Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس  کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟  پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟ پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ پیگاسس کے ذریعے دنیا بھر میں جاسوسی کی گئی ، مگر پاک فوج بروقت اقدامات کے ذریعے اس سے محفوظ رہی ۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق قائمہ کمیٹی دفاع کے اجلاس میں پی ٹی اے حکام کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فوج نے پہلے ہی بروقت ایکشن لیا اور سمارٹ فون پر پابندی عائد کی ، پیگاسس آپ کا مائیک ہیک کر لیتا ہے ، انکرپشن توڑی نہیں جا سکتی ، ہمارا اندازہ ہے کہ واٹس ایپ نے ان کی مدد کی ہے ۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے موبائل فون کو ہیک کرنے کی کوشش کا انکشاف کیا تھا ۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    واشنگٹن پوسٹ اور دس ممالک کے 16میڈیا شراکت داروں کی ایک ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے مطابق بھارت میں کم از کم سات افراد پر مشتمل گروہ کا انکشاف ہوا ہے جوصحافیوں اور دیگر افراد کے ٹیلی فونز کو ہیک کر رہا ہے جبکہ یہ سہولت یا آلات صرف اور صرف حکومتوں کے پاس دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے موجود ہوتے ہیں-

    پیگاسس سے جاسوسی پاکستان سالمیت پرحملہ ہے، قانونی چارہ جوئی کرینگے، مشیر داخلہ کا اعلان

    اس گروپ کی فہرست میں ایک ہزار سے زیادہ فون نمبرز موجود تھے جن کی نگرانی کرنا مقصود تھا ، یہ نمبرز صحافیوں ، سیاستدانوں ، بڑے تاجروں سمیت دیگر افراد کے تھے ، اس میں ایک نمبر ماضی میں پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نے بھی ایک بار استعمال کیا تھا مگر اس وقت عمران خان وزیر اعظم نہیں تھے ۔

    چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    معاملہ سامنے آنے پر پاکستان نے بھارت کی جانب اسرائیلی سافٹ ویئر کے استعمال سے وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات کے فون ہیک کرنے کا معاملے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے معاملے کی تحقیقات کریں،اقوام متحدہ اصل حقائق منظر عام پر لائے اور اس میں ملوث بھارتی عناصرکا محاسبہ کیا جائے۔

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

  • انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے
    محمد نعیم شہزاد

    اسلام ایک الہامی مذہب ہے جس کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت پر ہے۔ روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور اپنا اکثر وقت غار حرا میں گزارتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ جو نیند میں بصورت خواب دیکھتے دن کی روشنی میں بعینہ واقع ہو جاتا۔ پھر ایک دن غار حرا میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور وحی الٰہی کا آغاز ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو مشرکین مکہ آپ کے خلاف ہو گئے۔ سمجھنے کے لحاظ سے یہ ایک مرکزی نکتہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت اپنی زبان سے کیا جسے عرف کے مطابق حدیث کہا جائے گا۔ پیغمبر علیہ السلام نے ہی بتلایا کہ یوں مجھ پر وحی کا نزول ہوا اور مجھے نبوت سے سرفراز کیا گیا ہے اور یہ بات پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں براہ راست نہیں بتلائی اور نہ ہمیں ایسا کوئی الہام ہوا اور نہ خواب آیا بلکہ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ بات بیان کی اور محدثین نے اس بات کو نقل کیا ہے۔ اسی بیان روایت اور اسناد حدیث پر دین کی بنیاد ہے۔ تو جو شخص بظاہر احادیث نبوی پر بے اعتباری اور شک کا اظہار کرتا ہے درحقیقت وہ دین کا انکار کرنے کی راہ تلاش کرتا ہے۔

    بالفرض ایسے معترضین کی بات کو مان بھی لیا جائے تو قرآن مجید کے کون سے معنی معتبر ہوں گے۔ زبان و ادب کا ہر طالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بہت سے الفاظ کثیر المعنی ہوتے ہیں جن کے کئی مطالب و مفاہیم نکلتے ہیں۔ کس عبارت میں کسی لفظ سے کیا مراد لی جائے گی اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر ہر شخص کو اپنا اپنا معنی و مطلب اخذ کرنے کی آزادی دے دی جائے تو دین ایک کھیل بن کر رہ جائے جو ان معترضین کا اصل ہدف ہے۔

    ایسے بے علم فقیہان سے چند بنیادی سوال کیے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ہی بات کچھ آگے بڑھ سکے گی۔

    حدیث کو چھوڑ قرآن کو کافی سمجھنے والوں سے چند بنیادی سوالات

    1. قرآن مجید الہامی کتاب ہے، کلام اللہ ہے اس کی کیا دلیل ہے؟
    2. قرآن مجید میں نازل کردہ احکام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں، اس کا کیا ثبوت ہے؟
    3. قرآن مجید میں ہے کہ کفار و مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا کہ یہ کلام آپ نے خود بنایا ہے اس کا رد؟
    4. قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ وہ کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب و حکمت سے کیا مراد ہے؟
    5. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے تو قرآن مجید اور وحی الٰہی کو ماننے کی دلیل کیا ہو گی۔

