ غذا فراہم کرتے ہیں۔ مزدور دیمک باہر سے غذا لا کر بغیر ملاوٹ کے تمام کارکنان میں برابر تقسیم کرتی جاتی ہے۔

    دیمک کے سپاہیوں کے سر بڑے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے سپاہیوں کے پیٹ بڑے ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں بادشاہ کے غلام ہی رہتے ہیں۔دیمک کے سپاہی اپنی کالونیوں میں دوسرے کیڑوں کو نہیں گھسنے دیتے ایسے ہی جیسے ہمارے سپاہی سرکاری دفاتر میں عام سائل کو گھسنے نہیں دیتے۔۔۔ دونوں سپاہیوں میں ایک مہان فرق یہ ہے کہ دیمک کے سپاہی کالونی میں گھسنے والے کیڑے کو مار ڈالتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سپاہی رشوت لے کر دفتر میں جانے دیتے ہیں۔ ایک چیز جو دونوں کالونیوں میں مماثلت رکھتی ہے وہ یہ کہ جب کوئی حملہ کرتا ہے تو دونوں کالونیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ سیلاب میں بہہ جاتی ہیں۔ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں۔ لیکن دیمک کی کالونی کو تباہ کرنے والے ہم انسان بھی ہوسکتے ہیں لیکن ہماری کالونیوں کو تباہ کرنے والے بھی ہم انسان ہی ہوتے ہیں۔

    پھر ہم اشرف المخلوقات کیسے ہوئے؟
    اگر ہماری کالونیاں دیمک کی کالونیوں جیسی ہی ہونی ہیں یا ان سے بھی بدتر ہونی ہیں تو پھر انسانیت ہم میں نہیں دیمک میں ہوسکتی ہے۔
    کیوں نہ ہم بھی اپنی دیمک زدہ بستی کو انسانوں کی بستی کی طرح بنالیں.

    @I_G68

  • انصاف (عدالت) اور معاشرہ  . تحریر : ذیشان علی

    انصاف (عدالت) اور معاشرہ . تحریر : ذیشان علی

    کوئی بھی معاشرہ اصول قوانین اور ضابطہ اخلاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کسی بھی معاشرے اور ریاست میں امن و امان قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رعایا کو انصاف دیا جائے، بحیثیت مسلمان ہمیں ظلم اور بے انصافی زیب نہیں دیتی ہمارے لیے حکم ہے کہ انصاف کے ساتھ پورا تولو اور حد سے تجاوزنہ کرو صلہ رحمی کرو بےشک اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے.

    اللہ تعالی قرآن کریم فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے،
    "یقیناً اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف پر مبنی فیصلہ کرو یقین رکھو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے، بےشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ” سورہ نساء 58.

    مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے جب لوگوں کے درمیان کسی مقدمے کا فیصلہ کرو تو ان کا مذہب خواہ کوئی بھی ہو یا دوست ہو یا دشمن فیصلہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ تمام تعلقات سے الگ ہو کر سچائی کے ساتھ اور انصاف پر مبنی فیصلہ کریں،
    جو فیصلہ اپنے پرائے کے تعلقات پر مبنی ہو جو فیصلہ حقائق کو چھپا کر اور جو فیصلے تعلقات پر مبنی پیسہ وجائیداد کے عوض کیے جائیں وہ ظلم اور زیادتی کے زمرے میں آتے.

    انصاف پر قائم رہنا کسی حکومت اور عدالت کا ہی کام نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں یہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے، یعنی دوسروں کو بھی انصاف پر قائم رہنے کی ترغیب دے، عام فہم الفاظ میں کہ انصاف کو خریدنے اور بیچنے سے بچا جائے، جو ریاست اپنی رعایا کو انصاف دیتی ہے انصاف وہ جو صاف شفاف ہو جو امیر غریب گورے کالے میں بغیر کسی فرق رکھے کیا جائے اور نہ کسی کا عہدہ یا پیسہ و جائیداد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہو.

    جو معاشرے جو ریاستیں انصاف قائم نہیں کرسکتے پھر ان ریاستوں میں اور معاشروں میں ظلم بڑھتا ہے اور ظلم کے ساتھ فتنہ و فساد برپا ہوتا ہے کوئی بھی ریاست اور معاشرہ ظلم اور فتنوں کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا یعنی انصاف کا قتل معاشروں اور ریاستوں کے لئے تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.

    چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم فرقان حمید میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے،
    "ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے احکام دے کر بھیجا ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) انصاف کرنے کے احکام کو نازل فرمایا،
    تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں” سورہ الحدید 25.

    ریاست اسلامی ہو یا غیر اسلامی معاشرہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی عدل کو قائم رکھنے ہی میں سب کی بھلائی ہے،
    اللہ تعالی کی کلام مسلم اورغیرمسلم تمام کے لیے ہے، اس میں کائنات کی وسعتوں کی تمام نشانیاں ہیں اس میں زندگی گزارنے کے طور طریقے ہیں، مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم کیا گیا اس کتاب کی تلاوت کرنا اور اسے سمجھنا اور اس پرعمل کرنا.
    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو اور ہماری عدالتوں کو انصاف پر قائم رکھے، ہرشخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف پسند ہو انصاف پسند افراد خوبصورت معاشرہ تشکیل دیتے ہیں خوبصورت معاشرہ خوبصورت قوم اور خوبصورت ریاست میں بدل جاتا ہے، خوبصورت معاشرے خوبصورت ریاستیں ظلم و زیادتی سے نہیں عدل و انصاف سے ہی قائم ہو سکتی ہیں،

    @zsh_ali

  • نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟  تحریر  :  ملک علی رضا

    نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟ تحریر : ملک علی رضا

    پاکستان اور افغانستان سیمت موجودہ خطے کے حالات کس طرف جا رہے ہیں یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے سابق تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور پاکستان کی عدالتوں سے مفرور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک بڑی جماعت کے تا حیات نا اہل سربراہ میاں نواز شرف جو اس وقت لندن میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں انہوں نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر حمد اللہ محب اور وزیر برائے امن و امان سید سعادت منصور نادر نے وفد کے ہمراہ لندن میں ملاقات کی ،یہاں یہ بات یاد رہے کہ افغانستان کے سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب جو کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے جب سے پاکستان نے امریکہ کو آنکھیں دیکھانا شروع کیں کہ ہم کسی قسم کی سرزمین نہیں دیں گے کو دوسرے ممالک کیخلاف استعمال ہو، تب سے اس شخص نے پاکستان نے گالیاں اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہاہے ۔ کابل انتظامیہ بھی اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے وہ بھِی بار بار پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اورالزام تراشیاں کر ر رہے ہیں۔
    حمد اللہ محب نے پاکستان کو "چکلا” جیسے القابات سے بھی مخاطب کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تمام فورمز پر افغانستان کے مشیر قومی سلامتی سے ہر قسم کی تعلق کو ختم کر دیا اور افغانستا میں موجود اپنے عملے کو بھی احکامات جار کر دیے تھے کہ اس شخص سے کسی قسم کی ملاقات نہ کی جائے اور نہ ہی اس سے کوئی بات شئیر کی جائے، پھرحمد اللہ محب نے بیرون ممالک میں پاکستان کیخلاف احتجاجی مظاہرے بھی کروائے جن میں پاکستان مخالف نعرے درج تھے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔جب یہ ملاقات ہو رہی تھی تو دوسری جانب لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی باہر سینکڑوں کی تعداد میں افغانی پاکستان مخالف احتجاجی مظاہر ہ بھیِ کر رہے تھےوہاں پر موجود عملے ہو حراساں کیا ، پاکستانی شہریوں پر تشدد کیا، مظاہرے میں پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے اور نجانے کیا کچھ نہیں کہا گیا۔
    یہ بات جو سب سے اہم ہے یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کروا کون رہا ہے تو جان لیجے حمد اللہ محب امریکہ کا پالتو ہے اور بھارتی نواز ایجنڈے پر مکمل عمل پیرا ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔اور اس وقت وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہاں تک کہ افغان حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ سب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی باہمی رضا مندی سے کر رہی ہے جو آرڈر ان کو دیا جاتا ہے یہ اس پر من وعن عمل کرتے ہیں۔
