Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جیت کا جشن  تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    جیت کا جشن تحریر : امیر حمزہ کمبوہ

    آج کا انسان بہت بھلکڑ اور مطلبی ہے جب چلنا سیکھتا ہے تو ڈر کے مارے دوسرے کی انگلی پکڑے رکھتا ہے ، لکھنا پڑھنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو استاد سے سوال در سوال کر کے سیکھتا چلا جاتا ہے ، جاب میں آتا ہے تو اپنے سینئرز سے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ سیکھ کر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا جاتا ہے
    اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ کامیاب انسان بن جاتا ہے تب وہ اپنے ماضی کو بھول کر اپنی کامیابی کے جشن میں مصروف ہو جاتا ہے جیسے وہ اسی کامیابی کیلئے ہی پیدا کیا گیا ہو
    وہ بھول جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کے پیچھے اللہ کے بعد کس کس کا ہاتھ ہے
    کس کس سے اس نے سیکھایا کہاں سے رہنمائی لی لیکن کامیابی کا نشہ اسے سب بھلا دیتا ہے بعض دفعہ انسان اپنی کامیابی میں کسی کو حصہ دار نہیں بنانا چاہتا اور وہ اپنے محسنوں کا ظاہری طور پر ذکر نہیں کرنا چاہتا
    حالانکہ میں نے مشاہدہ کیا ہے جو لوگ اپنے محسنوں کا نام سر عام لیتے ہیں وہ صاحب نظر لوگوں کے دل میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور جو لوگ اپنی کامیابی کو ’’میں‘‘ سے جوڑ لیتے ہیں ان کی کامیابی کو ’’میں‘‘ ہی کھا جاتی ہے
    اس لیے اپنے محسنوں کو نہ تو نظر انداز کروں اور نہ ہی اپنے آپ کو ’’میں‘‘ میں مبتلا کرو

    اپنے رب تعالیٰ کا کا شکر ادا کریں اور اپنے والدین ، استاذہ اکرام ، صلاح کار ، قابل احترام سینئرز اور مخلص دوستوں کو اپنی کامیابیوں کی اصل وجہ سمجھیں اور ہو سکے تو کھلے عام اظہار بھی کریں یقین مانیں آپ کا رتبہ ان کی نظر میں اور اللہ کی نظر میں بلند ہوگا

