Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ‏عنوان : ایسا کیوں؟؟  تحریر : شاہ زیب

    ‏عنوان : ایسا کیوں؟؟ تحریر : شاہ زیب

    یہ میرا ہی تجزیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے اور بالکل سچ ہے
    پاکستانی تاریخ میں نواز شریف تقریباً سب سے زیادہ وقت اقتدار میں براجمان رہے لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان بھی نواز شریف نے ہی پہنچایا
    پہلے تو پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ایسا لوٹا کہ ایک لوہار کے بیٹے صرف چار سال کی عمر میں اربوں روپے کے مالک بن گئے
    اور صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان سے باہر لندن میں مہنگے ترین علاقے میں فلیٹس کے مالک نکلے
    نواز شریف نے ان کا جواز پاکستانی سپریم پارلیمنٹ میں یہ دیا کہ میرے والد ایک معروف انڈسٹریلسٹ تھے جن سے وراثت میں ہمیں اتنی جائیداد ملی
    دوسری طرف بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ
    شہباز شریف نے بھی اسی ایوان میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں ایک غریب کسان کا بیٹا ہوں جو اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچا
    اب نواز شریف اور شہباز شریف دونوں سگے بھائی ہیں
    لیکن دونوں کا باپ کے بارے میں اختلاف ہے جو پاکستانی عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے
    نواز شریف سے معصوم سمجھے جانے والے شہباز شریف کی داستانِ کرپشن دیکھی جائے تو موصوف ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے
    درجنوں ملازمین اور نامعلوم پاپڑ والے/ ٹھیلے والے وغیرہ وغیرہ کے اکاؤنٹ سے ان کی رقم نکل رہی ہے
    یہاں تک کہ ان کے ذاتی اکاؤنٹس سے بھی اربوں روپے کی رقم نکل رہی ہے
    پوچھنے پر ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمیں نہیں پتا کہ ہمارے اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرتا رہا
    الغرض ان کی کرپشن کی داستانیں ایسی مشہور ہیں کہ یہ خاندان کرپشن میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے اور ان کی پارٹی مسلم لیگ نواز دنیا میں دوسرے نمبر پر 🙏
    نون لیگ اور پیپلز پارٹی بدل بدل کے باریاں لیتے رہے اور ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے کے میں آپ کے حلق سے پیسے نکال لوں گا اور میں آپ کو لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا لیکن یہ صرف بیان بازیاں تھیں لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے
    پانامہ لیکس وکی لیکس میں ان کی ہوشربا کرپشن کے انکشافات کیے گئے
    2018 کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے ان کو مزید ایکسپوز کیا جس کے بعد ایک نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا جن میں ان کی اصلیت عام عوام تک پہنچی
    جس کے بعد یہ جماعت عوام میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھونے لگی
    نواز شریف حسبِ سابق جیل کے ڈر سے مختلف بیماریوں کا بہانہ بنا کر پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا پارٹی کی کمان ظاہری طور پر شہباز شریف اور عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں آ گئی
    مریم نواز کے عمران مخالف بیانات پاکستان مخالفت کا روپ دھارتے گئے
    حتی کہ جو پاکستان کے خلاف کوئی بات کرتا ہے یہ محترمہ ان کے حق میں بیان کرتی نظر آتی ہیں
    یہ پارٹی شروع سے فوج محالف تو رہی ہی ہے اب پاکستان مخالفت میں بھی کوئی شک نہیں رہا
    نواز شریف واحد پاکستانی سابق وزیراعظم ہیں جن کا بیان پاکستان ہی کے خلاف عالمی عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا
    انڈیا امریکہ اور اسرائیل جیسے بد ترین دشمن بھی پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں تو یہ ان کی حمایت کرتے ہیں
    آخر ایسا کیوں؟؟
    کیا وجہ ہے؟؟
    مریم نواز کے آنے سے پارٹی کی جو تباہی ہوئی سو ہوئی پاکستان کی بھی دنیا میں بدنامی ہوئی
    اور ان محترمہ کو کوئی پچھتاوا بھی نہیں بلکہ الٹا مزید یہ کھل کر پاکستان کے خلاف بول رہی ہیں
    وجہ صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہے اور کچھ نہیں 🙏
    اقتدار میں آ کے یہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اس کا مشاہدہ آپ ان کے گذشتہ ادوار سے بخوبی لگا سکتے ہیں
    دنیا کے مہنگے ترین منصوبے انہوں نے پاکستان میں شروع کیے کس لئے؟؟ صرف اور صرف بھاری کمیشن کی غرض سے
    اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آیا کنٹریکٹر اصل میٹریل استعمال کر رہا ہے یا ناقص
    اورنج ٹرین کے منصوبے کو دنیا کا مہنگا ترین منصوبہ قرار دیا گیا ہے
    مہر 27 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط اورنج ٹرین پر جتنا پیسہ لگایا گیا اس سے لاہور تا کراچی مکمل نیا ریلوے ٹریک بچھایا جا سکتا تھا
    یا پورے پاکستان میں ہسپتالوں کا ایک بہترین نظام بنایا جا سکتا تھا
    یہی حال میٹرو بسوں کا ہے جو کہ ادھار پر لی گئیں اور ان پہ لاگت بھی ہم پاکستانی عوام افورڈ نہیں کر سکتے
    کیا اب بھی ہم بحیثیت پاکستانی اس کرپٹ لیگ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں ؟؟
    یقیناً نہیں
    کیوں کہ ہمیں پاکستان اور پاکستان کے وسائل عزیز ہیں ہم ایک بہترین قوم ہیں جو کم ترین بجٹ کے باوجود دنیا کی بہترین فوج رکھتے ہیں واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے عالم اسلام میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں دنیا میں ایک نمایاں جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں ہر موسم اور ہر طرح کا خطہ ارض رکھتے ہیں
    وسیع معدنی ذخائر اور ہر طرح کے پانیوں کی سرزمین کے باسی ہیں الحمدللہ
    دشمن پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی افادیت سے بخوبی واقف ہے
    اور اس کی نظر میں یہی چیزیں سب سے زیادہ کھٹک رہی ہے
    دشمن نے پاکستان کی سرزمین کو نقصان پہنچانے کی خاطر پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جس سے نواز شریف جیسے لوگوں کو خرید کر اپنی مرضی کے کام کروائے افغانستان کے ذریعہ پاکستان میں امن کو نقصان پہنچایا اور بلوچستان میں کئی نام نہاد تحریکیں چلوائیں کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچایا
    پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی اس جنگ میں بے مثال فتح حاصل کی اور اب اس فتح کو برقرار رکھنے میں پاکستانی عوام کا کردار نہایت اہم ہے.
    ہمیں چاہئے کہ اپنے ووٹ کی طاقت ان پاکستانی رہنماؤں کے لیے استعمال کریں جو پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں پاکستان کو لے کر چلتے ہیں نہ کہ دشمنوں کو مضبوط کریں
    پاکستان ہمارا ہے اور فرمانِ قائد کے مطابق "دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی”

  • مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قباء ۔ مدینہ منورہ تحریر: محمد آصف شفیق

    مسجد قبا ء اسلام کی اولین مسجد جس کی بنیاد نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی سب سے پہلا پتھر نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اس کے بعد ایک ایک پتھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے رکھا ، آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے بڑھ چڑھ کر مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ،یہ مسجد کلثوم بن ہدم کی زمین پر قائم کی گئی
    ہمارے پیارے نبی ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے جہاں اہل مدینہ نے آپ ﷺ کا استقبال کیا اور آپ ﷺ نے آرام فرمایا وہ جگہ قباء تھی اور اسی جگہ مسجد قباء کی تعمیر ہوئی قباء محلے میں ہونے کی وجہ سے مسجد کو مسجد قباء کا نام دیا گیا ہے ،مسجد قباء 8 تا 11 ربیع الاول 1 ھجری میں تعمیر کی گئی
    مسجد قباء مدینہ منورہ کے جنوب میں کم و بیش 5 کلومیٹر پر ہے شروع شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، جب تحویل کعبہ کا حکم آیا تو نبی کریم ﷺ بنفس نفیس قباء تشریف لائے اور قبلہ کا تعین فرمایا ،مسجد قباء کے ساتھ ہی ایک کنواں ہے جو کہ ابو ایوب انصاری ؓ کے نام سے مشہور ہے ، اس مسجد کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 108 میں کچھ ایسے آیا ہے
    لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ١٠٨؁
    جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں ۔(108سورۃ التوبہ )
    مسجد قباء کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قباء سواری پر اور پیدل بھی جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 898
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ہفتہ قباء تشریف لاتے تھے اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ہفتہ قباء تشریف لے جاتے تھے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 902

    اہل قبا ء کی شان میں نازل ہونے والی آیت

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آیت فیہ رِجَال یُّحِبُّونَ اَن یَّتَطَھّرُوا وَاللہ یُحِبُ المُطَّھِّرِین (یہاں کے لوگ ایسے ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی خوب پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہیں اہل قباء کے بارے نازل ہوئی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ قباء کے لوگ (ڈھیلوں سے استنجے کے بعد) پانی سے طہارت حاصل کیا کرتے تھے اور اسی بنا پر یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی۔سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 44

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قباء میں کبھی پیدل تشریف لاتے اور کبھی سوار ہو کر ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں آ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 275

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا اس طرح ہے جیسے کسی نے عمرہ ادا کیا۔جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 311

    حضرت اسید بن ظہیر جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد قباء میں (پڑھی گئی) ایک نماز (ثواب میں) عمرہ کے برابر ہے ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1411حضرت سہل بن حنیف بیان فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اپنے گھر خوب پاکی حاصل کرے پھر مسجد قباء آ کر نماز پڑھے اس کو عمرہ کے برابر اجر ملے گا ۔سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1412
    عمرہ اور حج کیلئے آنے والے ہوں یا محنت مزدوری کیلئے موجود افراد جو بھی مدینہ منورہ پہنچتا ہے اسکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ مسجد قباء میں حاضر ہو اور دورکعت نماز ادا کرکے عمرہ کا ثواب حاصل کرے ، مجھے بھی الحمد اللہ گزشتہ 17 سالوں میں بکثرت یہ سعادت حاصل رہی جب تک ریا ض مقیم رہا تو واپسی پر مسجد قباء بچوں سمیت نماز ادا کرنے پہنچا کرتا تھا اب جبکہ اللہ رب العالمین نے اپنے فضل و کرم سے رزق کا بندہ بست جدہ میں کردیا ہے تو اب ہر دفعہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی پہلے مسجد قباء پہنچتے ہیں عیدوں کا موقع ہو تو گاڑی وہیں پارک کرکے مسجد نبوی ﷺ جاتے ہیں اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں جتنا ممکن ہو وہاں رکتے ہیں اور پھر بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے واپس آجاتے ہیں جو سکون مسجد نبوی ﷺ میں پہنچ کر ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے ،
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ آپ سب مسلمان بہن بھائیوں کو جلد ان دونوں مساجد میں حاضر ہونے اور عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العامین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • قلم کا ادب   حُسنِ قدرت

