Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آئی سی سی کی نئی رینکنگ ، بابر اعظم کو حکمرانی بدستور جاری

    آئی سی سی کی نئی رینکنگ ، بابر اعظم کو حکمرانی بدستور جاری

    آئی سی سی کی نئی رینکنگ ، بابر اعظم کو حکمرانی بدستور جاری

    باغی ٹی وی : ، بابراعظم کی حکمرانی بدستور برقرار.آئی سی سی نے ون ڈے کی نئی رینکنگ جاری کر دی ہے

    انٹر نیشنل کرکٹ کونسل ن اپنی نئی رینکنگ جاری کر دی ہے .تازہ ترین رینکنگ کے مطابق ویرات کوہلی دوسری جبکہ روہت شرما تیسری پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ چوتھی پوزیشن پر نیوزی لینڈ کی روز ٹیلر، پانچویں پر ارون فنچ، چھٹی پر جونی بریسٹو، ساتویں پر آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر، آٹھویں پر کوانٹن ڈی کک، نویں پر شائی ہوپ اور دسویں پوزیشن پر نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن ہیں ۔

    گیند بازوں میں‌ کسی بھی پاکستانی باؤلر کا اوپر کے دس کھلاڑیوں میں نام نہیں ہے . باؤلنگ کے شعبے میں کوئی پاکستانی کھلاڑی ٹاپ 10میں شامل نہیں۔

    نیوزی لینڈ کی ٹرینٹ بولٹ پہلے، جوش ہیزل ووڈ دوسرے، مجیب الرحمان تیسرے، کرس ووکس چوتھے، مہدی الحسن پانچویں، میٹ ہنری چھٹے، جسپریت بمراہ ساتویں، مچل سٹارک آٹھویں، شکیب الحسن نویں اور کگیسو ربادا دسویں نمبر پر ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی 13ہویں نمبر پر ہیں۔ٹاپ ٹین بولرز میں پاکستان کا کوئی بولر شامل نہیں، پاکستان کے بولرشاہین آفریدی 13 ویں نمبر پر موجود ہیں۔

  • پیار کرنا سیکھو۔  تحریر: نبیل آمین

    پیار کرنا سیکھو۔ تحریر: نبیل آمین

    ایک بار کی بات ہے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا اس کے گھر کے قریب ایک پہاڑ تھا جہاں پر وہ روز صبح جاتا اس پہاڑ پر وہ تھوڑی دیر کے لئے بیٹھتا پھر واپس آ جاتا تو روز کی طرح وہ صبح صبح جا رہا تھا پیچھے سے اس کا چھوٹا سا بیٹا آیا اس نے آ کرکے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کے آج میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا اس نے پہلے تو اسے تھوڑا سمجھایا اور منع کیا کہا کہ جو راستہ ہے وہ تھوڑا چھوٹا ہے اور چڑھائی بہت زیادہ ہے تو تم میرے ساتھ نہیں چل پاؤ گے لیکن پھر جب اس بیٹے نے زد کری تو باپ مان گیا تو دونوں پہاڑ پر چڑھنے لگے باپ نے بیٹے کا ہاتھ قس کے پکڑا ہوا تھا لیفٹ سائیڈ میں پہاڑ تھے اور رائٹ سائیڈ میں کھائی تھی اور راستہ بہت ہی چھوٹا تھا اور وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والے تھے تب ہی راستے میں ایک بڑا سا پتھر آیا کیونکہ باپ اس راستے پر روز آتا تھا تو اس کو پتہ تھا کہ وہاں پر پتھر ہے تو وہ سائیڈ سے نکل گیا لیکن جو بیٹا تھا اس کا دھیان کہیں اور تھا تو اس کا گھٹنا جا کے بڑے سے پتھر میں ٹکرا گیاتو پھر اس بچے کے منہ سے ایک چیخ نکلی آہ جیسے ہی وہ چیخا اس کی آواز ان پہاڑوں میں گونجنے لگی اس سے پہلے اس بچے نے کبھی بھی اپنی آواز کی گونج کبھی نہیں سنی تھی تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے وہ اندر سے تھوڑا سا گھبرا گیا تو اسے لگا کے شاید کہیں کوئی ہے جو اسے چھپ کر دیکھ رہا ہے اور اس کا مذاق اڑا رہا ہے پھر اس بچے نے بولا کون ہو تم تو جب اس بچے نے اس گونج کو سنا تو اسے غصہ آگیا اس کو لگا کہ کون ہے یہ جو میرا مذاق اڑائے چلے جا رہا ہے پھر اس نے غصے سے کہا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں اور پھر جیسے ہی اس نے اس گونج کو سنا تو وہ گھبرا گیا اس کا باپ سمجھ گیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اس نے اپنے باپ کا ہاتھ قس کے پکڑ لیا اور ان سے پوچھا کہ کون ہے یہ جو مجھے اتنا تنگ کر رہا ہے کون ہے یہ جو مجھے اتنا ڈرا رہا ہے تو اس کا باپ تھوڑا سا مسکرایا اور انہوں نے کھائی کی طرف دیکھا اور زور سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں یہ سن کر وہ بچہ حیران ہوگیا اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے کہ وہی انسان جو اس کا مذاق اڑا رہا ہے اس کو تنگ کر رہا ہے وہ اس کے باپ کو بول رہا ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور وہ سمجھ گئے کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے اور پھر دوبارہ انہوں نے بولا تم بہت اچھے ہو اور یہ سن کر ان کا بیٹا بھی تھوڑا سا مسکرایا اور یہ پوچھا اپنے باپ سے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا یہ جو آواز تم سن رہے ہو نہ یہ کسی اور کی نہیں ہے یہ تمہاری ہی آواز ہے جو کہ پہاڑوں میں گونج رہی ہے اور تمہیں اپنی ہی آواز سنائی دے رہی ہے جیسا تم بولتے ہو ٹھیک ویسا ہی تمہیں سنائی دیتا ہے اگر تم غصے سے کچھ کہو گے تو پلٹ کر کہ جو آواز آئے گی اس میں بھی غصہ ہوگا لیکن اگر تم کچھ اچھا کہو گے تو آواز بھی اچھی ہوگی بلکل اسی طرح سے ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے جیسا تم اپنے دل میں اس زندگی کے بارے میں سوچتے ہو یہ زندگی تمہارے لئے بلکل ویسے ہی ہو جاتی ہے اگر تم دل ہی دل میں اپنے آپ کو یہ بولتے رہو گے کہ میری زندگی تو بہت بری ہے تو تمہاری زندگی سچ میں بری ہو جائے گی اور اگر تم اپنی زندگی سے پیار کرو گے تو تمہاری زندگی بھی تم سے پیار کرے گی یہ بات اس بچے کے دماغ میں گھر کر گئی اور پھر وہ دونوں اس پہاڑی کی چوٹی پر گئے لیکن بچے کے دماغ میں یہی بات گھوم رہی تھی اور پھر وہ بچہ کھلکھلا کے ہنسا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ کھولے اور اپنی پوری طاقت سے بولا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
    جزاک اللہ ! خوش رہیں اور خوش رکھیں ، تحریر محمد بخش
    Twitter user name @Im_NabeelAmeen

  • سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام  تحریر: ام سلمیٰ

    سندھ کا فرسودہ تعلیمی نظام تحریر: ام سلمیٰ

    ہزاروں کی تعداد میں موجود سندھ کے سرکاری اسکول جن کا کوئی پرسان حال نہں ، سندھ کے سرکاری اسکو لوں کی کر کردگی مایوس کن نظر آتی ہے ، جس کی ایک اہم وجہ تدریسی عملے کی عدم موجودگی بھی ہے اور اساتذہ کا تعليمی معیار بھی جدید دور کے مطابق نہں ہے.

    تعلیم کسی بھی فرد کے معاشرے کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور ایک اچھے معاشرے کا سبب بھی تعلیم کا معیار ہے ۔ کئی دہائیوں سے اگرچہ بنیادی طور پر سندھ میں تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بوسیدہ سرکاری اداروں کی وجہ سے سندھ کا نظام تعلیم ایک مایوس کن حالت سے گزر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی 1970 کی دہائی سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے ، لیکن انہوں نے صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے کئی سالوں سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں نظام تعلیم کی بہتری میں بہت رکاوٹیں ہیں.

    ہزاروں کی تعداد سندھ کے سرکاری اسکول ایک مایوس کن کر گردگی دیکھا تے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے والدین بچوں کو پرائیویٹ اسکول بھیجنے پے مجبور ہوجاتے ہیں ، زیادہ تر اسکول جس میں تدریسی عملے کی عدم دستیابی اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ، پینے کے پانی کا نہ ہونا اور بجلی جیسی مناسب بنیادی سہولیات کا فقدان ہونا ہے ، اور کھیل کے میدانوں یا لیبارٹریوں کی تو بات ہی نہ کریں کیوں کے وہ تو بلکل میسر نہں سرکاری اسکول میں جب کے اسکول بُنیادی درس گاہ ہے بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے.

    سندھ میں تقریبا لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا تناسب لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سندھ کے قبائلی اور دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے میں صنفی فرق انتہائی واضح ہے۔ تاہم ہر سال اربوں روپے تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کیے جاتے ہیں ، لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں استعمال ہوتا ہے۔

    مزید یہ کہ پرائیویٹ اسکول مافیا ہر سال اربوں روپے پیدا کررہا ہے لیکن بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور مناسب تعلیمی ماحول مہیا نہیں کررہا ہے۔ سندھ میں نجی اسکولوں کی بہت ساری عمارتیں 600 سے 700 فٹ سے زیادہ کی جگہوں پر واقع ہیں ، جہاں بچوں کے پاس کھیلوں کے میدان اور لیبارٹری نہیں ہیں۔جو کے بچوں کی بُنیادی ضرورت ہے.