    Twitter handle @AHK_313

  • موجودہ وقت میں فری لانسنگ کی اہمیت اور فوائد۔ تحریر : اسامہ خان

    موجودہ وقت میں فری لانسنگ کی اہمیت اور فوائد۔ تحریر : اسامہ خان

    جب سے کرونا وائرس آیا ہے دنیا بھر کے کاروبار اس سے متاثر ہوئے ہیں اور بہت زیادہ ملکوں نے فری لانسنگ کی طرف رجحان کیا اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے آج بھی بہت سے لوگوں کو فری لانسنگ کے بارے میں علم نہیں ہے اور وہ کسی ویب سائٹ پر پہلے پیسے دے کر ڈیٹا انٹری کے کام کو فری لانسنگ سمجھتے ہیں جو کہ بالکل فراڈ ہوتا ہے پاکستان میں فری لانسنگ اب سرکاری سطح پر سکھا ئی جا رہی ہے فری لانسنگ وہ واحد کام ہے جس میں آپ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں فری لانسنگ میں آپ مندرجہ ذیل سکلز میں کام کر سکتے ہیں
    گرافک ڈیزائن
    اینڈرائڈ ڈویلپمنٹ
    ویب ڈویلپمنٹ
    سوشل میڈیا مارکیٹنگ
    کاپی رائٹنگ
    ویڈیو ایڈیٹنگ
    کونٹینٹ مارکیٹنگ
    سوشل میڈیا مینیجر
    اور ایسے بہت سے کام ہیں جن میں آپ مہارت حاصل کرکے فری لانسنگ کر سکتے ہیں، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے کسی ایک چیز میں مہارت حاصل کر لی اس کے بعد ہم فری لانسنگ کیسے کریں اور کس ویب سائیٹ پر کریں، فری لانسنگ میں آپ اپوورک اور فائور پر کام کر سکتے ہیں، اگر آپ اپوورک سے کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو کنیکٹ خریدنے پڑھیں گے جس سے آپ پروجیکٹس پر اپنی درخواست بھیج سکیں گے اور کام کو حاصل کر سکیں گے اور اگر آپ فائور سے شروع کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی پیسے لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو صرف اپنا اکاؤنٹ بنانا ہے اور اپنی گگس بنانی ہے، جس سے لوگ آ کر آپ کی خدمات حاصل کریں گے اور آپ کو اس کے پیسے دیں گے، اب سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فائور اتنا ہی آسان ہے تو لوگ اپوورک کی طرف کیوں جاتے ہیں وہاں پیسے کیوں خرچ کرتے ہیں؟
    لوگ اپوورک پر اس لیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں بڑے اور زیادہ دیر تک چلنے والے کلائنٹ اور پروجیکٹ ملتے ہیں اپوورک پر آپ مہینے کا جتنا چاہے کما سکتے ہیں لیکن فائور پر آپ کو چھوٹے کلنٹ ملیں گے جو آپ کو اجرت بھی ویسے ہی دیں گے جیسے ان کا کام ہوگا اس لیے زیادہ تر لوگ اپوورک کو پسند کیا جاتا ہے تاکہ اچھے کام کی اجرت بھی اچھی مل سکے۔ فری لانسنگ پاکستان میں رات کے وقت کی جاتی ہے رات کے وقت اس لئے کی جاتی ہے کیونکہ امریکہ اور دیگر ممالک میں اس وقت صبح ہوتی ہے کیونکہ ہمارے کلائنٹ امریکہ اور دیگر ممالک سے ہوتے ہیں اس لیے پاکستانی فری لانسر رات کو جاگ کر اپنا کام بھی کرتا ہے اور کام کو مکمل کرکے اپنے کلائنٹ کو بھی بھیجتا ہے اس طرح سے دونوں طرف ترازو برابر رہتا ہے، آج کے دور میں پاکستان میں سب سے زیادہ طالب علم فری لانسرز ہیں کیونکہ وہ پڑھائی بھی کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کوئی کام بھی کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ اپنا اور گھر کا نظام چلا سکیں اس لیے ان کے لیے سب سے بہتر فری لانسنگ ہے، لیکن میں سب کو مشورہ دوں گا کہ سب سے پہلے کسی ایک سکلل میں مہارت حاصل کریں تو پھر فری لانسنگ مارکیٹ پلیس پرائی تاکہ جب وہ اپنی سروس بیچیں تو اپنی فیلڈ میں ایک بہترین فری لانسر ہو، اور کوشش کریں پہلے ایک دو فری کام کریں اپنے ملک کے لوگوں کے لئے تاکہ آپ کے پاس آنے والے کلائنٹ کو دکھانے کے لئے آپ کا پچھلا کام ہو جس سے وہ آپ کو بلا جھجک اپنا کام سونپ سکے، فری لانسنگ ایک غلطی بہت سے لوگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ فری لانسنگ میں کامیاب نہیں ہو پاتے اپنا کام وقت پر اپنے کلائنٹ کو دیں تاکہ وہ اگلی بار بھی آپ سے کام کروائے اور اپنے دوست و احباب کو بھی آپ کے بارے میں بتائیں تاکہ آپ کاروبار وسیع ہو اور فری لانسنگ سے آپ کو فائدہ یہ ہوگا کیا آپ گھر بیٹھے کاروبار چلا سکیں گے جب چاہیں جہاں چاہیں اپنی مرضی سے جا سکیں گے

