Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی کیا ہے؟ جب ہم پریشان ہوں اور ہمیں کوئی چیز خرید کر خوشی ملے جبکہ اس چیز کی ہمیں ضرورت نہ ہو تو اسے ریٹیل تھراپی کہتے ہیں.

    اس میں کوئی بری بات نہیں بظاہر لیکن جو کام ہمیں اچھا لگتا ہے ہمیں اسکی عادت ہو جاتی ہےاور ہم اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں ریٹیل تھراپی کے کچھ نقصانات یہ ہیں اس عادت سے ہم دھڑا دھڑ خریداری کرتے ہیں اور ہماری شاپنگ کنٹرول میں نہیں رہتی
    یہ تھراپی جب عادت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو مہنگی سے مہنگی چیزوں کی خریداری کی طرف لے جاتی ہے اور یہ غلط فہمی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ میں نا خوش ہوں ،کیونکہ میرے پاس یہ چیز نہیں ہے یا میرے پیسے ختم ہو گئے ہیں میں نے شاپنگ نہیں کی اب میں خوش کیسے ہوں گی.

    یہ عادت ایسے شدت اختیار کرسکتی ہے جیسے کسی نشے کی لت میں مبتلا انسان کو نشے کی طلب ڈاکٹررونلڈریوڈن نے اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ ہمارے دماغ میں موجود خوشی کے ایک ہارمون "سیروٹونین” کا تعلق خوشی سے ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہم شاپنگ کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    جب ہم کوئی ایسی شے خریدتے ہیں جسکا تعلق دماغ کے سکون پہنچانے والے ہارمون سیروٹونین سے ہوتا ہے تو وہ شے خریدنے پر ہمیں خوشی ہوتی ہے یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ سکون آور دوا کھانے پہ ہوتا ہے.

    اسلیے ہم بہت سی چیزیں بلاوجہ اور بغیر کسی ضرورت کے خود کو مختلف محسوس کرنے کےلئے خریدتے ہیں اور ہمارا بجٹ ڈسڑب ہونے لگتا ہے ہم بچت نہیں کر سکتے جسکی وجہ سے پیسے ختم ہونے پہ ہم پریشان ہوتے ہیں اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ ہم اس عادت میں خطرناک طور پہ مبتلا ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں تو ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں یہ ایک لاشعوری عادت ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ اس ماہ اتنے پیسے اگر میں نے بچا لیے تو میں خوش ہوں گی اس طرح آہستہ آہستہ ہم اپنی پرانی روٹین کی طرف آسکتے ہیں اور ریٹیل تھراپی کے برے اثرات سے بچ سکتے ہیں.

    Twitter: @HusnHere

  • ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    نماز سے سلام پھیرتے ہی نمازیوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ امام صاحب نے تین رکتیں پڑھائیں ہی چار رکتیں۔طویل بحث ہوئی لیکن سب ایک بات پر متفق نہ ہو سکے اتنے میں اگلی صف میں بیٹھا ایک شخص بولا رکتیں تو تین ہوئی ہیں اس شحص سے پوچھا گیا کہ تم اتنے اعتماد کے ساتھ بول رہے ہو تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو کہنے لگا دلیل کی کیا بات ہے میری چار دوکانیں ہیں ہر رکت میں، میں نے اپنی ایک دوکان کا اج کا حساب کتاب کیا ہے اور ابھی میری چوتھی دوکان کا حساب رہتا تھا تو امام صاحب نے پہلے ہی سلام پھیر لیا۔
    ایک وقت میں ایک کام ہی کیا جاتا ہے زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں توجہ بہت ضروری ہے چاہے وہ پرھانے والا استاد ہو،پڑھنے والا طالب علم ہو، مزدور ہو یہ کوئی بھی سرکاری ملازم ہو اگر وہ اپنے کام پر توجہ نہیں دیتا تو پھر زاتی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو کے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں اپنے اپ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ جب ہمیں رقم گننی ہو تو ہماری ساری توجہ گننے کی طرف ہوتی ہے اسی طرح ہم ٹی وی، موبائل پر فلمیں ڈرامے کس قدر توجہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں آواز بھی نہ دے۔لیکن نماز میں ہماری توجہ کہاں؟ ذرا غور کیجئے کی ایسا کیوں؟
    تیری رحمتوں پہ ہےمنحصر،میرے ہر عمل کی قبولیت
    نہ مجھے سلیقہء التجا،نہ مجھے شعور نماز ہے۔

