Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عنوان: کسی درد مند کے کام آ تحریر: فرقان اسلم

    السلام و علیکم۔۔۔!!
    "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا”
    ہم اکثر یہ محاورہ سنتے ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ محاورہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو وہ اسی بِنا پر بنایا کہ انسان دوسروں کا احساس کرے ان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔ ان کی مدد کرے ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ اگر ہم اس کے باوجود دوسروں کی مدد نہیں کرتے تو یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ہمارا دین اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے پر ہمارے دین میں بڑی فضیلت حاصل ہے۔ عیدِ قرباں پر ہم جو قربانی کرتے ہیں وہ بھی احساس اور ایثار کا عملی ثبوت ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں احساس کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اگر ہم مالی امداد کرسکتے ہوں تو وہ کرنی چاہیئے کسی کو اچھی بات بتانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کسی بوڑھے کو سڑک پار کروا دیں۔ کسی پیاسے کو پانی پلا دیں۔ کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتادیں۔ غرض یہ کہ ہمیں ہر لحاظ سے مستحق اور دردمندوں کی مدد کرنی چاہیئے کیونکہ اسی میں روحانی سکون اور خوش پوشیدہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر ہم نے کسی ضرورت مند کو دیکھا تو اس کی مدد نہ کی حالانکہ اس کی مدد کرنے پر ہم قادر بھی ہوں تو خدا کی قسم ہم مفتی ہو سکتے ہیں نمازی ہو سکتے ہیں متقی ہو سکتے ہیں مگر ہم نیک انسان نہیں ہو سکتے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے تو الفاظ یہ ہیں کہ "تم میں سے اللّٰہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔”
    حقیقی فاتح وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنا جانتا ہے اور لوگوں کے دل وہی انسان جیت سکتا ہے جس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص دکھی انسانیت کا مسیحا ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے سامنے عبدالستار ایدھی صاحب کی مثال موجود ہے جنہوں نے ہزاروں انسانوں کی بے لوث مدد اور خدمت کی اور آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
    ایک جگہ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ” خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چنا”۔
    اللّٰہ پاک ہم سب کو دوسروں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
    @Rumi_PK

  • ‏آزاد کشمیر بھی کپتان کا .تحریر : فضیلت اجالہ

    ‏آزاد کشمیر بھی کپتان کا .تحریر : فضیلت اجالہ

    25 جولائ کا دن آزاد کشمیر میں الیکشن کے روائتی جوش و جزبے اور جیت کی امید کے ساتھ طلوع ہوا
    ہر طرف الیکش کی روائتی گہما گہمی کے ساتھ ساتھ کچھ شر پسند عناصر کی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں ۔کشمیر سے پرانا تعلق ہونے کی دعوے دار نون لیگ کے کیمپوں کی ویرانی بتا رہی تھی کہ ایک دفعہ پھر سے دھاندلی ہو گئ کا شور اٹھنے والہ ہے ۔
    تحریک انصاف کے خیموں میں عوام کا سیلاب اور کارکنان کا اطمینان دیکھ کر اپوزیشن نمائندے گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار رہے ۔نون لیگی امیدوار اسماعیل گجر نے ہرزہ سرائ کی تماحدیں عبور کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو بھارت کی دھمکیاں دیتے رہے اور اپنے بھگوڑے لیڈر نواز شریف کے یار مودی کو مدد کیلیے پکارنے کا اعلان کر کے کشمیری عوام کو ایک مرتبہ پھر سے بتا دیا کہ کس طرح نون لیگی کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہے ہیں ۔

    پولنگ کے بعد نتائج آنا شروع ہوئے تو آزاد کشمیر کی نڈر عوام نے ثابت کردیا کہ انکی آخری امید عمران خان ہے
    25 جولائ کے سورج کے ساتھ ساتھ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا سورج بھی ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا ۔
    مریم نواز کی فوٹو شاپ اور اوچھے ہتھکنڈے بھی کسی کام نا آسکے وہیں سندھ کی تباہ حالی پیپلز پارٹی کی راہ کی دیوار بنی اور کشمیری عوام نے بلے پر مہر لگا کر عمران خان کو اپنا سفیر مانا۔خان کی جیت سے پہلے اور بعد میں بھی ہمسایہ ملک بھارت سے اٹھتی چینخوں نے عوام کو واضح کر دیا ہے کہ کشمیر فروش اور مودی کا یار کون ہے ۔
    کشمیری عوام کا تحریک انصاف پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان ہی کشمیر کے حقیقی سفیر ہیں ۔کشمیر کی عوام نا کسی شیر کی دہشت میں آئ اور نا ہی نوٹوں کی خوشبو ں انہیں اپنی طرف راغب کر سکی ۔

