Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار  تحریر: سید محمد مدنی

    موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار تحریر: سید محمد مدنی

    میں ان میں سے ہوں جس نے موجود دور کے ایک یا دو ڈرامے مشکل سے دیکھے ہوں گے اب پاکستانی ڈرامے سبق آموز نہیں بلکہ نوجوان نسل کو بگاڑتا اور انھیں نت نئے فسادات کروانے پر اکساتا ہے آپ نوے کی دہائی میں جائیں یا اس سے بھی پہلے تو آپ کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے اور سبق آموز ہؤا کرتے تھے اب صرف بے باکی ریپ تشدد گلیمر عشق دولت ساس بہو ناچاقی نند بھاوج کی لڑائی دیور بھابی جیسے مقدس رشتے کو غلط رمگ دے کر عشق دکھانا بس اس پر توتوجہ دی جاتی ہے
    کیا وجہ ہے کہ ترکی کا ایک ڈرامہ ارطغرل اتنا مشہور ہؤا ہے پاکستان میں بھی برصغیر پاک و ہند پر ڈرامے بنے ایک بہت پرانا ڈرامہ تعبیر بنا تھا بہت عمدہ تھا مگر اب نوجوان نسل کو اول فول چیزوں کا اتنا دلدادہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ اور پسند ہی نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بورنگ ڈرامہ ہے معین اختر مرحوم کا ایک ڈرامہ روزی آیا جسے بہترین انداز میں بنایا گیا میری ناقص معلومات کے مطابق معین اختر نے عورت کا روپ دھارنے والا ایک ہی ڈرامہ کیا بظاہر انھوں نے ایک عورت کا روپ دھارا لیکن اس ڈرامے میں ایک سبق تھا کہ عورت ہونا اور اس کے لئے زندگی کا مقابلہ کرنا کتنا سخت مرحلہ ہے اورچروزی روٹی کے لیے کتنی مشکلات آتی ہیں مگر آج کل کے دور میں آپ جب تک بے ہودگی نا دکھائیں آپ کا ڈرامہ مکمل ہی نہیں ہوتا اور اب اس بے ہودگی کو فیشن اور ماڈرنیزم کا نام دے دیا گیا ہے آپ شائد مجھ سے ایگری نہ کریں مگر اب کے ڈراموں کا اثر بہت حد تک اور بہت جلدی پڑتا ہے کیا وجہ ہے کہ ہمارے ڈرامے ایک دور میں بھارت میں مقبول تھے اور اب ہم نے ان کی کاپی کرنا شروع کر دی ہے افسوس ہمارا معیار اب وہ نہیں رہا جب تک ہم اپنا کھویا ہؤا معیار واپس نہیں لاتے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے
    آپ اپنے ڈراموں میں اپنی تاریخ کے حوالے سے بتائیں جیسے کے پاکستان جب آزاد ہؤا تو کس کس طرح سے بھارت سے لوگ بھاگے جب پاکستان آزاد ہو رہا تھا تو اس الگ ملک کا خواب دیکھنے والے بھارت سے بھاگ کر پاکستان پہنچنے کی کوشش کرنے لگے لیکن راستے میں جو ان کے ساتھ ظلم ہوتا وہ بیان کرنا بہت مشکل ہے انھوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اپنی ثقافت اپنا کلچر اور اپنی روایات کے مطابق ہی ڈرامے بنانے چاہئیں ورنہ ہم اپنا کھویا ہؤا مقام واپس حاصل نہیں کر سکتے
    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی بس بہترین ڈرامے لکھنے کی ہے پہلے جب پاکستانی ڈرامے آیا کرتے تھے تو لوگ اس دن کی تاریخ پر شادی بیاہ کا فنکشن تک نا رکھتے تھے اور جب وارث ڈرامہ آتا تھا تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں یہ میں نے اپنے والد والدہ سے سنا اور پھر ٹی وی کے بہترین کردار اور ایکٹرز ایکٹریسز سے بھی ہماری تاریخ واقعات سے بھری پڑی ہے اگر عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو کتنے اہم واقعات ہوئے پاکستان آرمی کے حوالے سے بھی بہترین ڈرامے بنے ہیں جیسے سنہرے دن ایلفا براوو چارلی لیکن مزید ڈراموں کی شدت سے ضرورت ہے تحریک پاکستان اور آزادی پھر کارگل کی جنگ، ٦٥ اور ٧١ کی جنگ ان سب سے متعلق اور بھی ڈرامے بننے چاہئیں پرانے دور میں کچھ ڈرامے بنے تو تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں اسی طرح پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے حوالے سے بھی کچھ ڈرامے بنے مگر اب نظر نہیں آتے ہمیں اپنہ تاریخ دکھانی ہے نا کہ دوسرے ملک کے ڈراموں کو پروموٹ کرنا ہے

    پاکستانی ڈراموں کو بہترین بنائیں تاکہ ہماری نسلیں کچھ سبق حاصل کر سکیں اور اس پر عمل بھی کر سکیں
    بس یہی میں کہنا چاہتا تھا

    @ M1Pak

  • مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن  تحریر-سید لعل بُخاری

    مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تحریر-سید لعل بُخاری

    حکومت کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اپوزیشن تو اپنی موت آپ مر چُکی ہے-
    مگر بُری خبر یہ ہے کہ بڑھتی ہوئ مہنگائ اور اس کے بڑھنے پر مناسب چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا،عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔
    جو حکومت کے لئے یقینا” باعث تشویش بات ہے-
    اس حوالے سے کوئ بھی حکومتی موقف لوگوں کو اس وقت تک مطمئن نہیں کر سکتا،جب تک مہنگائ کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے جائیں۔
    مہنگائ کی بات کرتے وقت یہ حقائق ہمارے زہن میں ہونے چاہییں کہ خصوصا” کرونا آنے کے بعد مہنگائ کی لہر
    بین الاقوامی طور پر آئ ہے۔بعض چیزوں مثلا”خوردنی تیل وغیرہ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بھی دو سو فیصد تک بڑھی ہیں۔
    علاوہ ازیں پاکستان بننے کے بعد سے مہنگائ کبھی ایک جگہ رُکی نہیں۔کبھی کم بڑھی،کم زیادہ لیکن بڑھی ضرور
    مہنگائ بڑھنے کی شرح کے لحاظ سے جنرل ضیاالحق مرحوم کا دور سب سے بہترین تھا،اس وقت فوجی حکومت ہونے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس بہت اچھا تھا۔
    مافیاز خوف زدہ رہتے تھے کہ اگر بلاوجہ چیزوں کے نرخ بڑھاۓ تو مشکلات پیدا ہونگی۔اسی کے باعث اعداد و شمار کے لحاظ سے وہی گیارہ سالہ دور تھا جب عوام مہنگائ کے ہاتھوں قدرے کم ستاۓگئے ورنہ تو ہمیشہ ہی سے
    بے چارے لوگ مسلسل مہنگائ کی چکی میں پستے آرہے ہیں
    موجودہ مہنگائ کے پیچھے وہ مافیاز بھی کارفرماہیں،جن کی آبیاری نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعض کرپٹ راہنماؤں نے کی۔اُن کی جڑیں اب اتنی مضبوط ہو چُکی ہیں کہ وہ جب چاہییں مارکیٹ میں اشیاۓ ضروریات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کروا لیتے ہیں،چینی اسکینڈل اسکی ایک مثال ہے۔
    ان سب حقائق کے باوجود حکومت کو اسکی زمہ داری سے استثنا نہیں دیا جا سکتا۔
    معاشرے میں کوئ بڑے سے بڑا بدمعاش بھی حکومت سے تگڑا نہیں ہو سکتا۔
    ایسے معاشرتی ناسوروں کو کُچلنے کے لئے مزید قانون سازی کریں،کسی بھی قسم کی چور بازاری کا خاتمہ کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دیں۔اسسٹنٹ کمشنرز کے اختیارات بڑھائیں۔مختلف چھاپہ مار ٹیمیں بنائیں۔ان ٹیموں میں کام کرنے والے افراد کو ترغیبات دیں
    کچھ بھی کریں۔عوام کو اس مہنگائ کے عفریت سے نجات دلائیں
    اپوزیشن اگرچہ اپنے کرتوتوں اور باہمی خلفشار کے باعث بیک فُٹ پر جا چکی ہے،۔
    ایسے میں حکومت کی اصل اپوزیشن یہی مہنگائ ہے۔جس پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔
    اللہ تعالی کے فضل و کرم وحکومت کے کچھ اچھے اقدامات سےملکی معاشی صورتحال بھی اب بہتر ہے۔
    سیاسی طور پر بھی
    پُر سکون حالات خصوصا”آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئ حکومت کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی فلاوبہبود پر صرف کرے اور پریشان حال عوام کی جائز پریشانیوں کا مداوا کرے#

