Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے ایلون مسک کی آمدنی سے متعلق نئے اعداد شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق ان کی روزانہ کی آمدنی 3.75 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔

    ٹیسلا نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ کمپنی کی آمدنی 2021 کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی کی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر کے 1.14 ارب تک پہنچ گئی ہے۔

    کیلیفورنیا میں موجود کمپنی اپریل سے جون کے دوران ریکارڈ دو لاکھ سے زائد گاڑیاں تیار کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پیر کے روز ٹیسلا کے اسٹاک کی قیمت 676.42 ڈالر فی شیئر تک پہنچ چکی تھی۔

    ٹیسلا کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے ایلون مسک نے ابھی بٹ کوائن کرنسی نہ خریدی ہے اور نہ ہی فروخت کی ہے۔

    بلومبرگ بلینیئر انڈیکس کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ ایلون مسک کی مجموعی مالیت دو برسوں کے دوران 177 بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

    تاہم اب جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے، برقی کاریں اور خلائی راکٹ بنانے والی معروف کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کو دنیا کی امیر ترین شخصیات میں پہلے نمبر پر آنے کے لیے 32 بلین ڈالر کی ضرورت ہے

    جبکہ پہلے نمبر پر اب بھی ایمازون اور بلواوریجن کے بانی جیف بیزوز ہیں، جن کی نیٹ ورتھ 208 ارب ڈالر سے زائد ہے، اور بل گیٹس 151 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

  • ہوس اقتدار اور شریف خاندان  تحریر-سید لعل بُخاری

    ہوس اقتدار اور شریف خاندان تحریر-سید لعل بُخاری

    اقتدار تو آنی جانی چیز ہے،اسکی وجہ سے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں اسی ملک کی بدولت ہیں۔
    اس مُلک نے جتنا شریف خاندان کو نوازا،ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
    فوج نے انہیں گود میں پالا
    اسٹیبلش منٹ کی آنکھ کا یہ تارہ رہے
    مگر اقتدار چھن جانے کے بعد زخمی بھیڑیے کی طرح یہ ملک پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
    اقتدار بھی کسی اور نے نہیں چھینا،بلکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس سے محروم ہونا پڑا
    نہ یہ کرپشن میں پکڑے جاتے اور نہ ہی انکی موجیں کبھی ختم ہوتیں
    مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا
    چور جتنا بھی ہوشیار ہو ایک دن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہچتا ہے۔
    یہی کچھ شریفوں کے ساتھ ہوا۔
    پانامہ کیس نے انکا بھانڈہ پھوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔اب
    کشمیر الیکشن میں شکست انہیں بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی
    مریم کی سربراہی میں اس وقت ایک ایسا گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے ملک کے لئے تباہ کُن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں کو لڑانے کے لئے ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو کشمیر اورپاکستان کو خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف سے دھکیل سکتا ہے
    مگر ان کی بلا سے،
    اگر خاکم بدہن ایسا کچھ ہوا تو ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔
    پوارا خاندان پہلے ہی لندن میں قوم کے پیسے پر عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
    ضرورت پڑی تو مریم بی بی بھی گلاسی اُٹھاۓ رفو چکر ہو جاۓ گی۔
    ان کے لئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لینا بھی کوئ مشکل کام نہیں۔
    جس کی مثال نواز شریف کا 50روپے کے اسٹامپ پر ملک سے فرار ہے۔
    کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے والے ججز نے کبھی سوچا ہے کہ جس بیمارکی زندگی کی گارنٹی وہ عمران خان سے مانگ رہے تھے،اس نے وہاں جا کے علاج کے بجاۓ پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔وہ یا توجاگنگ کرتا ہے یا پاکستان کے دشمنوں سے ملاقاتیں۔
    بات یہاں تک بھی نہیں رُکتی کہ یہ خاندان اقتدار سے دوری کا بدلہ پاکستان سے لے رہا ہے،یہ خاندان تو اتنا احسان فراموش ،کم ظرف اور بے فیض ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوۓ بھی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا تھا
    کون بھول سکتا ہے ان کی وہ سازشیں جو یہ اقتدار میں موجود رہتے ہوۓ اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کرتے تھے۔ڈان لیکس جیسے متعدد واقعات ہیں ،جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی فوج کے بھارت سے زیادہ مخالف تھے اور ہیں-
    ان کے کرتوت کئی دفعہ سامنےآۓ،مگر انہیں کچھ نہ کہا گیا
    پرویز رشید اور مشاہداللہ مرحوم جیسے غلامان کو قربانی کا بکرہ بنا کے انہیں پھر معاف کر دیا گیا
    یہ کہتے ہوۓ ہوۓ کہ چلو خیر ہے ، یہ بچی ہے
    اب وہی بچی ایک بار پھرملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔
    چلیں خیر جانے دیں،اُس کا زکر ہی کیا
    وہ تو بچی ہے ! #

