Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم نے پڑھے لکھے جاہل کی اصطلاح تو بہت بار سنی اور سمجھتے بھی ہیں.
    مگر یہ پڑھے لکھے بے کار کیا بلا ہے
    ہم اگر آج سے دس بیس سال پیچھے چلے جائیں تو خال خال گریجوایٹ ہوا کرتے تھے.ہر گھر سے کوئی ایک کالج یا یونیورسٹی جانے والا ہوتا تھا.
    مگر اب پرائیویٹ اداروں کی بھرمار نے نقشہ بدلا پڑھے لکھے اور بلخصوص کالج اور یونیورسٹی جانے والوں کی "تعداد” میں نمایاں اضافہ ہوا.
    اور اب ہر گھر میں گریجویٹ ملتا ہے.
    ان اعدادوشمار پہ خوشی تو ہوتی ہے مگر ایک دکھ کی کیفیت طاری رہتی ہے
    کہ تعداد تو بڑھ گئی معیار نہ رہا
    ڈگریاں تو آگئیں ہنر نہ رہا
    ہمارے کمزور اور بے ہنر ہاتھوں کی کرامت ہے کہ ہم سے رہبری چھن گئی ہے
    آج چودہ سولہ سال پڑھنے لکھنے کے بعد بھی ہم بے ہنر رہ جاتے ہیں.
    ہم اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی محتاج اور سراپا احتجاج بنے رہتے ہیں

    کرونا وباء نے جہاں تعلیمی ادارے بند کروائے وہیں تعلیمی معیار کی قلعی کھول کے رکھ دی کہ ہزار پڑھے لکھوں نے مل کے وہ نہ کمایا جو ایک ہنر مند نے کما لیا.
    فری لانسنگ اور ای کامرس میں ہنر کی ضرورت اور اہمیت نے ہمیں جھنجوڑ کے رکھ دیا
    کمانے کے لیے ایسی راہیں کھولیں جن پہ ڈگریوں والے ڈگمگا گرے اور ہنر والے بازی لے گئے
    ڈگری کے حصول کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ڈگری پروگرامز وقت کا ضیاع ہیں اور ہمارے جوان یونیورسٹیوں سے محض کاغذ کا ٹکڑا حاصل کر. کے نکلتے ہیں.
    آزاد چائے والا کے فلسفے کو سو بٹہ سو نمبر دیتے ہوئے تائید کروں گی کہ ڈگری سے بہتر ہنر ہے
    اب ہنر کو محض ویلڈنگ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے تو جو کام آپ اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کرتے ہیں اسکا مقابلہ کوئی ڈگری نہیں کر سکتی.
    ہمارے تعلیمی نظام کے تمام نقائص میں سب سے بڑا نقص پریکٹیکل کی کمی ہے.چین اور جاپان کے سکول سسٹم سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے
    جہاں طلباء حصول علم کے ساتھ گھرداری بھی سیکھتے ہیں .
    ہم پڑھ لکھ کر بے کار ہیں کیونکہ ہم نے صرف پڑھا ہے اس کو کہیں استعمال میں لانے کے لیے ہمارے پاس گراؤنڈ ہی نہیں تھا نہ ہی پریکٹس.
    علم اور ہنر کو جب تک لازم و ملزوم کر کے تعلیمی نظام کو ازسرنو تعمیر نہیں کیا جاتا ہم
    پڑھے لکھے بے کار پیدا کرتے رہیں گے.جو گلے شکوے اور شکایات کے ساتھ ٹائر جلایا کریں گے.
    عمل سے زندگی بنتی ہے ….

    @hsbuddy18

  • اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام جب وجود میں آیا تو اللّه تبارک و تعالی نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام کو دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کیلئے بھیجا اور انکی اس دعوت و تبلیغ کے لیے کچھ مخصوص لوگ چنے،
    اسی طرح جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپکو جب نبوت سے نوازا گیا تو آپﷺ کے اس مشن کیلئے جو لوگ چنے رب العزت نے وہ حضرات صحابہؓ کی جماعت تھی اور صحابہ کرامؓ کی تعداد کم و بیش چونتیس ہزار بتائی گئی ہے بعض روایات میں یہ وہ جماعت تھی جن کی تربیت براہ راست میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔۔
    صحابہ کرام رضوان اللّه تعالی علیہم اجمعین میں بھی ہر صحابیؓ کو الگ الگ درجہ حاصل ہے جس میں عشرہ مبشرہ دس خوش نصیب صحابی رسولؑ بھی موجود ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنّت کی بشارت سنا دی گئی تھی جن کے نام یہ ہیں
    ابو بکر
    عمر
    عثمان
    علی
    طلحہ بن عبید اللہ
    الزبیر بن العوام
    عبدالرحمن بن عوف
    سعد بن ابی وقاص
    سعید بن زید
    ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ

    یہاں عوام الناس کچھ غلط فہمیوں کا شکار بھی رہی ہے کہ اگر یہ صحابہ کرامؓ جنتی ہیں تو کیا باقی جنتی نہیں ہے؟
    تو یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا صحابہ کرامؓ میں بھی ہر صحابیؓ کو اپنا الگ مقام حاصل ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں حضور اکرمﷺ کے سارے صحابہ کرامؓ جنتی اور معیار حق ہیں۔
    انبیاء علیہ السلام کے بعد
    صحابہ کرامؓ میں سب سے افضل مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور حضورﷺ کی پیروی میں گزاری اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے آپؓ نے حضورﷺ کی موجودگی میں انکے کہنے پر امامت بھی کروائی اسی طرح حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ جن کی شان یہ تھی کہ رب العزت نے انہیں حضورﷺ کی دعا کے مانگنے پر ساتھی چنا اور حدیث کی متعدد روایات میں محمد عربیؐ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔۔
    اسی طرح حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی شان دیکھیں جنہیں دو نور والا لقب حاصل ہے آپؓ کے نکاح میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی جب فوت ہوئی آپﷺ نے دوسری بیٹی نکاح میں دی اور جب دوسری بھی فوت ہوگی تو آپؐ نے فرمایا اگر میری اور بیٹیاں بھی ہوتی تو وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دیتا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن سے اللہ پاک بھی حیا کرتے ہیں اور قیامت کے روز آپؓ کی شہادت
    کی گواہی قرآن مجید دے گا۔۔
    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ جنکو حیدر کرار کا لقب حاصل ہے
    آپؓ کی شجاعت اور بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آپؓ وہ صحابی ہیں جنہوں نے فتح خیبر کے موقع پر خبیر کا دروازہ اکیلے کھولا جو اس وقت بیس سے تیس لوگ بھی مل کر نہیں کھول سکتے تھے آپؓ کے نکاح میں خاتون جنت اور لخت جگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا تھی۔
    اسی طرح پھر سیدنا امیر معاویہؓ جنہوں نے شام و روم کو فتح کیا آپؓ کو کاتب وحی کا لقب حاصل ہے آپؓ زہین اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور رشتے میں پوری امت مسلمہ کے ماموں لگتے ہیں آپ کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ جب فتح مکہ ہوا تو حضور اکرم صلی وسلم نے فرمایا جس نے ابو سفیان کے ہاں پناہ لی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا،
    یہ تاریخ کا ادنا سا حصہ صرف بتایا ہے بلکے ادنا سے بھی ادنا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی پر خدا کی قسم ہزاروں کتب بھی لکھی جائے کم ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور حضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین

    @SyedUmair95

  • آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی

    آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں حلقہ ایل اے 16 شرقی باغ کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا تھا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تاہم اب آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 16 کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر آج دوبارہ پولنگ ہوگی ان پولنگ اسٹیشنز پر 25 جولائی کو ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوسکی تھی، جس کی وجہ سے اس حلقے کے نتائج روک لئے گئے تھے باغ میں دیگر 2 پولنگ اسٹیشنز پر بیلٹ پیپر جلانے کے بعد پولنگ نہیں ہوئی تھی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاروں پولنگ اسٹیشنز پر مجموعی طور پر 2 ہزار 300 ووٹ رجسٹرڈ ہیں پی ٹی آئی کے امیدوار سردار میر اکبر اور پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار قمر زمان کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے-

  • عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک  تحریر : سیف اللہ عمران

    عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان انصاف انصاف (پی ٹی آئی) انصاف کیلئے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد پر قائم ہوئی
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد زمان پارک ، لاہور میں 25 اپریل 1996 کو ورلڈ کپ کے فاتح ، فلسفی اور سماجی کارکن پاکستانی کرکٹر عمران خان نے رکھی ۔
    پی ٹی ائی نے انصاف تحریک کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور پاکستان میں صحت ، تعلیم ، شہری ، بہبود اور اظہار رائے کی آزادی ، روزگار، مذہبی اہلیت ، باہمی فرقہ وارانہ نقصان کے بارے میں ریاست کی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور بیدار کرنا شروع کیا۔ اس کی توجہ پاکستان میں سماجی اور سیاسی ترقی پر ہے۔ تحریک انصاف قابل اعتماد جمہوریت ، حکومت میں شفافیت اور رہنماؤں کے احتساب کے ذریعے پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے پرعزم

    پی ٹی آئی نے 1996 میں ابھرتے ہوئے عمران خان کی سربراہی میں 6 رکنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ پی ٹی آئی نے 1997 کے عام انتخابات میں ایک نئ جماعت کی حیثیت سے حصہ لیا ، اگرچہ تحریک انصاف عام انتخابات میں جیتنے میں ناکام رہی۔ لیکن تحریک انصاف نے ثابت کردیا کہ وہ مستقبل میں دوسری جماعتوں کے لئے خطرہ

    2002 عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے دو سیٹیں جیتیں ، ایک میانوالی سے ایک عمران خان نے اور دوسری نصیر گل نے

    تحریک انصاف نے 18 فروری 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

    اس کے بعد عمران خان نے 30 اکتوبر 2011 کو لاہور میں ایک جلسئہ کیا جس میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔

    2013 میں ، تحریک انصاف نے انتخابات میں حصہ لیا اور وہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔
    لیکن خیبرپختونخوا صرف حکومت بنا سکی اور پنجاب میں مقابلہ کیا لیکن اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی
    جبکہ خیبر کی صوبائی اسمبلی میں ، پرویز خٹک کی سربراہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی حیثیت سے مخلوط حکومت تشکیل دی گئی۔

    2013 ء الیکشن میں ن لیگ دھاندلی کر کے جیتی تھی خان نے ن لیگ کی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی ۔
    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ چاروں حلقوں این اے 57 ، این اے 110 ، این اے 122 اور این اے 125 میں آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کروائے۔
    پی ٹی آئی ریسرچ ونگ نے یہ ثابت کرنے کے لئے 2100 صفحات پر مشتمل کتابچہ تیار کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
    پی ٹی آئی نے الیکشن کے اختتام کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توجہ مبذول کروانے کے لئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے۔ عمران خان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ کو ملک کی معزول عدلیہ کو اس کے نتیجے کا نوٹس لینا چاہئے۔
    تمام قانونی فورموں سے مایوس پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر 22 اپریل 2014 کو مستحکم انتخابات کے خلاف اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
    احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسکے بعد پی ٹی آئی نے چودہ اگست 2014 کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا۔ جو 126 دن تک جاری رہا 💞
    2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اور خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم حلف لیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی حکومت قائم کی۔
    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک غالب پوزیشن سمیٹی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان کی سربراہی میں اپنی ایک صوبائی حکومت تشکیل دی۔
    پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف نے اپنی مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔انتخابات میں 16.8 ملین ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔

    2020 کے گلگت بلتستان انتخابات میں ، گلگت کے غیرت مند لوگوں نے تحریک انصاف کو انتخابات میں جیتوا کر حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا۔

    اور اب عمران خان نے 25 جولائی 2021 کشمیر انتخابات میں مخالفین کو کلین بولڈ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی 26 سیٹوں کے ساتھ حکومت بنا رہی ہے
    کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات میں ، پی ٹی آئی نے سادہ اکثریت حاصل کی ، کپتان کے کھلاڑیوں نے 45 میں سے 26 نشستوں پر اپنے مخالفین کو شکست دی۔

    اور اور آخر پر اہم بات جہاں سے گیم پلٹی وہ یہ کہ عمران خان نے بات 4 حلقوں سے شروع کی تھی جو پھر وفاق سے شروع ہوئی اور وہاں سے ہوتی ہوئی 4 صوبوں کی حکمرانی تک آگئی ہے✌️وفاق ، پنجاب ، بلوچستان، گلگت کے بعد اب آزاد کشمیر بھی لے لیا✌️🤗

