Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، اور دنیا و آخرت میں ہمارا مُقام .تحریر: امان الرحمٰن

    ہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے ہر پلیٹ فارم پہ ڈٹ کر دشمن کے ہر طرح کہ پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا ہے اور آخر دم تک کرتے رہیں گے
    میرے پیارے ہم وطن ساتھیو ہمیں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیشک آج ہمارا کوئی نام نہیں، پہچان نہیں لیکن تاریخ آپ کو ہی یاد رکھے گی، آپ کو اپنے بھی یاد رکھیں گے اور آپ کو دشمن بھی یاد رکھے گا. ہمیشہ آپ کو ہی یاد رکھا جائے گا. دشمن کے اربوں نہیں کھربوں ڈالر خاک میں ملانے والو پاک وطن کے عظیم مجاہدو آپ کو تاریخ ضرور بالضرور یاد رکھے گی. اور جب جب

    جب گمنام سپاہیوں کا ذکر ہوگا جب دشمن کی پراکسی وارز کا ذکر ہوگا، جب فوج کی پشت پہ قوم کے کھڑے ہونے کی بات کی جائے گی. جب آپ کا دشمن کہے گا کہ ہم پاک فوج کا مورال نہیں گرا پائے، جب کہا جائے گا کہ دشمن نے کھربوں ڈالر لگا دئیے مگر پاکستان کو توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے. جو خود بھی لڑتے رہے اور اپنی قوم کو بھی تربیت دیتے رہے، جب جب دشمن نے چُھپ کر پاکستان کے خلاف کوئی جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تب تب پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نےدن دیکھا نہ رات اور دشمن کا دندان شکن جواب دیا اورہر بار سُرخرو ہُوے.

    جب کہا جائے گا کہ موساد، را، این ڈی ایس، سی آئی اے، ایم آئی سکس اور ایسی سینکڑوں خفیہ ایجنسیوں کے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہزاروں آئی ٹی سیلز پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بھی شکست اُن کا مُقدر بنی تو اُنہیں شکست دینے والے یہی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تھے جو دُشمن کے طاقتور میڈیا سیلز کو چند سو کے انٹرنیٹ پیکجز اور ٹُوٹے پُھوٹے موبائل رکھنے والے چند لوگوں نے شکست دی. جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے اِن کے سامنے اپنی شِکست اور بے بسی کا اعتراف کیا.

    تاریخ سنہری حروف میں لکھے گی کہ جب سوشل میڈیا کے وار سے دنیا کے کئی ممالک کئی طاقتیں ڈھیر ہوئیں وہیں پاکستان میں کچھ ایسے بھی سر پھرے تھے جو سارا دن فارغ، ویلے اور اللہ جانے کیا کیا طعنے سن کر خاموشی سے دشمنوں کو ناکام کرتے ہوئے پاکستان کو خانہ جنگی سے بچا گئے. ایک طرف سیاسی منافرت تو دوسری طرف مذہبی تفرقے، صوبائی تعصب، قومیت پرستی، غرض جہاں دُشمن نے داؤ کھیلا یہ ففتھ جنریشن وارئیرز وہاں وہاں موجود رہے.

    تاریخ یار رکھے گی آپ کو آپ کی نسلیں یاد رکھیں گی آپ کو، کیا ہوا جو ہم گُمنام ہیں، کیا ہُوا جو ہمیں سرکاری ہستیوں کی ملاقاتیں نہیں ملیں، کیا ہُوا کہ ہمیں پہچان نہیں ملی خُدا کی قسم آج پاکستان دُشمن کی چالوں سے جیسے نِکل رہا ہے یہی آپ کا کام آپ کی پہنچان ہے. اِس کا بدلہ اِس کا نام اِس کی پہچان دنیا میں نہیں مگر اِن شاءاللہ اِن شاءاللہ مجھے میرے ربّ کی رحمت سے اُمید ہے کہ وہ ذات ہمیں آخرت میں اِس کا بہترین بدلہ اور ایک بہترین پہچان دے گا جب اِن شاءاللہ تحریکِ پاکستان کے شہیدوں، غازیوں، گُمنام سپاہیوں کے سامنے ہم سر اُٹھا کر آئیں گے، لہٰذا ہمیشہ پاکستان کہ مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہیں جُھوٹے پروپیگنڈے سے نہ تو گھبرانا ہے نہ ہی خوفزدہ ہونا ہے یہ ہائبرڈ وار فیئر جہاں انسان کی سوچ پر ضرب لگاتی ہے وہیں ہمارے عصاب بھی شل ہو جاتے ہیں تو اپنے عصاب پر یقین کے ساتھ جم کر جُھوٹ کا مقابلہ اپنے سچ سے کرنا ہے اور سچ کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی، ہاں یہ ضرور ہے کہ جُھوٹ وقتی اثر رکھتا ہے مگر جب جُھوٹ کے خلاف ہم سچ نہیں بولیں گے سچ نہیں لکھیں گے تو دُشمن کے جُھوٹ کو تقویت ملے گی مگر یہ وقتی ہی رہے گی، ہمیں سچ لکھنا ہے اور سچ نے ہی غالب آنا ہے اِن شاء اللہ.