    تحریر-سید لعل بُخاری
    @lalbukhari

  • گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    آپ نے اکثر سنا ہوگا گلگت بلتستان سوزیرلینڈ سے خوبصورت ہے کبھی دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اب یہ نعرے سن کے ہمارے سادی عوام واہ واہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان دس اضلاع اور تین ڈویژن پہ مشتمل علاقہ ہے یہاں کی آبادی تقریبا بیس لاکھ اور ایریا اٹھائیس ہزار مربع کلو میڑ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین روس کی ریاست تاجکستان بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان جانے کے لیے آپ کے کے ایچ یا بابوسر روڈ کا استعمال کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ چترال سے شندور کے راستے سے بھی جاسکتے ہو۔

    یہ تھا ایک مختصر سا تعارف باقی گلگت بلتستان خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک دنیا کے چند ایک علاقوں میں سے ہے۔ لیکن اس علاقے کے باسی اکیسیوں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مثلا بجلی کا شدید بحران ہے صاف پانی ۔تعلیمی ادارے۔ میڈیکل کالج انجنئنرینگ یونیورسٹی ٹیکنکل کالج انٹرنیٹ صحت کا نظام یہ سب کے سب یا تو ہے ہی نہیں اگر ہے تو ناکارہ ہے۔ اب کچھ سوال اٹھائیں گے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو ان کے تسلی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ حضور ہمارے ہاں جن علاقوں میں تعلیم بہتر ہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے ورنہ سرکاری سکول کم بھوت بنگلہ زیادہ لگتے ہیں۔ ایک اہم بات گلگت بلتستان سے شاید ایک فیصد بچہ یونیورسٹی لائف دیکھ سکتا ہے۔ باقی میڑک کے بعد یا تعلیم کو خیرباد کرکے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں یا علامہ اقبال سے بی اے بی ایڈ کر کے استاد بھرتی ہوجاتے ہیں یا کسی اور ادارے میں۔ چونکہ میں نے پہلے بجلی کی بات کی تھی تو اس پہ آپ کو اس بابت تھوڑی تفصیل دیتا چلوں۔ گلگت بلتستان کو بجلی کی جو ضرورت ہے وہ تقریبا دوسو دس میگاواٹ تک کی ہے۔ اس وقت جو پاور ہوسسزز سرکاری کھاتوں میں ہیں وہ تو اس سے شاید زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت گلگت بلتستان میں بیس بیس گھنٹوں کے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کئی علاقوں میں دو دو دن بعد نمبر اتا ہے۔ اب جب بجلی نا ہو تو ذندگی کے تمام پہیے جام ہوجاتے ہیں بجلی کا ڈاریکٹ لینک تعلیم کے ساتھ صحت کے ساتھ انڈسٹری کے ساتھ ہے انٹرنیٹ کے ساتھ یےاور صاف پانی کے ساتھ ہے۔ گلگت بلتستان کسی ایک شہر میں اگر صاف پانی بجلی انٹرنیٹ صحت اور تعلیم کا نظام موجود نہیں ۔صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ گلگت شہر جو کے دارلخلافہ یے وہاں پہ لوگوں کو صاف تو چھوڑو گندہ پانی پینے کو نہیں مل رہا آئے روز جلسے جلوس ہوتے ہیں تو باقی شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب یہ مت پوچھنا وہاں اتنے بڑے دریا ہے تو پانی کا مسئلہ کیوں تو یہ نالائقیاں حکمرانوں سے لیکر انتظامیہ سب کی ۔ ہمارے ہاں ایک محکمہ ہیں جس کا کام چور پیدا کرنا جیسے عرف عام میں پی ڈبلیو ڈی کہا جاتا ہے یہ محکمہ اس قدر کرپٹ ہے یہاں سیکٹری سے لیکر منشی تک سب کرپشن کرتے ہیں اب اس ادارے کے حوالے سے کسی اور دن لکھوں گا۔ تعلیم اور صحت معاشرے کے دوبنیادی ستون ہیں لیکن جی بی میں ان دونوں کے حالت قابل رحم ہے ہسپتالوں کے حالت یہ ہے کہ جہاں ڈااکٹر ہے وہاں مشنری نہیں اور جہان مشنری ہے وہاں ڈاکٹر نہیں ۔ہمارے ایک عزیز سرجن ہے ان کا دیامیر ہسپتال میں دو سال ڈیوٹی رہی ان کا کہنا ہے وہ جس شعبے کا ماہر وہاں اس کے بنیادی آلات ہی نہیں تھے مجھ سے میڈکل افسر کا کام لیا گیا ۔باقی تعلیم وہ تو ناپید ہے۔ جو پرائیویٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو پڑھاتا ہے ورنہ اکثر و بشتر دیہی سکول میں پڑھنے والے بچے میڑک کرنے کے کے بعد بھی درخواست نہیں لکھ پاتے ہیں ۔اب آپ فیصلہ کریں گلگت بلتستان مسائلستان ہے کہ نہیں ؟

    @rohshan_Din

  • کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟  تحریر: ماہا ارشد

    کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟ تحریر: ماہا ارشد

    تاہم جب ورزش کرتے ہیں تو کیا محسوس ہوتا ہے؟ ورزش آپ کے عروقی نظام (آپ کے دل اور پھیپھڑوں) کو بہتر بنانے ، صحت مند ہڈیوں ، پٹھوں اور جوڑ کو بڑھانے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں معاون ثابت کرنے کے لئے سمجھی جاتی ہے۔ متعدد دائمی بیماریوں کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کو بہتر بناتی ہے. ورزش کو اجتماعی طور پر بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے موثر دکھایا گیا ہے ، جیسے پولیجینک بیماری اور امراض قلب۔

    ورزش کے ان فوائد کا شاید آپ نے پہلے ہی پتہ لگا لیا ہو۔ تاہم ، جب آپ ورزش کریں گے تو کیا آپ کا دماغ ترو تازہ محسوس ہوگا؟ کیا کوئی خوشی محسوس ہو گی ؟ کیا نیند آنے میں آسانی ہو گی؟