    جہاں ایک طرف کشمیر میں تیر چلے گا کے دعوے داروں کے ارمانوں پہ تیر چلا وہیں شیر ایک واری فیر،ڈھیر ہوا ۔
    اب تک کہ غیر حتمی بتائج کے مطابق عمران خان 26 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنانے جا رہے ہیں ۔شیروانی کا بٹن نہ دینے والوں کی ازیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں، اپوزیشن کا رونا تو بنتا ہی ہے کہ وہ عمران خان جسے نواز شریف چار حلقے نہی کھولنے دے رہا تھا وہ چار صوبوں ،میں حکومت بنا چکا ہے بے شک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ۔
    گزشتہ حکومتوں نے ہمشہ کشمیری عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالہ اور زاتی مفادات کو اولین رکھا آج کشمیری عوام نے اپوزیشن کا بیانیہ مکمل طور پر دفن کردیا ہے ۔
    عمران خان کو سلیکٹیڈ کہنے والے دیکھ لیں آج کشمیری عوام نے بھی عمران خان کو سلیکٹ کیا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کا بھی عمران خان پر اعتماد عمران خا کی بڑی کامیابی اور ان لوگوں کہ منہ تھپڑ ہے جو کہتے تھے خان کو سیاست نہی آتی ،ہاں خان کو منافقت کی کرپشن کی،پیسو کی ،دھاندلی کی سیاست واقع نہی آتی ۔امید ہے کہ عمران خان کشمیری عوام کی مرحومیوں کا ازالہ کریں گے ،
    2023 کے الیکشن میں تحریک انصاف انشاء اللہ سندھ میں بھی حکومت بنائے گی اور پھر آگے بڑھے گا پاکستان ،نیا ،روشن،کپتان کا پاکستان ۔

    ‎@_Ujala_R

  • دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

    لفظ دوستی ایک ایسی مشعل ہے جو اجنبی ، انجان ، نا آشنا لوگوں کے دلوں میں بھی جلنے لگتی ہے اور یہ مشعل دوستی جیسے اعلی رشتے کو باہم روشن کرتی ہے۔جانتے ہیں اس مشعل کو جلانے کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ؟ اعتماد ، جی ہاں اعتماد ہی وہ ہوتا ہے جو اس مشعل کو جلائے رکھتا ہے۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو عرصہ دراز کی دوستی لڑ کھڑا جاتی ہے اور دم توڑنے لگتی ہے۔ اگر اعتماد بحال نا ہو تو یہ عظیم رشتہ دم توڑ جاتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے یہاں ایک اور بات غور طلب بات یہ ہے کہ دوبارہ اعتماد بحال کیونکر ہو؟ فرض کریں اعتماد بحال ہو بھی جائے تو کیا یہ پہلے جیسا مظبوط اعتماد ہو گا؟ کیا یہ ایسا اعتماد ہو گا جو دوستوں کی آپس کی ناچاکیاں اپنے اندر سمیٹ لے۔ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ایسا کیوں جناب!
    ۔
    ایسا اس لیے کہ اعتماد ایک نازک آئنیہ کی طرح ہوتا ہے جب تک آئینہ ٹوٹے نہ یہ مکمل اور پورا شفاف عکس دکھاتا ہے لیکن جب ٹوٹ جاتا ہے تو جڑنے کے بعد بھی یہ مکمل اور پورا عکس نہیں دکھاتا بلکہ دو عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دوستی میں بھی ہوتا۔ دوستی میں جب تک باہمی اعتماد برقرار رہتا ہے تب تک دوستوں کا عکسواضح اور ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جب باہمی اعتماد ٹوٹ جائے اور کم و بیش بحال بھی ہو جائے تو عکس دو ہی دکھائی دیتے پھر۔ دوستوں کی آرا میں یکجیہتی ختم ہو جاتی۔ ایسی دوستیاں پھر دیر پا نہیں چلتی بلکہ غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
    برائے کرم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو در گزر کریں تاکہ اعتماد کا آئینہ ٹوٹنے نا پائے۔

    @Imtiazahmad_pti

  • کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات    تحریر: زاہد کبدانی

    کورونہ وائرس اور پاکستان میں تعلیم پر اس کے اثرات تحریر: زاہد کبدانی

    کورونا وائرس نے پاکستان کا نظام تعلیم اور امتحانات کا نظام درہم برہم کردیا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام 20،2020 مارچ کو تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے ، کیونکہ کسی ملک کے نظام کی وجہ سے ، اس ملک سے سائنس دان ، ڈاکٹر اور انجینئر جتنے زیادہ آتے ہیں۔ COVID-19 کے وسیع پیمانے پر ، اور افراد کو گھر سے خود کو الگ تھلگ کرنے کی تاکید کی گئی۔ لاک ڈاؤن کا معیشت پر منفی اثر پڑا ، لیکن اس نے تمام تعلیمی سرگرمیاں بھی بند کردیں ، جس سے پوری دنیا میں طلباء کی تعلیم اورعلم میں ایک بہت بڑا فرق پڑ گیا۔ کسی بھی ملک کی ترقی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اس کا انحصار اس کے نظام تعلیم پر ہے۔ کورونا وائرس کی بہتر تعلیم جس طلباء نے جس نے سارا سال محنت کی اور وہ طالب علم جنہوں نے اپنا وقت ضائع کیا اور اپنے والدین کا پیسہ ضائع کیا۔ دونوں قسم کے طلبہ کو فروغ دیا۔ اس مقداری مطالعے کا مقصد پاکستان میں اعلی سطح کے طلبا کی تعلیم پر COVID-19 کے اثر و رسوخ کا تعین کرنا تھا۔ انٹرمیڈیٹ ، انڈرگریجویٹ ، گریجویٹ ، اور پوسٹ گریجویٹ لیول میں داخلہ لینے والے لرن کو پانچ نکاتی لیکرٹ اسکیل سوالنامہ دیا گیا تھا۔ سروے میں کل 74 افراد نے جواب دیا۔ ایس پی ایس ایس
    ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لئے 23 استعمال کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار نے اشارہ کیا کہ طلبا کو آن لائن کلاسوں کے دوران کلیدی موضوعات کو سمجھنے میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شاگردوں کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن کی کمی تھی اور ان کو آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی پیشگی ہدایت نہیں تھی۔ جب ایک ہی وقت میں آن لائن تعلیم کی بات آتی ہے تو اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس بات کا بھی پتہ چلا کہ اساتذہ کے باوجود طلبہ کو مطلوبہ اوزار اور آراء دیتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے پہلے سمارٹ نصاب دیا اور پھر بعد میں اعلان کیا کہ صرف تین مضامین کے کاغذات ہوں گے لازمی مضامین نہیں لئے گئے ، حالانکہ پاکستان اور اسلام کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں باقی سب کچھ چل رہا تھا لیکن صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے گئے؟ اب اساتذہ اور طلبہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سخت محنت کریں اور پچھلی تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہیوں کا مقابلہ کریں۔