    باتیں بہت سی ہیں مگر فلحال آپ لوگوں کو بتانا یہ ہے کہ یہ ملاقات کیوں ہوئی ہے اور کس لیے کروائی گئی ہے ۔۔۔؟؟؟
    اس وقت پاکستان کے اندر بھارت کے تمام منصوبے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نےبُرے طرح ناکام بنا دیے ہیں ، جنکے ثبوت پوری دنیا سے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔بھارتی وفد کی افغانی وفد سے اہم ملاقات ایک تیسرے ملک میں ہوئی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے سب سے اہم شخصیت کا استعمال کیا جائے کیونکہ وہ شخصیت اس وقت پاکستان کی حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کیخلاف برسر پیکار ہے۔اور وہ شخصیت ہے لند ن میں بیٹھے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ، اس کام کے لیے مکمل ایجنڈا دے کر حمد اللہ محب کو بھیجا گیا ۔افغان عملے نے وہاں پہنچے سے پہلے لندن میں نواز شریف سےرابطہ کیا کہ ہمیں ملاقات کا شرف بخشا جائے تو نواز شریف انکے سامنے لیٹ گئے اور کہا حضور جب آپکا دل چاہے آپ آیں ہم ملاقات کے لیے حاضر ہیں۔
    یہاں کچھ سوالات ہیں جن کا جواب یا تو ن لیگ دے سکتی ہے یا پھر نواز شریف، سوال یہ ہے کہ
    پاکستان کو گالیاں دینے والے سے نواز شریف نے ملاقات کیوں کی ؟
    نواز شریف پاکستان کی عدالتوں میں مفرور ہیں پھر ان سے ملنے کا مقصد ؟
    نواز شریف نے اس ملاقات سے پہلے ن لیگ یا حکومت کو اعتماد میں لیا ؟
    نجانے اور کتنے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا نواز شریف کا کام بنتا ہے مگر وہ جواب کیا دیتے جب انکی بیٹی نے اس ملاقات کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا کہ جواب مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بہرحال یہ سوالات ہر پاکستانی کے دماغ میں ضرور ہیں۔
    اس ملاقات کی اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کو اب آنے والے دنو ں میں کچھ ایسے بیانات دلوانے جا سکتے ہیں جو کہ پاکستان کے وقار کو مجروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں نواز شریف کو بھاری پیشکش بھی کی گئی ہوگی کہ اگر وہ مکمل طور پر انکے ایجنڈے پر من و عن عمل کریں گے تو امریکہ انکو ریلیف دلوانے کے اقدامات کر سکتا ہےجس سے وہ بچ سکتے ہیں۔اب ان میں سرکاری راز بھی شئیر کیے جا سکتے ہیں جو کہ پہلے بھی نواز شریف اور مریم نواز دھمکا چکے ہیں کہ اگر یہ ہوا تو ہم وہ کردیں گے اور وہ کریںگے یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بدنام کرنے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈہ کیا جائے گا جس سے پاکستان ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ سے نکلنے میں مزید دشواریاں ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اب خیر منا لو آپکا تین بار کا وزیر اعظم رہنے والا نواز شریف اب ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جو چاہیں گے اس سے کروایں گے اور اس میں کوئی دوسری آپشن نہیں کہ نواز شریف ایسا نہ کریں ۔
    پاکستان کے اہم راز وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں اس لیے جو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کو سپورٹ کر رہا ہے اس الزام کو سچ بنانے کے لیے نواز شریف سے بیانات دلوائے جاسکتے ہیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن و امان کے لیے اپنی مصالحانہ کوشش کو سپورٹ کیا مگر کابل انتظامیہ کو ڈر یہ ہے کہ اگر کابل پر بھی افغان طالبان قبضہ کر لینگے تو انکی حکومت ختم ہوجائے گی اور اس طرح بھار کی اربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ ڈوب جائے گیاور جو کچھ وہ کرتے ہیں پاکستان کیخلاف افغانستان کے ذریعے وہ سب عیاں ہوجائے گا اس لیے بھارت ہر وہ کوشش کرے گا جس سے پاکستان پر دباو پڑے اور لوگوں کا دھیان افغانستا ن سے ہٹے اور پاکستان کی جان ہوجائے۔
    نواز شریف کی اس ملاقات کیوجہ سے مسلم لیگ ن شدید تنقید کا سامنہ کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے نواز شریف کو ملک دشمن قرار دےدیا ۔

  • اس عید پر ہم نے کس چیز کی قربانی دی؟ . تحریر : محمد اسامہ

    اس عید پر ہم نے کس چیز کی قربانی دی؟ . تحریر : محمد اسامہ

    ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الاضحٰی مذہبی جوش و جذبہ سے منائی گئی ہے. دنبہ، چھترا، بکرا، بیل اور اونٹ قربان کیے گئے ہیں. یہ تو واضح ہے کہ اللّٰه کو نہ ان کا خون چاہیے اور نہ ہی گوشت، وہ صرف تقویٰ دیکھتا ہے.