    تحریر سید لعل بُخاری
    @lalbukhari

  • بزرگ

    بزرگ

    بزرگ ہماری دولت اور شہرت کے نہیں بلکہ محبت کے طلبگار ہوتے ہیں بزرگوں کی ہی مرہونِ منت ہمارے گھروں میں رونقیں ڈیروں میں محفلیں ہوتی ہیں بزرگوں کی قدر کرنا خاندانی لوگوں کا ہر دل عزیز شیوا ہوتا ہے

    ضعیف العٔمر بزرگوں کے جذبات کی قدر اور أنکے احساسات کو ترجیح دینے سے بزرگوں کے اندر قدرتی خوشی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے کی بجائے جمِ غفیر کا ساتھی سمجھتے ہیں بزرگوں کی باتیں اکثر وزن کے اعتبار سے قابلِ بھروسہ اور قابلِ قدر سمجھی جاتی ہیں انکی باتوں کو غور سے سننے والا کبھی بھی زندگی کی مشکل روانی میں پریشان نہیں ہوتا جو بزرگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گویہ متوجہ ہی نہ ہو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا

    ہمارے ہاں ایک برگزیدہ بزرگ ہوا کرتے تھے ضعیف العٔمر تھے چلنے پھرنے سے قاصر بڑھاپا انکے انگ انگ میں کوٹ کوٹ کر بھر چکا تھا أس وقت بھی انکے جذبات آج کل کے نوجوانوں سے زیادہ طاقتور تھے کسی بھی مشکل وقت میں اگر ان سے مشورہ لینا ہوتا کسی کی جرآت نہیں تھی انکے آگے کوئی بلاوجہ تمہید باندھیں انکے ساتھ بات کرنے کے لیے قدر آور معتبر شخصیات جاتی اور مشورہ لیتی وہ اس انداز سے مشورہ اور مصیبت کا حل بتاتے تھے کہ پہاڑ جیسے مسئلے کو أن سے مشورہ لینے کے بعد روئی جیسہ مسئلہ لگتا تھا

    ایک دفعہ سڑک پار کرنے کے لیے انہیں کسی سہارے کی ضرورت تھی مجھے کہنے لگے ” پٔتر اے سڑک تے پار کروا چھڈ ‘” میں تیزی سے آگے لپکا سڑک پار کروائی جیب سے 10 روپے نکال کر دیے میں نے کہا یہ کیا انہوں نے بڑے انہماک اور دریا دلی سے جواب دیا جو میرے لیے متاثر کٔن تھا اور اس جملے نے مٔجھے کئی روز زندگی کا مقصد سمجھائے رکھا کہ کسی کا بھی کسی بھی موقع پر حق نہیں کھانا چاہیے جملہ سنئیے
    کہتے
    ” پٔتر تو کیڑا میرا نوکر لگا اے تیرا معاوضہ اے ”

    بظاہر تو میں نے اللہ کی رضا کے لیے سڑک پار کروائی لیکن اللہ کی شان یہ وہ طاقت ور
    جملہ تھا جو ہمارے معاشرے کے لیے سبق آموز ہے کہ کسی کا حق نہیں رکھنا چاہیے چاہیے حالانکہ یہ میرا حق نہیں تھا لیکن جملہ بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا شائید بہت کچھ سمجھا گیا۔

    اردگرد اپنے بزرگوں ضعیف العمر لوگوں کی قدر کیا کریں انکو ترجیح دیا کریں آپکی زندگی صحرا سے گلشن بن جائے گی آپکو اندر سے قیمتی چیز کی خوشی محسوس ہوگی
    یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر اونچ نیچ کو بڑی روانی کے ساتھ گزار کر بزرگ بنتے ہیں
    زندگی کے ایک ایک لمحے کو ان لوگوں نے پرکھا ہوتا ہے دورانِ بزرگی بڑے پر اثر طریقے اور قدر دانی کے ساتھ اپنے اللہ کو راضی کرتے ہیں یہ بزرگوں کا زوق و شوق ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک ایک منٹ کو بغیر ضائع کیے اللّٰہ کی یاد میں گزار دیتے ہیں

