Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    منٹو اس معاشرے کے حساس اور نامور لکھاری کہیں نا کہیں اپنی ہی بہتر نصف کے معاشی تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے

    صفیہ نے کیا نہیں کیا تھا منٹو کیلئے جب منٹو سے ان کی شادی ہوئی تو منٹو کے پاس سوائے "منٹو”نام کے کچھ نہیں تھا زبردستی حاصل کئے گئے کہانی کے معاوضے جو کہ قریباً پانچ سو روپے تھا صفیہ نے انکے ساتھ زندگی کی شروعات کی. وہ حسین دور کہ جب ایک لڑکی اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجاتی ہے صفیہ کو منٹو نے سوائے ادھار کی روٹی کے کیا دیا

    سعادت حسین منٹو کہتے ہیں
    "مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نا ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا کیا صابر عورت تھی کہان طعنوں اور نشے سے چورپچیس روپے کا ایک کہانی فروش کہاں صفیہ یہ دس روپے آپ کی بوتل کے پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس اس میں گھر کا خرچا چل جائے گا آپ بلکل پریشان نا ہوں میں ہوں نا……. ”
    آہ منٹو آہ وہ لکھاری جو عورت کے مدوجزر سے لے کر اسکی خواہشات تک پر لکھ لیتا تھا اپنی عورت کا درد اسکی تمنائیں نا سمجھ پایا منٹو کیلئے بوتل عزیز تھی صفیہ نہیں جب معلوم تھا مشکل ہے تو کیا منٹو کا حق بنتا تھا کہ جو پچیس روپے کماتے اس میں سے دس روپے اپنی شراب نوشی پر خرچ کرتے. کیا شراب انکے لئے اپنی تین ننھی پریوں سے زیادہ افضل تھی کیا منٹو کو صفیہ کا ساتھ ایسے نہیں دینا چاہیے تھا جیسے صفیہ نے دیا.
    صفیہ نے کیا نہیں کیا انکو شراب نوشی سے بچانے کیلئے شوہر کو سمجھایا انکی منت ترلے کیلئے گھنٹوں پہرا دیتی کہ شراب نا پئیں حتیٰ کہ مینٹل ہسپتال میں علاج کے غرض سے داخل بھی کروادیا ادبی محفلوں میں انکے ساتھ جاتیں کہ رستہ نا بھٹک جائے مگر منٹو نا بدلے یہاں تک کے صفیہ کے گھر میں غربت اور اداسی نے ڈیرے ڈال دئیے.
    محبت کی معراج تو صفیہ نے پائی منٹو جو اس معاشرے کے ناسور سماج کو دکھاتے اپنی زوجہ کے روح پر لگے زخم نا دیکھ سکے نگہت نصرت اور نزہت کی آنکھوں کی ویرانی نا دیکھ سکے
    منٹو سے مایوس ہوکر ایک ماں نے اپنے بچوں کی تربیت میں پناہ ڈھونڈی صفیہ بہت ہمت اور جرات والی تھی کہ جس نے اپنے مزاج خدا کی نظر اندازی کو اپنی طاقت بنایا اپنی بچیوں کی پرورش کی انکی شادیاں کی اس تمام عرصے میں نا "منٹو” کا نام نا اسکے نام سے ملنے والی رائلٹی اس کے کوئی کام آئی صفیہ منٹو کی محبت نا تھی بس
    آج منٹو کا نام ہر جگہ گونجتا ہے مگر صفیہ کہیں نہیں ہے مگر یہ بات درست ہے کہ اگر صفیہ نا ہوتی تو منٹو نا ہوتا.