    میں سلام پیش کرتا ہوں سوشل میڈیا پہ اسلام اور وطن عزیز کا دفاع کرنے والے تمام ففتھ جنریشن وارئیرز کو، چاہے وہ لکھاری ہوں، کاپی پیسٹرز ہوں، گرافکس ڈیزائنرز ہوں، ہیکرز ہوں یا رپورٹرز آپ سب اِس پاک وطن کا فخر ہیں اِس لیے یہ بحث چھوڑ کر ہمیں اپنے کام پہ توجہ دینی چاہیے اللہ پاک ہم تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو اور ہمارے سرحدوں پر موجود مُحافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین ثُم آمین
    جزاک اللہ خیرا” کثیرا
    پاکستان پائندہ باد
    @A2Khizar

  • کشمیر کا سلطان عمران خان  تحریر فرزانہ شریف

    کشمیر کا سلطان عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے تحریک انصاف آزاد کشمیرکا الیکشن جیت چکی ہے سب محب وطن کو مبارکباد دیتی ہوں ۔۔ تمام حلقوں کے مکمل نتائج آچکے ہیں جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 26 نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی ہے ،انتخابات کے اب تک کے تمام حلقوں کے نتائج آچکے ہیں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آٸی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم کانفرنس بھی ایک سیٹ جیت چکی ہے یوں پی ٹی آئی کی اب تک 27 سیٹیں ہوچکی ہیں آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے اور11 حلقوں سے انتخاب جیت چکی ہے جبکہ ن لیگ جو کہ آزادکشمیرکی سب سے بڑی جماعت کے طورپرجانی جاتی تھی اور جس طرح مریم صاحبہ نے صرف عمران عمران کا رٹا لگایا ہوا تھا اپنی تقریروں میں تو کشمیر نےبھی پھر خوب کھچڑی کھلائی ہے 🤣 اب آزاد کشمیر کی تیسرے درجے کی جماعت کے طور سامنے آئی ہے۔ ن لیگ نے 6 نشستیں جیتی ہیں۔مسلم کانفرنس ویسے بھی پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہےان کی ایک سیٹ ملا کرپی ٹی آئی ایوان میں 27 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور اگر جے کےیو ایم کی ایک نشست وہ بھی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو یوں پی ٹی آئی کی 28 سیٹیں ہوجائیں گی۔
    پی پی کے پاس اس وقت چوہدری یٰسین کی جیتی ہوئی دو نشستیں ہیں ، ان میں سے ایک چھوڑنی پڑے گی اس پر ضمنی الیکشن ہوگا
    یہ بھی ہوسکتا ہے اس ضمنی الیکشن میں ایک مزید سیٹ پی ٹی آئی کو مل جائے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی اپنی 26 اوردواتحادیوں‌کی ملا کر28 سیٹیں لے کراسمبلی میں سب سے طاقتورپارٹی کے طورپرحکومت کرے گی مظفرآباد میں حکومت سازی کے لیے ابھی سے مشاورت شروع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں کا انتخاب نتائج آنے کے بعد کیا جائے گا ان 8مخصوص نشت میں سے بھی پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کو ملا کر5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مزید جوڑ توڑ سے پی ٹی آئی کو6 نشستیں بھی حاصل ہوجائیں، یوں کشمیرکی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اب کشمیر پر راج ہوگا کپتان کا اور ترقی کے کام تیزی سے شروع ہوجائیں گے چور لٹیرے کشمیر پر بوجھ گندے سیاستدانوں سے آج کشمیر آزاد ہوگیا ہےشکرآ یااللہ الرحمٰن

    @Farzana99587398

  • سندھ کا تعلیمی معیار   تحریر: ایمن زاھد حسین

    سندھ کا تعلیمی معیار تحریر: ایمن زاھد حسین

    پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے۔اور یہاں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو میں سمجھتاہوں تعلیم کو طبقاطی نظام میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ امیر حکمرانوں کے بچے ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ھین اور جو غریب حکمران ہیں انکے بچے پرائوٹ ہائے فائے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رھے ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں تعلیمی نصاب الگ الگ ہیں اور ہر ایک صوبے میں ایک نظام تعلیم کا ہننا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ اسے ہر لحاظ سے تباہ کیا جارہا ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک اپنی قومی زبان میں تعلیم دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں اور یہاں اسکول انتظامیہ سے لیکر والدین تک اپنے بچوں کو نہ مادری زبان پر عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی قومی زبان پر پڑھنے بولنے لکھنے میں عبور حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا معیار 1999 سے پہلے بہترین تھا۔ جہاں بچہ یا طالب علم کی تربیت اپنے والدین،خاندان،معاشرے سے لیکر اسکول استاد تک کے سامنے ہوتی تھی اور داخلہ بھی سخت امتحان کے بعد ملتا تھا لیکن اس کے بعد تو جیسے سرکاری اسکولوں پر عزاب مسلط ہو گیا۔تعلیم تباہ ہو گئی پھر اس کے بعد پرائوٹ اسکولوں کا آغاز ھوگیا۔ انگلش میڈیم کی بھرمار آگئی اور ایک کاروباری دوڑ شروع ہو گئی لیکن مقصد تعلیم بہت پیچھے رہ گیا۔اب تو یہ حال ہے کہ سرکاری اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی انگلش میڈیم میں پڑھتے ہیں بلکہ نظام تعلیم سے منسلک تمام ہی افسران کے بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی الگ الگ معیار ہیں۔بھاری فیس والے اور نارمل فیس والے اور سستی فیس والے۔معیار اساتذہ اور دیگر سہولیات ہیں۔سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے ذیادہ تر اساتذہ سیاسی بھرتیاں ہیں جس سے سرکاری تعلیم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ 2011 کے بعد سندھ میں میرٹ سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے تعلیم 15% بہتر ہوئی 2014 -2015 میں میرٹ پر نئے اساتذہ بھرتے ہوئے جس سے سندھ میں تعلیم انقلاب پرباہ ہوا ۔پر افسوس کی بات یہ کہ سندھ حکومت کی طرف سے طرح طرح کے قوانین بننا پر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ میں مختلف قسم کی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔پہلے تو اسکولوں کی خستہ حالت سے والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بیجتے ۔دوسرا یہ کہ اسکولوں میں بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں ۔ جہاں بچے کم ہیں وہاں اساتذہ میسر نہیں اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں بچے نہیں ۔ بہت سے ایسے گاؤں ہیں جو کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ اس لیے میری سندھ حکومت سے عاجزانہ گذارش ہے کہ محکمہ تعلیم کا نظام بہتر بنانے کیلئے اوپر دیے گئے مسائل کو فوری حل کرکہ جئے بھٹو کی جگہ ” ہر گھر میں بچہ حاصل کریگا تعلیم کا نعرہ لگائیں کیونکہ تعلیم ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں،صرف نعرے سے کچھ نہیں ہوگا۔

