Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    ‏جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں اِس اشرف المخلوقات حضرتِ انسان نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت ساری ایجادات کی ہیں۔ اُنہی میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں استعمال ہونے والے سمارٹ سسٹم موبائلز فون بھی ہیں۔

    ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں ہم نے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد اپنی زندگیوں میں استعمال کے ساتھ بہت ساری آسانیاں اور بے شمار فوائد بھی حاصل کئے ہیں۔ وہیں یہ موبائل فونز ہماری زندگیوں میں سے ہماری بہت ساری پرانی استعمال کی جانے والی چیزیں، یادیں، ہمارے ارد گرد کی دوستیاں اور بہت کچھ اپنے اندر نِگل بھی گیا ہے۔

    ‏چونکہ! میں اپنی اس تحریر میں سمارٹ سسٹم موبائلز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سمارٹ فونز کے آنے کے بعد ہمیں صرف نقصانات ہی ہوئے ہیں۔ ( بلاشبہ اِن کے بے شمار فائدے بھی ہوئے ہیں جن کا ذکر میں اپنی اسی سلسلے کی دوسری قسط میں کروں گا)۔ تو آج اس تحریر کے زریعے میں اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ اِن سمارٹ فونز کے ہر طرف عام ہونے کے بعد ہماری زندگیوں پہ اس کے جو بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اُن سب کا مکمل احاطہ کر سکوں۔

    ‏1 . پڑوس کی دوستیاں، آپسی میل جول و محبت اور ہمارے قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا سکون بھی نگل گیا ہے۔

    ‏مثال کے طور پر اگر آپ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے عام ہونے سے پہلے تک اپنی روز مرّہ کی زندگیوں پہ نظر دوڑائیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ اپنے محلے داروں، اڑوس پڑوس کے لوگوں، رشتہ داروں اور یہاں تک کہ اِن محلے داروں ، گاوں یا قصبے کے لوگوں کے علاوہ دوسرے محلوں، گاوں یا قصبوں میں رہنے والوں سے بھی ہماری کتنی قریبی اور گہری دوستیاں ہوا کرتی تھیں۔

    ‏پھر اسی طرح ہمارا آپس کا میل جول اور ایک دوسرے سے پیار و محبت اور عزت سے پیش آنا، کتنا ہی زبردست اور چاہت سے بھرپور دور ہوا کرتا تھا۔ کہ ایک دوسرے کو ملنے، ایک ساتھ اکٹھے ہو کر بیٹھنے اور یہاں تک کہ ایک دوسرے سے کسی معاملے پہ بحث و تکرار کے لیے بھی کتنا وافر وقت ہوا کرتا تھا اور پھر ہمارا کتنی کتنی دیر تک آپس میں ایک جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کا کرنا، گپیں ہانکنا اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کو اپنا دُکھ سُکھ سمجھ کر اس میں ہر وقت شامل بھی رہنا، ایک بہترین احساس تھا۔

    ‏اور پھر ہر اچھے و بُرے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہنا، پھر اگر کبھی آپس میں کسی دوست کی ناراضگی ہو جایا کرتی تھی، تو سب محلے کے دوستوں نے مل کے اُن کی آپس میں صلح بھی کروایا کرنی اور ایسے معاملات میں بعض اوقات تو کئی کئی گھنٹوں اور پھر کبھی تو رات گئے تک آپس میں بات چیت کرتے ہی وقت گُزر جایا کرتا تھا کیونکہ تب کسی کے پاس بھی وقت کی کوئی کمی نہیں ہوا کرتی تھی اور ایک دوسرے سے پیار اور دوستیاں بھی سچی ہوا کرتی تھیں۔

    ‏اور پھر یہی آپسی میل جول ایک دوسرے کی عزت اور آپسی پیار میں بھی بے شمار اضافے کا باعث بنا کرتا تھا تو پیار و محبت کی اِسی پُر ستائش فضا کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بھی بے شمار سکون اور اطمینان ہوا کرتا تھا۔

    ‏لیکن پھر اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد آہستہ آہستہ یہ سب کچھ بکھرتا چلا گیا اور ہر کوئی اپنے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز تک محدود ہو کے رہ گیا ہے اور پھر اب ہر کوئی اپنا زیادہ تر وقت اِن سمارٹ سسٹم موبائلز پہ موجود سوشل میڈیا کے ذریعے (جن میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ، لنکڈ اِن، سنیپ چیٹ، ٹِک ٹاک اور دوسری بہت ساری ایپلیکیشنز شامل ہیں) اب ہم بہت سارے انجان، دور دراز اور اَن دیکھے لوگوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو نہ ہم کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی کبھی ہماری ملنے کی امید ہی ہوتی ہے۔ اور اسی لئے اب ہماری دوستیاں بھی اِن موبائلز تک ہی محدود ہو کے رہ گئی ہیں۔

    ‏مگر اپنے اُن قریبی دوستوں، عزیز رشتہ داروں، محلے داروں اور دوسرے گِرد و نواح کے لوگوں کو ہم بالکل ہی بھول کر رہ گئے ہیں اور کبھی کبھار ہم انہیں، وہ بھی کسی خوشی یا غمی کے موقع پہ یا تو صرف میسج ہی بھیج کر کام چلا لیتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ دو چار منٹ کے لیے کال کر کے ان سے بات کر لیتے ہیں۔ اور میرے مطابق اِن سب قریبی لوگوں سے دوریوں کا باعث صرف اور صرف اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا ہی ہے۔

    ‏اور پھر کیونکہ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے سے پہلے تک نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں بے دھڑک ہو کے بات چیت کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہوا کرتا تھا تو اِن موبائلز کے عام ہو جانے کے بعد بہت سے انجان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی آپس میں دوستیوں اور پھر اس سے بھی بڑھ کے ملاقاتوں تک کے ہونے کے بعد معاشرے میں بہت ساری برائیوں نے بھی جنم لے لیا ہے، جن کے بارے میں بھی ہمیں آئے روز خبریں اور حتٰی کہ ویڈیوز تک بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اور میرے مطابق ہمارے اِن نوجوانوں میں پھیلنے والی زیادہ تر برائیوں کا باعث اور دوسری بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا بھی ہے۔

    ‏اور اب آخر میں! میں اپنے ملک پاکستان کے نوجوانوں کو ایک پیغام بھی دینا چاہوں گا کہ اگر تو آپ اپنی زندگیوں کو سکون و اطمینان سے گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے خاندان کے افراد، قریبی دوستوں، محلہ داروں، عزیز اور رشتہ داروں اور ظاہری طور پر موجود اپنے قریبی لوگوں سے اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ وقت بھی دیا کریں۔