    @Chiishmish

  • پیسے کو سلام  تحریر:  محمد احسن گوندل

    پیسے کو سلام تحریر: محمد احسن گوندل

    شام ہوتے ہی شیخ صاحب کی بیٹھک میں گاؤں کے تقریباً تمام بڑے بڑے چوہدری بیٹھے ہوتے تھے۔کسی نے کوئی بھی کام شروع کرنا ہوتا نیا گھر بنانے سے لیکر بچوں کی شادی تک سب شیخ صاحب کے مشورے سے ہوتا۔ ان کو ایک بار اطلاع کرنی ہوتی یہ سب سامان ان کے گھر پہنچا دیتے چاہے کسی کے بچے کی شادی ہو یا کسی کا کوئی فوت ہوا ہو۔ یہ ایک قسم کے ان کے فنانس منسٹر لگتے تھے۔
    گاوں میں کسی خوشی یا غمی پر یہ خود لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتے اور ہر طرح کی ضروریات پوری کرتے۔
    کسی بھی محفل میں شیخ صاحب کے آنے پر ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا آؤ بگھت کی جاتی۔
    ان کے گھر اکثر ان کے رشتہ دار بچوں سمیت مہینوں رہتے تھے۔
    یہ پیشے کے لحاظ سے ایک بیوپاری تھے اپنے اور آس پاس والے گاؤں سے گندم اور مونجی (دھان) خریدتے تھے اور آگے منڈی میں بیچ دیتے ساتھ میں ایک بہت بڑی کریانے کی دوکان بھی تھی۔ پورے گاؤں کے لوگ اپنی خوشی غمی میں ان کی دوکان سے کھانے پینے کا تمام سامان لے جاتے اور پھر سال سال بعد انکو رقم لوٹاتے۔
    یہ اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اور بچے بھی ابھی چھوٹے تھے ان کا کاروبار اتنا بڑھ چکا تھا کہ انکے لیے اکیلے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ دو تین بڑے چوہدری جو ان کے زیادہ قریب تھے وہ ان کے کاروبار میں صلاح مشورے دینے لگے اور ہر اسی کام کا مشورہ دیتے جو ان کے اپنے مفاد میں ہوتا۔ کم پڑھے لکھے ہونے کیوجہ سے یہ احساب کتاب میں مار کھا گئے اور آستہ آہستہ یہ گھاٹے میں جانے لگے اور پھر ایک وقت آیا کہ وہ بہت بڑی رقم کے قرض دار ہوگئے۔
    یہ بات بہت جلد پورے گاؤں میں پھیل گئی اور سب سے پہلے جو ان کے زیادہ قریبی تھے جن پر شیخ صاحب کے بہت سے احسانات تھے انہی لوگوں نے اپنی فصلیں انکو بیچنے سے انکار کر دیا پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی بھی ان کو اپنی فصل بیچنے کو تیار نہ ہوا۔یوں انکا پورا کاروبار بیٹھ گیا۔
    ان سب نے ایک دم سے ایسے آنکھیں پھیری کہ جیسے شیخ صاحب کو جانتے ہی نہ ہوں ۔انہی چوہدریوں نے انکوں اتنا تنگ کیا کہ اپنے بچے چھوڑ کر گاؤں سے جانا پڑا۔
    وہ جنکے بچوں کی فیسیں بھرتے تھے پھر انکی شادیوں کا خرچہ اٹھاتے تھے انہوں نے ان کے بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا اور شیخ صاحب کے بچوں کو گھیسٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال کر قبضہ کر لیا۔ ان کے بچے اب اسی اپنے گھر کے سامنے گودام میں رہتے ہیں۔
    اب دور کے رشتے دار تو الگ بات ان کے سگے بھی ان کے گھر کی طرف منہ نہی کرتے۔ میری ان سے ایک بار بس میں ملاقات ہوئی میں نے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذکر کیا تو کہنے لگے بس پیسے کو ہی سلام ہے پیسا تھا تو رشتے دار بھی بہت تھے اور صلاح گیر بھی اب در بدر دکھے کھا رہا ہوں کوئی پوچھتا تک نہیں۔
    یہی حقیقت ہے اس دنیا کی لوگ آج کل کسی کو اہمیت اسکی مالی حثیت دیکھ کر دیتے ہیں جس کے پاس پیسہ سب اسی کے ہیں۔
    میری دعا ہے اللہ شیخ صاحب پر اپنا خصوصی کرم فرمائے اور انکی مشکلیں آسان فرمائے۔
    آمین ثم آمین

    @ahsangondalsa

  • پاکستان اور افغانستان  کے دوران سیریز ستمبر میں کھیلی جائے گی ،افغانستان نے کھلاڑیوں کااعلان کر دیا

    پاکستان اور افغانستان کے دوران سیریز ستمبر میں کھیلی جائے گی ،افغانستان نے کھلاڑیوں کااعلان کر دیا

    پاکستان اور افغانستان کے دوران سیریز ستمبر میں کھیلی جائے گی-

    باغی ٹی وی : افغانستان نے پاکستان کے خلاف ایک روزہ میچز کی سیریز کیلئے اپنے 17رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے بائیں ہاتھ کے بلے باز حشمت اللہ شہیدی کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے جبکہ رحمت شاہ کو ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا ہے ۔ سکواڈ میں عبدالرحمن، فضل حق فاروقی ، ابراہیم زدران ، اکرام علی خیل ، کریم جنت، محمد نبی ، مجیب الرحمان ، نجیب اللہ زدران ، نوین الحق، نور احمد ، رحمت اللہ گرباز ، راشد خان ، صدیق اللہ ، شاہد کمال شامل ہیں ۔

    قیس احمد، سلیم صافی ، شراف الدین اشرف اور یوسف زازئی بھی سکواڈ کا حصہ ہیں جو ریزرو کھلاڑی کے طور پر شامل ہیں حیران کن طور پر مڈل آرڈر اور تجربہ کار بلے باز اشغر افغان کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔

    ہمسایہ ممالک پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف سیریز میں آمنے سامنے ہوں گے ، دونوں ممالک اس سے قبل آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اترے ہیں ۔

    پاکستان اور افغانستان اب تک چار ایک روزہ میچز میں ایک دوسرے کے مقابل آچکے ہیں جہاں پاکستان چاروں میچز میں فتح یاب ہوا ہے ، اس میں آئی سی سی ورلڈ کپ 2019 کا میچ بھی شامل ہے جو ہیڈنگلے میں کھیلا گیا اس میچ میں پاکستان سنسنی خیز مقابلے کے بعد تین وکٹوں سے جیتا تھا۔

  • 16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت 60 ہزار ڈالرز سے کم ہوکر 30 ہزار ڈالرز تک پہنچ گئی تھی تاہم ایمزون کا ایک اعلان ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سبب بن گیا ہے26 جولائی کو بٹ کوائن کی قیمت میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور وہ کچھ وقت کے لیے 64 لاکھ پاکستانی روپوں تک پہنچ گئی۔