    ذہنی بیماری
    بالکل اسی طرح جیسے ہم وقتا فوقتا بیمار ہوجاتے ہیں سر درد یا بخار ہونے کے بعد) اس طرح ہمارے دماغ کے اجزاء بھی ہوسکتے ہیں جو ہم محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی عدم صحت کو ذہنی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے "قلبی مرض” جیسے امراض کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے کام کیا جاتا ہے ، آپ ذہنی حالت کے بارے میں سوچیں گے کہ دماغ کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے ایک وسیع اصطلاح ہے۔ ذہنی حالت میں ان حالات کا پھیلاؤ بھی شامل ہے جس کا آپ نے پتہ لگایا ہو ، نیز افسردگی اور اضطراب بھی ، ذہنی حالت کا تجربہ بڑے پیمانے پر بزرگ افراد کے لئے ہوتا ہے ، اس کے نتیجے میں انہیں روزانہ کچھ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے صرف کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اور ان کی ذہنی حالت کا سبب بننے والی چیزوں میں کم حرکت اور زیادہ سوچنا شامل ہے. ۔ بزرگ افراد کو ان کی ذہنی حالت سے دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنےچاہیے
    نفسیاتی حالت اور ذہنی حالت کے مابین فرق جاننا ضروری ہے۔ آپ کو خراب نفسیاتی حالت کا تجربہ کرنے کیلئے تشخیص شدہ ذہنی حالت کی ضرورت نہیں ہے۔
    جسمانی بیماریوں کی طرح ، ذہنی حالت کا سامنا کرنے والے افراد عام طور پر ورزش میں باہمی روابط رکھنا زیادہ پائیدار محسوس کرتے ہیں اور ، اوسطا ، زیادہ دیر تک غیر فعال (بیٹھنا یا لیٹنا) گزارتے ہیں ، جسے ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے غیر صحت بخش ہے۔ ایک بار جب آپ پریشان محسوس کرتے ہیں تو ورزش کریں۔یہاں تک کہ عام آبادی میں بھی ، ورزش کرنے کی ترغیب کم ہے ، جب کہ آبادی کا صرف پچاس حصہ جسمانی سرگرمی کی صلاحی مقدار حاصل کرتا ہے۔ لہذا ، یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ دماغی حالت کے حامل افراد مربع پیمانہ عام طور پر اس سے بھی کم منتقل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

    جسمانی ساخت پر ذہنی حالت کے اثرات
    دماغی بیماری کسی کے روایتی جسمانی کام کو خراب کردے گی۔ اس کے نتیجے میں سنگین جسمانی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ دباؤ جیسے مسائل بھی ہوں گے۔

    ہائی پریشر
    ذہنی بیماری تناؤ کی شدید سطح کا سبب بنے گی اور دباؤ بڑھائے گی جس
    کے نتیجے میں دل کا فالج اور دماغی ہیمرج ہوسکتا ہے۔

    تھکاوٹ
    ذہنی بیماری تھکاوٹ اور جاگنے کا سبب بنے گی (بے خوابی)

    بھوک میں کمی
    دماغی بیماری کھانے کو کم ہضم کرنے سے پیٹ اور بھوک کو پریشان کرتی ہے

    علاج
    ہمیں فی الحال سمجھنا ہے کہ ورزش مختصر اور طویل دماغی حالتوں میں رہنے والے افراد کی دیکھ بھال کا ایک انتہائی ضروری حصہ ہوگا۔ ورزش موڈ کو بہتر بنائے گی اور ذہنی حالت کی علامات کو کم کردے گی ، نیز افسردگی اور اضطراب کو بھی۔ ورزش سے نیند کا معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے ، توانائی کی سطح میں اضافہ اور دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے اور ہر میموری اور حراستی کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ مزید یہ کہ ورزش ان فوائد کی پیش کش کرتی ہے جبکہ مضر اثرات کا خطرہ نہیں ، اگر ورزش کی گولی ہوتی تو ، یہ ہر ایک کے لئے ہر ڈاکٹر کے ذریعہ مریض کو دی جاتی ہے۔

    مشق کا فائد
    حیاتیاتی میکانزم کی شرائط میں ، ورزش کو انور باؤنڈ کیمیکلز میں تبدیلیوں کا سبب دکھایا گیا ہے جن کو انڈورفنز کہا جاتا ہے۔ اینڈورفنز اسکوائر کیمیائی میسینجر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں جو پورے مشق میں درد اور تناؤ سے نجات فراہم کرتے ہیں۔ ورزش قزاق سے ڈوپاسٹیٹ ، کیٹکولامین ، اور مونوامین نیورو ٹرانسمیٹرز کے نام سے جانے والے مختلف کیمیکلوں کے خارج ہونے کی ترغیب دیتی ہے … یہ دماغی کیمیکل ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے میں ایک اہم نصف ادا کرتے ہیں۔ در حقیقت ، وہ مربع پیمانہ ہیں.
    ورزش باآسانی کورٹف کے نام سے جانے والے تناؤ کے خاتمہ کی ڈگری کی پیمائش کرنے میں معاون ہوتی ہے ، لہذا ہم کم تناؤ محسوس کرتے ہیں۔
    آخر میں ، ورزش کو متنوع بنائے جانے والے طریق کار کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
    ورزش کرنے سے اکثر نفسیاتی حالت کو تقویت نہیں ملتی ہے ، تاہم ، اس کے علاوہ جسمانی صحت کے لئے بہت زیادہ مفید ہے

    دورانیہ
    عام آدمی نفسیاتی حالت اور جسمانی خوشحالی کا خیال رکھنے کے لیے آدھے گھنٹہ معیاری ورزش کافی ہے۔ ورزش ایک شخصیت کے مزاج کو تیز کردے گی.
    وقت
    چلنا پھرنا بھی ایک طرح کی ورزش ہے ، صحتمند چہل قدمی خوبصورت نتائج فراہم کر سکتی ہے ، اس سے بھوک اور نیند کو تقویت ملتی ہے ایک شخص کو ہر دن تیس سے چالیس منٹ تک چلنا چاہئے. صبح کے چلنے سے آپ کا موڈ حالیہ ہوجاتا ہے ، توجہ اور تخلیقی سوچ کے ساتھ آپ کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔
    روزانہ چلنے اور ورزش کرنے سے صرف نفسیاتی حالت برقرار نہیں رہتی ہے۔ اس سے اعزازی طور پر ذہانت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے. .

    اگلا قدم
    ان فوائد کے بارے میں جاننا اچھا ہے ، تاہم ، اگر ہم اپنی ذہنی حالت کے علاج کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرتے ہیں تو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ورزش علاج کے ایک حصے کے طور پر منسلک ہے ، تو صرف سائنس ہی کسی کی مدد کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت متعدد ممالک دماغی حالت کے علاج کے ایک حصے کے طور پر ورزش کو مجسم بناتے ہیں ، ہمیں جسمانی اور نفسیاتی حالت کی دیکھ بھال کے مابین تفریق کو توڑنے کے سلسلے میں ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ اگرچہ ورزش ادویات یا مختلف علاج کا متبادل نہیں ہے ، لیکن یہ ذہنی حالت کے علاج کا ایک اہم اور مددگار حصہ ہے۔
    ہم نے دماغی حالت کا سامنا کرنے والے افراد کے لئے ورزش کے فوائد کے سلسلے میں کافی بات کی ہے ، تاہم ، ورزش سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ خود کو زیادہ محسوس کریں گے حالانکہ اگر آپ پہلے ہی ٹھیک محسوس کررہے ہیں تب بھی. ہر ایک خود کو دماغی غیر صحت مند کہیں نہ کہیں پائے گا ، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ پاگل نہیں ہیں۔ ورزش کے فوائد کا تجربہ کرنے کے لیے ، ذہنی حالت نازک ہونا ضروری نہیں ہونا چاہئے، ، نارمل آدمی کو بھی ورزش کرنا چاہیے۔ دنیا بھر سے معلومات کو جمع کرنے والے ایک بڑے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش آپ کے ذہنی دباؤ کے امکانات کو ختم کردے گی۔

