Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جیسی قوم ویسے حکمران  تحریر: سیدہ بنت زینب

    جیسی قوم ویسے حکمران تحریر: سیدہ بنت زینب

    کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے لوگوں پر ہوتا ہے. ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے لوگ اپنے اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے، پوری لگن سے کریں تو اس ملک کا دنیا میں بول بالا ہو گا. لیکن اگر اسی ملک کے لوگ اپنی جگہ بے ایمانی، کرپشن، زخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے تو یقیناً اس ملک کو ترقی پذیر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک بن چکا ہے جہاں ہر شخص اپنی جگہ کرپٹ ہے، جسے جتنا موقع ملے وہ اتنی ہی ڈھٹائی سے کرپشن کرتا ہے. فریج والے سے لے کر موٹر والے تک، میکینک سے لے کر دکاندار تک، ایک چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے شخص تک ہر کوئی کرپشن جیسی بیماری میں مبتلا ہے. یہ بات اس بات سے بھی ثابت کی جا سکتی ہے کہ "اسکول میں پرنسپل نے ٹیچر کو کہا کہ بچوں سے دس روپے فارم کے لینے ہیں، ٹیچر نے کلاس میں آ کر بچوں کو کہا کہ صبح بیس روپے اسکول فارم کے لیے لے آنا، بچے نے گھر جا کر اپنی والدہ کو یہی رقم بیس کی بجائے پچاس بتائی اور اسکی والدہ نے یہی رقم بچے کے والد کو آگے سو بتا کر لی.” افسوس بحیثت قوم ہم سب کرپٹ ہو چکے ہیں.
    عوام ہمیشہ حکمرانوں پر ہی الزام لگاتی ہے کہ حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اب ذرا عوام کی بات کریں تو کیا عوام بھی اسی تھالی سے نہیں کھا رہی جس میں سے سیاستدان کھا رہے ہیں؟
    جب بھی پاکستان کی ترقی پذیر ممالک میں ہونے کی بات آتی ہے تو ہر شخص اپنی جگہ بیٹھ کر سارا ملبہ ملک کے سیاستدانوں پر ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے ہمارے ٹیکس کے پیسے کھائے ہیں، کروڑوں کی کرپشن کی ہے مگر دوسروں پر بات کرنے سے پہلے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ خود اپنی جگہ کتنے کرپٹ ہو چکے ہیں…!
    تو پھر ہم کس منہ سے حکمرانوں کو کچھ کہہ سکتے ہیں جب ہم خود ہی کرپٹ ہوں؟
    اپنے وزیروں، اداروں اور افسروں کو گالی دینے سے پہلے ایک بار ذرا خود سے پوچھیں کہ آپ نے کتنی ایمانداری سے اپنے حصے کا کام کیا ہے؟ آپ نے اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟
    حکمرانوں کے دل اللّٰہ کے قبضہ میں ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کے اعمال ہوتے ہیں اللّٰہ تعالی ان کے مطابق حکمرانوں کے دل کردیتا ہے، یعنی اگر عوام کے اعمال اچھے ہوں گے تو حکمران ان کے لیۓ اچھے ثابت ہوں گے اور اگر ان کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے تو حکمران عوام کے لۓ برے ثابت ہوں گے.
    یہ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ "جیسی قوم ویسے حکمران”. اگر حکمران ایمانداری ہو اور عوام بے ایمان، تب بھی کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ایک اکیلا شخص سارے معاشرے کی برائی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کچھ اچھا کام کرے بھی تو لوگوں سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور وہ اس اچھے انسان کے پاؤں کھینچ کر اسے اپنے سے پیچھے دھکیل دیتے ہیں. ہمیں ہر چیز سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہو گا. جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ الرعد میں فرمایا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی.”
    ‏‎بس ہم سب سے ہمارے حصے کا ہی سوال پوچھا جائے گا. ہم دوسروں کی فکر کرنے سے سے پہلے اپنے حصے کا دیا جلانے کی فکر کر لیں تو پاکستان روشن تر ہو جائے گا.
    اگر ہم سب سید اقرار الحسن کی طرح اپنے حصے کا کام پوری لگن، پوری ایمانداری سے کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن پاکستان کا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے بلند ہو گا.
    جیسا کہ سید اقرار الحسن کہتے ہیں کہ "آپ سب پاکستان کے ذمہ دار محب وطن شہری کی طرح اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتے رہیں. بغیر کسی مفاد کے، بغیر کسی لالچ کے، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لاتے رہیں.مجھے یقین ہے کہ پھر وہ وقت دور نہیں ہو گا جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا انشاء اللہ”
    پاکستان زندہ باد!

