Baaghi TV

Category: بلاگ

  • حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب حکمِ ربی۔ تحریر: نصرت پروین

    حجاب دین اسلام کے احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔
    حجاب حکمِ ربی ہے،
    حجاب قرآن کی آیت ہے،
    حجاب پردہ ہے،
    حجاب آڑ ہے،
    حجاب ڈھال ہے،
    حجاب زندگی ہے،
    حجاب بندگی ہے،
    حجاب عورت کا حق ہے،
    حجاب آزادی ہے بےحیائی سے،
    حجاب رکاوٹ ہے ان نظروں سے جو آپ کو بری نیت سے دیکھتی ہیں۔
    حجاب آپکے لئے جنت کا ٹکٹ بن سکتا ہے۔ حجاب آپکا محافظ ہے۔
    حجاب آپکو بے شمار برائیوں سے بچاتا ہے۔ کچھ نام نہاد روشن خیال مغرب کی تقلید کرنے والے حجاب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے عورت حجاب میں زیادہ پر اعتماد طریقے سے معاشی و معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے۔
    الله تعالی نے کچھ چیزیں انمول بنائی ہیں جیسے غلاف میں چھپا کعبہ،
    غلاف میں قرآن،
    بند سیپ میں چھپے ہوئے موتی،
    کوئلے کی کان میں چھپے ہیرے،
    گہرے پانی میں چھپے گوہر،
    اسی طرح حجاب میں لپٹی ہوئی لڑکی۔
    الله تعالی نے تمام پھلوں اور سبزی پر ایک چھلکا محافظ مقرر کیا ہے جو جراثیم سے انکی حفاظت کرتا ہے جو انکا حجاب ہوتا ہے۔انار کو دیکھیں اسکے دانوں پہ ایک لئیر سی ہوتی ہے لئیر حجاب ہی تو ہےاور پھر اس لئیر پہ چھلکا۔ اگر آپ حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف ہوں اور آپکو بغیر چھلکے کے پھل ملیں تو کیا آپ انہیں استعمال کرینگے؟ انہیں کوئی استعمال نہیں کرے گا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بغیر چھلکے کے تو گودے پر جراثیم لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے آپ غور کریں بدن کے زیادہ قیمتی اعضاء زیادہ بڑے حجاب میں ہیں جیسے آپ کا دل پسلیوں کے اندر ہے، ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر پھر اوپر جلد کا پردہ ہے اسی طرح آپکا دماغ جھلی، کھوپڑی، جلد اور پھر بالوں کے اندر چھپا ہے اسی طرح خشک میوہ جات دیکھیں سب چھلکے میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح آپ قیمتی ہیں انمول ہیں منفرد ہیں اور حجاب آپ کا محافظ ہے۔
    جب آپ حجاب اوڑھیں تو یہ سوچ کر اوڑھیں کہ آپ نے اپنے رب کا حکم اوڑھ لیا ہے۔
    الله رب العزت نے قرآن میں فرمایا !
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۹﴾
    اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔
    سورہ الاحزاب: آیت نمبر:59

    جب پردےکا حکم صحابیات کے لئے آیا انہوں نے بغیر کسی بہانے کے اطاعت کی۔ تو آپکے لئے انکی زندگی مشعلِ راہ ہے اگر حجاب اوڑھنا آپکو الجھن، گھٹن، اور آگ میں ہونا لگتا ہے تو الله کی رضا کی خاطر یہ گھٹن، الجھن اور آگ اوڑھ لیں دوزخ کی آگ میں بھی تو گرمی ہو گی نہ۔اور جسطرح حضرت ابراہیم علیہ السلام الله کی رضا کی خاطر آگ میں کود پڑے تھے اور وہ آگ ٹھنڈی ہو کر انکے لئے لباسِ گل بن گئی اسی طرح حجاب بھی آپکے لئے لباسِ گل بن جائے گا۔
    حجاب ایک عورت کو خوبصورت بنا دیتا ہےاس سے بھی خوبصورت جو آنکھیں دیکھتی ہیں حجاب ایک مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھے نہ کہ کسی چیز کی حثیت سے، عورت حجاب میں نایاب پھولوں کا گلدستہ لگتی ہے۔ حجاب واجب ہو یا مستحب۔ لیکن نیکی تو ہے نہ۔ اور قیامت کے دن جب انسان ایک ایک نیکی کو ترسے گا پچھتائے گا تو کل کے پچھتانے سے بہتر ہے آج حکمِ ربی مان لیں۔ تو حجاب اوڑھ لیں۔
    Nusrat Perveen
    @Nusrat_186

