Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوشل میڈیا اور تباہی  تحریر: رانا عزیر

    سوشل میڈیا اور تباہی تحریر: رانا عزیر

    اگر آج کے حالات و واقعات پر ہم لوگ نظر دوڑائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اس معاشرے کو تہذیب یافتہ کا نام دے رہے ہیں۔
    قصہ کرنل کی بیوی ہو یا ٹی وی پر بیٹھے سیاستدان ایک دوسرے کی عزت چوکوں پر لٹکا رہے ہوں یا کوئی بھی صحافی، ان حالات میں سوشل میڈیا نے ہمیشہ آگ بھڑکائی اور ایندھن کا کردار ادا کیا

    ہم کسی کی بھی نجی وڈیو اور بلیک میل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں چاہے وہ عثمان مرزا واقعہ ہو جس میں سوشل میڈیا پر لڑکی کی تصویر کو سنسر کیے بغیر چلایا گیا اور لڑکی کی عزت کو پامال کیا گیا اس تمام صورتحال کو عکس بند بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا صارفین انجوائے بھی کرتے رہے۔
    سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی حرکات و سکنات ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پرتلے ہوئے ہیں
    جب معاشرے میں بڑے, پڑھے لکھے سکالر اور ایلیٹ لوگ اس طرح کے حوصلہ شکن واقعات میں ملوث ہون گے تو نئ نسل کیا سیکھے گی، رہی سہی کسر آج کے ٹک ٹاکرز نے نکال دی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے اور لبرل ازم کے نام پر بے حیائ پھیلائی جارہی ہے اور ہر طبقہ اب انکی تقلید کرنا شروع ہوگیا ہے لیکن نفس پر کنٹرول بھی انسانی صفت ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس سوشل میڈیا کی جنگ کو کسیے لڑتے ہیں یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہے

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • فتنوں کا دور    تحریر : رمیصہ عروج

    فتنوں کا دور تحریر : رمیصہ عروج

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”نیک اعمال کر لو اس سے پہلے کہ فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے. اس دور میں انسان صبح کافر اور شام کو مومن ہوگا یا صبح مومن اور شام کو کافر ہوگا .وہ شخص تھوڑے سے فائدے کے لئے اپنے دین کو بیچ دے گا۔”(صحیح مسلم) اللہ کے نبی نے فرمایا کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں فتنہ رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جائے گا۔رات کے اندھیرے کی طرح پھیل جانے سے مراد ہے کہ حق واضح نہ ہو گا۔رات کے آندھیرے میں راستے گم ہو جاتے ہیں،دکھتے نہیں۔سا
    منے آنا والا راہ گزر بھی نہیں دکھتا،صحیح اور غلط کی پہچان نہیں ہوتی۔رات کی تاریکی میں چھپ کر گناہ کیے جاتے ہیں کیونکہ انسان کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ لوگوں میں سے کوئ مجھے دیکھ رہا ہے۔وہ یہ بھول جاتا ہے کہ عرش عظیم کا رب اسے دیکھ رہا ہے،فرشتے اس کا عمل تو کیا ہر لمحہ قلم بند کر رہے ہیں۔رات کے اندھیرے سے مراد ہے کہ حق کو پہچاننا مشکل ہو جاۓگا،حق پر ثابت قدم رہنا مشکل ہو جاۓ گا ۔انسان کا ایمان اور خیالات بہت ڈگمگائیں گے۔انسان کی شہوات اور خواہشات تو روزازل سے ہیں ہی،شبہات میں اضافہ ہو جاۓگا۔اگر غور کیا جاۓ تو آج فتنہ ہمارے ہاتھ میں ہے،فون کی ایک کلک پر یو ٹیوب پہ سب کھل کر انسان کے سامنے آجاتا ہے،انسان نہیں جانتا کہ اب نظروں کے سامنے سچ ہے یا جھوٹ۔فیس بک پر اسلام یا مسلمانوں کے خلاف مواد مل سکتا ہے۔عیسائیوں نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے بہت سی ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ تبلیغ مذہب عیسائیت کی ہورہی ہے۔چشم زدن میں بہت سا ایسا مواد انسان کی نظر سے وقتاً فوقتاً گزر جاتا ہے جو اسے حق کی پہچان میں شبہات کا شکار کر جاتا ہے۔اسی طرح ا نسان اگر صبح کو مومن ہے تو رات تک اس کی نظروں سے ایسا مواد گزرگیا جس نے نور ایمان کم کر دیا اور شبہات اس حد تک بڑھا دیے کہ انسان شام تک کافر ہو گیا۔اعاذن اللہ منھم۔اب سوال یہ کے کہ حق کی پہچان کیسے کی جاۓ؟یا صحیح علم کیسے حاصل کیا جاۓ؟ سب سے پہلے تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ "اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرمائیے۔”اور پھر ایسے ہی صحیح علم کی پہچان کریں گے جیسے ہم بہت سے ڈاکٹرز میں سے صحیح ڈاکٹر کا انتخاب کرتے ہیں۔ہم خود تو ڈاکٹر نہیں ہیں مگر صحیح ڈاکٹر کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔اسی طرح ہم خود تو عالم نہیں مگر ہم تحقیق سے صحیح علم کی تفتیش کر سکتے ہیں۔اللہ نے ہمیں اتنا شعور دیا ہے کہ ہم جدوجہد کر کے صحیح اور غلط کی شناخت کر سکیں۔ہمیں بس کوشش کر کے تحقیق کرنی ہے اور جب ہم کوشش کریں گے تو اللہ ضرور ہمیں سیدھے راستے کی ھدایت فرما دیں گے۔اللہ نے فرمایا تم میری طرف ایک قدم آؤ ،میں تمہاری طرف دس قدم آؤں گا۔اللہ نے پہلا قدم انسان کو دے کر اسے اختیار دے دیا کیونکہ ہر انسان اللہ کی طرف قدم بڑھانے کے قابل نہیں ہوتا ،وہ کو ئ کوئ ہی ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں قدم بڑھائے اور پھر ثابت قدم رہے۔اللہ کا راستہ ایسا ہے جیسے ڈھلوان ہو اور انسان اونچائی کی طرف چڑھ رہا ہو،ہر قدم سوچ سمجھ کر ،جما کر رکھنا ہے۔ایک کمزور قدم انسان کو تین چار قدم پیچھے دھکیل دیتا ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں انسان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے۔
    حدیث کا اگلا حصہ ہے کہ انسان تھوڑے سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دے گا۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کی بھاگ دوڑ میں،اچھے نمبروں کے پیچھے ،اچھے عہدوں کے پیچھے ہماری نمازیں رہ جاتی ہیں۔جب انسان کی نماز ہی رہ گئ تو کیا فائدہ کہ اس نے جتنی بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔یہ ہے دنیا کے حقیر سے فائدے کے لیے اپنے دین کو بیچ دینا،گھاٹے کا سودا کرنا۔دنیا کی زندگی تو انسان کے تصور سے بھی زیادہ چھوٹی ہے۔اگر ہم تھوڑے سے فائدے کے لیے دین کو بیچ رہے ہیں تو پھر شکایتیں کیسی کہ ہم مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔بہت سی مشکلات انسان پر صرف اور صرف مکافات عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ہمیں خود کا جائزہ لینا ہے کہ کہیں ہم ایسے نہ ہو جائیں کہ دنیا کے حقیر اور معمولی سے فائدے کے لیے آخرت کو پس پشت ڈال دیں۔اس لیے حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں۔بے مقصد چیزوں میں وقت ضائع نہ کریں ،انھیں اپنی زندگی سے نکال دیں۔ان چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیں جو آپ میں دنیا کا حرص و لالچ پیدا کر رہی ہیں۔دنیا کی حرص تو وہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہونے والی،اس لیے اپنی زندگی سے اس کو نکال دیں۔ اس دور میں ہر قدم ہمیں پھونک پھونک کر رکھنا ہے اگر ہم اللہ کے بننا چاہتے ہیں تو،اگر ہم جنت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو۔جنت اتنی ارزاں نہیں ہے ،بہت قیمتی ہے اور قیمتی چیزیں آسانی سے نہیں ملا کرتیں،ان کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

  • عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    وہ اپنی ہر تقریر سے پہلے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورہ،
    سوره فاتحہ کی اس آیات کی تلاوت کرتا ہے،
    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5)
    جس کا ترجمہ ہے,!
    ” تیری (اللّٰہ)عبادت کرتے ہیں اور تم سے ہی مدد مانگتے ”

    عمران خان نے لگ بھگ کوئی 1966ء میں اپنی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور اس جماعت کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا اور وہ اس کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے آج بھی وہ اس کے چیئرمین ہیں،
    انسانیت خودداری اور انصاف اس جماعت کا نعرہ ہے، 1996 سے 2018 تک یعنی 22 سالہ طویل جدوجہد کے بعد اس جماعت کو عوام نے منتخب کیا اور یہ جماعت آج پاکستان کی حکمران جماعت ہے،
    2021 چل رہا ہے اور اس 25 جولائی کو اس جماعت نے اپنی حکومت کے تین سال پورے کر لیے،
    عمران خان اپنی قوم اپنے ملک کے وقار کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے عمران خان بلا شبہ ایک عظیم رہنما ہے لیکن سیاست تو پھر سیاست ہے بہت سے سیاسی حریف بھی ہیں جو ہر وقت اس کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں،
    لیکن عمران خان بھی ان پر تنقید کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے عمران خان ایک پڑھا لکھا اور باشعور اور منصوبہ ساز ہے،
    پاکستان اور اپنی قوم کو اوپر اٹھانے کے لئے اس کے کئی منصوبے ہیں،
    عمران خان اپنے تمام منصوبوں پر کام کر رہا ہے اس کی سیاست پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اور اپنی قوم کا وقار ہے،
    اس کی خاص توجہ پاکستان کے نوجوان طبقے پر ہے وہ انہیں ہنر مند دیکھنا چاہتا ہے وہ انہیں دوسری اقوام کے مقابلے میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے پاکستان کو ایک عظیم ریاست بنانا چاہتا ہے،
    اور وہ بار بار اپنی قوم سے اس کا ذکر بھی کرتا ہے کہ وہ کرپشن نانصافی بدعنوانی چوری اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے سخت خلاف ہے،
    عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ جب ملک کا سربراہ کرپشن کرتا ہے تو اس کے نیچے جتنے بھی ادارے ہیں وہ بھی یہ کام کرتے ہیں اس طرح ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اور ملک نہیں چل سکتا،
    وہ تھانے کچہریوں کے انتظامات کو بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے،
    عمران خان دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے،
    اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایمانداری اور دیانتداری کو پسند وہی کرتا ہے جو خود دیانت دار ہو،
    وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے اور وہ اپنے ہر دورے میں دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کےاچھے تعلقات قائم کرنے ترقی اور خوشحالی و تجارت کے ساتھ امن کی تجویز پیش کرتے ہیں،
    وہ تمام ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں وہ اپنے ملک کے وقار کو اپنی قوم کو کسی کا غلام نہیں دیکھنا چاہتے،
    اس نے غریبوں مسکینوں اور بےگھر افراد کے لیے قیام گاہیں قائم کروائیں اور ان میں انہیں تین وقت کا کھانا بھی میسر ہوگا اس بات کو یقینی بنایا،
    عمران خان کی والدہ ماجدہ کی وفات کینسر مرض سے ہوئی ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں تھا جہاں ان کی والدہ کا علاج ہوسکتا۔
    والدہ کی وفات کے بعد انہوں نے یہ جانا کہ ان کی والدہ تو اس مرض سے چل بسی لیکن میرے ملک کی کوئی اور ماں بہن بیٹی یا بھائی اس مرض سے یوں نکھوں کے سامنے دنیا سے چلا ،،
    انہوں نے لاہور میں اپنی والدہ کے نام پر ایک کینسر اسپتال بنانے کے لیے جدوجہد کی سو اپنی اس جدوجہد میں کامیاب ہوئے لاہور شوکت خانم میموریل ہسپتال عمران خان کا پاکستانی قوم کو دیا ایک انمول تحفہ ہے، گویا انسانیت کی خدمت اور احساس اس شخص کے اندر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے،
    عمران خان نے ملک میں صحت انصاف کارڈ متعارف کروائے اس کے ذریعے مستحق افراد کا علاج فری ہوتا ہے، اور اس کے علاوہ احساس پروگرام متعارف کروایا جس کے ذریعے بیوہ خواتین اور مستحق لوگوں کا ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ تمام مستحق افراد تک ہی پہنچے گا،
    عمران خان کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ملکی وقار ہے،
    اس زمرے میں حال ہی میں عمران خان نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی امریکہ کو اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے جس طرح وہ ماضی میں ہمارے ملک میں ڈرون اٹیک کرتا رہا اور ہماری سرزمین افغانستان کے خلاف بھی استعمال کرتا رہا،
    اور انہوں نے انگلش کے یہ دو الفاظ کہے absolutely not جو بہت زیادہ مقبول ہوئے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان الفاظ کے ٹرینڈ بھی چلے،
    عوام نے عمران خان کو غیر ملکی صحافی کو ایسا جواب دینے پر خوشی کا اظہار کیا اور دل کھول کر عمران خان کو داد دی اور ان کی تعریف کی،
    اس کے بعد انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا وہ کسی بھی صورت ملک کے وقار کا سودا نہیں کر سکتے،
    ہم خود مختار ہیں اور خودمختار رہیں گے،
    وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح بالکل نہیں ہیں وہ اس بات کی کبھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،
    کہ کوئی ہماری سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرے اور ہمارے لوگوں پر ڈرون اٹیک کرے،
    الغرض عمران خان ملک کی ترقی اور خوشحالی انصاف رواداری نظام کو بہتر کرنے کے لیے حکومت میں آیا اور وہ اپنے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں،
    سوشل میڈیا اور اس کے علاوہ ملک کی بہت بڑی تعداد عمران خان کی فین فارورز ہے،
    یہ وہی لوگ ہیں جو ملک کو خوشحال وہ ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں،
    وہ اپنے وعدے اور دعوے سے پیچھے نہیں ہٹے گا سیاست میں آنے سے پہلے وہ کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی رہ چکا ہے،
    سن 1992 کا ورلڈ کپ کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ عمران خان اور اسکی ٹیم کامیاب ہوگی اور یہ ورلڈ کپ پاکستان جیت سکتا ہے،
    لیکن پھر عمران خان کا جذبے اور ہمت نے تمام کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے اور پاکستان 1992 کا ورلڈ کپ جیت گیا،
    دعا ہے کہ عمران خان کی سیاسی ٹیم بھی اپنے حوصلوں کی پختگی کے ساتھ اس کا ساتھ دے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرے،
    پاکستان زندہ باد