    @BinteZainab33

  • ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر :  ریحانہ بی بی  (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت

    انسان کی سب سے بڑی قوت, قوتِ برداشت ہے. اور حقیقت میں برداشت کرنا بزدلی نہیں ایک بہادری ہے کہ کسی دوسرے کے اختلاف رائے کو آپ کھلے دل سے برداشت کرلیتے ہیں. جتنی آپکی قوت برداشت مضبوط ہوگی اتنا ہی آپ خوش رہنے میں کامیاب ہونگے….
    مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج اس دور میں کوئی ماں باپ کی گالی دے تو ہم اسکو جان سے مارنے پہ تُل جاتے ہیں اور اگر وہی ماں باپ جب اولاد کے کسی غلط کام پر اسکو ڈانٹیں یا غصہ کریں تو اولاد نافرمانی کرنے پر اتر آتی ہے. ماں باپ کے آ گے نہ صرف اونچی آواز میں بولنے لگتی ہے بلکہ اُنکی آ نکھوں میں آنکھیں ڈالنے لگتی ہے.
    کئی حضرات گھر چھوڑ کے چلے جاتے ہیں کہ ہماری بےعزتی ہوگئی ہے. وہ اپنی انا کا مسلہ بنا لیتے اسکو… وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کی ڈانٹ کو وہ اپنی بےعزتی سوچ رہے اسی ہستی کی بدولت دنیا میں تشریف لائے, اسی ہستی نے اُنکو پالا پوسا, پڑھایا لکھایا…
    اسکی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے جسکی وجہ سے غصہ انکی شخصیت میں رچ بس گیا ہے.
    قوت برداشت نہ ہونے سے کئی شادیاں ناکام ہوجاتیں ہیں, مثلاً آپ اپنے پارٹنر کی چھوٹی سی غلطی پر بھی اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسطرح رشتوں میں خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے.
    یہاں قصور کسی ایک پارٹنر کا نہیں دونوں طرف کا بھی ہوسکتا ہے. مرد اپنے پسند کی آیات حفظ کیے ہوتا ہے کہ بیوی پر اسے برتری حاصل ہے سو وہ ایک حاکم کی طرح خود کو سمجھنے لگتا ہے اور بیوی کے لئے اُسکے مزاج اسکے خاندان اسکی خوشی اسکی پسند ناپسند معنی رکھے.
    جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ناچاقیاں جنم لینے لگتی ہیں. اور پھر بات بات پہ اسکی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے. بعض اوقات اولاد کے سامنے.. اور پھر وہ اولاد کیا احترام کریگی ؟؟
    نتیجہ یہ نکلتا ہے وہ گھر آخر ٹوٹ جاتا ہے .
    آج کی دنیا میں لڑائی جھگڑے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں قوت برداشت کی کمی ہے.
    بہترین انسان وہ ہے جو مسائل حل کرتا ہے اور بدترین انسان وہ ہے جو مسائل پیدا کرتا ہے.
    آج کی سیاست کو دیکھ لیں!
    اگر ایک پارٹی کسی دوسری پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے تو بدلے میں اس سے بھی سخت الفاظ میں جواب آ تا ہے کہ میں ایسا نہیں تم ایسے ہو تم ویسے ہو وغیرہ وغیرہ کی سیاست جاری ہے. بس ایک دوسرے کی کردار کشی شروع ہوجاتی ہے.
    خود اپنے لئے بہترین وکیل کی طرح اپنا دفاع کرنے لگتے ہیں.

    اور تو اور ہمارے معاشرے میں اگر کسی کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے تو فریقین گولیاں برسانے لگتے ہیں اور کئی گھرانے انہی جھگڑوں کی وجہ سے اجڑ گئے.

    دیکھیں زندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع نہ کریں. محبتیں بانٹیں کیونکہ ایسا کرنے سے دل کو بھی سکون ملے گا..

    کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیں کیونکہ ضروری نہیں ہم ہر عمل کا ایک ردِعمل دکھائیں کیونکہ ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دیں گے بلکہ ہوسکتا ہے ہماری جان بھی لے لیں.
    دنیا میں سیاست دان ہوں, حکمران ہوں یا عام انسان انکا اصل حسن انکی قوت برداشت ہوتی ہے.
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اندر برداشت کیسے پیدا کرسکتے ہیں..
    بہت آسان جواب.. حضرت محمد کی حیات طیبہ کو مد نظر رکھ کر.
    ایک بار ایک صحابی نے رسول اللہ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے زندگی کو پُرسکون اور خوبصورت بنانے کا کوئی فارمولا بتا دیں.
    آپ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو.

    دیکھا جائے تو غصہ دنیا میں 90 فیصد مسائل کی ماں ہے اگر انسان اپنے غصے پر قابو پالے تو اسکی زندگی کے 90 فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
    جس شخص میں قوت برداشت ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا.

    @Rehna_7

  • ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے . تحریر : انجینئرمحمد امیرعالم

    ہم میں سے ہر ایک خوش رہنا چاہتا ہے پھر بھی اکثریت نا خوش کیوں ہے؟ بلا شبہ یہ بات مسلّم اور حقیقت پر مبنی ہے کہ اس کرہء ارض پر ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر لوگ خوشی سے محروم ہوتے ہیں۔
    اب اس کی وجہ کیا ہے؟ در اصل ہم ان چیزوں میں خوشی ڈھوڈنتے ہیں جن سے ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا‛ جن سے ہمیں خوشی مل ہی نہیں سکتی۔

    مثلاََ ہم میں سے ہر آدمی سمجھتا ہے کہ ڈھیر سارا پیسہ حاصل کر کے وہ خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کرے گا لیکن حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں اکثر وہ لوگ زیادہ پریشان اور ذہنی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں جو اچھے خاصے پیسے والے ہوتے ہیں۔

    آخرکیا وجہ ہے کہ اچھا خاصا پیسہ رکھنے والے‛ ہر قسم کی عیّاشی کرنے اور اپنی من پسند کی زندگی گزارنے والے لوگ قلبی سکون سے محرومی کے باعث زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔

    ایک طرف ایک مالدار شخص اپنی حویلی کے ایک مخصوص شبستاں میں جہاں ان کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہوتی ہیں اپنے ایک قیمتی پلنگ پر بچھائے مخملی بستر میں ڈپریشن کی گولیاں کھا کر ساری رات نیند سے محرومی کے باعث کروٹیں بدلتا رہتا ہے‛ تو دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی جھونپڑی میں یا کہیں سرِ راہ خالص زمین کی فرش پر کسی اینٹ یا پتھر کو تکیہ بنا کر گہری نیند کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دولت سے ہم خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔

    لہٰذا خوش رہنے کے لئے قناعت پسند ہونا ضروری ہے۔
    جو نعمتیں ﷲ تعالٰی نے ہمیں عطا کی ہیں اُن نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے‛ اور ہر وقت ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے‛ جو چیز ہمیں میسر نہیں اسے مشیّتِ الٰہی سمجھ کر صبر و قناعت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔

    اس کے علاوہ دنیا میں وہ لوگ جو ہم سے زیادہ مالدار ہوتے ہیں یا بظاہر ہم سے بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ہم انہیں دیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ کاش ہماری زندگی بھی ان کی طرح ہوتی۔
    ہمیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنے کی بجائے ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جو ہم سے زیادہ غریب ‛ تنگ دست اور لاچار ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھ کر اس بات کا احساس پیدا کرنا کہ ﷲ تعالٰی نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا ہے جن سے یہ لوگ محروم ہیں اور اس بات پر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

    اسلام بھی ہمیںں یہی بتا تا ہے کی دنیاوی اعتبار سے ہمیں خود سے نیچے لوگوں دیکھ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دینی اعتبار سے ہمیں خود سے زیادہ دیندار لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنا اور ان سے سبقت لینے کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔

    اس کے علاوہ ﷲ تعالٰی کو اپنا محبوب و مقصود بنا لینا دونوں جہانوں کی کامیابی اور ہر قسم کی خوشی کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیوں کہ ﷲ تعالٰی کو جب محبوب بنائیں گے تو پھر محبوب کی خوشی میں عاشق کی خوشی ہوتی ہے اور محبوب جس حال میں رکھے گا عاشق کو تسلی اور سکون ملے گا۔

    بقولِ فراز:۔
    یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز!
    ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

    ‎@EKohee

  • طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    طلاق کیوں ہوتی ہے . تحریر: محمداحمد

    معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس اقدام کیلئے دل خون کے آنسو روتا ہے اُس بیٹی پر کیا گزرے گی جو اس عذاب سے گزر رہی ہوگی ۔ بعض اوقات طلاق میں نا غلط عورت ہوتی ہے نا مرد.
    مرد اپنی حثیت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے لیکن اکثر اوقات عورت کی نظر میں اُس کی تمام فرمائش پوری نہیں ہوتیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنی عزت بناکے رکھتا ہے اُس کو میکے جانے سے بھی نہیں روکتا لیکن جب وہ بیوی اپنے میکے جاتی ہے اُس کی والدہ اسے کپڑے بناکے دیتی ہے وہاں سے تیسرے شخص کی مداخلت رشتوں میں آجاتی ہے جو طلاق کا باعث بنتی ہے ہنستا مسکراتا گھر اجڑ جاتا ہے ۔ دوسری طرف جب سے موبائل عام ہوا ہے اُس وقت سے میاں بیوی کے رشتے میں تیسرے شخص کی مداخلت زیادہ ہوگی ہے وہ چاہے کسی بھی شکل میں ہو مثلاً کوئی ہمسائ ، ساس، سالی وغیرہ وغیرہ یا اور فرد کی شکل میں رشتوں کو توڑنے میں شیطان کا کام کرتی ہیں.

    وہ عورت ہمیشہ اپنا گھر بنا لیتی ہے جسے اپنی شوہر کی حثیت کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں نے اپنے شوہر کا بازو بننا ہے وہ شوہر کے دل میں گھر بنا لیتی ہے جو عورت دوسروں کی باتوں کو ترجیح دے وہ اپنا ہنستا بستا ہوا گھر برباد کرلیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں مجھ سے غلطی ہوگئ ۔

    اکثر معملات میں اولاد کی نعمت سے محرومی بھی ہے اولاد اللہ پاک کی دَین ہے خداراہ ایسی باتوں کو ترجیح نا دے کے گھر آباد رکھیں اور لوگوں کی باتوں کو توجہ نا دیں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اُس رشتے کی قدر کریں اور مل کے رہیں اگر میں تحریر پڑھ کے کسی بھی عزیز کا دل دُکھا یا دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں میں نے وہی بیان کیا ہے جو وقت نے دیکھایا ہے.

    @JingoAlpha

  • پاک افغان تعلقات .  تحریر: ارم چوھدری

    پاک افغان تعلقات . تحریر: ارم چوھدری

    جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے تیز نوکیلی تلواروں کی چھاؤں میں بیٹھا معصوم ہرن کا سہما ہوا
    بچہ ایک طرف افغانستان کی جانب سےڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل میں روز ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اور دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ہمہ وقت پاکستان کو حالت جنگ میں رکھتا بات اگر افغانستان کی کی جائے توپاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے جغرافی،لسانی اور نسلیتی بلکہ مذہبی وابستگی بھی رکھتے ہیں دیکھا جائے تو
    افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں چل رہے.

    اسکی سب سے بڑی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ کابل یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ وہ افغانستان کا حصہ ہے
    اور اس دماغی فتور کے لئے افغانستان نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جس میں PTM سر فہرست ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی غیور عوام نے نہ صرف اس تعصب زدہ تحریک کو بلکہ اس کے چلانے والوں کو بھی مسترد کردیا.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں
    افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ اتحادی حکومت لازمی ہے اور یہ بات انڈیا کو کھٹکتی ہے کیوں کہ انڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اسکی غنڈا گردی بند ہو جائے اس ضمن میں وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس سے امن تباہ ہو
    اور ماحول کشیدگی کی طرف جائے.

    ایسے میں جب امریکہ کی تاریخی ہار ہوئی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے امریکہ نے دو دہائیوں تک با حثیت سپر پاور افغانستان میں جنگ کر کے دیکھ لیا بالآخر ہار اسکا مقدر ٹھہری موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو امریکہ کی زبان بولتا اور اس کے اشاروں پر چلتا ہے اس کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہو گیا کیونکہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ماسوائے چند علاقوں کے اور بہت جلد طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے افغان عوام طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کیوں کہ وہ محکوم قوم کے طور پر رہنا پسند نہیں کرتے. اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے عمران خان نے آج سے پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حکومت اور امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذکرات بہت ضروری ہیں.

    میرے خیال سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کو یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی
    اور اس کے لیے سب اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی دخل اندازی بند ہو.

    حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے.

    گزشتہ 15سالوں میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا انشاء اللہ اُمید ہے افغانستان میں اتحادی حکومت کا قیام اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے لیکن کوئی بھی بات قبل از وقت ہے آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور افغان طالبان کس حد تک اپنی پالیسیز میں نرمی پیدا کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

    @IrumWarraich4

  • مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    مجبور اور لاچار عورتیں تحریر:حنا سرور

    آپ نے جگہ جگہ دیکھا ہو گا اپنے آس پاس گلی محلے میں ہی ہے ۔بہت سی عورتوں ایسی ہوں گی ۔جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہوں گی جو اپنے باپ بھائ کی بھابیوں کی ڈانٹ ڈپٹ سنتی ہوں گی ان کے کام کرتی ہو گی ۔اس سب کے باوجود وہ خوش نہی ہوں گی ۔۔ان کو اپنے بھائیوں سے بھابھی سے والدین سے ہزار شکوے ہوں گے ۔وہ اپنے بچوں کو اچھی زندگی نہیں دے سکتی ۔بھائ کے بچوں سے مقابلہ یا لڑائ جھگڑے عجیب سی سوچ ہو جاتی ان عورتوں کی ۔۔اس سب کی ذمہ دار کون؟ والدین ۔۔والدین کو لڑکی کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ شادی کے بعد شوہر کی خدمت کرنی ہے ساس سسر کی خدمت کرنی ہے وہ مر لڑائ جھگڑا کرے مگر تم نے وہ ہی رہنا ہے ۔۔لیکن اگر والدین کو لڑکی کو اس قابل بنائیں ۔کہ کل اللہ نہ کرے لڑکی کو طلاق ہو جاتی ہے آگے شادی نہیں کر سکتے ۔یا لڑکی بیوہ ہو جاتی ہے ۔تو کم از کم اسے اس قابل بنائیں کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے اسے بھیک مانگ کر زندگی نہ گزارنی پڑے ۔آپ لڑکی کو نہیں پڑھا سکتے نہیں پڑھانا چاہتے مت پڑھائیں ۔آپ اسے سلائ سکھائیں ۔آج کے دور میں سلائ سب سے بہترین ہے وہ اپنی زندگی آسانی سے گزار سکتی ۔آپ اسے پڑھانا چاہتے اسے ضرور پڑھائیں ۔اسے کسی قابل بنائیں ۔شادی کا کیا ۔وہ تو ہو ہی جاتی لیکن کامیاب شادی یہ نصیب کی بات ہے ۔نصیب تو کوی بھی نہی دیکھ سکتا کہ آگے اس کے نصیب میں کیا ہے ۔اگر آپ اسے کسی قابل بنا دیں گے تو یہی آپکی اصل تربیت ہو گی ۔کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی دکھی داستان سنا کر تماشہ بننے یا مجبوری میں بھیک مانگ کر گزارنا کرنے سے بہتر ہے اسے خودار بنائیں ۔۔لازمی نہیں کہ آپ کو میری یہ بات اچھی لگی ہو ۔۔مگر ممکن ہے کہ تیرے دل میں اتر جاے میری بات

     Article Author Name

    Hina Sarwar

     

  • پروپیگنڈہ اور معصوم عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکومت کے خلاف اپوزیشن اور میڈیا جس میں پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا ہاؤسز بھی شامل ہیں۔

    مسلسل پروپیگنڈہ کررہے ہیں.
    اس پروپیگنڈہ کا مقصد ہماری معصوم عوام کے ذہنوں میں حکومت سے متعلق ابہام پیدا کرنا ہے۔اور کچھ نہیں

    ایک چھوٹی سے مثال بی بی سی نیوز ہے جو ایک طرف پی ٹی ایم کو پروموٹ کررہا ہے اور دوسری جانب وہ کپتان حکومت کے برعکس محاذ کھولے ہوئے ہے۔

    کپتان نے حکومت سنبھالتے ہی بین الاقوامی سطح پر چند غیر معمولی اقدامات کئے جس سے امریکہ اور اس کے تمام اتحادیوں ممالک کے مفادات کو کاری ضرب لگی ۔

    اب ان کی پوری کوشش ہے کسی بھی طریقے سے پاکستانیوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ عمران حکومت ناکام ہوچکی ہے اور ان کے ہوتے پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔

    کوئی شک نہیں وطن عزیز اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور اسے معاشی چیلنج کا سامنا ہے لیکن کپتان حکومت نے معیشت کو بہتر کرنے کیلئے چند قابل ذکر اقدامات کیئے جو اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا ہاوسز کو ہضم نہیں ہوئے۔

    پی پی پی یا ن لیگ کے دور میں پاکستان کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر آگئے تھےکوئی بھی ملک پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    مگر کپتان کے آنے کے بعد اب دنیا کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستانی عوام واقعی تبدیلی چاہتی ہے اور بحیثیت قوم اپنی حالت بدلنا چاہتی ہے.
    امید ہے بہت جلد کڑا احتساب بھی شروع ہو گا ظالموں اور جابر حکمرانوں کا پاکستان میں صرف ایک بار نظام کو ٹھیک ہو لینے دیں تو انشاءاللہ ہمیں ہمارا کھویا ہوا مقام بھی واپس ملے گا۔

    اور ان شاءاللہ پاکستان دنیا کے پراثر ترین ممالک کی صف میں آپ کو کھڑا نظر آئے گا.

    آخر میں بس درخواست ہے اپنے ہم وطنوں سے کہ خدارا کسی بھی پروپیگنڈہ پر ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے اسکی تصدیق کرلیا کریں۔

    تحریک انصاف کے تمام ممبرز جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں آپ کا یہ فرض ہے کہ نہ خود کسی پروپیگنڈہ کا شکار ہوں بلکہ جیسے ہی انہیں کسی پروپیگنڈہ کے بارے میں پتہ چلے اس کے خلاف محاذ بنالیں۔

    یاد رکھیں پروپیگنڈا کی بنیاد پر جنگوں میں بہت سے ممالک کو جیت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے.اسی کا نام ہے فیتھ جرنشن وار

    آپ یقین ہونا چاہیئے کہ پاکستان کلمہ کے نام پر پہلا اسلامی ملک ہے اور اسکی حفاظت اللہ تعالی خود کررہے ہیں ان شاء اللہ

    پاک افواج نے حالیہ جن گوریلا جنگوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں دنیا کی تاریخ میں اسکی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پاک فوج اور کپتان حکومت اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں

    اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ملک کے تحفظ اور ترقی کیلئے اپوزیشن جماعتوں اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کے پروپیگنڈا کا بھرپور مقابلہ کریں۔
    ایک سوال اپنی قوم سےکیا آپ سب تیار ہیں پاکستان کے خلاف ہر قسم کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے؟