  • خود ترسی   تحریر:حُسنِ قدرت

    خود ترسی تحریر:حُسنِ قدرت

    خود ترسی ایک نفسیاتی بیماری ہے اس میں مبتلا انسان ہر وقت چاہتا ہے کہ وہ اپنے دکھڑے دوسروں کو سناتا رہے اور دوسرے لوگ اسے دلاسے دیتے رہیں
    اب میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں گی کہ
    *کس طرح کے لوگ اس طرح کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟*
    1_کمزور ذہنیت والے لوگ: کمزور ذہنیت والے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذہن پہ سوار کر لیتے ہیں اور جب کوئی بڑی پریشان آتی ہے تو وہ انہیں لگتا ہے کہ دکھ کا پہاڑ ہے وہ چاہتے ہیں کوئی ہو جو مسلسل انکا دل بہلائے تاکہ انہیں ذہنی سکون ملے
    2_کمزور شخصیت والے لوگ: کمزور شخصیت والے لوگ اپنی ویلیو کو دیکھتے ہوئے ٹوٹ جاتے ہیں انہیں شدید ترین بے قدری کا احساس ہوتا ہے اور وہ خود ترسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک کو درد و غم سنائیں اور آنے والا ہر بندہ انہیں دلاسہ دے
    3_ایسے لوگ جو کئی سالوں سے دکھ برداشت کر کر کے تھک گئے ہوں: جو لوگ کئی سالوں سے دکھ برداشت کر رہے ہوتے ہیں وہ انکے بوجھ سے تھک کر ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو انکی اذیت سہنے کی صلاحیت کی داد دے
    *کون لوگ خود ترسی کا شکار نہیں ہوتے؟*
    •-ایک مضبوط ذہنیت کا انسان جب پریشانی یا مشکل حالات سے گزرتا ہے تو وہ اپنی دل لگی کا کوئی اور سامان یعنی مصروفیت تلاش کرتا ہے جس سے وہ اپنی پریشانی سے کچھ دیر کے لیے پیچھا چھڑا سکتا ہے جیسا کہ کتاب پڑھنا یا کوئی کھیل وغیرہ
    •- مضبوط شخصیت کا انسان اپنی ویلیو دیکھتا ہے اور اسکے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کچھ بھی ہو جائے وہ پریشانی کو اتنا بڑا نہیں ہونے دے گا کہ وہ اسکے سر چڑھ کر بولے اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی اچھا مشغلہ اختیار کرتا ہے جیسا کہ باغبانی ،پرسنیلٹی ڈیویلپمنٹ کے نئے آئیڈیاز اور کتابیں وغیرہ پڑھنا
    •-اگر مضبوط ذہنیت و شخصیت کا انسان دکھ سہہ سہہ کے تھک بھی جاتا ہے تو وہ اس پریشانی یا تکلیف سے سمجھوتا کر لیتا ہے اور اسے بھی دوست سمجھ کے ساتھ رکھتا ہے اور اس سے تقویت حاصل کرتا ہے کہ میں اس سے زیادہ مضبوط ہوں اور میں نے آگے لازمی بڑھنا ہے

    Twitter:@HusnHere

  • عورتوں میں عدم برداشت   تحریر:فراز حیدر چشتی

    عورتوں میں عدم برداشت تحریر:فراز حیدر چشتی

    آج کل زیادہ تر حضرات صرف عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کے دور حاضر کے حساب سے ہمیں مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہوگا اور ہر فورم پے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے میں تو کہتا ہوں کہ مردوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرنا چاہیے پر اس کے برعکس سیاست دان تو دور دنیا کے بیشتر صحافی کالم نگار ادیب خواتین کے خلاف لکھنے سے قبل ہزار بار سوچتے ہے
    دور جاہلیت کے وقتوں کی بات ہے جب مرد حضرات عورتوں پر تشدد کرتے تھے عورتوں کے حقوق پورے نہیں کرتے تھے محض بیٹیاں پیدا کرنے پہ ہی طلاق دے دیتے تھے تشدد کا نشانہ بناتے تھے حقوق پورے نہیں کرتے تھے لیکن آج کا زمانہ تبدیل ہو چکا ہے آج کل مرد حضرات پے عورتیں مظالم کرتی ہے ذہنی و جسمانی طور پر شدید ٹارچر کیا جاتا ہے مردوں کے ذرائع آمدن سے زیادہ اور مہنگے مہنگے برانڈز کی فرمائشیں کرتی ہیں عورتوں میں احساس تقریباً ختم ہو چکا ہے جس کے چلتے نوبت طلاق تک چلی جاتی ہے اس بات کا اندازہ آپ ایک رپورٹ سے لگائیں کے صرف کراچی میں 2019 کی رپورٹ کے مطابق 11 ہزار 143 کیسز دائر کروائے گئے ہیں طلاق کے لیے یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ تو صرف کراچی کی رپورٹ ہے پاکستان کے باقی تمام شہر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے آج کل طلاق کی زیادہ تر منگ عورتوں کی طرف سے رکھی جاتی ہے عدالتوں میں بیشتر لڑکیاں طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے سارا دن موبائل پے لگی رہتی ہے اپنے خاوند کے حقوق کا ذرا خیال نہیں رکھتی آئے روز ان کا جھگڑا ہوتا رہتا تھا موبائل کی وجہ سے تو تنگ آ کر اس کے خاوند نے کہا کہ يا یہ موبائل رکھ لو یا مجھے رکھ لو اس کی بیوی نے جواب دیا کے میں طلاق لے سکتی ہوں لیکن موبائل کو نہیں چھوڑ سکتی یہ ہے آج کی بیشتر لڑکیوں کا حال میری اپنی ماؤں بہنوں سے التماس ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اندر عدم برداشت لانا ہوگا اور بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان کو روکنا ہوگا گا اور مرد حضرات سے التماس ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم االلہ وجہہ الکریم کی سیرت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار ہمارے نبی پاک ہیں معاشرہ روز بروز اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے مردوں اور عورتوں کو اپنی بے جا خواہشات کو علیحدہ رکھتے ہوئے دین اسلام کی بہترین تعلیمات کو اپنانا ہوگا اسی میں کامیابی ہے

  • افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان میں حالات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ طالبان کا کنٹرول مضبوط سے مضبوط ہورہا ہے ۔ افغان حکومت امریکا و دیگر ریاستوں کی مدد و حمایت حاصل ہونے کے باوجود بےبس دکھائی دے رہی ہے ۔ طالبان اپنے پاؤں جماتے آگے بڑھ رہے ہیں اور افغان صدر بیانات داغ کر اپنا پلو جاڑ رہے ہیں۔ طالبان کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ انھوں نے عین عیدالاضحٰی کی نماز کے وقت صدارتی محل ہے قریب راکٹ فائر کردئیے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افغان حکومتی کارندوں کے کس قدر قریب ہیں ۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی حکومت اس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتی جب تک طالبان اسے کام یاب نہ کریں۔ جب راکٹ حملے ہوئے اس وقت افغان صدر اشرف غنی، نائب صدر امراللہ صالح اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت کئی اہم عہدیدار صدارتی محل میں نماز عید ادا کررہے تھے۔ راکٹ حملے کے بعد خوف و ہراس کا پھیلنا لازمی بات تھی ۔ افغان صدر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ طالبان نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ امن کی خواہش نہیں رکھتے ۔ اب اسی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ ملک میں ملیشیا بنانے اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں۔

    افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان عوام کو ابھی سکون میسر ہونے میں شاید مزید 10 سال کا عرصہ لگ جائے ۔ افغان حکومت طالبان کے آگے بے بس ہوکر جو اندرون خانہ دوسرے ممالک کے ساتھ ساز باز کررہی ہے وہ طالبان کو مزید اشتعال دلا رہی ہے ۔ بھارت سے سازباز کرنے میں جہاں افغان حکومت کافی حد تک آگے جانے کی کوشش میں ہے وہی پر بھارت طالبان سے ڈر کر محتاط ہوچکا ہے ۔ پاکستان کو گھیرنے کی بھارتی خواہش مٹی تلے دفن ہوچکی ہے کیوں کہ افغانستان میں طالبان کا مستحکم ہونا بھارتی خوابوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے نہ صرف کافی ہے بلکہ وہ بھارت کے لیے سردرد بھی ہے ۔ بھارتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری طالبان کے قبضے میں جارہی ہے اور بھارت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے ۔ طالبان کی نظر شاید اب بھارتی مقبوضہ علاقہ جات کی طرف بھی مبذول ہوجائے کہ بھارت نے ایک طرح سے طالبان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے ۔ پاکستان اس وقت اپنے بہ ترین خارجہ پالیسی پتے کھیل رہا ہے ۔ موجودہ حکومت اگر ایک اور بار اپنی حکومت بنانے میں کام یاب ہوجاتی ہے تو شاید پاکستان صحیح معنوں میں ایشین ٹائیگر بن کر ابھرے

  • آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا  تحریر ۔ مدثر محمود

    آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا تحریر ۔ مدثر محمود

    میری نظر میں آزاد کشمیر کا الیکشن اور پھر بھرپور کشمیری بھائیوں کی شرکت کرنا پوری دُنیا کے لیے پیغام ہے کہ ہم پاکستان کی ریاست سے خوش ہے اور اسکے ساتھ چلنے کا عزم رکھتے ہیں اور یہ ہی پاکستان کی جہت ہے ۔

    جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جو انڈیا نے دھونس طاقت سے قبضہ میں کیا ہوا ہے وہاں کی سیاسی جماعتیں ہر الیکشن بائیکاٹ کردیتی ہے اسکی وجہ کہ وہاں آزادی سے الیکشن نہیں ہوتا وہاں بھارت اپنی کٹپتلی حکومت نامزد کردیتا ہے تاکہ وہ قبضہ جاری رکھ سکے۔

    مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون الیکشن جیتے گا آزاد کشمیر سے مجھے مریم نوازشریف ، بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کے منعقد جلسوں سے غرض تھی کہ کشمیری عوام گھروں سے باہر نکل کر سنتی ہے تقریر یا پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح نریندر مودی کا جس طرح وہ بائیکاٹ کرتے یہ تو نہیں کرتے لیکن پوری دُنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر کی عوام نے پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کو ویلکم کیا بلکہ جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہو تو نتائج آنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو دیکھتے ہوئے خوش ہوا کہ ووٹ بھی دیے۔

    اب میرا تمام عالمی دُنیا سے مطالبہ ہے کہ کب تک آنکھیں بند کرکے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہوتا دیکھتے رہینگے آگے بڑھے اور جموں کشمیر میں عوام سے استصواب رائے عامہ لیکر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ایشیا میں سکون ہوسکے ہم جنگی اشیاء کو اکٹھا کرنا چھوڑ غربت کو ختم کرنے کے بارے سوچیں۔

    @Mudsr_Ch

  • تنقید سے ڈرنا کیا  تحریر :صالح ساحل

    تنقید سے ڈرنا کیا تحریر :صالح ساحل

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے خیالات، نظریات اور افکار کو زمانے کی تنقید کی وجہ سے دفن کر دیتے ہیں اور ایک فضول سی زندگی گزار کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کیوں کے جن کے پاس نظریہ نہ ہو ان کی زندگی بھی کوئ زندگی ہے یقیناَ یہ لوگ خدا کے ناشکرے ہوتے ہیں ان کو خدا نے سوچنے سمجھنے کے لیے دماغ دیا ہوتا ہے نئے نظریات کو جنم دینے کی قابلیت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے ڈر سے اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضائع کرنا بھی تو ایک جرم ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن کی تعداد تو کم ہوتی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں یہ اپنے افکار نظریات اور خیالات کو زمانے کی فرسودہ روایات اور خوف کے نظر نہیں کرتے ان پر تنقید ہوتی ہے مگر یہ میدان سے نہیں بھاگتے یہ اس تنقید کو بھی صحیح استعمال کرتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں اس تنقید کے نتیجے میں بعض اوقات یہ اپنے راستے بدل لیتے ہیں مگر اپنے مقصد پر کمپرومائز نہیں کرتے یہ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں ان کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے کئ بار تنقید ان کے کلیجہ چیر دیتی ہے مگر یہی لوگ اپنے مقصد کو پا لیتے ہیں اور اگر منزل نصیب نا بھی ہو تو پر سکون مرتے ہیں ان کا نام ان کی موت کے بعد بھی ان کو زندہ رکھتا ہے
    ———–
    اس لیے آپ اپنی زندگی میں اس بات کا خوف نا رکھیں کے آپ پر تنقید ہو رہی بلکہ کے اپنے مقصد میں لگے رہے لوگ آپ کا ساتھ نہ بھی دیں یاد رکھیں دنیا میں حق کے چاہنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ چند لوگ تھے حضرت لوط کے ساتھ صرف دو بیٹیاں تھیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ گیارہ لوگ تھے امام حسین کے ساتھ 72 لوگ تھے لوگوں کی تعداد کا ہونا میعار حق نہیں خدا نے آپ کو ذہن دیا ہے آپ سوچیں نئے انداز سے دنیا کو دیکھیں اپنے نظریات کو عوجے سوریا پر لے جائیں اور اپنے ذہنوں سے ڈر نکال دیں سقراط کے خیالات کو چند لوگوں نے قبول کیا اور ایتھنز کے حامی ہزاروں تھے اس لیے اپنے مقصد پر توجہ کریں
    ________