    @mayajaal12345

  • والدین کا فرض  تحریر: روبینہ سرور

    والدین کا فرض تحریر: روبینہ سرور

    ‏بچوں کی عادات میں والدین کی تربیت کا عکس ہوتا ہے، اس لیے والدیں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کریں۔
    ‏والدین کے لئے بہت ضروری ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے روزانہ کی بنیاد پر ان سے متعلق نرمی سے سوالات پوچھے تاکہ کل جب وہ کبھی ناخوشگوار واقعے کا شکار ہو تو وہ بلاخوف والدین سے بات کر سکے ۔
    والدین کو چاہیے کہ بچوں کو ہمیشہ قرآن پاک احادیث مبارکہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور ضروری دینی احکام کی تعلیم دیں جو ان کی بہترین تربیت کے لیے بہت ہی ضروری ہیں۔

    ‎ ‏جب بچے بڑے ہوجائیں اور اُن کی عقل پختہ ہوجائے تو بچوں میں تبدیلی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے اسلئے ابتدائی عمر میں چاہیے کہ بچوں کی نگرانی اور ان کی صحیح تربیت کریں


    بچوں کا ذہن صاف وشفاف ہوتا ہے اس میں جو چیز بھی نقش کردی جائے وہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے اسی طرح بچپن میں جو بھی چیز ذہن و دماغ میں نقش کر دی جائےوہ پائیدار ہوتی ہے۔


    ‏بچوں کی سہی تربیت سے ایک اعلیٰ معاشرہ وجود میں آتا ہے، والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھے انداز میں تربیت کریں، اور ان کو ہمیشہ وقت دیں۔
    ‏والدین کی لاپرواہی اور نظر اندازی سے بچہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے، جس سے معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔
    ‏والدین کو چاہیے شروع سے ہی بچوں کو دینی تعلیمات کی طرف راغب کریں۔ اور ان کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
    ‏ایک اللہ والے کی تربیت اولاد کی تین بنیادی باتیں
    ۱۔ہمیشہ سچ بولنا
    ۲۔نماز کا اہتمام(اچھے سے وضو،وقت پر پورے افعال کے ساتھ)
    ۳۔بزرگوں کی خدمت(والدین،اساتذہ ،بڑوں اورضرورت مندوں کی خدمت)

    انکو پیدا کرنا صرف اسوقت ممکن ہے اگر یہ عادات والدین میں ہوں
    ‏دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد آخرت کی جولامحدود زندگی ہے وہاں کی سرخروئی اور سرفرازی سے خود بھی غافل ہیں اور بچوں کی تربیت میں بھی اس پہلو کو اہمیت نہیں دیتے۔۔
    ‏والدین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کے وہ اپنی والاد کی بچپن سے ایسی تربیت کریں کے ان میں دینی شعور پختہ ہو اور بڑے ہوکر وہ زندگی کے جسمیدان میں بھی رہیں ایمان وعمل صالح سے ان کا رشتہ نہ صرف قائم بلکہ مضبوط رہے
    ‏والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو شرم وحیاء اور پردے کا درس دیں تاکہ ایک اچھا معاشرہ وجود میں آسکے


    https://twitter.com/rsjanbaz?s=09

    روبینہ سرور

  • جرم،انصاف اور معاشرہ  تحریر:فرح خان

    جرم،انصاف اور معاشرہ تحریر:فرح خان

    "اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
    مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا”

    ہم سب دوسروں پر تنقید کرنے کے عادی ہیں مگر اپنی اصلاح کی جانب توجہ نہیں دیتے یہ ایک بنیادی خرابی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر برائی کو جنم دے رہی ہے۔
    اگر انسان میں خوف خدا کی صفت پیدا ہوجائے تو ہم برائیوں سے خود بھاگے گے۔

    آئیے دن ہم ایک نئی ظلم کی داستان سن رہے ہوتے ہیں،در حقیقت انصاف اور گرفتاری کے تمام ہیش ٹیگز ہمارے قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں ،اور اب ان مجرموں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خود کو ظاہر کرتے ہوئے وڈیو آپ لوڈ کرتے ہیں، گرفتاری کا خوف ہی نہیں ، سزا کا ڈر نہیں ، شرمندگی کا کوئی احساس نہیں ۔

    فرسودہ تباہ شدہ قانون پہ ان کو مکمل یقین ہے کہ ان کا بال بھیگا نا ہوگا،شوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فورم پہ آواز بلند ہوتی ہے وہ گرفتار ہوتے ہیں اور خود کو ایک سلیبرٹی سمجھ کر فخر سے دھندھناتےہوئے نظر آتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ جوڑ توڑ کریں گے اور انہیں آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگ بھی بھول جائیں گے اور مخصوص تاریخوں پہ کسی چوک پہ موم بتیاں جلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

    "امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے
    اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے”

    وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس شیطانی کھیل کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدام کروائیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی فتنہ اس کھیل کو بڑھاوا دے رہے ہیں تاکہ لاپروائی اور معاشی برائیوں کا الزام حکومت پہ ڈال سکیں۔
    اس میں لبرلز اور غیر ملکی فنڈنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    عدلیہ نظام امن،خوشحال معاشرے کی تخلیق کی بنیاد ہوتا ہے پر یہاں کرپٹ اور مسلسل مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
    اس نظام پہ جلد توجہ کی ضرورت ہے۔

    تمام انسانوں کو کسی رنگ و نسل ، ذات پات کی تمیز رکھے بغیر انصاف مہیا کیا جائے اور معاشی نظام میں کسی تفریق کے بغیر سب کو برابر سے حقوق ملیں تو اس معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    مثبت نتائج کے لیے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شورع کریں تو برائیوں پر اچھائیاں حاوی ہو جائیں گی ۔عمدہ مثالی معاشرے کے لیے؛

    ●معاشرے میں انصاف کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
    ●افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
    ●سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ دوسرے افراد عبرت حاصل کریں اور برائی جڑ نہ پکڑ سکے۔
    ●اسکول،نصاب اور والدین پر سخت ذمہ داری ہے اس لیے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت نا کریں۔
    ●معاشرہ کو خلوص، محبت،انسانیت اور خدمت سے سنوارا جائے۔

    قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ
    "برائی سے روکو اور نیکی کا حکم دو۔”

    #JusticeForNaseemBibi #JusticeForNoormukadam #JusticeForQuratulainAnnie #JusticeforSaima #JusticeForWishah #JusticeforAndaleeb
    #JusticeForKhadija
    #JusticeForAsifa
    #JusticeForZainab
    #ArrestAbdulSalamDawood
    #ArrestUsmanMirza

    اور اس طرح کئی کیس ہمارے سامنے ہیں،ہمارا معاشرہ خاکی کشکول لیے کھڑا ہے جس میں اچھائیوں،نیکی،انصاف اور حقوق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ان سب واقعات سے بچنے کے لیے اللہ کرے ہم جلد منظم فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔آمین

    @MastaniFarah

  • سڑک کے بیچوں بیچ سینکڑوں بندر آپس میں گتھم گتھا ، ویڈیو وائرل

    سڑک کے بیچوں بیچ سینکڑوں بندر آپس میں گتھم گتھا ، ویڈیو وائرل

    تھائی لینڈ میں کورونا کے باعث خوراک کی قلت ہے جس کے حصول کیلئے بندروں کے دو گروہ بیچ سڑک ایک دوسرے سے لڑ پڑے ۔

    باغی ٹی وی : العربیہ اردو کے مطابق دارالحکومت بنکاک سے تقریبا 100 کلو میٹر کے فاصلے پر بندروں کے دو گروہ خوراک کے حصول کیلئے گتھم گتھا ہو گئے


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بندروں کا ایک گروہ سڑک کنارے خوراک کے حصول کیلئے پہلے سے موجود تھا جبکہ دوسرے گروہ نے اس پر دھاوا بول دیا ۔

    دوسری جانب برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ کے مطابق خوراک کے حصول کے لیے بندروں کے دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کو خوب مارا پیٹا یہ سارا منظر ایک مصروف شاہراہ پر دیکھا گیا۔ بندر سڑک پر چلنے والی گاڑیوں سے بے نیاز ہو کرایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ بندروں کی لڑائی کے دوران لوگوں کو اپنی گاڑیاں روکنا پڑیں۔

    ڈیلی میل کے مطابق یہ بندر پھل اور خوراک کے حصول کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ کرونا وبا کی وجہ سے تھائی لینڈ میں بندر بھی غذائی قلت کا سامنا کررہےہیں جبکہ بندر بھی اس مسئلے کا شکار ہیں ۔

    جس کے نتیجے میں ان کےدرمیان خوراک کے حصول کے لیے لڑائیاں ہونے لگی ہیں۔ بنکاک کے قریب خوراک کے حصول کے لیے بندروں کی لڑائی چار منٹ تک جاری رہی-

  • جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے – عمران محمدی

    جہاد ہی میں عزت ہے
    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    تمہارے لیے جہاد سب سے بہتر ہے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    التوبة : 41

    اور فرمایا
    كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں سراسر نا پسند ہے اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمھارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے لیے بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    البقرة : 216

    *جہاد،دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب، غموں اور پریشانیوں سے بچنے کا زریعہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟
    الصف : 10
    تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
    تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
    الصف : 11

    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُنَجِّي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ ”
    مسند احمد 22172
    اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے زریعے غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے

    *جہاد ،اقامت دین اور حفاظت اسلام کا بہترین زریعہ ہے*

    ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ” أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
    (بخاري كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابٌ: {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} [التوبة: 5]،25)
    ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

    جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ”
    مسلم 1922
    یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور اس کے دفاع کیلئے ہمیشہ ایک جماعت قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی

    ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ نے فرمایا
    وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ
    (مسلم، كِتَابُ الْإِيمَانِ،بَابُ الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ،124)
    اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز او رزکاۃ میں فرق کریں گے ، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے ،جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔

    *جہاد، مومنین کے سینوں کو ٹھنڈا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرتا ہے*

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ
    ان سے لڑو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔
    التوبة : 14
    وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 15

    *اکٹھی پانچ بشارتیں*

    ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کفار سے لڑنے کی صورت میں مسلمانوں کے ساتھ پانچ وعدے کیے ہیں

    1 اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے گا، جو کفار کے قتل، زخمی، قید ہونے اور ان سے مال غنیمت کے حصول کی صورت میں ہو گا

    2 دوسرا یہ کہ ’’ يُخْزِهِمْ ‘‘ انھیں رسوا کرے گا، ان کی فوجی قوتوں کا گھمنڈ توڑ کر ان کی حکومت کی عزت خاک میں ملا کر انھیں ذلیل و رسوا کرے گا

    3 تیسرا یہ کہ ’’ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ ‘‘ ان کے خلاف تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں غلبہ عطا کرے گا۔
    اسے الگ اس لیے ذکر فرمایا کہ ہو سکتا تھا کہ کفار تو ذلیل ہو جائیں مگر مسلمانوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔

    4 چوتھا یہ کہ ’’وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ‘‘ تمھارے ان سے لڑنے اور غلبہ پانے سے ان مومنوں کے سینوں کو شفا ملے گی جو ان کفار موذیوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہتے رہے۔

    5 پانچواں یہ کہ ’’ وَ يُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ‘‘ ان کے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔
    (تفسیرالقرآن الکریم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ)

    حافظ صاحب مزید لکھتے ہیں
    دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات سن کر دل میں غصہ تو آتا ہی ہے، جیسے اب بھارت وکشمیر، فلسطین و فلپائن، برما، عیسائی اور کمیونسٹ ممالک میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں سن کر دل کو غصہ آتا ہے، کفار پر فتح یاب ہونے سے اس غصے کا بھی مداوا ہوتا ہے

    *جہاد کی تیاری سے دشمن مرعوب ہوکر دب جاتا ہے اور امت محفوظ ہوجاتی ہے*

    فرمایا اللہ تعالیٰ نے
    وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
    اور ان کے لیے جتنی کر سکو قوت کی صورت میں اور تیار بندھے گھوڑوں کی صورت میں تیاری رکھو، جس کے ساتھ تم اللہ کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو ڈرائو گے اور ان کے علاوہ کچھ دوسروں کو بھی جنھیں تم نہیں جانتے، اللہ انھیں جانتا ہے اور تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے وہ تمھاری طرف پوری لوٹائی جائے گی اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
    الأنفال : 60

    اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے ہمارے استاذ گرامی لکھتے ہیں
    یعنی اس قدر مضبوط تیاری رکھو کہ اللہ کا دشمن اور تمھارا دشمن اور تمھارے ساتھ کد رکھنے والا ہر شخص تم سے خوف زدہ رہے اور لڑنے کی جرأت ہی نہ کر سکے۔ ان واضح دشمنوں میں مشرکین، یہود و نصاریٰ اور جانے پہچانے منافق سب شامل ہیں۔نیز مسلمانوں کی صفوں میں کفار کے چھپے ہوئے ہمدرد منافق بھی شامل ہیں۔
    علاوہ ازیں کئی اقوام جو بظاہر اس وقت تمھارے خلاف نہیں، مگر موقع پانے پر دل میں تم سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہیں، تمھاری مکمل تیاری اور ہر وقت جہاد میں مصروف رہنا سب کو خوف زدہ رکھے گا

    *جہاد، مظلوموں کی مدد کا اہم راستہ ہے*

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    اور فرمایا
    أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
    ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا پوری طرح قادر ہے۔
    الحج : 39

    *جہاد چھوڑنے سے ذلت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہے*

    سیدنا ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے
    ” إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ ؛ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ ”
    (ابو داؤد، کِتَابُ الْإِجَارَةِ،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الْعِينَةِ،3462صحیح)
    ” جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے ، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے ، کھیتی باڑی ہی پر مطمئن ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو کسی طرح زائل نہ ہو گی حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ ۔ “

    اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
    اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    التوبة : 39

    *امت مسلمہ کی معاشی ترقی جہاد سے ہی وابستہ ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ” جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي ”
    بخاري،معلقا تحت الحديث 2757
    مسند احمد، 5093
    میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا گیا ہے اور جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا اس پر ذلت اور رسوائی مسلط کر دی گئی ہے