    @Z_Kubdani

  • اندھیروں کا سفر  تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    اندھیروں کا سفر تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    قبل از اسلام اخلاقی اقدار کے انحطاط کا یہ عالم تھا کہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں زنا کا اقرار بھی کیا کرتے تھے اور زنا عربی معاشرے میں بڑے پیمانے پر عام تھا بلکہ بہت سے لوگ عورت کو زنا پر مجبور بھی کیا کرتے تھے۔ مگر
    اسلام نے اسکی ممانعت کر دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا
    اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں
    سورۃ النور آیت 33 ترجمہ تقی عثمانی صاحب
    اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا
    زمانہ جاہلیت میں مردوں نے نکاح کو بھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈال رکھا تھا ، اس زمانے میں زواج البعولتہ،
    زواج البدل ، نکاح متعین ،نکاح الخذان، نکاح شغار، نکاح الاستبضاع ، نکاح البغایا کا رواج عام تھا
    پھر عرب میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا ، اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں تاریخ ساز تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسلام نے دنیا کے مذہبی و سیاسی، علمی و فکری اور اخلاقی و معاشرتی حلقوں میں نہایت پاکیزہ اور دور رس انقلاب کی قیادت کی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں تک آفتابِ اسلامی کی کرنیں نہ پہنچی ہوں
    ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بنے والا ملک اسلام جمہوریہ پاکستان 27 رمضان 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، اور تب سے لے کر آج تک یہاں اسلامی قانون نافذ العمل نہیں ہوا لیکن تاریخی اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں روز اول سے لبرلزم کے نام پر عرب طرزِ زندگی گزانے پر زور دیتے ہیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، زمانہ جاہلیت میں عرب نے زنا کی کیلئے نکاح کے مختلف اقسام بنائیں تھے لیکن آج کل پاکستان میں لبرلزم اور آزادی کے نام فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں، 2020-21 میں ھم دیکھے تو بچیوں سے ذیادتی کی واقعات ہو یا عثمان مرزا، ضمیر جعفری جیسے کہانیاں اور واقعات ، ایک سروی کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور 8 بچوں کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
    خدارا اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پڑھائیں اور ان کو زمانہ جاہلیت کے رسومات سے دور رکھے ، کہی ایسا نہ ہو کہ ھم ترقی اور آزاد خیالی کی طرف بڑھتے بڑھتے زمانہ جہالت کے اندھیروں کی طرف نکل جائیں، اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہوں اور ھم سب کو نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
    اسلام ذندہ باد

    @DrNajeeb133

  • قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی اور سیکولر طبقے کا دوہرا معیار تحریر: محمد عبداللہ مزاری

    قربانی کے تین بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں،
    ١_اللہ سبحان وتعالی کی رضا
    ٢_سنت ابراہیمی کے مقدس فریضے کی ادائیگی
    ٣_غریب و نادار طبقہ کو تین دن مسلسل گوشت کی فراہمی شامل ہے
    اس عظیم خوشی کے موقع پر سیکولر طبقہ مختلف رائے رکھتا ہے ، اِن کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانی کرنے کے بجائے انہی پیسوں کو کسی اور فلاحی کام میں لگایا جائے ، اس سے لاکھوں جانوروں کی زندگیاں بچ جائیں گی اور فلاحی کام بھی ہوسکیں گی،
    معزز قارئین! انہی لبرل و سیکولر طبقے کو کیا واقعی جانوروں سے ہمدردی ہے ، یا نشانہ دراصل اسلامی ضابطہ حیات ہے؟
    اس سوال کا مختصراً جواب یہ ہے کہ، انہی لبرل و سیکولر مافیاز کو "سپین؛ میں جانوروں کے حقوق پر کبھی بولتے نہیں پایا گیا ، جہاں ہر سال چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیلوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ، بے زبان جانوروں کو اذیت ناک موت دے کر کہتے ہیں یہ تو بس ایک کھیل ہے.
    انہی لبرل مافیاز کے زبانوں پر اسوقت تو آبلے پڑ جاتے ہیں جب نیپال میں ہر پانچ سال بعد ہندؤں! کی جانب سے لاکھوں جانوروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، وجہ اپنے دیوی ماتا کو راضی کرنے کے لئے.
    معزز قارئین! جب ڈنمارک میں ہر سال سینکڑوں افراد ہزاروں ڈولفنز کو قتل کر دیتے، حتیٰ کہ سمندر کا رنگ سرخ پڑ جاتا ہے لیکن نہیں یہ بھی ایک کھیل ہی ہے اور ایک تہوار ہے ، لبرل مافیاز کا اس پر خاموشی کوئی اچنبھے کی بات نہیں.
    جب یہودیوں! کی جانب سے ہرسال ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پر مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے تو وہاں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ، ہاں کسی کو اعتراض ہے بھی سہی تو اسلامی اقداروں پر ہے .
    معزز قارئین! اگر اب بھی کسی کو جانوروں کی قربانی پر اعتراض ہے تو اسے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