    @HusnainMumtaz10

  • انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    مومن کا کامل ایمان ہوتا ہے کہ تمام جہانوں کی مخلوقات کا خالق "اللہ” ہے ۔ اس نے اپنی مخلوقات کو اپنی مرضی و رضا سے تخلیق کیا۔ وہ جب جہاں جسے چاہے جیسے چاہے تخلیق کر دیتا ہے۔ میرا اللہ کامل ہے، بے شک اس میں کوئی عیب نہیں، میرا مالک ہر عیب سے پاک ہے۔ اپنی مخلوق کو پیدا کرتے ہوئے وقت،جگہ،عمر،موت یہ سب اللہ اپنی مرضی سے طے کرتا ہے۔اگر بات کی جائے اشرف لمخلوقات کی تو انسان کی جائے پیدائش میں خدا کی ہی مرضی ہوتی ہے۔ یوں تو مومن زبان سےبولتا ہے کہ اللہ کی رضا میں اس کی رضا ہے مگر کچھ لوگوں کا دل ان کی زبان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ عموماً انسان کو یہ دیکھ کر پہچانا جاتا ہے کہ وہ کس خاندان میں پیدا ہوتا ہے اگر اونچے، اچھے خاندان سے ہو تو اس انسان کو بغیر جانے بغیر پرکھے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس کہ  بر عکس جو شخص بُرے یا کسی نیچ خاندان میں جنم لے تو اس کہ بارے میں یہی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی گھٹیا ہی ہے۔ انسان کو جانے بغیر جو یہ اچھے اور بُرے ہونے کا پیمانہ رکھا جاتا ہے یہ بہت غلط ہے۔

    کسی کو اس بِنا پر دھتکار دینا اور اس سے دُور ہو جانا کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس کی تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اس خاندان سے جُڑی نصبت کو اپنے دل و دماغ میں رکھنا اور اس نے نفرت کرنا کیا صحیح ہے؟
    اسی طرح اگر کوئی اچھے خاندان سے ہو تو اس کی تمام تر خامیاں جانتے ہوئے بھی اس کے گُن گانا کیا صحیح ہے؟
    نہیں ہر گِذ نہیں۔

    انسان کے اچھے برے ہونے کا اندازہ اس کے خاندان کو دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ کس انسان نے کب کہاں اور کس خاندان میں پیدا ہونا ہے یہ تو میرے اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے نا۔ ہم اگر اچھے خاندان میں پیدا ہو جائیں تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ تو یہ اکڑ اور انا کس بات کی ؟؟
    اسی طرح اگر ہم برے خاندان میں جنم لے لیں اور کوئی یہ سوچ کر ہم سے دور ہو جائے کہ ہمارا تعلق فلاں فلاں خاندان سے ہے، اور اس شخص کے سامنے اس کا اخلاق  اور محبت ایک طرف رکھ کہ  یہ بات بولی جائے کہ اس کے خاندان کی نسل کی نسل سے بھی دور رہنا چاہیے۔ کیا یہ سب درست ہے؟؟
    اُس شخص نے تو نہیں کہا تھا اللہ سے کہ مجھے فلاں خاندان میں پیدا کرے۔

    پیدائش کے وقت انسان خود تو اپنا خاندان پسند کر کہ پیدا نہیں ہوتا ۔اسے اگر اللہ نے نیچ خاندان میں پیدا کر دیا تو اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح اچھے خاندان میں پیدا ہونےوالے شخص کا بھی اس میں کوئی کمال نہیں ۔ کوئی بھی یہ ضمانت دے کر جنم نہیں لیتا کہ وہ جس خاندان میں پیدا ہو رہا ہے بالکل اسی خاندان کے لوگوں پر جائے گا۔
    اچھےخاندان سے برے ، اور برے خاندان سے اچھے لوگ بھی موجود ہیں اس دنیا میں جنہیں ہمارا معاشرہ کھلی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ پاتا یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ خدارا اس بات کو سمجھ جائیں کہ اللہ نے اپنی مرضی سے سب کو اپنی مرضی کی جگہ پہ پیدا کیا ہے۔
    وہ چاہتا تو ہمیں جانور بنا دیتا۔ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کہ ہمیں انسان پیدا کیا گیا یہ خدا کی رضا تھی وہ چاھتا تو ہمیں جانور بناتا اور ہم کچھ نہ کر پاتے۔ ٹھیک اسی طرح نیچ خاندان میں پیدا ہونے والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں، نہ ہی ان کی پیدائش سے پہلے خدا نے ان سے ان کی مرضی پوچھ کر وہاں پیدا کیا۔
    تو پھر ایسے لوگوں کا دل کیوں دکھایا جاتا ہے؟
    کیوں ان کے ہر اچھے عمل کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ صرف یہ دیکھ کر کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ۔
    دوسری جانب کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے والے بُرے شخص کے ہر عیب اور ہر گناہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
    کیا یہی مومنوں کا طریقہ ہے ؟
    جبکہ میرا اللہ تو صاف صاف کہہ چکا ہے کہ روزِ حشر ذات پات اونچ نیچ اس سب سےکچھ نہیں ہوگا، خدا کی نظر میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ ہے پرہیزگاری۔