    @zsh_ali

  • لڑکی اور لڑکے کی دوستی تحریر : محمد شہباز سرکانی

    یورپ میں لڑکی اور لڑکے کے درمیان دوستی عام سی بات ہے اور اس کے بارے کسی قسم کے شک کی بات نہیں اور نہ ہی یہ عیب ہے کیونکہ وہاں ماحول ہی ایسا ہے لیکن وہاں بھی مسلمان جو کہ اسلام کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں وہ اس بات کو عیب سمجھتے ہیں لیکن عام طور پر وہاں اس بات کو عیب نہیں سمجھا جاتا ۔ لیکن ہم بات کریں اپنے ملک پاکستان کی تو یہاں اس بات کو یہاں بھی آج کل عیب نہیں سمجھا جارہا حالنکہ ہمارا ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اس بات کا واضع ثبوت یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور پردہ بھی ہمارے مزہب میں لازمی ہے ۔ عورت کےلیے پردہ اور مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا کہا گیا ہے
    آج کل سوشل میڈیا اور بہت سے فورم پہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان فوٹو سیشن عام سی بات ہے اور اس بارے ان کے والدین بھی خاموش ہیں حالانکہ ان کو اس بات کو پتہ بھی ہے کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں لیکن وہ پھر بھی خاموش ہوتے ہیں ۔ اس طرح بہت سے واقعات رونما ہورہے ہوتے ہیں جس سے طلاق کی شرح پڑھے لکھے نوجوانوں میں زیادہ ہے ۔
    اس بات کو اگر اہم نہیں لیں گے تو بہت سے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ دوستی کو جب رشتہ داری میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو عام طور پر وہ رشتہ صرف ایک سال بھی مشکل سے چلتا ہے اور بہت سے مساٸل جنم لیتے ہیں ۔ ہمارے ملک پاکستان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آذادی سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے والدین اس بات کو اہمیت نہیں دیتے کہ ان کے بچے کہاں جارہے ہیں اتنی رات گۓ وہ کس کے ساتھ تھے اور کیا کررہے تھے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی بدنامی کا باعث ہی ان کے بچے ہیں
    ہمارے وزیراعظم عمران خان نے عورت کے پردے کے بارے ایک بیان دیا اور بہت سے حلقوں نے ان پر حملے شروع کردیٸے حالانکہ ان کی بات بھی بالکل ٹھیک تھی کہ عورت اپنے آپ کو پردے میں رکھے جس سے مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔ تاکہ معاشرے سے بے حیاٸی کا خاتمہ ہو
    ہمارے دیہاتوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن شہروں میں تو نہ ہونے کے برابر رات گۓ ہوٹلوں میں پارٹیاں ہورہی ہوتی ہیں اور وہاں پر حیاٸی عروج پہ ہوتی ہے اور ان کو کوٸی روکنے والا نہیں ہوتا
    اگر بات کریں قانون کی تو وہ بھی ہمارے ملک میں کتنا نافذ ہے سب کو پتہ ہے لیکن اس بات پر زور دیں کہ ہمارے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اتنی آذادی نہ دیں جس سے ان کے بچے ان کی عزت پر حرف آنے کا باعث بنتے ہوں
    ہر حلقے کی جانب سے مختلف راۓ آۓ گی لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اللہ پاک نے عورت کو پردے کے بارے واضع طور پر حکم دیا اور کیوں کہ عورت کےلیے پردہ ہی اہم چیز ہے اس لیے اسلام میں عورت کو ایک مقام دیا گیا ہے تاکہ عورت کی زندگی پرسکون گزرے اور وہ لوگوں کی بری نگاہوں سے محفوظ رہے
    ۔ https://twitter.com/RjShahbaz01?s=09

  • ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ڈاکٹری پیشہ یا کاروبار.تحریر: راحیلہ عقیل

    ہسپتالوں پر اکثر ہم بات کرتے ہیں لکھتے ہیں جہاں انسانیت کو روند کر زندگی اور موت کا کاروبار کیا جاتا ہے وہی ایک خاص توجہ آپ سب کی پرائیوٹ کلینک پر دلانا چاہوں گی بڑے ہسپتالوں سے مریضوں کو اپنے کلینک لےجانا تو معمول کی بات ہے جہاں ڈاکٹر بھاری فیس لےکر آپ سے گھنٹہ بھر آپکے مسائل سن لیتا ہے وہی خواتین کے ایسے بہت سے مسائل ہیں جو کھل کر بڑے ہسپتالوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں بلکہ پرائیوٹ کلینک بھی ایسا ڈھونڈتی جہاں انکو کوئی جانتا نا ہو خاص کر ناجائز بچے کو گرانے کے لیے ایسے وقت پر اکثر لڑکیاں بے وقوف بن جاتی ہیں حال ہی میں نظروں سے گزرا وہ واقعہ سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک چھوٹے کلینک میں ڈی این سی کے لیے جانے والی لڑکی اپنی جان گنوا بیٹھی ، گلی نکڑ پر ایسے بہت سے کلینک ہوتے ہیں جہاں نا تجربہ کار ایل ایچ وی، یا سرکاری ہسپتالوں کی ماسیاں اپنا کاروبار چلا رہی ہوتی ہیں بظاہر تو کلینک آپکو او پی ڈی لگتا ہے مگر اندر ایک پورا گینگ ہوتا ہے جو جائز ناجائز بچوں کو گرانے کی بھاری قیمت وصول کرتا ہے جس میں جان بھی جاےپر انکی زمہ داری نا ہوگئی ایسا نہیں کے علاقے کی پولیس کو ایسے معاملات کا علم نا ہو باقاعدہ بھتہ وصول کیا ہے کبھی شکایت درج بھی ہوجاے تب بھی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی علاقے کے بہت سے لوگ واقف ہوتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں پرائی بات میں دخل کیوں دیں یہ والی سوچ ہماری آج بھی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگئی، کون کرے کا ایسے جعلی ڈاکٹروں کا خاتمہ حکومت کب قانون میں اتنی سختی پیدا کرے گی کے ایسے درندے صفت لوگ ناجائز کام کرتے وقت سو بار سوچیں کب یہ کاروبار بند ہوگا ؟ اس کا جواب تو سب باخوبی جانتے ہیں یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا ہمیں ہی اپنی نسلوں کو سدھارنے میں کردار ادا کرنا ہوگا

    کالج میں پڑھنے والی لڑکیاں کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بن کر ان کلینکس پر پہنچ جاتی ہیں نا گھر والوں کو خبر نا اپنی جان کی پرواہ عزتیں لٹوا کر عزتیں بجانے کی کوشش اکثر بہت بڑا نقصان کرجاتی ہے جسکا اندازہ کرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا ایک انجان شخص کے ہاتھوں اپنی عزت دینا اور اس پر بھروسہ کرنا کے یہ ہمیں دھوکہ نہیں دیگا والدین بڑی امیدوں کے ساتھ اپنے بچوں کو ہاسٹل کالج بھیجتے کے ہمارے بچے پڑھائی کریں گے مگر اولاد زمانے کی رنگینیوں میں کھو کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیتی ہے نتیجہ یا تو وہ لڑکا زندگی برباد کرکے چھوڑ دیتا یا حمل گرانے کے دوران جان سے جاتی، خودکشی کرتی یا برادری والے ہی مار دیتے

    لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا باقی کرنے والے تو افسوس کرہی لیتے ہیں
    یہ کہا تو جاتا ہے عورت کو برابری کے حقوق دو مگر عورت پر بھی لازم ہے وہ اپنی شرعی حدود میں رہ کر آگے بڑھیں میں عورت کی آزادی کے خلاف نہیں ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گی کے عورت کو اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے والدین کی دی ہوئی آزادی اصل میں آپ پر انکا بھروسہ ہوتا ہے جس کو اولاد تھوڑ کر خوش نہیں رہ سکتی، سوچیے ہم کہا کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

  • حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے  ‏تحریر:   چوہدری عطا محمد