    قلم کا ادب حُسنِ قدرت

    قرآن پاک میں جہاں علم کا ذکر آیا ہے وہیں قلم کا بھی آیا ہے کیونکہ علم سکھانے کا ذریعہ”قلم” ہے اسلیے قلم ہمارے لیے حرمت کا باعث ہے لیکن دکھ تب ہوتا ہے جب میں قلم کی بے حرمتی ہوتی ہوئی دیکھتی ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
    بچے اپنی پنسلز اور مارکرز کو پھینک رہے ہوتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اگر سلیبس کی کتاب گِر جاتی تھی تو وہ ہم اٹھا کر چومتے تھے کہ یہ کتاب کی بے ادبی ہے ہم سے یہ زمین پہ گِر گئی، ہم نے اپنے استادوں کو بھی ایسے کرتے دیکھا تھا کہ اور وہ کہتے تھے کہ بیٹا اگر کتاب کی عزت کرو گے تو ہی علم آئے گا،ہمارے استاد سے پڑھانے کے دوران کتاب زمین پہ کبھی گِر جاتی تو وہ بسم اللہ پڑھ کر اٹھاتے تھے اسے چومتے تھے آنکھوں سے لگاتے تھے اور پھر استغفرُللہ پڑھتے تھے اسکے بعد دوبارہ ایک دفعہ بسم اللہ اور دور شریف پڑھ کے ہمیں پڑھانا شروع کرتے تھے اور آج کل بچے جیسے ہی بال پوائنٹ ختم ہو رہا ہے،مارکرزکی انک ختم ہو رہی ہے یا پین خراب ہو رہے ہیں تو ڈائریکٹ اسے ڈسٹ بین میں یعنی گند والی ٹوکری میں پھینک رہے ہوتے ہیں
    اکثر بچے تو نشانہ فکس کرتے ہیں ڈسٹ بین کا پھر ایک ساتھ استعمال شدہ پنسلز کوڑے دان میں پھینک کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے انہوں نے بال پین ختم کرکے کوئی عظیم۔ کارنامہ سر انجام دیا ہو
    ایک دن سورہ علق پڑھتے
    ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہم قلم کی بے حرمتی کرتے ہیں تب سے میں نے اپنی استعمال شدہ بال پین ڈسٹ بین میں نہیں ڈالتی تھی اور اپنی سہیلیوں کو بھی منع کرتی تھی تاکہ میرا نام قلم کی بے ادبی کرنے والوں میں نہ آئے
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ قلم کی بےادبی کرنے سے بچیں اور آپکے بچے بھی قلم کا ادب کریں تو اسکے لیے آپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بتائیں کہ قلم ہمارے لیے اسلیے بھی مقدس ہے کہ ہم اس کے ذریعے علم سیکھتے ہیں
    اسے اِدھر اُدھر نہ پٹخیں استعمال کرنے کے بعد آرام سے قلم کو اسکی جگہ ہر رکھ دیں
    جب ہمارا بال پین یا مارکرز ختم ہوں تو انہیں ایک باکس میں اکھٹا کریں اور جب وہ بھر جائے تو جو بندہ ری سائیلنگ کےلئے چیزیں لینے آتا ہے اسے دیں یا کسی ایسی شاپ پہ دے آئیں جہاں ریسائیکلنگ کا کام ہوتا ہے۔قلم کو گند میں نہ ڈالیں اور اس کا ادب کریں

  • تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی  تحریر چوہدری عطا محمد

    تبدیلی سرکار اب کشمیر میں بھی تحریر چوہدری عطا محمد

    25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات نے یہ واضح کر دیا کہہ جس طرح پاکستان میں 25جولائی 2018میں تبدیلی کی ہوا چلی اور تبدیلی آگئ اسی طرح کشمیر میں بھی الیکشن سے پہلے بہت سے مبصرین نے تبدیلی کی پیشین گوئی کی اور تقریباً سب نے ہی اسی طرح کے رزلٹ کی پیشین گوئی کی جو رزلٹ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت کی صورت میں آیا
    کشمیر کی عوام نے تو وزیز اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے چئیر مین کی آواز پر نہ صرف جلسوں میں نعرے لگاۓ بھر پور شرکت کی بلکہ الیکشن والے دن تبدیلی والوں کے انتخابی نشان بلے پر مہر لگا کر اپنا حق ادا کر دیا
    کشمیری عوام نے سادہ اکثریت 25سیٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن جتوا کر وزیز اعظم عمران خان سے اب بہت سی توقعات کر لی ہیں
    پاکستان تحریک انصاف یہ بات یاد رکھے کہ عوام کو ترقی اور کمزور علاقوں کو اگر اٹھانا ہے تو اختیارات کو نچلی سطع پر لانا ہوگا اس کا طریقہ بہت آسان ہے اور پوری دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں ان ممالک میں بلدیات کا نظام بہت ہی موثر ہے اگر پاکستان تحریک انصاف کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروا دیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کا فائدہ نچلی سطع پر غریب عوام کو ضرور حاصل ہوگا
    یہاں یہ بات بھی یاد کرواتا چلوں کہ کشمیر میں آخری بلدیاتی انتخابات 1991ء میں ہوئے تھے۔ ذرا غور کیجئے کہ کشمیر میں گزشتہ کتنے لمبے عرصے سے جمہوریت بغیر بلدیاتی اداروں کے چل رہی ہے۔ زرا سوچیں جہاں جمہوریت بھی ہو اور بلدیاتی ادارے نہ ہوں کیا بلدیاتی نظام کے بغیر حقیقی جمہوریت کے ثمرات عوام تک بہتر طریقہ سے پہنچاۓ جا سکتے ہیں پوری دنیا میں تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری ادارے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور اختیارات انتہائی نچلی سطح تک تقسیم کیے جاتے ہیں
    اگر ترقی یافتہ دنیا کی بات کی جاۓ تو دُنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیکس وصولی سے لے کر بیشتر اختیارات شہری حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں اور وہ اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا
    یہاں یہ بات بھی یاد دلاتا چلوں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ ادوار میں جب آزاد کشمیر میں الیکشن کے جلسے جلوس کئے تھے اس وقت ہر جلسے میں بھی اور اپنے منشور میں بھی لکھا تھا کہ ہم بہت جلدی بلدیاتی انتخابات کروائیں گے پیپلز پارٹی کی جب حکومت تھی تو مسلم لیگ ن کے ابھی کے وزیز اعظم راجہ فاروق حیدر نے بہت یہ مسلہ اٹھایا کہ بلدیاتی انتخابات کرواۓ جائیں لیکن پیپلز پارٹی کے پانچ سال مکمل ہوگے لیکن بلدیاتی الیکشن نہ ہوا پاکستان مسلم لیگ نواز نے 2016ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کا تیسرا نکتہ ہی یہ تھا کہ ہم ہر صورت میں بلدیاتی انتخابات کروایں گے لیکن بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جس راجہ فاروق حیدر نے بہت آواز اٹھائی وہ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں عدالتی حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکے اور اس کا نقصان آج کے الیکشن میں انہیں بہت زیادہ ہوا
    اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے تو عوامی خواہش کے مطابق اور کشمیر جیسے خوبصورت علاقے کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہوگا کہہ ایسا وزیز اعظم کشمیر میں لایا جا سکے جو ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کی بہتری کے لئے کام کرے اور بلدیاتی انتخابات کا جلد سے جلد انعقاد کرے جس دن کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوگے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت پہلے سے دوگنا ہوجاۓ گی ان شاءاللہ

    اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • تعلیم اور شعور   تحریر: فرمان اللہ

    تعلیم اور شعور تحریر: فرمان اللہ

    ہم ہمیشہ تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر شعور کو اجاگر نہ کیا جائے تو وہ تعلیم یافتہ معاشرہ بھی کبھی کامیابی کی منزلوں کو چھو نہیں سکتا۔ آجکل ہم سب اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور ہم اپنی اس کوشش اور مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ شعور اجاگر نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہم ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

    شعور ہمارے اندر احساس کو جنم دیتا ہے اور احساس کے بغیر کوئی بھی انسان بہترین انسان نہیں بن سکتا، اگر ہم بہترین انسان نہیں بن پائیں تو ہماری تعلیم کس کام کی؟ کیا کریں اُس تعلیم کا اُن ڈگریوں کا؟

    میں نے بہت سارے ایسے تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے جن میں احساس نام کی کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور ایسے لوگ معاشرے کے مستقبل کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں شعور اور احساس کے حوالے سے بچوں کی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور اور احساس کی شدید کمی ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی بنائیں تاکہ مستقبل میں ہماری آنے والی نسل ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے سکیں۔