    @zaynistic_13

  • پاکستان کا مطلب کیا . تحریر :  توقیر عالم

    پاکستان کا مطلب کیا . تحریر : توقیر عالم

    پاکستان اس وقت شاید اپنی تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر ہے جہاں اک طرف بیرونی طاقتیں پورے زور و شور سے پاکستان میں حالات خراب کرنے کے در پہ ہیں وہیں سیاسی افراتفری اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے ناانصافی کرپشن اقرباء پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے ہمارے نوجوانوں میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ جیسی بے حیائی عام ھو چکی ھے تعلیمی اداروں میں لڑکے لڑکیاں ناچتے نظر آتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ھو چکا ہے.

    تعلیمی ادارے تربیت گاہ کی بجائے ایک کاروبار بن چکے ہیں نوجوانوں کو مذہب بیزار بنانے کی مہم اپنے عروج پر ہے حقوق نسواں کے نام پر ہم جنس پرستی جیسی بے حیائی کے فروغ اور اس کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.
    پاکستان کے قیام کا واحد مقصد ایک فلاحی اسلامی ریاست تھا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین کی پیروی کر سکیں اسی خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم علامہ اقبال اور دوسرے بانیان پاکستان نے ہندوستان میں مسلمانوں کو الگ ریاست کے قیام کے لیے قائل کیا اور ایک بھرپور تحریک چلائی تحریک پاکستان میں مسلمان جو نعرہ لگایا کرتے تھے وہ تھا ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ” یعنی پاکستان کا مطلب شرک کا رد اور خدا کی واحدانیت کا اعلان تھا حالات اور واقعات نے ثابت کیا کہ پاکستان کا قیام مسلمانان ہند کے لیے ناگزیر تھا
    تقسیم ہند کے وقت لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھر بار جائداد کاروبار چھوڑ کر پاکستان چلے آئے ہجرت کے وقت جو واقعات رونما ہوئے اس خون آلود داستان کے دلخراش واقعات سن کر انسان کانپ جاتا ہے مگر سلام ہے ان مسلمانوں کو جو ایسے مظالم سہنے کے بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی خدا کے حضور سجدہ ریزہ ھو کر اس کا شکر ادا کرتے رہے اس ہجرت میں لاکھوں بچے جوان اور بزرگ شہید ہوئے ہزاروں بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں سینکڑوں نے عزت بچانے کی خاطر خود کو موت کی نیند سلا دیا
    میں اپنے بزرگوں سے اکثر سنا کرتا تھا اللہ کی رحمت کا نام پاکستان ہے یہ ملک اللہ کا تحفہ ہے مسلمانوں کے لیے مگر افسوس ہم نے اس ملک کی حفاظت نہیں کی آپسی لڑائی میں ہم نے اس ملک کا ایک حصہ گنوا دیا اور اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ہمارے حکمران پاکستان کی بہتری کی کوشش کرنے کی بجائے اپنا پیٹ بھرنے میں لگے رہے جس کا بس چلا اس نے اس ملک کو جتنا نوچ سکتا تھا اتنا نوچا جس مذہب کے نام پر ملک حاصل کیا ہم اسی مذہب سے دور ھوتے جا رہےہیں مذہب کو بیسیوں فرقوں میں بانٹ دیا گیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرعام ہمارے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں مذہب پسندوں کو شدت پسند کہنا شروع کر دیا گیا مغرب نے اسلاموفوبیا کی ترویج کی تو ہمیں لبرل بنانے کی مہم شروع کر دی گئی کبھی آزاد خیالی کے نام پر تو کبھی فنونِ لطیفہ کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ دیا گیا ہماری روایات ہماری ثقافت اور اقدار کو قدامت پسندی اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ بنا کر پیش کیا گیا ہمارے معاشرتی نظام کو برباد کرنے کے لیے مغربی طرز معاشرت کو فروغ دیا گیا اور ہمارے احساس کمتری کا شکار لوگ خود کو مہذب اور پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے مغربی اطوار اپنانے لگے.

