Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عقیدہ ختم نبوتﷺ    تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوتﷺ تحریر: ارم سنبل

    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے عقیدہ ختم نبوت دین متین دین اسلام دین حق کا بنیادی عقیدہ ہےاسلام کی عمارت عقیدہ ختم نبوت پر کھڑی ہے۔
    اس عقیدہ پر ذرا برابر شک مسلمان کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

    عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے
    قرآن پاک میں ہے کہ

    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)

    ترجمہ:

    محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔

    حضور ﷺ نے خود اپنے آخری نبی ہونے کی گواہی دی

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

    وإنہ لا نبي بعدي

    اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (صحیح بخاری: ۳۴۵۵، صحیح مسلم: ۱۸۴۲، دارالسلام: ۴۷۷۳)

    عقیدہ ختم نبوت پر دور رسالت ﷺ سے ہی حملےہونا شروع ہو گئے تھے۔

    حدیث مبارکہ ہے کہ

    ’’میری امت میں تیس (30) جھوٹے کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب دعوه کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

     ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219.

    حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے لہو سے ختم نبوت پر پہرا دیا۔

    سن گیارہ ہجری میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نامی لعنتی نے نبوت کا دعوہ کردیا۔اس فتنہ کو کچلنے کیلئے اپ رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر روانہ فرمایا جو اس فتنہ کو کچلنے میں کامیاب ہوا۔

    اس جنگ میں صحابہ نے 36 ہزار منکرین ختم نبوت کو واصل جہنم کیا اور حضور ﷺ کی ختم نبوت پر پہرا دیتے ہوئے 600 سے زائد صحابہ نے جام شہادت نوش کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن حضور ﷺ کی ختم نبوت و ناموس رسالت ﷺ پر سمجھوتہ نہی کر سکتا.

    کیونکہ

    نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب ﷺ کی حرمت پر

    خدا شاہد ہے کامل میرا، ایماں ہو نہیں سکتا۔۔!!

    @Chem_786

  • بچوں کی صلاحیت پہچانیں  تحریر: نزاکت شاہ

    بچوں کی صلاحیت پہچانیں تحریر: نزاکت شاہ

    ہر بچہ مختلف عادات واطوار کا مالک ہوتا ہے ،ہر بچے کے شوق مختلف ہوتے ہیں، کوئی کھیل کا رسیا ہوتا ہے ،کوئی مطالعے کا ، کوئی ٹیکنیکل ذہن کا مالک ہوتا ہے اور کوئی مائنڈ گیمز کا ماسٹر،کسی کی آواز اچھی ہوتی ہے ، کسی کے بولنے کا انداز اچھا ہوتا ہے ۔لیکن یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ کسی بچے میں کوئی خوبی یا شوق نہ ہو ۔
    خرابی کب پیدا ہوتی ہے ؟؟؟
    جب والدین بچے پر اس چیز کو سیکھنے زور ڈالتے ہیں جس کی صلاحیت اس کے اندر موجود ہی نہیں ہوتی۔اور بچہ اس حد تک نتائج نہیں دے سکتا جو قدرتی صلاحیت والا بچہ دے سکتا تھا ۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچ باغی ہونے کے ساتھ ساتھ اعتماد کھونا شروع کر دیتا ہے ۔
    غیر ضروری دباؤ اس کی شخصیت کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے ۔اس کے اندر والدین کا خوف پیدا کرتا ہے ۔اس کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے ۔بچے میں جو صلاحیت موجود نہیں ،اسے وہ سکھانے پر زور نہ دیں اور نا ہی اسے طعنہ دیں کہ وہ باقی بچوں جیسا کیوں نہیں ؟؟
    اس کی صلاحیت پہچانیں ،پھر اسے مواقع فراہم کریں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔کچھ عرصے میں ہی حوصلہ افزا نتائج اپکے سامنے ہوں گے ۔
    معاشرے کو ایک صحت مند سوچ کی حامل نسل دیں ۔ایسی نسل جو ذہنی طور پر مضبوط اور منفرد ہو۔جس کی سوچ کا رخ مثبت ہو ۔جس میں احساس کمتری نہ ہو ۔یہ صدقہ جاریہ ہے جو اپ کیلئے ہمیشہ کام ائے گا ،
    تجربہ شرط ہے