    Twitter Account
    @ForIkPakistan

  • عورت   تحریر: اعزاز شوکت

    عورت تحریر: اعزاز شوکت

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
    شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
    کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درِمکنوں
    مکالماتِ فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
    اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں
    عورت کی مدح میں ان اشعار کو لکھےہوئے سو سال بیت گئے ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ عورت کی عظمت اور حدِ کمال کے بیان کا حق آج تک ادا نہیں ہوسکا۔ مرد کے ہرمعجزے نے کسی نہ کسی عورت ہی کی گود میں پرورش پائی ہے۔ اولین انسان حضرت آدم کو بھی جب تنہائی کی وحشت کاٹ کھانے لگی تو ربِ کریم نے اماں حوا کو پیداکر کے انھیں تسکین بخشی اور یوں مرد اورعورت کے قدم قدم پہ اشتراک کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے خلاف بولا اور سوچا تو جا سکتا ہےمگر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    عورت کی ذات کا سب سے حیران کن پہلو اس کی ایک نئی زندگی کو جنم دینے کی صلاحیت ہے۔قدیم زمانوں میں لوگ جب بے جان زمین سے لہلہاتی فصلیں پیدا ہوتے دیکھتے تو اس زمین کی پرستش شروع کردیتے، جب انھوں نے یہی صلاحیت عورت میں دیکھی تو اسے دیوی مان لیا اور اس طرح قدیم مادرسری (Matriarchal)معاشرے کی بنیاد پڑی جوعورت کو مرکزی اہمیت دیتا تھا۔
    سبطِ حسن اپنی کتاب "ماضی کے مزار” میں لکھتے ہیں کہ زراعت کا پیشہ بھی عورتوں ہی کا ایجادکردہ تھا۔ مرد شکاراور جڑی بوٹیاں ڈھونڈنے جنگلوں میں نکل جاتے تھے جبکہ عورتیں بچوں کی نگہداشت کے لیے خیمہ نما گھروںمیں رہتی تھیں، اسی دوران انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جہاں وہ جڑی بوٹیوں کو استعمال کے بعد پھینکتی ہیں وہاں سے ویسی ہی جڑی بوٹیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔یوں آہستہ آہستہ پودے اور فصلیں اگانے کا رواج شروع ہونے لگا۔گویا یہ عورتیں ہی تھیں جن کی دریافت نے پوری انسانیت کو خوراک کے نہ ختم ہونے والے ذخیرے سے روشناس کروادیا۔
    عورت وہی قوت ہے جو کبھی اولمپیاس بن کر سکندر کی پرداخت کرتی ہے تو کبھی قلوپطرہ بن کر مصر کے تخت پر راج کرتی ہے .
    جدید دور میں بھی عورت کی فتوحات ہر شعبے سے ستاروں کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔خود پاکستان میں فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم سلمیٰ تصدق سے لے کر بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسف زئی ، ارفع کریم جیسی خواتین بے مثال کارناموں سے مشعلِ راہ کی صورت اختیار کرچکی ہیں۔یہ کامیابیاں ہمیں ماضی کی عورتوں کی قدر کااعتراف کرانے کے ساتھ ساتھ اس امر کا احساس بھی دلاتی ہیں کہ آج بھی عورتیں مرد کے شانہ بشانہ محیرالعقول واقعات سرانجام دے سکتی ہیں۔

    @Zee_PMIK

  • نیت .تحریر: فروا نذیر

    نیت .تحریر: فروا نذیر

    اللہ نے انسان کو جہاں اشرف المخلوقات بنایا ہے جو اتنا بڑا انسان کو درجہ دیا ہے وہاں انسان کیلیے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں

    اسلام ہمارادین ہے ہمارا دین اسلام بہت ہی خوبصورت ہے جو ہم سب کو مل جل کر متحد رہنے کا درس دیتا ہے اسلام میں جب انسان داخل ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے پیارے نبی کے آخری الزمان صلی اللہ.علیہ والٰہ وسلم ہونے پر ایمان لاتا ہے آخرت پر ایمان لاتا ہے

    اللہ نے جہاں انسان کو اتنی آسائشیں عطافرمائی وہاں انسان کا بھی کچھ فرض کہ ہو اپنے حصے کا کاموں کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکیں…

    ویسے سے ہم انسانوں پر بہت سے فرائض ہیں لیکن میں سچ کے بارے میں بات کرنا چاہوں گی اللہ پاک نے ہر انسان کو ہر جگہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی سچ انسان کیلیے اتنی بڑی طاقت ہے کہ دنیا کی سب طاقتیں اس سے کم ہیں…
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم نے ہر جگہ.ہر خطبے ہر بیان ہر حدیث میں سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہے…
    اس بات کو میرا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ.ہم.آج جس دور میں کھڑے ہیں کوئی 10یا 15% فیصد لوگ ہو گئے جو سچ بولتے ہیں سچ سے کام لیتے ہیں..

    ہمارے معاشرے میں سچ جیسے غائب ہو چکا ہے
    ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور بچے چھوٹے ہر کسی سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں یہ سب ہمارے نبی کی تعلیمات تو نہیں جنکو لوگ اپنا رہے ہیں ہمارے نبی کی تعلیمات سچ بولنا ہے
    لوگوں کو قیامت کا آخرت کا ڈر نہیں جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں اور شرمندہ نہیں ہوتا وہ مسلمان کا کام نہیں ہے لیکن معاشرے میں رہنے کے ساتھ ساتھ لوگ سچ کو ترجیح دینے کی بجائے جھوٹ کو اہمیت دیتے ہیں….

    میرے پیارے بھائیو اور بہنوں میرا یہ سب لکھنے کا مقصد ہے سب لوگ جھوٹ کو چھوڑ دیں ابھی بھی وقت ہے سب انسان سچ کی رسینکو پکڑ لیں تاکہ ہم سب دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں…

    سچ بعض اوقات کڑوا ہوتا ہے لیکن یہ ہر مشکل کو دور کردیتا ہے اللہ پاک ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے انکی مدد کرتا ہے

    میری سب بھائیو بہنوں سے درخواست ہے: کہ سب سچ کو اپنائیں تاکہ ہمیں دنیاو آخرت میں شرمندہ نہ ہونا پڑے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سبکو سچ کے راستے پر چلائے اور ہر مشکل سے بچائے