    اور اللہ تعالیٰ اسی جہاد کے مفید اثرات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
    وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَئُوهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا
    اور تمھیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث بنادیا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
    الأحزاب : 27

    *جہاد اور مسلمانوں کی تعداد*

    جہاد کی فرضیت سے پہلے تیرہ سالہ مکی اور ایک سالہ مدنی زندگی میں بھرپور دعوتی سرگرمیوں اور جد و جہد کے باوجود جب بدر کی جنگ ہوئی تو اس میں 313 مسلمان شامل تھے اور شاید کہ تب تک مجموعی تعداد 1000 سے متجاوز نہ ہو گی
    لیکن اس جنگ کے ثمرات دیکھیں کہ ٹھیک ایک سال بعد تعداد اس سے ڈبل ہوجاتی ہے اور اس کے چھ سال بعد جب مکہ فتح کیا تو بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور خواتین کے علاوہ صرف لشکر اسلام کی تعداد دس ہزار تھی
    پندرہ دن بعد حنین و ہوازن کی طرف رخ کیا تو یہی لشکر 12 ہزار نفوس پر مشتمل تھا اور اس کے ایک سال بعد تبوک کی طرف روانگی ہوئی تو اسلامی لشکر 30 ہزار جنگجوؤں کی تعداد میں تھا
    عزت و قوۃ کے یہ سب مظاہر جہاد فی سبیل اللہ کے ثمرات ہیں

    اسی فتح، نصرت اور جہاد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
    جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔
    النصر : 1
    وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
    اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔
    النصر : 2
    فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
    تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
    النصر : 3

    ہمارے حافظ صاحب لکھتے ہیں
    *جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے مکہ فتح فرما دیا تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد دو سال نہیں گزرے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور تمام قبائل میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اسلام کا اقرار نہ کرتا ہو۔*
    تفسیر القرآن الكريم از استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ تعالیٰ

    *ایک ایک آدمی کو تین تین سو اونٹ دے دیئے گئے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    40 ہزار بکریاں
    24 ہزار اونٹ
    6 ہزار قیدی
    اور اس کے علاوہ بے شمار نقدی، سونا چاندی مسلمانوں کے ہاتھ آیا

    صحیح مسلم میں ہے
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    ایسے ہی آپ نے
    ابوسفیان بن حرب اور اس کے بیٹے یزید و معاویہ کو سو سو اونٹ عطا کیئے
    ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    ان کے بیٹے یزید رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ
    دوسرے بیٹے معاویہ رضی اللہ عنہ کو 100 اونٹ

    حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو 200 اونٹ عطا فرمائے
    بحوالہ الرحیق المختوم

    یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی بدولت ممکن ہوا

    *دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں*

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    *5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے کا سالانہ بجٹ*

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 300 من کھجور (جوکہ 12000 کلو بنتی ہے) 60 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 75 من جو (جوکہ 3000 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    75 من جو تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 62 لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ 5 کروڑ 61 لاکھ 60 ہزار روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    نوٹ، ایک وسق تقریباً 3 من 30 کلو کا ہوتا ہے

    *5 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بجٹ*

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ(موجودہ سونے کے ریٹ 1 لاکھ 20 ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے) 5 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    *ہر بچے کا وظیفہ مقرر کیا جانے لگا*

    تاریخ کی یادوں میں یہ بات معروف ہے کہ عھد فاروقی میں مسلمانوں کے ہربچے کا وظیفہ بیت المال سے جاری کردیا جاتا تھا

    اور یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا کوئی خلیفہ افق پر چھائے ہوئے بادلوں کو جب برسے بغیر واپس جاتے ہوئے دیکھتا تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرماتا تم جہاں کہیں بھی برسو گے آخر تمہارا خراج تو میرے پاس ہی آئے گا

    *فتوحات کا سیل رواں*

    مولانا اقبال کیلانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب "جہاد کے مسائل” کے مقدمہ میں بڑی خوبصورت ترتیب سے چند فتوحات کا تذکرہ کیا ہے

    آپ لکھتے ہیں
    عہد صدیقی 632 ء تا 635 ء (دورانیہ تقریباً اڑھائی سال)
    اس دوران حیرہ اور عراق فتح ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت، مرتدین، اور منکرین زکوٰۃ کا خوب بندوبست کیا گیا

    عہد فاروقی 635ء تا 645ء
    635ء میں اسلامی فوجیں ایران میں داخل ہوئیں اور 642ء تک (صرف 7 سالوں میں) قادسیہ، مدائن، جلولاء، حلوان، خوزستان، اصفہان،ہمدان، رے، طبرستان، آزربائیجان، آرمینیا، کرمان اور خراسان فتح ہوئے
    دوسری طرف
    635ء میں دمشق
    636ء میں حمص، انطاکیہ، بیت المقدس
    638ء میں پورا ملک شام فتح ہوا
    641ء میں مصر
    647ء میں تیونس
    653ء میں الجزائر، یونان اور قبرص
    670ء میں قیروان
    674ء میں بخارا
    675ء میں سمر قند فتح ہوا
    693ء میں اسلامی فوجیں ساحل اطلس تک پہنچ چکی تھی
    700ء میں ایشیاء کوچک میں داخل ہوئیں
    711ء میں ایک طرف طارق بن زیاد نے سپین اور آدھا فرانس فتح کرلیا تھا تو دوسری طرف محمد بن قاسم کراچی سے ملتان تک اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا
    809ء میں کارسیکا
    810ء میں سارڈینا
    823ء میں کریٹ
    826ء میں سسلی
    846ء میں جنوبی اٹلی اور
    870ء میں مالٹا مسخر ہوا

    *جہاد کی برکت سے صرف 200 سال میں بحر اسود سے لیکر ملتان تک اور سمرقند سے لیکر فرانس تک 90 لاکھ مربع میل پر اسلامی پھریرا لہرا رہا تھا*

    *بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ*

     تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
     خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

     مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
     تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا

    اور آپ نے مزید لکھا

     تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
    خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
     دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
     کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
     شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاںداروں کی
     کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

     ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
     پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
     تجھ سے سرکش ہُوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
     تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
     نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
     زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے

    *جہاد کی تازہ بشارتیں*

    فی زمانہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کس قدر خیر اور برکت رکھی ہے

    1️⃣ یہ کل کی بات ہے جب امریکہ بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت 100 سے زائد ملکوں کو ساتھ لیئے نہتے افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر نے کہا تھا کہ یہ تو ہمارے سامنے چار گھنٹے نہیں ٹھہر سکتے
    مگر چشم فلک نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی امریکہ صرف 20 سال کے مختصر عرصے میں راتوں رات ایسے بھاگا کہ سیکیورٹی پر مامور افغان فورسز کو بھی معلوم نہیں ہونے دیا

    اور تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف اتنے بڑے صلیبی اتحاد کی مثال نہیں ملتی لیکن مزے کی بات ہے کہ اتنی بڑی ذلت آمیز شکست کی مثال بھی شاید کہیں نہیں ملے گی

    2️⃣ اگر تھوڑا پیچھے چلیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ بہادر کو ہزیمت سے دوچار کرنے والے یہ مجاہدین امریکہ کی آمد سے صرف 11 سال پہلے دنیا کی بہت بڑی سپر پاور روس کو شکست کے مزے چکھا کر ابھی پوری طرح سے تازہ دم بھی نہیں ہوئے تھے