    ‏اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار کو بھی مضبوط بنائیں اور کیونکہ اب یہ سمارٹ سسٹم موبائلز بھی ہماری مجبوری بن چکے ہیں تو جہاں تک ہو سکے سوشل میڈیا کے ذریعے انجان لوگوں سے ہونے والی دوستیوں کو اپنی نجی زندگیوں پہ اثرانداز نہ ہونے دیا کریں۔ (بلاشبہ! سوشل میڈیا پہ بھی ہمیں سب لوگ ایک جیسے نہیں ملتے ہیں اور ہمیں بہت سارے اچھے، پڑھے لکھے، سُلجھے ہوئے اور قابلِ احترام دوست بھی ملتے رہتے ہیں، جن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور اُن سے ملنے والے علمی تجربات سے بھی استفادہ کرتے ہوئے ہم اپنی عملی زندگیوں کو مزید بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں)۔

    ‏اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    ‏وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
    ‏دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ
    ‏ Twitter Handle: ⁦‪@MainBhiHoonPAK

  • جمہورکاپیغام تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    جمہوری پارٹیاں اگر خود کو جمہوری سمجھتی ہیں اور واقعئی اس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مخلص ہیں تو سب سے پہلے ہر پارٹی اپنے اندر جمہوریت پیدا کرے اپناجمہوری ڈھانچہ ترتیب دیں
    موروثیت کا خاتمہ کریں
    میرٹ کو سامنے رکھیں
    اک دوسرے پر گند بازی کے بجائے، اپنی خدمات کی بنا پر سیاسی جدو جہد کریں
    بلاول عہد کرے کہ میں وزیراعظم نہیں بنوں گا اور مستقبل کے لیے پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے غریب کارکنوں کےچند پڑھے لکھے نوجوان تیار کرے ان کی میڈیا مہم چلائے ان کے علاقوں میں ان کا ورک کرے
    انہیں لوگوں سے میل جول رابطے میں سرگرم رکھے فلاحی کاموں میں ان کی مدد کرے

    مولانا فضل الرحمان اپنے بیٹے بھائیوں کو بھلے سیاست میں لائے مگر اعلیٰ عہدوں پر کارکنوں کو آگے لائے ان کی تربیت کرے اور اپنی پارٹی سے موروثیت ختم کرے

    شریف برادران اگر ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے سنجیدہ ہیں تو الیکشن کمیشن کے ادارے کو بہتر بنوانے میں اپنا کردار ادا کریں
    ایسی قانون سازی کریں کہ ملکی ادارے مل مالکان کے حق میں غلط استعمال نہ ہوں

    شریف برادران بھی اپنی بیٹی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کی پڑھی لکھی بیٹیوں کی الیکشن مہم چلائیں انہیں اپنے علاقوں اور عوام میں متعارف کروائیں

    قانون سازی کے لیے حکومت پردباو ڈالیں کہ الیکشن کمشن قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے کورس متعارف کروائے جسے پاس کر نے کے بعد ہی کوئی میمبر کسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا اھل ہو

    اگر انہوں نے یہی گھوڑے گدھے خرید کر سیاست کرنا ہے تو ایسی جمہوریت سے یہ قوم لنڈوری بھلی

    چند خاندانوں کو مضبوط کرکے آپ نے قوم کو ان کا غلام بنا دیا
    آپ اگر قومی خدمت میں واقعی سنجیدہ ہیں اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کے لیے کوئی پروگرام تشکیل دیں
    جھوٹ اور بہتان بازی سے آپ نے اپنا وقار کھودیا
    اقتدار کی خاطر آپ نے اک دوسرے کے خلاف جو جھوٹ گھڑے یا تو ان کے سچ ہونے کا یقین دلائیں یا پھر اگر وہ جھوٹ تھے تو قوم سے معافی مانگیں

    ہر شخص تو فریب نہیں دیتا
    مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا

    قوم سے اس بات پر معافی مانگیں کہ ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دے کر آپ نے مافیاز جنم دیے، جنہوں نے ہر حکومت سے اپنا لاڈ منوایا ہے
    ہردور میں سارے عوام خصوصاً کسانوں نے مافیاز کے ہاتھوں ذلالت اٹھائی
    کسانوں نے ریٹ نہ ملنے پر اپنی کپاس جلائی، کبھی گنے کے کھیت جلائے
    جمہوری حکومتوں کی عین ناک تلےگندم کا باردانہ گم ہوتا رہا، کسان دربدر رہا
    چاول کا ریٹ تب اچھا بنا جب کسان کے ہاتھ سے نکل گیا
    ہر دور میں لیبر کے ساتھ نا انصافی
    جمہوری حکومتوں میں جمہور بھوک سے مرتی رہی
    مگر
    بڑے بڑے تاجروں کےکروڑوں کے قرضے معاف کردیے جاتے رہے
    آپ نے ہر ادارہ جاگیردار سیاست دانوں کے ہاتھ میں دے دیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ؟
    انہوں نےہر ادارے ہر شہر میں اپنے بندے بھرتی کرادیے
    یوں غریب لوگ قطاروں میں دھکے کھاتے رہے
    مگر؟
    سیاسی خط یاچٹھی والے لوگوں کو خصوصی پروٹوکول ملنے لگا
    کسی بھی ادارے کی سیاست میں مداخلت جائز نہیں
    اگر
    اس جواز کو غلط بنانا ہےتو؟
    آپ کو تاجر کے بجائے لیڈر بننا پڑےگا

    تو؟؟؟
    گھرسے قربانیوں کا سلسلہ شروع کریں
    یہ قوم بڑی سخی ہے یہ آپ کو معاف کردے گی
    آپ کے اخلاص پرپھرسے مر مٹے گی
    اس قوم نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں بہت مرلیا
    اب کوئی تو ہو جو اس کی خاطر مرے

    ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
    وہ اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