    موسیٰ علیہ کی قوم بنی اسرائیل کا احوال اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ وہ عجیب و غریب مطالبات کرتے تھے ۔ انھوں نے مطالبہ کر دیا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ کسی نے یہ مطالبہ کیا کہ آسمان پر ایک سیڑھی لگا دیجیے جس پر ہم چڑھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے اس کے احکام کی تعمیل کے لیے من پسند سوالات اور فرمائشیں کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔ اور دین میں بے اصل اور بے عقل سوال کرنے والے دین نہیں سیکھتے بلکہ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دین اسلام کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کر لے۔

  • ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    جب نوازشریف کو باہر بھیجا گیا تو قریب سب انصافینز نے اچھا خاصا شور مچایا۔ مجھے کئی دوستوں نے طعنے بھی دیے لیکن میں نے خاموشی اختیار کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پالیسی کے نتائج چند سال بعد سامنے آئیں گے۔
    پہلے تین صوبے، پھر گلگت بلتستان اور اب کشمیر میں نتائج دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر نوازشریف کو نااہلی کے بعد واقعتاً جیل کے اندر ہی رکھا جاتا تو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد اس بندے نے ایک ایسی بلا بن کر باہر نکلنا تھی جسے اگلے چالیس سال تک اقتدار سے الگ کرنا نا صرف مشکل ہوجاتا بلکہ ناممکنات میں تصور کیا جاتا۔ سات سال کی سزا کا مطلب ہے ساڑھے تین سال۔ ساڑھے تین سال کا مطلب ہے کہ الیکشن 2023 سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے باہر آجانا۔۔۔یعنی شیر کو بھوکا رکھ کر چھوڑنے والی بات تھی۔
    اپنے مفادات کیلئے بھارت، یورپ اور امریکہ کیلئے نوازشریف سے بہتر اب تک بھی کوئی کھلاڑی نہیں رہا۔ کشمیر کے الیکشنز تک نوازشریف کشمیریوں کا بھی کسی حد تک ہیرو رہا ہے لیکن عمران خان نے مسٔلہ کشمیر کو جس طرح عالمی منظر نامے پر زندہ کیا ہے یہ دنیا کیلئے حیران کن تھا کیونکہ دنیا یہ فرض کرکے بیٹھی ہوئی تھی کہ پاکستان کشمیر کے حق سے دستبردار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کیلئے واشگاف الفاظ میں بولنا، اس کی آزادی اور استصواب رائے پر بابنگِ دہل بیانات دینا ایک اس کمزور ترین خارجہ پالیسی والے حکمران کے منہ سے حیران کن تھا جو پالیسی اسے اسی کے سابق حکمران ورثے میں دے گئے تھے۔
    18 جولائی 2017 میں سہہ پہر کے وقت جب سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اقامہ کیس پر نوازشریف کو نااہل کیا تو موجودہ وزیراعظم عمران خان ‘ڈرٹی گیمز’ کی بُو اسی وقت سونگھ گئے تھے لیکن انہوں نے پوری قوم کے ساتھ مل کر اس نااہلی کا جشن منایا اور انہیں افسوس اس بات کا تھا کہ پاناما کیس ابھی بھی حل طلب تھا۔ جے آئی ٹی کے والیم 10 کو بھی نا کھولنا کسی ایسی گیم کا حصہ تھا یا شاید ابھی بھی ہے، جس کے نتائج کا علم صرف انہیں کو ہی پتا ہے جو قوم کو اس دلاسے پر خوش فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے اندر شریف فیملی کے متعلق ایسے ایسے انکشافات ہیں کہ اگر اسے ایک بار کھول دیا گیا تو یہ خاندان کبھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔
    ڈرٹی گیمز کھیلنے والے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور عمران خان اس سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنی چالیں چال رہے ہیں جن میں سب سے بڑی چال 50 روپے کے اشٹام پر نوازشریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دینا ہے اور یہ اجازت ریاست کی سب سے بڑی عدلیہ نے دی تھی۔ عوام آج بھی اسی غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سب انہوں نے کیا جو اس کھیل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اب عمران خان بن چکا ہے اور اس نے مریم نواز کو ضمانت دلوا کر جہاں ایک طرف اسے عورت ہونے کا فائدہ دیا اور عوام کی ہمدردی حاصل کی وہیں دوسری طرف نوازشریف کو لندن بھجوا کر اسے پاکستانی سیاست سے دور کرنے کیلئے اس سے چند ایسے لوگوں کے ذریعے نوازشریف کے منہ سے ایسی تقریریں کروا دیں جن کی سمجھ شاید نوازشریف کو آج بھی نا آرہی ہو۔ سپریم کورٹ نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف کی قومی میڈیا پر تقریر کو بین کردیا گیا۔ آہستہ آہستہ اس قوم کی یاداشت سے نوازشریف کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا تو دوسری طرف مریم نواز کو ایسے ایجنڈے پر کام کیلئے چنا گیا جس سے صرف اور صرف (ن) لیگ کو ہی نقصان ہوا اور آج (ن) لیگ پورے پاکستان میں اپنی موت نہیں مری بلکہ مریم نواز کے ہاتھوں مروائی گئی ہے۔
    مجھے سلیم صافی کی ایک ٹی وی پروگرام میں کہی گئی بات اکثر ذہن میں آجاتی ہے کہ عمران خان دنیا کا اس وقت ذہین ترین سیاستدان ہے۔ نوازشریف اور زرداری اس کے سامنے معمولی سی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔
    الیکشن 2023 میں پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن 1997 والا جھرلو پھیرے گی اور اس بار یہ جھرلو شفاف ترین الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے پھرے گا۔ یہ عوامی جھرلو ہوگا جو انشاءاللّٰہ نئے نظام کیلئے ایسا رستہ ہموار کردے گا جو پچھلے تمام راستوں کو بند کرکے اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازیوں کو بھی بیرکوں تک لے جائے گا۔
    ابھی بھی اگر کوئی یہ کہے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی تو اسے باؤلے کتے کے کاٹے کا ٹیکہ لگوانا بنتا ہے۔

  • امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ   تحریر : محمد بلال

    امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تحریر : محمد بلال

    شرم و حیا کے پیکر ذُوالنُّورین خلیفہ ثالث( تیسرے خلیفہ)امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ

    آپ عامُ الفِیل(اَبْرَہَہ بادشاہ کے مکّۂ مکرّمہ پر ہاتھیوں کے ساتھ حملے) کےچھ سال بعدمکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے۔

    آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں (پیارے آقا ﷺ کے وه صحابہ جنہیں زندگی میں ہی جنت  کی بشارت دے دی گئی تھی)

    آپ کا شمار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب شوریٰ میں ہوتا ہے
    آپ کو کاتب وحی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے
    آپ رضی اللّه تعالی عنہ کو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے

    آپ رضی اللّه تعالی عنہ نے خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبر رضی اللّه تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’نورِایمان‘‘ سے منور کیا، آپ  ’’السابقون الاوّلون‘‘ کی فہرست میں بھی شامل ہیں

    پیکر حیا:

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بڑے باحیا تھے حتی کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ہی کے متعلق ارشاد فرمایا تھا:
    أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

    اے عائشہ رضی اللّه تعالی عنہ کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

    (صحیح مسلم 6209)

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أرحَمُ أمَّتي بأمَّتي أبو بَكْرٍ ، وأشدُّهم في دينِ اللَّهِ عُمرُ وأصدقُهُم حياءً عُثمانُ”

    میری امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دلی کرنے والے امتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں سب سے سچے حیادار عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں

    ( الترمذی3790)

    ذُوالنُّورین:

    خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی دو بیٹیوں حضرت سیدہ رقیہ رضی اللّه تعالی عنہ اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللّه تعالی عنہ کے ساتھ یکے بعد دیگرے نکاح کی وجہ سے حضرت عثمان عنی رضی اللّه تعالی عنہ کو ’’ذوالنورین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    حضرسیدہ رقیہ رضی اللّه تعالی عنہ کی وفات کے بعد پیارے آقا محمد مصطفی ﷺ
    نے اپنی دوسری بیٹی حضرت سیدہ امّ کلثوم رضی اللّه تعالی عنہ کا نکاح بھی سیدنا عثمان غنی
    رضی اللّه تعالی عنہ سے کر دیا
    دوسری بیٹی سیدہ حضرت ام کلثوم
    رضی اللّه تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں اور ایک روایت کے مطابق حضور اقدس ﷺ
    نے فرمایا کہ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ایک کے بعد دوسری سے تمہارا نکاح کردیتا کیونکہ میں تم سے راضی ہوں
    (معجم اوسط،ج4،ص322،حدیث:6116

    عشرہ مبشرہ:
    حضرت ابوموسی’
    اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللّه کے پیارے نبی
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے اس کے دروازے پر رہنے کا حکم دیا،چنانچہ ایک شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت بھی سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
    پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔
    پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” ائذَنْ له و بشِّرْه بالجنةِ معها بلاءٌ يٌصيبُه

    اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری بھی سنادو”اور انہیں آگاہ کرو کہ ان پر ایک مصیبت نازل ہوگی،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔

    (صحیح بخاری 7097)

    ہجرتِ مدینہ کے بعدمسلمانوں کومیٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی۔ شہرمدینہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا جس کا مالک ایک یہودی شخص تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے یہودی مالک کو منہ مانگی قیمت دے کر یہ کنواں خریدلیا اور تمام انسانوں کے لئے وقف کردیاجس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوجنت کی بشارت دی۔

    ( الترمذی 3703)

    حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
    (سنن ابن ماجہ 109)

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : "صَعِدَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أُحُدًا ومعهُ أبو بَكْرٍ، وعُمَرُ، وعُثْمانُ، فَرَجَفَ، وقالَ: اسْكُنْ أُحُدُ – أظُنُّهُ ضَرَبَهُ برِجْلِهِ -، فليسَ عَلَيْكَ إلَّا نَبِيٌّ، وصِدِّيقٌ، وشَهِيدانِ.

    ایک روز نبی کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے،آپ کے ساتھ
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے،تو پہاڑ کانپنے لگا،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احد تھم جاؤ تمہارے اوپر نبی،صدیق اور دو شہید ہیں

    (صحیح بخاری 3699)

    دورِ خلافت: 
    آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ یَکُم محرّم الحرام 24 ہجری کو مَسندِ خِلافت پر فائز ہوئے۔آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں اَفریقہ، ملکِ روم کا بڑا عَلاقہ اور کئی بڑے شہر اسلامی سلطنت کا  حصہ بنے۔ 26 ہجری میں مسجدِ حرام کی توسیع جبکہ 29 ہجری میں مسجدِ نَبَوی شریف  کی توسیع  کرتے ہوئے پتھر کے ستون اور ساگوان کی لکڑی کی چھت بنوائی

    جامع القرآن:

    آپ رضی اللّه تعالی عنہ
    کی حیات مبارکہ کا اہم ترین کارنامہ خدمتِ قرآن کے حوالے سے ہے۔ عرب قرآن کو مختلف لہجوں اور قرأتوں سے تلاوت کرتے تھے۔ فتوحات کی وسعت کی وجہ سے یہ سہولت غلط فہمیوں کا باعث ہوسکتی تھی، آپ نے اپنی ’’فراست باطنی‘‘ سے پوری امت کو قرأتِ قریش پر جمع کردیا اور یوں آپ ’’جامع القرآن‘‘کہلائے۔

    وصال مبارک (شہادت): 
    آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نےبارہ سال خلافت پر فائز رہ کر  18 ذُوالحجۃ الحرام سن 35 ہجری میں بروزِ جمعہ روزے کی حالت میں تقریباً 82 سال کی طویل عمر پاکر نہایت مظلومِیَّت کے ساتھ جامِ شہادت نَوش فرمایا۔

    اللّه پاک ہمیں حضرت عثمان غنی
    رضی اللّه تعالی عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
    ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

    وطن عزیر میں قانون سازی کی حد تک حکومتوں نے محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رکھی ہیں تاہم محنت کشوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آج تک ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
    ہمارے ملک میں کارخانوں ، فیکٹریوں اور مختلف اداروں میں یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کش لوگ جن کے خون پسینے سے قومی ادارے اور صنعتیں چل رہی ہیں کے حالات دگر گوں ہیں۔ متعدد محنت کش گھرانوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان جسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ صحت اور تعلیم کی سہولیات تو ان کی پہنچ سے دور ہیں ہی پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔
    دنیا میں کون سا ایسا ذی روح ہوگا جس کو زندگی سے پیار نہیں ہوگا یا اس کے دل میں بہتر انداز میں زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں ہوگی۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہوگا جو اپنے بچوں کو اعلیٰ مقام پر نہ دیکھنا چاہتا ہو۔ ہر انسان کی یہی چاہت ہوتی ہے کہ اللّٰہ کی تمام نعمتیں اور دنیا کی ساری آسائشیں اس کی اولاد کو میسر ہوں اور اس کی اولاد کا مستقبل روشن ہو۔ ایسی ہی خواہشات محنت کش اور مزدور طبقہ کے افراد بھی رکھتے ہیں۔ مزدور و محنت کش کبھی نہیں چاہتے کی جن مسائل و آفات کا سامنا وہ کر رہے ہیں کل کو ان ہی حالات سے ان کی اولاد دوچار ہو۔
    لیکن بد قسمتی میں پاکستان میں طبقاتی نظام اور انصاف و مساوات کی عدم فراہمی کے باعث غریب و متوسط طبقہ دن بدن غربت و مسائل کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور طبقہ اشرافیہ دن بدن پھل پھول رہا ہے۔ یہاں کسی کی محنت کا پھل کوئی غاصب کھا رہا ہے اور محکوموں کے سروں پر حکمرانی بھی کی جارہی ہے۔ معاشی ناہمواریوں کے باعث محنت کش و مزدور آئے روز بیروزگاری کا شکار ہوکر بھوک و افلاس کے ڈر سے اپنے بچوں کو دریائوں میں پھینکنے جیسے غیر انسانی افعال پر مجبور ہیں۔خوراک کی کمی اور علاج سے محرومی کے باعث اپنے پیاروں کو تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی کے باعث کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
    جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے لیکن یہاں غرباء سے غیر انسانی اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ معاشرہ میں غربت اور تنگ دستی کے باعث مزدوروں اور محنت کشوں کی خود کشیاں باعث شرم و حزیمت ہیں۔ غربت ، بیروزگاری اور تنگ دستی دنیا کے تمام ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے لیکن وہاں قوانین پر عملدرآمد اور مخلصانہ حکومتی کوششوں کے باعث ناامیدی اور مایوسی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور طبقاتی نظام کے باعث مایوسی اور ناامیدی جیسے حالات ہیں جو پوری قوم کے لیے باعث تشویش ہیں۔ یہ ناامیدی اور مایوسی ہمارے مستقبل کا گلا دبوچے ہوے ہے۔
    حالیہ بجٹ میں صوبائی و وفاقی حکومتوں نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کا اصولی و قابل تعریف فیصلہ کیا ہے۔ لیکن مختلف اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ طبقاتی نظام کے خاتمے اور نچلے طبقات کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنا ہوگا۔ مافیاز اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔

    اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
    کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
    جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