  • انسانیت کہاں گئی  تحریر: احسن علی بٹ

    انسانیت کہاں گئی تحریر: احسن علی بٹ

    آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے اب میرا یہ کالم پڑھنے والے لوگ کہتے ہونگے کہ کیا بات کررہا ہوں یہ باتیں دل کو چب رہی ہونگی لیکن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے اور یہ سب سوچیں کیا ایسا نہیں ہے
    انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوے ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ و احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دوکھ کہ ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
    ہم بیشتر واقعات سنتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں ایک موٹر سائیکل چلانے والے بندے کے ساتھ حادثہ ہوا اور وہ وہاں گڑا ہوا تھا کہ کسی نے اسکا بٹوا اور موبائل غائب کرلیا اور اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے کی زحمت نہ کی کہاں گئی انسانیت اب یہ ایک چھوٹی سی بات آپکو بتائی ہے لیکن آج کے دور میں اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہورہے ہیں جو کہ لکھتے ہوے بھی شرم آتی ہے حالیہ اسلام آباد میں وه جو واقعہ ہوا کہ ایک جوڑے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی یہ سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گڑ رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
    ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
    اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
    میری اللّه سے دعا ہے یارب انکی رہنمائی فرما جو سیدھے راستے سے بھٹک گے ہیں اللّه ہمارا حامی و ناصر ہو
    @AhsanAliButtPTI

  • انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال

    انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت تحریر: قیصر عباس سیال

    ایک ایسی دنیا سماعت و بصارت کے روبرو ہے جہاں نت نئے انداز سے ایک ہی کام دہرایا جاتا ہے اور ایک ہی بات کی پریکٹس کی جاتی ہے، وہ ہے دھوکہ.
    (میں اپنے قارئین پر ایک بات واضح کرتا جاؤں کہ میری تحریروں میں معاشرتی مسائل و برائیوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٪100 لوگ ان برائیوں میں ملوث ہیں. بہت سے اللّٰہ کے نیک بندے خوف خدا اور انسانیت کے جذبے سے سرشار، اپنے کام کو سرانجام دے رہے ہیں.)
    اکثر اوقات کچھ سوانح نظر سے گزرتے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا. اور جن کی بنیاد پر انسان کا نکتہ نظر تبدیل ہو کہ رہ جاتا ہے. کچھ ایسی باتیں انسان کے ذہن میں نقش ہو کر رہ جاتی ہیں جو تا حیات انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر اثرانداز رہتی ہیں.
    کاروبار یا ملازمت دو طریقہ ہائے زندگی ہیں جو انسان اپنی ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کے لیے اپناتا ہے. ملازمت پر کسی دوسرے کالم میں لکھوں گا.
    کاروبار سے منسلک چند احباب نے شاید سمجھ ہی یہی لیا ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ دہی سے ہی اچھی آمدن اکھٹی کی جا سکتی ہے. کچھ آپ بیتیاں پیشِ خدمت ہیں.
    ایک گارمنٹس شاپ پر جانا ہوا. اور دکان پر کھڑے سیلز مین کی ہوشیاری پر بعد میں دل ہی دل داد دیتا رہا. اور افسوس بھی ہوتا رہا. چہ جائے کہ یہ اسکے ہاتھ کی صفائی تھی مگر انفرادیت کی غلط سوچ اجتماعیت کے مکمل نقصان کی ضامن تھی.
    ایک جیکٹ پسند آنے کہ چکروں میں تھی. تو سیلز مین نظروں میں ہی بھانپ گیا. اور لپک کر آیا اور کہا سر یہ تو ڈپلیکیٹ جیکٹ پڑی ہے جو آپکے "شایانِ شان” نہیں. اسی میں اوریجنل جیکٹ پڑی ہے وہ اصلی ہے. میں آپکا خیرخواہ ہوں اس لیے بتا رہا ہوں، مالک کو نا بتائیے گا.
    اس ساری گیم کا تب جا کر اندازہ ہوا جب گھر جا کر مکمل تسلی سے چیک کی. تب پتہ چلا کہ "اصلی” کے چکروں میں وہی پہلے والی چند ہزار مہنگی مجھے چپکا دی گئی ہے.
    ایک پھلوں والے بازار میں جانا ہوا. انواع و اقسام کے پھل سجا کر رکھے ہوئے تھے. ان دنوں آم کا سیزن چل رہا ہے. ایک طرف سے آواز کانوں میں پڑی جو انسانی فطرت کے عین مطابق گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی. ایک صاحب فرما رہے تھے کھٹے ہوں تو دوگنا پیسے واپس. میں اس دوکان پر پہنچا تو اتفاقاً آذان بھی شروع ہو گئی.
    میں اکثر یہ واقعہ سوچنے یا بیان کرنے سے ڈرتا ہوں کہ اس وجہ سے ملتِ اسلامیہ اور امتِ محمدیہ کا دوسرے لوگوں پر کیا تاثر جائے گا.
    خیر دکان دار کے کلمہ پڑھ کر آذان کی طرف متوجہ کر کے تسلی نے مجھے وہاں سے خریدنے پر مجبور کیا. خراماں خراماں رہائش پر پہنچا. مبالغہ آرائی سے خدا بچائے، مگر ان کلو دو کلو میں سے ایک بھی کھانے قابل آم برامد نہ ہو سکا.
    مزید سنیے، کپڑوں کی دکان پر ایک اچھی کوالٹی کا سوٹ خریدنے پر بھی اسی طرح کی چرب زبانی اور ملے جلے قسموں وعدوں کے عوض چند ہزار کا چونا لگوانے کے بعد جب پہلی بار کپڑے دُھل کر سامنے آئے تو کپڑوں اور میرا دونوں کا رنگ اُڑ چکا تھا.
    اور سنیں، موٹر-سائیکل مکینک پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنا موٹر-سائیکل مرمت کے لیے چھوڑ کر اپنے کسی اور کام کو مکمل کرنے کے لیے دوسری مارکیٹ چلا گیا. ارادہ تھا کہ واپسی تک موٹر-سائیکل مرمت ہو چکا ہو گا. اس بات کا اندازہ چند دن بعد ہوا جب کہیں جاتے ہوئے موٹر-سائیکل پنکچر ہوا اور پنکچر والے نے میرے سامنے ٹائر کھول کر نسبتاً طنزیہ انداز میں کہا "بادشاہو، اور کتنا ظلم کرنا ہے اس پر، اب نئے ٹیوب ڈلوا لیں”. جبکہ ابھی چند دن پہلے ٹائر اور ٹیوب نیا ڈلوایا جا چکا تھا.
    مجھے یہ سمجھنے میں ذرا سی ہی دیر لگی چند دن پہلے مرمت کے دوران سامان نکالا جا چکا ہے.
    ایسے کئی اور مواقع انسان کی زندگی میں آتے ہیں جن سے گزرنے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ شاید ہم کرونا سے بھی کسی بڑی وبا کے انتظار میں ہیں. اور اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ دنیا چند ایک ایماندار لوگوں کی وجہ سے قائم ہے. ورنہ ہم نے کوئی کثر نہیں چھوڑی.
    ضرورت اس امر کی کے انفرادی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی طور پر سوچا جائے. ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے. اور اپنے امیج سے زیادہ اس بات کو سوچا جائے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارا دین و مذہب بشمول ملک و قوم بدنام نہ ہو.
    اللّٰہ ہمارا حامی و ناصر ہو.

