Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹیڑھے دانت اور انکا علاج(2) تحریر : ڈاکٹر نبیل چوھدری
    ٹویٹر : @nabthedentist

    پچھلے کالم میں بچوں کے دودھ کے اور پکے دانت آنے اور ان سے جڑی بیماریوں پر سرسری بات کی تھی آج اس کالم میں بچوں کے دانتوں سے جڑے سب سے بڑے مسئلے یعنی ٹیڑھے دانتوں کو ڈسکس کیا جایئگا
    بچوں میں ٹیڑھے دانتوں کے آنے کی کئ وجوہات ھوسکتی ھیں جن میں کچھ پر والدین بے بس اور کچھ کو ٹھیک رکھنا والدین کے بس میں ھوتا ھے کافی ساری وجوہات میں سے کچھ یہاں رکھے دیتا ھوں
    1۔بچوں کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے یا انکی فیملیز میں کسی کے دانت ٹیڑھے ھونا
    2۔بچوں کا فیڈر یا انگوٹھا منہ میں زیادہ رکھنا اور اس سے تالو کو آگے کی طرف مستقل کھینچتے رھنا
    3۔جبڑے کا چھوٹا ھونا
    4۔نئے پکے دانتوں کا سائز نارمل سے زیادہ بڑا ھونا
    5۔یا دونوں چھوٹا جبڑا بڑے دانتوں کا ھونا
    6۔بچپن میں دودھ کے دانت کسی وجہ سے جلدی نکلوالینا

    الغرض متفرق وجوہات سے دانتوں کا ٹیرھا پن آجاتا اب دانت ٹیڑھے بھی کئ اقسام میں کئ اشکال میں ھوتے جب تک انکو جان نھیں لیتے بطور ڈینٹل سرجن انکا علاج کرنا اور بچے کی فیملیز کو سمجھانا انتہائ مشکل ھوجاتا
    1۔دانتوں کا باھر کی طرف نکلنا
    2۔دانتوں کا ٹھیک ھونا مگر جبڑے کی ھڈی کا باھر کی طرف ھونا
    3۔یا دونوں دانت بھی اور جبڑے کی ھڈی کا باھر ھونا
    4۔دانتوں کا اندر ھونا یا جبڑے کا کافی اندر ھونا یا دونوں کا ھی اندر ھونا
    5۔دانت ٹیڑھے آگے پیچھے اپنی جگہ پر ھی آنا
    6۔دانتوں کی ایک ھی جگہ crowding یعنی رش ڈال دینا
    ٹیڑھے دانتوں کا علاج جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا 11 سال کی عمر یا پھر اسوقت جب canine منہ میں نکلتے اسوقت کیا جاسکتا اس سے پہلے اگر دانتوں کو کسی حد تک ٹھیک رکھنا یا اپنی جگہ پر رکھنا چاہتے تو removable appliance لگا سکتے ٹیڑھے دانت عمر کے کسی حصے میں لگا سکتے میرے پاس کلینک میں 60 سال کے لوگ بھی آکر دانت سیدھے خرواکر جاچکے ٹیڑھے دانتوں کے علاج کے اسوقت کئ قسم کے علاج موجود ھیں
    1۔ کنزرویٹو آرتھوڈونٹک ٹریٹمنٹ یعنی Braces
    یہ علاج سب سے کامیاب 100 فیصد رزلٹ اور دیر پا ھے اس میں دانتوں پر سٹین لیس سٹیل بریکٹس اور تار لگائی جاتی اور قریبا سال دو سال یا کئ کیسز میں 4 -5 سال تک یہ تار لگائی جاتی ھے پہلے مہینے تین سے چار بار ڈینٹل کلینک پھر ھر ماہ ایک یا دو بار آنا پڑھتا ھے
    2۔کلر لیس آلائنر
    یہ طریقہ کار زیادہ تر پروفیشنل لوگوں میں لگائے جاتے جو دانت سیدھے ھوتا کسی کو دکھانا نھیں چاہتے کیونکہ یہ کلر لیس ھوتے تو لوگوں کی نظروں میں نھیں آتے انکا رزلٹ بھی سو فیصد ھوتا مگر یہ علاج کافی مہنگا اور رزلٹ کافی دیر سے حاصل ھوتا ھے

    ٹریٹمنٹ کے دوران ایک ڈینٹل سرجن لئے جو سب سے مشکل کام ھوتا وہ مریض کو اور اسکی فیملی کو یہ باور کرانا ھوتا کہ ان دانتوں کیلئے سپیس بنانی ھے اور اسکے لئے کم از کم 4 دانت دو اوپر والے اور دو نیچے والے نکالنے ھونگے
    اور ایکبار جب ٹریٹمنٹ ھوجائے تو سب سے اہم مرحلہ دانتوں کو اپنی جگہ قائم اور برقرار رکھنا ھے اسکے لئے ریٹینر لگائے جاتے جو مریض کو کم از کم تین ماہ سے ایک سال تک لگانے پڑتے
    کئ کیسز جن میں جبڑا شامل ھو وہ ان ٹریٹمنٹس سے ٹھیک نھیں ھوپاتا ایسے میں سرجریز کی ضرورت بھی پڑجاتی

  • میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    میاں بیوی کا تعلق اور آج کا مُعاشرہ .تحریر: امان الرحمٰن

    اللہ قُرآن میں فرماتا ہے: اور مردوں پر عورتوں کا حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر حق ہے معروف طریقے پر اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ سورۃ البقرہ 228 اس آیت مبارکہ میں صرف حُسن معاشرت کے لیے ہی نہیں کہا گیا کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا مردوں پر اللہ نے فرض کیا ہے، بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے مسائل کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اِس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستُور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستُور نہیں ہوسکتا، اِس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گُزاری جائے تو اِس رشتے میں کبھی بھی تلخی اور کڑواہٹ پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ اسلام دینِ فطرت اور دینِ انسانیت ہے، اِس نے مسلمانوں کو ایسا نظام مُعاشرت عطاء فرمایا ہے کہ جس میں انسانی زندگی اور ہر طبقے کے افراد کے حقوق و فرائض متعین کردیئے گئے ہیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کے حقوق و فرائض کے حوالے سے اسلامی تعلیمات بہت واضح ہیں۔ اسلام میں حقوق و فرائض کے حوالے سے بیویوں کے باہمی تعلق اور اِس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اِس کے لیئے مرد و عورت دونوں پر ذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے حقوق و فرائض فرض کئے گئے ہیں، جن سے خاندان کی بُنیاد مضبوط ہوتی ہے اور مُعاشرے میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

    سورۃ نِساء میں حُکم دیا گیا: ’’اور اُن کے ساتھ اچھی طرح گُزر بسر کرو‘‘۔ ترجمہ رُوح القرآن جلد دوم عورتوں کے ذمے احکام بیان کرنے کے بعد قُرآن کریم دوبارہ شوہروں کو بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حُکم دیتا ہے کہ تمہارے اوپر عورتوں کے جو حقُوق ہیں، اُنہیں اچھی طرح ادا کرو، اور خُود کو بالادست و بااختیار سمجھتے ہوئے اُن کے ساتھ دستور شرعی کے خلاف بدسلوکی نہ کرو، مگر یہاں ہمارا مُعاشرہ دین سے دُور ہوتے ہوتے اپنی ذاتی زندگی سے بھی دُور ہوتا جا رہا ہے ہمارے رشتے رسم و رواج غیر اسلامی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنی اصل زندگی جس کا طور طریقہ ہمیں ہمارے نبیﷺ نے اپنی زندگی میں عمل کرتے ہُوے زندگی کا تمام ضابطہِ حیات بتایا سکھایا مگر ہم دعوے تو نبیﷺ سے "عشق” کے کرتے ہیں اور عمل ہمارا غیر اسلامی ہے تو اِس رشتے میں دراڑ تو ہم خُود ڈالتے ہیں، وجہ کیا ہے ہم تفصیل میں نہیں جاتے عام باتیں زیرِ نظر رکھتے ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم صرف درگُزر کرنے سے ہی ایک دُوسرے کا اعتماد، پیار، خلوص حاصل کر سکتے ہیں، اِس لئے درگُزر کرنا سیکھیئے اللہ تعالیٰ بھی درگُزر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تو کیوں ناں ہم درگُزر کرتے ہُوئے اپنے رشتے کو بھی خُوشحال بنائیں خُوبصُورت بنائیں اور اللہ بھی ہم سے خُوش ہو اور رحمتیں نازل ہوں، ہمارے مُعاشرے میں جہاں بے شُمار تبدیلیاں ائی ہیں یا یوں کہیں کے شامل کی گئی ہیں جن میں جُھوٹ، غیبت، تہمت، حسد، یہی چند چیزیں ہیں جن سے ہمارے خُوبصورت رشتے برباد ہو رہے ہیں ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں اپنے اسلامی طریقے اپنانے سے ہی ہم اپنی زندگی پرسکون اور خُوشحال بنا سکتے ہیں جس کے لئے ہمیں صرف اپنی عادتیں اسلامی تہذیب کہ مطابق بنانا ہوں گی، پھر آپ خُود اپنی نظروں سے دیکھیں گے یہی مُعاشرہ آپ کے سامنے بہترین مُعاشرہ بنتا چلا جائے گا اِن شاء اللہ
    اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    @A2Khizar