    اس سارے سفر میں آپ اپنا محاسبہ کرتے ہیں کے کہیں آپ کے نظریات کی جگہ ضد نے تو نہیں لے لی ضد اگر غالب آگی تو آپ ہار جائیں گے کیوں کے اس سارے سفر میں ضد اور انا آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گی خدا سے تعلق کو جوڑے رکھیں اور بڑھتے جائیں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی اور زندگی سے گلے کم ہوں گے اور ہاں آخر میں یہ جملہ کہوں گا تنقید سے ڈرنا کیا یہ تو سوچنے کی ہمت دیتی ہے

    @painandsmile334

  • افغانستان  کی  کھچڑی  ۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان کی کھچڑی ۔تحریر: محمد شعیب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ ہم آپ کو افغانستان کی اپڈیٹ مسلسل دے رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان واقعات کی وجہ کیا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔
    اگر اآپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا ہے تو کر لیں اور بیل آئی کون کو پریس کر دیں۔
    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔
    افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔

    انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہچین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔
    یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔
    روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔

    چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • دم توڑتی سچائی تحریر: افشین

    سچائی "حقیقت” ہے اور حقیقت اپنا آپ منواتی ہے چھپتی نہیں
    سچائ اس روشنی کی مانند ہے جو چاروں اطراف منور ہوتی ہے تو ہر طرف اجالا ہوجاتا ہے سچائ حقیقت ہے اور حقیقت سے کبھی منہ نہیں پھیرا جاسکتا ہے اگرچہ سچائ کا راستہ دشوار ہے مگر کامیابی اسی میں پوشیدہ ہے
    سچائ وقتی دبائ جاسکتی ہے مگر اسکا سورج کی طرح طلوع ہونا لازم ہے انسان جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جاتا ہے مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہےہمیں سچائ کا ساتھ دینا چائیے اور چاہے اس کے لیے لڑتے اپنی جان بھی چلی جائے پر پیچھے ہٹنا نہیں چاہیےسچ بولنے والے سے رب بھی خوش ہوتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہےہمارے پیارے نبی پاک نے بھی سچائ کا درس دیا سچائ صداقت و ایمانت داری سے بھری ہوئ ہوتی ہےسچائ آدب ولحاظ اور دلی سکون سے منسلک ہےسچائ معاشرے میں موجود تمام برائیوں کا سد باب ہےآجکل ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے ہر پیشہ میں جھوٹ بولنا سر فہرست ہے جھوٹ کے بغیر جیسے کوئ کام چلنا ہی نہیں جھوٹ کے بغیر جیسے اپنا بچاو ہی نہیں جیسے جھوٹ کو لازم قرار دیا گیا ہوجھوٹ بولنے والا منافق شخص ہوتا ہے وہ اپنی باتوں سے جلد سب کو قائل کر لیتا ہے اور سچائ کو دبانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے مگر جھوٹ ہمیشہ قائم نہیں رہتا سچائ کھول کے سامنے آجاتی ہے دیر صحیح مگر درست صحیح ۔سچائ کا ساتھ دینے والے اس دنیا میں خوار بہت ہوتے ہیں مشکلات بہت سہتے ہیں پر آخروی کامیابی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہےجو انسان سچا ہو اس کو کم لوگ سنتے ہیں کم لوگ اسکا ساتھ دیتے ہیں اور اکثر سچائ کے کیے لڑتے لڑتے کہیں لوگ دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اب جھوٹ سرعام بھکتا ہے اور انصاف کے قوانین برائے نام رہ گئے ہیں
    اس میں ہمارا قصور ہے ؟ یا اس معاشرے کا جس میں ہم رہ رہے ہے آخر کیوں سچائ کو ایڑیا رگڑنی پڑتی ہیں آخر سچائ کا دم توڑنے میں ہر کوئ کیوں سر فہرست ہےجھوٹ بولنے والا انسان نا صرف خود کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے بلکہ خود سے جورے ہر انسان کو مشکل میں دھکیل رہا ہوتا ہےجھوٹے انسان کا لہجا مٹھاس اور فریب سے بھرا ہوا ہوتا ہےاپنے اپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتا ہے پیشہ و تجارت ہو یا گھریلو معاملات سب میں سچائ ایک اہم جزو ہے گھر میں مسلے جھوٹ سے بنتے ہیں ادھر کی آدھر کی جھوٹ ملاوٹ کیا اور فساد برپاہ ہوگیا ایسے ہی تجارت و پیشہ میں بھی جھوٹ ملاوٹ کرنے سے سب تباہ ہوجاتا ہے اگر عدلیہ میں انصاف مہیا نہیں تو سارا نظام درہم برہم ہوجانا ہے لہذا سچائ ہر لحاظ سے اہم ہےہمیشہ سچ بولے اور سچ کا ساتھ دیں تاکہ دنیا وآخروی کامیابی پاسکے