    @ummeAeman

  • سیاسی بحث اور عمران خان  تحریر: محمد وقاص شریف

    سیاسی بحث اور عمران خان تحریر: محمد وقاص شریف

    جب سے عمران احمد خان نیازی کی حکومت آئی ہے اس وقت سے مسلسل لوگوں کے درمیان سیاسی بحث اور معیشت کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں
    آج کل آپ کسی گلی محلے یہ کسی بازار میں یا پھر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم حتی کہ کسی واٹس ایپ کے گروپ میں چلیں جائیں
    وہاں آپکو زیادہ تر لوگوں سیاسی بحث کرنے میں مصروف نظر آئیں گے
    ہر بندے کے منہ میں یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا
    حالانکہ غربت اور بے روزگاری گزشتہ ہر حکومت میں دیکھی گی ہے
    دوسری جانب عمران خان کی بات کی جائے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلے پاور فل وزیراعظم ثابت ہوا ہے جو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے
    اور سچ تو ہے کہ عمران خان کی اس حکومت میں پاکستان عالمی سطح بہت تیزی سے مضبوط ہورہا ہے
    اس دورے حکومت میں سیاسی بحث غلیظ گفتگو اور معیشت تباہ کی باتوں کے ساتھ وہی پھدک رہے ہیں جن کا اس دورے حکومت میں پھدو نہیں لگ رہا
    دس روپے والی چیز میں کوشش کرتا ہے پندرہ روپے منافع مل جائے
    ایک موچی سے لے کر فیکٹریوں تک ایمانداری کا نام نظر نہیں آرہا
    چھوٹے سے چھوٹا دوکان کسٹمر کو کوشش کرتا ہے دونو ہاتھوں سے لوٹ لوں
    سبزی والا صبح سویرے کوشش کرتا ہے کمزور سبزی پہلے بیچ لوں کوئی مرتا ہے تو مر جائے میری بکنی چاہیے
    کریانہ والا اول کے پیسے لے کر دوم چیز بیچھتا ہے
    اگر اسی بات پر انتظامیہ ایکشن لے اور کریانہ والے کو جرمانہ کردے تودوکاندار کی جانب سے انتظامیہ کو گلیاں دی جاتی ہیں ہر چھوٹا بڑا کاروباری دوکاندار چاہے وہ لوہے کا کاروبار کرتا ہے یا مٹھائی والا سبز ی والا کپڑے والا جوتی والا کریانہ والا فروٹ والا منیاری والا اور دیگر تمام میں سے جس کا جتنا پھدو لگتا ہے وہ عوام کو لگا دیتا ہے اور کہتا ہے حکومت کرپٹ ہے
    اور باتیں سب معیشت تباہ ہوگئی کہتے ہیں
    عمران خان یا موجودہ حکومت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور چھانک لیں
    کیا آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں
    عمران خان کی قیادت میں دن رات پاکستان ترقی کر رہا ہے ، عمران خان ایک ایماندار لیڈر ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے @joinwsharif

  • غیرت اور عورت   تحریر:   ازان حمزہ ارشد

    غیرت اور عورت تحریر: ازان حمزہ ارشد

    عورت اور غیرت کا صدیوں سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیرت کے نام پر جب بھی ہوئی عورت ہی داغدار ہوئی۔

    ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہے جو کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت و وقار دینے کا دعویٰ کرتا ہے یہی عورت گھر میں ہو تو اسے عزت سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی دفتر یا کارخانے میں محنت مزدوری کر رہی ہو تو اسے بدکار سمجھا جاتا ہے۔ اپنے گھر کی عورت پر کوئی نظر ڈالے تو نظر ڈالنے والے کی آنکھیں نکال دی جاتی ہے اور اگر وہی نظریں خود کسی دوسرےگھر کی عورت پر ڈالی جائے تو اسے مردانگی کی اعلیٰ صفت قرار دے دیا جاتا ہے۔

    اپنی بہن کسی کے ساتھ بھاگ جائے تو عزت مٹی میں مل جاتی ہے اور اگر خود کسی کی بہن بھگا لاؤ تو اسے محبت اور جوانی کے جوش کا نام دے دیا جاتا ہے۔

    قریب ایک سال پہلے کی بات ہے میری ایک قریبی رشتہ دار 23 سالہ نوجوان 3 بچوں کی ماں کو اس کے شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا قتل کی وجہ گھریلو مسائل تھے ہم سب غم سے نڈھال تھے تبھی میرے کان میں میت کے قریب بیٹھے کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دی جو کہ کہہ رہے تھے کہ ضرور اس لڑکی کا کہی اور چکر ہوگا اور غیرت کے نام پر اسکے شوہر نے اسے قتل کر دیا۔
    مجھے افسوس یہ ہوا کہ ایسی باتیں کرنے والی خود عورتیں ہی تھی۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں مرد نہیں عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے۔
    عورت کو غیرت کا نام لے کر قتل کیا جاتا ہے اور پھر اسی عورت کو موٹروے پر روک کر زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسی عورت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسکا لباس درست نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب 5 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے تو اس میں اسکے لباس کا کیا قصور تھا؟ جب عورت کو سسرال والوں کے ناجائز مطالبات پورے نہ کرنے پر جلا دیا جاتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور تھا؟

    قصور عورت کا نہیں ہماری سوچ کا ہے قصور ہم میں موجود اس جانور کا ہے جو عورت کو محض لطف کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ قصور اس نظر کا ہے جو گندگی سے بھرپور ہے۔

    خدارا اپنے گھر اور دوسروں کے گھر کی عورت کو برابر سمجھ کر انھیں عزت دینا شروع کر دیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری مائیں بہنیں ہمارے مکہ فاتح کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی عزتوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

  • مانسہرہ کی تاریخ     تحریر:یاسرشہزادتنولی

    مانسہرہ کی تاریخ تحریر:یاسرشہزادتنولی

    پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر مانسہرہ ہے.