    @FA_aLLi_

  • آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    ملک بھر میں خصوصا کشمیر میں آزاد و جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہونے کے بعد بالآخر 25 جولائی کو انتخابات ہوئے اور اس انتخابات میں کشمیریوں نے اپنے رائے دہی استعمال کرکے نمائندے چن لئے۔
    25 جولائی 2021 کو کشمیر انتخابات کے پیش نظر بلوچستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔
    الیکشن کمیشن نے کوئٹہ ، مستونگ ، سبی ، نصیر آباد ، بارکھان ، قلعہ سیف اللہ اور کیچ اضلاع میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے ، لیکن کشمیری ووٹرز نے صرف کوئٹہ اور سبی میں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
    متعلقہ عہدیداروں کے مطابق نصیر آباد ، کیچ ، مستونگ ، بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹر نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں انتخابی عملہ رائے دہندگی کے اختتام تک پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہا۔
    کشمیری پناہ گزینوں جن کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں رہتی ہے نے پاک گرلز ہائی اسکول اور گورنمنٹ سینڈیمین ہائی اسکول میں قائم تین پولنگ اسٹیشنوں میں اپنا ووٹ ڈالا۔
    پولنگ کے لئے مقرر سات اضلاع میں سے صرف دو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں
    ایل اے 34 جموں کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 535 تھی ، لیکن ان میں سے 202 نے اپنے ووٹ ڈالے۔
    ریٹرننگ افسر کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پاک سرزمین پارٹی کے شاہ عبد اللطیف نے 158 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصرحسین ڈار نے 12 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال نے 11 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو گئے۔ ایل اے 40 وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1059 تھی ، لیکن صرف 418 نے اپنا ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ نو ووٹ مسترد کردیئے گئے۔
    غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم بٹ نے 199 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون نے 125 اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر وانی نے 81 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسرے امیدواروں کو گئے۔
    خواتین کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کر سکی کیونکہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
    تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنما کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود رہے۔
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
    سبی میں صرف چار ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے ایک ووٹ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون اور دو زاہد اقبال کو ملے ، جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔ سبی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔
    صوبائی انتظامیہ نے پولنگ اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
    بلوچستان میں کافی عرصے سے کشمیری شہری رہ رہے ہیں، انکے یہاں پہ اپنے کاروبار اور سرکاری نوکریاں ہیں، بلوچستان میں بیکری کے کاروبار میں کشمیری شہری خاصی شہرت رکھتے ہیں، خاص طور پر پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ شہر میں کشمیری بھائیوں کے بیکری کا کاروبار مشہور ہے اور انکی مہارت سے پورے بلوچستان کے عوام کے دل کے خاصے قریب ہیں۔

    ٹویٹر: @iHUSB

  • منظر جو کیمرہ میں قید نہ ہو پایا۔  تحریر: محمد اسعد لعل

    منظر جو کیمرہ میں قید نہ ہو پایا۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    صبح دیر سے اُٹھا تب تک گھر والے ناشتہ کر چکے تھے۔ فریش ہونے کے بعد کچن کی طرف منہ کیا جہاں امی الگ سے میرے لیے ناشتہ بنا رہی تھیں۔ جتنی دیر ناشتہ کیا امی کی باتیں بھی سنی ،،، اگر چائے اور پُراٹھا کھانا ہے تو جلدی اُٹھنے کی عادت بنا لو یا پھراپنے لیے خودناشتہ بنالیا کرو۔۔۔رہی سہی کسر بہن نے یہ کہتے ہوے پوری کر دی کہ کر لو مزے جب تک شادی نہیں ہو جاتی پھر تم جلدی بھی اُٹھ جایا کرو گے اور ناشتہ بھی خود بنا رہے ہو گے۔۔۔یہ روز کا معمول ہے میرے لیے الگ سے ناشتہ بنتا ہے اب جب تک چائے پُراٹھے کے ساتھ امی کی ڈانت نہ سننے کو ملے ناشتہ ادھورا لگتا ہے۔
    ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد لپ ٹاپ اُٹھایا اور ابھی کالم لکھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں بڑے بھائی کی آواز آئی اور اگلے لمحے میں بھائی کا بتایا گیا کام کرنے کے لیے گھر سے بازار جا رہا تھا۔ ٹائم تقریباً پونے بارہ کا ہو چکا تھا اور سر پہ جیسے سورج آگ برسا رہا ہو۔ راستے میں ایک گدھا گاڑی دیکھی جس پر سامان لدا ہوا تھا وہیں بچوں کے ساتھ اُن کے امی اور ابو بھی بیٹھے تھے۔ گدھا گاڑی کے ساتھ ایک کتا بھی تیز تیز قدم اُٹھاتے چل رہا تھا یقیناً یہ اُن کا پالتو کتا تھا ۔یہ لوگ شاید خانہ بدوش تھے۔
    بچوں کے ہاتھ میں ایک ایک قلفی ہے جسے وہ بڑے مزے سے کھا رہے ہیں۔ بچوں کا سارا دھیان قلفی پر ہے اُن کی آنکھوں میں الگ سی چمک دکھائی دی اور جیسے ایک ہی بات اُن کے ذہن میں چل رہی ہو کہ یہ قلفی کیسے دیر سے ختم ہوگی۔گرمی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے لگتا ہے کہ بچے آدھی قلفی ہی کھا سکیں گے اور آدھی قلفی گُھل کر ٹپک جائے گی۔
    یہ منظر میں تصویر کی صورت میں قید کرنا چاہتا تھا لیکن موبائل ریڈی کرنے کا وقت نہ تھا۔یا تو منظر دیکھتا یا پھر ہمیشہ کی طرح ہڑبڑاہٹ میں نہ تو تصویر بنا سکتااور نہ ہی منظر دیکھ پاتا۔ لیکن بازارکےکام سے فارغ ہو کر گھر واپس آنے پر سب سے پہلا کام جو میں نے کیا وہ اس منظر کو قلم بند کرنے کا تھا۔
    اس کے بعد اب میں اپنا اگلا کالم لکھنے بیٹھوں گا جسے مکمل ہونے کے بعد آپ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائیٹ پر پڑھ سکیں گے۔تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • میرا تجربہ (پارٹ ٹو)  تحریر:  ہما عظیم