    Twitter : @Q_Asi07

    qaisarabbas00@gmail.com

  • ‏میرے نمونے دوست    تحریر ماہ رخ اعظم

    ‏میرے نمونے دوست تحریر ماہ رخ اعظم

    دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے اور حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں کام آٸے جو آپ کے دکھ و سکھ کا ساتھی ہو آپ پہ کوٸی بھی مصیبت آٸے تو وہ آپ کے ساتھ ہو ۔۔

    دنیا میں کہنے کو دوستی فقط ایک انسانی رشتہ ہے جو انسان خود بنتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دوستی ہی ایسا رشتہ ہے جیسے پتہ چلتا ہے کہ کون آپ کا اپنا ہے

    لوگ کہتے دوست انسان کو خراب کردیتے ہیں ہمارے مستبقل کو برباد کرتے ہیں میں کہتی ہوں اگر کوٸی نبھانے والا ہو تو دنیا سلام کرتی ہے

    میرے اردگرد بےشمار دوست ہیں جو کہتے میں ان کی دوست ہو مگر وہ صرف کہتے ہیں مگر جو میرے حقیقی دوست ہیں وہ میرا ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں ہنستے ہیں مصیبت میں کام آتے ہیں مطلب میرے لیے اپنی جان تک حاضر کردیتے ہیں

    میں اپنے تمام دوستوں کو سلام عرض کرتی ہو جو ہر وقت میرا ساتھ دیتے ہیں چاہے وقت اچھا ہو یا برا وہ کبھی یہ نہیں کہتے ہیں یار!! ہمارے پاس وقت نہیں ہے اپنے مساٸل خود حل کرو میرے دوست تو کوہ نور ہیرے جیسے ہیں جب بھی مدد کے لیے بلاٶ فورا حاضر ہوجاتے ہیں ہم دوست ساتھ میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ساتھ ہی میں ایک دوسرے پہ جان وارتے ہیں

    آخر میں بس اتنی کہنا چاہو گی اگر آپکی زندگی نمونے دوست ہیں تو انہیں سنبھال کر رکھے کیونکہ ان جیسے لوگ پھر نہیں ملتے ہیں انہیں عزت دیں ، ان کا خیال رکھے کیونکہ یہ نمونے اصل میں زندگی کو رنگوں میں بدل دیتے ہیں

    اللہ میرے پیارے نمونے دوستوں کو سلامت رکھے اور مجھے انہیں ستانے کی توفیق عطا فرماٸے آمین!!

     

  • اسلام میں عورت کا مقام   تحریر : تقویٰ نور

    اسلام میں عورت کا مقام تحریر : تقویٰ نور

    اسلام سے قبل عورت کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا. عورت کو تمام برائیوں کی جڑ اور قابل نفرت سمجھا جاتا تھا. بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا. عورت ہر طرح کے ظلم و بربریت کا شکار تھی.
    طلوعِ اسلام کے بعد عورت کو اس کا اصل مقام اور حق حاصل ہوا. اسلام نے ان تمام جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیا جو عورت کی عزت اور وقار کے خلاف تھیں. عورت نے معاشرے میں وہ مقام حاصل کیا جس کی وہ حقدار تھی اسے تمام معاشرتی، تعلیمی اور معاشی حقوق حاصل ہوئے. اسلام وہ دین ہے جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے عزت بخشی. جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا.حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حسن سلوک کی سب سے زیادہ حقدار ماں کو قرار دیا.