    @Patriot_Mani

  • ہر ایک سے سیکھیے  تحریر: حُسنِ قدرت

    ہر ایک سے سیکھیے تحریر: حُسنِ قدرت

    میری عادت ہے کہ میں ہر شخص میں کوئی مثبت عادت ڈھونڈتی رہتی ہوں اسکی مثبت بات نوٹ کر لیتی ہوں اور اگر وہ مجھ میں موجود نہ ہو تو اسے اپنا لیتی ہوں کیونکہ اگر ایک انسان میں بہت ساری خوبیاں ہوتی ہیں تو وہیں اس میں چند خامیاں بھی ہوتی ہیں اور جس میں بہت ساری خامیاں ہوتی ہیں اس میں کوئی تو خوبی ہوتی ہی ہے اسلیے میں کوشش کرتی ہوں ہر انسان کی خوبی ڈھونڈوں "دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں جسے کچھ معلوم نہ ہو اور دنیا میں کوئی ایک فرد ایسا بھی نہیں جسے سب کچھ معلوم ہو” ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم ہر انسان سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں کیونکہ سیکھنے سکھانے کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے اسلیے آپ چاہیں تو دوسروں کو سکھا بھی سکتے ہیں
    اپنے قلب کو وسیع اور ذہن کو کشادہ رکھ کر ہی ہم دوسروں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے دل میں کسی کے لیے بغض اور عناد نہ رکھیں ہمیں چاہیے کہ ہم ہر انسان کو عزت کی نظر سے دیکھیں
    کیونکہ جب ہم کسی کے لیے تحقیر کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہم اس سے کچھ نہیں سیکھ سکتے کیونکہ جس نے کچھ سیکھنا ہوتا ہے تو وہ چیونٹی سے بھی سبق سیکھ لیتا ہے اور ہاری ہوئی جنگ جیت لیتا ہے
    زندگی میں مشکلات اور آسانیاں کبھی یہ فیصلہ نہیں کرتیں کہ ہم کتنے ناکام ہوں گے یا کامیاب ،ہماری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہمارا ردعمل کرتا ہے اسلیے کسی مشکل یا آسانی کو ہم کبھی بھی کامیابی کی علامت نہیں کہہ سکتے نپولین کا ردعمل ہی تھا جسکی وجہ سے وہ چیونٹی سے سیکھ کر ہاری ہوئی جنگ جیت گیا۔ یہ بات بچوں کی تربیت میں شامل کریں کہ نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں ہم جسطرح کے حالات سے گزرے ہیں انہیں مسائل یا وسائل کے روپ میں دیکھنا ہماری زندگی کا حصہ ہے یعنی برے حالات میں ان سے سیکھنا کہ ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں اتنی ساری حالات کی زنجیروں کے باوجود اور اچھے حالات میں آگے بڑھنا یہ بھی امتحان ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو خود کو میسر آسودگیوں کی نظر کرنے کے بجائے ان سے بھی سیکھتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی انسان چاہتا ہے کہ وہ مشکل حالات سے سیکھے تو اسے چاہیے کہ ان مشکل حالات کو مسئلے کی شکل نہ دے ،پریشان نہ ہو بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ ایک امتحان کا مرحلہ ہے جو بہت جلد گزر جائے گا اور سب کچھ پہلے سے بھی بہتر ہو جائے گا لیکن مجھے موقع مل رہا میں ان سے کچھ سیکھوں میں آپ کو مثال دیکر سمجھاتی ہوں جو انسان حالات کی وجہ سے پیسے کی تنگی دیکھ رہا ہے اور اسکا کاروبار تباہ ہو چکا ہے تو اب وہ سیکھے گا ریسرچ کرے گا ،کتابیں پڑھے گا ،اپنا محاسبہ کرے گا اور ایک لائحہ عمل تیار کرے گا کہ اس کے پیچھے کونسی وجوہات تھیں اور دوبارہ سے وہ اپنا بزنس کیسے کھڑا کر سکتا ہے تو اس سب پہ عمل کرے گا اور جلد ہی دربارہ سے اپنے پیروں پہ کھڑا ہو جائے گا جبکہ جو انسان ہار تسلیم کرلے نہیں سیکھے گا وہ ان حالات میں جی بھی مشکل پائے گا اب کوئی انسان اس کی قدر نہیں کرتا کہ اسکا کاروبار تباہ ہو گیا ہے اور دوسری کوشش کر رہا پتہ نہیں کیا بنتا ہے اسکا اسکی کیا ویلیو ہے عین ممکن ہے کہ اسکا کاروبار بہت جلد پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرے اور آپ اسکی ناقدری کرکے اس کے ملے تجربے سے بھی محروم ہو جائے گا
    اگر آپ کو کوئی انسان اس وجہ سے ناگوار گزرے کہ اس میں کوئی خامی ہے تو اس خامی یا بری عادت کو دور کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آپ اسکی برائی کےبہت جگہ گُن گاتے پھریں اسکا طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے الگ بلائیں اور انتہائی موزوں الفاظ کے ساتھ نرم لہجے میں اسے سمجھائیں کہ آپ ویسے تو اچھے ہیں لیکن تھوڑا سا یہ مسئلہ ہے اسے آپ ٹھیک کر لیں
    اس طرح وہ انسان بھی آپ کے اچھے رویے سے بہت کچھ سیکھے گا اور آپ بھی انسانوں کی قدر کرکے ان سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • عذرااصغر تحریر :  مہناز وحید

    عذرااصغر تحریر : مہناز وحید

    ایک ایسی ہستی جنھوں نے اپنی پوری زندگی اُردو ادب کی خدمت کے لئے وقف کردی ۔آپ ایک بہترین ناول نگار ، افسانہ نگار، مضمون نگار ، کالم نگار ،شاعرہ اور مدیر ہیں۔آپ بھارت کے شہر دہلی میں22-دسمبر 1940ء میں پیدا ہوئیں ۔قیامِ پاکستان کے وقت آپ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستا ن آئیں ۔آپ کا اصل نام مبارک شاہی بیگم تھا۔ پاکستان میں آپ کا خاندان لائل پور(فیصل آباد) میں آکر آباد ہوا۔
    آپ کا بچپن نامساعد حالات کا شکار رہا ۔جس کی وجہ سے آپ باقاعدہ سکول کی تعلیم حاصل نہ کر سکیں ۔اس کی بڑی وجہ والد کی دوسری شادی تھی ۔ آپ بے حد حساس طبیعت کی مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہانت جیسی دولت سے نواز رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو زنگ آلود نہیں ہونے دیا اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے کہانیاں لکھتی رہیں ۔آپ نے بہت کم عمری میں کہانیاں لکھنی شروع کر دیں تھیں ۔آپ نے جو سب سے پہلی کہانی لکھی تھی وہ اپنے ہی گھر کے متعلق لکھی تھی ۔ گھر میں کسی نے بھی آپ کی حوصلہ افزائی نہ کی مگر آپ نے چوری چھپکے اپنی کوشش جاری رکھی ۔ شادی کے بعد آپ کے خاوند اصغر مہدی نے آپ کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے باقاعدہ لکھنے کی اجازت دے دی ۔ انھی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے آپ نے شادی کے بعدبی -اے تک تعلیم بھی حاصل کی اور لکھنے کا شوق جاری رکھتے ہوئےدو ناول ” دِل کے رشتے“ اور ” مسافتوں کی تھکن“ لکھے ۔اس کے علاوہ سات افسانوی مجموعے بھی تحریر کئے، جن میں سے ایک پنجابی زبان میں ہے جس کا نام ”موتیے دِیاں کلیاں “ ہے۔ آپ کے اُردو افسانوی مجموعوں کے نام درج ذیل ہیں :۔