    حقوقِ نسواں اسلام امن و سلامتی کا دین ہے ‏تحریر: چوہدری عطا محمد

    اس کا مقصد دنیا میں عدل و انصاف کے ابدی اصولوں پر مبنی ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر حق دار کو اس کا پورا حق ملے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے۔ تاکہ اولاد آدم اس دنیا میں حیات ِ مستعار کے لمحات امن و سکون سے بسر کرسکے۔ اسلام کے اس نظام کی بنیاد انسانی مساوات پر مبنی ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھی اور عورت کو وہ حقوق عطا کیے جس سے وہ معاشرے میں اسی عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔
    ‏اسلام نے حقوقِ نسواں پے بہت زوردیا ہے کیونکہ اسلام سے پہلے بیٹی کے پیدا ہونے پے سوگ منایا جاتا تھا اور اسے زندہ درگور کر دیا جاتا ہے اور ان کی عزت کو سرِ عام نیلام کیا جاتا تھا بولیاں لگاٸی جاتی تھی یا یہ کہنا بجا ہو گا کہ جنسی حوس کو پورا کرنے کے لیے درندوں کی طرح روندھا جاتا تھا فر ایک ایسی ہستی کا نزول ہوا جن کو دونوں جہاں کے لیے رحمت العلمین ﷺ بنا کے بھیجا گیا جن کے آنے سے ہر طرف نور ہی نور چھا گیا
    ‏آپﷺ نے ہر زی النوع کے لیے حق کی آواز کو بلند کیا اللہ کے یکتا ہونے کا درس دیا عورت کو خدا کا ایک خوبصورت تحفہ قرار دیا اور حقوقِ نسواں کا متعین کیا اور ورثے میں عورت کا حق مقرر کر دیاگیااور سب سے بڑا تحفہ یہ دیا عورت کو کہ ماں کی صورت میں
    ‏جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی
    ‏عورت کو پاؤں کی جوتی کی بجائے گھر کی مالکہ اور رفیقۂ حیات کا اعزاز بخشا اور اس کا نان نفقہ خاوند کی ذمے داری قرار دیا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار عورت کو مرد کے مساوی حقوق دینے کا اعلان کیا۔ یہ فقط دعویٰ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اسلام جدید معاشرے کی عورت کو بھی وہی حقوق، عزت و وقار، عزت نفس اور پاکی و طہارت عطا فرماتا ہے جو اس نے زمانۂ قدیم کی عورت کو عطا کرکے اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر اوج ثریا تک پہنچا دیا۔

    ‏قرآن حکیم و حدیث نبویؐ میں عورت کی چار حیثیتوں کا بیان ہے

    ‏(1) ماں (2) بہن (3) بیوی (4) بیٹی

    ‏اسلام نے ماں کی حیثیت سے عورت کا مقام اس قدر بلند کیا ہے کہ معاویہ بن جاہمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ کی خدمت میں میرے والد حاضر ہوئے کہ یا رسول اﷲ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ جہاد کروں اور آپؐ سے مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمھاری ماں زندہ ہے، عرض کی کہ زندہ ہے، تو آپؐ نے فرمایا کہ تو اسی کے ساتھ رہو، اس لیے کہ جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے۔ (نسائی)

    ‏حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرمؐ سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ میرے حسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو آپ ؐ نے تین مرتبہ فرمایا کہ تیری والدہ اور چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تیرا والد۔ (بخاری)

    ‏اس روایت سے معلوم ہوا کہ باپ کے مقابلے میں ماں کی حیثیت و مرتبہ استحقاقِ خدمت میں تین گنا زیادہ ہے۔ اگر ماں کافر بھی ہو تو اس سے حسنِ سلوک کرنے کا حکم ہے۔ 

    ‏قرآن کریم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی درجات کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے وہاں بطورِ بہن بھی اس کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ بطور بہن، عورت کی وراثت کا حق بڑی ہی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ اسلام کی آمد سے پہلے بیٹی کی پیدائش کو ذلت و رسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا۔ آپؐ نے بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا۔ اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بل کہ اسے وراثت کا حق د ار بھی ٹھہرایا۔ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے نسل انسانی کے تسلسل و بقا کے لیے ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتوں کو اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بیوی کے رشتے کی اہمیت اور اس سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے ۔

    ‏ارشاد ربانی ہے ’’ اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو، اور اﷲ نے اس میں تمہارے لیے بہت بھلائی رکھی ہو۔

    ‏(سورۃ النساء)

    ‏رسول اکرمؐ نے بھی بیوی سے حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو مختلف واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے عملی طور پر بہت سے مواقع پر دل جوئی فرمائی۔ رسول اکرمؐ حضرت عائشہؓ کے ساتھ کبھی دوڑ لگا رہے ہیں او ر کبھی ان کو حبشیوں کے کھیل (تفریح) سے محظوظ فرما رہے ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ سفر میں تھیں فرماتی ہیں کہ میں اور آپؐ دوڑے، تو میں آگے نکل گئی تو پھر دوبارہ جب میں اور آپؐ دوڑے، تو آپؐ آگے نکل گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہے تُو پہلے آگے نکل گئی تھی۔ یعنی اب ہم برابر ہوگئے۔ (ابوداؤد)
    ‏اللہ تعالی ﷻ نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام پے فاٸز کر دیا اور عورتوں کے حقوق کے لیے اپنی پیاری کتاب قرآنِ مجید میں سورہ النسا نازل کر دی جس میں عورتوں کے لیے معاشی سماجی حقوق کے علاوہ مرد کے شانہ بشانہ اور برابر کے حقوق ادا کردیٸے
    ‏اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کے انفرادی حقوق، عائلی حقوق، ازدواجی، معاشی اور دیگر حقوق کو بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ عورتوں کو عزت و تکریم عطا کی ہے۔ عورت کو اپنی پسند سے شادی کرنے کا اختیار ہے، وہ اپنے نام جائیداد خرید سکتی ہے اور اپنی ملکیت میں رکھ سکتی ہے۔ اسے اپنے خاندان، خاوند اور دوسرے قریبی رشتے داروں سے وراثت میں حصہ ملتا ہے۔ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اسی طرح عورت کو خلع کے ذریعے نکاح تحلیل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