    نظام تعلیم میں بہتری لانے کے لئے ، حکومت سندھ نے اسکول کے عملے کی موجودگی کی جانچ پڑتال کے لئے بائیو میٹرک تصدیقی نظام متعارف کرایا لیکن ہر کام توجہ مانگتا ہے نظام لگانا اور پھر اس کی مسلسل جانچ پڑتال کرتے رہنا کسی بھی کام میں بہتری لانے کا صحیح طریقہ ہے ،سندھ سرکار اس میں ناکام رہی۔ نظام کو چلانے کے لئے ، مانیٹرنگ آفیسرز کو بڑی تنخواہوں پر مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کی ذمہ داری صرف اساتذہ کی دستیابی کی تصدیق تک محدود ہے اور سب مانیٹرنگ افسران کو صورتحال کی اطلاع دینا لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نظر نہں آتا انتظامی سطح پر ، کوئی بھی خالی عہدوں ، غیر معیاری تدریسی طریقہ کار اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو خراب کرنے جیسے مسائلِ پر توجہ نہں دیتا اور نہ ہی ان مسائل کو ختم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا ہے۔ در حقیقت ، بایومیٹرک سسٹم کو شامل کرنے سے تعلیم کے معیار میں بہتری نہیں آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ، ہزاروں اساتذہ استعفی دے چکے ہیں۔ اور ان کی جگہ کوئی نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ، اسکول بند کردیئے گئے ہیں۔ان مسائل کا فوری حل نہں نکالا گیا جس کی وجہ سے اسکول میں تدریسی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے.

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں کے ناقص معیار کی وجہ سے ، والدین جو کے خود بھی انہی اسکول کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ سرکاری اسکول اساتذہ بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرایا ہے۔

    اس کے علاوہ ، سرکاری اسکولوں میں اوسطا ایک کلاس روم میں 200 طلبہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں معیاری تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے؟ وفاقی تعلیم کا اصول صرف 25 طلباء فی استاد ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس رومز اور اساتذہ کی بھی کمی ہے۔ بہت سارے اسکولوں میں ، ایک ہی استاد مختلف گریڈ میں طلبا کی دیکھ بھال کرتا ہے اور سات سے آٹھ مضامین پڑھاتا ہے۔ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنے والی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اسکول مینجمنٹ کمیٹیاں دیانتداری و احساس کے ساتھ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نہں نبھاتی ہیں۔

    سندھ میں نظام تعلیم کو ٹھیک کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کی طویل مدت انتھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو تعلیمی اصلاحات کو ترجیح بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک یکساں نظام تعلیم ہو۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر محکمہ تعلیم مضبوط بنانا ہوگا۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو اسکول اور والدین فاصلے کو ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی اور اسکول کے فنڈز کو دیانتداری سے استعمال کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی اسکول میں جو بنیادی ضرورت کی کمی ہے اس کو ان فنڈز کے صحیح استعمال سے میسر کیا جا سکے۔ بدعنوانی کیلئے صفر رواداری ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں سے اقربا پروری کا بھی خاتمہ کیا جانا چاہئے اور تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت کو بھی روکا جانا چاہئے۔

    سب سے بڑھ کر اساتذہ کی کے تعلیمی معیار پر توجہ دینی ہوگی اِنکی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مناسب تربیت دے کر تدریسی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا تبھی سندھ کے تعلیمی نظام میں جنگی بنیادوں پر بہتری آسکے گی.

    @umesalma_

  • تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک بمقابلہ سرمایہ دارانہ نظام تحریر : وقاص رضوی جٹ

    تحریک لبیک پاکستان کاقیام 2017میں وجود میں آیا۔ اس تحریک کےقیام کےپیچھےجو وجہ کارفرما تھی وہ ممتاز قادری کی گرفتاری اور سزاۓموت تھی۔ حافظ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی رہاٸی کیلیے مذہبی تحریک لبیک یارسول ﷺ کی بنیاد رکھی۔ 2017میں ختم نبوت ﷺکےقانون میں تبدیلی کیخلاف فیض آباد میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺنےدھرنادیا جسےتاریخ کامیاب دھرناماناجاتاہے۔ اس دھرنےکےبعد اس تحریک کےسیاسی ونگ کےقیام کی ضرورت محسوس کی گٸ اور تحریک لبیک پاکستان کوالیکشن کمیشن میں رجسٹر کروایاگیااور کرین کانشان الاٹ کیاگیا۔ TLPنے2018کےانتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری۔ اسکی شاندار کامیابی سے سب چونک اٹھے۔ اور بڑےبڑے مگرمچھ جو گزشتہ 73سالوں سےپاکستان کو نسل در نسل لوٹتےآرہےہیں انہیں اپنی طاقت خطرےمیں پڑتی نظر آٸی ۔غریب جوکٸ سالوں سے معاشی استحصال کاشکارہیں انکو کوٸی آپشن نہیں مل رہاتھا کیونکہ تمام قومی سطح کی سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی نماٸندگی کرتی ہیں۔ تحریک لبیک کی بڑھتی ہوٸی مقبولیت سےبڑے بڑے دیاسی برج اور سرمایہ دار خوفزدہ ہیں۔آخر وہ کیاوجہ ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی سےلیکر تاجرمافیا تک اور کرپٹ سیاستدانوں سےلیکر بڑےبڑے میڈیا ہاٶسسز TLP سےخوفزدہ ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ TLPمتوسط اور غریب طبقےکی جماعت ہے جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں ٗ میڈیا ٗ بیوروکریسی ٗ سرمایہ دار ٗ بڑےبڑے عیش پرست گدی نشین سب اشرافیہ کی نماٸندگی کرتےہیں۔ اور پوری دنیاجانتی ہےکہ یہ اشرافیہ کس طرح پاکستان کےغریب اورمتوسط طبقےکاکٸ سالوں سےاستحصال کررہےہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ تحریک لبیک بمقابلہ دیگر سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ غریب بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ ہے۔ اور اس جنگ میں وقتی طور پراشرافیہ جیتتی ہوٸی نظر آرہی ہےکیونکہ یہ پورےسسٹم پر قابض ہے۔مگر یہ ایک لاوا ہے جو پھٹنےوالاہے اور یہ لاوا تمام اشرافیہ اور سرمایہ داروں کو بہاکر لےجاۓگا۔کیونکہ اب غریب کو تحریک لبیک کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل چکاہے۔جلد یا بدیر غریب اور متوسط طبقےسے تعلق رکھنےوالٕےپاکستانیوں کو اس اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا ملنےوالاہے۔