    i. پت جھڑ کا آخری پتّا
    ii. بیسویں صدی کی لڑکی
    iii. تنہا برگد کا دکھ

    iv. گد لا سمندر
    v. یادوں کی طاق پہ رکھی کہانیاں
    vi. کھڑکی میں بیٹھا وقت

    عذرااصغرایک کامیاب کالم نگار بھی ہیں ۔آپ نے ریڈیو اور اخبارات کے لئے کالم لکھے ۔ آپ نے بنیادی طور پر معاشرتی مسائل پر کالم لکھے ۔ اس کے علاوہ سیاسی ، مذہبی اور ادبی موضوعات پر بھی کالم لکھے ۔ کالم نگاری کی کتاب”قلم پارے “ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کالموں کے ذریعے عذراا صغر نے معاشرے کی اصلاح وفلاح کا کام لیا ۔آپ نے ان معاشرتی مسائل کی طرف قاری کی توجہ دلائی جن کو امدادِ باہمی کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کے کالم ہر ذہنی سطح کے فرد کے لئے یکساں سود مند ہیں ۔ آپ پیچیدہ مسائل اور ان کے حل کو اتنی آسانی سے بیاں کرتی ہیں کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    آپ نے بحیثیتِ مضمون نگار ادبی شخصیات پر مضامین بھی لکھے ۔ آپ کی تحریر کا یہ کمال ہے کہ اگرچہ آپ کسی شخصیت پر لکھتی ہیں مگر اسے ہدفِ تنقید نہیں بناتیں بلکہ اس شخصیت کی خامیاں اور خوبیاں اس انداز سے بیان کر دیتی ہیں کہ فریق ثانی آپ کا گرویدہ ہو جاتا ہے ۔ آپ ادبی دنیا میں نئے آنے والوں کا کھلے دِل سے خیر مقدم کرتی ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ۔ آپ نے اپنے مضامین کے ذریعے بہت سی ادبی شخصیات کو متعارف کروایا ۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اُردو ادب کے پودے کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔
    آپ نے ڈرامے ، نظمیں ، ہائیکو ، ماہیے،دوہے بھی لکھے ۔آپ کا تحریر کیا ہوا ڈرامہ ”ہیڈ کوارٹر “ کے نام سے پی ٹی وی پر نشر ہوا۔اس کے علاوہ ریڈیو پر جشنِ تمثیل کے سلسلے میں لکھے جانے والے ڈرامے بھی اوّل انعام یافتہ قرار پائے ۔ آپ نے بحیثیتِ مدیر ماہنامہ”نورونار“، ”تخلیق“ اور ”تجدیدِ نَو “ کے لئے خدمات سر انجام دیں ۔ شاعری کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ خود باقاعدہ شاعرہ نہیں کہلواتیں اس کی وجہ وہ یہ بتاتی ہیں کہ ” وہ غزل نہیں کہہ سکتیں “۔ مگر نظمیں بہت خوب لکھتی ہیں ۔اس کے علاوہ جاپانی صنفِ شاعری” ہائیکو “ میں بھی طبع آزمائی کی۔
    بحیثیتِ مجموعی عذرااصغر ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ جنھوں نے اردو ادب کی خدمتِ خاموش کے جذبے کے تحت کام کیا ۔آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو بغیر کسی لالچ کے محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں ۔ آپ کی ادبی خدمات کے صلے میں ہی آپ کو 2017ء میں ”تخلیق ایوارڈ “ سے نوازا گیا ۔ اگر آپ کے تخلیقی سفر کو دیکھا جائے تو آپ کا کوئی استاد نہیں۔ آپ نے حالات سے بہت کچھ سیکھا اور اسی کو اپنی تحریر کا حصہ بنایا ۔ آپ کا اسلوبِ بیاں دہلوی ہے جو اس دور میں کمیاب ہے ۔ آپ ہمار ا قومی اثاثہ ہیں ۔ ہمیں فخر ہے کہ ایسی قابل ہستی ہمیں نصیب ہوئی ۔