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبارہ سے جنگی بنیادوں پر اپنی نئی نسل کو حصول پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائے تاکہ بچوں کو سمجھ آئے.
    پاکستان کا مقصد کیا لا الہ الا اللہ
    اللہ ہمارا اوراس پاک سرزمین کا حامی و ناصرہو.

    @Lovepakistan000

  • عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے نام کامیابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ان کے سپورٹرز کو یقین دلاتی ہے کہ جس کام کا بیڑہ کپتان اٹھاتا ہے وہ کر کے رہتا ہے جلد یا بدیرکرکٹ کھیلنے سے لے کے ٹیم کا کپتان بننے تک اور پھر ورلڈکپ جیتنا , یہ سب سمجھتے تھے کہ یہ خان کی کامیابیوں کا اختتام ہے لیکن خان نے کامیابیوں کا سفر جاری رکھا اور شوکت خانم , نمل یونیورسٹی بنانے کے علاوہ سیاست میں قدم رکھ دیا جو کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک رسک اور غلط فیصلہ تھا خان کو پتا تھا کہ یہ جدوجہد لمبی اور مشکل ہے لیکن خان نے ٹھان لی اور ایک سیٹ والی پارٹی سے پاکستان کی نمبرون پارٹی بناڈالی باٸیس سالہ جدوجہد رنگ لاٸی اور کپتان نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا کپتان اور ان کے سپورٹرز کامیاب ہوۓ.

    جب اسمبلی میں سپیکر نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کا اعلان کیا تو خان کی آنکھوں میں چمکتے موتی صاف دیکھے جاسکتے تھے کیونکہ اس لمحے کا کپتان نے باٸیس سال تک انتظار کیا تھا اب کپتان کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انہیں باٸیس سالوں کے کۓ وعدے اور عوام کو دلاٸی گٸ امیدیں پوری کرنی ہیں اور احتساب کے وعدے کو بھی پورا کرنا ہے
    تین سالوں میں لۓ گۓ مشکل فیصلے , مہنگاٸی کی عالمی لہر اور مافیاز کی سازشیں , ان سب مشکلات پہ خان صاحب عوام کو یقین دلاتے رہے کہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا گھبرانا نہیں ہے کچھ سپورٹرز گھبراۓ جبکہ اکثریت خان کے ساتھ کھڑی نظر آٸی اور اب ان کی طرف سے بہت یقین سے کہا جا رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہے اور ساتھ میں اس بات کا یقین بھی ہے کہ اگلی حکومت بغیر بیساکھیوں کے ہو گی اور عمران خان تن تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاٸیں گے.

    عمران خان کے سپورٹرز کا جوش و خروش دیکھ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں سب بہتر ہوتا نظر آ رہا ہے خان جس کام کی ٹھان لیتا ہے وہ کر کے چھوڑتا ہے ماضی کا کامیاب ریکارڈ ہے جو خان کے سپورٹرز کے یقین کی وجہ ہے ان تین سالوں کے اقدامات اور بہتر ہوتی معیشت پہ اگلے کالم میں تفصیل سے لکھوں گا.

    @ch_danishh

  • انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہا پسندی اوراس کا سدِباب . تحریر : سعد طارق

    انتہاپسندی ایک ایسی دماغی کیفیت نام ہے جس میں کوئی انسان ہر چیز اور ہر واقعہ کو ایک ہی زاویہ میں دیکھے اور اختلاف رائے کو بالکل برداشت نہ کرے۔ کسی بھی معاشرے میں انتہاپسندی کا وجود وہاں کے لوگوں کو دنیا و آخرت کی رسوائی کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اگرچہ تاریخ انسانی کے آغاز سے ہی انتہا پسندی کا بھی آغاز ہو گیا تھا، جب اللّٰہ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی بناء پر قتل کیا۔ ہر نبی کے دور میں مذہبی و نظریاتی اختلافات تشدد کا باعث بنتے رہے ۔ کبھی اللّٰہ کے رسولوں کی توہین ہوئی بعض دفعہ نبیوں کے ماننے والوں کو بھی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ بنی اسرائیل نے تو ایک ایک دن میں کئی انبیاء کو قتل کیا۔، حتی کہ لوگوں نے اس بناء پر حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو اس حد تک اذیتیں دیں کہ آپ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم نے فرمایا” اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا گیا جتنا مجھے ستایا گیا۔”