    @AbdullahMazari12

  • اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    اتحاد امت تحریر : محمد بلال انجم کمبوہ

    *ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے*
    *نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر*

    امت مسلمہ میں اتحاد دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔
    ہمیں قومیت و فرقہ ورانہ کشیدگی سے بالاتر ہو کر ملت اسلامیہ کے لیے سوچنا چاہیے، ہمیں امت میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ظلم و بربریت کے خاتمے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ مظلوم و مجبور کی حمایت کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو کونے کونے میں پھیلانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

    *یہ اختلافات*
    بھی کوئی اختلافات ہیں، ان سب کو بالائے طاق رکھیں اور اللہ کا برکت والا نام لے کر اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے وقار کو بلند کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر قیمت پہ متحد ہونا چاہیے، اگر اس راہ حق پہ جان بھی قربان کرنی پڑے تو رائیگاں نہیں۔

    *اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*

    *”اللہ کی رسی (دین اسلام) کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقوں میں مت بٹو”* (العمران 103)

    کیا ہم فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں؟
    کیا ہم نے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑا؟
    کیا ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں؟

    *دین اسلام*
    اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اور کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی امانت ہے اللہ تعالیٰ اور حبیب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔۔۔۔
    اور ہم سب اس کے امین ہیں۔
    اس دین کی وجہ سے ہم ایک قوم ہیں اور فرد واحد کی طرح ہیں۔

    *حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *تم مومنوں کو آپس میں رحم کرنے، محبت رکھنے اور مہربانی کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسا کہ بدن۔ جب بدن کا کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعضاء اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں اور بیماری اور بخار میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔* (بخاری مسلم عن نعمان بن بشیر (رض))

    دین اسلام کی وجہ سے اخوت کا رشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا ہے۔ اس رشتے کے مقابلے میں باپ بیٹے اور بہن بھائی جیسے سب رشتے کچے دھاگے کی مانند ہیں۔
    دو ارب مسلمان اور رشتہ اخوت۔ یہ ہے ملت اسلامیہ۔۔ حق و انصاف کی علمبردار۔۔۔۔
    مگر افسوس!!!!
    یہ مرکز دور کیوں؟
    یہ انتشار کیسا؟
    یہ جدائیاں کیوں؟
    یہ خرابیاں کیسی؟
    یہ سب ایک کیوں نہیں؟
    یہ مصنوعی دیواریں کیسی؟

    ملت کا ہر فرد اور اسلام کا ہر فرزند اس کا جواب دے ان کو کون منہدم کرے گا؟
    ان مصنوعی فاصلوں کو کون ختم کرے گا؟

    *ہے کوئی جمال الدین افغانی؟*
    *ہے کوئی صلاح الدین ایوبی؟*
    *ہے کوئی محمد بن قاسم؟*
    *ہے کوئی طارق بن زیاد؟*
    *ہے کوئی محمود غزنوی؟*
    *ہے کوئی شہاب الدین غوری؟*

    سامنے آؤ!!!!
    ملت تمہیں پکار رہی ہے۔۔

    *اے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں!!!*

    ہمارا مرکز استنبول، قاہرہ، دمشق، ڈنمارک، واشنگٹن، شنگھائی، لندن،پیرس، جکارتہ، راولپنڈی، کابل یا دہلی نہیں۔۔۔۔۔
    مکہ معظمہ کو مرکز مانو!!
    کعبہ کو مرکز تسلیم کرو۔۔
    جس کو اللہ تعالیٰ نے مرکز بنایا ہے۔

    اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ
    تعمیرِ خلافت پیدا کر

    کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے
    اب ایک جماعت پیدا کر

    کر تو بھی ترقی دنیا میں
    اسبابِ تجارت پیدا کر

    قارون کی دولت ٹھکرا دے
    عثمان کی دولت پیدا کر

    اسلام کا دم بھرتا ہے
    کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے

    یا تو اسلام کا نام نہ لے
    یا شوقِ شہادت پیدا کر

    *آؤ*
    عالم اسلام کو ایک کرو۔ اسلام کی شمع کو روشن کرو۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرو۔ انسانوں کے لئے ایسا معاشرہ قائم کرو جو ظلم و زیادتی سے پاک ہو، جہاں انصاف کا بول بالا ہو!!!۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کا پیغام گونجے۔۔
    جہاں وہ نظام رائج ہو جو اسلام کا بنیادی نظام ہے۔۔

    *اے مسلمان!!!!!!*
    اے قیصر و کسریٰ کی بلندوں بالا سلطنتوں کو روندنے والے! تو نے مغرب کی وادیوں میں اذانیں دیں۔۔۔ روم کی جاہ و حشمت کو پارہ پارہ کیا۔۔۔ چین و فرانس کی سرحدوں کو چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے ہی قسطنطنیہ کا آہنی حصار توڑا۔۔۔۔۔۔
    ہسپانیہ میں اسلامی دبدبے کا سکہ تو نے ہی بٹھایا۔۔۔۔۔۔

    آج تو بے بس ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟
    آج کفر غالب ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں؟

    کفر تو مغلوب ہوتا ہے۔۔۔

    *اے سوئے ہوئے مسلمان!!!*
    بیت المقدس پہ یہودی قابض ہیں۔۔۔۔
    مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔۔۔۔
    ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔۔۔۔
    کشمیر و فلسطین جل رہا ہے۔۔۔۔
    افغانستان اور فلسطین کے مہاجرین دھکے کھا رہے ہیں۔۔۔۔
    عالم اسلام جل رہا ہے۔۔۔۔۔
    اور تو خاموش ہے۔۔۔۔۔

    *مگر*
    تو اب بھی پہلے پاکستانی ہے۔۔۔۔۔ افغانی یا بنگالی ہے۔۔۔۔
    عربی یا عجمی ہے۔۔۔۔۔
    اور بعد میں مسلمان!!!!!
    ایک صدیوں سے سویا ہوا مسلمان!!!!