    قرآن پاک میں مرد و عورت کے لیے ایک جیسے احکامات بیان کیے گئے ہیں.اگر عورت کوئی نیک کام کرے تو اس کی جزا اور گناہ پر سزا ہے اور یہی احکامات مرد کے لیے بھی ہیں.

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان والا ہو، ہم اس کو ضرور بالضرور پاکیزہ و طیب زندگی عطا فرمائیں گے‘‘۔

    زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا. اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا.
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح آئیں گے۔ آپؐ نے اپنی انگشت شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملا کر دکھایا”۔

    اسلام سے قبل عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا. اسلام نے عورت کا وراثت میں باقاعدہ حصہ مقرر کیا.

    ارشاد ربانی ہے :

    لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

    ’’مردوں کے لئے اس (مال) میں سے حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے (بھی) ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے حصہ ہے۔ وہ ترکہ تھوڑا ہو یا زیادہ (اللہ کا) مقرر کردہ حصہ ہےo‘‘

    اسلام نے مرد کو عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار بنایا ہے. شادی سے پہلے باپ اور بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے کو عورت کا نگران مقرر کیا.اس طرح عورت کو روٹی، کپڑا اور مکان کی پریشانی سے آزاد کیا. عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرے…

    غرضیکہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی

     

    @TaqwaNoorPTI

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سمارٹ فون آیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال شروع ہوا ہے تب سے اسے استعمال کرنے والوں پر یہ فرض ہے کہ اسکا مثبت استعمال کریں اور یہ بالکل نہ بھولیں جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں شئر کر رہے اس سب کی ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے
    قرآن کریم میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10۝ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11۝ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 12؀ حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں، ایسے مُعَزَّز کاتب (لکھنے والے فرشتے)، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔(سورۃ الانفطار10،11،12)
    ایسے حاضر باش فرشتے جو آپ کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں آپ کا نامہ اعمال ترتیب دیا جا رہا ہے اس دن سے ڈریں جب صورتحال ایسی ہوگی کہ
    وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀
    اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ۔ اُن سے کہا جائے گا ، ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ (28سورۃ الجاثیہ )
    اور اس دن کا احوال کچھ ایسا ہوگا
    وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49؀ۧ
    اور نامہ ٔ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو۔‘‘ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔(49سورۃ الکھف )
    ہم سب کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو بھی تحریر کریں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم نے اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے ہمیشہ حق بات کہیں حق بات کا ساتھ دیں تمیز کے دائرے میں رہتےہوئے اپنی اپنی بات رکھیں اختلاف رائے کریں مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیں گالم گلاچ اور بہتانوں سے پرہیز کریں
    ہر مکتبہ فکر کا احترام کیا جائے ، گروہ بندی کرکے ٹرولنگ کرنا ، بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے لٹھ لے کے کسی کے بھی پیچھے پڑجانا کسی بھی طرح مناسب نہیں اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے اچھے انداز میں قائل کیا جاسکتا ہے ، ہر ایک کے بارے میں اچھا گمان کیا جائے ، لوگوں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، ہمیں کوشش کرنی چائیے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہیں اور اس کریم رب سے اپنی مغفرت کیلئے دعا کرتے رہیں جس کا ہم سے وعدہ ہے کہ
    اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀
    اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(سورۃ النساء31)
    اے رب کریم ہمیں سیدھے راستے پر رکھیے برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیے اور ہر صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھیے ۔آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ

  • اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض  تحریر: محمد اختر

    اسلام میں خواتین کی حقیقی اہمیت اوربحیثیت مسلمان ہمارے فرائض تحریر: محمد اختر

    قارئین کرام، اسلام قبول کرنے والی پہلی عورت حضرت خدیجہ (رض) تھیں، اسلام کی سب سے بڑی عالمِ دین ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔وہ شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیار کیا وہ بھی ایک عورت ہی تھیں جن کا نام حضرت فاطمہ (رض)تھا، آج کے اِس دور میں اسلام کو غلط معنی میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ در حیقت اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اور عزت عورت کو دی گئی ہے بشرط یہ کہ ہم اسلامی تاریخ کا اُس کی اصل روح سے مطالعہ کریں۔دورِ حاضر میں غلط فہمیوں کے باوجود، اسلام میں خواتین کا درجہ محبوب کے برابر کا ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ایک گہری جنس پرست تاریخی سیاق و سباق کے درمیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی اہمیت پر دلیری سے تبلیغ کی۔ خاندان اور معاشرے میں ان کی شراکت کوسراہا، خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت اور ان کے حقوق کے لئے مہم چلائے۔اسلام میں خواتین کے ارد گرد بہت سے منفی دقیانوسی تصورات اسلامی رہنمائی سے نہیں بلکہ ثقافتی طریقوں سے جنم لیتے ہیں، جو نہ صرف خواتین کے حقوق اور تجربات کی نفی کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی بھی براہ راست مخالفت کرتے ہیں۔ نادان اور پردہ دار مسلمان عورت کی دقیانوسی باتوں سے دور، شیخ ابن باز نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس عورت کی عزت، حفاظت کرنے، انسانیت کے بھیڑیوں سے اس کی حفاظت کرنے، اس کے حقوق کو محفوظ بنانے اور اس کی حیثیت کو بلند کرنے کے لئے آیا ہے۔ ” تاریخ، ثقافت اور مذہب کے مابین تمام الجھنوں کے ساتھ، خود سے یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ قرآن مجید اور احادیث اسلام میں خواتین کی حیثیت کے بارے میں در حقیقت ہمیں کیا سکھاتی ہیں؟

    اسلام ہمیں برابری کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے

    قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ آدم اور حوا کو ایک ہی روح سے پیدا کیا گیا تھا۔ دونوں برابر کے قصوروار، یکساں ذمہ دار اور یکساں طور پر قابل قد تھے۔ بحیثیت مسلمان، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام انسان ایک خالص حالت میں پیدا ہوئے ہیں – مرد اور خواتین – اور ہمیں ایمان کے ساتھ ساتھ اچھے ارادے اور عمل کے ذریعہ اس پاکیزگی کو بچانے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔مساوات کا مرکزی خیال دیگر اسلامی تعلیمات کے ذریعہ بھی چلتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک اہم آیت میں لکھا ہے، ”مرد مومن اور خواتین مومن ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور خدا اور اس کے نبی کی اطاعت کرتے ہیں۔ (قرآن، 9:71)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے مرد اور عورت کی یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ ایک اور قرآنی آیت میں خواتین اور مردوں کے مساوی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے، ”جو بھی مرد، عورت، نیک عمل اور ایمان رکھتے ہیں، ہم ان کو ایک اچھی زندگی دیں گے اور ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں بدلہ دیں گے۔” (16:97)
    خواتین کے حقوق کا تحفظ
    610 ء عیسوی میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیکس ازم میں جڑے ہوئے تاریخی تناظر میں رہ رہے تھے۔ یورپ سے لے کر عربی دنیا تک، خواتین کو مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام خود ہی جزیرالعرب، اب سعودی عرب میں پیدا ہوا تھا، جہاں خواتین کے پاس کاروبار نہ تھے، نہ ہی ان کی ملکیت تھی اور نہ ہی ان کا مال وراثت میں تھا۔ مزید یہ کہ جبری شادی عام تھی، لڑکیوں کے لئے تعلیم شاذ و نادر ہی تھی، اور خواتین بچوں کو اکثر ترک کردیا جاتا تھا یا انہیں زندہ دفن کیا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تاجر زوجہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ان بہت سے ناجائز عمل کے خلاف کھڑی ہوئیں، مردوں سے عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آنے کی وکالت کی۔ اسلام کے قوانین کے مطابق،ہر انسان کی زندگی کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اور مرد اور خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کس سے شادی کرے اس کا انتخاب کریں اور انہیں کبھی بھی زبردستی نہیں لینا چاہئے۔ اسلامی قوانین کے تحت، خواتین کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ جائیدادیں فروخت اور خریدیں، کاروبار چلائیں، شادی کے دوران کسی بھی وقت اس سے جہیز کا مطالبہ کریں، ووٹ دیں اور سیاست اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں سرگرم حصہ لیں۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر ہے کہ بہت سارے اسلامی ممالک، جیسے پاکستان اور ترکی میں خواتین کی ورزائے اعظم کی حیثیت میں سربراہی رہ چُکی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم تک یکساں رسائی کو فروغ دیا، ہمیں یہ تعلیم دی کہ، ”علم کی جستجو ہر مسلمان، مرد اور عورت کا فرض ہے۔” [ابن ماجہ] محبوب کی اپنی بیٹی، حضرت فاطمہ (رض)، اعلی تعلیم یافتہ اور قابل احترام تھیں۔ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تویہ ثابت ہوتاہے کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کسی کمرے میں داخل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اپنی نشست ا نہیں دے دیتے۔

    بحیثیت مسلمان ہمارا فرض

    قارئین کرام، ماضی قریب میں عورتوں کیخالف تشویش ناک حد تک بڑھتے جرائم درحقیقت دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دور ہو کر مغربی ثقافت کو پروان چڑھانے کا نتیجہ ہے، ہمیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں چُھپے درندہ صفت بھیڑیوں کو عورت کے مقام، عزت و مرتبہ کا بتانا ہوگا۔کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ماں،بہن،بیوی کے روپ میں ہمیں اچھی تربیت دے کر عورت کی عزت کرنا سکھاتی اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بناتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی میراث، بحیثیت مسلمان، سنت کی پیروی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم کاموں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے اور قوم کو تشکیل دینے کے لئے اسلام کے احکامات اور قوانین کی روشنی میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہوگا۔
    @MAkhter_۔