    مانسہرہ شہر خیبر پختونخواہ کے صوبے میں واقع ہے. یہ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے. یہ ایبٹ آباد شہر کے قریب ہے. یہ کارکرم ہائی وے پر سیاحوں کے لئے ایک اہم سٹاپ ہے جس میں چین کی طرف جاتا ہے. یہ شمالی علاقوں اور مقامات جیسے کاغان وادی، ناران، شوگراں، جھیل سیف الملوک اور بابوسر اوپر کے لئے ایک اہم ٹرانزٹ نقطہ بھی ہے. اس شہر میں سب سے بڑی تعداد میں تاریخی مقامات موجود ہیں. سرن اور دریاۓ کہنار ضلع کے معروف دریا ہیں. سرن پنجول کے اور پکھلی کے مغربی کنارے کے ذریعے بہتی ہے. دو نہریں سرن دریا، شریریاری میں داراللہ اور کم سرن واال میں سرانڈر کے اوپر سے اوپر لے جایا گیا ہے.

    مانسہرہ ضلع میں تین خوبصورت جھیل ہیں. یہ کاغان وادی میں پہاڑی کی حد کے برف پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھیرۓ ہوۓ ہیں. ان جھیلوں کے نام لولیسر، آنسوجھیل اور جھیل سیف الملوک ہیں. بابرس کی چوٹی کے قریب سابق دو جھوٹے ہیں جبکہ ناران کے قریب ایک مؤرخ ایک بہت اچھا ہے، جب اس کا پورا چاند ہے اور آپ ضلع کے سب سے شاندار علاقے میں ہیں. مانسہرہ، شوگراں-ناران اور ناران میں جب آپ جھیل سیف الاسلام پر واقع ہوں گے. یہ ایک شاندار منظر ہے، چاند کی روشنی جھیل پر گر جاتی ہے اور ارد گرد کے پہاڑوں پر خوبصورت کرن کی عکاسی کرتا ہے۔
    مانسہرہ میں سب سے بڑی تاریخ ہے.
    اس کے جغرافیائی حدود گزشتہ مہینے میں مختلف راجس، مہاراجہ اور کنگز کے دور میں مسلسل تبدیل ہوگئے ہیں. شمالی فتح حاصل کرنے کے بعد الیگزینڈر نے عظیم. انڈیا اس کے بڑے حصے پر اپنا حکمران قائم کیا.
    مختلف مورخین کا خیال ہے کہ سال 327 بی سی میں الیگزینڈر نے اس علاقے کو ابسراس کو پونچ ریاست کے راجا کے حوالے کردیا. موری خاندان کے دوران مینہرا ٹیکسیلا کا حصہ رہے. دوسری صدی میں ایک صوفیانہ ہندو بادشاہ راجہ رسوالو، سیالکوٹ کے راجا سالبھن کے بیٹے، اس علاقے کو اپنے راستے میں لے آئے مقامی لوگ اس کے ہیرو اور آج بھی والدین کے طور پر غور کرتے ہیں، اپنے بچے کو موسم سرما کی راتوں میں راجہ رسوالو اور ان کی بیوی رانی کونکلان کی کہانیاں بیان کرتے ہیں. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ترکی شاہی اور ہندسی شاہی خاندانوں نے ایک بار پھر پاکھلی پر حکمرانی کی.
    ایک بار پھر 11 ویں صدی میں ہندو شاہی خاندان کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر کلشن (1063 سے 1089 ع) کی قیادت میں قبضہ کر لیا. 12 ویں صدی کے آخری سہ ماہی میں اسسٹنٹ خان، محمد غوری کا ایک جنرل، اس علاقے پر قبضہ کر لیا لیکن جلد ہی محمد غوری کی موت کے بعد کشمیر ایک بار پھر اسے قبضہ کر لیا. 1472 ء میں ڈاکٹر شہزادہ شاہد الدین کابل سے آئے اور یہاں اس کا اقتدار قائم کیا. انہوں نے ریاستی طور پر پاکی سارکر کی بنیاد رکھی اور گاؤں گلبغ کو اپنی دارالحکومت کا انتخاب کیا. 18 ویں صدی کے پہلے سہ ماہی میں، ترکوں کے لئے بدقسمتی ہوئی کیونکہ ان کی حکمرانی ان کی وحدت کے قیام اور پختونوں اور ان کے اتحادی قوتوں کی بڑھتی جارہی ہے. سب سے زیادہ اہم حملہ 1703 ء میں سید جلال بابا کے حکم میں سوات کا تھا، انہوں نے ترکوں کو نکال دیا اور اس علاقے پر قبضہ کر لیا. 1849 میں. ڈی. اس علاقے میں برتانیہ کے براہ راست کنٹرول کے تحت آیا. 1901 ء میں جب NWFP صوبے قائم کیا گیا تو، ہزارہ پنجاب سے الگ ہوگئے اور سرحد سرحد کا حصہ بنا.
    مانسہرہ کی مشہور سوغات میں کھوہ چپلی کباب اور پکوان مشہور ہیں۔
    آج مانسہرہ خوبصورت خوبصورتی کی ایک جگہ ہے. موسم سرما میں زیادہ موسم سرما میں سرد ہے اور موسم گرما میں خوشی سے گرم ہے. کاغان وادی جیسے شمالی حصے موسم گرما میں سرد ہے اور موسم سرما میں انتہائی سردی ہے اور اس کی بھاری برف گرنے کا امکان ہے. ضلع دو مختلف موسم ہے؛ موسم گرما کا موسم جو اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے اور موسم سرما کا موسم ہے جو اکتوبر سے مارچ تک ہے. جون کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت کا اندازہ تقریبا 35 ° C اور 21 ° C ہے.
    آگ لگادو آگ۔۔۔۔
    تحریر:(یاسرشہزادتنولی)