  • استاد کا معاشرے میں مقام  تحریر : اسامہ خان

    استاد کا معاشرے میں مقام تحریر : اسامہ خان

    انسان ایک اشرف المخلوقات ہے لیکن اس کو اشرف المخلوقات کا اصل مقصد اور مطلب اس کے والدین اور اس کے استاذہ کرام سمجھاتے ہیں، ایک بچہ پیدا ہوتا ہے زندگی کے تین برس گھر میں گزارتا ہے اور اس کے بعد دنیاوی اور دینی تعلیم کے لئے سکول و مدرسہ جاتا ہے یہاں سے اس کا استاذہ کرام سے سیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے سکول میں اس کے بہت سے اساتذہ کرام تبدیل ہوتے ہیں جیسے کہ پرائمری سکول کے الگ استاد ہوتے ہیں مڈل کے الگ اور میٹرک کے الگ ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے پرائمری میں بچے کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکھایا جاتا ہے کیا اس نے اپنے استاذہ اور والدین کا کیسے احترام کرنا ہے اور بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی زندگی کیسے گزار سکتا ہے اور کامیاب انسان بننے کے لئے اس پر سب کا احترام لازم ہے۔ یہ سلسلہ کالجز اور یونیورسٹیز میں چلتا رہتا ہے لیکن جب بچہ یونیورسٹی میں جاتا ہے تو اس کو دنیا کے اصل رنگ دکھائے جاتے ہیں ان رنگوں میں ایک رنگ یہ بھی ہوتا ہے آپ کے ساتھ ساری زندگی کوئی نہیں چلے گا سوائے آپ کے والدین کے اور ساتھ ہی ساتھ استاذہ کرام پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کیسے گزارنی ہے اس کے بعد جب وہ بچہ ایک اعلی درجے کا افسر بن جاتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے استاذہ کرام کی دعائیں اور محنتوں کا صلہ ہوتا ہے اگر استاذہ کرام اس پر اپنا وقت اور محنت نہ لگاتے شاید وہ بچہ ایک اچھے مقام تک نہ پہنچ سکتا آج استاذہ کرام کو برا بھلا کہا جاتا ہے کہ آپ نے ہمارے بچے پر ہاتھ کیوں اٹھایا اگرچہ دیکھا جائے تو آپ کے بچے کی بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے، کل کو وہ بچہ جب ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے تو استاد کو بھی کبھی بھی داد نہیں دیتا کہ آپ نے ہمارے بچے پر اتنی محنت کی کہ آج وہ اتنا اچھے مقام پر پہنچ گیا ہے حالانکہ استاد اس بچے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہے کہ یہ بچہ ہم سے پڑھ کر گیا ہے اور آج اتنے اچھے مقام پر بیٹھا ہے، ایک استاد کے ہاتھ سے پڑھے ہوئے بچے سیاست دان، جج، وکیل، ڈپٹی کمشنر اور بہت بڑے بڑے انسان بنتے ہیں۔ لیکن افسوس اپنی کامیابی کے بعد ہم اپنے استاد اکرام کو بھول جاتے ہیں ایک دفعہ ایک استاد کا ٹریفک پولیس افسر نے چلان کاٹ دیا استاد کی مصروفیات کی وجہ سے پورا مہینہ چلان نہ بھروا سکے جب استاذہ کرام کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ نے چلان کیوں نہیں جمع کروایا تو انہوں نے کہا میں استاد ہوں مصروفیات کی وجہ سے میں چالان جمع نہ کروا سکا جب جج نے یہ سنا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ سب اٹھ کھڑے ہوئے ان کے احترام میں تو جج صاحب نے کہا آپ جیسے استاذہ کرام کی وجہ سے آج ہم جج بنے ہیں یہ کہہ کر جج صاحب نے چلان پھاڑ دیا اور استاد صاحب کو باعزت طریقے سے ان کی مصروفیات کی طرف روانہ کیا۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے ایسی بے تحاشہ مثالیں پائی جاتی ہیں آج ہم جو بھی ہیں اپنے اساتذہ کرام کی وجہ سے ہیں ان کی دعاؤں کی وجہ سے ہیں اس لیے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ اہم مقام پر فائز ایک استاد ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ باشعور قومیں بناتے ہیں وہی قومیں کل کو ملک کے لیے دن دگنی رات چگنی محنت کرتے ہیں لیکن یہ سفر یہی پر ختم نہیں ہوتا جب ایک انسان ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو جاتا ہے اور اپنے ملک کے لیے کام کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کو اس وقت بھی ایک استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی رہنمائی کر سکے کہ آپ نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے کیسے لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور یہ عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے

  • جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    جنسی زیادتی اور لبرلز کی منافقت . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا دور آیا ہے تب سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے خواتین بچے چھوٹی بچیاں غرض کے ان درندوں سے تدفین ہونے والی لاشیں بھی نہیں محفوظ، پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ہمیشہ سے اس معاملے پر متحرک نظر آتے ہیں ان ایشوز پر بات کرتے ہیں آواز بلند کرتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی لوگ ہیں پاکستان میں جو اس معاملے پر اپنی سیاست چمکاتے یا اپنا دھندہ رکتے نہیں دیکھ سکتے ہیں ان میں اکثریت ہے ہمارے دیسی لبرلز کی جو اپنے آپ کو کہتے تو لبرل ہیں معاشرے کو دکھانے کے لئے ایک ڈھونگ بھی رچاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ زیادتی کرنے والوں کے ساتھی ہیں۔

    کیسے ؟؟
    چلئیے میں بتاتا ہوں، آپ لوگوں کو زینب زیادتی کیس یاد ہوگا اس کیس کے بعد ملک میں ایک رائے عامہ تشکل پا گئی تھی کے زیادتی کرنے والے کو سر عام سزا دی جائے لیکن یہ لبرل کا کارنامہ ہے اور پی پی اور ن لیگ میں چھپے ان عناصر کا کارنامہ ہے کہ یہ کام نہ ہوسکا ان لوگوں نے اس کی مخالفت صرف اس لئے کی کیونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو بیرون ممالک کے سامنے لبرلز بنا کر پیش کرتے ہیں خاص کر پیپلزپارٹی، اس کے بعد فیصل واوڈا ایک بل لے کر آئے جس میں زیادتی کرنے والے کے لئے عبرتناک سزائیں شامل تھیں جس کی مخالفت ان عناصر نے کی اور کہا گیا کے یہ سزائیں غیر انسانی سزائیں ہیں تو سوال یہ ہے کے وہ لوگ جو بچوں سے زیادتی کے بعد ان کا قتل کرتے ہیں کیا وہ انسان کہلانے کے لائق ہیں؟؟
    یہ لبرلز ان کا ساتھ کیوں دیتے ہیں ؟؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے؟؟ نہیں ؟

    اس کی وجہ میں بتاتا ہوں زیادتی کے واقعات کا تعلق معاشرتی بے حیائی سے ہے جسے یہ لبرلز آذادی کا نام دیتے ہیں فحاشی اس کی بڑی وجہ ہے اور یہ لبرلز اور ان کا کاروبار اس سے منسلک ہے اس لئے یہ اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے ابھی حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے فحاشی اور عریانی کے خلاف ایک جملہ کہا تھا جس پر لبرلز میں صف ماتم بچھ گیا تھا اب کچھ لوگوں نے اس میں اس بات پر بھی اعتراض کیا کے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں انہوں نے کونس فحش لباس پہنا ہوتا ہے ؟؟؟ وزیر اعظم اس بات کا جواب دیں اور اس بات پر کافی مذاق بنایا گیا اس کا جواب یہ ہے ہر زیادتی کا واقعہ فحاشی سے نہیں جڑا ہوتا لیکن اگر آپ اس کی جڑ تک جائیں تو بات فحاشی پر آ کر ہی رکتی ہے، کوئی شخص اگر مسلسل غلط چیزیں دیکھ رہا ہے تو اس میں جنسی خواہشات بڑھ جاتی ہیں پھر وہ انہیں پورا کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتا ہے وزیر اعظم نے کبھی یہ نہیں کہا کے ایسا کرنے والا شخص بے قصور ہے بلکے وزیراعظم نے تو ان کے لئے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جسے یہی طبقہ غیرانسانی قرار دیتا ہے۔

    ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں ایک لڑکی کا قتل ہوا ہے جو اپنے دوست کے گھر بغیر شادی نکاح کے اس کے ساتھ رہ رہی تھی،لبرل اسے آذادی کا نام دیتے ہیں کے اس کی زندگی اس کی مرضی اس لڑکی کو اس کے دوست نے قتل کر دیا آپ سوچ سکتے ہیں اگر اس پر وزیراعظم یا کوئی شخص اس بات کا مطالبہ کر دے کے یہ ہمارے معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے ایسے رشتے جنہیں رشتہ بھی نہیں کہا جا سکتا صرف مغربی معاشرے میں ہوتے ہیں اور اس سے اس معاشرے کی جو تباہی ہوئی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں امریکہ اور برطانیہ زیادتی اور آبارشن میں سہرفہرست ممالک میں آتے ہیں وہ الگ بات ہے ان کا میڈیا اس بات کو چھپاتا ہے۔ ایسی بات کرنے والے کا یہ لبرلز کیا حال کریں گے ؟؟؟
    کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک سزا بھی ان کی مرضی کی ہو۔۔۔ تعلقات بھی۔۔۔بیانات بھی۔۔۔قانون بھی اور سوچ بھی ان کی مرضی کی ہو یہ کہتے تو ہیں کے ہم آذادی رائے کا پرچار کرتے ہیں مگر ان کے سامنے آپ ان سے اختلاف کر کے دیکھیں ان سے بڑا انتہا پسند آپ کو نہیں ملے گا۔