    3️⃣ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس سرخ ریچھ کے آنے سے صرف 60 سال قبل انہی مجاہدین کے آباؤ اجداد ایک ایسی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں جو اپنے آپ کو برطانیہ عظمی کہلواتی تھی اور "عظمی” کا لاحقہ لگانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن آج وہی برطانیہ سکڑ کر افغانستان سے بھی چھوٹا ہوگیا ہے اور "عظمی” تو دور کی بات "برطانیہ” بھی نہیں رہا اس کی جگہ "انگلینڈ” نے لے لی ہے

    *گویا 1919 تا 2021 صرف ایک صدی میں جہاد کی برکت سے ایک ایسی قوم نے تین سپر پاوریں ڈھیر کردیں کہ جنہیں ڈھنگ سے کپڑے بھی استری کرنے نہیں آتے*

    4️⃣ اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو برصغیر سے انگریز کا نکلنا اور وطن عزیز پاکستان کا قیام پزیر ہونا کسی سیاسی یا جمہوری جدوجہد نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا عظیم ثمرہ ہے
    (ان شاء اللہ اس موضوع پر جلد ہی لکھنے کا ارادہ ہے جس میں دلائل سے یہ بات ثابت کی جائے گی کہ قیام پاکستان، جہاد فی سبیل اللہ سے ہی ممکن ہوا ہے)

    5️⃣ جہاد افغانستان سے وطن عزیز پاکستان میں خوشحالی، فراوانی اور آسودگی پیدا ہوئی ہے اگر ہم 1980 سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں وہ بہت سی نعمتیں اور سہولیات نظر نہیں آئیں گی جنہیں ہم آج استعمال کر رہے ہیں
    صرف چینی اور آٹے کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر آٹا حاصل کرتے تھے اور چینی تو صرف سرکاری ڈیپو سے ہی ملا کرتی تھی اور وہ بھی محدود مقدار میں کہ کوئی اس سے زیادہ نہیں لے سکتا تھا اور اس کے لیے بھی پہلے کارڈ بنوانے پڑتے تھے
    گویا اس جہاد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ایک طرح سے قحط سالی کا خاتمہ کیا

    6️⃣ اگر یہ بات کہوں کہ وطن عزیز پاکستان کو ایٹم بم کی شکل میں بے پناہ قوۃ بھی اسی روسی جہاد کی بدولت حاصل ہوئی ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا
    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روس کے خلاف لڑنا پوری دنیا کی مجبوری بنا دیا تھا جس کی وجہ سے سب لوگ پاکستان کے محتاج تھے اور یہی وہ حالات تھے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی طاقتوں کے ناچاہتے ہوئے بھی ایٹمی پروگرام پایا تکمیل تک پہنچایا گیا ورنہ نارمل حالات میں یہ ممکن ہی نہیں تھا

    7️⃣ اور پھر امریکہ کے خلاف ہونے والے جہاد 2001 سے پہلے اور بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو بہت فرق نظر آتا ہے
    وطن عزیز پاکستان میں نظر آنے والی بہترین سڑکیں، اعلی کوالٹی کی گاڑیاں، انڈسٹریل پروگریس، بڑھتا ہوا تجارتی حجم، اور افواج پاکستان کی دسترس میں آنے والی جدید ٹیکنالوجی، اسلحہ اور پاکستان کا مضبوط ہوتا ہوا دفاع 2001 سے پہلے کہاں نظر آتا تھا

    8️⃣ اسی کی دہائی میں وطن عزیز پاکستان کے اندر سوشلزم کا نظریہ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا تھا روٹی کپڑا اور مکان کے بظاہر خوبصورت نعرے کی آڑ میں اسے نافذالعمل بنانے کے منصوبے تشکیل دیئے جا رہے تھے کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں جگہ جگہ سرخ انقلاب کے حق میں وال چاکنگ نظر آتی تھی بہت سے لوگ اپنے آپ کو کامریڈ یا سرخے کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے قریب تھا کہ پاکستان سوشل ازم کی گود میں چلا جاتا مگر جہاد کی برکت دیکھئے کہ وطن عزیز میں ایک گولی چلائے بغیر کیسے اس ممکنہ انقلاب کو الٹ کر رکھ دیا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ماسکو میں بھی اسے راندہ درگاہ قرار دیا گیا

    9️⃣ اسی کی دہائی سے پیچھے چلیں جائیں تو وطن عزیز پاکستان میں داڑھی، ٹوپی، پگڑی اور برقعے کے وہ مظاہر نظر نہیں آتے جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کوئی بڑا عالم ہوتا تو شاید اس کے چہرے پر داڑھی نظر آتی تھی یا پھر کوئی بوڑھا داڑھی رکھ لیتا نوجوانوں میں تو اس بات کا تصور بھی نہیں تھا
    آدھے رخسار تک پہنچتی ہوئی لمبی لمبی قلمیں رکھنے کا رواج عام تھا اور شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
    مگر اس کے بعد سے اب تک روزبروز یہ تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے
    نوجوانوں کے چہرے داڑھی سے سجتے سنورتے نظر آرہے ہیں اور یہی شرح نمو برقعے اور پردے کی ہے
    یہ تصور عام تھا کہ نماز، آذان اور مسجد میں جانا تو بوڑھوں کا کام ہے مگر اب اللہ کے فضل سے مساجد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد دکھائی پڑتی ہے

    🔟 آپ حیران ہوں گے کہ روسی اور امریکی دونوں حملوں کا اصل ٹارگٹ اسلام اور مساجد و مدارس کو کنٹرول بلکہ ختم کرنا تھا امریکی صدر بش نے تو مدارس اسلامیہ کی بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ "ہم مجھر پیدا کرنے والے جوہڑ بند کردیں گے”
    مگر اللہ کا فضل اور جہاد کی برکت دیکھیں کہ اسی دوران وطن عزیز پاکستان میں مساجد و مدارس کا جال بچھا دیا گیا جتنی خوبصورت مساجد آج موجود ہیں پہلے کہاں نظر آتی تھیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی مدارس کی عمارتیں عالم کفر کا منہ چڑا رہی ہیں کوئی چلے اور دیکھے جامعہ محمدیہ، سلفیہ ،مرکز طیبہ ،جامعہ رحمانیہ ،دارالعلوم، حقانیہ، بنوریہ کی وسیع رقبے پر مشتمل فن تعمیر کی عظیم شاہکار عمارتیں اور پھر ان مدارس کا میس شیڈول دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ عالم کفر تو انہیں مٹانے آیا تھا مدارس اور ان کے طلبہ کی تعداد میں ساٹھ ستر فیصد اضافہ ہوا ہے