  • پروفیسر احسن اقبال اور آرٹیکل 257 تحریر: شاہ زیب

    پروفیسر احسن اقبال اور آرٹیکل 257 تحریر: شاہ زیب


    گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ کےراہنما شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال صاحب اور راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر میں الیکشن ہارنے کے بعد پریس کانفرنس کی اور آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج کو بڑی شد و مد کے ساتھ مسترد کیا۔
    الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے لیکن اِس کا کوئی ٹھوس ثبوت دکھانے سے قاصر رہے۔ خیر یہ تو پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ ہونے والے ہر الیکشن کو اپوزیشن دھاندلی زدہ قرار دیتی اور آئیندہ الیکشن تک اِسی بیانیہ کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
    لیکن میں یہاں خاصیت کا ساتھ ذکر پروفیسر احسن اقبال صاحب کے بیان کا کرنا چاہتا ہوں۔
    احسن اقبال نے ویراعظم عمران خان کے اُس بیان پر نہ صرف تنقید کی بلکہ اُسے پاکستان کے بنیادی نظریے اور آئین پرحملہ قرار دیا، جس میں عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ ہم آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروائیں گے اور کشمیریوں کو اس بات کا حق دیں گے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یا آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔
    احسن اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے اس بیان میں آئین کی بڑی خلاف ورزی اور بنیادِ پاکستان کے خلاف بیان دیا ہے۔
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود احسن اقبال کو شائد آئین کا مکمل طور پر ادراک ہی نہی۔ یوں تو وہ ایک لمبے عرصے سے قانون ساز اسمبلی کے میمبر بنتے چلے آ رہے ہیں اور کسی کالج میں لیکچرار ہونے کے دعویدار ہیں لیکن شائد اتنی مصروفیت کے باعث وہ آئینِ پاکستان کا مطالعہ نہ کر سکے۔ آییے میں آپ کو آئین کی آرٹیکل 257 کی وہ دفعہ دکھاؤں جو معاملہِ جموں و کشمیر پر تفصیلی ظاہر کرتا ہے:
    “ دفعہ257 کہتی ہے کہ جب ریاست جموں اور کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیں گے تو پھر پاکستان اور ریاست کے مابین تعلقات کا فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔”
    اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جب خود کو پروفیسر اور سینئر سیاستدان کہنے والے احسن اقبال صاحب صاحب علم ہیں یا ۔۔۔۔۔۔
    عمران خان صاحب نے جو بیان دیا وہ بیعینہٖ آئین کے آرٹیکل 257 کی اس دفعہ کا عکاس ہے جبکہ احسن اقبال صاحب کا بیان نہ صرف محض سیاسی بیان بازی بلکہ بنیادِ پاکستان اور آئینِ پاکستان سے لاعلمی اور بہتان بازی۔
    یہی المیہ ہے ہمارے سیاستدانوں کا کہ جب تنقید کرنے کو کُچھ ٹھوس بات نہ ملے تو محض جھوٹ اور بہتان بازی کا بھی سہارا لینے سے نہی کتراتے، اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
    تحریر: شاہزیب
    ‎@shahzeb___

  • کشمیر- انسانی المیہ  تحریر: سید غازی علی زیدی

    کشمیر- انسانی المیہ تحریر: سید غازی علی زیدی

    جلتی بستیاں
    خون کی ندیاں
    عصمت دریاں
    لاشوں کے انبار
    لہورنگ وادی چنار

    انسانیت کی پامالی کے تمام ریکارڈ توڑتی، جبر و استبداد کی المناک تاریخ!

    خون منجمند کرتی کہانیاں اور سفاکیت کا منظر پیش کرتے قصے، لیکن وائے افسوس یہ قصے کہانیاں جھوٹ نہیں بلکہ حرف بہ حرف، ورق بہ ورق سچائی کی وہ دلخراش داستانیں ہیں جن کی گونج برسوں سے کشمیر کے پہاڑوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ظلم وستم کا عریاں رقص جو پوری شدومد اور تال میل کے ساتھ جاری وساری ہے۔ عصمت دری کا شکار عورتوں کے زندہ لاشے، سبز پرچم میں لپٹے کڑیل جوانوں کے جنازے، آزادی کی راہ تکتے موت کی دہلیز پر کھڑے بوڑھوں کے نوحے، غرض کشمیر ایک خطہ نہیں بلکہ چلتی پھرتی لاشوں کا مسکن ہے۔ خواتین ہو یا نوجوان، شیرخوار اطفال ہوں یا بزرگوار، کون ہے جو بھارتی فوج کے ظلم و بربریت سے محفوظ ہے؟
    سیکولرازم کا راگ الاپتے بھارتی انتہا پسندوں کا مکروہ چہرہ کشمیری مسلمانوں کی جرات کی بدولت تمام دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش میں بھارت نے وادی میں خون کی ندیاں بہا دی لیکن آج تک کشمیری عوام کے جذبہ جہاد کو دبانے کی کوششوں میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