    شائید غالب امکان یہی ہے کہ آج کل کے بزرگ زندگی کی آخری پیڑی ہو انکی قدر کریں انہیں حوصلہ دیں انکے ساتھ چند منٹ بیٹھ جایا کریں زندگی میں فائیدہ ہوگا انکو راحت محسوس ہوگی
    چشمِ فلک اور وقت نے بہت کچھ دیکھا شائید اب کی بار چشمِ فلک انسان کو "بزرگ” نہ دیکھ سکے
    کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے جو کہ بزرگ بننے سے پہلے ہی انسان منوں مٹی تلے چلا جائے گا۔
    شعر ہے کہ
    اے چشمِ فلک اے چشمِ زمیں
    ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں دو چار گھڑی کا سپنا ہے

    @Talha0fficial1

  • دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    دوہرا میعار تحریر: سجاد قمر

    ﷲ سبحانہ و تعالی کا روحِ عرض پر ایک اصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم اس (ﷲ)کے دئیے ہوئے مہم/راستے پر نہیں چلی اس(ﷲ) نے اس قوم کو تباہ کر دیا یا اس سے اپنی رحمت کے سائے اُٹھا لیے اور ان کو کھلی چھُوٹ دے دی گئی کہ جو کرنا ہے کرو ایک دن میری ہی طرف پلٹ کر آؤ گے۔ چھ سو سال حکومت کی عربوں نے اور بلاآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پھر رحمت کے سائے ترکوں کے حصے میں آئے پھر برصغیر پر پڑے اور ستائیسویں رات یعنی شبِ قدر کو پاکستان ایک تحفہ کی صورت میں نازل ہوا۔ دنیا میں آزادی کی بہت سی تحریکیں چلی، کوئی عرب قومیت پر، کوئی نسل اور رنگ پر لیکن تحریک پاکستان وہ واحد تحریک تھی جو اسلام کے نام پر چلی کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ یہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بنا، آج اسی میں رہنے والے مسلمان صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اس ملک کو ﷲ سبحانہ و تعالی نے خاص مقصد کے کیے ہمیں تحفہ میں دیا لاکھوں مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملنے والے ملک میں ہر جگہ دوہرا میعار پایا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والا ہر شخص اپنے چند ٹکے کے فائدہ کے لیے اسلام مذہب، دین، ایمان، قانون اور ریاست کا نقصان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہاں ایک گلی محلے سے لے کر گاؤں شہر اور پھر صوبوں میں بھی نسلی تناسب عام ہے اسلام تو دور انسانیت کی بھی قدر نہیں۔ آج کل ہر جگہ سیاست چل رہی ہے وہ گھر ہو یا رشتہ دار، گاؤں ہو یا شہر، صوبہ ہو یا ملک۔ یہاں ایک پڑھے لکھے انسان کو ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ملازمت حاصل کرنے کے لیے لیکن ایک ان پڑھ جاہل چور ڈاکو وزیراعظم تک بن جاتا ہے۔ ہر ایک بندہ خود کو ایک اسلامی مذہبی مان کرکے دوسروں کو کافر یہودی ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ عوام ایک پڑھے لکھے یا مذہبی بندے کو ووٹ نہیں دیتی اور چور ڈاکو ، کرپشن سے بھرپور کو وزیر تک بنا دیتی ہے۔ ایک وقت کی روٹی چرانے والے کو مار مار لہولہان کر دیتی ہے اور اربوں چوری کرنے والوں کے نام کے نعرے لگتے ہیں۔ کسی محکمے میں ایک ایماندار آفیسر آنے سے سارے کرپٹ آفسران اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کا حق تو دور کی بات ہے اپنے ہی گھر کے افراد اور رشتہ داروں کا حق کھانا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہر چیز میں ملاوٹ کرنے کی عادت کو دن بدن بڑھاتے ہیں اور الزام اپنے ہی چُنے ہوئے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ اپنی پسند کی چیزیں اقتدار مل جائے تو ٹھیک ورنہ اسلام کیا ریاست کیا ہر ایک کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے والے ملک ہونے کے ساتھ ہم بےایمانی میں سب سے اُوپر ہیں۔ اس میں کسی کافر، یہودی اور عیسائیوں کا عمل دخل نہیں بلکہ اپنا ہی دوہرا میعار ہے جو ہم کو ہمارے کردار اور عادات پر پردہ ڈال کر صرف دوسروں کی خامیوں کو دیکھنے اور پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج کل پاکستان میں رہنے والے پاکستانی اور مسلمان کم پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان زیادہ نظر آتے ہیں۔ بشتر افراد سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کسی بھی ملک و ریاست کی سلامتی، امن و امان میں کلیدی کردار صحافت اور میڈیا کا ہوتا ہے جب کہ آج کل میڈیا بھی سیاست زد میں آیا ہوا ہے۔ یہ نہیں کہ سب ہی ایک طرح کے ہیں بہت سے صحافی آج بھی دن رات محنت کرکے ریاست، اسلام اور عوام کے مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب عوام کو سوچنا کہ ہمیں خود کو ٹھیک کر کے ایک اچھے مسلمان اور پاکستانی بننا ہے تاکہ ہم سے جو ﷲ نے بحثیت قوم کام لینا ہے وہ بھی کر سکیں اور دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے آخرت بھی سنور سکے۔ @SajjadHQamar

  • آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر:  فائزہ خان

    آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر: فائزہ خان

    آزاد کشمیر کے کل کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ بظاہر میک اپ شدہ ڈمی کو لوگ دیکھنے تو آ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ اسی کو دیں گے جن کی زبانوں سے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں۔ جن کے وعدوں پر انہیں یقین ہے۔ جن کی بیانیہ مضبوط ہیں
    کشمیری جو اپنے فوجی جوانوں پر جان دیتے ہیں انہوں نے نون لیگ کا بنیادی بیانیہ ہی مسترد کر دیا۔ اداروں کے خلاف زبان چلانے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے نون لیگ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    کشمیریوں نے بدلے کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا
    علی امین گنڈا پور کے صرف اتنا کہنا کہ مریم نے سرکاری خرچہ سے پلاسٹک سرجری کرائی انہیں کشمیر سے دیس نکالا دے دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نون لیگ کی حکومت تھی تو سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بدلے کی سیاست کا کھیل کھیلا گیا مگر کیا فائدہ ہوا کشمیریوں نے ان کا یہ کھیل بھی مسترد کر دیا
    جبکہ بلاول کو این الیکشن کی کمپین کے دوران امریکہ جانا زیادہ ضروری لگا صرف امریکہ کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کرتے ہمیں استعمال کرو ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں ایک ایسے وقت میں امریکہ جانا بھی مہنگا پڑا۔ اور آصفہ بھٹو نے پیچھے سے دو ناکام جلسیاں کرکے ان کے الیکشن میں جیتنے کی ہر امید پر پانی پھیر دیا مریم اور بلاول نے اپنی پارٹیوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کشمیر میں الیکشن صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں جیتا گیا بلکہ مریم اور بلاول کی پچگانہ حرکتوں نے بھی پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ دی اور جیتنے میں مدد فراہم کی
    اس بار آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران بہت گہما گہمی نظر آئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے اسی سلسلے میں بہت سے بیانات بہت سخت بھی دے دیے گئے تھے تینوں بڑی پارٹیوں نے ان انتخابات میں گہری دلچسپی بھی لی اور آخری وقت تک اپنے آپ کو ہی فاتح قرار دیتے رہے مگر نتائج وہی برآمد ہوئے جو عمران خان کے جلسے میں آنے والی عوام سے ظاہر تھے دیکھا جائے تو مریم کے جلسے میں بھی عوام کم نہ تھے مگر نتائج نے ثابت کیا کہ عوام بس سجی سجآئی ڈمی کو دیکھنے آتے تھے ورنہ وہ عمران خان کے بیانیہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاص مماثلت رکھتی ہے
    اس سے پہلے کی حکمران جماعتیں کشمیر کے عوام کو الگ حیثیت دینے کو تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کہہ کر کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنی علیحدہ حیثیت رکھنا چاہتے ہیں کشمیریوں کا دل جیت لیا اب دعا یہ ہے کہ عمران کشمیر کی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز کس طرح ان کے اس مشن کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں

    @_Faizakhann

  • نامحرم سے دوستی۔ تحریر:  نصرت پروین

    نامحرم سے دوستی۔ تحریر: نصرت پروین

    ایک نامحرم کبھی دوست نہیں ہوتا گڑیا
    وہ قبر کا سانپ ہوتا ہے یا جہنم کا انگارہ
    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک دل دہلا دینے والا سبق آموز واقعہ پیش آیا جس نے ہر سننے والے کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ ظاہر جعفر نامی ایک شخص اپنی نامحرم دوست "نور مقدم” کو اپنے گھر قید کر لیتا ہے۔ وہ بھاگنے کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اسے بہیمانہ طور پہ قتل کر دیتا ہے اسکا سر تن سے جدا کر دیتا ہے۔ اسطرح کے واقعات آئے روز پُر تشددقتل یا خودکشی وغیرہ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور مجرم اکثر متمول گھرانوں سے وابستگی کے باعث کیفرِ کردار نہیں پہنچ پاتے۔ اگر ایسے مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہ دی گئی تو جرائم کی روک تھام نہ ہو پائےگی۔ یہ واقعہ جہاں معاشرے کے تمام والدین کے لئے ایک نصیحت آموز درس ہے وہاں ایک بیٹی کو بھی ضرور عبرت حاصل کرنی چائیے تاکہ وہ ایسے لرزہ خیز نتائج کی زینت نہ بن سکے۔
    ‏دوستی ایک بہت پیارا انمول رشتہ ہے لیکن نا محرم سے دوستی نفس، ملمع کی ہوئی باتوں اور خواہشات کا دھوکہ ہے۔ اور قطعا حرام فعل ہے ۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان دوستی نام کا کوئی رشتہ نہیں۔نامحرم سے دُوستی شیطان سے دوستی کے مترادف ہے اور شیطان سے دوستی انسان کو جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتی ہے۔

    الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:

    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
    (سورہ الأحزاب: 32)
    الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا۔ غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کا۔
    علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی!”
    [ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
    الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی۔ تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے۔ آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبت نکاح سے پہلے چاہے زم زم سے دھلی ہو یا قرآنی آیت سے دم کی گئی ہو گمراہی ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، حرام ہے۔
    ایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گے۔ پھر تو پہاڑوں کے برابر کی گئی نیکیاں بھی ان پوشیدہ گناہوں کے سبب راکھ بن جائیں گی۔
    یہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی؟
    حالانکہ چھپکلی اور لال بیگ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن ایک غیر محرم آپکی روح، آپکےجسم، آپکی پاکدامنی، آپکی عزت، آپکا حسب نسب، آپکے والدین کا آپ پر اعتبار اور حتی کہ آپکی آخرت بھی برباد کر سکتا ہے۔
    یاد رکھئے گا کہ دوستی کا رشتہ گناہ نہیں ہے لیکن الله کی حدود کو پھلانگ کر غیر محرم سے دوستی گناہ ہے۔
    تو اس گناہ سے بچ جائیے۔
    جزاکم الله خیرا کثیرا
    @Nusrat_186

  • خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک   تحریر:یاسرشہزادتنولی

    خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    قلم جب جب اٹھے گا
    سیاہی سچائی کی ہوگی
    میں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کی تمام بہاریں دیکھی ہیں۔اللہ نے خوشیاں دی تو سنبھالی نہ گئیں تو دوسری طرف دکھوں کا ایک سمندر بھی برداشت کیا۔میرے کاندوں نے باپ کے جنازۓ کو اٹھایا ۔مگر دل اس قدر افسردہ اور خون کے آنسو نہیں رویا یوں سمجھے کہ آج صبح کے واقعہ کو دیکھنے کا موقع ملا تو خون کے آنسو بھی خشک ہوگئے۔میں نے آج تک اس قدر رونما ہوا واقعہ کو نہیں دیکھا۔کل حسب عادت گھر سےمانسہرہ پریس کلب جانے کے لئے ۹ بجے گھر سے نکلا اور گاڑی میں سوار ہوا مسافر چڑھتے گئے کیری ڈبہ میں چلنے والی قوالیوں نے ایک سحر باندھ دیا۔میں اسی میں غرق تھا کہ اچانک میری نظر سڑک پر بیھٹے اس بچہ پر پڑی جو گردن جھکائے دنیا و جہاں سے بے خبر تھا وہ شین باغ بفہ کی سڑک کے بیچو بیچ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا اور ٹریفک کا ہجوم،لوگوں کی چلنے کی آہٹ،گاڑیوں کا دھواں،سب سے بڑھ کر وہ ایک زندہ لاش کی مانند تھا اسے یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اس کے کپڑے کہا ں کے کہاں جا رہے ہیں۔اس کی عمر۱۲سے ۱۳ سال تھی،چہرہ جھکا ہوا ہونے کے باوجوداس کی گوری رنگت کو ظاہر کر رہا تھا بال کلر میں رنگے ہوئے تھے اور گولڈن کلر صاف واضح ہورہا تھا۔