    پس معلوم ہوا ہے کہ انسان ہر دور میں انتہا پسندی کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی معاشرے میں مختلف الخیال لوگوں نے فکری اختلاف کو ذاتی اختلاف میں تبدیل کیا، اپنی بات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے تمام اخلاقی حدود کو عبور
    کر کے معاشرتی اقدار کو اپنے پاؤں تلے روند دیا۔ انتہا پسندی معاشرے کے امن و سکون کو غارت کر دیتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں انتہا پسندی کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

    معاشرے میں انتہا پسندی کے فروغ کے لیے سب سے بڑا ہاتھ معاشی صورتحال کا ہے ۔ تعلیم کو کسی بھی معاشرے میں قوم کی فلاح و بہبود کے لیے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے لیے ایک ہی مثال کافی ہے کہ جب اللّٰہ نے اپنی محبوب ہستی حضرت محمد صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم کو پہلی وحی بھیجی تو وہ سارے علم و تعلیم پر تھی۔

    تعلیم و قلم سے انکار نہیں لیکن جس ملک کی 28 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں ، وہاں والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کیسے بھیج سکتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو ابتدائی تعلیم کے لیے مدارس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہمارے بیشتر دینی مدارس دین کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے دینی مدارس ملک میں انتہا پسندی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دینی مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں جہاں سے اسلحہ اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے لڑیچر برآمد ہوتے ہیں۔

    ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے جارحانہ رہی ہے۔ اس تعلیمی پالیسی کے زیر اثر تیار والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے ہیں۔تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت،عدم برداشت جیسی عادتیں ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہیں۔ آج بھی پاکستان کا نظام تعلیم ایسا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے کہ جس میں انسان کو سماجی شعور اور انسانی رویے فروغ پا سکیں۔ آج بھی ہمارا نصاب تعلیم رواداری ، انسان دوستی اور مسلمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن ، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ آج بھی ہمارے نصاب تعلیم فرسودہ ہے۔

    انتہا پسندی کی ایک اہم قانون کی عملداری نہ ہونا بھی ہے ۔ کسی بھی معاشرے میں قوانین دراصل معاشرتی جرائم کی پیشگی روک تھام کے لیے بنائے جاتے ہیں اگر اس کے باوجود کوئی جرم کر بھی لے تو اسے قانون کی مطابق سزا دی جاتی ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں قانون کی پاسداری نہ ہو تو وہاں انتہاپسندی کا فروغ یقینی ہوتا ہے ۔ایسے معاشرے میں ظالم طاقتور اور مظلوم کمزور ہوتا ہے۔
    انتہا پسندی کی ایک اور اہم وجہ مذہبی ،لسانی اختلاف کو رنگ دے نفرتوں کو فروغ دیا گیا۔ جو رسول اللہ صلی اللّٰہ وآلہ وسلّم رحمت بنا کر بھیجے گئے، انہیں کی نام پر مذہبی اکثریتی طبقے کی طرف سے بعض اوقات اقلیتوں کے حقوق کو بھی روند دیا جاتا ہے ۔ ان کی عبادت گاہوں اور انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کے اسں تدارک سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام الناس کو شعور و آگہی دی جائے ۔ مختلف مذاہب ، لسانی اور نسلی سے تعلق رکھنے والے والوں کے مابین بامقصد مباحث کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آپس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کریں ۔

    رشوت اور میرٹ کا قتل انتہا پسندی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کی وجہ نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں ، اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کسی انتہا پسندی کے گروپ میں شامل ہو کے اپنی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ انتہا پسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہے۔ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنان ذرا بھی اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے ۔ ان سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت ان کی حامی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے نوجوان تہذیب کے دائرے سے کیوں نکل رہے ہیں؟ کیونکہ نوجوانوں کی اکثریت استحصال کا شکار ہیں اور جب کبھی کسی نے ان کو تبدیلی کا خواب دیکھایا تو وہ اس کی طرف نکل پڑتے ہیں۔