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • بھارت و اسرائیل گٹھ جوڑ .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    بھارت و اسرائیل گٹھ جوڑ .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    بھارت و اسرائیل جیسے ملک ایسے ہیں کہ جو وقت پڑنے پر دوستوں کو بھی کاٹ کھائیں ۔ ابھی حال ہی میں فرانسیسی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کو 50ہزار سے ایسے فون نمبروں تک رسائی ملی ہے جو اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کو استعمال کرنے والے ملکوں کا ہدف ہوسکتے ہیں ۔ 80کے قریب صحافیوں کے تجزیے سے کافی کچھ چونکا دینے والا سامنے آیا ہے ۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حکومتی اہلکاروں ، صحافیوں ،انسانی حقوق کے کارکنوں، وکیلوں ، کاروباری شخصیات ، سیاسی شخصیات اور کئی لوگوں کے فون نمبر اس فہرست میں شامل ہیں ۔ ہمارے لیے ان سب میں اہم ہمارے وزیراعظم عمران خان کا نام ہے کہ جن کا پرانا نمبر اس فہرست میں شامل ہے ۔ ان کا نام بھارت نے 2019ء میں اہمیت والے افراد میں منتخب کیا تھا ۔ ان میں سے 67 افراد کے موبائل ڈیوائسز کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تجزیہ کرنے کے لیے حاصل کیا جس میں سے 37 فون ایسے تھے جن پر پیگاسس کے حملے کا سراغ ملا۔

    معلومات کے مطابق یہ سافٹ وئیر اسرائیل کے ایک گروپ این ایس او کا ہے جو کہ 2010ء میں قائم کی گئی تھی اس کمپنی کا سب سے معروف سافٹ وئیر مذکورہ بالا ہی ہے جوکہ آئی فون اور اینڈرائڈ فونوں تک خفیہ طریقےسےرسائی کرکے جاسوسی و دیگر کام کرتا ہے ۔اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سافٹ وئیر سرکاری اداروں کو بیچا جاتا ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی و جرائم پیشہ عناصر کو روکنا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ اخبار، جو کہ اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بھی ہے، کہ مطابق این ایس او کمپنی کے 750 کے قریب ملازمین ہیں اور گذشتہ برس کمپنی کی سالانہ آمدنی 24 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔ یاد رہے کہ اس کمپنی کے اکثریتی حصص لندن کی ایک نجی فرم کے پاس ہیں ۔ اس سافٹ وئیر کو خریدنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی اجازت بھی درکار ہے اور بی بی سی کے مطابق 45 سے زائد ممالک اس سافٹ وئیر کے متاثرین میں شامل ہیں جن میں پاکستان، فلسطین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، سنگاپور، عمان، لیبیا، لبنان، وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی باعث حیرت ہوگی کہ اس مہنگے ترین سافٹ وئیر کا استعمال بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے 25 کے قریب راہ نماوں کی جاسوسی کراے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔ جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق "جو کہ ایمنسٹی اور فوربڈن سٹوریز نے کی ہے ” دس ممالک ایسے ہیں جو پیگاسس سافٹ وئیر کے صارفین میں شمار ہوتے ہیں جن میں بھارت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان،بحرین، قازقستان، میکسیکو، مراکش، ہنگری اور روانڈا شامل ہیں۔ مذکورہ سافٹ وئیر بھیجے جانے والے ربط پر کلک کرتے ہی خود کو فون میں انسٹال کر کے دی گئی ہدایات کے مطابق کام شروع کردیتا ہے جس میں تصاویر، ویڈیوز، فون نمبرز، ای میلز ، پیغامات ، کیلنڈر ، پیغاماتی ایپلیکیشنز وغیرہ کا تجزیہ کرسکتا ہے یا پھر اپنے سرور کو بھیج سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں کیمرہ و مائیک وغیرہ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فوربڈن سٹوریز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پیگاسس کا تازہ ترین ورژن بغیر ربط یا کوئی مواد ڈاؤن لوڈ کیے بغیر اپنے آپ کو انسٹال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔ماہرین نے اس کو صلاحیت کو ’زیرو کلک ولنریبیلٹی‘ کا نام دیا ہے ۔

    ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کرونا جیسے مہلک مرض سے نبردآزما ہے پہلی، دوسری، تیسری لہر کے بعد چوتھی لہر نے حضرت انسان کے اعصاب کو شل کردیا ہے ۔ ایسے میں اسرائیل گھناونے عزائم میں نہ صرف مبتلا ہے بلکہ اس کی فروخت بھی کررہا ہے ۔ بھارت جہاں 49 لاکھ سے زائد افراد کرونا کی وجہ سے موت کو گلے لگاچکے ہیں اور بھارتی کسانوں نے بھارت سرکار کے ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ ایسے میں اپنے ملک کی خدمت کرنے اور حالات کو بہتر کرنے کی بجاے دوسرے ممالک کے سربراہان و راہ نماؤں کی جاسوسی کرتے پھرنا کہاں کی انسانیت ہے ؟پاکستانی قیادت کو بھی آگے بڑھ کر ایمنسٹی و دیگر اداروں کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھانا چاہیے کہ یہ ہماری قومی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے ۔ امریکا کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ اسرائیل و بھارت کس قدر گر سکتے ہیں ۔ ماضی میں بھی اسرائیل پر مختلف طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہورہا ہے ۔

  • کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود

    کوہ پیمائی کی دنیا میں منفرد ریکارڈ .تحریر : ارشد محمود

    متروک شدہ کوہ پیمائی کا لباس پہن کر اپنا شوق پورا کرنے والا علی سدپارہ کا نام 2016ء میں عالمی میڈیا میں گونجا کہ انھوں نے سردیوں کے موسم میں قاتل پہاڑ (نانگا پربت) کو منفی 52 کے درجہ حرارت اور تیز برفیلی آندھی کے باجود سر کرلیا ہے ۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ تھا جس کی جتنی تعریف کی جاے اتنی کم ہے ۔ سردی کے موسم میں بغیر آکسیجن نانگا پربت کو سر کرلینا ایک منفرد ریکارڈ تھا جس کی شاید ہی کسی میں ہمت ہو ۔ علی سدپارہ نے نانگا پربت پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب علی سدپارہ کی گم شدگی کی اطلاع ملی تو ہر آنکھ نہ صرف اشک بار ہوئی بلکہ ہاتھ بھی دعا کے لیے اٹھے کہ علی سدپارہ مل جاے ۔علی سدپارہ کا پورٹر سے کوہ نوردی کا سفر جہاں اپنے اندر جہاں سموے ہوے ہے وہی پر اسباق در اسباق بھی ہیں جو نئے کوہ پیماؤں کو سیکھنے چاہیے ۔ علی سدپارہ کوہ پیمائی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ اپنی تسکین کے لیے کرتے تھے گویا کہ انھیں برف پوش اور فلک بوس پہاڑوں سے عشق تھا ۔

    علی سد پارہ پہلا پاکستانی کوہ پیما تھاجس نے 8 ہزار میٹر بلند دنیا کی سات چوٹیوں کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی 5 بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکا تھا جس میں 8611 میٹرز بلند K 2 بھی شامل ہے لیکن اب کی بار موسم علی سد پارہ کے حق میں نہ تھا ورنہ قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد پہلے سے مفتوح ہو چکی کے ٹو چوٹی کی کیا حیثیت تھی؟ امسال فروری میں علی سدپارہ مع ساجد سدپارہ ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو کے ساتھ کےٹو کو سر کرنے کی مہم کو نکلے ۔ ساجد سدپارہ کو 8 ہزار میٹر کی بلندی پر ریگولیٹر خراب ہونے کی وجہ سے ساتھ چھوڑنا پڑا ۔ یہ آخری ملاقات تھی جو باپ کی اپنے بیٹے سے تھی ۔ بیٹا تو واپس آگیا جبکہ باقی تین افراد نے اپنی مہم جاری رکھی ۔ چند دنوں کے بھر پور ریسکیو آپریشن کے بعد بھی لاپتہ کوہ پیما نہ ملے تو انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا لیکن ان کے بیٹے نے ازخود ریسکیو آپریشن جاری ر کھنے کا اعلان کیا ۔ٹویٹر پر علی سدپارہ نے 24 جولائی کو ٹویٹ کرتے ہوے بتایا کہ وہ علی سد پارہ کی تلاش کے لیے بوٹل نک اور اس سے آگے کے علاقوں میں چھان بین کریں گے ۔ اور پھر بیٹے کی محنت رنگ لائی اور انھیں اپنے والد علی سدپارہ اور دیگر دو کوہ پیماؤں کے لاشے مل گئے ہیں۔

    کوہ پیمائی جہاں مہنگا ترین کام ہے وہی پر خطرناک حد خطرناک کام ہے ۔ علی سدپارہ کی زندگی جہاں مہم جوئی سے عبارت ہے وہی پر ان کی زندگی ثابت کرتی ہے کہ وسائل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کچھ کر نہیں سکتا ۔ شروع میں ان کی مدد و حمایت کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے اور سرکاری سرپرستی تو پاکستان میں نصیب والوں کو ملتی ہے ۔خبروں کےمطابق چند ایک لالچی قسم کے افراد نے بعد ازاں سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر ان سے اپنی مرضی کے بیانات دلوانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ مردقلندر اپنی بات پر اڑا رہا ۔ ایسے منفرد لوگ قوموں کو کبھی کبھی میسر آتے ہیں اور زندہ قومیں ان کی زندگی میں ہی ان کی اہمیت سے واقف ہوتی ہیں ۔ بعدازمرگ اعزازات و انعام واکرام کا مطلب اپنی شہرت کے سوا کیا ہوتا ہے ؟ معذرت کے میں آج تھوڑا تلخ ہوگیا ہوں ۔ ہم اپنے سیاست دانوں کو سونے کے برتنوں میں کھانا کھلا کر ان کی ہوس مزید بڑھاتے ہیں لیکن ان اصلی نمایندگان قوم و ملت کو سرکاری سرپرستی تک دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں ۔ہمیں بطور قوم اپنے اجتماعی خیالات کو بدلنا ہوگا ہمیں تعین کرنا ہوگا کہ ہم کس راہ پر چل کر ترقی یافتہ ممالک میں کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ یہ صرف سیاست سے ممکن نہ ہوگا بلکہ ہمیں اس طرح کے معاملات میں بھی درد دل رکھ کر فضا ہموار کرنا ہوگی تاکہ علی سدپارہ جیسے لوگ پاکستان کا نام روشن کرسکیں اور حالیہ اولمپکس جیسا حال بنواکر مزید جگ ہنسائی کا باعث نہ بنیں ۔

  • بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    بے نور، بے ہنگم اور بےحد جذباتی معاشرتی رویہ!! .تحریر:کرن خان