    @NZ760

  • پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید

    پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید

    پاکستان کی کسی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے
    پاکستان کا آج تک ایک جمہوری ملک نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ پالستان کی سیاسی جماعیتں ہیں، ہر جماعت یا تو کسی خاندان کی جماعت ہے یا ایک شخص کی جماعت ہے ۔
    پی پی پی آج تک بھٹو خاندان کی غلامی میں مبتلا ہے ، کبھی بھٹو پھر اُسکی بیٹی پھر اسکا شوہر زرداری اور اب زرداری کے بچے بھٹو بن کر اب پی پی پی کے غلاموں کے سردار ہیں، پی پی پی کی لیڈرشپ اور نہ کسی کارکن نے کبھی پارٹی میں جمہوریت کی بات کی اور اس پارٹی میں تو دیکھا ہے کہ پڑھے لکھے بڑے قد کاٹھ والے لوگ ایک نابالغ لڑکے کو لیڈر اور سر کہ کر پکارتے رہے۔
    مُسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے شریف خاندان کے علاوہ کوئی اس جماعت میں سربراہ نہیں بن سکتا اور باقی لوگوں کو نوکر اور غلام اور قصیدہ پڑھنے والے بننے کی اجازت ہے ، اگر کبھی کوئی اس پارٹی میں جمہوریت کی بات کر دے اس کا سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے ، شریف خاندان نے سندھ کے بھٹو خاندان کے مقابلہ میں پنجاب کا سلطانی خاندان بن گیا اور پنجابی کارڈ کھیل کر اپنے لیے اسٹلیشمنٹ کی مدد بھی حاصل کی ۔اس جماعت میں سربراہی صرف یا نواز شریف یا شہباز شریف کی یامریم یا حمزہ کی پاس ہو گی باقی جو ان کی چاپلوسی اور خوشامد کرے گا وہ قریب اور عہدے کا حقدار بنے گا
    ن لیگ میں جمہوریت کا نام و نشان بھی نہیں لیکن سب سے زیادہ آج کل جمہوریت کا نعرہ یہ جماعت لگاتی ہے بے شرمی اور منافقت سے بھرپور سیاست رہی ہے اس پارٹی کی ۔
    پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت تھی جس سے ایک اُمید لگی تھی کہ وہ ایک جمہوری جماعت میں بنے گی اور اس جماعت نے ایک کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے بعد نہ کوشش کی نہ کوئی اس جماعت کا کوئی ارادہ ہے اب اس طرح تحریک انصاف بس ایک فرد واحد کی جماعت بن کر رہ گئی
    پاکستان کی باقی چھوٹی پارٹیوں کا بھی یہی معاملہ ہے ۔
    جب یہ جماعتیں اپنی جماعت میں جمہوریت نہیں لا سکتے نہ بات کر سکتے ہیں لیکن بے شرمی اور ڈھٹائی سے پاکستان میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں کوئی ووٹ کو عزت کی بات کرتا ہے کوئی پارلیمان کی عزت اور سپرمیسی کی بات کرتا ہے
    لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کا نام لینا ممنوع ہے ۔
    پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آگے بڑھنے کا طریقہ صرف ایک ہی ہے” شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار” ہماری سیاسی جماعیتں ایسے وفاداروں سے بھری پڑی ہیں جو خوشامد اور چاپلوسی اور غلامی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرتے ہیں۔ ابن الوقت مطلبی، مصنوعی اور ضمیر فروش سیاستدان اس معاملہ میں سب سے آگے نظر آئیں گے۔ پارٹی لیڈر کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے ہر ادارے پر تنقید اور کہیں خوشامد کرنی ہو تو اپنی اس وفاداری کے بھرم میں وہ وہ چیزیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی، سیاستدان ہی کیا اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو بہت سارے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اچھلتے کودتے شور مچاتے اور اپنے بے سرے راگ الاپتے دکھائی دیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ لگاتے ہیں کون زیادہ اپنے لیڈر کو خوش کرنے کے لیے دوسری پارٹی کے لیڈر کے گالیاں اور بُرا بھلا کہتا ہے کیونکہ یہی ایک معیار ہے ان کو اوپر اور عہدہ ملنے کا۔
    جتنا جو زیادہ زبان دراز ہو گا اتنا ہی اسکو پارٹی کے اندر پارٹی لیڈر سراہے گا اور وفادار کا خطاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد سب بڑی خصوصیت کا ذکر کرتے ہیں وہ ہے بلا جھجھک جھوٹ بولنا اور اس بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا کہ سچ بھی شرما جائے ۔
    مقولہ ہی “ اتنی سچائی سے جھوٹ بولو کہ جھوٹ بھی سچ لگنے لگے”
    یہ جمہوریت،جمہوری نظام، ایوان کا تقدس اور ووٹ کی عزت کے نعرے صرف اپنی چودھراہٹ کو واپس لانے کے لیے ہے اور عوام کو بار بار بیوقوف بنانے کے لیے ۔
    @saqibnaveed21