  • ويسٹ انڈيز ميں پاکستان ٹيم کا کيا ہوگا تحریر: سلطان محمود خان

    ويسٹ انڈيز ميں پاکستان ٹيم کا کيا ہوگا تحریر: سلطان محمود خان

    پاکستان اور ويسٹ انڈيز کے درميان ٹي ٹوئنٹي سيريز آج سے شروع ہورہي ہے مگر اب بھي ايسے بہت سے مسائل ہيں جن کا سامنا ہيڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان بابراعظم کو ہے۔ سب سے بڑا مسلہ تو مڈل آرڈر کي ناکامي ہے۔ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ سر پر ہے مگر مڈل آرڈر ہے کہ چلنے کا نام ہي نہيں لے رہا۔ دورہ جنوبي افريقہ اور زمبابوے ميں ٹيم منجمنٹ نے کئي تجربے کيے مگر سب بےکار گئے۔ افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علي، دانش عزيز، حيدرعلي، حسين طلعت، محمد حفيظ سب کو آزما ليا مگر کوئي فائدہ نہيں ہوا۔ يہاں تک کہ اوپنر فخرزمان اور شرجيل خان کو بھي نمبر تين اور چار پر کھلايا مگر وہ بھي فيل ہوئے۔ سرفراز احمد کو موقع ديا کہ شايد ان کا تجربہ ٹٰيم کے کام آئے مگر وہ بھي مڈل آرڈر کا خلا پُر نہ کرسکے۔ پي ايس ايل ميں عمدہ کارکردگي نے صہيب مقصود پر پانچ سال بعد قومي ٹيم کے دروازے کھولے مگر صہيب کا رنز اگلتا بلا انگلينڈ کے سامنے خاموش رہا۔ اعظم خان کو بھي چانس دے ديا مگر نتيجہ وہي صفر، آخر مسلہ کيا ہے؟ کيوں مصباح اور بابر کمبي نيشن بنانے ميں ناکام ہو رہےہيں؟ دورہ جنوبي افريقہ ميں پاکستان کو جنوبي افريقہ کي ”بي” ٹيم نے ايک ميچ ہرايا وہ ٹيم جو اپنے دس اہم کھلاڑيوں سے محروم تھي۔ فاف ڈوپلسي، ڈي کوک، ڈيوڈ ملر، وين ڈر ڈسن، کاگيسو رباڈا، اينرچ نورکيا، لونگي نگيدي، ٹمبا باووما، ريزا ہينڈرکس اور ڈيوئن پريٹوريس يہ سب پاکستان کے خلاف ٹي ٹوئنٹي سيريز کا حصہ نہيں تھے۔ مگر پھر بھي پاکستان حريف ٹيم کو وائٹ واش نہ کرسکا اور گرتے پڑتے سيريز اپنے نام کي۔ زمبابوے ميں بھي ايسا ہي ہوا پاکستان ٹيم معمولي 119 رنز کا تعاقب نہ کرپائي اور يوں تاريخ ميں پہلي بار زمبابوے نے پاکستان کو ٹي ٹوئنٹي ميچ ميں شکست دي۔ پاکستان ٹيم انگلينڈ گئي تو راتوں رات انگلينڈ کي پوري ٹيم بدل گئي پھر بھي پاکستان نہيں جيت سکا اور انگلينڈ کي ”بي” نے پاکستان کو ون ڈے سيريز ميں وائٹ واش کيا۔ پے در پے شکستوں نے پاکستان ٹيم پر سواليہ نشان لگاديا ہے۔ يواے اي ميں ہونے والے ميگا ايونٹ کيلئے مصباح اينڈ کمپني کي کوئي تياري نہيں، کيا بڑے ٹورنامنٹ ايسے جيتے جاتے ہيں ؟ کيا تيارياں ايسے ہوتي ہيں؟ جہاں انگلينڈ اور بھارت اپني دو دو ٹيموں کے ساتھ انٹرنيشنل ميچز کھيل رہا ہے وہاں پاکستان کے پاس ايک ٹيم نہيں جو انگلينڈ کي ”بي” کا مقابلہ کرتي۔ انگلينڈ سے خالي ہاتھ ويسٹ انڈيز جانے والي بابراليون کيا ورلڈ چيمپين کو شکست دے پائے گي؟ وہ ويسٹ انڈيز جس نے آسٹريليا کو ٹي ٹوئنٹي سيريز ميں چار ايک سے ہرايا، جس ميں کرس گيل، کيرن پولارڈ، نکولس پورن، شمرون ہٹ مائر، آندرے رسل سميت دنيا کے بڑے بڑے ہٹرز موجود ہيں۔ ايسے ميں پاکستان کا کيا ہوگا؟ شائقين کرکٹ کے ذہنوں ميں ايک ہي سوال ہے جو ٹيم جنوبي افريقہ اور انگلينڈ کي ”بي” ٹيموں سے ہار گئي کيا وہ ويسٹ انڈيز کي اس ٹيم کو ہرانے کي صلاحيت رکھتي ہے؟ کپتان بابراعظم نے ايک بار اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کا اعلان کيا ہے مگر کيا پاکستان جديد دور کي اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کي صلاحيت رکھتا ہے؟ يا ہم اب بھي نوے کي دہائي ميں پھنسے ہوئے ہيں؟ کيا بابراعظم اور محمد رضوان بطور اوپنر اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کي اہليت رکھتے ہيں؟ کيا شرجيل خان اور فخر زمان کو مڈل آرڈر ميں کھلانا ٹھيک ہے؟ کيا چار اوپنرز کو ايک ساتھ کھلانا ٹھيک ہے؟ کيا شاداب خان کو ہر ميچ کھلانا لازمي ہے؟ يہ وہ سوالات ہے جو مجھ سميت تمام شائقين کرکٹ اور تجزيہ کاروں کے ذہينوں ميں ہيں مگر ان کا جواب شايد ٹيم منجمنٹ کے پاس بھي نہيں، ليکن اگر پاکستان ٹيم ويسٹ انڈيز ميں بھي ناکام ہوئي تو کيا ہوگا؟ بابراعظم اور رضوان کے علاوہ کسي نے رنز نہ کيے تو کيا ہوگا؟ مڈل آرڈر پھر فيل ہوا تو کيا ہوگا؟ کيا شعيب ملک کو واپس لايا جائے گا؟ کيا مصباح الحق کو عہدے سے ہٹايا جائے گا؟ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ سر پر ہے مگر ٹيم منجمنٹ کے پاس کسي سوال کا جواب نہيں، اميد کرتے ہيں کہ ورلڈ کپ سے قبل مصباح اور بابر کو تمام سوالوں کے جوابات مل جائيں ورنہ ناکامي ايک بار پھر شاہينوں کا مقدر بنے گي

  • غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    غیر ملکی کرکٹ ٹیم 18 سال بعد پاکستان میں سیریز کھیلنے کے پُرامید

    نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین بھیجنے کا فیصلہ کر لیاہے جوکہ آئندہ ماہ پہنچیں گے اگر نیوزی لینڈ دورے کا حتمی فیصلہ کرتی ہے تو یہ 18 سال بعد پاکستان آ ئے گی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ستمبر ، اکتوبر میں وائٹ بال سیریز شیڈول ہیں ، نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان سے قبل سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے گا اس سلسلے میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے نیوزی لینڈ نے سیکیورٹی ماہرین کی خدمات لی ہیں –

    سیکیورٹی ماہر رگ ڈیکا سن آئند ہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے اور انتظامات کا جائزہ لیں گے رگ ڈیکاسن لاہور ، کراچی اور روالپنڈی میں میچز کے حوالے سے انتظامات دیکھیں گے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ شائقین سیکیورٹی ماہر کی رپورٹ کے بعد دورہ پاکستان کی تصدیق کرے گا –

    اس حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل دورے کے لیے پر امید ہیں ہمارا ارادہ ہے کہ پاکستان کا دورہ کریں ، پی سی بی کے ساتھ مل کر دورے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

    ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ گورنمنٹ کی ایجنسیز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اب تک سب اچھا ہے ہمیں سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے یقین دہانی کرائی جا رہی ہے ، ہم پر اعتماد ہیں ہم پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں ۔

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹی 20 اور تین ون ڈے میچز کی سیریز شیڈول ہیں لیکن پی سی بی نے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے پیش نظر دو اضافی ٹی 20 میچز کھیلنے کی پیشکش کررکھی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم 2003 میں آخر مرتبہ پاکستان آئی تھی –