    ایمزون کی جانب سے گزشتہ ہفتے ڈیجیٹل کرنسی اینڈ بلاک چین پراڈکٹ لیڈ کی ملازمت کا اشتہار سامنے آیا تھا، جس کے بعد دنیا میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایمزون کرپٹو کرنسی کے حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے دیگر کرنسیوں کو قبول کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ کمپنی2022 میں اپنی ڈیجیٹل کرنسی بھی متعارف کرا سکتی ہےاس کا آغاز بٹ کوائن سے ہوگا جو کرپٹو پراجیکٹ کا اہم ترین ابتدائی مرحلہ ہوگا اور یہ ہدایات براہ راست جیف بیزوز کی جانب سے آئی ہیں۔

    ایمزون کی جانب سے بٹ کوائن کو قبول کرنے سے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    اس سے پہلے برقی گاڑیاں بنانے والے کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے بھی اپنی گاڑیوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی قبول کرنے کا بیان دیا تھا، جس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت آسمان چھونے لگی تھی۔

    چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے یوٹرن لے لیا لیکن اب حالیہ دنوں میں ہونے والی ” بی ورلڈ ” کانفرنس میں ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹیسلا بٹ کوائن کو دوبارہ قبول کرنا شروع کر سکتا ہے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

  • امام مسجد کی عزت    تحریر: وقاس محمد

    امام مسجد کی عزت تحریر: وقاس محمد

    والدین سے پوچھ کہ آپ کی خواہش کیا ہے کہ آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے، تو جواب ہو گا… ڈاکٹر ،انجینئر، جج، وکیل، ٹیچر، بزنس مین وغیرہ وغیرہ پر 1 بھی ایسا نہیں ہو گا جو چاہتا ہو کہ اس کا بچہ مولوی بنے اسی طرح بچوں سے پوچھیں کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انکا جواب بھی آپکو یہی ملے گا کہ وہ فوجی، ٹیچر، پائیلٹ، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننا چاہتے ہیں
    جو بچہ ہمارا کسی کمی یا معذوری کا شکار ہو اسکو ہم مدرسہ مولوی بننے بھیج دیتے ہیں سچ میں اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بچے ہی ملیں گے مدارس میں

    ایسا اس لئے ہے کہ ہم بس برائے نام امام مسجد یا مولوی کی عزت کرتے ہیں اصل میں ہمارے معاشرے میں مولوی صاحب کی کوئی عزت نہیں ہم آٹھ دس ہزار تنخواہ پر امام مسجد رکھتے ہیں اور کبھی شادی بیاہ یا فوتگی کے موقع پر انہیں پانچ سو ہزار دیکر بڑا احسان کرتے ہیں اور مذید دیکھیں کہ خطبہ نماز جمعہ یا عید کے موقع پر آپکو نظر آئے گا کہ مولوی صاحب کی طرف سے باقاعدہ سب کے سامنے چادر پھیلا کر چندہ مانگتے نظر آئیں گے
    ایک وقت ہوتا تھا جب مولوی صاحب یا امام صاحب جس محفل میں ہوتے تھے انہیں سب سے اہم جگہ پر بٹھایا جاتا تھا اور انکی حیثیت مہمانِ خصوصی جیسی ہوتی تھی جبکہ اب مولوی صاحب آپکو ایک کونے میں بیٹھے نظر آئیں گے بلکہ ہم کہہ دیتے ہیں کہ حافظ صاحب کو الگ جگہ بٹھاو وہ ختم درود پڑھیں اور دعا کر کے چلتے بنیں…

    آخر کیا ہے اسکی وجہ…
    میری نظر میں اسکی دو وجوہات ہیں
    پہلی تو یہ کہ اسلام میں مولوی جیسا کوئی عہدہ ہے ہی نہیں یہ ہماری کمزوری ہے کہ امامت کرانا، نکاح پڑھانا، جنازہ پڑھانے جیسے کام جو ہر مسلمان کو آنے چاہیئے ہم نے اپنی کمزوری کے بدلہ ایک بندہ مولوی یا امام مسجد کی زمہ داری لگا دی ہے
    دوسری سب سے اہم اور بڑی وجہ علماء اکرام اور آئمہ اکرام خود ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بڑے بڑے علماء اور مشائخ انکی زندگی کا جائزہ لیں تو وہ خود بھی کام کرتے تھے اور اپنا روزگار ہوتا تھا ان کا، مدارس یا خان گناہوں کی زیر نگرانی کھیتی باڑی ہوتی تھی وہ بجائے خود ہاتھ پھیلانے کے کمزوروں اور مصیبت زدوں کی داد رسی کرتے تھے مسلم اور غیر مسلم ان سے متاثر ہو کر اسلام کی طرف راغب ہوتے تھے جبکہ اب ہمارے علماء، مولوی، آئمہ آپکو چندہ مانگتے نظر آتے ہیں

    تو کیسے ہو گی مولوی/امام مسجد کی عزت؟ کون بنانا چاہے گا اپنے بچے کو مولوی یا امام مسجد؟ کون ایسے چندوں پر رہنے والا مولوی یا امام مسجد بننا چاہے گا؟؟

    باتیں میری سخت ہیں ہو سکتا آپ کو پسند ناں آئیں لیکن یہی حقیقت ہے ہم اس سے جتنا بھی منہ پھیر لیں
    @WailaHu

  • فیمینسٹ   تحریر انعم نوید

    فیمینسٹ تحریر انعم نوید

    میں بھی فیمینسٹ ہوں. مگر میرا تعلق میرا جسم میری مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو اور میں تو ایسے ہی بیٹھوں گی جیسے نعروں کی علمبردار خواتین سے نہیں ہے. میرا جسم میرے خالق کی مرضی. جو میرے اللَّه نے مجھے حکم دیا ہے میں اِس جسم کو ویسا ہی رکھوں گی کیونکہ یہ جسم میرے پاس امانت ہے.

    گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک انٹرویو میں دیے بیان پر بہت واویلا مچا. آزادی پسندوں نے اس سے متعلق سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلایا اور احتجاج بھی ریکارڈ کرایا. سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وزیراعظم کے بیان میں ایسا کیا تھا کہ اتنا واویلا مچا.

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ، "اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اِس کا اثر مرد پر ہو گا اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں.” پھر اُنہوں نے مغربی اور مشرقی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ، "مغرب میں ڈسکو اور نائٹ کلبز ہوتے ہیں جو کہ ایک بالکل مختلف رہن سہن اور معاشرہ ہے. مشرقی معاشرے میں یہ سب نہیں ہوتا. اِس وجہ سے یہاں اگر مرد کی شہوت کو اُبھارا جائے گا تو وہ اُس کی تسکین کے لیے اِسی معاشرے میں راہ ڈھونڈے گا. اور اِس کا اثر معاشرے پر پڑے گا.”

    سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ بیان کس حد تک درست ہے. تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہماری معاشرتی اقدار کے حوالے سے یہ بیان بالکل درست ہے.

    اِس بات کے حق بجانب ہونے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کا عورت کے لباس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں. ایک عورت اپنی ذاتی زندگی میں مرضی کی مالک ہے اگر وہ اللَّه کا حکم نہیں ماننا چاہتی. مگر عورت مرضی کا لباس پہن کے جنسی ہراسگی اور زیادتی کی مستحق نہیں.

    مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ کپڑوں کا تعلق بالواسطہ مردوں کی نفسیات سے جڑتا ہے. جب ایک ایسا مرد، جس کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوئی، اپنے اردگرد چھوٹے یا کم لباس والی خواتین کو دیکھے گا تو یقیناً اُس کی ہوس کو ہوا ملے گی. اُس سے دماغ میں ہیجان کی کیفیت طاری ہو گی. اور ہمارے جیسے معاشرے میں، جہاں نہ ڈسکو ہیں نہ نائٹ کلبز، وی اپنی ہوس پوری نہیں کر سکے گا. تو اِس کا نتیجہ بہت ہولناک نکلے گا. کیونکہ پھر اُس درندہ صفت مرد کے لیے رنگ، نسل، عمر اور صنف کا فرق ختم ہو جائے گا. وہ کسی بھی کمزور انسان کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا.

    یہاں پر علمِ نفسیات کا ایک مضمون سایئکلاجیکل ڈسپلیسمنٹ اِس کی مزید وضاحت کرتا ہے.

    کیونکہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس لیے اِس معاملے کا اسلامی پہلو دیکھا جائے تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣١ کا ترجمہ کچھ یوں ہے:
    "مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں. اور اپنی زینت کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے. اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال دیں.”

    قرآن کریم کا یہ حکم مومن خواتین کے لیے ہے. لیکن اِس آیت سے ایک آیت پہلے یعنی سورۃ النور کی آیت نمبر ٣٠ کا حکم کچھ یوں ہے:
    "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں. یہی اِن کے لیے پاکیزگی ہے. لوگ جو کچھ کریں اللَّه تعالیٰ اُن سے خبردار ہے.”

    یہ دو آیات اِس پورے معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہے.سب سے پہلے مرد اور عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے.

    یعنی اصل مسئلہ ہی اِن نگاہوں کا ہے. دیکھنے سے اگر ہیجان برپا نہ ہوتا تو فحش ویب سائٹس کا تو کام ہی تمام ہو جاتا اور بھوکے کو کھانا دیکھ کر کبھی منہ میں رال نہ آتی.

    یا اِس کو ایسا کہہ لیں کہ ملبوسات کی دکانوں میں سب سے دلکش جوڑے دکان کے داخلی حصے پر نمائش کے لیے آویزاں نہ کیے جاتے. یہ نمائش ہی انسان میں خریداری کی خواہش پیدا کرتی ہے.

    دوسرے نمبر پر اللَّه تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے. کیونکہ اگر نگاہوں کی حفاظت کے باوجود نگاہ پڑ بھی جائے تو خود کو پاکیزہ رکھنے کے لیے حفاظت اور احتیاط ضروری ہے.

    پھر تیسرے نمبر پر ایک حکم عورتوں کو زائد دیا گیا ہے. اور وہ یہ ہے کہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور اوڑھنیاں گریبانوں پر ڈال لیں.
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ حکم مردوں کو کیوں نہیں ملا؟ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ زینت یا سجاوٹ ہے ہی عورت کے پاس اور اسی کو چھُپانے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ معاشرہ شر اور ہیجان سے پاک رہے.