    میرا تجربہ (پارٹ ٹو) تحریر: ہما عظیم

    زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔۔ ایک دن کولیگ سے اپنی اسکول اور کالج لاٸف کی خوبصورت یادیں تازہ کر رہی تھی۔۔۔اسے بتایا کہ میں کالج لاٸف میں ایک شارٹ اسٹوری راٸٹر ، کالم نگار تھی اور ہلکی پھلکی شاعری بھی کرتی تھی۔۔۔اور اپنے کالج میگزین میں لکھتے ہوۓ بیسٹ اسٹوری راٸٹر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہوں۔۔وہ مجھے بے یقینی سے دیکھنے لگی کامرس کی اسٹوڈنٹ اور ادب سے شغف۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔اسکی شک بھری نظروں کو دیکھتے ہوۓ۔۔ثبوت کے طور پر اگے دن اپنی میگزین میں چھپی ایوارڈ لیتے ہوۓ کی تصویر بھی دیکھا دی۔۔تب اس نے بتایا کہ اس کے کزن ایک میگزین چلاتے ہیں۔۔ان سے بات کرتی ہوں انہیں تم جیسوں لکھاریوں کی ضرورت رہتی ہے۔
    سو اس نے مجھ سے میگزین لے لیا۔۔جلد ہی میٹینگ سیٹ ہوٸی۔۔اور ہم ایک جانے مانے میگزین کا حصہ بن گۓ۔۔ایک اہم پیج کی زمہ داری سونپی گٸی۔۔شوق بہت اچھا پورا ہو رہا تھا ۔۔۔مشہور لوگوں سے انٹرویو لینے ٹیم کے ساتھ جانے کو ملتا ایسے میں اپنے پسندیدہ لوگوں سے ملاقات۔۔لگتا کہ اللہ تعالہ فل مہربان ہیں
    پھر ایک دن میگزین سے جڑے لوگوں کی میٹینگ تھی
    عموماً تمام میٹینگز دن میں رکھی جاتی تھیں۔۔مگر کچھ خاص لوگوں کے ٹف شیڈول کی وجہ سے میٹینگ رات میں رکھی گٸی۔اب چونکہ رات گھر سے باہر کی اجازت نہیں تھی۔۔تو پاپا جی سے درخواست کی اکیلے تو جانے نہیں دیں گے۔خود ہی ساتھ چلیں تا کہ میرا ساتھ بھی ہو جاۓ اور میں میٹینگ میں بھی شریک ہو سکوں۔بس وہ لاسٹ ڈے لاسٹ ناٸٹ ہو گٸی اس میگزین میں۔۔پاپا جی نے شرکا پر نظر ڈالی اور غصے سے میری طرف دیکھا۔۔کٸی ماڈلز اور ایکٹریسز اپنے لباس کی وجہ سے پاپا جی کہ غصے کی وجہ بن گٸی۔۔
    پاپا جی اگلے دن ہی گۓ میرے تمام مسودے تمام میگزین ایڈیٹر سے یہ کہہ کر واپس لے آۓ۔۔یہاں کا ماحول مجھے پسند نہیں۔۔میں نے کہا میں تو حجاب میں رہتی ہوں مجھے کیا فرق پڑتا کوٸی کیا پہنے۔تو پاپا نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ماحول بندہ بدل دیتا ہے۔۔ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گۓ۔بعد میں بس کولیگ اور اس کے کزن سے سوری کہہ دیا۔
    لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔اسکے بعد چند دن بعد ہی ہم ایک انگلش انجینٸرنگ میگزین میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گٸے۔۔۔مگر یہاں سب کچھ مختلف تھا۔باس ایک شفیق انسان تھے۔۔لڑکیوں کا اسٹاف۔۔بہترین ماحول۔ انہونی بات یہ ہوٸی پاپا جی نے باس سے میٹینگ کے بعد جاب اوکے کی۔میرے انٹرویو کےبعد پاپا جی نے بھی باس کا انٹرویو کیا پورا ایک گھنٹہ۔۔مجھے لگا بیٹا یہ جاب بھی گٸی ہاتھ سے۔۔باس کہیں گے جاب میں نےتمہیں دینی ہے یا باس کی جاب تم نے مجھے دینی ہے۔۔مگر یہاں پھر انہونی ہوٸی باس میرے آۓ اور بولو۔ بیٹا آپکے پاپا کے خدشات درست ہیں۔۔ ان شاء اللہ آپ یہاں خود کو محفوظ محسوس کریں گی۔۔اور واقعی باس نے اس بات کو ثابت کیا۔
    بیٹیوں کی طرح حفاظت رکھی۔سات سال میں اس جریدے کے ساتھ منسلک رہی۔جو شروع کی جاب تلاش کرنے کی تکالیف والی باتیں تھیں۔۔سب کا آزالہ ہو گیا
    حقیقت میں ایک اچھی نوکری کی تلاش ایک اچھے رشتے کی تلاش جیسی ہی مشکل ہے۔۔آپ کو نہیں پتہ ہوتا آپ جن لوگوں میں جارہے ہیں وہ کیسے ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ نا پسندیدگی پر آپ باآسانی استعفی دیکر جان چھڑا سکتے ہیں۔۔آج کے دور میں ایک مجبور لڑکی کا نوکری کے لٸیے نکلنا کھلے ہوۓ بھیڑیوں کے بیچ سے گزرنا ہے۔۔ہر طرف بھوکے حوس کے مارے بیٹھے ہوتے ہیں۔ایسے میں کسی ایک نیک انسان کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔اور ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی جو کسی کی مجبوری کا فاٸدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ان کی پریشانی دور کر کے اللہ سے صلے کی امید رکھتے ہیں۔۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے تو دنیا اب تک برقرار ہے۔۔آخر میں پھر سے دعا ہے۔۔اللہ پاک اچھے اور نیک لوگوں سے ملاۓ۔۔بروں سے بچاۓ۔۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • خرگوش  تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    خرگوش تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    میری آج کی اس تحریر کا موضوع نہایت ہی خوبصورت تیز رفتار اور پست قامت جانور کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے متعلق ہے اور آج میں اپنی اس تحریر میں اُس جانور کی بنیادی معلومات جیسے کہ وضع قطع ، رہن سہن ، اسکی نسل اسکی اقسام اسکے خصائل اور اسکی خصوصیات وغیرہ کو بیان کروں گا انشاءاللہ عزوجل