    @waqasRizviJutt

  • میں انمول ہوں  تحریر: فریال نیازی

    میں انمول ہوں تحریر: فریال نیازی

    سترہ اٹھارہ سال کی عمر تک ماں باپ آپ پہ روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لیکن یونیورسٹی کی عمر کو پہنچ جانے یا شادی ہوجانے کے بعد آپ اتنے بڑے ہوجاتے ہیں کہ کوئی آپ پہ روک ٹوک نہیں کر سکتا ۔ نہ آپ سے کسی کی روک ٹوک برداشت ہوتی ہے ۔ اس عمر میں آپ جو چاہیں کھائیں ۔ جب چاہیں کھائیں آپ کی مرضی ہے تو کام کریں نہیں ہے تو نہ کریں ۔ آپ یونیورسٹی یا جاب پہ جائیں یاسارا دن سو کے گزاریں اس عمر میں اماں اباکم ہی کچھ کہتے ہیں نہ ان کے کہنے کا اثر بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ وہ جتنا کہہ لیں کہ آدھی آدھی رات تک نہ جاگو‘ موبائلز رکھ دو اور صبح جلدی اٹھو۔۔۔ فرق نہیں پڑتا ۔ پھروہ عموماََ کہنا چھوڑ دیتے ہیں
    میں اکثر کہتی اور لکھتی ہوں کہ اپنے ہیرو خود بنیں ۔ لیکن وہی شخص اپنا ہیرو خودبن سکتاہے جو پہلے اپنا پیرنٹ خود بننا سیکھے ۔ اپنی ماں بنے ۔ خود پہ روک ٹوک کرے ۔ خود پہ پابندی لگانے کا جگر پیدا کرے ۔ خود کو کام کے لیے اٹھائے ۔ کب کھانے سے ہاتھ روک لینا ہے اور کب ایکسرسائز کے لیے اٹھ جانا ہے ۔ اپنی ذات‘ کیرئیر اور دین کو بہتر بنانے والے کاموں پہ اس عمر میں کوئی آپ کو مجبور نہیں کرسکتا کوئی آپ سے یہ کام نہیں کرواسکتا ۔ اور یہ کام نہ ہونے کی صورت میں کوئی آپ کو نقصان سے بچانے بھی نہیں آئے گا کیا کرنا ہے اور کس سے رک جانا ہے۔
    اپنی پیرنٹنگ آپ نے اب خود ہی کرنی ہے ۔ اس کو کہتے ہیں سیلف ڈسپلن۔۔ ری پیرنٹنگ۔۔!!!!

    @Missfaryalkhan

  • رشتوں کی قدر  تحریر: محمداحمد

    رشتوں کی قدر تحریر: محمداحمد

    رشتے جزبات اور احساسات کے ہوتے ہیں اگر ہم سب رشتوں کی قدر کریں تو کوئی بھائی ، بہن ، والدین عزیز و اقارب دکھی نہیں ہوگا ہر جگہ کہیں جائیداد کا مسئلہ ہے تو کہیں لوگ ایک دوسرے کا حق کھا رہے ہیں بہنوں کے حقوق پر سانپ سونگھ جاتا ہے کہیں اولاد نہیں ہے تو کہیں لوگوں کے تعنوں سے گھر والے آپس میں اختلافات کر کے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اولاد اللہ پاک کی دین ہے جن کی اولاد ہے وہ نیک نہیں ہے آج کل کے دور میں ماں باپ بچے کو اگر موٹر سائیکل لے کے دے دیتے ہیں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ بچہ اس کے ساتھ کیا کر رہا ہے ماں باپ یا گھر کے بڑے کا فرض ہے اس کی دیکھ بھال کرے اس کو نصیحت کرے جہاں بچہ غلط کر رہا ہے اس کو ٹھیک کرے تاکہ رشتوں میں قدر بھی رہے اور اچھی صحبت میں بھی رہے