    بجلی کے بلوں کو آگ لگادو جلدی جلدی میں بھی آگ لگارہا ہوں یہ دیکھو۔کوئی ٹیکس نہ دے بلکل نہ دے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔آج سے 2 سال پہلے ایک شخص کی طرف سے عوام سے محبت کااظہار کچھ اسطرح سے کیا گیا تھا کہ بجلی اگر سستی نہ ہوئی تو پاکستانی قوم اپنے بل نہیں بھرے گی، اور نہ ہی ٹیکس ادا کرےگی۔ لوگ حق حلال کا پیسہ کمارہے ہیں۔کیوں یہ سب برداشت کریں؟ بل جلوادیے گئے اور آج وہی لوگ عواپ کو تلقین کررہے ہیں کہ اگر آپ لوگ ٹیکس ادا کرینگے تو اپنے ملک کےلیے، اور فائدہ سوچیں تو اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔ تب ملک کی ترقی کہاں تھی جب صرف ایک دشمنی اور بغض کی وجہ سے اس عظیم ملک کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی جارہی تھیں جس وطن کو اتنی تکلیفوں اتنی مصیبتوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیااور جہاں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، افواج پاکستان کا خون اس وطن کی مٹی میں شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک نعرہ کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔اگر وہ نعرہ مثبت ہو تو ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ نعرہ منفی ہو تو تنزلی اور پستی مقدر بنتی ہے۔ اگر عوام میں شعور بیدار ہوگا تو انقلاب آئے گا اور اس دور میں یہ انقلاب آنا بہت ضروری ہے۔ قوم کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور باشعور قوم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ مگر اس ملک میں عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے اتنا دبا دیا ہے کہ وہ گیس ، بجلی اور پانی کے بلوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ حکمران کوئی بھی ہو جب تک عوام باشعور نہیں ہوگی اور یہ فرسودہ زنگ لگا ہوا نظام نہیں بدلےگا تب تک کچھ صحیح نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو چاہیے کہ یوـ ٹرن لینے کے بجائے عوام کے مسائل کو حل کریں نہ کہ انکے لئے مزید پریشانی کا سبب بنیں۔
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے .تحریر: فروا نذیر

    یہ زندگی اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ہے…
    سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخوقات ہونے کا شرف بخشا اللہ نے ہمیں جانور پرندے نہیں بنادیا اللہ کا ہم انسانوں پر سب سے بڑا احسان یہ ہے..
    اللہ تعالٰی کے پاس عبادت کیلیے فرشتوں کی کمی نہیں ہے لیکن اللہ نے انسان کو زمین پر اتارا حضرت آدم علیہ السلام سے یہ سلسلہ شروع کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم پر ختم ہوا اللہ نے ہر نبی کو معجزہ الگ الگ معجزات عطا کیے تاکہ جو گمراہی میں لوگ ہیں وہ سیدھے راستے پر چل سکیں ہر نبی نے اسلام کا پیغام پہنچایا..

    اللہ پاک نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کو ہر انسان کیلیے رحمت بنایا جب نبی پاک اس دنیا سے رخصت ہوئے تو تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی امت کو اپنی سیرت اور اسوۂ حسنہ چھوڑ کر جارہا ہو تم اسکو تھام لو…
    لیکن میں اب اصل بات کی طرف آتی ہو اللہ نے ہم انسانوں کی رہنمائی فرمائی اپنے انبیاء کے ذریعے تاکہ انسانوں کو مشکل نہ ہو…

    لیکن میں آتی ہو اب کے حالات کی طرف…
    ہم انسان آجکل اسطرح کے ہو چکے ہیں کہ ذرا سی مشکل آئے تو اللہ کو بھول جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے دنیا جہان کی ہر مشکل ہمارے سر پر ڈال دی ہے ہم آزمائش کو سزا بنا لیتے ہیں اللہ پاک نے اپنے ہر پیارے نبی پر آزمائش دی
    حضرت موسٰی کو فرعون کے پاس بھیج دیا حضرت یوسف کو کنویں میں تین دن رکھا اور ظالموں پاس بھجوادیا لیکن ان سب انبیاء نے افف تک نہ کیا

    لیکن ہم.سب مسلمان جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا دعوٰی کرتے تو ذرا سی مشکل پر واویلا کرتے ہیں

    ہم انسانوں میں صبر ختم ہو چکا ہے آزمائش شرط ہے یہ تو اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے:
    اللہ پاک اپنے ہر بندے کو آزماتا ہے کبھی لے کر آزماتا ہے تو کبھی دے کر آزماتا ہے
    اللہ نے ہر انسان کو جہاں مشکل دی ہے وہی آسانی بھی دی ہے

    فرمایا گیا ہے:
    ان مع الاسر یسرا
    فان مع الاسر یسرا

    ہر مشکل کے بعد آسانی ہے
    ہر غم کے بعد راحت ہے

    پس تم صبر کرو جتنا کرسکتے ہو اللہ اپنے بندے کو زیادہ مشکل میں نہیں ڈالتا
    ہم سب کو نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر.مشکل میں صبر کرنا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے

    اللہ پاک قرآن میں فرماتا تم مشکل میں صبر کرو اور مجھے یاد کرو کثرت سے
    تمہاری ہر مشکل آسان ہو.جائے گی

    تو میری اپنے تمام دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں ان سب سے گزارش ہے کہ مشکل وقت میں صبر کریں اللہ کا ذکر کریں اللہ اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سبکو سیدھے راستے پر چلائے اور صبر کرنے کی تلقین عطافرمائے

    آمین ثمہ آمین

    @InvisibleFari_

  • ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل  تحریر :- مدثر حسین

    ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل تحریر :- مدثر حسین

    اکیسویں صدی میں نئی نئی ایجادات نے اس دنیا کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے.ایک طرف جہاں انسانی رابطوں کے الات ڈیجیٹل ہیں، دوسری طرف سوشل میڈیا ہماری ضرورت بن چکا ہے
    ایک عام انسان ان آلات کو استعمال تو کر سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے ناواقف ہے. بہت ساری ویب سائٹس اپنے یوزر (صارفین) کا بائیو ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھتی ہیں تا کہ پاسورڑ بھول جانے کی صورت میں اس بائیو ڈیٹا کی مدد سے اصلی صارف کی شناخت ممکن ہو سکے، ورنہ کوئی بھی کسی کے اکاؤنٹ کا پاسورڑ تبدیل کر لے گا.
    یہ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بہت بڑا رسک بھی ہے. ہیکرز کسی کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے لئے اسکی ڈیوایس (انٹرنیٹ استعمال کرنے والا آلات)، اس کا فون نمبر ان دو چیزوں کا clone (جعلی معلومات) بنا کر ان چیزوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جس کے لئے ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم kali linux کو استعمال کیا جاتا یے، کچھ لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس پہ two factor authentication آن کر رکھا ہوتا ہے یعنی لاگ کرنے پہ وہ ویب سائٹ اس شخص کے موبائل نمبر پہ ایک کوڈ بھیجتی ہے جو گنتی کے چار سے چھ ہندسوں پہ مشتمل ہوتا ہے، اس کو جب تک اپ لاگ ان پیج پہ لکھیں گے نہین تب تک اپ اپنا اکاؤنٹ استعمال نہیں کر پاییں گے. ہیکرز اس مرحلے کو بھی عبور کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ ایسی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جس پہ عارضی طور پہ اپ کوئی بھی فون نمبر لکھ کر اس پہ انے والا مطلوبہ میسج /پیغام اپنی سکرین پہ دیکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اپ کو پیغام بھیجنے والے کا فون نمبر بھی معلوم ہو. ان ویب سائٹس کی مدد سے ہیکرز وہ میسج کوڈ سمیت وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. سیکیورٹی کے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس اب صارف کو اسکا مکمل فون نمبر ظاہر نہیں کرتیں 0123*******+تا کہ صارف آخری ہندسوں سے اپنے نمبر کی تصدیق بھی کر لے اور اس کے زیر استعمال فون نمبر پہ کوڈ بھیجتے وقت فون نمبر کسی بھی جگہ ظاہر نہ ہو سکے.
    تاہم کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے بہت ساری ویب سائٹس اور applications کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور ان اپلیکیشنز کو استعمال کرنے کے لئے ان پہ اپنا اکاؤنٹ بنانا ضروری ہوتا ہے، اکثر ایسی ویب سائٹس کی سیکورٹی کے غیر محفوظ ہوتی ہے، عین ممکن ہے کہ ہیکرز ان ویب سائٹس کے دیٹا تک رسائی حاصل کر کے اپکا فون نمبر نکال لیں اور جہان جہاں اپکا اکاؤنٹ ہے وہ اس ویب سائٹ / سوشل میدیا ویب سائٹس پہ جا کے اپکا پاسورد مندجہ بالا طریقے سے باآسانی تبدیل کر لین. سیکورٹی کے اس مسئلے سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنے اکاؤنٹس میں اپنا فون نمبر درج ہی نہیں کرتے وہ صرف ای میل کا استعمال کرتے ہیں.
    ای میل باقاعدہ سرور پہ محفوظ ہوتی ہین جن تک ہیکرز کی رسائی انتہائی مشکل امر ہے، تو ہیکرز ایسی صورت میں ایک خاص طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جس کے تحت وہ مطلوبہ شخص کا پاسورڈ تبدیل کرنے کے لیے forgot password والے صفحے پہ ایک خود ساختہ میل درج کرتے ہیں، جس سے وہ ویب سائٹ ایک error کا پیغام دیتی ہے، اور پھر تصدیق کے چند مراحل پیش کرتی ہے جس میں مطلوبہ شخص کی ای میل کے hints وہ آپ سے طلب کرتی ہے، ایسی صورت میں اگر ہیکرز کے پاس اپکا مکمل نام، پتہ، والدین اور دوست احباب کا علم ہو تو وہ ان hints کی مدد سے اپ کی ای میل پہ کوڈ بھیجنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تا ہم ویب سائٹس ای میل کو فون نمبر کی طرح ظاہر نہیں کرتیں اور کچھ اس طرح سے آپکو ای میل کی نشاندہی کرتی ہین s16@gmail.com***********
    اور پھر صارف کو اس بھیجی گئی ای میل کے زریعے علم ہو جاتا ہے کہ اسکا پاسپورڈ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی یے اور وہ احتیاطی طور پہ اپنا پاسورڑ تبدیل کر لیتا ہے، پاسورد تبدیل کرتے وقت cookies کا آپشن اگر آن ہو تو اس صفحے کا ریکارڈ کچھ دیر کے لئے browser پہ محفوظ ہو جاتا ہے، جس کی مدد سے ہیکر اس صفحے کو دوبارہ refresh کر کے پاسورڈ تبدیل کرنے والا صفحہ اپنی سکرین پہ باآسانی دیکھ سکتا ہے اور اس طرح بغیر ای میل معلوم کئے وہ نیا پاسورڑ درج کر کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے.