  • بچے تو باغ کے پھول ہیں   تحریر:  مدثر حسن

    بچے تو باغ کے پھول ہیں تحریر: مدثر حسن

    آج میرا دل خون کے آنسوں رو رہا ہے میرے سے لکھا نہیں جارہا ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے میں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقت بتانے جارہاہوں مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ میرے تعلق اس معاشرے سے ہے جہاں پر کبھی سات سالہ بچی تو کبھی پانچ سالہ بچی کو اگواہ کر کے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے قتل کر دیا جاتا ہے

    میں پوچھتا ہوں ان پھول جیسے بچوں کا آخر قصور کیا ہے کیوں ان سے جینے کا حق لیا جاتا ہے کیوں ان کی زندگیاں محفوظ نہیں کیا یہی قصور ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں کمزور ہیں اپنی حفاظت نہیں کرسکتی، ان درندوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔۔

    جو لوگ ان پھول جیسی بچوں کے ساتھ زیادتی کر تے ہیں ان درندوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ کوئی دین یہ لوگ انسانوں کے روپ میں بھیڑیا ہیں ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں اور یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔۔۔۔۔

    کیونکہ ہمارا دین اسلام تو بچوں کے ساتھ پیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔بچوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے

    بچے تو باغ کے پھول ہیں ان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں یہ درندے جن کے گناہ فرشتے بھی نہیں لکھتے ان معصوم بچوں کی جانیں لیتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پیار کرنے کا حکم دیتے ہیں

    میں پوچھتا ہوں ان درندوں سے قیامت والے دن اللہ اور رسول ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گئے کس منہ سے سامنا کرو گئے تم لوگ واجب القتل ہو تم لوگوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے تاکہ لوگوں کو خوف ہو جائے اور ایسا کرنے کا سوچے نہ دوبارا۔۔۔

    تم لوگ کافروں سے بھی بدتر ہو تم لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ساری زندگی جہنم کی آگ میں جلتے رہو گئے۔۔۔۔۔

    اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو ان جیسے حیوانی درندوں سے محفوظ رکھے آمین!!!!!