    زیادتی کے خلاف سخت اقدامات کا مطلب ان کے کاروبار کی بندش ہے اس لئے یہ لوگ جانتے بوجھتے زیادتی کرنے والوں کی مدد کرنے والے بنے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا صارفین ان کے خلاف متحد ہوں اور ملک پاکستان میں زیادتی کرنے والوں کے لئے عبرتناک اور جلد سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کرانے میں ایک پریشر گروپ کا کردار ادا کرناہے۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو. آمین

    @Nomysahir

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود  تحریر: ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود تحریر: ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگر انسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بے عیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگر آج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے
    ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔
     اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں
    بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    Twitter: @zulfiqar7034

  • سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر :  ذوالفقار علی

    سماجی خدمات،  سماجی میڈیا تک محدود . تحریر : ذوالفقار علی

    اسلام میں سماجی کام اور سماجی خدمات کو بڑا زرف حاصل ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماجی خدمات کرنے پہ بہت زور دیا ہے ۔ یہ کہنا غلت نہیں ہوگا کہ سماجی خدمت کرنا ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ اگر کسی انسان سے احساس اور ہمدردی نکال دی جائے تو وہ انسان صرف ایک اکس بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس انسان کا وجود ایک مجسمےکی طرح ہے ۔

    اگرانسان مکمل ہوتا ہے، بنا احساس کے ۔
    تو بےعیب مجسمیں بھی مکمل ہیں بنا روح کے ۔ 

    احساس معاشرے کو توازن میں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے
    ایک معاشرے میں کئی اقسام کے طبقے ہوتے ہیں جیسہ کہ امیر ،غریب ۔ ان میں توازن تب ہی ممکن جب ایک دوسرے کے لیے احساس ہو۔ کیونکہ احساس ایک معاشرے میں امن قائم کرنے کا ایک اوزار ہے۔

    اگرآج بھی ہم دیکھیں تو دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی راہ پر غامزن ہیں جن میں احساس اور سماجی خدمت کا جزبہ ہے۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں احساس اور سماجی خدمات صرف ایک دکھااوا بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ بنا کسی غرض کے کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں بنتا۔ ہر چیز میں زاتی دنیاوی فائدہ ڈھونڈتے ہیں ۔ بس یہی وجہ ہے کے ہم آج دنیا سے بہت پیچھے کھڑے ہیں کیونکہ ہم نے دین کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے ۔ ہمارے عمل ہماری باتوں سے برعکس ہیں ۔

    اگر ہم اس وبا کے دوران ہی خد کو دیکھیں، تو ہم سماجی خدمات اور احساسات سے کوسوں دور تھے ۔اس وبا کے دوران جب ہم سب کو ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ یے ایک ایسا وقت تھا جس میں ہر کوئی اپنے کل کو لے کر پریشان تھا ۔ لوگوں کا روزگار وغیرہ سب بند تھے۔ اس وبا کے دوران سب سے زیادہ پریشان وہ غریب تبقہ تھا جو روز کماتے تھے، تو ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ کہیں لوگ بوکھ سے مر رہے تھے تو کہیں مایوس ہوکر خدکشی کر رہے تھے لیکن ہم حکومت اور سیاستدانوں کو سماجی میڈیا پہ قصوروار ٹھرا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ لیکن کبھی کسی پڑوسی سے اس کا حال پوچھنے نہیں جائیں گے کہ کہیں وہ بھوکا تو نہیں۔لیکن ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے سب سوشل میڈیا پر اپنے احساسات دکھا رہے تھے، بس چند لوگ ہی تھے جو اپنا فرض ادا کر رہے تھے جو حقیقی سماجی خدمات کر رہے تھے ۔ہالانکہ یہ وہ وقت تھا جس میں ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ ہمیں آگے بڑہ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ لازمی نہیں کہ کسی بڑے پیمانے پہ صدقہ کیا جائے اگر ہم صرف اپنے ہمسائے کے ہی مددگار بنتے تو کافی تھا ۔ کہا جاتا ہے نہ کہ صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے تو اپنے رشتیداروں کی طرف ہی مدد کا ہاتھ بڑہا دیتے ۔ کیونکہ شاید یہ وقت انسانیت کے لیے ایک امتحان تھا ۔ شاید یے وقت تھا انسانیت کو اجاگر کرنے کا ۔ شاید یہ وقت تھا ایک قوم بننے کا ۔ لیکن افسوس ایسے مشکل وقت میں بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ۔ وہ قومیں ہی عظیم قومیں بنتی ہیں جن میں احساس ہے، جو سماجی خدمات کو اولین ترجیع دیتی ہیں جو قومیں احساس سے ایک متوازن معاشرہ قائم کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک قوم تب ہی عظیم بنتی جب اس قوم کا ہر انفرادی فرد اپنی زمیداریاں پوری کرتا ہے ۔