    کسی وائی فائی کا پاسورڈ ہیکرز کیسے ہیک کرتے ہیں اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ یہ سب اگلے آرٹیکل میں ان شاء اللہ…

    ‎@MudassirAdlaka
    ‎#mudassiradlaka

  • جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب  تحریر: بشارت حسین

    جنسی زیادتی کے اسباب اور سدباب تحریر: بشارت حسین

    معاشرے میں جنسی زیادتی کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا۔ دور حاضر میں جنسی زیادتی کا شکار نہ صرف خواتین ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ہونے لگیں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے گا کہ اب تو جانور بھی اس سے محفوظ نہیں تو یہ غلط نہ ہو گا۔
    جنسی زیادتی کہ شرح میں خطرناک حد تک کا اضافہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام کا سبب بن چکا ہے۔
    والدین اپنے بچوں کو گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ پتا نہیں کیا ہو گا اللہ خیر کرے۔
    لیکن ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور درندے کھلے عام پھرتے ہیں اپنا شکار تلاش کرتے ہیں اگر پکڑے بھی جائیں تو اکثر والدین بدنامی کے ڈر سے تھانوں کچہریوں میں جاتے ہیں نہی اگر چلے بھی جائیں تو کچھ عرصہ بعد وہ درندے پھر سے جیلوں سے بری ہو کر آ جاتے ہیں۔
    یوں یہ رحجان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
    اسباب
    معاشرے میں اس بیماری اور ناسور کے پھیلنے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
    جن میں سب سے پہلا انٹرنیٹ کا کردار ہے۔
    انٹرنیٹ جہاں بہت حد تک زندگی میں اسائیش لایا وہیں پورن ویب سائٹ نے ہمارے معاشرے کے خوبصورت ماحول کو تہس نہس کر دیا۔
    ایسی ویب سائیٹ پہ صرف زنا اور ہر طرح کے گندے کام دکھائے جاتے ہیں جس سے ہمارے بچے وقت سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور ان میں یہ جنسی خواہشات کا رحجان بڑھ جاتا ہے اس طرح تقریبا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے پچاس سے پینسٹھ فیصد تک اس خطرناک مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    دوسرے نمبر پہ شادی کے مسائل
    ہمارے معاشرے میں شادی کو عموما اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ اب نکاح مہنگا اور سنا سستا ہو گیا ہے۔
    جوان بچوں کی شادیوں میں اتنی دیر کر دی جاتی ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی غلط رستوں پہ چل نکلتے ہیں۔
    دین سے دوری
    اکثر ہمارے بچے اور بچیوں کو دیں سے شناسائی ہی نہیں ہوتی انکی نظر میں یہ کام کوئی زیادہ غلط نہیں ہوتا اس کو وہ تنگ نظری کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
    سدباب
    معاشرے میں اس ناسور کو روکنے کیلئے سخت قوانین کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ والدین کی چند اہم ذمہ داریاں بہت نمایاں ہیں۔
    چھوٹے بچوں کو والدین ہر وقت اپنی نظر میں رکھیں انکے ساتھ اپنے تعلقات دوستانہ رکھیں۔
    بچے کے ساتھ ملنے والے ہر شخص کے کردار کو دیکھیں اور اپنے سے بڑی عمر کے بچوں سے دور رکھیں۔
    بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور بند کمروں میں انٹرنیٹ سے بچائیں۔
    بچے کو کسی کے ساتھ زبردستی کہیں بھی نہ بھیجیں اور نہ بچہ کوئی بات کر رہا ہو اور اس کو روکیں ہو سکتا ہے وہ اپنی پریشانی بتا رہا ہو اور آپ اس کو نظر انداز کریں اور وہی اس کیلئے خطرناک ہو۔
    بچوں کو اکیلا دکان وغیرہ پہ مت بھیجیں بلاشبہ یہ مشکل ہے لیکن اس پہ نظر رکھیں یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
    میاں بیوی بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کریں۔
    بچوں اور بچیوں کو الگ الگ سلائیں۔
    کزن وغیرہ پہ بھی اعتماد نہ کریں بچوں کے معاملے میں کسی پہ کوئی اعتماد نہ کریں۔
    بچے جوان ہوں تو کسی نیک گھرانے میں بغیر لالچ کے شادی کریں۔
    بچوں کی عمر ضائع نہ کریں اور نہ ایسا موقع دیں کہ وہ آپکی رسوائی کا سبب بنیں۔
    مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں اور برے کاموں پہ اللہ کی پکڑ کے بارے میں بتائیں۔
    معاشرے کا پر شخص ایسے لوگوں پہ نظر رکھے اور انکو پولیس کے حوالہ کرے۔
    اپنے محلے کے بچوں اور بچیوں کی غلط حرکات سے انکے والدین کو آگاہ کریں۔
    ہم سب ایک ہوں گے تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو گا ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تو کسی کو ہمارے ماحول کو معاشرے کو گندہ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر : تماضر خنساء