    @MudasirWrittes

  • عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    عدم برداشت کا کلچر تحریر: آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے.”
    سورة العمران 134
    ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر فروغ پا چکا ہے ۔آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ گاڑی والا موٹرسائیکل والے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ذرا آپ اس کی شاہی سواری کے راستے میں حائل ہو جائیں تو فوری ہارن بجا کر دور ہٹنے کا کہا جائے گا پھر اگر ذرا تاخیر ہوئی تو گاڑی کے اندر سے ہی صلواتیں سنانا شروع کردیں گےاور خواہش ہوگی کے کچل کر آگے نکل جائیں اور اسی طرح یہی سلوک موٹرسائیکل والا رکشہ یا گدھا گاڑی والے کے ساتھ کرتا ہے
    ذرا سی انیس بیس پر سڑک پر دست و گریباں افراد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
    عدم برداشت کی یہ بیماری صرف عام آدمی تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاستدانوں اور ایوانوں تک سرائیت کر چکی ہے جس کا مظاہرہ ہم نے بجٹ سیشن میں کیا اور اب آزاد کشمیر کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ اور دیگر القابات سے نوازا گیا ۔سیاسی اختلافات کی یہ جنگ کارکنوں کے درمیان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کو خوب گالیاں دے کر لڑ جاتی ہے ۔
    یہی حال عام گلی محلوں کا ہے معمولی سی بات پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور دشمنی کا یہ سلسلہ کئ نسلوں تک چلتارہتا ہےاور خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔
    یہ عدم برداشت کا کلچر ایک دم سے ہمارے معاشرے میں نہیں آیا ایک عرصہ تک پنجابی فلموں اور ہمسایہ ملک کی مادر پدر آزاد ثقافتی یلغار کا شاخسانہ ہے ۔
    ہمارے نظام تعلیم نے خوب ترقی کی لیکن تربیت اور کردار سازی کے شعبہ میں بری طرح ناکام رہا۔ اب حالات یہ ہیں کہ بارہویں جماعت کے چند طلباء نے لاہور میں پیپر بورڈ کے دفتر لے کر جانے والے استاد سےپرچوں کا بنڈل بندوق کے زور پر چھین کرآگ لگا دی اور استاد کی موٹرسائیکل بھی نظر آتش کردی۔
    میڈیا کا ایک کردار طلباء کو امتحانات ملتوی کروانے پر اکساتا رہا اور ریاست اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی جائے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کرلینے سے آپ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہوکر اپنی ہی صحت کا نقصان کر بیٹھتےہیں ۔
    میں نے سعودی عرب قیام کے دوران کا عجیب واقعہ دیکھا ایک شہری کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئ دونوں گاڑی سے نیچے اترے میں نے حسب دستور سوچا یہ دست و گریباں ہونگے اور سڑک پر تماشا ہوگا لیکن کیا دیکھتا ہوں جس کی غلطی تھی اس نے سلام کیا اور درود پڑھا اللہم صلی وسلم علی نبینا محمد اتنا کہنا تھا کہ دوسرا مسکرایا گلے ملے اور معاملہ ختم۔
    غصہ انسان کی عقل کا دشمن ہے غصے کی حالت میں انسان وہ کچھ کر جاتا ہے کہ بعد میں ساری عمر پچھتاوا رہ جاتا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ملاحظہ ہو اور عمل کرکے اپنی زندگیوں کو خوبصورت اور پرسکون بنائیں
    ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔”
    متفقہ علیہ ۔

    @Educarepak

  • ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل   تحریر: جام محمد ماجد

    ہمارا نظام تعلیم اور اس کو درپیش مسائل تحریر: جام محمد ماجد

    حصول علم میں ہوتا ہے بہت جاں کا ضیاع
    منزلیں یونہی سر راہ ملا نہیں کرتیں

    یہ امر مسلمہ ہے کہ تعلیم کا بہتر نظام کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ کسی قوم کے بہتر کردار کا سر چشمہ ہوتا ہے اس حقیقت کے تحت ہر ملک وقوم کے افراد بہتر نظام تعلیم کے متقاضی ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ تعلیم ایک متحرک عمل ہے جو زمانے کے تغیرات اور تبدیلیوں کے تحت جاری و ساری رہتا ہے ۔ ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اپنے مروجہ نظام تعلیم کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا کہ ہم نے اپنے نظام تعلیم سے کیا حاصل کیا اور کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ۔
    ہمیں جب نیا اور آزاد پاکستان نصیب ہوا تو بد قسمتی سے ہمیں غلامانہ اور فرسودہ برطانوی نظام تعلیم ملا جو کہ ہماری روایات اور فلسفہ حیات سے کسی بھی طرح ہم آہنگ نہ تھا۔ اس ضمن میں پاکستان کی پہلی قومی تعلیمی کانفرنس نومبر 1948 کو کراچی میں منعقد ہوئی جس کا مقصد ہمارے نظام تعلیم میں نہ صرف بہتری لانا تھا بلکہ ایسا تعلیمی نظام مرتب کرنا تھا جو کہ اسلامی نظریہ حیات سے ہم آہنگ ہو اور جس کے تحت فرد کی شخصیت کی مکمل نشوونما کی جائے اور اسے معاشرے کا بہترین رکن بنایا جائے ۔
    لیکن افسوس صد افسوس کہ آج 71 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا نظام تعلیم اس قابل نہیں ہو سکا۔ ہم نے وہی غلامانہ روش اختیار کیے رکھی ہے اور انگریزی کو اپنا معیار تعلیم بنا رکھا ہے جبکہ انگریزی صرف اور صرف ایک زبان ہے۔
    اگر ہم اپنے نظام تعلیم کا تجزیہ کریں تو کیا ہم نے وہ عمومی مقاصد حاصل کیے جس کے تحت یہ نظام تعلیم مرتب کیا گیا تھا اور کیا تعلیم جو کہ بذات خود ایک متحرک عمل ہے کے تحت اس نظام میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں؟ یقینا نہیں ••••
    اور جہاں تک بات ہے اس نظام کو درپیش مسائل کی تو وہ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس میں قابل ذکر منصوبہ بندی کی کمی ۔ بجٹ کی کمی ۔ غیر تسلی بخش اور غیر متحرک نصاب ۔ پست معیار تعلیم ۔ بد عنوانی ۔ غیر تربیت یافتہ اساتذہ ۔ ناقص امتحانات کا نظام ۔ نفسیاتی مسائل ۔ نا مناسب نظم ونسق ہیں ۔
    میں اپنی بات کا اختتام علامہ اقبال کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا
    اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
    ایک سازش ہےفقط دین وثروت کےخلاف
    @Majidjampti