    انگریز کی انصاف پسندی و امانتداری کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملانے والوں کیلئے مسئلہ کشمیر کا قضیہ بدعہدی اور بد دیانتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہندوستان کی غیر منصفانہ تقسیم کے زریعے برطانوی راج نے شرپسندی کا جو بیج بویا تھا وہ اب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس کی جڑوں میں ہزاروں انسانوں کا خون شامل ہے۔ لہو سے سینچا گیا یہ خون آشام پیڑ کاٹنے کیلئے دو ایٹمی طاقتیں سات دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ لیکن بھارتی عہد شکنی اور ڈھٹائی کی وجہ سے مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔
    جدید ترین ہتھیاروں سے لیس بھارت کی نو لاکھ فوج کشمیریوں کے جدوجہد آزادی کے سامنے بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ جھنجھلاہٹ کا شکار مودی سرکار کشمیری عوام کو حق خودارادیت کیا دیتی الٹا آرٹیکل 370 کو کالعدم کر کےان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ اٹوٹ انگ کا دعویٰ کرنے والوں نے کشمیر کا انگ انگ زخمی کردیا ہے۔ بیگناہ کشمیری عوام پر کیا گیا بھارت کا غاصبانہ قبضہ، بھارتی جمہوریت کے ماتھے کا سیاہ داغ ہے۔ بھارتی فوج کی چیرہ دستیاں خود بھارت کیلئے ناسور بن چکی ہیں۔ کشمیری مسلمان تمامتر بربریت کے باوجود، جذبہ شہادت سے سرشار، بھارتی تسلط کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ بھارتی جنگی جرائم کے باوجود اپنی آزادی کیلئے صف پیرا، سر بہ کف مجاہدین بغیر ہتھیاروں کے قابض فوج کیلئے دہشت کی علامت ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری پوری قوت سے بھارت پر زور ڈالے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرے۔ بھارت کا ناجائز اور غاصبانہ تسلط نہ تو کسی کشمیری اور نہ ہی پاکستان کیلئے قابل قبول ہے۔ بھارتی فوج ظلم و ستم کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک آزادی کو روکنے میں ہمیشہ سے ناکام رہی جو کشمیریوں کی بھارت سے نفرت کا مظہر ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر میں عالمی امن فوج تعینات کی جائے اور کشمیری عوام کو ان کا حق استصواب رائے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

    چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو
    ہیں ان گنت شہادتیں، پکار ہے لہو لہو

    @once_says

  • خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    خواتین کا ملک اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار تحریر: سحر عارف

    عورت وہ ہستی ہے جو دیکھنے میں تو نرم و نازک ہوتی ہے پر مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہے پھر چاہے کتنا ہی کٹھن وقت کیوں نا آجائے۔ عورت اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے جو ہر رشتے میں خواہ وہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی ہو اپنے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کے لیے قابلِ فخر ہے۔ اسلام سے قبل عودت کو کوئی حیثیت حاصل نا تھی۔ زمانہ جاہلیت میں مرد عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں جب پیدا ہوتی تو انھیں بوجھ سمجھ کر زندہ زمین میں درگور کردیا جاتا۔ عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نا تھا۔ پر اسلام نے عورت کو تمام حقوق دیے۔ عورت کو ماں کا درجہ دے کر ماں کے قدموں میں جنت رکھی، بیوی، بہن اور بیٹی کو بھی ان کے حقوق دیے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مردوں کی سوچ میں کافی حد تک فرق آچکا ہے۔ جہاں پہلے وہ عورت کو کوئی حق نا دیتے تھے آج وہیں عورتوں کو کافی حد تک آزادی حاصل ہوچکی ہے۔ اب زیادہ تر عورتیں تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی بہتری اور ملک کے ترقی میں بھی اپنا حصّہ ڈالتی ہیں۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کے طرح ہیں جس میں سے اگر ایک بھی خراب ہو جائے تو گاڑی اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ گاڑی کا اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پہیے صحیح سے کام کریں۔ ٹھیک اسی طرح ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت ایک ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے ملک کی خوشحالی میں کردار ادا کریں۔

    عورت جہاں گھرداری سمبھالنا جانتی ہے وہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈالنا بھی جانتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحیح سے ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین نے ہمیشہ یہ بات باور کروائی ہے کہ کوئی بھی شعبہ ہو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نام بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کو اللّٰہ نے بےشمار ایسی خواتین سے نوازا ہے جنھوں نے عالم فارم تک اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے۔

    زارا نعیم پاکستان کا وہ نام جس نے چند ماہ قبل تعلیمی میدان میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہوا۔ زارا نعیم نے ایسے حالات میں اے سی سی اے کے امتحان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستانی قوم کو خود پر فخر کرنے کا موقع دیا جب دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے باقی کے طلبہ بےشمار پریشانیوں کا شکار تھے۔

    شرمین عبید چنائے وہ خاتون جنھوں نے معاشرے میں موجود ایک ایسے عنصر پہ فلم بنائی جو کہ کئی سالوں سے پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر آئے روز عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ شرمین عبید چنائے کی اس فلم پر انھیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    بلقیس ایدھی پاکستان کی قابلِ فخر خاتون جنھوں نے اپنے شوہر ایدھی صاحب کے ساتھ مل کر بغیر کسی رنگ و نسل کی تفریق کے بے سہارا لوگوں کی بھرپور خدمت کی۔ بلقیس ایدھی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    مریم مختار پاکستان کی بیٹی اور بہادر فائٹر پائلٹ جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جام شہادت نوش کیا۔ مریم مختار نے اس وقت شہادت حاصل کی جب ان کا طیارہ انجن میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک حادثے کا شکار ہوا۔