    کیا تو اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ، کھوئی ہوئی عظمت، کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    *تو آ* !!!
    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہو،
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو پھر سے زندہ کر۔۔۔۔۔۔
    پہلے مسلمان بن۔۔۔۔
    پھر افغانی، پاکستانی، عربی، عجمی، بنگالی بن۔۔۔۔۔۔

    سب اختلافات کو ختم کر کے ایک مرکز پر متحد ہوجاؤ، یہ کفار آپ کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔۔۔
    آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کے لیے متحد ہوجاؤ اور پوری دنیا پہ چھا جاؤ۔۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپس میں متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔

    *اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر*
    *خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی*
    *ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار*
    *قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری*
    @ibn_e_Adam424

  • مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    مروت .تحریر : فضیلت اجالہ

    ایک ایسا لفظ جو آج کی لڑکی کے لیے سب سے نقصان دہ ہتھیار بن چکا ہے وہ ہے مروت ،اس ایک لفظ کے چکر میں بہت سی لڑکیاں پہلے پہل تو اپنے آرام و سکون کو داؤ پر لگاتی ہیں، لیکن پھر رفتہ رفتہ بات یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ عزت تک کا سودا کرنا پڑ جاتا ہے۔۔۔۔

    زندگی میں بہت سے مقامات پر "نہیں ” کہنا بہت ضروری ہوتا ہے،بلخصوص ایک لڑکی کے لیے۔۔۔
    یاد رکھیے۔۔
    ہماری مروت کے حقدار صرف ہمارے محرم رشتے ہیں”اور بس۔۔
    انکے علاوہ اس دنیا کا کوئی غیر محرم اس لائق نہیں ہے کہ اسکی مروت میں آ کر، یہ سوچ کر کہ اسے کہیں برا نہ لگ جائے۔۔۔
    ہم اسکی کسی الٹی سیدھی بات پر منہ نہ توڑ سکیں۔۔۔

    زمانہ اتنا شاطر ہو چکا ہے کہ گھر بیٹھی عزت دار معصوم لڑکیوں کو ورغلانے کے ہزاروں نسخے لیے پھرتا ہے۔۔۔

    ہم یہی سوچتی رہ جاتی ہیں میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔۔
    یا میرے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا اور ہماری اسی بیوقوفی میں ہمارے ساتھ سب ہو جاتا ہے ۔۔تباہی کے دھانے پر کھڑی لڑکیاں اسی معاشرے میں ہوتی ہیں۔ہم جیسی ہی ہوتی ہیں۔اور سب سے اہم "آسمان سے نہیں اترتی، ہم میں سے ہی ہوتی ہیں۔”

    جاگ جائیے۔۔۔
    بھائی کہہ دینے سے کوئی آپکا بھائی بن نہیں جاتا۔۔۔
    آپکا بھائی صرف وہی مرد ہے جسے اللّٰہ نے تخلیق کر کے بھیجا ہے۔۔۔
    باقی خود کو بہلانے کے طریقے ہیں تو شوق سے بہلیے۔۔۔ لیکن پھر اس دن کا انتظار کیجئے جب آپکے ہاتھ میں پھسلتی ریت کی طرح کچھ نہیں بچے گا۔

    اب بہت سے زہنوں میں
    ایک سوال آتا ہے کہ آخر "نہیں ” کہنا کب ہے۔۔۔۔

    تو سنیے
    ایک سادہ سا فارمولا ہے اسکا ۔۔۔

    جب آپ کو لگے کہ کوئی انسان آپکے کمفرٹ زون میں داخل ہو رہا ہے۔۔اسکے آپ کی زندگی میں ہونے کی وجہ سے آپ کچھ ایسے کام کرنے جا رہی ہیں جو زندگی میں آج تک نہیں کیے، جو آپکی حد سے باہر تھے۔یا کچھ ایسا جسے آپ فخر سے سب کے سامنے بیان نہیں کر سکتی۔۔
    تو خدارا کسی کو وہ حدود کراس کرنے کی اجازت نہیں دیجیے ۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جب ایک عزت دار لڑکی نے مقابل کو شٹ اپ کال دینی ہوتی ہے۔۔۔
    یا سادہ الفاظ میں کہوں تو "نہیں ” کہنا ہوتا ہے۔۔۔

    اور یہ "نہیں ” کسی کو بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
    "کسی کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
    اپنے جاننے والوں کو ۔۔۔
    ملنے ملانے والوں کو ۔۔۔
    کزنز کو ۔۔۔
    کولیگز کو ۔۔۔
    سوشل میڈیا پر قدم قدم پر ملتے بھائیوں کو
    زندگی میں کہیں پر بھی
    اپنے اندر کسی کی غلط بات پر اسکا منہ توڑنے کی ہمت پیدا کریں ۔یوں ہاتھ جھٹکیں کہ مقابل کو ایسا کرنٹ لگے اور اسکا ہاتھ ایسا مفلوج ہو کر رہ جائے کہ دوبارہ کبھی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکے۔۔
    ہماری مقدس کتاب میں ربِ کعبہ نے فرما دیا کہ؛