  • ‏عنوان ذات پات، رنگ ونسل تحریر : شاہ زیب

    اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سی مخلوقات کو بھیجا جن میں چرند ،پرند اور جن و انس شامل ہیں۔
    ان تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو ہی اشرف المخلاقات کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر پیدا کیابغیر کسی رنگ،ذات پات کے تفرقے کے۔
    مگر ہوا یوں کہ انسان اپنے رب کے فرمان کو خاموش کر بیٹھا۔
    پھر یوں ہوا کہ انسانوں کو جانچنے کا معیار انسانیت سےنہی بلکہ ذات پات رنگ نسل اور پیسے کی بنیاد پر ہونےلگا۔

    زیادہ مال دولت رکھنے والا شخص خود کو خدا سمجھ بیٹھا۔
    مال دولت کے ساتھ ساتھ غرور تکبر سے بھی مالا مال ہو گیا۔
    دوسروں کوحقیر خود کوحاکم سمجھنے لگا ۔ ایسے لگا جیسے کہ وہی سب کچھ ہے ۔اور پھر دولت نے انسانوں کے درمیان ایک دیوار قائم کردی۔ آج بھی کوئی بھی پیسے والا انسان کم آمدن والے شخص سے میل جول میں آر (شرم) محسوس کرتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں ذات پات کی آج بھی ہمارے درمیان بہت سے لوگ ہیں جو محصوص ذات کو ہی اعلی سمجھتے ہیں۔ وہ یہ گوارہ نہیں کرتے کہ اپنی ذات کے سوا کسی اور ذات سے کوئی بھی تعلق رکھا جائے۔اور نہ ہی اپنی ذات کے باہر شادی کرنے کا رواج ہوتا ہے۔

    پھر آتے ہیں وہ لوگ جو صرف رنگ کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر جانتے ہیں۔کالے رنگ کے لوگوں کا مزاق بنایا جاتا ہے۔
    یا پھر اگر کسی کا قد چھوٹا رہ گیا تو اسکا الگ مزاق۔

    آخر ہم کیوں نہیں سمجھے کہ اللہ نے سب انسانوں کو برابری کی بنیاد پر ہی اس دنیا میں بھیجا ہے ۔
    ہم لوگ کیوں فرقوں اور تفرقوں میں پڑ کر رہ گئے

    نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
    کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے معیار کے۔

    اللہ کے نزدیک انسانوں کو جانچنے کا ایک ہی معیار ہے وہ ہے تقوی کی بنیاد۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے درمیان کھڑی اس دیوار کو ہٹائیں کسی بھی رنگ و نسل اور ذات پات کے اس تفرقے سے نکلنے کی کوشش کریں کریں۔ کیونکہ بے شک اللہ کے نزدیک معیار تقوی کا ہے

    ‎@shahzeb___

  • محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    محنت کشوں کی زنگ آلود بیڑیاں تحریر:عزیز الحق