    @zulfiqar7034

  • ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    ‏پیسے کی دوڑ . تحریر : ماریہ بلوچ

    آج کے دور کو بہت سے نام دیے جاتے ہیں گلوبل ویلیج سے ٹیکنالوجی سے لیس تیز بھاگتی دوڑتی دنیا ہمارے اس دور میں ہر شخص مصروف ہر شخص بھاگ رہا ہے اک ریس میں اک دوڑ میں۔ پیسہ بنانے کی دوڑ میں کامیاب ہونے کی دوڑ میں ۔۔ پیسہ زندگی کی ضرورت نہیں رہا بلکہ زندگی کا مقصد بن چکا ہے ۔ کوئ بھی اپنی انکم سے خوش نہیں ہر کسی کو مزید سے مزید کی تمنا ہے۔ خواہ اسکی خاطر اپنا راتوں کا آرام اپنے دن کا سکون اپنا کھانا پینا سب قربان کرنا پڑے کرنے کو تیار ہیں.

    پیدا ہوتے بچے کے مستقبل کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے مستقبل میں اس بچے کو کس پیشے سے منسلک کرنا ہے۔ کونسا پیشہ زیادہ کامیابی سے زیادہ کمانے کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہے سکول سے کالج یونیورسٹی تک اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ اس ادارے سے پڑھایئں جسکی ڈگری پروفیشنل لائف میں ترجیحی بنیادوں پر تسلیم کی جائے جس سے ایک اچھی بھاری تنخواہ کی نوکری مل سکے ۔۔
    کچھ عرصہ پہلے تک پیسہ اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔ہم اپنے رشتے اپنی دوستیاں حتی کہ اپنی اولاد تک کو فراموش کیے بیٹھے ہیں۔۔
    ہم زندہ رہنے کے لیے نہیں کماتے بلکہ کمانے کے کیے زندہ رہتے ہیں ۔ دن بدن ہماری ضروریات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے جسکے لیے مزید محنت مزید پیسہ چاہیئے۔

    پیسے کی اس دوڑ اور اس کمائ کی لت نے نوجوان نسل سے وہ کام بھی کروائے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک قبیح سمجھے جاتے تھے۔ ٹک ٹاک سنیک ویڈیوز بگو لایئو جیسی ایپس نے اس دوڑ میں آکر نوجوانوں کو ایک الگ ہی نشے سے متعارف کروا دیا ہے ۔ نوجوان نسل بنا کسی نقصان کے بارے میں سوچے دھڑا دھڑ ان ایپس سے منسلک ہوتے جا رہے ہیں اور اس سے ہماری مشرقی اقدار بہت بری طرح پامال ہوئ ہیں۔دوسرے الفاظ میں اپنی اقدار کا سودا چند ہزار یا لاکھ میں کیا گیا ۔

    ڈیجیٹل کرنسی کے نام پر چلنے والی کریپٹو کرنسی نے اس ریس میں مزید نوجوان اس آگ میں دھکیل دیے ہیں۔ جوے اور سود کو ایک شوگر کوٹڈ گولیبکی طرح پیش کیا جا رہا ہے جسکو نگلنے کے لے ہزاروں لاکھوں لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔
    بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا مقصد شخصیت یا معاشرے کی تعمیر نہیں بلکہ پیسہ و شہرت رہ گیا ہے ۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا مقصد بھی پیسہ کمانا ہے طلبا کی ذہنی و اخلاقی تربیت نہیں۔۔جتنا بڑا تعلیمی ادارہ ہو گا اتنے ہے بے حس لوگ معاشرے میں دے رہا ہو گا ان طلبا کی ذہنی گروتھ بھی اسی نہج پر کی جاتی ہے کہ کس طرح وہ مستقبل میں اپنے فانینشل سٹیٹس مزید بڑھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے ہم دن بدن پیسے کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اخلاقیات میں گرا ہوا معاشرہ بنا رہے ہیں اور یہی معاشرہ یہی سوچ اور یہی اقدار اپنی آنےوالی نسلوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

    ہم ایک بے حس معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ایک ایسا معاشرہ جسکا دنیا میں آنے کا مقصد ہی فقط پیسہ کمانا ہے۔ جہاں نوجوان نسل کو اس بات کی ترغیب دلائ جاتی ہے کی اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو آپکا قصور نہیں اگر آپ غریب مر جایئں تو آپکا قصور ہے۔ اور یہی مقصد زندگی بنا دیا گیا جو ہم آج دیں گے کل اسی حال میں معاشرے کو دیکھیں گے ۔۔۔فیصلہ آج بھی ہمارا ہے ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے.