    وہ ہیروئن کے نشے میں دھت تھا۔میں نے ہیروئن کے نشے میں دھت بہت سے نوجوان دیکھے ہیں جوکہ پکھل مانسہرہ کے مختلف ایریا میں پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کوئی نشے کی حالت میں کھڑے کا کھڑا رہے گا گھنٹوں، تو کوئی سر جھکائے سجدے کی حالت میں ساکن جسم کے ساتھ دکھائی دے گا،کسی کو اتنا ہوش تک نہیں ہوتا کہ وہ کچرے میں پڑا ہوا ہے اور مکھیاں اس کے گر د چکر لگا رہی ہیں اور وہ اس بدبو دار کچرے کو نرم بستر سمجھ کر سو رہا ہوتا ہے۔بات ہو رہی تھی اس بچہ کی اسے اس حالت میں دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی وہ کس گھر کا ہوگا،کس کے گھر کا چراغ ہوگا،کس ماں باپ کا بیٹا ہوگا،کس بہن کا بھائی ہوگا یا پھر یتیم۔۔۔۔
    کیری ڈبہ میں سوار تمام لوگوں نے استغفار کہا اور میری آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے رومال سے اس دنیا سے ایسے چھپایا جسے وہ میرا کوئی اپنا ہو اور اس کے لئے دل سے خون کے آنسوں جاری ہوگئے ہو۔اسی وقت میرے دل سے ایک بد دعا اس وقت کے حکمراں ضیاء الحق کے لئے نکلی کہ جس نے اس غلیظ وباء کو افغان روس وار میں پاکستان میں داخل کیا آج اس انسان کی اس حرکت کا خمیازہ میری نسل کے میری قوم کے نوجوان ہی نہیں بچے،بوڑھے،جوان مرد و عورت سب ہی بھگت رہے ہیں ہمارے ملک کے ہونہار،نونہال اور مستقبل کے چمکتے ستارے اس نشے میں لگ کر اپنی دنیا برباد کر رہے ہیں۔اس نشے کو پروموٹ کرنے والوں تمھاری نسلیں بھی اس میں مبتلا ہوں گی جب معلوم ہوگا کہ قبر کا حال مردہ جانے۔۔۔۔۔
    اللہ پاک میرۓ پیارۓ پاکستان کے مستقبل ستاروں کو اس موذی نشے کی عادت سے چھٹکارا عطاء فرماۓ۔آمین
    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    سال کے 365 دن میں سے 300 دن سونے والا شخص

    بھارتی ریاست راجستھان کے 42 سالہ پُرکھا رام سال کے 365 دن میں سے تقریباً 300 دن سوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام کو ایسی انوکھی بیماری ہے جو ایک ارب لوگوں میں سے صرف ایک ہوتی ہے، یعنی اس وقت زیادہ سے زیادہ بھی ہوئے تو دنیا میں پُرکھا رام جیسے صرف 7 لوگ ہوں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پُرکھا رام کو 23 سال پہلے اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی جب وہ سونے کے لیے لیٹتے ہیں تو 20 سے 25 دن مسلسل سوتے رہتے ہیں اس دوران اُنہیں جگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

    اس مرض کی علامات میں شدید سر درد اور تھکان شامل ہیں یہ بنیادی طور پر ایک نفسیاتی بیماری ہے لیکن کچھ کیسز میں یہ دماغ میں رسولی ہونے یا چوٹ لگنے سے بھی ہو جاتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پُرکھا رام اور اُن کے گھر والے اس اُمید میں جی رہے ہیں کہ اس بیماری کا علاج دریافت ہوجائے اور اُن کی زندگی معمول پر آسکے۔

    جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا علاج تبھی ممکن ہے جب اس کی بنیادی وجہ معلوم ہو سکے۔

  • عمران خان ، مافیا اور عوام۔  تحریر :احسن وقار خان

    عمران خان ، مافیا اور عوام۔ تحریر :احسن وقار خان

    ہم روز مافیا کا لفظ استعمال کرتے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ مافیا اتنا طاقتور بنا کیوں ؟
    ہم مافیا کو پاکستان کی بربادی کا سبب تو قرار دیتے ہیں لیکن کبھی خود اس مافیا کے خلاف کھڑے ہوۓ؟
    ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملے گا ۔
    اگر آج کا مافیا اتنا طاقتور ہے تو اس کی قصور وار عوام خود بھی ہے ۔
    ایک طرف غریب عوام مافیا کو گالیاں نکالتی ہے تو دوسری طرف خود یہی عوام اگر اس مافیا کو کچھ کہو تو اس مافیا کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔

    پاکستانی عوام کی سوچ روٹی کپڑے اور مکان سے شروع ہوتی ہے اور دکھ سکھ میں شرکت سے ہوتی ہوئی گٹر کی صفائی ، نالیاں اور روڈیں پکی کرنے پر پورا ہو جاتی ہے ۔

    افسوس کی بات یہ ہے کے ہمارے پیارے پاکستان کی ایک ایسی جماعت نے تین دفعہ حکومت کی۔ جس نے نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان “کا لگایا لیکن بیرون ملک ”مسٹر 10 پرسنٹ“ کے نام سے مشہور رہی۔
    اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کہ کیوں اس جماعت کو سپورٹ کرتے ہو ؟ تو ان کے پاس بس ایک ہی جواب ہوتا ہے ۔””۔۔بھٹو لیڈر تھا اس لیے سپورٹ کرتے ہیں““۔۔ ان سپوٹروں کو نا پاکستان کی تصویر بیرون ملک خراب ہونے کی فکر ہے نا پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے پر اس جماعت پر غصہ ۔۔۔۔۔۔بس فکر ہے تو اس مردہ بھٹو کی جس نے پاکستان کو تقسیم کر دیا ۔

    اس جماعت کے چوروں ڈاکوں پر ہاتھ ڈالو تو یہی عوام جو روتی ہے ان کی خاطر ان کو بچانے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے تو مافیا طاقتور کیوں نا ہو ۔؟

    اب آتے ہیں دوسری جماعت کی طرف جس کے لیڈر کو عدالت عظمٰی کی طرف سے”” سسیلہن مافیا ““کے لقب سے نوازا گیا لیکن وہ جناب آج بھی کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”مجھے کیوں نکالا “؟؟اور پھر یہی عوام تالیاں مارتی ہے ۔
    حمزہ شہباز کہتا ہےکہ
    ” کرپشن تو ہوتی رہتی ہے“ـ
    مریم نواز کہتی ہے
    ”” میرے باپ کو جان کی گارنٹی دو پھر پاکستان آۓ گا““
    اس شخص کو پاکستان آتے ڈر لگتا ہےجو پاکستان کا تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہے۔
    سب سے بڑا مافیا اس جماعت میں ہے لیکن طاقتور ہے عوام کی طاقت سے۔اس مافیا کو پتا ہے ہم جو مرضی کریں یہ عوام ہماری حفاظت کے لیے باہر نکل آۓگی ۔
    اس جماعت کے سپوٹروں سے پوچھو کیوں سپورٹ کرتے ہو تو کہیں گے کہ اس نے موٹر وے بنائی اس نے روڈیں بنائیں۔
    کوئی مجھے یہ نہیں بتاتا کہ کیا روڈیں بنانے سے ان کے گھر کا چولہا جلے گا ؟؟؟؟؟۔

    اب آتے ملک کی تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف جو تعلیم ، روزگار کے نعرہ کے ساتھ 2018 میں اقتدار میں آئی جس کا سربراہ عمران خان آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرتا ہے ۔کشمیر کا سفیر بن کر”” کلمہ حق ““بلند کرتا ہے ۔
    جو روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے پر عمل کرتے ہوۓلنگر خانے بھی چلا رہا ہے اور سستے گھر بھی بنا کر دے رہا ہے ۔
    روڈیں اور پل بھی بنا رہا ہے
    صرف اتنا نہیں ملک میں بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
    بہت سی کمپنیاں کارخانےلگا رہی ہیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گا ۔لیکن عوام کو یہ سب ایک رات میں چاہیے ۔
    اس عوام کو سمجھنا چاہیے کارخانے، فیکٹریاں اور ڈیم ایک دن میں نہیں بنتے ۔انھیں وقت درکار ہے ۔
    عوام کو سوچنا چاہیے کے اسے کس کو سپورٹ کرنا ہے ایک ایسے شخص کو جس کی وجہ سے ہر شخص کا سر فخر سے بلند ہو رہا ہے ۔ایک ایسا شخص جس کے آنے کے بعد پاکستان ہمیشہ سامنے کھڑا رہتا ہے ۔جس شخص کی وجہ سے اب تمام اہم معاملات میں پوچھا جاتا ہے ۔
    وہ شخص جو اقوام متحدہ میں” کلمہ طیبہ“ یہودیوں کے سامنے سر بلند کرتا ہے ۔جو شخص پاکستان کو دن رات محنت کر کے اندھیرے سے اجالوں میں لا رہا ہے ۔
    یا دوبارہ اس مافیا کو سپورٹ کرنا ہے جس نے پاکستان کو لوٹنے کی سوا کچھ نہیں دیا ۔

    خدارا!!!
    تمام پاکستانی سب سے پہلے پاکستان کا سوچیں ۔کبھی کسی کرپٹ کے بازو نا بنیں ۔
    سب سے پہلے پاکستان کو رکھیں ۔
    پاکستان زندہ باد

    @KhanKh23151672

  • اسلامی احکامات اور لبرلز   تحریر : تقویٰ نور

    اسلامی احکامات اور لبرلز تحریر : تقویٰ نور

    دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. جو زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے.انسانی زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل قرآن پاک میں موجود نہ ہو. قرآن پاک میں ہر چیز کے متعلق احکامات موجود ہیں. ہر نیک عمل کا اجر اور ہر گناہ کی سزا بتا دی گئی ہے اور اہل ایمان کو بار بار ان احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی تاکید کی گئی ہے.

    دنیا کی تاریخ میں پاکستان واحد ملک ہے جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا. پاکستان کے بانی رہنماؤں نے اس کے قیام کے دوران ہمیشہ پاکستان کو اسلامی احکامات کے مطابق چلانے کے عزم کا اظہار کیا. لیکن آج کے پاکستان میں جب بھی اسلامی احکامات یا سزاؤں کی بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ جو کہ اپنے آپ کو لبرلز کہتے ہیں اس کے خلاف کمپین شروع کر دیتے ہیں.

    مثال کے طور پر اگر خواتین کے پردے کی بات کی جائے تو قرآن پاک میں متعدد مقامات پر عورت کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ دنیا کی غلیظ نظروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے. لیکن لبرلز اسے عورت کے حقوق کا استحصال کہتے ہیں حالانکہ جتنی آزادی اسلام نے عورت کو دی ہے اتنی دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دی. افسوس صد افسوس کہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے اور خود کو لبرلز ثابت کرتے یہ لوگ نہ صرف پردے کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ اپنی حرکات سے اللہ کے اس حکم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں.

    اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زنا کے بڑھتے ہوئے واقعات قابل تشویش ہیں.اگر مرد و عورت اسلامی احکامات پر عمل کریں. اول تو یہ واقعات ہوں ہی نا اور دوسرا اگر مجرموں کو اللہ کی نافذ کردہ سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تو ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے.. لیکن یہاں پھر وہی لبرلز، غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی تنظیمیں اور این جی اوز شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور اسلامی سزا کو( معاذ اللہ) ظلم سے تعبیر کرتے ہیں.

    مختصر یہ کہ خود کو ماڈرن اور لبرلز ثابت کرنے کے چکر میں یہ لوگ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی برباد کر رہے ہیں کیونکہ نجات تو اسلامی احکامات پر عمل کرنے میں ہی ہے.
    @TaqwaNoorPTI