    پاکستان بننے کی تاریخ سے شروع کیا تو بات بہت لمبی ہو جائے گے ایک دہائی پیچھے سے شروع کرتی ہوں، مختاراں مائی کے نام سے شروع کریں تو اس معاشرے کی تہذیب، مذہب سے لگن سب کچھ ماند سا پڑا ہوا لگتا ہے۔
    مختاراں مائی کو برہنہ کر کے سرِ بازار لانے والا یہی مردانہ معاشرہ ہے۔ ہماری جذباتی قوم نے کچھ دن واویلا کیا اور نئی ڈگر پر چل نکلے، پھر کہیں کسی کے چہرے پر تیزاب تو کسی وڈیرے نے کسی کی بہن کو بھائی کے سامنے ہراساں کیا۔ قوم نے پھر چند دن شورو غوغا کیا اور ہم پھر آگے کو نکلے۔
    چند سالہ ننھی زینب پر بھی ہم نے بہت ٹسوے بہائے اور قانون سازی کا نعرہ مار کر جذباتی قوم کو پھر ایک سستے نشے کا ٹیکہ لگا کر سلا دیا۔
    وحشی جانور جیسے معاشرے نے نشے اور جذبات سے باہر آتے ساتھ ہی ایک ماں کو اس آزاد اور مسلمانوں سے بھرے ہوئے معاشرے میں تین بچوں کے سامنے جس اذیت سے دوچار کیا کہ اس موضوع پر بولنا تو دور کی بات سوچتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت یہ باتیں ہوئیں کہ سخت قانون سازی کر کے نا مرد کرو، عمر قید یا سزائے موت جیسی سخت م، بروقت اور عبرتناک سزائیں دو تاکہ یہ معاشرہ سدھر جائے۔
    پھر یہی مسلمان، برابری کے حقوق سے بھرا معاشرہ قربانی کے دنوں میں حوا کی بیٹی کے گلے پر چھری چلا دیتا ہے۔

    اور پھر ہم سب شدت سے بھرے معاشرے کے افراد طیش میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے اندر کے جانور کو کسی نئی نشے کے گولی دے کر سلانے لگ گئے، اگر اس کے لئےقانون سازی کی گئی ہوتی تو ایک ہفتہ ہونے کو ہے ابھی تک کیا تفتیش ہی چل رہی ہوتی کہ مدعی اور مدعا الیہ دونوں کو پتہ ہے کہ قاتل اور مقتول کون ہیں، اس کے باوجود کوئی سزا نہیں۔
    افسوس صد افسوس اس بات پر کہ جب ایسا کوئی حادثہ رپورٹ ہوتا ہے تو ہم سب لوگ اس مسئلے میں بھی تعمیری تنقید کے بجائے تخریبی اور مفاد پرستی کی لائن بنا کر غل غپاڑہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ایک طبقہ مذہب اور ایک مذہب بیزاری کے بیانات نکالتا ہے، ایک سیاسی تو ایک اختلافی نوٹ بھی مفاد کی بنیاد پر چھاپنا شروع کر دیتا ہے، کبھی بھی ہمارے معاشرے کی کسی بھی اکائی نے نہیں کہا کہ آئیں مل بیٹھ کر ایک سزاوجزا کا معیار بنائیں بلکہ سبھی اپنے اپنے تحفظ میں لگ جاتے کہ ہم تو بڑے پاک باز لوگ ہیں، کبھی مدرسوں میں ننھے بچوں سے زیادتیاں، کبھی راہ چلتی حوا کی بیٹی کے آبرو ریزی، تو کبھی زبردستی کے مذہب تبدیلی کے واقعات اور بڑے بلند و بانگ دعوے کرنے والا موم بتی مافیا۔جس کےہی ایک بڑے ہرکاروں میں سے ظاہر جعفر نامی درنگان نکل رہے اب۔ذہنی بیماری کا کسی مذہب، شخص یا طبقے سے ہر گز تعلق نہیں ہوتا یہ ایک سوچ ہے جسے باالعموم طور پر پورے معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

    عثمان مرزا کیس، نور مقدم کیس، نسیم بی بی جسے شیر خوار بچی سمیت چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، اس جیسے کتنے ہی ایسے واقعات ہوں گے جو حوا کی بیٹی اپنی آبرو بچانے کی آڑ میں کسی کو بتاتی بھی نہیں ہوگی، چپ چاپ سہہ جاتی ہوگی۔
    قوموں کی ترقی بھی اس آڑ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہوتی، جیسے درندہ صفت ظاہر جعفر کا کہنا کہ وہ امریکی شہری ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہ سکتا۔ اگرچہ ظاہر جعفر کے امریکی شہری ہونے کا اس کے بچ جانے سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ ویانا کنونشن کے مطابق استشنیٰ صرف سفارتی عملے کو ملتا ہے۔
    خیر بات کہاں سے کہاں نکلتی جا رہی ہے، جب تک ہم صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کے قرآن پاک میں دئیے ہوئے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہونگے ان معاشرتی بیماریوں کی بنیادوں پر ہم روشن خیال اور برابری کا معاشرہ استوار نہیں کر سکتے۔
    سورہ الانعام میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اس قوم کی کبھی حالت نہیں بدلی جس نے کبھی خود ہی بدلنے کی کوشش نہیں کی۔
    اب یہ ملک اور اس کی عوام کو پھر سے قانونی معاملات میں الجھا کر اک اور نیا نشہ دیا جا رہا ہوگا، اللہ کرے کہ ہماری غیرت جاگے ، ہمارا معاشرہ اپنے اندر کے درندوں کو حقیقی معنوں میں مار کر آگے بڑھے اور عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کسی اور عورت مارچ کا سہارا نہ لینا پڑے، پاکستان پائندہ باد

    ٹوئٹر اکاوُنٹ:
    @Kirankhan9654