    Twitter handle @ShezM__

  • اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    اسمارٹ فون چھیننے پر بچہ والد کے خلاف شکایت درج کرانے تھانے پہنچ گیا

    چین میں 14 سالہ بچہ موبائل فون واپس لینے پر اپنے والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرقی چین کے صوبے انشوئی میں 14 سالہ بچہ والد کے خلاف تھانے پہنچ گیا اور شکایت درج کرائی کے والد بچوں سے مشقت لینے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سے گھر کے کام کرواتے ہیں۔

    تھانے میں موجود افسر کو جب بات سمجھ نہیں آئی تو وہ بچے کو لے کر اس کے گھر پہنچ گئے اور بچے کے والد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ بچہ ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتا ہے اور گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا نہ ہی اپنی پڑھائی پر توجہ دیتا ہے۔

    پولیس اہلکار نے والد کو بچے پر زیادہ سختی کرنے سے منع کیا اور کہا کہ کچھ دیر کے لیے بچے سے موبائل لینے کا خیال خاصا بہتر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اس لڑکے کو نافرمان قرار دیتے ہوئے اس کے والدین پر اعتراض کیا ہے کہ انہیں بچے کے بگڑنے سے پہلے ہی اسے سمجھانا چاہیے تھا لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر بچے نے بدتمیزی کی اور تھانے میں اپنے ہی والد کے خلاف شکایت کردی، تو اس میں بھی والدین کی اپنی لاپرواہی کا دخل ہے۔

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق . تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار، انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔

    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔

    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔

    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    کشمیر الیکشن کے بعد وزیراعظم کی نظر سندھ پر . تحریر :‌ ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    اس وقت پنجاب ،کے پی کے ،گلگت ،وفاق پر مکمل پی ٹی آئ کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں اتحادی حکومت ہے ان تمام صوبوں میں زبردست ترقیاتی کام جاری ہیں ،صحت کارڈ دیئے جارہے ہیں ،قبضہ مافیاز کے خلاف آپریشن جاری ہیں ،عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جارہا ہے ،عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جارہا ہے ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف انڈسٹریز کو مزید بہتر بنانے کے لئے سہولیات دی جارہی ہیں ،صحت ،تعلیم اور پولیس سسٹم میں کافی حد تک بہتری آرہی ہے کسی بھی طرح عوام کو تنہا بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جارہا ہے ابھی کشمیر الیکشن جیتنے کے بعد یقینن کشمیر کی عوام کو بھی تمام سہولیات دی جائیں گی اور کشمیر کی خوشحالی کا دور اب شروع ہوا چاہتا ہے ایسے حالات میں صرف ایک صوبہ سندہ رہ گیا جو ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہونے کی بجائے مزید تباہی وبربادی کی طرف جارہا ہے تعلیم ہے نا صحت اور پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ جسے سندہ حکومت اپنی سیاسی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال کررہی ہے ،سندہ میں پچھلے ١٣ سال سے مسلسل پپلزپارٹی کی حکومت چلتی آرہی ہے ہر سال کھربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے لیکن وہ پیسہ عوام پر استعمال ہونے کی بجائے کرپشن لوٹ مار کی نظر ہورہا ہے عوام غربت کی زندگی گزارہی ہے جبکہ وزراء اور حکومتی مشیر اربوں کی جائیدادیں بنانے میں مصروف ہیں ،سندہ کی عوام کو بلکل بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے پپلزپارٹی کے اس ظلم وستم سے سندہ کی عوام تنگ آچکی وہ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی سے امیدیں لگائ بیٹھی ہے ،پی ٹی آئ واحد پارٹی ہے جو سندہ سے بھی پپلزپارٹی کا صفایا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ان حالات میں وزیراعظم صاحب نے کشمیر الیکشن کے فوری بعد سندہ میں پارٹی کو مضبوط بنانے کی حکمت بنالی اور آئندہ بلدیاتی الیکشن ہوں یا ٢٠٢٣ کا الیکشن پپلزپارٹی کو عبرتناک شکست دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سندہ میں پی ٹی آئ قیادت کو متحرک ہونے کا ٹاسک دے دیا اور وزیراعظم صاحب خود بھی سندہ کا دورہ کریں گے.

    سندہ میں پی ٹی آئ کو مضبوط کرنے کے لئے سب سے پہلے وزیراعظم صاحب کو پی ٹی آئ میں بیٹھے الطاف حسین کی سوچ رکھنے والے تعصب پرست عناصر کی زبان بند کرنی پڑے گی یہ لوگ آئے روز کراچی کو سندہ سے الگ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے سندہ کی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بات کا فائدہ پپلزپارٹی اٹھاتی ہے Mqmمہاجر کارڈ اور پپلزپارٹی سندھی کارڈ کے زریعے عوام میں تعصب پھیلاکر ووٹ لیتے آئے ،mqm کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کا نعرہ لگاکر کراچی شہر سے جیتتی آئ ہے جبکہ پپلزپارٹی باقی سندہ کے اضلاع سے مرسوں مرسوں سندہ نا ڈیسوں کا نعرہ لگاکر الیکشن جیتتی رہی دونوں پارٹیاں اس حد تک تعصب پھیلاتی رہی ہیں کہ نا mqm کبھی سندہ کے دیہی علائقوں میں اپنی جگہ بنا پائ اور نا پپلزپارٹی کبھی سندہ کے شہری علاقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکی اس کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی دونوں تعصب کی بنیاد پر عوام کو آپس میں لڑواکر الیکشن جیتتے رہے.