    Doctor Rahii

  • اسلامی یورپ کا خوف  تحریر: محمد ذیشان

    اسلامی یورپ کا خوف تحریر: محمد ذیشان

    مغرب اسلام سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف کے دو رخ ہیں۔ ایک پہلو مسلمانوں کی نسلی خودکشی اور یوروپی اقوام کی نسلی خودکشی ہے۔ دوسرا پہلو اسلام کا نظریاتی غلبہ ہے۔ خوف کے دونوں رنگ مغرب کے چہرے پر صاف نظر آتے ہیں.
    معروف اسرائیلی اخبار اروت شیوا کے ایک اطالوی کالم نویس گلیئو میوٹی نے ایک تفصیل میں اسلام کو خوفزدہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: "مسلمان اور اسلام پسند ایک ایسے براعظم پر جمع ہورہے ہیں جس کی مقامی آبادی اور تہذیب ختم ہو رہا ہے۔ یوروپ کو ہتھیار ڈالنا نہیں چاہئے ، ورنہ طویل عرصے تک یورپ میں اسلامی خلافت کا بنیادی خواب پورا ہوگا۔ یورپ میں صدیوں سے تعمیر ہونے والی تہذیب سیکولرائزیشن کے ہاتھوں گرتی جارہی ہے۔ گرجا گھر ویران ہیں ، برسلز ، میلان ، لندن ، ایمسٹرڈم ، اسٹاک ہوم اور برلن سبھی متاثر ہیں۔ یہاں تک کہ پوپ فرانسس نے یوروپ کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا ہے ، گویا وہ یورپ سے مایوس ہے۔ لوگوں کو جنسی خوشی ، جسمانی نگہداشت اور مادی آسائشوں کے لئے افیون دی گئی ہے۔ 2015 تک عرب دنیا میں مسلم آبادی 37.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ صرف افریقہ میں ، مسلمان سن 2050 تک 95 ملین کو عبور کر لیں گے۔ یورپ میں پیدائش پر قابو پانے اور قدرتی آفات سے آبادی کو دسیوں لاکھوں کی کمی واقع ہوگی۔ بحیرہ روم کے اطراف ، یوروپ کو پھر سے للکار رہے ہیں۔ ہم اسلام کے خلاف سنجیدہ جنگ نہیں لڑ رہے ، ہم اپنے لوگوں کو اس بات پر راضی کر رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی (اسلام) کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ یقینا. ، یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے ، اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے۔ ”

    اقتباس لمبا ہے ، لیکن بہت اہم ہے۔ اسلامی مفکر سید مودودی نے اپنی بے مثال ریسرچ ‘اسلام اینڈ برتھ کنٹرول’ میں ، اس وقت مغرب کے مستقبل کا ایک معنی خیز مشاہدہ کیا تھا جب یوروپ عروج پر تھا۔ سید صاحب یقین کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ پیدائشی کنٹرول خاموشی سے مغربی تہذیب کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ مندرجہ بالا حوالہ صورتحال کی وضاحت کرتا ہے۔ مذہب اور فطرت نے وقت کے ساتھ ہی یورپ کو واپس لایا ہے۔

    ایک اور مثال خوف کا دوسرا رنگ ہے۔ "یہ الفاظ کا بہت محتاط انتخاب تھا ،” مشہور جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے نیشنل ریویو کے ایک پالیسی سینئر ، اینڈریو میککارتی نے کہا۔ اس کے بارے میں سوچو ، لوئیس نے یہ نہیں کہا کہ یورپ میں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہوگی۔ نہیں ، پروفیسر لیوس نے کہا کہ یورپ اسلامی ہو جائے گا۔ ہم یہاں مسلمانوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ، ہم اسلام کی بات کر رہے ہیں۔ انفرادی سطح پر ، بہت سارے مسلمان امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن اسلام کامل تسلط چاہتا ہے … لہذا ، اب جب ایک اور جہادی کا قتل کیا گیا ہے تو ، لندن اس کا نشانہ بن گیا ہے۔ خالد مسعود ، جو واضح آسمانی احکامات پر غیر مسلموں سے لڑ رہا تھا ، ویسٹ منسٹر پل میں راہگیروں کی طرف سے گزر رہی تیز رفتار کار میں چلا گیا۔ تقریبا پچاس افراد زخمی ہوئے ، چار ہلاک ہوگئے۔ باسٹھ سالہ ویٹ لفٹر مسعود کا مجرمانہ ریکارڈ تھا اور اسے خنجر کے کئی حملوں میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ مسعود برمنگھم میں ایک طویل عرصے سے مقیم ہے ، یہ شہر جہاں اسلامی قانون بہت سے علاقوں کو تیزی سے گھیر رہا ہے ، جو غیر مسلموں کے لئے نو گو زون بن چکے ہیں۔ جب ہم اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ، یہ صرف مذہبی رسومات کا نظام نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل تہذیب ہے ، جو اسلام کی آفاقی شناخت سے وابستہ ہے۔ اس کی اپنی ایک تاریخ ، قواعد ، اقدار اور قوانین ہیں۔ یہ غیر مغربی نہیں بلکہ مغرب مخالف ہے۔ منہاج الاسلام ، بطور اخوان المسلمون کے بانی ، حسن البنا ، کہا کرتے تھے ، وہ سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے غالب ہے۔ مغرب (اسلامی تسلط) کے سیاسی اور اشرافیہ حقیقت پر نگاہ ڈالتے رہے۔ ان کے ذہن میں ، مسلم سماجی گروہ دوسرے سماجی گروہوں کی طرح ہیں۔ نہیں ، اسلام مکمل خودمختاری چاہتا ہے۔ یہ آج کے معاشروں میں شریعت نافذ کرتا ہے ، اور کل کے جہادی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ایک مہم جوئی ویسٹ منسٹر برج پر دیکھنے کو ملی۔ "(لندن میں اسلام اور جہاد از اینڈریو سی میکارتھی)۔ یہ بیان خوف کا ایک اور رنگ ہے۔ اس ریاست کی حالت ارتقائی ہے ، اسے ترقی یافتہ نہیں کہا جانا چاہئے۔ یہ روایتی طور پر جوش و خروش کا ایک مرکب ہے۔
    معروف مورخ برنارڈ لیوس کا قول 100٪ درست ہے ، لیکن یہ خیال کوئی نیا نہیں ہے۔ مشہور یوروپی مصنف جارج برنارڈ شا نے سن 1936 میں اسلامی یورپ کی پیش گوئی کی تھی۔اس سے پہلے ہی علامہ محمد اقبال اور سید ابواللہ مودودی مغرب میں اسلام کے طلوع ہوتے سورج کو دیکھ رہے تھے۔ یورپ کا اسلامی تسلط نظریاتی ، ثقافتی ، سائنسی ، نظریاتی اور نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ یورپ میں سائنس کی پہلی عظیم پیشرفت کے پیچھے بھی اسلام ایک محرک قوت رہا ہے۔
    تو ، یہ سچ ہے۔ یورپ اسلام سے خوفزدہ ہے۔ یہ خوف بلا وجہ نہیں ہے۔بہت سارا دین فطرت کا تقاضا ہے۔