    "يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا”

    "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللّٰہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اور تم اچھی بات کہو۔۔۔”

    (سورہ احزاب۔ آیت 32)

    اس آیت میں پہلے تو امہات المؤمنین کی برتری بیان کی گئی۔۔۔ لیکن ساتھ جو ہدایت دی گئی علماء کے مطابق اس کا اطلاق تمام مومن عورتوں پر ہوتا ہے۔۔۔
    یہ قاعدہ ربِ کریم نے سب خواتین کے لیے مختص کیا ہے۔۔۔
    یعنی ہمارے خدا نے تو حد بندی کر دی کہ غیر سے بات کرنے کے لیے لہجہ سخت کر لو۔۔
    لیکن پھر ہم نے کیا کیا؟
    ہم نے تو اپنا الگ ہی معیار مقرر کر لیا۔

    اونچے عہدے والے سے ہنس کر بات کرنی ہے اور رکشے والے سے سختی سے بات کرنی ہے۔۔۔

    سوشل میڈیا پر ایڈمنز سے مسکرا کر بات کرنی ہے اور ممبران کی بار حدود یاد آ گئی۔۔۔

    سمجھدار لگ رہا ہے تو اچھا امپریشن دینا ہے، ایویں سا ہے تو بھاڑ میں جائے۔۔۔

    بڑی عمر کے انکل جی کا تو دل نہیں دکھا سکتے ناں ہم۔۔۔
    ان سے تو ویسے ہی پیار سے بات کرنی ہو گی۔۔۔
    وہ الگ بات ہے کہ آجکل اکثر انکل جی ہی "پیا جی” بن بیٹھتے ہیں۔۔۔
    مرد کو تو خود کو اچھا اور ڈیسنٹ شو کروانا ہی ہے۔۔ اور ہم ٹھہری بھولی بھالی مخلوق۔۔۔
    ہاں یہ بھی سچ ہے کہ اکثر لڑکیاں بھائی کا لفظ احتراماً نہیں، احتیاطً ہی استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔۔

    لیکن بھئی ضرورت کیا ہے اس سب کی۔۔
    اس مروت کے ڈھونگ کی۔۔
    جن محرم رشتوں میں مروت اور لچک دکھانی ہے وہاں آجکی لڑکی کو اپنے دو نمبر حقوق کی بناء پر زبان چلانی ہے،اور جہاں سختی دکھانی ہے وہاں اتنی لاچاری۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
    آپ یہ کیسے بھول سکتی ہیں کہ کردار کا آئینہ ایک بار ٹوٹ گیا تو لاکھ ایلفیاں لگانے پر بھی یہ کبھی نہیں جڑ پائے گا۔۔۔۔
    "اس ایک لفظ "مروت” کے چکر میں آپ اتنی کمزور نہیں بن سکتی کہ کوئی آپ سے کھیل جائے اور آپ بھیگی بلی کی طرح کھی کھی کرتی رہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔”

    تلخ الفاظ کے لیے پیشگی معذرت۔۔۔۔
    لیکن اس میں بڑا سبق ہے۔۔۔
    اگر سمجھیں تو
    یا

    "اگر سمجھنا چاہیں تو۔۔۔۔
    @_Ujala_R

  • عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان   تحریر : فجر علی

    عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان تحریر : فجر علی

    کہتے ہیں ہر عروج کو زوال ہے ۔پر میرے خیال سے نہیں جنہیں اللہ چن لیتا ہے انہیں صرف عروج ہی عروج حاصل ہے ۔ان کی زندگی میں زوال کا ز تک نہیں آتا ۔وہ اس لئے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔حاکمیت،محبت،دانشمندی،صادقت نرم دل شجاعت حوصلہ ثابت قدم، نڈر،دلیر ایمان کی طاقت خود پر یقین انا پرست مددگار خدمت خلق ۔حسن اخلاق خوبصورتی شہرت تعلیم محبت کرنے والے چاہنے والے لوگ یہ سب خصوصیات کا حامل ایک شخص کیسے ہو سکتا ہے؟
    بیٹا تھا تو ماں سے محبت کی انتہا کردی۔۔
    طالب علم تھا تو اپنے استاد کا پیارا قابل لائق جب اپنی تخلیقی قابلیت پر یقین ہوا تو ملک کا نام روشن کیا کہ اس کے بعد ایسی ہمت کوئی نہ کرسکا ۔اللہ کسی ایک ہی انسان کو اتنی خوبیاں کیسے نواز سکتا ہے
    ۔وہ اپنے حسن سے بہت سے لوگوں کو گرویدہ کرچکا ہے ۔اس کے حسن سے جوان کیا بوڑھی کیا ہر عمر کی خاتون متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔
    حسن یوسف سنا تھا لیکن اللہ نے حسن یوسف کی ایک تجلی ہمیں عمران خان کے روپ میں عطا کی ۔
    یہ شخص ایک جادو گر ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو انسان سنتے سنتے تھکتا نہیں ۔اس کا بات کرتے شرمانا نظریں جھکا کر بات سننا ۔کیا اتنے اخلاق والا انسان کوئی ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ۔
    وہ اس قدر ہمددر انسان پایا ہے کہ اپنی ماں کو کینسر جیسے مہلک مرض میں کھونے کے بعد اس نے اپنی ماں کے نام کا ہسپتال بنا دیا ۔محبت کی ایسی مثال آج تک انگریزوں میں یا مغل بادشاہ کی دیکھی ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر تاج محل بنوایا ۔لیکن یہاں محبت کی ایک لازوال داستان رقم کی تو ایک ایسے نواجون نے جس کی ساری زندگی بے مروت عیاش پسند لوگوں میں گزری جس نے دنیا کی سب رنگینیاں دیکھیں ۔جس نے اپنے حسن اور سحر سے لوگوں کو دیوانہ بنایا ۔