    ہمیں اپنے آپ پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ جانور قربان کرنے کے ساتھ ہم نے اپنی ذات میں سے کن چیزوں کی قربانی دی ہے.
    کیا ہم نے اپنے برے اخلاق کی قربانی دی؟
    کیا ہم نے انا پرستی کی قربانی دی؟
    کیا ہم نے ناراضگی کو ختم کرنے کی قربانی دی؟
    ان سوالوں کے جوابات ضرور سوچیں.

    اصل میں قربانی کا مقصد ہی یہی ہے کہ اپنے ضمیر کی خرافات کو قربان کردیا جائے.

    qurbani

    @its_usamaislam

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم
    سوشل میڈیا کے استعمال کے لی چند اخلاقی ضوابط جن کا خیال رکھ کر ہم خود کو اور دوسروں کو ذہنی کوفت سے بچا سکتے ہیں.
    *بہترین اور تعمیری مواد آپ لوڈ کریں
    *کاپی پیسٹ کی بجائے قوٹ یا ری ٹویٹ کریں
    *کسی کی تحریر کے ساتھ منقول ضرور لکھیں
    *شاعری لکھتے وقت شاعر کا نام ضرور لکھیں
    *آیت کا حوالہ آیت نمبر اور پارہ نمبر درج کریں
    *حدیث کا حوالہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ درج کریں
    *گالی سے پرہیز کریں
    *اور جہاں دلیل دینا لازم ہو ادب و احترام کے ساتھ دلیل دیں
    *اول تو خبر کی تصدیق ہو جانے تک خبر نہ دیں
    *اور اگر تصدیق کے بغیر خبر دیں تو ساتھ غیر مصدقہ ضرور لکھیں
    *سوشل میڈیا پہ آپکی ٹائم لائن آپ کا آئینہ ہے جیسی ٹائم لائن ویسی آپکی شخصیت ہے تو سوچ سمجھ کر شئیرنگ کریں
    *اگر آپکی دی گئی خبر یا تبصرہ سچ ثابت نہیں ہوتا تو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کریں یا متعلقہ مواد حذف( ڈیلیٹ) کر دیں
    *اپنے اصل نام اور تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ بنائیں
    *فیک اکاؤنٹ یا فرضی نام سے آپکی شخصیت چھپ جاتی ہے
    *بلا ضرورت اور بلا اجازت ان باکس میں میسج نہ بھیجیں
    *اپنی بائیو میں اپنی دلچسپی اور وابستگی کا اظہار لازم کریں تاکہ فالو کرنے والے کو معلوم ہو کہ آپکی وابستگی کا مرکز کیا ہے
    *سیاسی اور مذہبی اختلافات کا اظہار دلائل اور ثبوت کے ساتھ کریں نا کہ تلخ کلامی اور بدزبانی سے
    *ایسی موضوعات سے اجتناب کریں جن سے شر پھیلنے کا خدشہ ہو
    *اپنے عقائد کی ترویج ضرور کریں دوسروں کے عقائد کی نفی اور توہین کے بغیر
    *ہنسی مزاح کے موضوعات میں لغو زبانی اور فحش گوئی شامل کر کے اپنی شخصیت متاثر نہ کریں
    *تنقید برائےتنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کریں
    *تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر شخص کی ذاتی پسند نا پسند ہے اور رائے کا اظہار کرنا اسکا حق ہے
    *اپنے قومی اور ملکی معاملات پہ دفاعی غرض تحریر پاجائیں
    جہاں اپنی قوم کی اصلاح ممکن ہو اردو زبان میں تحریر کریں
    *سچ کا ساتھ دیں چاہے وہ آپ کے عقیدے آپکی سیاسی وابستگی کے مخالف شخص ہی کیوں نہ ہو.

    *جب بحث طول پکڑے اور فضول ہونے لگے تو وسلام کہہ کر گفتگو سمیٹ دیں
    *ممکن ہو تو گالی کے جواب میں گالی کی بجائے بلاک کا بٹن استعمال کریں.
    یہ نکات سوشل میڈیا پہ آپ کی ویلیڈٹی تو بڑھائیں گے ہی ساتھ آپکو بہترین وقت صرف کرنے کا موقع ملے گا.

    @hsbuddy18