    اگر ہم معاشرے کو انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا اور اس میں ایسے ابواب شامل کرنے ہوں گے جس میں انتہا پسندی سے بچنے کے اصول شامل ہوں ۔ عرض یہ کہ اگر ہم سب مل کر انتہا پسندی تدارک کے لیے صدق نیت سے اقدامات کریں تو یقیناً ہر لمحہ اللّٰہ کی مدد کے حقدار ٹھہریں گے کیونکہ اللّٰہ نے سورہ مبارکہ نجم کی آیت مبارکہ 39 میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔

    @SaadTariqPTI

  • میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    پڑھاٸی سے فراغت کے بعد تھوڑا آرام کیا۔ ذہن تھوڑا فریش ہوا تو دماغ میں نوکری کا کیڑا کلبلایا۔ پاپا جی کو آگاہ کیا پہلے تو کہا گیا کیا کمی ہے تمہیں۔ ہم نے کہا جی بی کام کروایا ہے آپ نے زبردستی۔ ورنہ ہم تو ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اب جاب کرنے دیں تاکہ دو اوردو چارجوسیکھا ہے اسے استعمال کر سکیں۔ تھوڑے شش و پیج کے بعد اور پچیس تیس نصیحتوں کے ساتھ اجازت مل گٸی۔ گویا زندگی کا پروانہ مل گیا۔

    اب اگلہ مرحلہ ایک ایسی نوکری کی تلاش تھی جہاں ہم تمام نصیحتوں پرعملدرامد کے ساتھ پایہ تکمیل ہو سو اخبار چھاننے شروع کیٸے ڈگری اورکچھ شارٹ کورسز کے سرٹیفیکیٹ یعنی اپنےعمال نامے کی فاٸل لیٸے ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلے۔

    اچھا پہلا انٹرویو دینے جاٶ جو وہ احساس ہوتا ہے جو آپکا اسکول کے پہلے دن کا ہوتا ہے۔ دل اس بچے جیسا ہوجاتا ہے جسے اس کے والدین پہلے دن اسکول والوں کے حوالے کر جاتے ہیں. وہ چاروں طرف اجنبی ماحول دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اچھا جی پہلے ہم اپنے آس پاس اسکولز، آفیسز، کمپنیزمیں انٹرویو دیا۔ وہاں جو کچھ دیکھنے سننے کو ملا وہ یہ تھا۔ حجاب کے ساتھ نوکری نہیں ملے گی۔ بچوں کی نظرمیں جازب نظرہونے کے لٸیے جدید تراش خراش کے کپڑوں کےساتھ میک اپ سے مزیّن چہرہ لانا ہوگا۔ اپنا میک اوورکریں۔ یہ برقعہ ساتھ ہوگا تو کام کیسے ہوگا بی بی.

    او میرے خدا

    میں پریشان کہ میں نے اپنی خدمات کاغزی کام کے سلسلے میں دینی ہے یا ماڈلنگ کرنی ہے۔ غرض ہرطرح کے لوگوں کو پایا کسی کی باتوں کے ڈرسے تو کسی کی نظروں سے ڈرسے ساری پراعتمادی کبھی تو آنسوٶں میں بہہ جاتی یا غصہ کی آگ میں جل جاتی۔
    اسی تگ ودو میں اپنے کوچنگ کے پروفیسرسے ملاقات ہوگٸی فرمانے لگے بیٹا نیا اسکول کھولا ہے اساتذہ کی ضرورت ہے مہربانی کرو کچھ ٹاٸم میرے اسکول کو دے دو۔تنخواہ ابھی ہزارہوگی آہستہ آہستہ بڑھا دیں گے.
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کوٸی فضول ڈیمانڈ نہیں عزت یہ ہے خود چل کرآفرآٸی اپنی عزت کو ترجیح دی نہ کہ کم تنخواہ کی فکر کی وہ تو بڑھ ہی جانی تھی پراٸیویٹ اسکول تو چلتے نہیں دوڑتے ہیں۔
    سو خوشی خوشی حامی بھری اور جب تک وہاں جاب کی خوش اورپرسکون رہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ سب کو اچھے لوگوں سے ملاۓ اوربرے لوگوں سے بچاۓ۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • ہمارا تعلیمی نظام اور بچوں  کی تعلیم کے مسائل   تحریر:  چوہدری عطا محمد