    اہم بات یہاں پر یہ ہے کہ عورتوں کے متعلق حکم سے پہلے اللَّه تعالیٰ نے مردوں کو حکم دیا ہے کہ نگاہیں نیچی رکھو. کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر معاشرے میں صرف مسلمان عورتیں ہی بستی ہوں جو کہ پردہ بھی کرتی ہوں. یہ حکم اِس لیے ہے کہ کسی بھی عقیدہ، قومیت یا مذہب کی عورت شر سے محفوظ رہ سکے. کیونکہ مردوں سے سوال آخرت میں اُن کی نگاہوں بارے ہونا ہے.

    فیمینزم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ معاشرہ مادر پدر آزاد ہے. قطع نظر مذہب ہر معاشرے کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور کچھ پابندیاں ہوتی ہیں. مادر پدر آزادی کا کوئی بھی معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا.

    فیمینزم کا تعلق عورت کے بنیادی حقوق کے ساتھ ہے. جِسے مادر پدر آزادی کے علمبرداروں نے ہائی جیک کر لیا ہے جو کہ برابری کا نعرہ لگاتے ہیں. جبکہ مسئلہ برابری سے بڑھ کر توازن کا ہے.

    قرآن کریم میں جِس وجہ سے مرد کو افضل قرار دیا ہے وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بےدریغ قربانیاں ہیں. جبکہ ایک عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے اور ایک انسان کو پیدا کرتی ہے. اِس لیے اُس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے.

    یہ فضیلت تنقید کرنے والوں کو نظر نہیں آتی. پھر عورت نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار ہے. مرد جس نسل کو پالنے کی وجہ سے افضل ہے, اُس نسل کو پیدا کرنے اور تربیت کی ذمہ دار عورت افضل کیوں نہیں ہے. حقیقتاً سب کا اپنا مقام اور ذمہ داری ہے جس کا اُسی سے سوال ہونا ہے. جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ النساء کی آیت نمبر ٣٢ میں کہا گیا ہے:

    "اور اِس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللَّه تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. مردوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو اُنہوں نے کمایا، اور عورتوں کے لیے اُن میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا. اور اللَّه تعالیٰ سے اُس کا فضل مانگو. یقیناً اللَّه ہر چیز کو جاننے والا ہے.
    میں پھر سے یہاں اِس بات کو واضح کر دوں کہ بلاتفریق رنگ، نسل، قومیت، حُلیہ اور مذہب کوئی عورت جنسی زیادتی اور ہراسگی کی مستحق نہیں. لیکن معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے. جنسی زیادتی اور ہراسگی جیسے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرے. خلاصہ یہ ہے کہ اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کیجئے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں.

    @NaimatRehmn

  • فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    فضیلت النساء : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی، اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔
    حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے 1963عیسویں میں افریقہ میں منعقدہ جلسہ میں فضیلت النساء کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
    حضرت نے سورۃ آل عمران کے تین آیتیں تلاوت کی اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے ۔جس میں فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام کو خطاب فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ بلکہ بعض امور میں مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے۔ اسلئے کہ بچوں کی تربیت میں سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اسی سے بچہ تربیت پاتا ہے۔ سب سے پہلے اسی سے سیکھتا ہے۔ باپ کی تربیت کا زمانہ شعور کے بعد آتا ہے۔ لیکن ہوش سنبھالتے ہی بلکہ بے ہوشی کے زمانے میں بھی ماں ہی اس کی تربیت کرتی ہے۔ گویا کہ اس کا تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ماں کی گود علم، نیکی، تقوی اور صلاحیتوں سے بھری ہوئی ہے تو وہی اثر بچے میں آئے گا اور اگر خدانخواستہ ماں کی گود ہی ان صلاحیتوں سے خالی ہے تو بچہ بھی خالی رہ جائے گا۔
    کسی فارسی شاعر نے کہا ہے
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا می رود دیوار کج
    ”کہ جب عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت ٹیڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔ شروع کی اینٹ اگر درست رکھ دی جائے تو آخر تک عمارت سیدھی چلی جاتی ہے“جس کا آغاز اور ابتداء درست ہو جائے۔ اس کی انتہا بھی درست ہو جاتی ہے۔ اس واسطے میں عورتوں کا مردوں سے زیادہ حق بنتا ہے۔ اور ہم اسی حق کو زیادہ پامال کررہے ہیں۔ مرد تو ہر جگہ موجود ہے۔مگر عورتوں کو سنانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر عورتیں مردوں کے حکم سے آتی ہیں تو مردوں کا شکریہ اور اگر از خود آتی ہیں پھر ان کے دینی جذبے کی داد دینی چاہئے کہ ان کے اندر بھی از خود ایک جوش و جذبہ ہے کہ دین کی باتیں سیکھیں اور معلوم کریں۔
    بہرحال سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ ان کے اندر دین کی طلب ہے۔ اگر از خود پیدا ہوئی تو وہ شکرئیے کی مستحق ہیں۔ اور اگر طلب پیدا کی گئی ہے۔ تو اس طلب پیدا کرنے والے بھی اور جنہوں نے اس کو قبول کیا وہ بھی شکریئے کے مستحق ہیں۔ اسی واسطے سے میں نے کہا کہ مردوں سے عورتوں کا حق زیادہ ہے اسلئے کہ زندگی کی ابتداء یہی سے ہوتی ہے۔