    تو آئیے چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف…

    خرگوش یہ اسم جنس ہے جوکہ نر اور مادہ دونوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے
    خرگوش : بکری کے چھوٹے بچے سے مشابہت رکھنے والا ایک جانور ہے جس کے ہاتھ چھوٹے اور پاؤں لمبے ہوتے ہیں اور یہ پچھلی ٹانگوں کی مدد سے ہی چلتا پھرتا ہے

    اسکی اقسام : خرگوش کی سات مختلف اقسام ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں میں پائی جاتی ہیں اور خرگوش کی ایک قسم اس طرح کی بھی پائی جاتی ہے جس کے بدن کے ایک حصے میں ہڈی اور ایک حصے میں گوشت ہوتا ہے خرگوش رنگت میں سفید کالے اور بھورے پائے جاتے ہیں

    خرگوش کی عمر وزن……

    خرگوش کی عمر تقریباً 9 سے 12 سال ہوتی ہے اور ان کا وزن تقریباً 400 گرام سے 2 کلو تک ہوتا ہے

    خرگوش کے خصائل …….

    خرگوش میں ایک انوکھی بات یہ پائی جاتی ہے کہ یہ جانور ایک سال تک نر ہوتا ہے اور دوسرے سال میں وہ مادہ بن جاتا ہے
    اچھا اسکی دوسری خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ سوتے ہوئے اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے اور جب کوئی اسکا شکار کرنے کو آتا ہے تو اس کی کھلی آنکھیں دیکھ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے اور وہ خرگوش کا شکار نہیں کرتا
    بعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ خرگوش جب دریا کو دیکھتا ہے تو مرجاتا ہے
    جانداروں میں سے جن کو حیض آتا ہے وہ تعداد کے لحاظ سے چار ہیں
    عورت لگڑبگر چمگادڑ اور خرگوش

    خرگوش کا شرعی حکم……….

    حدیث شریف کی مشہور زمانہ کتاب بخاری شریف میں کتاب الھبہ میں ایک روایت بیان کی ہے کہ حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے اس خرگوش کو نہ صرف قبولیت بخشی بلکہ اسے تناول بھی فرمایا ہے
    امام اعظم ابو حنیفہ اور سارے علماء کرام رحمھم اللہ السّلام کے نزدیک اسی روایت کی بدولت خرگوش کا گوشت حلال اور جائز ہے

    خرگوش کی خصوصیات……

    1… جاحظ کا کہنا ہے کہ دور جہالت میں عربی لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر کوئی شخص خرگوش کے ٹخنے پہنے تو اس پر بری نظر اور جادو کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ ( جن ) خرگوش کے حیض کی بناء پر اسکے نزدیک نہیں آتے
    2… اگر کسی آدمی کے صحتیاب ہونے کے بعد اسکے جسم کا کوئی حصہ ارتعاشی حالت میں مبتلا ہو جائے تو اس آدمی کو خشکی کا خرگوش بھون کر اسکا دماغ کھلائیں تو یہ اس کیلئے بہت فائدہ مند ہوگا
    3… اگر کوئی آدمی دو چنوں جتنا خرگوش کا دماغ لے اور آدھے رطل کے چھٹے حصے جتنا گائے کا دودھ لے کر اسے استعمال میں لائے تو وہ کبھی ضعیف نہیں ہوگا
    4… کینسر کی بیماری میں خرگوش کا انفحہ لگانا بہت فائدہ مند ہے
    5… اگر کوئی خاتون خرگوش کا پنیر کا پانی پئے تو اسکو اولادِ نرینہ ہوگی
    6… اگر کوئی خاتون خرگوش کی منگنی یا گوپر باندھے اور لٹکائے تو وہ خاتون حاملہ نہیں ہوگی
    7… خرگوش کا گوشت پیٹ کی صفائی کرتا ہے اور اس سے پیشاب کھل کر آتا ہے
    8… خرگوش کا گوشت استعمال کرنے سے نیند کا خاتمہ ہو جاتا ہے
    9… خرگوش کا گوشت سرد مزاج لوگوں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے
    10… اگر کسی خاتون نے خرگوش کا خون پی لیا تو وہ پھر کبھی بھی اُمید سے نہیں ہوگی
    11… خرگوش کا خون سفید داغ دھبوں اور چھائیوں پر لگائیں تو ان شاء اللہ عزوجل داغ دھبے اور چھائیاں ختم ہو جائیں گی
    12…خرگوش کا مغز اگر بچوں کے مسوڑوں پر لگائیں تو بہت جلد اُن کے دانت نکل آئیں گے
    13… خرگوش کے لہو کا سُرمہ آنکھوں میں لگائیں تو آنکھوں بال نہیں آئیں گے
    14… خرگوش کا گوشت بلا ناغہ کھانے سے بستر پیشاب کرنے والوں کو افاقہ ہوگا
    15… ارسطو کا کہنا ہے کہ خرگوش کا پنیر مایہ سرکہ میں مکس کر کے پی لیا جائے تو اسکا پینا سانپ کے زہر کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا
    16… خرگوش کے گوشت میں دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پروٹین کیلشیم اور وٹامن زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ چکنائی اور سوڈیم کم پائی جاتی ہے

    خرگوش کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر….