    قدرت کے قوانین کے مطابق کائنات کی ھر شئے اپنی معتدل اور تسکین والی حالت کے لئے ارتقاء میں رھتا ھے۔ اور جب جس وقت انکی ارتقاء جمود ھو جاتا ھے، تو وہ قدرت کے قہر کے زد میں آکر زوال پذیر ھو جاتا ھے۔ یہ دنیا اور اس میں رھنے والے مخلوقات بھی مسلسل ارتقائی حالت سے گزرتے رھتے ھیں۔ ان میں 1 مخلوق نسل انسانی ھے، جو اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے لئے مل جل کے سماج کی شکل میں رھتے ھیں۔ اور اس سماج میں ھر انسان کی بنیادی ضروریات، ان کی محنت اور وسائل کی تقسیم ایک جیسی ھوتی ھے۔ اور جب ذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم ھوتی ھے تو سماج مختلف طبقات میں تقسیم ھو کے بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگتا ھے۔ موجود عہد میں ذرائع پیداوار کی اسی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے نسل انسانی کا بیشتر حصہ ناانصافی کا شکار ھے اور اپنی محنت بیچ کر اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے ھیں۔
    اس عہد میں جہاں رجائیت پر مبنی سوچیں مقید ھوں اور جہاں سماج بدلنے کی گفتگو عام فہم میں تضحیک کا نشانہ بنتی ھو وہاں محنت کش طبقے کی بات کرنا، عمومی سوچ، سیاست اور انقلابات کی لئے جرآت اور دلیل سے کھڑے ھونا مضحکہ خیز بنا دیا جاتا ہے۔
    ھر عہد ھر دور میں محنت کش طبقہ اپنی استحصالی کے خلاف تحریکیں چلاتی ھیں۔ 1917 کا بالشویک انقلاب دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے باعث تقویت بنا۔ لیکن 1991 میں روڈ میں ‘سوشلزم کا انہدام’ عمومی طور پر نہایت ھی منفی اثرات مرتب کرنے کا موجب بنا۔ اسی طرح پاکستان میں 1968 اور افغانستان میں 1978 کاسال محنت کشوں کے لیے باعث نجات بن سکتا تھا، مگر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کی وجہ سے محنت کشوں کو پھر سے اندھیروں کا سامنا کرنا پڑا۔
    آج دنیا بھر میں ایک نیا ھیجان، عدم استحکام اور سماجی تحریکیں پھر سے سر اٹھانے لگی ھیں ان گلے سڑے اور فرسودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جن کی ناکامی کا ذندہ مثال موجودہ کورونا کے خلاف گھٹنے ٹیکنا ھے۔
    چین، لاطینی امریکہ، برطانیہ، ایکواڈور سے ہانگ کانگ اور لبنان سے ایران تک ھر جگہ محنت کشوں کی تحریکیں ابھر ابھر کے سامنے آرھی ھیں۔ غربت، بےروزگاری، محرومی، ذلت اور مہنگائی کے نئے ریکارڈ ٹوٹ اور بن رھے ھیں۔
    مفلوج زدہ اور گلاسڑا ناتواں نظام انکی سرکشی کے ھر قسم کا ہربہ آزمانے سے ھچکچاتے نہیں۔ کبھی مذھب پرستی تو کبھی وطن پرستی جیسے کھوکھلے پروپیگنڈوں سے ان تحریکوں کو کچلنے کی ناکام کوششیں کر رھی ھیں۔
    اس نظام میں ٹیکنالوجی سے لیکر صنعت تک، سیاست سے لیکر اقتصادی نظام تک سبھی حکمران طبقاتِ کی مختلف تراکیب ھیں، جن سے محنت اور انسانیت کا استحصال جاری رکھا جا سکے۔ لیکن محنت کش اب مزید استحصال کے شکار رھنے والے نہیں۔ صرف مسئلہ اس جرآت ہمت اور اس عزم کا ھے جس کی اس انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے لیے ضرورت ھے۔ محنت کش عوام نے صبر کی انتہا کی ھے، اب انکے تحمل اور برداشت کی انتہا ھورھی ھے۔ اب انہوں یک جان یک قالب ھو کے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنا ھوگا۔
    کیوں کہ
    *محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے صرف زنجیریں اور پانے کے لیے سارا جہاں پڑا ھے۔*