    ماں کی محبت اس کے دل سے کبھی ختم نہ ہوئی اسی لیے اس نے اپنے ملک پاکستان میں کینسر ہسپتال بنائے اور اپنی تمام تو جمع پونجی اس کی تعمیر و ترقی پر لگا دی ۔تاکہ دوسرے بچوں کی ماوں کی زندگی بچ سکے ۔اتنا ہمدرد انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔

    وہ شوہر بنا تو اپنی بیوی کا محبوب ۔
    اللہ کو شاید اس سے مزیدکوئی کام لینا تھا اسی لیے اس کی شادی ایک غیر مسلمان خاتون سے ہوئی جس نے اسکی خاطر خود کو بدلا اپنا مذہب بدلا لیکن معاشرے کے ایسے لوگ جو دوسروں کو کافر اور مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ تھماتے تھے وہ ان کی جدائی اور پاکستان سے نکلنے کا باعث بنا یوں ایک خوبصورت محبت کرنے والے میاں بیوی الگ ہوگئے ۔یہ وقت اس کڑیل جوان کے لیے شاید بہت سخت امتحان والا تھا جہاں اپنی محبوب بیوی سے ہمیشہ کہ واسطے علیحدگی اختیار کرنا پڑی ۔۔

    اپنے خوبصورت معصوم بچوں کی جدائی برداشت کرنا کسی کے لیے آسان کام نہیں ۔۔اس نے اپنی زندگی میں جس چیز کا ارادہ کیا اسے اللہ کی مدد اور اس کے حکم سے حاصل کرلیا ۔۔ میں نے اسےاپنے ارادوں میں مربوت پایا ۔۔پاکستان کے لیے ورلڈ کپ حاصل کیا پھر کینسر ہسپتال بنایا اور یہاں غربا کا مفت علاج کا ذمہ اٹھایا ۔
    اس ہسپتال کا عملا انتہائی حسن اخلاق والا وہ نہیں دیکھتے کہ یہ مریض پیسے والا ہے تو اس سے ادب سے پیش آنا ہے یا یہ غریب ہے تو اس کے ساتھ سخت رویہ رکھنا ہے ۔ایسے اصول وضوابط لاگو کئے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے ۔۔
    اس مرد مجاہد نے نہ صرف اپنے غریب لوگوں کی صحت کا خیال کیا بلکہ اپنے ملک کے بچوں کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی بنائی جو دنیا کی یونیورسٹیز میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔اس شخص سے نفرت کرنا بھی چاہیں تو نہیں ہوتی ۔۔کیونکہ میرے سامنے اس کی زندگی کے تمام واقعات موجود ہیں ۔
    میرا بچپن اس بےباک نڈر سپاہی کو دیکھتے گزرا ۔لوگوں کی زبانوں سے اس کے لیے محبت و عزت کے الفاظ سنے اخبارات اور میگزین اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے تھے ۔اور آج بھی یہ شخص ہر اخبار اور میگزین کی ہر خبر میں موجود ہے ۔۔
    اس کا ماضی اور حال ایک سا ہے ۔وہ اپنے ملک پاکستان کی خستہ حالت پر رنجیدہ رہتا اور اپنے ملک کی بگڑی صورت کو ٹھیک کرنے کا جب اس نے ارداہ کیا تو اللہ کی مرضی سے اس کے انتخاب کرنے پر وہ اس اسلامی دولت پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ۔۔اس کی زندگی کے تمام ادوار میں مجھے اس سے نفرت نہیں ہوسکی ۔دل چاہے بھی تو اسے برا کہنے کو دل نہیں مانتا ۔دل اس کی بات پر یقین کئے چلے جاتا ہے ۔۔
    کیونکہ یہ وہ شخص ہے جسے میرے اللہ نے تحفہ کے طور پر ہم نازل کیا ۔اس کی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ وہ تمام تر دشمنوں خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر تن تنہا لڑ رہا اور تھکتا نہیں ساتھ ہمیں بھی تلقین کرتا کہ ہارنہیں ماننا مشکل سے مشکل وقت میں اسکا ڈٹ کے مقابلہ کرنا ۔جھکنا نہیں کسی کے سامنے ۔
    اور اللہ اس مہربان عمران احمد خان نیازی میرے کپتان کو ہمشیہ سرسبز شاداب و وادیوں کی طرح سلامت رکھے ۔آمین