    By.
    Muhammad Zeeshan
    @Zeeshanvfp

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد کر دیئے

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات میں دھاندلی کے تمام الزامات مسترد کر دیئے

    سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر محمد غضنفر خان نے پی پی اور ن لیگ کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی اور کم ٹرن آؤٹ کے تمام الزامات مسترد کردیئے ہیں-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر محمد غضنفر خان نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں نہ ہی کوئی ثبوت ملا ،چند حلقوں کو چھوڑ کرمجموعی طور ووٹنگ پرامن رہی، کسی حلقے سے ووٹنگ بند ہونے یا نامکمل ہونے کی رپورٹ نہیں ملی تاہم قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے،ذمہ داروں کو سخت سزا ملے گی ۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پولنگ کا عمل مقررہ وقت صبح8بجے سے بغیر کسی تعطل کے پرامن انداز سے جاری رہا،مجموعی طورپرامن و امان کی صورتحال اطمینان بخش رہی-

    میں بالکل مایوس نہیں ہوں ،ن لیگ نے بہت اچھا الیکشن لڑا ہے ،مریم نواز کی ووٹرز اور ورکرز کو شاباش

    انہوں نے کہا کہ کل5118پولنگ سٹیشنز میں سے صرف 16 پولنگ سٹیشنز پر معمولی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں،پونچھ ڈویژن کے9،میرپور ڈویژن کے5اور مظفرآباد ڈویژن کے 2پولنگ سٹیشنز پرمعمولی نوعیت کے مسائل سامنے آئے، مجموعی طور پر 99فیصدپولنگ پرامن رہی ہے ۔

    واضح رہے کہ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں نے نتائج تسلیم نہیں کیے ہیں اور نا کروں گی، میں نے تو 2018ء کے نتائج بھی تسلیم نہیں کیے نا اس جعلی حکومت کو مانا ہے، اس بے شرم دھاندلی پر کیا لائحہ عمل ہو گا؟ جماعت جلد فیصلہ کرے گی-

    آزاد کشمیر الیکشن :میں نے نتائج تسلیم نہیں کئے نہ کروں گی مریم نواز

  • مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟  ‏تحریر: محمد اکرم

    مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟ ‏تحریر: محمد اکرم

    ‏ ⁦

    ‏پاکستان ایک ایسی نظریاتی مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی اساس پر معرض وجود میں آئی ورنہ 14 اگست 1947ء سے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان نامی کسی ملک کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ‏دو قومی نظریہ کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے جو مسلم قوم کو دیگر اقوام سے الگ تشخص عطا کرتا ہے۔ حبشہ کے بلال حبشیؓ اور روم کے صہیب رومی کو محمد ﷺ کی قوم میں شامل قرار دیتا ہے۔ محمد ﷺ کے سگے چچا عرب سردار ابولہب کو محمد ﷺ کی قوم سے خارج قرار دیتا ہے کیونکہ وہ کلمہ گو نہیں تھا۔

    ‏عربی زبان کا معروف قول ہے تعرف الاشیاء باضدادھا ترجمہ: چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ پس دو قومی نظریہ کو سمجھنے کے لیے متحدہ قومیت کے نظریہ کو جاننا ازبس ضروری ہے۔ ہندوستان کبھی بھی یکجا حالت میں موجود نہ تھا۔ یہ مسلم حکمران تھے جنہوں نے مختلف اکائیوں میں تقسیم راجواڑوں کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان کو ایک اکائی اور وحدت کی شکل دی تھی۔

    ‏پھر انگریز نے ہندوستان پر قبضہ جما لیا۔ جب یہ قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہا تو ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار شروع ہوئی۔ کانگرس اس نظریہ کی پرچارک تھی کہ قومیت کی بنیاد وطن ہے، مذہب نہیں لہذا ہندوستان کو اسی حالت میں آزادی دے دی جائے۔ آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کو ایک جدا قوم تصور کرتی تھی جس کی تہذیب تمدن روایات تاریخ ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔ کانگرس اور اس کی ہمنوا جمیعت علماء ہند، مجلس احرار، سرخپوش تحریک نے وطنی قومیت کے نظریہ کا شد و مد سے پرچار شروع کر دیا۔ علامہ اقبالؒ وفات سے پہلے شدید علالت کے دور سے گزر رہے تھے جب انہوں نے قومیت پر فکری مباحث کے دوران مولانا حسین احمد مدنی کے جواب میں ایک معرکۃ الآراء مقالہ بعنوان ‘جغرافیائی حدود اور مسلمان’ تحریر کیا جو اخبار احسان میں مؤرخہ 9 مارچ 1938ء کو شائع ہوا جس میں دریا کو کوزے میں سموتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے یہ ناقابل فراموش تاریخی الفاظ رقم کیے تھے:۔

    ‏[حضور رسالت مآب ﷺ کے لیے یہ راہ بہت آسان تھی کہ آپؐ ابولہب یا ابوجہل یا کفار مکہ سے یہ فرماتے کہ “تم اپنی بت پرستی پر قائم رہو مگر اس نسلی اور وطنی اشتراک کی بناء پر جو ہمارے اور تمھارے درمیان موجود ہے، ایک وحدت عربیہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر حضور ﷺ نعوذ باللہ یہ راہ اختیار کرتے تو اس میں شک نہیں کہ یہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی لیکن نبئ آخر الزمان ﷺ کی راہ نہ ہوتی۔”]