    ثناء میر پاکستان کی نامور خاتون کرکٹر جنھوں نے دنیائے کرکٹ میں اپنا نام اپنی محنت اور صلاحیت سے منوایا۔ ثناء میر نے کرکٹ کی دنیا میں بہت سے عالم ریکارڈ بنائے۔ وہ پاکستان کا فخر اور اپنے جیسی باقی عورتوں کے لیے مثال ہیں جو کہ مستقبل میں کرکٹ کے شعبے سے منسلک ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    ان خواتین کے علاوہ اور بھی بہت سی خواتین ہیں جنھوں نے اپنی قابلیت اور جدوجہد سے دنیا کے ہر شعبے خواہ وہ ڈاکٹری کا ہو، انجیرنگ کا ہو، تعلیم کا ہو، فلم انڈسٹری کا ہو یا سیاست کا ہر ایک شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چل کے اپنے ملک کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔ بےشک ایسی خواتین ہمارے ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

    @SeharSulehri

  • ‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏یوم شہادت حضرت عثمانؓ بن عفانؓ تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    حضرت عثمانؓ بن عفانؓ کا نام عثمانؓ کنیت ابو عبداللہ اور ابو عمر تھا، آپ کے والد کا نام عفانؓ بن ابی العاصؓ تھا، عثمانؓ بن عفانؓ تعلق شہر مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تھا

    عثمان غنیؓ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، آپؓ کا شمار آپﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے اور اُمت مسلمہ میں کامل الحیاء والایمان کے الفاظ آپؓ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں، آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر آپ ﷺسےجاملتاہے۔ آپ ؓ خليفہ سوم تھے، آپؓ کی نانی آپﷺ کی سگی پھوپھی اورآپ ﷺْ کے والد حضرت عبداللہؓ کی جڑواں بہن تھیں، اس رشتے سے بھی آپؓ حضرت محمدﷺْکےقریبی رشتے دار تھے

    آپؓ چوتھے ایسے شخص تھے جہنوں نے اسلام ،
    قبول کیا، آپﷺ عثمان غنیؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپؓ  نبی کریمﷺ کےدوہرے داماد تھے، حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ سے دو بیٹیوں حضرت رقیہ ؓ اور انکے انتقال کے بعد حضرت ام کلثومؓ کی شادی فرمائی اور ذو النورین کا خطاب دیا، اللہ تعالیٰﷻ نےآپؓ  کوخوب مال عطافرمایاتھا، اور آپ اللہ عطا کردہ مال میں سےبہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے، اس لئے اللہﷻ کے آخری رسول حضرت مُحَمَّد ﷺ نے آپؓ کو "غنی” کا لقب عطا فرمایا۔

    آپؓ نے ٢٤ ہجری میں نظام خلافت کو سنبھالا،آپؓ خلیفہ مقرر ہوئے، تو شروع میں عثمان غنیؓ نے ٢٢ لاکھ مربع میل پر حکومت کی، مختلف علاقوں کو فتح کر کے آپؓ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا.

    آپؓ کو اللہﷻ نے عظیم صفات سے مُتصف فرما کر صحابہ اکرام ؓ میں ممتاز فرمایا،جو اُن ہی کا حصہ ہے، آپؓ شرم و حیا کا ایسا پیکر تھے، کہ فرشتے بھی آپ ؓسے شرم وحیا کرتے تھے ۔آپؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبویﷺ کی توسیع اور قرآن مجید کو یکجا فرمایا۔

    اسی طرح مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی کمی تھی شہر مدینہ منورہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا، جوحضرت عثمان نے ۳۵ ہزار درہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر حضرت مُحَمَّد ﷺ نے عثمان کو جنت کی بشارت دی۔

    ٤٥ ہجری میں باغيوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کرکے آپؓ کا کھانا، پینا بند کردیا گیا، ٤٠ دنوں تک آپؓ اور آپؓ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا آپؓ کے ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی حضرت مُحَمَّد ﷺکے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا، عثمان غنیؓ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود آپﷺ کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری

    ٤٠ دن بھوکے، پیاسے ٨٢ سالہ آپؓ کو جمعہ کے دن ،١٨ ذو الحج ٣٥ ؁ء ہجری کو قران مجید کی تلاوت کےدوران انتہائی درد ناک انداز میں عثمان غنی ؓ شہید کردیا گیا۔شہادت کے وقت آپؓ روزے سے تھے
    اس جانکاہ حادثہ میں آپؓ کی زوجہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک عثمان غنیؓ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ شہید کرنے کے بعد باقیوں نے آپؓ کا گھر بھی لوٹ لیا

    آپؓ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسولﷺ اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری، آپؓ عبادت، حیاء، تقوی، طہارت، صبر، شکر کے پیکر تھے۔ آپؓ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمِ انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔

    آپؓ کی قبر مبارک مسجد نبویﷺ شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ پاکﷻ انکے درجات بلند فرمائے اور انکی قبر پر کروڑ کروڑ رحمتیں نازل فرماٸے۔آمین یار رب العالمین!

    ‎@JahantabSiddiqi