    Aziz Ul Haq

    @azizbuneri58

  • ‏جیو اور جینے دو ۔ تحریر : سید احد علی

    آج کل ہر بندہ دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے اور اس پر تنقید کررہا ہے
    کوئی کسی کی تعریف کرکے راضی نہیں ہے ہر بندہ دوسرے کے کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا
    ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم دوسروں پر تنقید کا نشانہ بنائیں ، کون اچھا ہے ، کون برا ہے اس کے لیے اللہ تعالٰی ہیں ، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم نفرتیں پیدا کریں ایک دوسرے کے لیے
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں ۔
    ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے ، جب بنانے والے نے ہی کوئی فرق نہیں سمجھا تو ہمیں تو حق ہی نہیں.
    لہذا تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائیں اس کے خوشی غمی میں برابر کے شریک ہو جائیں حوس بھری نگاہوں سے دیکھنے سے بہتر ہے ایک سچے اور مخلص دوست بن کر رہیں اگر تنقید ہی کرنی ہو تو نرم لہجے سے تنقید کرے کیو نکہ نرم لہجہ ضمیر جگاتا ہے جبکہ سخت لہجہ آنا جگاتا ہے۔۔
    غیر ضروری تنقید وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے خو بصورت تعلقات کا سر قلم کر تی ہے
    ہمیں چاہیے تنقیداگر مقصود ھے ھی تو تنقید برائے اصلاح کریں
    تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے کہ ہم کیا ھیں تنقید کرنے سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے تنقید برائے اصلاح سے ہم بہترین معاشرہ ترتیب دے سکتے ھیں ہمیں اپنے اطوار و قلم سے محبتیں بانٹنی چاہیے نہ کہ نفرتیں
    نفرت تو آگے بہت ھے اسلیے جانے جانچے اور اصلاح کریں ۔
    اگر کسی کے لیے اپنے الفاظ سے زندگی خوشگوار نہیں کرسکتے تو برباد بھی نہ کریں ہماری زبان سے نکلا ہر لفظ ہمارے لیے تو ٹھیک ہے پر دوسرے انسان کو ہماری کون سی بات بری لگی ہو ہم نہیں جانتے سب کے لیے خوشی کا ذریعہ بن جائیں جیو اور جینے دو ۔

    @S_Ali_9

  • اسلام کیسے پھیلا ؟  تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام کیسے پھیلا ؟ تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا

    اسلام تلوار کے زور پر پھیلا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ اسلام کی شروعات کئی جنگوں سے ہوئی جن میں سب سے مشہور جنگ ہے جنگ بدر یا غزوہ بدر ۔
    بدر کی اس لڑائی میں 313 مسلمانوں کا مقابلہ ایک 1000 کی فوج سے تھا ۔ اور اس لڑائی میں مسلمانوں کی جیت ہوئی ۔ ابو جہل کی قیادت میں ایک 1000 کی فوج کا مقابلہ 313 مسلمانوں سے تھا ۔ اور پھر بھی مسلمانوں کی جیت ہوئی کیونکہ اللّه نے اپنے نبی کے لئے اس جنگ میں آسمان سے 1000 فرشتوں کی فوج اتار دی تھی ۔ کیا سچ میں اللّه نے بدر کی جنگ میں اپنے نبی اور امّت کا ساتھ دیا تھا ؟ کیا بدر کی جنگ میں مسلمانوں کی طرف سے واقعی 1000 فرشتے بھی کفار کے ساتھ لڑے تھے ۔ اس پوسٹ میں ہم اسی بات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    تاریخ میں ایسی بوہت سی جنگیں ہو چکیں ہیں جن میں کم تعداد والی فوج نے اپنی بہادری سے اپنے سے بڑی تعداد والی فوج کو ہرایا ہو ۔ چمکور کی جنگ کو ہی دیکھ لیں محض چالیس بہادر سکھوں نے لاکھوں کی مغل فوج کو دھول چٹا دی تھی جن لوگوں کو اس جنگ بارے نہیں پتا وہ گوگل کی مدد حاصل کر لیں ۔پتا بھی کیسے ہو کیوں کہ ہمارے ہاں تو صرف مسلمان فاتحین کے ہی قصے سنائے جاتے ہیں ۔ مٹھی بھر انگریزوں نے اپنی حکمت عملی سے کروڑوں ہندوستانیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا یا آج کے دور کو ہی دیکھ لیں لاکھوں یہودی کروڑوں مسلمانوں پر بھاری پڑ رہے ہیں ۔ کوئی بھی فوج جیت کے لئے اپنی تعداد پے کم اور بہتر قیادت بہتر حکمت عملی بہتر ہتھیار اور اپنے حریف فوج کی جنگی چالوں کے بارے پہلے سے معلومات پر زیادہ منحصر ہوتی ہے ۔ جو کہ اپنے جاسوس بھیج کر حاصل کیں جاتیں تھیں ۔ بدر کی جنگ بھی کچھ اسی طرح کی تھی ۔ 313 مسلمانوں کا مقابلہ مکہ کی بڑی فوج سے تھا اور آخر مسلمانوں کی جیت بھی ہوئی ۔ اس جیت کو اللّه کی طرف سے بھیجے گئے 1000 فرشتوں کی مدد سے جوڑ کر میدان جنگ میں لڑنے والے بہادر 313 مسلمانوں کی بہادی کی دھجیاں اڑا دی گیں ہیں ۔ کیا سچ میں غزوہ بدر میں اللّه نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی مدد کے لئے 1000 فرشتوں کی فوج اتاری تھی ؟ اس کہانی کو اگر زمینی حقائق کی مدد سے جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے یہ کہانی بلکل جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ایک من گھڑت کہانی ہے ۔ ایک فرضی کہانی ہے ۔ کیسے ؟ آیئں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر غزوہ بدر میں اللّه کی طرف سے بھیجی گئی 1000 فرشتوں کی فوج والی بات کو سچ مان لیا جاۓ تو پھر مسلمان فوج کی تعداد محض 313 نہیں بلکہ بڑھ کر 1313 ہو جاتی ہے ۔ اور دوسری طرف 1000 کی فوج ۔ یعنی 1000 کی فوج کا مقابلہ 1313 کی فوج سے تھا ۔ مسلمانوں کی طرف سے 313 عام انسان اور 1000 فرشتے ۔ اور دوسری طرف صرف 1000 عام انسان ۔ اگر یہ بات سچ ہے تو جنگ یقیناً یک طرفہ ہی ہونی چاہیے تھی ۔ کیوں کہ ایک طرف عام انسان اور دوسری طرف اللّه کے فرشتے تھے جنھیں لڑنے کا طریقہ بھی اللّه نے بتایا تھا کہ تمہاری تلوار کا وار ان کی گردن پر ہونا چاہیے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان فرشتوں کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہوتی ۔ اور وہ ایک ہی پل میں دشمن فوج کی دھجیاں اڑا دیتے ۔ دشمن فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ نہ بچتا ۔ لیکن ایسا ہوا نہیں ۔
    گھنٹوں چلنے والی اس جنگ میں دشمن فوج کے صرف 70 سپاہی مارے گئے ۔ اور میدان جنگ میں اللّه کے فرشتے موجود ہونے کے باوجود 14 مسلمان بھی مارے گئے ۔ وہ فرشتے جنھیں اللّه نے خود لڑنے کا طریقہ بھی سمجھایا تھا کہ دشمن کو کیسے مارنا ہے ۔ پھر بھی فرشتے اس جنگ میں بلکل خاموش رہے ۔ یہاں ایک بات اور سمجھ سے باہر ہے ۔ کہ قرآن میں ایک طرف تو اللّه خود کو سب سے بڑا کہتا ہے اور جو وہ صرف کہہ دیتا ہے وہ ہو جاتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو بیچارے فرشتوں کو کیوں پریشان کیا ۔ آسمان سے اتر کر انھیں عرب کے تپتے ریگستانوں کی خاک چھاننا پڑی ۔ اللّه صرف کہہ دیتے اے دشمن برباد ہو جا وہ ویسے ہی برباد ہو جاتے ۔ لیکن ایسا کوئی معجزہ نہ اللّه نے دکھایا اور نہ ہی اس کے فرشتوں نے ۔ اگر ہم اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر دیکھیں تو بدر کی جنگ دوسری جنگوں کی طرح ایک عام جنگ تھی ۔ اس جنگ میں اللّه کے فرشتوں کی شمولیت والی بات ایک من گھڑت کہانی کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسی سبھی کہانیاں جنھیں معجزات سے جوڑا گیا ہے ۔ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ صرف ضرورت ہے تو ہمیں انھیں اپنی آنکھوں پر بندھی عقیدت کی پٹی اتار کر پڑھنے کی ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