    ‏اس مقالے نے وطنی قومیت کے نظریہ کی بنیاد پر برسر عمل جمیعت علماء ہند، مجلس احرار اور سرخپوش تحریک کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ کانگرس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ 1946ء کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ مسلمان قوم کی بلاشرکت غیرے واحد نمائندہ جماعت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی۔ کانگرس کو تقسیم ہند نوشتۂ دیوار نظر آئی۔ قیام پاکستان کی منزل قریب تر آ گئی۔ بالآخر قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ قائداعظمؒ نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ لیاقت علی خان وزیراعظم مقرر ہوئے۔ المیہ یہ ہوا کہ قائداعظمؒ کی وفات اور لیاقت علی خان کی ایک افغان کے ہاتھوں پراسرار شہادت کے بعد مسلم لیگ کا نظریاتی تشخص بیحد مجروح ہوا۔ وطنی قومیت کے پرچارک باچا خان، عبدالصمد اچکزئی، کانگرسی مولوی حسب سابق سرگرم رہے۔ اکھنڈ بھارت کی علمبردار جمیعت علماء ہند کی باقیات نے قیام پاکستان کی حامی جمیعت علماء اسلام کو ہائی جیک کر لیا۔ یہ سب لوگ قیام پاکستان کی مخالفت کے سابقہ مؤقف پر قائم رہے۔ دو قومی نظریہ کے منکر رہے۔ قیام پاکستان کو غلط قرار دیتے رہے۔ اسی فکر و سوچ کو اپنے کارکنان کے ذریعے آگے بڑھاتے رہے۔ ان کے نظریاتی لٹریچر اور سٹڈی سرکلز میں قیام پاکستان کو انگریز کی سازش قرار دیا جاتا رہا۔ بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ مسلم لیگ قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کے افکار کو اسی شد و مد سے اپنے کارکنان اور عوام تک پہنچانے میں ناکام رہی۔ جن جماعتوں کو تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ نے کارنر کر دیا تھا، وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتے رہیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ ہر دور میں قائداعظمؒ کی جماعت مسلم لیگ کے نام پر مختلف دھڑے برسر عمل ضرور رہے مگر قائداعظمؒ کی فکری وراثت کو لے کر چلنے والا کوئی دھڑا موجود نہ رہا۔ تاریخ کا عظیم ترین المیہ ہے کہ قائداعظمؒ مزارقائدؒ میں دفن ہیں مگر ان دھڑوں نے ان کی فکری وراثت کے لاشے کو بے گور وکفن پھینک دیا ہے۔ اپنے باباؒ جان کی فکری وراثت کو لاوارث بے گور و کفن دیکھ قائداعظمؒ کے بیٹے بیٹیاں خون کے آنسو روتے ہیں۔ وہ شدید کرب سے دوچار ہیں۔ بابائے قوم کی روح بھی شدید ذیت میں مبتلا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی روح بھی مزار اقبالؒ میں بےچین و بیقرار ہیں۔ اگر کوئی سکون چین قرار کی زندگی بسر کر رہا ہے تو وہ بابائے قوم کی نشانی مسلم لیگ کے نام پر قائم مختلف دھڑوں کی قیادتیں ہیں جنہوں نے قائداعظمؒ کی فکری وراثت کے لاشے کو لاوارث کی طرح بےگور و کفن چھوڑ دیا ہے جسے ان کے نظریاتی مخالفین گدھ کی طرح بیدردی سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یہ نظریاتی مخالفین قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کی فکری وراثت کے لاشے کی روز بیحرمتی کرتے ہیں مگر بابائے قوم کی فکری بیحرمتی پر بےحمیتی بےشرمی کی چادر اوڑھے خوابِ غفلت کی گہری نیند سونے والی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کی قیادتوں کی سوئی ہوئی غیرت جاگ ہی نہیں رہی۔ کیا ان قیادتوں کو صورِ اسرافیل کے علاوہ کوئی چیز جگا سکتی ہے؟

  • طلباء میں منشیات کی لت    تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    طلباء میں منشیات کی لت تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    پاکستان میں 50 فیصد سے زیادہ اسکول کے طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ طلباء زیادہ تر نجی اسکولوں کے ہیں جہنیں ان کے اہل خانہ نے خراب کیا ہے اور ایسے طلبا اپنے برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں ۔طلباء میں منشیات کی لت ایک تشویش ناک صورتحال ہے جو پاکستان کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے اور جلد از جلد اس سے نمٹا جانا چاہئے۔

    دیہی اسکولوں کے مقابلے شہری علاقوں کے اسکولوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اسکول کے بچوں کو زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ منشیات کے متحمل ہونے کے لئے زیادہ سے زیادہ جیب رقم رکھتے ہیں۔ ایک این جی او کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اسلام آباد کے مشہور نجی اسکولوں کے 53٪ طلباء منشیات کے عادی ہیں۔ یہ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہے کیونکہ اس سے ملک کے دارالحکومت میں اسکول جانے والی نصف سے زیادہ آبادی بن جاتی ہے۔لاہور کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک اور رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ملک میں اسکول جانے والے کل طلبا میں 57٪ کم از کم ایک نشہ استعمال کررہے تھے۔ ایک اور سروے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ہر 10 میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی تھا اور ایلیٹ تعلیمی اداروں کے تقریبا 50 50٪ طلبا منشیات کے عادی تھے

    توجہ فرمائیں!

    بلوغت کے زمانے سے جب نوعمر نوجوان نئی چیزوں کی کھوج شروع کرتے ہیں تو ، اسکول جانے والے طلباء منشیات کی لت میں مبتلا ہوجانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ محض تفریح ​​کے لئے پارٹیوں اور حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شروع ہوتا ہے لیکن وہ جلد ہی اپنے آپ کو مہاماری کی طرف گہرائی میں پائے جاتے ہیں

    اسکول جانے والے طلباء کو دوسرے طلباء کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ بالائی اور اشرافیہ طبقے کے بگڑے ہوئے خطوط کو اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنی حدود کو بھول جاتے ہیں اور دوسروں پر بھی زور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ، وہ بچہ جس کو سب کے سامنے تنگ اور ہراساں کیا جاتا ہے ،ان کا مذاق بنایا جاتا ہے، وہ بچے بہت سے ذہنی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ جن طلباء کو ہراساں کیا جاتا ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے جب ان کا دماغ انہیں صحیح اور غلط کی تمیز بھلا دیتا ہے تو وہ منشیات کے عادی ہوجاتے ہیں اس کے برعکس ، وہ لوگ جو جارحانہ اور عدم رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ جو ان طلباء کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں ابتدائی طور پر منشیات میں شامل ہونا شروع کردیتے ہیں۔پاکستان میں نجی اسکولوں میں بہت سے لطف اندوزیاں ، تقریبات اور پارٹیاں ہیں جہاں طلباء اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں اور اسکولوں کو بھاری فیسوں کے عوض وہ ان سے بھی زیادہ آرام اور تفریحی وقت کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    حکومت وقت سے گزارش ہے کہ ہمارے روشن مستقبل کو منشیات کے جان لیوا مرض سے جان چھڑاونے کے لیے منشیات پہ پابندی لگائیں جائیں اور اسکی روک تھام پر توجہ دی جاٸیں اور منشيات سمگلنگ کرنے والوں کو سخت سزاٸیں دی جاٸیں!!