    ‏اسلام نے انسان ہونے کے ناتے سے مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ لہٰذا جو ﷲ تعالیٰ ﷻاور رسول اکرمﷺ نے خواتین کو حقوق دیے ہیں ان کے حقوق کی پاس داری کرنا ہمارا اولین مذہبی فریضہ ہے۔ حقوق نسواں کے حوالے سے خطبہ حجّۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’خبردار تمہاری عورتوں کے ذمے تمہارا حق اور تمہارے ذمے تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں۔ عورتوں کے حق یہ ہیں کہ انہیں اچھا لباس پہناؤ اور اچھا طعام کھلاؤ۔
    ‏ایسی ہزاروں احادیث ہیں جن میں عورتوں کے حقوق متعین کر دیٸے گٸے ہیں اسلام تمام ادیان سے بہتر دین ہے
    ‏جہاں دین اسلام نے حقوقِ نسواں کے لیے روزِ ازل سے آواز بلند کی وہاں دنیا میں ایسے خدا ترس لوگ بھی موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم ہیں ان میں ایک شخصیت کا زکر میں کرتی جاٶں گی
    ‏یوجین ہنگ
    ‏ایسی شخصیت ہیں جن کو حقوقِ نسواں کا حامی ہونے
    ‏ پر بہت فخر ہے۔
    ‏وہ کیلیفورنیا میں ریاضی کے ٹیچر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چودہ برس پہلے جب اُن کی بیٹی پیدا ہوئی تو اُس وقت وہ یہ سوچ کر ذہنی کشمکش میں پڑ گئے کہ یہ دنیا لڑکیوں کے لیے کیسے ہو گی؟

    ‏اُس وقت اُن کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یونیورسٹی میں اُن کے ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں پر کیا گزرتی ہوگی جو تنہا لائبریری سے گھر واپس جاتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔

    ‏ہنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اُنھیں اپنے عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ جینا پڑتا تھا مگر مجھے ایسے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ مجھے اُس وقت اس بات کا احساس ہوا کہ مجھے معاشرے میں کتنا امتیاز حاصل ہے اور میں اس سے بالکل بے خبر تھا۔’
    ‏’ایک مرد کی حیثیت سے میں ان سب باتوں کو اپنے لیے معمول کی باتیں سمجھتا تھا۔’
    ‏اُن کے اندر احساس کی بیداری نے اُنھیں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ایک سرگرم کارکن بنا دیا۔ اُنھوں نے ‘فیمینسٹ ایشیئن ڈیڈ’ کے نام سے ایک بلاگ شروع کیا جس کا مقصد عورتوں کو معاشرے میں با اختیار بنانے کے بارے میں آواز اُٹھانا تھا۔

    ‏ہنگ اپنے بلاگ میں مختلف چیزوں پر بات کرتے ہیں جن میں ڈِزنی کی انیمیٹڈ فلم ’مُلان‘ جس میں ایک طاقتور عورت مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور کملا ہیرِس امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر کے انتخاب جیسے موضوعات شامل ہیں۔
    ‏المختصر کہ اسلام نے جو حقوق عورتوں کے لیے واضع کیے ہیں انکو تسلیم کیا جاٸے اور عورت کو وراثت میں اسکا حق دیا جاۓ
    ‏البتہ یہ بات اپنی جگہ بہ درجہ اتم حقیقت پر مبنی ہے کہ عورتوں کو اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ دینی و جدید تعلیم سے مزین ہونا ہوگا جو موجودہ صدی کا اہم تقاضا ہے
    ‏اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اسلام کے اصولوں پے عمل پیرا ہونے کی توفیق دے
    ‏آمین یا رب العلمین

  • میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    میرے خواب کب پورے ہونگے .تحریر:راحیلہ عقیل

    جب ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے اس وقت اس بچی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ فکر بھی جنم لیتی ہے بچی کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی سوچ بھی پڑھتی جاتی ہے، کے کیسے بیٹی کو اسکے گھر کا کرنا ہے لیکن کیا کبھی کسی ماں باپ نے یہ سوچا ہے کے ہماری بیٹی کی بھی کچھ خواہشات ہونگی اسکے سپنے ہونگے جو روزانہ اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہونگے اچھی تعلیم روشن محفوظ مستقبل کھلا آسمان، مہکتی صبح کے ساتھ پھولوں کی طرح کھلنا، گڑیا سے کھیلنا، بہن بھائیوں سے ناز اٹھوانا، والد سے فرمائشیں پوری کروانا، ماں کے آنچل میں بادلوں کی آواز سے چھپ کر سوجانا، سہیلیوں سے گھنٹوں باتیں کرنا، من پسند کتابوں کو تکیے کے نیچے چھپا کر سونا، یہ سب ایک نارمل لڑکی کے سپنے ہی تو ہیں جو وہ جینا چاہتی ہے بارہ سال کی ہوئی گھر کے کام کاج سیکھو 14 کی ہوئی تو طریقے سے ڈوپٹہ لو گھر سے اکیلے باہر جانا بند کھیلنا بند دوستی گڑیا کھلونے سب سے ناطہ توڑ کر والدین لڑکی کو اسکے گھر کا کرنے میں لگ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ معصوم جس نے گھر کی چار دیواری کے باہر کی دنیا صرف کتابوں کہانیوں میں دیکھی وہ اچانک اتنی بڑی سمجھدار کیسے ہوگئی کے اسکو دوسرے گھر بھیجنے کی تیاری ہونے لگے وہ ہاتھوں میں مہندی لگائے خوب چمک دمک کا ڈوپٹہ اوڑھے خاندان والوں کے درمیاں بیٹھی اپنی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھتی رہی کے آخر ابھی کچھ وقت ہی تو گزرا جب اس نے اپنی گڑیا رانو کی شادی اپنی دوست کے گڈے سے کی تھی اور آج اچانک اتنی جلدی وہ خود کسی کی دلہن بنی بیٹھی ہے اس کے سارے خوب ریت کی طرف بہہ گئے وہ رونا چاہتی تھی چیخنا چاہتی تھی پر اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی ماں کمزور سا چہرہ لیے بیٹھی تھی ماں باخوبی واقف تھی اپنی اولاد کی حالت سے پر وہ کیا کرتی یہ خاندانی روایت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ناجانے کب تک یونہی پھولوں جیسی نازک بچیاں اپنے خوابوں کو بکھرتا دیکھتی رہنگی کب وہ دن ہوگا جب وہ آزادی سے اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرینگی آزاد ہوا میں سانس لینگی؟؟
    کسی معصوم نے اپنی مرضی سے ایک قدم جو اٹھایا اس کا حساب اپنے خون سے دینا پڑتا ایسی نا جانے کتنی معصوم بچیاں ہونگی جو نا چاہتے ہوئے بھی ماں باپ کی مرضی پر قربان ہوجاتی ہیں پھر ساری زندگی اپنے سپنوں کو روند کر زندگی کی حقیقت کا سامنا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کاش کے سب والدین اپنی اولادوں کو پڑھانے پر توجہ دیں انکو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیں ناکہ انھیں مزید دلدل میں دھکیل دیں غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم ہے۔۔۔۔۔ جو بےحد ضروری ہے ہمارے لیے ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر محفوظ مستقبل کے لیے