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دیں۔آمین

    @No1Hasham

  • سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر .  تحریر: زاہد کبدانی

    سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر . تحریر: زاہد کبدانی

    رواں دواں: نوجوان لوگوں پر ٹک ٹوک کا اثر حالیہ ماضی میں لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا استعمال بڑھتا رہا ہے۔ نوجوان نسل کی مقبولیت کے استعمال کے لئے سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز استعمال ہوتی ہیں۔ ٹِک ٹوک سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز میں شامل ہے ، جو نوعمروں اور نوجوانوں کی جانب سے شہرت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات غضب سے چھٹکارا پاتا ہے۔ ایپ کو بنیادی طور پر استعمال کنندہ کے مابین شیئر امیجز اور ویڈیوز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امیج اور ویڈیو پر مبنی ایپس کے اثر سے متعلق حالیہ مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ صارفین کو ذہنی طور پر صحت سے متعلق دشواریوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کھانے کے عارضے اور آنکھوں کے مسائل۔ اس مطالعے نے نوجوانوں پر ٹک ٹوک کے تاثرات کی جانچ پڑتال میں عملی نقطہ نظر پر توجہ دی ہے۔ مشمولات کا تجزیہ صارفین کے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد تاثرات کے بقیہ نظریات اور تبصروں سے لیا گیا ہے۔ اس کاغذ کے ساتھ ساتھ ٹک ٹوک کے صارفین کے ساتھ فوکس گروپ انٹرویو بھی استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان پر اثر انداز ہونے والے امور دریافت کیے جانے والے سوچاوں کے مسائل اور ایپ کے بارے میں بنیادی حقائق دریافت کیے جارہے ہیں۔ اس مطالعے میں صارفین کے نقطہ نظر اور ایپ کی فعالیت کو بہتر بنانے کی بنیاد پر مزید تحقیق کے لئے علاقوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیقی سوال کا بیان – ٹک ٹوک کی تیز رفتار ترقی اور نوجوان لوگوں کے ذریعہ اس کے استعمال ، اس سے دونوں پر اثر پڑے گا طویل مدت میں مثبت اور منفی. اس میں تین عوامل ہیں جو نوجوان نسل پر اس کے اثرات پر غور کرنے کے لئے ہیں۔ ، اس منڈی کا استعمال جس کا مارکیٹ کے سامعین نوجوان ہیں۔ ٹک ٹوک کے سامعین 18-25 سال کی عمر کے نوجوان ہیں ، ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اس کی ترقی بہت ضروری ہے۔ دوم ، ٹِک ٹاک میں موجود مواد مختصر ویڈیوز ہیں جن کی ویڈیو کی اصلیت پر مرکزی دھیان ہے جو بدلے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ تیسرا ، ویڈیو کو بانٹنے میں ٹک ٹوک کی انفرادیت یہ آہستہ آہستہ ہر نوجوان کی ضرورت بن گیا ہے ، اور وہ اس ایپ کو استعمال کرنے میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ اس وقت کو کسی ہنر کو سیکھنے ، یا علم یا کوئی اور چیز حاصل کرکے استعمال کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ان کی مدد کرسکے۔ وہ اپنا وقت کسی کی مدد کرنے یا کھیل کھیلنے میں بھی گزار سکتے تھے ، جس سے ان کا دماغ اور جسم صحت مند رہتا ہے۔ اپنی زندگیوں پر توجہ دینے ، اور اپنے کیریئر اور مطالعے کو ترجیح دینے کے بجائے ، وہ ان ایپس کے عادی ہو رہے ہیں جو ان کے سوچنے کے عمل میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑاٸی جاۓ تو یہ بات واضح ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین کےنفاذ اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کےحوالےسےہر عشرےمیں ایک یا دو منظم اور بااثر تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ چاہے 1950کی دہاٸی ہو جب 1953میں قادیانیوں کیخلاف چلنےوالی تحریک سےلیکر 2017میں ختم نبوت ﷺ کےقانون میں تبدیلی کیخلاف چلنےوالی تحریک تک کہیں نا کہیں اسلام پسند طبقہ اپنےمطالبات منوانےکیلیے احتجاج کاسہارا لیتارہاہے۔

    اگرمذہبی جماعتوں کےاحتجاج پرغور کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہےکہ انہوں نےاپنےمطالبات منوانےکیلیےاحتجاج کاراستہ اپنایااور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔مگر سوال یہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کیلیےاحتجاج کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ مختلف ادوار میں حکومتیں اسلامی جماعتوں کیخلاف متشدد رویہ کیوں اپناتی ہیں؟تیسرا سوال یہ ہےکہ اسلامی جماعتیں جن کےپاس بہت زیادہ سٹریٹ پاور ہونےکےبعدآج تک اقتدار میں نہیں آ سکیں؟
    ان تمام سوالوں کےجواب ڈھونڈنےکیلیے پاکستان میں تعلیمی نظام کوسمجھناضروری ہے۔اس وقت پاکستان میں تین قسم کےتعلیمی نظام موجود ہے۔ایک تعلیم نظام وہ ہے جس میں اشرافیہ کےبچےتعلیم حاصل کرتےہیں۔ان تعلیمی اداروں میں سرِ فہرست ایچیسن کالج لاہور ہے۔اس کالج کاقومی سیاست میں کردار کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی وزیرِدفاع پرویزخٹک سمیت بہت سےوفاقی و صوباٸی وزرا ایچیسن کےپڑھےہوۓ ہیں ایچیسن کےعلاوہ دیگر اداروں میں LUMSیونیورسٹی لارینس کالج مری سمیت بیکن ہاٶس اور لاہور گرامر سکول شامل ہیں جبکہ غیرملکی گریجوایٹس بھی شامل ہیں جن میں بلاول بھٹو سرفہرست ہیں درج بالاتعلیمی اداروں میں صرف جدید تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہےاور سیکولرزم کی ترویج کی جاتی ہے۔ اس لیےجب یہ لوگ نظام پرقابض ہونگے جو سیکولراداروں سےپڑھےہونگےتویہ سیکولرزم کی ترویج کریں گے ناکہ اسلام کو۔دوسرا طبقہ متوسط طبقہ جو اسلام کےقریب توہوتےہیں مگر اپنی روزی روٹی کےچکرسےباہر نہیں نکل پاتےاسلام بماقبلہ سیکولرزم کی جنگ میں عملاً شریک نہیں ہوتے۔اس لیے انہیں ملکی حالات سےخاص غرض نہیں ہوتی۔