    Twitter | @IhsanMarwat_786

  • بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں  تحریر: سیدہ بنت زینب

    بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، زحمت نہیں تحریر: سیدہ بنت زینب

    ہر انسان قادر مطلق خدا کی مخلوق ہے، تمام انسانی دماغ خدا کی طرف سے تحفہ ہیں. جب اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری نبی ہونے کے باوجود اپنی بیٹیوں سے پیار کرتے تھے تو تمام انسانوں کو بیٹیوں پر مہربان ہونا چاہیے اور ان سے رحم کا معاملہ کرنا چاہیے.
    محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جو شخص لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے یعنی اس کے یہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور پھر وہ ان سے اچھا سلوک کرے ، انہیں بوجھ نہ سمجھے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مشکوۃ شریف)
    اسلام میں بیٹیوں کو”رحمت” اور بیٹوں کو "نعمت” کہا گیا ہے. نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "خوش نصیب ہے وہ عورت جسکی پہلی اولاد بیٹی ہو” اسی طرح کسی اور جگہ پڑھا تھا کہ ” اللّٰہ پاک جس سے خوش ہوتے ہیں اسے بیٹی عطا کرتے ہیں اور جسے خوش کرنا ہو اسے بیٹا عطا کرتے ہیں”. ہم نے اکثر اپنے اردگرد دیکھا ہو گا کہ عموماً بیٹوں کی پیدائش پر بہت زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں جبکہ اگر انہی کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو سارا گھرانہ افسوس کرتا ہے، غم مناتا ہے. ایسے لوگوں سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر آپ بیٹیوں کے پیدا ہونے پر خوشی نہیں منا سکتے تو کم از کم غم بھی نہ کریں کیونکہ بیٹیوں کو اللّٰہ کی رحمت کہا گیا ہے اور اسی رحمت کے صدقے اللّٰہ پاک اکثر اپنی نعمتوں کے خزانے کھول دیا کرتے ہیں.
    میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ بہت ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بیٹیوں سے نفرت کی جاتی ہے. ان میں سے سب سے اہم جہیز ہے چونکہ یہ دراصل جہیز درمیانے طبقے کے گھرانوں کے لئے سب سے پریشانی والا عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لیے انکے پاس کوئی وسائل نہیں ہوتے، ایسے خاندانوں میں ان کی بیٹیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی انکے قتل کا زیادہ امکان ہوتا ہے.
    جہیز صرف ایک نحوست ہے، جس کی نحوست کا شکار گھروں میں بالغ و کنواری لڑکیاں ہورہی ہیں، والدین اپنی خوشی سے جو چاہے دے سکتے ہیں لیکن مجبور کرنا یا رسم و رواج بنا دینا کہیں سے بھی درست نہیں…..!
    "ہاں! بیٹی نہیں بلکہ جہیز ایک لعنت ہے، اور جہیز کی روایت، بیٹی کے بجائے قتل کی جانی چاہئے!”
    دوسری بڑی وجہ جو بیٹیوں کو زحمت سمجھنے میں سرفرست ہے وہ مجھے یقین ہے کہ "پرانی روایتی سوچ” ہی ہے. یہی پرانی سوچ بیٹیوں اور خواتین کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. "مرد ہمیشہ خواتین سے بہتر ہوتے ہیں” یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی ہے اور اسے جلد ہی معاشرے سے ختم ہوجانا چاہئے.
    میرے والدین کہتے ہیں کہ بیٹی خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور انہیں آزادی، پیار، عزت، احترام سب دیا جانا چاہئے اور آزادی کی زندگی تمام مخلوقات کا حق ہے. الحمدللہ میرے والدین نے مجھے شروع سے ہی بہت پیار دیا ہے، بیٹیوں کو تمام آزادیاں دی ہیں، انہوں نے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش کی ہے، انہیں پیار اور مقام دیا ہے.
    خواتین ہی اگلی مضبوط اور پرجوش رہنما ہیں جن کو آزادی، عزت، پیار، احترام اور آگے بڑھنے نے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تبھی ہمارا ملک حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے. جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا قول ہے: "دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں.”
    جب ہم اپنی خوشی سے بیٹیوں کو بیٹوں جتنا آگے بڑھنے کا موقع دیں گے تو یقیناً وہ آپکا نام دنیا کے ہر مقام پر اونچا کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں. بس آخر پر یہی کہنا چاہوں گی کہ بیٹیاں اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں، زحمت یاں لعنت نہیں.