  • حسنِ اخلاق اور ہم لوگ  تحریر: عامر سہیل

    حسنِ اخلاق اور ہم لوگ تحریر: عامر سہیل

    جب ہم یہ لفظ اخلاق سنتے ہیں تو ایک چیز ذہن میں آتی ہے ہم سوچتے ہیں کہ اخلاق مطلب ہے میٹھا بولنا مسکرانا۔ حسنِ اخلاق میں محض میٹھا بولنا ہی نہیں حسن اخلاق سچ بولنا بھی ہے۔ اچھا گمان رکھنا بھی حسن اخلاق ہے۔ لیکن ہم لوگ میٹھا بول رہے ہوتے ہیں اور دل میں نقصان پہنچانے کے ارادے کر رہے ہوتے ہیں۔
    حسنِ اخلاق کسی کو نفع دینا ہے۔ اخلاق وفادار رہنا ہے جس دوست، ہم منصب کے ساتھ آپ ساتھ چل رہے ہوں آپ کو اس کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے یہ بھی حسن اخلاق میں ہے۔ اخلاق کردار کے سنوارنے کو کہتے ہیں جب ہمارا کردار پاک ہو ہم کسی کو دھوکا نہ دیں مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ ہم کسی کو دھوکہ دے کر اچھے اخلاق کے مالک بن سکتے ہیں بلکل بھی نہیں ہمارا دین ہمیں اس کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر آپ کو دھوکہ دے کر تکلیف ہوتی ہے کسی کو آسانی دے کر آپ کو سکون ملتا ہے آپ مطمئن ہوتے ہیں تو آپ اچھے اخلاق کے مالک ہیں اس کو اپنے اندر ڈھونڈ کر اپنی زندگی کو آسان بنانے۔
    غصے کو دبا لینا اور ضبط کر جانا بھی بہت اعلٰی صفت ہے جو آسانی سے نہیں آتی۔ غصے کے بارے تنبیہ کرنا اس کے فضائل بیان کرنا آسان ہے لیکن اس پر قابو اتنا ہی مشکل ہوتا۔ اگر آپ غصے کے وقت خود پر کنٹرول رکھیں تو یقینا آپ کامیاب ہوں گے۔
    غلط بات کو غلط رویہ کو برداشت کرنا اخلاق ہے بعض اوقات لوگ کہتے ہیں مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ غلط بات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ صحیح بات کو برداشت نہیں قبول کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلام نے اس چیز ہر بہت زور دیا ہے کہ آپس میں حسنِ سلوک رکھو بھلے وہ تم سے کم طاقت میں ہے لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ امیر کے سامنے تو جھک جاتے ہیں اور غریب کو دباتے ہیں.
    نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
    أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔
    الحدیث۔
    سنن الترمذي:1162 ابواب البر والصلة
    ترجمہ:
    سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے
    حسنِ اخلاق کو عملی طور پر نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عمل کر کے دیکھایا ہے۔معاشرے میں اس چیز کی بہت کمی ہے انسان ایک دوسرے کو حقیر سمجھتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے آئی ہے ہماری نجات ہماری ترقی اسی راہ میں ہے جو راہ ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھایا ہے۔ لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں خود احتسابی کریں۔
    کیا آپ نے لوگوں کی قدر کی؟
    کیا آپ اپنے والدین، اپنی بیوی کے ساتھ خوش اخلاق ہیں۔ کیا وہ آپ کو اپنی زندگی میں پا کر خوش ہیں اگر نہیں خوش تو آپ خود پر توجہ دینی چاہیئے آپ کہاں ہیں۔آپ خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں کسی کے سامنے اس چیز کا جوابدہ صرف اللہ کو ہیں
    اس دنیا سے ہزاروں لوگ چلے جا چکے ہیں کیا اُن کے جانے سے دنیا کو فرق پڑا؟
    بلکل بھی نہیں تو آپ کے جانے سے بھی نہیں فرق نہیں پڑے گا اللہ پاک نے اگر آپ کو موقع دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائیں توبہ کریں.اور اپنے حقیقی خالق و مالک کو پہچانیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر لوٹ آئیں۔ اور حقیقی مقصد کے لئے کوشش کریں.