    جبکہ تیسرا طبقہ مذہبی طبقہ ہے جوحکومت کی غیراسلامی قوانین اور غیرشریعی پالیسیوں کےخلاف نکلتےہیں۔مگر چونکہ نظام پر سیکولر اشرافیہ کا قبضہ ہےاس لیےیہ اپنےمطالبات نہیں منوا پاتےاور مجبوراً پہیہ جام ہڑتال کرتےہیں اور سیکولر اشرافیہ کی حکومت مجبوراً انکےمطالبات وقتی طور پر مان لیتی ہے۔ مگر بعدمیں پھر کسی نا کسی موقع پہ سیکولر پاکیسیاں جاری رکھتی ہے۔
    اب وقت آگیاہےکہ اسلام پسند طبقےکو نظام میں اپنےپنجے گاڑھنےچاہیں اورتمام اہم اداروں خاص کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ٗ سیاستٗ عدالتی نظام ٗ بیوروکریسی ٗ میڈیا اورصنعت و تجارت میں اپنے نوجوانوں کو شامل کرنےکیلیے جدید تعلیم پرتوجہ دینی چاہیے۔اگر ایسا نہ کیاگیا تولبرل اور سیکولر طبقہ جوپہلےہی اتنامظبوط ہوچکاہے اسے روکناناممکن ہوجاۓگا۔

    @waqasRizviJutt

  • خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ، اور اس بنیادی حق کو فرہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے حصول تعلیم کے زریعے ہی انسان اپنی منزل تک کے راستے اسان کر دیتا ، حصول تعلیم کے زریعے دنیا نے چاند پہ قدم رکھا ، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک جیسا کہ امریکہ اور سعودی عرب چاند پہ کلوننگ کا منصوبہ بنا رہے ہیں کلوننگ کے حوالے سے سعودی ایجوکیٹ بھی کر رہے ہیں اس جدید تعلمی دور میں خیبر پختونخوہ کا آخری ضلع، ضلع کوہستان وہ تمام تر بنیادی تعلمی سہولتوں سے محروم ہے جو کہ ایک بچہ یا شہری اپنی ریاست پہ حق رکھتا ہے ، محکمہ تعلیم کا پوچھ تاش صرف شہر تک محدود ، اس محدود اینوسٹیگشن سے گاوں میں تعاینات محترم استاتذہ حضرات برپور فایدا اٹھاتے ہیں ، گاوں کا میٹرک پاس لڑکا جس کو ریڈینگ اتی ہو ۸ سے ۱۰ ہزار تک کی تنخواہ اس تک پنچا دی جاتی ہے اور وہ ایک قسم کا خود کو ہیڈ ماسٹر سمجھتا ہے سرکاری طور پہ تائنات استاد شہر میں ایک اعدد کوٹھی میں آ بستا ہے ، خدانخواستہ تگڑی اینوسٹیگیش ٹیم آ جاے تو اس کے اگے کے سہولت کار جانے سے پہلے فون کال پہ اطلاع فرہم کر دے گے کہ صاحب ہم تشریف فرما رہے ہیں اپ اپنی جگہ حاضرہو.

    سبحان اللہ، سکول کی عمارت اس کی تو بات ہی الگ ہے، عمارت کو تو ایسے کارآمد طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے کہ پوچھے ہی مت، پہلے تو سکول کی عمارت کھنڈر کا منظر پیش کرے گی ، بد قسمتی سے ایک عد کمرہ بچ بھی گیا ہو تو اس کے لون میں ، لمبے کانوں والی ایک بکری اور گاے اپنے بچھڑے کے ساتھ دھوپ تب رہی ہوگی اور اس نیک کام میں چوکیدار کا پورا پورا ہاتھ ہوگا، جوہی براے نام اینوسٹیگشن ٹیم کی کال اے گی چکیدار بھی مال معاوشی کو سایڈ کردے گا اور سکول کو صاف ستھر کر رکھے گا کیونکہ انے والے اینوسٹگیشن ٹیم میں ایک عدد ممبر ان کے اس نیک کام میں ملا ہوا نہیں ہوتا ، یہ سلسلہ کئی دہائوں سے چلا آ رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں.
    بچیوں کے سکول کا تو اللہ ہی حافظ ہے.

    @ArafatBadr6