    @Hu__rt7

  • معاشرے میں تشدد کا عنصر  تحریر:سید لعل بُخاری

    معاشرے میں تشدد کا عنصر تحریر:سید لعل بُخاری

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر جارحیت بڑھتی جا رہی ہے۔ہر آدمی عدم برداشت کا شکار نظر آتاہے۔دیگر شعبہ ہاۓ زندگی کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی گالی گلوچ کی بھرمار ہو چکی۔
    یہ سب کچھ بہت افسوسناک ہے۔کیا ہم جنگل کی زندگی کی طرف واپس جا رہے ہیں؟
    ہم ایک مہذب معاشرہ بننے کے بجاۓ پُر تشدد معاشرہ بننے کی طرف کیوں گامزن ہیں؟
    ہم چند روپوں کی خاطر ایک دوسرے کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
    کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیمات ہیں؟
    بلکل نہیں۔
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،جو ہمیں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں تو جانوروں حتی کہ درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
    اس مذہب عظیم میں ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
    اگر مذہب یہ کہتا ہے تو ہمیں اسکی تعلیمات کو اختیار کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟
    ہمارے مذہب کو لوگ اچھا مذہب اُسی وقت تسلیم کریں گے،جب ہم اچھے مسلمان اور اچھے انسان بن کے اسکا عملی نمونہ پیش کریں گے۔
    ان پر تشدد رویوں کی جو وجہ مجھے نظر آتی ہے،وہ معاشرے میں عدم مساوات اور انصاف کی عدم فراہمی ہے۔
    عام آدمی کو جب ایک بااثر آدمی کے مقابلے میں انصاف نہیں ملتا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
    اسی طرح عام آدمی حقوق کی جگہ جگہ پامالی بھی اسی معاشرتی تفرقے اور بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ایک عام آدمی کو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے لائن میں لگنا پڑتا ہے،جبکہ با رسوخ افراد یہی کام گھر بیٹھے ایک فون کال پر کروا لیتے ہیں۔
    ان تباہ کُن رویوں میں اضافے کا باعث ہمارے سیاستدان بھی ہیں،جنہیں آپ روزانہ دست و گریبان ہوتےاور گالم گلوچ کرتےدیکھ سکتے ہیں۔
    ان لوگوں کے اس وطیرے کا نوٹس لینے کی بجاۓ پارٹی قیادت شاباشی دیتی ہے۔
    لوگ اپنے ان نام نہاد راہنماوں کی پیروی میں وہی نا مناسب رویہ عام زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں۔
    ہمارے آپس کے لڑائ جھگڑوں کی ایک وجہ دوسرے کی بات کو اہمیت نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ہم بس اپنی سُنانا چاہتے ہیں،کسی کی سننا نہیں چاہتے۔ضروری نہیں کہ ہر دفعہ ہم ہی درست ہوں یا حق پر ہوں۔
    بعض دفعہ دوسرا بھی سچائ پر ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنی بات کہتے ہیں،تو دوسرے کی سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔
    انصاف کی عدم مساوات کے ساتھ ساتھ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی لوگوں کو زہنی مریض بنا رہی ہے،امیر ،امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔غریب ،غریب ترین۔
    یہ تفاوت اسی وقت دور ہو سکتی ہے،جب معاشرے سے کرپشن ختم ہو جاۓ۔ہر ایک کا بے رحم احتساب کیا جاۓ۔اسکا آغاز کھرب پتی افراد سے کرنا چاہیے نا کہ ایک سائیکل اور چھابڑی والے سے۔
    ہر شہری کو مواقع ،برابری کی بنیاد پر ملنے چاہییں،چاہے وہ تعلیمی یا طبی سہولیات ہوں یا کاروبار کے مواقع۔
    پرچی مافیا کا خاتمہ ہو۔
    ہر ایک کا کڑا احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو یہی عدم برداشت کی لہر ایک طوفان کی شکل اختیار کر جاۓ گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے،
    خدانخواستہ#

    @lalbukhari