    آج کل کے دور میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ ہر انسان کے لئے رشتے کی قدر ایسے ہی ہے جیسے سیڑھی پر پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں جب کو اس سیڑھی کا کوئی استعمال نہیں کرتا تو اس کو کچرہ سمجھ کر کباڑ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ہر کوئی مفادات کی خاطر تعلق رکھتا ہے ۔ تعلق کو کبھی مفادات کی خاطر نہیں رکھنا چاہیے عزت اللہ پاک نے دینی ہے

    معاشرے میں کچھ لوگوں میں اپنی طرف کھینچ لانے کی طاقت ہوتی ہے مگر اپنا بنا کے رکھنے کی قوت نہیں ہوتی ایسے ہی کچھ رشتے بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا ان پر ہمارا حق خود بخود اس طرح کا ہو جاتا ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنے ساتھ چاہئے ہوتے ہیں بغیر کسی لالچ ، کسی غرض کے ، بس ان کا ہماری زندگی میں ہونا ہی ایک سکون ایک تسلی کا باعث ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا مرد شرم محسوس کرتا تھا کہ بیوی کام کرے اُسے اپنے آپ پہ فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اپنے بچوں کے اخراجات اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتا تھا اب وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بدل گیا ہے لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے معاشرے میں مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے بیٹیوں کو کام کرنے کی طرف راغب کردیا ہے بعض لوگوں کو مجبوری کی وجہ سے کام کرواتے ہیں اور بعض لوگ شوق کی وجہ سے ۔ وہی بیٹی سے بیٹا بن کر کام کرنے لگ جاتی ہے اور مرد گھر کے باہر اس کو پروٹیکشن دیتا ہے اب معاشرے میں گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جاتا ہے اس طرح لڑکیوں کا آگے بڑھنے سے نقصانات یہ ہوا کہ جو لڑکیاں نوکری کرتی ہیں ان کیلئے رشتے عام ہوگے ہیں اور جو لڑکیاں کام نہیں کرتی وہ گھر میں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں جس گھر میں عورتیں سارا دن باہر کے کام کرتی ہیں وہی عورتیں گھر میں آکر کام کرتی ہے تو گھروں میں جھگڑے عام ہوگے ہیں اس سب کا اثر یہ ہوا کہ پہلے مرد کماتا تھا اُس کا انحصار گھر میں ہوتا تھا اب اگر عورت کماتی ہے تو وہ انحصار کم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے طلاق کی ریشو بڑھ گئی ہے

    مُخلص رِشتوں کی قدر کریں کیونکہ جہاں رُوح کے رشتے قائم ھوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ھوتے۔ اور رہ گئ بات آپ کی تو اچھے لوگوں کو کھو کر اپ نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا یہ وقت آپ کو بتاۓ گا

    @JingoAlpha

  • نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا تحریر: ذوہا علی

    ‏نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا، دن دیہاڑے حوا کی بیٹی کی عصمت کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی نوچ لیا اور اُس معصوم عورت کی عصمت دری کے بعد مزاحمت پر اس کی گردن پر چھڑی چلا دی۔ ایک تو وہ درندہ تھا جس نے اس معصوم، غریب عورت کے ساتھ ظلم کیا لیکن اس کے علاوہ وہاں کچھ اور بھی درندے موجود تھے۔ اس معصوم، زخمی عورت کے جسم کو مرہم پٹی کی ضرورت تھی کیونکہ اس کے گلے سے خون بہہ رہا تھا۔ مگر افسوس کہ اس بے حس دنیا کے بے حس لوگ اُس معصوم عورت کی ویڈیو بنانے لگ گئے، اس سے بیان لینے لگ گئے۔ اس بنتِ حوا کو بروقت ہسپتال لے جانے کی بجائے اس کے انٹرویو لینے لگ گئے۔
    یہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک بچے کو قتل کر دیا گیا اس کی ماں کی عصمت لوٹی گئی اور جب اس نے مزاحمت کی تو اس کے گلے میں چھڑی چلا دی گئی۔ وہ علاقہ غیر ہو چکا ہے وہاں کوئی قانون نہیں ہے لوگ بغیر کسی خوف و خطر کے معصوم لوگوں کو ازیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ معصوم عورت تو ابدی نیند سو گئی مگر اس کے ساتھ کیے گیے ظلم کا حساب معاشرے کو دینا ہو گا۔
    ہمارا معاشرہ ایسے درندوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہوس کے اتنے پجاری ہو گئے ہیں کہ اپنی ہوس کی انتہا پر کسی معصوم انسان کی زندگی کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ ایسا کوئی انسان مر رہا ہو تو اُس وقت بھی پیسے اور شہرت کے چکر میں ہوتے ہیں کہ اُس کی مدد کی بجائے تصاویر بنانے لگ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ کب تک ایسی بے حسی کی زندگی گزار رہے ہوں گے اور اپنی شہرت اور پیسے کی خاطر دوسروں کی زندگیوں سے مذاق کر رہے ہوں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں جو انسانوں کی مدد کی بجائے گمراہی پھیلا رہے ہیں اور اپنی سستی شہرت کی خاطر کسی معصوم کی آخری سانس پر بھی اس کی مدد نہیں کرتے۔
    ایسے ظلم معاشرے سے تب ہی ختم ہو سکتے ہیں جب اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قوانین نافذ کیے جائیں۔ جب تک شرعی سزائیں نافذ نہیں ہوتیں ایسے ظلم ہوتے رہیں گے۔
    اللّٰہ بڑا بے نیاز ہے۔ جب ظالم کے گلے اللّٰہ کا عذاب پڑتا ہے تو اُس عذاب کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس ظالم کے کیے گئے ظلم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللّٰہ پھر ہمارے انفرادی عمل کو نہیں دیکھتا۔ اللّٰہ اپنے دین کے چلانے کا کام دوسری اقوام سے بھی لے سکتا ہے اور تاریخ میں بہت دفعہ لیا ہے۔

    ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
    پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے (اقبال)

    اور اب بھی لے سکتا ہے اور پھر پرانے مسلمانوں کی طرح ہمارے بھی صرف قصّے اور کہانیاں ہی رہ جائیں گی۔
    خدارا اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور آواز اٹھائیں اپنے ایمانوں کی خاطر، اس بات کی خاطر کہ کل کو یہ فتنہ ہمارے گھروں تک نہ پہنچ جائے۔ اور اپنی شہرت اور لالچ پسِ پردہ ڈالیں۔ اللّٰہ کی رضا کے لیے مظلوموں، مسکینوں کے لیے اٹھیں نا کے سوشل میڈیا پر شہرت اور پیسے کمانے کی خاطر۔ اگر ہم اللّٰہ کی رضا کی خاطر اُٹھے تو اللّٰہ سب کچھ دے گا اور اگر شہرت اور پیسوں کی خاطر اُٹھے تو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

    اللّٰہ رحم کرے اس ملک و قوم پر۔ پتہ نہیں یہ روز کی داستانیں جو لوگ اپنے رب کو سنانے چلے جاتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلے گا !!

    Name : زوہا علی
    Twitter handle : @ZoHaAli_15
    Topic :
    سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں

    وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا

  • حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری  تحریر: مجاہدحسین

    حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری تحریر: مجاہدحسین

    تازہ خبریں: تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر سے 25 نشستوں پہ کامیابی سمیٹی، عمران خان نے اگلا ہدف سندھ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
    اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عمران خان کسی چیز یا کام کے بارے میں فیصلہ کر لے تو پھر وہ اسے پورا کر کے رہتا ہے۔

    ووٹ چرانے والوں کو استعفی مانگتے وقت شرم آنی چاہیئے۔ مریم اورنگزیب
    یاد آیا، کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں بیٹھے ن لیگ کے سینئر سیاستدان اور پاکستان کے سابق وزیراعظم یہ فرما رہے تھے کہ جتنا ووٹ چوری کرنے کا تجربہ ہمارا ہے اتنا کسی کا بھی نہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا موصوف اور موصوفہ بھی شرم محسوس کرتے ہونگے یا ان کی شرم والی حس مر چکی ہے؟

    کرونا کے کیسسز میں خطرناک اضافہ، مئی کے بعد کیسسز بلند ترین سطح پر۔
    ہم اس قوم کو بار بار اس وائرس سے احتیاط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو یہ بات شوق سے کہتے ہیں کہ جو رات قبر میں ہے وہ دنیا میں نہیں۔ ان پہ خاک کسی دلیل کا اثر ہونا ہے۔ لیکن اس وقت تک جب ہر ایک کے گھر سے کوئی رشتہ دار اس بیماری سے جانبحق نہ ہو تب تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔

    پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی اور تشدد کا سہارا لیا۔ بلاول زرداری
    قارئین! آپ کو بتاتے چلیں کے انہیں کی پارٹی کے عہدیداروں کے خلاف الیکشن والے دن تحریک انصاف کے دو نوجوانوں کو سیدھی گولیاں مار کے شہید کرنے کا پرچے ہو رہے ہیں۔

    بھارت سے مدد مانگنے کے بیان کا معاملہ، ن لیگ نے اسماعیل گجر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
    یہ سن کے یاد آیا کہ ہمارے ہاں ایک محاوہ بہت مشہور ہے کہ "وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جائی۔ مطلب پہلے اپنے لوگوں چاہے وہ نہال ہاشمی ہو، جاوید لطیف یا پھر اشرف گجر۔ یہ لوگ اتنے بڑے سیاستدان نہیں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی بیان دے دیں، قوی امکان ہے کہ ان کی پشت پناہی ن لیگ کی سیاسی وارث اور شاہی خاندان کی ولی عہد مریم صفدر ہی فرما رہی ہونگی۔

    اور اب نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری

    ‏یہی نہیں مرے سرکار جھوٹ بولتے ہیں
    یہاں کے کوچہ و بازار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ میرے شہرِ خرابی میں بسنے والے لوگ
    عجیب ہیں کہ سر دار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏دیئے جلائے ہوئے شام کی حویلی میں
    تمام ریشمی کردار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏کمال یہ ہے ترے چشم و لب کے آئینے
    بڑے یقین سے ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ باب عشق، اسے روشنی سے نسبت ہے
    یہاں تو صرف سیاہ کار جھوٹ بولتے ہیں۔