    …….سوچ بدلیں وقت خود با خود بدل جاے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • حاسد، حسد اور شر      تحریر: احسان الحق

    حاسد، حسد اور شر تحریر: احسان الحق

    حسد تقدیر اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم کے منافی سوچ ہے. حسد کے دو معنی ہیں. کسی انسان کی خوبصورتی، شکل و عقل، رزق وغیرہ جیسی نعمتوں اور کامیابیوں پر کڑھنا، جلنا اور غصہ کرنا. دوسرا معنی ہے کہ کسی انسان کی کامیابیوں اور نعمتوں کے زوال اور چھن جانے یا زائل ہونے کی خواہش کرنا. حسد دل کی بیماری ہے. حسد دل کے عوارض کا سبب بنتا ہے اور جب کسی کا دل تعصب، کینہ اور حسد کا شکار ہو جائے تو پھر دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتے ہیں.
    اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں جن شرور سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے ان میں حاسد کے حسد کا ذکر بھی ہے. اللہ تعالیٰ نے سورۃ فلق میں بڑے اور خطرناک شرور کا ذکر کیا ہے. اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ تمام مخلوق کے شر سے جو کسی شر یا نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، اندھیرے کے شر سے، جادو کے شر سے اور حاسد کے حسد یا حسد کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے. یقیناً حاسد کا حسد یا حسد کا شر بہت مہلک بیماری ہے.

    حسد کا مطلب نعمتوں پر اعتراض اور اختلاف کرنا ہے. حاسد کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اعتراض یا اختلاف نہیں کر رہا ہوتا دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور عطاء پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ نے تقسیم کے فیصلے زمین و آسمان کی پیدائش سے 50 ہزار سال پہلے کئے. ایک مومن بندہ دنیا اور آخرت کی بہتری کے لئے رشک کر سکتا ہے. حسد اور رشک میں فرق ہے. حسد کا مطلب کہ فلاں کے پاس فلاں چیز کیوں ہے یا نہ ہو. رشک کا مطلب کہ اس کے پاس جو چیز ہے وہ میرے پاس بھی ہو. ایک مسلمان دوسرے انسان کی نعمتوں، کامیابیوں اور رزق کی فراوانی دیکھ کر رشک کر سکتا ہے، رشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دینوی اور اخروی معاملات میں رشک کرنا بھی چاہئے.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بہترین کلیہ بتایا ہے کہ شرعی معاملات میں اپنے اوپر والے بندے کو دیکھو جو آپ سے علم، عمل اور تقوے میں بہتر ہو تاکہ تمہارے اندر عمل اور پرہیزگاری کا پہلے سے زیادہ شوق پیدا ہو. دنیاوی معاملات میں اپنے سے نیچے اور زیادہ غریب آدمی کو دیکھو تاکہ تمہارے اندر مال اور دنیا کی حرص پیدا نہ ہو اور نہ ہی تم احساس کمتری کا شکار ہو. جب انسان دنیا داری میں اپنے سے نیچے والے بندے کو دیکھے گا تو حسد پیدا نہیں ہوگا اور جب عبادت اور عمل میں اپنے سے اوپر والے بندے کو دیکھے گا تو اس میں عمل اور نیکی کا حرص پیدا ہوگا.

    امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے ملنے کے لئے ایک ساتھی صحابی کے ساتھ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے. آپ امیرالمؤمنین کسی سرکاری کام میں مصروف تھے اور دربان کو کہا کہ وہ میرا انتظار کریں. اسی اثناء میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آئے. امیرالمؤمنین کو پتہ چلا تو آپ کام چھوڑ کر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ کو ملنے چلے آئے. بعد میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے اپنے ساتھی صحابی سے گلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرالمؤمنین نے عدل نہیں کیا، ہمیں انتظار کروایا اور بلال کو اسی وقت ملنے چلے آئے. ساتھی صحابی رسولۖ نے ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا کہ حسد مت کرو، ہم نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا اور بلال نے جس وقت اسلام قبول کیا اس وقت اسلام قبول کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا اور بلال نے بہت صعوبتیں برداشت کیں. اللہ تعالیٰ نے بلال کو دنیا اور آخرت میں ہم سے بہتر مقام عطا کیا ہے لہذا جلنا اور حسد کرنا درست نہیں. جب آخرت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو بڑی عزت و تکریم سے نوازیں گے تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور نوازش پر اعتراض کرے گا؟

    اس دنیا میں رونما ہونے والے پہلے فتنے کی بنیاد بھی حسد اور غرور پر ہے. ابلیس کا خیال تھا کہ روئے زمین پر ایسی کوئی جگہ خالی نہیں جہاں میں نے سجدہ نہ کیا ہو، اب مجھے حکم دیا جا رہا ہے کہ مٹی کی پیداوار کو سجدہ کروں جو مجھ سے کمتر ہے. ابلیس مقام آدم کو دیکھ کر حسد میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر گیا اور قیامت تک ملعون قرار پایا. شیطان نے اسی حسد کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے بھی نکلوایا.
    اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ تعلیم دی ہے کہ حاسد کے شر سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرو. آخرت کے دن وہی لوگ جنت میں داخل ہونگے جو قلب سلیم لے کر آئیں گے. جن کے دل عوارض سے پاک ہوں گے مطلب ان کے دل کسی قسم کے حسد، تعصب اور بغض کی خباثت سے پاک ہوں گے.