    ‎@JahantabSiddiqi

  • کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    کشمیر الیکشن تحریر: علیہ ملک

    :

    جتنی پرانی تاریخ پاکستان کی ہے اس سے زیادہ پرانی تاریخ کشمیر کی ہے۔
    موجودہ آزاد کشمیر 1948 کی جنگ آزادی میں آزاد ہوا۔
    اس جنگ کی ابتداء ضلع باغ کی تحصیل دھیر کوٹ کے نواح نیلا بٹ کے مقام سے ہوئی۔
    سردار عبدالقیوم خان نے دشمن کے خلاف پہلا فائر کیا اور مجاھد اول کا لقب پایا۔
    اس مجاھد اول نے آزاد کشمیر میں 60سال سے زیادہ حکومت کی
    مجاھد اول کی سیرت کے پہلو پہ تحریر ایک الگ موضوع ہے۔
    جنگ آزادی بھی الگ موضوع ہے
    میں یہاں صرف مختصراً
    کشمیر کی موجودہ صورتحال پہ چند باتیں قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔
    جیسا کہ لکھا جا چکا ہیکہ سردار عبد القیوم خان مجاھد اول کی جماعت "مسلم کانفرنس” نے 60 سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی
    لیکن جب یہ حکومت مجاھد اول کے بیٹے سردار عتیق خان کے سپرد ہوئی تو آہستہ آہستہ مخالفت بھی دم بھرنے لگی
    اور بالآخر مسلم کانفرنس کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا
    اسکی ایک اہم وجہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کے الیکشن میں حصہ لینا ہے۔
    اسی آزاد کشمیر میں پاکستان کی دو سیاسی پارٹیاں حکومت کر چکی ہیں اور آج کے الیکشن میں تیسری پاکستان کی سیاسی پارٹی کی حکومت بننے کا چانس 60فیصد سے زیادہ ہیں۔
    تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ کشمیر کے الیکشن میں ایک چوتھی بڑی سیاسی و مذہبی پارٹی تحریک۔ لبیک۔ پاکستان نے بھی بھرپور حصہ لیا۔
    تحریک۔ لبیک۔ پاکستان
    پاکستان میں 2018کے الیکشن میں بائیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرچکی ہے۔
    پنجاب میں تیسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پہ سامنے آئی
    لیکن شروع دن سے اس پارٹی کے ساتھ جو سلوک ہوتا آیا ہے وہ انتہائی زیادہ قابل مذمت ہے۔
    آج کے الیکشن میں کئی جگہوں پہ ٹی ایل پی کے کیمپس اکھاڑ کے کیمپ میں موجود کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    ہم اسے ریاستی دہشت گردی سمجھیں یا موجودہ حکومت کی غنڈہ گردی
    یا پھر جمہوریت کے نام پہ ایک زوردار تھپڑ۔
    ان واقعات کے پیش نظر یہ کہنا کہ کشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ مکمل طورپہ سیلکشن ہورہی ہے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔
    اس کے علاوہ کشمیر کا یہ پہلا الیکشن ہے جس میں علی وزیر گنڈا پور پہ پابندی کے باوجود اسلحہ کے زور پہ علی وزیر نے الیکشن کمپین کی
    کیا یہ بھی حکومتی غنڈہ گردی نہیں۔۔۔۔۔؟؟؟

    @KHT_786

  • ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر :  مدثر حسین

    ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر : مدثر حسین

    50 ہزار سے زائد سیاست دان اور صحافی حضرات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف۔
    اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کی مدد سے دنیا بھر کے کئی ممالک کی اہم شخصیات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف ہوا یے جس کا زکر مغربی اخبارات میں کیا گیا تھا ، اعلی پاکسانی شخصیات کے فون ٹیپ ہونے میں مودی حکومت کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ جس کے بعد پاکسان کی اعلی عسکری قیادت نے اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے. جن اہم شخصیات کے فون ہیک کئے گئے ان کی تعداد پجاس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں عمران خان اور انکے قریبی ساتھیوں سمیت کشمیر کی اعلی قیادت اور انڈیا کے راہول گاندھی کے بھی فون ٹیپ ہونے کا انکشاف ہوا ، ایک اسرائیلی اخیار میں بتایا گیا کہ پیگاسس سوفٹ وئیر کے زریعے دو مرتبہ راہول گاندھی کا فون ٹٰئپ کرن کی کوشش کی گئی۔ جب کہ ہیکنگ کا شکار ہونے والے پچاس ہزار افراد میں سے ایک ہزار کا تعلق انڈیا سے ہے جن میں زیادہ تت صحافی حضرات ہیں.

    اندرون و بیرون ملک سیاسی حریفوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنے اور خفیہ معلومات تک رسائی کے لئے ہیکنگ کا استعمال بہت بڑھتا جا رہا ہے. جس سے سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرارت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں.

    پاکستانی اور انڈین قیادت نے ہیکرز کی غیر اخلاقی حرکت پہ سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ راہول گاندھی نے اس کی مکمل چھان بین کرانے کی پرزور اپیل بھی کی۔۔ جبکہ دوسری طرف مودی حکومت کے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے فون ٹیپ کرنے کا انکشاف انتہائی شرمناک حرکت ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت کے فون ٹیب ہونے کا بھی انکشاف ہوا. پیگاسس پروجیکٹ انوسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر کے 180 سے زائد صحافیوں کے فون کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کل 12 لوگوں نے این ایس او کی خدمات حاصل کیں، تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کے زیر استعمال ایک فون نمبر بھارتی فہرست میں کم از کم ایک دفعہ ضرور رہ چکا ہے ۔ پاکستان کی اعلی عسکری قیادت نے اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پاکستانی کو سائبر وار میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔ فواد چودری اور شیری مزاری کی طرف سے بھی ایسے شرمناک اقدامات کی پرزور مزمت کی گئی ہے اور اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