    اور اب آخر میں ایک مطلع:

    ‏قرار دل فسانہ ہو گیا ہے
    تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

    @Being_Faani

  • مضبوط سامراجی قوت کا خواب تحریر: محمد معوّذ

    مغرب کی طرف سے مسلسل اسلام سے متعلق منفی پروپیگنڈا جس سے بنیاد پرستی کی قدامت پسندی اور انتہا پسندی شامل ہیں زور وشور سے کیا جارہا ہے اور اسلام کو دقیانوسی نا قابل عمل اور دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ دنیا میں جب بھی کہیں بھی کوئی گڑبڑ تخریب کاری حادثہ یا سانحہ رونما ہو تو فوری طور پر تمام ذرائع ابلاغ اس کی تشہیر اس حساب سے کرتے ہیں کہ جیسے تمام تر مسلمان اس میں بیک وقت ملوث ہوں ۔ اگر وہ براہ راست نہیں تو بلا واسطہ وہ اس میں ضرور شریک ہیں ۔ مغربی دنیا ویسے تو حقوق العباد پر سب سے زیادہ ڈھونگ رچاتا ہے لیکن خود امریکا بهادر بغیر جواز کے عراق پر چڑھ دوڑا ۔ سیکوریٹی کونسل کی اس نے پروانے کی دنیا بھر میں عراق پر فوج کشی کے خلاف جلوس اور مظاہرے ہوئے مگر امریکا ٹس سے مس نہ ہوا اور کسی اخلاقی اور قانونی جواز کے بغیر عراق پر فوج کشی کی اور قابض ہوا ساتھ میں برطانیہ شیطان کو بھی ملالیا ۔ اب جب کہ عراق میں منظم گوریلا جنگ شروع ہو چکا ہے تو مختلف ملکوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ عراق میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی فوجیں دیں تا کہ امریکا اپنا ظالمانہ تسلط قائم رکھ سکے ۔ بھارت نے امریکی درخواست پرعراق میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیا ہے ۔ فوج نہ بیجھنے کا فیصلہ وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی زیر صدارت کابینہ کی سیکوریٹی کمیٹی کے دو گھنٹے کے اجلاس میں کیا گیا امریکا نے بھارت سے اپنی 17 ہزار فوجی عراق بھیجنے کی درخواست کی تھی جسے واجپائی کابینہ نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ۔ امریکا ہندوستان کو جدید ہتھیار سپر الیکٹرانک آلات جنگی ساز و سامان اور مالی امداد فراہم کرتا ہے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ ترجیح دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت نے عراق میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی فوجیں عراق بھیجے تا کہ وہ پاکستان کو پوری طرح عرب دنیا اور اسلامی ملکوں کے درمیان بدنام کرسکے ۔ بھارت پروپیگنڈہ کرے گا کہ پاکستانی فوج عراقی مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ عربوں کا دوست ہے۔
    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 1990 ء میں جہادکشمیر شروع ہونے کے بعد سے اب تک بھارت تین بار اپنی فوجیں سرحدوں پر لے آیا لیکن یہ کشمیری مجاہدی تھے جنھوں نے بھارتی فوج کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ الجھا کر بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہونے دی لیکن ہم نے ان مجاہدوں کے مدد کے ہاتھوں کو جھٹک دیا ہمیں امریکی صدر کے ہاتھوں زیادہ مضبوط نظر آئی جس کا بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے بڑے دعووں کے باوجود آخر تک نہ پہنچ سکا ۔
    ہمارے حکمران کی کم عقلی کو دیکھو کہ جب امریکا دباؤ ڈالے تو کہتے ہیں ہم دراندازی بند کر دیں گے کہ کون کی سیاست ہے بلکہ یہ بے وقوفی ہے 1948 ء میں مجاہدین نے ہند وفوج سے کشمیر کا جو حصہ آزاد کروایا وہ علاقہ اقوام متحدہ کی مداخلت پر جنگ بندی لائن قرار دیا گیا دنیا کے کسی بھی قانون میں سیز فائر لائن کو بارڈر تسلیم نہیں کیا جاتا جب بارڈر لائن ہی نہیں تو پھر دراندازی کا مطلب کیا ہے ؟ خدا حکمرانوں کو ہوش دے یہ سب کچھ پاکستان کو پوری اسلامی دنیا سے تنہا کرنے کی سازش ہے جس کا سہرا بھی امریکا مکار کو ہی جاتا ہے۔