    @mian_ihsaan

  • کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟  تحریر:  محمد معوّذ

    کیا جہاد فرضِ عین ہوچکا ہے؟ تحریر: محمد معوّذ

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ ہو یا کوئی مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں ہو تو مشرق سے مغرب شمال سے جنوب تک کے تمام مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہوجائے گا۔
    آج صرف ایک مسلمان عورت کی عزت کو خطرہ نہیں صرف ایک مسلمان عورت کافروں کے قبضے میں نہیں بلکہ ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں ان کی حراست میں ہیں۔ ہزاروں باحیا باپردہ عورتوں کی عزت لوٹی گئی شیر خوار بچوں کو ماؤں کی گود میں شہید کردیا گیا نوجوانوں کو لائنوں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا انہیں انٹروڈکشن سینٹروں کے اندر ٹارچر کیا گھروں کو مسمار کر دیا گیا مساجد شہید کر دی گئیں ہزاروں بہنوں کو بے ردا کیا گیا اسلام کی باحیاء اور باپردہ بیٹیوں کو سرعام چوکوں اور چوراہوں پر بےعزت و بے آبرو کیا گیا اور بندوق کینال پر رکھ کر سر عام بازاروں میں نچایا گیا اور اس کے علاوہ بچوں کو یتیم کیا گیا عورتوں کو بیوہ کیا گیا فصلیں اور باغات اجاڑ دیے گئے کتاب حق قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی۔
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کفار نے اپنے ہر دور میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں اور تاریخ اس بات کا بھی شاہد ہے کہ کفار نے جب مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی تو اسلام کے ہر جیالے نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر میدان و صحراوں جنگلوں اور پہاڑوں میں اور دنیا کے کونے کونے میں نکل گئے اور یہ ثابت کرکے دکھایا کہ جب اسلام پر کفار نے چڑھائی کا فیصلہ کیا تو دین حق کے جیالوں نے کفار کے خلاف جہاد کو فرض عین سمجھ کر اپنے دین کی اور اس کے ہر جزو کی حفاظت کی ذمہ داری کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کیا۔ محمد بن قاسم نے ایک بہن کی پکار پر ہندوستان کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے جہاد کو فرض عین سمجھ کر اسپین فرانس اور بہت سے علاقوں کو کفار کے پنجے سے چھڑایا سید سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاد کو فرض عین سمجھ قبلہ اول اور پورے فلسطین کو آزاد کرایا ہر دور کے مسلم حکمرانوں نے ظلم کے خلاف جہاد کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے مطابق فرض عین سمجھا۔
    اللّٰہ تعالی آج کے مسلمان حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ جہاد کو فرض عین سمجھ اس فریضہ کو سرانجام دیں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو جہاد تم پر فرض کر دیا گیا ہے خواہ تم ناگوار گزرے۔
    اس وقت قرآن و حدیث کی روشنی سے جہاد مسلمانوں پر فرض عین ہوچکا ہے اللّٰہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس فرض کو فرضِ عین سمجھ کر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

    @muhammadmoawaz_

  • تعلیم کا فقدان  عدنان علی

    تعلیم کا فقدان عدنان علی

    ہم اپنی آنے والی نسل کو کیسے باور کروائیں کہ علم سے ہی ہماری زندگی روشن ہوگی۔۔۔
    کچھ عرصے تک میں یہی سوچ رکھتا تھا کہ علم حاصل کرنا کوئی کامیابی کی کنجی نہیں ہے لیکن پھر احساس ہوا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ کالج یونیورسٹیاں کیوں بھری ہوئی ہیں؟؟
    ہر ماں باپ چاہتاہے کہ ہمارے بچے تعلیم سے آراستہ ہوں۔۔۔
    ہمارے بچوں کی سوچ ہے کہ اگر ہم کالج یا یونیورسٹی نہ جائیں گے تو ہمارے گھر والے ہمیں کہی مزدوری پر ڈال دیں گے اس لیے وہ چلے تو جاتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی جوانی کو انجواے کرنے کی سوچ میں رہتے ہیں
    اور تعلیم سے دوری کی بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری نسل سمجھتی ہے کہ خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ہم کوئی نہ کوئی سفارش کروا لیں گے ۔ سفارش سے کسی نہ کسی جگہ سیٹ ہو جائیں گے
    تعلیم کا مقصد ہے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا، ذہن و شعور میں ایک مثبت تبدیلی لانا، قومی کردار کی روح پھونکنا، انسانی اقدار کے دریچے کھولنا، تعصب اور تنگ نظری کو ختم کر کے اخلاقی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو تہذیب و تمدن کے بلند و بالا مقام تک پہنچانا ہے۔

    تعلیم کے لئے خود سے جنگ کرنی پڑے گی اپنے مستقبل کو سنوارنے کے شوق پیدا کرنا پڑے گا ۔
    ہمارے استاد ہوا کرتے تھے بہت ہی پیارے جو ہمیں کہا کرتے تھے کہ زندگی میں انجواے بھی کرو لیکن اپنے مقصد کو اگنور نہ کرو اگر آپ آج کچھ نہیں کریں گے تو کل کو آپکے سامنے آئے گا اور آج اکثر ان کی باتیں یاد آتی ہیں کہ وہ سنجیدہ تھے کہ ہمیں اپنے علم کی روشنی سے روشن کر دینے کو لیکن ہم تب نادان تھے جو جوانی کو زندگی کے خوبصورت ترین دن سمجھ کر ضائع کرتے رہے
    تعلیم کو پوری دنیا میں وہ واحد ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو ایک غیر مہذب معاشرے کو مہذب معاشرے میں بدل سکتا ہے

    لہذا خود بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ باور ضرور کروائیں کہ تعلیم کا
    ہماری زندگی میں کیا کردار ہے
    ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔
    @_Ryder007