    ہمارا تعلیمی نظام اور بچوں کی تعلیم کے مسائل تحریر: چوہدری عطا محمد

    ملک خدا داد اسلامی جہموریہ پاکستان میں عرصہ دراز سے تعلیمی شعبے میں صرف واجبی اور رسمی سرمایہ کاری نے ارض پاک میں ایک شدید تعلیمی بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس معمولی سرمایہ کاری اور حکومتی توجہ اس شعبہ میں نہ دینے کی وجہ سے ارض پاک پاکستان کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد سکولوں میں جانے سے محروم ہے ہم سمجھتے ہیں۔ تعلیم کسی بھی قوم کی معاشی، معاشرتی، شعوری، اور اخلاقی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی  ہے۔ اگر آج ہم اقوام عا لم یعنی پوری دنیا کی بات کی جاۓ تو دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں، تقریبا سب ہی میں تعلیم کی شرح 90سے 95 فیصد ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے پیارے وطن اسلامی جہموریہ پاکستان کی بات کریں تو مطالعہ کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر تقریباً دو کروڑ چھبیس لاکھ بچے سکول نہیں جا سکے اور حالیہ برسوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔ ارض پاک میں ان بچوں کے سکول نہ جانے کی سب سے بڑی وجہ سکولوں کی تعداد میں کمی تھی۔
    جدید ٹیکنالوجی اور پوری دنیا میں تعلیمی نظام میں جدید صلاحیتیں پیدا کرنے والے اس دور میں ارض پاک میں اتنے بچوں کو آئینی ذمہ داری کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب ریاست کو زیب نہیں دیتا ہےاگر ہم اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کی بات لریں تو اس کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چار سے چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن ہمارے حکمران صاحب اقتدار حلقے اس سے بہت ہی دور ہیں مجموعی قومی پیداوار کا بہت ہی کم حصہ تعلیم جیسے اہم شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہ صرف ارض پاک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر دنیا کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے معیار تعلیم کے ساتھ چلنے کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اور ہمارے بچے جدید ٹیکنالوجی کے نظام سے پیچھے رہ جاتے ہیں

    حکومتی سطع پر سر ماۓ میں کمی کے باعث نجی سرمایہ کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا اور اپنے پنجے گاڑھنے شروع کر دئیے اس میں بہت سارے ایسے سرمایہ کار بھی شامل ہوگے جن کا تعلیم کے شعبے سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ انہوں نے اسے محض ایک کاروبار سمجھا اور ایک منافع بخش بزنس کے طور پر اس شعبہ کو لیا اپنی تما م تر توجہ بہتر تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے صرف پیسہ بنانےاور زیادہ سے زیادہ منافع کما کر اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے پر مرکوز رکھی۔ بہت سے تعلیمی ادارے داخلہ کھلنے اور تعلیمی سال کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی نئی کلاسوں میں آنے والے طلباء کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہر سال اشتہارات پر لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں لیکن معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے اس قدر اخراجات تو دور کی بات ہے تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے پر توجہ ہی نہیں دیتے اس سرمایہ کاری سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا جو دیکھنے میں ایک اچھی اقدام لگتا ہے مگر تعلیمی معیار کافی حد تک نیچے چلا گیا۔ اس خلا کو مذہبی مدرسوں نے بھی پر کرنے کی کوشش کی کیونکہ جو غریب طبقہ پرائیویٹ مہنگے تعلیم سسٹم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا انہوں نے اپنے بچوں کو مدارس تک ہی محدود کر دیا یہ مایوس کن صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس مسئلہ پر ہمارے حکمرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ناخواندگی کے چنگل سے آزادی دلا سکیں ۔ اسی میں ارض پاک پاکستان کی ترقی کی بقا ہے۔اس امر میں سب سے ضروری بات اور زیادہ اہم بات شعبہ تعلیم کے بجٹ میں کھلے دل سے بڑا اضافہ ہے۔ ہمار حکمرانوں کو فوری طور پر اقوام متحدہ کے سفارش کردہ اعداد و شمار یعنی قومی پیداوار کا کم سے کم چار فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کر دینا چاہیے اور اس میں ہر سال نئے آنے والے بجٹ کو بتدریج بڑھا کر چھ فیصد تک لے جانا چاہیے، چاہے اس کے لیے دیگر اخراجات میں کمی کرنی پڑے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اچھی تعلیم کے بغیر کوئی قوم نہ تو ترقی کر سکتی اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکتی۔یہاں یہ بات بھی کہتا چلوں سرکاری سکولوں میں بھی پرائیویٹ سکولوں کی طرح والدین کو ہر مہنے بلایا جاۓ اور والدین کو بچوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یہ احساس دلایا جسکے کہ والدین کو ان سکولوں کی ملکیت کا احساس ہو اور وہ بھی ان سکولوں کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اور آخر میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے ہر امیر گھرانے کا بچہ ہر غریب کے بچے سے تعلیمی لحاظ اور ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لحاظ سے اتنا ہی آگے ہے جتنا کہ اقوام عالم میں کوئی بھی ترقی یافتہ ملک ہمارے ملک سے آگے ہے ۔