    لیکن پی ٹی آئ کو یہ غلطی ہرگز نہیں کرنی چاہیے ،پی ٹی آئ کو کراچی تا کشمور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،سندھی مہاجر کی تعصب کی لڑائ کو ختم کرکے دونوں کو ایک دوسرے کو قریب لانے کی ضرورت ہے اس وقت بھی پی ٹی آئ میں کراچی شہر کے کچھ لوگ ایسے بیٹھے ہیں جو الطاف حسین والی سوچ کے تحت تعصب پھیلاتے نظر آتے ہیں وہ ہر وقت کراچی والے کراچی والے کرتے نظر آتے ہیں ان کو لگتا ہے شائد پپلزپارٹی شہر کراچی کے علاوہ باقی پورے سندہ میں بڑے ترقیاتی کام کروارہی ہے بس کراچی کے ساتھ ذیادتی کررہی ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں پپلزپارٹی بلاتفریق پورے سندہ کو تباہ کررہی آپ کراچی سے تھرپارکر ،شکارپور،لاڑکانہ ،نوابشاہ ،گھوٹکی کہیں بھی چلے جائیں کسی جگہ آپ کو کوئ ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آئے گا البتہ ان کراچی والے کراچی والے کرنے والوں کی وجہ سے پی ٹی آئ کو سندہ کے باقی اضلاع میں جگہ بنانے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پپلزپارٹی دیہی علائقوں میں پی ٹی آئ کے ان کراچی والے کا نعرہ لگانے والوں کی باتیں عام سندھی کو سناکر یہ تعصب پھیلانے کی کوشش میں لگی ہے کہ اگر پی ٹی آئ بھی اقتدار میں آگئ تو یہ بھی mqmکی طرح کراچی کو سندہ سے الگ کرنے کی کوئ سازش کریں گے اور سندہ کی عوام بھوک ،پیاس،تکلیفیں سب برداشت کرکے ایک بار پھر پپلزپارٹی کی طرف چل پڑتی ہے تاکہ سندہ کی تقسیم نا ہو پپلزپارٹی اس کام کے لئے سندہ کی قومپرست جماعتوں کی بھی خدمات لیتی ہے تاکہ پی ٹی آئ کو سندہ دشمن مان لیا جائے ،ایسی صورتحال میں پی ٹی آئ پہلے تو بلکل واضع احکامات جاری کرے اپنی ان کراچی اور سندہ کہنے والے پارٹی قیادت کو کہ شہر کراچی کے حقوق کی جب بات کرو تو ساتھ سندہ کے باقی اضلاع کے بھی حقوق کی بھی بات کریں کسی بھی طرح اپنی زبان سے ایسے کوئ الفاظ ادا نا کریں جہاں سندہ کے باقی اضلاع کے لوگوں کو آپ کے الفاظ سے کوئ تعصب کو بو آئے.

    پورے سندہ میں پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش کریں مہاجر اور سندھی بھائیوں کو آپس میں قریب لائیں ان کے درمیان سے نفرت یا تعصب ختم کریں سندہ میں رہنے والے سب ایک ہیں کا نعرہ لگائیں ،پھر سندہ کی بڑی سیاسی شخصیات ،پڑھے لکھے نوجوانوں اور بڑا قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات کو اپنے ساتھ ملائیں ،سندہ میں اپنے کارکنوں کی داد رسی کریں ،مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں ،سندہ کے عوام کی رائے کو تسلیم کریں ،آپ کے کسل لفظ سے کسی کی دل آزاری کسی صورت نا ہو.

    ہر ضلع اوریونین کاونسل تک تنظیم سازی کی جائے ،زرداری لیگ کی سندہ میں کرپشن لوٹ مار بے نقاب کی جائے ،قومپرست جماعتوں سے بھی بات چیت کرکے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں ،سندہ میں پپلزپارٹی مخالف تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں یا ان سے اتحاد کریں ایک بہترین حکمت عملی اور واضع پالیسی کے ساتھ سندہ میں پپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے اترا جائے تاکہ سندہ سے پپلزپارٹی کی بادشاہی دور کا اختتام ہو اور ایک نیا سندہ بن سکے تاکہ سندہ میں پی ٹی آئ حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے.

    @MajeedMahar4