    ‎@MudassirAdlaka

  • بیٹی کے گھر کے آداب تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    بیٹی اللہ کی دی ہوئی ایسی رحمت ہے جس کی چہچہاہٹ سے گھر کے آنگن میں رونق رہتی ہے. خود سے پیار لیتی اور بھرپور لاڈلی اور محبتوں کے حصار میں رہتی ہے. ایک باپ کے ساتھ اپنی بیٹی کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے انمول ہوتی ہے. لہجہ بھلے سخت ہی لیکن بیٹی کے لیے دل ہمیشہ موم کی طرح نم ہوتا ہے. بیٹی کے بچپن کے لاڈ، پھر تعلیم و تربیت بھر بلوغت کے ساتھ ساتھ اس کی شادی کی فکر باپ کی تگ و دو میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے.
    الغرض ایک باپ اپنی ہمت اور جوانی بیچ کر اپنی زاتی خواہشات کو ختم کر کے اپنے بچوں کا مستقبل خریدتا ہے. لیکن اس سب کے باوجود کائنات کی ہر چیز بھی بیچ ڈالے بیٹی کا نصیب اپنی مرضی کا نہیں خرید سکتا. بیٹی شادی کے ساتھ ہی باپ کی محبتیں اپنے دامن میں لئے اپنے شوہر کے گھر روانہ ہو جاتی ہے. ماں تو آہ و بقا کر لیتی ہے. باپ چپکے چپکے محبت کے آنسو اپنے دامن سے پونچتا ماں کو حوصلہ دیتا دکھائی دیتا ہے. دنیا اس باپ کا مضبوط اور حوصلہ مند کندھا تو دیکھتا ہے اس کے اندر بہتا جدائی کا سمندر کوئی نہیں دیکھ پاتا. اس کے آنگن کی چہچہاہٹ اس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کسی اور کے آنگن میں مسکراہٹ بکھیرنے چل پڑتی ہے. یہ دنیا کا دستور اور قانون قدرت ہے. اپنے چگر کا ٹکڑا کسی کے حوالے کرن؛ اور کسی کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے گھر کی عزت بنانا ازل سے چلا آ ریا قانون قدرت ہے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنمائی فرمائی وہاں ہر رشتے کے آداب بھی سکھاے. بیٹی کے گھر کے آداب بھی سکھاے. نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی جنہیں جنتی عورتوں کی سردار کا درجہ دیا گیا کیسے ان کے ساتھ پیش آتے اس حوالے سے دو واقعات اپنی تحریر کا حصہ بنانا چاہتا ہوں تاکہ ہماری رہنمائی ہو سکے.
    صحیح بخاری میں روایت موجود ہے جس کا مفہوم ہے. ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں فرمانے لگیں بابا جان (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ہاتھ میں چکی چلا چلا کر چھالے پڑ گئے ہیں ابھی مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں اور غلام آئے ہیں ان میں سے ایک مجھے دے دیں. آپ (رضی اللہ عنہا) نے جب ہاتھ بڑھایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں چھالے دیکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاموشی سے دامن میں آنسو سمیٹے اور بیٹی کو تسبیح فاطمہ کا تحفہ دیا اور ساری دنیا کو پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملات میں صبر سے کام لیا جاتا ہے. اور سمجھا دیا کہ بیٹا چکی پھر بھی تم نے پیسنی بچے پھر بھی تم نے ہی پالنے اور شوہر کی خدمت الغرض گھر کے سارے معاملات تم نے ہی دیکھنے ہیں.
    *یہ تو ہے تربیت اہلیبیت بزبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم*
    کہ بیٹی کے گھر کے معاملات میں کوئی کسی قسم کی بھی دخل اندازی نہیں کی. چاہتے تو ایک لونڈی یا غلام دءلے سکتے تھے لیکن ساری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ بیٹی کے معاملے میں صبر اور برداشست سے کام لیا جائے اور اسے اپنے گھر کو خود سمبھالنے کا موقع دیا جاے اور حالات سے خود نمٹنے کا موقع دیا جاے.
    ایک جانب تو ہی پیغام تو دوسری جانب گھر کے آداب دیکھیں.

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ فاصلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر مبارک ہے جس کے کچھ فاصلے پر ایک مسجد منارتین واقع ہے. جو لوگ عمرہ اور حج کے لیے سفر کرتے ہیں اس جگہ سے تقریباً آگاہ ہیں. ہے ترک میوزیم (جو کسی دور میں ترک سٹیشن ہوا کرتا تھا) سے تھوڑا فاصلے پر اسی سڑک کے کنارے واقع ہے. حضور کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ملنے جاتے تو پہلے مسجد میں قیام کرتے اور گھر پیغام بھجواتے جب گھر سے واپس قاصد لوٹتا اجازت مل جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے. تو اس سے دو باتیں واضح ہوئیں.
    *1. بیٹی کے گھر کے راز کسے بھی صورت آپ پر عیاں نا ہو سکیں اسی لیے جب بھی جاؤ اجازت لے کر جاؤ. تاکہ وہ اپنے معاملات کو حل کر سکیں اور بیٹی کا شوہر کا مقام کسی صورت مجروح نہ ہو سکے.*
    *2. بالفرض کسی وجہ سے گھر میں آپسی ناراضگی والا معاملہ بھی ہو تو اس کو دور کرنے کا موقع مل سکے کیونکہ آپسی ناراضگی آپسی سمجھوتے سے ہی حل ہوتی ہے بیرونی مداخلت سے معاملات بگڑ جاتے ہیں*
    کتنی خوبصورتی سے دین نے ہر معاملے کے آداب بتا رکھے ہیں ان دو واقعات سے ہمیں کھلی آگہی ملتی ہے بیٹی کے گھر سے متعلق معاملات میں رہنمائی ملتی ہے.
    اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین

    @EngrMuddsairH

  • وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تحریر : شفقت سجاد دشتی

    وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تھی، میں فیس بک کی تانکا جھانکی میں لگا ہوا تھا کہ میری نظر سے کسی خاتون کی ایک تحریر گزری، میں شاید سکرول کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا، لیکن تحریر کے عنوان نے میرے قدم باندھ دیے، ”وہ کون تھا“ ان کی شاید وہ پہلی نثری تحریر تھی جس کے بیانیے نے مجھے متاثر کیا، نجانے مجھے کیوں اس تحریر میں صاحبہِ تحریر کا عکس نظر آیا کہ جیسے انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی گوشہ حوالہ قرطاس کیا ہو۔۔۔۔۔ پھر میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی تحریریں پڑھنا شروع کر دیں، ہر تحریر مجھے خونِ دل سے سینچی ہوئی لگی، میرا بہت دل چاہا کہ میں ان تحاریر کی خالق سے بات کروں لیکن ہمت ہی نہیں ہوتی تھی، ان کی تحریروں اور تصویروں نے ان کی شخصیت کا ایسا رعب جما تھا کہ میں کئی دن تک بس ان کی تصویر دیکھ کر اور تحریر پڑھ کر خوش ہو لیتا۔ پھر ایک دن ہمت کر کے میں نے ان سے بات کر لی، انہوں نے خوش دِلی سے میری اس جسارت کو قبول کر لیا۔۔۔۔ ان کی کہانیوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ کچھ عرصے بات بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ جس دن میری ان سے بات نہ ہو میرا وقت بے چینی میں گزرتا ہے، میں اپنی اس کیفیت کو کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ عمروں کی تفاوت کے باوجود وہ مجھے اچھی لگتی تھیں۔
    کسی وجہ سے چند دن میری ان سے بات نہیں ہو سکی۔ میں اکثر سوچتا تھا ان کے بارے میں کہ حال میں وہ اتنی من موہنی اور باوقار ہیں تو عین عالم شباب میں کیسی ہوں گی۔؟
    اس کا جواب مجھے ایک رات خواب کی صورت میں ملا
    میں نے خواب میں انہیں دیکھا کہ میں خوابگاہ کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں، کھلی چاندنی میں ایک لڑکی وہاں کھڑی ہے۔ میں خوابگاہ سے باہر نکل گیا۔ مجھے دیکھ کر میں نے آہستہ آہستہ قدموں سے فاصلہ طے کیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھا وہ دراز قد لڑکی سر کو آنچل سے ڈھانکے سر جھکائے کسی ملکہ کی طرح تمکنت کے ساتھ خاموش کھڑی ہے۔ وہ مجھے دیکھی دیکھی سی لگی لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے؟ میں نے پھر بھی اس سے پوچھ لیا ’’کون ہیں آپ اور یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی رہی۔ سفید قمیص اور غرارے میں ملبوس، سر پر مہین جالی کا دوپٹہ، روشن پیشانی، ابروئے خمدار، حیا سے بوجھل پلکیں، رنگت جیسے کسی نے کچے دودھ میں سیندور گھول دیا ہو، عارض پر شفق کی ہلکی سی لالی، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، گویا کلیوں نے کم کم کھلنا ان ہی سے سیکھا ہو۔ صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، حنائی ہتھیلی کہ کبھی اس ہتھیلی میں مصری کی ڈلی رکھ کر پوچھا جائے کہ کون میٹھی تو مقابل سانس لینا بھول جائے۔ آگے کو سینے پر پڑی گندھی ہوئی چوٹی جیسے خزانے پر سیاہ ناگن کا پہرہ۔ میں نے آس پاس چاندنی کو دیکھا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روشنی چاند کی ہے یا اس مہ جبین کی۔ میں مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ اس وقت تو ہوا بھی ساکت تھی کہ خاموشی کی شہنائی نے گویا سہاگ کے سر میں راگ مالکوس چھیڑ رکھا تھا۔ جب سحر ٹوٹا میں نے اپنے پورے حواس جمع کرکے پوچھا ’’آپ! آپ کون ہیں؟ کیا نام ہے آپ کا؟ کہاں سے آئی ہیں؟‘‘۔ میں نے بیک وقت کئی سوال کردیئے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا، پھر بانسری کا ساتواں سر چھڑا ’’ہم! بس ہم ہیں، آپ کوئی بھی نام رکھ لیجئے، کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘‘۔؟ اس نے تحیر سے بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سوچا شاید سوال غلط تھا، لیکن جواب بالکل صحیح ہے۔ حسن بس حسن ہوتا ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نام تو بس ایک شناخت ہے، ایک پہچان، جس کی پہچان سب سے الگ ہو اس کا بھلا نام کیا ہوسکتا ہے۔ جس کے لئے ہر تشبیہ ہیچ ہو اس کا نام کیا ہو۔ ’’پھر بھی، پھربھی! آخر کون ہے یہ‘‘ میں سوچتا رہ گیا اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے اوجھل ہو گئی، جیسے چمبیلی کی خوشبو کو اوس نے ڈھک لیا ہو۔ میں واپس خوابگاہ میں آ کر مسہری پر لیٹ گیا۔ نیند اس وقت پلکوں کی مسہری پر اتر آتی ہے، جب حواس اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن وہ تو جاتے جاتے حواس بھی ساتھ لے گئی تھی، سو نیند بھی روٹھ گئی۔ ابھی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی، شب نے کامدانی کی ردا سر پر ڈال لی کہ کہیں آفتاب کو جھلک نہ دکھلائی دے کہ میں برآمدے میں آبیٹھا۔ ابھی ہلکی ہلکی روشنی سی نمودار ہوئی ہی تھی کہ میں پھر اٹھا اور اس جگہ پہنچ گیا، جہاں رات وہ کھڑی تھی۔ میں نے سوچا شاید کوئی نشان، کوئی پتہ، کوئی سراغ ہی مل جائے، لیکن وہ ایک خواب کی طرح سے آئی اور پلک کھلتے ہی غائب ہو گئی۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
    رات کا خواب فلم کی طرح پردہ بصارت پر اتر آیا۔ اچانک روشنی کا جھماکا سا ہوا، اوہ یہ تو وہی افسانہ نگارخاتون ہیں جنہیں میں ملکہ کہتا ہوں جو دوشیزہ بن کر میرے خواب میں آئی تھیں۔
    میری کفیات اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہیں اس سے قطع نظر بطور افسانہ نگار میں ان کے حوالے سے بس اتنا کہوں گا کہ ملکہ۔۔۔۔۔۔۔! بہت عمدہ لکھتی ہیں، واقعی ان کے ہاتھ میں قلم روشنی بن جاتا ہے، کہیں طلسم تو کہیں خوشبو بن جاتا ہے ، کہیں فراق تو کہیں نغمہ، کہیں راگ تو کہیں تصویر بن جاتا ہے ، کہیں پربت تو کہیں جھرنا، کہیں شیشے کا خواب نگر بن جاتا ہے، ان کے لفظ ایسے ایسے منظر تراشتے ہیں کہ ، بصارت و بصیرت، شمس و قمر کے مقابل آ جاتے ہیں، ایک با وقار ہستی کی با وقار سی تحریریں جگنو بن کر میرے دل میں روشنی کرتی ہیں
    جن کی نادرتشبیہات ‘خوب صورت استعارے‘ نفیس علامتیں اوران گنت تلمیحات نے ایک سماں باندھ دیتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان چھوئے اور ان کہے لفظوں کو ہی روشن کیا ہے ۔یہی لفظ جب موقع و محل کی مناسبت سے جملوں میں ترتیب پاتے ہیں تو ان لفظوں کے جمال کی دوشیزگی نکھرآتی ہے۔

    @balouch_shafqat