  • مشرقی لڑکی  اور ہمارا معاشرہ  تحریر: از عمرہ خان

    مشرقی لڑکی اور ہمارا معاشرہ تحریر: از عمرہ خان

    آج کل دیکھا جائے تو عورتیں ہر محاذ پر مردوں کے زمانہ بشانہ کھڑی ہیں اور یہ ہونا بھی چاہیے ۔۔۔ مگر دیکھا جائے تو ایک عورت جتنی ترقی کرلے وہ مرد سے ایک قدم پیچھے ہی رہے گی کیونکہ یہی قدرت کا قانون ہے ۔۔۔۔ بے شک ایک عورت پائلٹ ضرور بن سکتی ہے مگر 40 اور پچاس کلو وزن اٹھانا؟؟؟ یہ اسکے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تو خود ایک آبگینہ کہا گیا ہے ۔۔۔۔ اور آبگینہ کیا ہوتا ہے؟ نازک آبگینہ یعنی کانچ کا ٹکڑا جو ذرا سی کھرونچ سے اپنی خوبصورت کھو دیتا ہے ۔۔۔۔گر جائے یا ٹکرا جائے تو پاش پاش ہوجاتاہے ۔۔۔۔ عورت تو وہ نازک آبگینہ ہے ۔۔۔۔۔
    اونٹ اپنی رفتار سے چلائے جارہے ہیں کہ اونٹ بان کو حکم ہوتا ہے
    رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
    (بخاری:6211)
    "انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
    یہ آبگینے کون تھے ؟؟ یہ وہ عورتیں تھیں جو ان اونٹوں پر سوار تھیں۔ اور یہ کہنے والی ہستی ؟؟ یہ وہ ہستی صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھی کے جسکے لئے کائنات کو وجود بخشا گیا ۔۔۔۔۔
    آج جب ایک عورت آزادی کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو وہ درحقیقت اپنے خلاف خلاف آواز اٹھاتی ہے
    اور صرف یہی نہیں پھر مردوں کے بیچ وہ رہتی ہے۔ہر قسم کی باتیں اس ماحول میں کرتی ہے تو بھی وہ اپنی نسوانیت کھو رہی ہوتی ہے
    پھر وہ لڑکی ان مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے ہنسی مذاق اور بات چیت کرتی ہے ۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے پاس تربیت کے علاؤہ کوئی مانع نہیں ہوتا کہ وہ یہ ہنسی مذاقفضول گوئی نہ کرے ۔۔۔۔ اب ان باتوں پر بہت سے لوگ آئینگے کہ جنھیں یہ باتیں کنجسٹڈ سوچ اور دقیانوسیت لگے گی ۔۔۔۔۔مگر ہم چودہ صدی پیچھے جائیں تو دیکھتے ہیں امت مسلمہ کی رول ماڈلز کو حکم ہوا ہے کہ
    اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے میں بات نہ کرو مبادا جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال وابستہ کر لے اور قاعدہ کے مطابق گفتگو کرو۔‘‘
    پھر وہ تو پاکیزہ لوگوں کا دور تھا آج جہاں فتنہ و فساد برپا ہے جہاں 2 اور تین سالہ بچی نہیں بخشی جاتی وہاں ایک لڑکی مردوں سے بے تکلف ہوتی ہے ہنسی مذاق اور فضول گوئی کرتی ہے اور آج تو دل کے روگ کا اور بھی شبہ ہے ۔۔۔۔۔ کیا اچھا نہ ہو کہ عورت اپنی حدود میں رہ کر معرکہ سر کرے ۔۔۔۔۔ کیا اس وقت عورتیں باہر نہیں نکلتی تھیں ؟ کیا اس دور میں عورت گھر کی قیدی تھی؟؟۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ عنھما وہ مدینے کے اطراف میں کھجور کی گھٹلیاں چننے جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔حضرت خولہ بنت ازور اس وقت اسلامی لشکر میں آگے آگے تھیں جب وہ لشکر انکے بھائی کو کفار سے چھڑانے کفار کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ امت ماں ۔۔۔ رضی اللّٰہ عنھا انسے بے شمار صحابہ نے بے شمار احادیث نقل فرمائیں۔ مگر ان سب عظیم عورتوں نے یہ سب اللّٰہ کی قائم کردہ حدودوں میں رہ کر کیا ۔۔۔۔۔۔
    صرف یہی نہیں دین اسلام کی پہلی شہید بھی ایک عورت تھیں حضرت سمیہ رضی اللّٰہ عنھا
    دین کی نشرو اشاعت سے لیکر روز مرہ کے کام کاج تک سبھی تو کرتی تھیں عورتیں چودہ سال پہلے بھی ۔۔۔۔۔اور پھر آزادی ؟؟؟ کیا ہمیں آزادی 1400 سال پہلے نہیں مل گئی؟؟ جب بچیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا ۔۔۔جب عورت دنیا کی حقیر ترین شئے تھی !!! اسلام آیا اور وہی عورت عظیم ترین ہوگئی ماں ہے تو قدموں تلے جنت بیٹی ہے تو رحمت ۔۔۔۔کیا یہ آزادی ملنا نہیں تھا؟ پھر یہ آزادی جو آج عورت چاہتی ہے کیا ہے؟ اب جو رہا ہے وہ مردوں کے برابر آ کھڑا ہونا ہے اور یہ تو قدرت ہی کہ قانون کے خلاف ہوجائے ۔۔۔۔ کیونکہ عورت تو اللّٰہ تعالٰی کی بڑی نفاست اور لچک سے بنی مخلوق پھر وہ کیسے ایک مرد کے برابر ہوسکتی ہے۔۔
    پھر دنیاوی کام کاج وہ تو آج سے چودہ سال پہلے بھی عورتوں نے نہیں چھوڑے تھے دین کے نام پر ۔۔۔۔۔بس آپ ایک بہن ایک بیٹی ایک ماں بن کر اللّٰہ کے حدود کی پاسداری کریںتو سب کچھ ممکن ہے۔۔۔۔۔ ترقی آج بھی عورت کر رہی ہے مگر یہ سوچ کہ ترقی کیلئے چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ ضروری ہے تو یہ سوچ غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جس سوچ کو آج کل بڑی سوچ کہا جارہا ہے یہ اور کچھ نہیں صرف ذہن کا فتور ہے عورت پردے میں رہ کر بھی وہ سب کرسکتی ہے جو کچھ آ ج چھوٹے کپڑے اور بڑی سوچ کے نام پر گھٹیا سوچ بناکر کر رہی ہے۔۔۔۔کسی کو یہ باتیں چھوٹی سوچ کی عکاسی لگتی ہیں تو لگیں ۔۔۔عورت ایک آبگینہ ہے جو جتنا زیادہ چھپا کر اور حفاظت سے رکھا جائے اتنا ہی اپنی خوبصورتی برقرار رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے معاشرے اور دین اسلام کی ان حدود سے کسی عورت کو شکایت ہے تو وہ مغربی ممالک کی عورت کو دیکھے امید ہے کہ شکایت میں کمی واقع ہوگی یوں بھی نسل عورت سے بنتی ہے آج کل جب سب کچھ الٹ چل رہا نسل نو پستی کا شکار ہے تو اس میں بھی کہیں نہ کہیں عورت کا ہاتھ ہے کیونکہ اس نسل کو اپنی پہلی درس گاہ سے ہی اچھا سبق نہ مل سکا تو دنیا میں فتوحات کیسے ہوں
    مشہور سپہ سالار نیپولین بوناپارٹ کا ایک قول ہے کہ
    ” مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دونگا ”
    اس بات کو تو مغرب بھی تسلیم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب وہ اسلامی معاشرے میں عورت کے کردار کو بری طرح مسخ کرنے کے درپے ہے تو آج تو عورت کو اور زیادہ دامن بچا بچا کر اور ثابت قدمی سے رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔
    Twitter handle: @Amk_20k