    1… خرگوش کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ ایک حسین خاتون ملے گی جس میں محبت پیار نام کی کوئی شے نہیں ہوگی
    2… اگر خواب میں یہ دیکھا کہ خرگوش کو ذبح کیا ہے تو اسکی تعبیر یہ ہے کہ اسکی بیوی فوت ہو جائے گی یا اسکی الگ ہوگی
    3… اگر خواب میں خرگوش کا پکا ہوا گوشت کھایا تو اسکی تعبیر یہ ہے کہ اسے ایسی جگہ سے رزق ملے گا جس جگہ سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا
    4… اگر کسی نے خواب میں یہ دیکھا کہ اس نے خرگوش کا شکار کیا یا کسی نے اس کو خرگوش تحفے میں دیا یا اس نے خرگوش خریدا اور وہ خواب دیکھنے والا شخص کنوارا ہے تو اسے رزق کی نعمت عطا ہوگی اور اگر خواب دیکھنے والا شادی شدہ ہے تو اس کو اولاد کی نعمت عطا ہوگی
    Twitter id
    Waqaskh00123456

  • ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے اگر میں کہوں کے ہر کوئی اس بات پر متفق ہے تو یقیناً یہ غلط نہ ہوگا۔ کامیابی حاصل کرنا اگر آسان ہوتا تو آج دُنیا میں ہر شخص ہی ہمیں کامیاب ملتا نہ کوئی مایوس ہوتا اور نہ ہی کوئی پریشان نظر آتا شاید کہ۔ اچھا تو بات کچھ یوں ہے ہر چیز کے دو رخ ہوا کرتے ہیں اب کامیابی کے متعلق بھی یہی چیز ہے کہ یا تو کوئی کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہو پاتا۔ اب اہم چیز یہ کہ وہ کیا ایسی چیز ہے جو کامیابی اور ناکامی میں فرق ڈالتی ہے ذرا آپ بھی سوچیں شاید کے آپکے پاس اسکا بہتر جواب ہو مگر میرے پاس تو اسکا جواب ہے ” رویہ” یہی وہ عنصر ہے جو فرق ڈالتا ہے اب میں آپکو ایک مثال دیتا ہے ہوں کہ میں اور میرا دوست ہم دونوں کی منزل ایک ہی ہے ہم نے اُس منزل کی جانب رواں ہونا ہے ہماری بہت سے چیزیں ایک جیسی ہو سکتی ہے اُن میں ہمارا رویہ بھی آتا ہے اب رویہ اگر ہمارا ایک جیسا ہے تو ہم کامیاب بھی ایک ساتھ ہونگے یا ناکام بھی ایک ساتھ ہی لیکن پھر ایک چیز اگر رویہ اس میں فرق آتا مثلاً کہ کل ہمارا بائیولوجی کا پیپر ہے میرا دوست توجہ سے پیپر کی تیاری کر رہا وہ اس میں سنجیدہ ہے اور اسکا ہدف ہے کہ 95 فیصد نمبر لینے ہیں مگر میں ہوں جو موبائل فون کا استعمال کر رہا سونے میں وقت گزار رہا اب ہمارے درمیان کس چیز کا فرق آیا رویے کا اب ہدف میرا بھی وہی ہے 95 فیصد نمبر کا مگر کیا میں اس صورت حال میں وہ ہدف پورا کر سکوں گا کبھی نہیں جب نتیجہ آئے گا تو میرے اور دوست کے نتیجے میں زمین آسمان کا فرق ہوگا شاید کہ میں پاس بھی نہ ہو سکوں۔ اب اسّی چیز کو اپنی روز مرہ زندگی میں لا کر دیکھیں ہم سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں ہمارے اہداف بھی مشترکہ ہوتے ہیں مگر جو چیز فرق ڈالنے والی ہے وہ رویہ ہی ہے لہٰذا اس پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ہم کوئی بھی کام کر رہے ہوں تو ہمیں اپنے رویہ کو دیکھنا ہوگا سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ہر روز کہی لوگ ملتے ہیں جو اس چیز کی شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا ہم کیوں نہیں ہوتے اس کے لیے آپکو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی آپکو سنجیدہ ہونا ہوگا آپکو اپنے کام سے عہد کرنا ہونا ہوگا۔ اپنا احتساب کرنا ہوگا یاد رکھیں اپنے آپ کو آئینے کے روبرو کرنے والے ہی کامیابی کا مزہ چکھ سکتے ہیں، خود میں بہتری لا سکتی ہیں۔ یہ لمبی کہانی ہو گئی ہے یہ میں نے خود کو سامنے رکھ کر لکھی ہے میں بھی اسّی فیز سے گزر رہا ہوں کامیابی کی تلاش میں لہذا خود کو جانے گے تو کچھ کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے علم میں عمل میں قلم میں برکت عطا فرمائیں۔ شکریہ

    TA : @AhtzazGillani