    @muhammadmoawaz_

  • نماز تحریر : اعجاز حسین

    نماز تحریر : اعجاز حسین

    ہزاروں سوچیں الجھاتی ہیں مجھے
    اور ایک سجدہ سلجھا دیتا ہے سب

    اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن نماز کی اداٸیگی ہے۔جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ فرض کی گٸی ہے۔
    نماز فجر ،نماز ظہر،نماز عصر،نماز مغرب اور نماز عشإ۔
    جس طرح ہر عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بنیاد کے بغیر کوٸی بھی عمارت قاٸم نہیں رہ سکتی اسی طرح نماز کو ”دین اسلام کا ستون“ قرار دیا گیا ہے۔
    نماز کامیابیوں کی کنجی ہے اور سجدہ دل و روح کا سکون ہے۔قیامت کے دن ہر انسان سے پہلا سوال نماز کی اداٸیگی کے متعلق ہو گا۔
    اگر کامیابی چاہتے ہو تو نمازی بن جاٶ،کیونکہ نماز کے بغیر کوٸی بھی کامیابی ممکن نہیں۔
    نماز گناہوں اور بے حیاٸی سے روکتی ہے ۔جیسے سورج کی شعاٸیں کتنی تیز ہوتی ہیں مگر معمولی سے بادل ان تیز شعاٶں کو روک دیتے ہیں اسی طرح گناہ کتنے ہی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں نماز انہیں روک دیتی ہے۔
    نماز شیطان کی شکست اور مومن کی جیت ہے۔اور نماز فجر انسان کی شیطان کے خلاف دن کی پہلی فتح ہے۔
    یقین کریں کہ نمازِ فجر قاٸم کرنے سے انسان سارا دن رب تعالٰی کی رحمتوں کے ساۓ میں رہتا ہے۔جب ہم نماز محبت سمجھ کر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری نماز کیلیے خود کھڑا کر دیگا۔
    جب اللہ تعالٰی ناراض ہوتا ہے تو وہ روٹی نہیں چھینتا بلکہ انسان سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔
    اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمہاری زندگی سے برا وقت نکال دیگا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کر لو خدا کی قسم دنیا کی فکر سے آزاد ہو جاٶ گے اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔“
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا” بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔“
    حضرت علیؓ نے فرمایا” کہ نماز کے لیے سستی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔“
    اس لیے مسلمان اور نماز میں سستی یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں نماز جنت کی کنجی ہے۔
    ایک صحابیؓ نے حضورﷺ سے پوچھا ”ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گٸی ہے،آپﷺ نے جواب دیا ،جب تمہارا اگلی نماز پڑھنے کا دل کرے۔“
    نماز انسان کو مٹی سے سونا بنا دیتی ہے۔نماز ایسے پڑھو جیسے تم سے زیادہ گنہگار کوٸی نہیں بےشک اللہ سے زیادہ مہربان کوٸی نہیں۔نماز اللہ تعالٰی سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
    نماز وہ واحد حکم ہے جسے اللہ نے آسمان سے وحی کے ذریعے نہیں اتارا بلکہ اپنے محبوب حضرت مُحَمَّد ﷺ کو آسمان پہ بلا کر تحفے میں دیا۔
    حضرت علیؓ نے فرمایا ” اپنے بہترین وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے سب کام تمہاری ”نماز“ کے بعد ہی قبول ہونگے۔
    ایک اور جگہ حضرت علؓی نے فرمایا ”جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں۔اور جب میرا جی کرتا ہے کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں“۔
    سجدے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم زمین پر سرگوشی کرتے ہیں اور وہ عرش پر سنی جاتی ہے۔ وضو سے شکل،قرآن سے عقل اور نماز سے نسل پاک ہوتی ہے۔
    ایک میڈیکل ریسرچ کہتی ہے کہ دل پورے جسم کو خون فراہم کرتا ہے لیکن دماغ ،دل کے اوپر ہونے کیوجہ سے خون پورے پریشر کے ساتھ دماغ تک نہیں پہنچتا ۔اور یہ کمی دماغ کی کمزوری اور ڈپریشن کیوجہ بنتی ہے ۔اگر انسان روز ایک بار بھی ایسی پوزیشن میں آۓ کہ اسکا دماغ اسکے دل سے نیچے ہو ۔جیسے مسلمان سجدہ کرتے ہیں تو خون صحیح طرح سے دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ کو طاقتور اور ترو تازہ رکھتا ہے۔
    نماز اور قرآن بعض دفعہ آپکے حالات تو نہیں بدلتے لیکن آپکو ان حالات میں اچھی طرح سے رہنا سکھا دیتے ہیں ۔آزماٸشیں صرف دین پر چلنے سے نہیں آتیں بلکہ جو آزماٸشیں لکھ دی جاتی ہیں۔نماز اور سجدہ ان سے نکلنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔سجدے کی توفیق ملنا رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔
    اگر نماز کے وقت طواف کعبہ رک سکتا ہے تو ہمارے کام اور کاروبار کیوں نہیں؟
    حضرت امام حسینؓ نے فرمایا کہ” مجھے جنت سے زیادہ عزیز نماز ہے کیونکہ جنت میری رضا ہے اور نماز میرے رب کی رضا ہے“۔

    پتا نہیں کیا جادو ہے سجدے میں
    جتنا جھکتا ہوں اتنا اوپر جاتا ہوں

    اللہ پاک ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔جب بچہ سات سال کا ہو جاۓ تو اس پر نماز فرض ہو جاتی ہے۔خود بھی نمازپڑھیں اور بچوں سے بھی پڑھاٸیں۔کیونکہ بچے وہ نہیں کرتے جو آپ انہیں کرنے کا بولتے ہیں بلکہ بچے ہماری نقل کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔

    @Ra_jo5