    @ChAttaMuhNatt

  • جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    دوستو! میرا تعلق صوبہ پنجاب ضلع راجن پورتحصیل روجھان یونین کونسل کچہ راضی سے ہے اور یہ کچے کا علاقہ (No go area) ہے۔اس علاقے میں تعلیم کا ریشو نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں 3,4 پرائمری سکول کے علاوہ نہ مڈل سکول ہے نہ ہی ہائی سکول۔تعلیمی فقدان کی وجہ سے اس علاقے میں‏ امن بالکل بھی نہیں ہے۔لوگ معمولی رنجش کو بنیاد بنا کر کئ کئ عرصے تک لڑائی جھگڑے میں مصروف رہتے ہیں۔نوجوان نسل اکثریت بے روزگار ہے کیونکہ ادھر فنی تعلیم کا بھی خاطر خواہ کوئی انتظام نہیں۔ چوری و ڈکیٹی یہاں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ ‏Ngo’s جو کہ پسماندہ عاقے میں کام کرتے ہیں وہ بھی یہاں أنے سے کتراتے ہیں۔ صحت کے لیے کوئی ہسپتال نہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اسے ضلع رحیم یارخان کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔‏ نادرہ کا کوئی نظام نہیں لوگ نادرہ ضلع رحیم یارخان کے تحصیل صادق اباد کا رخ کرتے ہیں۔یہاں کے لوگ زراعت سے منسلک ہیں اور مال مویشی کا کام کرتے ہیں۔دریاۓ سندھ پاس ہے لیکن یہاں کے کسان نہری نظام سے محروم ہیں۔ اکثریت کے پاس مال مویشی ہے ادھر لیکن ویٹرنری کا کوئی نظام نہیں۔ اگر کوئی‏ جانور بیمارہوجائے تو وہ مرجاۓ گا کیونکہ ویٹرنری سسٹم نہیں علاج کون کرے۔ ‏وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت سے درخواست ہے اس پسماندہ علاقے پرتوجہ دیں کیونکہ ہم بھی صوبہ پنجاب کا حصہ ہیں۔

    @GN_bloch

  • سوشل میڈیا کا استعمال  تحریر : راجہ ارشد

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر : راجہ ارشد

    پورانے زمانے میں انسانوں کو صرف زمینی ،سمندری اور فضائی جنگوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ مگر اس وقت میدانِ جنگ سوشل میڈیا ہے جہاں انسانی دماغ بطورِ افواج لڑ رہے ہیں ۔
     
    سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے گزارش ھے کہ اس میڈیا کی اصل طاقت کے متعلق آگاہی حاصل کریں ۔اور اس دھوکے سے تو بلکل باہر نکل آئیں کہ سوشل میڈیا کا مقصد محض سماجی رابطے اور  تفریح کا حصول ہے۔

    یہاں پہ ہماری ایک ذاتی رائے ہمارے وطن عزیز کےلئے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ،ہم سب کےلیے یہ جاننا بہت ضروری ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بہت سےفوائد بھی ہیں ۔ یہ شعور اور علم کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے اور ہر خبر سے باخبر بھی رکھتا ہے
    میری اس تحریر کا مقصد آپ کو سوشل میڈیا کے قومی اور بین الاقوامی سطح پہ منفی اثرات کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل خوبصورت اور تیز ترین دنیا ہے یہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کےلیے چند سکینڈ درکار ہوتے ہیں۔
    اپنی بات کو مختصر کرتا ہوں آپ جب بھی اس میدان میں اتریں تو مکمل تیاری سے اپنے عقل و فہم کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو استعمال کریںں ۔

    پاکستان کے ذمہ دار شہری بنئں۔ایک بات جو بہت ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پہ ملنے والی کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے آگے مت پھیلائیں۔
    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کرنا ہم سب پہ فرض ہے جس سے کوئی بھی بری الزمہ نہیں ہوسکتا۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56