  • ہمت مرداں مدد خدا  تحریر : طاہر ظہور غوری

    ہمت مرداں مدد خدا تحریر : طاہر ظہور غوری

    آج کی نوجوان نسل اپنے لئے اچھی نوکری تلاش کرتی نظر آتی ہے جو اچھی تعلیم حاصل کر گیا وہ بھی اور جو رہ گیا وہ بھی اسکو یاں سرکاری نوکری چاہئے یاں ایسی نوکری جس میں اس کو کوئی سخت کام نا کرنا پڑے-
    اور اگر کوئی ہمت کر کے کوئی کاروبار شروع کر بھی لیتا ہے تو پہلے ہی جھٹکے میں تھک کر بیٹھ جاتا ہے کہ شاہد یہ کام اس کیلئے ناممکن ہے کیا
    اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کامیاب انسان نے بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھا ہوتا ہے
    ناکامی دراصل کامیابی کی سیڑی ہے جو یہ سمجھ گیا اور لگن سے کوشش کرتا رہے وہی کامیاب ہوتا ہے
    چلو کچھ مثالیں دے دیتے ہیں “ہرلینڈ ڈیوڈ سیڈنر” جو کہ کے ایف سی کا مالک تھا اس کی پینسٹھ سالہ زندگی ناکامیوں سے بھری پڑی تھی اس نے ریٹائرمنٹ کہ بعد کے ایف سی شروع کیا اور آج ہم لوگ اسکو کھانا سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں جب اس شخص نے اس عمر میں بھی اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود ہار نہیں مانی اور آخر کار کامیاب ہوا
    “عمران خان” پہلے ہی ٹیسٹ میچ کے بعد بری کارکردگی کی وجہ سے ٹیم سے نکال دیا گیا پر ہمت نا ہاری اور اک دن پاکستان کی کریکٹ ٹیم کا کپتان بنا اور آج تک اس کا شمار دنیا کریکٹ کے بہترین کھلاڑی اور کپتان کے طور پر ہوتا ہے
    اب کچھ پڑھنے والے یہ کہیں گے کہ یہ تو ان لوگوں کی کہانی ہے جو زندگی میں کامیاب ہوئے تو یہاں یہی بتانا مقصد ہے کہ انلوگوں نے بھی شروع کے دنوں میں ناکامیوں کا منہ دیکھا پر اپنی لگن اور ہمت سے کامیابی حاصل کی
    مضمون کا حاصل یہی ہے کہ نوجوانوں اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو جان لو ناکامیاں اور کامیابیاں زندگی کا حصہ ہیں
    کبھی کسی ناکامی یاں کامیابی کو آخری نا سمجھو اپنے حوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دو اک سنہرا کا تمہارا منتظر ہے

    @tz_ghauri