    @FA_aLLi_

  • اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے  تحریر : آصف شاہ خان

    اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے تحریر : آصف شاہ خان

    *اختلاف امت پر آخر کب تک ہم لڑتے رہینگے ؟*

    یہ کالم میری زاتی رائے اور بحثیت شریعہ کے طالب علم زاتی تجربے پر مبنی ہے۔ آپ کا متفق ہونا یا اس سے اختلاف رکھنا دونوں میرے لیے قابل قدر ہیں۔ آپ کا متفق ہونے سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور آپ کا اختلاف رکھنا میرے علم میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہم آخری امت کی ہدایت کے لیے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا انتخاب کرکے بھیجا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو تبلیغ دینا شروع کی تو پہلے کم لوگ تھے جو ان کے قریب تھے ایمان لائے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ لوگ بھی شامل ایمان ہونے لگے جو دور دراز علاقوں سے تھے۔ ان ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو زندگی میں صرف ایک بار دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم رحمت العالمین تھے اور وہ چاہتے تھے کہ میری امت کو اللہ کے احکام کرنے میں آسانی ہو تو اس غرض سے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے احکام کو عملی شکل میں لایا گیا۔ وہ اصحابہ اجمعین جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر ہوتے تھے وہ بہت کم تھے اور اس کے بجائے وہ اصحابہ اجمعین زیادہ تھے جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر موقع پر موجود نہیں ہوتے تھے۔ اس وجہ سے ان اصحابہ کرام نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک حکم کے مختلف طریقوں سے کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں دین اسلام بتدریج نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اصحابہ، اصحابہ اجمعین سے تابعین، تابعین سے تب تابعین اور پھر اس طرح ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا ہے۔ اس طرح ہمیں وہی اسلام پہنچ گیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کسی صحابی نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا ہوگا۔ اور اس صحابی رسول سے ہوتے ہوتے ہم تک پہنچ گیا۔ اور اس طرح میری قریب رہنے والی فیملی کو شاید کسی اور صحابی سے بتدریج پہنچ گیا ہو ۔ اب اگر ہم دونوں کے پاس دلائل موجود ہو تو پھر ہم لڑ کیوں رہے ہیں؟ کیوں ہم امت مسلمہ کو توڑنے کا سبب بن رہے ہیں؟ کیوں ہم آندھی تقلید میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائی کے خون کے پیاسے بن رہے ہیں؟ میرا قاری سوچ رہا ہوگا کہ پھر تو سارے فرقے ٹھیک ہیں، اس کے لیے میں یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہاں سب ٹھیک ہے اس حد تک جب تک ان کے پاس قرآن اور حدیث سے دلیل ہو۔ کیوں کہ دین اسلام کے کوئی بھی فعل کے تولنے کے لیے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔ اگر کوئی فعل اس ترازو پر تولے ٹھیک ہو تو پھر اس پر خود بھی عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس سے مطمئن نہیں ہو جو دوسرے گروہ کا ہو آپ بیشک اس سے اختلاف رکھے لیکن خدارا اپنے ان لوگوں کے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں ان کے آندھی تقلید میں اس وطن عزیز کا اور دین اسلام کا امن خراب نہ کریں۔ ہمارا اصل مسلہ علم کی کمی ہے اور ان لوگوں کی آندھی تقلید ہے جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ میں شریعہ کا ایک معمولی طالب علم ہوں۔ ایک زمانہ تھا میں نے فقہ وغیرہ نہیں پڑھا تھا، میں سوچتا کہ میرا عقیدہ ٹھیک ہے باقی سب غلط راستے پر ہیں۔ لیکن جب تھوڑا بہت پڑھ لیا تو معلوم ہوا کہ سارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔ ان سب کے پاس ہر حکم کیلئے دلیل ہوتی ہے۔ بغیر دلیل کے حکم لاگو نہیں کرتے ہیں۔ ہاں بعض جگہ انسان غلطی کرسکتی ہے لیکن زیادہ اختلاف کے مسائل میں سب کے پاس دلیل موجود ہے۔ میں جو دوسروں کو کافر سمجھتا تھا یہ دراصل میرا جہالت تھا۔
    اس اختلاف امت کے مسلے سے جو مسائل جنم لیتے ہیں ان کے لیے جلد از جلد حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ان مسائل سے آے روز کوئی نہ کوئی لڑائی ہوتی ہے ۔ ان مسائل کی وجہ سے کچھ اندھے مقلدین اس حد تک جاتے ہیں کہ دوسرے کی زندگی تک لے لیتے ہیں۔ اس سے دشمنیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ملک و دین دونوں کا پر امن ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
    اس کے حل کیلئے میری زاتی رائے یا یوں سمجھئے کہ تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت ان علماء کو اکٹھا کرکے جن کے پاس علم ہو اور معتدل ہو اور وہ مختلف پلیٹ فارم سے عوام کو سمجھائے کہ ہم جو طریقہ اپنا رہے ہیں کسی خاص حکم میں بحثیت فلاں مکتبہ فکر تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے لیکن یہ دوسرا مکتبہ فکر جو طریقہ اپنا لیا ہے اس کے پاس یہ دلیل ہے لہذا آپ لوگ وہی کرلے جس کی دلیل آپ لوگوں کو اچھی لگے۔ لیکن آپس میں جھگڑے کرنے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں اور نہ اس دین کی تعلیمات ہیں جس کے لیے تم آپس میں لڑ رہے ہو کہ آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑیں۔ اور علماء بھی کوشش کرے کہ سارے دلائل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔ کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارے لئے دین کے مسائل کیلئے ترازو قرآن اور حدیث ہے۔
    اللّٰہ ہمیں ان اختلافی مسائل سے پیدا ہونے والی نفرتوں سے نجات دلادے اور اللّٰہ پاکستان کو دین اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
    (آمین)
    _________________________
    twitter.com/@IbnePakistan1