    @BinteZainab33

  • ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے  تحریر:   جہانتاب احمد صدیقی

    ‏محنت، کامیابی کی کلید ہے تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    محنت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے ۔ سست انسان کبھی بھی کچھ حاصل نہیں کرسکتا ۔ جو شخص محنت کرتا ہے وہ زندگی میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ بغیر کسی محنت کے زندگی میں کامیاب ہونا ناممکن سی بات ہے ۔محنت کرنے والا شخص زندگی میں کبھی ہار نہیں مانتا ہے وہ اپنا ہر کام احسن طریقے سے سرانجام دیتا ہے جبکہ ایک سست شخص عیش و آرام کو ترجيح دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی متحمل نہیں ہو سکتا ہے

    ایک محنتی انسان زیادہ سے زیادہ محنت کرکے خود کو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے ،جبکہ ایک سست انسان خود کو پستی میں دھکیل دیتا ہے ۔محنت سے کامیابی کا راستہ بنتا ہے۔ محنت کرنا مشکل ہے لیکن اپنی زندگی کو ہموار بنانا ضروری ہے۔ ایک محنتی شخص زندگی میں ہمیشہ خوش رہتا ہے۔. کامیابی محنت کا نتیجہ ہے۔. جو شخص سخت محنت کرتا ہے وہ زندگی میں بہت سی چیزوں کو حاصل کرتا ہے۔. لوگ ہمیشہ اس سے محبت کرتے ہیں۔. وہ ہمیشہ ہر ایک کا احترام کرتا ہے۔

    ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں اہداف ہیں۔. اہداف کی تکمیل کے لئے ہمیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔. بیکار بیٹھنا کسی کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد نہیں کرتا ہے۔. ہم سب کو زندگی میں ملنے والے موقع کا احترام کرنا چاہئے۔. موقع کا احترام کرنے کا مطلب دل لگا کر محنت کرنا ہے۔.

    ہمیں ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔. ناکامی ہماری زندگی کے لئے فطری ہے۔. جب ہم ناکام ہوجاتے ہیں تو ہمیں دل لگا کر محنت کرنا نہیں چھوڑنا چاہئے۔. ہم سب کو اپنے آپ پر یقین کرنا چاہئے اور جب تک ہم اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرتے ہیں کوشش کرتے رہنا چاہیے

    اگر ہم زندگی میں عزم اور توجہ مرکوز کریں تو ہم دل لگا کر محنت کر سکتے ہیں۔. کام میں ارتکاز بہت ضروری ہے۔. اگر کوئی کام کرتے وقت پوری طرح توجہ دیتا ہے تو ، کام کامیابی کے ساتھ اور بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔. ہمیں اپنی حراستی کی سطح کو بڑھانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔. ہماری حراستی طاقت کو فروغ دینے کے لئے دل لگا کر محنت بہت ضروری ہے۔.

    بچوں میں محنت کے احساس کو فروغ دینے کےلیے ، والدین یا اساتذہ انہیں کسی ملک کے کامیاب افراد کی کہانیاں سنائیں۔. بچوں کو اپنی زندگی کے لئے ایک رول ماڈل کا انتخاب کرنا چاہئے تاکہ اپنی زندگی پر توجہ مرکوز کریں۔. اس سے انہیں دلچسپی کے ساتھ
    محنت کرنے میں مدد ملے گی۔

    انسان کو کامیاب ہونے کے لیے محنت کرنی چاہیے کیونکہ محنت کرنے والوں کو اللہ کا دوست کہا گیا ہے۔ اور محنت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔ اللہﷻ کا دوست ناکام کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ محنتی شخص فقط کامیابی سے ہی ہمکنار ہوتا ہے

    مکرمی!! آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ محنت اور کوشش کرنا مت چھوڑیں، ناکامی زندگی کاحصہ ہے اگر آپ ایک بار ناکام ہوگٸے تو گھبرانا نہیں کیونکہ ہر کیسی کو پہلی باری سب کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے محنت کرتے رہے جب تک آپ کامیاب نہ ہوجاٸیں۔

    اللہ پاک ﷻ ہمیں اپنے محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

  • تعمیر بیت اللہ ،زم زم،  ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    تعمیر بیت اللہ ،زم زم، ابراہیم ؑ کی دعا تحریر: محمد آصف شفیق