    آج کل ہر بچے بچے کے پاس موبائل نظر آتا ہے صرف یہی نہیں تین اور چار سال کے بچے بھی اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ان سے وعدہ کیا جائے کہ بھائی آپکو موبائل دینگے ۔۔۔۔۔
    یوں کہنا ٹھیک رہے گا کہ کرونا سے بڑا وائرس یہ موبائل ہے !!! یہ موبائل صرف انسان کو نہیں ختم کر رہا باقی سب کچھ ختم کرتا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔
    یوں تو اسکے جہاں نقصان ہیں وہاں فائدے بھی بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں یہاں 24 میں سے 14 گھنٹے آرام سے موبائل کو دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔بلکے یوں کہنا درست رہے گا کہ موبائل آج کے نوجوان کو دس گھنٹے دوسری مصروفیات کیلئے دے دیتا ہے ۔۔۔۔ جس میں ہمارے نوجوان سونا کھانا پینا اور اگر خرافات میں پڑ جانے کی وجہ سے انسے توفیق عبادات سلب نہیں ہوئی ہیں تو وہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔
    لوگوں کی مختلف اقسام ہیں کچھ اس موبائل کو اپنے فائدے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں یہ فائدے دنیوی بھی ہیں اور دینوی بھی ۔۔۔۔ کچھ لوگ اسکے ذریعے سے حلال رزق حاصل کر رہیں ہیں تو کچھ اپنے نامہ اعمال کو بھاری کر رہے ہیں۔ اب قارئین سوچ رہے ہونگے کہ ان دو باتوں کو ساتھ ذکر کرنے سے میرا مقصد کیا ہے؟؟ تو مختصر یہ کہ مختلف ایسی ایپلیکیشنز متعارف ہوئی ہیں جنکے ذریعے سے لوگ پیسہ بنا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور بس یہی نہیں بلکہ اس میں اب ایک پڑھا لکھا طبقہ ملوث ہوگیا ہے ۔۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے ایک ایپلیکیشن ہے آپ اسے انسٹال کرتے ہیں اور پھر اس پر اچھی ویڈیوز بناتے ہیں یا جیسی بھی بناتے ہیں یہ آپ پر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اپ
    اپنے ہر عمل کے زمہ دار خود ہیں مگر کیا ہم اتنے باعمل ہیں کہ دوسروں کی بداعمالیوں کا بوجھ بھی اٹھا سکیں؟ ٹک ٹاک اور اسنیپ ویڈیو آپ نے شیئر کیں اور آپکے اکاؤنٹ میں پیسے آئے اور یوں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ انوائیٹ کر کے آپ زیادہ سے زیادہ کمائینگے ۔۔۔۔۔ اور یاد رہے کہ آپ اس دنیا میں کمانے اور کھانے نہیں آئے تھے بلکہ بندگی کیلئے ہم بھیجے گئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (الملک:٢)
    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔

    یعنی جینے کیلئے پیسے کی ضرورت ہے ہم پیسے کہ نہیں پیسہ ہمارا غلام ہے ہم نے اب جتنے لوگوں کو اس پر انوائیٹ کیا اگر وہ نیکی کرتے ہیں اسکے ذریعے تو ظاہر ہے ہمارے اس اکاؤنٹ میں بھی اضافہ ہوگا جو ہمیں روز آخرت ملے گا۔۔۔۔۔ اور جہاں کوئی برائی کرے گا تو اس کی برائی کا بوجھ بھی ہم اٹھا لیں کیا ایسا ممکن ہے؟؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
    لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَھُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَھُمْ بِغَیْرِ علم ۔اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ (النحل:٢۵)
    "روز قیامت یہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ پوری طرح اپنے دوش پر اٹھائیں گے اور ایک حصہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی کہ جنہیں جہالت کی وجہ سے انہوں نے گمراہ کیا ہے
    جان لو کہ وہ بد ترین بوجھ اور ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے ہوں گے ”
    یوں بھی آج ہم سب فرائض بمشکل انجام دیتے ہیں گناہوں سے دل سیاہ ہے اور یوں شیئرنگ کر کے گناہوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں ۔۔۔
    پھر صرف یہ ویڈیو کی ایپلیکیشنز ہی نہیں اور بھی سوشل میڈیا کی بڑی ایپلیکیشنز جو کے نوجوان نسل اپنی بربادی کیلئے استعمال کرتی ہے ۔۔۔۔ صرف اخروی ہی نہیں دنیوی بربادی کا سبب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    میٹرک اور انٹر کے سنہرے وقت کو جس میں انکی زندگی بنتی ہے سوشل میڈیا پر محبتوں میں برباد کردیے ہیں جب انھیں یونیورسٹی کے لئے تعین کرنا ہوتا ہے تب والدین انکے لئے سائیکالوجسٹ کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ دماغی صحت یہاں کہاں سے آگئی تو جناب کہا جاتا ہے کہ نسل نو کا اسمارٹ فونز اور کھانے پینے کی طرف رجحان اتنا ہے کہ وہ اپنی صحت کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتے اور انکی جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل گرتی جارہی ۔۔۔۔ پھر سوشل میڈیا پر مختلف باتوں پر ری ایکشن بھی ضروری سمجھا جاتا ہے جس سے عدم برداشت کے تناسب میں بھی اضافہ کوریا ہے ۔۔۔۔۔۔۔خاندان جو کبھی ساتھ ملکر بیٹھا کرتے تھے اب وہ وقت بھی موبائل کھا جاتا ہے اس وجہ سے اپنے معاملات بڑوں سے ڈسکس کرنا بھی اس نسل نے نہیں سیکھا۔۔۔۔۔ ایک ہی چیز ایک ہی معاملے کو سوچ سوچ کر مکمل ڈیپریسڈ نسل ہے یہ اور میں اگر اپنے ارد گرد کا مشاہدہ کروں تو اکثر وہ لوگ جو بس ضرورت کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں انکی شرح ڈیپریسڈ ہونے کی ان نوجوانوں سے کم ہے جو سوشل میڈیا میں ڈوبے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔ اچھا ہے کہ ہم اس نعمت کو نعمت ہی کی طرح استعمال کریں اسے زحمت نہ بنائیں ۔۔۔۔

    @timazer_K