    جیسے ہی حج کا دن ختم ہوا عمرہ کی ادائیگی کیلئے اجازت نامہ حاصل کیا تو بے ساختہ اس ماں کا خیال آگیا جس کی اپنے بچے کی پیاس بجھانے کیلئے بے صبری سے صفا اور مروہ کے چکر لگانے کی ادا اس رب کریم کو ایسی پسند آئی کہ اس گھر (بیت اللہ )کو آنے والوں یعنی عمرہ ادا کرنے والوں کیلئے عمرہ کا حصہ بنا دیا جو تا قیامت جاری رہے گا عمرہ مکمل ہی سعی کرنے سے ہوتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر مکمل کرنے کا نام سعی ہے
    بیت اللہ کی تعمیر آب زم زم کی روانی اور ام اسماعیل ؑ حضرت حاجرہؑ کی محبت کے حوالے سے حدیث مبارکہ ہے کہ عبداللہ بن محمد ابوعامر عبدالملک بن عمرو ابراہیم نافع کثیر بن کثیر سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیمؑ اور ان کی بیوی کے درمیان شکر رنجی ہوگئی تو اسماعیلؑ اور ان کی والدہ کو لے کر نکلے اور ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی تھا پس اسماعیل ؑکی والدہ اس کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے جوش مار رہا تھا حتیٰ کہ وہ مکہ پہنچ گئیں ابراہیمؑ نے انہیں ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا پھر ابراہیمؑ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ چلے تو اسماعیلؑ کی والدہ ان کے پیچھے دوڑیں حتی کہ جب وہ مقام کدا میں پہنچے تو اسماعیلؑ کی والدہ انہیں پیچھے سے آواز دی کہ اے ابراہیمؑ! ہمیں کس کے سہارے چھوڑا ہے؟ ابراہیم ؑنے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماعیلؑ کی والدہ نے کہا میں اللہ (کی نگرانی) پر رضا مند ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر وہ واپس چلی گئیں اور اپنے مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ اپنے بچہ کے لئے ٹپک رہا تھا حتیٰ کہ پانی ختم ہو گیا تو اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھتی شاید مجھے کوئی دکھائی دے جاتا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں اور انہوں نے ادھر ادھر دیکھا خوب دیکھا کہ کوئی شخص نظر آ جائے لیکن کوئی شخص نظر نہیں آیا پھر جب وہ نشیب میں پہنچیں تو دوڑنے لگیں اور کوہ مروہ پر آ گئیں اسی طرح انہوں نے چند چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کیا حال ہے جا کر دیکھا تو اسماعیلؑ کو اپنی سابقہ حالت میں پایا گویا ان کی جان نکل رہی ہے پھر ان کے دل کو قرار نہ آیا تو کہنے لگیں کہ کاش میں جا کر (ادھر ادھر) دیکھوں شاید کوئی مل جائے چنانچہ وہ چلی گئیں اور کوہ صفا پر چڑھ گئیں (ادھر ادھر) دیکھا اور خوب دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا حتیٰ کہ ایسے ہی انہوں نے پورے سات چکر لگائے پھر کہنے لگیں کاش میں جا کر اپنے بچہ کو دیکھوں کہ کس حال میں ہے تو یکایک ایک آواز آئی تو کہنے لگیں فریاد رسی کر اگر تیرے پاس بھلائی ہے تو اچانک جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام کو دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر ماری یا زمین کو اپنی ایڑی سے دبایا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (فورا) پانی پھوٹ پڑا اسماعیل علیہ السلام کی والدہ متحیر ہو گئیں اور گڑھا کھودنے لگیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو پانی زیادہ ہوجاتا ابن عباس نے کہا کہ وہ یہ پانی پیتیں اور ان کے دودھ کی دھاریں ان کے بچہ کے لئے بہتی رہتیں۔ ابن عباس نے کہا کچھ لوگ قبیلہ جرہم کے وسط وادی سے گزرے تو انہوں نے پرندے دیکھے تو انہیں تعجب ہونے لگا اور کہنے لگے کہ یہ پرندے تو صرف پانی پر ہوتے ہیں سو انہوں نے اپنا ایک آدمی بھیجا اس نے جا کر دیکھا تو وہاں پانی پایا اس نے آ کر سب لوگوں کو بتایالہذا وہ لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کیا تم ہمیں اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ قیام کریں؟ ان کا بچہ (اسماعیلؑ) جب بالغ ہوا تو اسی قبیلہ کی ایک عورت سے نکاح ہو گیا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم علیہ السلام کے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس کہتے ہیں ابراہیمؑ آئے اور آ کر سلام کیا پھر پوچھا اسماعیل علیہ السلام کہاں ہیں؟ اسماعیل علیہ السلام کی بیوی نے کہا وہ شکار کے لیے گئے ہیں ۔ ابراہیمؑ نے کہا جب وہ آجائیں تو ان سے کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کر دو جب وہ آئے اور ان کی بیوی نے انہیں (سب واقعہ بتایا) اسماعیلؑ نے کہا کہ چوکھٹ سے مراد تم ہو لہذا تم اپنے گھر بیٹھو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ پھر ابراہیم ؑکے دل میں آیا تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کے حال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ آئے اور پوچھا کہ اسماعیل ؑکہاں ہیں؟ ان کی بیوی نے کہا شکار کو گئے ہیں اور آپ ٹھہرتے کیوں نہیں؟ کہ کچھ کھائیں پئیں ابراہیمؑ نے کہا تم کیا کھاتے اور پیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارا کھانا گوشت اور پینا پانی ہے ابراہیمؑ نے دعا کی کہ اے اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت عطا فرما ابن عباس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (مکہ میں کھانے پینے میں) حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی وجہ سے برکت ہے ابن عباس نے کہا پھر (چند روز بعد) ابراہیم ؑکے دل میں آیا اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ آئے تو اسماعیلؑ کو زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے پایا پس ابراہیمؑ نے کہا کہ اے اسمعیلؑ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا ایک گھر بناؤں اسماعیلؑ نے کہا پھر اللہ کے حکم کی تکمیل کیجئے ابراہیم ؑنے کہا کہ اس نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ تم اس کام میں میری مدد کرو اسماعیل ؑنے کہا میں حاضر ہوں یا جو بھی فرمایا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا پھر دونوں کھڑے ہو گئے ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل ؑانہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں کہہ رہے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے جاننے والا ہے حتیٰ کہ دیواریں اتنی بلند ہو گئیں کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے کی وجہ سے پتھر اٹھانے سے عاجز ہو گئے سو وہ مقام (ابراہیم) کے پتھر پر کھڑے ہو گئے اسماعیل انہیں پتھر دینے لگے اور کہتے تھے (رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) ۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 623
    اے رب کریم سب مسلمانوں کیلئے اپنے گھر کے دروازے کھول دے اس وبا سے نجات دے ۔ آمین یارب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief